Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تعلیمی اداروں سے منشیات کے اڈوں تک  تحریر: آصف شاہ خان

    تعلیمی اداروں سے منشیات کے اڈوں تک تحریر: آصف شاہ خان

    آپ کسی بھی علاقے سے ہیں، کسی بھی فیلڈ سے ہیں، لیکن اگر آپ ریسرچر ہیں، ریسرچ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا ریسرچ نشئی لوگوں پر ہو تو آپ فُٹ پاتھ پر پڑے چند ہیروئن پینے والوں کے بجائے بڑے شہروں کے بڑے کالجز ، یونیورسٹیز اور اس کے ہاسٹلز کا دورہ کرلیں تو آپ کو اچھے اچھے برینڈیڈ کپڑوں میں ملبوس بڑے بڑے نشئی مل جائیں گے۔ ہاں آپ نے صحیح پڑا میں کالجز اور یونیورسٹیز کی بات کر رہا ہوں "بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی” ۔۔۔۔ آپ بڑے شہروں کے بڑے کالجز اور یونیورسٹیز کا دورہ کرلیں اور وہاں حساب کتاب لگائیں تو آپ کو کم از کم چالیس فیصد لوگ نشوں میں مبتلا نظر آئینگے۔ اس میں اعلیٰ نسل کے شریف گھرانوں کے چشم و چراغ بھی ہونگے۔
    خاص کر کہ ان اوقات میں جن میں کلاسز اور آفس ورکنگ ٹائم ختم ہو جائے۔ آپ سنسان گراؤنڈز اور ان اطراف پر جائیں جہاں کوئی نہیں جاتا تو آپ کے ذہن میں ضرور یہ شعر آئیگا جب نشیوں کے تماشے دیکھیں گے۔

    "بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے”

    آپکے ذہن میں یہ سوال بھی آئےگا کہ آخر کیوں؟؟

    "شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

    کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا”

    تو آئیے میں اپنے مشاہدات کے بنیاد پر کچھ وجوہات اور اس سے متعلقہ حل بتاتا ہوں۔ زیادہ تر وہ طلباء اور طالبات نشوں کے لت میں مبتلا ہوتے ہیں جنہیں کسی نہ کسی جگہ سے پریشانیاں لاحق ہوتیں ہیں۔ مثلاً مارکس کم آئے ، پیپرز میں فیل ہوگیا، فلاں استاد غصّہ ہے وہ ہمیں فیل کریگا، گھر کیا بتاؤں گا، گھر میں فلاں مسئلہ ہے وغیرہ۔
    دوسری وجہ وہ کم ظرف لوگ جو دوستی کے نام پر اس لئے اپنا حلقہ بڑھا دیتے ہیں کہ کل اس کو اگر ضرورت پڑ جائے تو یہ نئے نشئی ان کو نشہ مہیا کریں گے۔
    تیسری وجہ محبت کے نام پر عادت والا دردِ سر جو آج کل لوگوں کو کسی کی عادت ہو جاتی ہے اور اس کو محبت کا نام دے کر اپنے لئے درد سر لیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ اکثر جوان نسل عادت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کو محبت جسے رشتے کا نام دے دیتے ہیں بعد میں ان میں سے ایک کم ظرف کھیل جاتا ہے اور دوسرا ڈپریشن کا شکار ہو کر نشے کی طرف آ جاتا ہے تاکہ وقتی نجات پائے۔
    چوتھی وجہ ماں باپ کے طرف سے بنا حساب کتاب کے بچوں کو زیادہ پیسے دینا۔ ایسے بچے جن کو ماں باپ بنا پوچھ گچھ کے اس کے ضروریات سے زیادہ پیسے دیتے ہیں ایسے بچے موج مستی میں اس طرف بڑھ جاتے ہیں۔

    لیکن یہاں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ آخر ڈپریشن کے وجہ سے یہ بچے نشے کی طرف کیوں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔
    اصل میں ایک طرف ڈپریشن ہوتا ہے دوسری طرف فری ہینڈ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہاں فری ہینڈ سے میری مراد یہ ہے کہ بچے پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہوتا ہے، نہ ماں باپ اور نہ متعلقہ ادارے۔ ہوتا یوں ہے کہ داخلہ دلوا کر گھر کے بڑے کبھی اس کے پاس جاتے نہیں، اور جاتے بھی ہو تو پہلے سے اس کو بتایا جاتا ہے کہ ہم آ رہےہیں۔
    اس فساد کے بڑھنے کی دوسری وجہ ڈرگز کے خرید و فروخت نے ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے اور بڑے بڑے طاقتور لوگ اس کے پیچھے ہیں۔ اور یہ ڈرگز ڈیلرز بلا خوف دھندہ چلاتے ہیں۔ متعلقہ ادارے خود ایمانداری سے کام نہیں کرتے ہیں اور ان میں جو بعض کام کرتے ہیں ان کو کچھ قوم کے دشمن کام کرنے نہیں دیتے ہیں۔
    تیسری بات معاشرہ کا گرا ہوا مورال بڑے شہروں میں کوئی چھوٹا غلط کر رہا ہو تو نہ کوئی بڑا کچھ کہتا ہے اور نہ چھوٹا یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ میری فائدے کے لیے کہہ رہا ہے۔ آگر کہہ دے بڑا تو جوابا کہتا ہے کہ "آپ کون ہو سمجھانے والے؟”۔
    ظاہری سی بات ہے کہ ایک بے عقل جوان کو فری ہینڈ ہو اور دوسری طرف آسانی سے نشہ مل رہا ہو اور اسے تھورا سا ڈپریشن لاحق ہو تو وہ اس طرف ہی بڑھے گا۔

