Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سکولوں کے باہر طالبات کو لینے والوں کے مسائل تحریر طارق جاوید

    ابھی میٹرک کے امتحانات جاری ہیں طالبات کے لیے اپنے سکول کے علاوہ دوسری جگہ سینٹر بناے گے ہیں وہاں جس دن پیپر ہونا ہوتا ہے والدین چھوڑ کر آتے ہیں
    کچھ بچیوں کے بھائی یا والد نہیں ہوتے وہ رکشوں کی مدد ایک بار چھوڑ کر آتے ہیں پھر واپس لے کر آتے ہیں
    پہلی بات تو یہ ہے طالبات کے لئے ان کا سکول ہی سینٹر ہونا چاہیے یا پھر کوئی نزدیک سینٹر ہو

    سکول کے اندر کی صورت حال ایک الگ مسئلہ ہو گا
    لیکن سب سے بڑا مسئلہ بچیوں کو جو لینے کے لیے جاتے ہیں ان کے لیے اتنی شدید گرمی میں وہاں سکول کے باہر کھڑے ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی نہ کوئی جگہ مخصوص کی جاتی ہے
    سکولوں کے گارڈز ٹریفک جام نہ ہو کسی کی موٹر-سائیکل کو کھڑا کرنے نہیں دیتے
    جو شخص وہاں بچیوں کو لینے کے لئے گیا ہوتا ھے وہ دھوپ میں کھڑا کھڑا خود ہی بیمار ہو جاتا ہے نہ وہاں کوئی پانی پینے کا سسٹم ہوتا ہے نہ وہاں سایہ کی کوئی جگہ جہاں کھڑا ہو کر انتظار کیا جائے بعض اوقات آدھا گھنٹہ رکنا پڑتا ہے
    اور رش ہر طرف ہوتا ھے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے
    میں نے یہ تین چار سکولوں میں دیکھا ھے یہ تکلیف برداشت بھی کی ھے
    جب کہ اس پر کوئی خاص خرچہ بھی نہیں ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی باتیں نہ میڈیا دیکھاتا ھے نہ کوئی ایسے مسائل کو بہت بڑا مس سمجھتا ہے
    اسی طرح تھانوں میں چلے جائیں وہاں گورنمنٹ کے ملازمین پرسکون طریقے سے اندر بیٹھے ہوتے ہیں ایس ایچ او صاحب نے تھانے میں گیارہ بجے آنا ہوتا ہے عام عوام زللیل ہوتی ہے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے چار چار گھنٹے انتظار کے بعد بعض اوقات ایسا ہوتا ہے اندر سے پیغام آتا ہے آج ایسی ایچ صاحب کی ڈی ایس پی سے میٹنگ ھے
    کل آنا

    میری زمدار افراد سے التماس ہے کہ ان چھوٹے مسائل پر توجہ دیں
    جن کاموں میں کمشن ملتا ہے وہ کام اربوں روپے والے منٹوں میں شروع ہو جاتے ہیں
    جو ہزاروں والے جلدی کے کام ہیں ان پر کوئی توجہ دیتا نہیں
    سب سے زیادہ زمداری گورمنٹ کی ھے
    جتنے سرکاری محکمے ہیں ان کی تنخواہ پنشن سب کچھ اپنے وقت پر بڑھتا ہے لیکن جو ان کی زمداری ھے عوام کو سہولت دینا وہ احسان سمجھتے ہیں

    🙏🙏🙏مہربانی ہو گی ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے
    شکریہ 🌹

    ٹیوٹر اکاونٹ
    @TariqJaved_

  • اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    دنیائے افق پر جب دین اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو ظلم و استبداد کی زنجیریں ٹوٹ گی ، جبر وسفاکیت اور ایذا رسانی کے گہرے کالے بادل چھٹ گئے ، انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،انسانيت نے ایک نئی کروٹ لی ، ہدایت کی روشنی سے فضاٸیں معطر ہونے لگے ، کفر و شرک ظلم و سفاکیت کے اندھیرے چھٹنے لگے اور معاشرتی بد تہذیبی کافور ہوئی اور انسانيت کو اپنی پہچان ملی ۔مگر جس دین کے آنے سے انسانیت کو عزت احترام ملا ،ظلم و بربریت کے سیاہ بادل چھٹ گے

    اس دین کو یزید معلون نے نقصان پہنچانے کی ٹھانی مگر امام حسین نے یزید معلون کے برے ارادوں کو خاک میں ملا دیا حسینؓ کا مقصد یہی تھا کہ یزید معلون ظالم ،فاسق و فاجر کی بیعت نہیں کرنی اور اپنے نانا رحمت الالعالمین ﷺ کے دین برحق پر کسی ظالم معلون کی بادشاہت قبول نہیں کرنی چاہے اس کے نتيجے میں کیسی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے

    اکسٹھ ہجری میں وقوع پذیر ہونے والا سانحہ کربلا میں امام حسینؓ اور انکے عزیز و احباب ، رفقاء کے ساتھ یزیدی فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا ۔دین کی بقا کی خاطر امام حسین اور انکے عزیز و اقارب کی شہادت کی داستان تا ابد جاری و ساری رہے گی- ان شاء اللہ

    کربلا میں آل رسول ﷺ نے شہادتیں دے کر قید و بند کی صعوبتیں اٹھا کر دین اسلام کو زندہ کیا اور یزیدی لشکر کے سامنے ڈٹ گٸے کیونکہ یزید معلون نے ہمارے نبیﷺ کے شہر مدینہ منورہ پر قتل و غارت ظلم و جبر کا بازار گرم کیا، مسجد نبوی ﷺ میں گھوڑے تک باندھے تا کہ یزید معلون کی دھاک اصحابہ اکرام اور انکی آل پر بیٹھ سکے ،مگر افسوس کے سات یہاں بھی یزیدی لشکر اپنے مقصد میں کامیاب نا ہوا اور معلون و لعین ہی ٹھہرا ، آل رسول ﷺ پر مظالم ڈھانے کے بعد مسلمانوں نے یزید کے خلاف ایک بھرپور نفرت جاگی اور بالآخر ایک نئے جنون کے ساتھ مسلمانوں نے یزیدیت کے ارادوں کو تحس نحس کر کے رکھ دیا

