Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اختلاف مگر احترام کے ساتھ تحریر: سیدہ بنت زینب

    اختلاف مگر احترام کے ساتھ تحریر: سیدہ بنت زینب

    ‏**
    ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر ایک مختلف ہے، چاہے وہ کسی ملک میں بھی پروان چڑھے، ان کے عقائد، ان کی جسمانی شکل، ان کے دوست اور کنبہ، اور یہاں تک کہ بہت سارے مضحکہ خیز مضامین کے بارے میں ان کی رائے جو آج کی دنیا کو متاثر کررہی ہے وہ بھی الگ ہے. ہم سب کی ایک رائے ہوتی ہے اور بہت سے لوگ اس رائے سے متفق ہو سکتے ہیں یا نہیں بھی. یہ معمول کی بات ہے کیونکہ ہمارے عقائد اور آراء اس بات کی نمائندگی کرتی ہیں کہ آپ دنیا کو اپنی دو آنکھوں اور کانوں سے کیسے دیکھتے اور سنتے ہیں. اگر آپ کے اردگرد کے لوگ ایک دلچسپ موضوع کے بارے میں ایک ہی رائے رکھتے ہیں تو رائے کا اظہار کرنا اچھا ہو سکتا ہے. تاہم، اگر کسی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایک یا بہت سے لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں، تو آپ کے پاس ایک انتخاب ہے، آپ یا تو گفتگو کو چھوڑ سکتے ہیں اور اس شخص کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ایک مختلف موضوع کی طرف بڑھ سکتے ہیں، حالانکہ آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے. دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ ان کی رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اپنا معاملہ بیان کر سکتے ہیں.
    کسی ایسے شخص کے مابین شروع ہونے والے تنازع کو روکنے کے لیے جو آپ کی رائے سے ذاتی طور پر متفق نہیں ہے، سمجھ لیں کہ دنیا میں ہر ایک کے مختلف نظریات ہیں اور بہتر ہے کہ ایسے مضحکہ خیز موضوع سے گریز کیا جائے جو رائے کی تقسیم پیدا کرے اور لوگوں کی رائے کے احترام سے باہر لوگوں کے درمیان بحث شروع کردے.
    اختلاف ہر کسی کا حق ہے اور جواب دینا یا نہ دینا آپ کی مرضی. کسی کو اختلاف سے نہیں روکا جاسکتا، اگر اختلاف نہ ہو تو وہ اندھی تقلید بن جاتی ہے. بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف تہذیب کے دائرے میں کیا جائے. اختلاف سے کسی کی دل آزاری نہ ہو لیکن یہ آجکل سوچتا ہی کون ہے…..؟
    سوال صرف یہ ہے کہ آپ رائے کے اُس اختلاف پر کسی کو بھی گالی کیسے دے سکتے ہیں جس رائے پر دونوں میں سے کسی ایک کے غلط ہونے کا امکان موجود ہے کیونکہ نعوذ باللہ نہ آپ ولی ہیں نہ ہی کوئی اور انسان.
    میری شدید خواہش ہے کہ لوگوں کو اختلاف کرنے کا سلیقہ آ جائے….!
    محبت، پیار، احترام سے بات کرنے لگیں، نفرت، گالی، بد تہذیبی سے جان چھڑوا کر، عقل و فہم اور دلیل سے بات ہونے لگیں….!
    دوسرے لوگوں کی رائے کا احترام کرنا بہت ضروری ہے یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کوئی بھی کامل نہیں ہے اور ہر انسان مختلف سوچتا ہے. دوسروں کی رائے کا احترام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی رائے کو غلط سمجھیں. دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں زندگی اور لوگوں کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملتی ہے.
    دوسرے لوگوں کو سمجھنے سے ہمیں عاجز رہنے اور کھلے ذہن رکھنے میں مدد ملے گی. میرے خیال میں دوسرے لوگوں کی رائے کو سمجھنا بہت ضروری ہے. الحمدللہ جب سے میں نے سید اقرار الحسن کی باتوں پر سوچنا اور عمل کرنا شروع کیا ہے تب سے میں نے ہر لحاظ سے مثبت سوچنا شروع کر دیا ہے کہ ہر کوئی مختلف ہے اور مجھے احترام کرنا ہے کہ دوسرے لوگ کیسے سوچتے ہیں، اور میری وجہ سے کسی کی دل آزاری نا ہو. اختلاف کرنا چاہیے مگر پورے احترام کے ساتھ.

    ‎@BinteZainab33

  • پاکستان عزم عالی شان تحریر فرزانہ شریف

    پاکستان عزم عالی شان تحریر فرزانہ شریف

    ‏پاکستان سے باہر آکر اپ دنیا کی ہر سہولت انجوائے کرتے ہو ہر قسم کی آسائش میسر ہوتی ہیں لیکن جب جب پاکستان کے خاص دن ہوتے ہیں دل اداس سا ہوجاتا ہے سچ میں دل بھر بھر آتا ہے چاہے وہ عید کا تہوار ہویا قومی تہوار ۔۔۔شب قدر ہو یا شب برات ۔رمضان مبارک ہو یا پھر 14 اگست ایک ایک واقعہ نظروں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگ جاتا ہے پھر اپنے وطن کی بہت یاد آتی ہے اس معاملے میں شائد میری طرح ہر اوورسیز پاکستانی جذباتی ہوجاتا ہوگا لیکن پاکستان میں رہنے والوں کو کیا پتہ یہ دن کتنے نایاب ہوتے ہیں اوورسیزپاکستانیوں کے لیے ۔۔ بچپن میں شب برات پر ایسے ہی خوشیاں منائی جاتی تھیں جیسے عید پر ۔اور عید پر نئے کپڑوں اور جوتوں کی خوشی ۔اور بےچینی سے صبح کا انتظار کرنا کہ کب صبح ہو اور ہم نئے کپڑے جوتے اور چوڑیاں پہن کر سچ دھج سے سے تیار ہوکر مزیدار سے کھانے انجوائے کریں اب ہر دن بچپن کی عید کے جیسا ہے لیکن وہ سچی خوشیاں ناپید ہوگی ہیں ۔۔!!
    14 اگست والا دن بھی میرے لیے کبھی بھی عید کے دن کی خوشی سے کم نہیں ہوا کرتا۔سکول لائف میں 14 اگست کے حوالے سے کافی پروگرامز میں حصہ لیا کرتی تھی دو ہفتے پہلے سے ہی فنکشن کی تیاری شروع کردی جاتی تھی ایک گہماگہمی کا سا ماحول ہواکرتا تھا سکول لائف میں میرے بھائی جان مجھے تقریر کرنے کی پریکٹس گھر میں کروایا کرتے تھے جو میں نے سٹیج پر کرنی ہوتی تھی چودہ اگست کے حوالے سے ۔جو سکول میں فنکشن مرتب کیا ہوتا تھا اور جب سکول کالج سے فری ہوئی تو سلسلہ رکا نہیں بہت محبت سے گھر جھنڈیوں سے سجانا سارا دن بس اپنے وطن کے ترانے سنتے۔ اور گانے میں گزر جاتا تھا ایک کیفت سی دل ودماغ میں چھائی ہوتی تھی اپنے وطن کی محبت میں ۔۔اسے گوروں کا ملک یا پردیس تو نہیں کہوں گی کیونکہ یہاں ہم settled ہیں کافی عرصے سے ۔۔۔ تو یہ بھی میرا وطن ہے جیسے پاکستان ہے ۔۔۔!!تو بات کررہی تھی اپنے مذہبی اور وطن کے تہواروں کی تو ہر سال سوچتی بس اب ایک تہوار تو اپنے وطن جاکر کروں لیکن اتنا انسان اس میٹھی جیل میں آکر قید ہوجاتا ہے کہ چاہ کر بھی وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے جو لوگ پاکستان رہتے ہیں انھیں شائد احساس ہی نہیں ہوگا کہ اپنا وطن کتنی بڑی نعمت ہے اور اگر تاریخ پڑھیں تو پھر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے اباواجداد نے کتنی مشکل سے یہ وطن ہمیں پلیٹ میں سجا کر دیا ہے اللہ کا کروڑ دفعہ شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں پیارا پاکستان دیا ہے اللہ میرے وطن کو شاد رکھے دشمن کی میلی آنکھ سے محفوظ رکھے۔۔آمین
    وطن سے دور ہونے کی وجہ سے ہم 14 اگست کے حوالے سے منقد تقریبات میں تو شامل نہیں ہوسکتے لیکن سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا پر ہی ہم اپنی تشنگی کم کرسکتے ہیں سب اوورسیز پاکستانی ۔ملی نغمے سن کر دیکھ کر۔۔۔!!
    لوگوں کا جوش وخروش اپنے وطن سے محبت کا انداز ایک نئی امید پیدا کرتا ہے کہ ملک رہے سلامت ۔ ذندہ یار صحبت باقی۔عیدیں تہوار ہزاروں ۔۔!!بہت قومی اور اسلامی تہوار آئیں گے کبھی تو ہم بھی ان میں شامل ہوں گے ان شاءاللہ بس جذبہ سلامت ہونا چاہئیے ۔۔!

