Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • شکر کیسے ادا کیا جائے؟؟  تحریر :سلمان اکرم

    شکر کیسے ادا کیا جائے؟؟ تحریر :سلمان اکرم

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے. ایک نارمل انسان کے لیے اس کے وجود کے تمام اعضاء کا کامل ہونا کسی بڑی نعمت سے کم نہیں.
    .
    پھر ضروریات زندگی کا پورا ہونا بھی ایک عظیم نعمت ہے.. ضروریات سے بڑھ کر خواہشات کی تکمیل کس قدر بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ شاید ہم نے کبھی کیا ہی نہیں.
    .
    یہ بات بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم اپنے اوپر ہوئی رب کی عنایات کا اندازہ نہیں کریں گے ہم شکر بجا نہیں لائیں گے.
    .
    زندگی میں رشتوں اور دوستوں کا ہونا، مصروفیات میں فراغت کا دستیاب ہونا نعمتوں کا نکتہ کمال ہے.
    .
    ہمیں اکثر و بیشتر نعمت کی قدر تب ہوتی ہے جب کوئی نعمت ہم سے چھن جاتی ہے. اس سے پہلے ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم کتنی بڑی نعمتوں کے ساتھ جی رہے ہیں.
    .
    کبھی رات گپ انڈھیرے میں بجلی چلی جائے تو اندازہ کیجیے گا کہ ان لوگوں کی زندگی بھی کیا زندگی ہوگی جو روشنی سے واقف تک نہیں.
    .
    کبھی جسم کے کسی حصے پر زخم آ جائے تو سوچیے گا کہ اس چھوٹے سے زخم نے آپکو کتنا نامکمل کر دیا ہے.
    .
    کبھی مشکل وقت میں آپکو کسی مخلص کا سہارا نہ ملے تو چشم تصور میں اس تکلیف کو محسوس کیجیے گا.
    .
    بھوکے کا درد کیا ہوتا ہے یہ بھوکا ہی جانتا ہے. ہم جو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں ہم اس اذیت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں.
    .
    نعمت کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے بعد اگلی چیز اس کا شکر ادا کرنے کی ہے.
    .
    دنیا کا سادہ سا اصول ہے آپ کسی ادارے سے کسی قسم کی سروسز لیتے ہیں تو یقیناً اسے ایک معقول معاوضہ دیتے ہیں.
    اس دنیا میں ملنے والی کوئی بھی چیز مفت نہیں ہے.
    تو پھر ہم یہ کیسے سمجھ بیٹھے کہ جو چیزیں ہمیں فطرت نے عطا کی ہیں وہ بالکل مفت ہیں. اگر تو ہم انہیں مفت جانتے ہیں تو یقین کیجیے ہم اور آپ فطرت کے بدترین دشمن ہیں.
    .
    شکر کیسے ادا کرنا ہے.
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رب کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر اس کی عبادت سے ہی ممکن ہے.
    عبادت ایک لازمی چیز ہے مگر یہ فقط ایک چیز ہے.
    اور یہ آپکی ذات کے لیے ہے کہ آپ تہجد میں اٹھ کر اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر یا پھر چلتے پھرتے اس کی حمد و ثناء کر کے اس رحمت خداوندی کا شکر ادا کریں.
    .
    اس عبادت و ریاضت کا فائدہ آپکی ذات کو ہو سکتا ہے مگر یہ نعمت کا شکرانہ نہیں ہو سکتا.
    .
    جس طرح سرکاری بجلی و پانی استعمال کرنے کا ایک بل ادا کیا جاتا ہے اسی طرح رحمانی عطاؤں کا بھی ایک بل ادا ہوتا ہے.
    .
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے گرد و پیش میں ایسے افراد کیوں ہیں جو کسی نہ کسی نعمت سے محروم ہیں.
    جی خدا تعالیٰ نے یہ گنجائش فقط آپ کے شکر کے لیے رکھی ہے.
    .
    آپ کے پیٹ بھر کر کھانے کا شکرانہ یہ ہے کہ آپ کے قریب میں بھوکا سونے والے کا خیال کرنا آپکی زمہ داری ہے.
    .
    آپ کی بینائی کا قرض ہے کہ نابینا کو راستہ دکھایا جائے.
    .
    آپکے علم کا شکرانہ ہے کہ آپ جہالت کے اندھیرے مٹائیں.
    .
    اگر آپ کو بیساکھیوں کی حاجت نہیں تو شکر ادا کرنے کے لیے کسی لنگڑے کا سہارا بنیں.
    .
    اگر آپ مالدار ہیں تو شکرانے کے طور پر غریبوں کی امداد کریں.
    .
    اگر آپ خوش ہیں تو دکھی انسانیت کو خوشی دے کر شکر ادا کیجیے.
    .
    اپنے اوپر غور کیجیے، خود پر ہوئی رب کی عنایات جا جائزہ لیجیے. جو نعمت آپکے پاس موجود ہے اسے ان لوگوں میں تقسیم کریں جو اس نعمت سے محروم ہیں.
    یہی شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے.
    .
    شکریہ.