    یاد رہے اگر ہم نے بحیثیت قوم اس بڑھتے فساد کو روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے تو ہمیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ ہمارا مستقبل ان نشیوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ میرے خیال میں جو عملی اقدامات ہیں ان میں سب سے پہلے ماں باپ اور گھر کے بڑوں کو حصہ لینا ہوگا کہ مہینے دو میں کم از کم ایک بار بڑوں کو بچے کے پاس اچانک جانا چاہیے تاکہ اس کے دل میں یہ خوف ہو کہ کسی بھی وقت گھر سے کوئی آسکتا ہے۔ والدین اپنے تربیت پر صرف یقین نہ رکھیں کیونکہ انسان کے پیٹ میں کسی بھی وقت کسی بھی طریقے سے جانے والا ایک حرام کا نوالہ کسی بھی وقت رنگ لا سکتا ہے اور کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ چاہیے ارادی ہو یا غیر ارادی اس نے حرام کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے، لہذا صرف تربیت پر یقین نہ رکھیں۔ اور ساتھ ساتھ والدین معمولی باتوں پر بچوں کو نہ ڈانٹیں۔ اگر بچے کے پاس علم ہو تو مارکس کی کوئی ضرورت نہیں اس پر بچوں کو ڈپریشن نہ دیں۔ اساتذہ بھی والدین جیسے ہوتے ہیں لہذا اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ضد نہ کریں اور ان کے بس سے زیادہ کام نہ لے۔ ان کی غلطیوں کو درگزر کریں۔ تمام متعلقہ ادارے اس قوم کے خاطر ان منشیات کے خلاف جہاد کریں ایسا نہ ہو آج کوئی اور نشہ کر رہا ہو اور کل ہمارے ہر گھر میں یہ رواج بن جائے، اپنے زمہ داری نبھائیں۔
    آخر میں، میں ان لوگوں کیلئے جو نشے میں مبتلا ہے ، جو منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں اور عام افراد کیلئے یہ عرض کرونگا کہ: جو بچے نشے کے طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ مت بھولنا کہ آپ کے سرپرست کیسے مشکل سے کما رہا ہے اور تیری ماں کتنے ارمان دل میں لئے بیٹھی ہے ڈپریشن، کسی کی کم ظرفی اور وقتی سکون کی خاطر ان کو سزا نہ دیں۔
    جو لوگ منشیات فروش ہیں ان کے لیے اتنا کہتا ہوں اللّہ نے تمھیں انسان بنا کر پیدا کیا تھا لیکن افسوس جانوروں سے بھی گرے تم۔
    اور عام عوام کیلئے یہ پیغام ہے کہ نشے کے ان حماموں میں صرف ابنِ آدم نہیں بلکہ بنتِ حوا بھی برابر کے نہا رہی ہے ان بچیوں کے عصمتوں کو بچائیں خدارا آج قوم کی خاطر لڑیں اس فساد کی خاطر اپنا حق ادا کریں تاکہ کل آپ کے بچے بھی امان میں ہو۔۔۔۔
    __________________

    @Ibnepakistan1

  • خوش اخلاقی، کامیابی کی پہلی سیڑھی   تحریر :اقصٰی صدیق

    خوش اخلاقی، کامیابی کی پہلی سیڑھی تحریر :اقصٰی صدیق

    اگر میں یوں کہوں کہ خوش اخلاقی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا ۔خوش اخلاقی اخلاقیات کی ہی ایک شکل ہے۔اخلاقیات میں آپ کے رہن سہن، بول چال کا انداز ، رکھ رکھاؤ اور تربیت کا پتہ چلتا ہے ۔
    مختصر یہ کہ اخلاقیات آپ کے اخلاق کا پتہ دیتی ہیں۔اور آپ کا اخلاق یہ واضح کرتا ہے، کہ آپ کس کردار کے مالک ہیں۔ اخلاقیات کا عنصر تو ہمارے بزرگوں میں پایا جاتا تھا۔جبکہ جدید دور کی موجودہ نسل اخلاقیات جیسے عناصر سے عاری ہے۔
    آج کے اس دور میں ہم بیرونی طور پر خود کو سنوارنے میں مگن ہیں، لیکن اندرونی طور پر بالکل کھوکھلے ہیں ۔انسان کا اچھا لباس نہیں، بلکہ اس کا اچھا اخلاق اس کی پہچان ہے۔
    میرا یہ ماننا ہے کہ خوش اخلاقی آپ کا اچھا اخلاق ہی آپ کو دوسروں کی نظر میں معتبر بناتا ہے۔

    خوش اخلاقی ایک اچھا اخلاق ہے کیا؟

    خوش اخلاقی یہ ہے کہ جب آپ کسی سے مخاطب ہوں، تو آپ کے چہرے پہ مسکراہٹ، لہجے میں شائستگی ہو، اور دوسروں کےلیے آپ کے دل میں ادب و احترام ہو۔ناقابل برداشت بات کا جواب بھی محبت سے اور احترام سے دیں۔
    آپ کا اخلاق ایسا ہونا چاہئے جب کوئی شخص آپ سے ملے، تو وہ آپ کو بعد میں اچھے لفظوں میں یاد رکھے، ذندگی میں دوبارہ آپ سے ملنے کی جستجو رکھے، نہ کے آپ کا اخلاق ایسا ہو کہ وہ آپ کو دوسروں کے سامنے بداخلاق کے طور پر پیش کرے۔آپ کی خوش اخلاقی ہی آپ کے اچھے یا برے ہونے کی پہچان ہے۔بیرونی خوبصورتی آپ کی اصل خوبصورتی نہیں ہے، آپ کا باطن، (انسان کا اندر) آپ کی اصل اور کبھی نہ ختم ہونے والی خوبصورتی ہے۔
    انسان تو نام ہی انسانیت کا ہے اور انسانیت آپ کے اچھے اخلاق اور خوش اخلاقی کے ہنر سے وجود میں آتی ہے۔
    بغیر اچھے اخلاق، انسانیت اور خوش اخلاقی کے کوئی انسان ‘ انسان کہلانے کے لائق نہیں۔کیوں کہ اس کے بغیر انسان اور جانور میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا،

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ جس انسان کا اخلاق اچھا ہوتا ہے لوگ اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے بات کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
    خوش اخلاقی انسان کی فطرت میں ایک ایسی مٹھاس گھولتی ہے، کہ اس کا ہر عمل دوسروں کے لئے خوشگوار اور خوشی کا باعث بن جاتا ہے۔
    خوش اخلاق انسان اللّٰہ رب العزت کو بہت پسند ہے، جبکہ خوش اخلاقی سے عاری انسان اللّٰہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
    خوش اخلاقی اور ایک اچھا اخلاق رکھنے والا شخص انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتا ہےاور اپنے اچھے اخلاق و عادات کی وجہ سے قیمتی بن جاتا ہے۔
    مختصر لفظوں میں خوش اخلاقی کامیابی کا راز ہے ہر کامیاب شخص کی کامیابی کے پیچھے اس کے اچھے اخلاق ہوتے ہیں،
    حسن اخلاق(خوش اخلاقی) کی وجہ سے انسان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں۔

