Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اللہ سے مضبوط تعلق دل کے سکون کا ذریعہ تحریر:تسمیہ یعقوب

    اللہ سے مضبوط تعلق دل کے سکون کا ذریعہ تحریر:تسمیہ یعقوب

    آج کے اس مصروف دور میں ہر انسان مختلف قسم کی پریشاینیوں اور بے خینیوں سے دو چار ہے۔ وہ زندگی کی اس دوڑ میں ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اتنے ساتھ لوگوں کو خوش رکھ سکے اور خود بھی ذہنی سکوں حاصل کرے۔۔۔۔۔۔
    لیکن افسوس انسان اس کوشش میں ناکام ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہی نہیں ہے کہ سکون کیا ہے اور وہ اسے کیسے حاصل کرے۔
    اس بے سکونی اور بے چینی کی وجہ سے وہ آئے دن مشکلات میں گھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ اتنوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے، اپنے دوستوں سے علیحدہ ہو جاتا ہے حتی کہ اپنے عستے بستے گھر کو اجاڑ بیٹھتا ہے۔۔ اور آہستہ آہستہ وہ خود کشی کی طرف جا پہنچتا ہے۔ اس کی زندگی کی کمائی اس کو ذرا برابر بھی سکون نہیں دے پاتے۔۔۔۔
    امام غزالی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ : "بندے کی اپنے رب سے دوری بندے کو بندے سے دور کر دیتی ہے۔
    لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سکون کس چیز میں ہے؟؟ جب اس دنیا کی آسائشیں سکون نہ دے سکی ۔۔ اس دنا کی کوئی رشتہ سکون نہ دے سکا تو آخر وہ کیا ہے جس سے سکون حاصل ہو۔۔۔۔ وہ کیا ہے جو زندگی میں مشکل سے مشکل حالات میں ڈگمگانے نہ دے؟؟
    وہ صرف اللہ کی طرف رجوع ہے۔۔۔۔ وہ اللہ سے ربط قائم کرنا ہے۔۔۔۔ وہ اللہ کی کتاب احکامات کو مضبوطی سے تھام لینا ہے۔۔
    پھر چاہے زندگی میں کوئی بھی حالات ہوں، زندگی کی ایسی مشکلات ہوں کہ جینا بھی دو بھر ہو تو جینا مشکل نہیں لگتا ۔۔۔ کیوں اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ وہ اپنے نیک بندے کےلیے ہر مشکل راستہ آسان کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔
    اللہ سے تعلق استوار کرنا کیا ہے؟؟
    اللہ سے تعلق استوار کرنا یہ ہے کہ اس کے احکام ماننا، اس کا ہر ہر حکم بجا لانا، اس کی عبادت میں خود کو مصروف کر لینا، اپنے روز مرہ کے کاموں میں اللہ کی احکام کے خلاف نہ جانا، اور کیسی بھی پریشانی ہو، کیسی بھی مشکل ہو اس کو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے برداشت کرنا۔۔۔۔۔
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
    اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(28)
    "جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں "۔
    یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ یونہی اللّٰہ تعالیٰ کی یاد محبت ِ الٰہی اور قرب ِ الٰہی کا عظیم ذریعہ ہے اور یہ چیزیں بھی دلوں کے قرار کا سبب ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ بھی کہا جائے تو یقینا درست ہوگا کہ ذکرِ الٰہی کی طبعی تاثیر بھی دلوں کا قرار ہے ، اسی لئے پریشان حال آدمی جب پریشانی میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تواس کے دل کو قرار آنا شروع ہوجاتا ہے ،یونہی قرآن بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس کے دلائل دلوں سے شکوک و شبہات دور کرکے چین دیتے ہیں ، یونہی دعا بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی حاجتمندوں کو سکون ملتا ہے اور اسمائے الٰہی اور عظمتِ الٰہی کا تذکرہ بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی محبانِ خدا کے دلوں کو چین ملتا ہے۔
    اللہ رب العالمین نے قرآن کریم کے اندر سورہ زخرف میں فرمایا :
    "وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَهُ قَرِینٌ.
    ” اور جو کوئی رحمان کے ذکر سے منہ موڑتا ہے، اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں، جو اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔ ( سورہ زخرف : 36)
    ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اس کے ذکر و اذکار سے اپنی زبان تر رکھیں، بندوں کے حقوق کی مکمل رعایت کریں، مشکل و پریشانی کے لمحات میں بھی خوش و خرم رہنا سیکھیں، غم و الم کی چادر اوڑھ کر بیماریوں کو دعوت نہ دیں، ورنہ تندرست و توانا ہونے کے باوجود بھی ہسپتالوں کے چکر کاٹیں گے، فراغت و خوش حالی کے باوجود بھی قلبی راحت و سکون سے محروم ہوکر ذہنی و نفسیاتی اذیتیں ہمارا جینا دوبھر کر دیں گی۔ اللہ ہمیں سکون کی دولت سے مالا مال کرے۔۔آمین!

