Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ذہنی رحجان تحریر:افشین

    ذہنی رحجان تحریر:افشین

    ہمارا ماحول ہماری ذہنیت پہ اثر انداز ہوتا ہے اچھے ماحول سے اچھی عادت اور برے ماحول سے برے تاثرات خود بخود ذہنیت پہ اثر انداز ہوتے ہیں بچے جس ماحول میں تربیت پاتے ہیں وہی کچھ زندگی میں کرتے ہیں ۔اگر ہر طرف منفی ہورہاہوگا تو اچھا کیسے سوچا جا سکتا ہے ؟کہتے ہیں مثبت سوچ سے سب اچھا رونما ہوتا ہے ہماری سوچ پہ سب منحصر ہے۔ پر میرا ماننا ہے اگر ہر طرف منفی ہورہا ہوگا تو ہمارا ذہن اچھا سوچ ہی نہیں سکتا صرف دل کو تسلی دینے والی بات ہے "نہیں ایسا نہیں ہم ہی ایسے سوچ رہے ہیں سب اچھا ہورہا ہے” جب کہ سب غلط ہورہا ہو۔
    جب ہم کسی انسان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسکی ذہنیت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسکی ذہنیت اگر گندی ہوگی ہم اسکو غلط ہی بولیں گے اچھی ہوگی تو اچھا بولیں گے تو جب منفی نظر آئے اچھا کیسے بولیں ؟؟سوچ کے ساتھ کردار کو بھی مثبت کرنے کی ضرورت ہے ہر انسان کی ذہنیت الگ ہوتی ہے جب دو لوگ ایک جیسا سوچیں تو سب صیحح اور اگر مترادف ذہنیت ہو تو نا اتفاقی، بحث، تضاد خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔
    سوشل میڈیا پہ جیسے واٹس اپ استعمال کرنے والے سٹیٹس میں دوسروں کو جس طرح کا خود کو ظاہر کررہے ہوتے ہیں بعض اوقات ویسے لوگ حقیقت میں ہوتے نہیں۔ بعض لوگ سٹیٹس لگا کے خود کو نیک اچھا شریف سلجا ہوا انسان ظاہر کرتے ہیں پر حقیقت میں لوگ الگ ہوتے ہیں ۔اب ظاہر ہے ہم دیکھیں گے ہمارا ذہن یہی سوچے گا نیک اور متقی انسان ہے پر اکثر ایسا ہوتا نہیں ۔
    جو میٹھی باتیں کریگا ہمارا ذہنی رحجان زیادہ اس کی طرف مائل ہوگا اور لازمی نہیں مٹھاس کے پیچھے شہد ہی ہو، پردے کے پیچھے نیک شخصیت ہی ہو! حقیقت اسکے برعکس بھی ہو سکتی ہے ۔ کسی سے اختلاف کی بات نہیں بلکہ بات حقیقت کی ہے۔ ایک اچھی لڑکی میں منفی دیکھ کے تہمت لگا دی جاتی ہےتو لازمی نہیں جو دیکھ رہا ہے وہی کچھ ہو۔ اپنے ذہن کو مثبت کرنے کے ساتھ حقیقت پسند بنائیں ۔آج کل کے ڈرامہ سیریل سبق آموز کم فیشن شو زیادہ لگ رہے ہوتے ہیں ہر طرح کا فیشن اور بے حیائی دکھائی جارہی ہوتی ہے ایسی ایسی سازشیں چالاکیاں دکھائی جارہی ہوتی ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں بھی نہیں ہوتیں۔ ڈرامہ اسلئے دیکھا جاتا ہے ذہنی سکون میسر ہو پر سازش بھرے ڈرامے دیکھ کے یہ گمان ہونے لگتا ہے ہمارے اردگرد ہر طرف یہی کچھ ہورہاہے۔ جن کو چالاکیاں سازشیں کرنی نہیں آتی وہ بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کیسے کس کو نقصان دینا ہے۔ اب دیکھنے والے کا ذہن لازمی نہیں کچھ اچھا تاثر ہی لے وہ منفی عادت بھی ذہنیت میں ڈال سکتا ہے ۔جو دیکھایا جائے گا وہی لوگ دیکھے گے اور اسی کی طرف ذہنی رحجان ہوگا۔
    بے حیائی دیکھ کے بعض لوگ بھی وہی کچھ کرنے لگتے ہیں ۔ پاکستانی ڈراموں میں ہمارا کلچر دیکھایا جائے اچھے سبق آموز ڈرامہ ہو تاکہ ہماری نسل کچھ اچھا سیکھے ہماری نسل محبت کہانی سے نکل نہیں پا رہی چھوٹے بچوں کا ذہنی رحجان پڑھائی کی طرف کم اور فضول کاموں میں بڑھ رہا ہےمیں خود جب ڈرامہ دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے ہر کوئی میرے خلاف سازش کر رہا ہے ذہنی دباو بڑھنے لگتا ہے لوگوں کو آپ ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔ برائے مہربانی کچھ اچھا دیکھائیں۔بچوں کو موبائل کم دیں ایسے پروگرام دیکھائیں کہ کچھ اچھا سیکھیں پر وہ وہی کچھ دیکھتے اور کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔ جب ماں باپ چوبیس گھنٹے موبائل ہاتھ سے نہیں رکھتے، بچے بھی پر مانگتے ہیں ضدی بچے پر کہا سنتے ہیں ؟مار پیٹ کے بچوں کو منع کیا جاتا ہے مگر ماں باپ خود کو نہیں بدلتے اولاد کا کیا قصور کس لیے مارا پیٹا جاتا ہے؟ انکا ذہن آپ خود ایسا بنا دیتے ہیں معصوم بچوں کو کیا پتا کیا صیحح ہے کیا غلط ہے۔ بے حیائی کی روک تھام کریں بعض اوقات ہمارا ذہن وہ کچھ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے جو سوچنا نہیں چاہتاذہن کو ہر وقت مثبت رکھنا ہر انسان کے بس میں نہیں ہوتا آزاد خیالی کی بھی حدود مقررہوتی ہیں۔ اتنا بھی آزاد خیال نہیں ہونا چاہیے کہ بے حیائی سرعام کر کے کہہ دیا جائے لوگوں کی سوچ ہی ایسی ہے لوگ تو بہت کچھ کہتے ہیں پر ہر وقت غلط بھی نہیں کہتے، ہمارا ذہن کسی کی غلامی نہیں کر سکتا لازمی نہیں جیسی آپ کی سوچ ہو ویسی سب کی ہو۔ جیسے فیشن میں عجیب و غریب لباس پہنے ہوتے ہیں تن خالی ہوتا ہے جسم آپ لوگوں کا ہے زندگی بھی آپ لوگوں کی ہے جوکہ اللہ پاک دی ہے اسکو سنوارے پر بے حیائی سرعام نہ کریں بے حیائی دیکھاکہ دوسروں کو گمراہ نہ کریں۔ اللہ پاک ایسے اقدام نا پسند فرمائے ہیں۔ اگر آپ گمراہی پہ چل ہی پڑے ہیں تو دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ گمراہ نہ کریں اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور گھروں میں بھی ایسے زیادتیوں کے مسلے ان وجوہات کی وجہ سے درپیش آرہے ہیں۔ اللہ پاک اس عمل کو نہ پسند فرمایا ہے جو کریں اپنی حدود میں رہ کے کریں نہ خود جہنم کے عذاب کے مرتکب بنے نہ دوسروں کو بنائیں۔ اپنے کردار کو صیحح کریں تاکہ کوئی آپ کے بارے میں منفی نہ سوچے۔
    اپنے ذہنوں کو دوسروں کے تابع نہ کریں ایسی چیزوں سے دور رہے جس سے نا صرف اپکی ذہنیت بلکہ زندگی بھی خراب ہورہی ہو۔

