Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اچھے دن کیسے آئیں گے تحریر : علی حیدر

    اچھے دن کیسے آئیں گے تحریر : علی حیدر

    9مشہور مقولہ ہے کہ اچھے دنوں کے لئیے برے دنوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ معاشرے کے قسمت , تقدیر , اور نصیب کے راگ الاپنے والے کاہل اور نکمے لوگوں کو ہمیشہ ناکام ہی دیکھا گیا ہے۔ اپنی ناکامی و نامرادی کے لئیے خود کو خطاوار ٹھہرانے اور بجائے ندامت محسوس کرنے کے یہ لوگ قسمت اور تقدیر کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔
    اپنے برے دور سے گزرتا ہوا ایک انسان اگر اپنی تقدیر کو بدلنے اور نئے سرے سے اسے مرتب کرنے کی ٹھان لے تو قلیل عرصے میں وہ اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر حالات کا دھارا بدل سکتا ہے۔
    معاشرے کے امراء افراد قابل داد و تحسین نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنی آمد سے ہی سونے کا چمچہ منہ میں لے کر آئے بلکہ باعث فخر اور قابل تقلید معاشرے کے وہ افراد ہیں جنہوں نے غربت کی چکی میں ذندگی کے ابتدائی ایام کو جھیلا لیکن اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنی تقدیر بدل ڈالی۔
    یہ افراد دراصل معاشرے کے وہ گوہر ہیں جو اپنے جیسے ہزاروں دیگر انسانوں کے لئیے حوصلہ افزائی اور ہمت بندھائی کا باعث ہیں ۔ انہی کے نقش قدم پہ انہوں نے چلنا ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کے نظام کو بدل کر نئے دور کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔
    برے دنوں کو اچھے دنوں میں بدلنے کی جدوجہد بہت محنت طلب اور پر مشقت تو ضرور ہوتی ہے لیکن جب کامیابی و کامرانی کی صورت میں اپنا رنگ دکھاتی ہے تو سالوں کی تھکان چند لمحوں میں اتر جاتی ہے۔

    اپنی ناکامیوں پر تقدیر کی ستم ظریفی اور بدقسمتی کو کوسنے والوں کے خون میں حرارت میں نہیں ہوتی جو ان کو منزلوں کی طرف رہنمائی کرے بلکہ یہ افراد ستاروں کی چال اور طوطے کی فال کے دلدادہ ہوتے ہیں۔
    حالات کی سنگینی اور وقت کی ضرورت کو بھانپ کر اور اپنی راستے میں آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لے کر صحیح فیصلہ لینا اور منزل مقصود طے کرنا اچھے دنوں کی طرف بڑھتا ہوا پہلا قدم ہوتا ہے۔
    ہر دن خود احتسابی اور اپنی خطاؤں پر ندامت محسوس کر کے اگلے دن نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنی منزل کو پانے کے لئیے جدوجہد کرنا ہی منزل پر پہنچا سکتا ہے۔
    جب یہ عزم کر لیا جائے کے برے دنوں کو اچھے دنوں سے بدلنا ہے تو رات کو سونے سے پہلے خود احتسابی یعنی اپنے ضمیر سے اس چیز کا سوال کرنا کہ اپنے مقصد کے حصول کے لئیے آج میں نے کیا کیا ؟ اس طرح سونے سے پہلے اگلے دن کے لئیے لائحہ عمل طے کر کے نئے حوصلے کے ساتھ محنت اور لگن سے جدودجہد کرنا حصول مقصد میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
    اپنے اردگرد موجود تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اور اپنی تمام تر ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو شامل حال کر کے دلجمی سے کام لینا چاہئیے۔
    نیلسن منڈیلا کی ستائیس سالہ جدوجہد ہو یا قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک جدو جہد کی داستان ہو وہ انہی اصولوں پہ استوار ہے۔
    حصول منزل کے لئیے خلوص دل سے کی گئی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں گئیں۔ بلکہ جب یہ کوششیں اپنے ثمرات دکھاتی ہیں تو چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔
    ایسے انسانوں کی لازوال جدوجہد قوموں کے وقار اور سر بلندی کا باعث بنتی ہیں اور ان کا نام تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔
    بجائے اپنی قسمت کو کوسنے اور حالات کو ناکامی کا ذمہ داری ٹھہرانے کے کوشش اور محنت کرنی چاہئیے ۔ یہ کوششیں ایک دن ضرور کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں لیکن اگر حالات نہ بھی بدلے , کوششیں رائیگاں بھی گئیں تو پھر بھی ضمیر پہ بوجھ نہیں ہو گا کہ حالات کو بدلنے کی سعی نہیں کی گئی۔

    آرام طلبی کی عادت نے ہمارے معاشرے کو ناکامی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے ۔ اگر ایک پورا خاندان سالہا سال سے غربت کے تھپیڑے سہہ رہا ہے تو خاندان کے صرف ایک فرد کی مسلسل جد و جہد پورے خاندان کی قسمت پلٹ سکتی ہے اور حتی کہ آنے والے تمام نسلوں کو برے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ایک خاندان کی آرام طلبی , کاہلی اور تغافل کا خمیازہ آنے والی تمام نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لئیے انفرادی طور پہ معاشرے کے ہر فرد پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمر کس کر اپنے دائرے میں برے حالات سے لڑے تاکہ معاشرے میں اجتماعی کامیابی کا حصول ممکن ہو اور برے دنوں کو اچھوں دنوں میں بدلا جا سکے ۔ ورنہ معاشرے میں پیدا ہونے والے تمام افراد اور آنے والی تمام نسلیں ہماری طرح ہمارے جیسے حالات کا سامنا کرتی رہیں گی اور یہ کاہلی اور سستی جب سرطان کی طرح ہمارے معاشرے میں سرایت کر جائے گی تو کوئی بھی فرد اپنے اندر اتنی ہمت پیدا نہیں کر سکے گا کہ وہ برے حالات کا استقامت و استقلال سے مقابلہ کر سکے کیونکہ جتنی دیر ہوتی جائے گی حالات کو بدلنے کے لئیے اس قدر محنت اور مشقت درکار ہو گی۔
    اس طرح نہ صرف معاشرہ معاشی تندگستیوں کا شکار ہو گا بلکہ اخلاقی ذبوں حالی کا شکار ہو کر عالمی وقار بھی کھو بیٹھے گا اور ہم عالمی صف میں ایک باعزت اور پروقار قوم کے طور پہ کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔

    ‎@alihaiderrr5

  • ہمارا قومی پرچم  تحریر: فرقان اسلم

    ہمارا قومی پرچم تحریر: فرقان اسلم

    پرچم، عَلَم، جھنڈا صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی قوم کی عزت، عظمت، آزادی اور خودمختاری کی علامت ہوتا ہے۔ پرچم کسی بھی ملک و قوم کا امتیازی نشان ہوتا ہے۔ یہ ہر ملک و قوم کی شناخت ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے ہر زندہ قوم اپنے پرچم کا احترام کرتی ہے اور اسے ہمیشہ سر بلند رکھتی ہے ہمارا پرچم انتہائی خوبصورت ہے۔ اور ہم دل و جان سے اپنے پرچم سے محبت کرتے ہیں۔
    پاکستان کا قومی پرچم پاکستانی قوم کا فخر ہے۔ پاکستانی شہری ہر سال یوم آزادی یعنی 14اگست اور اہم قومی دنوں پر قومی پرچم خرید کر بڑے ذوق و شوق سے اپنے گھروں پر لہراتے ہیں۔ اور وطن سے اپنی محبت اور عقیدت کا والہانہ اظہار کرتے ہیں۔ اور محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ مگر کچھ تجارت پیشہ لوگ جن پر ہر چیز کو پُرکشش بنانے کی دھن سوار ہوتی ہے قومی پرچم کو بھی نہیں بخشتے اور اس فعل بد پر انہیں کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہوتی۔ وہ قومی پرچم کو بھی پر کشش بنانے کے لیے سبز رنگ سے ملتے جلتے رنگوں اور اُس پر مختلف قومی یادگاروں کی تصویریں چھاپ کر قومی پرچم کا حلیہ ہی بگاڑ دیتے ہیں۔ جو کہ قانوناً ایک جرم بھی ہے اور انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف ایکشن لینا چاہیئے اور ہمیشہ درست ڈیزائن کا پرچم خریدنا اور لہرانا چاہیئے۔