    @themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*

  • رشوت تحریر:اعجاز حسین

    رشوت تحریر:اعجاز حسین

    رشوت کیا ہے؟ جس چیز کا معاوضہ لینا شرعاً درست نہ ہو اس کا معاوضہ لیا جاۓ۔مثلاً جو کام کسی شخص کے فراٸض میں شامل ہے اور اسکا پورا کرنا اسکے ذمہ لازم ہے۔اس پر کسی شخص سے معاوضہ لینا۔جیسے حکومت کے افسر اور کلرک جو سرکاری ملازمت کی رو سے فراٸض ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔وہ صاحب معاملہ سے کچھ لیں تو یہ رشوت ہے۔
    جس سفارش پر کوٸی رقم وصول کی جاۓ وہ رشوت ہے۔اس میں ہر طرح کی رشوت شامل ہے۔خواہ وہ مالی ہو یا یہ کہ کسی کا کوٸی کام کرنے کے عوض کوٸی کام اس سے لیا جاۓ۔
    اسی طرح کوٸی کسی سے معاوضہ لیکر اسکے مطابق اسکا کام کرتا ہے اور اسکی وجہ سے حق پر ہونے والے شخص کا نقصان ہوتا ہے تو پھر یہ بھی رشوت ہے۔یہ مال اس شخص کیلیے حرام ہے اور جہنم میں لیجانے کیوجہ ہے۔
    رشوت لینے اور دینے والے دونوں سزا کے مستحق ہیں۔ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور جہنم میں لیجانے کا باعث ہے ۔اسوقت یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔یا یوں کہنا درست ہوگا کہ کبھی اس کی گہراٸی تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
    رشوت دینے اور لینے والے اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتے ہیں۔رشوت چونکہ ایک ظلم بھی ہے کیونکہ اس سے دوسروں کی حق تلفی ہو جاتی ہے اور اسکے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
    ” جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جاٸیگی تو انہیں ایک پل پر (جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگا) روک لیا جاٸیگا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دیا جاٸیگا۔“
    ”بخاری شریف“
    مزید فرمایا ،
    خبردار ہو جاٶ !ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔(صحیح بخاری)
    اور
    ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں سے ایک اندھیرا ہو گا۔( بخاری و مسلم)
    ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی ہمیں ظلم سے بچنے کی تاکید کی ہے اور ارشاد فرمایا
    ”مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اسکے اور اللہ کے درمیان کوٸی پردہ نہیں ہے۔“
    آج ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، اس معاشرے میں رشوت نے اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں ، جس کی وجہ سے باصلاحیت لوگ بہت پیچھے رہ گٸے ہیں ،کیونکہ رشوت دینے والوں کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ اور نا اہل افراد کو اہم عہدوں پر فاٸز کر دیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے ہمارا ملک تینتیسواں بڑا ملک ہونے کے باوجود دوسرے ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔
    رشوت بد عنوانی کی ایک قسم ہے ۔جس میں پیسے یا تحفے دینے سے وصول۔کردہ شخص کا طرز عمل تبدیل ہوتا ہے ۔قانونی معنوں میں کسی سرکاری افسر یا کسی عوامی یا قانونی امور کے مجاز کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے کسی شۓ کی پیشکش کرنا، وصول کرنا یا مانگنا رشوت ہے۔ کوٸی کام نکانے ، کسی پر ظلم کرنے یا کسی کا حق مارنے کے لیے کوٸی روپیہ پیسہ دیا یا وصول کیا جاۓ یہ سب رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔رشوت کا مقصد کسی پر اثر انداز ہونا ہے اس حد تک کہ کسی حقدار کے ساتھ نا انصافی کر کے خود فاٸدہ حاصل کیا جاۓ۔
    رشوت ایک سنگین جرم ہے۔اسلام میں رشوت کھانا،لینا،دینا سب حرام ہے۔
    رشوت کا داٸرہ بہت وسیع ہے۔حصول منصب ،غیر حقدار کو نوکری دینا ، کسی ادارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے اور چالان وغیرہ سے بچنے کے لیے پولیس افسران کو رشوت دینا بہت عام ہے۔اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں جلدی کام کروانے ، یا مفت کام کروانے، تعلیمی اداروں میں دھکوں سے بچنے کے لیے بھی رشوت دی جاتی ہے۔رشوت کی یہ تمام اقسام شرعاً اور اخلاقاً جرم ہیں۔
    رشوت کے انفرادی اور اجتماعی بہت سے نقصانات ہیں۔رشوت ہماری سوساٸٹی کا ایک بڑھتا ہوا لاعلاج مرض ہے جس کی جڑیں تقریباً ہر شعبے اور ہر ادارے میں پھیل چکی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں رشوت کی براٸی عام ہوتی ہے تو یہ سب سے پہلے عدل و انصاف کو ختم کرتی ہے۔جس کیوجہ سے پر امن معاشرہ انتشار اور خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
    انسانی افراد میں محبت ،اخوت ،ہمدردی اور بھاٸی چارے کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔
    بغض وعناد،نفرت ، عداوت اور خیانت عام ہو جاتی ہے۔معاملات میں دھوکہ دہی، جھوٹی گواہی، اور دوسرے قبیحہ افعال کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے پر جبر و استعداد کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔جو اللہ عزوجل کی ناراضگی اور مسلمانوں میں بغض و عداوتوں اور دیگر فتنوں کا سبب بنتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ آج سب سے زیادہ قدرتی وساٸل کے مالک اسلامی ممالک بد امنی اور انتشار کا شکار ہیں۔
    بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان رشوت کے جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔
    رشوت کیلیے حکومت نے قانون وضع کیے ہوۓ ہیں لیکن امانت ،دیانت اور اخلاص نیت سے روگردانی کر کے ہم نے ان قوانین کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔ جسطرح دنیاوی و ریاستی قوانین سے انحراف کرنا جرم ہے۔اسی طرح اسلامی قوانین سے روگردانی کرنا بھی کھلم کھلا بغاوت ہے۔معاشرے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا کسی مولوی کاکام ہے نہ کسی ڈاکٹر اور استاد کا ۔معاشرے کی اصلاح میں سب سے زیادہ کارگر حکومت کا عمل ہے۔اگر حکومت چاہے تو رشوت جیسے سنگین جراٸم کو ختم کر سکتی ہے۔سرکاری اہلکار ہوں یا نیم سرکاری ، عوام الناس ہوں یا پولیس آفیسر، تعلیمی ادارے ہوں یا انصاف فراہم کرنے والے ادارے ،ہسپتال ہوں یا دیگر عوامی نماٸندگی کرنے والے ادارے ،تمام اداروں اور تمام شعبوں سے رشوت کا خاتمہ کرنا ممکن ہے اگر حکومت مٶثر اقدامات کرے تو۔
    اسکے لیے حکومت کو بنیادی طور پر کم آمدنی والے اداروں ، سرکاری اہلکاروں بشمول پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب رشوت جیسے مکروہ دھندے میں ملوث افراد کی نہ صرف حوصلہ شکنی اور سرزنش کرنی ہوگی بلکہ سخت سے سخت سزا بھی دینا ہوگی۔
    اسی طرح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے کے تمام افراد کو رشوت ستانی کےانجام سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے زبردست مہم چلانا ہوگی۔
    کتنے افسوس کی بات ہے غیر مسلم رشوت جیسی دیگر براٸیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے پلیٹ فارم بناتے ہیں ،بحث و مباحثہ کرتے ہیں ، اور فلاحی و سماجی تنظیمیں بنا کرلوگوں میں آگہی پھیلاتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام لیوا امت مسلمہ کا شرف حاصل کرنیوالی قوم اپنے ہی مذہب کی تعلیمات سے پہلو تہی کرتی ہے۔
    حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم ﷺ نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے ،دونوں پر لعنت فرماٸی ہے۔“
    ( سنن ابی داٶد)
    ” جس قوم میں سود عام ہو جاۓ وہ قحط سالی میں مبتلا ہو جاتی ہے، اور رشوت جس قوم میں عام ہو جاۓ تو دوسروں (کفار) کا خوف اور رعب انکے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔“
    (احمد حدیث، 17976 ،مسند شامعین،راوی عمرو بن عاصؓ)
    آج پاکستان میں یہ دونوں براٸیاں بہت زیادہ ہیں۔اسوقت ہمیں اجتماعی توبہ کرنے ک ضرورت ہے۔
    آج جب زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے اور ہر علم و فن میں ترقی ہو رہی ہے اس کے ساتھ جراٸم کی نت نٸی شکلیں سامنے آ رہی ہیں ،رشوت اب نٸے انداز اور بدلے روپ میں لی اور دی جا رہی ہے۔
    رشوت کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی ہمیں کوشش کرنا ہو گی ۔اسلامی تعلیمات کو اپناتے ہوۓ ہی ایک پر امن معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
    آٸیے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