    انسانی معاشرے کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہے۔
    دین اسلام ہمارے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اور اس (دین اسلام) سے ہمیں ہر طرح کی مکمل رہنمائی ملتی ہے۔ ہمارے پیارے نبیؐ اعلیٰ حسنہ اخلاق کے مالک تھے آپؐ کی حیات طیبہ پوری انسانیت کے لئے ایک بہترین عملی نمونہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
    لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
    "بے شک رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترين نمونہ ہے۔،(سورۃ الاحزاب، 22)

    ایک اور جگہ پر اللّٰہ رب العزت نے فرمایا کہ
    ” بیشک ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے آپؐ کا قول و فعل اعلیٰ ہے، پس’’لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا معاملہ کرو‘‘

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    مومنین میں زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ” نبی کریم ﷺ چلتے پھرتے قرآن تھے” ۔

    اسی طرح دین اسلام میں ہمیں اخلاق اور اس کی اہمیت کے بارے میں بہت سی اسلامی تعلیمات ملتی ہیں۔
    ہمارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ مکمل نمونہ حیات ہے، اور آپ ﷺ خوش اخلاقی کے عظیم الشان مرتبے پر فائز ہیں۔
    خوش اخلاقی کی صلاحیت آپ کے اندر قدرت کی طرف سے موجود ہے، یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے اپنے لیے استعمال کرتے ہیں۔
    اور اگر آپ اس صلاحیت سے محروم ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ کے اندر پیدا کرنے کی صلاحیت کہیں نہ کہیں تو ضرور رکھی ہو گی۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ دوسرے لوگ اس سے اچھے اخلاق یا خوش اخلاقی سے پیش آئیں لیکن اس پر خود عمل کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
    ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر خوش اخلاقی جیسی عظیم صفت پیدا کریں، کیونکہ ہمارے اندر کی یہی صفت ہماری دنیا بدل کر رکھ دے گی ۔
    آج معاشرے میں خوش اخلاقی کا فقدان نسل نو کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔
    اسلئیے ہمیں چاہیے کہ ہم اچھی اخلاقیات اپنائیں،اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں اور سنت کے مطابق اپنی زندگی گزاریں، یہ زندگی بہت قیمتی چیز ہے اور یہ ہمیں ایک ہی بار ملنی ہے۔
    تو کیوں نہ ہم اپنی اس زندگی کو بامقصد بنائیں، خود کو بہتر بنائیں،خوش رہیں خوشیاں بانٹیں، دوسروں کے کام آئیں، زندگی ایسے گزاریں کہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں بستے رہیں۔اور اس کے لیے کبھی فرصت کے لمحات میں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا سوچیں۔
    اللہ رب العزت ہمارے نیک مقاصد میں ہمارا حامی و ناصر ہو۔آمین

    @_aqsasiddique

  • بڑھتا ہوا انرجی بحران ایک خطرے کی گھنٹی  تحریر: شمسہ بتول

    بڑھتا ہوا انرجی بحران ایک خطرے کی گھنٹی تحریر: شمسہ بتول

    قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمیں جہاں غربت، بیروزگاری جیسے مساٸل کا سامنہ ہے وہاں دورِ حاضر میں energy crises یعنی کے انرجی بہران کا مسٸلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے تواناٸی بحران میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تواناٸی کے بحران نے ہماری معیشت پر بہت سے منفی اثرات مرتب کیے ہیں ۔ recession کی ایک وجہ کہیں نہ کہیں انرجی کا بحران بھی ہے۔ انرجی کے وساٸل کی قلت کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت بہت زیادہ بڑھ گٸی ہے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوٸی اور پھر انڈسٹریل سیکٹر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوۓ ان کی پیدا کردا اشیاء کی لاگت میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے صنعت کاروں نے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور پھر اس سے صارف طبقے کی قوت خرید کم ہو گٸی کیوں کہ آمدنی میں تو کوٸی اضافہ نہیں ہوا۔ پیٹرول گیسولین LPG اور CNG کی قیمتیں بھی بڑھ گٸی جس کی وجہ سے ذراٸع آمدورفت کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس طرح دیگر اشیاۓ خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ غرض یہ کہ کس طرح ایک مسٸلہ نے پورے ملک کی معیشت کو کس قدر خطرناک حد تک متاثر کیا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انرجی کا بحران کس قدر نقصان دہ ہے ملکی ترقی کی راہ میں۔
    اب وقت کی اشد ضرورت ہے کہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی ترقی ، بہتری اور اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ موجودہ ذرائع کے تحفظ اور محتاط استعمال اور بہتر انتظام کے لیے مزید بھرپور طریقے سے کام کیا جائے تا کہ ابھی سے اس مسٸلہ پر قابو پایا جا سکے اور ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے
    پاکستان کی تاریخ میں دور حاضر میں پاکستان کو سب سے زیادہ انرجی بحران کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے حتی کہ مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر کسی نے اس مسٸلہ پر توجہ نہیں دی بلکہ ہر نٸی آنے والی حکومت نے پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھرایا کہ انہوں نے وساٸل کا صحیح استعمال اور اس کا تحفظ نہیں کیا
    ہماری آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر اس حساب سے انرجی کے وساٸل نہیں بڑھ رہے۔ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ‘آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کو یقینی بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات روز بروز بڑھ رہی ہیں اور نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی استحکام توانائی کے وسائل کی دستیابی سے منسلک ہے۔
    انرجی کے بہت سے ذراٸع کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے لیکن اتھارٹیز اس طرف توجہ نہیٗ دے رہیں اور hydrocarbons کی بہت بڑی تعداد کو بیرون ملک سے درآمد کیا جا رہا ہے جس سے ہماری انرجی کی ضروریات پوری ہو تو رہی ہیں کچھ حد تک مگر اس کی لاگت زیادہ ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انرجی کے وساٸل کا بے دریغ استعمال نہ کریں اور جن زراٸع کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ان پر کام کریں اور انرجی کے زراٸع کا تحفظ یقینی بناٸیں۔ ایندھن کی فراہمی میں چوری اور ملاوٹ کو کم سے کم کریں۔ بجلی کی پیداوار میں عالمی معیار کی کارکردگی کو فروغ دیں۔
    بجلی چوری سے قومی خزانے کو تقریباً سالانہ 140 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ بحثیت قوم ہمیں سوچنا ہو گا اور اپنے رویوں کو ٹھیک کرنا ہو گا ۔
    غیر جانبدار اور خراب تقسیم کی وجہ سے تقریباً 15 سے 20% تک تواناٸی کا ضیاع ہو رہا ہے اور یہاں تک کے حکومت بھی اس معاملے میں بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے انرجی کا سب سے زیادہ ضیاع elite طبقہ کر رہا ہے ۔ بحیثیت شہری ہم سب کا فرض ہے کہ ہم توانائی کے بے جا استعمال سے گریز کریں تا کہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے توانائی کے منصوبوں کو بہتر اور منظم طریقے سے مانیٹر کرنا ہو گا اور توانائی کے شعبے کو ہر قسم کی کرپشن اور بے ضابطگیوں سے پاک کرنا ہو گا۔ صرف اسی صورت میں ہی توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
    @b786_s