    پاکستان کے قومی پرچم کا دستوری اور آئینی حلیہ اور سائز مندرجہ ذیل ہے:-
    نام: پرچمِ ستارہ و ہلال
    اختیاریت: 11 اگست، 1947
    تناسب 3:2(چوڑائی سے ڈیڑھ گنا زیادہ لمبائی)
    نمونہ: تیز سبز رنگ زمین پر سفید چاند (ہلالی شکل کا) اور ستارہ (پانچ کونوں والا) اور بائیں جانب ایک عمودی سفید پٹی۔
    کپڑا: باریک اونی دوہرے کپڑے کے دونوں طرف سفید تِلّے سے کڑھائی کیا ہوا چاند ستارہ۔
    نمونہ ساز: امیر الدین قدوائی

    پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیر الدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور پانچ کونوں والے ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے اور پانچ ارکان اسلام کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی طرف بھی اشارہ ہے۔ پاکستان کے قومی پرچم پر نہ کوئی عبارت لکھی جاسکتی ہے اور نہ کوئی تصویر بنائی جاسکتی ہے۔
    پہلا پرچم ٹیلرماسٹر افضال حسین نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا۔
    قومی پرچم لہرانے کی افتتاحی تقریب میں قائد اعظم ؒ کے ایما پر کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی ؒنے قومی پرچم لہرایا۔
    بحیثیت شہری ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم درست ڈیزائن کا پرچم لہرائیں۔ جشنِ آزادی کے موقع پر لگائے گئے پرچموں کی حفاظت کریں اور جشنِ آزادی گزر جانے کے بعد ان پرچموں کواحتیاط کے ساتھ مناسب جگہ پر رکھنے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ یہ ہمارا قومی پرچم سے محبت کا تقاضا ہے۔
    یاد رکھیں! زندہ قومیں کبھی بھی اپنے قومی پرچم کی بے حرمتی نہیں ہونے دیتیں، چاہے وہ ایک جھنڈی ہو یا چھوٹا سا بیج ہی کیوں نہ ہو۔ قومی پرچم کی قدر ان سے پوچھیں جن کے پیارے اس پرچم کے ساتھ زمین میں سپردخاک ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ہماری بہادر افواج کے جوان قومی پرچم کے ساتھ سپردخاک ہوتے ہیں۔ قومی پرچم شہید کے جسم کی زینت ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیئے کہ اپنے پرچم کی دل و جان سے قدر کریں اور اس کی ہمیشہ سربلندی کے لیے دعا کریں۔ اللّٰہ پاک ہمارے پیارے پرچم کو سدا بلند اور شاد و آباد رکھے۔۔۔آمین یا رب العالمین

    یہ پرچموں میں عظیم پرچم
    عطائے رب کریم پرچم
    عظیم ملّت عظیم پرچم
    عطائے رب کریم پرچم

    ٹویٹر : ‎@Rumi_PK

  • زندگی میں امید اور ناامیدی تحریر:فاروق زمان

    زندگی میں امید اور ناامیدی تحریر:فاروق زمان


    امید بہت قیمتی چیز ہے۔ امید ایک لفظ نہیں، یہ زندگی ہے۔
    ہمیں بحیثیت مسلمان کبھی بھی ناامید اور مایوس نہیں ہونا چاہیے، مایوسی اور ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ ہمارا اللّٰہ ہمیں کبھی بھی چھوڑنے والا نہیں ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے: لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ۔ ترجمہ” اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا”
    لیکن بعض اوقات ہم خود سے، اپنی زندگی سے، ہر چیز سے بہت زیادہ نا امید ہو جاتے ہیں۔ انسانی زندگی خوشیوں اور غموں کا امتزاج ہے، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہماری زندگی میں ہمارے لیے کوئی خوشی نہیں ہے، ہم مایوسی کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہم زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، نہیں کر پاتے، اپنی خواہشوں اور خوابوں کی چاہ کر بھی تکمیل نہیں کر پاتے۔ کچھ بھی ہماری امیدوں، توقعات اور خواہشات، کے مطابق نہیں ہوتا۔ ہماری زندگی سے ہر امید ختم ہو جاتی ہے۔ لگتا ہے سب کچھ ختم ہو گیا ہے، ایسے حالات میں ہم بہت تھک جاتے ہیں۔ ناامیدی کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے، ایسی زندگی جس میں روشنی نہ ہو، بلکہ دن بدن نا امیدی اپنی جڑیں آپ کے اندر گاڑ کر کھوکھلا کرتی رہے۔ ایسا وقت اور زندگی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اور جب زندگی میں کوئی امید نہ ہو تو لوگ زندگی کو ختم کر لیتے ہیں۔

    ناامیدی شکست ہے، شکست قبول کرنے کے مترادف ہے۔ نا امیدی آپ کو اکساتی ہے کہ آپ ناکام ہیں، ہار مان لیں، پسپائی اختیار کر لیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ ناامیدی آپ کی صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے، آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ شخصیت کے تمام روشن پہلو تاریک کر دیتی ہے۔ ناامیدی ہمیں کبھی بھی آگے نہیں بڑھنے دیتی، یہ جیتے جی موت کی علامت ہے، جو زندگی کی ساری توانائیاں ختم کر دیتی ہے اور آپ کو رفتہ رفتہ موت کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ یہ کیفیات بہت برے نتائج لاتی ہیں۔

    اصل میں یہی آپ کی شخصیت اور قابلیت کا امتحان ہے۔ ایسے وقت میں ہی آپ خود کو پہچانتے ہیں، اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اپنے اندر امید کو زندہ رکھنا اور خود کو تھکنے نہ دینا، ہی جوان مردی ہے۔ کبھی بھی مستقل نا امیدی کو اپنی زندگی میں جگہ نہ دیں۔ خود کو مثبت توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے بیدار کریں۔کبھی ناامیدی کے اندھیروں کو خود کو نہ نگلنے دیں۔ اگر آپ ناامیدی کا شکار ہوں گے تو آپ کبھی بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ آپ اپنے خواب اور خواہشوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گے۔ کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے، کسی لغزش کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ ناامیدی آپ کی ناکامیوں کو وجہ بنا کر آپ کو پست کرے گی، لیکن امید ہی وہ راہبر ہے، جو آپ کو کامیابیوں کی طرف لے کر جائے گی۔