    ‎#

    ‎@Hu__rt7

  • ہارناناکامی نہیں خودکشی حل نہیں تحریر: سیدہ بشریٰ

    زندگی کی دوڑ میں ہر انسان اتنا تیز بھاگنا چاہتا کے بس پلٹ کے پیچھے نہیں دیکھنا چاہتا ۔
    دوڑو کے اسی میں بقا ہے ۔پر کسی کو کچل کر نہیں کسی کی ٹانگ کھینچ کر نہیں بلکہ کوشش کرو ہاتھ پکڑ کر كندها دے کر سہارا بنو ۔گرتے کو تھام کر دوڑو ۔
    اس اندھی دوڑ اور تقلید نے بھاگنے والوں کو مدہوش کر دیا ہے ۔ہم نے اپنے گھوڑے کی لگام خود کسی اور کے سپرد کر دی ۔جہاں دوڑتے گر جانے والے کو اٹھ کے پھر دوڑنا نہیں سکھا تے ۔
    ذرا سی بات پر خود کشی عام بات بن چکی اور اگر خود کشی نہ بھی کریں نشے پر لگ کر خود کو بربادکرنا آسان لگتا پر ان لوگوں سے کبھی کسی نے پوچھا کے وہ زندگی جو ایک بار ملتی اسکو سنوارنے کے بجائے اس سے مكتی کیوں حاصل کرنا چاہتے ؟اسکو برباد کر کے خود کو اذیت کیوں دیتے ؟
    بچے اپنی تعلیمی نا كامی پر جان دے دیتے ۔دھوکہ ملے یا نقصان ہو جان لینا ہی حل کیوں ؟
    اس کیوں کا واحد جواب ایک اندھی دوڑ کے مسافر بنا کر ان سے بس 100% کی پرفکشن کی چاہ اور ان پر دباو کے ہارنا نہیں ناکام نہیں ہونا ۔انسانوں کو روبوٹ بنا نا ۔۔لفظ” ہار” کو ایک قبیح گالی کے طور پر سکھا دیا گیا ہے ۔لوگ کیا کہیں گے ۔گھر والے کیا کہیں گے ؟ یہ وہ دباو ہیں جن میں جیتے جی کئی لوگ مر چکے ہوتے ۔سالانہ دنیا بھر میں تقر یبا 8 لاکھ لوگ ہمت ہار جاتے اور موت کو گلے لگا لیتے کے یہ راہ نجات ہے۔ کیوں ؟
    اسکے پیچھے بہت سی وجو ہات ہیں جو ایک انسان کو اس نہج پر لے آتی کے اسکو سب راہیں معدوم لگتی ۔انسان سوچتا کے اب بس آگے ایک بند گلی ہے کوئی راستہ باقی نہیں بچا ۔
    ان میں ایكاڈیمک پرفارمنس اور بہترین کے حصول کا پریشر
    جسمانی اور ذہنی دباو یا بیماری
    معاشی مسلے یا غربت ۔
    نوکری کے مسائل
    یا زندگی كیطرف منفی رویہ ۔
    مایوسی
    خود سے نفرت
    کسی عمل یا حرکت پر شرمندگی ۔گلٹ
    خود کو بوجھ سمجھنا
    ان مسایل سے زندگی میں ہر انسان نبرد آزما ہے پر کچھ ان مسایل کو آسانی سے ٹیکل نہیں کر پا تے یا انکے ساتھ ایسا کوئی ہوتا نہیں جو انکو مشکل حالات سے لڑنے یا نبٹنے کا حو صلہ دے ۔
    نا كامی کا ڈر انکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سب سے پہلے ختم کر دیتا ۔
    دوسرا اہم مسلہ دماغی خلل کو بیماری نہ ماننا ۔اور جو انسان اس اذیت کا شکار ہو اسکو اسکے حال پر چھوڑ دینا ۔ہمیں ذہنی دباو کے شکار لوگوں کو علاج میں مدد کرنا ہو گی ۔ خودکشی کرنے والوں میں 98% وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہوتے ۔جن میں خاص کر اہم وجہ ڈیپریشن ہے جہاں انسان کے رویئے پر لوگ بات ضرور کریں گے پر اسکو صحت مند کرنے کے لئے مدد گار کوئی نہیں بنتا ۔
    گھر ہو یا سکول، مدرسہ ہو یا جا معہ کام والی جگہ جہاں لگے کسی کو کوئی ذہنی دباو ہے کوئی نا كامی ملے اس پر جج نا بنو فضول کی رائے یا بیان بازی سے اجتناب کرو اس کو سمجھاو اسکے رهبر بنو سكهاو ہارنا ایک فن ہے ۔ہار نئے رستے سکھا تی ہے۔۔اسکو تنہا نہ کرو اسکو ساتھی بنوانکو سنو بہت دھیان سے سنو وہ کیا کہتے اور انکے کہے پر جج نہ بنو انکے خیالات جذبات کو بے وقعت مت کرو ۔سب سے پہلے مایو سی کو اس کے اندر سے نکالنا ہو گا ۔ ۔۔۔تعلیم لازم پر تربیت اس سے پہلے آتی ۔۔کونسلنگ لازم حصہ ہے تربیت کا ۔سكهاو کے مایوسی خود پر ظلم ہے ۔ناامیدی یا پھر یہ سوچ اب کچھ باقی نہ بچا ۔اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔خود سے نفرت نہیں محبت کرو کیونکہ خود سے محبت کرو گے خود کی عزت کرو گے تو دوسرے بھی قدر کریں گے ۔غلطی اگر ہوئی اس پر ٹا رچر مت کرو یہ سكهاو کے ہر غلطی کا مداوا ہے بس اسکے لئے سچے دل سے توبہ کرو معافی لو ۔خود کو بوجھ مت سمجھو خود کو فالتو مت سمجھو بلکہ خود کی اہمیت کو پہچانو ۔سمجهاو کے اپ بہت اہم ہو ۔
    تربیت کا لازم حصہ بناؤ کے زندگی میں راہیں محدود ہوتی ہیں معدوم نہیں ۔ان محدود سے ہی لامحدود کا حصول ممکن ہے ۔