  • پاکستان اور ويسٹ انڈيز کي ٹيسٹ تاريخ تحریر: انيلا سلطان

    پاکستان اور ويسٹ انڈيز کي ٹيسٹ تاريخ تحریر: انيلا سلطان

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز آج سے کنگسٹن میں شروع ہوگی۔ ميچ کے پانچوں روز بارش کي پيشگوئي کا امکان ہے۔ پاکستان نے ٹيسٹ سيريز کيلئے 19 رکني اسکواڈ کا اعلان کرديا ہے۔ اسکواڈ کا اعلان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ورچوئل پریس کانفرنس میں کیا۔ کپتان بابراعظم نے ہیڈ کوچ مصباح الحق کی مشاورت سے حارث رؤف اور محمد نواز کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچز سبینا پارک کنگسٹن میں کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ آج سے شروع ہوگا اور دوسرا ميچ 20 اگست سے شروع ہوگا۔ یہ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں، لہٰذا دونوں ٹیمیں سیریز میں عمدہ کارکردگی پیش کرکے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل کے کامیاب آغاز کے لیے پرامید ہیں۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلی جانے والی یہ 18ویں ٹیسٹ سیریز ہوگی۔ دونوں ٹیموں کے مابین کھیلی گئی گزشتہ 17 ٹیسٹ سیریز میں سے 6 پاکستان اور 5 ویسٹ انڈیز نے جیتیں جبکہ 6 برابری کی بنیاد پر ختم ہوگئیں۔ مگر ويسٹ انڈيز کي سرزمين پر پاکستان صرف ايک سيريز جيتنے ميں کامياب ہوا اور اسے آٹھ ميں سے چار سيريز ميں شکست ہوئي جبکہ 3 سیریز ڈرا ہوگئیں۔ دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ 2017میں کیریبیئن سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ ميں مدمقابل آئی تھیں۔ تین میچز پر مشتمل اس سیریز میں پاکستان نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے سات وکٹوں، دوسرے میں ویسٹ انڈیز نے 106 رنز جبکہ آخری میچ میں پاکستان نے 101 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ چار سال قبل کھیلی گئی اس سیریز میں یاسر شاہ کو عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس سیریز میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 271 رنز بنانے والے مصباح الحق فی الحال جمیکا میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں جبکہ سیریز میں 261 رنز بنانے والے پاکستان کے دوسرے بہترین بیٹسمین اظہر علی بھی موجودہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 52 ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں،جس میں سے 20 پاکستان اور 17 ویسٹ انڈیز نے جیتے ہیں۔ اس دوران 15 ٹیسٹ میچز ڈرا رہے ہیں۔ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ رینکنگ ميں پاکستان کا 5 واں اور ویسٹ انڈیز کا 7واں نمبر ہے۔ اگر پاکستان کی ٹیم اس سیریز میں وائٹ واش کرتی ہے تو اس کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم ویسٹ انڈیز کی ایک درجہ تنزلی ضرور ہوجائے گی جبکہ ویسٹ انڈیز کے سیریز وائٹ واش کرنے کی صورت میں میزبان ٹیم کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم پاکستان ایک درجہ تنزلی کرجائے گا۔ سیریز 1-1سے برابر ہونے کی صورت میں کسی بھی ٹیم کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے کپتان بابراعظم اوراظہر علی آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز بیٹنگ رینکنگ میں بالترتیب 10ویں اور 17ویں نمبر پر موجود ہیں۔ میزبان ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے 40 بلے بازوں میں شامل نہیں ہے۔ بولنگ میں ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر اور کیمار روچ بالترتیب 11ویں اور 13ویں جبکہ پاکستان کے حسن علی اور محمد عباس مشترکہ طور پر 15ویں پوزیشن پر موجود ہیں۔

