Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • درس کربلا تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    درس کربلا تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد واقعہ کربلا تاریخ کی اولین قربانیوں میں سے ایک ایسی قربانی ہے جو اپنے پچھلے واقعات کی طرح بہت سی باتیں تاریخ کے اوراق میں؛ قم کر گیا.
    حق کے لیے قربانی کا سلسلہ ازل سے چلتا آ رہا ہے لیکن یہ قربانی اپنی نوعیت کی الگ ہی قربانی ہے. جس میں جدائی قربانی _ یوسف کی طرح عارضی جدائی کا امتحان کا درد یا بیٹے کی گردن کی جگہ دنبہ کی قربانی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں سارا کنبہ اللّٰہ کریم کی راہ میں نچھاور کر دیا گیا. بلاشبہ موضوع اتنا حساس ہے کہ کسی بھی واقع کی حقیقت میں کمی یا موازنہ مقصود نہیں صرف اور صرف قربانی کی تاریخ سمجھانے کے لیے ان واقعات کا تزکرہ کیا گیا ہے.
    اس قربانی کے واقعات تو اکثر ملتے ہیں لیکن اس سے سبق کیا ملتا ہے اس بات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے. کیونکہ کسی بھی مقصد کے بنا قربانی کو سمجھنا اس کی اصل کو رائیگاں کر جاتا ہے جو کہ صریح غلط ہے. اور اس قربانی کی ادب کی خلاف بھی ہے.
    یہاں سے جو سوالات اٹھتے ہیں ان میں سے ایک کا تزکرہ کرتے ہیں
    قربانی کی انتہا کیا ہے؟
    جب دین کو ضرورت ہو تو انسان کی سب سے پہلی ترجیح اسلام کی روایات اور احکامات کی تکریم ہے. من و عن ان لر سر تسلیم خم کا جزبہ ہے. جس سفاکیت سے کنبہ اہل بیعت رضوان اللہ علیہم اجمعین کو باری باری شہید کیا گیا یہ اس بات کی علی الاعلان گواہی ہے دین کی حفاظت کے لیے اپنے وجود سے منسلک ہر رشتے کا درد بھی سینے پر سہنا پڑے سہا جاے لیکن دین سے کسی صورت انحراف نا کیا جاے. جناب نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ میدان کربلا میں کر دکھایا ایک ایک کر کہ جان سے پیارے نچھاور ہوتے رہے لیکن شعائر اسلام سے ایک انچ بھی مصالحتی پالیسی نہیں اپنای. بس جو احکام رب العالمین ہیں اور اس میں جو حدود ہیں انہیں پر قائم رہنے کا درس دیا.
    قربان جائیں تربیت نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تربیت سیدہ فاطمہ الزہراء اور شجاعت حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیا خوبصورت تربیت گاہ تھی دو پھول دونوں دین پر ایک سے بڑھ کر ایک نچھاور ہوے لیکن دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی. عشق اپنی پہچان رکھتا ہے. جب رب العالمین سے ہو جائے تو پھر کربلا میں کٹتے جگر کے ٹکڑے بھی رب العالمین کے حضور عاجزا پیش کر دیے جاتے ہیں.اس قربانی سے ہمیں ایک درس یہ بھی ملتا ہے کر زندگی کا اختتام بھی بندگی رب العالمین پر ہو. لب پر قرآن کریم کے الفاظ ہوں اور سر رب العالمین کی بندگی میں ہو. واہ کیا کمال عشق تھا کتنی خوبصورتی سے اپنے رب العالمین سے وفا کر گیا. پہلے ایک ایک کر کے کنبہ لٹایا پھر اپنے سینے پر زخم کھاے اور جب جان نکل رہی زکر اللہ کریم کی سب سے پیارے کلام کا سر اسی کے سامنے سجدے میں اور دل میں عشقِ رب العالمین کا سمندر لیے عشقِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ؛ للہ رب العالمین کے حضور پیش کیا گیا.اس عظیم قربانی سے ملنے والے درس کو آج سمجھنے کی ضرورت ہے. کہ جب حکم رب العالمین آ جاے تو مال جان اولاد سب کی حیثیت ثانوی اور دین اسلام کی سر بلندی اولین ترجیح ہونی چاہیے. زندگی آخری دموں پر آ جاے تب بھی دل میں چراغ عشق رب العالمین روشن تعلیمات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے جسم کا رواں رواں معطر ہو سر رب العالمین کے ہر حکم پر تسلیم خم ہو اور رعح پرواز کر جاے.

    @EngrMuddsairH

  • ملک میں بڑھتی مہنگائی، پر قصور وار کون؟ تحریر: سحر عارف

    ملک میں بڑھتی مہنگائی، پر قصور وار کون؟ تحریر: سحر عارف

    عوام کو درپیش مسائل کی ایک وجہ مہنگائی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کافی حد تک پریشانی کا شکار ہیں۔ ہر چیز کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی یے۔ ایک غریب کے لیے تو زندگی حقیقتا تنگ ہوچکی ہے۔ مہنگائی کے ستائے عوام موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں۔ لیکن یہاں کچھ باتیں سمجھنے کی بھی ہیں کہ مہنگائی کی اصل وجہ کیا یے؟

    کیا صرف حکومت اکیلی قصور وار ہے یا کسی اور کا بھی ہاتھ ہے؟ تو دیکھیں مہنگائی جیسی بیماری تو شروع ہی سے اس خطے میں رہی ہے۔

    بس پچھلے کچھ سالوں سے اس میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ پر کیا کسی نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟ تو پھر سنیں موجودہ حکومت سے قبل جو چوروں اور لٹیروں کا ٹبر ملک پر حکومت کررہا تھا اس نے اس حد تک باہر کے ممالک سے قرضے لیے کہ آج پاکستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے جس کی غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔

    غیر ملکی قرضے لے لے کر باہر اپنی ناجائز جائیدادیں بناتے رہے اور یہاں پاکستان کی غریب عوام کو بےوقوف۔ آج اگر پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی چیز پہ ٹیکس لگا ہے تو صرف اس لیے کہ ملک پر چڑھا قرضہ اتارا جاسکے۔

    کیونکہ دنیا میں کبھی بھی وہ قوم اور ملک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ قرضے کے بوجھ تلے دبا ہو۔ اب خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اگر آپ نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی غیر سے قرضہ لیا ہو تو کیا آپ کبھی اس شخص کے سامنے کھل کر اس کے خلاف حق سچ بات کہہ سکتے ہیں؟

    نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس وقت آپ اس کے مقروض ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ خود تو دو وقت کی روٹی کھا کر بھی گزارا کر لیا جائے لیکن جلد از جلد اپنے ملک کو قرضے کے بوجھ سے آزادی حاصل کروایں۔ اسی وجہ سے حکومت نے جب ہر چیز پر ٹیکس لگایا تو پاکستان مہنگائی سے دوچار ہوا۔