    https://t.co/hAMDdvtehp‎
    Syeda Bushra

  • وقت ایک عام نعمت ہے تحریر: زبیر احمد

    وقت ایک عام نعمت ہے تحریر: زبیر احمد

    صوفیائے کرام فرماتے ہیں وقت کاٹنے والی تلوار ہے، وقت پانی کی طرح ہے اس سے کسی لمحے سکون نہیں، خدا ڈراتا ہے کہ تم کہیں رہو موت تمہیں نہیں چھوڑے گی، وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہر کام کا ایک وقت ہے لیکن انسان موت کا وقت نہیں جانتا۔ انبیاء کرام بھی نصیحت کرتے ہیں کہ وقت کے بارے میں ہوشیار رہو، وقت برباد نہ کرو، وقت غیرضروری باتوں میں صرف نہ کرو، گھڑی گھڑی سیکنڈ سکینڈ کا حساب دینا پڑے گا۔ تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے، صدیوں کا تجربہ بھی ہمیں یہی سبق سکھاتا ہے کہ دنیا میں جو کامیاب لوگ گزر چکے ہیں، ان کی کامیابی کا راز صرف وقت کی قدر اور اس کا صحیح استعمال تھا۔وقت ایک ایسی زمین یے کہ اگر اس پہ محنت کی جائے تو یہ پھل دیتی ہے بے کار چھوڑ دی جائے تو کچھ بھی نہیں ملتا یا خاردار جھاڑیاں ہی اگاتی ہے۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا ایک دریا ہے۔ اس کا بہاو انتہائی تیز ہے۔ جونہی کوئی چیز وقت کے دریا کی زد میں آتی ہے وہ اس کو بہا کے لے جاتا ہے۔ ایک مثال ہے کہ وقت بھی ایک سونا ہے، لیکن یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو وقت کی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں جو لوگ پاکیزہ خیالات اور اچھی فکروسوچ کے حامل ہوتے ہیں ان کے لئے وقت بہت قیمتی ہے۔ پیسہ دولت اگر چلا بھی جائے تو واپس حاصل کیا جاسکتا ہے اور پہلے سے کئی گنا زیادہ ہوسکتا ہے لیکن جو وقت اور زمانہ گزر گیا وہ کسی قیمت پر بھی واپس نہیں آسکتا۔ آج مسلم معاشرے میں پیدا ہونے والے بچے کی زندگی تباہ کرنے کے لئے ہزار جال بچھائے گئے ہیں، موبائل،ٹی وی، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، رومانوی ڈرامے اور فلمیں غرض کہ ہر قدم پہ جال بچھا رکھے ہیں لیکن ہماری نئی نسل کو ان چیزوں کے بے جا استعمال سے وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں ہورہا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد یہیں تک محدود نہیں ہے۔
    وقت گزر جانے پہ افسوس کرنا بے نتیجہ ہے، موت پہ اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا وقت کے ختم ہونے پر، دوزخی یہی کہیں گے”اے خدا تو ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیج دے” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یے” کوئی دن ایسا نہیں ہے جب طلوع ہوتا ہے تو پکار پکار کر کہتا اے انسان میں تیرے عمل پہ شاہد ہوں، مجھ سے کچھ حاصل کرنا ہے تو کرلے، میں تو اب قیامت تک لوٹ کر نہیں آونگا۔
    وقت سے کام لینے والے اس تھوڑی سی زندگی میں موجد بن گئے، فلاسفر بن گئے، بزرگان دین اور اولیاء بن گئے، دین و دنیا کے مالک بن گئے۔ فضول کاموں سے ایک گھنٹہ روزانہ بچا کر معمولی آدمی بھی کسی سائنس کو پوری طرح اپنے قابو میں رکھ سکتا ہے، دن میں ایک گھنٹہ روازنہ خرچ کرکے جاہل انسان بھی دس سال میں ایک عالم بن سکتا ہے، غرض روازنہ ایک گھنٹہ کی بدولت ایک حیوانی زندگی، کارآمد اور مسرت بھری انسانی زندگی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
    ایک اور دھوکہ جو انسان کو وقت ضائع کرنے پہ افسوس سے بچاتا رہتا ہے اور وہ لفظ ہے "کل”، انسان کی زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو "کل” کے لفظ کی طرح گناہوں، غلطیوں اور لاپرواہیوں اور اتنی بردباد ہونے والی زندگیوں کے لیے جواب دہ ہو۔کامیاب لوگوں کی ڈکشنری میں "کل” کا لفظ نہیں ہے، یہ ایسے لوگوں کے استعمال میں آنے والا لفظ ہے جو صبح سے شام تک خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں اور صرف خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ کامیابی کے راستے پہ بے شمار اپاہج کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی عمر "کل” کے تعاقب میں گنوا دی ہے۔ غرض کے وقت وہ سرمایہ یے جو ہر شخص کو قدرت کی طرف سے یکساں عطا ہوا ہے۔ وقت کے درست استعمال سے ہی وحشی مہذب بن جاتا ہے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو عوام حکمران، امیر غریب، طاقتور اور کمزور کی یکساں ملتی ہے۔ وقت کی قدر اور زندگی کی اہمیت کا احساس اللہ کا انعام ہے اور یہ انعام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ اللہ ہمیں وقت کی قدر اور اس کی اہمیت کا احساس عطا فرمائے، آمین

    tweets @KharnalZ

  • پیغام یوم آزادی  14 اگست 1947 تحریر بشارت حسین

    پیغام یوم آزادی 14 اگست 1947 تحریر بشارت حسین

    ہر سال چودہ اگست پہ ہم بچوں سمیت بڑے دھوم دھام سے جوش و خروش سے جشن آزادی مناتے ہیں۔ جھنڈے سینے پہ سجائے جاتے ہیں۔ ہر طرف قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔
    وقت کے ساتھ ساتھ یوم آزادی صرف ایک فیشن اور تہوار بن گیا اور ہمیں ایک اور موقع مل گیا جس میں ہم یوم آزادی کے نام پہ ہلا گلا کریں اپنی معاشی برتری ثابت کریں اور دولت سے اپنی محب الوطنی کا ثبوت دیں۔
    ہر سال چودہ اگست ہمیں اپنے اباو اجداد اور بزرگوں اور اسلاف کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن عزیز کے حصول کیلئے بے بہا قربانیاں دیں۔
    پاکستان ہمیں یوں ہی نہیں ملا بلکہ اس کی آزادی کے بدلے ہمارے بزرگوں نے اپنی جان مال عزت آبرو تک کو قربان کیا۔
    جب چودہ اگست انیس سو سینتالیس 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو غیر مسلموں (ہندو سکھ اور انگریز) نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ مسلمان پاکستان کے قیام کے بعد ہندوستان سے نکلنے لگے لیکن راستوں میں پاکستان کے دشمنوں نے جگہ جگہ مسلمانوں کو گھیرا۔ مسلمان مہاجرین کے قافلوں کو جلایا گیا بوڑھے بچوں اور عورتوں کو قتل کیا گیا۔ مسلمان عورتوں کی عزتوں سے کھیلا گیا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے ہر طرح کے ظلم و ستم سہے لیکن کوئی بھی ظلم مسلمانوں کے بلند و بالا حوصلوں کو شکست نہ دے سکا۔
    ہندوستان میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مسلمان اب دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے چنانچہ مسلمانوں کے اندر ایک علیحدہ ملک بنانے کی جستجو پیدا ہوئی۔ ہم یوم آزادی کے سبق کو بھول کر ایک جشن کے پیچھے پڑے ہیں آج ہمیں یاد ہی نہیں کہ اس ملک کو حاصل کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
    آزادی سے پہلے مسلمان یہ جانتے تھے کہ مسلمان دوسری قوموں سے الگ ہیں انکا رہن سہن طور طریقے راہیں سب جدا ہیں لیکن آج ہم اس سبق کو بھول گئے۔
    پاکستان کی آزادی کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے دین کے مطابق اپنی مرضی سے الگ تھلگ رہیں۔
    پاکستان کی آزادی دراصل ہمیں دین کی آزادی کا پیغام تھا کہ اب ہم اپنے وطن میں بغیر کسی دوسری طاقت کے خوف سے اپنی زندگی اپنے دین کے طریقوں سے گزاریں گے۔
    بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ ان سب سے آزاد ہو گیا ہمارے آباؤ اجداد تو اس سبق کو نہیں بھولے لیکن ہمارے دلوں سے آزادی کی قدر وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گئی۔
    یوم آزادی پاکستان ہر سال ہمیں ایثار ، قربانی ، بلند حوصلے، احساس، غریب پروری اور حب الوطنی کا پیغام یاد دلاتا ہے۔ یوم آزادی پاکستان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون ہیں؟
    یوم آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے جب مسلمان دوسری جگہوں سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو یہاں کے مکینوں نے کیسے اپنے گھروں میں انکو جگہ دی۔
    مہاجرین کو اپنے ساتھ زمینوں میں شریک کیا اپنے ساتھ کاروبار میں بھائیوں کی طرح شراکت داری دی۔
    جب مہاجرین ہندوستان سے آئے تو راستوں میں اپنے خونی رشتوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھا لیکن جب وہ پاکستان پہنچے تو ان کو یہاں اپنے کھوئے رشتوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی انکو نئے بیٹے اور بیٹیاں ملیں یتیموں کو نئے گھر نئے رشتے ملے۔ خونی رشتوں کی کمی کو پورا ہی نہیں کیا بلکہ انکے زخموں پہ مرہم بھی لگایا۔
    اخوت و بھائی کی ایک مثال قائم کی۔ درس انسانیت اور احساس کا سبق دیا اسلامی بھائی چارہ قائم کیا اور آنے والی نسلوں کے لیئے ایک نظام اور ایک سبق چھوڑا۔
    ہر سال چودہ اگست یوم آزادی ہمیں اس پیغام کو یاد کراتی ہے ہم اپنے کمزور طبقے کی مدد کریں انکی ضروریات کا خیال رکھیں۔ آج ہمارا ملک جن حالات سے دوچار ہے اس سے تقریبا سبھی بخوبی آشنا ہیں۔ ہم انتہائی کٹھن مراحل سے گزر رہے ہیں آج ہمارے ملک اور ہماری قوم کو انہی قربانیوں اور ایثار کی ضرورت ہے جس کا اظہار چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کیا گیا۔
    آئیں اس یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر یہ عہد کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہم اپنے اسلاف کے پڑھائے ہوئے سبق کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی ترقی کے خواہاں ہوں گے
    ان شاء اللہ