  • عظیم بھائی کی عظیم بہن: فاطمہ جناح  تحریر: حمزہ عمران

    عظیم بھائی کی عظیم بہن: فاطمہ جناح تحریر: حمزہ عمران


    کسی بھی شخصیت کو جاننے کا عمل اس صورت میں مکمل ہو سکتا ہے جب اس کے ظاہر و باطن دونوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہر شخصیت کا ایک داخل ہوتا ہے اور ایک خارج، دونوں کے اتصال سے شخصیت وجود میں آتی ہے اور دونوں کے ملاپ سے ہی ایک شخصیت کا تاثر ابھرتا ہے۔۔۔
    اعلیٰ علمی و ادبی شخصیات نفسیاتی اعتبار سے بے حد پیچیدہ ہوتی ہیں اور انہیں سمجھنا آسان نہیں ہے، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ اپنی مثال آپ تھیں۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح اپنے ظاہری خدو خال میں قائد اعظم کی ہو بہو تصویر تھیں، بلند وبالا قد، گلابی چہرہ ، ستواں ناک ، آنکھوں میں بلا کی چمک جس سے ذہانت ٹپکتی تھی ۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح خوش طبع و شگفتہ مزاج خاتون تھیں ، عام گفتگو ہو یا خاص، عام محفل ہو یا خاص ہمیشہ بڑی بلاغت سے بات کرتیں تھیں ، وہ کسی شخص پر براہِ راست حملہ نہ کرتیں بلکہ ہنسی ہنسی میں ایسے الفاظ استعمال کر جاتیں تھیں جن سے دوسرا آدمی خاموش ہو جاتا تھا ۔۔
    حق گوئی و بیباکی ، امانت و دیانت، بردباری ، سلیقہ شعاری اور وفاداری جیسی خوبیوں کا فرد واحد میں یکجا ہونا بہت کم دیکھنے میں ملتا ہے لیکن محترمہ فاطمہ جناح میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔۔۔۔۔
    سیاست کا میدان ہو یا خدمت خلق کے کام ، محترمہ فاطمہ جناح ہر جگہ کارفرما نظر آتی تھیں۔ عوام کی خدمت کا جذبہ ان میں اس حد تک تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے عملہ کے ساتھ مصروف عمل دکھائی دیتیں۔۔۔۔
    مہاجرین کی مدد اور آباد کاری میں محترمہ نے دن رات ایک کر دیا اس حوالے سے رقم کی سخت ضرورت تھی ، محترمہ فاطمہ جناح نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے تحت
    سات ہزار روپے کا چندہ جمع کیا گیا۔ 13 ستمبر 1947 کو آپ نے اس کمیٹی کا اجلاس اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور مختلف امدای کاموں میں رابطہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مہینہ میں دو بار ورک پارٹی اور سلائی پارٹی منعقد کرنے کے لیے گورنمنٹ ہاؤس پیش کر دیا ۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح درد مند دل رکھتی تھیں، وہ رضاکار خواتین کے ساتھ کام کرتی ہوئیں نظر آتیں، کبھی گورنمنٹ ہاؤس کی چھت پر لحاف بچھے ہوتے اور محترمہ انھیں ٹانکنے میں مصروف ہوتیں تو کبھی مہاجرین کے لئے سویٹر بنتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔
    15 اکتوبر 1947 کو پیراڈائز سینما میں محترمہ فاطمہ جناح کی ہدایت پر ایک خیراتی شو کا انتظام کیا گیا جس سے ساڑھے پانچ ہزار روپے آمدن ہوئی ، یوں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف وسائل اور پروگراموں کے زریعے ایک لاکھ تین ہزار چھ سو اٹھاون روپے جمع ہونے اور یہ سب کچھ محترمہ فاطمہ جناح کی کوششوں کا نتیجہ تھا، وہ عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے کاموں میں بہت زوق و شوق سے حصہ لیتی تھیں، عوام کے دکھ سکھ بانٹ کر انہیں قلبی سکون حاصل ہوتا تھا۔ بقول اقبال ،
    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے ۔۔۔
    میں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح سیاست کو عبادت سمجھتی تھیں، وقت کے تقاضے اور اس دور کی اہم ضرورت کے تحت سیاست میں دلچسپی لی اور برابر قائد اعظم کی ہدایت پر عمل کرتی رہیں۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد بھی قوم کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا اور جب ملک اندرونی دشمنوں میں گھر گیا تو محترمہ قوم کے لئے ایک مظبوط سہارے کے طور پہ سامنے آئیں، محترمہ فاطمہ جناح نے بارہا اپنی تقاریر میں قیام پاکستان کے مقاصد کو بیان کیا اور برملا کہا ۔
    ” پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا کہ ہم اسلامی
    اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں وہ لوگ جو اس راہ سے لوگوں کو بھٹکا رہے ہیں، دشمن اسلام کہلانے کے مستحق ہیں "۔
    محترمہ فاطمہ جناح ایک جمہوریت پسند خاتون تھیں اور یہ سمجھتی تھیں کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے جمہوریت کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ اکتوبر 1949 میں جناح پارک پشاور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا :
    ” جمہوریت فقط قوم کی اخلاقی اور قومی حوالے سے سرفرازی ہی کے لئے اہم نہیں بلکہ یہ بیرون ملک پاکستان کے وقار کے لیے بھی ضروری ہے ”
    محترمہ خلوص و محبت کا پیکر تھیں ، ہر ایک سے پیارو محبت سے پیش آتیں اور حتیٰ الامکان کوشش کرتیں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ محبت و خلوص کی ایسی نظیر ملنا مشکل ہے، وہ تحریک پاکستان میں جس جوش و جذبے سے حصہ لیتی رہیں اور اپنی ساری زندگی جس طرح ملک و قوم کے لئے وقف کر دی وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔۔
    بقول میر ،
    مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں ۔۔۔

    ‎@PhilnthropistH

  • کیا آزادی باجے بجانے کے لیئے حاصل کی تھی؟  تحریر: محمد ثاقب معسود

    کیا آزادی باجے بجانے کے لیئے حاصل کی تھی؟ تحریر: محمد ثاقب معسود

    جشنِ آزادی مبارک، پاکستان کو آزاد ہوئے 74 برس بیت گئے، اور 14 اگست کو ایک بار پھر ہر طرف سبز جھنڈوں، جھنڈیوں سے ہرا بھرا بازار، مارکیٹس اور سب کچھ نظر آئے گا، لیکن اس آزادی کے جشن کو منانے کا صحیح طریقہ کیا یہی ہے؟ کیا ہمارے بزرگوں نے آزادی باجے بجانے کے لیئے حاصل کی تھی؟ اگر نہیں تو آزادی کا صحیح مطلب کیا ہے؟ پاکستان بنا کیوں تھا ؟
    قارئین، اس بلاگ میں ہم 14 اگست کو پاکستان کو آزاد کرنے کا مقصد اور اس پہ آج کل کی پاکستانی نسل کے اس دن کو منانے کے طریقوں کے بارے میں بتائیں گے۔ تو سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ پاکستان جس کو حاصل کرنےکے لیئے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی، قائد اعظم اور انکی ٹیم نے دن رات محنت کی کی آزادی کا مقصد ایسی آزادی ہرگز نہیں تھا جس میں ہم انگریز اور بالی ووڈ کے غلام بن کر زندگی گزاریں، بلکہ ایک ایسی آزاد اور خود دار ریاست کا قیام تھا جہاں پاکستان ایک شناخت بنے، جہاں کے لوگ اپنے تمام فیصلے کرنے میں آزاد ہوں، جو  مدینہ کی اسلامی  فلاحی ریاست کے ماڈل پہ ایک اسلامی نظریاتی اصولوں کے تحت چلنے والی ریاست ہو۔
    لیکن یہاں ہو کیا رہا ہے؟ اس معاشرہ میں چوری چکاری، زناء، کرپشن اور دیگر معاشرتی بیماریاں عام ہیں ، ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہیں، اپنے آپ کو اسلام کا  پہرہ دار کہنے والے مولوی حضرات بھی ایسی ایسی برائیوں کا شکار نظر آتے ہیں  کہ کوئی غیر مسلم بھی دیکھے تو شرما جائے۔ ان تمام معاشرتی برائیوں کی وجہ اگر دیکھی جائے تو ہمارا تعلیم کا سسٹم اور لوگوں میں حقیقی تعلیم کی کمی ہے۔ ہم اپنے بچوں پر بھاری بھرکم بستے لاد کر ان کو ڈگریاں دلوا کر نام نہاد تعلیم یافتہ تو بنا لیتے ہیں لیکن ان کو ایک اچھے معاشرہ کا فرد نہیں بنا پاتے، یہی حال ہمارے مدرسوں کا ہے جہاں سے تعلیم پا کر نکلنے  والے ہونے تو معاشرہ کے ہراول دستے کے افرادچاہیئے لیکن وہاں بھی معاشرتی اقدار کی تربیت اس طرح نہیں کی جاتی جیسے کی جانی چاہیئے۔
    14 اگست کو ہر سال ہونے والے طوفانِ بدتمیزی سے بچاؤ کا یہی حل ہے کہ لوگوں کو اس مملکت کے قیام کا مقصد، اس کے اغراض و مقاصد اور اس کی تخلیق کی وقت دی جانے والی قربانیوں کے بارے میں بتایا جائے، لوگوں کو ایک اچھا شہری بننے کی تلقین کی جائے اور ان تک ایسے پیغامات پہنچائے جس کے ذریعے وہ ایک اچھا شہری بن سکیں۔ مثال کے طور پہ 14 اگست کے قومی دن کے موقع پہ درخت لگانے کی ترغیب دی جائے، رشوت، سفارش ختم کرنے کا وعدہ کیا جائے، معاشرہ میں بے حیائی سے رُکنے کے لیئے عملی اقدامات کیئے جائیں، لوگوں کو بتایا جائے کہ سائلنسر اتار کے بائیک پہ گھومنے کی بجائے مسجد کی طرف جائیں جہاں مملکت پاکستان کی کامیابی و کامرانی کی دعائیں منعقد کروائی جائیں۔  
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سال 14 اگست کو یہ پیغام عام کیا جائے کہ آزادی باجے بجانے کا نام نہیں بلکہ آزاد مملکت کی نعمت کے لیئے اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ  معاشرہ کی فلاح کے لیئے عملی اقدامات کیئے جائیں۔