    آج بھی یزید کے پیروکاروں نے دین اسلام کو للکارا ہے اور امام حسین ؓسے پیار کرنے والوں کے لیے پھر ایک موقع فراہم ہوا ہے کہ وہ حق کی خاطر اپنی جانیں لڑا دیں اور یہ ثابت کردیں کہ امام حسین ؓ سے عقیدت رکھنے والے امام حسین ؓ کی یاد میں صرف اشک بہانا ہی نہیں جانتے ، بلکہ حق کی خاطر ان کے طور طریقوں پر چلنے اور گردنیں کٹانے کاحوصلہ بھی رکھتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ جو رعایا جان دینے کے لیے تیار ہوتی ہے باعزت زندگی کاحق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا

    امام حسینؓ اور آل رسولﷺ کی لازوال قربانیوں کے بدلے میں یزید معلون نام کو ہمیشہ کے لئے ایک گالی بنا دیا گیا ور یزید ظلم وجبر کر کے بھی مردود ٹھہرا اور حسین ہمیشہ کے لیے محبت کے حقدار ٹھہرے اور حسینیت تا قیامت زندہ و پائیندہ ٹھہری-

    قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوگیا ہر کربلا کہ بعد

    ‎@JahantabSiddiqi

  • دنیا کی حقیقت تحریر : محمد سدیس خان

    دنیا کی حقیقت تحریر : محمد سدیس خان

    آزادی بڑی نعمت ہے اسکی قدر اس وقت ہوتی ہے جب یہ چھن جاتی ہے اور آدمی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے یا قید و بند کی تنہائی میں جاپڑتا ہے۔ قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز میں دوسروں کے حکم کا پابند ہوتا ہے۔
    قید میں جب اور جیسی چیز کھانے پینے کو مل گئی اسی پر گزارہ کرلیا، جہاں بیٹھنے کا حکم دیا گیا وہیں بیٹھ گئے، قید خانہ میں اپنی مرضی بالکل نہیں چلتی بلکہ چاروناچار ہر معاملہ میں دوسروں کے حکم کی پابندی کرنی پڑتی ہے،۔ اسی طرح قید خانہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ قیدی اس جیل خانہ سے جی نہیں لگاتا اور نہ اسکو اپنا گھر سمجھتا ہے، بلکہ ہر وقت اس سے نکلنے کا خواہش مند رہتا ہے۔
    یہی حال دنیا کا ہے کہ مومن بھی دنیا میں اسی طرح زندگی گزارتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں دنیا میں آزاد نہیں بلکہ قدم قدم پر احکام خداوندی کا تابع ہوں نہ یہ میرا گھر ہے نہ اصل وطن، کیونکہ مومن کا اصلی وطن اور اصل رہائش گاہ جنت ہے کہ وہاں جنتیوں کیلئے کوئی قانونی پابندی نہیں رہے گی۔ ہر جنتی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کریگا اسکی ہر خواہش اور ہر آرزو پوری ہوگی، نیز لاکھوں برس گزرنے پر بھی کسی جنتی کا دل جنت اور اسکی نعمتوں سے نہیں اکتائے گا اور نہ کبھی کسی کے دل میں جنت سے نکلنے کی خواہش پیدا ہوگی۔
    مومن دنیا اور اس کی چند روزہ زندگی کس طرح بسر کرکے اپنے مقصود اصلی یعنی جنت کو پاسکتا ہے، مولانا روم رحمہ اللہ نے ایک خوبصورت مثال سے اسکی وضاحت کی ہے فرماتے ہیں کہ مومن کیلئے یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کشتی پر سوار ہوکر جارہا ہوں۔
    کشتی پانی کے بغیر نہیں چلتی اگر کوئی شخص پانی جس پر کشتی نے چلنا ہے اس قدر اہمیت دے کہ اپنی کشتی میں سوراخ کرلے تاکہ میں یہیں بیٹھے بیٹھے پانی حاصل کرلوں تو وہ چند لمحوں بعد اپنی کشتی ہی ڈبو بیٹھے گا لیکن اگر وہ کشتی پر سوار رہے اور بقدر ضرورت پانی بھی استعمال کرتا رہے تو وہ بعافیت ساحل مراد تک پہنچ جائیگا، کشتی کیلئے پانی اس وقت تک مفید ہے جب تک اسکے نیچے رہے لیکن اگر کوئی بے وقوفی کرکے اپنی کشتی میں سوراخ کرلے تو وہ ڈوب جائے گا۔
    تو دنیا کی زندگی بھی ایک مومن کیلئے بڑی اہم ہے، لیکن یہ اس وقت تک مفید ہے جب تک مومن کے ہاتھ میں رہے اگر ہاتھ سے تجاوز کرکے اس دنیا کو دل میں بسا لیا تو پھر یہ دنیا ہلاکت کی چیز ہے، لہذا ایک مومن کی شان یہی ہے کے وہ اس دنیا کو اللّٰہ کی رضا والے کاموں میں خرچ کرے تاکہ دنیا و آخرت دونوں کی سرخروئی حاصل ہوسکے۔
    یہ دنیا جس میں ہم سب زندگی کے سانس پورے کررہے ہیں اسے نعمتوں اور مصیبتوں کا مجموعہ بنایا گیا ہے، اس لیے کہ جس جہاں میں صرف نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی اسے جنت کہتے ہیں اور جس جہاں میں صرف مصیبتیں ہی مصیبتیں ہوں گی اس کا نام جہنم ہے۔ اس دنیا میں نعمتیں بھی ہیں اور مصیبتیں بھی ہیں۔ اگر اس دنیا کا مزید گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس دنیا میں نعمتیں کم ہیں، مصیبتیں زیادہ ہیں۔ اس لئے کے خلاف طبیعت اور خلاف مزاج بات پیش آجانے کوہی مصیبت کہتے ہیں۔ اس حوالے سے دنیا میں پیش آنے والے حالات کا زیادہ تر تعلق خلاف طبیعت اور خلاف مزاج ہی ہوتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں ، بعض کام انسان کی طبیعت اور مزاج کے مطابق بھی ہوجاتے ہیں لہذا ان کا تعلق نعمتوں کی طرف منسوب ہے لیکن ہر ہر کام انسان کے مزاج کے مطابق نہیں ہوتا لہذا بآسانی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مصیبتوں کا تناسب نعمتوں کے مقابلے میں بڑھا ہوا ہے۔
    Twitter : ‎@msudais0