    پھر رہی سہی کسر چور مافیا نے پوری کردی۔ اب حکومت کی طرف سے جس چیز کی جتنی قیمت رکھی گئی ہے دکاندار اس سے کہیں زیادہ قیمت میں وہ چیز فروخت کرتے ہیں۔ تو پھر جناب ملک میں بڑھتی مہنگائی کے قصور وار کسی حد تک ہم بھی ہیں جو خاموشی سادھتے ہوئے وہ چیزیں خرید لیتے ہیں بجائے اس کے کہ ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

    @SeharSulehri

  • فتح مبین تحریر-محسن ریاض

    پندرہ اگست یوں تو یوم انڈیا کے طور پر منایا جاتا تھا مگر اس بار ایک انہونی ہوئی اور خدا کے سپاہیوں نے اپنی سرزمین قابض افواج سے واپس لے لی-کوئی بھی عقلمند شخص یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ یہ بھی ممکن ہے مگر دنیا نے دیکھا کہ کسے ان خدا کے سپاہیوں نے مناسب وقت کا انتظار کیا اور اپنا حق حاصل کر لیا-ابھی چند روز پہلے امریکی صدر دنیا بھر کے میڈیا کو یہ بتا رہا تھا کہ افغانستان کے پاس ساڑھے تین لاکھ کے قریب فوج ہے جبکہ ہم نے ان کی ٹریننگ کی ہے اور ان کے پاس ہمارا جدید ترین اسلحہ ہے لہذا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ طالبان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ افغانستان پر قبضہ کر سکیں مگر انہوں نے جس جرات اور بہادری سے تاریخ رقم کی ہے اسے دنیا نے دیکھا ہے افغان صدر نے صبح کے وقت دارلحکومت کی سرحدوں پر موجود فوجیوں کے پاس گئے اور انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں مگر جس بزدلی کے ساتھ فرار ہوئے وہ بھی ایک الگ ہی منظر تھا اس کے علاوہ یہ فتح ہوں ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی فہرست تھی ایک ایسے ہی واقعے کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب امریکہ حملہ آور ہوا تھا تو قابل میں کافی تعداد میں طالبان گھیرے جا چکے تھے اس وقت دوستم نے ان کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ اگر آپ ہتھیار ڈال دیں تو آپ کو چھوڑ دیا جائے گا اور طالبان نے بھی یہ مناسب سمجھا کہ مناسب وقت کا انتظار کیا جائی کیونکہ اس وقت لڑنا سراسر حماقت تھی مگر ان کی ساتھ دھوکہ کیا گیا اور کنٹینر میں بند کر کہ ان پر گولیوں کو برسات کی گئی اس وقت ان کے پیچھے موجود گاڑی میں موجود صحافی بتاتے ہیں کہ سڑکیں خون سے دھل گئی تھیں اس کے علاوہ دشت لیلیٰ بھی اس کا ایک گواہ ہے جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں طالبان کو دفنایاگیا-آج یہ انہی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ طالبان نے متحد ہو کر مناسب وقت کا انظار کیا اورآخر کار اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرے اس کے علاوہ جس منظم انداز میں انہوں نے بغیر کسی جانی نقصان کے دارلحکومت کو فتح کیا وہ بھی ایک دیدنی منظر تھا جب انہوں نے صدارتی محل میں داخل کر کر سورۂ نصر سے اپنے نئے دور کا آغاز کیا اس نے ایک بار تمام دنیا کو یہ احساس دلا دیا کہ دنیا کی تمام طاقتیں ایک طرف اور اللہ کی طاقت ایک طرف ہو تو فتح خدا کے سپاہیوں کی ہی ہوتی ہے بیس سال تک امریکہ اپنے تمام تر سازوسامان اور لاولشکر کے ساتھ یہاں پر ٹکریں مارتا رہا مگر یہ سپاہی چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہے اور خدا کے وعدے پر یقین رکھا-آج جب پوری دنیا یہ پراپیگنڈہ کر رہی تھی کہ یہ قتل و غارت کریں گے سکول گرا دیں گے تباہی مچا دیں گے مگر انہوں نے جس تربیت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے تمام دنیا کو حیران کر دیا ہے ہر طرف ٹریفک رواں دواں تھی مارکیٹیں اور بازار کھلے تھے اس کے بعد آج صبح ایک منظر دیکھکر خوشی ہوئی کہ طالبات سکول جارہی تھی اور طالبان نے اقتدار کی منتقلی کی پرامن منتقلی کا معاہدہ کر رہے ہیں-اس کے علاوہ عالمی منظر نامے پر تو اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ بعد کی بات ہے مگر اس وقت بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے بیس سال سے یہاں پر دہشتگردی میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی مگر طالبان کے کنٹرول کے بعد ان کا ساری سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے بھارت نے باقاعدہ طور پر اشرف غنی حکومت کو اسلحے سے بھرے ٹرک بھیجے تھے تاکہ ان کہ مفاد محفوظ رہیں مگر خدا کے سپاہیوں نے ان کے ارادے خاک میں ملا دیے ہیں آج یہ منظر دیکھ کر کہنے کو دل کر رہا ہے کہ بے شک وہ غالب قدرت والا ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    ضروریات کی تخلیق کرنا، لوگوں کی ضروریات کی نشاندھی کرنا یا کسی بھی چیز کو لوگوں کی ضرورت بنا دینا مارکیٹنگ کہلاتا ہے۔

    دورے جدید میں انسان نے بہت ترقی کی مختلف پروڈکٹ بنائیں، ان پروڈکٹ کو لوگوں میں متعارف کرنے کے لیے مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا اور اس طرح وہ پروڈکٹ آج آپ کے گھروں میں موجود ہیں یا ان پروڈکٹ کا آپ کی زندگیوں سے گہرا تعلق ہے، چاہے آپ ان پروڈکٹ کو خرید پائن یا خریدنے کی خواہش کریں۔

    مارکیٹنگ کا علم رکھنے کے دعوےدار اتھیکل مارکیٹنگ پر یقین رکھنے کا درس دیتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ میں ایتھکس یا ایتھیکل مارکیٹنگ بھی کسی چیز کا نام ہے؟

    یقینا نہیں, مارکیٹنگ اور ایتھیکس دو الگ الگ چیزوں کے نام ہیں، ماہرین نے مارکیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پروڈکٹ کو کنزیومر کے دماغ میں ایسے پوزیشن کیا کہ وہ انہیں اپنے فائدے میں اور اپنے اسٹیٹس کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ اسی طرح کوئی بھی برینڈ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی پروڈکٹ اس کے مدمقابل سے کم بکے، اس لیے وہ ہر راستہ اپناتا ہے جس سے وہ اپنے مدمقابل پروڈکٹس کو ڈیمج کرسکے تاکہ لوگ اس کے مدمقابل کو چھوڑ کر اس کے برینڈ کو اپنا سکیں، یہ سب وہ غیر اخلاقی مارکیٹنگ سے ہی حاصل کرسکتا ہے، تو کیا اب ہم غیر اخلاقی طریقہ کار پر مارکیٹ ہوئی پراڈکٹ کے اوپر بھی اعتبار کرنا شروع کر دیں؟

