Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • حق و سچ کی فتح تحریر : حادیہ سرور

    حق و سچ کی فتح تحریر : حادیہ سرور

    یہ بات ہے 9 ستمبر 2001 ایک کی, جب اسامہ بن لادن کے 4 جہادیوں نے امریکی چار مسافر برادر ہوائی جہازوں کو اغوا کر لیا ۔
    اس کے بعد ایک ان میں سے دو کو ولڈ ٹریڈ سنٹر جبکہ ایک کو پینٹاگون سے ٹکرا دیا گیا جس کے بعد سے لاکھوں امریکی جہنم کی بستی میں جا بسے اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کا اربوں ڈالر کا نقصان الگ ہوا ۔۔۔
    یہ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا اس کےلیے نہایت ہی بے عزتی اور جگ ہنسائی کی بات تھی کہ یوں امریکہ کہ جہاز ہائی جیک ہوئے اور پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکراۓ اور ایک پینٹا گون سے ۔۔
    یوں پوری دنیا میں امریکہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔امریکہ بھی یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ کوئی کیسے اس پر اس قدر بڑا حملہ کرنے کی جرآت کر سکتا ہے ۔لیکن امریکہ نہیں جانتا تھا کہ جزبہ ایمان کی طاقت لیے یہ مجاہد اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں رکھتے۔۔
    9/11 کے بعد اس وقت کے امریکہ کے صدر جارج بش نے انتقام کا فیصلہ کیا اور افغان طالبان کو ریزہ ریزہ اور جڑ سے ختم کرنے کی ٹھان لی ۔۔یوں اس نے افغانستان میں اپنے فوجی بھیجے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔۔اور یوں امریکہ نے افغانستان میں ایک طویل جنگ شروع کر دی ۔۔
    امریکہ جو صرف افغانستان پر قبضہ کرنے نہیں آیا تھا بلکہ اس کی گندی نظریں پاکستان اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر تھیں ۔۔کیونکہ باطل یہ جانتا تھا کہ اسلامی ممالک میں صرف واحد پاکستان ہی ہے جو ایٹمی پاور ہے جس کے وجہ سے بڑے بڑے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتے ہوۓ گھبراتے ہیں ۔۔
    خیر امریکہ نے افغانستان میں اپنے اربوں ڈالرز ضائع کیے اپنی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا اپنا جدید اسلحہ استعمال کیا اپنے ساتھ چالیس نیٹو کے ممالک کے ساتھ ساتھ انڈیا کی مدد لی اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مدد بھی لی ۔۔یوں یہ را ،این ڈی ایس ،سی آئی اے ، ایس آئی ایس سمیت 42 ممالک اور ان کی ایجنسیاں طالبان کو شکست دینے کےلیے اپنی ایڑھی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا ۔۔دوسری جانب طالبان جہادی جو سادہ اسلحے, پٹھے کپڑے اور بغیر جوتوں کے جن کے ساتھ صرف سپورٹ تھی تو یا اللہ کی تھی یا پھر مارخور کی ۔
    دشمن نہیں جانتے تھے کہ افغانستان میں جس مارخور کے ساتھ وہ پنگا لے رہے ہیں اس نے افغانستان میں سویت یونین کو پہلے ہی ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کر چکا تھا تو امریکہ کس کھیت کی مولی ۔۔
    خیر ان بیس سال کے عرصے میں امریکہ اور اسے کے اتحادی اپنا زور لگاتے رہے لیکن مجاہدین جو اللہ کا نام بلند کے میدان جنگ میں اترے تھے جو اسلام کےلیے جہاد کر رہے تھے بھلا ایسے کیسے ہو سکتا تھا وہ باطل سے ڈر جاتے ۔۔انہوں نے باطل کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا ۔یوں صرف چند ہزار افغان مجاہدین نے چالیس ممالک کی افواج کو بیس سال کی طویل جنگ کے بعد دھول چٹا دی ۔
    یہ طالبان اور امریکہ کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ حق و باطل کی جنگ تھی کفار اور اسلام کی جنگ تھی جس کا شرف اللہ تعالی نے مارخور اور طالبان کو بخشا تھا اور اللہ کے فضل سے آج افغان مجاہدین افغانستان کے حکمران ہیں ۔
    افغانستان طالبان نے اپنے سے کہیں گناہ بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ ثابت کیا کہ جنگیں اصلحے ٹیکنالوجی جدید آلات سے نہیں لڑی جاتی بلکہ جیت اسی کی ہوتی ہے جو بہادر ہوتا ہے جس کے اندر ایمان کی طاقت ہوتی جو اسلام اور اللہ کےلیے لڑتا ہے ۔۔
    آج طالبان کی جیت بے شک کشمیری مجاہدین اور حماس کے مجاہدین کےلیے مشعل راہ ہے جس طرح افغان طالبان نے باطل کو شکست دی اسی طرح کشمیری اور حماسی مجاہدین بھی اپنی آزادی کی تحریک کو تیز کریں اللہ پاک افغان مجاہدین کی طرح کشمیر اور فلسطین کو بھی آزادی نصیب فرماۓ آمین