  • جیکب آباد میں قانون کی کمزور رٹ تحریر عبدالرحمن آفریدی

    ‏جیکب آباد میں قانون کی کمزور رٹ اور بے خوف مجرم
    عدل و انصاف اور سزا جزا کے عمل سے معاشرے میں بہتری آتی ہے۔جب تک معاشرہ عدل و انصاف پر قائم رہے گا انسانی اقدار عروج پر اور انسانیت اپنے اعلی معیار پر قائم رہے گی اور جب کبھی معاشرے میں اجتماعی روابط و معاملات میں موازین حیات کو بالائے طاق رکھ کر ظلم و زیادتی اور ناانصافی کو اپنایا جائے ہوگا تو انسانی معاشرہ تباہی و تاراجی کا شکار ہوجائے گا چونکہ عدل و انصاف کسی بھی انسانی معاشرے کا حسن اور اس کی بنیاد ہے،جب ظلم اور جرم کرنے والے کو سزا نہیں ملتی تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے
    جیکب آباد میں دن بہ دن امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا اہم سب قانون کی رٹ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ جرائم کرنے والوں کی قانون کی گرفت سے آزادی ہے جیکب آباد میں قتل اور منشیات کے کیسوں میں گرفتار ملزمان چند ہی دنوں میں جیل سے آزاد ہو جاتے ہیں اور جرم کرنے والے جب جلد جیل سے آزاد ہو کر باہر آتے ہیں تو شریف شہری،کاروباری طبقہ مزید خوف کو شکار ہو جاتے ہیں قانون پر انکا اعتماد مزید کمزور پڑ جاتا ہے جیکب آباد میں ایسے متعدد واقعات ہیں جن میں ملزمان کومنشیات سمیت پولیس گرفتار کرتی ہے اور پھر وہی ملزمان چند دنوں میں جیل سے آزاد ہو جاتے ہیں،اور پھر سے انہی کاموں میں لگ جاتے ہیں کیونکہ اب انکا پکڑے جانے کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور جیل سے آزاد ہونے کے بعد بلا خوف غیر قانونی کام اور جرم کرتے ہیں،پولیس ملزمان کے جلد آزاد ہونے کا ذمہ دار جڈیشری کو قرار دیتی ہے جبکہ جڈیشری کا موقف ہوتا ہے کہ کیس کمزور بنایا جاتا ہے جس سے مجرم کو فائدہ ہوتا ہے اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پولیس مجرم گرفتار کرکے اپنی کارکردگی بھی دکھاتی ہے کیس داخل کرتی ہے لیکن کیس کی تفتیشی رپورٹ اور عدالت میں بیان مختلف ہوتا ہے اس میں استغاثہ کا کردار بھی اہم ہوتا ہے لیکن استغاثہ بھی مصلحت کا شکار ہوجاتا ہے جب دلائل مظبوط نہیں ہونگے تو مجرم کو اس کا فائدہ ہوگا جس پرمجرم کو کیس میں جلد ہی ضمانت یعنی آزادی مل جاتی ہے،اس سلسلے میں جیکب آباد بار کے نوجوان وکیل فرحان پٹھان سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ پولیس کی تفتیش کمزور اور استغاثہ کے درست کام نہ کرنے کی وجہ سے بھی مجرم کا فائدہ ہوتا ہے پولیس کی تفتیش پر عدالت میں کیس چلتا ہے پولیس کے منشیات کے 90فیصد مقدمات حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے ایک سوال پر انکا کہنا تھا کہ اگر پولیس لکھ کر آئے کہ ایسا کوئی واقع نہیں ہوا تو پھر عدالت کے پاس کیس چلانے اور کاروائی کا جواز نہیں رہتاانہوں نے تسلیم کیا کہ جھوٹے کیس بنانے اور جھوٹی گواہی پر سزا کے حوالے سے جیکب آباد میں ایسی کوئی مشق یا مثال نہیں ملتی اس حوالے سے قانون موجود ہے انہوں نے بتایا کہ تھانے پر 23رجسٹر ہوتے ہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ نہیں مشیر نامہ بھی سادہ کاغذ پر ہوتا ہے جبکہ اسکا رجسٹر ہونا چاہئے،تھانے پر ملزمان سے برآمد کی گئی پراپرٹی مال خانے میں رکھی جاتی ہے اور اسکی تفصیل کے لئے ایک الگ رجسٹر ہوتا ہے۔
    جیکب آباد میں تھانے پر حملے کے مقدمات بھی سی کلاس میں خارج کر دئے جاتے ہیں جس کی کئی مثالیں موجود ہیں،تھانے پر ایک سو سے زائد ملزمان کے خلاف پولیس مقدمہ درج کرے اور پھر چند ہی روز میں اس کیس کا سی کلاس میں کر دیا جائے پولیس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اگر ایسا کوئی واقع نہیں ہوا تو کیس کیوں داخل کیا عدالت کا وقت قیمتی ہے ایسا مقدمات کیوں درج کئے جارہے ہیں جنکو جلد ہی ختم کرنا پڑے ایسے اقدامات سے جرم کرنے والوں کے حوصلے بڑھتے ہیں اور قانون اور قانون نافذکرنے والوں کا مذاق بنتا ہے اسی وجہ سے جیکب آباد میں قانو ن کی رٹ کمزور ہو گئی ہے اور مجرم بے خوف ہو کر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں وارداتیں کررہے ہیں،مختلف کیسوں میں مطلوب ملزمان شہر میں سر عام گھومتے ہیں پولیس گرفتار نہیں کرتی،افسران کو کارکردگی دکھانے کے لئے پولیس اہلکار تصویر بنا کر گرفتاری ظاہر کرتے ہیں،کارکردگی بھی ہوجاتی ہے افسران بھی خوش ہوجاتے ہیں اور مفرور ملزمان کی طرف کھاتا بھی بن جاتا ہے اس طرح پولیس چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری کرکے اپنی جیبیں گرم کرتی ہے۔
    جب تک قانون سب کے لئے برابر نہیں ہوگا،پولیس میں مداخلت ختم کرکے جعلی مقدمات کا سلسلہ بند نہیں کیا جائے گا عدل وانصاف کے لئے سزا و جزا کے عمل کو اختیا رنہیں کیا جاتا پر امن اور ترقی یافتہ خوشحا ل معاشرے کا قیام ایک خواب ہی رہے گا،پولیس کی تفتیش کو بہتر بنایا جائے تاکہ گرفتار مجرم کو فائدہ نہ ہو استغاثہ کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں جب پولیس استغاثہ اپنا کرداد بہتر طریقے سے ادا کریں گے تو پھر جرم کرنے والا دوبارہ جرم کرنے کے لئے آزاد نہیں ہو سکے گا اور جب جرم کرنے والے کوقانون کی گرفت سے آزادی آسانی سے ملنے کا یقین ختم ہو جائے گا تو پھر جرائم میں یقین کمی آئے گی اور جرم کرنے والا جرم سے پہلے کئی بار سوچے گا۔