    اگر آپ اپنی خواہشات اور توقعات کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو امید اور محنت کو اپنا دوست بنانا ہو گا۔ اور ایک عزم کے ساتھ خوابوں کی تکمیل کے لیے تگ و دو کرنی ہو گی۔ امید کی بدولت ہی آپ زندگی میں بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ امید کی کرن کو ہمیشہ اپنے اندر زندہ رکھیں گے، تو یہ ہمیشہ آپ کی زندگی میں اجالے کرتی رہے گی۔ اگر حالات ناسازگار ہیں تو وہ بدل سکتے ہیں۔ امید اور یقین کا چراغ جلاتے رہیں کہ ایک دن نیا سورج طلوع ہو گا، کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید دیتا آفتاب، جو مایوسیوں کے بادل کو اپنی روشن کرنوں سے دور کر دے گا۔ اگر آپ پرامید ریہں گے تو امید آپ کو راستے دکھائے گی۔ راستوں پر بے خطر چلنا سکھائے گی، منزل تک لے جائے گی۔ امید ایمان ہے، آپ کے پاس امید کی طاقت ہو گی تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

    ‎@FarooqZPTI

  • کراچی سندہ کا دارلحکومت !! تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    کراچی سندہ کا دارلحکومت !! تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر


    شہر کراچی سندہ کا دارلخلافہ اور پاکستان کا دل ہے آبادی اور معیشت کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑی آبادی کے ساتھ معاشی حب ہے
    بدقسمتی سے کئ دہائیوں سے اس روشنیوں کے شہر کراچی کو تعصب کی بناء پر تباہ کیا گیا ،خون کی ندیاں بہائ گئیں اس شہر میں کئ قتل ہوئے لیکن قاتل سب نامعلوم رہے اور وہ نامعلوم سب کو معلوم بھی ہوتے تھے اس شہر میں قتل وغارت کا آغاز mqmنامی تنظیم بننے کے بعد سے شروع ہوا ،الطاف حسین نے اس شہر میں نفرتوں کا بیج بویا ،نوجوانوں کو تعلیم کی بجائے کلاشنکوف تھمائ گئ ،شروع دن سے ایم کیو ایم پاکستان مخالف ہی رہی ،الطاف حسین کی سازش تھی پہلے کراچی کو سندہ سے الگ کیا جائے اس کے بعد کراچی کو پاکستان سے بھی جدا کیا جائے گا یہ سازش بھی کئ بار بے نقاب ہوئ ،لیکن اس سازش کے تحت الطاف حسین نے ہمیشہ مہاجرین کے اندر سندھیوں کے خلاف نفرت کا بیج بونا شروع کیا یہ نفرت مزید عروج پر تب پہنچنا شروع ہوئ جب سندھ کی قومپرست جماعتوں نے الطاف حسین کے سندہ توڑنے والی بات پر ردعمل دیا اور پھر کئ عرصے تک سندھی مہاجر فسادات چلتے رہے ،سندھی قومپرستوں کے نزدیک کراچی سندہ کا حصہ ہے اور ہم اپنے سندہ کا ایک انچ بھی کسی کو توڑنے نہیں دیں گے اور یقینن سندہ کے لوگوں کا یہ موقف ٹھیک بھی تھا کیونکہ سندہ کی تاریخ ۵٠٠٠ سالہ پرانی ہے اسی وجہ سے سندہ کے لوگ اپنی زمین،ثقافت اور زبان سے بے انتہا محبت رکھتے ہیں
    لیکن اس لڑائ میں کراچی روشنیوں کی بجائے لاشوں اور خونی شہر بن گیا
    کسی بھی حکومت نے وہ توجہ نہیں دی شہر کراچی جو دینی چاہیے تھی اور تقریبا ٣٠ سال ایم کیو ایم بھی مختلف حکومتوں کا حصہ رہی ،گورنری کے کئ سال مزے لوٹتے رہے لیکن کام انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا اس تعصب اور نفرت کی بنیاد پر mqmکبھی سندھی آبادی کے حلقوں میں اپنی جگی نہیں بناسکی اور باقی سندہ کی جماعتیں مہاجر آبادی کے حلقوں میں
    اور پھر پپلزپارٹی /mqmنے نئے نعروں کا سہارا لیا ،ایم کیو ایم نے کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کا نعرہ لگاکر مہاجر آبادی سے ووٹ لیئے اور پپلزپارٹی نے مرسوں مرسوں سندھ نا ڈیسوں کا نعرہ لگاکر سندھی آبادی سے ووٹ لینا شروع کیا دونوں جماعتیں اس میں کافی حد کامیاب رہی پھر اسیمبلی میں پہنچ کر دونوں جماعتیں ہمیشہ اکٹھی ہوجاتی ان کے نعرے صرف الیکشن کی حد تک رہتے ہیں اور آج بھی یہی سلسلہ جاری ہے ،خیر الطاف حسین کا تو پاکستانی سیاست سے خاتمہ ہوچکا لیکن ساری زندگی اس کے سائے میں پلنے والے آج بھی الطاف حسین کے اسی تعصبی سوچ پر گامزن ہیں
    سندہ کے لوگ پر اس شخص یا جماعت سے شدید نفرت کرتے ہے جو سندہ کو تقسیم کرنے کی بات کرے
    اس وقت سندہ کے شہری علائقوں اور دیہی علائقوں میں لوگ ان دونوں جماعتوں سے تنگ آکر پی ٹی آئ کی طرف جوق در جوق آرہے ہیں کیونکہ پی ٹی آئ ہر قسم کے تعصب سے پاک وفاقی کی علامت ہے ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ptiکراچی کے اندر بھی چند ایسے لوگ موجود ہیں جو پپلزپارٹی کی سندہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پوری سندہ کی تباہی کا ذکر کرنے کی بجائے ایک شہر کراچی تک محدود رہتے ہیں ،ان کے مختلف بیانات جن سے تعصب کی بو آتی ہے مثال کے طور پر کراچی پر حکمرانی کرنے والے دادو اور لاڑکانہ سے آتے ہیں اس لئے کراچی تباہ ہے ،کراچی کو بہتر کوئ کراچی والا ہی کرسکتا ہے ،اب یہ تو ظاہر سی بات ہے کراچی ایک سندہ کا ہی ایک شہر ہے اور سندہ کا حکمران تو کسی بھی سندہ کے علائقے سے ہوسکتا ہے کیا پنجاب پر حکمرانی کرنے والے سب لاہور سے ہیں ؟یا Kpkپر حکمرانی کرنے والے سب پشاور سے ہیں؟تو سندہ پر حکمرانی کرنے والوں کو یہ طعنہ دینا
    کہ شہر کراچی کے حکمرانوں کا تعلق سندہ کے دوسرے اضلاع سے ہے ،یقین کریں پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کا وزیراعلی اگر دادو سے ہے تو آج دادو بھی کوئ پئرس نہیں بن گیا آج سندہ کے تمام علائقوں ،شہروں،دیہاتوں سب کی حالت بہت خراب ہے ،پپلزپارٹی نے بلاتفریق شہر کراچی سے کشمور اور تھرپارکر تک سب جگہ تباہی وبربادی کے سواکچھ نہیں دیا
    اگر کراچی شہر کو ٹھیک کراچی شہر والا ہی کرسکتا ہے تو کیا کراچی کا ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب جس کا تعلق بھی شہر کراچی سے ہے کیا وہ اب کراچی بہتر کردے گا ؟یا سندہ پر ١٣ سال گورنر رہنے والا عشرت العباد اور mqmکے کئ وزیروں کا تعلق شہر کراچی سے رہا کیا انہوں کراچی کو بہتر کردیا؟
    ایسا بلکل نہیں جو جماعت ایماندار ہو کرپشن سے پاک ہو اور جس کی نیت کام کرنے کی ہو تو ان کے وزراء کا تعلق چاہے کسی بھی جگہ سے ہو وہ پورے صوبے میں کام کریں گے اور جس نے نہیں کرنا ہوتا اس وزیراعلی تو کیا لاڑکانہ جس نے تین بار وزیراعظم دیئے وہ لاڑکانہ بھی آج تباہ ہوا پڑا ہے
    اس لئے اگر پی ٹی آئ کو سندہ میں مضبوط کرنا ہے تو سب سے پہلے الطاف حسین والے نظریے کو دماغ سے نکالنا پڑے گا ،تعصب اور نفرت کی بنیاد پر شہر کراچی تک محدود رہنے سے بہتر ہے عمران خان صاحب کے نظریے محبت اور بھائ چارگی کو فروغ دے کر پورے سندہ کے لوگوں کے دل جیتو ،ان کے اندر سے یہ بات نکالو کہ کوئ بھی کراچی کو سندہ سے الگ نہیں کرسکتا ،جب پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کے خلاف بات کریں تو شہر کراچی کے ساتھ لاڑکانہ،دادو،تھرپارکر سمیت پورے سندہ کے ان لوگوں جو کپتان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں کے حقوق کی آواز بھی بلند کریں یقین کریں جس دن آپ سندہ کی عوام کے حقوق کی صحیح معنوں میں سیاسی جنگ لڑی ان کے دل سے پپلزپارٹی کا پھیلایا یہ تاثر کہ PTI سندہ کو تقسیم کرنے کی سازش کرے گی ختم کردیا کراچی تا کشمور اور تھرپارکر سندہ ایک تھا ایک رہے گا کا نعرہ لگایا اس دن سندہ حکومت آپ کی ہوگی سندہ کی عوام آپ کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوگی

  • اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    پاکستان اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت ہے۔ جہاں پاکستان کو معدنیات سے خود کفیل کیا گیا وہاں قدرتی حسن نے پاکستان کی زمین کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں پہاڑوں اور چٹیل چٹانوں میں سبزہ تو کبھی برف سے لدے دکھائی دیتے ہیں وہیں میدانی اور شہری علاقوں کی رونقیں اس کو ہر طرح کے ماحول سے آراستہ کررہی ہیں۔
    کہیں صحراوں کی بیابانی ہے تو کہیں دریاؤں کی سرسراہٹ۔ الغرض پاکستان اپنے حسن کے لحاظ سے خود کفیل ملک ہے۔ پاکستان دفاع کے لحاظ سے بھی بھی صف اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے خواہ وہ ماضی کے ایم ایم عالم ہوں یا حالیہ 27 فروری کے شیر جوان یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کرپشن میں بھی خود کفیل ہے۔ جس نے اس کے ہر سول ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ماضی کے اوراق دیکھیں تو پتا چلتا یے کہ کہیں سفارشوں اور رشوت کے انبار لگے نوکریاں بیچی گئیں۔ تو کہیں اپنے زاتی کاروبار کو سامنے رکھتے ہوے اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل آج بھی اس ظلم کی دل خراش داستان ہے۔
    ماضی کی بادشاہت نے قوم کو غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان بیرونی طور پر مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سول اداروں کی وجہ سے اپاہج بھی ہے۔ میرٹ اور ٹیلنٹ کے قتل عام کے بعد جو قوم اداروں میں بٹھائی گئی اس کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عیاں ہو رہے ہیں۔
    ایک بات تو صاف ہے جو لوگ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ان کی مثال لاجواب ہےلیکن یہاں بات ان کی ہو رہی جنہوں نے رشوت اور اقربا پروری کا بازار گرم کر رکھا ہے.

    جس کے پاس نوکری نہیں وہ نسل در نسل میرٹ کے قتل کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کی رسم مہربانی پر لگے ہوئے ہیں. لیکن جن کے پاس نوکریاں ہیں ان کی نسل در نسل چلتی آ رہی ہے.

    رہی سہی کسر رشوت کے انصاف اور اقربا پروری کی نوکریوں نے نکال رکھی ہے. جس کا آخر کار نقصان ادارے کو ہی ہوتا ہے. نا میرٹ پر بھرت ہوتی ہے نا کام کرنے والے اہل لوگ منتخب ہو پاتے ہیں نا ادارہ ترقی کرتا ہے. آج اگر سٹیل مل جیسے ادارے خسارے میں ہیں تو ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے. مزید یہ کہ سرکاری اداروں میں بیٹھ کر اپنا کاروبار چمکانا اور اپنے کمپنی کو کاروبار دینا معمول بن چکا ہے.
    پی آئی اے اور ریلویز کی ماضی کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے. آج بھی یہ ادارے اہنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں.
    موجودہ حکومت اپنے تئیں ان اداروں کے خسارے کو کم کرنے کی تگو دو میں مصروف ہے کیونکہ جب ادارہ خسارے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سارا بوجھ قومی بجٹ پر پڑتا ہے جس سے عوام کا پیسہ انہیں خساروں کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور سارے باقی ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں.
    اس روش کو ختم کرنا وقت کی اولین ترجیح ہے تاکہ قومی خزانے کو درست سمت دی جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کو ملحوظ خاطر رکھا جا سکے.
    پاکستان کی قیادت کو ان مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. جس سے میرٹ کا قتل نہ ہو. ادارے کا نقصان نہ ہو اور رشوت کی روش کو ختم کیا جاے تاکہ عام عوام کو ان اداروں سے اچھی سروس اور سہولیات مل سکیں اور مستقبل ادارے اپنی ترقی کی جانب ہی گامزن رہیں. جہاں میرٹ کا قتل نا ہوتا ہو رشوت کا بازار گرم نا ہو اور اقربا پروری فروغ نا پاتی ہو اس ادارے کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا. ہمیں بھی بطور انسان اپنے ادارے سے مخلص رہنا چاہیئے کیونکہ ادارے کی بقا ہی ہماری بقا ہے اور ادارے کی تباہی ہماری تباہی ہے.