    ففتھ جنریشن وار فیئر کے دوران سیاست میں لوگوں کو مارکیٹ کرنا شروع کیا گیا، جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، مودی، عمران خان, وغیرہ وغیرہ۔

    ایک ایسا مارکیٹنگ پلان جس میں ہزاروں لوگوں کے سوشل میڈیا سیل بنائے گئے ٹی وی شوز کے پرائم ٹائم پر عمران خان کو بٹھایا گیا وہ سوالات پوچھے گئے جو پرائم منسٹر شپ کے کینڈیڈیٹ سے پوچھے جاتے ہیں، پاکستان کے بڑے میڈیا چینلز کے اینکرز،انفلوئنسرز کو انگیج کیا گیا۔ پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کا میڈیا ٹائم خریدا گیا، مشہور گلوکاروں سے گانے بنوائے گئےاور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی مدد لی گئی اور عوام میں ایک ایسا امیج بلڈ کیا جس سے انہیں لگا کہ یہی وہ آخری مسیحا اور سٹیٹس مین ہے جو کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے۔

    اس مارکیٹنگ پلان کی سب سے اہم حکمت عملی عمران خان کو نواز شریف کے مخالف اسٹیبلش کرنا تھا، جس میں پاکستان کے بہترین دماغوں نے بیٹھ کر نواز شریف کے خلاف کمپین تیار کی اور نواز شریف کو چور اور کرپٹ اسٹیبلش کر دیا۔
    عوام سے مارکیٹنگ سٹریٹجی کے طور پر اوور کمینٹس کی گئیں، جیسے کہ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، پاکستان کے قرضے اتارنا، آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ مت پھیلانا، بیرون ملک سے لوگ پاکستان نوکریاں لینے آئیں گے۔

    ناممکن چیزوں کو بغیر ایگزیکیوشن پلان کے ممکن کرنا مارکیٹنگ کا ہی تو ایک کمال ہے، جس کو ایتھیکل(اخلاقی) مارکیٹنگ کہاجا رہا ہے۔

    مارکیٹنگ کی ایک قسم جس کو برینڈ پوزیشنگ کہتے ہیں، جس کی مدد سے خاص ماہرین نے عمران خان کو پاکستان کی تقدیر بدلنے والے مسیحا کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ "آپ کی شلوار گیلی ہو جائیں گی” جیسے غیر اخلاقی الفاظ بھی عمران خان کے سپورٹرز کو اچھے لگنے لگے۔

    اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مارکیٹنگ کی مدد سے عمران خان کا ایسا امیج عوام کے دماغ میں پوزیشن کیا گیا، جس سے ان کی غیر اخلاقی باتیں بھی عوام کو اخلاقی لگنے لگی۔

    کچھ لوگ عمران خان کو پہلے سے ہی بنا ہوا بہت بڑا اسٹیبلش برینڈ کہتے تھے، مگر سیاسی مثبت امیج بنانے کے لیے، غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا، (مارکیٹنگ کو مارکیٹ کرنے کے لئے مارکیٹنگ کی ہی ضرورت پڑی)۔

    مارکیٹنگ ایک ایسا فن ہے جو غیر اہم کو اہم بنا دیتا ہے۔
    اس لئے مارکیٹنگ کو اپنی زندگی کا اہم ستون بنائیں اور اس دنیا میں عجوبے پیدا کریں۔

  • آزاد لیکن غلام تحریر: عزیز الرحمن

    آزاد لیکن غلام تحریر: عزیز الرحمن

    غلامی کی دو اقسام ہیں۔ایک جسمانی غلامی اور دوسری ذہنی غلامی۔ان دونوں غلامیوں کی تین وجوہات ہوتی ہیں۔ غربت، جنگ اور جہالت۔ آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور انسان کی سب سے بڑی قوت اس کی ذہنی و فکری آزادی ہے۔جب انسان ذہنی طور پر آزاد ہو تو وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور جسمانی طور پر غلام لیکن ذہنی طور پر آزاد قوم بہت جلد جسمانی آزادی حاصل کر لیتی ہے۔لیکن ذہنی غلامی میں مبتلا قوم اپنے آپ کو غلام ہی نہیں سمجھتی اس لیے آزادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہمارا سب سے بڑا المیہ ہم نے اپنے اپنے مسالک، اکابرین، جاگیرداروں اور وڈیرے ہیں۔ہمارے ہاں دلائل کی بجائے شخصیات کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
    ہمدردی کی نسل سے تعلق رکھتی یہ غلامی اْس غلام کی دوہری کمر کی طرح ہے جو پنجرے میں پڑے پڑے ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور پنجرے سے باہر نکلنے پر بھی ہم آہستہ آہستہ سیدھی ہوتی کمر کو پھر سے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوہری کمر کے عادی ہو چکے ہیں۔
    تقسیم برصغیر پاک و ہند میں ہم نے انگریزوں سے جسمانی آزادی تو حاصل کر لی لیکن ذہنی طور پر ہم اب بھی غلام ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر ہمارے رہن سہن، ہماری سوچ سب انگریزوں اور ہندووں کے غلام ہیں۔ ہمارے معاشرے میں متعدد گھرانوں کی بیٹیاں صرف اس وجہ سے شادی کے بندھن میں بندھنے سے گریزاں ہے کہ ان کے ماں باپ اْن کے جہیز کا بندوبست نہیں کر پاتے۔یہ لعنت بھی ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے جبکہ حقیقی معنوں میں جہیز کی لعنت کا ہمارے دین اور ثقافت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں، لیکن کیا کریں صاحب ہم بھی برصغیر پاک و ہند کی سر زمین پر پروان چڑھے ہیں تو پھر ہندووں کی یہ روایات اپنانا ہماری زندگی کا لازمی جزو بن گیا ہے۔
    ایک دوسرا پہلو اس نوجوان طبقے کا ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیتے کہ ہمیں کس کا غلام بننا ہے، خود کو کتنی قیمت پر بیچنا ہے اور غلامی کا طوق ہمارے گلے میں نہ ڈالا گیا تو پھر اپنی ڈگری،تعلیمی اداروں اور حکومت کو کیسے لعن طعن کرنا ہے یا غلامی نے ہمیں نہ قبول کیا تو ہم موت کو قبول کر لیں گے۔
    ہماری عوام،ہمارے حکمران سب ہی انگلش کو اپنی زبان سمجھتے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی اردو میں بات کرے تواْسے جاہل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہم تو ذہنی غلام ہیں۔ذہنی غلامی سے آزادی حاصل کرنا ابھی تک انسانیت کا خواب ہے۔ حکومتوں نے اپنی پالیسوں کے ذریعے،بزنس مین نے کاروباری پالیسی کے ذریعے، ذرائع ابلاغ نے ٹی وی ریڈیو اخبارات رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ بشمول انٹرنیٹ کے ذریعے ذہنی غلامی کو نہ نسبت کم کرنے کے اور زیادہ کیا۔ انسان کی سوچ، طرز عمل اور انداز کو توڑ مروڑ کر اپنا مطیع کیا گیا ہے۔ایک آزاد انسان جس کی سوچ بھی آزاد ہونی چاہیے مگر اس کی سوچ کو مختلف طریقوں، زاویوں اور حربوں سے قید کیا گیا۔ آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے۔ آزاد سوچ انسان کا پیدائشی حق ہے۔ آزادی کو سمجھیں اور آزادی کی قدر کریں۔ اپنے معاشرے کو محکومیت سے نجات دلانے کے لیے ہمت کریں۔جہاں آزادی کو چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی، خطرے میں دیکھیں تو انسانیت کی خاطر آزادی اور اس کے متوالوں کا بلا جھجک دفاع کریں۔ ہمیں احساس کمتری کو ترک کرکے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔
    دوسروں کی بجائے اپنی برائیوں کو دور کر کے زندگی کے داخلی اور خارجی انتشار میں راستے خود تلاش کرنا ہونگے، ہر دلکش اور رجحان بن جانے والی چیز کو اپنی راہ نجات سمجھنے کی بجائے اْس کی حقیقی قدروقیمت معلوم کرنا ہوگی۔ہمیں اپنی افضل ترین امت ہونے اور زرخرید غلام ہونے میں فرق معلوم ہونا چاہیے۔ ہم میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ جب ہمارے حقوق کی پامالی کی جائے تو اس کے خلاف احتجاجاََ کھڑے ہو سکیں۔