    03337346416
    ‎@journalistjcd

  • 14اگست 1947 تحریر صبا خان

    14اگست 1947 تحریر صبا خان

    موسم میں بڑی گھٹن سی تھی
    گرم لو کا راج تھا ہر سُو ،بادل بھی آسمان کو يوں گھیرے تھے جیسے ابھی برسنے کو ہوں مگر مجال ہے جو اتنی ہمت کر
    سکے اس گرمی کے آگے تو بےبس ہی ہو جیسے
    پھر دل کے موسم کے ساتھ ساتھ جب باہر کا بھی موسم اس قدر پیچیدہ اور گھٹن زدہ ہو تو کیا
    كہنے
    کئی دنوں سے سرگوشیاں سی چل رہی تھی لوگ کچھ کبھی پُرامید اور کبھی مایوسی کے بھنور میں ڈولتے دکھائی دیتے تھے
    کبھی بیٹھے بٹھائے انجانی سی خوشی میں مدھوش ہونے لگتے تو کبھی انجانا سا دُکھ منہ چرانے لگتا
    اپنے حقوق کی خودمختاری کا سوچ کر دل شاد ہونے لگتا وہی اپنے گھر اپنی زمین سے الگ ہونے کا غم ستانے لگتا
    بڑی ہی عجیب سی کیفیت سے دو چار تھی فضا
    ایسے میں خوف کا ہر سُو طاری رہنا
    حسد و نفرت میں ڈوبے خیر خواہ بھی دشمن بنے بیٹھے تھے
    کئی لوگ بڑے عزیز دل کے قریب سے جن سے بڑا پیارا دل کا تعلق تھا بغیر مذہبی عقیدت کے دلوں میں احترام لیے ساتھ ساتھ رہتے اور اسی طرح سے کئی ایک دوسرے کے خون کے بھی پیاسے
    صرف تعصب کی بنیاد پر جان کے دشمن ٹھہرتے
    دنیا ہے رنگ رنگ کے لوگ یہاں
    زلالت میں گھرے پڑے حق رائے تک کی آزادی سے محروم کچھ اور کچھ نا انصافی کے ڈسے ہوئے
    کسی کو اقلیت کی مار تو کوئی اکثریت کے غرور میں اکڑے
    بیروزگاری زچ کرنے کی حدوں کو بھی پار کیے ہوئے
    اور کہیں عزت غیر محفوظ
    تعلیم سے محروم
    مذہبی تہواروں کا خون کی ہولی کھیل کے آنا اور کتنے ہی گھروں کا اُجڑ جانا ثابت ہوتا
    ایسے میں ایک فرشتہ پرور کا بیڑا پار کرنے کا عزم اور محنت کتنے ہی دُکھی دلوں کی مسکراہٹ کی وجہ بنا
    اُمید بنا
    ایک انتظار تھا شدید انتظار کہ آج کی صبح کوئی نیا پیغام خوشی کا پیغام لانے کو ہے جیسے
    گلی کے ہر ،نکڑ پہ حقا پیتے ہوئے بزرگوں کا ہجوم سا آیندہ دنوں کے تبصرے میں مصروف دکھائی دیتا
    بچے آپس میں چپکے چُپکے نئے گھروندے بنانے کے منصوبے بناتے ہوئے سر گرم رہتے
    بس کچھ یوں ہی گرم سے دنوں میں گرم گرم سی سر گرمیاں چلنے لگی
    با ظاہر آسان دکھائی دینے والا کام انتہا کا مشکل کٹھن لگنے لگا جب الوداع کہنے کا وقت قریب آگیا
    بادلوں میں بھی حبس عروج پہ آنے لگا گرم لو میں بھی اضافہ ہونے لگا سورج بھی شدت بھڑائے غروب ہونے کے قریب آگیا
    ایسے میں اضطرابی میں مزید اضافہ ہونے لگا
    سارا جسم گو کے کان بن کر سننے کی کوشش میں لگ گیا ہو
    ہر کوئی بےچین دل اور خالی سی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگا کہ کہیں سے آزادی کے پروانے کی نوید سنائی دے
    کچھ لپیٹے کچھ اٹھائے کچھ چھپائے کچھ چھوڑے ہوئے کسی پکار کے منتظر کھڑے
    جیسے کسی اشارے کے ملتے ہی دوڑ پڑے گے اور مڑ کر کبھی نہیں دیکھے گے
    اپنی ساری اذیتیں درد دُکھ نکال کے پھینکنے کو ہے قرار
    سورج بھی ڈھل گیا
    بادل بھی رنگ بدلے سُرخ سا آسمان کیے اور بھی خوف کا منظر پیش کرنے لگا
    کچھ لمحوں کا انتظار دل منہ میں کھینچ کر لانے لگا کہ اچانک ہی فضاء میں
    صدائے گونجنے لگی
    پاکستان کا مطلب کیا
    لا اللہ اِلا لا
    خوشی کا ایسا منظر
    دل دہلانے کو کافی تھا
    مارے خوشی کے ہلچل مچ گئی گھروں کے بجائے اسٹیشن کا رخ کیا گیا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے لڑتے مرتے چلتے گئے کتنے ہی محبت کرنے والے بچھڑ گئے کتنے ہی اپنے قربان ہوتے چلے گئے مگر قافلہ چلتا رہا کارواں بنتا گیا
    آزادی جیسی نایاب نعمت کو پا کر مسرور ہوئے خون کے رنگوں میں بھی مستقبل کا رنگ ذہن نشین کیے ہاتھ تھامے نئے آشیانے بسانے کو نہ روکنے والے سفر پہ قدم جمائے رہے
    کتنی ہی قربانیوں کا سہرا سجائے آخر کار لاہور پاکستان کی سر زمین پہ لوٹے ٹوٹے خالی دامن کرچیوں سے بھرے دل لیے پر امید کل کے خواب لیے اُترے
    اور نئی زِندگی نئی آزادی کو خیر مقدم کہا