    @EngrMuddsairH

  • صدقہ کی برکات  تحریر:  چوہدری عطا محمد

    صدقہ کی برکات تحریر: چوہدری عطا محمد

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے
    ترجمہ: ” *کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسنہ دے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا بڑھاکر واپس کرے، مال کا گھٹانا اور بڑھانا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ،اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے* "۔ (البقرة۲۴۵)
    سبحان اللہ۔ اور پھر رمضان کا مبارک مہینہ جس میں اللہ رب العزت ایک روپے صدقہ کرنے کا اجر بڑھا کر ستر گنا کر دیتے ہیں۔
    ایسا ہی قصہ میرے دوست نے مجھے سنایا اور تھا بھی رمضان المبارک بابرکت فضیلتوں والا مہینہ آئیے اسی کی زبانی سنتے ہیں۔
    وہ اک ٹرالر ڈرائیور ہے اور یہاں بیرون ملک میں مقیم لوگ جانتے ہیں کہ نو انٹری لگتی ہے بڑی گاڑیوں پر اک مخصوص وقت جب سکول ٹائم یا ڈیوٹی ٹائم ہو ویسے تقریباً یہ پوری دنیا میں نظامِ ہے کوئی بھی ملک ہو ہیوی گاڑی سکول و ڈیوٹی ٹائم میں منع ہوتیں ہیں۔
    تو ہوا کچھ یوں کہ رمضان کا مہینہ تھا آخری عشرہ کی بات ہے کہ میں لوڈ لے کر آ رہا تھا یہ جانتے ہوے بھی کہ آگے ابھی پولیس والے کھڑے ہوں گے رستہ بند ہو گا مگر یہ معمول کا کام تھا اور رات 3 بجے وہ چھوڑ دیتے تھے پھر ہم جہاں ممکن ہو سکے سحری کرتے ہوٹل یا گھر ۔
    ہوا کچھ یوں کہ اس رات کو بھی میں آ رہا تھا معمول کے مطابق ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا رستہ کھلنے میں تو میں بھی پارکینگ میں کھڑا ہو گیا باقی بھی بہت لوگ کھڑے انتظار کر رہے تھے تین بجے تو سب نے تیاری پکڑی مگر پتہ تب چلا جب پولیس والے نے کہا ابھی رستہ نہیں کھلے گا کچھ مسلہ ہے روڈ پر جب تک اوپر سے آرڈر نہیں آتے تب تک انتظار کریں میں گاڑی سے نیچے اترا اور پولیس والے سے مخاطب ہوا کہ سحری کا وقت تھوڑا باقی ہے ابھی ہم لوگ کسی منزل پر پہنچیں گے تو ہی کچھ ملے گا ورنہ پھر کچھ نہیں ملے گا اور روزہ رکھنا بھی مشکل ہو جاے گا اس نے کہا بس امید ہے جلدی حکم آ جاے اور ہم رستہ کھول دیں میں جانتا ہوں آپ لوگ بہت پریشان ہیں۔
    خیر ہم انتظار کرتے رہے اور آخر کار 4 بجے اب صرف ہمارے پاس آدھا گھنٹہ بچا تھا سب لوگ پریشان ادھر ادھر گھوم رہے تھے کہ کیا کریں نہ پانی کا اسٹاک اتنا تھا کسی کے پاس اور نہ سحری لمبی لائنیں لگیں تھی گاڑیوں کی کیا کر سکتے تھے قانون کی پاسداری تو لازم ہے میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کہ تھوڑا پانی ہے میرے پاس تقریباً ایک گلاس یا آدھا گلاس زیادہ کر لیں اب اسے پی کر ہی روزہ بند کر لوں گا اسی سوچ میں تھا کہ 20 منٹ باقی ہیں آخری پانچ منٹ تک ویٹ کرتا پھر پانی پی کر نیت کر لو گا کہ میرے دروازے پر کسی نے دستک دی جب میں نے باہر دیکھا تو اک باریش سفید داڑھی والے بزرگ تھا کہتے بیٹا پانی ملے گا 5۔7 کے پاس گیا ہوں کسی کے پاس سے بھی نہیں مل رہا اک خالی بوتل لیے وہ کھڑے تھے اب میں کیا کرتا مجھے بھی روزہ رکھنا باقیوں کی طرح میں بھی خود غرض ہو گیا اور انکار کر دیا نہیں ہے میرے پاس وہ مسکرا کر آگے چلے گئے میں پریشان ہو گیا کیا کروں ایک اللّٰہ کے بندے اور بزرگ آدمی کو انکار کر دیا اور خود کو برا بھلا کہہ رہا تھا کہ تم ابھی جوان ہو خیر تھی اگر دو گھونٹ پانی پیے بنا بھی روزہ رکھ لو تو ابھی اسی پریشانی کے عالم میں تھا کہ شاید دو یا تین منٹ گذرے ہوں گے تو میں دیکھا وہ بابا جی واپس آ رہے ہیں اور چہرے پر افسردگی ظاہر تھی اور پیاس بھی لگتا شدید لگی تھی انہیں مگر بوتل انکی خالی تھی ۔۔
    جب میرے پاس سے گذرے تو میں آواز دی بابا جی پانی ملا کہتے نہیں بیٹا ہر کوئی پریشان ہے کئی سے پوچھا آگے دو تین سے پوچھا کوئی بھی پلانے کو تیار نہیں اسی اثناء میں میں نے بوتل انکی طرف کی اور معذرت کے ساتھ کہا آپ یہ پی لو میں کچھ کر لوں وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ بوتل لےکر چل دیے اور کچھ دعائیں دیتے جا رہے تھے۔
    میں نیچے اترا جہاں سے گاڑیاں آ رہی تھی اس طرف چل پڑا تو اک گاڑی اور رکی میں دوڑ کر اسکے پاس گیا اور پہلا سوال ہی پانی تھا وہ باہر نکلا کہتا استاد اندر جاو اور جی بھر کر پیو پانی بہت میں جب گاڑی میں داخل ہوا بے اختیار منہ سے نکلا سبحان اللّٰہ کیونکہ وہاں اک بوتل یخ ٹھنڈی اور ایک گرم پانی والی ڈرائیور کہتا مکس کرت جاو پیتے جی بھی کے میں دو گلاس پیا اور رب کا شکر ادا کرتے ہوے نیچے اترا اور سوچ رہا تھا ابھی کہ اک گلاس دیا اور فوری رب نے تجھے سیراب کر دیا اتنے میں پاس کھڑے ٹرالے سے مجھے آواز آئی کہ استاد جی سحری کی ہے میں سمجھ شاید کسی اور سے پوچھ رہے ہیں انہوں پھر مجھے آواز دی پنجابی بھائی وہ پٹھان تھا میں بولا نہیں بھائی یہاں پر اب کیا ملتا جو سحری کریں کہتا ہاتھ پکڑو میرا اور اس نے ہاتھ بڑھایا میں جب اوپر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں دستر خوان لگا ہے اور سامنے چاول اور مرغی ساتھ میں کریم ٹھنڈا پانی اور وہ سب کھا پی کر سائیڈ ہو چکے تھے اور یہ الگ پارسل تھا جو میرے لیے کھول کر لگایا انہوں نے وقت بہت کم تھا میں بابا جی کو ایک دو گاڑی میں دیکھا مگر نہیں ملے کچھ دوسرے لوگوں کو کہا وہ بھی اک دو ساتھ آ گئے اور ہم نے مل کر سحری مگر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل رہے تھے کہ واہ میرے مالک تو نے کتنی جلدی اپنا واعدہ پورہ کیا اور پہلے مجھے پانی کے بدلے پانی دیا اور پھر پیٹ بھر کر کھانا کھلایا میرے مالک تیری تعریف جتنی کی جاے کم ہے تو اپنے وعدے سے کبھی نہیں مکرتا اور صدقہ پر جو تو نے وعدہ کیا اس سے ذرہ بھی کم نہیں عطا کرتا میں جب بھی اس واقع کو کسی کو سناتا ہوں تو میں آنکھوں میں رب تعالیٰ کی اپنے بندے سے محبت اور عطا پر آنسو نکل آتے بےشک وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اور صدقہ کا قرض اپنے اوپر نہیں رہنے دیتا بلکہ وعدہ کے مطابق کئی گنا زیادہ واپس دیتا ہے ۔