  • شجرکاری، ماحول دوست مہم تحریر :اقصٰی صدیق

    شجرکاری، ماحول دوست مہم تحریر :اقصٰی صدیق

    گزشتہ سال کی طرح امسؔال بھی پاکستانی عوام شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔اس ضمن میں خصوصاً ہماری نوجوان نسل، خصوصاً اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔درخت لگانے کا شوق ان کا جنون بن گیا ہے،
    تو جب شجرکاری ایک جنون بن جائے تو دل کرتا ہے ہر جگہ سبزہ و ہریالی ہو، جو زندگی کے اداس لمحوں میں تسکین کا باعث بنے۔
    شجرکاری کیا ہے؟
    اس کے کیا فوائد ہیں؟
    یہ کیوں ضروری ہے؟
    اس مضمون میں ہم ان سوالات کے جوابات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
    شجر (درخت، پیڑ) عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اور کاری کے معنی” کام کرنا”یوں کہا جاسکتا ہے کہ "شجرکاری” سے مراد “درخت لگانے کا کام ” ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں سے اس دھرتی پر سر انجام دیتا ہے۔
    ہمارے ملک پاکستان میں درختوں کی ضرورت ہے۔موحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے بچنے کا واحد راستہ زیادہ سے زیادہ درختوں کی کاشت ہے۔
    بلاشبہ درخت لگانا ہمارے ماحول کے لئے بہت ضروری ہے، یہ بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں،
    سب سے اہم بات یہ کہ درخت سانس لینے کا ذریعہ ہیں۔
    یہ انسان کو آکسیجن، سایہ، پھل اور ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔یہ آکسیجن کا بہت ضروری ماخذ ہیں۔
    درختوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک طرف تو ہمیں سانس لینے کے لئے تازہ ہوا فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف پرندوں کو مسکن اور جانوروں کو سایہ دیتے ہیں۔
    درخت ہمیں بہت ساری دواؤں کے لیے جڑی بوٹیاں اور اس کے علاوہ لکڑی بھی مہیا کرتے ہیں۔ہماری روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والا کاغذ بھی درختوں سے بنتا ہے۔
    کپڑے کی صنعت میں بھی اس کے استعمال سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ گوند اور ربر بھی ہم درختوں سے ہی حاصل کرتے ہیں۔
    مگر ان قدرتی وسائل کے دشمن ہم خود بن گئےہیں ۔ جنگلات کی کٹائی جس تیزی سے کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے یہ انتہائی قابل افسوس ہے اور اب تو یہ ہماری بقا کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔

    جیسا کہ ہم سائنس کی کتاب میں پڑھتے آئے ہیں کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ یہی آکسیجن سیارے (ذمین) پر موجود ہر جاندار کے لئے اشد ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ درخت مٹی کے لیے ضروری ہیں کیونکہ بہت زیادہ بارش کے دوران ذمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں۔
    درختوں کی مدد سے ہی گلوبل وارمنگ کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں ۔آج بھی ہم درختوں کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں، اب ہمارا کام ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت لگائیں۔
    اور اپنی آنے والی نسل کو بھی شجرکاری کے فوائد اور اہمیت سے روشناس کرائیں اور اسی نسل کی کرہ ارض پر بقا کے لیے نہ صرف سال میں ایک دن بلکہ پورا سال شجر کاری مہم کو جاری رکھا جانا چاہیئے۔
    درخت لگانا ایک طرح سے انسانوں کی خدمت کے مترادف ہے۔ آپ کا لگایا جانے والا درخت کسی ایک انسان کو نہیں بلکہ اس ذمین پر بسنے والے انسانوں کو کسی نہ کسی طرح سے ضرور فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔
    شجرکاری آلودگی سے تحفظ اور بیماریوں سے بچاؤ میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کیوں کہ رب کائنات کی طرف سے درختوں میں مختلف امراض کی شفا رکھی ہے۔
    ان سب فوائد کے پیش نظر شجرکاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے، شجرکاری کا تصور ہمیں دین اسلام سے بھی ملتا ہے۔
    قرآن کریم میں اور کئ احادیث مبارکہ میں شجرکاری کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
    درخت اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ہمارے لیے ایک نعمت ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’ بھلا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی اتارا تمہارے لیے ۔ پھر ہم نے اس پانی سے خوبصورت باغات اگائے،لیکن تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اُگا سکتے۔

    درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے کسی عظیم نعمت سے کم نہیں،
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے تو شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ اس عمل کو تاقیامت جاری رکھنے کا حکم دیا۔
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
    ’’کوئی مسلمان اگر فَصل یا دَرخت لگائے ، تو پھر اس میں سے جو پرندہ، جانور یا اِنسان اس کا مطلب پھل کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدقہ شُمار کیا جائے گا۔(صحیح بخاری )
    اسی لیے شجرکاری کی اہمیت اور فوائد سے عوام کو روشناس کروانا اب ہر پڑھے لکھے شخص کی ذمے داری ہے،
    ماہرین کے مطابق کسی ملک کا پچیس فی صد 25٪ حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیئے، جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف دو سے تین فی صد حصہ پر ہی جنگلات ہیں۔جو کہ بہت کم حصہ بنتا ہے،
    جنگلات کی بے تحاشا کٹائی کی وجہ سے اب پوری قوم موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔
    حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک پودا لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا، اور پاکستان میں دس بلین درخت لگانے کا ہدف بتایا ہے۔
    ویسے بھی چودہ اگست کی آمد، آمد ہے، تو کیوں نہ اس بار ہم جھنڈیوں کی بجائے پودے لگائیں، اور اس مہم میں اپنا حصہ ڈال کر وطن عزیز کو سر سبز و شاداب بنا کر اس کو رونق بخشیں۔
    اس لیے کہ جب تک ہر فرد اس مہم میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گا، تو ہم کبھی بھی بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
    بذات خود مجھے بچپن سے ہی پھولوں کے پودے لگانے کا شوق ہے، اور میرے چھوٹے سے باغیچے میں انتیس قسم کے پھولوں کے پودے ہیں۔
    یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ہماری حکومت نے شجر کاری پر توجہ دی ہے لیکن ابھی ہمیں اس میں مزید محنت درکار ہے۔آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر اس ملک میں رہنے والا ہر فرد صرف ایک ایک پودا بھی لگائے تو اتنے درخت ہوجائیں گے کہ ہمارا ملک ایک بار پھر سے سرسبز و شاداب ہوجائے گا۔
    اللہ پاک ہمیں اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے آمین ۔