    @Ra_jo5

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ ون تحریر: اے ار کے

    شاید بہت کم لوگ کرومائیٹ کے بارے میں جانتے ہونگے،
    اور شاید بہت کم لوگوں نے کبھی مسلم باغ دیکھا ہو یا نام سنا ہو۔
    مسلم باغ کی ابادی پینتیس ہزار اور شرح خواندگی ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 فیصد ہے۔
    مسلم باغ میں ایک گرلز ڈگری کالج ایک بوائے ڈگری کالج ایک پولی ٹیکنیک کالج ایک کیڈٹ کالج (بمقام نسائی) اور سب کیمپس بلوچستان یونیورسٹی اف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ اینڈ مینجمینٹ سائنس ( بیوٹمز)
    واقع ہیں۔
    سیاست کے میدان میں بھی مسلم باغ نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو جنما ہے۔ممبر اف نیشنل اسمبلی مولانا عبدالواسیع سابق سینیٹر شہید عثمان خان کاکڑ اور ممبر اف صوبائی اسمبلی بلوچستان مولانا نوراللہ کا تعلق بھی ماشاءاللہ مسلم باغ سے ہے۔
    اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے کرم سے مسم باغ کو کرومائیٹ جیسے تحفے سے نوازا ہے۔
    کرومائیٹ ہی کے بدولت خطہ مسلم باغ
    خوشحال اور امیر ترین سمجھا جاتا ہے۔
    مسلم باغ کے 80 فی صد لوگ کانکنی سے وابسطہ ہیں۔
    مسلم باغ کے سینکڑوں کان مالکان کے ساتھ تقریبا بیس تا پچیس ہزار افراد بطور لیبر کام کرتی ہے جنکا تعلق کے پی کے اور افغانستان سے ہوتا ہے۔یہ لوگ کان کے مالک کی ہدایات کے سخت پابند ہوتے ہیں۔
    تحصیل مسلم باغ پہلے ہندوباغ ہوا کرتاتھا۔
    سب(SUB) تحصیل مسلم باغ کا نام اس لیے ہندوباغ تھا کہ برصغیر کے ایک ہندو سادھو نے یہاں ایک شاداب خوبصورت باغ لگایا تھا۔
    لیکن ضیاءالحق کے دور میں ایک دن اچانک ہندوباغ مسلم باغ ہو گیا۔
    تحصیل مسلم باغ بلوچستان (پاکستان) کے ضلع قلعہ سیف اللہ کی ایک تحصیل ہے۔ سطح سمندر سے بلندی 1787 میٹر ہے۔ مشہور اور مرکزی قصبہ (چھوٹا پیارا شہر) 
    مسلم باغ کرومائیٹ پیداوار کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور و جانا جاتا ہے ۔
    مسلم باغ اس قیمتی معدنی پیدوار کا اہم مرکز ہے۔
    ترکی ، ایران اور انڈیا میں بھی کرومائیٹ پایا جاتا ہے لیکن کوالٹی میں مسلم باغ کے کرومائیٹ کا کوئی ثانی نہیں۔
    اور جوق در جوق یورپی اور چائینیز پارٹیاں کرومائیٹ کے سودے بازیوں کیلیے مسلم باغ کا رخ کرتی ہیں۔
    کرومائیٹ کے تیز کاروبار اورپیسوں
    کے ریل پیل کو دییکھتے ہوئے تقریبا تمام ملکی ( پرائیوٹ)بینکوں نے اپنے برانچ مسلم باغ میں کھول رکھے ہیں۔
    میری طرح یہ جان کر اپ بھی انگشت بدندان رہ جائیں گے کہ مسلم باغ کے فی کس اوسط سالانہ امدنی پندرہ تا پچیس ہزار امریکی ڈالر ہے۔
    اگر اس دعوی کو درست مانا جائے تو یہ اوسط امدنی پورے ملک کی اوسط امدنی سے تقریبا دوگنا اور یورپی ملکوں کے برابر ہے۔
    ارب پتیوں کے شہر مسلم باغ میں و اقع کرو مائیٹ کے وسیع ذخائر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے روزانہ کئی ٹن کرو مائیٹ حاصل کر کے ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مسلم باغ کے پہاڑوں میں دیگر قیمتی معدنیات جپسم،گرینائیٹ،میگنیسائٹ اور چونے کے پتھرکے بھی وسیع ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔
    اسٹین لیس اسٹیل کی تیاری میں بڑی کثرت سے استعمال ہونے والا اور اس کا بنیادی جُز کرومائیٹ Chromium Ore ایک دھاتی پتھر ہے Cr اسکا کیمائی فارمولا ہے۔ کرومائیٹ پر زنگ نہیں لگتا۔ 1900 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر بھی نا پگھلنے والا پتھرکرومائیٹ کے ہر ایٹم میں24 پروٹون ہوتے ہیں ۔
    جاری۔۔۔۔۔