  • خود احتسابی  تحریر:محمد وقاص شریف

    خود احتسابی تحریر:محمد وقاص شریف

    خود احتسابی میں کامیاب زندگی کا راز پوشیدہ ہے،دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے صرف ایک بٹن کھول کر جھانک لیا جائے تو دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کی فکر پڑ جاتی ہے۔اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس کے بندوں کی خوشنودی کا حصول لازم وملزوم ہے۔
    کہتے ہیں جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اُس نے خدا کو پہچان لیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے آپ کو پہچانا۔ پہچاننے کی کوشش کی کیا خود احتسابی کا تصور کبھی بھی ہمارے ذہنوں میں آیا۔کیا ہمارے پاس ایک بٹن کھولنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ کیا ہم اتنے مصروف ہوگئے۔ہاں یہ مصروفیت بھی قابل قبول تھی اگر ہم خدمت خلق میں مصروف ہوتے۔گرتوں کو تھام رہے ہوتے،بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھلا رہے ہوتے،معذوروں کا سہارا بن رہے ہوتے ہماری وجہ سے مسجدیں آباد ہوتیں،بھوکے کو کھلا رہے ہوتے،بجھے چولہے جلا رہے ہوتے، بروز عید کاغذ چگنے والے ننھے منوں کے معصوم ہاتھوں میں تحفے تحائف دے رہے ہوتے،عام دنوں میں ان کو کتابیں دے رہے ہوتے،پیاسے کی پیاس بجھارہے ہوتے،خوشیوں سے انجان مخلوق خدا کیلئے راحت کا پیغام بن رہے ہوتے۔اگر ہم میں یہ سب کچھ موجود ہوتا تو پھرخود احتسابی کی ضرورت بھی نہ رہتی،خدا تعالیٰ خدمت خلق کے بدلے دھکا لگا دیتا لیکن ہم تو اور چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ رشوت لینا اپنا حق سمجھتے ہیں اور رشوت دینا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں،جھوٹ ثواب سمجھ کر بولتے ہیں،دھوکہ دینا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، غیبت اور چغلی ہمارے قومی کھیل ہیں،فرائض کو دانستہ نظر انداز کرکے ہم اپنے آپ پر اتراتے ہیں،اپنی کامیاب منفی سرگرمیاں بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں،روزہ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں اور بعض اوقات حالت روزہ میں جھوٹ بولنے کے ڈر کی وجہ سے روزہ ہی نہیں رکھتے، کسی مفلس کو دیکھ کر اس لیے بھی جھڑک دیتے ہیں کہ کس کس کی مدد کریں۔بھئی آپ اس ایک کی تو مدد کر دیں دوسروں کی کوئی اور مدد کردے گا۔جب انسانی مزاج کی حالت ایسی ہو ضمیر مردہ ہوجائے تو پھر خود احتسابی کا جذبہ پیدا ہونا کیسے ممکن ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گھناؤ نے خیالات کے اس جنگل سے باہر آکر مثبت سوچوں کا شہر بسایا جائے۔یہ انسانیت بہت دکھی ہے۔کچھ دکھ انسان کے دیئے ہوئے ہیں اور کچھ امتحان خداوندی ان دکھوں کا ذریعہ ہے۔اور تو اور حکمران بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اقتدار کی رسہ کشی میں سبھی عوام کے دکھ درد کو بھول چکے ہیں۔غریب عوام کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔
    @joinwsharif7

  • اولمپکس اور ہماری صورتحال تحریر: عفان احمد سلہری

    اولمپکس اور ہماری صورتحال تحریر: عفان احمد سلہری

    بحیثیتِ قوم ہم لوگ صرف دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہو سکتے ہیں مشکل وقت میں کوئی کسی کے کام نہیں آتا
    فائنل سے پہلے کسی کو معلوم بھی نہ تھا کہ جیولین تھرو بھی کوئی گیم ہے اور جب غریب مستری کا بیٹا ارشد ندیم فائنل میں پہنچا تو پوری قوم کی دعائیں اس کے ساتھ ہو گئیں جب وہ محنت کر رہا تھا تب کسی کو اس کی پرواہ نہ تھی
    لوگ جن کو لفظ جیولین پڑھنا بھی نہیں آتا تھا تھا وہ جیولین تھرو کے ماہر بن بیٹھے ۔ سب اسے بتانے لگے کہ جیولین کیسے پکڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ

    اسی طرح نوجوان ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے اولمپکس سے قبل کئی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن کسی نے نہیں سراہا اب جبکہ اس کا مقابلہ براہِ راست نشر ہوا تو لوگ سراہنے کے ساتھ ساتھ ماہرانہ تجزیہ نگار بھی بن بیٹھے کے ویٹ کم اٹھایا وغیرہ وغیرہ