    ‎@_aqsasiddique

  • پاکستان کا تعلیم نظام  تحریر محمد عدیل علی خان

    پاکستان کا تعلیم نظام تحریر محمد عدیل علی خان

    ‏پاکستان میں جو تعلیمی نظام ہیں اسکا آپ اور میں بہتر انداز سے جانتے ہے کیوں آج کا طالب علم اکیڈمیوں کا محتاج ہے سب سے پہلے ہم سرکاری اسکول اور کالجز کے تعلیمی نظام پے روشنی ڈالتے ہیں اور کچھ حقیقی حقائق سے میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں سرکاری اسکولوں میں تمام استادزہ آتے تو ہیں لیکن صرف دس یا پندرہ منٹ کی کلاس لیتے ہیں اگر کوئی طالب علم سوال اٹھائے تو اس سے کہتے ہے کہ اگر آپ کو اتنا پڑھنے کا شوق ہے تو جناب اعلیٰ آپ میری اکیڈمی میں آجایا کرے فیس بھی اتنا زیادہ نہیں ہے صرف پانچ سو روپے آپ اندازے لگائیں جس کے والد صاحب روز کے پانچ سو روپے یا اس سے کماتے ہیں اور بیچارے دیہاڑی دار مزدور ہے اور کبھی تو ہفتہ ہفتہ بھی مزدوری نہیں لگتی وہ بیچارہ گھر کے اخراجات پورے کرے یا بیٹے کو اکیڈمی میں داخلہ دلوائے اور اس طرح کے کئی بچے یا تو خودکشی کر گئے یا مزدوری کرنے چلے گئے اور اس طرح سے پاکستان کا مستقبل تباہ ہوا صرف ان نالائق اور لالچی استادزہ کی وجہ سے یہ تو وہ اساتذہ اکرام تھے جو صرف کچھ منٹوں کی کلاس لیتے تھے اب آتے ان استادزہ کی طرف جو صرف سکول کے اسٹاف روم میں صرف گپھے لڑانے آتے ہے اور پڑھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اگر کبھی محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی افسر تعلیم چیکنگ کے لئے آئے تو طلباء کو دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے کوئی شکایت کی تو ہم آپ کو اسکول سے نکال دے گے اور ایسا سرٹیفکیٹ بنا کر دے گے کہ آپ کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملے گا اگر محکمہ تعلیم کا افسر کوئی شکایت لکھ بھی لے تو لے دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے اگر ان اساتدزہ کو ایک مہینے کی تنخواہ نہ ملے تو حکومت کے خلاف پُر زور احتجاج کرتے ہیں جناب اعلیٰ پڑھائے گے نہیں پر تنخواہ پوری چاھئے ….
    اگر ہم ڈگری کالجز کی بات کرے تو وہاں آپ کو صرف ایک سختی بڑی دیکھنے کو ملے گی کہ پیر کے دن تمام طلبا کو یونیفارم میں لازماً آنا ہے ڈگری کالج کے استادزہ بھی کسی سے کم نہیں جناب اعلیٰ دس یا گیارہ بجے تک کالج میں اس کے بعد پرائیویٹ کالجز میں چلے جائیں گے اگر کوئی طالب علم ان استادزہ کی شکایت پرنسپل کو کرے تو وہ کہتے ہیں استادزہ کی شان میں گستاخی اگر آپ نے دوبارہ یہ بدتمیزی کی تو ہم آپکا داخلہ منسوخ کر دے گے اور آپ جیسے بدتمیز طلبا کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے…………..
    پرائیویٹ اسکول/کالجز بھی کسی سے کم نہیں ہے اس معاملے میں..
    ان کو صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا اگر کسی طالب علم کی ایک دو ماہ کی فیس رہتی ہے تو اسے دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے فیس کلیئر نہ کرائی تو ہم آپکو سلپ نہیں دے گے ان کو طالب علم کے پورے سال کی کوئی اہمیت نہیں ہے ٹیچر آیا لیکچر دیا اور چلا گیا کسی کی سمجھ میں آئے یا نہیں اگر کوئی طالب علم سوال کرے مجھے فلاں چیز سمجھ میں نہیں آئی تو جواب روایتی ملتا ہے بیٹا کوچنگ سینٹر جوائن کر لیں آپ بہت وییک ہو اگر میرا کوچنگ سینٹر جوائن کرنا چاہو تو ‎#موسٹ_ویلکم
    اور دوسرا جواب سنے بیٹا مجھے دوسرے کالجز میں بھی جانا ہوتا اس وقت میرے کوئی وقت نہیں ہے میں پہلے ہی لیٹ ہوچکی/ہوچکا ہو………….
    یہ ہمارا تعلیمی نظام ہے جو میں نے لکھا ہے اس سے بھی گھٹیا ہے ہمارا تعلیمی نظام جو میں نے میں سمجھتا ہو کہ جو میں نے بہت کم لکھا ہے اگر اس طرح سے طالب علم کو پڑھیا گیا تو وہ بھی بڑا ہو کر منہ بھائی ایم بی بی ایس بنے گا اس بڑھ کر کچھ نہیں ہم نے اپنے بچوں کو منہ بھائی نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر عبدالسلام اور جابر بن حیان بنانا ہے

    نوٹ……….

