کیسی جگہ پر رہنے والے
افراد کی ایسی آبادی ہو جو اس اصول پر آپس میں رہائش پزیر ہوں کہ ان کے مفادات مشترک ہوں.
اس آبادی کے ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮨﻮ۔ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻧﺎﻡ اس جگہ پر رہنے والوں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭستان کانام سنتے ہی دماغ میں آجاتا ہے یہ جگہ ہندوؤں کے رہنے کی جگہ ہے۔ یورپی ممالک کے ناموں کو سن کر فوری معلوم ہو جاتا ہے یہ ممالک عیسائی یا یہودی ہیں ۔ﺍﺳﻼﻣﯽ ممالک کے نام سے ﺍﺳﻼمی ممالک معلوم ہو جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کے کہ ان مسلم ممالک میں کتنا اسلام نظام قائم ہے۔ دین اسلام نے ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ اور آپسی محبت ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺡ ﻭ ﺑﮩﺒﻮﺩ کی تمام تر ذمے داری سب پر لاگو کر دی۔ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﺭۃ ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺖ 110 ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ زندگی گزانے کے اصول کے سے ﮨﻮنے ﭼﺎﮨﯿﮱ، ﺗﺮﺟﻤﮧ : ۔۔۔۔۔ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ بنیادی اصول سامنے رکھ دیا جیسے ہم کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے۔ اس حکم خداوندی سے ہر ﺟﺎﻧﺐ ﺭﺍﮦ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ بھی آپ رہیں اس ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎن ﮐﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ بن سکتا۔ مسلم سریف کی صحیح روایت میں ہے کہ اللہ تعالی ”شہید“ کا ہر گناہ معاف کردے گا سوائے دَین اور قرض کے۔ یغفر للشہید کل ذنب إلا الدین (رقم: ۱۸۸۹) اسی طرح مشکات شریف میں ہے کہ اللہ تعالی غیبت کرنے والے کی تب تک بخشش نہیں کرے گا جب تک وہ شخص اسے معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ وإن صاحب الغیبة لایغفر لہ حتی یغفرہا لہ صاحبہ (مشکات، رقم: ۴۸۷۴)
ہم لوگ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﺮ اک ﻓﺮﺩ ﮐﻮ ﻣﺴﺎﻭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﮰ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮞ، ﺧﻮﺍﮦ ﯾﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﺎﻟﯿﺎﺗﯽ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ۔
مغرب ممالک میں اور مشرقی مممالک میں بھی وومن ڈے کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے جیسے کو جنگ ہو رہی ہے خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے گروہ میری نظر میں وہ اسلامی فوبیا کے شکار ہیں وہ احساس کمتری میں اس طرح سے ڈوب چکے ہیں کے اسلام نے جو حقوق عورت کو دیئے ہیں وہ حقوق ان لوگوں نے نہیں دیئے۔ مغربی ممالک میں عورت کا جاب کرنا بے حد ضروری ہے۔
2012 کے ایک غیر جانبدارانہ جائزہ کے مطابق یورپ میں 14 فیصد خواتین کو دوران ملازمت محض عورت ہونے کی بنا پر تعصبات کا نشانہ بننا پڑا۔
جرمنی میں خواتین پر جنسی تشدد اور ہراسانی کی شرح 58 فیصد ہے ، جب کہ پولینڈ میں ایک تحقیقی جائزہ میں حصہ لینے والی 451 خواتین میں سے 88 فیصد پندرہ سال کی عمر کے بعد کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراسانی اور تشدد کا شکار رہیں ۔ ہالینڈ میں ہراسانی کے حوالہ سےگیارہ سو خواتین سے جمع کردہ معلومات کی روشنی میں دن کی روشنی میں گلیوں اور بازاروں میں 94 فیصد خواتین ہراسانی کا شکار ہوئیں۔
انڈیا میں گزشتہ دنوں درجنوں مسلمان خواتین یہ جان کر حیران رہے گئیں کہ ان کے نام آن لائن پر قابل فروخت خواتین کی فہرست میں ڈال دیئے گئے ہیں۔
سولی ڈیلز’ کے ایپ اور ویب سائٹ کو دیکھکر جس میں خواتین کی تصاویر اور ان کے ‘پروفائز’ یا نجی معلومات کو عام کیا اور انھیں ‘ڈیلز آف دی ڈے’ بنا کر پیش کیا گیا ہے انڈیا میں مسلم خواتین کا یہ کہنا ہے کے کچھ گروہ یہ کام مسلم خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں ۔۔ ہمارے پاکستان میں لبرل کلچر والی خواتین کھانا نہیں بناوں گی جوتے نہیں بتاوں گی کپڑے نہیں دھوں گی وغیرہ وغیرہ پر بے وجہ کی دھونس جماتی نظر آتی ہیں ۔۔اللہ ربالعزت ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین ۔۔
۔ @MSA47
Author: Baaghi TV
-

مشرق سے مغرب کا سفر تحریر محمد علی شیخ ۔
-

پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے تحریر: زاہد چوہدری
پاکستان نے پہلے دن سے دنیا پر زور دیا ہے کہ افغان امن طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مضمر ہے اور کسی بھی فریق کی طرف سے طاقت کا استعمال ، چاہے وہ طالبان ہو یا کابل حکومت،افغان امن عمل کو نقصان پہنچائے گا۔
افغان جنگ جو کہ امریکی افواج نے طالبان کے خلاف قریباۤ 20 سال تک نیٹو کی چھتری تلے لڑی جو کہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحادہے، ابھی تک نتیجہ بالکل مختلف ہے جس کی امریکی اور دنیا نے پہلے کبھی توقع نہیں کی تھی۔
یہ لڑائی امریکہ میں 9/11 کے المناک واقعہ کے بعد اس وقت کی امریکی حکومت نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن پر الزام لگایا کہ اس نے اس حملے کی منصوبہ بندی طیارے ہائی جیک کرنے کے بعد کی ہے۔ اس وقت اسامہ بن لادن افغانستان میں رہ رہے تھے ، جہاں افغان طالبان حکومت میں تھے اور ملا عمر اقتدار سنبھالے ہوے تھے۔ امریکہ نے اس وقت کی افغان طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کو کہا۔ اور دھمکی دی کہ بصورت دیگر افغانستان کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
طالبان حکومت نے ایک اجلاس کے بعد متفقہ طور پر پریس ریلیز جاری کیا کہ وہ تحقیقات اور تفتیش کے حوالے سے امریکی حکومت کی مدد کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں۔ تاہم ، وہ اسامہ بن لادن (ان کے مہمان) کو امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے ، اور یہ کہ وہ کوئی ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔
بش حکومت نے طالبان کی اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور امریکی عوام کے پرزور مطالبے پر نیٹو افواج نے افغانستان میں داخل ہو کر طالبان حکومت کے خلاف لڑائی شروع کر دی، شدید لڑائی کے بعد طالبان کی حکومت منہدم ہو گئی۔ امریکہ نے اپنی مرضی کی حکومت کو مقرر کر دیا جسکے بعدافغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کے اقتدار میں آنے کا یہ عمل 2021 تک جاری رہا۔
نیٹو افواج جدید بندوقوں ، ہیلی کاپٹروں ، طیاروں ، بموں اور جدید ٹیکنالوجی سے لڑتی رہی لیکن کوئی بھی چیز نیٹو افواج اور امریکہ کو براہ راست اپنے مقاصد کے حصول میں مدد نہیں دے سکی جس کے بارے میں وہ سوچ رہے تھے۔