    @The_Pindiwal

  • میرے امی ابو جنت کے پھول تحریر :فرزانہ شریف

    میرے امی ابو جنت کے پھول تحریر :فرزانہ شریف

    ماں کے قدموں تلے جنت تو باپ جنت کا دروازہ
    جب تک باپ اولاد سے راضی نہ ہواولاد چاہئیے کتنی بھی نیک ہو جنت میں نہیں جاسکتی اس لیے والدین کو ان کی ذندگی میں ہی راضی کرلواگر وہ کسی بات سے منع کرتے ہیں تو اولاد کے فائدے کے لیے کیونکہ انھوں نے اپنے تجربات سے اتنا کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے جو آپکو اپنی پوری ذندگی لگا کر سیکھنا پڑتا ہے
    اکثر دیکھتی ہوں کچھ مرد پوری ذندگی محنت کرتے ہیں دن رات ایک کرتے ہیں اپنی اولاد کو عیش کی ذندگی دینے کےلیے اپنی ہستی تک بھول جاتے ہیں ان کی ذندگی کا ایک ہی مقصد بن کر رہ جاتا ہے جن چیزوں کو وہ خود ترسے اپنی اولاد کو ان چیزوں کے لیے ترستے ہوئے نہ دیکھے تو اس گھن چکر میں وہ اپنی اولاد سے دور ہوجاتے ہیں جس کے لیے وہ اتنی محنت کررہے ہوتے ہیں ذیادہ وجہ اولاد سے دور ہونے کی بیرون ملک جاب کرنا یا پھر ذیادہ گھنٹے کام کرنا گھرمیں بہت کم وقت دینا یا پھر کچھ اور وجوہات کی بنا پر اولاد سے اپنائیت بھرا تعلق نہیں بنا پاتے جس وجہ سےان کے بیچ اظہار کا ایک فاصلہ رہتا یے ۔۔۔
    یہ ذمہ داری ماں پر ہوتی ہے کہ شروع سے اپنے بچے کے دل میں اس کے باپ کی محبت پیدا کرے جب موقع ملے اپنے بچوں کو ان کے باپ کی اچھی صفات بتائیں کہ بچے کے دل میں شروع سے اپنے باپ کی محبت مضبوط جڑیں پکڑنی شروع کردیں وہ اپنے باپ کو فالو کرنے اور اپنے باپ کو آئیڈیل بنانا پسند کریں ایک نسلی ماں کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے بچے باپ سے فاصلہ رکھیں اور اس سے ذیادہ پیار کریں میں نے کبھی اس گھر میں خیر نہیں دیکھی جس گھر میں باپ کو اس کا اصل حق نہ ملے اس کی اولاد کی طرف سے ۔۔کہتے ہیں دنیا میں واحد باپ ہوتا ہے جو چاہتا ہے میری اولاد مجھ سے بھی کامیاب ہو تو پھرایسی ہستی سے کوئی کیسے دور رہ سکتا ہے یا اس کا دل دکھا سکتا ہے باپ اولاد کے لیے گنا شجرسایہ ہے جب یہ سائے سر سے اتر جاتے ہیں تو اولاد تہی دامن ہوکر رہ جاتی ہے پھر کچھ عرصہ تک تو انسان خود کو اندر سے ویران اور خالی سا پاتا ہے ایسا لگتا ہے دنیا ہی ختم ہوگی ہے یہ اللہ تعالی کی ہم انسانوں پر خاص کرم نوازی ہے کہ اس نے انسان میں بھولنے کی جیسی نعمت دی ہوئی ہے ورنہ ہم اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کو ہر دم یاد کرکر کے خود کو بھی ختم کرلیتے ۔ماں یا باپ میں سے ایک بھی دنیا سے رخصت ہوجائے تو اولاد کے لیے یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے حضرت ایوب علیہ السلام جیسا صبر مانگنے کو دل کرتا ہے لوگوں کے لیے تو نارمل بات ہوتی ہے چند ماہ چند سال کہ فلاں کا باپ یا ماں دنیا سے رخصت ہوئی تھی لیکن اولاد کے لیے ہر دم یہ زخم تازہ رہتا ہے ۔۔پھر دنیا کی ہر نعمت ہر چیز انجوائے کریں لیکن دل کا ایک کونا ہمیشہ دکھی غم سے نڈھال رہتا ہے دنیا کی کوئی خوشی اس دکھ کو ختم نہیں کرپاتی کہ انسان بچوں کی طرح اپنے پیاروں کی جدائی میں بلک بلک کر روتا ہے جو دنیا میں آیا اس نے ایک دن واپس جانا ہے کیونکہ یہ روح کا اللہ سے وعدہ ہوتا ہے بس ہم انسان کیا کریں ہمیں صبر کیوں نہیں آتا چاہ کر بھی ۔۔جتنا انسان کو اپنے باپ اور ماں سے پیار ہوتا ہے اتنا ہی اپنے چچا سے اپنی خالہ سے اپنے ماموں جی سے ہوتا ہے ۔۔یہ دکھ جانا میں نے کہ میں نے اپنا باپ کھویا عزیز الجان دو چچا جی ایک سال میں کھوئے کہ دل کے زخم تھوڑے سے ٹھیک ہوتے ہیں کہ پھر ان کی یادوں کا ان کی محبت شفقت کا کوئی پل یاد آجاتا ہے تو دل کے زخم پھر سے ہرے ہوجاتے ہیں کاش کوئی ایسا ورد ہو کوئی ایسی دوا ہو یا دعا ہو کہ انسان اس اذیت سے باہر نکل آئے ۔۔!!!