    /Live_with_honor?s=09@

  • کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی تحریر:واصل بٹ

    کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی

    نوبال کرکٹ کے کھیل میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

    کرکٹ میں نوبال کا بڑا حصہ ہوتا ہے کئی دفعہ نوبال کی وجہ سے میچ کا پاسا پلٹ جاتا ہے اور صرف نوبال کی وجہ سے ہار رہی ٹیم جیت جاتی ہے اور جیت رہی ٹیم ہار جاتی ہے اور یہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوتا ہے۔

    پہلے نو بال کروانے پر بیٹنک کرنے والی ٹیم کو ایک اضافی ڈلیوری دی جاتی تھی اور ایک اضافی رن دیا جاتا تھا لیکن آج کے دور میں اس کے ساتھ (فری ہٹ) بھی دی جاتی ہے جس میں بلے باز کے آوٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا جوکہ گیند باز کے لیے سخت سزا ہے۔

    کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے بہت سی نوبال کرائیں لیکن کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے اپنے پورے کیریر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائی یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں بالنگ کے لیے آتے تو بڑے بڑے بلے بازوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے اور ان گیند بازوں کی فہرست درج زیل ہے

    1- عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا شمار بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کرکٹ کے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبل نہیں کروائی وہ ایسے آل راؤنڈر تھے جن کے میدان میں اترتے ہیں مدمقابل کھلاڑی محتاط ہو جاتا تھا انہوں نے ہمیشہ اپنے کھیل سے قوم کا سر بلند کیا اور بطور آل راؤنڈر اپنی ٹیم کو جتوا کر پاکستان کی عزت بڑھائی آل راؤنڈر کے طور پر حیران کن پرفارمنس دی۔ 1971 میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنی قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دے کر آپ نے کرکٹ کیریئر کا اختتام کیا۔

    عمران خان نے اپنے 21 سالہ کیریئر میں 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلنے اور ٹیسٹ کیریئر میں 362 اور ون ڈے میں 182 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے اور ٹیسٹ میں 3807 اور ون ڈے میں 3709 رنز بنائے جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 270000 گیندیں کروائیں جن میں سے ایک بھی نوبال نہیں ہوئی جو کہ ایک شاندار کار نامہ ہے۔ عمران خان پاکستان کے عظیم کپتانوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جنہوں نے ٹیم کو ساتھ لے کر محنت کی اور کامیابی حاصل کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی حکمت عملی نے انہیں سیاست کے میدان میں بھی کامیاب کیا

    2- لانس گبز

    لانس گبز ویسٹ انڈیز کے وہ مایا ناز کھلاڑی تھے جنہوں نے عالمی کرکٹ میں بہت سے ریکارڈ اپنے نام کیے وہ 300 وکٹیں لینے والے دنیا کے دوسرے بالر تھے جبکہ جبکہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے اسپنر بھی تھے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1958 میں کیا اور 1976 تک کھیلتے رہے۔
    گبز نے 79 ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلے اور انہوں نے ٹیسٹ میں 309 اور ون ڈے میں 2 وکٹیں حاصل کیں۔ لانس گز نے بھارت کے خلاف 38 رنز کے بدلے 8 وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو فتح سے ہمکنار کیا
    انہوں نے اپنے کیرئیر میں 27000 بالز کروائیں لیکن کوئی بھی نوبال نہیں دی اور کرکٹ کی تاریخ میں لانگ گبز پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پورے کیریئر میں نو بال نہ کروانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اس سے پہلے کوئی بھی یہ ریکارڈ نہ بنا سکا جس نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہ کروائی ہو۔

    3- آئن بوتھم

    آئن بوتھم کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بہت سے غیر معمولی ریکارڈ قائم کیے 1976 میں انہوں نے اپبین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنے کیریئر کا اختتام کیا ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔

    آئن بوتھم نے 102 ٹیسٹ اور 116 ون ڈے کھیلے ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 5200 اور ون ڈے میں 2113 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے

    آئن بوتھم نے ٹیسٹ میں 338 اور ون ڈے میں 145 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریبا 28000 گیندے کروائی جن میں ایک بھی نو بال نہیں کروائی جوکہ کرکٹ کی تاریخ میں انکا ایک ریکارڈ ہے۔

    4- ڈینس للی

    ڈینس للی آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بالر تھے جنہوں نے 70 کی دہائی میں تہلکہ مچایا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن کر 1984 میں ریٹائرڈ ہوئے
    ڈینس للی کا جیف تھامسن کے ساتھ بہترین کیریئر تھا جو آسٹریلوی کرکٹ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں 70 ٹیسٹ اور 63 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں 355 اور ون ڈے میں 103 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈینس للی کی جارحانہ پرفارمنس ہمیشہ تماشائیوں کو حیران کر دیتی تھی اور آسٹریلوی شائقین یہ جان کر بہت خوش ہوں گے کہ انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی نوبال نہیں کروائ۔

    5- باب ولس

    باب ولس انگلینڈ کے عظیم گیند بازوں میں سے ایک تھے 1971 میں انہوں نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا 1978 میں انہوں نے ون ڈے (کرکٹر آف دی ائیر) ایوارڈ حاصل کیا۔1984 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹار اسپورٹس کے ساتھ بھی کام کیا۔
    باب ولس نے 90 ٹیسٹ اور 64 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں انہوں نے 325 اور ون ڈے میں 80 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریباً 21000 بالز کروائیں لیکن ایک بھی نو بال نہیں کروائی۔