    بدقسمتی سے پاکستان میں کھیلوں پر کوئی خاص توجہ کسی بھی حکومت میں نہ دی گئی خواہ وہ حکومت نواز شریف کی ہو زرداری کی یا پھر عمران خان کی عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ کھیلوں کی صورتحال بدل جائے گی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا شاید حکومت کھیلوں پر توجہ دے ہی نہیں رہی ۔ معاملات تب درست سمت میں جائیں گے جب کھیلوں کے اداروں پر قبضہ جمائے بیٹھے لوگ اپنے گھروں کو جائیں گے ۔ ان سے سوال ہونا چاہیے کہ انہوں نے اتنا عرصہ اداروں کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کو کیا دیا ۔
    اب بھی وقت ہے پاکستان کو کھیلوں پر خوب توجہ دینی ہوگی ہمارے ہاں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ سہولیات بھی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ سہولیات حقدار ایتھلیٹس تک پہنچنے کے بجائے غائب ہو جاتی ہیں
    ہمیں کھیلوں کی جامع پالیسی بنانا ہوگی ۔ اس ضمن میں ہمیں اپنے ہمسایہ ملک کی جانب دیکھنا چاہیے۔ بھارت نے کھیلوں پر بہت توجہ دی اور نہ صرف کرکٹ پر بلکہ تمام کھیلوں پر یکساں توجہ دی گئی جس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں ۔ کرکٹ ، ہاکی ،جیولین تھرو، ریسلنگ ،بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، باکسنگ ،ہر جگہ بھارت کی حکمرانی نظر آتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ موجود نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی ۔ اگر آج بھی کھیلوں پر مکمل توجہ دی جاتی ہے تو ہمارے ایتھلیٹس اتنے ہنر مند ہیں کہ تین سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو چیمپئن بنا سکتے ہیں ۔
    قصہ مختصر ہمیں بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور کھیلوں پر بھرپور توجہ دینا ہوگی گی ابھی کیوں کہ کھیلوں سے ہیں ہیں دیگر قوموں کو کو ایک دوسرے کے ملک کے متعلق جانکاری حاصل ہوتی ہے ۔ جو قومی کھیلوں میں ترقی نہیں کرتی ان میں مشکل وقت میں فیصلوں کی طاقت نہیں رہتی ۔

  • ‏ساتھ مل کر کام کرنا(ٹیم ورک)  تحریر: زاہد کبدانی

    ‏ساتھ مل کر کام کرنا(ٹیم ورک) تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیم ورک ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ٹیم ورک ایک تنظیم کے کام کرنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر تنظیم کے پاس مخصوص کاموں کو انجام دینے کے لیے کئی ٹیموں کی تقسیم ہوتی ہے۔

    ٹیم ورک کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی تنظیم میں ٹیم ورک کی کمی ہے۔ پھر یہ اس کی کامیابی کی شرح میں رکاوٹ ڈالے گا۔ اس طرح تنظیم گر جائے گی۔ نیز ، یہ اس ماحول کو متاثر کرے گا جس میں لوگ کام کر رہے ہیں۔

    مزید یہ کہ ، تنظیم کا ٹیم ورک کا ایک مختلف درجہ بندی ہے۔ تاکہ کام کا بوجھ تقسیم ہو جائے۔ اور ہر ٹیم میں ایک ماہر ہوتا ہے جو اپنے سابقہ ​​تجربے کے ساتھ مختلف ٹیم ممبروں کی رہنمائی کرتا ہے۔
    کسی تنظیم میں ٹیم ورک کا درجہ بندی۔
    تنظیم میں تین ٹیموں کا ڈویژن ہے – ٹاپ لیول ، مڈل لیول ، لوئر لیول۔

    اعلیٰ سطح: تنظیم کی یہ ٹیم کمپنی کے اہداف کا فیصلہ کرتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ معاشرے کے مختلف شعبوں کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ اور کمپنی کے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے پالیسیاں بناتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کمپنی اور اس کے ملازمین کی ترقی پر بھی کام کرتا ہے۔

    کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے ہر کمپنی کے ذہن میں ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ تنظیم کا یہ حصہ ہدف کا تجزیہ کرتا ہے۔ تاکہ کمپنی کو اس بات کا یقین ہو کہ اس مقصد کے قریب پہنچنا منافع بخش ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ، تنظیم کا یہ حصہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ، چیف ایگزیکٹو آفیسرز وغیرہ پر مشتمل ہے۔
    درمیانی سطح: درمیانی سطح مینیجر اور سپروائزر پر مشتمل ہوتی ہے۔ کارکنوں کی یہ ٹیم ٹاپ لیول کی بنائی ہوئی پالیسیوں کے نفاذ پر مرکوز ہے۔ مزید یہ کہ ، ٹیم ملازمین کے شعبے کو مختلف کام تفویض کرتی ہے ، تاکہ وہ کمپنی کے اہداف کی طرف کام کریں۔ مزید یہ کہ مڈل لیول ان کے کام کا معائنہ کرتا ہے اور باقاعدہ چیک رکھتا ہے۔

    مختصر میں ، وہ اوپر کی سطح اور درمیانی سطح کے درمیان فرق کو ختم کرتے ہیں۔ اس ٹیم کا حصہ بننے کے لیے ، ایک شخص کو کافی اہل ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس شخص کو تمام کاموں کا علم ہے جو وہ ملازمین کو دے رہا ہے۔
    تب ہی وہ شخص اس قابل ہوگا کہ وہ نچلی سطح کی رہنمائی کرے۔ سب سے اہم کام ملازم کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے ، تاکہ تنظیم بہتر طریقے سے کام کرسکے۔

    نچلی سطح: نچلی سطح ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ مڈل لیول کی طرف سے انہیں تفویض کردہ کاموں پر کام کرتے ہیں۔ روزگار کے شعبے میں ٹیم ورک کی ہم آہنگی کی بہت ضرورت ہے۔ وقت کے اندر ہر کام کو جمع کرنے کی ضرورت کے طور پر.
    تاکہ تنظیم آسانی سے چل سکے۔ تنظیم کی بنیاد روزگار کا شعبہ ہے۔ جیسا کہ ان کے بغیر ، پالیسیوں کا اطلاق ممکن نہیں ہے۔