    ایسی صبح پھر نہ آئی
    ہم آزاد تو ہیں مگر آزادی کے مطلب سے انجان رہے
    ہم کیا جانے کہ کیسی تھی وہ ۱۴ اگست کیسی تھی وہ وطن کی چاہ
    محبت
    کیا تھی قربانی
    کیا تھا انتظار
    گلیوں میں شور مچاتے آتش بازی کی نظر ساری رات کرنے کا نام کب تھا آزادی
    وقت کے ساتھ مطلب بدل گئے
    قوم سے ہم قومی تعصب میں بٹ گئے
    ہم آزاد ملک میں رہ کر اپنے نفس کے غلام بن گئے
    ہمیں کیا معلوم آزادی کی قیمت قدر و منزلت
    جذبے سے تہوار بن گیا
    سجاوٹ میں دکھاوے میں نفس کے قیدی ہم
    کہتے ہیں ایک دوسرے کو
    آزادی مبارک
    اگست 14 ۔مبارک

  • جمہوری نظام ترقی کی ضمانت ہے تحریر:شمسہ بتول

    جمہوری نظام ترقی کی ضمانت ہے تحریر:شمسہ بتول


    جمہوریت عام طور پر قدیم یونانیوں سے وابستہ ہے۔ 18 صدی کے دانشوروں کے مطابق یونانیوں کو مغربی تہذیب کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کا لفظ دو یونانی الفاظ ڈیموس جسکا مطلب لوگ اور کراتوس
    جسکا مطلب اصول کے ہیں کا مجموعہ ہے۔ پھر جیسے جیسے لوگوں میں شعور اور آگاہی پھیلتی گٸی ویسے ویسے جمہوریت کا نظام بھی دنیا میں پھیلتا گیا ۔ لفظ جمہوریت کی مختلف تعاریف بیان کی گٸی ہیں لیکن سادہ الفاظ میں جمہوریت کا مطلب ہے کہ عوام کی حکمرانی یعنی کے عوام اپنی مرضی سے آزادٸ راۓ کے ساتھ اپنے نماٸندے چن سکتی جو کہ عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتے اور ریاست کا نظم و نسق چلاتے آسان لفظوں میں کہا جاۓ تو یہ کہ جمہوریت ایک سیاسی نظم و نسق کا نام ہے۔
    ” میریئم ویبسٹر “ نے جمہوریت کی تعریف کی ہے کہ "ایک ایسی حکومت جس میں اعلیٰ طاقت لوگوں کے سپرد ہوتی ہے اور وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر نمائندگی کے نظام کے ذریعے عام طور پر منعقد ہونے والے انتخابات میں شامل ہوتے ہیں۔” کیمبرج ڈکشنری“ کے مطابق ، جمہوریت "لوگوں کے درمیان آزادی اور مساوات پر یقین ہے یا اس عقیدے پر مبنی حکومت کا نظام ہے ، جس میں اقتدار یا تو منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے یا براہ راست عوام کے پاس۔
    خواندگی اور ناخواندگی یہ جمہوریت پر اثرات مرتب کرتی ہے۔
    کم ووٹر ٹرن آؤٹ ایک مسئلہ ہے جو ان ریاستوں میں زیادہ ہے جن میں شرح خواندگی کا تناسب کم ہے یا وہ معاشی اور معاشرتی لحاظ سے پسماندہ ہیں اور اس ناخواندگی اور لا شعوری کے جمہوریت پر نقصان دہ اثرات بھی ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Centre) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ، اس دہائی میں او ای سی ڈی ممالک کے درمیان سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کی شرح بیلجیم (87.2) ، سویڈن (82.6) اور ڈنمارک (80.8) میں ہے۔ اور یہ وہ ممالک ہیں جہاں شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ اس کے برعکس ، پاکستان میں حال ہی میں ووٹروں کی تعداد 58 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں شرح خواندگی بھی 60 فیصد سے کم ہے۔ شرح خواندگی اور ووٹر ٹرن آؤٹ کے درمیان براہ راست تعلق ہے اگر معاشرے میں ناخواندگی کی شرح زیادہ ہو تو ایک قابل قیادت کا انتخاب بہت حد تک ناممکن ہوتا ہے کیونکہ لوگ زات پات، رنگ و نسل اور برادری یا دیگر تعصبات کی بنیاد پر ووٹ دیتے انہیں یہ علم اور شعور ہی نہیں ہوتا کہ ان کا ووٹ ان کے اور اس قوم کے مستقبل کا زمہ دار ہے۔وہ ان تعصبات سے نکلنا ہی نہیں چاہتے انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ووٹ کی کیا اہمیت ہے۔
    اسی طرح شرح خواندگی کا قیادت کے معیار کے ساتھ براہ راست تعلق ہے سیاسی رہنما کچھ نہیں بلکہ ہماری طرح ہی اس معاشرے کے ارکان ہیں جو تمام اچھی اور بری خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہمیں معاشرے کے افراد میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہو گی تعصبات اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہو گا اور ہر فرق اور تعصب سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا تبھی ایک صحیح اور قابل قیادت کا انتخاب ممکن ہو گا۔ سمجھداری ، ذہانت ، وژن ، دور اندیشی ، وسیع النظری ، پختگی یہ خصلتیں صرف ایک تعلیم یافتہ اور اچھی طرح سے تیار معاشرے میں تیار ہوتی ہیں ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کی پارلیمانوں کے ارکان کے درمیان موازنہ واضح طور پر اسی حقیقت کو ظاہر کرے گا۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے اراکین پارلیمنٹ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ کچھ خاص تعلیمی شعبوں میں بھی ترقی یافتہ ہوتے
    ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں میٹرک پاس بھی جعلی ڈگری لےکر اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے اور انہیں وہاں تک پہنچانے میں کہیں نہ کہیں ہماری ووٹ سے خیانت بھی ہوتی اور کچھ لوگ تو اثرو رسوخ کا استعمال کر کے یا ووٹ خرید لیتے یا چوری کر لیتے تو پھر اس معاشرے میں جمہوریت کیسے پروان چڑھے گی
    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے ہمارے ہاں لا شعوری کا یہ عالم ہے کہ ہم سیاستدانوں کو خدا سمجھ لیتے کہ بس یہ ہمارے علاقے کا ہے یا یہ ہماری زات کا ہےیا یہ اتنا بڑا جاگیر دار ہے یا فلاح وزیر کا یا فلاں چوہدری کا بیٹا ہے تو اسی لیے اسے ہی ووٹ دینا ہے یہ امانت میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے ۔ اور چند پیسوں کی خاطر ووٹ بیچ دینا تو پھر اس معاشرے میں جمہوری نظام کیسے قاٸم ہو گا۔ وہاں پر تو پھر کرپشن اور لاقانونیت ہی قاٸم ہو گی تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی بجاۓ مزید پسماندگی کی طرف جاۓ گا۔ اور الیکشن کے دنوں میں نام نہاد عوام کے نماٸندے اپنے گارڈز کے ساتھ کھلے عام فاٸر کر ووٹ کاسٹ کرنے والوں کو ہراساں کرتے کتنے ہی لوگ گولیوں کی نظر ہو جاتے کیا یہ جمہوریت ہے نہیں یہ غنڈہ گردی ہے آمریت ہے لاقانونیت ہے ۔ ہمیں اس ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی معنوں میں جمہوری نظام تشکیل دینا ہو گا ووٹ کا درست استعمال کرنا ہو گا اور اس کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہو گا خواندگی کی شرح کو کم سے کم کرنا ہو گا تا کہ معاشرے ہر فرد اس قابل ہو سکے کہ وہ اس قوم کے
    مستقبل کے لیے ایک درست قیادت کا انتخاب کرسکے۔