    2019 میں "باب ولس” 70 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے

  • بڑا لیڈر۔بڑی سوچ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    بڑا لیڈر۔بڑی سوچ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن کے مطابق
    عمران خان درست اقدامات کر رہا ہے۔
    اسکے ان اقدامات سے معیشت میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔
    مگر ان اقدامات کے ثمرات آئندہ آنے والی حکومت کو ملیں گے۔
    اعتزاز احسن کا یہ آخری فقرہ عمران خان کے بطور سیاستدان ویژن کا نچوڑ ہے۔
    عمران خان خود بھی یہی کہتا ہے کہ آئندہ نسل کے لئے بہتر پاکستان چھوڑ کے جائیں گے۔
    بڑا لیڈر وہی ہوتا ہے،جو الیکشنوں کا نہیں،آنے والی نسلوں کا سوچتا ہے۔
    خوش قسمتی سے یہ سوچ عمران خان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔
    جس کا اعتراف مخالف سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا ایک بڑا نام
    بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن بھی کر رہا ہے۔
    جس نے بلاول اور اپنی پارٹی کا خوف بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ وہ بات کر دی،
    جو اسے سچ محسوس ہوئ-
    یہی خوبی عمران خان کو عصر حاضر کے دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے۔اسکا شفاف کردار لوگوں کے لئے ایک امید بن چکا ہے۔
    وہ جو کام پاکستان کے لئے ضروری ہیں۔وہ انہیں کر رہا ہے۔
    جو کام انتخابات میں کامیابی کی دلیل اور ضمانت ہوتے ہیں اور ان میں کمیشن بھی کارفرما ہوتا ہے۔
    وہ کام وہ نہیں کر رہا۔کیونکہ کمیشن سے تو اسکا دور دور کا واسطہ نہیں۔اس نے زندگی میں کبھی پیسے سے پیار نہیں کیا،
    اگر اسے پیسے کی ہوس ہوتی تو وہ اپنی پہلی بیوی اور ایک معزز خاتون جمائمہ کو طلاق نہ دیتا۔یہ طلاق دینے کا مطلب ہی اربوں روپے سے دستبرداری تھا۔
    طلاق کے وقت لندن کی عدالت کے جج نے اس سے پوچھا کہ طلاق کے عوض آپ کتنا معاوضہ لیں گے؟
    عمران خان نے کہا کہ میں بڑے بھاری دل اور کچھ مجبوریوں کی وجہ سےایک عمدہ خاتون اور اپنے بچوں کی ماں کو طلاق دے رہا ہوں،مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔
    یہ سن کر جج ،جمائمہ سمیت سبھی حاضرین اشک بار نظر آۓ۔اُسے الیکشن کی بھی پرواہ نہیں۔اسے پتہ ہے کہ اسکی نیت صاف ہے۔وہ اس ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔
    اس ملک کی سمت درست کرنا چاہتا ہے،جسے سابق حکمران تباہ کر کے گئے ہیں۔اسے اگر صرف الیکشن سے غرض ہوتی تو وہ بھی اسحق ڈار اور مفتاح اسماعیل جیسے وزراۓ خزانہ سے کچھ مصنوعی اور ڈنگ ٹپاو اقدامات کر واکے مہنگائ کو بھی نیچے رکھتا۔ڈالر بھی قابو رہتا اور وہ اگلا الیکشن بھی آرام سے جیت جاتا۔
    مگر اسکی قیمت ہماری آئندہ نسلوں کو چکانا پڑتی۔
    جیسا کہ موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں کے گناہوں کا کفارہ ابھی تک ادا کر رہی ہے۔
    بقول اعتزاز احسن کے
    عمران خان کے اچھے اقدامات کے نتائج آئندہ دو سال میں نہیں آئیں گے۔
    ان اقدامات سے اگلی حکومت کو فائدہ ہو گا۔
    ویسے قرائن بتاتے ہیں کہ اگلی حکومت بھی ان شاءاللہ PTIکی نظر آرہی ہے۔
    آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں فتوحات سے PTI بڑا تگڑا کم بیک کر چکی ہے۔
    سیالکوٹ سے ن لیگ کا کئی عشروں کا تسلط ٹوٹا ہے۔
    یہ حلقہ ن لیگ کا گڑھ تھا۔
    اس حلقے سے کامیابی نے ن لیگ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
    پی ڈی ایم کی شکست وریخت اور ن لیگ کے اندرونی اختلافات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئ کا مقابلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے نہیں بلکہ مہنگائ سے ہو گا۔
    اگلے انتخابات سے پہلے حکومت اگر مہنگائ کی کمر توڑنے میں کامیاب ہو گئی تو اپوزیشن کی کمر خود بخود ٹوٹ جاۓ گی۔
    اگر مہنگائ پر قابو نہ پایا جا سکا تو پھر حکومت اپنی کمر ٹوٹنے کے لئے تیار رہے۔
    عوام اب مہنگائ کے معاملے میں کوئ دلیل سننے کو تیار نہیں۔
    کرونا کی وجہ سے مہنگائ کی بین الاقوامی لہر،
    معیشت میں بہتری،
    عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کوئ بڑی سے بڑی دلیل کافی ثابت نہیں ہو رہی۔
    مجھ جیسے صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جب بھی حکومت کے حق میں یا بہتر معاشی اعشاریوں کے بارے میں لکھتے ہیں تو لوگوں کا ایک ہی کمنٹ ہوتا ہے کہ جو آپ نے لکھا !
    وہ ٹھیک ہے،
    مگر اُسے سے پیٹ نہیں بھرتا۔
    اُس سے بلوں کی ادائیگی نہیں ہوتی-
    لہذا حکومت کو جلد عوام کےان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہو گا !
    موجودہ مہنگائ نے لوگوں کی قوت خرید اور قوت برداشت دونوں کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے۔
    اس مہنگائ کا توڑ کرنے کے لئے حکومت کو ایک مکمل منصوبہ بندی سے آگے بڑھنا ہو گا۔
    لوگوں کی مشکلات کا مداوا کرنے کے لئے دن رات ایک کرنا ہو گا۔
    لوگوں کی اکثریت عمران خان کے دیانتدار اور پُر عزم ہونے پر پوری طرح متفق ہے،
    مگر پیٹ تو اس سے بھی نہیں بھرتا#

    تحریر سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔  تحریر: احمد علی عباسی

    جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔ تحریر: احمد علی عباسی

    ایک زمانہ تھا جب چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانا ہندتوا کے غنڈوں کا معمول بن چکا تھا مگر پھر زمانہ بدلا تو انہی غنڈوں نے جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد کا راستہ اختیار کرلیا،مسلمانوں کے خلاف نت نئے نعرے تشکیل دیے گئے اور معاشی طور پر غیر مستحکم بنانے کے منصوبے بھی تیار کیے جانے لگے ۔ انہی نعروں میں سے ایک انتہائی خطرناک نعرہ آر ایس ایس نے ہی تشکیل دیا جس کو گلی گلی پھیلایا جانے لگا اور وہ نعرہ یہ تھا”جب ملے (مسلمان) کا ٹے جائیں گے ۔ ۔ ۔ تو رام رام چلائیں گے” ۔ پہلے پہل تو یہ نعرہ بھارت کے کوچوں اور بازاروں میں استعمال کیا جاتا رہا مگر اتوار کے روز تو یہ اور اس جیسے کئی اور نفرت انگیز نعرے بھارت کے دارلحکومت دہلی میں موجود پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر کی مسافت پر بلند کیے گئے ۔ اس مارچ کا اہتمام ویسے تو بی جے پی دہلی کی جانب سے انگریز دور کے فرسودہ قوانین کے خاتمے کے لیے تھا مگر نجانے کیوں اس میں بھی نشانہ مسلمانوں کو ہی بنایا گیا ۔ نیشنل دستک نامی چینل کے رپورٹر "انمول پریتم” جب جنتر منتر نامی مقام پر ہونے والے اس احتجاج کی کوریج کرنے کے لیے پہنچے تو انتہا پسندوں نے ان کا بھی گھیراو کرلیا اور ان کو "جے شری رام”کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے لگے ۔ انمول نے بی جے پی کے غنڈوں میں گھرِ جانے کے باوجود نعرہ لگانے سے صاف انکار کردیا ، جس پر مشتعل ہجوم نے ان کوزردوکوب کرنا شروع کردیا ۔ پریتم کا کہنا تھا کہ بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی کے باوجود ملک کے دارلحکومت میں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگنا انتہائی فکر انگیز بات ہے، ملک میں پچھلے کئی سال سے ایک ہندو اکثریت والی جماعت کی حکومت ہے اس کے باوجود ہندووں کے اس احتجاج پر میرے کئی سوالات ہیں ۔ پریتم نے پھر کچھ مظاہرین سے ہندوستان میں غربت کے خاتمے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کے بارے میں پوچھا ۔ پریتم نے مزید بتایا کہ، جب انہوں نے ہجوم سے پوچھا کے وزیر اعظم نے خود غریبوں کو کھانا کب دینا ہے؟ تو ہجوم مشتعل ہو گیا اور لوگ اس پر چیخنے لگے اور پوچھنے لگے کہ کیا وہ "جہادی چینل” سے ہے ۔ اس دوران گروپ کا ایک آدمی آیا اور مظاہرین سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ہم اپنے چینل پر ان کی بات نہیں دکھائیں گے ۔ پورے گروپ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہم ایک "جہادی چینل” ہیں ۔
    پریتم نے کہا کہ اس نے اعتراض کیا ، میں نے کہا کہ میں آپ کی بات ٹیلی ویژن پر دکھاوں گا، براہ کرم ہم سے بات کریں ۔ اس کے بعد گروپ نے مجھے گھیر لیا اور مجھ سے "جئے شری رام”اور "وندے ماترم”کے نعرے لگانے کو کہا ۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے ’’وندے ماترم‘‘ اور ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ لگایا لیکن ’’جے شری رام‘‘ کہنے سے انکار کر دیا کیونکہ، ان کی ذاتی رائے میں یہ ایک سیاسی نعرہ ہے ۔ یہاں پر ایک بات قابل ِ زکر ہے کہ اس احتجاج میں ابھی پڑھے لکھے لوگ شامل تھے جو بھارت کے دارلحکومت میں رہتے ہیں ، انہوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف اس قدر نفرت کا اظہار کیا ہے تو اتر پردیش یا بھارت کے کسی اور دور دراز کے علاقے میں مسلمانوں کا کیا حال ہوتا ہوگا،جہاں نا ہی تو میڈیا کوریج دیتا ہے اور نا ہی لوگ ذیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔ یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کے اگر بھارت کے ہندووں نے اس جنونی جماعت کو نا روکا تو جو سلسلہ مسلمانوں کے استحصال سے شروع ہوا تھا وہ ہندووں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ اب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ و ہ مسلمان نا ہونے کی وجہ سے ان دہشتگردوں سے خود کو بچا پائے گا تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ ظلم کا ساتھ دینے والے یا خاموش رہنے والے کی سزا شاید ظالم کے ہاتھوں ہی لکھی ہوتی ہے ۔

  • جنون سے اور عشق سے، ملتی ہے آزادی تحریر: رانا بشارت

    جنون سے اور عشق سے، ملتی ہے آزادی تحریر: رانا بشارت

    آزادی! اللہ سبحان و تعالی کی عطا کردہ ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کی قدر و قیمت کا اندازہ کوئی پنجرے میں قید جاندار ہی لگا سکتا ہے (چاہے وہ انسان ہو یا پھر کوئی رند یا پرند ہو)۔ آج سے کچھ دِن بعد 14 اگست کو ہمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو الحمد للہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پہ وجود میں آئے ہوئے 75 سال ہو جائیں گے۔

    پاکستان جو کہ اتنی آسانی سے حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ اِسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دیں ہیں۔ تو آج میں اپنی اِس تحریر کے زریعے اپنے بزرگوں کی پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے کی گئی جہد مسلسل کی اُن عظیم داستانوں اور کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ سب کچھ بتلانے کی کوشش کروں گا جِن سے گزرتے ہوئے انہوں نے ہمارے لیے یہ عظیم وطن حاصل کیا۔

    پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد صرف ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا ہی نہیں تھا کہ اُس دور کے عظیم لیڈر جناب قائد اعظم محمد علی جناح رح نے جِسے حاصل کرنا اپنی پوری زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کا مقصد کوئی ایسی جگہ تھی کہ جس کو حاصل کرنے کے لیے مفکّرِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح نے خواب دیکھے اور اپنی شاعری کے زریعے پورے برصغیر کے غلامی و بد حالی میں کی زندگی بسر رہے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا۔

    اور نہ ہی پاکستان کا حاصل کرنا اِس لیے تھا کہ اِسے حاصل کر کے کچھ امیروں اور جاگیرداروں کو اپنی عیش و عشرت اور اپنی من مرضی کی حکمرانی کرنے کے لیے اِسے انہیں بطور سلطنت دے دیا جائے۔ جِس کو حاصل کرنے کے لیے لیاقت علی خان رح اور اُن کی زوجہ بیگم رعنا لیاقت علی خان رح نے انتھک سیاسی جدوجہد کی، چوہدری رحمت علی رح کہ جنہوں نے اس ملک خداداد پاکستان کا نام تخلیق کر کے زمین کے اس ٹکڑے کو بہترین نام دیا، حفیظ جالندری رح کہ جنہوں نے پاکستان کیلئے ہر دل عزیز الفاظ کے موتیوں سے پرویا ہوا قومی ترانہ لکھا جو آج پاکستان میں ہر جگہ سکولوں، کالجوں اور تقاریب میں پڑھا اور گایا جاتا ہے، سید امیر الدین کیدوانی رح کہ جنہوں نے پاکستان کو ایک شاندار اور نظروں و دلوں کو مسخر کر دینے والے ڈیزائن کا قومی پرچم بنایا جو آج پاکستان کے کونےکونے میں اور پوری دنیا میں پاکستان کی شان سمجھتے ہوئے لہرایا جاتا ہے اور اِن کے علاوہ ہر وہ فرد جِس نے پاکستان کے بنانے میں اپنا تھوڑا یا ذیادہ جتنا بھی کردار ادا کیا، ان سب کا صرف ایک ہی مقصد تھا، اور وہ تھا آزادی!