    ٹویٹر ہینڈل @chalakiyan

  • یومِ آزادی 2021  اور وقت کے تقاضے تحریر:حُسنِ قدرت

    یومِ آزادی 2021 اور وقت کے تقاضے تحریر:حُسنِ قدرت

    یومِ آزادی ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے لیکن اس دفعہ کیونکہ کووڈ ہے اور پھر محرم الحرام ہے اسلیے ہمیں چاہیے کہ وقت کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے تھوڑی سی احتیاط کرتے ہوئے جشنِ آزادی منائیں
    ہر سال ہم لوگ دیکھتے ہیں کہ بچے چھوٹے چھوٹے باجے لیکر گلیوں میں بجا رہے ہوتے ہیں اور بڑے باجے بھی بھر پور طریقے سے بجائے جاتے ہیں جسکا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں اور ہماری آزادی ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے جسکا اظہار ہم سرِ عام باجا بجا کر کر رہے ہیں اسی طرح جھنڈیاں لائی جاتی ہیں پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے ،گلیوں بازاروں میں خوبصورت اور دلکش جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ برقی قمقمے بھی لگائے جاتے ہیں اور خوبصورت بیجز بھی ملتے ہیں جسے اپنے سینے پہ سجا کر ہر چھوٹا بڑا فخر محسوس کرتا ہے

    اس جشنِ آزادی آپ بیشک بیچز لگائیں ،پرچم کا ہم رنگ لباس زیبِ تن کریں لیکن باجوں سے پرہیز کریں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ محرم الحرام کا احترام کیوں کہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ غموں کا پہاڑ ٹوٹا اور شہادتیں ہوئیں اسلیے ہمیں چاہیے کہ انکے احترام میں باجوں سے پرہیز کریں نیز باجے بہت زیادہ صوتی آلودگی کا سبب بھی بنتے اسلیے بھی دوسروں کا خیال رکھیں
    حکومتِ پاکستان نے ایک بہت ہی خوبصورت منصوبہ گرین پاکستان شروع کیا ہے جسے کلین اینڈ گرین کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے سارے شہروں میں کتنے درخت لگانے ہیں یہ ایک ٹارگٹ سیٹ کیا گیا ہے اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے جیسا کہ بڑھتا ہوا ماحول کا درجہ حرارت یہ جب درخت لگائے جائیں گے تو اس میں کافی کمی آئے گی فضا دھویں اور زہریلی گیسوں کی موجودگی کی وجہ سے زیریلی ہو چکی ہے جب درخت لگائیں گے تو ماحول میں آکسیجن کی مقدار بڑھے گی اور دیگر زہریلی گیسیں جیسا کہ کاربن وغیرہ یہ کم ہوں گی جس سے ہمیں ایک صحت مند ماحول ملے گا
    جھنڈیاں جب ہم لوگ لگاتے ہیں تو وہ ہوا سے اڑ کر گِر جاتی ہیں اور انکی بہت زیادہ بے حرمتی ہوتی ہے اکثر تو کچرے میں گئی ہوتی ہیں اس سے بچنے کے لیے آپ ایک پرچم ہی اپنے گھر کی چھت پہ لگا دیں تو بہت ہے اور جتنے پیسوں سے آپ نے جھنڈیاں خریدنی ہیں ان پیسوں کا حساب لگائیں اور پودے لے آئیں انکی دیکھ بھال کریں اس طرح پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے یہ اقدام اٹھائیں

    اپنے بچوں کو جشنِِ آزادی کا مفہوم سمجھائیں اور انہیں اس سے تاریخی آگہی فراہم کریں انہیں ڈاکومنٹریز،ڈراماز ،سیریز دکھائیں جو تاریخ پاکستان بتاتی ہو لیکن انہیں اپنے الفاظ میں بھی ضرور سمجھائیں انہیں بتائیں کہ آزادی کی تاریخ کیا ہے کون لوگ تھے جنہوں نے آزادی کی تحریک شروع کی برصیغر میں،دیگر کون سی اقوام تھیں، دو قومی نظریے کی بنیاد کیسے پڑی ،مسلمانوں کی تعلیم کے لیے کس شخصیت نے کام کیا ، صحافتی میدان میں کس نے خدمات سر انجام دیں ، فلسفہء آزادی کس نے مسلمانوں کو یاد کرایا ،کس کے تفکر کی تلوار نے مسلمانوں کی ذہنی غلامی کی زنجیروں کو توڑا اور مسلمانوں میں شعور کو بیدار کیا خواتین نے کس طرح تحریکِ آزادی میں حصہ لیا مسلمانوں کی ہجرت اور تقسیم کے ساتھ ساتھ درپیش مسائل اور موجودہ پاکستان اسکے حالات کا تجزیہ تاریخی پسِ منظر میں کریں لیکن بہت ہلکے پھلکے الفاظ میں ایک کہانی کی طرح سنایا جائے جس سے بچے اس میں دلچسپی لیں اور اپنے ہیروز کو پہچانیں انکی طرح بننا چاہیں انکی طرح بننے کی کوشش کریں آج کی بچیاں بھی ناچنے والی ٹک ٹاکرز کی بجائے ان خواتین کو اپنا رول ماڈل بنائین جنہوں نے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انکی طرح باکردار بنیں
    کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے اور ہماری ضرورت بھی