    Twitter ID: @T7__G

  • واقعہ کربلا- ایک نظریاتی فتح کی داستان تحریر : حسن ساجد

    واقعہ کربلا- ایک نظریاتی فتح کی داستان تحریر : حسن ساجد

    ماہ محرم الحرام کو اسلام سمیت تمام مذاہب اور تاریخ عالم میں خاص فضیلت و احترام حاصل ہے۔ یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عربوں سمیت تمام اقوام عالم اس ماہ کی حرمت اور تقدیس و احترام کا خیال رکھتی تھیں۔ یوں تو محرم الحرام کا سارا مہینہ ہی تقدیس و احترام اور بڑی فضیلت والا ہے مگر یوم عاشورہ کو فضیلت و احترام میں باقی ایام پر امتیاز حاصل ہے۔ یوم عاشورہ کو ابدی اہمیت و فضیلت واقعہ کربلا کے بعد نصیب ہوئی جب سن 61 ہجری میں عاشورہ کے روز نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہ بتول پسر حیدر کرار حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی مختصر سپاہ سمیت خاک کربلا پر اپنے مقدس و معطر لہو سے داستان عشق و وفا رقم کی۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے 72 جانثاروں کی شہادت تاریخ انسانی کا وہ نادر و نایاب واقعہ ہے جس سے کائنات میں موجود ہر شے متاثر ہوئی۔ انسان و حیوان، زمین و آسمان، شمس و قمر، بحر و بر، برگ و ثمر، کوہ و دمن، چرند پرند الغرض ہر ذی روح اور ہر مظہر قدرت پر اس عظیم واقعہ نے ان مٹ نقوش ثبت کیے۔ یہ واقعہ کربلا کے تاریخ عالم پر گہرے نقوش کا اثر پے کہ آج چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی امام عالی مقام، آپ کے اہل خانہ اور آپ کے اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے ہماری آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔
    قربانی، ایفائے عہد، صبر و استقامت، بندگی، بردباری، سخاوت و فیاضی، عزم و استقلال، حق گوئی و شجاعت اور رضائے الہی پر راضی ہوجانے کا جو عملی مظاہرہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے کیا تاریخ انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
    سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ و علیہ السلام نے جس ثابت قدمی سے راہ حق پر کاربندی کا مظاہرہ کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہو کر بھی تاریخ میں "زندہ باد” ہیں اور یزید آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا سر تن سے جدا کرکے بھی "مردہ باد” ہے۔
    اس صورت حال میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے جانثاروں نے میدان کربلا میں راہ حق پر اپنی جانیں قربان کرکے بےمثل و لازوال نظریاتی فتح حاصل کی۔ میدان کربلا میں حضرت امام نے یہ ایسی شاندار اور لازوال فتح اپنے نام کی کہ جس کا سکہ آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بدستور رائج ہے۔ واقعہ کربلا اقوام عالم کو علی الاعلان یہ پیغام دے رہا ہے کہ ظلم و بربریت کا دور مختصر اور باطل نظریات کی جیت وقتی، ناپائدار اور زوال پذیر ہے جبکہ حق کی حکمرانی ابدی اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔
    واقعہ کربلا کا بغور مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید نے امام عالی مقام کو آپ کے خاندان اور اصحاب سمیت بے دردی سے شہید کرکے خود کو فاتح اور خلیفہ برحق ثابت کرنے کی جو مذموم کوشش کی وہ کسی صورت برگ و ثمر بار نہ ہوسکی۔ الٹا اس کی وہ وقتی جیت ہی اس کی ابدی شکست و رسوالی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی کیونکہ امام عالی مقام شہید ہو کر بھی لوگوں کے دلوں پر حق و صداقت کا عظیم منارہ بن کر راج کر رہے ہیں جبکہ یزید بظاہر جنگ جیت کر بھی ازلی ذلت و رسوائی اور نجاست کی علامت بن کر رہ گیا۔ یہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی تا ابد قائم رہنے والی نظریاتی فتح کا نتیجہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد حق و باطل کو حسینیت و یزیدیت کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے جہاں حسینیت کو حق و سچ اور صراط مستقیم کے معیار کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ یزیدیت کو ظلم، بغض، بزدلی اور باطل نظریات کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
    میرے نزدیک واقعہ کربلا ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو اپنے اندر نوع انسانی کے لیے ان گنت سبق آموز پیغامات چھپائے ہوئے ہیں۔ جن پر غور وفکر کی آج کے دور میں بے حد ضرورت ہے۔
    واقعہ کربلا سے منسلک سب سے اہم سبق میرے نزدیک یہ ہے کہ اللہ رب العزت امتحان اور آزمائش کے لیے ہمیشہ سے ہی اپنے متقی، برگزیدہ، محبوب اور مقرب بندوں کا انتخاب کرتا ہے جب کہ ظالم کی رسی عذاب الہی کا شکار ہوکر تباہ و برباد ہونے تک دراز ہے۔

    کلمہ حق ظالم و جابر حکمران کے سامنے بلند کرنا اور احکام خداوندی پر کسی صورت سمجھوتا نہ کرنا چاہے جان، مال، اولاد اور آبرو قربان ہو جائے. یہ واقعہ کربلا سے منسلک دوسرا بڑا سبق ہے اور یہی اصل حسینیت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں حق پر قائم ہوجائیں اور ہم صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں چاہیے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی و علیہ السلام کی زندگی اور آپ کی شہادت ایک مکمل اور جامع فلسفہ حیات ہے۔ آپ نے اپنی زندگی اور شہادت کے ذریعے رضائے الہی، صبر و استقامت اور عزم و وفا کی لازوال مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ اللہ پاک ہمیں فلسفہ شہادت امام حسین کی اصل روح کو سمجھنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔
    اللہ رب العزت ہمیں غم امام حسین رضی اللہ تعالی و علیہ السلام کو زندگی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ سیرت و تعلیمات حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی و علیہ السلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قلندر لاہوری مرشد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اس شعر پر اختتام
    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

    Twitter Handle: @DSI786

  • 15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    طالبان پشتون کا لفظ ہے جس کے معنی طلبہ کے ہیں۔۔ ایمان و عزم کی یہ تاریخ بہت طویل یے۔۔
    امریکہ کے افغانستان قبضے سے پہلے یہاں روس نے 1978 میں قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ جسکے نتیجے میں 1979 میں افغانیوں نے اسکے خلاف علان جہاد کیا ۔ اس جہاد میں پاکستان کی آئی ایس آئی ، فوج اور پاکستانی عوام بھی شامل ہوئے۔ یہ جنگ 1990 میں ختم ہوئی اور روس بہت سے ٹکروں میں تقسیم ہوگیا۔ مجاہدین نے اپنا ملک صلیبی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ بل آخر 1995 میں باقاعدہ *ملا محمد عمر* نے اسلامی شریعت کا نفاذ کیا اور افغانستان کے امیر مقرر ہوئے۔ 5 سال یہاں اسلامی قانون کے تحت ملک چلایا گیا۔ عوام خوشحال ہوئی ۔ برائی و بےحیائی سے افغانیوں نے چھٹکارا حاصل کیا۔عدل و انصاف نے معاشرے کو خوبصورت بنانا شروع کیا۔

    مگر امریکہ کو اپنی سپر پاور بننے کے راستے میں افغانستان کانٹے کی طرح چھبنے لگا۔۔۔۔۔ چونکہ اللہ کا نظام ہی وہ واحد نظام تھا جو طاغوت کیلئے خطرہ ہو سکتا تھا۔ جبکہ امریکہ اسرائیل نیو ورلڈ آڈر کی تیاری کر رہے تھے ۔

    افغانستان میں زبردستی گھسنے کیلئے انکو ایک جواز چاہیے تھا جو وہ دنیا کو پیش کر سکیں۔
    2001 میں امریکہ نے 9 ستمبر کا جعلی ڈرامہ رچایا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشتگرد دکھا کر پوری یورپی یونین، انڈیا اور ترکی کو شامل کیا ۔ نیٹو کے نام پر کم و بیش 30 ممالک کی اتحادی فوجیں اکٹھی کرکے افغانستان میں زبردستی اتار دیں اور کہا کہ افغانستان میں دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد ہیں جن سے ساری دنیا کے امن کو اور خاص کر امریکہ کی سالمیت کو خطرہ ہے۔۔۔