    @iitx_Hadii

  • طالبان کے چودہ اصول  تحریر: محمد اسعد لعل

    طالبان کے چودہ اصول تحریر: محمد اسعد لعل

    طالبان کی افغانستان میں فتح دنیا کی تاریخ میں تیز ترین فتح ہے۔ اس سے پہلے جو جنگ ہم نے دیکھی وہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تھی۔ قرہباخ کے علاقے کو آذربائیجان نے فتح کیا۔ دو تگڑی فوجیں لڑ رہی تھیں، ڈرونز کا استعمال ہو رہا تھا، بڑی تیز فتوحات تھیں لیکن طالبان کی فتوحات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھیں۔
    ایسی فوج جس کے پاس پُرانے ہتھیار تھے اور جس کے پاس فضائی قوت بھی نہ تھی، وہ کیسے فاتح بنی اس پر تو کتابیں لکھی جائیں گی۔ لیکن یہاں جنگ کے دوران طالبان کے وہ چودہ اصول جنہیں دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔
    نمبر 1:
    ہتھیار ڈالنے والوں کو کہیں بھی قتل نہیں کیا گیا۔ کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں تھا کہ کسی نے ہتھیار ڈالے ہوں اور انہیں قتل کیا گیا ہو۔ یہاں تک کے اسماعیل خان نے طالبان کو بہت نقصان پہنچایا تھا، لیکن جب وہ قابو آیا تو اسے بھی جانے دیا۔
    نمبر 2:
    طالبان نے اس پوری مہم کے دوران کہیں بھی ٹارچر نہیں کیا۔ لوگوں پر تشدد کی کوئی ایک ویڈیو بھی آپ کو دیکھنے کو نہیں ملے گی۔
    نمبر 3:
    کوئی چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار اس پوری مہم کے دوران کہیں پر رپورٹ نہیں ہوئی۔ عالمی اداروں اور میڈیا میں کہیں بھی اس طرح کی کوئی شکایت نہیں آئی کہ بنک توڑ دیے گے، لوٹ مار شروع ہو گئی، لوگوں کی دکانیں کھول دی گئیں، غلہ اور اناج لوٹ لیا۔۔۔
    نمبر 4:
    طالبان نے عام معافی کا اعلان کیا۔یہ بہت اہم اور قابلِ تعریف ہے۔ عام طور پر فوجیں ایسا نہیں کرتیں لیکن طالبان کی فوج جہاں بھی داخل ہوئی وہاں عام معافی کا اعلان کیا گیا۔
    نمبر 5:
    اگر کسی نے ان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہا، ان کا تعلق کسی بھی فرقے یا گروہ سے تھا اور معاہدے کی صورت میں علاقہ چھوڑنا چاہا تو طالبان نے انہیں نہیں روکا۔ معاہدہ کیا اور انہیں جانے دیا۔ جہاں پر بہت سخت لڑائی ہوئی وہاں بھی انہوں نے معاہدے کیے ۔
    نمبر 6:
    خواتین سے بدسلوکی کا ایک بھی واقع پورے افغانستان میں اس دوران رپورٹ نہیں ہوا۔ کسی بھی خاتون نے یہ شکایت نہیں کی یا میڈیا نے یہ نہیں دکھایا کہ کسی خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہو، بد تہذیبی کی گئی ہو، زیادتی کی گئی ہو،زبردستی شادی یا نکاح کیا گیا ہو۔۔۔
    نمبر7:
    لوگوں پر مذہبی حوالے سے اب تک کوئی زور زبردستی نہیں کی۔ داڑھی کسی نے رکھنی ہے رکھے نہیں رکھنی تو نہ رکھے، خواتین بازار میں آ جا رہی ہیں کسی کو نہیں روکا گیا۔ لوگوں کو زبردستی نماز ادا کرنے پر بھی فورس نہیں کیا گیا۔ طالبان نے کہا خواتین سکول پڑھنے اور پڑھانے کے لیے ضرور آئیں، دفاتر میں بھی مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کر سکتی ہیں لیکن پردے میں گھر سے باہر آئیں۔
    نمبر 8:
    جہاں بھی طالبان گئے وہاں لڑائی کے دوران جو ہوا سو ہوا
    لیکن لڑائی کے بعد جب طالبان نے کنٹرول کر لیا تو بازار اور کاروبار کھلے رہے۔ اور اب لوگ بازاروں میں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
    نمبر 9:
    صحافیوں، این جی اوز اور غیر ملکیوں کا قتلِ عام نہیں ہوا۔ جو لوگ طالبان کی طرف سے کوریج کر رہے تھے وہ لوگ بتاتے ہیں کہ طالبان نے جنگ میں اپنی جان سے زیادہ ان کو تحفظ دیا ہے۔
    نمبر 10:
    فرقہ وارانہ واقعات نہیں ہوئے۔ یعنی جو اہل تشیع ہیں ان کے ساتھ بھی معاہدے ہوئے۔ جو بریلوی ہیں ان کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے۔ نسل اور فرقے کا فرق کیے بغیر سب کے ساتھ برابری کا سلوک کیا۔
    نمبر 11:
    طالبان نے اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سکول اور تعلیمی اداروں کو فی الفور فنگشنل کیا اور انہیں کھلا رکھا۔
    نمبر 12:
    سرکاری دفاتر میں کام جاری رکھا۔ انہوں نے اپنے طالبان نگران مقرر ضرور کیے لیکن ملازمین کو اپنا کام جاری رکھنے کو کہا گیا۔
    نمبر 13:
    املاک ،گاڑیوں اور جائیدادوں کو قبضہ میں نہیں لیا گیا۔ یعنی بازار میں کسی کی دکان، جائیداد، گاڑیوں اور ہتھیاروں کو عام لوگوں سے طالبان نے قبضہ میں نہیں لیا۔ صرف غیر ملکیوں سے اور افغان فوج کا سامان جن سے وہ لڑ رہے تھے چاہے وہ گاڑیاں ہیں یا ہتھیار، ان کو طالبان نے مالِ غنیمت کے طور پر اپنے قبضہ میں لیا۔
    نمبر 14:
    کسی کو زبردستی اپنے ساتھ لڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔
    بیس سالہ جنگ کا نتیجہ افغان طالبان کی فتح کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ دنیا کی تیز ترین فتح تھی۔ اور اب پورے افغانستان پر طالبان کی حکمرانی ہے۔ افغانستان کی عوام نے طالبان کا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • کشمیر میں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کا قیام اور اس کی جدوجہد تحریر : اسامہ ذوالفقار

    کشمیر میں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کا قیام اور اس کی جدوجہد تحریر : اسامہ ذوالفقار

    ۱۸۹۲؀ میں کشمیر میں ینگ مینز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ ایک ایسا دور تھا جس میں کشمیر کے اندر کوئی تعلیمی ادارہ نہیں تھا۔ صرف اورصرف مدرسوں کے اندر فارسی اور عربی کی تعلیم دی جاتی تھی جو کہ کشمیر کے اندر کسی بھی سرکاری نوکری کے لیے فٹ نہیں تھی۔ سکھوں کا مہاراجہ اس وقت کا بہت ہی سخت اور ظالم حکمران تھا جو کہ مسلمانوں کو کسی بھی صورت ترقی نہیں کرنے دیتا تھا اور اس ایسوسی ایشن کا قیام بھی اس سے چھپ کے لایا گیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے مسلمان نوجوان اس کا حصہ بنے اور اس انجمن کا بھرپور قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد اس کا نام "ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن” رکھ دیا گیا۔
    چند نوجوانوں نے اس انجمن کا قیام جموں میں بھی لایا ۵-۶ نوجوانوں نے مل اس کی چوری چھپے مہم چلائی مہاراجہ کو جیسے ہی پتا چلا اس نے فورن اس پر پابندی لگا دی ابھی اس کی بنیاد ہی ڈلی تھی کہ اس پر پابندی لگ گئی۔ اس کے بعد ۱۹۰۹ تک کوئی خاص کام تو ہوا نہیں اور اس کا صرف نام ہی رہ گیا۔
    اب بات کرتے ہیں ینگ مینز ایسوسیی ایشن کے مقاصد پر ان کا سب سے پہلا اور اہمیت کے حامل جو مقصد تھا وہ یہ کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی تعلیم دینا اور انہیں اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو حصول تعلیم کے لیے متوجہ کرنا اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے ریاست میں دفاعی کام کرنا۔
    ۱۹۲۲ تک تو اس کی نہ ہونے والی صورت حال چلتی رہی۔ اور اسی عرصے میں چند اور لوگ بھی جمع ہوۓ اور انھوں نے مشورہ کیا اور سوچا کہ اس پر اب تک پہلے جو لوگ تھے انہوں نے کچھ خاص کام نہیں کیا اب اس پر مزید کام کرنا ہے۔
    ادیب قیس (شاعر تھے) ان کے گھر اجلاس ہوا چودھری غلام عباس اپنی کتاب "کشمکش” میں لکھتے ہیں "آٹھ نوجوانوں نے قران مجید پر حلف لیا اور کہا ہم ثابت قدم رہیں گئے”۔ اور پھر ان لوگوں نے خفیہ طور پر کام شروع کیا۔ انھوں نے اپنے مضامین اخبارات میں پیش کیے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس تنظیم میں شامل ہونے لگے اور کام تیزی سے ہونے لگا۔
    ۱۹۲۲ کے بعد منشی غلام علی جو کہ "اٹھمکام” کے رہنے والے تھے جو اس تنظیم میں شامل ہوۓ اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔انھوں نے کشمیر کے اندر بہت سی خدمات انجام دی۔ اگر کوئی مسائل آ جاتے یہ نوجوان وہاں پہنچ کر ان مسائل کو حل کرتے تھے۔
    اس تنظیم نے ریاست میں فرقہ واریت کو ختم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ مسلمان ہوے۔ اس تنظیم نے مسافروں کے لیے جموں میں پناہ گاہ بھی تعمیر کروائی۔ اور ان نوجوانوں نے بہت سی لاوارس لاشوں کی تدفین بھی کی۔
    وقت کے ساتھ اس ایسوسیشن میں نئی روح سی آنے لگی۔ ڈیڈھ سال کے بعد ۱۹۲۴ میں پہلا جلسہ کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں جوش و جذبہ پیدا ہونے لگا۔ اس جلسے میں مولانا عبدالحق نے خطاب کیا اور ہندوستان سے بھی عالم آے۔ اور اسی دوران چودھری غلام عباس نے اپنی کتاب "کشمکش” لکھی اور جلسے میں اس کے بارے میں زکر کیا۔
    جلسہ ختم ہوا مسلمانوں کے دل میں نیا جذبہ پیدا ہونے لگا۔ ان کی رگوں میں خون ڈورنے لگا۔ جموں کے اندر مسلمانون کے اندر پہلی بار اپنے حقوق کے لیے بیداری پیدا ہوئی۔
    سردار فتح محمد فتح خان کریلوی نے اس تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اب مسلمانوں کے اندر ایک شعور پیدا ہونے لگا جو اس ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نوجوان کشمیر کی تحریک کا اہم حصہ بن گئے بہت سے نئے لوگ بھی آنے لگے اور اپنی اس آزادی کی جدوجہد کو مزید جاری رکھا۔ جو کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اب تک جا ری ہے اور جاری رہے گی۔