    ‎@b786_s

  • پانی کی بچت زمین اور زندگی کے لیے کیوں ضروری ہے؟  تحریر: زاہد کبدانی

    پانی کی بچت زمین اور زندگی کے لیے کیوں ضروری ہے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    پانی شاید سب کے لیے سب سے قیمتی ذریعہ ہے۔ پانی کے بغیر ، یقینی طور پر زمین پر کوئی زندگی نہ ہوتی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پانی زندگی کے لیے اتنا ضروری کیوں ہے۔ تاہم ، پانی کی اہمیت اس تک محدود نہیں ہے۔ کرہ ارض کے لیے بھی پانی بہت اہم ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانی کا ضیاع ماحول اور فطرت کے لیے کافی نقصان دہ ہے۔
    پانی کی بچت زمین کے لیے کیوں ضروری ہے؟
    سب سے پہلے ، پانی کی بچت کے نتیجے میں دنیا بھر میں خشک سالی کم ہوگی۔ مزید یہ کہ زیر زمین پانی کی سطح کم و بیش کافی رہے گی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پانی کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اس سے جانوروں کی پرجاتیوں کے زندہ رہنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مزید یہ کہ جانداروں کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس پینے کے لیے مناسب مقدار میں پانی ہوگا۔ بہت سی پرجاتیوں کی معدومیت کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پرجاتیوں کو پانی تلاش کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑے گی۔

    پانی کے استعمال کو کم کرنے سے توانائی کے تحفظ میں یقینا مدد ملے گی۔ مزید برآں ، ہمارے گھروں ، دفاتر ، کھیتوں وغیرہ میں پانی کو پروسیس کرنے اور پہنچانے کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب یہ توانائی پانی پر عمل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے تو بہت زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، پانی کے کم استعمال کی وجہ سے ، کم توانائی استعمال ہوگی جس کے نتیجے میں کم آلودگی ہوگی۔

    پانی بچانے کا ایک اور اہم فائدہ صحرا کو روکنا ہے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر ، پانی کی کثرت کا مطلب زیادہ درخت اور پودوں کا احاطہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پودوں کو زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، بہت سے پودے اور درخت مر جائیں گے۔ یہ سب صحرا میں حصہ ڈالتے ہیں۔ لہذا ، پانی کی بچت صحرا کو ختم کرنے اور زمین کے سبز غلاف کو واپس لانے میں مدد دے گی۔
    پانی بچانے کے طریقے۔
    سب سے پہلے ، غسل یا شاور کا وقت کم کرنا پانی کو بچانے کا ایک بہت اہم طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ غسل/شاور کے دوران پانی کی کافی مقدار ضائع ہوتی ہے۔ لہذا ، لوگوں کو اپنے غسل/شاور کو کم کرنا ہوگا۔
    دوم ، لوگوں کو اپنے بیت الخلاء کو لیک کے لیے چیک کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے بیت الخلاء کا لیکس آسانی سے کسی کا دھیان نہیں جا سکتا۔ یہ یقینی طور پر پانی کے ضیاع کا نتیجہ ہے۔
    دانتوں کو برش کرتے وقت افراد کو نل بند کرنا چاہیے۔ مزید برآں ، بہت سے افراد کو برش کرنے کے دوران اپنے نلکے رکھنے کی بری عادت ہوتی ہے۔ یہ یقینی طور پر پانی کے ایک اہم نقصان کا سبب بنتا ہے۔
    لانوں کو پانی دینا صرف اس وقت ہونا چاہئے جب بالکل ضروری ہو۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سے افراد کو اپنے لان میں دن میں دو بار پانی پلانے کی بری عادت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ برسات کے موسم میں پانی نہیں دینا چاہیے۔ سردیوں میں ، ایک پندرہ دن میں ایک بار پانی دینا کافی سے زیادہ ہے۔
    زیادہ خشک سالی سے بچنے والے درختوں اور پودوں کو اگانے پر زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سارے خوبصورت پودے اور درخت بغیر آبپاشی کے پروان چڑھتے ہیں۔ اس سے یقینی طور پر پانی کی بچت ہوگی۔
    آخر کارپوریشنز اور فیکٹریوں کے لیے سخت قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر ، یہ قوانین پانی کے استعمال کے حوالے سے ہونے چاہئیں۔ مزید برآں ، بہت ساری فیکٹریاں مضحکہ خیز طور پر زیادہ مقدار میں پانی استعمال کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ پانی کی یہ بڑی مقدار مختلف قسم کے عمل کے لیے درکار ہے۔ لہذا ، حکومت کو قانون بنانا ہوگا۔ نیز ، ان قوانین میں پانی کے استعمال کی زیادہ سے زیادہ حد واضح طور پر بیان کرنی چاہیے۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں۔
    اس کا خلاصہ یہ کہ ہمارے سیارے زمین کے لیے پانی انتہائی ضروری ہے۔ پہلے ہی ماحول کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ مزید برآں ، جب پانی کی قیمت کی بات آتی ہے تو انسان کافی لاپرواہ رہے ہیں۔ لہذا ، اب وقت آگیا ہے کہ لوگ پانی کو ضائع کرنے کے فوری خطرے کا ادراک کریں۔

    ‎@Z_Kubdani

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 04)  تحریر:محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 04) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 3 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے اور دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کا لین دین کرکے خفیہ طریقے سے پیسے کما رہے ہیں کیونکہ جو ملاوٹ کرکے پیسہ کمایا جاتا ہے وہ حلال نہیں کہلاتا اس لئے آج چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن کیوں لگاۓ جاتے ہیں جو کہ درج ذیل ہے

    چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے:
    مارکیٹ میں دستیاب 300 روپے کلو چنے خرید کر اس کا چھلکا الگ کر لیتے ہیں بعد میں اس چھلکے کو پیس کر اس کو رنگ کرکے چاۓ کی پتی کے اندر مکس کرکے وزن بڑھا کر بیچتے ہیں خالص چاۓ کی پتی میں کبھی بھی کرکراپن موجود نہیں جبکہ ملاوٹ والی چاۓ میں آپ کو کر کراپن ضرور ملے گا اس لیے مارکیٹس میں مختلف برانڈ کی پتیاں دستیاب ہیں