    ملا عمر اپنے طالبان کیساتھ غاروں میں پناہ گزین ہوئے اور گوریلا جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
    پاکستان میں اس وقت مشرف دور تھا ۔ ریاستی پالیسی بدل گئی۔۔ پاکستان کے فضائی اڈے استعمال کرکے افغانستان پر ڈرون حملے کیے گئے۔ نیٹو کی سپلائی، اسلحہ پاکستان سے جاتا رہا۔
    20 سال کی ایک طویل اور عصاب شکن جنگ کے بعد بل آخر 15 اگست 2021 کو افغان طالبان مکمل طور پر افغانستان کو امریکی تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔
    اس سے پہلے حال ہی میں پاکستان نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈے مزید دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر امریکہ بات چیت پر آگیا کہ طالبان کیساتھ جنگ بندی کرکے مفاہمت کا راستہ نکالا جائے ۔ جس میں اقتدار امریکہ کی کٹ پتلی حکومت اشرف غنی کے ہاتھ رہے ۔ طالبان کی طرف سے ہمیشہ ایک شرط رکھی گئی کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت نافذ ہوگی تو وہ جنگ بندی کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر طاغوت کبھی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی، جدید جنگی ساز و سامان اور پورے طاغوت کی اجتماعی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور انتہائی زلت و رسوائی کے عالم میں وہاں سے فرار ہوئی۔ 20 سالہ طویل جدوجہد اور لاکھوں شہدا کی قربانیاں دے کر افغان مجاہدین اللہ رسول کی مدد سے کامیاب ہوئے ۔۔۔
    *واضح رھے کہ اس فتح کی پیشنگوٸی آج سے17سال قبل 2005 ٕسے پہلے کی گئی۔ جب شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی زبانی یہ بات پتا چلی کہ ملا محمد عمر کو خواب میں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ ملا محمد عمر کے مطابق سرکار دو عالم ﷺ کی جانب سے انہیں ایمان کیساتھ ڈٹے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی۔*
    طالبان تعداد میں صرف 75 ہزار اور افغان آرمی ساڑے تین لاکھ ۔۔۔۔ مگر اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں پر اپنے ایمان اور توکل کی بنا پر غالب آگئے۔

    یہاں ایک اور طرف توجہ دلانی درکار ہے۔ ملا عبدالغنی جو اس وقت افغانستان کے صدر بن چکے ہیں، ماضی میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بے وفائی کا شکار ہوئے۔ پرویز مشرف نے انکو گرفتار کرکے پاکستانی جیل میں ڈالا۔۔۔ آج دونوں کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔۔ طاغوت کی خاطر لڑنے والا زلت و رسوائی کی زندگی گزار رہا اور پاکستان کی زمین اس پر حرام ہوچکی یے۔ جبکہ دوسری طرح اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کی سربلندی کی خاطر صعوبتیں برداشت کرنے والا آج کس شان و شوکت کیساتھ اپنے ملک کا صدر بن گیا۔۔۔

    ہم موجودہ پاکستان حکومت کو بھی تنبیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی پر ناجائز ظلم و جبر کرنا بند کریں۔۔ اور شریعت ِ محمدی کے نفاذ کے عمل کو وطنِ پاکستان میں یقینی بنائیں۔ ورنہ حق تو آیا ہی غالب ہونے کیلئے ہے۔ اسکی راہ میں جو بھی حائل ہوا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق حق اسکی کمر خود توڑ کر رکھ دیتا یے۔
    *اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ*
    *ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارہ*
    *عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تیری*
    *مرے درویش ! خلافت ہے جہاں گیر تری*
    *ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری*
    *تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری*

    **
    *@2convincing*

  • معراج ِ دین حُسین علیہ السلام     تحریر : محمد شفیق

    معراج ِ دین حُسین علیہ السلام تحریر : محمد شفیق

    تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جو وحدہٗ لاشریک ہے۔ جس کی ذات و صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ جو یکتا اور واحد ہے۔ جو اتنا خوبصورت ہے کہ کوئی آنکھ اس کی تجلی برداشت نہیں کر سکتی۔ سوائے اس کے جس آنکھ کو وہ چاہے۔
    اور کروڑوں بار درود و سلام ہو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔
    ہمارے نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لئے بہت ساری تکلیف برداشت کیں۔ ایسی تکالیف جن کو سہنا ایک عام انسان کے بس سے باہر ہے لیکن وہ تو رحمت اللعالمین اور خدا کے محبوب ہیں۔اور یہ زبان ان کی تعریف کرنے سے قاصر اور یہ قلم لکھنے سے معذور ہے۔

    جب لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لئے بہت ساری تکالیف برداشت کی ہیں بدلے میں آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں کچھ ایسا بولیں کہ ہم اس کا کچھ نہ کچھ بدلہ اتار سکیں۔ تب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی
    قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى
    کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت (اہل بیت)کی مودت (تو چاہیئے)

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مودت ہوتی کیا ہے۔۔۔؟
    کسی کی عظمت کے اعتراف کی بنا پر اس سے اخلاص اور پیار، محبت، پرخلوص دوستی، مخلصانہ اور بے غرض محبت مودت کہلاتا ہے
    اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس حد تک ان سے مودت کا حق ادا کر رہے ہیں
    محرم حسینؑ سے منسوب نہیں ہے پورا اسلام ہی حسینؑ سے منسوب ہے لیکن چلو اس ایک مہینے میں ہی کچھ ان کی یاد سے دل کو آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    محرم میں ہم امام حسینؑ کو کتنا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ میرا مجھ سمیت آپ سب سے سوال ہے
    جواب آئے گا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔

    آپ کی روز مرہ زندگی میں کتنی تبدیلی آئی ہے ؟
    کیونکہ یہ دن خاص طور پر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہیں۔ یہاں یہ چیز بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی یاد میں صرف آنسو ہی بہادو تو اس سے یہ حق ادا ہوتا ؟ بلکہ حسینؑ کے فلسفے کو سمجھنے کی ضرورت ہے حسینؑ کی فکر کو حسینؑ کی سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ جو کہ ہم کوشش بھی نہیں کرتے۔
    حسینؑ کا فلسفہ انقلاب کسی خاص منطقہ اور زمانہ کے لئے خاص نہیں ہیں بلکہ رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں کو یاد خدا پیغمبران خدا کے پاکیزہ مکتب اور فکری واصولی اقتدار کو زندہ کیا۔ حقیقت میں آپ ہرقرن کے روشن ضمیر لوگوں کے رہنما اور رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    آپ کا منشور باطل خداؤں کی نفی اور ذات الہی کا اقرار ہے
    امام حسین کا ہر باضمیر اور حریت پسند انسان کی گردن پر حق ہے کہ آپ کے مشن کو زندہ وتابندہ رکھا جائے اور یہ ہم تب ہی کرسکیں گے جب تک امام حسینؑ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

    بقول علامہ اقبال
    کربلا کی ریت پر سویا ہوا ہے دیکھ لو
    مسجدوں میں ڈھونڈتے ہو کون سے اسلام کو

    اگر حسینؑ کو سمجھو گے تو تب ہی اپکی مسجد میں بھی اسلام ہو گا اپکی روح میں اپکی زندگی میں بھی اسلام ہوگا
    فرمان مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ
    ” میرا حسینؑ کشتی نجات ہے۔۔۔! نوح کے سفینے کی مانند ہے چراغِ مصباح و ہدایت ہے

    ایک اور جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حسینؑ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے خدا کو تکلیف دی۔ اور حسینؑ کو بھلا کے ہم رسولؐ کو تکلیف ہی تو دے رہے ہیں۔۔۔۔

    کبھی رسولؐ کے کاندھے پر کبھی نوک سناں پر
    حسینؑ آپ کو جب بھی دیکھا سربلند دیکھا

    حسین کو ماننے کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں بلکہ انسان ہونا ضروری ہے حسین محسن انسانیت ہیں۔ جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر صرف اسلام نہیں بلکہ انسانیت بچائی۔ ایک غیرت مند قوم کبھی اپنے محسن کو نہیں بھولتی۔

    ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے حسینؑ کے فلسفہ حیات کو کس حد تک یاد رکھا ہوا۔