    Twitter: @HusnHere

  • حسد کیا ہے تحریر: زید علی

    حسد کیا ہے تحریر: زید علی

    انسان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ حسد ہے۔ اگر انسان حسد کرنا چھوڑ دے تو کامیابی کی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ حسد اکثر اپنوں سے ہوتا ہے۔ حسد کیا ہے؟ اگر کسی کو اللہ تعالی نے نعمتیں دی ہیں تو ان نعمتوں کو برداشت نہ کر پانا حسد ہے۔ اس سے نہ صرف ذہنی بیماری بڑھتی ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی انسان بیمار رہنے لگتا ہے۔ حسد انسان کو کامیابی سے دور کر دیتا ہے۔ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ بے شک وہی انسان نارمل ہے جس کی روح اور ذہن دونوں کام کرتے ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسد کرنے والے، چغلی کرنے والے اور کاہن نجومی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے”۔ (حدیث)
    حسد دوزخ کی آگ ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، بعض، عداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔ اے اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ”۔
    جس نے حسد پر قابو پالیا۔ اس نے اپنے اندر بیٹھے ایک شیطان پر قابو پالیا۔ حسد انسان کا اس وقت تک پیچھا کرتا ہے جب تک وہ اس حسد کو مار نہ دے۔ ایک بار مارنے سے نہیں مرتا۔ بار بار مارنا پڑتا ہے۔ اس کا علاج، محنت، قناعت اور شکرگزاری میں رکھا گیا ہے۔ کوشش کریں کہ زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کے ساتھ اچھا گزرے کیونکہ زندگی نہیں رہتی۔ مگر یادیں ہمیشہ رہتی ہیں۔
    اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (اشفاق احمد)
    آپ سچے دل سے محنت کرو کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کا صلہ ضرور ملے گا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم زیادہ وقت اپنی پڑھائی اور عبادت کو دیں تاکہ لوگ ہم سے حسد نہیں رشک کریں۔ بجائے اس کہ کے ہم دوسروں کو سوچنے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ ورنہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور حاسد کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ اپنی ہی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "حسد سے بچو۔ کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ "لکڑی” "یا خشک گھاس” کو کھا جاتی ہے۔” حسدصرف نیکیوں کو نہیں کھاتا بلکہ یہ انسان کے اندر کی انسانیت اور قلب کی روشنی کو بھی کھا جاتا ہے۔ اللہ عزوجل مجھے آپ کو اس بیماری سے بچائے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اپنی محنت پر توکل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

    Twitter: @ZaidAli0000

  • آؤ خیر تلاش کریں   تحریر : صالح ساحل

    آؤ خیر تلاش کریں تحریر : صالح ساحل

    بہت عرصہ سے سوشل میڈیا پر مختلف بحثیں دیکھی کے کسی ایک مکتب فکر یا اہل علم کے عقیدت مند اپنے نقط نظر کے حاملین کے علاؤہ دوسرے لوگوں سے دور بھاگتے نظر آتے ہیں انہیں بحثوں میں سوشل میڈیا پر انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی طارق مسعود صاحب کے اختلاف کے چرچے کافی نظر آ رہے ہیں اور حیرت کی بات کے ایک کے عقیدت مند دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی کشمکش میں شاید ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کے ہمیں تو خیر کی بات شیطان سے بھی پتہ چلے تو لے لینی چاہیے ہم اپنی رہنما کی ہر بات کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے کی سہی بات بھی ناگوار لگ رہی ہوتی ہیں ایسے میں کیا ہم اپنا نقصان نہیں کر رہے اعلی حضرت ہوں یا مولانا مودودی کوئ صوفی ہو یا سلافی ، جاوید احمد غامدی ہوں یا مولانا الیاس قادری یہ سب خیر کی فیکٹریاں ہیں یہ یونیورسٹیاں ہیں ہم ان سب میں سے خیر تلاش کرنی تھی مگر ہم نے خیر کے بجائے دوسرے کی خامیاں تلاش کرنا شروع کر دی اگر کوئ شخص یہ سوچتا ہے کے دنیا میں کوئ شخص خیر ہی خیر ہے تو یہ اس کی کم عقلی ہے ہر شخص میں خیر اور شر موجود ہوتا ہے ہمیں چاہیے کے ہم خیر کو لیں اور شر سے کنارہ کشی کریں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہ قول میرے لیے ہمیشہ فائدے مند رہا ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے اجمال کفر کے ہوں اور اور ایک ایمان کا اور وہ اپنا مقصد واضح نہ کرے کے کیا کہنا چاہتا ہے تو ہمیں اس کے ایمان والے اجمال کو قبول کرنا چاہیے مگر ہم یہاں کسی کی ایک غلطی پر اس کی ساری خدمات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ہم نے اپنی اندار ایک بیماری اور پیدا کر لی اور وہ ہے شک کی بیماری ہمیں اپنے سے مختلف رائے دینے والا سازشی نظر آتا ہے ہمیں چاہیے اپنے سینوں کو واسط دیں سب اہل علم سے استفادہ کریں اپنے علم کو بڑھیں میں ہرگز نہیں کہتا کے آپ مفتی یا سکالر بن جائیں مگر کم سے کم اچھی اور برائ میں فرق کا پتہ لگانا مشکل نہ ہو بنیادی علم حاصل ہو آپ کو اہل علم کے اختلاف اپنی جگہ مگر ان میں موجود خیر کو اپنے اندر اکٹھا کریں اگر ہم دل کے برتن میں خیر ڈالیں گے تو ہماری ذات خیر کا موجب بنے گی اگر یہ برتن ہی ہم نے شر سے بھر لیا تو ہمارا وجود ہے شر کی آب یاری کرے گا آؤ خیر تلاش کریں ایسا نہ ہو کے دیر ہو جائے ذیل میں ہم بیان کرتے ہیں کے ہمیں کیا کرنا چاہیے جب کسی بات میں اختلاف ہو تو
    ۔۔۔۔
    آپس کے اختلافات اس بات کامظہر ہوتے ہیں کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب انتہا پسندی سوچوں میں داخل ہو جائے تو اختلاف مخالفت بن جاتا ہےاور یہیں سے اس سفر کا آغاز ہوا جس نے فرقہ پرستی کو جنم دیا
    کچھ ضمنی سوالات اٹھے تو ان کے مختلف جوابات نے ”میں نہ مانوں” کا رویہ اختیار کیا اور دین کا بنیادی سبق ً عفو و درگزر” دور ہوتا چلا گیا اور انا و عصبیت کا عفریت چھاتا چلا گیا اب بھی وقت ہے کہ ہم تعصبات کے خول سے باہر جھانکنے کی کوشش کریں اور سینوں کو چوڑا کرنے کے بجائے دلوں کو کشادہ کریں
    اپنی طرف اٹھنے والی انگلی کو کاٹنے والا رویہ ترک کر کے اس انگلی کا ہمارے کس عیب کی طرف اشارہ ہے اس کی اصلاح کا بندوبست کریں
    میری نظر میں عجز و انکساری سے کوسوں دور چلے جانے کی وجہ سے ہم دین و دنیا کے ہر معاملے میں جذباتیت کا شکار ہیں
    @painandsmile334

  • مصطفی‏‎ﷺ کے نام کی جاگیر پاکستان ہے تحریر:صائمہ ستار.

    مصطفی‏‎ﷺ کے نام کی جاگیر پاکستان ہے تحریر:صائمہ ستار.