    ٹیم ورک کی اہمیت
    ٹیم ورک دنیا کے کسی بھی حصے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ کوئی تنظیم ہو یا چھوٹا کاروبار۔ ٹیم ورک کامیابی کی کلید ہے۔ ہمارے اسکولوں میں ، ہم بہت سے کھیل کھیلتے ہیں جن میں ٹیم ورک شامل ہوتا ہے۔
    اس طرح ہم بچپن سے ہی ٹیم ورک کے بارے میں جانتے تھے۔ کیونکہ ہمارے اساتذہ ٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہمیں صحیح راہ پر گامزن کیا۔

    آخر میں ، ٹیم ورک ٹیم دو لوگوں کے درمیان تعلق پیدا کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان ایک سماجی وجود ہے ، لہذا یہ انسان کے ماحول کے لیے فائدہ مند ہے

    ‎@Z_Kubdani

  • سکردو تحریر: خالد عمران

    سکردو تحریر: خالد عمران

    ‏سکردو کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین تفریحی مقامات میں ہوتا ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ دلفریب وادی اپنی نظیر آپ ہے۔ گلگت بلتستان میں واقع سکردو سطح سمندر سے تقریباً آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر دریائے سندھ اور دریائے شگر کے حسین سنگم پر واقع ہےجو قراقرم سے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کو جدا کرتا ہے۔ سکردو کی خوبصورت وادیاں ،شفاف قدرتی پانی کے چشمے،برف کی چادر اوڑھے ہوئے بلند و بالا پہاڑ اور سرسبز نظارے پاکستان کے حسن کو مزید چار چاند لگا دیتے ہیں ۔علاوہ ازیں تاریخی ورثہ اور ثقافت کے دل آویز رنگ اس کی اہمیت میں اضافے کاباعث ہیں۔خوبصورت وادی سیاحوں اور خاص طور پر کوہ پیماؤں کے لئے توجہ کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کے اسے دنیا بھر میں کوہ پیمانوں کی جنت سمجھا جاتا ہے۔سکردو اسلام آباد سے تقریباً پچیس سے تیس گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

    سکردو کی اہمیت : پاکستان ٹورزم کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیاں جن کی اونچائی آٹھ ہزار فٹ سے زائد ہے ان میں سے پانچ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ ان بلند ترین چوٹیوں میں کے ۔ٹو ،گاشربرم ، بروڈ پیک اور گاشر برم دوم سکردو میں واقع ہیں ۔
    گرمیوں میں اپریل سے اکتوبر کے مہینوں کے دوران سیاح اور کوہ پیما سکردو کا رخ کرتے ہیں ۔علاہ ازیں اس وادی میں سیاچن،بالتورو، گیاری اور گیانگ جیسے منفرد گلیشیرز واقع ہیں ۔یہ گلیشیئرز قدرتی نظاروں کے ساتھ ساتھ شفاف پانی مہیا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔سکردو نہ صرف مرکزی شہر کا ہیڈ کوارٹر ہے بلکہ چین، بھارت، افغانستان کی سرحد سے متصل ہونے کی بنا پر پاکستان کا انتہائی اہم حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ سکردو کے دلکش مقامات میں قلعہ سکردو ،ستپارہ جھیل،قلعہ شگر ،کچورا جھیل،شنگریلا اور دیوسائی نیشنل پارک قابل دید ہیں ۔
    : سکردو میں واقع چند اہم مقامات
    قلعہ سکردو : اس قلعے کا دوسرا نام کھرفچو فورٹ ہے جس کی تاریخ آٹھویں صدی سے ملتی ہے۔اس قلعے کو قلعوں کا بادشاہ بھی کہاجاتا ہے۔یہ سات منزلوں پر محیط بلند عمارت تاریخ اور ثقافت کا حسین امتزاج ہے جس نے علاقے کو بے حد رونق بخشی ہے۔ یہ قلعہ سیاحوں کے لئےقابل دید ہے۔
    قلعہ شگر :اس قلعے کی تعمیر چار سو سال قبل راجہ شگر نے کروائی ۔ یہ قلعہ سکردو سے ستائیس کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے جو گلگت بلتستان کی ثقافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس کی خوبصورتی سے عیاں ہے کہ یہ عمارت اس دور کے کاریگروں کا ایک عظیم شاہکار ہے۔قلعے کی عمارت کے اطراف میں سر سبزد باغات دیکھنے والوں کی نظروں کو تقویت بخشتے ہیں ۔
    ستپارہ جھیل : یہ جھیل باقی مقامات کی طرح سیاحوں کے لئے خاصی اہمیت کی حامل ہے ۔قدرتی پانی پر مشتمل یہ جھیل 2600 میٹر کی بلندی پر واقع ہے جبکہ 1.5 میل کے وسیع رقبے پر محیط ہے ۔ حکومت نے مقامی لوگوں کی بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے اور فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے اس جھیل پر حال ہی میں ڈیم کی تعمیر مکمل کی ہے۔
    کچورا جھیل:قدررتی حسن سے مالا مال سکردو میں واقع یہ جھیل آئینے کی مانند شفاف پانی پر مشتمل ہےجو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کا خوبصورت عکس پیش کرتی ہے ۔مزید براں زیریں کچورا جھیل جو شنگریلا جھیل کے نام سے بے حد مقبول ہے۔1983 میں اس جھیل پر قائم کردہ ریزورٹ سے اس جھیل کو خاصی مقبولیت ملی۔

    دیوسائی نیشنل پارک: سکردو کے باقی مقامات مانند دیوسائی اپنی مثال آپ ہے۔سفید پوش پہاڑوں کے حصارمیں گھرا ہوا یہ ویرانہ سیاحوں کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔بادلوں کی آنکھ مچولی، نیلگوں بہتا ہوا پانی اور کانوں میں رس گھول دینے والی خاموشی سیاحوں پر سحر طاری کردیتی ہے۔دیوسائی سطح سمندر سے تقریباً 13497 فٹ اونچائی اور843 مربع میٹر پر پھیلا ہوا رقبہ ہے۔دیوسائی نیشنل پارک کو بین الااقوامی سطح پر بھورے ریچھوں کے لئے محفوظ سرزمین کے طور پر جانا جاتاہے۔
    بیک وقت نیلگوں جھیلوں ،دریاؤں کے سنگم ، خوبصورت وادیوں ، سبز اور سفید رنگ کی چادڑ اوڑھے ہوئے بلند و بالا پہاڑوں ،وسیع میدانوں کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لئے سکردو دنیا کے بہترین تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔

    Written By: Khalid Imran Khan
    Twitter ID: ‎@KhalidImranK