    یہ دن نواسہ رسولؐ سے خاص طور پر منسوب ہیں اسلیے شیعہ سنی سے بالاتر ہوکر سوچیے
    اگر رسولؑ سے محبت ہے تو پھر حسین سے محبت کیوں نہیں حسینؑ کی یاد سے یہ دل غافل کیوں ہیں۔ اتنا یاد رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں میرے بیٹے حسنؑ اور حسینؑ جنت کے سردار ہیں اگر تمہارے دل میں ان کی محبت موجود نہیں ہے تو کس منہ سے جنت کی خواہش رکھتے ہو۔
    کیونکہ کسی بھی علاقے کا جو سردار ہوتا ہے اس کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں داخل نہیں ہوا جاسکتا تو سردار کو جانے بغیر اس کے علاقے کی حدود میں کیسے داخل ہو سکو گے۔ یہ سرداری کائنات رسول نےانکو سونپ دی ہے۔ تو ان کو راضی کیے بغیر ہم جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتے۔ جنت میں جانا تو دور کی بات ہے

    حسین کے ذکر سے روح کو سرور ملتا ہے
    اس نام کو لکھنے سے قلم کو غرور ملتا ہے
    اس کی تعریف میں کیا لکھوں گی شاہی
    جس کو سوچنے سے ہی کوہ طور ملتا ہے

    بحثیت ایک باشعور انسان اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اس مہینے میں فرقہ واریت پر اکسانے والے تمام لوگوں کی مذمت کی جائے۔ فرقہ واریت کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی کوئی یہ اچھا اخلاقی عمل ہے ۔اہل بیت ہوں یا صحابہ اکرام سب ہی واجب الاحترام ہیں
    ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کریں

    @Ik_fan01

  • حضرت امام حسین اور اہل بیت  تحریر : ماریہ بلوچ

    حضرت امام حسین اور اہل بیت تحریر : ماریہ بلوچ

    محرم الحرام نئے اسلامی سال کا پہلا مہینہ۔اللہ نے امت مسلمہ کی جھولی میں محرم کو ڈالا ، میرے نبی محمد ﷺ کو چاند کا سال عطاء فرمایا۔اس لیے کہ چاند کبھی غروب نہیں ہوتا اکثر لوگوں نے دن میں بھی چاند باقی رہتا ہے۔
    محرم الحرام کا ‏مہینہ ازل سے مقدس چلا آرہا ہے۔محرم میں آدم علیہ السلام توبہ قبول ہوئی۔ اماں ,ابا (حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ہوا علیہ السلام ) کی  ملاقات ہوئی 10محرم میدان عرفات میں، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر محفوظ ہوگئی حضرت موسی علیہ السلام نے سمندر پار کیا اور فرعون ‏اسی سمندر میں غرق ہو گیا ( راستے نہیں رہبر بچاتے ہیں ) حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملی۔
    لمبی فہرست ہے محرم کے واقعات کی پھر سب سے آخر میں واقعہ کربلا نواسہ رسول ﷺ جگر گوشہ بتول فرزند علی مرتضیٰ جناب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ، علیہا السلام ، اہل بیت ‏اور آپ کے ساتھیوں کی دل چیر دینے والے شہادت۔ یہ واقعہ ایسا ہوا کہ باقی تمام واقعات پر چھا گیا۔
    اسبابِ کربلا
    یہ حق و باطل کا معرکہ تھا، جھوٹ اور سچ کا مقابلہ تھا ، ظلم اور عدل کا ٹکڑاو تھا ، خیر اور شر کی لڑائی تھی دو شخصیات کی لڑائی نہیں تھی دو نظریات کا تصادم تھا یہ اقتدار کی ‏جنگ نہیں تھی حقدار کی جنگ تھی۔
    شخصیات کا تعارف و حوالہ
    یذید ظلم کا استعارہ ہے حضرت حسین ابن علی علیہ السلام امن کی علامت ہیں۔ یذید جبر کا پتلا ہے حسین رضی اللہ تعالی عنہ صبر کا پیکر ہیں۔
    یذید اپنی بد دینت فطرت اور اپنی تپ ناہموار کے ‏باعث دینا پر ذلت و رسوائی ظلم و جبر جوہ و ذیادتی کی علامت بن کر ابھرا ، حسین ابن علی علیہ السلام حق و صداقت کا نشان بن کر ابھرے اور رہتی دنیا تک کر لوگوں کے لیے عظیم الشان مثال چھوڑ گئے۔
    یذید بن معاویہ باہدل کی بیٹی محسون کا ناپاک بیٹا اور دوسری طرف حسین رسول ﷺ کی لاڈلی
    ‏فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ کا شہزادہ تھا ، یذید دمشق کے اطراف میں سرجون اور جریر اختل جیسے اوباشوں کے جھرمٹ میں پل کے جوان ہوا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کے گھر کا دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا ۔ یذید نشے میں دھت ہوکر نمازیں چھوڑ دینا ہے حسین کی کربلا کے اندر بھی نماز تہجد قضا نہ ہوئی ‏یذید نے ایک مرتبہ زندگی میں حج کیا اور شراب کے مٹکے ساتھ لیکر آیا ،اختل اور دیگر گویوں اور مغنیوں کو اپنے ساتھ رکھا تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے حسین ابن علی رض نے 25 حج سواری ہونے کے باوجود پیدل کیے۔یذید کے اندر زمانہ کی ہر برائی تھی بدکاری شراب نوشی وہ شریعت بیضا کا مذاق اڑاتا تھا ‏دوسری طرف امام حسین رض کا دودھ جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ کا تھا آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ کی رگوں میں خون علی ابن طالب کا تھا آپ کے دوست عبداللہ ابن عباس تھے ، عبداللہ ابن عمر اور عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللّٰہ تعالیٰ تھے۔ یذید شراب نوشی کرتا رہا جوا کھیلتا رہا ‏اور آپ رضی اللہ تعالیٰ مسجد نبوی کے منمبر پر حضور ﷺ کے پہلوؤں میں بیٹھتے تھے۔
    یذید شام کا حکمران بنا اور مدینہ کے حکمران کو اپنی بیت کی دعوت دے رہا مدینے کے گورنر کو پیغام بھیجا اس نے پیغام امام حسین رضی اللہ تعالی تک پہنچایا گیا کہ یذید کہتا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ۔‏یذید حج بیت اللہ کے بعد مدینہ طیبہ آیا اور شراب کی ایک مجلس بپا کی ،حضرت امام حسین علیہ السلام جب وہاں پہنچے تو شراب کی بد بو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیسی بو ہے تو یذید بولا کہ یہ شام میں بنتی ہے ایک جام یذید نے پیتے ہوئے دوسرا جام حضرت امام حسین کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ابا ‏عبداللہ لیجئے
    حسین ابن علی نے کیا میں اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تو یذید عشقیہ اشعار پڑھنے لگا جب حضرت امام حسین ؓ کی شراب نوشی کا منظر اپنے ہاتھ سے دیکھ چکے تھے تو یذید کے پلید ہاتھ پر امام حسین ؓ کا پاک ہاتھ کیسے آتا۔
    حضرت محمد ﷺ کی محبت کا عالم
    آپ ﷺ کی سید زادوں ‏سے محبت کے بیشمار واقعات ہیں ۔آپ محمد ﷺ نے اپنے بچوں کو سینوں سے لگایا ان کے ہونٹ چومے ان کو گود میں کھلایا ان کو کندھوں پر بٹھایا ان کو پشت پر بھٹا کر سواری دی ان کے لیے سجدوں کو طول دیا۔
    سیدنا حسن ابن علی اور سیدنا حسین ابن علی ؓدونوں سید زادے دنیا میں’’ ریحا نۃ الرسول‘‘ تھے ‏حسنین کریمہ ؓ صرف ہمارے نبی محمد ﷺ اور سید زادوں کے والدین ہی نہیں بلکہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ، خالائیں ، رشتے دار مہاجرین اور انصار اصحاب اکرام غرض کہ بچہ بوڑھا جوان مرد عورت ہر کوئی ان کی ایک ایک ادا پر دل وجان سے فدا تھے۔ سیدنا حسن و حسین علیہ السلام اُن خوش قسمت نفوس میں
    ‏سے تھے جن کی تربیت خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ ان کو ہمیشہ لقمۂ حلال ہی کھانے کو ملا۔
    زمانے نے وہ منظر بھی دیکھا حسنین کریمین حجرہ فاطمہ سے نکلتے ہیں کم عمری کی وجہ سے کبھی گرتے کبھی سنبھلتے ہیں آپ ﷺ خطبہ چھوڑ کر شہزادوں کو گود میں اٹھا لیتے ہیں۔ ‏حضرت عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سجدے میں تھے اور سجدہ اتنا طویل ہو گیا ہمیں لگا یا تو وحی کا نزول ہو رہا ہے یا پھر اللہ کا حکم آ گیا اور اللہ کے محبوب کی روح قبض کرلی گئی لیکن میں نے جب سر اٹھا کر کن آنکھیوں سے دیکھا تو کیا منظر تھا کہ حسین ابن علی حضور ﷺ کی پشت پر ‏بیٹھے ہوئے اور میرے آقا ﷺ سجدے کو طول دے رہے ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر حسین کے لیے پیغمبر کے سجدوں کو طول دیا جارہا ہے۔
    وہ منظر بھی دنیا نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے مبارک کندھوں پر حسین ابن علی رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ بیٹھے ہیں حضور کی زلفوں کو پکڑا ہوا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ‏دیکھ کے کہتے ہیں واہ واہ کیسی سواری میسر آئی ہے حسین ابن علی کو تو میرے آقا محمد ﷺ مسکرا کے کہتے ہیں عمر سواری دیکھتے ہو سوار بھی تو دیکھو
    ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا
    ( آپ ﷺ کے دونوں پہلوؤں سے حسنین کریمین لپٹے ہوئے تھے )
    ” یہ میرے بیٹے ہیں یہ میری بیٹی کے بیٹے ہیں میں ‏سے پیار کرتا ہوں اے اللہ تم بھی ان سے پیار کر اور جو ان سے پیارے کرے اس سے بھی پیار کر
    ایک جگہ فرمایا
    حسین کا رونا مجھے دکھ دیتا ہے
    حضرت حذیفہ بن یمان رضہ اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
    حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا! حذیفہ سنو ابھی ابھی ایک فرشتہ آیا ہے جو اس سے قبل دھرتی پر ‏نہیں آیا آج پہلی مرتبہ اللہ سے اجازت لے کے دو کام کرنے آیا ایک تو مجھے سلام کرنے آیا ہے اور دوسرا خوشخبری دینے آیا ہے کہ آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
    ان واقعات کو بیان کرنے میں تو کئی نشستیں بیت جائیں مختصر یہ ‏آپ ﷺ نے ان کی محبت کا درس دیا ان کے پیار کا سبق پڑھایا۔ کہا کہ ان سے پیار کرنے والا مجھ سے پیار کرتا ہے اور ان سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
    آپ ﷺ نے حسین ابن علی کو اپنی زبان کا لعاب دہن دے کر کے وہ شیریں رحمت دے کر کہ وہ کوثر و تسلیم سے پاکیزہ تر آب رحمت عطا کر کے ان ‏ان کی ہمیشہ کے لیے ان کی پیاس بھجا دیں تاکہ کل کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں حسین ابن علی کو پیاس کی شدت تنگ نہ کرے اور پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے ۔اتنے نازوں سے پالے ہوئے حسین کو ان محبتوں سے پالے ہوئے حسین ابن علی کو امتحان بھی اتنے بڑے درپیش تھے۔ ‏یاری تیری سونا پر آزمائشاں تیری اگ
    سونا پرکھیا جاندیاں اہے نال اگاں تے لگ