    آٹے میں ریتی کی ملاوٹ:
    آٹے میں ریتی کا استعمال وزن بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے غریب کیلئے خالص آٹا لینا محال ہے دن بدن ملاوٹ عروج پر ہوتی جارہی ہے اور لوگوں کو طرح طرح کے برانڈ بنا کے آٹے کو مختلف طریقوں سے بیچا جا رہا ہے جس طرح آٹے کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل در مشکل ہوتا جا رہا ہے گندم میں لوگ ریت مکس کرتے پکڑے گے ہیں پھر کہتے ہیں حکمران خراب ہیں حکمران اس لئے خراب ہیں کیونکہ یہاں کے تاجر جو خراب ہیں
    جیسی عوام ویسے حکمران

    چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ:
    چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسے کی ملاوٹ زیادہ اس لئے ہوتی ہے کیونکہ اس کو پیس کر جب باریک کر لیا جاتا ہے تو اس کی رنگت سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ خالص کون سا ہے یا ملاوٹ والا کون سا ہے ذائقہ سے ہی پہچانا جا سکتا ہے کہ یہ چنے کا آٹا ہے یا لکڑی کا بھوسہ
    اخلاقی طور پر دیوالیہ قوم سے کچھ بعید نہیں جو رمضان کے مبارک دنوں میں بھی اپنی سمت کا تعین درست نہیں کرتی بلکہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی عروج پہ چلی جاتی ہے تمام باتیں کتنی حیران کن ہے ایک پل کے لئے ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم کتنے نیک ہیں

    پھلوں میں میٹھے انجیکشن:
    پھلوں میں میٹھے انجیکشن کا دھندہ اپنی جگہ 12 ماہ عروج پر ہوتا ہے بے موسم فروٹس بڑی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں پھلوں کو انجیکشن لگا کر وقت سے پہلے مارکیٹ میں دستیاب کیا جاتا ہے اس سے بہت سے نقصانات ہو رہے ہیں ۔ سب سے بڑا نقصان لوگوں میں صحت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی بہت زیادہ ہو جاتی ہے یہ بیماریاں اب عام ہو گئ ہیں یہ بیماریاں زیادہ کیلوریز لینے کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں جس سے صحت متاثر ہو رہی ہے ہمیشہ صحت زیادہ چینی اور کیلوریز لینے سے خراب ہوتی ہے اس لئے بے موسمی فروٹس کا استعمال کم کرنا چاہیے کوشش کریں خالص فروٹس کا استعمال کریں خالص فروٹس دیہاتی علاقہ جات میں زیادہ مقدار میں میسر ہوتے ہیں اس کے برعکس ملاوٹ کا دھندہ ہر جگہ بہت عام ہے

    اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا شامل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا بہت سی قومیں تباہ ہوگئیں جو دھوکا بازی، فراڈ اور ملاوٹ کیا کرتی تھیں ہمارے ضمیر مر چکے ہیں اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں حکمرانوں کو ہم برا بھلا کہتے نہیں تھکتے لیکن اپنے گریبان میں جھانک کر بھی نہیں دیکھتے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • اتحاد بین المسلمین، وقت کی اہم ضرورت تحریر: محمد ثاقب معسود

    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا:
    "واعتصِموا بِحبلِ اللہِ جمِیعا ولا تفرقوا واذروا نِعمت اللہِ علیم اِذ نتم اعدا فالف بین قلوبِم فاصبحتم بِنِعمتِھ اِخوانا ونتم علی شفا حفر مِن النارِ فانقذم مِنھا ذلِ یبیِن اللہ لم ایتِھ لعلم تھتدون "۔

    ترجمہ: "اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب ملکر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچالیا اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاسکو”۔

    اس آیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالو، ایک دوسرے سے جدا جدا راہیں اختیار نہ کرو ۔ اتحاد، یگانگت اور بھائی چارہ اللہ تعالی کی نعمت ہے جو اس نے خاص طور پر اہل ایمان کو عطا کی ورنہ اسلام سے قبل تو جاہلیت کا زمانہ تھا، لوگ معمولی تلخ کلامی پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ دیا کرتے تھے، بلا وجہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوجانا معمول کی بات تھی پھر اسلام کا دور آیا اور اللہ نے اہل ایمان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے الفت ڈال دی، تمام مسلمان بھائی بھائی بن گئے اور اللہ رب العزت نے مستقبل کے حوالے سے بھی نصیحت فرمائی کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالنا اور اس اتحاد اور اتفاق کو برقرار رکھنا اور اگر آپسی اختلاف میں پڑ گئے اور راہیں جدا جدا کر لیں تو اس کے نقصانات سے محفوظ نہ رہ سکو گے۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سب بحیثیت مسلمان اتحاد و یگانگت سے متعلق دیئے ہوئے اللہ رب العزت کے احکامات کو مان کر زندگی گزار رہے ہیں؟ جواب یقینی طور پر نفی میں ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان نے قرآنی تعلیمات کو مانتے ہوئے آپس میں اتحاد اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھی تو دنیا کی باقی اقوام مسلمانوں کی محکوم رہیں اور جب سے مسلمانوں نے تفرقوں میں بٹ کر اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے احکامات سے انحراف کرنا شروع کیا تو مسلمانوں کو دنیا بھر میں ناکامی، رسوائی اور مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور مسلمانوں کے دشمن نااتفاقی اور تفرقہ بازی کو استعمال میں لاتے ہوئے پاکستان اور اسلام دونوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں کیونکہ پاکستان واحد ریاست ہے جو نظریہ اسلام اور لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی۔مثال کے طور پر
    پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز ریمارکس دینے والے بھارتی فوج کے سابق میجر گورو آریا کی ایک ویڈیو گذشتہ سال سامنے آئی جس میں اس نے پاکستان میں فرقہ واریت کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ "پاکستان میں فرقہ واریت اورافرتفری پھیلاناکونسامشکل کام ہے، شیعہ سنی کوایک طرف رکھتے ہوئے بریلوی کودیوبندی کیخلاف اوردیوبندی کوبریلوی کے خلاف تیارکیجئے اوریہ کام چندکروڑمیں ہوسکتاہے،اس نیٹ ورک کودبئی سے کنٹرول کیاجائے ،بریلوی اوردیوبندیوں کے ایک دوسرے کےخلاف تقریں اورجلسے جلوسوں میں اشتعال انگیزی پیداکرا کے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادینی چاہئے”۔ بھارتی سازشوں سے قطع نظر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے خود کو صرف ایک پہچان یعنی مسلمان تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ مختلف فرقوں میں الجھی ہوئی ہے اور تعصب جیسے مرض میں مبتلا ہے جس سے پاکستان میں دشمنوں کوکھل کراپنے ناپاک اردوں کوعملی جامہ پہنانے میں آسانی پیداہوجاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قبیلے اور گروہ محض شناخت کے لئے بنائے تھے، اس لئے نہیں کہ ہم ان کی بنیاد پر جنت اور دوزخ کے فیصلے کرنا شروع کردی یا کسی تفاخر میں مبتلا ہوجائیں۔ ہم سب مسلمان ہیں اور ہماری پہچان محض دین اسلام اورپاکستان ہی ہے،اس کے برعکس دیکھا گیا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگ کسی دوسرے مسلمان کو اسلام کی نہیں بلکہ اس کے فرقے کی نسبت سے جانتے اور پہچانتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔ یہ تعصب ہی ہے جس نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جس سے ان کی حقیقی شناخت کہیں کھو کر رہ گئی ہے۔ ہمارے ایک ہونے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ۔ہم تفرقوں کو ختم کرکے ایک ہو جائیں، وہابی ،سنی،دیوبندی ،بریلوی اورشیعہ بننے کے بجائے سچے مسلمان اورپاکستانی بن جائیں تو نہ صرف رسوائیوں اور مایوسیوں سے بچ جائیں گے بلکہ دنیا میں ایک طاقتور اور کامیاب قوم کے طور پر سامنے آئیں گے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں زیادہ تر بے گناہ لوگ ہی ظلم و بربریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ عدل و انصاف اور عقل و شعور کے خلاف ہے کہ ظلم کرے کوئی اور اس کی سزا بھرے کوئی۔ یہ بھی یاد رکھ لیا جائے کہ دوسروں سے بلاوجہ نفرت، تعصب اور ان پر ظلم و زیادتی کا جواب اور حساب اللہ تعالی کے حضور ہم نے انفرادی طور پر دینا ہے۔ وہاں نہ سفارش چلے گی، نہ پیسہ اور نہ ہی کسی طاقتور کا دبائو، کسی بھی سیاسی اور مذہبی مفاد کا بہانہ بھی یوم حساب نہیں چلے گا اس لئے ضروری ہے اللہ رب العزت کی رسی یعنی قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا چاہئے اورتعصب جیسی بیماری سے چھٹکارہ پا کر صرف اسلام اورپاکستان کے جھنڈے تلے جمع ہوجانا چاہئے تاکہ دشمنان اسلام وپاکستان کے ناپاک منصوبے خاک میں مل جائیں۔