    Twitter id : @RaisaniUZ_

  • خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    خواتین کا جنسی استحصال تحریر۔ زیشان خان

    جنسی جرائم انگریزی میں( sex crime) سے مراد وہ جرائم جو جنسی نوعیت کے حامل ہوں. ان میں خواتین پر کئے جانے والے جنسی معاملات ہیں لیکن یہ معاملات صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ ان میں بچوں کے ساتھ جنسی معاملات بھی شامل ہیں اور کچھ معاملات میں مرد بھی شامل ہو سکتے ہیں. اسلام نے عورت کو بہت عزت دی اور تحفظ بخشا دنیا کے بہت سے ممالک میں خواتین اس جنسی استحصال کا شکار ہیں. اگرچہ بہت ترقی یافتہ ممالک میں اس فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے مگر بعض ممالک میں اس قابلِ سزا جرم کو تسلیم نہیں کیا گیا جیسا کہ ملکِ پاکستان میں جنسی زیادتی کو جرائم قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کا حکمران اب تک خاموش ہے جنسی جرائم کا قانون موجود ہے.پر مجرموں کو گرفتاری کے بعد سزائیں نہیں دی جاتیں. مجرم بچ جاتے ہیں. اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی جنسی استحصال کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا تو پھر ایک خاتون کی ترجمانی کیسے ہو پائے گی .اسکی عزت کا تحفظ کیسے رکھا جائے گا. پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اس مسئلے کو جرم قرار دے پائے . اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے 2018 میں قصور کے شہر 12 سالہ بچی کو اغوا کر کے ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا. مگر مجرم 24 دنوں بعد پکڑا گیا.اس پر حکومت نے کچھ خاص ایکشن نہیں لیا.قانونی معاملات مہنگے اور سست ہیں اس وجہ سے بھی بچوں اور عورتوں کے ورثا پیچھے ہٹ جاتے ہیں.جنسی زیادتی میں عورتوں اور بچوں شرح دن بدن بڑھتی جا رہی ہے . اندازہ اس بات سے بھی لگایا جائے 2021 میں ماہ جولائی میں بچی کے ساتھ ریپ کر کر اسکو قتل کر دیا گیا اب تک اسکا مجرم گرفتار نہیں ہو پایا. ہمارے نا اہل حکمران کچھ ہوش کے ناخن لے اور قانون پر عمل پیرا ہو کر اس جنسی استحصال کا خاتمہ کیا جائے جب تک ایک ریاست ہر فرد کی ذمہ داری نہیں لے لیتی تب تک عورت گھر میں ہو یا گھر سے باہر اسطرح بے حرمتی کا شکار ہوتی رہے گی ذرا سوچیے کہ جنسی جرائم عورتوں اور بچوں تک ہی محدود کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ عورتوں اور بچوں کو کمزور سمجھتا ہے اور وہ یونہی آسان ہدف بن جاتے ہی. اور اسی طرح جنسی جرائم کو فروغ ملتا رہے گا. ایک اچھے معاشرے کے خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہے
    ایک رپوٹ کے مطابق یومیہ 12 بچے ریپ کا شکار ہوتے ہیں .کیا ہمارا ملکِ پاکستان جسکو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے اس میں مسلمانوں کی توہین ہوتی رہی گی
    قانون ہوتے ہوئے بھی اسکا استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا. ؟کیا ہم ایک اسلامی ریاست میں رہ رہیں ہیں ؟کیا اِسکو اسلامی ریاست کا نام دیں گے ؟ جس میں عورت کی عزت کو پامال کر دیا جاتا ہے جسکو اسلام نے اتنی عزت سے نوازا اسکی چند لمحوں میں بے حرمتی کر دی جاتی ہے بلکہ اسکو اسلامی ریاست کہنا ایک شرمندگی کا باعث ہے
    اس ملک کو اسلامی ریاست میں ہی ڈھالا جائے جس کی بنیادیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہیں۔