    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کابل رجیم،ایک پراپیگنڈا سیل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    کابل رجیم،ایک پراپیگنڈا سیل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    میں نے اپنے اس کالم میں افغانستان کے بجاۓ کابل رجیم کے الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں۔کیونکہ ہم افغانستان یا سارے افغانوں کو برا نہیں کہہ سکتے۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں،جو پاکستان کو ایک دوست ملک اور پاکستانیوں کو اپنا بھائ سمجھتے ہیں۔
    پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائ وہی لوگ کرتے ہیں،جنہیں بھارت یا پاکستان کے دیگر دشمن ممالک نے گود لے رکھا ہے اور اُن کے مونہہ میں حرام کی چوسنی دے رکھی ہے۔
    وہ اپنے ان آقاؤں کو خوش رکھنے کے لئے صبح شام پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ اورہرزہ سرائیاں کرتے ہیں۔
    فواد چوہدری نے آج اپنی ایک پریس کانفرنس میں ان پاکستان دشمن قوتوں کا کھل کر بتا دیا ہے کہ اس مذموم مہم کے پیچھے کون کون شامل ہوتا ہے۔
    ویسے تو کابل میں قابض اس مہمان حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں،کیونکہ ان کے آقاؤں نے تو پہلے ہی اپنا بوریا بستر سمیٹنا شروع کر رکھا ہے۔
    ان کابلی حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیاں بجھتے چراغ کی ٹمٹماہٹ ہے۔
    امریکہ کی وہاں موجودگی کی ڈیڈ لائن 31اگست ہے۔
    کابل رجیم سے طالبان ،افغانستان کا ایک بڑا علاقہ پہلے ہی چھین چکے ہیں۔امریکہ کے مکمل انخلا کے بعد کابل کے حکمرانوں کا دھڑن تختہ یقینی ہے۔
    ان کا پاکستان پر پراپیگنڈہ بھی اسی مقصد کے لئے ہے کہ پاکستان ان کا یہ قبضہ برقرار رکھنے کے لئے طالبان سے بھڑ جاۓ اور ان حرامخوروں کے لئے اپنے فوجی شہید کرواۓ۔
    کیا پاکستان کو پاگل کتے نے کاٹا ہے،کہ وہ کوئ اس قسم کی بلاجواز مہم کا حصہ بن کے طالبان کو اپنا دشمن بنا لے۔
    کیا پاکستان بھول سکتا ہے کہ ان حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف کون کون سی سازش نہیں رچائ۔
    کونسا موقع تھا،جب انہوں نے پاکستان کے خلاف زہر نہ اُگلا ہو۔
    ہر موقع پر انہوں نے بھارت کی زبان بولی۔
    یہ بے وفا اور بے ضمیر پاکستان کی ہر قربانی کو بھول گئے۔
    حتی کہ یہ بھی بھول گئے کہ افغان مہاجرین کی میزبانی میں پاکستان نے نہ صرف اپنی معیشت کا نقصان کیا بلکہ ان افغانیوں کو کاروبار کی اجازت دیکر مقامی پاکستانی باشندوں کی حق تلفی بھی کی۔
    ابھی بھی ہمارے اپنے نا مساعد حالات کے باوجود اربوں روپے کے منصوبے پاکستان نے افغانستان میں شروع کروا رکھے ہیں۔
    ان لوگوں نے احسان فراموشی کی انتہا کر دی ہے۔
    انہیں پاکستان کی طرف سے سرحد کے خلاف باڑھ لگانے کی بھی تکلیف ہے۔
    ان جگہوں پر باڑھ لگانا ضروری تھا،کیونکہ ان گزر گاہوں کو پاکستان میں تخریب کاری اور سمگلنگ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
    ہمارے کئی فوجیوں کو اس باڑھ کے لگاۓ جانے کے دوران شہید کیا گیا۔
    کیا ہم اپنے ان بچوں کی شہادت بھول پائیں گے۔کبھی نہیں ،
    ہمیں تحفظ پہنچانے کے لئے ان بچوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے خون کا نزرانہ پیش کیا۔
    میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں اپنے ان ہیروز کو۔
    میں سلام پیش کرتا ہوں،ان باہمت اور حوصلہ مند ماؤں کو ،جنہوں نے ایسے بہادر سپوت پیدا کر کے وطن پر قربان کر دئیے۔
    افغان رجیم کے ہر قسم کے پروپیگنڈے کو زمین میں دفن کرنے کے لئے سینئرصحافی عمران ریاض خان نے دو باتیں بڑی زبردست کی ہیں۔
    یہ باتیں دراصل ثبوت ہیں،افغان رجیم کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ طالبان کی موجودہ کامیابیاں پاکستان کی درپردہ امداد کا نتیجہ ہے۔
    اسکا جواب عمران ریاض کی ریسرچ کے نتیجے کے مطابق جس طرح دیا گیا،
    وہ میں نے اپنے ایک ٹویٹ کے زریعے اس طرح قلمبند کیا ہے-
    ‏کابل رجیم کی طرف سے پاکستان پر طالبان کی امداد کے الزامات مکمل طور پر
    ‏بے بُنیاد،جھوٹ اور من گھڑت ہیں
    ‏ثبوت#
    ‏#01-طالبان کے پاس روس،ایران و دیگر کئی ممالک کا اسلحہ ہے،سواۓ پاکستان کے
    ‏#02-کئی دوسرے ممالک کی سرحدوں کے قریب طالبان قبضہ کر چکے ہیں،سواۓ پاکستانی سرحد کے
    ‏⁦‪-عمران ریاض خان کا یہ وی لاگ دیکھنے کے لائق ہے۔جس میں اس نے کابل رجیم کے پاکستان پر لگاۓ گئے جھوٹے،واہیات اور غلیظ الزامات کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی ہیں۔
    اس معاملے میں پہلی دفعہ پاکستان کا موقف بڑا واضح اور جاندار ہے کہ
    افغانستان جانے،اور افغانی جانیں۔
    اپنی لڑائ خود نبیڑیں۔جو بھی برسر اقتدار آۓ گا،ہم اسکے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو تیار ہوں گے۔
    پاکستان افغانستان میں امن کی خواہش رکھتا ہے۔
    مگر پاکستان کے دشمن جان لیں کہ پاکستان کی امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جاۓ۔
    ہم اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازش کا مونہہ توڑ جواب دیا جاۓ گا۔
    پاکستان کے دفاع کے معاملے میں پوری قوم متحد ہے۔
    پاکستان زندہ باد #