    شروعات میں قائد اعظم محمد علی جناح رح کی قیادت میں جب آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا، تب انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں ڈوبے برصغیر کے مسلمانوں کی اس میں دلچسپی اور ان تحاریک میں شامل ہونے کا رجحان زیادہ نہیں تھا، اور وہ اس لیے بھی تھا کہ کوئی بھی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ انہیں کبھی ایک الگ اور آزاد ریاست مل سکے گی۔

    پھر قائد اعظم محمد علی جناح رح، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح اور ان کے بہت سے ساتھیوں کی لگاتار اور شبانہ روز کی محنت کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں بھی پاکستان کو حاصل کرنے کی لگن اور جذبہ پروان چڑھنا شروع ہوا۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک جنون اور عشق کی صورت حال اختیار کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ پھر پاکستان کے نعرے ہر زبان زد عام ہونے لگے اور ہر کوئی پاکستان کے بارے باتیں کرنے لگ گیا تھا کہ یہ پاکستان کیسا ہوگا؟

    کوئی کہتا کہ پاکستان ایسا ہو گا کہ جہاں ہم سب اپنی مرضی اور آزادی سے رہ سکیں گے، کوئی کہتا تھا کہ پاکستان میں نہ کوئی کسی کا حاکم ہو گا اور نہ کوئی کسی کا محکوم، پاکستان میں بسنے والے سب برابر کے شہری ہوں گے اور بہت سی ایسی باتیں کہ جن کو سن کے برصغیر کے مسلمانان میں سے ہر کوئی چاہے وہ بوڑھا تھا یا جوان، مرد تھا یا عورت اور یہاں تک کہ بچے بھی پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے اتنے پُر جوش ہوتے جا رہے تھے کہ اُن کی اُس وقت کی کیفیات کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کی آزادی کی شمع اتنی روشن ہوتی جا رہی تھی کہ اس کی کرنیں پورے برصغیر میں مسلمانوں کے دلوں کو منور کرتے ہوئے ان کے پاکستان سے عشق اور جنون کو ہر آنے والے دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ گرماتی ہی چلی جا رہی تھیں اور مسلمانوں کے علاوہ بہت سے غیر مسلم بھی اس تحریک کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔ اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح رح سے لوگوں کی محبت اور ان پہ اعتماد کا یہ عالم تھا کہ اگر وہ انگریزی میں بھی تقریر کر رہے ہوتے تھے تو عام سادہ لوح اور انپڑھ مسلمان اُن کی باتیں سمجھ آئے بغیر بھی یہ کہہ رہے ہوتے تھے کہ یہ بندہ جو بھی کہہ رہا ہے ایک ایک حرف سچ ہے۔

    پھر اِسی جنون، عشق اور لازوال محنت نے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح رح کی قیادت میں 14 اگست 1947ء کو وہ منزل حاصل کر لی جس کو پوری دنیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔

    پاکستان حاصل کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور بہت سی محنت و کوششوں کے بعد پھر وہ مشکل ترین اور بے رحم لمحہ بھی آن پہنچا، جسے ہم ہجرت کے نام سے جانتے ہیں۔ چونکہ! تب ہر کسی کو پاکستان پہنچنے کی اتنی جلدی اور خوشی تھی اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ جلد از جلد کسی طرح پاکستان پہنچ جائے، لیکن اپنا سب کچھ وہیں پیچھے چھوڑ کر جانے کا انہیں غم بھی بہت تھا اور تب کسی کو بھی یہ اندازہ تک نہ تھا کہ ہجرت کے دوران اِن پہ کیا کیا ظلم و ستم ہونے والے ہیں۔

    پھر اُسی جنون اور عشق کے ساتھ اپنی اُس خوشی و غمی کے عالم میں پاکستان بنتے ہی اپنے قائد محمد علی جناح رح کی ایک آواز پر پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سب نے اپنے گھر بار، محل و بنگلے، زمینیں، جائیدادیں، مال و دولت و مویشی اور اپنا سب کچھ وہاں چھوڑ کر گروہوں کی شکل میں پاکستان کی طرف چلنا شروع کر دیا۔

    کچھ تو امیر امراء تھے جو جہازوں کے زریعے پاکستان پہنچے، پھر اُس کے بعد کچھ ٹرینوں اور گاڑیوں کے زریعے پاکستان پہنچے۔ لیکن سب سے مشکل اور تکلیف دہ ہجرت اُن کی تھی جنہوں نے پیدل اور بیل گاڑیوں پہ سفر کیا۔ اور سب سے بڑی تعداد اِنہی کی تھی، جو کہ کروڑوں کی تعداد میں بوڑھے اور جوان مرد و عورت اور بچے جنہیں کئی کئی دن، ہفتے اور مہینے پاکستان پہنچنے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑا۔ اِسی تھکا دینے والے پُرمشقت سفر میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے اُن ظالم ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے بے رحمانہ ظلم کا نشانہ بن بن کے شہید ہوئے۔

    چنانچہ! ہجرت شروع کرتے وقت مہاجرین کی جو تعداد تھی اُس میں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق اُس کی آدھی تعداد پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اور پھر جو پہنچے اُن میں سے بھی بہت سے زخمی حالت میں تھے کسی کا بازو، کسی کی ٹانگ، کسی کا ہاتھ اور کسی کا پا‌ؤں کٹا ہوا تھا اور کچھ بھوک و پیاس سے بدحال و بیمار تھے۔ لیکن! اس سب کے باوجود بھی وہ سب اس بات پہ اللہ تعالی کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اب ہم اپنے آزاد وطن پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ میرے پاکستانیوں ہمارے لیے یہ سب ایک کہانی سے بڑھ کے کچھ نہیں ہے کیونکہ جب تک بندہ خود کسی مشکل سے نہیں گزرتا تب تک وہ اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتا اور کیونکہ میرا تعلق ایک ہجرت کر کے آئے ہوئے گھرانے سے ہے تو اپنے بڑوں سے سنی ہوئی بہت سی باتوں کو میں نے بہت قریب سے محسوس کیا ہوا ہے اور میں اُن تکالیف کا اندازہ بھی لگا سکتا ہوں۔ تو پھر آئیں ہم سب اس آنے والی جشن آزادی پہ یہ وعدہ کریں کہ ہم اپنے بزرگوں کے اس پاکستان سے اُسی جنون اور عشق کو آگے لے کر چلتے ہوئے اِس کی ترقی اور قدر و منزلت میں اضافے کے لیے اپنا تن، من دھن سب لگا دیں گے۔ اور کبھی بھی ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کے نام پہ آنچ نہیں آنے دیں گے۔
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name: Rana Basharat Mahmood Twitter Handle: ‎@MainBhiHoonPAK

  • آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل – تحریر : یاسر اقبال خان

    آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل – تحریر : یاسر اقبال خان


    جب 14 اور 15 اگست 1947ء کو پاکستان اور بھارت نے برطانیہ سے آزادی حاصل کردی اور دو نئے خود مختار ریاستیں وجود میں آئیں تو برصغیر میں موجود ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں کسی بھی ملک کے ساتھ اپنی خواہش سے شامل ہو جائے۔ تو کشمیر ایک مسلمانوں کا اکثریتی آبادی والا ریاست تھا مگر اس کے مہا راجہ ہندو تھے اس راجہ نے وقت پر فیصلہ نہیں کیا اور 26 اکتوبر 1947ء کو مہا راجہ نے کشمیر کے لوگوں سے رائے لئے بغیر بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دئے جس پر کشمیر کے مسلمانوں نے مہا راجہ کے خلاف بغاوت کردی۔ اس بغاوت کو کچلنے کیلئے بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی وادی میں فوج اتار دی۔ کشمیر میں موجود بھارت سے آزادی کے حامیوں کے ساتھ پاکستان نے بھی اظہار یکجہتی کی اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے نوجوانوں نے کشمیر میں بھارت کی فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ تھی۔

