Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر:  زہراء مرزا

    ایک شعبہ جو نظرانداز ہوتا ہے . تحریر: زہراء مرزا

    ماہ آزادی کے آتے ہیں وطن عزیز کے طول و عرض میں فضا عجب رنگ اوڑھ لیتی ہے. گھروں کی چھتوں اور بازاروں میں جھنڈے. ہر ہر نکڑ پر ملی نغموں کی گونج اور ہر ہر زباں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے. بلاشبہ آزادی ایک نعمت ہے. اور نعمت کا چشن منانا حکم خدا ہے. ماہ اگست کے آتے ہی ٹی وی، ریڈیو، اخبارات میں وطن عزیر کا نام روشن کرنے والوں کی خدمات کو سراہا جاتا ہے. کہیں ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر پہرہ دینے والے جری جوانوں کے حوالے سے بات چیت ہوتی ہے تو کہیں علم و ادب میں اپنا لوہا منوانے والے پاکستان کے درخشندہ ستاروں کا تذکرہ ہوتا ہے. کہیں کھیل کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کے نام سے شامیں سجائی جاتی ہیں. کہیں سیمینار اور کہیں مشاعرے.

    ان سب کے پیچ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو مسلسل نظرانداز ہوتا آیا ہے. وہ طبقہ مصوروں کا ہے. پاکستان کے مصور اپنے فن پاروں کی بنیاد پر پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں، پاکستان میں ایسا ایسا سکیچر موجود ہے جو اپنے فن میں یکتا ہے، اردو عربی کیلی گرافی میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں. ایسا بھی نہیں کہ ان آرٹسٹوں نے پاکستان کے لیے کچھ نہیں کیا. یہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایسے ایسے فن پارے تخلیق کرتے ہیں کہ یوم آزادی کی تقریبات کے سیٹ کا تھیم بنا دیتے ہیں. ان کی بنائی گئی پینٹنگز پاکستان میں جگہ جگہ استعمال ہوتی ہیں.
    ان کے ہاتھ سے لکھا گیا دل دل پاکستان سب کی دیواروں پر سجتا ہے. ان کے ہاتھوں سے پاکستان کے قدرتی مناظر کی پینٹنگز دنیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے. یہ لوگ وطن عزیر کے زرخیز ترین دماغ ہیں. مگر افسوس کہ ان کی تخلیق کردہ سیٹ پر دیگر شعبہ جات سے آنے والے لوگ کسی آرٹسٹ کے لیے دن تعریفی بول نہیں بولتے.

    پاکستان میں جب شہروں کو خوبصورت بنانے کی بات چلی تو ان مصوروں نے اپنے فن کے رنگ شہروں کی دیواروں پر ایسے بکھیرے کے دیکھنے والے عش عش کر اٹھے. میٹرو سٹیز کی وہ دیواریں جہاں عجیب و غریب قسم کے اشتہار چسپاں ہوتے تھے انہیں دیدہ زیب بنایا. اپنے ملک کی تہذیب و ثقافت کو نمایا کرنے والوں میں سب سے بڑا حصہ مصوروں کا ہے. لوگ ان کے خیال سے پاکستان کو جانتے ہیں. ہم آزادی کی خوشیاں منائیں، جی بھر کر منائیں، جہاں پاکستان کے باقی تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی خدمات کو سراہتے ہیں ان آرٹسٹوں کو بھی سراہا جائے. خوبصورت سیٹ، عمدہ تصویر، بہترین تحریر اور لاجواب تخیل کو جہاں داد دیں وہیں. ایسے سیٹ، تصویر،. تحریر اور تخیل کے موجد کو یاد رکھیں. کیونکہ پاکستان کے لیے ان کی بہت سی خدمات ہیں. ان کا بہت سا حصہ ہے.

    @zaramiirza

  • سبز موتیا . تحریر : سید منعم فاروق

    سبز موتیا . تحریر : سید منعم فاروق

    عام طور پہ آنکھ کے دو طرح کے امراض ایسے ہوتے ہیں جو ہرخاص و عام میں کافی مقبول ہیں، ان میں ایک سفید موتیا جبکہ دوسرا کالاموتیا کہلاتا ہے، ان بیماریوں میں آنکھ کے آگے ایک جالا سا بن جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو دھندلا دکھائی دیتا ہے، ان امراض میں سائنسی ترقی کی وجہ سے کافی حد علاج ممکن ہے اور لوگ معمولی سےآپریشن سے بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں ، راقم نے تحقیق کی بنیاد پر ایک نئے موتیئے کی تشخیص کی ہے جس کو "سبز موتیا” کا نام دیا ہے، اس بیماری میں سبز رنگ مملکت پاکستان جبکہ موتیا ایسے جالے کو ظاہر کرتا ہے جو پاکستان میں ہونے والی ہر مثبت چیز کو دیکھ کر کچھ لوگوں کی آنکھ میں آ جاتا ہے اور انکو تکلیف ہونے کے ساتھ ساتھ انکی بینائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بیماری ان لوگوں پہ ذیادہ جلدی حملہ آور ہوتی ہے جن کی نظریہ پاکستان سےلے کر پاکستان کے معماروں کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کے بارے معلومات بھی ناکافی ہوتی ہیں۔ لیکن ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تمام معلومات رکھتے، سمجھتے، بوجھتے ہوئے بھی سبز موتیا کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انکی آنکھوں پر کچھ نوٹوں کی پٹی باندھ دی جاتی ہے، اس کالم میں ہم سبز موتیا کے شکار مریضوں کی اقسام اور انکے علاج کے بارے میں بتائیں گے۔

    سب سے پہلے بات کی جائےکہ سبز موتیا کے شکار کون کون سے لوگ ہیں تو ان میںسب سے پہلا نام لنڈے کے دانشوڑ، دیسی لبرل، کچھ صحافی،اورکچھ سیاستدان بھی آتے ہیں، بیوروکریسی اور حکومتوں کے ساتھ جڑے ہوئے کچھ لوگ بھی اس مرض کا شکار نظر آتے ہیں، سبز موتیا کے مریضوں کوپہچاننے کا سب سے اہم طریقہ یہی ہوتا ہے کہ ان کے سامنے پاکستان کے بارے میں مثبت بات کی جائے، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی بات کی جائے یا پاکستان کے اداروں کی تعریف کی جائے تو ان کے پیٹ میں اسی وقت مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں ، ان کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں ۔ آج کل کے دور کی مثال لے لیں، اگر آپ کو ان مریضوں میں سے کسی کی پہچان نہیں ہو رہی تو اس کے سامنے پاکستانی افواج یا قومی سلامتی کے اداروں، چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری، بھارت اور دیگر ممالک کی پاکستان کے خلاف سازشیں یا پاکستان کو لوٹنے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر کے دیکھیں، فورا جس شخص کے تاثرات، جذبات، حرکات و سکنات اور علمیات بدلتا دیکھیں تو فورا سمجھ جائیں کہ یہ شخص بھی حالیہ وباءسبز موتیا کا شکار ہے۔