    @lalbukhari

  • روح کیا ہے؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    روح کیا ہے؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    لغت کے اعتبار سے روح کا مطلب "لطیف پھونک” ہے۔ یعنی جب پھونک لطیف ہو جاتی ہے تو اسے روح کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا فیصلہ کیا۔ تخلیق فرشتوں کی بھی ہوئی ہے، جنات کی بھی ہوئی اور تخلیق انسانوں کی بھی ہوئی ہے۔قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اور کیچڑ کے آمیزے سےانسان کی تخلیق کی ابتدا کر دی۔ یعنی جس طریقے سے اب ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں تو ہمارے اندر ایک فیکٹری ہے جس میں ایک پروسس ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایک نطفہ وجود میں آجاتا ہے، عورت میں ایک مادہ وجود میں آ جاتا ہے اور پھر ان کے ملاپ سے انسان کی تخلیق کی ابتدا ہوتی ہے۔ ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ سارا معاملہ جو ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے وہ زمین کے پیٹ میں کیا تھا۔اس سارے پروسس میں ڈھانچہ (جسم) بنتا ہے۔جسم ایک مادہ کی قسم ہے، جس طرح انسان کا جسم مٹی اور پانی سے مل کر بنا ہے اِسی طرح فرشتوں کا جسم روشنی سے بنا اور جنات کا جسم آگ سے بنایا گیا ہے۔یہ سب مادہ کی اقسام ہیں۔
    جسم میں جو اصل شخصیت آنی ہے، یعنی انسان کی شخصیت، جن کی شخصیت یا فرشتہ کی شخصیت وہ خدا کی طرف سے صادر ہونی ہے۔انسانوں، جنوں اور فرشتوں کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہونے والا امر ہے۔خدا نے تخلیق کا فیصلہ کیا اس کے بعد خدا نے اس کا امر صادر کیا۔ خدا سے اس امر کے صدور کی کیفیت بلکل ایسے ہی ہے جیسے آپ پھونک دیتے ہیں۔ یعنی جیسے آپ کسی پر قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر پھونک دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ پھونکنا ایک روحانی ارتقا کا عمل ہے۔
    ہمارا علم محدود ہے، ہم اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کیا چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے جسم میں منتقل کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ضرور بتا دیا ہے کہ منتقل ہونے کا عمل کم و بیش ایسا ہی ہوتا ہے جس طرح تم کوئی چیز پھونک دیتے ہو۔
    آپ نے سنا ہو گا جب انسان سو جاتا ہے تو روح کو اس کے جسم سے الگ کر دیا جاتا ہے اور جس کا حکم ہو چکا ہوتا ہے اس کی روح کو روک دیا جاتا ہے ورنہ لوٹا دی جاتی ہے۔
    قرآن نے اس کے لیے روح کی بجائے نفس کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی ہمارے اندر جو شخصیت ہے اس کی حقیقت کو روح سے تعبیر کیا ہے۔ جب یہ ہمارے اندر آ گئی ہے تو اس شخصیت کو قرآن نفس کا نام دیتا ہے۔ یعنی ہمارا جسم نفس کا لباس ہے۔ نفس اور جسم سے مل کر جو چیز وجود میں آتی ہے اُسے انسان کہتے ہیں۔
    ایک اور ٹرم استعمال ہوتی ہے جس کے لیے ہمزاد کا لفظ بولا جاتا ہے، قرآن میں اس کے لیے قرین کا لفظ آتا ہے۔ جس وقت انسان بُرا ارادہ کرتا ہے، بُرائی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بار بار کی تنبہ کے بعد وہ بُرائی پر اصرار کرتا ہے تو قرآن مجید میں ہے کہ "پھر ہم اس پر کسی شیطان کو مسلط کردیتے ہیں۔” یعنی کسی شیطان کو یہ حق دے دیتے ہیں کہ وہ اب اس پر اپنا تسلط قائم کر لے۔ تو یہ جو شیطان مسلط ہوتا ہے اسے ہمزاد کہتے ہیں۔ پھر جب آپ کچھ بُرا کرنے کا سوچتے ہیں تو یہ اس میں اپنی ترغیب بھی شامل کر لیتا ہے۔ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ یہ آپ کو بُرائی کی طرف بلاتا ہے۔
    اس کے برعکس صورتحال بھی قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہم دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں تو ہمارے ساتھ کراماً کاتبین (خدا کے لکھنے والے فرشتے) بھی لگے ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے بھی ہم سے ایک تعلق رکھتے ہیں۔ جب ہم خیر کا ارادہ کرتے ہیں، اچھے راستے پر چلتے ہیں اور شیطان کی ترغیبات سے بار بار گریز کرتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ فرشتوں کی مدد ہمیں حاصل ہو جاتی ہے۔
    اکثر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ قرین /ہمزاد ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے اور بچپن سے ہی انسان کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ جبکہ قرآن مجید نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ جب کوئی خدا کی یاد دہانی سے گریز کرتا ہے تو اس پر شیطان مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمزاد کو بچپن سے آپ کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ابلیس اور اس کے کارندوں کا اپنا کام تو جاری ہے ہی اور وہ ہر مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں پر یہ کام خدا نے نہیں کیا لیکن جس وقت آپ نے خدا کی یاد دہانی سے گریز کا فیصلہ کر لیا تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پر کسی شیطان (ہمزاد) کو آپ پر مسلط ہونے کا موقع دے دیا جاتا ہے۔
    ایک روایت ہمیں ملتی ہے جس میں ہے کہ آپﷺ فرماتےہیں ” ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے تو صحابہ کرام نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ بھی ہے تو آپﷺ نے فرمایا ،ہاں میرے ساتھ بھی ہے پر میں نے اسے مسلمان کر لیا ہے۔”
    اس روایت کی یہ حقیقت ہے کہ ایک تو ہمارے اندر نفس کی ترغیبات ہیں یعنی ہم خواہشات رکھتے ہیں اور بعض اوقات ہم خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ ایک تو وہ شیطان ہے جو ہمارے اندر موجود ہے، دوسرا شیاطین جن بھی موجود ہیں، تو ان میں سے بھی کوئی انسان کے پیچھے لگا ہوتا ہے۔ مسلط ہو جانا اور پیچھے لگا ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ہے یہ ہر مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں مجھ پر بھی ہوتے ہیں لیکن میں نےاللہ کی مدد سے اس کو مسلمان کر لیا، یہ بڑی خوبصورت تعبیر ہے۔ یعنی جب میں نے اس کی ترغیب کو قبول نہیں کیا ،اس کی آواز پر لبیک نہیں کہا تو اس نے بھی یہ کام کرنا بند کر دیا۔ یعنی اس نے بھی آخر ہتھیار ڈال دیے۔
    سورہ القدر میں حضرت جبرائیل کے لیے بھی روح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کیوں کہ جب حقیقی شخصیت کے ساتھ کسی قسم کا مادی جسم استعمال نہیں کیا جاتا تو اسے روح ہی کہا جاتا ہے لیکن جب مادی جسم ساتھ ملتا ہے تو اس کے لیے پھر دوسرے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔اس لیے حضرت جبرائیل کو مقدس روح کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کی شخصیت خالص ہے ان کے ساتھ کسی مادی جسم کو نہیں جوڑا گیا۔
    اور آخر کار جب کسی انسان کا اس دنیا سے جانے کا وقت آتا ہے تو اس کی حقیقی شخصیت (نفس) کو اس کے مادی جسم سے الگ کر دیا جاتا ہے۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal

  • افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور طالبان کی پیش قدمی  تحریر: احسان الحق

    افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور طالبان کی پیش قدمی تحریر: احسان الحق

    دوحہ معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے فیصلے کے بعد افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے. آئے روز طالبان کی کارروائیوں میں تیزی اور فتوحات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. اکتوبر 2001 میں امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان پر حملے اور نومبر 2001 میں طالبان کی حکومت گرانے سے لے کر اگست 2021 تک تقریباً 20 سالوں میں طالبان نے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ ساتھ افغان فوج اور طالبان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں. ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے دو ماہ میں افغان علاقوں اور شہروں پر کئے جانے والے حملے اور قبضے 20 سالوں میں کئے گئے مجموعی حملوں اور قبضوں سے کہیں زیادہ اور کامیاب ہیں. امریکی اور نیٹو افواج کا انخلاء 31 اگست کو مکمل ہو جائے گا.
    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ انخلاء کا فیصلہ درست ہے اور افغانستان کے مستقل کا فیصلہ اب افغانیوں کو کرنا ہے.

    امریکہ، نیٹو اتحادی افواج کے ساتھ ساتھ طالبان مخالف مسلح گروہوں نے نومبر 2001 میں طالبان کی حکومت گرا کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی. گزشتہ 20 سالوں میں طالبان اپنی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ہیں. گزشتہ دو ماہ میں طالبان نے افغان حکومت اور فورسز کے زیر انتظام بہت سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے.
    کابل حکومت کے زیر انتظام اور زیر حکومت علاقے سکڑ رہے ہیں. طالبان کے سامنے بعض مقامات پر حکام اور افغان فورسز بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال رہے ہیں.

    طالبان کے دعوے کے مطابق انہوں نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کر لیا ہے. پچھلے کچھ دنوں میں طالبان کے قبضے میں جانے والے اہم شہروں کی تعداد 9 ہو چکی ہے اور یہ 9 شہر 9 صوبوں کے صدر مقام ہیں. اس سے پہلے طالبان نے صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر قبضہ کیا تھا. صوبے کے نائب گورنر صبغت اللہ سمنگانی نے بتایا کہ صوبے کا دارالحکومت ایبک طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے.
    بالخصوص تقریباً پچھلے 8 دنوں میں طالبان نے اہم علاقوں اور شہروں پر قبضہ کیا ہے. افغان حکام کی تصدیق سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں طالبان نے 9 صوبوں کے دارالحکومت شہروں پر قبضہ مکمل کر لیا ہے. یہ 9 صوبوں کے دالحکومت شہر ہیں جن پر طالبان کا مکمّل انتظام اور قبضہ ہو چکا ہے.
    فیض آباد، ایبک، قندوز، سرِپُل، تالقان، شبرغان، زرنج، پل خمری، اور فراہ شامل ہیں.