    جتنا بڑا شخص ہوتا ہے اتنی بڑی آزمائشیں بھی ہوتی ہیں۔پیغمبر رحمت کی آغوش میں کھیلنے والا حجرہ فاطمہ کا جانشین رسول ﷺ کے مصلی کا وارث حضرت امام حسین علیہ سلام بن علی بن ابو طالب۔
    عنوان : امام حسین اور اہل بیت

    Twitter handle: @ShezM__

  • شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تحریر:سید عمیر شیرازی

    شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تحریر:سید عمیر شیرازی

    قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے
    وہ لوگ جو میرے راستے میں قتل کر دیے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی سمجھ نہیں سکتے دوسری جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں
    وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل کر دیے گئے ہیں انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے انہیں رزق ملتا ہے،
    شہداء اپنی فانی زندگیوں کو قربان کر کے ابدی حیات پاتے ہیں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت بہت بڑی فضیلت والی شہادت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہ محرم اور خصوصا "یوم عاشورہ” کو فضیلت بخشی گئی ہے۔
    اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مرتبے پر فائز کیا
    حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا کیا،حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی سے اتارا،حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی،
    حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی واپس آئی،حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا،حضرت یوسف علیہ السلام قید سے آزاد ہوئے۔۔
    اس حوالے سے یوم عاشوراء کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس روز کا روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے
    واقعہ کربلا اسلامی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جہاں انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ جاتی ہے کیسے نواسہ رسولﷺ کی آل پر ظلم کیا گیا بڑے بچے بزرگوں سب کو شہید کرکے،
    حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیشہ اپنی قوم کا ساتھ نبھایا لیکن آپؓ کی صفوں میں ابن سباء لعنتی کی نسل نے گھر جمادیا اور آپؓ کو دھوکے سے میدان کربلا بلایا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ بات چیت کے لئے گئے لیکن شاید اللّه کو کچھ اور منظور تھا آپؓ کی شہادت کا وقت قریب سے قریب تر تھا آپؓ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ سفر پر آئے اور آپؓ پر راستے میں بھی ظلم کی داستان نا ختم ہوئی لیکن اسکے باوجود حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ واپسی کے لئے نہیں پلٹے بلکے حق پر قائم رہے۔