    میری اس تحریر میں ان استادزہ کو بلکل بھی نشانہ نہیں بنایا گیا جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور اس ٹیچری کو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں میرا نشانہ وہ استادزہ ہے جنہوں نے اس تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے میرا نشانہ صرف لالچی اور کرپٹ استادزہ ہے
    الحمدللہ عزوجل اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو مجھے بہترین استادزہ ملے وہ استاد ملے جو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کے ادا کرتے ہے… .
    ایک اور ضروری بات اگر ایک استاد بہتر انداز سے اور اپنی پوری محنت سے اپنا سبجیکٹ پڑھاتا ہے وہ صرف پورے سلیبس 20% حصہ کوور کرسکتا ہے باقی کا 80% وہ کہاں سے پڑھے گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے سرکاری اسکول اور کالجز کے لئے

    Twitter ‎@iAdeelalikhan

  • تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر:  سید محمد مدنی

    تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر: سید محمد مدنی

    تعلیم انسان کا حق ہے اور ہر انسان اچھی تعلیم کا حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں زیادہ تر اچھی تعلیم ان اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے جہاں کی فیس عام آدمی ایفورڈ کر ہی نہیں سکتا پھر دوسری بات کے ایسے اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم ہونے کے باوجود بعض انسانوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی ان میں پیسے اور معیاری تعلیم ہونے کی وجہ سے غرور آج جاتا ہے.

    آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کے ایک ٹاٹ (فرش پر دری) پر بیٹھ کر پڑھنے والا انسان ایک کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے والے سے بہت بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ ہے اچھی تربیت تعلیم تو انسان حاصل کر ہی لیتا ہے مگر تربیت گھر سے اور گھر کا مطلب ہے کے والدین سے آتی ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے وہاں کہیں کہیں یہ انسان میں غرور بھی لاتی ہے اور پھر تکبر غرور ﷲ کو ہرگز پسند نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اچھی تعلیم حاصل نا کی جائے مگر ساتھ بہترین تربیت بھی ہونی چاہیے.

    ہمارے مذہب اسلام میں تو جب آپ رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو ﷲ کی طرف سے فرمایا گیا کے پڑھ اپنے رب کے نام سے پڑھ مطلب ابتداء ہی پڑھنے سے ہوئی تو اس لحاظ سے ہمارے مذہب میں تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے پھر جس کا بہت زکر کیا جاتا ہے کے

    علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمھیں چین ہی کیوں نا جانا پڑے

    ( اہم نوٹ یہ علم کے لیے چین جانے والی بات بہت سے لوگ اسے حدیث کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے ضعیف سمجھتے تو اس کے لئے ﷲ مجھے معاف کرے)

    مشہور ہے کے گود سے گور تک علم حاصل کرو

    تعلیم ایک ایسا زیور ہے جس سے انسان نکھرتا ہے بغیر تعلیم کے انسان جاہل ہی کہلاتا ہے.

    آج کل کا دور کمپیوٹر کا ہے مگر بنیادی تعلیم بہت ضروری ہے ہم جہاں انگریزی اور ماڈرن تعلیم پر زور دیتے ہیں وہاں دینی تعلیم اور اخلاقی تعلیم بھی ضروہے تعلیم حاصل کرلی مگر دینی اخلاقی تعلیم اور تربیت حاصل نا کی تو ایس تعلیم کا کیا فائدہ جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں مگر وہ اخلاقی اور دینی تربیت سے محروم ہو. آپ صرف وسطی ایشیائی ممالک کو لے لیں جہاں پر شرح خواندگی ٩٩٪ ہے وہاں ہر دوسرا شخص پڑھا لکھا ہے

    حدیث نبوی صلی الله علیه وسلم ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اب آپ یہ بھی اندازہ لگا لیں کے قرآن اور حمیں کتنا زور دیا گیا ہے تعلیم پر

    ہم اگر اپنے آپ سے وعدہ کریں کے تعلیم اور تربیت کے معاملے پر کوتاہی نہیں برتیں گے تو یقین کریں ہم بھی اپنی شرح خواندگی کو بہترین کر سکتے ہیں تعلیم نہایت ضروری ہے آخر کیوں وسطی ایشیا یا پھر کئی ممالک تہذیب یافتہ ہیں وجہ تعلیم پر زور اور سب کے لئے یکساں مواقع.

    ہم نے تعلیم اور تربیت ضرور حاصل کرنی ہے کیونکہ یہ ﷲ کا حکم اور حدیث بھی ہے.

    Twitter Id @ M1Pak

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک  تحریر : وسیم اکرم

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : وسیم اکرم

    اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے

    اسی طرح اولاد کے ذمہ ہے کہ والدین کی اطاعت کرے ان کے راحت رسانی کی فکر کرے والدین کو مالی یا جسمانی خدمت کی ضرورت ہو تو اسے انجام دے، کبھی کبھی ان کی زیارت کے لئے جائے اگر والدین ضرورت مند ہوں تو مالی یا جسمانی خدمت انجام دینا واجب ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا

    اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنھیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔(القرآن)

    اسلام جیسے متوازن نظام اور دین نے اگر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں تواولاد کے بھی کیے ہیں
    اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں کہ والدین نے ان کو پورا کرنا ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم نے والدین کی بنیادی ذمہ داری اورتوجہ جس بات کی طرف دلائی وہ اپنے آپ کو اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اوراس کی سزا سے بچانا ہے۔ اس انداز میں ان کی تربیت کریں کہ وہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکیں

    والدین کا نعم البدل کوئی نہیں ہے وہ اولاد کی خاطر دن رات ایک کر دیتے ہیں نا سایہ دیکھتے ہیں نا دھوپ ، نا غم دیکھتے ہیں نا خوشی ہر وقت اپنی دھن میں لگن کے ساتھ اولاد کی اچھی تربیت کے لیے تیار رہتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے شادی کے بعد والدین سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہے اس وقت والدین کے سینے میں جو پہاڑ گراۓ جاتے ہیں وہی جانتے ہیں یا رب جانتا ہے پھر بھی والدین اولاد کے لیے ہر وقت دعا گو رہتے ہیں والدین کی قدر کریں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ ‎@MalikGii06

  • خلافت راشدہ تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    خلافت راشدہ تحریر: ذیشان وحید بھٹی