طالبان اور نیٹو افواج دونوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ، لاکھوں افغانی ہلاک ہوئے ، لاکھوں لوگ پاکستان ، ترکی ، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک میں ہجرت کر گئے۔ افغانیوں کی میزبانی کرنے والے سرفہرست ممالک بالترتیب پاکستان اور ترکی تھے۔ اس افغان جنگ کے دوران پاکستان نے تقریباِۤ 80 ہزار افراد اور اربوں ڈالر کی معیشت کھو دی۔ افغانستان میں انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا اور غربت غالب آئی۔
تاہم ، پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری اور اہم سٹیک ہولڈرز امریکہ اور نیٹو ممالک کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرنے پر زور دیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ جنگ افغان عوام کی بالکل مدد کیوں نہیں کر رہی۔ اس کے بجائے ، ہر گزرتے دن کے ساتھ سراسر نقصان ہوتا ہے۔ افغانستان میں امن لانے کا واحد حل ان طالبان سے مذاکرات کرنا ہے جو افغانی بھی ہیں اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر زمین پر ان کا کنٹرول بھی ہے۔
مزاکرات کے ذریعے افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان کی بلند آواز کے باوجود ، دنیا نے پاکستان کے بیانیے کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور نیٹو افواج انہیں آسانی سے ختم کردیں گی۔ لیکن ٹرمپ حکومت کے دوران امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور افغانستان اور اس طرح کے دیگر متنازع ممالک سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا ارادہ کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ تنازعات میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے اپنی معیشت پر توجہ دے گا۔ ٹرمپ نے اس پالیسی کو اس وجہ سے تبدیل کیا کہ چین ایک نئی معاشی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے جو آنے والے برسوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان قیادت سے بات چیت شروع کی اور افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا پر رضا مندی ظاہر کی۔ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا تاکہ وہ افغان امن عمل کے حوالے سے بات چیت کے لیے میز پر لائیں۔ یہ مذاکرات دوحہ میں 2013 میں شروع ہوئے ، جہاں حامد کرزئی (افغانستان کے سابق صدر) ، امریکی نمائندے اور طالبان قیادت نے شرکت کی۔ تاہم ، یہ ملاقات حامد کرزئی نے صرف اس لیےمنسوخ کر دی کیونکہ طالبان نے اپنے "اسلامی امارت افغانستان” کے جھنڈے کو اس دفتر پر لگایا تھا جہاں یہ ملاقات ہونی تھی۔
طالبان نے کئی مہینوں تک اپنا دفتر بند رکھا اور مذاکرات ملتوی رہے۔ پاکستان پرامن مذاکرات کی اہمیت کے لیے آواز بلند کرتا رہا۔ 2016 میں پاکستان ، چین اور امریکہ نے افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا اور پاکستان نے اس اجلاس کی صدارت کی۔
پھر دسمبر 2019 میں ، دوحہ میں ، طالبان قیادت اور امریکہ نے افغان امن عمل کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں تقریبا 6 ماہ لگے۔ امریکہ نے ستمبر 2021 کے اختتام تک اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ، ان شرائط کو شامل کرتے ہوئے کہ طالبان اس انخلا کے دوران نیٹو افواج پر حملہ نہیں کریں گے۔ دونوں طرف سے مکمل جنگ بندی ہوگی۔ 2019 سے 2021 کے دوران اس وقت کے دوران اتار چڑھاؤ آئے۔ تاہم ، امریکہ نے اپنے ہزاروں فوجی واپس بلا لیے ، بگرام ایئر بیس کو خالی چھوڑ دیا۔ امریکیوں نے رات کے وقت بگرام ایئربیس چھوڑ دیا اور یہاں تک کہ ا پنی حمایت یافتہ افغان حکومت کو اطلاع کرنے کی زحمت بھی گوارانہ کی جس پر اشرف غنی انتظامیہ نے تحفظات کا اظہار کیا۔
طالبان نے امریکی افواج کی واپسی کا خیر مقدم کیا ۔ تاہم ، اس کے ساتھ ہی طالبان نے افغانستان کے اضلاع ، صوبوں اور اہم عمارتوں پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی شروع کر دی جس نے عالمی برادری کو حیران کر دیا تاہم ، بائیڈن انتظامیہ نے اس ساری صورتحال سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ افغانستان کے پاس 0.3 ملین فوج ہے جو دیرپا جنگی سازوسامان رکھتی ہے اور وہ طالبان کو ملک پر کنٹرول نہیں ہونے دے گی۔ لیکن حالیہ تازہ کاروایاں دنیا کو بتاتی ہیں کہ افغان فوج ایک کے بعد ایک تمام صوبوں اور شہروں میں ہتھیار ڈال رہی ہے اور قیادت نے محفوظ راستے کے لیے پڑوسی ممالک کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف ، جب طالبان قیادت اور طالبان کے فوکل پرسن ذبیح اللہ مجاہد سے ان کی پیش قدمی اور افغان سرزمین پر قبضے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ امریکہ کے ساتھ تھا نہ کہ کابل حکومت کے ساتھ ۔ مزید یہ کہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اشرف غنی پہلے مستعفی ہو۔
اب دنیا افغانستان میں طاقت کا کھیل دیکھ رہی ہے جب طالبان نے تمام بڑے شہروں ، اہم صوبوں ، بشمول ہرات ، قندھار ، کنڑ ، اور مزار شریف کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سے ملحقہ سرحدوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
طالبان اب کابل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اشرف غنی نے استعفیٰ دے کر حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوحہ میں معاہدے کے بعد طالبان کو بیشتر عہدیدار افغانستان چھوڑ چکے ہیں جن میں امر اللہ صالح – نائب صدر ، سلامتی کے مشیر محب ، اور خود اشرف غنی شامل ہیں۔
مزید برآں ، افغانستان کے تاجک رہنما صلاح الدین ربانی ، یونس قانونی ، احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود ، احمد ولی مسعود ، ہزارہ رہنما استاد محقق ، کریم خلیلی ، استاد عطانور کے بیٹے خالد نور اور افغان قومی اسمبلی کے اسپیکر رحمانی پی آئی اے کے خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان پہنچے۔
یہ صورتحال بہت دلچسپی سے آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ طالبان کابل حکومت کی طرف سے کسی مزاحمت کے بغیر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ کابل حکومت ختم ہو چکی ہے ، اور جلد ہی افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہو جائے گا۔
تاہم ، یہ سب ان مذاکرات کے ساتھ ہو رہا ہے جن کی پاکستان نے ہمیشہ تاکید کی تھی ، کیونکہ یہ کسی بھی قسم کے تنازع سے بچنے کا بہترین حل ہے جو بصورت دیگر ملک ، اس کے عوام اور افغانستان میں ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز پورے خطہ کو نقصان پہنچائے گا۔ پاکستان امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور مستقبل میں پرامن اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے۔