    رجب ٦٠ ھ ہجری میں جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے بعد یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ لکھا کہ حسین ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے فوری طور پر بعیت لےلو اور جب تک وہ بعیت نہ کریں انہیں مت چھوڑو،
    حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ تشریف لے گئے آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یزید مسلمانوں کی امامت و سیادت کہ ہرگز لائق نہیں تھا بلکہ فاسق و فاجر،شرابی اور ظالم تھا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو (کوفیوں) نے متعدد خطوط لکھے اور کئی قاصد بھیجے کے آپ کوفے آئیں ہمارا کوئی امام نہیں ہم آپ سے بعیت کریں گے۔
    خطوط کی تعداد اس قدر تھی کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ سمجھا کہ مجھ پر ان کی رہنمائی کے لئے اور انہیں فاسق و فاجر کی بعیت سے بچانے کے لئے جانا ضروری ہو گیا ہے،
    حالات سے آگاہی کے لیے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے آپ کی بیعت کرلی لیکن جب ابن زیاد نے دھمکیاں دی تو (کوفی) اپنی بعیت سے پھر گے اور مسلم بن عقیل رضی اللہ شہید کر دیئے گئے۔۔
    جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت اور (اہل کوفہ) کی بے وفائی کی خبر اس وقت ملی جب آپؓ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے
    مختصر یہ ہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بچے خواتین اور مرد ملا کر (بیاسی 82) نفوس تھے جو کہ جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے ان کے مقابلے کے لیے یزیدی فوج بائیس ہزار سوار پیادہ مسلح افراد پر مشتمل تھے اور اس کے باوجود ظالموں نے (اہل بیت اطہارؓ) پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا تین دن کے بھوکے پیاسے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے 18 اہل بیتؓ اور دیگر چون 54 جاں نثاروں کے ہمراہ دس محرم الحرام ٦١ ھ میدان کربلا میں شہید کر دیے گئے۔
    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اہل بیت اور صحابہ کی سچی محبت کرنے والا بنا دے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا مقصد سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا کامل ایمان والا بنا دے
    آمین ثم آمین

    @SyedUmair95

  • مثبت  رویہ اور برتاؤ اچھی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے: تحریر محمد جاوید

    مثبت رویہ اور برتاؤ اچھی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے: تحریر محمد جاوید

    اپنے ہر دن کا آغاز پرسکون شکر گزار رويہ سے کرو تمہارا پورا دن خوشگوار اور کامیاب گزرے گا۔
    انسانی روايے کو تبدیل کرنے میں مختلف عوامل کار فرما ہوتے ہیں ان عوامل کی وجہ سے ایک انسان کا رويہ دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے اور ہر انسان کے روايے میں ان عوامل کا کردار نمایا ہوتا ہے۔
    ان عوامل میں سب سے پہلے علم ہے جو کسی بھی انسان کا برتاؤ میں بہتری لانے میں اہم ہے اور لاعلمی انسان کے برتاؤ میں منفی تبدیلی لاتی ہے اسلیے علم کے بدولت ہمارے برتاؤ بنتا ہے اسلیے بہتر ہے علم حاصل کریں اور معاشرے کا ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کریں اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔
    دوسرا اہم پہلو ہماری سوچ ہے جیسی ہماری سوچ ہوگی ویسا برتاؤ ہوگا اگر سوچ مثبت ہے تو برتاؤ مثبت ہوگا اور اگر سوچ منفی ہے تو برتاؤ منفی ہوگا ۔ اسلیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ میں مثبت خیالات لایے تاکہ ہمارا برتاؤمثبت ہوگا اور معاشرے کے لے ایک کارآمد شہری بن سکے تیسرا اہم جز جو ہمارا برتاؤ بناتا ہے وہ ہمارا ذاتی تجربہ ہوتا جن لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑتا جہاں ہم کام کرتے ان کے برتاؤ کی وجہ سے بھی ہمارا behavior میں تبدیلی آجاتی ہے ۔انسان کے ذاتی تجربات کی وجہ سے بھی ان کے برتاؤ میں تبدیلی آجاتی ہے۔ بےاحتیاطی کی وجہ سے کسی بندے کو حادثہ ہو جاتا ہے تو آیندہ وہ احتیاط کرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ ذاتی تجربہ اس کے برتاؤ میں تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کرتی ۔
    برتاؤ میں تبدیلی کا سب سے اہم عنصر ہماری تربیت، خاندان اور معاشرہ ہوتا ہے جیسا کہ جیس ماحول میں ہم رہتے اور جہاں ہماری پرورش ہوئی ہو اس ماحول کے اثر کی وجہ سے ہمارا برتاؤ ہمارا رویہ اس پہ انحصار کرتا ہے۔ برتاؤ میں مورثی عنصر بھی شامل ہوتا ہے ۔ برتاؤ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہوتے اسکو قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جن اخلاقیات اور اقدار کا شب وہ روز سامنا ہوتا گھر میں خاندان میں اور معاشرے میں تو وہ اقدار اور اخلاقیات کے اصول ہمارے برتاؤ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر اچھے ماحول میں اچھی تربیت ہوئی ہو تو مثبت برتاؤ کا سامنا ہوتا اور اگر ماحول اور تربيت میں مثبت باتوں کی کمی ہو تو ہماری شخصیت میں منفی رویہ اور برتاؤ غالب آجاتا ہے ۔
    ہر انسان کے رویہ اور برتاؤ اسکی تربيت کے بارے میں بتاتا ہے کہ کسے اسکی تربيت ہوئی ہے۔ آدمی کا برتاؤ اس کے ماں باپ اسکا گھر اور اسکے فیملی کا پتا بتا دیتا ہے کہ کسے اسکی تربيت ہوئی یعنی گھر بار کے شرافت اور جہالت کا پتا بتا دیتا ہے۔ حضور ﷺ کے حدیث کا مفہوم ہے کہ والدین کی طرف سے اولاد کو سب سے اچھا تحفہ انکی بہترين تربيت ہے۔
    پس یہ ضروری ہے کہ ہمارا برتاؤ دوسرے لوگوں کے لے ہمیشہ سے مثبت ہونا چائے اور ہمیں اپنے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا چائے اگر ہم علم حاصل کرینگے تو اچھے اور برے کی تمیز ہمارے شخصیت میں آجائے گی اور پھر ہمارا برتاؤ مثبت ہوگا۔ انسان چائے تو اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی لے آسکتا ہے اس کے لے سب سے پہلے اس کے لئے ضروری ہے کہ علم حاصل کریں اور دوسرا اپنے دوستوں میں ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جو اپنے مثبت اخلاق اور برتاؤ کی وجہ سے معاشرہ میں اچھی پہچان کے حامل ہو۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی منفی چیزوں کو مثبت چیزوں میں تبدیل کر دیں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے ان منفی باتوں کا بنیاد تلاش کریں اور ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ جب بھی کوئی آپ کے روئے پہ تنقید کرتا ہے تو اسے چلنج کیجے اور اس منفی رویے کی وجہ تلاش کریں پھر اس میں مثبت تبدیلی لانا بہت آسان ہوگا اور اسی طرح آپ اپنے روئے میں مثبت تبدیلی لاکر اپنی شخصیت میں بہتری لاسکتے ہیں۔ یہی مثبت رویہ ہوتا جیس کی وجہ سے آپ کا معاشرے میں ایک مقام ہوتا لوگ آپ کے اخلاقی اقدار کی مثالیں دینا شروع کر دیتے اور لوگ معاشرے میں آپکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اسلیے ضروری ہے کہ ہم اپنا رویہ برتاؤ ہمیشہ مثبت رکھیں۔
    @I_MJawed