    قارئین ہم نے مرض کی بھی بات کر لیاور مریض کی تشخیص کی بھی بات کر لی، اب اگر بات کی جائے ایسے مریضوں کے علاج کی تو اس کے لیئے کیا کیا جائے؟ تو سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ اس مرض کا ایک ہی حل ہے وہ ہے سچ، اور اس مرض سے بچنے کا ایک ہی پرہیز ہے اور وہ ہے جھوٹ اور جھوٹے پراپیگنڈے سے بچنا۔ اگر آپ کو اپنی قوم ، اداروں، اور بین الاقوامی سازشوں کے بارے میں سچائی کا علم ہے اورآپ دشمن کے اور اسکے آلہ کاروں کے جھوٹے پراپیگنڈے کا شکار نہیں ہو رہے تو مبارک ہو، آپ کو یہ مرض نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان قدرتی عوامل کے علاوہ ایک اور بہت بڑی عادت ہے جو آپ کو اس مرض کا شکار کر سکتی ہے اور وہ ہے پیسہ کی بھوک، لالچ اور ہوس اگر کسی انسان کو ان معاشرتی بیماریوں میں سے کسی ایک کی بھی لت لگ چکی ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ بھی سبز موتیے کا شکار ہو جائے ۔ اور راقم جب یہ الفاظ تحریر کر رہا ہے تو اسکے ذہن میں اور وہ یہ امید کرتا ہے کہ پڑھنے والوں کے اذہان میں بھی وہ تمام چہرے گردش کر رہے ہونگے جو سبز موتیئے کا شکار ہیں، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سچے پاکستانی کو اس مرض کے قریب بھی نہ جانے کی توفیق عطا فرمائیں اور اس مرض کے شکار مریضوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائیں تاکہ پاکستان دشمن کی سازشوں سے پاک ہو کر ایک پھلتا پھولتا، ترقی کرتا اسلامی مملکت بن جائے ۔

    لکھاری: سید منعم فاروق
    شہر : اسلام آباد
    تعارف: سید منعم فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف اداروں کے ساتھ فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا، کرنٹ افیئرز اور کھیلوں کے موضوعات پر ذیادہ لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ کے لیئے انکا ٹویٹر اکاونٹ: https://twitter.com/Syedmunimpk

    Introduction: Syed Munim Farooq is Islamabad based freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums since 2012. His major areas of interest are Current Affairs, Digital Marketing, Web media and Journalistic affairs. He can be reached at Twitter: https://twitter.com/Syedmunimpk

  • کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    کرونا اور آجکل کے طالب علم . تحریر : نعمان سرور

    جب سے کرونا کی وبا آئی ہے تب سے تعلیم پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑا ہے دنیا بھر میں سکول،یونیورسٹیاں اور دیگر تمام ادارے بند کر دئیے گئے، امتحانات منسوخ کر دئیے گئے اور کئی ممالک میں وبا کے پہلے سال طلباء کو اگلی کلاس میں بھیج دیا گیا پھر جب یہ دیکھا گیا کے یہ وبا اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں ہے تو دنیا نے اس کے ساتھ جینے کا فیصلہ کیا اور ایسے طریقے اختیار کئیے گئے کے روز مرہ کے معملات کاروبار،نوکریاں، تعلیم اور دیگر معملات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے۔

    دنیا ٹیکنالوجی پر منتقل ہوگئی مختلف قسم کے نئے سوفٹ وئرز بنائے گئے جن سے آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا گیا، کاروبار اور دیگر چیزوں کے لئے بھی کئی ایپس مارکیٹ میں آ گئیں اور لوگ ان کا استعمال کرنے لگے جس کی وجہ سے جو خلا بنا تھا کافی حد تک ُپر ہوگیا، دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔

    پاکستان میں بھی یہی کیا گیا اور بچوں کو آن لائن پڑھانے کے ساتھ ان کے پیپر بھی آن لائن لئے گئے جس میں چار چار سٹوڈنٹس نے مل کر خوب نقل کی اور ہر کسی نے اچھے نمبر لئے اور آجکل کے زیادہ تر بچے ویسے ہی محنت کرنے کے عادی نہیں تو انہوں نے کرونا کو غنیمت جانا اور نمبروں پر خوب ہاتھ صاف کئے۔

    لیکن مسئلہ اسوقت ہوتا ہے جب شفقت محمود نے یہ اعلان کیا کے اب کوئی امتحان آن لائن نہیں بلکے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے سب امتحان کمرہ امتحان میں لئے جائیں گے تو ان بچوں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا وہ بچے جو سارا دن بازاروں میں پھرتے تھے،کرکٹ کھیلتے تھے انہیں اب کرونا سے ڈر لگنے لگا۔

    وہ بچے جو سارا دن پب جی کھیل کھیل کر موبائل کے انٹرنیٹ اور بیٹری کا بیڑا غرق کرتے تھے انہوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان میں نیٹ ہی نہیں چلتا ہماری تیاری نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر یہ مسئلہ واقعی تھا لیکن پورے پاکستان کے بچے حکومت اور تعلیمی اداروں کو بلیک میل کرنے لگے،ٹویٹر پر روزانہ کی بنیاد پر ٹرینڈز کئیے جانے لگے اور وہ شفقت محمود جو کبھی ان کی آنکھوں کا تارا تھا وہ اب ولن بنا گیا تھا سب بچے اس کی جان کے پیچھے پڑ گئے تھے یہ وہ بچے تھے جو اپنے آپ کے ساتھ اپنے ماں باپ کو بھی دھوکا دینے میں مصروف تھے جن کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد انہیں خود بھی نہیں معلوم، ان بچوں نے ٹویٹر پر ایک ایک دن میں 4،4 لاکھ ٹویٹس کئیے اور اس میں ہر قسم کی تصاویر،میمز،وڈیوز کا استعمال کیا سوال یہ بنتا ہے کے وہ بچے جو چند میگا بائٹس کے پی ڈی ایف ڈاکومنٹس ڈاؤنلوڈ کرنے میں مشکلات کا شکار تھے جن کی تعلیم انٹرنیٹ نہ ہونے سے بقول ان کے رک گئی تھی اب ان کے پاس اتنا تیز نیٹ کیسے آ گیا تھا ؟