    اکثر ایسا ہوتا ہے اور دیکھنے ہیں ہم کہ بچے عمومآ ماں کے ساتھ رہنے اور ماوں کی طبیعت میں نرمی اور بے اختیار اپنی اولاد سے محبت اور اظہار کے باعث بچے ماں سے ذیادہ قریب رہتے ہیں ہر بات باپ کی نسبت ماں سے شئیر کرکے ذیادہ ایزی فیل کرتے ہیں۔ماں کے گرد گھیرا ڈالے اولادیں اس سے لاڈ پیار کرتے بھول جاتی ہیں کہ باپ جس نے گرمی سردی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو پراسائش ذندگی دینے کے لیے اپنا سکھ چین لٹا دیا اس کا بھی اولاد پر اتنا حق ہے جتنا ماں کا کہ اولاد باپ کے گرد بھی ایسے ہی ڈیرا ڈالے لاڈ کرے جیسے ماں سے ہر کام مشورہ کرکے کرتے ہیں باپ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں تو اولاد کی دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی ۔۔!!!
    اور جو اولاد اپنے والدین کی نافرمان ہوتی ہے اسے نہ دنیا میں عزت ملتی ہے نہ اخرت میں ۔کہاوت ہے کہ
    "جو ماں باپ کا نہیں ہوسکتا وہ کسی کا بھی نہیں ہوسکتا”
    ماں باپ اللہ کی طرف سے اولاد کے لیے سب سے خوبصورت انعام ہوتا ہے جو بانصیب ہوتے ہیں وہ ان قیمتی چیزوں کی دل سے قدر کرتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں اور جب وہ بڑھاپے کی عمر میں پہنچ جاتے ہیں ان کی کسی بات پر اف تک نہیں کہتے تو اللہ ایسی نیک اولاد کو دنیا میں ہی بےحد بےحساب عزتوں سے نواز دیتے ہیں ایسی نیک اولاد اللہ کا پیارا تحفہ ہوتی ہے والدین کے لیے ۔۔!!!!
    میاں بیوی میں سو اختلاف بھی ہوجاتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماں اپنے بچوں کے دل میں اس کے باپ کے لیے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرے وہ باتیں ان کے ذہنوں میں ڈالے کر جو ان کے باپ کی فطرت میں بھی نہیں ہوتیں تو ایسی عورتوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا وہ عورتیں دراصل اپنی اولاد کی دشمن ہوتی ہیں ایک دن وہ ہی نفرت ایسی عورتوں کی طرف پلٹ کر آجاتی ہے کہ "دنیا مکافات عمل ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے "۔کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا اگر ہم انسان مکمل ہوتے تو پھر ہم فرشتے ہوتے ۔۔ایک اچھی نسلی ماں اپنے بچے کو نفرت جیسے شدید خطرناک وائرس سے بچا کر رکھتی ہے اگر وہ ایسے نہ کرے تو یہ زہر اس کی آنے والوں نسلوں میں بھی ایسے ہی انجیکٹ ہوتا رہے گا پھر
    خدانخواستہ ایک بیمار معاشرے کی تشکیل ہوگی ۔۔۔۔۔
    اس زہر سے اپنی اولاد کو بچا لیں جیسے نشہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے ایسے ہی نفرت کسی دوسرے کا نقصان نہیں کرتی بلکہ جس دل میں دوسروں کے لیے نفرت پروان چڑھائی ہوتی ہے وہ دل وہ انسان اندر سے کھوکھلے ہوجاتے ہیں اپنی نسلوں کو اس تباہ کن وائرس سے بچائیں
    شوہر کے رشتہ داروں کے لیے بھی اپنے بچوں کے دلوں میں ایسے ہی محبتیں پیدا کریں جیسے اپنے رشتہ داروں کے لیے پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں یقین کیجئے یہ عمل آپ کو نقصان نہیں بلکہ بہت فائدہ پہنچائے گا لوگ ایسی ماووں کی تربیت کو ستائش کی نظر سے دیکھتے ہیں ایک اچھی ماں پوری نسل کی آمین ہوتی ہے اللہ سبحان تعالی ہمیں خوشیاں محبتیں بانٹنے والا بنائے ۔۔
    کسی گھر کی خوش حالی اور سکون دیکھنا ہو تو اس کے گھر کا ماحول دیکھیں والدین کی اور اولاد کی آپس کی ذہنی ہم آہنگی دیکھیں مجھے ہمیشہ وہ گھر اچھے لگتے ہیں جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا بےحد خیال رکھتے ہیں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے مشعل راہ کی مثال بنتے ہیں کل کو وہ اولاد اپنے والدین کے نقشے قدم پر چل کر ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھیں گے اور اس صحت مند معاشرے کی کلیدی مثال بنانے والے اپنے والدین کو دل و جان سے عزت محبت مان پیار دیں گے اور دل سے اپنے والدین کی قدر کرے گے ۔۔۔۔!!
    ابھی بھی وقت ہے والدین میں سے کوئی ایک بھی آپ سے ناراض ہے ان کو ۔انکی ذندگی میں ہی راضی کرلو اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے اپنے ماں باپ کے پاس جو وقت آپ گزاریں گے کچھ سالوں بعد آپکو جب وہ وقت یاد آئے گا تو آپ کو لگے گا سب سے پیارا قیمتی وقت ہی وہ تھا جو ہم نے اپنے والدین کے ساتھ گزارا۔۔۔ایک چھوٹی سی کوشش ۔۔!!
    "شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ”

    تحریر "فرزانہ شریف ”

    موضوع تحریر ۔۔”میرے امی ابو جنت کے پھول "