    پاکستان کا مطلب کیا؟”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ“
    دستورِ ریاست ہوگا بس محمدﷺرسول اللہ

    قیامِ پاکستان بِلا شُبہ قدرت کے معجزات میں سے ایک ہے. 1857 ءسے چھائ غلامی کی تاریک رات کی روشن صبح 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947ء کو لاکھوں شہداء کے خون سے طلوع ہوئ. یہ اللہ تعالیٰ کے چُنے ہوئے مُجاہد "محمد علی جناح” کی 40 سالہ ان تھک جدوجہد کا ثمر تھا .یہ اقبال کے خواب کی تعبیر تھا. آزادی کی اس مبارک جدوجہد کی بنیاد میں عظیم قائد کا نظریہ ”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ“  تھا.قیامِ پاکستان سے قبل ایک موقع پر فرمایا
    "مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہوگا؟یہ تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟مسلمانوں کا طرزِ حکوت آج سے 1300 سال پہلے قرآن مجید نے واضح طور پر بیان کر دیا تھا. الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائ کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا.” قیامِ پاکستان کے بعد بھی متعدد مواقع پر آپ نے مختصر مگر جامع انداز میں یہ واضح کیا کہ نظریہ پاکستان سراسر نظریہ اسلام ہے. ایک موقع پر آپ نے فرمایا
    "ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں”.
    اسی طرح ایک اور موقع پر اسلام کے اس
    مردِ مجاہد نے فرمایا
    "پاکستان کے مطالبے کی وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری تھی نہ انگریزوں کی چال. یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا.” اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کے دوران فرمایا” اسلام ہماری زندگی اور وجود کا بنیادی سر چشمہ ہے”.آپ نے قومیت کی بنیاد کلمہ توحید کو قرار دیا. فرمایا "مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے۔ نہ وطن ہے‘ نہ نسل ہے”.راہنماہِ کامل سیدنا محمد مصطفی‎ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق مکمل طور پر اسلامی نظام کا قیام محمد علی جناح کا مقصد تھا. جسکا اظہار آپ نے ان الفاظ میں فرمایا
    ”میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اُسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے، جو ہمیں قانون عطا کرنےوالے پیغمبرِ اسلام‎ﷺ نے ہمارے لئے بنایا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پررکھیں۔“
    آپکے یہ تمام فرامین یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپکی جہدوجہدِ مسلسل کا مقصدِ اولین اسلامی قوانین کے مکلمل نفاذ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا. افسوس کہ عظیم قائد کو زندگی نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنی جدوجہد کے ثمر کو مکمل نظامِ مصطفی‎ﷺ میں ڈھلتا دیکھتے. وطنِ عزیز کی بہتری کی ہزاروں اُمنگیں سینے میں لیے مردِ مجاہد بہت جلد ابدی سفر کی طرف روانہ ہو گیا.وفات سے قبل آپ نے اپنے معالج سے فرمایا کہ
    "پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا، اگر اس میں فیضانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل نہ ہوتا“۔ اس ایک فرمان سے آپ نے اس راز کو عیاں کردیا کہ قیامِ پاکستان مکمل طور پر سیدنا محمد مصطفیﷺ کی عطا ہے. آپ ﷺ کی نظرِ رحمت اور فیضان آزادی کی جدوجہد کی تمام کوششوں پر بھاری تھا جسکے بغیر پاکستان کا وجود میں آنا ناممکن تھا.پاکستان کا ترقی پزیر ملک ہونے کے باوجود اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بننا بھی یقیناً رسول اللہﷺ کے فیضانِ نظر کی بدولت تھا. رسول اللہ ﷺ اپنی حیاتِ مبارکہ میں بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ہِند کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں.

    میرِ عربﷺ کو آئ ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میر ا وطن وہی ہے

    اس سے بڑھ کر افسوس کا مقام کیا ہو گا کہ سیدنا محمدﷺ جنکے فیضان سے جنکے قدموں کی خاک کے صدقے ہمیں یہ وطن ملا آج اُسی وطن کی پارلیمنٹ میں فرانس کی سرکاری سطح پر ہونے والی توہینِ رسالت پر ایک مذمتی قرارداد تک پیش نہ ہو سکی. اسی وطن میں معشیت کی مجبوری کے نام پر فرانس کو ایک سخت لفظی جواب تک نہ دیا گیا .تحریک لبیک پاکستان نے رسول اللہﷺ کی عزت کےلیے فرانس کے بائیکاٹ کی قرارداد کو اپنے چوبیس شہداء کے خون سے پارلمینٹ تک پہنچایا تو ایک رسمی سماعت ہوئ جس میں وزیر اعظم سمیت آدھی سے زیادہ اسمبلی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا. اجلاس میں قرارداد پر بات کرنے کی بجائے حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے ایک دوسرے سے لڑتے رہے یوں مزید سماعت غیر معینہ مدت کے ملتوئ کر دی گئی.اور آج تک ملتوئ ہے.پارلمینٹ کے پاس وقت ہی نہیں کے وہ محض چند منٹ ہی رسول اللہﷺ کی عزت کے قانون پر بات کرنے کے لیے نکال سکے.
    وزیر اعظم لیاقت علی خان نے نوزائیدہ سلطنت کو قائد اعظم کے نظریے کے مطابق سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا مگر قدرت نے جلد انہیں بھی بلا لیا. اسکے بعد آج 74سال گزر گئے قائدِ اعظم کے قدموں کی خاک کے برابر بھی لیڈر پاکستان کو نصیب نہ ہو سکا.ہر آنے والے وقت میں اسلام کے نام پر, لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے اس وطن میں مغرب سے قدم ملانے کی آڑ میں اسلام کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے.اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام برائے نام رہ چکا.سیکولر ازم اور لبرل ازم کے نام پر ہر روز اسلامی اشعار کی دھجیاں اڑائ جاتی ہیں.دو قومی نظریہ کی کُھلے عام نفی کی جارہی.ہماری منفرد تہذیب,معاشرتی اقدار اور اسلامی لباس جو ہماری پہچان تھا دو قومی نظریہ کی بنیاد تھا یہ نظریاتی تشخُص ختم ہوتا جارہا ہے.
    معاشی حالت کی ابتری کی وجہ سے سارا نظام سودی قرضوں کی بھیک پر چل رہا.سود جو اللہ تعالیٰ سے کُھلا اعلانِ جنگ ہے.پھر وطن ترقی کرے تو کیسے؟سود سے پاک معاشی نظام قائم کرنا قائد اعظم کا مقصد تھا اسلیے آپ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی بنیاد رکھی.مگر آج پاکستان کا تمام معاشی نظام بشمول سٹیٹ بنک کے آئ ایم ایف کے تیار کردہ اصولوں پر چل رہا.ہماری معاشی خودمختاری نام کی بھی نہیں رہی. ہر فرد کے پیٹ میں سود کا حرام لقمہ جارہا. اسلامی سزائیں مکمل ختم کر دی گئی ہیں جسکی وجہ سے نظامِ عدل بدترین مذاق بن کہ رہ گیا ہے.ہر شُعبہ زندگی میں ہم دنیا سے پیچھے ہی.اس زوال کی وجہ اس مقصد سے منہ موڑ لینا ہے جسکے لیے یہ وطن بنا اور یہ مقصد نظامِ مصطفی‎ﷺ کا نفاذ ہے.پاکستان کی ترقی کا واحد حل یہی ہے کہ سیدنا محمد‎ﷺ سے وفا ہر ملکی مفاد سے بڑھ کر کی جائے.دستورِ ریاست مکمل طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں ہو.مسلمانوں میں تبدیلی /ترقی اسلام کو پیچھے چھوڑ کر ہر گِز نہیں آسکتی.یہ وطن سیدنا محمد مصطفی‎ﷺکے نام کی جاگیر ہے اور اسےحقیقی معنوں میں ریاستِ مدینہ بنانے کے لیے اسلام کو محض لفظی نہیں عملی طور نافذ کرنا ہو گا. اللہ تعالئ ہمارے وطن کو کو قائدِ اعظم جیسی مخلص اور مُحبِ اسلام قیادت نصیب فرمائے.آمین

