آپ کسی بھی علاقے سے ہیں، کسی بھی فیلڈ سے ہیں، لیکن اگر آپ ریسرچر ہیں، ریسرچ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا ریسرچ نشئی لوگوں پر ہو تو آپ فُٹ پاتھ پر پڑے چند ہیروئن پینے والوں کے بجائے بڑے شہروں کے بڑے کالجز ، یونیورسٹیز اور اس کے ہاسٹلز کا دورہ کرلیں تو آپ کو اچھے اچھے برینڈیڈ کپڑوں میں ملبوس بڑے بڑے نشئی مل جائیں گے۔ ہاں آپ نے صحیح پڑا میں کالجز اور یونیورسٹیز کی بات کر رہا ہوں "بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی” ۔۔۔۔ آپ بڑے شہروں کے بڑے کالجز اور یونیورسٹیز کا دورہ کرلیں اور وہاں حساب کتاب لگائیں تو آپ کو کم از کم چالیس فیصد لوگ نشوں میں مبتلا نظر آئینگے۔ اس میں اعلیٰ نسل کے شریف گھرانوں کے چشم و چراغ بھی ہونگے۔
خاص کر کہ ان اوقات میں جن میں کلاسز اور آفس ورکنگ ٹائم ختم ہو جائے۔ آپ سنسان گراؤنڈز اور ان اطراف پر جائیں جہاں کوئی نہیں جاتا تو آپ کے ذہن میں ضرور یہ شعر آئیگا جب نشیوں کے تماشے دیکھیں گے۔
"بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے”
آپکے ذہن میں یہ سوال بھی آئےگا کہ آخر کیوں؟؟
"شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا”
تو آئیے میں اپنے مشاہدات کے بنیاد پر کچھ وجوہات اور اس سے متعلقہ حل بتاتا ہوں۔ زیادہ تر وہ طلباء اور طالبات نشوں کے لت میں مبتلا ہوتے ہیں جنہیں کسی نہ کسی جگہ سے پریشانیاں لاحق ہوتیں ہیں۔ مثلاً مارکس کم آئے ، پیپرز میں فیل ہوگیا، فلاں استاد غصّہ ہے وہ ہمیں فیل کریگا، گھر کیا بتاؤں گا، گھر میں فلاں مسئلہ ہے وغیرہ۔
دوسری وجہ وہ کم ظرف لوگ جو دوستی کے نام پر اس لئے اپنا حلقہ بڑھا دیتے ہیں کہ کل اس کو اگر ضرورت پڑ جائے تو یہ نئے نشئی ان کو نشہ مہیا کریں گے۔
تیسری وجہ محبت کے نام پر عادت والا دردِ سر جو آج کل لوگوں کو کسی کی عادت ہو جاتی ہے اور اس کو محبت کا نام دے کر اپنے لئے درد سر لیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ اکثر جوان نسل عادت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کو محبت جسے رشتے کا نام دے دیتے ہیں بعد میں ان میں سے ایک کم ظرف کھیل جاتا ہے اور دوسرا ڈپریشن کا شکار ہو کر نشے کی طرف آ جاتا ہے تاکہ وقتی نجات پائے۔
چوتھی وجہ ماں باپ کے طرف سے بنا حساب کتاب کے بچوں کو زیادہ پیسے دینا۔ ایسے بچے جن کو ماں باپ بنا پوچھ گچھ کے اس کے ضروریات سے زیادہ پیسے دیتے ہیں ایسے بچے موج مستی میں اس طرف بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ آخر ڈپریشن کے وجہ سے یہ بچے نشے کی طرف کیوں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔
اصل میں ایک طرف ڈپریشن ہوتا ہے دوسری طرف فری ہینڈ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہاں فری ہینڈ سے میری مراد یہ ہے کہ بچے پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہوتا ہے، نہ ماں باپ اور نہ متعلقہ ادارے۔ ہوتا یوں ہے کہ داخلہ دلوا کر گھر کے بڑے کبھی اس کے پاس جاتے نہیں، اور جاتے بھی ہو تو پہلے سے اس کو بتایا جاتا ہے کہ ہم آ رہےہیں۔