    جواب یہ ہے کے نیت خراب تھی اور سستی دماغ پر سوار تھی پھر ان بچوں نے اپنے آپ کو یہاں نہ روکا بلکے عملی احتجاج بھی شروع کیا کئی جگہ مار پیٹ کی یہ اپوزیشن کو دیکھ کر شاید یہ سمجھ رہے تھے کے ایسا کرنے سے امتحان ملتوی ہو جائیں گے لیکن ان کی کوئی بات ان کے کام نہ آئی افسوس کا مقام یہ ہے کے اپوزیشن اور ملک بھر کے موقع پرست کئی لوگوں نے ان کو استعمال کیا اور بل آخر بات یہی طے ہوئی کے امتحان تو دینے ہونگے۔

    ہماری نوجوان نسل کو بے شک وقتی طور پر بہت تکلیف ہوگی اور ان کا دل بھی نہیں چاہے گا پڑھنے کا لیکن اگر آپ نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو آپ کو ہر معاملے میں اپنے آپ کو وقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ایسے اگر پاس ہو بھی جاتے ہیں تو یاد رکھیں صرف ڈگری کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے یہ وقتی طور پر آپ کو اچھا لگے گا سہل لگے گا لیکن یہ اصل میں آپ کے لئے نقصان ہے۔

    دوسرا شفقت محمود اور حکومت کو اس پر داد ہے کے وہ ان کے پریشر میں نہیں آئے حالانکہ ان سب کو دوبارہ پاس کرکے کے ایک مقبول فیصلہ کر سکتے تھے لیکن حکومتوں کا کام مقبول ہونا نہیں ہوتا بلکے اپنی قوم کی بہتری دیکھنی ہوتی ہے اگر سب کو بغیر امتحان یا نقل والے آن لائن امتحان میں پاس کر دیتے تو ان طالب علموں کے ساتھ زیادتی ہوتی جو محنت پر یقین رکھتے ہیں جنہوں نے تین مہینے ٹویٹر پر ٹرینڈ نہیں کئے بلکے پڑھائی کی۔

    حکومت سے یہ اپیل ہے کے ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کے مسائل واقعی میں موجود ہیں ان کو حل کیا جائے بچوں کو فیسوں میں رعایت دی جائے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو انٹرنیٹ کی مد میں پیسے دئیے جائیں اور ان کی مدد کی جائے لیکن امتحانات پر کوئی سودے بازی نہیں ہونی چاہیے بے شک آدھی کتابوں کے امتحان لیں لیکن یہ تعلیمی نظام کی بقا کے لئے ضروری ہے۔

    انسانی تاریخ کا یہ ایک مشکل وقت ہے دنیا میں پہلے بھی کئی وبائیں گزر چکی ہے لیکن اس نسل نے یہ پہلی وبا دیکھی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنےکے احتیاطی تدابیر کے ہماری نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے نے اس کی موقع غنیمت بنایا، اللہ تعالی جلد اس وبا سے ہماری جان چھڑائے اور ہماری نوجوان نسل کو ہدایت دے آمین

    @Nomysahir

  • بیرون ملک پاکستانی کو ووٹ کا حق   تحریر چوہدری عطا محمد

    بیرون ملک پاکستانی کو ووٹ کا حق تحریر چوہدری عطا محمد

    ‏ ‏اگر آپ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں اور اگر آپ کا تعلق ابھی ن لیگ یا پیپلزپارٹی سے ہے، تو اب سوشیں ضرور ن لیگ اور پیپلز پارٹی جس نے صرف ہمارے پاکستان بھیجے ہوۓ پیسے سے پیار کیا ہے وہ دونوں جماعتیں آج ہمارے بنیادی حق ہمارے ووٹ والے بل کی مخالفت کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں ہمیں ملکی حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں
    محب وطن اوررسیز پاکستانیوں انشاءاللہ وزیر اعظم عمران خان یہ حق دلایں گے اور ہم 2023کے الیکشن میں ان دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے ووٹ کے زریعے بتائیں گے کہہ ہمیں ملکی حالات معشیت اور ملکی سیاست کے بارے میں معلوم ہے یا نہیں

    اوورسیز پاکستانی سیاست کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے اوپر لوکل سیاسی پارٹیوں کے پالے ہوۓ بدمعاشوں اور پولیس اور پٹواریوں کا دباؤ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم قیمہ والے نان اور بریانی کی پلیٹ کا لالچ ہوتا ہے جناب سیاست اگر خدمت اور حبُ الوطنی کا نام ہے تو اورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۰اور اگر منی لانڈرنگ جھوٹ، کرپشن کمیشن مکروفریبی اور مُلک لوٹ کر لندن اور جدہ میں چُھپنے کا نام ہے تو وہ آپکے اوورسیز نواز شریف کو ہی مبارک ہو۰

    اوورسیز پاکستانیوں کے کیا صرف پیسے ہی چائیے جناب آپ کو صرف یہی چائیے کہ ہم پیسہ بھیجتے رہیں اور آپ اس پیسے سے عیاشی کرتے رئیں منی لانڈرنگ کرتے رئیں لطف اندوز ہوتے رئیں
    آپ لو ہم سے اور کچھ نہیں چائیے

    جناب احسن اقبال سمیت ن لیگ اور پیپلز پارٹی سن لیں ہم اوورسیز پاکستانی پاکستان کے تمام مسائل سے مکمل آگاہ ہیں ہمیں پاکستان سے اس لئے بھی محبت زیادہ ہے کیونکہ ہم یہاں پر پردیسی ہیں جہاں ہم ہیں ہمیں وہاں وطنی نہیں خارجی کہتے ہیں اس لئے ہمیں پاکستان سے پاکستان میں رہینے والے کی بنسبت زیادہ پیار ہے جناب ہمارا دل تو پاکستان کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ہم پاکستان کے تمام تہوار زیادہ جوش و جزبہ سے ادھر ہر سال مناتے ہیں
    ہمارا کون سااتنا بڑا قصور ہے کہہ ہمیں ہمارا بنیادی حق ووٹ ڈالنے کا حق بھی نہ ملے کیوں احسن اقبال صاحب کیوں کیا اوورسیز صرف اس لئے ہیں کہہ جب تک جسم میں جان ہے ہم پیسہ کمائیں پاکستان بھیجیں جب جسم سے جان نکل جاۓ تو ہمیں بس پاکستان میں دفن ہونے کی ہی اجازت ہو

    کیا کہوں کیسے یہ سب آپ کر لیتے ہیں دوہرا معیار آپ کو یاد کراؤ آپ کا لیڈر نواز شریف اور اسکے بچے بھی سب اوورسیز ہیں آپ سب کے بچے چھٹیاں منانے پڑھائی کرنے سب بیرون ملک ہی جاتے ہیں