    نام تیرا تا ابد تا قیامت رہے
    اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
    سلامت رہے تا قیامت رہے(آمین)

    @SMA___23

    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • اقبال کا پیغام قوم کے نام  تحریر: سید حسنین مشہدی

    اقبال کا پیغام قوم کے نام تحریر: سید حسنین مشہدی

    علامہ اقبال کے جزوی مطالعہ کے بعد کچھ جملے آج کے نوجوان اور مسلمان کے لیے کہ عصر حاضر کے مسلمانوں
    اپنی ملی پستی و زوال کا سبب خود ہیں لیکن شکوہ رب سے کرتے رب سے شکوہ کرنے کی بجاۓ پہلے ذرا اپنی اداؤں پر غور نھیں کرتے۔ تمھاری دینی حالت یہ ہے کہ تمھیں صبح فرض نماز کے لئے اٹھنا بھی گراں اور ناگوار ہے کاہلی نے تمہیں اپنے گرفت میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ دنیا کا شوروغوغا تمھیں سنائی نھیں دیتا پانچ وقت کی گونجتی آواز تمہارے کانوں پر کوئی اثر نھیں چھوڑتی اس قدر بےحسی اور لاپرواہی ہے ؛ گویا تمھیں رب سے پیار نہیں بلکہ اپنی نیند پیاری ہے۔ تمھاری طبیعت اور مزاج رب کے احکام کی پابندی سے اس قدر آزاد ہو چکی ہے کہ رمضان کے روزوں کی پابندی بھی تمھارے لئے مشکل ہے۔جب اللّٰہ تعالیٰ کی عطاء کا عالم یہ ہے کہ اللّٰہ کی طرف سے رحمت کی پکار آتی ہے لیکن تم رحمت سمیٹنا نھیں چاہتے اس کی طرف سے نعمتوں کی برسات کا نکارہ بجایا جاتا ہے لیکن تمھیں سنائی نھیں دیتا ۔ تو تم ہی بتاؤ کہ وفاداری کا اصول اور دستور یہی ہے تمھاری نگاہ میں؟ کہ رب کی رضا کے لئے فرض نماز روزے کی پابندی بھی نہ کرو؟ ارے نادان مسلمانو؛ تم ایک منظم قوم اور مضبوط قوت اپنے مذہب یعنی دین اسلام کی بدولت تھے؛ دنیا میں تمھاری ترقی اور عروج کا راز یہی تھا؛ آج تم نے قرآن و سنت کی رسی چھوڑ دی ہے تو تمھارا باہمی نظم و ضبط بکھر چکا ہے سو تم مسلمان ایک منظم اور طاقتور ملت نہیں رہے بلکہ ایک منتشر ہجوم اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہو جسے یہود ہنود ہانک رہا ہے تم خود اپنی ذلت کا سبب بنے ہوۓ ہو کیوں بھول جاتے ہو اپنی اسلاف کی قربانیوں کو ۔آج تم اپنے اسلاف کے نام سے خود کو متعارف کروانا چاہتے ہو لیکن خود عمل پیرا نھیں ہونا چاہتے
    ارے ! تھے تو وہ آبا ہی تمہارے تم کیا ہو؟
    آج تم وہ ہو جس کی دنیا میں کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے؛

    علامہ محمد اقبال نے اپنی مسلم قوم کے سوۓ ہوۓ ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے کہ ؛جو قوم کبھی کلیساؤں میں آذانیں دیا کرتی تھی جو قوم کبھی بتوں کو نیست نابود کیا کرتی تھی آج وہی قوم بت خانے آباد کرنے میں لگ گئی ہے؛

    تلواروں کے سائے میں اللّٰہ اکبر کی صدائیں لگانے والوں کی ذلت کا یہ عالم ہے کہ
    آج اس قوم کی بیٹی کلیساؤں اور بت خانوں میں محفل کی زینت بنی ہوئی ہے جس قوم کی بیٹی کی ردا کے لیے املاک فتح کیے جاتے تھے جس قوم کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کی دیواریں مسلم قوم کے جاہ وجلال کے آگےحل جایا کرتی تھیں لیکن آج وہی قوم خود اپنی ذلت کا سبب بنی ہوئی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی دی ہوئی دولت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ہم میں مذہبی آہنگی کا تصور ختم ہوگیا ہم نے مذہب کو صرف روایتی لحاظ دیکھا اور جس مذہب کو ہم نے حرف کل سمجھنا تھا اس کو ہم جزوی طور پر بھی اپنانے کو تیار نھیں ۔ہم نے اللّٰہ کے مقابل اپنی آسائشوں کو ترجیح دی اور رب کے حکموں کو پس پشت ڈال کر بڑھنا چاہا جو رب کو ناگوار گزری۔