    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی براہراست تعلیم و تربیت اور عملی رہنمائی سے جو معاشرہ وجود میں آیا تھا اس کا ہر فرد جانتا تھا کہ اسلام کے احکام اور اس کی روح کے مطابق کسی قسم کا نظام حکومت بنانا چاہیے۔اگرچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنی جانشینی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا،لیکن مسلم معاشرے کے لوگوں نے خود یہ جان لیا کہ اسلام ایک شوُروی خلافت کا تقاضہ کرتا ہے۔اس لیے وہاں نہ کسی خاندانی بادشاہی کی بنا ڈالی گئی ،نا کوئی شخص طاقت استعمال کر کے برسراقتدار آیا نا آپ کسی نے خلافت حاصل کرنے کے لئے خود کوئی کوشش کی بلکے یکے بعد دیگرے چار اصحاب کو لوگ اپنی آزاد مرضی سے خلیفہ بنا کے چلے گئے۔اس خلافت کو امت نے خلافت راشدہ قرار دیا ہے۔اس سے خود بہ خود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں خلافت کا صحیح طرز یہی ہے۔
    انتخابی خلافت
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو حضرت عمرؓ نے تجویز کیا۔اور مدینے کے تمام لوگوں نے کسی دباؤ یا لالچ کے بغیر خود اپنی رضاورغبت سے انہیں پسند کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت لی۔حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمرؓ کے حق میں وصیت لکھوائی اور پھر مسجد نبوی میں لوگوں کو جمع کرکے کہا:
    "کیا تم اس شخص پر راضی ہوں جس سے میں اپنا جانشین بنا رہا ہوں ؟خدا کی قسم میں نے رائے قائم کرنے کے لیے اپنے ذہن پر زور ڈالنے میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور اپنے کسی رشتہ دار کو نہیں بلکہ عمر بن الخطاب کو جانشین مقرر کیا ہے،لہذا تم ان کی سنو اور اطاعت کرو”
    اس پر لوگوں نے کہا "ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے”
    حضرت عمرؓ کی زندگی کے آخری سال حج کے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ "اگر عمرؓ کا انتقال ہوا تو فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا”کیونکہ ابوبکرؓ کی بیت بھی تو اچانک ہی ہوئی تھی اور آخر وہ کامیاب ہوگئی حضرت عمر ؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہا میں اس معاملے پر ایک تقریر کروں گا اور "عوام کو ان لوگوں سے خبردار کر دونگا جو ان کے معاملات پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کے ارادہ کر رہے ہے” چناچہ مدینے پہنچ کر انہوں نے اپنی پہلی تقریری میں اس قصے کا ذکر کیا اور بڑی تفصیل کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ کی سرگز بیان کرکے یہ بتایا کہ اس وقت محصوص خالات تھے جن میں اچانک حضرت ابوبکر ؓ کا نام تجویز کر کے میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ۔اس سلسلے میں انہوں نے فرمایا "اگر میں ایسا نہ کرتا اور خلافت کا کیے بغیر ہم لوگ مجلس سے اٹھ جاتے تو اندیشہ تھا کے راتوں رات لوگ کہیں کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں اور ہمارے لئے اس پر راضی ہونا بھی مشکل ہو اور بدلنا بھی مشکل ۔یہ فعل اگر کامیاب ہوا تو اسے آئندہ کے لئے نظیر نہیں بنایا جا سکتا تم میں ابوبکر ؓ جیسی بلند و بالا اور مقبول شخصیت کا آدمی اور کون ہے۔اب اگر کوئی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی کے ہاتھ پر بیعت کرے گا گا تو وہ اور جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی دونوں اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کریں گے
    اپنے تشریح کردہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عمرؓ نے اپنی وفات کے خلافت کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک انتخابی مجلس مقرر کی اور فرمایا:
    "جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بننے کی کوشش کرے اسے قتل کر دو ”
    اس کے ساتھ انھوں نے اپنے بیٹے کو خلافت کے استحقاق سے صاف الفاظ میں مستثنی کر دیا تاکہ کے خلافت ایک موروثی منصب نا بن جائے ۔یہ انتخابی مجلس ان چھ اشخاص پر مشتمل تھی جو حضرت عمرؓ کے نزدیک قوم میں سب سے زیادہ بااثر اور مقبول عام تھے ۔
    اس مجلس نے آخر کار اپنے ایک رکن عبدالرحمنؓ بن عوف خلیفہ تجویز کرنے کا اختیار دے دیا۔انہوں نے عام لوگوں میں چل پھر کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ عوام کا رحجان زیادہ تر کس شخص کی طرف ہے ۔حج سے واپس گزرتے ہوئے قافلوں سے بھی دریافت کیا۔اور اس استصواب عام سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اکثر لوگ حضرت عثمانؓ کے حق میں ہیں ۔اسی بنیاد پر حضرت عثمانؓ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے اور مجمع عام میں ان کی بیعت ہوئی ۔حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے کہا "تمہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے یہ تو اہل شوریٰ اور اہل بدر کے کرنے کا کام ہے جس کو اہل شوریٰ اور اہل بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ ہوگا پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے ۔طبری کی روایات میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں
    "میری بیت خفیہ طریقہ سے نہیں ہو سکتی۔ یہ مسلمانوں کی مرضی سے ہی ہونی چاہیے۔حضرت علی ؓ کی وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسن کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ؟تو آپ نے جواب میں کہا”میں نا تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو ایک شخص میں عین اس وقت جب کہ آپ اپنے صاحبزادوں کو آخری وصیت کر رہے تھے عرض کیا کہ امیر المومنین آپ اپنا وسیہد کیوں نہیں مقرر کر دیتے۔
    جواب میں فرمایا "میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑ دوں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چھوڑا تھا”
    ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے متعلق خلفائے راشدین اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا متفق علیہ تصوریہ تھا کے یہ ایک انتخابی منصب ہے جسے مسلمانوں کے باہمی مشورے اور ان کی آزادانہ رضامندی سے قائم ہونا چاہیے۔موروثی یا طاقت سے برسراقتدار آنے والی عمارت ان کی رائے میں خلافت نہیں بلکہ بادشاہی تھی ۔صحابہ کرام ؓ خلافت اور بادشاہ کے فرق کا جو صاف اور واضح تصور رکھتے تھے اسے حضرت ابو موسی اشعریٰؓ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
    امارت (یعنی خلافت) وہ ہے جسے قائم کرنے میں مشورہ کیا گیا ہو۔اور بادشاہی وہ ہے جسں پر تلوار کے زور سے غلبہ حاصل کیا گیا ہو۔
    @zeeshanwaheed43