  • کابل کی فضاوں سے تحریر: عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کابل کی فضاوں سے تحریر: عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کابل پر طالبان کے قبضے کے ساتھ ہی دو عشروں سے جاری امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ دنیا اس طویل ترین جنگ میں انسانی ہلاکتوں اور لاگت کا تو اندازہ لگا سکتی ہے لیکن خطے میں اس جنگ کےاثرات کااندازہ لگانا نا ممکن ہوگا۔اکتوبر 2001سے اپریل2021 تک جاری اس جنگ کے دوران جو جانی اور مالی نقصان ہوا اس سے امریکہ نے کیا احداف حاصل کئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے بظاہر دیکھا جائے تو ان بیس سالہ جنگ میں کبھی بھی طالبان کمزور نظر نہیں آئے جوں جوں سختی بڑھی مزاحمت بھی بڑھتی چلی گئ۔
    بہر حال اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ طالبان کابل میں داخل ہوچکے ہیں اور کابل سمیت مکمل افغانستان کو بغیرکسی مزاہمت کے فتح کر کے صدارتی محل کا مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں جبکہ اشرف غنی اپنے ساتھیوں سمیت تاجکستان فرار ہو چکے ہیں۔ طالبان نے فوری طور پرعبداللہ عبداللہ،حامد کرزئ اور گلبدین حکمت یار پر مشتمل ایک تین رکنی رابطہ کونسل بنا دی ہے جو کہ اقتدار کی منتقلی کے لئے اقدامات کرے گی۔
    امریکی فورسز نے کابل ائر پورٹ کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جبکہ امریکی سفارتخانہ ائر پورٹ منتقل ہو چکا ہے اور ضروری دستاویزات نظر آتش کی جا چکی ہیں علاوہ ازیں دیگر یورپی ممالک کا سفارتی عملہ بھی کابل ائر پورٹ پہنچ رہا ہے جہاں سے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے گا۔اس ساری صورتحال میں امریکہ نے اشرف غنی سے کہ دیا ہے کہ آپ افغانستان کی سیکیورٹی میں ناکام رہے اس لئے اب ہم اپنی فورسز آپ کو نہیں دے سکتے آپ یہاں کے معاملات خود دیکھیں ہمارا کوئی تعلق نہیں اس کے علاوہ اپنے امریکی شہریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر افغانستان چھوڑ دیں جبکہ نوزائدہ افغان رابطہ کونسل نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی قومی ائر لائن کے زریعہ کابل ائر پورٹ پر پھنسے ہوئے افراد کی محفوظ مقام پر منتقلی میں افغانستان کی مدد کرے اور پاکستان نے ان برےحالات میں بھی افغانستان کو مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائ اور قومی ائر لائن کی پروازوں نے اڑان بھرنی بھی شروع کر دی ۔
    بھارت کا قونصل خانہ بند پڑا ہے انکا ماسٹر صدر اشرف غنی ساتھیوں سمیت مفرور ہے جو بھارتی ایماء پر پاکستان پر طرح طرح کے الزام لگاتا رہا،نہ بھارتی اسلحہ کام آیا نہ فوجی اور انٹلی جینس تربیت نہ پیسہ اور تو اور بھارتی مزموم سازشوں سے پاکستان کو مزاکرات سے دور رکھا جارہا تھا لیکن قدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ ہر طرف افرا تفریح کا سماں ہے لیکن پھر بھی فوری طور پر افغانی وفد پاکستان سے مزاکرات کرنے پہنچ رہا ہے اور بھارت میں ان کے یوم آزادی پر سوگ کا سماں ہے بھارتی میڈیا کی چیخیں پوری دنیا سن رہی ہے۔
    اس ساری صورتحال میں میں سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ‏طالبان نے اپنی فتح کے ساتھ ہی عام معافی کااعلان کیاہے۔جنگجووں کو منع کیا ہے کہ مخالفین کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور سفارتی عملہ اور انکی فیملی اور جو افغانی وہاں کام بھی کرتے تھے کسی کو کوئ گزند نہ پہنچائ جائے۔ ان کا یہ عمل سنت نبوی کے عین مطابق ہےجو ہمارے حضورﷺ نے فتح مکہ کےموقع پر کیا ۔اللہ تعالی سے یہ ہی دعا ہے کہ خطہ کا امن بحال ہو افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان بھی پر امن رہے گا کیونکہ اس پورے خطے کو اس کوریڈور سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔

    تحریر: عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    @Azizsiddiqui100