    @Zeeshan_9263

  • خواہش تحریر: آفاق حسین خان

    خواہش تحریر: آفاق حسین خان

    زندگی سب کو موقع دیتی ہے کسی کو جوانی میں تو کسی کو جوانی گزرنے کے بعد لیکن موقع ضرور ملتا ہے- پربہت کم لوگ صحیح وقت پرموقع کا فائدہ اٹھا پاتے ہیں- دنیا میں ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی خواہش ہوتی ہے- ہر انسان اسی سوچ و بچار میں لگا رہتا ہے کہ آنے والے کل کو بہتر بنائے اور مستقبل میں اچھی زندگی گزارے- پر بہت کم لوگ ہی اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنا پاتے ہیں- آگے ہر کوئی بڑھنا چاہتا ہے پر محنت کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا محض سوچنے سے خواہش پوری نہیں ہوتی- خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عمر لگانی پڑتی ہے وقت دینا پڑتا ہے انتھک محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے وقت کی شاخ کو ہلانا پڑتا ہے- دنیا ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں آج کے کامیاب لوگ اپنے ماضی میں گزرے برے حالات برے وقت اور برے دنوں سے سبق حاصل کرکے آج اس مقام اور منزل تک پہنچے اور کامیاب ترین لوگوں میں شمار ہوئے اور دنیا کے لیے عظیم مثال قائم کی- پہاڑ چاہے کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو بالآخرعبور ہو ہی جاتا ہے- ہمیشہ مشکلات کے بعد ہی آسانی آتی ہے اور کانٹے دار راستوں سے گزرنے کے بعد ہی انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے اگر ارادے پختہ ہوں محنت اور لگن کے ساتھ اس دنیا میں ہر چیز ممکن ہے دنیا میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو انسان حاصل نہ کر سکے بشرطیکہ اس چیز کو حاصل کرنے کی جستجو انسان میں ہونی چاہیے اور جستجو اتنی گہری ہو کہ وہ ایک جنون اور جذبے کی شکل اختیار کرجائے- ہرانسان میں کسی نہ کسی خواہش کا جذبہ ضرور ہوتا ہے اور یہ جنوں ہی ہوتا ہے جو انسان کو کامیابی کی مانند لے کر جاتا ہے- اس دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جن میں کامیابی کی محض خواہش تو پائی جاتی ہے لیکن ان میں جنون کا عنصر قاصر ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری زندگی بھی خواہشات کے سہارے ہی گزار دیتے ہیں- یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر خواہش کے لئے انسان میں جنون ہوتا ہے اور کیا ہر خواہش اور کامیابی کے لئے انسان جنون کی حد تک جا سکتا ہے تو میرے نزدیک اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں- کیونکہ انسان میں ہزاروں چھوٹی اور بڑی خواہشات پائی جاتی ہیں اور ان ہزاروں یا سیکڑوں خواہشات کو جنون اور جذبے کے ساتھ پورا کرنا ناممکن سی بات ہے- انسان کی زندگی اور عمر کے ساتھ ساتھ انسان کی خواہشات بھی بدلتی رہتی ہیں- جو خواہش انسان بچپن میں کرتا ہے وہ جوانی میں ختم ہوجاتی ہیں اور جوانی میں کچھ نئی خواہشات جنم لیتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ خواہشات بھی ختم ہوجاتی ہیں اور پھر آتا ہے زندگی کا آخری اسٹیشن جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہرجاتی ہے اور وہ ہے بڑھاپا- اور اس بڑھاپے میں بچپن اور جوانی کی کوئی بھی خواہش باقی نہیں رہتی اور چند نئی خواہشات جنم لیتی ہیں جو صرف بڑھاپے کی حد تک محدود رہتی ہیں لیکن انسانی زندگی میں کوئی ایک خواہش ایسی ہوتی ہے جو کبھی اپنا راستہ نہیں بدلتی اور نہ ہی انسان کا پیچھا چھوڑتی یہاں تک کہ پوری زندگی انسان کے ساتھ ساتھ چلتی ہے بچپن سے بڑھاپے تک اور اگر یوں کہا جائے کہ وہ خواہش انسان میں جنون کی حد تک پائی جاتی ہے تو غالبا غلط نہ ہوگا- اور یہی وہ خواہش ہوتی ہے جو وقت کی شاخ کو ہلا دیتی ہے اور بالآخر انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں کامیابی کی اس سیڑھی پر قدم رکھ ہی لیتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا تھا- اور اس منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے جس کے لیے اس نے پوری زندگی کوشش کی-

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • آزادی کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟  تحریر: احسن ننکانوی

    آزادی کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: احسن ننکانوی

    ‏1947 میں، سعادت حسن منٹو، جب اَپنے بیوی بچوں سمیت بحری جہاز سے بمبئی سے کراچی پہنچا تو نجانے کیوں اُس کا دِل چاہا کہ وہ جلد سے جلد لاہور پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں جب اُس نے ریلوے ٹکٹ لینے چاہے تو پتہ چلا کہ رش کی وجہ سے بُکنگ کئی کئی دن بعد کی مِل رہی ہے۔
    منٹو لکھتا ہے کہ اُس ‏نے بُکنگ کلرک کو رشوت دینے کی کوشش کی تو اُس نے منٹو سے کہا: ” بھائی صاحب! اَب پاکستان بَن گیا ہے، اَب یہاں یہ کام نہیں چلے گا”۔
    آئے، آج ہم اَپنی تاریخ میں 74 سال پیچھے جائیں اور اَپنی آزادی کا سفر،کراچی کے اُس ریلوے بُکنگ کلرک سے دوبارہ آغاز کریں۔ آج ہمارے ملک میں بددیانتی ظلم و جبر ناانصافی کرپشن ہر طرح کے کام ہورہے ہیں۔
    حالانکہ ہمیں چاہیے تھا کہ اس وقت تک ہم ایک مضبوط قوم بن چکے ہوتے لیکن بدقسمتی سے آج تک ہم آگے جانے کی بجائے بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔
    کوئی ایک ادارہ نہیں جہاں کرپشن بددیانتی ناانصافی نہ ہو رہی ہو ہر جگہ لوٹ مار کا بازار گرم ہے کیا ہمارے بڑوں نے اس وجہ سے قربانیاں دی تھیں۔
    کیا ہمارے اسلاف کے قافلے روک کر ان کو بے دردی سے مارا گیا اور بچ بچا کر پاکستان پہنچیں میں کامیاب ہوگئے ۔
    اور وہ لٹے پٹے یہاں پہنچیں لیکن انہوں نے پاکستان میں داخل ہوتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔
    1857 میں علماء کرام نے قربانیاں دیں دہلی میں کوئی ایک درخت نہ تھا ۔ جہاں پر کسی مسلمان کی لاش نہیں لٹک رہی تھی ۔
    کیا تحریک آزادی اسی لئے چلائی گئی تھی کی اس ملک کو کنگال کر کے رکھ دیا جائے ۔
    آپ نے پچھلے دنوں ایک خط کا ذکر تو سنا ہو گا ۔
    جو ایک عورت نے وزیر اعلی سندھ کو لکھا ہے ۔
    کہ میرے پاس میرے شوہر کے علاج کروانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔
    وہ عورت کوئی اور نہیں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی بہو ہے ۔
    اور ان کا بیٹا اس وقت بیماری میں مبتلا ہے ۔
    ہاں وہی نواب لیاقت علی خان جو انڈیا میں ضلع کرنال کا بہت بڑا جاگیر دار تھا ۔
    کئی ریلوے اسٹیشن ان کی زمین میں تھے ۔
    آکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجویٹ لیکن جب پاکستان آزاد ہوا تو وہ بنا کچھ لئے پاکستان آ گئے۔ اور یہاں آکر بھی ایک انچ زمین کا کلیم نہ کیا وگرنہ وہ پاکستان کے بہت بڑے جاگیر دار ہوتے ۔
    ہر شہر میں ان کا محل ہوتا ۔
    جب ان کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تو ان کی شیروانی اتاری تو نیچے سے اک پھٹی ہوئی بنیان نکلی قمیض تو پہنی ہی نہیں ہوئی تھی۔ ان کے پاس اپنا ذاتی گھر بھی نہیں تھا ۔
    ان کی بیوی ایک انگریز افسر کی بیٹی تھیں۔
    مسلمان ہونے کے بعد بیگم رعنا لیاقت علی خان کہلوائیں۔ وہ سندھ کی گورنر بھی رہیں اور بہت سارے یورپین ملکوں میں پاکستان کی سفیر بھی رہیں۔
    ہالینڈ میں جب وہ سفیر تھیں تو وہاں کی ملکہ کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی اور ایک دن شطرنج کھیلتے ہوئے ان کی شرط لگ گئی اور جب بیگم رعنا لیاقت علی خان جیت گئیں۔ تو انہوں نے ایک محل تحفے میں دے دیا ۔
    حالانکہ وہ بیگم کا اپنا جیتا ہو محل تھا لیکن انہوں نے اس محل کو پاکستان کا سفارتخانہ بنا دیا ۔
    آج بھی ہالینڈ میں وہی محل پاکستان کا سفارتخانہ ہے ۔ حالانکہ اگر وہ چاہتی تو اپنے پاس بھی رکھ سکتی تھیں۔آج ان کی اولاد گورنمنٹ سے مدد مانگ رہی ہے ۔
    اور یہاں پر اگر سیلاب زدگان کیلئے امداد میں کوئی ہار یا کچھ اور چیز مل جائے تو وہ اپنا ذاتی تحفہ سمجھ کر رکھ لی جاتی ہے۔
    آج ان کی اولاد گورنمنٹ سے مدد مانگ رہی ہے ۔
    اور دوسری طرف ایون فیلڈ اور کروڑوں کی جائیداد اور یہ بھی سب لوگ جانتے ہیں۔
    کہ یہ لٹیرے خاندان جب ہجرت کر کے آئے تھے ان کے پاس کتنی جائیداد تھی ۔
    ملک کو بنانے والوں کی اولادیں آج بہت ہی کمزور حالت میں ہیں۔
    اور ملک کو کھانے والوں کی اولادوں کے پاس کروڑوں کی پروپرٹیز وہ بھی دوسرے ملکوں میں اگر پوچھا جائے کہ یہ رقم کہاں سے آئی تو وہ کہتے ہیں ہمیں کیوں نکالا؟
    ابھی تو صرف جناب نواب لیاقت علی خان صاحب کے خاندان کا یہ حال ہے اگر دیکھا جائے تو جتنے بھی تحریک آزادی میں شامل تھے سبھی کا ایسا ہی ملتا جلتا حال ہے ۔
    اور جنہوں نے اس ملک کو لوٹا ان کا بھی حال سب کو معلوم ہے ۔
    ہمیں مل کر اس ملک کو اس حالت سے نکالنا ہو گا اور اس ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنا ہو گا ۔
    اللہ تعالٰی سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
    75 آزادی مبارک۔