  • پاکستان میں عدالتی اصلاحات وقت  کی اشد  ضرورت ہے: تحریر  محمد جاوید

    پاکستان میں عدالتی اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے: تحریر محمد جاوید

    اچھی حکمرانی کے لیے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور سستہ انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے ، خاص طور پر ان غریبوں کو جو بااثر لوگوں کے ہاتھوں آئے دن ہراساں ہوتے ہیں.
    اور بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے۔ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں غریب کو بنیادی حقوق نہیں ملتے اور غریب لوگ اپنے آپکو کمزور محسوس کرتے ہیں ، اور ان کا حکومتی اداروں سے بھروسہ ختم ہوجاتا پھر اپنے جایز کام کرانے کے لئے مجبوران غریب لوگوں کو رشوت جیسی لعنت کا سہارا لینا پڑتا۔
    ہمارے عدالتوں میں ججز کی تقرريوں کا نظام ناقص ہے اگر ہم بات کریں اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کا تو ہمیں ميرٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آتا اس بات کا جائزہ لینے سے پتا چل جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں ميرٹ کی دهجیاں اڑاتی ہے۔ ان پارٹیوں کے مداخلت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے وکلا ونگزکے لوگ یا سیاسی رہنمائوں کے ذاتی وکیل ججز بنا دئیے جاتے ہے۔ پھر انکے بڑے بڑے چیمبرز لا فرمز اور چند خاندانوں کے لوگ ججز بنائے جاتے ہے۔ یہ پارٹیاں ميرٹ کے آگے دیوار کی طرح حائل ہو جاتی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ سیاسی پارٹیاں ميرٹ کا مذاق اڑا رہی ہوتی اور انکا کوئی پرسان حال نہیں۔
    ملک کے اندر حقیقی میرٹ صرف competitive امتحان کے ذریعے قایم رہتا ہے۔ ریاست کے باقی اداروں میں بھی بھرتیاں مقابلے کے امتحان کے ذریعے ہوتی ہیں۔ انتظامی افسران تو سخت امتحانی مقابلہ CSS, PMS اور PCS کے امتحان سے گزر کر آتے ہیں۔آنے کے بعد وہ کیا کرتے ہیں وہ ایک علیحدہ بحث ہے پھر کسی دن ان کے کارکردگی اور نااہلی پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کر لونگا آج فوکس عدلیہ پہ ہے اب اگر ديگر اداروں میں یہ نظام ہے تو پھر عدلیہ میں بھرتیوں کے لئے مقابلے کا امتحان کو رائیج کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔
    ریاست کے سب سے اہم ادارہ جیس کا کام ہے قانون کی بلادستی کو قائم کرنا اور انصاف کی فراہمی ہے اتنے اہم ادارے میں ميرٹ کا نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے ۔
    میری دانست میں عدلیہ میں میرٹ کا تنازع اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک جج صاحبان competitive امتحان کے ذریعے بھرتی نہیں کئے جائیں گے۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہائی کورٹس کے ججوں کی بھرتیاں مقابلے کے امتحان کے ذریعے کی جائیں تاکہ ميرٹ کا بول بالا ہو ۔
    یہ ضروری ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے یہ کا م باآسانی کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے بھی بہتر حل یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں وہ ججزلگایں جائے جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میں اور سیشن کورٹس میں مقابلے کے امتحان کے ذریعے براہ راست بھرتی ہوتے ہیں پھر انکو سینیارٹی کی بنیاد پر لگائے جائیں۔ اس طریقہ کار کو فولو کرنے سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ماتحت عدلیہ میں کام کا تجربہ بھی ہوگا جو موجودہ طریقہ کار میں بہت کم ججوں کے پاس ہوتا ہے۔
    ماتحت عدلیہ میں کام کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں بہت سے کمی رہ جاتی ہے۔
    ميرٹ پہ برتیاں نہ ہونے سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلوں میں سیاسی عنصر نظر اتا ہے لاہور ہائی کورٹ کے بہت سارے کسیز کا رزلٹ ہمارے سامنے ہیں اب ضروریاس امر کی ہے کہ ميرٹ کو فولو کیا جائے اس سے یہ ہوگا کہ عدالتی نظام میں اسے جج صاحبان سامنے آئیں گے جو اپنے دم پر اور اپنی محنت پر مقابلہ کر کے جج بنیں گے۔چونکہ انکی نوکریا ں کسی کی مرہون منت نہیں ہونگی، اسلئے انکا انصاف فراہم کرنے کا معیار بھی بہت بلند ہوگا۔
    ہماری عدلیہ کی کار کردگی یقینی طور پر اطمینان بخش نہیں ہے انصاف کی فراہمی میں ہمیشہ تاخیر ہو جاتا ہے ۔ غریب عوام عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے مگر انصاف ہے کہ ملتا ہی نہیں عام طور پر یہ کہاں جاتا ہے کہ ایک عام سی کیس کو حل کرنے میں ہماری عدالتوں کو تین سال لگ جاتے ہیں۔
    عدلیہ کی ایک یہ بھی ناکامی ہے کہ اس نے استغاثہ اور پولیس کو کھلی چھٹی دے رکھی ہوتی جو سیاسی ایما پر کسیز پہ اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اگر کسی طاقتور کا کیس ہو تو انویسٹگیشن پر بھی انکا کنٹرول ہوتا پھر غریب کو انصاف ملتا ہی نہیں یہ عدلیہ کی نااہلی کی علامت ہے۔ اگر عدلیہ کے اوپر کام کا بوجھ زیادہ ہے تو اسے عدالتی نظام میں اصلاحات لانے چائے۔ اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چائے۔
    اگر ججز کے پاس کیسز زیادہ ہے تو اضافی ججز کو تقرر کرنا چائے۔ تاکہ کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جاسکے۔
    ان تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا چائے جو فضول میں کیسز کو بار بار التوا کا شکار بنادیتے ان افراد پر بھاری جرمانے کر کے قانونی چارہ جوئی کرنی چائے تاکہ جلد از جلد انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔
    ججز کو لکھنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
    دلائل اور زبانی دلائل کے لیے وقت محدود کرنا چائے ۔ تمام عدالتی کارروائیوں کی نقلیں اور انہیں تمام فریقین کے لیے دستیاب کرانے سے وقت کا ضیاع کم ہو جائے گا۔
    جھوٹے وجوہات کے بنیاد پر بنے معمولی تنازعات کو سمری کے طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
    سول ، فوجداری اور تجارتی مقدمات الگ الگ
    عدالتوں میں حل کرنا چائے نیز ان عدالتوں میں ججز کی تقروریاں ان کی متعلقہ مہارت اور جج کے تجربے کی بنیاد پر ہونی چائے۔
    توہین عدالت کے قوانین کو ختم کرنا چائے کیوں کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر ججز اسکو ذاتی مفاد کے لے استعمال کرتے ہیں۔
    عدلیہ کو چائے کہ باقاعدہ مانٹرنگ کریں اور ماتحت عدالتوں کے کارکردگی کی نگرانی کریں اور ان کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں شکایات کو سنے اور تحقیقات کریں اور پھر سالانہ رپورٹوں کی شائع کریں تاکہ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر آجائے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ غریب عوام کو سستہ انصاف مل جائے اور ملک میں عدل وہ انصاف کا بول بالا ہو ۔ اور ضروری ہے کہ ملک کے اندر امیر اور غریب کے لئے ایک ہی قانون ہو جیس ملک میں غریب کے لئے الگ قانون ہو اور امیر کے لئے الگ قانون ہو وہاں انصاف کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
    پاکستان کے عدالتی نظام کے اندر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے موجودہ نظام انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے مگر اصلاحات کے ذریعے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔

    ‎@I_MJawed

  • میری ذاتی رائے تحریر: عامر میکن

    میں ایک مسلم پاکستانی باشندہ ہوں ،،
    کچھ دن پہلے میرے ایک دوست نے بنک سے قرضہ لینا تھا تو اس نے مجھے گرنٹر بننے کو کہا میں نے ناچاہتے ہوئے بھی ٹھیک ہے کہہ دیا
    اگلے دن بنک سے دو آدمی آئے ہم نے ان کے لیے چائے وغیرہ کا انتظام کیا ان کے ہاتھ میں ایک فارم تھا جو میرے دوست کے نام پر بنا ہوا تھا انہوں نے اس فارم پر ہمارے سائن وغیرہ لیے اور کہا کل آکر پیسے لے جانا اور وہ چلے گے ،،
    تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ تم کتنے پیسے لے رہے ہو اور اس میں سود کتنا دینا پڑے گا
    تو اس نے بتایا کہ
    میں نے ایک لاکھ 100000 روپے کا لئون اپلائی کیا ہے اور یہ مجھے پچانوے ہزار روپے دیں گے اور میں نے ان کو واپسی ایک لاکھ چوبیس ہزار دینے ہیں
    یعنی چوبیس ہزار سود اور پانچ ہزار بنک والوں کو رشوت
    رشوت ،،میں نے بہت حیرانگی سے پوچھا کہ یار وہ اس بنک کا اپنا ادارہ ہے اور وہ بھی رشوت لیتا ہے
    وہ بولا ہاں بھائی دینے پڑتے ہیں نہیں تو کبھی ان کا جنریٹر خراب ہوتا ہے کبھی سسٹم نہیں چلتا تو کبھی مینجر چھٹی پر ہوتا ہے اس لیے کرنا پڑتا ہے
    اب چلتے ہیں ہم پہلے فقرے کی جانب،،
    میں ایک مسلم پاکستانی باشندہ ہوں،،
    میرا مذہب اسلام ہونے کے ناتے میرے دین میں سود حرام ہے

    سود الللہ اور اس کےرسول ﷺ سے اعلان جنگ ہے
    اس میں تو کسی بھی مسلمان کی دوسری رائے نہیں ہے ایک اور بات میرے مذہب میں رشوت لینے والا بھی اور رشوت دینے والا بھی دونوں جہنمی ہیں
    کیا میرا اس بات پر یقین ہے یار سوچنے والی بات ہے
    یقیناً اگر میرا ایمان پختہ ہوتا تو میں ہر گز ایسا نا کرتا

    چلیے تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں
    ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ سب کچھ کیوں کررہے ہیں وہ اس لیے جناب کہ ہمیں اس سود کو کھانا ،حلال بتایا گیا ہے
    باقاعدہ پاکستان کے آئین میں اسے بزنس کا درجہ دیا گیا ہے اور ہم ہیں کہ اس کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے ہماری دینی غیرت کا آخری نعرہ یہ ہی ہوتا ہے
    ،،او بس بھائی کیا کرسکتے ہیں ،،

    بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے ہزاروں گناہ جو ہم جان بوجھ کر کرتے پیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہم ان گناہوں سے بچنا بھی نہیں چاہتے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری دین سے دوری ہے کہ ہم نے دین کو صرف مسجد تک محدود کر دیا ہے ہم دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ ہم کو اس دور میں دین پر چلنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی لگتا ہے ہم نے کبھی اس بات کا تصور ہی نہیں کیا کہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی کبھی نظام مصطفیٰ ﷺ نافظ ہوگا
    ہم ان بہتر سالوں میں اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ ہم نے (معزرت کے ساتھ) سیاست کو دین سے بالاتر سمجھ لیا ہے یہاں تک کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کی عزت آبرو (معاذاللہ)سے زیادہ عزیز اپنی معیشت ہو چکی ہے ہم دنیاوی لیڈر کی محبت میں اس قدر مدہوش ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے لیڈر سے گستاخ رسول ﷺ سے لا تعلقی کا مطالبہ بھی نا کرسکے جیسا کہ حالیہ دنوں میں فرانس کا معاملہ تھا
    یار ٹھیک ہے تمہارا لیڈر اچھا ہے وہ ایماندار ہے لیکن اس کی محبت میں انسان کو اس قدر مدہوش نہیں ہونا چاہیے کہ آپ حق اور باطل کی پہچان نا کر سکیں
    دعا ہے الللہ رب العزت ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ،،

    ،،
    ‎@Amirmaken123