  • سیانے لوگ زرا گائیڈ کریں تحریر: فاطمہ ہاشمی

    سیانے لوگ زرا گائیڈ کریں تحریر: فاطمہ ہاشمی

    14 اگست 1947 یہ وہ دن ہے جب ہم نے بظاہر انگریز سے آزادی حاصل کی مگر انگریزی نظام میں ویسے ہی جھکڑے ہوے ہیں ؟
    14 اگست ہمارے لاکھوں شہداء کا دن ہے معصوم عصمتوں کے تار تار ہونے کا دن ہے تو کیا یہ دن اس طرح خوشیاں منانے کا ہے کہ ہم باجے بجاتے ناچتے کودتے پھریں؟
    گورداسپور سمیت بہت سے مسلم اکثریت کے علاقے بشمول کشمیر۔جونا گڑھ مناوادر ریاست حیدر باد کو انڈیا ہضم کر گیا
    یہ دن تو بدلے کے عہد کی تجدید کا دن ہے کہ بلاجواز ظلم سے لاکھوں لوگوں کو انتہائی شقاوت و درندگی سے ذبح کر دیا گیا معصوم بچوں کو ماوں کے سامنے نیزوں میں پرو دیا گیا باپوں کے سامنے بیٹیوں کو اٹھا لے گئے اور ذخمی بھائی بے بسی سے آنسو بہاتے تڑپ تڑپ کر جان دیتے تھے جوان گھبرو اپنے ماں باپ کا تحفظ نا کر سکے اس تاریک ترین ظلم و دہشت گردی کے دن کےجواب میں سبز سفید سوٹ پہن کر ٹھمکے مارتے باجے بجاتے انڈین گانوں پر رقص اور انکی فلموں کے دلدادہ نوجوانوں کو کون اس دن کی حقیقتوں سے آشنا کرے گا ؟
    ہم نے جسمانی آذادی تو حاصل کر لی مگر کیا ہمارا دماغ و دل بھی آذاد ہیں ؟
    کیا ہمارے شادی بیاہ نبیؐ کے طریقوں کے مطابق ہوتے ہیں یا ہم انہی ہندوانہ کلچر کو بھرپور فرض سمجھتے ہیں ؟ ہمارے گھروں کے رسم رواج کیا ریاست مدینہ کے مطابق ہیں یا ہم نے محض ہندوستان و پاکستان کے نام کا فرق پیدا کرنے کے لیے قربانیاں دیں تھیں یا آذادی محض جسم کے آزاد ہونے کا نام ہے؟
    بالکل درست ہے کہ ہم یہاں انڈین مسلمانو سے بہت بہتر ذندگی گزار رہے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے آزادی حاصل کی گئی تھی وہ محض دو قومی نہیں دو نظریوں دو عقیدوں اور ان کے درمیان عملی فرق کی وجہ سے الگ ہوے تھے آذادی حاصل کی تھی تو کون بتائے گا آذادی کیوں حاصل کی گئی ؟
    کیا ہمارے سرکاری ادارے انگریز دور سے بھی ذیادہ کرپٹ نہیں ہو چکے جو ہر جائز کام بھی رشوت کے بنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ؟
    کیاہم نے ملاوٹ ذخیرہ اندوزی سود سے آذادی حاصل کر لی ؟
    کیا ہمارے حکمرانوں کا انداز حکمرانی ریاست مدینہ سے ملتا ہے یا انگریزی نظام کو دیسی تڑکے کے ساتھ چکایا جارہاہے؟
    کیا ہماری عدالتیں رہنمائی قرآن و حدیث سے لیتی ہیں یا محض انگریز جج کی جگہ مسلمان جج بٹھا کر نظام وہ سامراجی ہے جہاں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور بے موت مارا جاتا ہے جبکہ ظالم دندناتے پھرتے ہیں ؟
    قوم کی ذہن سازی کرنے میں آج سب سے بڑا کردار میڈیا کا ہے مگر وہاں تو فلمی طوائفوں کا قبضہ ہے آذادی کے وقت کی نسل تقریبًا اٹھ چکی ہے بہت کم لوگ جو اس وقت سن شعور کو پہنچے ہوے تھے ذندہ ہوں گے تو کیا آج کی 4g 5g نسل آذادی کے مقصد کو کیا سمجھتی ہے سبز سفید سوٹ پہننا ناچنا گانا باجے بجانا؟
    جبکہ اللہ کیا فرما رہے یہ تو تجدید عہد کا دن تھا
    اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَ نَّهُمْ ظُلِمُوْا ۗ وَاِ نَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُ
    "اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے”
    ٱلَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَا رِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ۗ وَلَوْلَا دَ فْعُ اللّٰهِ النَّا سَ بَعْضَهُمْ بِبَـعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَا مِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا ۗ وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ
    "یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے صرف اِس قصور پر کہ وہ کہتے تھے "ہمارا رب اللہ ہے” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے”
    (QS. Al-Hajj 22: Verse 40)
    آو عہد کریں کہ جسمانی آذادی کے بعد ذہنی آذادی اور نظام کی آذادی بھی حاصل کریں گے یا کوئی مجھے سمجھا دے کہ جشن منانے کا وقت آچکا ہے کیا اس وقت کے شہید یونے والے لاکھوں شہداء اگر آج ہمیں ایسے جشن مناتے دیکھیں تو کیا سوچیں کہ یہ جشن ہماری شہادتوں پر منارہے ہو؟ وہ بہنیں جو انڈیا میں گئیں تھیں آج بڑھاپے میں ہندووں سکھوں کی دادیاں نانیاں بن گئیں ہیں اور انتظار کرتے کرتے اللہ کے حضور پیش ہوگئیں ہیں اور کچھ ذندہ ہیں تو کیا ابھی جشن منانے کا وقت ہے ؟ مجھے تو نہیں لگتا آپ کو لگتا ہے تو مجھے بھی سمجھا دیں شکریہ