اس فساد کے بڑھنے کی دوسری وجہ ڈرگز کے خرید و فروخت نے ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے اور بڑے بڑے طاقتور لوگ اس کے پیچھے ہیں۔ اور یہ ڈرگز ڈیلرز بلا خوف دھندہ چلاتے ہیں۔ متعلقہ ادارے خود ایمانداری سے کام نہیں کرتے ہیں اور ان میں جو بعض کام کرتے ہیں ان کو کچھ قوم کے دشمن کام کرنے نہیں دیتے ہیں۔
تیسری بات معاشرہ کا گرا ہوا مورال بڑے شہروں میں کوئی چھوٹا غلط کر رہا ہو تو نہ کوئی بڑا کچھ کہتا ہے اور نہ چھوٹا یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ میری فائدے کے لیے کہہ رہا ہے۔ آگر کہہ دے بڑا تو جوابا کہتا ہے کہ "آپ کون ہو سمجھانے والے؟”۔
ظاہری سی بات ہے کہ ایک بے عقل جوان کو فری ہینڈ ہو اور دوسری طرف آسانی سے نشہ مل رہا ہو اور اسے تھورا سا ڈپریشن لاحق ہو تو وہ اس طرف ہی بڑھے گا۔
یاد رہے اگر ہم نے بحیثیت قوم اس بڑھتے فساد کو روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے تو ہمیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ ہمارا مستقبل ان نشیوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ میرے خیال میں جو عملی اقدامات ہیں ان میں سب سے پہلے ماں باپ اور گھر کے بڑوں کو حصہ لینا ہوگا کہ مہینے دو میں کم از کم ایک بار بڑوں کو بچے کے پاس اچانک جانا چاہیے تاکہ اس کے دل میں یہ خوف ہو کہ کسی بھی وقت گھر سے کوئی آسکتا ہے۔ والدین اپنے تربیت پر صرف یقین نہ رکھیں کیونکہ انسان کے پیٹ میں کسی بھی وقت کسی بھی طریقے سے جانے والا ایک حرام کا نوالہ کسی بھی وقت رنگ لا سکتا ہے اور کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ چاہیے ارادی ہو یا غیر ارادی اس نے حرام کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے، لہذا صرف تربیت پر یقین نہ رکھیں۔ اور ساتھ ساتھ والدین معمولی باتوں پر بچوں کو نہ ڈانٹیں۔ اگر بچے کے پاس علم ہو تو مارکس کی کوئی ضرورت نہیں اس پر بچوں کو ڈپریشن نہ دیں۔ اساتذہ بھی والدین جیسے ہوتے ہیں لہذا اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ضد نہ کریں اور ان کے بس سے زیادہ کام نہ لے۔ ان کی غلطیوں کو درگزر کریں۔ تمام متعلقہ ادارے اس قوم کے خاطر ان منشیات کے خلاف جہاد کریں ایسا نہ ہو آج کوئی اور نشہ کر رہا ہو اور کل ہمارے ہر گھر میں یہ رواج بن جائے، اپنے زمہ داری نبھائیں۔
آخر میں، میں ان لوگوں کیلئے جو نشے میں مبتلا ہے ، جو منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں اور عام افراد کیلئے یہ عرض کرونگا کہ: جو بچے نشے کے طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ مت بھولنا کہ آپ کے سرپرست کیسے مشکل سے کما رہا ہے اور تیری ماں کتنے ارمان دل میں لئے بیٹھی ہے ڈپریشن، کسی کی کم ظرفی اور وقتی سکون کی خاطر ان کو سزا نہ دیں۔
جو لوگ منشیات فروش ہیں ان کے لیے اتنا کہتا ہوں اللّہ نے تمھیں انسان بنا کر پیدا کیا تھا لیکن افسوس جانوروں سے بھی گرے تم۔
اور عام عوام کیلئے یہ پیغام ہے کہ نشے کے ان حماموں میں صرف ابنِ آدم نہیں بلکہ بنتِ حوا بھی برابر کے نہا رہی ہے ان بچیوں کے عصمتوں کو بچائیں خدارا آج قوم کی خاطر لڑیں اس فساد کی خاطر اپنا حق ادا کریں تاکہ کل آپ کے بچے بھی امان میں ہو۔۔۔۔
__________________
@Ibnepakistan1