پاکستان ایک پرامن افغانستان چاہتا ہے چاہے کوئی بھی اس وقت کنٹرول کر رہا ہو پاکستان ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنہیں افغان عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو گی۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اب واضح ہے۔ ایک پرامن افغانستان اور حکومت جس کو اکثریتی عوام کی حمایت حاصل ہو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے قابل قبول ہو گا۔
مزید یہ کہ ایک پرامن افغانستان علاقائی ترقی کے سا تھ ساتھ چین- پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔
-

واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار تحریر: جہانتاب احمد صدیقی
سانحہ کربلا صبرو تحمل، دلیری و شجاعت، پرہیزگاری، عقیدہ، اخلاق اور طرز زندگی کا درس دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے ۔واقعہ کربلا کو زندہ و جاوید بنانے میں زینبؓ، کلثومؓ، سکینہ ؓ اور دیگر شہداء کی خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ واقعہ کربلا کے پیغام کو رعایا تک خواتین نے پہنچایا ہے۔اس واقعہ کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی حسین ؓ اور دیگر شہدا ادھورا ہی رہ جاتا۔
زینبؓ ، کلثومؓ،سکینہؓ اوردیگر شہدا ٕ کی خواتين کی بے مثال کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ سانحہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت حسینؓ بن علیؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا اہم کردارادا کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت حسینؓ کا خواتین و بچوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔
واقعہ کربلا کی ان عظیم خواتین نے یریذی قوتوں کے مقابل اپنے جگر گوشوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا اور اپنے سہاگوں کو بھی راہ اللہ میں قربان ہوتے دیکھا، لیکن خاتم النبیینﷺ کے دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی ۔
اس بات میں کوئی شک و شہبہ نہیں کہ اگر خواتین حضرت حسین ؓ کا ساتھ نہ دیتیں، تو اُمت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا کے میدان میں ہی ختم ہو جاتی۔ ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ جاوید بنا دیا۔
آج کی مسلمان خواتین کے لئے واضح درس ہے کہ زمانہ کتنا بھی خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو جائیں اور موجودہ حالات کتنے بھی سخت کیوں نہ ہو جائیں ، معاشرہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو جائے، مگر یہ سختیاں اور دشواریاں و مصائب واقعہ کربلا کی سختیوں اور آزمائشوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیشہ اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں، سچ کا ساتھ دیں، اور یریذیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوں تو راستے خود بخود سہل ہو جائیں گے۔
@JahantabSiddiqi
-

اسلام اور پیغامِ کربلا تحریر: حمزہ احمدصدیقی
دین اسلام امن و سلامتی کا علم بردار، پرامن، بقائے باہمی، سلامتی و آشتی، تحمل و رواداری ، پیار و خیرسگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، جس میں ظلم و ستم اور تشدد کی مطلق گنجائش نہیں، حق تلافی، ہر قسم کی دھوکے بازی، غبن اور سود حرام ہے، خوف و دہشت کا کوئی تصور نہیں،ذات پات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جوازنہیں ہے۔
دین اسلام امن کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی ہمارے دین کو دنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تعلیم دینے والے مذہب سے تشبہہ دی جاتی ہے۔ مغربی لوگوں نے ہمارے دین اسلام کے خلاف بھرپور پروپگینڈا مہم شروع کر رکھی ہوٸی ہے طرح طرح کی تاویلات اور غلط تشریحات سے ہمارے دین اسلام کا مبارک چہرہ مسخ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جو اہل ایمان والوں کیلٸے لمحہ فکریہ ہے۔
دین اسلام کو آج سنگین چیلنجوں اور کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مذہب اسلام رسوائیوں کا سامنا ہے۔ یہ سب ہمارے قوم اور ریاست کے حکمران اور دین فروش صاحبان جو دین ملت کی مصلحت کوشی، دین سے دوری، مفاد پرستی، اقربا پروری، انا پرستی ،کند ذہنی ، جہاہلانہ سوچ، تفرقہ بازی، اور منتقمانہ مزاجی کا ثمر ہے اور اس زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، خاتم النبیینﷺ کے اسوہ حسنہ اور تعليمات سے بے اعتنائی اور نواسہ رسول حضرت حسینؓ بن علیؓ کے لہو سے رقم ہونے والے پیغام واقعہ کربلا کو بھلا دینا ہے۔
حسینؓ بن علیؓ اور شہدائے کربلا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نانا کے دی اسلام کی بقا اور اسکی سر بلندی کیلٸے اپنا سب کچھ راہ خدا پہ قربان کرنے کا جو درس دیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جاٸے گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے؟ کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال حسینؓ بن علیؓ اور ان کے جانثاروں کی شہادت کو جس دل سوزی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور ان کے غم میں اشک بار ہوتے ہیں؟ کیا واقعی اپنی عملی زندگی میں بھی اسی چاہت و محبت، عقیدت اور اخلاص نیت کے ساتھ اسوہ حسینیؓ پر عمل بھی کرتے ہیں؟
کیا موجودہ دور کے یزیدیوں کے خلاف آج بھی مسلمانوں کے حکمراں حضرت حسینؓ بن علیؓ کی طرح صف آرا نظر آتے ہیں؟ کیامسلمانوں نے واقعہ کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھا اور کوئی سبق حاصل کیا؟ افسوس کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔
قارئين اکرام!! کشمیر، فلسطین، شام،اور برما کو دیکھ لیجیے کہ کیسے ان ظلم و ستم ڈھاٸے جارہے اور وقت کے یزیدوں کے سامنے ہمارے مسلم حکمراں سر جھکائے کھڑے رہتے ہیں اس وقت کی نزاکت اور حالات کی سنگینی کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کو کربلا میں شہادت حسینؓ بن علیؓ اور واقعہ کربلا کے پیغام کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ،آمین ثم آمین!!
@HamxaSiddiqi
-

نماز معراجِ مومن ہے. تحریر : انجینیئر مدثر حسین
معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب تعالیٰ سے ملاقات کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی ہے رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیے جس نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا اس کی نثال نہیں ملتی.کیسی کمال بات ہے کہ جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتا ہے اس سر کو رب تعالیٰ کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ عبادت کا حسن یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں ہے.
معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا اب انسان کا کام ہے. جسے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے. انسان جب اپنے رب کے رو برو وضو اور نیت کرنے کے بعد جب کھڑا ہوتا ہے تو کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے کسی باس کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اے انسان اس رب کریم جو کہ اس تیرے باس کا بھی رب ہے جو اس اسے بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا تو کیا کرو. بارگاہ خالق دوجہاں ہے بارگاہ رب العالمین ہے کوئی مزاق تو نہیںجو اہتمام نا کیا جاے. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے خالق و مالک کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ اس بات کا تصور اور احساس کا ہونا ہے کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول رہتی ہیں وہ رب کریم میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے اللہ رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
بندگی کا اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جو بول رہا ہو اس چیز کی گواہی زبان سے اور دل سے بھی اس کی شہادت دے. جب زبان الحمد للہ رب العالمین بولے تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دےاور اس کی تاثیر روح میں اتارے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا کوئی گالہ ہو. روح رب العالمین کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں اللہ جل شانہ کا طائب نظر آے.
سوچئے تو سہی ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ چکے. بتائیں تو زرا دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل کو بخوبی سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں پیش کیا جانا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں بسا اور چلا رکھا ہے.
اس سے آگے معراج کی کامل منزل کا آغاز ہوتا ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم ہو چکے گویا رب العالمین کو اپنے سامنے اور خود کو دیکھتا ہو امحسوس کر رہا ہوں. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی صاحب. احساس کی کامل انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو اور سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا کہیں دور چھوڑ آیا اس کے خیالات ختم ہو چکے بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمتوں والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا کھڑا ہوتا ہے. تو دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. کیا ہی خوبصورت احساس کہ رب العالمین سے باتیں کر رہا. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر پروردگار کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی. دنیا کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے. اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھائی دیتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی مہر ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کر لیتی ہے بندے کو اپنا من ہلکا ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو اور بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت لیے برستی آنکھوں سے با آسرا دنیا سے بےگانہ آئندہ فرمانبرداری کا عزم لیے. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا ہی کریم ہے غفور الرحيم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے اپنے روبرو آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا وہ کبھی نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ بھی ہو تو بہتر کر کے عطا دیتا ہے. میرے عزیز بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضے کو سمجھیے بندے کی معراج کی اس حقیقت کو سمجھیے اپنی عبادت کو خود کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ ان پر عطا رب العالمین ہے لیکن بندے پر احسان ہے کہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کر دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرائی گئی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں نماز میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو اور اللہ کریم کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکنے لگے. کہ واہ آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.@EngrMuddsairH
-
کال پے بات اور آداب گفتگو تحریر : ولید عاشق
انسان اور حیوان میں بنیادی فرق لسان اور شعور کا ہے،اسلیے گفتگو انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے،یہی وجہ ہے کے ہمہارے اچھے یا برے ہونے،مزاج اور اخلاق کا دارومدار بھی ہمہاری گفتگو پر ہی ہوتا ہے،ہمہارے ساتھ ملنے جھلنے والوں پر بھی پہلا تاثر ہمہاری گفتگو کا ہی ہوتا ہے،لہٰذا ہر شخص کو گفتگو میں محتاط ہونا چاہیے،گفتگو کے وقت بہت سی اہم باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے،
گفتگو کے وقت لہجے میں نرمی متانت اور وقار کا خیال رکھیے،بات شروع کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے،بغیر سوچے سمجھے بولنا بیوقوفی کی علامت ہے،
گفتگو کے دوران غصے کا اظہار ،سخت الفاظ کا استعمال ،مسخرہ پن اور اپنی تعریف یہ تمام چیزیں اداب گفتگو کے خلاف ہے،
کسی کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس کی سچائی پر ہمیں خود شک هو،اگر اتفاق سے ایسی کوئی بات کہنی بھی پڑھ جاۓ تو اس کے ساتھ اپنا شک بھی ظاہر کر دینا چاہیے،
کسی کے عقیدے مذہب یا بزرگوں کی شان میں نا زیبا الفاظ کا استعمال کرنا مناسب نہیں،جاہلوں اور ان پڑھوں سے زیادہ مشکل باتیں نا کریں،بات کرتے وقت آواز اتنی دھیمی نا هو کے آواز آپ کی سنائی نا دے،اور نا اتنی تیز کے سننے والے کو نا گوار گزرے،
موبائل فون اور سوشل میڈیا آج کل ہر انسان کی مجبوری بن چکا ہے،ہر غریب امیر کے ہاتھوں میں یہ موبائل فون نظر اتا ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کے یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور نعمت کا جائز استعمال کیا جاۓ ،نعمت کا غلط استعمال زحمت بنا دیتا ہے،اور دنیا اور آخرت میں بربادی کا ذریعہ بنتا ہے،سیل فون ایک بہت بڑی نعمت ہے،آپ ذرا تصور کیجئیے پہلے زمانے میں ایک دوسرے تک خبر پہنچانے کے لیے کتنے مسائل ہوتے تھے،اگر کسی کا انتقال ہوتا تھا تو دوسری جگہ پیغام پہنچانا انتہائی مشکل ہوتا تھا،آج دنیا میں کسی جگہ پے بھی انتقال هو تو ایک منت میں پوری دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے،اور آج ہم صرف موبائل فون پے کال پے بات چیت کے اداب کے بارے میں آپ کو اگاہ کرے گے،1. پہلی بات کسی کو صبح 9 بجے سے پہلے اور رات 9 کے بعد کال مت کیجیے.