    اسحاق ڈار اوورسیز میں رئیتے ہوۓ ملک کے ایوان بالا میں سینٹر منتخب ہو سکتا ہے
    محترمہ کلثوم نواز صاحبہ لندن میں بیماری کی حالت میں دوران علاج ہسپتال کے بیڈ سے لاہور سے الیکشن جیت کر ایم این اے منتخب ہو سکتی ہیں

    لیکن جو ہم مخنت و مزدوری کر کے حق حلال کی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں ہمیں ووٹ ڈالنے کا بھی حق نہیں یہ ہمارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے یہ ہماری توہین ہے جو ن لیگ اور احسن اقبال نے کی ہے کہہ ہمیں ملکی حالات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں

    انشاءاللہ ہم اورسیزز پاکستانی یہ بات یاد رکھیں گے بھولیں گے نہیں کہہ کون ہمیں ووٹ کا حق دلانا چائیتا ہے اور کون کون ہمیں ہمارے بنیادی حق سے محروم رکھنا چائیتا ہے
    احسن اقبال صاحب کیا پاکستان پر ہمارا بھی اتنا ہی حق نہیں ہے جتنا پاکستان میں رئینے والے ہمارے بہن بھائیوں کا ہے
    ہمیں مُلکی حالات کا سب پتہ ہے تبھی تو خان کے ساتھ کھڑے ہیں۰

    اللہ تمام بیرون ملک پاکستانیوں سمیت امت مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • آنکھوں کی حفاظت کے چند بنیادی اصول۔ تحریر: ناصرہ فیصل

    آنکھوں کی حفاظت کے چند بنیادی اصول۔ تحریر: ناصرہ فیصل


    آنکھیں ایک عظیم تحفہ خداوندی ہیں۔ انکی حفاظت کرنا ہم سب پر فرض ہے۔انکھوں کی اہمیت وہی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ انکھوں کی حفاظت ایک روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔۔ ہم اپنی غذا کے ذریعے بینائی کو زیادہ لمبے عرصے تک ٹھیک رکھ سکتے ہیں اور آنکھوں کا باقاعدہ چیک اپ بھی ہماری روٹین کا حصہ ہونا چاہیے ۔اس سے ہم انکھوں میں پیدا ہونے والی کسی بھی تبدیلی یا بیماری کے بارے میں بروقت جان سکتے ہیں اور اسکا علاج بروقت کرا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہم مندرجہ ذیل دی گئی چیزوں پر عمل کریں تو کافی بہتری آ سکتی ہے..

    1: مناسب مقدار میں وٹامنز اور منرلز اپنی روٹین کا حصہ بنائیں۔
    وٹامن اے،سی، ای اور منرل زنک میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو کہ میکلیولر انحطاط ((ایک ایسی کیفیت جس میں میکولا، آنکھ کا و حصہ جو درمیانہ نظر کو کنٹرول کرتا ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے)) کو روک سکتے ہیں۔
    اسکے لیے جو غذائیں استعمال کرنی چاہیے وہ یہ ہیں:
    گاجر، سرخ مرچ، بروکلی، پالک، سٹرا بیریز، شکر قندی، تُرش پھل۔
    وہ غذائیں جن میں اومیگا-3 فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں مثلاً سالمن اور فلیکس سیڈز ، بھی انکھوں کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔
    2: کیروٹینائڈز کو مت بھولیں_
    کچھ اور غذائی اجزاء بھی انکھوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔
    لوٹین اور زیکسانتھین جو کے ریٹنا میں پائے جانے والے کورٹنوئیڈز ہیں، بھی بہت مفید ہیں آنکھ کے لیے۔ سبز پتوں والی سبزیاں ، بروکلی، گھیا توری اور انڈے اسکا بہترین ذریعہ ہیں۔ لوٹین اور زیکسانتھین کو سپلیمنٹ کے شکل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

    3: صحت مند رہیں!
    ورزش کرنا اور ایک صحت مند وزن قائم رکھنا بھی ناصرف آپ کی موٹاپے کے لیے بلکہ آنکھوں کے لیے بھی بہترین ہے۔ ذیابیطس کی ٹائپ2 ، جو کہ ایسے لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو بہت موٹے ہوتے ہیں ، کی وجہ سے آنکھ کی انتہائی نازک شریانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسکو ذیابیطس رٹنو تھیراپی کہتے ہیں۔ خون میں بہت زیادہ شوگر کی مقدار سے آنکھ کی ان نازک شریانوں کو زخمی کر سکتی ہیں۔ ذیابیطس ریٹنو تھیراپی ،آپ کے ریٹنا میں موجود بہت چھوٹی خون کی شریانوں کو نقصان پہونچا کر آپ کے ریٹنا میں خون کے اخراج کا باعث بن سکتی ہے جس سے آپکی نظر میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

    اپنے آپ کو فٹ رکھیے اور باقاعدگی سے خون میں شوگر لیول چیک کرواتے رہنے سے آپ خود کو اس مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    3: دائمی قائم رہنے والی بیماریوں کا دھیان رکھیں!

    صرف ذیابیطس ہی ایک ایسی بیماری نہی ہے جس سے آنکھ کو نقصان ہو بلکہ کچھ اور بیماریاں بھی ہیں،جیسے بلند فشار خون اور ملٹیپل سکلوروسز جیسی بیماریوں میں بھی انکھوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔۔ان حالات میں دائمی سوزش کا بہت امکان ہوتا جو کے آپکی صحت کو سر سے پاؤں تک نقصان پہنچا سکتی ہے۔آپٹک ورید کی سوزش آپکی بینائی کو نہ صرف نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ بینائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے۔
    اس طرح کی بیماریوں کو آپ اچھی خوراک اور ورزش سے روک سکتے ہیں۔۔

    4: انکھوں پر حفاظتی چمشمہ ضرور پہنیں۔

    جب بھی آپ کوئی باہر کی فضا میں کھیل کھیلیں، کوئی سائنس کا پروجیکٹ کریں لیبارٹری میں، یا اپنے گھر میں ہی کوئی مرمت کا کام کر رہے ہوں ،اپنی آنکھوں کی حفاظت کے لیے ضرور حفاظتی چشمہ پہنیں۔

    اس میں دھوپ سے حفاظت کے دھوپ والے چشمے بھی شامل ہیں کیونکہ وہ صرف ہمیں خوبصورت دکھنے کے لیے نہیں ہوتے، وہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاؤں سے بھی ہماری حفاظت کرتے ہیں جو کہ ہماری آنکھوں کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔
    ایک بڑا سا ہیٹ جسکے کنارے خوب چوڑے ہوں وہ بھی دھوپ سے بچت کر سکتا ہے۔

    6: 20-20-20 رول کو فالو کریں.