    @SyedHR92

  • توکل تحریر؛یسرا چنہ

    توکل تحریر؛یسرا چنہ


    اندر ہی اندر میں ہم حیران ہوتے ہیں کہ وہ ہماری دعاؤں کا جواب کیوں نہیں دے رہا ہے جو ہم ایک طویل عرصے سے مانگ رہے ہیں ، اور یہ کام نہیں کر رہا ہے وہ ہماری دعاؤں کا جواب نہیں دے رہا ہے لیکن دراصل ہم اس کے عمل کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے ، وہ ہمیں طوفان سے بچا رہا ہے جو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے ، ہم خوبصورت پھول سے متوجہ ہو سکتے ہیں لیکن اس میں چھپے ہوئے زہر کے بارے میں صرف وہی جانتا ہے ، ہم اپنے خالق پر بھروسہ کرنے کے بجائے لوگوں سے توقع کرتے ہیں کیونکہ ہمارے دلوں میں توکل نہیں ہے ، ہم روتے ہیں ہم خود کو نقصان پہنچاتے ہیں ہم خود ہد سے زیادہ سوچتے ہیں ، اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمارا خالق ہے اور وہ ہمیں ہماری سوچوں سے زیادہ پیار کرتا ہے جس طرح ایک ماں آپ کو تھپڑ مارتی ہے کہ اس وقت آپ اپنا ہاتھ آگ میں نہ ڈالیں آپ محسوس کریں گے کہ یہ غلط ہے آپ کو اس لمحے درد محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ صحیح وقت پر صحیح عمل تھا جس نے آپ کو زندگی بھر کے درد سے بچایا۔ اسی طرح اس کے اعمال اور فیصلے آپ کے خیالاتا اور سوچ سے بالاتر ہیں وہ بہترین منصوبہ ساز ہے اس نے حضرت ابراہیم کو آگ سے بچایا ‘حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں بچایا گیا ، وہ آپ کو آپ کی مشکلات میں کیسے تنہا چھوڑ سکتا ہے؟یقین رکھیں کہ آپ اکیلے نہیں جہاں بھی ہیں وہ آپ کے ساتھ ہے صرف ایک پختہ یقین ہو کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ دنیا کے بہترین منصوبہ ساز کا بہترین فیصلہ ہے اور پھر یقیناً ایک وقت آ تا ہے جب ہماری تمام دعاؤں کا جواب دیا جاتا ہے وہی ہے جو اندھیرے کے بعد روشنی لاتا ہے ‘وہی ہے جو آپ کی راہنمائی کرتا ہے جب آپ اپنا راستہ کھو دیتے ہیں وہ ہے وہ تھا اور وہ ہمیشہ رہے گا اس لیے اللہ کہ فیصلوں پر یقین ہو وہ کبھی بھی کسی روح پر برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور معجزات ایسے ہوتے ہیں جہاں سے ہم سوچ بھی نہیں سکتے بے شک وہ سب کچھ جانتا ہے وہ معاملات کا بہترین جاننے والا ہے۔

    yusra_says@

  • اپنا درد کسی کو مت بتانا تحریر کاوش لطیف

    اپنا درد کسی کو مت بتانا تحریر کاوش لطیف

    ارادے اتنے کمزور نہیں ہونے چاہیے کہ لوگوں کی باتوں میں آ کر ٹوٹ جائیں زندگی میں گرنے سے مت ڈرو کیوں کہ گروکے نہیں تو اٹھو گے کیسے اٹھو گے نہیں تو چلو گے کیسے اگر چلو گے نہیں تو منزل تک کیسے پہنچوں گے جو لوگ رک جاتے ہیں وہ ہار جاتے ہیں جو ٹوٹ کر بھی چلتے ہیں جیت ان ہی کی ہوتی ہے

    غلطی سے بڑا کوئی استاد نہیں لیکن یہ ہمیں تھبی سکھاتی ہے جب ہم اس کو مانتے ہیں اور جو غلطی کو نہیں مانتے وہ کچھ نہیں سیکھتے

    کوئی آپ کے ساتھ برا کرے تو آپ اس کے ساتھ برا نہ کریں وہ اگر برا تھا تو اس نے آپ کے ساتھ برا کیا آپ اگر اچھے ہو تو اس کے ساتھ اچھا کرو کسی غلط آدمی کی برائی کی وجہ سے اپنا کردار کبھی نہ بدلو زندگی میں صرف نیک نہ بنیے دوسروں کے ساتھ نیکی بھی کیجئے زندگی میں صرف روشنی نہ بنیے بلکہ لوگوں کو راستہ بھی دکھائے

    جو بدلا جاسکے اسے بدلو جو نہ بدلا جا سکے اسے قبول کرنا سیکھو اور جسے قبول نہ کر سکو اس سے دوری بنا لو سکون سے جینا ہے تو یہ کرنا ہی پڑے گا اور یہ بھی یاد رکھو انسان ہمیشہ تکلیف میں سیکھتا ہے خوشی میں تو وہ پچھلے سبق بھی بھول جاتا ہے

    دکھ مرنے کا نہیں ہوتا وہ ایک دن سب کو مرنا ہے دکھ ہوتا ہے بچھڑنے کا انسان کو موت نہیں رلاتی وہ پیار رولاتا ہے جو مرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے

    کچھ رشتے رشتے نہیں ہوتے خون چوسنے والی جونکیں ہوتی ہیں یہ تب تک آپ سے جڑی رہتی ہے جب تک انہیں چوسنے خون کو ملتا رہتا ہے ایسے لوگ پیار آپ کو نہیں آپ کی دولت کا کرتے ہیں احترام آپ کا نہیں آپ کی حیثیت اور مرتبے کا کرتے ہیں کچھ ایسا ہو گیا ہے رشتوں کا کاروبار جن سے جتنا مطلب ان سے اتنا پیار

    تکلیف دینے والے کو بھلے بھول جاؤں لیکن تکلیف میں ساتھ دینے والے کو کبھی نہ بھولنا جو آپ کو درد دیتا ہے وہ آپ کا اپنا کبھی نہیں ہو سکتا اور جو آپ کا اپنا ہوتا ہے وہ آپ کو درد کبھی نہیں دیتا

    @k__Latif