2. چھٹی والے دن دس گیارہ بجے تک بندے کی جان بخش دیں اس کے بعد کال کریں۔
3. دوپہر کے اوقات میں بھی اور خاص طور پہ نماز کے اوقات میں کال نا کریں۔
4. بہتر ھے وائس نوٹ چھوڑیں اور کال کرنے کا ٹائم لے لیں ھم آج بھی اپنے پرانے دوستوں کو واٹس ایپ پہ میسج کر دیتے ھیں کہ فری ھو کے کال کرنا یا فری ھو کے بتانا مجھے بات کرنی ھے یا ارجنٹ بات ھے۔ ھر بندے کی پرائیویسی ھے اسکا مکمل خیال رکھیں۔
5. کسی کو پہلی بار کال کر رھے ھیں تو لازمی میسیج کر کے اجازت لیں اور ٹائم لیں۔
6. سب سے اچھا طریقہ ھے وائس نوٹ بھیج دیں جب دوسرا فری ھو گا سن لے گا اور جواب بھی دے دے گا۔
7. جب پہلی بار کسی سے بات کریں تو پہلے اپنا تعارف کروائیں اور ساتھ ھی مدعا بیان کر دیں مکمل بات ایک ساتھ کر دیں سوال جواب کھیلنا شروع مت کریں۔
8. اگر کوئی فون کاٹ دے تو اس اسکا مطلب وہ مصروف ھے ابھی بات نہیں کر سکتا اتاولے ھو ھو کے کال پہ کال مت کیے جائیں۔
9. اگر کوئی ایک مکمل رنگ پہ فون نہیں اٹھاتا اسکا بھی یہی مطلب ھے کہ وہ دستیاب نہیں ھے دس منٹ صبر کر جائیں یا میسج بھیج دیں کہ فری ھو کے کال بیک کریں۔
10. اگر کسی کا فون مصروف ھے تب بھی بار بار فون ملا کے اسکی کال انٹرپٹ نا کریں۔
اللہ پاک ہم سب کو توفیق عمل سے نوازے
امین
Walees Ashiq
Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account
-

ہماری ذاتی ناکامیوں کی وجوہات تحریر: زبیر احمد
ہماری زندگی میں ایک لفظ "ناکام/ناکامی” ہے جس سے ہم بہت گھبراتے اور پریشان ہوجاتے ہیں۔ یہ لفظ بچپن سے بڑھاپے تک ہماری جان نہیں چھوڑتا۔بچپن میں کلاس میں فیل ہونے کا ڈر، لڑکپن میں کالج یونیورسٹی میں فیل ہونے کا ڈر، جوانی میں اچھی جاب حاصل کرنے میں ناکامی کا خوف اور آخرکار جب جاب مل جائے ہے کیرئیر میں فیل ہونے کا ڈر۔ گویا ہماری اس لفظ "ناکامی” سے ایک مسلسل جنگ ہے لیکن یہ بڑے اچنبھے اور حیرانگی کی بات ہے کہ اتنی گھبراہٹ، ڈر اور تلملانے کے باوجود زیادہ تر لوگ زندگی میں ناکام ہونے کی پلاننگ کررہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہوئے یا نا چاہتے ہوئے ارادی یا غیر ارادی طور پہ زندگی میں اپنی عادات، اعمال اور کاموں کے ذریعے دراصل ناکام ہونے کی تیاری کررہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کامیاب لوگوں کی تعداد کم جبکہ ناکام لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ناکام ہوتے ہیں وہ قسمت مقدر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت میں کچھ عادات کی وجہ سے ہوتے ہیں، یہ عادات اتنی خوفناک اور خطرناک ہوتی ہیں کہ جو بندہ ان کو اپنا لیتا ہے وہ بھرپور طریقے سے اس کو ناکام کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر آپ میں کچھ ایسی عادات ہیں جن کو اپنانے کی وجہ سے آپ آگے بڑھ نہیں پا رہے اور یہ عادت آپ کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں تو ان کو ترک کردیں اور ان کو اپنی شخصیت سے نکال کے باہر پھینک دیں تاکہ آپ کامیابی کی طرف گامزن ہوسکیں۔زندگی ایک بڑی وجہ جس کی وجہ سے لوگ ناکام ہوتے ہیں ہوتے ہیں وہ ہے بغیر کسی وجہ کے غیرضروری طور پہ کاموں کو سرانجام دینے میں تاخیر کرنا، زیادہ تر لوگ اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے چیزوں یا کاموں میں تاخیر کرتے ہیں یہ لوگ آخر وقت تک اپنے کاموں کو سرانجام نہیں دیتے جس کی وجہ ان کے ہاتھ سے قیمتی وقت نکل جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے شعر ہے کہ
"کہ وقت جوں جوں رائیگاں ہوتاگیا
زندگی کو کام یاد آنے لگے”
دوسری وجہ کام میں تاخیر کی وجہ کہ لوگ پوری زندگی صحیح وقت اور موقع کے لئے گزار دیتے ہیں۔ زندگی میں نہ تو کوئی صحیح وقت اور لمحہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی صحیح موقع ہوتا ہے جو بھی کرنا ہے وہ آج ہی کرنا ہے کل کسی نے نہیں دیکھا آپ کو آج سے شروع کرنا ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت صحیح نہیں ہے، آپ کے پاس کسی کام کرنے کے اوزار مکمل نہیں ہیں تو گھبرائیں نہیں پریشان نہ ہوں بلکہ جو کچھ میسر ہے اسی سے کام کی شروعات کریں جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے چیزوں کو ترتیب دیتے رہیں اسی طرح تاخیر کرنے کی بری عادت سے چھٹکارا پائینگے اگر آپ یہ نہ کرپائے تو زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
1986 کے اولمپکس کی میراتھن ریس اولمپکس کی تاریخ کی میراتھن دوڑوں میں سب یادگار اور تاریخی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس ریس کے یادگار ہونے کی وجہ اس کے جیتنے والےنہیں بلکہ اس ریس کو ہارنے والا اتھلیٹ ہے۔ ریس شروع ہوئی اور اس کے اختتام پہ کوئی پہلے، کوئی دوسرے اور تیسرے نمبر پہ آیا لیکن ریس ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد ایک اتھلیٹ جس کا نام جان اسٹیفن اخواری، اس کا تعلق تنزانیہ سے تھا وہ بھاگتا آرہا ہے اور اس کے پیروں اور ٹانگوں پہ پٹیاں بندھی ہوئی ہیں لیکن وہ لنگڑاتا ہوا بھاگتا آرہا تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ تکلیف کے ساتھ پیروں ٹانگوں پہ پٹیاں بندھے ہونے کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور بھاگتا آرہا ہے تو پورے سٹیڈیم میں موجود لوگوں نے کھڑے ہوکر اس کے لئے تالیاں بجائیں اور آخرکار اس نے لائن کراس کرلی۔ جب جان اسٹیفن اخواری سے پوچھا گیا کہ زخمی ہونے اور تکلیف کی وجہ سے آپ ریس سے دستبردار ہوسکتے تھے اس نے جواب میں کہا کہ میرا تعلق ایک غریب ملک سے ہے، انہوں نے ہزاروں میل دور مجھے میکسیکو بھیجا اس لئے نہیں کہ میں ریس شروع کروں بلکہ اس لیے کہ میں ریس کا اختتام کروں آج میں ہار گیا لیکن میں نے اپنے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ ہمارے ناکام ہونے کی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا نہ ہونا ہے ہم چیزوں کو شروع تو کردیتے ہیں لیکن ان کو بیچ میں ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لئے زندگی میں کامیابی کے لئے ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کو اپنی عادت بنائیں۔ تیسری وجہ زندگی میں ناکامی کی کسی مقصد کا نہ ہونا ہے بغیر مقصد کے زندگی ایک بےمعنی زندگی ہے۔ انسان کی زندگی میں دو دن بہت اہم ہوتے ہیں ایک جس دن وہ پیدا ہوا تھا اور دوسرا وہ دن اہم ہوتا ہے جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کیوں پیدا ہوا ہے۔ دوسرے دن کی اہمیت کا احساس تب ہوگا جب آپ حرکت کریں گے اور کام شروع کرینگے تو زندگی کا ایک مقصد مل جائے گا۔ زندگی کا مقصد اپنے کام میں، عادات، شوق، پیشے، علم میں تلاش کریں کہیں نہ کہیں آپکو زندگی کا مقصد مل جائے گا اور اگر ایک بار سرا مل گیا تو پھر آگے بڑھنے کا راستہ مل جاتا ہے اور زندگی میں کامیابی ضرور ملتی ہے۔ زندگی میں اپنی ذات میں ڈسپلن نہ ہونا بھی ناکامی کی بڑی وجہ ہے اسکا مطلب ہے کہ اپنے اوپر کنٹرول ہونا زندگی میں طور طریقہ، ترتیب لانا۔ ایسا کرنے کے لئے آپ کو سب سے پہلے خود کو فتح کرنا ہوگا۔ لوگ کسی چیز کو کرنے کا ارادہ کرتے ہیں لیکن کچھ دن بعد ہی نظم و ضبط، مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے پھر پرانی روٹین پہ آجاتے ہیں کیونکہ پرانی عادتیں برے طریقے سے انسان کو جکڑے رکھتی ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ملک میں تعلیم کا فقدان ناکام ہونے کی بڑی وجہ ہے، ہمارے سیاسی لیڈرز کا عوام کو جکڑنے اور اپنے پیچھے لگائے رکھنے کی جو وجہ اور کنجی ہے وہ عوام کو تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ ان کے خیال میں عوام کو جاہل گنوار، ان پڑھ رکھا جائے کیونکہ اگر یہ پڑھ گئے عقل شعور آگیا تو یہ سوال کریں گے انہوں نے جواب مانگنے شروع کردینے ہیں جو ان سیاستدانوں کے پاس نہیں ہیں لہذا ان کو جاہل رکھو ان سے تعلیم اور بنیادی شعور چھین لو تاکہ یہ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہماری پیروی کرتے رہیں لہذا اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جہاں تک ہوسکے تعلیم حاصل کریں تعلیم صرف سکول کالج یا ڈاکٹر انجنیئر بننے تک نہیں بلکہ کتنا آپ نے سیکھا، سفرکیا شعور اور نالج حاصل کیا اور کس طرح اس علم کو اپنی زندگی پہ لاگو کیا اور تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے ملک کو بدل سکتی ہے۔حکومتوں کو اپنے تمام وسائل تعلیم پہ لگا دینے چاہئیں اس سے ہی ہماری کرپشن ختم ہوگی، سڑکیں، ڈیمز، معیشت اور تمام مسائل حل ہونگے۔ ناکامی کی ایک اور وجہ شخصیت میں منفیت کا ہونا ہے اگر ہر وقت آپ مایوسی کا شکار رہیں اور اپنی اس عادت کی وجہ سے دوسروں کو بھی مایوس کرتے ہیں لہذا اپنے آپ کو مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکالیں اپنی شخصیت کو حقیقت پسندانہ، مثبت اور پسندیدہ بنائیں تاکہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں۔ لوگوں کا حد درجہ محتاط ہونا بھی ان کو آگے نہیں بڑھنے دیتا اگر زندگی میں رسک نہیں لیں گے تو بدلے میں کبھی بڑا منافع حاصل نہیں کرپائینگے, سکون آرام سے باہر نکلیں اور خود کے اچھے سے بہتر اور بہترین کے لئے چیلنج کریں۔ ایک اور ناکامی کی وجہ کہ لوگ اپنی انا کے پجاری ہوتے ہیں گردن میں سریا ہوتا ہے ان کے خیال میں انہوں نے جو کہہ دیا وہی درست ہے باقی سب غلط ہیں ایسی سوچ رکھنے والے کبھی بھی زندگی میں کامیاب نہیں ہوتے، جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے ورنہ اکڑ تو مردے کی پہچان ہوتی ہے۔ جو وقت کے حساب سے اپنے آپ کو تبدیل کرلیتے ہیں وہ ہمیشہ زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔
یہ وہ عادات ہیں جو آپ کو ناکام ہونے پہ مجبور کردیں گی اگر یہ عادات آپ میں ہیں تو ان کو ترک کریں تاکہ زندگی میں کامیابی کی طرف اپنا سفر شروع کرسکیںtweets @KharnalZ
-

بہادر اور نڈر لیڈر عمران خان تحریر: سحر عارف
عمران خان ایک ایسا نڈر شخص جو جس کام کو کرنے کی ٹھان لے پھر کبھی پیچھے نہیں ہٹتا چاہے وہ کڑکٹ کا میدان ہو یا سیاست۔ ایک ایسا نام جس نے صحیح معنوں میں اپنے لوگوں کے اندر شعور پیدا کیا۔ انھیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا سیکھایا۔ جی ہاں یہی ہے وہ مرد مجاہد جو پاکستان کی عوام کو اس وقت ہوش میں لے کے آیا جب ہمارا ملک چوروں اور لٹیروں کے ہاتھوں کافی حد تک لٹ چکا تھا۔
جب پاکستان کے اندرونی دشمنوں نے ملک کی ساکھ کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
وہ وقت تو سب کو یاد ہی ہوگا جب پاکستان قرضوں میں مکمل طور پر ڈوب چکا تھا۔ عوام تو بے خبر سو رہی تھی۔ ایسے میں عمران خان ایک چمکتے ستارے کی طرح ابھرا اور عوام کو آگاہ کیا کہ آپ کے ملک کا پیسہ دونوں دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر باہر کے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے اور اس کام میں کوئی ایک دو نہیں بلکہ چوروں کا پورا ٹبر ملوث ہے۔
پھر ان لٹیروں کو عدالت میں گھسیٹا اور ان پہ مقدمے چلائے گئے۔ نواز شریف سمیت اس کے دیگر ساتھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پھر پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے بھی تمام اثاثے عدالت میں ثابت کر کے خود کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں پاکستان کے لیے اہل ثابت کروایا۔
جب کے اس کے برعکس وہ چور اور لٹیرے جنہوں نے کئی کئی سال ملک پر حکومت کی اقتدار میں ائے وہ اپنے تمام اثاثے عدالت میں ثابت ہی نا کر پائے اور کرتے بھی کیسے سارا مال جو پاکستان کا لوٹا ہوا تھا۔ بھلا چوری کی ہوئی چیزیں بھی کبھی ثابت کی جاسکتی ہیں؟ خیر عمران خان ہی کی بدولت نواز شریف اور اس جیسے دیگر امیر اور طاقتور چور قانون کے شکنجے میں ۔ عدالت نے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔
درحقیقت اس کا سہرا بھی عمران خان کو ہی جاتا یے جس نے اپنے پاکستانی ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے ملک کے دشمنوں کو بےنکاب کیا۔ وہ دشمن جو پاکستان کا کھانے کے ساتھ ساتھ غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ بھی نگل رہے تھے۔ عمران خان اپنے ہم وطنوں کے لیے واحد اور آخری امید بنا۔ اپنے پیارے وطن کی خاطر دن رات ایک کر کے ان چوروں کی اصلیت عوام کے سامنے لایا۔
اپنی قابلیت اور کئی سالوں کی انتھک محنت کے بعد پاکستان کا وزیراعظم بنا۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی ملک کی ترقی کے لیے کوشاں رہے اور یقیناً آگے بھی رہیں گے۔ بے شمار دشمنوں نے راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی پر ہمیشہ ناکام رہے کیونکہ عمران خان اللّٰہ کے سواء کبھی کسی سے نہیں ڈرا بلکہ اپنی بہادری سے ہمیشہ ان چوروں کا مقابلہ کیا اور آگے بھی کرتا رہے گا۔
@SeharSulehri
-

غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ سوم تحریر۔ چوہدری عطا محمد
میرا دل خون کے آنسورو رہا ہے حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اس بدقسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں غریبوں کے بچے تھل اور صحراؤں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں اور امیروں کے کتے جرمن کے بنائے امپورٹڈ بسکٹ کھاتے ہیں منرل واٹر پیتے ہیں گرمیوں میں ائیر کنڈیشنز کمروں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں مہنگے کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔ ان کتوں کیلئے دنیا کے مہنگے ترین شیمپو، وٹامنز خوراک اور ادویات لائی جاتی ہیں ۔ ان کی رہائش غریب کی جھونپڑی کی بے بسی پر مسکراہٹ کے تازیانے برسارہی ہوتی ہے ۔
دوسری طرف معصوم بچوں کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہوتی ہے اس عمر میں یا تو میرے وطن کے غریب بچے محنت مزدوری کرتے ہیں یا سماج دشمنوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں
اور وہ انہیں تخریبی سرگرمیوں میں طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں جیب کترا بناتے ہیں چوری اور ڈاکے ڈالنے کے فن سے آگاہ کرتے ہیں۔ کچھ جرائم پیشہ افراد ان کے ہاتھ پیر توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیںحکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہے لیکن وہ سڑکوں شاہراہوں پر ان بچوں کو بھیک مانگتے, ہاتھ پھیلاتے، گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے نہیں دیکھتی ۔ بے شمار بچے ہر روز کچرے کے ڈھیر پر جھکے اپنا رزق تلاش کررہے ہوتے ہیں گلے سڑے پھل اور ڈبل روٹی کی ٹکڑوں سے اپنے شکم کی آگ بجھا رہے ہوتے ہیں ۔
سخت سردی ہویا گرمی برسات ہویا موسموں کی سنگینی یہ بے پرواہ اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہیں انہیں اپنی ماں کیلئے روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے وہ پرانی چیزیں جن میں شیشہ ، خالی بوتلیں، ردی ، لوہا، پلاسٹک، شامل ہوتے ہیں انہیں بیچ کر چند روپے کما کر اپنے گھر والوں کے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ مائیں توسب کی ہوتی ہیں ان محنت کش بچوں کی بھی مائیں ہیں جو خود انہیں رزق کی تلاش میں گھروں سے رخصت کرتی ہیں اور خود بھی محنت مزدوری کرتی ہیں جب کہ بہت ساری عورتیں مشقت کرتی ہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں چند روپے کے عوض پورا دن کام کرتی گزار دیتی ہیں ۔
ایک طرف بھیک مانگنے والا طبقہ ہے تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں،
وہ بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سال سے دس سال تک ہوتی ہیں ورکشاپوں پر ڈینٹ پینٹ کا کام کر ریے ہوتے ہیں
ٹرین کا سفر ہویا بسوں کا معصوم بچے ہر شہر میں چائے اور دوسری کھانے پینے کی اشیاء بیچتے ہوئے نظر آئیں گے بجے گاڑیوں کے پاس آکر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں اور مدد کے منتظرہوتے ہیں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو انہیں دھتکاتے نہیں ہیں ورنہ زیادہ تر وہ ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہتے ہیں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بھی درد ناک واقعات سامنے آتے ہیںگھروں میں کام کرنے والے ننھے معصوم پھول جیسے بچوں پر معمولی سی غلطی کی بنا پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ہمارے ملک میں قانون نام کا ایک خوبصورت پرندہ ہوا کرتا تھا
جو زمانہ ہوا اڑ چکا ہے کسی نے بھی پکڑنے کی کوشش نہیں کیں اگر حکومت لوگوں کے جینے کیلئے اسباب پیدا کردے تعلیم اور انصاف مفت فراہم کرے، تو کوئی بچہ نہ تو کچرے کی ڈھیر سے گلی سڑی غذا سے اپنا پیٹ بھرے گا اور نہ ہی تخریب کاروں کے ہتھے چڑھے گا۔ آج کے بچے پاکستان کا مستقبل ہیں ۔
خدارا ! اپنے مستقبل کو بچا لیجئے
@ChAttaMuhNatt
-
جلد کی حفاظت تحریر : زارا سید
چمکتی ہوئی جلد کو برقرار رکھنے کے قدرتی طریقے ۔
جلد کے تازگی اور چمک برقرار رکھنے کے لیے اس کی حفاظت اور اچھی خوراک بہت ضروری ھے ۔ روزانہ نہانے کی عادت بنائیں ۔ غسل کا وقت محدود کریں۔ گرم پانی اور زیادہ ٹائم شاور آپ کی جلد سے چکنائی کو ختم کر دیتے ہیں۔ … صابن سے پرہیز کریں۔ صابن آپ کی جلد سے چکنائی ختم کر کے اسے خشک اور سخت کر سکتا ہے۔ ….اچھی کمپنی کے باڈی واش اور فیس واش استعمال کریں۔ جلد کی اچھی طرح صفائی کے بعد کام کاج کے دوران اپنے چہرے کو بار بار نہ چھوئیں ۔ ایک عام اصول کے طور پر ، ایک بار جب آپ چہرے کی صفائی کر لیں اور حفاظتی کریمز لگا لیں تو ، اپنے ( زیادہ تر گندے ) ہاتھ اپنے چہرے سے دور رکھیں۔ جلد پر بار بار چھونے سے دانے ، کیل مہاسے ، یا کوئی زخم والی جگہیں – مسئلے کی خرابی کا سبب بنتی ہیں اور بالآخر انفیکشن اور نشانات کا باعث بن سکتی ہیں۔”