    پاک بھارت جنگ کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ نے 5 فروری 1948 کو ایک قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ اس رائے شماری پر کیا جائے۔ یکم جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور کشمیر میں رائے شماری کرانے کا اعلان کیا جو 1947ء سے لے کر آج تک وہ رائے شماری نہیں ہوئی۔ بھارت نے 26 جنوری 1950ء کو بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ کیا اور کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت کا درجہ دیا جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو دفاع، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ خود مختار حیثیت دی گئی۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہوا یہ آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے جس کے تحت ریاست کا اپنا آئین تھا اور اسے خصوصی نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی۔

    1954ء کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 ‘اے’ بھارتی آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا تھا۔ آرٹیکل 35 ‘اے’ کے تحت بھارت کی کسی اور ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔

    بھارت نے 5 اگست 2019ء کو ایوان بالا میں کشمیر کے خصوصی اختیارات والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی۔ مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے یہ ترمیمی بل پیش کیا گیا جس پر صدر نے دستخط کرکے منظور کردیا۔ اس ترمیمی بل کے مطابق بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کیا اور ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کا درجہ دے دیا۔ مودی حکومت نے اس یکطرفہ اقدام سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا قانون آرٹیکل 370 اور ریاستی درجہ ختم کر دیا۔

    کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مذمت کی ہے۔ بھارت کے اس فیصلے کی مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی مخالفت کی ہے اور اکثر کشمیر کے سیاسی رہنما بھارتی حکومت سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اپنے اصلی حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر 5 اگست 2021ء کو حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی برپور مذمت کی۔ حریت کانفرنس کے اعلان پر آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر مقبوضہ وادی میں 5 اگست 2021ء سے 15 اگست 2021ء تک عشرہ مزاحمت منایا جا رہا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 2 برس مکمل ہونے پر 5 اگست 2021ء کو پاکستان بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیا، اس سلسلے میں آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں بھارت کے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و جبر اور آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترمیم کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئی۔

    Twitter: ‎@RealYasir__khan

  • 14 اگست 1947      تحریر:سید عمیر شیرازی

    14 اگست 1947 تحریر:سید عمیر شیرازی

    آج جس ملک میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں وہ اس قائد اعظم محمد علی جناح،علامہ اقبال،لیاقت علی خان،سر سید احمد خان،چوہدری رحمت علی اور بہت سی ایسی دوسری شخصیات کی بدولت ممکن ہوا،
    اگر قائد اعظم نے اس ملک کو نہ بنایا ہوتا،اگر علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب نہ دیکھا ہوتا تو آج ہم بھی انگریزوں کے غلام ہوتے اور ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے ہیں۔
    قائداعظم نے اگر اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد نہ کی ہوتی،شاعر مشرق علامہ اقبال جو کہ ہمارے قومی شاعر ہیں انہوں نے اپنی شاعری سے ہمیں نہ جگایا ہوتا تو ہم یوں ہی خواب غفلت میں سوئے ہوئے تھے۔۔
    ہمارا وطن پاکستان وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بسنے والوں کو ملا بلکہ پاکستان کی بنیادیں استور کرنے کے لئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے
    اس بات کو ہرگز نہ بھولیں پاکستان ہمیں بہت قربانیوں اور جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل ہوا ہے اس ملک خداداد کی قدر کیجئے ۔
    جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح رح آسمان سیاست ہند کا وہ روشن ستارہ ہے جو برصغیر پر 73سال طلوع رہا جس کی روشن کرنیں آج بھی پاکستان کی صورت میں اس عالم کو منور کر رہی ہیں،
    محمد علی جو بعد میں جناح کہلائے اور پھر اسلامیان ہند کے کروڑوں مسلمانوں کے قائد اعظم بنے ان میں سیاسی رجحان تو لندن میں زمانہ طالب علمی کے دوران ہی پیدا ہو گیا تھا مگر ہندوستان آکر ایسی اقتصادی اور مالی دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا کہ سیاست کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن جب حالات ذرا سازگار ہوئے، اور مالی دشواریوں کا بوجھ کم ہوا اور نسبتا سکون و آرام میسر آیا تو آپ کا جذبہ پھر ابھرا اور رفتہ رفتہ محمد علی جناح نے سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا یہاں مجھے قائد اعظم محمد علی جناح ایک شعر یاد آتا ہے۔

    "اب اندھیروں کا تسلط ہے یہاں
    روشنی بن کر گزرنا چاہئے”

    قیام پاکستان کی تاریخ کا ایک مختصر سا تعارف ہے یہ اگر ہم اس کی گہرائی میں جائیں تو ہمیں علم ہوگا کیسی کیسی قربانیاں اور جتن کے بعد یہ مادر وطن اپنے وجود میں آیا آج ہمیں ہر طرح کی آزادی میسر ہے اپنی مرضی سے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں کہی بھی جا سکتے ہیں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ان سب کے پیچھے ہمارے بزرگوں کی لازوال قربانیاں ہیں جس کی یاد میں ہم 14 اگست کا دن یوم آزادی کے طور پر مناتے ہیں..
    آج کل کی نئی نسل کو تو اپنی تاریخ تک نہیں پتہ ہم نے اپنے بچوں کو اتنا تعلیم یافتہ بنا دیا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک کی تاریخ نہیں معلوم،
    کیمرج و آکسفورڈ اور دیگر بڑے تعلیمی اداروں میں ہمارے بچے پڑھ تو لیتے ہیں پر انہیں اپنے وطن کے بارے میں اتنا تک نہیں بتایا جاتا کے کس کٹن اور قربانیوں کے بعد یہ وطن ہمارے آباء و اجداد نے حاصل کیا وہاں گورے ہمارے بچوں کے برین واش کرتے ہیں جب کے ہمارے بزرگوں نے انہی گوروں کی غلامی سے نکال کر آزادی دلوائی۔۔
    آج ہم رب پاک کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے کہ اللّه پاک نے ہمیں آزاد ملک میں پیدا کیا دنیا میں دوسرے بہت سے ایسے ممالک بھی وجود رکھتے ہیں جن کو اپنی سانسیں لینے کیلئے بھی اجازت لینی پڑتی ہے اللّه پاک نے ہمیں موجودہ دور کی نسل کو پکایا پاکستان دیا ہے اسکی قدر کریں اور سب سے بڑھ کر اپنے وطن کی آزادی کی تحریک کو پڑھیں
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے الگ وطن کے حصول کیلئے اپنے بچوں کو یتیم کیا کتنی عورتیں بیوہ ہو گئی کتنوں کے شوہر اس وطن عزیز کے لئے قربان ہوئے تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
    آج ہم 14 اگست تو مناتے ہی ہیں ہر سال لیکن ہر 14 اگست کے دن یہ عہد بھی کرتے ہیں ہم اپنے پاک وطن کے لئے ہر لمحہ ہر وقت اس کی ناموس کی حفاظت کے لئے کھڑے ہیں اللّه پاک اس ملک خداداد کی تا قیامت حفاظت فرمائے۔
    پاکستان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    سید عمیر شیرازی
    ‎@SyedUmair95