  • اِنتقام تحریر:افشین

    اِنتقام تحریر:افشین

    انتقام (بدلہ لینا )
    جب کوئی کسی کے ساتھ بُرا کرتا ہے دوسرا انسان یا تو معاف کردیتا ہے یا پھر انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے کیا اِنتقام لینا ضروری ہے ؟ کیا اِنتقام لینے کے بعد آپ تسکین پا لیتے ہیں؟؟
    یہ حقیقت ہے کہ معاف کرنا آسان کام نہیں ہوتا لیکن جن کو اپنے رب پاک کی ذات پہ، اُنکے فیصلوں پہ بھروسہ ہو وہ ایسے کبھی نہیں کرتے وہ سب اللّه پہ چھوڑ دیتے ہیں پھر اللّلہ پاک خود ہی انصاف کر دیتے ہیں اور اللّلہ پاک کے فیصلے برحق ہوتے ہیں بہترین ہوتے ہیں ۔ اگر آپ کے ساتھ کسی نے بُرا کیا،زیادہ زیادتی کی یا کم، یہ تو اللّلہ بہتر جانتا ہے دوسرے انسان نے جان بوجھ کے کیا یا لا علمی میں کیا، کچھ بُراکیا بھی یا نہیں آپکی نظر میں شاہد وہ قصور وار ہو
    اور حقیقت اسکے برعکس ہو !!تو آپ انتقام اس سے لینے لگ جائیں اسکو ایذا پہنچانے لگیں تو پھر؟؟؟؟کیا ہوگا پھر وہ نہیں آپ اسکے قصوروار ہوجائیں گے رب پاک سب دیکھتا ہے جس کے ساتھ آپ انتقام لیا ایذا دی اگر وہ بے گناہ ہوا تو سزا کے مرتکب آپ خود ٹھہرے پھر اللّلہ پاک کے آگے کیا جواب دیں گے؟؟
    اللّلہ پہ فیصلے چھوڑ دینے چاہئیں جب آپ کو پوری حقیقت کا علم نہ ہو اور اگر علم ہو بھی تو ہو سکتا ہے پوری طرح علم نہ ہو کیوں کہ نیتوں کو صرف رب پاک جانتا ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے ربّ نیت دیکھتا ہے کیونکہ اللّلہ ہر ایک کی نیت سے واقف ہےغصے میں دل چاہتا ہے انتقام لیا جائے پر یاد رہے غصہ ایسا بھی نہیں پالیں کہ آپ میں انسانیت ہی ختم ہوجائے۔
    ہر انسان میں اچھائیاں بُرائیاں ہوتی ہیں ۔ دوسروں کی غلطیاں معاف کر دینی چاہئیں اگر اُس انسان سے دل میں نفرت پیدا ہونے لگے تو اس انسان سے کنارہ کشی کر لیں مگر کسی کو نقصان نہ دیں اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ راضی ہوجائیں زندگی خود بخود آساں ہوجائے گی۔
    کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جو جیسا کرے اسکے ساتھ ویسا کرنا چاہیے دیکھیے بُرا کرنے والے کے ساتھ بُرا ہوتا ہے اللّلہ پاک بُرا کرنے والوں کی رسی دراز کرتا ہے انکو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں معافی مانگ لیں سرکشی چھوڑ دیں۔ پر جب وہ اپنی حرکتوں سے نہیں رُکتے دوسروں کو مسلسل ایذائیں دیتے رہتے ہیں اور شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے پھر انکا انجام (مکافات عمل ) اٹل ہےزمین سے لے کے آسمان تک بھی ہمارے گناہ ہو اللّلہ پاک وہ بھی معاف کر دیتا ہے ۔ ہم سب سے زیادہ گناہ گار اللّلہ کے ہوتے ہیں ہم دن میں بہت سی غلطیاں کر کے معافی مانگنا تک بھول جاتے ہیں۔ جب ٹھوکر لگتی ہے پھر ہم کو اللّلہ سے رجوع کرنا اور معافی مانگنا یاد آتا ہے پھر بھی وہ معاف کر دیتا ہے تو انسان دوسرے انسان کے ساتھ کیوں انتقام لینے لگ جاتا ہے ؟ کہیں لوگ قتل عام کرنے لگ جاتے ہیں قتل کا بدلہ قتل ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تو نہیں سیکھایا وہ تو سب کو معاف فرما دیتے تھے صرف اپنی تسکین کے لیے دوسروں کو ایذا نہ دیں ورنہ آپ کسی کے آنسو اور تکلیفوں کے قرض دار بن جائیں گے اگر کسی بہت دل دُکھایا کسی بہت تکلیف دی پھر بھی انتقام لینا چھوڑ دیں، اللّلہ پہ سب چھوڑ دیں، کیونکہ اللّلہ کے فیصلے بہترین ہوتے ہیں۔ انسان غلطیوں کا پُتلا ہے وہ غلطی پہ غلطی کرتا ہے وہ نہیں دیکھ سکتا جو ربّ پاک دیکھ سکتا ہے انسان کی سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے. بے دھیانی میں کہیں آپ کسی کے قصور وار نہ بن جائیں احتیاط کیجئیے اور بدلے کی آگ سے بچیں کیونکہ جب یہ آگ بھڑکتی ہے سب کچھ جلا دیتی ہے