    تازہ ترین کارروائیوں میں منگل کے دن طالبان نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مزید دو صوبوں کے دارالحکومت شہروں پر قبضہ کیا. کابل سے محض 200 کلومیٹر دور شمال میں اہم شہر قندوز اور کابل کو ملانے والی شاہراہ پر واقع شہر پل جمری پر قبضہ کیا گیا. یہ انتہائی اہم راستہ ہے. اسی راستے کو وسطی ایشیا کا گیٹ وے کہا جاتا ہے. اسی روز منگل کو طالبان نے فراہ شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا. فراہ شہر صوبہ فراہ کا جبکہ پل جمری صوبہ بغلان کا دارالحکومت ہے.
    بغلان سے پارلیمانی رکن مامور احمدزئی نے AFP کو بتایا کہ طالبان شہر میں داخل ہو چکے ہیں اور اہم شاہراہوں، عمارتوں اور دفاتر کا انتظام سنبھال لیا ہے. بقول پارلیمانی رکن کے طالبان نے مرکزی چوراہے اور گورنر ہاؤس پر اپنے پرچم لہرا دیئے ہیں.

    افغانستان میں طالبان کی جانب سے کابل کی طرف پیش قدمی جاری ہے اور دوسری طرف دوحہ میں کابل حکام اور طالبان حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہونے جارہے ہیں. مزاکرات میں ثالث یا فیصل کے طور پر امریکی نمائندہ خصوصی ذلمے خلیل بھی امریکہ سے دوحہ پہنچ چکے ہیں.
    شمالی افغانستان ہمیشہ سے طالبان مخالف گروہوں کے قبضے میں رہا ہے. مگر پل خمری پر طالبان کا قبضہ بہت اہمیت کا حامل ہے. پل خمری کے بعد اگر طالبان مزار شریف پر قبضہ کر لیتے ہیں تو کابل حکومت مزید سکڑ جائے گی. ادھر بھارت نے مزار شریف میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا ہے اور اپنے شہریوں کو فوراً مزار شریف سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے.
    اس وقت قندھار اور ہلمند صوبوں میں لڑائی جاری ہے. اگر طالبان قندھار کے دارالحکومت قندھار اور ہلمند صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضہ کر لیتے ہیں تو جنوبی افغانستان میں طالبان کا قبضہ مکمل ہو جائے گا.

    طالبان کی پیش قدمی کے خوف سے جولائی کے پہلے ہفتے میں تقریباً ایک ہزار فوجی جوان تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے. جولائی کے آخری ہفتے میں 46 فوجی بمع 5 کمانڈرز پاکستان کی سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہو گئے تھے. سرحد عبور کرنے سے پہلے باقاعدہ طور پر فوج سے پناہ کی درخواست کی گئی تھی. پاکستان کے مطابق افغان فوج اس سے پہلے بھی پاکستانی حکام سے یکم اپریل کو اسی طرح پناہ کی درخواست کر چکی ہے.

    @mian_ihsaan

  • کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    تقریبا ایک دہائی میں پہلی بار پاکستان کو اولمپک میڈل کی جیت کی سنجیدہ امید تھی جب 1992 کے بعد ایتھلیٹکس میں پہلی بار ارشد ندیم ہفتے کے روز مردوں کے جیولین فائنل کے لیے ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم پہنچے۔ گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ ارشد نے فائنل میں پہنچنے کے بعد تاریخ رقم کی تھی اور اس کا مقصد ویٹ لفٹر طلحہ طالب سے بہتر کرنا تھا جو پہلے ٹوکیو میں کانسی سے محروم ہو گیا تھا۔ ارشد بالآخر پانچویں نمبر پر رہا ، یعنی پاکستان کا اولمپک میڈل کا انتظار 2024 میں پیرس میں کھیلوں تک جاری رہے گا۔ ارشد اور طلحہ کی پرفارمنس نے ظاہر کیا کہ پاکستان 2016 کے ریو اولمپکس کے بعد سے بہتر ہوا ہے۔ لیکن اسے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کسی بھی حوصلہ افزائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، حالانکہ ایک سابقہ ​​کھلاڑی کے طور پر وہ کھیلوں کے شعبے کو گھیرنے والی سنگین خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ارشد اور طلحہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہماری امیدوں کو اپنے متعلقہ فیڈریشنوں کی تھوڑی سی مدد سے بلند کیا تھا۔ پیرس کی الٹی گنتی اب شروع ہو رہی ہے۔ اگر ارشد اور طلحہ 2024 میں اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور اولمپک میڈلز جیتنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو ابھی سے کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اولمپکس ایک ایسے مرحلے کی وضاحت کرتا ہے جہاں بہترین یا بہترین کے قریب رہنے والے اوپر آتے ہیں۔ یہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی نظام موجود ہو – ہر سطح پر۔ پاکستان میں کھیلوں میں تیزی آئی ہے ، ٹوکیو اولمپکس مسلسل دوسرے کھیلوں کی نشاندہی کر رہا ہے جس کے لیے قومی ہاکی ٹیم ملک کے 10 اولمپک تمغوں میں سے آٹھ کی فاتح کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ غیر اولمپک کھیلوں جیسے کرکٹ اور اسکواش میں ، جہاں پاکستان کبھی غلبہ رکھتا تھا ، کارکردگی خراب ہوگئی ہے۔ حکومت ، اسپورٹس فیڈریشنز اور اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات مدد نہیں کرتے اور 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کو کھیلوں کی منتقلی نے اپنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ، جس سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو صرف محدود اختیارات حاصل ہیں۔ وزیر اعظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ فوری طور پر بلائے اور آگے کا راستہ وضع کرے اور ملک میں کھیلوں کی ثقافت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔ یہ کھیلوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ماحول بنانے کے بارے میں ہے جس سے سکول لیول سے ہی بچوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ اولمپکس میڈلز جیتنے والے سبھی ممالک سکول کے بچوں کو ہی تربیت دینا شروع کردیتے ہیں جس سے ایک تو ٹیلنٹ ہنٹ میں آسانی ہوتی ہے اور دوسری طرف مقابلوں کا وقت آنے تک انکی دماغی اور جسمانی پختگی پیدا ہوجاتی ہے مگر اس کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی اور کھیلوں کے مقابلوں کی اشد ضرورت ہے۔ کھیلوں کی سہولیات کی تزئین و آرائش اور ترقی اس کی طرف پہلا قدم ہے ، جو کہ نچلی سطح کے پروگراموں کو پنپنے میں مدد دے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں کو اپنے آپ کو حکومتی منصوبے کے مطابق کرنا چاہیے اور جسمانی تندرستی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے کافی وقت اور وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ یہ ایک سے زیادہ عہدیداروں کی چین کا ڈھانچہ ہونا چاہیے جو باصلاحیت افراد کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی سطح تک لے جائے جہاں فیڈریشن ، مثالی طور پر کھیلوں کے پیشہ ور افراد کے زیر انتظام ، انہیں اگلے درجے تک لے جائیں گے۔ ترقی پذیر کھیلوں کی ثقافت نہ صرف کھلاڑیوں کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرے گی بلکہ مقابلہ اور نمائندگی میں بھی اضافہ کرے گی ، جس سے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔

    @ AtiqPTI_1