  • 14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟  تحریر: نعیم عباس

    14 اگست لاہور واقعہ کا مجرم کون؟؟؟ تحریر: نعیم عباس

    جہاں دنیا میں بہت سے کاروبار آنلائن ہوچکے ہیں تاکہ انکی مصنوعات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے اور وہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں بالکل اسی طرز پر جسم فروشی اور بازار حسن نے بھی اپنا کاروبار ٹک ٹاک اور دوسری ایسی سوشل سائٹس پر اونلائن کردیا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مشہور ہوکر فینز کی صورت میں اپنے کسٹمرز بنائیں اور اس بنا پر زیادہ پیسہ کمائیں.
    ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں شہرت اور پیسے کی خاطر لوگوں نے اپنی تمام حدود و قیود کو پس پشت ڈال دیا. اسی طرز کا واقعہ لاہور میں مینار پاکستان پر دیکھنے کو ملا جب ایک ٹک ٹاکر نے اپنے کسٹمرز (فینز) کو 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے دن میٹ اپ (کاروباری تشہیر) کے لئے مدعو کیا جہاں وہ خود جلوہ آفروز ہوکر اپنی اداؤں سے اپنے فینز کی آنکھون کو سیراب کریں گی.
    ایک بات یاد رکھیں کہ جیسی چیز ایک کاروباری کمپنی فروخت کرنے کیلئے بناتی ہے اسکے خریدار بھی ویسے ہی ہوتے ہیں مثلا جوتوں کی پالش وہی خریدا گا جس گاہک کے پاس جوتے ہوں گے. چپل پہننے والا کیوں پالش خریدے گا. یونہی شراب پینے والا شراب خریدتا ہے اور کمپنی اسی کیلئے شراب بناتی ہے. عام بندہ جو شراب پیتا ہی نہیں وہ کیوں شراب خریدا گا.
    بالکل اسی طرح لڑکی کے اعلان پر وہاں مساجد کے امام, یا صوم وصلات کے پابند لوگ تو نہیں آئیں گے نا. ظاہر ہے وہی آئیں گے جنکو لڑکی صرف استعمال کی چیز لگتی ہے. جن کا مقصد صرف اپنی ہواسیر کی بیماری کی تسکین ہے. اور پھر وہی ہوا کہ اس لڑکی کے تشہیری اعلان کے بعد اسی طرح کے اوباش,لفنٹر,ننگ خلقت, بازارو, متنفر ذہنیت کے حامل,تعلیم و تربیت سے نالاں افراد کا ہجوم اس لڑکی (پروڈکٹ) کے گاہک کے طور پر جمع ہوئے اور انہوں نے وہی کیا جس مقصد کیلئے وہ اس لڑکی کی فین لسٹ میں موجود تھے یعنی کسٹمر بنے تھے. اب اس صورتحال کو پیش نظر رکھا جائے تو قصور وار کون ہوگا یہ فیصلہ آپ سمجھدار لوگ خود کرسکتے ہیں.
    میں ہرگز اس چیز کے حق میں نہیں جو اس لڑکی کے ساتھ کیا گیا اور اس بات کی اپیل ہے کہ ان اوباش لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان چند ایک کو سزا دینے پر ہی اکتفا نا کیا جائے بلکہ اس ٹک ٹاک جیسے بیہودہ سوشل میڈیا سائٹس جہاں دن رات جسم فروشی کا کاروبار گرم رہتا ہے اس پر بھی روک تھام لگائی جائے وگرنہ تاریخ پھر خود کو دہرائی گی پھر کسی اور 14 اگست یوم آزادی پاکستان جیسے مبارک دن ایک ٹک ٹاکر اور اسکے چند آوارہ گندی ذہنیت کے گاہک(فینز) پوری قوم کو دنیا کے سامنے شرمندہ کر دیں گے.
    @ZaiNi_Khan_NAK

  • واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    اقبال پارک کا گراؤنڈ وہ عظیم یادگار ہے کہ جہاں اسلامیانِ برصغیر نے جمع ہو کر آزاد وطن کے حصول کی انمٹ داستان رقم کی تھی…یہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل پبلک مقام ہے… اس سے وابستہ وہ غیر متزلزل ارادے،نعرے،عزائم اور کردار تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا تھا اور الحمدللّٰــــہ آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی ہیں…
    اُسی گراؤنڈ سے متعلقہ ایک واقعہ سوشل میڈیا پر گردش میں ہے…واقعی ایسے واقعات چاہے کچھ بھی پسِ منظر رکھتے ہوں کسی بھی معاشرے کا منفی امیج ہی تصور کیے جاتے ہیں…
    ایک ٹک ٹاکر خاتون اور سینکڑوں مردوں کی طرف سے رد عمل نے ہر ذی شعور کا سر شرم سے ضرور جھکایا ہے…اور یہ سب تربیت کی کمی کا گھناؤنا کھیل ہے…افسوس کی بات یہ ہے کہ اجتماعی طور پر بھی ہم اخلاقیات کے بلند معیار کو کھوئے جا رہے ہیں…انفرادی طور پر تو ہر ایک کی صورت حال جسے ذبح کرو،وہی لال ہے والی سے مختلف نہیں ہے لیکن اجتماعی طور پر اخلاقی گراوٹ ایک گھٹیا سوچ کی عکاس بن جاتی ہے…
    سیدھی اور صاف سی بات کی جائے تو اس کا واحد حل صرف اسلامی نظام اور قوانین کا نفاذ ہے جو ہر ایسی گھٹیا فکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے لیکن چند لمحوں کے لیے یہ مان لیا جائے کہ معاشرہ مختلف النوع ذہنیتوں کے مجموعے کا نام ہے… اسلام تو مسلمان مرد و خواتین کو غصِ بصر اور عزتوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے…
    تو جو لوگ ان تعلیمات کے قائل نہیں،اپنا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں…اپنا طرزِ رہن سہن اپناتے ہیں…اپنی پسند کا اخلاق باختہ لباس زیب تن کرتے ہیں…تو پھر کیا کیا جائے؟
    یہ سوال واقعی اپنی جگہ اہم ہے لیکن معاشرے سے برائی کے خاتمہ کے لیے پہلی بات تو قوانین کا فوری اطلاق اور عمل ہونا چاہیے جس کی ہمارے معاشرے میں رفتار انتہائی مایوس کن رہی ہے…نمبر دو مرد و خواتین معاشرے کا حصہ ہیں،سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کے لیے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ ایسا قطعاً نہیں ہوتا…سارے کا سارا معاشرہ بے حس نہیں ہے…گردشِ حیاء ابھی رگوں میں باقی ہے…
    مسلمانوں کے لیے تو ایک زبردست نفسیاتی حل بتایا گیا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو…پھر کوئی پاس سے ناچنے گانے والی گزر رہی ہو یا مجرے کوٹھے والی یقینِ کامل ہے مرد کی فطری جبلت کو متاثر نہیں کرے گی…اور اگر مرد نگاہیں اُٹھا کر ہی چل رہا ہے تو ایک باپردہ اور باحیا انداز میں چلتی کوئی بھی خاتون بحفاظت بچ جائے گی…یہ تو ایک زبردست نسخہ ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا ہے اور اِسی پر عمل آج بھی فلاح کا باعث ہے…!!!
    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اگر اس سے اُلٹ سوچ و کردار کا طبقہ کہیں نظر آئے…
    آپ کسی بازار کا ہی رُخ کر لیں…کسی بھی ادارے اور تعلیمی اداروں میں چلے جائیں ایسے انداز اور نمونے آپ بآسانی دیکھ سکتے ہیں تو کیا کسی کے انداز،لباس اور کردار کا پسِ منظر دیکھ کر انہیں چھیڑا جایا جانے لگے گا…یا انہیں ٹارگٹ کیا جائے گا…؟
    یقیناً ہر گز نہیں…!!!
    یہ واقعہ بھی ایسی ہی نیگیٹیویٹی کی مثال بن رہا ہے اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں لیکن اُس ہجوم اور مجمع میں کوئی بھی رجل رشید نہیں تھا…جو اس واقعہ کو وقوع ہونے سے روک دیتا…؟
    عورت بہر حال عورت ہے…اِسے کھلونا اور سوفٹ ٹارگٹ سمجھ لینا بھی ایک معاشرتی بے حسی ہے… ایسے واقعات کے علاوہ بھی تعلیمی اداروں میں ہوس ناکیوں کا شکار کوئی بنتِ حوا ہو…یا معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات…یہ سبھی معاشرے کا المیہ اور سیاہی و وبال ہیں…
    اصل محرک تربیت،سوچ اور معاشرتی اقدار ہوتی ہیں…
    جب ذہنوں میں گند بھر جائے تو لباس اور پردہ پوشی کی حدود بھی درندہ صفت انسان کہیں نہ کہیں روند ڈالتے ہیں…ہمیں اصل ضرورت تربیت کی اور معاشرے میں زہر کی طرح پھیلتی اس منفیت کو روکنے کی ہے… وہ کوئی سا بھی فورم ہو کوئی سا بھی مقام ہو…آج کے نوجوان کل کے والدین ہیں…اور آنے والی نسلوں کا مستقبل انہی کے کردار پر منحصر ہے…
    نیز حدود اور قوانین کا اطلاق فرضِ اوّل ہونا چاہیے…!
    حکومت اور عدلیہ کی جانب سے خواتین کے پردہ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے احکامات صادر ہوں…
    پھر مجرم چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اپنے کیے کا ڈر ہو…شکنجہ کسے جانے کا خوف ہو تو ہی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے…
    سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں اور آزادی جو بے حیائی اور اخلاق باختگی کی ترویج کا باعث ہیں،ایک اسلامی مملکت میں انہیں مکمل بین کیا جانا چاہیے…یہ وقت کی ضرورت اور آنے والی نسلوں کے کردار و اخلاق کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے…!
    پبلک اور مقدس مقامات پر جانے اور سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ اصول و ضوابط طے ہوں…بے حیائی کی عکس بندی کرتے مناظر اور سیلفیوں کی چنگاریاں جب آتش فشاں بن جاتی ہیں تو ہاتھ سروں پر رکھ کر بین شروع کر دیے جاتے ہیں اور ہر ایک ہی خود کو معصوم اور مظلوم جتاتا ہے…یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسے ناچ اور مجرے دیکھنے کے لیے آنے والے شرفاء نہیں بلکہ ہمیشہ شریر ذہن ہی ہوا کرتے ہیں…جن کی وجہ سے پورے معاشرے کے شرفاء پر انگلیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں…
    ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں…اور ہر واقعہ میں کئی کردار ہوتے ہیں…ان سب چیزوں پر غور اور عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے…
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عورت تو وہ ہوتی ہے جسے میدانِ جنگ میں بھی قتل نہ کرنے کا استثناء ملا…عورت کی عزت اور رہ نمائی چاہے وہ کہیں بھی ہو کوئی بھی ہو…اس طرح کی جائے کہ وہ ایوان ریڈلے سے ہمیشہ کے لیے مریم بن جائے…ماضی قریب کی یہ شاندار مثال ہم سب کے لیے ایک سبق ہے…کوئی بھی محرک اس صنفِ نازک کے خلاف ایسا اقدام نہ اُٹھوائے جو وقتی ہی سہی ایک منفی امیج اور ایشو بن جائے…اور لبرل مافیا ہمیں عورت کی تعظیم اور حقوق کے درس دینے کے لیے کوؤں کی طرح چلچلانے لگے…
    عورت بھی اپنی حدود اور ذمہ داریوں کو گہرائی سے سمجھے اور جو یہ نہیں سمجھتیں تو میرے معاشرے کے مرد کی حیا اس قدر مضبوط ہو کہ کسی اور سوچ اور طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت کا لباس یا فیشن اُس سے حیا کی چادر نہ چھین سکے… اور آئے روز کے ایسے طوفانوں سے میرا یہ چمن محفوظ کہلائے…آمین…!
    ===============================