    آنکھیں دن کے دوران بہت کام کرتی ہیں اس لیے وقتاً فوقتاً انکو آرام دینا ضروری ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو آپکی انکھوں پر بہت ذیادہ دباؤ پڑتا ہے اسکے لیے 20-20-20 رول استعمال کریں۔
    اسکا مطلب ہے ہر 20 منٹس بعد ، 20 فیٹ دور ، 20 سیکنڈز تک دیکھیں۔

    7: تمباکو نوشی سے پرہیز کریں!

    ہم سب کو پتہ ہے تمباکو نوشی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے۔ یہ ہمارے دل، پھیپھڑوں، جلد، بال, دانتوں اور تقریباً پورے جسم کے لیے ہی نقصان دہ ہے۔ انکھوں کے لیے بھی یہ بہت نقصان دہ ہے۔
    خوش قسمتی سے جونہی آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں آپ کا جسم آہستہ آہستہ اسکے اثرات سے خود کو پاک کرنا شروع کر دیتا ہے۔

    8: اپنی موروثی آنکھ کی بیماریوں کے بارے میں جان لیجئے!
    کچھ آنکھ کی بیماریاں موروثی بھی ہوتی ہیں۔جو آپ کے والدین کے ذریعے آپ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اُن سے بچنے کی احتیاط آپ پہلے ہی کر سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں، گلوکما، ریٹینل ڈیجنریشن، عمر سے متعلق میکیولر ڈیجنریشن، آپٹک اٹروفی۔

    9: اپنے ہاتھوں اور لینسز کو صاف رکھیں۔۔
    آنکھوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے انکو اچھے سے دھو لیں۔ اسی طرح لینسز کو بھی اچھے سے صاف کر لیں۔ ہاتھوں اور لینسز کو اچھے سے جراثیم سے پاک ضرور کر لیں۔۔

    اگرچہ آپ کو ہاتھوں کا دھونا، سبزیوں کا استعمال اور اپنے وزن کا خیال رکھنا ، انکھوں کے ساتھ عجیب لگ رہا ہو، لیکن یہ آنکھوں کے لیے بہت ہی اہم ہیں اسلئے ان تمام چیزوں کا دھیان رکھیں اور اپنی آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال کریں۔

    قدر کرو خدارا ان کی لوگو _
    کیونکہ آنکھیں بڑی نعمت ہیں

    ‎@NiniYmz

  • ‏اپنے وائی فائی Wi-Fi کو ہیک ہونے سے کیسے بچائیں   تحریر :- مدثر حسین

    ‏اپنے وائی فائی Wi-Fi کو ہیک ہونے سے کیسے بچائیں تحریر :- مدثر حسین

    باغی ٹی وی پہ لکھے گئے میرے گزشتہ کالم میں اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے طریقوں اور ہیکرز کے طریقہ وادرات سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی تھیں. آج آپ جانیں گے کہ آپ اپنے وائی فائی Wi-Fi کے پاسورڈ کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں
    جب اپ اپنے موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ کو کسی وایی فایی Wi-Fi کنکشن سے جوڑتے ہیں تو وہ آپ سے پاسورڈ کا تقاضا کرتا ہے اور درست پاسورڈ لکھنے پہ آپ کا کنکشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے. جب آپ پاسورڈ لکھ کر اپنے موبائل فون کو راؤٹر یا موڈیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو راؤٹر آپ کے لکھے گئے پاسورڈ کو authentication packets میں تبدیل کر کے چیک کرتا ہے اور اس راؤٹر میں ترتیب دیے گئے پاسورڈ کو پرکھتا ہے اور پاسورڈ درستگی کی تصدیق ہونے پہ راؤٹر دوبارہ Authentication packets اپ کے موبائل فون کو بھجتا یے جس میں وائی فائی تک رسائی کا اجازت نامہ ہوتا ہے.
    ہیکرز ان packets تک رسائی حاصل کر کے، راؤٹر میں ترتیب دیا گیا پاسورڈ معلوم کر لیتے ہیں، نہ صرف معلوم کر لیتے ہیں بلکہ تبدیل بھی کر لیتے ہیں.
    پیکٹس کے وصول ہونے پہ ان کو اعداد اور الفابیٹس میں تبدیل کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل ترین کام ہے. ہیکرز اس سلسلے میں خاص قسم کا اوپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں جو ان پیکٹس کو نمبروں اور الفابیٹس میں ظاہر کر دیتا یے. Decoding /in coding…
    اگر اپ کا پاسورڈ صرف نمبروں میں ہے تو بہت ہی کم وقت میں آپ کا پاسورڈ پیکٹس سے تبدیل ہو کر نمبروں میں ظاہر ہو جائے گا. اور اگر اپ کا پاسورڈ صرف الفابیٹس میں ہے تو پھر بھی بہت ہی کم وقت میں آپ کا پاسورڈ ہیکرز کی سکرین پہ نمودار ہو جائے گا. اگر اپ اپنے پاسورڈ میں الفابیٹس کے ساتھ ساتھ نمبرز بھی لکھتے ہیں تو اپ کا پاسورڈ معلوم کرنے کے لیے ہیکر کچھ وقت درکار ہو گا، آدھا گھنٹہ سے ڈیڈھ گھنٹہ تقریبا.
    وایی فائی Wi-Fi ہیکنگ کے دوسرے طریقے میں packets تک رسائی حاصل کر کے انہیں ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم میں عارضی طور پہ محفوظ کیا جاتا یے اور پھر ایک طویل فہرست پہ مشتمل ڈکشنری کو اس اوپریٹنگ سسٹم میں چلایا جاتا ہے جو یکے بعد دیگرے اس ڈکشنری میں موجود تمام الفاظ کو ان پیکٹس کے ساتھ جوڑ کر چیک کرتی جاتی ہے. جتنا اچھا سسٹم ہوگا اتنی ہی اس عمل کی رفتار بھی تیز ہو گی. عام طور پہ ان ڈکشنریز میں دنیا بھر کے لوگوں کے نام، شہروں اور ملکوں کے ناموں سے لیکر ہماری روز مرہ استعمال کی تمام چھوٹی سے چھوٹی اشیاء تک کے نام درج ہوتے ہیں اور ہر ایک نام بہت سارے مختلف طریقوں سے الفابیٹس کی ترتیب کو بدل کر لکھا گیا ہوتا ہے. مثلا islamabad123 کی جگہ اس کے الفابیٹس درست لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ الٹے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ شارٹ بھی لکھا ہوا ہو سکتا ہے. یہ طریقہ سسٹم کی رفتار پہ منحصر ہے اس اوپریٹنگ سسٹم میں آپ کے پاسورڈ کے الفابیٹس کو ترتیب سے جوڑ کر چیک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جلد یا بدیر اپ کا پاسورڈ ہیکر کو معلوم ہو ہی جاتا ہے اگرچہ وہ نمبروں اور انگریزی الفابیٹس پہ ہی مشتمل کیوں نہ ہو.
    ایسی صورت میں اپنے پاسورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے اپنے پاسورڈ میں الفابیٹس، نمبرز اور علامات بھی درج کریں کیوں کہ ڈکشنری علامات کو پرکھنے اور ترتیب دینے کے عمل سے عاری ہوتی یے (کسی حد تک). مثلا اگر آپ کا پاورڈ islamabad$%124 یے تو عین ممکن یے کہ ڈکشنری میں یہ علامات اسی ترتیب کے ساتھ موجود نہ ہوں اور آپ کا پاسورڈ میچ ہونے سے بچ جائے اور ہیکرز کو اپ کا سکرین پہ نظر نہ آئے.
    تا ہم اچھے راؤٹرز پیکٹس محفوظ رکھنے کے حوالے سے بہت مفید کام کرتے ہیں وہ ہیکرز تک ہیکٹس ہی نہیں پہنچنے دیتے. اور ایک نمبروں، الفابیٹس اور علامات پہ مشتمل پاسورڈ ڈکشنریز میں مماثلت رکھنے یعنی میچ ہونے سے بچ جاتا ہے.