کلینزنگ:
روزانہ کسی اچھے کلینزر سے جلد کی کلینزنگ ضرور کریں اس سے جلد میں موجود دھول مٹی اور فالتو چکنائی صاف ھو جاتی ھے ۔ چکنائی والی جلد سے چہرے پر کیل مہاسے ھو جاتے ھیں جلد کی صحیح دیکھ بھال کے معمولات اور اچھی مصنوعات کے ساتھ ، یہ مسائل کم پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔
موئسچرائزر
نہانے کے بعد گیلی جلد کو اچھی طرح موئسچرائز کریں
کسی بھی اچھی کمپنی کا موئسچرائز لگائیں جو آپ کی جلد کو نمی دے۔سن اسکرین:
سردی ھو یا گرمی سورج کی شعاعیں آپ کی جلد کے لیے بہت نقصان دہ ھیں ان سے چہرے پر جھریاں ، دھبے خشکی اور کئی بیماریاں ھو سکتی ھیں جن میں مختلف قسم کی الرجی اور کینسر بھی شامل ھے۔
گھر سے باھر جاتے وقت کسی بھی اچھی کمپنی کا سن اسکرین استعمال کریں۔ تاکہ آپ کے ھاتھ چہرہ اور گردن سورج کی تیز شعاعوں سے محفوظ رہ سکیں۔ گھر میں رھنے والی خواتین کو کچن میں کام کے دوران بھی سن اسکرین استعمال کرنا چاھیے۔باقاعدگی سے ورزش:
چہل قدمی ، ایروبک اور یوگا آپ کے خون کو متحرک کرے گا اور آپ کے پورے جسم کی صفائی کے عمل کو بھی تیز کرے گا۔ ورزش کے بعد آپ اپنے چہرے پر چمک دیکھیں گے ۔ اگر جم نہ بھی جا سکیں گھر کے اندر بھی تیز چہل قدمی کر سکتے ھیں ۔بھرپور نیند:
جلد کی خوبصورتی کے لیے بھرپور نیند بہت ضروری ھے رات دیر تک جاگنے سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن سکتے ھیں۔
خوراک:
پھل، سبزیاں، دودھ اور دودھ سے بنی ھوئی اشیاء آپ کی جلد کو خوبصورت اور چمکدار بناتے ھیں ۔ خون کو صاف رکھنے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ کریں۔
رنگ گورا کرنے والی کریمیں:
رنگ گورا کرنے والی فارمولا کریمیں کبھی استعمال نہ کریں یہ وقتی رنگ گورا تو کر دیتی ھیں لیکن جلد کے لیے بہت نقصان دہ ھیں یہ کینسر جیسی جان لیوا بیماری کا باعث بن سکتی ھیں۔
وٹامن سی کا استعمال کریں:
چمکتی ہوئی جلد کے لیے سب سے سادہ اور آسان چیزوں میں سے ایک ، وٹامن سی ہے جو کہ جلد کی تمام اقسام پر کام کرتا ہے یہاں تک کہ جلد میں چمک اور تازگی لاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق: وٹامن سی ہائیپر پگمنٹیشن کو ختم کر سکتا ہے ، ماحولیاتی جارحیت سے بچا سکتا ہے ، جلد کی رنگت کو روشن کر سکتا ہے ، اور کولیجن اور ایلسٹن کی پیداوار کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ چمکتی ھوئی جلد کے لیے بہت ضروری ھے۔
چینی کا استعمال:
وہ کھانے کی چیزیں جن میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ھوتا ھے ان سے پرھیز کریں مثلاً وہ کھانے کی چیزیں جو پیک ، پروسیسڈ ، اور زیادہ چینی والی ھیں۔ زیادہ چینی والے پروسیسڈ فوڈز جلد کی سوزش کا سبب بن سکتے ہیں ، جس کی وجہ سے خارش اور کئی دوسری جلد کی بیماریاں ہوتی ہیں ، اگر اپ اپنی زندگی میں سے کوئی ایک کھانے کی چیز ختم کر سکتے ھیں تو چینی کو ختم کر دیں جیسا کہ ایک حالیہ تحقیق نے ہائی شوگر فوڈز اور مہاسوں کے ساتھ ساتھ سر سے پیر تک کی عام سوزش کے درمیان تعلق کی تصدیق کی ہے ۔
تمباکو نوشی:
تمباکو نوشی آپ کے جسم پر سر سے پاؤں تک نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ جہاں تک جلد کی چمک کا تعلق ہے ، تمباکو نوشی جلد کو آکسیجن کی فراہمی کو محدود کرتی ہے ، ڈاکٹرز کے مطابق فری ریڈیکلز کو نقصان پہنچاتی ھے اور جلد کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھاتی ہے۔
میک اپ ٹولز:
میک اپ برش ، بیگ اور سپنج بنیادی طور پر چکنائی اور گندگی کے پھیلاؤ کی بنیاد ہیں – یہ سب آپ کی چمکتی ہوئی جلد کو خراب کر سکتے ھیں ان چیزوں کو صاف رکھیں! اپنے تمام میک اپ ٹولز کو باقاعدگی سے صاف کریں ، کم از کم ہر دوسرے ہفتے ۔
گھریلو ٹوٹکے:
اکثر جلد کی حفاظت کے لیے گھریلو ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ھیں جو ھماری جلد کے لیے تبھی فائدہ مند ھو سکتے ھیں اگر ان کا صحیح استعمال کیا جائے۔
سکن کیئر کی بے تحاشا ترکیبیں آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں گے ایسے بے شمار چینلز ھیں جو رنگ گورا کرنے اور جلد کی حفاظت کے طریقے بتا رھے ھیں ان پر عمل کرنے سے پہلے یقین کر لیں کہ بتانے والا ایکسپرٹ ھے
کسی اناڑی کے مشورے سے اپنی سکن کو ضائع ھونے سے بچائیں۔مساج:
جلد پر مساج کرنے سے دورانِ خون میں روانی آجاتی ہے، اور دورانِ خون کی روانی جِلد کو خشکی اور انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔
ھفتے میں کم از کم دو مرتبہ روغنِ زیتون یا روغنِ بادام سے پورے جسم کی مالش یا کم از کم چہرے، ہاتھوں اور پیروں پر مساج کریں، سردیوں میں جلد کی صفائی کا خیال خاص رکھیں۔سردیوں میں جلد کا خشک ہونا عام سی بات ہے لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو اس بھی ایک مسئلے کی صورت اختیار کر سکتی ہے ۔
سرد موسم سے حفاظت؛
سرد موسم کے آغاز سے ہی ہرے پتوں والی سبزیوں، رسیلے پھلوں اور خشک میووں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جسم پر اچھے موئسچرائزر اور لوشن کا استعمال بھی نہایت ضروری ہے ۔تاکہ جلد پھٹنے اور بے رونق ہونے سے محفوظ رہے۔ سردی کے موسم میں جلد اور ہونٹوں کے پھٹنے ، خارش بالوں میں خشکی اور بال گرنے کی شکایات عام ہو جاتی ہیں ۔ اس لیے احتیاط بہت ضروری ھے۔
پانی:
جلد اور صحت کے لیے پانی سے بہترین کوئی دوا نہیں ، پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال جلد کی نمی برقرار رکھتا ہے ۔ خشک جلد والے افراد کو سرد موسم میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے ساتھ ہی وہ موسمی پھل اور سبزیاں بھی زیادہ کھانی چاہئیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو ۔
ٹویٹر : @Oye_Sunoo