  • *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    تربیت امت کے گلدستہ سے ایک پھول کو چنا ہے جس کی خوشبو آپ تک بکھیرنے کی کوشش ہے اللہ کریم مجھے حق لکھنے آپ کو پڑھنے سمجھنے اور ہم سب کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے.
    بہن احساس کا نام ہے جب بھائی روتا ہے تو اس کو اس کے زخم اپنے زخم محسوس ہوتے ہیں. اس کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہوتی ہے. گھر میں کھلتی یہ کلیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں بولتی ہیں تو جیسے آنگن چہچہاتا ہے. بھائی سے زد فرمائشیں ان بھر پورا ہونے پھ شکرانے کی وہ نظر کمال کا احساس ہوتا ہے.
    یہ محبت تو اللہ کریم کی دی ہوئی بے لوث نعمت ہے.
    سیرت کی کتاب سے مجھے ایک خوبصورت واقعہ ملا آپ کی سمانے گوش گزار کرتا چلوں تا کہ پتا چلے کہ ہمارے پیارے نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰ ﷺ کا اپنی بہن سے پیار کیسا تھا. اور بہن کا اپنے بھائی سے پیار کیسا تھا.
    عرب کے رواج کے مطابق نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پرورش فرما رہے تھے تو ساتھ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیٹی اور حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد مصطفیٰﷺ کی بہن بھی پرورش فرما رہی تھیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ سے بڑی تھیں جب باہر سہیلیوں میں بھای ﷺ کو لیکر نکلتیں تو کہتیں لاؤ کوئی میرے بھائی جیسا سہنا بھائی لاؤ. اللّٰہ اللّٰہ بہنوں کے کمال لاڈ. آپ ﷺ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتیں آپ ﷺ کے ساتھ کھیلتیں. بچپن کا زمانہ گزر گیا.
    وقت اور الفاظ کی قید کے پیش نظر اسی داستان کو مختصراً بیان کرتا ہوں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا اور دوسری جانب حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کی وہی رضائی بہن جو اس وقت تک ایمان نا لائی تھیں ان کی شادی ہو چکی تھی. جب اعلان نبوت کے بعد جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک جنگ کے مال غنیمت میں کچھ قیدی لاے گئے. جن کا تعلق حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبیلہ سے تھا. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبیلہ کے لوگوں نی بلایا اور کہا کل سنا کے محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں تمہارے بھائی ہیں اور ان کی قید میں ہمارے کچھ قیدی ہیں اگر تم انہیں چاہو تو چھڑا لاؤ. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی سہیلیوں کی ساتھ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں. صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کے باہر روکا اور پوچھا تو جواب ملا جاو اندر جا کر بولو محمدمصطفیٰﷺ کی بہن آئی ہے. وہی بڑی بہن والا انداز جواب آیا عزت سے لایا جاے آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا چادر بچھائی اور بٹھایا. بچپن کی باتیں ہونے لگیں. سوال آیا بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اے محمدمصطفیٰﷺ تجھے کبھی بڑی بہن ہاد نا آئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین چڑھائی اور فرمایا بہن تجھے یاد ہے ایک بار تو نے یہاں میری بازو پر دانت کاٹا تھا. میں جب بھی تجھے یاد کرتا ہوں اپنی آستین پر تیرے دانت کا نشان دیکھ لیتا ہوں. تجھے کیسے لگا تیرا بھائی تجھے یاد نہیں کرتا. بہن بھائی کی محبت نے مسجد کے اندر مجمع اشک بار کر دیا. پوچھا کیسے آنا ہوا آج بھائی کیسے یاد آیا. کہنے لگیں ہمارے قبیلے کے کچھ قیدی مال غنیمت میں آے ہیں ان کے لیے آئی ہوں. جواب ملا بہن پیغام بھیج دیتی یا مجھے بلایا ہوتا اتنے سے کام کے لیے. جواب ملا تم ﷺ سے ملنے کا بھی دل تھا مدت ہوئی تھی دیکھے ہوے.
    کیا کمال ماحول ہو گا. آپ ﷺ نے کچھ مال بطور تحفہ عطا کیا اور قیدی بھی آزاد کیے. بہن نے بھی اسلام قبول کر لیا.
    سوال یہ ہے کبھی ہم نے بھی اہنی بہن سے اس طرح احساس والا معاملہ فرمایا ہے؟ بہن کے لیے اصول مال غنیمت ہی بدل ڈالا.
    بہنوں کی وراثت کھانے والوں سے سوال ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عطا کرنے کا حکم فرمایا ہے. ہم کس رخ جا رہے ہیں.
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
    جب تم اپنی بہن کے گھر جاؤ تو کچھ نا کچھ لے کر جایا کرو.
    بہنوں کو بھائیوں کا انتظار ہوتا ہے.
    فی زمانہ دوسروں کی بہنوں پر ڈورے ڈالنے والوں سے گزارش ہے خدارا وہی خرچ اپنی بہن پر کرو تم کسی کی بہن کے 32 دانتوں سے بات نکلنے سے پہلے پورءمی کرنے کا جزبہ لے کر بیٹے ہو. تمہاری اپنی بہن کس کا انتظار کرے. وہی پیسہ وہی محبت اپنی بہنوں کو دو تاکہ اسے یہ کمی نمباہر سے پوری نا کرنی پڑے ان سے پیار کرو.
    ان کا خیال رکھو انکی ضرورت پوری کرو ان سے خوشگپیاں کرو. ان کا احترام کرو ان لر شفقت کرو. یہ تمہارے گھر کی رونق ہیں خدارا اس رونق کو آباد کرو. بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ بھائی کو رازدار بنائیں تاکہ عزت اپنی بھی محفوظ رہے بھائی کی غیرت بھی باپ کا مان بھی. گھر کا ماحول بھی سکون بھی خوشیاں بھی قرار بھی