    ‎#mudassiradlaka

  • کے الیکٹرک کی سیلف پرچیز اسکیم بھتہ خوری ہے!  تحریر عقیل احمد راجپوت

    کے الیکٹرک کی سیلف پرچیز اسکیم بھتہ خوری ہے! تحریر عقیل احمد راجپوت

    شہر کے بیچوں بیچ کے الیکٹرک کی بھتہ گیری جاری ہے عوام کو اوور بلنگ کے ذریعے لوٹنے والا کراچی الیکٹرک سپلائی کا واحد ادارہ کے الیکٹرک عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا
    کے الیکٹرک کی سیلف پرچیز اسکیم کے نام پر عوام کو لوٹنے کی گھناؤنی سازشوں کا انکشاف ہوا ہے جہاں شہر کے نئے تعمیر ہونے والے فلیٹ آبادکاریوں کو پی ایم ٹی وائر اور پول میٹر کی مد میں کروڑوں روپے الاٹیز سے وصول کرنے کا مکروہ دھندا عروج پر پہنچ چکا ہے ایک غریب انسان پوری زندگی کی جمع جوڑ کے بعد جب اپنے پلاٹ کی تعمیر کا پیسہ جمع کر کے اسے بنانا شروع کرتا ہے اور کے الیکٹرک کو نئے میٹر کی درخواست دیتا ہے تو اسے سسٹم نا ہونے کا بہانا بنا کر واپس کردیا جاتا ہے اور پھر سیلف فنانس کے نام پر عوام سے لاکھوں روپے لیکر وہاں سسٹم کی انسٹالیشن کی جاتی ہے زرائع کے مطابق کراچی شہر میں ایک 80 گز کے رہائشی مکان کا میٹر عام عوام کو 44 ہزار روپے دینے کے بعد لگائے جانے کا انکشاف عوامی حکومت کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے شہر کے درمیان میں جہاں کے الیکٹرک عوام کو سہولیات اور سروس دینے کا پابند ہے اور بجلی کا رہائشی کنکشن 8سے 10 ہزار میں لگایا جاتا ہے وہی کنکشن 44 ہزار روپے بھتے کے عوض لگانا عام عوام کی حق حلال کی کمائی پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے حکومت اور وفاقی وزیر حماد اظہر اس معاملے کی فوری انکوائری کا حکم دیکر عوام سے 200 گناہ زیادہ پیسہ لینے والی نااہل الیکٹرک سپلائی کمپنی کو لگام دیں اور لوگوں کی جیبوں سے لوٹنے والا اربوں روپیہ عوام کو واپس لوٹائیں ورنہ عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ یہ سب وفاقی حکومت کے ایماء پر کیا جارہا ہے اور اس کام میں حکومتی سطح پر بھی کمیشن وصولی جاری ہے ریاست مدینہ کے دعویدار حکمران یہ ظلم اور زیادتیاں دیکھ اور جان کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تو ان کو ریاست مدینہ کا نام استعمال کرنے سے پہلے ایک ہزار مرتبہ سوچنا چاہئے کیونکہ ریاست مدینہ ایک فلاحی ریاست کا نام ہے ناکہ عوام کی ضروریات زندگی کی استعمال ہونے والی چیزوں پر بھتہ خوری کرنے والی ریاست کا وزیر اعظم کے معاون خصوصی تابش گوہر کو اس بارےمیں بتانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو سیلف پرچیز پی ایم ٹی اسکیم سے بخوبی واقف ہونگے عوام پر کیا جانے والا یہ ظلم کون روکے گا نہیں معلوم مگر ہم اپنے قلم کے ذریعے آواز حق بلند کرتے رہیں گے تاکہ حکمرانوں کے کان پر جوں رینگے اور وہ عوام کی فلاح کے کاموں پر بھی توجہ دیں