  • ماں کی نافرمانی کا عبرتناک واقعہ تحریر:محمد سدیس خان

    ماں کی نافرمانی کا عبرتناک واقعہ تحریر:محمد سدیس خان

    والدین میں سے ماں کا حق اور درجہ زیادہ ہے۔ اس لیے اس کی نافرمانی دنیا ہی میں برا انجام دکھا دیتی ہے۔ ذیل کے واقعہ کو بغور سنو اور میرے پیغام کے طور پر قبول کرو۔
    ایک نوجوان کو حج کا شوق ہوا اس کی ماں اس کو سفر کی اجازت نہ دیتی تھی چنانچہ وہ بدون اجازت ہی کے حج کو چلا گیا۔
    راستہ میں چوروں نے اسے پکڑا اور سارا مال اور اس کازادوراحلہ سب چھین لیا اور اس کے دونوں ہاتھ پاؤں کاٹ کر وہیں راستہ پر چھوڑ دیا۔
    بیت اللہ کے مؤذن کو خواب میں اشارہ غیبی ہوا کہ اٹھو اور فلاں جنگل میں جاکر فلاں جوان کی خبر لو کہ مجھ کو اس پر رحم آتا ہے ( یعنی اس نے گو ایک بڑی غلطی کی ہے مگر چونکہ میرے ہی دربار میں آرہا تھا اس لیے مجھے بھی اس کی خاطر منظور ہے) چنانچہ وہ مؤذن نیند سے بیدار ہوا اور بتائے ہوئے جنگل کی جانب روانہ ہوگیا۔
    وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک نوجوان پڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ وپیر کٹے ہوئے ہیں اس نے پوچھا کہ اے شخص یہ تیرا کیا حال ہے؟
    اس نے کہا میں نے والدین سے اجازت لیئے بغیر راہ کعبہ میں قدم رکھا اس لئے میرا حال یہ ہوا جو تیرے سامنے ہے تاکہ بندگان خدا کو عبرت ہوکہ والدین کا بڑا حق ہے ان کی اجازت کے بغیر حج کے لیے بھی جانے میں ایسا معاملہ پیش آتا ہے چہ جائیکہ ان کو ناحق ایذاء دینا اور برا بھلا کہنا اس کا تو انجام کار بہت ہی برا ہے۔
    یہ سن کر اس مؤذن نے کہا کہ خیر جو ہوا سو ہوا اب سے توبہ کرو۔ اس نے صدق دل سے توبہ کی اور مؤذن سے درخواست کی کہ مجھ کو میرے ماں کے پاس پہنچا دے تا کہ اس کو راضی کروں اور جس طرح سے ایک بار حماقت کرکے اپنے سفر حج کو کھوٹا کیا ہے اور ہاتھ پاؤں سے محروم ہوگیا ہوں ایسا نہ ہو کہ دم آخر ایمان سے ہی محروم ہو جاؤں اور سفر آخرت کو کھوٹا کرلوں۔
    مؤذن نے یہ سن کر اس کو اٹھایا اور اس کے وطن لے جاکر اس کے ماں کے دروازہ کے پاس اس کو بٹھادیا اور خود واپس ہوگیا۔
    اس کی ماں اندر بیٹھی تھی جوان نے سنا کہ وہ یوں دعاء کررہی تھی کہ الہی میں نہیں جانتی کہ اس سفر میں میرے بچے کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا کیونکہ وہ بغیر میری اجازت کے چلا گیا ہے۔ اب تو اسکو مجھ تک پہنچا دے کہ میرا دل اس کے لیے بے قرار ہے۔
    جوان بھی ماں کے ان کلمات کو سن کر بلبلا گیا اور اپنے کٹے ہاتھ سے دروازہ کھٹکھٹایا ، ماں اندر سے بولی کہ ارے یہ کون ہے جو بیوی اور غمزدہ کے دروازہ کو کھٹکھٹایا رہا ہے۔
    پھر خیال کیا کہ شاید کوئی میرے مسافر بچے کی خبر ہی لایا ہو یہ خیال کرکے اٹھ کر باہر آئی دیکھا کہ ایک غریب فقیر سا آدمی بیٹھا ہوا ہے کہا کہ اے مسافر غریب آگے آ! اگر تجھ کو روٹی کی ضرورت ہوتو میں روٹی دوں۔
    اس نے کہا میں روٹی کیسے لوں میرے تو ہاتھ ہی نہیں ہیں اس نے کہا اچھا ذرا آگے آ! کہا آؤں کس طرح میرے تو پاؤں بھی نہیں ہیں۔
    اس غریب کی یہ بات سن کر بیوہ کو اس پر بہت ترس آیا کہا اے جوان غریب! تیری آواز تو میرے بیٹے سے بہت ملتی جلتی ہے۔
    چنانچہ وہ دوڑ کر چراغ لائی اور آگے پیچھے سے اس کا منہ دیکھنے لگی۔ اس کو دیکھ کر اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوئی، وہ کہتی جاتی تھی کہ تیرے ہی طرح میرا بھی ایک بچہ تھا بغیر میری اجازت کے وہ حج کے لیے چلا گیا ہے میں نہیں کہہ سکتی کہ سفر میں اس کا کیا حال ہوا۔
    ماں کے منہ سے یہ کلمات سن کر وہ جوان صبر نہ کرسکا اور پھوٹ کررونے لگا اور کہا اے ماں وہ بیٹا تیرا میں ہی ہوں، تیری حق تلفی میں نے کی اس کا یہ انجام ہوا۔ ماں نے جب یہ سنا تو ایک ہائے کی اور بیہوش ہوگئی۔
    تھوڑی دیر بعد جب ہوش آیا تو آسمان کی جانب منہ کیا اور دعاء کی کہ الہیٰ! تو نے اس کو کیے کی سزادی اور ادب دیا لیکن پروردگار اس کو ہلاک نہ کی جیو اور ایمان کی سعادت سے اسے محروم نہ رکھنا۔
    غرض اس واقعہ کے بیان سے یہ ہے کہ تم سمجھو کہ ماں باپ کی خوشی عجیب چیز ہے اور ان کی نافرمانی بہت ہی وبال کی چیز ہے۔
    Twitter : @msudais0

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر  حصہ اوّل  تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر حصہ اوّل تحریر چوہدری عطا محمد

    ارض پاک اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22وزیز اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی نے آج سے تقریباً 24سال سے کچھ قبل اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اب پاکستان کے 22 وزیرِ اعظم جناب عمران احمد خان نیازی 5 اکتوبر 1952 کو پنجاب کے خوبصورت شہر میانوالی کے ایک نیازی پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ عمران خان کا کا خاندان بعد میں لاہور میں مقیم ہوگیا جہاں انہوں نے اپنی جوانی لڑکپن کا زیادہ تر حصہ گزارا۔
    اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور چار بہنوں کا لاڈلا بھائی زرا طبعیت میں تیز مزاج کہا جاتا تھا عمران احمد خان نیازی سے ہمیشہ ہی اس بارے میں جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس کی تردید کرتے ہی نظر آتے ہیں عمران خان صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہہ وہ لڑکپن میں شرمیلی طبعیت کے مالک ہوتے تھے اور اکثر اوقات اپنے آپ میں ہی رئیتے تھے سکول کے دور سے ہی عمران خان کو کرکٹ سے کافی لگاؤ تھا
    اس کی ایک وجہ ان کا تعلق ایک بہت اچھے عظیم کرکٹ گھرانے سے تھا ان کے دو کزن جو ننھیالی تھے جاوید برکی اور ماجد خان آکسفورڈ سے پڑھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی بھی کر چکے تھے
    عمران احمد خان نیازی نے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی پھر کیتھڈرل اور پھر برطانیہ میں رائل گرامر سکول میں تعلیم حاصل کی

    اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفورڈ میں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی برقرار رکھا اسی وجہ سے وہ 1974 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی بنے
    شروع میں تو اپنے کالج کے لئے ہی کھیلتے رہے بعد میں انگلش کاؤنٹی ورسسٹر کے لئے کھیلتے رہے پاکستان کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کا پہلا میچ تقریباً 18 سال کی عمر میں 1971 میں برمنگھم میں کھیلا اپنی مخنت اور کرکٹ سے لگن کیوجہ سے جلد ہی قومی ٹیم میں مستقل اپنی جگہ بنا لی
    اےک بہترین آل راؤنڈر کی طرح تمام شعبوں بیٹنگ فیلڈنگ اور خصوصا باؤلنگ میں سوئنگ کیوجہ سے ٹیم کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوۓ

    پاکستان کو 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ کی پہلی اور اےک یاد گار فتح دلوانے کے بعد عمران خان نے اپنے اسپوٹس کریئر کے عروج پر کرکٹ چھوڑ دی۔
    اس وقت تک وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 362 وکٹیں حاصل کر چکے تھے اور 3807 رنز بھی بنا چکے تھے۔
    زندگی کا کافی عرصہ گزارنے کیوجہ سے عمران احمد خان نیازی کو کچھ مشہور شخصیات اور ایکسپرٹ ان کو مشرق اور مغرب کا بہترین امتزاج’ کہتے ہیں۔

    1987 میں جب عمران خان نے پاکستان کو انڈیا کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جتوائی تواس وقت ارض پاک کے صدر اور فوجی جنرل ضیاء الحق نے انہیں اپنی قائم کردہ پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) میں نہ کہ صرف شمولیت کی دعوت دی بلکہ ساتھ پارٹی میں عہدے کی پیشکش کی۔ جسے عمران خان نے شائستگی سے یہ پیشکش رد کردی۔
    1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے اپنی حقیقی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان ایک سرگرم فلاحی شخصیت کی شکل میں ابھر کر سامنے آۓ سیاست اور فلاحی زندگی پر بات جاری رہے گی حصہ دوم میں
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt