Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • شکر کرنا سیکھیں   تحریر: نسیم کھیڑا

    شکر کرنا سیکھیں تحریر: نسیم کھیڑا

    ارشاد باری تعالی ہے ۔
    "اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے.”
    سورہ ابراہیم 7
    شکر کے لغوی معنی ہیں کسی کے احسان و عنایت پر اس کی تعریف کرنا , اس کا احسان ماننا , اور زبان سے اس کا کھل کر اظہار اور اقرار کرنا۔
    ہمارے ہاں عام فیشن اور طرز عمل بن چکا ہے کہ جسے دیکھو وہ ہروقت ناشکری کے کلمات ادا کرتا نظر آتا ہے ۔اگر آپ کسی کاروبار کرنے والے سے احوال پوچھے لیں تو وہ فورا بہت مندہ چل رہا ہے مارکیٹ میں گاہک نہیں ہے دیوالیہ ہوئے جارہے ہیں اس طرح کے کلمات کی گردان شروع ہوجائے گی چاہے آپ کو اس کی دوکان سٹور شوروم پر ہر وقت گاہکوں کا رش ہی کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔
    یہی حال ہمارے تنخواہ دار طبقہ کا ہے گورنمنٹ سے ہر سہولت لے رہے ہوتے ہیں تنخواہ سال میں دو مرتبہ بڑھتی ہے لیکن پھر بھی مارے گئے مہنگائی بہت ہے کے راگ الاپتے نظر آئیں گے
    اور تنخواہیں بڑھانے کے مطالبات لے کر احتجاج کے لئے ہروقت تیار رہتے ہیں۔
    عام عوام کا بھی یہی حال ہے اپنی ذاتی سواری بھی میسر ہوگی ہاتھ میں مہنگا سمارٹ فون بھی ہوگا لیکن پھر بھی چینی مہنگی آٹا مہنگا کا ورد کر رہے ہوتے ہیں ۔اللہ کے بندوں ہر گھر کی ماہانہ ضرورت تقریبا 5 سے 7کلو چینی ہوگی جو کہ 700 روپے کلو کی مل جاتی ہے لیکن زور پھر بھی چینی مہنگی ثابت کرنے پر ہی لگایا جاتاہے جیسے دن میں تین مرتبہ چینی کے ہی پھکے مارنے ہوتے ہیں۔
    پچھلے دنوں ایک عالمی تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لئے سستا ترین ملک ہے۔ شہر کی کسی بھی سڑک پر پانچ منٹ رک کر مناظر دیکھیں گاڑیوں کا نہ روکنے والا سلسلہ دیکھائی دے گا غریب کی سواری سمجھے جانے والی سائیکل کی جگہ موٹرسائیکل نے لے لی ہے اب بتائیں غربت کدھر ہے۔
    چند دن پہلے پچاس لاکھ کی گاڑی کے نئے ماڈل کی بکنگ کے وقت لوگ شوروم میں داخل ہونے کے لئے آپس میں دست و گریباں ہوگئے۔
    مہنگے برانڈ کے کپڑوں کی دکانوں پر خریداروں کا رش ختم نہیں ہوتا سیل پر تو خواتین گتھم گتھا ہوجاتی ہیں ۔الغرض موبائل کپڑے جوتے ڈنر اور لنچ برگر پیزے مہنگے برانڈز جائز و حلال لیکن چینی اور آٹا دس روپے مہنگانہیں خریدنا کہ کہیں ملک کے کسان کو فائدہ نہ ہوجائے۔ کسی بھی پوش علاقے میں چلے جائیں گھر کے گیراج میں تین تین چار چار گاڑیاں اور پانچ ائیر کنڈیشن نظر آئیں گی لیکن مہنگائی کا رونا ختم نہیں ہوگا۔ ۔۔ یاد رہے کہ معاشرے میں پھیلی بےچینی اور اضطراب کا سبب ناشکری بھی ہے اور ناشکرا انسان کبھی بھی مطمئن نہیں ہوسکتا۔اللہ سبحان و تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کریں تاکہ مزید نعمتوں سے نوازے جائیں کیونکہ اللہ سبحان و تعالی کا وعدہ ہے کہ شکر ادا کرنے والے کو مزید دے گا اور اگر ناشکری سے باز نہیں آئیں گےتو نعمتیں چھین بھی سکتی ہیں ۔

  • فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    فضیلتِ یومِ عاشورہ تحریر: عقیلہ رضا

    اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرمُ الحرام سے ہوتا ہے جس کا شمار حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے، یہ مہینہ بہت ہی عظمت و بَرَکت والا مہینہ ہے، جو ہمیں صبر و ایثار کا درس دیتا ہے۔ اس ماہِ حرمت میں عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے متعلق متعدَّد فضاٸل وارِد ہوۓ ہیں، نیز اسی ماہ میں یومِ عاشورہ جو اپنی خُصوصیات میں ممتاز ہے، نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
    آٸیں کچھ اس دن کی فضیلت کے متعلق جانتے ہیں!
    *10 محرم عاشورہ کے روز حضرتِ آدم علیہ الصلوة والسلام کی توبہ قبول کی گٸی۔
    *اِسی دن انہیں پیدا کیا گیا۔
    *اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا۔
    *اسی دن عرش، کرسی، آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے اور جنت پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام پیدا ہوۓ۔
    *اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی۔
    *اسی دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوة والسلام اور آپ کی امت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا۔
    *حضرت عیسیٰ علیہ الصلوة والسلام پیدا کٸے گٸے۔
    *اسی دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا۔
    *اسی دن حضرت سیدنا نوح علیہ الصلوة والسلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔
    *اسی دن حضرت سلیمان علیہ الصلوة والسلام کو ملکِ عظیم عطا کیا گیا۔
    *اسی دن سیدنا یعقوب علیہ الصلوة والسلام کی بینائی کا ضُعف دور ہوا۔
    *اسی دن سیدنا یونس علیہ الصلوة واسلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا یوسف علیہ الصلوة والسلام گہرے کنویں سے نکالے گٸے۔
    *اسی دن سیدنا ایوب علیہ الصلوة واسلام کی تکلیف رَفع کی گٸی۔
    *آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش اسی دن نازل ہوٸی۔
    *اسی دن کا روزہ اُمتوں میں مشہور تھا۔
    اور
    *اسی دن امامُ الہُمام، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع شہزادگان و رُفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشتِ کربلا میں انتہائی سفّاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
    المختصر یومِ عاشورہ نہایت فضیلت و اہمیت کا دن ہے۔۔۔ اس دن کی اہمیت کو سمجھتے ہوۓ عبادات و نیک اعمال کا اہتمام کیا جاۓ، صدقہ و خیرات ،ذکر و درود، تسبیحات ،نوافل اور، روزے کا اہتمام بھی ضرور کیا جاۓ کیونکہ اس دن کے روزے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔
    حضرت سیدنا عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    میں نے رسولِ کریم صلى الله عليه واله وسلم کو کسی دن کے روزہ کو اور دن پر فضیلت دیکر جُستجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رمضان کا مہینہ۔
    (صیح بخاری، حدیث:2006)
    حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ:
    رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا:
    مجھے اللہ عزوجل پر گُمان ہے کہ عاشورہ کا روز ایک سال قبل کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔
    (صیح مسلم،حدیث:1162)
    ارشادِ مصطفیٰ صلى الله عليه واله وسلم:
    یومِ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو،اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔
    (مسندِ اماماحمد، حدیث:2154)
    یعنی 10 محرم یومِ عاشورہ ہے تو اس سے ایک دن پہلے 9 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ یا 11 محرم کا روزہ اس کے ساتھ ملا لیا جاۓ، تنہا 10 محرم کا روزہ نہ رکھا جاۓ۔
    یومِ عاشورہ میں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ نیت اور عہد بھی کیا جاۓ، کربلا والوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوۓ کہ ہم اس دن سے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں گے کربلا والوں کے صدقے میں عملی مسلمان بننے کی کوشش شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ عزوجل
    کربلا والوں سے محبت کے دعوے کو عمل کی ضروت ہے۔
    اللہ کریم ہمیں اس دن کی عزت و حرمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
    آمین

    @aqeela_raza

  • محرم الحرام اور اسلامی تعلیمات۔  تحریر:نصرت پروین

    محرم الحرام اور اسلامی تعلیمات۔ تحریر:نصرت پروین

    محرم الحرام سال کا مبارک مہینہ ہے جس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مہینہ بہت سی فضیلتوں اور برکتوں کو سموئے ہوئے ہے۔ جب سے زمین و آسمان کی تخلیق ہوئی اس وقت سے خاص واقعات، خاص رحمتیں اور خاص انعامات اسی مہینے سے وابستہ ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ امت میں ماہ محرم الحرام کی حقیقت، فضیلت اور اہمیت، سے متعلق صحیح اور معتبر تعلیمات دھندلا کر رہ گئی ہیں۔ امت کا ایک بہت بڑا طبقہ محرم الحرام سے متعلق بہت سی بدعات، رسومات، غیر شرعی افعال، بے بنیاد باتوں اور بہت سی من گھڑت چیزوں کا شکار ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات سے نا واقفیت ہی ہے کہ بہت سے سادہ لوح مسلمان نظریاتی اور عملی طور پر اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ شریعت کی نظر میں اس مہینے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس مہینے کی حرمت زمانہ جاہلیت میں بھی تھی۔ لوگ اس مہینے میں جنگ وجدل سے گریز کرتے تھے اور اسلام کے بعد بھی اس کی حرمت کو برقرار رکھا گیا۔ قرآن و حدیث میں اس مہینے کو شھر الحرم یعنی حرمت والا مہینہ اور "شھر الله” یعنی الله کا مہینہ کہا گیا ہے۔ جس سے اس مہینے کی فضیلت، عظمت اور تقدس ظاہر ہوتا ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں:
    کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے محرم کو الله عزوجل کا مہینہ قرار دیا ہے جو اس کی عظمت اور تقدس کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ الله عزوجل اپنی نسبت صرف اپنی خصوصی مخلوقات کے ساتھ ہی فرماتے ہیں۔
    (شرح النووی 55/8)
    محرم الحرام کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے۔ الله تعالیٰ نے چار مہینوں کو خاص کیا ہے۔ ان کی عزت و حرمت کو بڑھایا اور عملِ صالح پر اجر و ثواب کو بڑھا دیا اور نافرمانی کو قبیح قرار دیا۔ رب العزت کا فرمان ہے:
    اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۶﴾
    ترجمہ: مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب الله میں بارہ کی ہے اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی متقیوں کے ساتھ ہے ۔
    (سورہ التوبہ:36)
    حجۃ الوداع کے موقع پر رسول صلی الله علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:
    اب زمانہ گھوم کر اسی حالت میں آگیا ہے جس حالت پہ اس وقت تھا جب الله تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق فرمائی، سال بارہ مہینوں کا ہے جن میں سے چار حرمت کے ہیں تین پے در پے ہیں۔ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم الحرام اور چوتھا رجب ہے جو جمادی الاول اور شعبان کے درمیان واقع ہے۔
    (صحیح بخاری: 4662)
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے دیکھا اور وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتلایا کہ ہم موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے فرعون سے نجات پانے کے شکرانے میں روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہم موسی کی موافقت کے زیادہ حقدار ہیں۔ یہودی صرف عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ان کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لئے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے نویں کا روزہ بھی رکھنے کا حکم دیا۔ اس مہینے میں روزہ رکھنا باقی مہینوں کے مقابلے میں افضل ہے۔ عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے اسی طرح عاشورہ سے ایک دن پہلے روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔ صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا یہودیوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے۔ لہذا دسویں محرم کا روزہ نویں یا گیارہویں محرم کو ملا کر رکھنا مستحب عمل ہے۔ الله کے رسول کا فرمان ہے۔
    سب سے زیادہ فضیلت والے روزے رمضان کے روزوں کے بعد الله عزوجل کے مہینے محرم الحرام کے روزے ہیں۔
    (مسلم:2813)
    اس مہینے میں روزہ رکھنا اسکی حرمت کی وجہ سے الله کے نزدیک محبوب عمل بن جاتا ہے۔ خصوصاً یومِ عاشورہ کا روزہ بے پناہ فضیلت کا حامل ہے۔ رسول الله نے فرمایا کہ میں یومِ عاشورہ کے روزے سے متعلق امید کرتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔(ترمذی:752)
    یومِ عاشورہ کا دن انبیا سے وابستگی اور ان کی حیات کے اہم واقعات کا اسی روز میں پیش آنے کی وجہ سے بہت فضیلت رکھتا ہے۔ صاحب عمدۃ القاری یومِ عاشورہ کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اسی دن ہی وہ جنت میں داخل کئے گئے اسی دن ہی ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی جبل جودی پر آٹھہری، اسی دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ہی وہ نمرود کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے گئے، اسی دن سیدنا موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات ملی اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریائے نیل میں غرق ہوگیا، سیدنا ایوب علیہ السلام کو ان کی بیماری سے شفا نصیب ہوئی، سیدنا ادریس علیہ السلام کو اسی دن آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا، سیدنا سلیمان علیہ السلام کو ملک کی عظیم بادشاہت نصیب ہوئی، سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی، اسی دن سیدنا یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے، سیدنا عیسی علیہ السلام کی ولادت اسی دن ہوئی اور اسی دن ہی وہ آسمانوں کی جانب اٹھائے گئے۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری:89/7)
    اس مہینے میں جہاں اعمال صالح کا ثواب بڑھایا گیا وہیں گناہ پر بھی زیادہ عذاب ہے۔ لہذا گناہوں سے اجتناب کرنا چائیے۔ دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح اس مہینے میں بھی ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت کا احترام کرنا چاہئیے ۔ کسی پر ظلم، غیبت، چغلی، حسد، گالی دینا، اور دل آزاری جیسے نافرمانی کے تمام افعال سے گریز کر کے نیکی کے تمام اعمال انجام دینے چاہئیں ۔
    سنتِ رسول کو ترک کر کے جو طریقہ اختیار کیا جائے وہ بدعت کہلاتا ہے۔ لہذا زیب و زینت کو ترک کر دینا، سوگ میں ننگے پاؤں ننگے سر اور ننگے بدن رہنا، مرثیہ خوانی کی مجالس منعقد کروانا یا ان میں شرکت کرنا، نوحہ و ماتم، تعزیہ کرنا، سیدنا حسین علیہ السلام کے نام کی سبیلیں چلانا، غیر الله کے نام پر نذر و نیاز دلانا یہ سب کام بدعات کے ہیں۔
    مرثیہ خوانی میں صحابہ کرام کی ہجو اور تحقیر ہوتی ہے۔ ازواجِ مطہرات کو گالیاں دی جاتی ہیں۔رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے صحابہ کو گالی دی ، اس پر الله کی، فرشتوں کی، اورسب انسانوں کی لعنت ہے۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ:2340)
    رسول صلی الله علیہ وسلم نے مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے۔ (ابن ماجہ:1592)
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو ماتم کرے اور اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی طرح پکارے وہ ہم میں سے نہیں۔ (بخاری:1297)
    سیدنا حسین علیہ السلام کے نام پر سبیلیں لگانا کربلا کے میدان مین تین دن بھوک اور پیاس برداشت کرکے شہادت کا مرتبہ پانے والے کی یاد میں ٹھنڈے مشروبات پلانے، منوں کھانے تقسیم کر کے کھانے اور کھلانے اور رب کی یاد سے غافل ہوجانے میں کیا مشترک ہے؟ پھر غیر الله کے نام پر سبیل کا درجہ کیا ہے؟ رب العزت نے فرمایا:
    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۷۳﴾
    ترجمہ: تم پر مُردہ اور ( بہا ہوا ) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ، اللہ تعالٰی بخشش کرنے والا مہربان ہے ۔ (سورہ البقرہ: 173)
    لہذا جس چیز پر الله کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے وہ حرام ہے۔
    رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں نذر کو پورا مت کرو۔(4245)
    الله تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت کی بہترین سمجھ نصیب فرمائے اور اسی کی روشنی میں اعمال انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں   تحریر ام سلمیٰ

    رزق کی قدر کریں کھانا ضائع نہ کریں تحریر ام سلمیٰ

    شادیوں میں دعوتوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہوگا بہت سے لوگ بے جا اپنی پلیٹ بھر لیتے ہیں جو کے اِنکی ضرورت سے انتہائی زیادہ ہوتی ہے اور پیٹ میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اسے پلیٹ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں.اور وہ کھانا آخر میں ضائع کیا جاتا ہے.
    پاکستان میں ایسی بہت کم تنظیمیں کام کر رہی ہے جو بچے ہوئے کھانے کو ضرورت مند تک پنہچا رہی ہیں.
    ہمیں کھانے کی ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت کیوں ہے؟
    یہ ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ ہے ، اور یہ ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں بلکے ہمارے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے.

    میری یہ تحریر کھانے کے ضائع ہونے سے اس کے ماحول پر پڑنے والے شدید اثرات سے لے کر یہ کہ یہ کس طرح ہماری جیبوں میں سوراخ کو گہرا کر سکتا ہے اس پر ہے ، کھانے کا فضلہ بھی ایک بڑا کا مسئلہ ہے۔

    یہ تین وجوہات دیکھیں کہ ہمیں کھانے کا ضیاع روکنے کی ضرورت کیوں ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کھانا نہیں ہے۔
    دنیا بھر میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے پاس موجود خوراک کا صحیح استعمال کریں۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ہر شخص اپنے جسمانی وزن سے زیادہ خوراک کو ہر سال ضائع کرتا ہے ، جو صرف ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعی کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع ترقی پذیر ممالک کی طرف سے پیدا ہونے والے تمام کھانے کے برابر ہے۔ صرف یورپ میں ضائع ہونے والا کھانا 200 ملین بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا۔تو اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا میں کھانے کہ ضائع ہونا کس قدر زیادہ ہے.

    جنتی بڑی مقدار کے ضائع ہونے کی ہم بات کر رہے ہیں اگر یہ ملک ہوتا تو ضائع شدہ خوراک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر ہوگا۔ 3.3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے ساتھ ، خوراک کا فضلہ عالمی آب و ہوا پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ خوراک ضائع ہونے کے ساتھ ، لینڈ فلز اونچائی سے اونچی ہوتی چلی جاتی ہے ، جو ہر قسم کی جنگلی حیات مکھیاں اور کیڑے ان سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور نازک ماحولیاتی نظام کو توازن سے باہر رکھتی ہے۔ سمندری غذا کے فضلے کو دوبارہ سمندر میں پھینکا جانا بھی سمندری زندگی اور ان کے قدرتی توازن پر نقصان دہ اثر ڈال رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی صرف سیارے کے لیے بری نہیں ہے۔ 2050 تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 84 فیصد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پیداوار کو کیسے متاثر کرے گی۔ یہ پہلے ہی ضائع ہونے والی رقم کی ایک بڑی مقدار کا باعث بن رہا ہے ،

    لہذا اگلی بار جب آپ اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہو ضرور سوچیں کے جیتنا آپ کھا سکتے ہیں اتنا ہی پلیٹ میں نکالیں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے یہ ہی ہماری دینی تعلیم بھی ہی کیوں بچایا ہوا کھانا پھینکا جانا ہے تو ان حقائق اور کھانے کے ضائع ہونے کے نقصانات کو ذہن میں رکھیں۔ بچایا ہوا ہر تھوڑا سا کھانا مدد کرتا ہے ، اور یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ فرق ڈال سکتا ہے۔

    @salmabhatti111

  • یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    جیسے ماں باپ اپنی اولاد کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے اور سوچتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نا آئے۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کی ساکھ کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے اقدامات کرے۔

    چاہے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے پیچھلے گزرے تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں جس کی مثال گزرے کئ سالوں اور سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں نہیں ملتی۔

    جی ہاں بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد آخرکار جب عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی باور کروائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد اب جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    پھر بےشک ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے عمران خان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا اور اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے۔ جن کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    پر میرا یہ ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے نڈر اور بہادر وزیراعظم عمران خان کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے۔ جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں تین سالوں میں یعنی عمران خان کی حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    جس کی وجہ ہی یہ تھی کہ ان وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ بےشک ان میں سے وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک عمران خان کو عزیز تھے پر خان صاحب نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے کیے۔ اب سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے خان صاحب اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور خان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی خاصا فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا۔

    کیونکہ وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق عمران کا جو فرض تھا انہوں نے وہ ادا کیا۔ عمران خان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے تھے وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔ اسی طرح موجودہ حکومت سے قبل ہم نے سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ کبھی کسی سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے اس کی ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ نہیں کیا تھا کیونکہ ان کا اصل مقصد ملک کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں۔

    @SeharSulehri

  • کچھ وقت خاموشی کو دیجئے قیلولہ کیجئے تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    کچھ وقت خاموشی کو دیجئے قیلولہ کیجئے تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں ڈھیروں مصروفیات کو وقت دیتا ہے لیکن اپنے آپ کو اس طرح وقت نہیں دیتا جس طرح اسے دینا چاہیے. سجنے سنورنے میں وقت گزار لیتا ہے. خوش گپیوں کے لیے وقت نکال لیتا ہے لیکن اپنے لیے وقت نہیں نکالتا جس میں وہ دنیا سے بیگانہ ہو کر اپنے زہین کو سکون دے سکے.
    زمانے کی جدت کے ساتھ ساتھ انسان نے خود کو بھی مشینی روایت میں ڈھالنے کی شروعات کر دی ہے. سارا دن کسی نا کسی کام میں مگن رہتا ہے. رویوں کو سمجھنے پرکھنے میں مشغول رہتا ہے.
    لیکن اپنے دماغ کو کہیں سکون نہیں لینے دیتا.
    مشینی دور کی اس کشمکش نے رشتوں ناطون دوستوں یاروں تعلق داروں سے دوریوں میں اضافہ کر دیا ہے. مسلسل جاری رہنے والی اس تگودو نے انسان کو تھکا کر رکھ دیا ہے.
    انسان اگر اپنی روٹین کم کرتا ہے تو زمانے کو دوڑ سے پیچھے رہتا دکھائی دیتا ہے اور مسلسل دوڑ اسے تھکا دیتی ہے. اسلام نے اسن کا حل دیا ہے اور وہ ہے قیلولہ. جسے جدید سائنس یوگا کے نام سے تھوڑا مختلف نظریہ سے جانتی ہے
    قیلولہ کے صحت پر حیرت انتہائی انگیز فوائد ہیں
    اگر آپ مصروفیت کے دوران دن میں کم از کم 15 سے 20 منٹ کی نیند لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں دماغی کارکردگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انسانی صحت پر اس کے حیرت انگیز فوائد حاصل ہوتے ہیں جنہیں سائنسی تحقیق بھی ثابت کر چکی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، تھکاوٹ اور ذہنی تناؤ سے بچاؤ کے لیے اور ہشاش بشاش زندگی گزارنے کے لیے دن میں کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینا نہایت ضروری ہے جبکہ مصروف ترین روٹین کے سبب بیشتر افراد ایسا نہیں کر پاتے اور دن بہ دن ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگ جاتے ہیں جس کے دور آزما اثرات دکھائی دیتے ہیں.
    ماہرین صحت کے مطابق دوپہر کے دوران قیلولہ یعنی چند منٹوں کی نیند لینے کے سبب انسانی دماغی صحت حیرت انگیز طور پر بہتر ہوتی ہے جس کے مثبت اثرات مجموعی صحت پر آتے ہیں، سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ثابت ہونے والے قیلولہ کے فوائد میں دوپہر میں نیند لینے کے سبب دماغ، اعصابی نظام اور پٹھوں کی کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور دماغی خلیوں کو سکون اور آرام ملتا ہے جس سے دماغی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ صبح سے لے کر رات تک جاگنے والےافراد کو یہ فوائد حاصل نہیں ہوپاتے ۔قیلولہ پر کی جانے والی ایک تحقیق میں دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ جو طالبعلم دوپہر کو قیلولہ کرتے ہیں ان کی جسمانی توانائی بڑھتی ہے اور مزاج بھی خوشگوار رہتا ہے۔
    مزید طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق قیلولہ کا مثالی وقت 10 سے 20 منٹ تک ہوتا ہے، بہت زیادہ دیر تک سونا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق دوپہر کو سونے سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے اور یہ عمل بہتر کاکردگی کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو کچھ دیر سوتے ہیں وہ ریاضی کے مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کر پاتے ہیں۔ طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر کو سونے کے عادی نہیں ہوتے ان میں تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح عموماً زیادہ ہوتی ہے اور ان میں نفسیاتی مسائل کے بڑھنے کے خدشات بھی قدرے زیادہ ہوتے ہیں۔
    قیلولہ نہ کرنے کے سبب انسان مصروف روٹین کے دوران اضطراب اور بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ یہی اس کی بےسکونی اور چڑچڑے پن میں اضافے کا باعث بن جانتی ہے
    اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں خود کے لیے وقت نکالیں قیلولہ کریں صحت مند رہیں

    @EngrMuddsairH

  • غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار  حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    غریب کی نسل کی تعلیم اور اشرافیہ کا کردار حصہ دوم تحریر چوہدری عطا محمد

    دنیا بھر کے غریب ممالک کی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بےروزگاری، غربت جیسے مسائل کی وجہ سے ننھے معصوم بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر مشقت لی جارہی ہے جابجا پھول جیسے بچے گھریلو ملازم ، بوٹ پالش کرتے، ہوٹلوں، چائے خانوں، ورکشاپوں مارکیٹوں،

    چھوٹی فیکٹریوں خشت بھٹوں سی این جی اور پیٹرول پمپوں سمیت بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ بچوں سے جبری مشقت کو ہمارے معاشرے میں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

    کھیلنے کودنے اور لکھے پڑھنے کے دنوں میں ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے اوزار تھامے پھول جیسے معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہو کر کام کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوں تو یقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتا ہے ۔

    بچوں سے مشقت خوشحالی وترقی کے دعویدار معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ اور قوم کی اخلاقی اقدار کی زوال کی علامت ہے۔

    ددوسری طرف امیر ہیں۔ اشرافیہ ہیں ۔ سرمایہ کار ہیں ۔ جاگیر دار ہیں ۔ صنعت کار ہیں ۔ تاجر ہیں ۔ سوداگر ہیں ۔ ان کے بچوں کا غریبوں کے بچوں کے ساتھ کیا مقابلہ کروں ؟ مجھے توان امیروں کے کتے ان غریبوں کے بچوں سے زیادہ معتبر اور خوشحال دکھائی دیتے ہیں
    اچھی خوراک، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک ان کے شکم میں اُترتی ہے ان کی آنکھیں نم ہو جائے تو دنیا کے مہنگے ترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا جاتا ہے ۔ انہیں خالص دودھ پلایا جاتاہے ۔ ان کی خوراک بیرون ملک سے آتی ہے۔ ان کی رہائش بھی ان کے شیان شان ہوتی ہے جب امیروں کے کتے بھونکتے ہیں تو مجھے غریبوں کے بھوکے پیاسے خوراک رہائش، آسائشات اور دواؤں سے محروم بچوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔

    جب دنیا کے ایسے اور خصوصا اپنی ارض پاک کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیا ہمیں ہماری اصل زندگی جو کہہ موت کے بعد شروع ہونی ہے اسکی بلکل بھی فکر یا یاد نہیں ہے کہہ ہم واقعی اپنی موت کو بھول چکے ہیں
    ہماری آنکھوں کے سامنے بچے سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں رزق تلاش کر کے کھاتے نظر آتے ہیں اور یہ منظر دیکھ کر بھی ہمیں اس مالک کی یاد نہیں آتی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے غریب کی محرومیوں پر لکھنے کو اتنا کچھ ہے جو ختم نہیں ہو رہا اگلی تحریر میں مزید کچھ ابھی تک کے لئے اس دعا کے ساتھ اجازت کہہ اللہ پاک ارض پاک کے باسیوں پر خصوصا اور پوری دنیا پر اپنا رحم فرمائیں اور ہمارے دلوں کو منور فرما دیں آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کیا واقعی ہم آزاد ہیں ؟ تحریر ثاقب محمود

    کیا واقعی ہم آزاد ہیں ؟ تحریر ثاقب محمود

    جشن آزادی کا دن گزرا سب نے بہت جوش خروش سے منایا باجے بجائے گانے لگائے آتش بازی کی خوشیاں منائی گئی جی ہم آزاد ہیں بالکل ہم آزاد تو ہیں لیکن سوال یے ہے کہ کیا ہم اخلاقیات سے بھی آزاد ہیں؟ کیا ہم احساسات سے بھی آزاد ہیں؟ اور کیا ہم احترام سے بھی آزاد ہیں ہم آزاد تو ہیں لیکن غلام ہیں ہم نفس کے سوچ کے اور جہالت کے تو جناب من بہت ہی افسوس سے لکھنا پڑھ رہا مجھے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سوچ دے رہیں کیا شعور دے رہے ہیں آزادی کو کس چیز سے تشبیہ دے رہے ہیں ہم آزادی کو آزاد پنچھی کی طرح سمجھنے کی بجائے آزاد جنگلی جانور کی طرح سمجھ رہے ہیں تو پھر اشرف المخلوقات انسان اور حیوانات میں فرق کیا۔ کیا آزادی صرف باجا بجانا موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر شور شرابہ کرنا ڈانس کرنا اور بے جا لوگوں کو تنگ کرنے کا نام ہے کیا؟ کیا جھنڈا لہرانا اور فضولیات ہی آزادی ہے آپکے کتنے بچوں کو علم ہے کے پاکستان کیوں بنا افسوس اگر آپ اپنے بچے کو باجا لے کر دینے کی بجائے یے بتاتے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    اس کو بتاتے کے یے جھنڈا کیوں لہرایا جا رہا ہے اپنے بچوں کو بتاتے کے قائد اعظم محمد علی جناح نے 18 لاکھ بندے کیوں شہید کروائے اپنے بچوں کو بتاتے کے 70 ہزار مسلمانوں کی بہن بیٹیاں کیوں اٹھا کر لے گئے سکھ ہندو اپنے بچوں کو بتاتے کے مسلمانوں نے اپنی بیٹیوں کے گلے کیوں کاٹے اپنے بچوں جو بتائیں کے مسلمانوں کی بہن بیٹیوں نے دریاوں اور کنوؤں میں کیوں چھلانگ لگائی یے بتائیں ساری قوم کو کے پاکستان کتنی قربانیوں سے بنا اور ان قربانیوں کو ہم فضولیات میں رائگاں نہیں جانے دیں گے ان قربانیوں کی باجے بجا کر تذلیل نہیں کریں گے۔
    بتائیں اپنی اولادوں کو کے 1857ء سے لے کر 1947ءتک کتنے علماء کرام اور مشائخ پھانسی چڑھے بتائیں اپنے نسلوں کو کے جو جوانی میں انگریزوں کی جیلوں میں گئے اور بڑھاپے تک جیلوں میں رہے۔بتائیں اپنی آنے والی نسلوں کو کہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے مٹی کے ٹوکرے کیوں؟ اٹھائے۔ یے بتائیں لوگوں کو کے مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کی گردن کاٹ کر دہلی کے چاندنی چوک میں کیوں لٹکائی گئی۔یے بتائیں کے بہادر شاہ ظفر سے چھینی حکومت انگریزوں نے اور بہادر شاہ ظفر کو اس کے بیٹوں اور پوتوں کے سر کاٹ کر ناشتے میں کس نے پیش کئے۔سارے حقائق اپنی اولادوں کو بتائیں پھر سائلنسر کوئی نہیں نکالے گا پھر باجے کوئی نہیں بجائے گا۔ یے آزادی آپ کو ایسے ہی نہیں ملی اس کے پیچھے لاکھوں شہداء کا خون ہے بڑے بڑے علماء کرام اولیاء مشائخ کی جانوں کی قربانیوں کے بدلے یے آزادی ملی ہمیں جسے آپ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر باجوں کے شور اور واہیات حرکتیں کر کے سیلیبریشن کرتے ہو۔اپنے بچوں کو اپنی تاریخ نہ بتا کر اور فضولیات میں لگا کر ہم تاریخ کے اوراق میں سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیں گے۔ محرم الحرام کا مہینہ ہے شہادتوں کا مہینہ تاریخ کی ایک عظیم قربانی جو شہدائے کربلا نے دین اسلام کی سربلندی کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہمیں اس کا بھی احساس نہیں ہم امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کے اس مہینے محرم الحرام کا احترام کرنا بھی بھول گئے اور باجے فضولیات اور آتش بازی گانے اور دیگر فضولیات سے اس عظیم مہینے کی توہین کرکے گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں کل روز قیامت آپ سے پوچھا جائے گا وہ لاکھوں شہداء آپ سے سوال کریں گے کے کیا پاکستان اسی لیا آزاد ہوا تھا کے آپ فضولیات کریں کیا لاکھوں شہداء کا خون ہم رائگاں جانے دیں گے۔اگر آپ حقیقی معنوں میں آزادی چاہتے ہیں تو پھر بجائے فضولیات کے آپ معاشرے میں آزادی کی فضا قائم کریں غلامانہ سوچ سے آزادی نفس سے آزادی گناہوں سے آزادی معاشرے کی ہر برائی سے ریپسٹ سے طاقتور اور کمزور کے فرق سے آزادی رشوت خوری سے آزادی سمگلنگ سے ناجائز تجاوزات سے اور منشیات سے آزادی تو پھر آپ صحیح معنوں میں آزاد ہوں گے ۔اللہ تبارک وتعالی وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھے دشمنان پاکستان اور دشمنان اسلام کے شر سے محفوظ رکھے اور ہماری قوم کو ہدایت دے اور حقیقی معنوں میں گناہوں سے اور ہر برائی سے کورونا وبا سے اور ہر قسم کی مشکلات سے آزادی عطا فرمائے آمین۔

    @Ssatti_

  • یوم آزادی ہم سے تقاضا کر رہا ہے تحریر:اعجازاحمدپاکستانی

    یوم آزادی ہم سے تقاضا کر رہا ہے تحریر:اعجازاحمدپاکستانی

    14 اگست پاکستان کی یوم آزادی کے دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ 14 اگست 1947ء کو ہمارا ملک پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ پاک و ہند جب یہ برصغیر کے نام سے مشہور تھا تب کچھ مسلم رہنماوں نے یہ تجویز پیش کیا کہ چونکہ مسلمان اور ہندو دو الگ لگ قومیں ہیں اور دونوں کا رہن سہن، مذہب و تہذیب سب کچھ الگ ہے تو لہذا یہ دونوں قومیں اکھٹی نہیں رہ سکتی بلکہ مسلمانوں کیلئے الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا اور بٹ کے رہیگا ہندوستان بن کے رہیگا پاکستان کا نعرہ بلند کیا جو کہ مسلمانوں کی جذبات اور احساسات کی ترجمانی کر رہا تھا اور یہی دو قومی نظرئے کی بنیاد بنی۔ مختصر یہ کہ کافی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد پاکستان بنا اور بر صغیر پاک و ہند دو حصوں میں بٹ گیا مسلمان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوگئے۔ اب آتے ہیں آزادی کے مقاصد پہ اور موجودہ دور میں اسکی ضرورت پہ۔
    کیا ہم نے یہ سوچا کہ یوم آزادی ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے؟
    کیا صرف جھنڈیاں اور بیجز لگانا، قومی ترانے اور ملی نغمیں سننا، باجے بجانا، پٹاخے پھاڑنا، موٹر سائیکلوں کے سلینسر نکالنا، موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ کرنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا، ٹویٹر پر ٹویٹس، فیس بک انسٹاگرام پر پوسٹس کرنا، یوٹیوب پر ویڈیوز وائرل کرنا، واٹس ایپ پر سٹوریز اور سٹیٹس لگانا ہی یوم آزادی کا حق ہیں؟؟؟

    نہیں ہر گز نہیں بلکہ 14 اگست یوم آزادی کی خوشیاں منانے سے پہلے ہمیں 74 سال پیچھے جاکر تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا تاریخ کی تناظر میں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد آزاد ہوا ہے؟
    کیا ہمیں یاد ہیں وہ کٹے پٹے انسان وہ لٹے پٹے قافلے۔
    کیا ہم جانتے کہ اس وطن کی خاطر کتنی بیٹیوں نے اپنی عصمتوں کی قربانیاں دی ہیں؟
    کتنی ماوں نے اپنے بیٹوں کو قربان کیا ہیں؟
    کتنے بچے یتیم ہوگئے تھے؟
    کتنے سہاگ اجڑ گئے تھے؟
    کتنی عورتیں بیوائیں ہوگئی تھیں؟
    کیا ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان سے پاکستان تک کے آزادی کے سفر میں ہمارے کتنے بزرگوں نے کتنی جائیدادوں کی قربانیاں دی تھی؟
    پاکستان محض علامہ محمد اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح، شہید ملت لیاقت علی خان، محمد علی جوہر، سردار یار محمد خان، عبدالکلام آزاد، چوہدری رحمت علی اور چند اور مخصوص لوگوں کی بات چیت و گفت شنید سے نہیں بنا بلکہ اس کے لئے اور بھی بہت ساری قربانیاں دی گئی ہیں۔ جس میں ہمارے علماء کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہیں جو وطن عزیز پاکستان کی خاطر شہید ہوگئے تھے۔

    آج 14 اگست یوم آزادی کو ہم نے کیا عہد کئے؟
    کیا آج کے بعد بھی ہم پولیس، رینجرز، پاک فوج، ایف سی اور باقی تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس طرح سے عزت دیں گے جس طرح آج ہم ان کے گن گا رہے تھے۔
    کیا آج کے بعد بھی ہم قومی پرچم کی تقدس و حرمت کو اس طرح بر قرار رکھیں گے جس طرح آج ہم نے دل سے لگایا تھا۔
    کیا آج کے بعد بھی سرکاری عمارات و املاک کی اس طرح سے خیال رکھیں گے جس طرح ہم آج اس کے در و دیوار چھوم رہے تھے۔
    کیا آج کے بعد بھی اس طرح ایک ہی صف میں صرف پاکستانی بن کر کھڑے ہونگے یا پھر سے فرقوں اور جماعتوں میں بٹ جائیں گے۔
    کیا آج کے بعد بھی آئین پاکستان کی پاسداری کریں گے اور تمام قوانین کو مانیں گے۔
    کیا آج بعد بھی ہم ٹریفک سگنل نہیں توڑیں گے جو کہ قانون کے مطابق جرم اور شریعت کی رو سے ایک گناہ ہے۔
    کیا آج کے بعد بھی اسی طرح سے بھائی چارے، یگانگت، اتفاق و اتحاد، نظم و ضبط کو بر قرار رکھیں گے۔
    کیا 15 اگست سے بھی ہم پاکستانی ہی رہیں گے یا پھر سے ایک دوسرے کی جان کے در پے ہوجائیں گے۔
    کیا آج ہم نے اپنے بچوں کو پاکستان کی آزادی کے پیچھے جدوجہد اور قربانیوں کے بارے میں بتایا۔
    کیا ہم ان کے ذہن اور لاشعور میں یہ بٹھا سکے کہ فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آئین پاکستان کی ہمیشہ عزت و پاسداری کرنی ہیں اور قانون کو مقدم رکھنا ہے اور کھبی بھی کسی بھی صورت میں آئین شکنی و قانون شکنی نہیں کرنی۔
    کیا ہم نے یہ پڑھایا کہ کھبی ایسے مقام پر پہنچو کہ جہاں موقع مل بھی رہا ہو تب بھی رشوت ستانی سے بچنا ہے کیونکہ یہ قانون کے مطابق جرم اور شریعت کی رو سے گناہ ہے۔
    کیا ہم ان کو یہ سمجھا سکے کہ پڑوسیوں کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے اور کس طرح کے اخلاق رکھنے ہیں۔
    کیا ہم یہ سمجھا سکے کہ اپنے سے چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے عزت سے پیش آنا ہے۔
    کیا ہم نے انکو صبر و شکر، ہمت و استقلال اور برداشت کا سبق دیا۔
    کیا ہم انکو یہ سمجھا سکے کہ کھبی بھی ظلم و ظالم کا ساتھ نہیں دینا ہے اور کھبی مظلوم کا ساتھ نہیں چھوڑنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔
    کیا ہم یہ سمجھا سکے کہ اس ملک خداداد پاکستان کو ہمیشہ صاف ستھرا اور ہرا بھرا رکھنا ہے اور کوشش کرنا ہے کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائے اور اسی کو اپنا شعار بنالے۔
    کیا ہم یہ سمجھا سکے کہ قومی پرچم کو جیسے آج دل سے لگایا تھا اور چھوم رہے تھے اس طرح آئندہ بھی اس کی تقدس اور عزت و حرمت رکھنی ہے۔
    کیا ہم یہ سمجھا پائے کہ جس طرح آج ہم ایک دوسرے سے پیار و محبت، شفقت و عزت سے پیش آرہے تھے تو آئندہ بھی اسکو دوام بخشیں گے اور امن و محبت کو فروغ دیں گے۔

    اگر ہم یہ سب کچھ سمجھا چکے تو گویا ہم نے آج کی یوم آزادی کی حق ادا کردی اگر نہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم اس ملک کو کس طرح کی مستقبل دینے جارہے ہیں جو وطن کی آزادی کی قیمت تک سے نا آشنا ہوگا۔
    اللہ ﷻ وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے ملک کو اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ فرمائے۔ رب ذوالجلال وطن عزیز میں امن و استحکام فرما۔ اے پروردگار! ہماری معیشت کو مضبوط فرما۔ مہنگائی و بیروزگاری کو ہم سے دور فرما۔ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم قرآن، دین اسلام اور اخلاق محمدی ﷺ سے مزئین فرما۔ ہمارے ملک کو دنیا میں ممتاز مقام عطاء فرما۔ پاکستان کو دنیائے اسلام کا قلعہ بنا۔ حق کا بول بالا فرما۔ باطل کو مغلوب فرما۔
    آمین۔

    Twitter Handle:
    @IjazPakistani

  • مہنگائی اور عام آدمی  تحریر:ذیشان علی

    مہنگائی اور عام آدمی تحریر:ذیشان علی

    اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بہت سے طبقات کے لیے پریشان کن ہوتا ہے وہ افراد جو کہیں معمولی سی جاب کرتے ہیں اور وہ لوگ جو دیہاڑی دار مزدور ہیں اور وہ طبقہ جو کھیتی باڑی کرتا ہے مہنگائی سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے،
    اگر کسی ملازم کی بیس پچیس ہزار تنخواہ ہے اور اس کے گھر کا خرچہ اس تنخواہ میں بمشکل پورا ہوتا ہے تو اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ اس کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے،
    مزدور جو کہ روزانہ کی اجرت پر کام کرتا ہے اگر وہ صبح سے شام تک کام کرکے آٹھ سو روپے کماتا ہے تو اسے بھی یقیناً مہنگائی کی وجہ سے مشکل وقت سے گزرنا پڑ سکتا ہے،
    اگر دیکھا جائے تو 800 روپے ایک دن کے لیے ناکافی ہے موجودہ حالات میں تو ایک شخص یا دو سے تین افراد مشکل ہی سہی لیکن گزارا کر لیں گے کیونکہ ہر شخص اپنی آمدنی کو دیکھ کر اپنے گھر کا بجٹ بناتا ہے لیکن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ یعنی مہنگائی ان کے اس بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے جو انہوں نے بمشکل کھینچ تان کر کفایت شعاری سے بجٹ بنایا ہوتا ہے،
    مہنگائی ایک ایسی بلا کا نام جو دن بدن ہمارے معاشرے میں اپنے پنجے مضبوط کر رہی ہے اس کی ایک وجہ حکومت کی ناکام پالیسیاں بھی ہو سکتیں ہیں اور دوسری وجہ بھی حکومت سے تعلق رکھتی ہے کہ مکمل طور پر سنجیدگی سے ایشا کے حکومتی ریٹ پر تاجروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اسی مقرر کردہ ریٹ پر اشیاء کو فروخت کریں گے،
    اس کی جانچ پڑتال کرنا سبزی منڈی کے بیوپاریوں ٹیکسٹائل تاجروں اور مرچنٹ تاجروں پر نظر رکھنا سب حکومتی اداروں کا کام ہے،
    اور تیسری بڑی وجہ کے انٹرنیشنل سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کا سبب بنتا ہے اور اس کے متعلق تو کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا جب تک عالمی طور پر قیمتوں میں کمی کی جائے،
    لیکن ایسے ٹائم پیریڈ میں حکومت عوام کے لیے سبسڈی نام کی ایک سہولت مہیا کرتی ہے جس سے نچلا طبقہ مستفید ہوتا ہے بشرطیکہ سبسڈی کا صحیح استعمال کیا جائے اور حقدار ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں،
    مہنگائی پر کچھ چیدہ چیدہ باتیں ہیں جو ہم آپ سے شیئر کر رہے ہیں مہنگائی سے متاثر افراد کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جسے یہاں پر بیان کرنے سے یہ تحریر ایک کتاب کی شکل اختیار کر جائے گی،
    چاہتے ہیں کہ مختصر سی تحریر ہو اور اس میں صرف ایسی ہی چند بنیادی باتوں کا ذکر کیا جانا مناسب ہے،
    میرا مقصد کسی سیاسی جماعت یا حکومت پر الزام تراشی کرنا ہر گز نہیں ہے لیکن حکومت ہی مہنگائی اور دیگر اہم چیزوں کی ذمہ دار ہوتی ہے مثلاً بیروزگاری کی شرح میں اضافہ اشیاء خورد نوش میں ملاوٹ کے رجحان کو روکنا جیسے بنیادی عوامل شامل ہیں،
    ایک تو مہنگی چیز خریدی جائے اور دوسری وہ ملاوٹ سے پاک نہ ہو تو ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے،
    چونکہ ہمارا موضوع مہنگائی اور عام افراد ہیں اس لیے باقی چیزوں پر تبصرہ کرنا غیر ضروری ہے،
    مہنگائی سراسر نچلے طبقے کا ہی زیادہ مسئلہ ہے جن کی آمدنی ان کے اخراجات سے تھوڑی کم یا پھر ان کے اخراجات کے برابر ہے،
    اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا اور علاج معالجہ اور دیگر اخراجات کیسے وہ اپنی مختصر سی آمدنی میں پورے کر پاتے ہیں،
    بجلی اور گیس کے بل اور بچوں کے سکولوں کی فیسوں کے اخراجات عام آدمی کے لیے پورا کرنا بہت مشکل ہو جاتا،
    اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے وہاں کے معاشروں میں لوگوں کی جیب کاٹنا، گاڑیاں چھیننا، موبائل چوری کرنا جیسے جرائم بڑھ جاتے ہیں،
    ہمارے معاشرے کو اللہ ان جرائم سے محفوظ رکھے اور صبر کے ساتھ حلال کمانے اور حلال کھانے کی توفیق دے،
    ہماری حکومت پاکستان نے عام آدمی کے علاج معالجے کے لیے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا تھا اور یہ عام آدمی تک پہنچا ہے اور اس کے علاوہ احساس پروگرام بھی شروع کیا ہے جس کے ذریعے مستحق افراد تک پیسہ پہنچایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات کو پورا کر سکیں،
    میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنا اور مہنگائی کی شرح کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدام کرنا زیادہ بہتر ہے کہ ہر شخص خود کفیل ہو اس کی آمدنی اس کے اخراجات سے زیادہ ہو وہ اور خوشحال زندگی بسر کر سکے،

    @zsh_ali