  • قلم تلوار سے ذیادہ طاقتور ہے   تحریر : علی حیدر

    قلم تلوار سے ذیادہ طاقتور ہے تحریر : علی حیدر

    تاریخ عالم کے ادوار کا پرغور مطالعہ کرتے ہوئے اگر انسانی ذندگی پر تلوار اور قلم کے اثرات کا موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تلوار نے سوائے انسانی تاریخ کے صفحات کو خون سے رنگنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جبکہ علم و قلم نے انسانوں کے لئیے آگاہی کے دروازے کھولتے ہوئے ان کو کائنات کے رازوں سے آگاہ کیا جس کی بدولت انسان دوسری مخلوقات سے نہ صرف ممتاز ہوا بلکہ علم کے ذرئعے انسان طرح طرح کی ایجادات کر کے اپنی ذندگیوں میں انقلاب لا چکا ہے۔
    علم اور شعور کے فروغ اور نظریات و خیالات کے اشاعت کے لئیے قلم بنیادی اہمیت کی حامل ضروریات میں سے ایک ہے اس لئیے دور قدیم ہو یا ذمانہ جدید , قلم کی اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہوئی ۔
    جو چیز تلوار کے ذور پر نافذ کی جائے ایک دن اس کے خلاف بغاوت عمل میں ضرور آتی ہے اور وہ ذیادہ عرصے تک نافذ العمل نہیں رہ سکتی ۔
    انقلاب لانے کے لئیے قلم کا استعمال ایک ہتھیار کے مقابلے میں کئی گنا ذیادہ ہے اور قلم کے ذرئبعے لایا گیا انقلاب دیر پاء اور مؤثر رہتا ہے ۔
    تلوار کے ذریعئیے نافذ کئیے گئے قوانین کے تحت چلنے والے معاشرے بغاوت کی ذد میں آکر تباہیوں کا شکار ہو گئے ۔
    انسانی تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قلم کے ذور پہ لڑی گئی لڑائیاں فتح سے ہمکنار ہوئیں۔ اگرچہ یہ کام محنت طلب ہے لیکن جانی نقصان سے پاک انقلاب کا پر امن راستہ ہے ۔
    نظریات و عقائد غلط ہوں یا صحیح ان کو خون بہا کر ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ تحریر و تقریر سے مدمقابل کے ذہنوں کو بدل کر ان کو غلط اور صحیح کا ادراک کراتے ہوئے بہت بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ آگاہی اور شعور انسانی اذہان میں انڈیل کر باطل نظریات کا رد دلیل سے کرنا ہی عقلمندی ہے ۔
    دہشت اور خوف کی تھپیڑے سہنے والے اور انسانی خون سے استوار کردہ معاشرے کے باسی ذہنی طور پہ مفلوج ہوتے ہیں ۔
    اگر تاریخ عالم پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ارسطو و سقراط اور افلاطون کے نظریات کا رد آج تک نہیں ہو سکا کیونکہ انہوں نے قلم جیسے مؤثر ہتھیار کو اٹھا کر قوموں کی تاریخ اپنے ہاتھوں مرتب کی ۔ سقراط کو ذہر پلانے والے اس بات سے ناواقف تھے کہ سقراط نے اپنے قلم کے ذرئعیے جو نظریات لوگوں کے ذہنوں پہ نقش کر چھوڑے ہیں وہ کسی صورت نہیں اتر سکتے ۔ ارسطو اور سقراط نے قلم اور دلیل کو استعمال کرتے ہوئے جس معاشرے کی بنیاد رکھی وہ اتنی طاقتور بنیاد تھی کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ معاشرہ انہی بنیادوں پہ استوار نظر آتا ہے ۔

    قلم اور دلیل سے نافذ کئیے گئے نظریات کے مدمقابل جب ایک شریر و ظالم حکمران آتا ہے تو وہ دلیل سے دلیل کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی حزیمت کو مٹانے کے لئیے تلوار کا استعمال کرتا ہے ۔
    ایسے افراد سے بھی تاریخ بھری پڑی ہے لیکن ایسے افراد کے جبری قوانین کبھی قائم نہ رہ سکے ۔
    ہلاکو خان ہو , چنگیز خان ہو یا ایڈولف ہٹلر ہو , جس نے بھی تلوار کے ذور سے لوگوں کو دبا کر رکھنے کی کوشش کی وہ ذیادہ دیر تک اپنا تسلط قائم نہ رکھ سکے کیونکہ کچھ ہی عرصے میں ان کے خلاف مقبوضہ علاقوں میں وہ بغاوت دیکھنے کو ملی جس نے نہ صرف ان کی سلطنت کو تاراج کیا بلکہ خود ان کو بھی اپنے منطقی انجام تک پہنچا دیا ۔
    فروغ علم نہ صرف انقلابی تبدیلیاں لاتا ہے بلکہ ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے جو برابری و مساوات اور انصاف کے رہنماء ستونوں پر استوار ہوتا ہے۔
    جبکہ دوسری طرف جبری قوانین جو طاقت کے ذور پہ نافذ کئیے گئے ہوں ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں جو جرائم , بدامنی اور بد عنوانی کی آماجگاہ ہوتا ہے۔
    جہالت ایسے معاشرے کے افراد کی رگوں میں سرایت پزیر ہو جاتی ہے اور ایسے لوگوں کا رویہ انتقامی ہوتا ہے

    جدید دور کے دانشور اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ایک فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئیے علم بنادی عنصر ہے۔ علم کے بغیر قومیں ذوال پزیر ہو کر تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ جاتی ہیں۔
    حالیہ ذمانے میں باطل نظریات و عقائد کا رد طاقت کے ذور پر ممکن نہیں ہے بلکہ ٹھوس دلائل کی مؤثر اشاعت سے ہی باطل نظریات کو مٹا کر نئے معاشرے کی تشکیل کا بیج بوبا جا سکتا ہے ۔ اس کو تناور درخت بننے میں سالہا سال ضرور لگ سکتے ہیں لیکن یہ واحد راستہ ہے جو پائیدار اور دیرپا تبدیلیاں لا سکتا ہے ۔
    دور حاضر میں اسی بات پر ذور دیا جا رہا ہے کہ اپنی بات کو تشدد اور جبر کا راستہ اپنا کر منوانے کی بجائے قلم کا ہتھیار استعمال میں لایا جائے جس کے مدد سے پہلے خوابیدہ لوگوں کو جگا کر ان کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے اور پھر ان کو ایک تحریک کی صورت میں دلیل کے ذرئیعے اپنی بات منوانے پہ اکسایا جائے ۔

    ‎@alihaiderrr5

  • پاکستان اور سیاستدان  تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان اور سیاستدان تحریر:شمسہ بتول