    @EngrMuddsairH

  • غصہ ۔اسباب و تدارک  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    غصہ ۔اسباب و تدارک تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    غصہ، غیظ یا غضب فطرت انسانی کاایک شدید جذبہ ہے جس کی وجہ سے اس حالت میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اورغصہ کا شکار ہونے والےمیں غیر دوستانہ رد عمل شروع ہوجاتا ہے جو اشتعال انگیزی، جذباتی مجروحیت یا دھمکی کی شکل میں نمودار ہوسکتاہے۔
    ماہرین کے مطابق غصہ معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتاہےاورغصے سے خاندانی زندگی بھی تباہ ہو سکتی ہے.غصہ ایک پریشر ککر کے مشابہ ہوتا ہے اگر وقت پر اس کی نوب کو کھولا نہ جائے تو پریشر پتہ نہیں کیا کر جائے۔
    یہ بات بھی سچ ہے کہ والدین کے لئےبچوں کی پرورش یقیناً ایک تھکادینے والا عمل ہے اور یہی تھکاوٹ غصے کا ایک بڑا سبب بن جاتی ہے لیکن ہم اپنی تھوڑی سی ذہنی اور عملی کوششوں سے اس پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے لیے تربیت کا ایک اچھا ذریعہ بھی بناسکتےہیں۔ یادرکھیں کہ اگرگھر کے ماحول اور گھر کےکلیدی افراد میں اگرغصے کی لہریں جتنی زیادہ ہوں گی، بچوں کی سوچ اور عمل بھی اسی تناسب سے اسی سانچے میں ڈھلتی جائےگی۔
    یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم سب ہی کبھی نہ کبھی غصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔کبھی ٹریفک میں پھنسنے پر، کبھی دفتر میں ترقی نہ ملنے پر، کبھی کام مقررہ وقت پر نہ ہونے پر یا پھر بچوں کے شور شرابے پر ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ ہم سب غصے کی کیفیت میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں؟
    اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں مسئلے کی جڑ تک جانا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمیں غصہ کن محرکات یا اسباب کی وجہ سے آتا ہے اور پھر ہمیں مسئلے کو حل کرنے کے لیے کون سے ممکنہ طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔
    گھر میں بچوں کا خراب رویہ رویہ،جھنجھلاہٹ کا شکار کر دینے والے واقعات جیسے کہیں پھنس جانا، دفتری تناؤ، مالی یا خاندانی تنازعات، حسد یا سازشیں اور اس کے ساتھ ساتھ بیماری و تھکن جیسے مسائل بڑوں میں غصہ کا باعث بنتے ہیں۔
    جبکہ بچوں میں غصے کے محرکات بھی عمومی طور پر بڑوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں تاہم ان میں غصے کی بعض دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، جیسے دوسرے بچوں سے لڑائی،کسی کام کی اجازت نہ ملنا، ہم عمر بچوں کا نظر انداز کرنا، اسکول یا باہر تشدد کا شکار بننا، غنڈہ گردی کا شکار ہونا، سزا کا ملنا یا ڈانٹ پڑنا اور کبھی کبھی بچوں میں صحت کے مسائل بھی وجہ بن سکتی ہے۔
    غصے کی حالت میں فوری طور پر کسی بھی قسم کا ردعمل عام طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خود کو پرسکون کرنے کے لیے مختلف ذہنی، جذباتی یا عملی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں، مثلا۔
    جیسے ہی غصہ قابو سے باہر ہونے لگے تو کوئی رد عمل دینے سے پہلے دس منٹ کا وقفہ لیں گے، یوں تھوڑی دیر بعد، جب اعصاب پرسکون ہوجائیں تو آپ اپنی بات اچھے طریقے سے کر سکیں گے۔اس کے علاوہ ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے کوئی بھی سرگرمی شروع کی جا سکتی ہے، اگر اور کچھ سمجھ نہ آرہا ہو تو فوری طور پر سو سے الٹی گنتی گننا شروع کر دیں، سو سے الٹی شروع کرکے ایک تک ختم کریں اور اس عمل کو بار بار دہرائیں۔
    علاوہ ازیں بالکل آہستگی سے دس یا بیس بار گہری سانسیں لیں، یہ عمل براہ راست غصے کو پیدا کرنے والے ذہنی کیمیکل ‘ایڈرینالائن’ کو نارمل کر دے گا۔
    اس کے علاوہ روحانی عمل کے طور پر دعا پر مبنی الفاظ کو مسلسل دہرانے سے بھی جذبات قابو میں آجاتے ہیں۔
    جسمانی ورزش کرنے، چہل قدمی کرنے یا صرف غصے کے مقام سے باہر چلےجانے سے بھی غصے کی کیفیت کو بہتر کیاجاسکتا ہے۔
    اسی طرح اگر غصے کے دوران ٹھنڈے پانی یا مشروب کےچند گلاس پی لئے جائیں تواس سے بھی اعصابی نظام بہتر ہوسکتا ہے۔
    غصے کا آنا ایک فطری عمل ہے لیکن اگر ہم مسلسل اس غصے کو دبانے یا چھپانے کی کوشش کرتے رہیں گے تو یہ ہمارے لیے کئی طرح کے دیگر ذاتی اور سماجی مسائل کا سبب بن سکتاہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جب آپ یا آپ کا مد مقابل غصے کی کیفیت سے نکل آئے تو اس سےغصے اور اس کی وجوہات سے متعلق بات کرلی جائے تو بہتر ہو جاتا ہے، آپ خود بھی کسی دوسرے فرد سے اس کے متعلق گفتگو کر سکتے ہیں جس کے بہتر نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔
    غصے کی حالت میں سکون دینے والی مصروفیات تلاش کریں اور چونکہ غصے کی حالت ایسی توانائ پیدا کرتی ہے جس میں ذہنی حرکیات بہت تیز ہو جاتی ہیں اس لئے اس توانائ کو مثبت سمت میں موڑا جاسکتا ہے جیسے کچھ لکھنے، ڈرائنگ یا مصوری جیسی ذہنی سرگرمیوں کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے اوریقین جانئے یہ سرگرمی خاص طور پر بچوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اور خاص بات یہ بھی ہے کہ غصے میں لکھی گئی تحریریں مستقبل میں آنے والوں کے لئے سبق آموز نتائج فراہم کرتی ہیں . غصے کی حالت میں آپ کی جسمانی سرگرمی ، پیدا ہونے والی منفی توانائی کو مثبت صورت میں بدل دیتی ہے، اس کے لیے آپ ورزش کو اپنی عادت بنائیں، جسمانی مشقت کے بعد آنے والی پر سکون نیند کے ذریعے اپنے اعصاب اور جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
    آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ غصے والے بچوں کے لیے والدین کو رول ماڈل بننا چاہیے، کیوں کہ بچے گھر کے ماحول کا عکس ہوتے ہیں اس لئے پہلے والدین اپنے غصے پر قابو پانے کی صلاحیتوں پر کام شروع کریں اس طرح نہ صرف یہ کہ بچوں کو غصہ کی کیفیت سے بچایا جاسکے کا بلکہ معاشرے میں بھی برداشت کا عنصر غالب ہو سکےگا اورپھر ایک بہتر معاشرے کے قیام میں مدد گار ہو گا۔

    @Azizsiddiqui100