  • واقعی ہم سا کوئی نہیں تحریر : سلمان اکرم

    ہم پاکستانی ہیں. ہمارے دیس میں بہت سے مسائل ہیں، مہنگائی بے روزگاری، کرپشن اور اس جیسے دیگر مسائل.
    ان تمام موضوعات پر لوگ کھل کر لکھتے اور بولتے ہیں. مگر آج آپکو ہم پاکستان کی کچھ خوشگوار امتیازی خصوصیات سے روشناس کرواتے ہیں.
    .
    سب سے پہلی خوبصورت بات یہ ہے کہ ہم بلا کے مہمان نواز ہیں. ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں مہمان نوازی کی عجیب سے عجیب تر روایات ہیں. اپنے عزیز و اقارب کے لیے تو ہم ہر حد سے گزرتے ہیں ہم انجان مسافروں کے لیے اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی نہیں کرتے. ہمارے گھروں میں مہمان آ جائے اور ہماری جیب افوڈ نہ کر سکتی ہو تو ہم ادھار لے کر مہمان کی خدمت کرتے ہیں. اور اسے باعث خیر و برکت سمجھتے ہیں.
    .
    دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا جوائنٹ فیملی سسٹم دنیا میں سب سے مضبوط جوائنٹ فیملی سسٹم ہے. یہاں آج کی والدین کا مرتبہ سب سے بلند ہے. آج بھی والدین کے ساتھ جڑے دیگر رشتوں کے تقدس میں کوئی کمی نہیں لاتے. ہم تنگ گھروں میں کھلے دل کے ساتھ رہتے ہیں. آج بھی ہمارے دکھ اور سکھ سانجھے ہیں.
    .
    تیسری اہم خوبی یہ ہے کہ تیسری دنیا کا ملک ہونے کے باوجود ہم میں تعلیم کا رجحان بہت زیادہ ہے. ہماری قوم علم دوستی میں اپنی مثال آپ ہے. ہر سال کسی مزدور ریڑھی بان یا نان بائی کی اولادوں میں سے کوئی کسی نہ کسی فیلڈ کا ٹاپر ہوتا ہے.
    ہمارے ملک کی کچی آبادیوں میں بھی پرائیویٹ سکولز بنے ہوئے ہیں.
    یہ ہماری علم دوستی کی جیتی جاگتی مثال ہے.
    .
    چوتھی اہم بات یہ ہے کہ غریب ملک ہونے کہ باوجود ہم دنیا میں خیرات کرنے والوں میں نمایاں ہیں. ہمارے ملک کی 98فیصد آبادی صدقہ ادا کرتی ہے.
    .
    پانچوں خوبی یہ ہے کہ ہم خدمت خلق میں پیش پیش رہتے ہیں. پاکستان یا پاکستان سے باہر کہیں کوئی ناگہانی آفت آ جائے پاکستانی اپنی جان تک لٹانے کو. تیار ہو جاتے ہیں.
    ٹی وی پر ایک خبر نشر ہو کہ فلاں ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والوں کے لیے خون کی ضرورت ہے ہسپتالوں کے باہر ڈونرز کی لائنیں لگ جاتی ہیں.
    کہیں سیلاب یا زلزلہ آ جائے ہم اپنے گھروں سے اضافی سامان اٹھا کر متاثرین کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں.
    .
    پاکستانی معاشرے کی چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں. دنیا میں جہاں بھی ڈکٹیٹر آتے ہیں تو کئی کئی دہائیوں تک حکومت کرتے ہیں. پاکستان میں جب بھی کسی نے جمہوریت پر شب خون مارا اسے اپنی بقا کے لیے جمہوریت کا سہارا لینا پڑا. کوئی آمر دس گیارہ سال سے زیادہ نہیں ٹک پایا. اور اسے جمہوریت کو بہال کرنا پڑا.
    .
    ساتویں خوبی یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا باقی تمام دنیا کے میڈیا سے زیادہ آزاد ہے. یہاں ریاست مخالف بیانیہ بھی مین اسٹریم میڈیا میں چلا دیا جاتا ہے.
    .
    آٹھویں خوبی یہ ہے کہ ہماری عدلیہ اس قدر آزاد ہے کہ ستر سال پرانے کیس بھی زیر التواء ہونے کے باوجود کسی نے اس عدلیہ کو چھیرنے کی کوشش نہیں کی. اگر کوشش کی بھی تو ناکام رہا. عدلیہ اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ہے اب اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کس حد تک ہوتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے.
    .
    نویں خوبی پاکستان کی یہ ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں. تقریباً تمام ہی بنیادی ضرورت کی اجناس ہمارے وطن میں پیدا ہوتی ہیں. چاول، گندم گنا مکئی، کپاس، پھل سبزیاں اور کیا کچھ ہے جو نہیں ہوتا.
    .
    پاکستان کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا تیسرا بڑا اور فعال نہری نظام ہے. پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں آج بھی پینے کو صاف پانی وافر دستیاب ہے. اب جہاں پانی نہیں پہنچتا یہ ہماری نالائقی ہے مگر ایسا نہیں کہ پاکستان میں پانی کی قلت ہو.
    .
    گیارہویں خوبی پاکستان کی یہ کہ پاکستان دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں سے ہے جن کے پاس طاقتور فوج ہے. جو ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ہے. ہماری فوج پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ جذبہ ایمانی کے ساتھ لڑنے والی ایک منفرد فوج ہے. .
    .
    بارہویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کا موسم عطا کیا ہے. پاکستان کے اکثر علاقوں میں چار موسم اپنے پورے جوبن کے ساتھ آتے ہیں. پاکستان میں سارا سال گرم رہنے والے علاقے بھی موجود ہیں اور سارا سال سردی والے علاقے بھی موجود ہیں. .
    .
    تیرہویں خوبی یہ ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی زمین موجود ہے، پہاڑ میدان،. صحرا، پتھریلی اور ہموار زمین اللہ نے پاکستان کو عطا کر رکھی ہے. یہ خوبی دنیا کے تین سے چار ممالک میں موجود ہے. .
    .
    چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی قدرتی معدنیات موجود ہیں. سونا، چاندی،. لوہا بھی ہماری زمین میں موجود ہے اور گیس تیل اور کوئلہ بھی.
    .
    پندرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریا بھی دیے اور سمندر بھی، پاکستانی سمندر میں دنیا کا سب سے گہرا سی پورٹ گوادر ہے. .
    .
    یہ اور اس جیسی دیگر کئی خصوصیات ہیں جن میں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اوج کمال عطا کیا ہے. .
    لہٰذا اللہ تعالیٰ کی اس دین کا شکریہ ادا کریں اور ان تمام وسائل کا مثبت استعمال کرنے کی کوشش کریں. اور اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کریں
    *

    @themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*