    14 اگست 1947 سے لے کر اب تک اگر ملک پاکستان کے حق میں کوٸی صحیح معنوں میں مخلص رہا ہے تو وہ صرف قاٸداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے اس کے لیے دن رات جدوجہد کی تھی ۔ ان کے جانے کے بعد پاکستان کے مساٸل میں مزید اضافہ ہو گیا اور معاشی حالت ابتری کی طرف چلی گٸی اس کی بڑی وجہ تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم بھی تھی اور پھر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد قاٸداعظم کا اس دنیا سے چلے جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ اس کے بعد بہت سے سیاستدان آۓ جنہوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور مارشل لاء بھی لگے لیکن ملک کی حالت میں کوٸی خاص بہتری نہیں آٸی۔
    اور پھر کچھ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اور زاتی مفادات کی وجہ سے پاکستان ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور یوں پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں معاشی بدحالی اور معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ سیاسی عدم و استحکام ہے۔
    سیاستدانوں نے تقریباً ایک فیصد کام کیا اور ننانوے فیصد ملک کے وساٸل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔ سیاستدانوں کی طاقت کے غلط استعمال اور کرپشن اور سفارشات کی وجہ سے ہمارے قومی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے
    مگر ہم لوگوں نے کبھی سوال نہیں پوچھا کہ ہمارے وطن عزیز کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے والوں سے یا ہم نے کبھی ان کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاٸی بلکے خاموشی سے فقط اپنے کام سے غرض رکھی اور اس طرح ان کرپٹ سیاستدانوں کو شے ملتی رہی اور 74 سالوں سے یہ ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں.
    تعجب کی بات ہے کہ یہ سیاستدان حکمران بنتے ہی اپنے سارے فراٸض بھول جاتے جو کل تک یہ کہتے تھے کہ وہ پاکستانیوں ہمیں ووٹ دینا ہم آپ کے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے آپکے مسائل حل کریں گے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھول جاتے کہ عوام بھی کوٸی شے ہے یا ان کے اس ملک کے زمے کچھ فراٸض ہیں بلکہ وہ تو جس سڑک سے گزرنا ہو وہاں پہ رکاوٹیں کھڑی کروا دیتے کہ یہاں سے عوام نہ گزریں کیونکہ ہم نے گزرنا ہے اس ملک کے اثاثوں اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی عیش و عشرت پہ اڑا دیتے
    اپنے بچوں کو باہر کے ملک میں تعلیم کے لیے بھیجتے باہر کے ملک میں کاروبار اور گھر بناتے وہاں پہ چٹھیاں گزارتے تو پھر الیکشن بھی وہیں لڑ لیا کریں وہیں حکمرانی بھی کریں مگر نہیں رہنا وہاں پر بچے وہاں کی یونیورسیٹیز میں پڑھانے علاج وہاں سے کروانا مگر حکومت پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب نہیں کیا جاتا انہیں فوراً سزاٸیں نہیں سناٸی جاتیں اس لیے یہ بے خوف خطر اپنی طاقت کا ناجاٸز استعمال کر کے ٹیکس چوری کرتے عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر بناۓگٸے پروگرامز کے فنڈز اپنے اکاونٹس میں جمع کرواتے اور تو اور جو ترقی یافتہ منصوبے ہیں ان میں بھی سستا اور ناقص میٹیریل لے کے باقی اپنے اکاونٹس میں۔
    یہ سیاستدان عوام کے مسائل سننا بھی مناسب نہیں سمجھتے مگر الیکشن کے وقت پھر سے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے نام پہ بے وقوف بنانا شروع کر دیتے اور غربت اور مہنگاٸی کی ستاٸی عوام مجبوراً یقین کر لیتی کہ شاید واقع ہی یہ ان کے حالات بدل دیں گے
    ہمارے ملک کے تقریبا ہر سیاستدان پر کرپشن کے اور دیگر کیسیسز چل رہے ہیں یہ کیسیسز خود بہ خود تو نہیں بنے بلکے انہوں نے کرپشن کی ملکی اثاثہ جات کا بے دریغ استعمال اور طاقت کا غلط استعمال کیا تبھی ان کے خلاف یہ کیسیز چل رہے اس لیے مہربانی کر کے اپنے آنکھوں سے زات پات اوربراری اور صوبوں کی بنیاد پہ ووٹ دینا اس پٹی کو اتار دیجیے صرف اورصرف پاکستان کی بہتری کے لیے ووٹ کاسٹ کریں۔ کسی بھی پارٹی کے ورکرز بن کر نہیں بلکے پاکستانی بن کے سوچیں کہ کون پاکستان کے ساتھ ہے حقیقی معنوں میں۔ جو لوگ ساری زندگی باہر گزاریں اور وہاں جاٸیدادیں بناٸیں وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتے کیسے انہیں حل کر سکتے کیونکہ انہوں نے تو یہاں رہنا ہی نہیں یہاں تو ہم نے رہنا ہے اور اسکی بہتری کے بارےمیں بھی ہمیں مل کر کوشش کرنا ہو گی😇

    ‎@b786_s

  • ہیڈ تونسہ بیراج:- تحریر محمد رفیق گرمانی ‎

    ہیڈ تونسہ بیراج:- تحریر محمد رفیق گرمانی ‎


    تونسہ بیراج پنجاب کے ضلع مظفر گؑڑھ میں دریا ئے سندھ پر واقع ہے۔ یہ بیراج تونسہ شریف کے جنوب مشرق میں 20 کلو میٹر اور کوٹ ادو سے 11 کلو میٹر دور ہے۔ اس بیراج کے ذریعہ آبپاشی اور سیلاب سے بچاؤ کے لئے دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ
    کو کنٹرول کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیراج ریلوے پل، گیس اور تیل کی پائپ لائنوں،
    ٹیلیفون لائن اور اضافی ہائی والٹیج ٹرانسمیشن لائنوں کو بھی عبور کرتا ہے اور پاکستان کا پندرھواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے۔ اسکی تعمیر کا آغاز 1951 کو کیا گیا اور 1958 کو اس بہترین منصوبے کی تکمیل ہوئی، اس کی تعمیر پر ساڑھے بارہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس کے مشرقی کنارے سے دو بڑی نہریں مظفر گڑھ کینال اور ٹی پی لنک نکالی گئیں، مظفر گڑھ کینال ضلع مظفر گڑھ کے بیشتر میدانی علاقوں کو سیراب کرتی ہے، جبکہ ٹی پی لنک کینال دراصل دریائے سندھ اور دریائے چناب کو ملانے کا کام دیتی ہے، جب دریائے چناب میں خشک ہوجاتا ھے تو ٹی پی لنک کینال کے ذریعہ اس میں پانی ڈالا جاتا ہے۔ ہیڈ تونسہ کے مغربی جانب بھی دو نہریں نکالی گئی ہیں اک نہر ضلع ڈیرہ غازی خان کی فصلوں کو پانی مہیا کرتی ہے، اور دوسری نہر بلوچستان کو سیراب کرنے کے لیے بنائی گئی ھے جو ابھی تک چالو نہیں ہو سکی، اس بیراج سے لاکھوں ایکٹر زمین ہی سیراب نہیں ہوتی بلکہ دوسرے کئی فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس بیراج کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان تک جانے کے لیے خشکی کا راستہ نکل آیا ہے۔ اور پختہ سڑک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان کا دوسرے حصوں سے براہ راست تعلق قائم ہو گیا ہے۔ اسکے مغربی کنارے پر حال ہی میں دو بہترین ریسٹورنٹ تعمیر ہوئے ہیں، جو سیاحوں کو تفریح کا موقع فراہم کرتے ہیں اور ہیڈ کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ تونسہ بیراج میں تقریباً سترہ ایکڑ رقبے پر پانی کا ذخیرہ ہے۔ اس میں مختلف اقسام کی آبی حیات موجود ہیں جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ موسم سرما میں یہاں پرندوں کی بہت سی اقسام بسیرا کرتی ہیں۔ ہیڈ کے شمال میں ہزاروں ایکڑ پر محیط جزیرہ نما گھنا اور سرسبز لاشاری والا جنگل واقع ھے، میں یہاں پر گورنمنٹ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا کہ مقامی گورنمنٹ کی تھوڑی سی محنت سے یہاں انٹرنیشنل معیار کا پارک بنایا جا سکتا ھے۔ ہیڈ ڈرافٹ مین سید طفیل حسین شاہ کو تونسہ بیراج کے حوالے سے ان کی خدمات پر اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے 3 مارچ 1959کو چاندی کے تمغے سے نوازا تھا.