    @Hu__rt7

  • افغانستان پر طالبان حکومت اور پاکستان ! تحریر : ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    افغانستان پر طالبان حکومت اور پاکستان ! تحریر : ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ٢٠ سال سے امریکہ،نیٹو سمیت دنیا کی عالمی طاقتیں افغانستان میں طالبان کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کرنے کے بعد آخرکار گھٹنے ٹیک گئ اور یہ تسلیم کرلیا کہ امریکہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا اربوں ،کھربوں ڈالر لگاکر امریکہ طالبان کا مقابلہ تو نا کرسکا البتہ امریکا نے جنگ کے نام پر جو تباہی مچائ افغانستان میں اور جس طرح کے حالات پیدا کردیئے گئے اس کے بعد افغانستان کی عام عوام بھی ان عالمی طاقتوں سے تنگ آچکی تھی ،امریکہ نے نام نہاد افغان حکومت قائم کی لیکن اس حکومت کے مفاد شاید افغانستان سے ذیادہ اپنی جائیدادیں بنانے کا تھا اس لئے وہ حکومت بھی افغان عوام کے دل نا جیت سکی ،انڈیا نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاکر افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور افغان سرزمین کو افغان حکومت کی مدد سے پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی دھشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جس کا شکوہ کئ بار پاکستان افغانستان سے کرچکا اور عالمی فورم پر انڈین دھشتگردی کے ثبوت پیش کئے ،دوسری طرف پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان کی عوام کے فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتا رہا ،جس کی واضع مثال پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ہیں ،دنیا کی تاریخ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے ۴٠ لاکھ افغان مہاجرین کو نا صرف پاکستان میں پناہ دی بلکہ ان کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے گئے جو کسی عام پاکستانی کو دستیاب ہیں
    پاکستان ہمیشہ سے ہی افغانستان میں امن کا خواہاں رہا کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان سمیت اس خطے کے لئے بھی نہایت ضروری ہے
    لیکن عالمی دنیا نے افغانستان کو ہمیشہ ایک جنگ کا میدان بنائے رکھا جس کا نقصان پورے خطے کو ہوتا رہا اس ساری صورتحال میں جہاں امریکہ جنگ ہارچکا تھا وہیں افغان عوام کا بھی امریکہ اور اپنی افغان حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ،جس کا اندازہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے فوری بعد ہوا جب طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں کی طرف پیش قدمی شروع کی تو جس طرح افغان عوام نے طالبان کو خوش آمدید کہا اس سے واضع ہورہا ہے کہ افغان عوام طالبان سے خوش ہیں اور طالبان کو جب عوامی حمایت حاصل ہوئ تو افغان آرمی نے سرنڈر کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے افغانستان بغیر کسی خانہ جنگی کے پرامن طریقے سے افغان طالبان کے کنٹرول میں آگیا اور افغان صدر سمیت کئ رہنماوں نے راہ فرار اختیار کی
    آج افغانستان پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے یوں سمجھیں طالبان نے مکمل طور پر افغانستان کا اقتدار سنبھال لیا
    لیکن اس وقت کچھ نام نہاد ممالک اور ہمارے ملک میں موجود لوگ پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگارہے ہیں ،ان الزامات کو پاکستان نے کئ بار مسترد کیا ہے
    ایسے نام نہاد لوگوں سے کوئ پوچھے
    امریکا ٢٠ سال سے طالبان کے خلاف جنگ کیوں جیت نا سکا؟ افغان فوسز نے ایک دن بھی طالبان سے مزاحمت کیوں نہیں کی؟ ،اقتدارا پر بیٹھے لوگوں نے راہ فرار اختیار کیوں کی؟ اور افغان عوام نے طالبان کا بھرپور استقبال کیوں کیا؟کیا یہ سب کچھ بھی پاکستان کی وجہ سے ہوا؟ کیا پاکستان امریکا سے بھی بڑا سپر پاور ملک ہے؟
    پاکستان پر اس طرح کے الزامات لگانے سے بہتر ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکا جائے
    افغانستان میں طالبان حکومت کے پیچھے کوئ اور طاقت نہیں بلکہ افغان عوام کھڑی ہے اور پاکستان ہمیشہ افغان عوام کی رائے کا احترام کرتا تھا کرتا رہے گا

  • علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی

    علم کی دولت|تحریر :عدنان یوسفزئی

    انسان کو الله تعالیٰ نے اپنی عبادت کیلیے پیدا فرمایا ۔اللہ اگر چاہتے تو عالم ارواح ہی میں انسان کو ولایت عطا فرما دیتے ۔ لیکن اللہ نے اس کے حصول کیلئے انسان کو دنیا میں بھیجا۔

    ولایت کے حصول کا راستہ تین قدم ہے۔ جب تک تینوں قدم نہیں اٹھیں گے اس وقت تک منزل پر نہیں پہنچیں گے۔ اس میں پہلا قدم علم کا حاصل کرنا ہے۔ بے علم انسان اپنے پروردگار کو نہیں پہچان سکتا۔

    آدمی ہر وقت تو مفتی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتا کہ ان سے راہنمائی لیتا رہے۔ جب کبھی تنہا ہو تو کیسے پتا چلے گا یہ کام ٹھیک ہے؟ یہ غلط ہے؟ اس لیے ضروریاتِ دین کا جانا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے۔

    الله پاک نے انسان کے اندر تین قسم کے اعضاء بنائے ہیں۔
    1: اعضائے علم 2: اعضائے عمل. 3: اعضائے مال

    اعضائے علم:یعنی علم حاصل کرنے کے اعضاء ،کان،آنکھ اور دماغ۔
    جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے۔
    ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو
    جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔

    اللہ نے ان اعضاء کو بدن کے سب سے اوپر رکھا۔ اسلیے کہ علم وقعت والا ہے۔ اور ان اعضاء کے ذریعہ انسان کو علم حاصل ہوتا ہے۔ اور قیامت کے دن بھی ان ہی اعضاء کے بارے ميں سوال ہوگا۔ "ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا” پوچھا جائے گا ان اعضاء سے کون سا علم حاصل کیا ؟ دین کا علم حاصل کیا یا نہیں؟

    دنیا کی تمام تر ترقی علم پر منحصر ہے۔ علم ہی دراصل ایک انسان کو انسانی صلاحیتوں سے نوازتا ہے۔ جس کی بدولت انسان نیکی اور بدی میں تمیز کرسکتا ہے۔ علم ہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان دوسرے انسانوں پر سبقت لے جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب انسان بجلی کی گرج سے ڈرتا تھا اور آج وہی انسان اس پر قابو پاچکا ہے۔ اسے اپنے قبضے میں کر چکا ہے۔ بجلی کو کئی اہم کاموں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ علم کی بدولت انسان نے اطپنے لئے تفریح طبع کی سہولتیں بھی پیدا کرلیں ہیں۔ علم ایسا نور ہے جس سے جہالت اور گمراہی کی تاریکیاں دورہوجاتی ہیں۔ علم کی بدولت انسان کی چشمِ بصیرت روشن ہوجاتی ہے جس کی بدولت اس میں نیکی و بدی اور حق باطل کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ علم ایسا بیش بہا جوہر۔ علم سے انسان کے اطوار شائستہ اور اخلاق پاکیزہ بن جاتے ہیں۔ وہ دل و دماغ کو جہالت کے گہرے اندھیروں اور گہرائیوں سے نکال کر اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ جہاں حسد و بغض، دشمنی اور لالچ کا گزر نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان کو نیکی، خلوص، فیاضی اور دوستی جیسی عظیم صفات عطا کرتا ہے۔

    دنیا کی یہ تمام تر ترقی علم ہی کی بدولت ہے علم کی بدولت ہی آج کا انسان خلاءکو مسخر کررہا ہے۔ علم انسان کو جرات،بہادری، ہمت، استقلال، تدبر و بردباری اور ہر قسم کی عقدہ کشائی کی صلاحیت بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے دنیا کا چپہ چپہ چھان مارا، قطبِ شمالی سے لیکر قطب جنوبی تک زمین کو رندتا چلا گیا۔
    انسان کے اندر کچھ فطری چیزیں ہوتی ہیں جیسے بھوک اور پیاس کا ہونا۔ اسی طرح انسان میں علم کا جزبہ بھی فطری ہوتا ہے۔ اس کی آسان سی دلیل جہاں کوئی چند آدمی اکھٹے کھڑے ہوں ۔دوسرا کوئی آدمی آجائے تو فوراً پوچھے گا کیا ہوا ؟ کیوں کھڑے ہو؟ اور اگر کوئی واقعہ درپیش ہو تو پھر سوال ہو گا ۔کیسے ہوا؟ یہ سب اصل میں علم ہے ۔ چونکہ وہ آدمی لاعلم ہوتا ہے۔ اور اس علم کیلیے وہ سوال کرتا ہے۔ اسی لیے ضرورتِ دین کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔ "الطلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ”۔

    حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ علم ایک روشنی ہے۔ اس کے برعکس دیکھا جائے تو جہالت اندھیرا ہے، یہ اندھیرا روشنی سے دور ہو گا۔ نہ کہ اندھیرے کو گالیاں دینے سے وہ دور ہو گا ۔ جس طرح ایک حقیقی اندھیرا بغیر روشنی کے دور نہیں ہوتا ۔اسی طرح جہالت کا اندھیرا بھی علم کی روشنی بغیر دور نہیں ہوگا۔ لہذا علم حاصل کریں ۔ جہالت خود بخود دور ہو جائے گی، اور ولایت کا حصول بھی آسان ہو جائے گا۔ بندگی کا طریقہ بھی علم میں آجائے گا۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • وَبا کی صورتحال میں ہمارا رویہ  تحریر: محمد اسعد لعل

    وَبا کی صورتحال میں ہمارا رویہ تحریر: محمد اسعد لعل

    جب سے کرونا وائرس کی صورتحال پیش آئی ہے دو رویے ہیں جو سامنے آئے ہیں۔ مذہبی لوگ اس کو خدا کی آزمائش قرار دے کر لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے مائل کر رہے ہیں۔ اور جو غیر مذہبی لوگ ہیں وہ اس کا سائنسی طور پر علاج تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں لوگوں کو کیا کرنا چاہیے، اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے مائل کرنا چاہیے یا پھر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی علاج ڈھونڈنا چاہیے؟
    میرے حساب سے بندہ مومن کو ان دونوں طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ مجھ پر انفرادی طور پر جب کوئی تکلیف آتی ہے تو میرے مذہب نے مجھے یہ تعلیم دی ہے کہ مجھے اس کی تدبیر تلاش کرنی چاہیے۔ آپ یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کو کوئی تکلیف یا بیماری ہو تو دور دراز دیہات کے لوگ بھی مریض کو چارپائی پر اُٹھا کر ہسپتال تلاش کرتے پھر رہے ہوتے ہیں۔
    مسلمانوں کو بھی اس طرح کی صورتحال میں اس بیماری کا علاج تلاش کرنا چاہیے۔ جو چیزیں دریافت ہو جائیں ان کو تدبیر کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ یہ چیز خود ہمارے مذہب کی سیکھائی ہوئی ہے۔ ہم کسی ایسے مذہب کے ماننے والے نہیں ہیں جو کوئی جادو منتر کی چیزیں سکھاتا ہو۔ مجھے نہیں معلوم کے جو لوگ اپنا نقطہ نظر مذہب پر تنقید میں بیان کرتے ہیں انہوں نے یہ چیز کہاں سے سنی اور پڑھی ہے۔قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات اس سب سے خالی ہیں۔ یعنی ہم تو بالکل سائنسی ذہن رکھنے والے لوگ ہیں۔
    جب بھی کوئی تکلیف آئے گی، مصیبت آئے گی یا دنیا میں کوئی معاملہ ہو گا تو سب سے پہلے جو ہمیں تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل استعمال کریں گے اور تدبیر کریں گے۔ یعنی یہ ہمارا مذہب ہے جس نے ہمیں تعلیم دی۔ آپ سورۃ یوسف دیکھیں، وہاں یہ ہدایت کی گئی کہ ایک قحط آنے والا ہے۔ اس کے لیے ایک خواب دکھایا گیا کہ یہ اہتمام کرنا ہے۔ خدا کے پیغمبر نے یہ تدبیر دی اور غلہ محفوظ کیا گیا۔
    اس میں کوئی دعا نہیں کی گئی یا کوئی جنتر منتر نہیں کیا گیا بلکہ تدابیر بتائی گئی ہیں۔ یہ تدابیر ہماری مذہبی تعلیم اور مذہبی شعور کا حصہ ہیں۔ ہمیں کہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ ایک طرف اگر لوگ علاج کر رہے ہیں تو دوسری طرف اطمینان کے ساتھ بیٹھ کے کوئی منتر پڑھ لیا جائے۔
    دوسری بات، یہ جو بیماری یا تکلیف آتی ہےاس کے بھی دو پہلو ہیں۔ یعنی ایک اس کا سائنسی پہلو ہے کہ یہ کن اسباب سے آئی ہے،ان اسباب کو پیدا کرنے میں میرا اورآپ کا کیا دخل ہے، غلطی کہاں ہوئی ہے۔ تو اس میں ہمارا رویہ یہی ہونا چاہیے کہ ہم اس غلطی کو تلاش کریں اور اس کو ٹھیک کریں۔
    لیکن دوسری جانب ہمیں یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے یہ اس مالک کی طرف سے ہوتا ہے، اُس کے علم سے ہوتا ہے۔ اور ہم نے اس کی بارگاہ میں حاضر بھی ہونا ہے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ وہ کیوں ہونے دیتا ہے۔ یعنی وہ ہماری غلطیوں کے باوجود اس پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کو روک دے، وہ اس کائنات کا خالق ہے۔ عذاب کا دروازہ تو آپﷺ کے بعد بند ہو گیا تھا، لیکن اس نے اپنی کتاب میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ یہ سب تنبہ کے لیے کرتا ہے۔ یہ ہمیں ہمارے گناہوں کی طرف متوجہ کرتی ہے،خدا کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ اس وقت بھی اگر آپ دیکھیں تو اس وباء (کرونا وائرس) نے ہم مسلمانوں کو خدا یاد کروایا ہے۔بلکہ پوری دنیا کو یاد کروا دیا ہے۔لوگ اب دعائیں کرنے لگے ہیں، تو یہ وہ تنبہ کا پہلو ہے۔ اللہ نے یہ دنیا بنائی ہی اس طریقے سے ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک تنبہ ہے اور ہمیں اطمینان سے بیٹھ جانا چاہیے۔ ہمیں وہ سب کام کرنے ہیں جو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر ہم نہیں کریں گے تو پھر اللہ کے قانون کے مطابق یہ تنبہ بہت بڑی سزا بن جائے گی۔ دنیا میں جو ہمیں علم دیا گیا ہے، عقل دی گئی ہے اس کا استعمال نہ کرنا بھی بُرے نتائج کاذریعہ بن جاتا ہے۔
    ہمارے دین کی یہی تعلیم ہے، اس لیے اس صورتحال میں ہمیں تدبیر کرنی چاہیے اس کے بعد اپنی تمام تدبیروں کی کامیابی کے لیے اپنے رب سے دعا کرنی چاہیے۔ اور یہی ایک مومن انسان کا رویہ ہونا چاہیے۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal