Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • یہ وطن ہے تو ہم ہیں  تحریر : سلمان اکرم

    یہ وطن ہے تو ہم ہیں تحریر : سلمان اکرم

    ہم دنیا کے ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک آزاد فضا فراہم کی ہے. ہم ایک ایسے وطن میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں ہم مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی طور پر مکمل آزاد و خودمختار ہیں.
    ہم اس وطن کا کھاتے ہیں، اس وطن میں رہتے ہیں، اس وطن نے ہمیں شناخت دی ہے.
    .
    14 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے. ہم نے بچپن سے اس ماہ کو خاص اہتمام سے منایا ہے. امن و محبت کا نشان پرچم اپنے سینوں گھروں محلوں اور بازوں میں لہرایا ہے.
    اس وطن کی الفت شاید ہماری گھٹی میں شامل ہے.
    .
    ہم اپنے وطن سے چاہت کا دم ہر دم بھرتے رہیں گے. ہمیں جو کچھ بھی اس وطن نے عطا کیا ہے اس کا بدلہ اپنی جان دے کر بھی پورا نہیں کر سکتے.
    .
    اس جشن آزادی کو مناتے ہوئے آئیے چند عہد کریں.
    ہم اپنے وطن کے امن و امان کا تحفظ کریں گے.
    اس کے قانون کا احترام کریں گے. چھوٹی سے چھوٹی قانون شکنی سے بھی پرہیز کریں گے.
    ہم بائیک پر ہیں تو ہیلمیٹ کا استعمال لازمی کریں گے.
    ہم سڑکوں، پارکوں اور پبلک مقامات کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں گے.
    ہم اپنے ملک کو منشیات سے پاک کریں گے.
    ہم اپنے شہریوں کی ضروریات کا خیال رکھیں گے
    ہم علم و عمل کے ساتھ وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے.
    ہم پاکستان کی مثبت چیزوں کو دنیا میں اجاگر کریں گے. اور منفی چیزوں کی اصلاح کے لیے ہر دم تیار رہیں گے.
    .
    ہم اپنے وطن کی املاک کا بھی تحفظ کریں گے.
    ہر برائی کے خلاف دیوار بنیں گے اور ہر اچھائی میں ملک کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے.
    .
    ٹیکس چوری نہیں کریں گے.
    اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتیں گے.
    ملک پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ پیار و محبت کو فروغ دیں گے.
    ملک کی سرحدوں کے محافظوں کے ساتھ ہر بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہونگے.
    وطن عزیر میں کسی اندرونی شازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے.
    ..
    ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنائیں گے.
    ایمان اتحاد اور تنظیم کے ساتھ اپنی جان، مال، وقت اور صلاحیت کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کریں گے.
    .
    ہم پاکستان کو بالکل ایسا بنائیں گے جیسا اپنے گھر کو بنا کر رکھتے ہیں.
    ہم اقوام عالم کے لیے مثال بنیں گے.
    .
    کیونکہ یہ وطن ہے تو ہم ہیں. اگر ہم پاکستان میں نہ ہوتے تو شاید دنیا ہمارے نام سے بھی ناآشنا ہوتی.

    ‎@themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*

  • ‏پنجاب حکومت اور صحت کا شعبہ ۔ تحریر: آصف گوہر

    ‏پنجاب حکومت اور صحت کا شعبہ ۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے (اللہ) شفا عطا فرماتا ہے ۔ ”
    پاکستان میں صحت کا شعبہ گذشتہ ایک دہائی سے مسائل کا شکار ہے مسلم لیگ ن کی سابق پنجاب حکومت نے پنجاب کے تعلیم اور صحت کے بجٹ کو کٹ لگا کر سارا پیسہ میٹرو بس سروس منصوبوں میں جھونک دیا تھا جس کی وجہ سے پنجاب میں صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار تھا۔
    پاکستان تحریک انصاف نے صحت تعلیم اور انصاف کے انتخابی منشور کے ساتھ الیکشن میں کامیابی حاصل کی وفاق پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت بنائی اور وفاقی سطح پر صحت انصاف کارڈ اجراء کیا جس غریب عوام کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج اور آپریشنز کی مفت سہولیات فراہم کی گئیں ۔جس سے اب تک لاکھوں افراد استفادہ حاصل کر چکے ہیں ۔ پنجاب حکومت نے وزیر اعلی عثمان بزدار کی قیادت میں پہلے سے موجود ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی اوور ہالنگ اور اپ گریڈشن کا فیصلہ کیا گیا۔ابھی اس کام کا آغاز ہی ہوا تھا کہ پاکستان میں کرونا کی وباء پھیل گئی اور ہمارے ہیلتھ ریسورسز پر دباؤ بڑھنے لگا جس کو دیکھتے ہوئے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد جو کہ خود سرطان کی مریضہ ہیں انہوں نے چیلنج کو قبول کیا اور کرونا وبا کی تینوں لہروں میں دن رات کام کیا ان کی محنت اور بہتر حکمت عملی سے پھر پوری قوم نے دیکھا کہ پنجاب کے کسی ہسپتال میں نہ تو آکسیجن کی کمی کی شکایت آئی اور نہ ہی مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں بستروں کی کمی سامنے آئی فیلڈ ہسپتال وینٹیلیٹرز آکسیجن بیڈز کی وافر مقدر میں دستیابی نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ سمیت دیگر میں ایک وقت ایسا بھی کہ ان کا ہیلتھ سسٹم بیٹھ گیا مریض سڑکوں اور ہسپتالوں کی راہ داریوں میں تڑپتے دیکھے گئے لیکن اللہ سبحان و تعالی کی مدد سے پاکستان کی حکومت اس امتحان میں کامیاب رہی۔
    ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوا تو پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت سمییت صوبہ بھر میں عوام کی سہولت کے لئے 677 ویکسینیشن مراکز قائم کئے جو شب و روز عوام کو ویکسین لگانے میں مصروف عمل ہیں ۔
    اگر پنجاب حکومت کی شعبہ صحت میں دیگر اصلاحات کا نہ بھی ذکر کیا جائے تو بتانے کے لئے کرونا وبا میں کی گئیں خدمات ہی کافی ہیں ۔ لیکن پنجاب حکومت نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ صوبہ میں موجود 26 ٹراما سینٹرز کو اپ گریڈ کیا گیا۔119 تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی مکمل اوور ہالنگ کی گئ ضلع چکوال حافظ آباد اور چینوٹ میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا قیام۔ 36 بنیادی مراکز صحت کو دیہی مراکز صحت کا درجہ دیا گیا 49 نرسنگ سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ 120 تحصیل کوارٹرز ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کا درجہ دیے کر علاج معالجہ کی ضروری مشینری اور سہولیات فراہم کی گئیں اور اس کے ساتھ پسماندہ اور زیادہ آبادی والے اضلاع میں زچہ و بچہ کی صحت کے لئے راجن پور لیہ میانوالی
    ڈیرہ غازی خان اور لاہور میں جدید سہولیات سے آراستہ مدر چائلڈ ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ۔لاہور کی آبادی کے مدنظر رکھتے ہوئے فیروز پور روڈ پر ارفع کریم آئی ٹی پارک کے عقب میں 1000 بیڈز پر مشتمل جنرل ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے ۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا تین سالہ اس دور میں صحت کے شعبہ میں کئے گئے درج بالا کام بلاشبہ انقلابی اصلاحات سے کم نہیں. ‎@Educarepak

  • محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    یہ دنیا تاریکی و اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی تھی،ظلم و ستم کی بھٹی پوری قوت سے گرم تھی…
    تقدس و حرمت کے مفہوم بدل چکے تھے…
    کہ غارِ حرا سے وہ سراج منیر طلوع ہوئے،جن کے حُسن خلق کی کرنوں نے دنیا کے کونے کونے کو منور کیا…
    اس چودھویں کے چاند سے زیادہ خوب صورت ختم الرسل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گرد علم و عمل کے چمکتے تاروں نے جو ہالہ بنایا اور محبت و اطاعت کی جو انمٹ داستان عمل و خون سے لکھی وہ رہتی دنیا تک کے لیئے ایک انمٹ مثال بن چکی ہے…
    اس سے بڑا اعزاز ان کے لیئے اور کیا ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات قرآن میں انہیں حزب اللّٰہ یعنی اپنی جماعت کہہ رہا ہے…
    دنیا میں ہی جن پر اپنی رضوان کے اعلانات فرما کر ان کے مقام و مرتبہ کو اس دنیا کے ہر خاص و عام کو بتا دیا ہے…
    وہ اپنا گھر بار خدمت نبوی میں پیش کرتے ابو بکر صدیق،وہ مسلمانوں کو شان و شوکت بخشتے عمر،
    اپنا سب کچھ ساعۃ العسرۃ میں فی سبیل اللہ لٹاتے عثمان…
    اور حسن و حسین کے والد شیرِ خدا،دامادِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنھم کی عظمت و کردار کس پر واضح نہیں ہے…؟؟
    وہ اصحابِ رسول جو پیارے رسول کے حکم کے مطابق جب ہجرت کی راہوں پر نکلے تو وہ مہینہ محرم الحرام کا تھا…
    محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے،ارشادِ ربانی ہے:
    "مہینوں کی تعداد اللّٰہ کے نزدیک کتاب اللّٰہ میں بارہ ہے،اس دن سے جب سے اُس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،ان میں چار مہینے ادب و احترام والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے…”
    (التوبہ:36)۔
    یہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "سال بارہ مہینوں کا ہے،جن میں سے چار حرمت والے ہیں،تین مسلسل ہیں،ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم،
    جبکہ ایک مہینہ رجب ہے…”
    (صحیح بخاری_کتاب بدءالخلق)۔
    ان حرمت والے مہینوں سے مراد یہ ہے کہ ان میں جو چیز فتنہ و فساد،لڑائی جھگڑے اور امن عامہ کی خرابی ہو،اس سے منع کیا گیا ہے…!!!
    ماہ محرم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اور اس کی بنیاد مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت پر ہے۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ نے محرم میں اللّٰہ اور رسول اللہ کے حکم پر زور و شور سے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سفرِ ہجرت صفر تا ربیع الاوّل ہے…
    حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جب تمام حکومتی محکموں کو منظم فرمایا تو تاریخ جاری کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ غور آیا،چنانچہ انہوں نے ہجرت کے عظیم عمل کا انتخاب فرمایا جو محرم میں شروع ہوا اور اسی مناسبت سے ہجری سن کا آغاز ہوا،
    اور یوں ہجری سن کا تقرر اور آغاز اٹھارہ ہجری میں دورِ خلافت عمر رضی اللّٰہ عنہ میں ہوا…!!!
    یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہیں کہ اسلامی سال کا آغاز بھی امن کے پیغام کے ساتھ ہوتا ہے اور اختتام بھی حرمت اور محبتوں والے مہینہ ذوالحجہ پر ہوتا ہے جو اسلام کی اَمن پسندی کی بہت بڑی دلیل ہے…!!!
    اسلامی سن کے آغاز میں محبتوں کا وہ انمٹ سلسلہ بھی ذہن کے نقوش پر ابھرنے لگتا ہے کہ جب مہاجرین اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللّٰہ کی رضا کی خاطر ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو انصارِ مدینہ نے محبتوں اور الفتوں کا جس شدت سے اظہار کیا اسے اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کچھ یوں بیان کیا ہے:
    "اور جو لوگ ان(مہاجرین) کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے،یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے
    دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ خود کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں…”
    (الحشر:9)۔
    جب علاقائی اور خاندانی عصبیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے گھروں،زمینوں،باغات اور حتّٰی کہ دو بیویوں والوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائیوں کو نکاح کرنے تک کی پیشکش کر دی تھی۔
    پیار و محبت اور ایمانی رشتوں کی خوشبو سے مہکتی مواخات کا وہ خوب صورت منظر بھی نگاہوں میں جھلملانے لگتا ہے…!!!
    حالی نے اس کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے:
    جب امت کو مل چکی حق کی نعمت…
    ادا کر چکی فرض اپنا رسالت…
    رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی صحبت…
    نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت…
    تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی…
    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی…
    سب اسلام کے حکم بردار بندے…
    سب اسلامیوں کے مددگار بندے…
    اللّٰہ اور نبی کے وفادار بندے…
    یتیموں کے،رانڈوں کے غمخوار بندے…
    رہِ کفر و باطل سے بیزار بندے…
    نشہ میں مئے حق کے سرشار بندے…
    جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے…
    کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے…
    سر احکامِ دین پر جھکا دینے والے…
    خدا کے لیئے گھر بار لٹا دینے والے…
    ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے…
    فقط ایک اللّٰہ سے ڈرنے والے…
    ان مہاجرین و انصار نے وفاؤں کا ثبوت بدر و احد میں پیش کیا…
    طائف و حنین میں پیش کیا…
    تبوک و موتہ میں پیش کیا…
    محرم کے مہینہ میں ہی یہ جاں نثار چھلنی اور پھٹے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ کر غزوہ ذات الرقاع میں وفاؤں کا ثبوت پیش نظر آتے ہیں…!!!
    تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے کہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یکم محرم الحرام
    چوبیس ہجری میں ابو لؤلو فیروز نامی مجوسی غلام کے ہاتھوں شہادت کی موت سے ہمکنار ہوتے ہیں…
    وہ عمر جس نے اسلام کا پرچم چہار جانب لہرایا تھا.
    اور دنیا حکمرانی میں کامیابی کے لیئے آج بھی اس کی طرف دیکھتی ہے…!!!
    وہ عظیم لوگ جن پر رب نے اپنی رضا اتار دی ہمارا کام صرف ان نقوش کی پیروی کرنا ہے…
    ان سے محبت رکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی میرے صحابہ سے محبت رکھے،اللّٰہ بھی اس سے محبت رکھے گا،اور جو کوئی ان سے دشمنی رکھے گا تو اللّٰہ اس سے دشمنی رکھے گا…”(صحیح بخاری)۔
    اختلافات در اختلافات نے امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا…
    ہمیں حقائق کی روشنی میں معاشرے میں برداشت اور اصلاح کی ترویج کرنی چاہیئے…!!!
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میرے صحابہ کو برا نہ کہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر لے،تو میرے صحابہ کے مُد یا آدھے مُد کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا…”(صحیح بخاری)۔
    یہی وہ جماعت تھی جن کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی بدولت اللّٰہ کا دین دنیا کے کونے کونے میں پہنچا…!!!
    جنہوں نے ہر مصیبت کو محبتِ رسول میں قبول کیا
    61ہجری محرم الحرام میں تاریخ کے صفحات پر وہ دلدوز داستان رقم ہے جب نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جگر گوشۂ بتول حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سازشی اور فتنہ پرداز ٹولے کے ہاتھوں کربلا کے میدان میں شہادت کا عظیم رتبہ پاتے ہیں…
    کوفیوں کی بد عہدی اور بے وفائی کوفی لا یوفی کی مثال بن گئی۔
    وہ حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جنہیں اللّٰہ کے رسول نے نوجوانانِ جنت کا سردار کہا…
    جن کے بارے میں فرمایا:
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین ہوں،جو حسین سے محبت کرے،اللہ اس سے محبت کرے…” (سنن الترمذی)۔
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…
    نبی کی گود میں پلے…
    جہاں نشانہ حسین ہیں…!!!
    *تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو یعملون¤*
    اسی طرح محرم الحرام میں نیک عمل بالخصوص روزوں کی بڑی فضیلت ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں…(صحیح مسلم)۔
    یومِ عاشورہ کے روزے کے بارے میں فرمایا:
    یکفر السنہ الماضیۃ…(صحیح مسلم)۔
    یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…”
    ہمیں ہر ممکن نیک اعمال بجا لانے اور ان کی قبولیت کی دعا کرتے رہنا چاہیئے وہ اعمال جو خالص اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے لیئے اور سنت کے مطابق ہوں…
    کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی یہ دو بنیادی شرائط ہیں…!!!
    صِدقِ خلیل بھی ہےعشق صبرِحُسینؑ بھی ہے عشق
    معرکۂ وجود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق…!!!
    ================================

  • بیرون ملک نوکری اور پاکستان میں گھر والے  تحریر:ذیشان علی

    بیرون ملک نوکری اور پاکستان میں گھر والے تحریر:ذیشان علی


    بہت سے پاکستانی روزی کی تلاش میں بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرق وسطی یعنی گلف ممالک میں روزی روٹی کی غرض سے موجود ہے،
    اس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سر فہرست ہیں، اور باقی عمان، قطر، بحرین، کویت، عراق ترکی اور دیگر ایشین اور یورپین ممالک بھی شامل ہیں،
    بہرحال ہر ملک کے اپنے نظریات اور اپنے قوانین ہیں اور ہر ملک کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ایک جیسے نہیں ہیں،
    اپنے پیاروں کو چھوڑ کر ان کی خوشی انکا اچھا رہن-سہن اور ان کے آرام و سکون کی وجہ بننے والے محب وطن پاکستانی اپنی جوانی اپنی خوشیاں اور اپنے رہن سہن تک کو کمپرومائز کر لیتے ہیں،
    ان کی خوشنودی صرف پاکستان میں موجود ان کے پیارے آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں،
    بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم نہ صرف ان کے پیاروں کو ان کے اخراجات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ رقوم جسے عام طور پر remittance کہا جاتا ہے ملک کیلئے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے،
    فائنانس کے متعلق جاننے والے افراد اس پر بہتر طور پر تبصرہ کر سکتے ہیں، میرا آج کا یہ کالم بیرون ملک پاکستانیوں کی مشقت اور اپنے پیاروں سے رابطے اور کیسے وہ اپنے پیاروں کی ہر خواہش کا احترام کرتے ہیں پر محیط ہے،
    ایک مزدور کی مزدوری کا ٹائم مختص ہے جو آٹھ گھنٹے اور کمپنیوں اس سے دس گھنٹے اور بعض کمپنیاں بارہ گھنٹے بھی ڈیوٹی لیتی ہیں لیکن وہ مزدور کو اس کے معاہدے کے مطابق محافظہ بھی دیتی ہیں،
    کام کرنے والا چاہے تو صرف اپنا ڈیوٹی ٹائم یعنی آٹھ گھنٹے کام کر سکتا ہے، اور اپنا طے شدہ معاوضہ مہینے کے بعد تنخواہ کی صورت میں لے لیتا ہے،
    ہر کام کرنے والا ایک جیسا کام بھی نہیں کرتا مختلف فیلڈ میں مختلف قسم کے لوگ ایکسپرٹ ہوتے ہیں، ہر ایک کی اپنی فلیڈ ہوتی ہے ہر ایک کا معاہدہ بھی مختلف ہوتا ہے لیکن حقیقت میں تو سب کے سب مزدور ہی ہیں ہر کوئی مزدوری کر رہا ہے۔کوئی دفتر میں بیٹھ کر مزدوری کرتا ہے تو کوئی باہر دھوپ کام کر کے مزدوری کرتا ہے،
    مختلف قسم کے شعبے ہیں زیادہ تر پاکستانی متحدہ عرب امارات میں اور سعودی عرب میں قطر بحرین عمان میں لیبر کے طور پر کام کرتے ہیں،
    کوئی عام مزدور ہے تو کوئی اسکیل ورکر ہے، ان کے علاوہ ایک اور طبقہ انجینئرز، اکاؤنٹنٹ منیجرز وغیرہ بھی ہیں لیکن وہ اتنی تعداد میں نہیں ہیں اور انہیں بہت سی سہولیات میسر ہوتی ہیں اور بعض ایسے لوگوں کی فیملیز بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے وطن سے دور تو ہیں ہی وطن تو انہیں بھی یاد آتا ہوگا،
    ہم اس مزدور کی بات کرتے ہیں جس کا رہن سہن کھانا پینا اور اپنی چیزوں کا خیال رکھنا سب اس کی ذمہ داری ہوتی ہے،
    کمپنیوں میں جو مزدوروں کو رہائش فراہم کی جاتی ہے "(2/4/6/8/10/12)” مختلف افراد کی تعداد کو ایک کمرے میں ٹہرایا جاتا ہے،
    یوں ہر فردکو اپنی پرائیویسی پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے، باورچی خانہ بھی ایک سے زائد لوگ استعمال کرتے ہیں واش روم بھی ایک سے زائد لوگ استعمال کرتے ہیں،
    ڈیوٹی میں دیر سویر نہیں کی جا سکتی کام والی جگہ پر وقت پر پہنچنا نہایت ضروری ہے۔
    کمپنی کے حالات ٹھیک نہ ہونے پر تنخواہ میں تاخیر ہو سکتی ہے آپ کا اقامہ تجدید دیر سے کیا جا سکتا ہے، تنخواہ کبھی تھوڑی تو کبھی دو مہینے بعد بھی دی جاتی ہے کسی سے کوئی سوال نہیں کر سکتے صرف چپ کرکے کام کر سکتے ہیں،
    اور اپنی ٹینشن اور پریشانی دور کرنے کے لیے گھر والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن گھر والوں سے رابطہ بھی تو مفید ثابت نہیں ہوتا مگر کرنا ضروری ہوتا ہے اپنے پیاروں کی خوشی اور ان کو دلاسہ اور سہارا دینے کےلئے ایک بندہ جو اتنی پریشانیوں اور تکلیفوں سے گزربسر کر رہا ہے روزی روٹی کما رہا ہے،
    وہ شخص اپنی پریشانیوں اور اپنی تکلیفوں سے اپنے گھر والوں کو آگاہ تک نہیں کرتا دیکھو تو ذرا اس شخص کا ظرف کتنا عظیم ہے،
    تنخواہ آنے والی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں کچھ حالات خراب ہیں کمپنی کے بہتر ہونے والے ہیں تنخواہ مل گئی ہے بھیج رہا ہوں اچھا تھوڑے سے پیسے زیادہ بھیج دیتا ہوں ٹھیک ہے آپ وہ خرید لیں آپ یہ خرید لیں،۔ اس کی زبان پر اپنے لئے تو کوئی بات نہیں ہوتی کرنے کو بس ماں کیسی ہے بابا کیسے ہیں بہن کیسی ہے بھائی کیسا ہے وہ کیسے ہیں یہ کیسے ہیں،
    میں تو بالکل ٹھیک ہوں اور کام وام، ڈیوٹی وغیرہ تو بہت اچھی جارہی ہے،
    بیوی بچوں والوں کے لئے تو زیادہ مسئلہ ہے وہ گھر سے دور زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے مگر یہ لوگ اس پر بھی صبر کرتے ہیں، اور شادی شدہ افراد ہی زیادہ تعداد میں پردیسی ہیں اور جس کی شادی نہیں ہوتی وہ بھی پردیس میں ایک سفر کاٹنے کے بعد جاکے شادی کر لیتا ہے،
    "” اب ہر کوئی میرے جیسا تو نہیں ہوتا کہ شادی پردیس کا مکمل سفر کاٹ لینے کے بعد ہی ہو گی،””
    ( مذاق خیز بات)
    مل جل کر رہنا پڑتا ہے لیکن ہر ایک کا مزاج بھی تو مختلف ہوتا ہے کوئی ٹھنڈے دماغ والا تو کوئی گرم دماغ والا کسی سے کسی کی نہ بن سکے اور وہ رہتے بھی ایک ہی کمرے میں ہوں تو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے اور یہ ٹینشن اور پریشانی اس کے کام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے،
    اس کے علاوہ اچھا یہ ایک منفی پہلو ہے جو میں اجاگر کرنے لگا ہوں اور ساتھ میں دعا بھی اللہ تعالی سے کروں گا کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے کہ ہم کسی کی چغلی کرنے اور حسد اور کینہ و بغض جیسی بیماریوں سے خود کو بچا سکیں،
    لیکن اچھے دوست بھی بن جاتے ہیں جان پہچان بنا لیتے ہیں تھوڑی بہت ہو جایا کرتی ہے اور صلح بھی ہو جایا کرتی ہے اور ہنسی مذاق اور خوش گپیوں میں بھی اچھا وقت گزرتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ اور وقت کا تو پتہ ہی نہیں چلتا اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے لیکن ان لوگوں میں صبر آجاتا ہے اور یہ لوگ ہر حالات میں صبر کر سکتے ہیں،
    بے شک اللہ بھی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے،

    ‎@zsh_ali

  • عوام کامستقبل اور حکومت   تحریر :معین وجاہت

    عوام کامستقبل اور حکومت تحریر :معین وجاہت


    کبھی ہمارا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں کے ہماری اصل پرابلم کیا ہے ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکومت وقت اور حاکم وقت کو ٹھہراتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

    اخبار کے پہلے پیج پر ہم ایک مہلک بیماری کا ذکر سنتے ہیں مثلاً ہارٹ اٹیک جس کی وجہ ناقص گھی سے کولیسٹرول کا بڑھنا ہوتا ہے۔

    اور اخبار کی چھٹے پیج پر ایک خبر چھپی ہوتی ہے جس میں گھی کی ایک ایسی پروڈکٹ کی مشہوری دی جاتی ہے جو ابھی مارکیٹ میں لانچ ہی نہیں ہوئی ہوتی۔

    ہم نے کیا کھانا ہے اس کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتے ہے اور ہم نے کیا پہننا ہے کیسا پہننا ہے اس کا بھی فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

    ہمارے ملک میں بڑھتے جرائم، منشیات، چوری، ڈاکہ اس سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہوتا ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا وہ ہاتھ ہے ایک بزنس میں کا ہاتھ۔

    ہماری روز مرہ کی ضرورت ایک نزنس مین طے کرتا حتیٰ کے ایک میڈیسن جو ہم نے کھانی ہوتی ہے جو ڈاکٹر لکھتا ہے وہ بھی ایک بزنس مین کی ایڈوائز پر لکھی جاتی ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ حاکم وقت کرتا ہے لیکن حاکمِ وقت کے مستقبل کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

    پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو آپ کو ہر اچھے دانشمند جنہوں نے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اپنی منشاء کی مطابق کرنے کی کوشش کی ان کو سولی چڑھا دیا گیا۔

    چاہے وہ لیاقت علی خان کو لگنے والی گولی ہوئی ہو یا بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا حادثہ ہو یا بے نظیر بھٹو کا قتل ان سب کی تحقیقات کی جائیں تو سب کے پیچھے بزنس مین کا ہاتھ ملے گا۔

    پھر انہی کی بزنس مین لوگوں نے دوبارہ فرنٹ پر آ کر حکومت بھی کی اور بزنس بھی جس میں زرداری اور نوازشریف ایک زندہ مثال ہیں سیاست دانوں کو بے رحمی سے موت کے گھات اتار دیا گیا لیکن بزنس مافیا کامیاب بزنس اور غریبوں کی کھال اتار حکومت بھی کر گیا۔

    ہم اتنے جاہل نہیں ہیں کے سمجھ نہ سکیں پچھلے اڑھائی سالوں میں کی جانے والی تحقیقات میں آپ اور ہم سب نے دیکھا ٹارکٹ کلنگ، سے لے کر بنک ڈکیتوں تک جو قرضے کی صورت میں لے کر معاف کرائے گے، بچوں کے اغواء سے بچوں کے ریپ تک، آپ نے دیکھا کی ان کا رشتہ کہیں نا کہیں کسی بڑے بزنس مین کے ساتھ ملتا ہے۔

    ہر حکومت میں بزنس مین کی مرضی سے لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو حکومت کے ہر درست اور عوام دوست پیکج میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    موجودہ اسمبلی میں بیٹھنے والی اپوزیشن ٹوٹل بزنس مین اپوزیشن ہے جو پچھلے 73 سالوں سے لیگل اور الیگل عوام کو چونا لگاتی رہی یہ نہیں کے حکومتی اراکین سب دودھ کے دھولے ہوئے ہیں %35 لوگوں کا تعلق بھی بزنس مافیا سے جُڑا ہوا ہے۔

    جن میں ایک چھوٹی سی مثال امین علی گنڈا پور اور جہانگیر ترین دنیا کے سامنے ہیں۔ اگر اس تحریر سے کسی کا شک و شبہ ہو تو آذاد کشمیر میں پلانٹ کیے جانے والی سردار تنویر الیاس کا ماضی اور مستقبل آپ کے سامنے ہے۔

    اور سابقہ ن لیگ حکومت کا ٹھیکداری نظام بھی آپ کے سامنے ہے پہلے محکموں کے ذریعے کام ہوتے تھے اس حکومت نے ترقیاتی بجٹ جو مطلقہ محکموں کو دیا جانا تھا وہ برائے راست ایم ایل اے کو دیا گیا۔

    جس میں سے 5/5 ۔ 10/10 لاکھ مختلف علاقوں میں چمچوں کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کھانے کو دیا گیا اگر یہ بزنس مین اور ٹھیکداری نظام حکومت کو بدلی نہیں کیا گیا تو ہماری نسلوں کا مستقبل ایک سیاست دان نہیں بلکہ تنویر الیاس جیسا بزنس مین اور فاروق طاہر جیسا ٹھیکدار لکھے گا۔
    ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ضامن تنویر الیاس کے محل کے نوکر یا فاروق طاہر کی بوکلین آپریٹر، یا ڈمپر ڈرائیو لکھیں گے۔۔

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 2 تحریروں میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ حکومتی ارکان کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں 95٪ لوگ اپنے ضمیر کو بیچ کر ملاوٹ کرنا ، رشوت کے کاموں میں اپنے بچوں کو حرام کی روزی کھلاتے ہیں یاد رکھیں جو خفیہ طریقہ سے ملاوٹ سے کمایا گیا پیسہ حلال نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کرنے والے دام خالص چیز کا لیتے ہیں اس لئے آج بتاؤں گا کہ کیسے لوگ ہلدی میں مصنوعی رنگ ، کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اور جوس میں جعلی رنگ بنا کر بیچ رہے ہیں

    ہلدی میں مصنوعی رنگ کا استعمال:
    کچھ عرصہ پہلے کچھ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کھانوں میں استعمال کی جانے والے ہلدی پاوڈر میں موجود ایک کیمیکل کینسر سے لڑنے میں مدد دیتا ہے لیکن آج کل لوگ لکڑی کے بورے کو پیس کر اس پر پیلا رنگ لگا کر ہلدی میں مکس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہلدی کا وزن زیادہ ہو جاتا ہے اور سالن کو بہت زیادہ پیلا کر دیتا ہے جبکہ اگر ہلدی کو تھوڑا سا پانی میں ڈالیں تو خالص ہلدی اپنا رنگ نہیں بدلتی اور پانی پر تیرتی رہتی ہے جبکہ ملاوٹ والی ہلدی میں پیسی ہوئی لکڑی کے دانے واضع ہو جاتے ہیں

    کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ:
    کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اس لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ کالے چنے 300 روپے کلو مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ کالی مرچ 1300 روپے کلو دستیاب ہے اس لئے لوگ ملاوٹ کرکے وزن بڑھا کر مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچتے ہیں اور لوگ اس زہر کو خرید رہے ہیں ملاوٹ شدہ مرچ کو کھانے سے منہ میں کر کراپن پیدا ہو جاتا ہے

    جوس میں جعلی رنگ:
    ہمارے معاشرے میں مارکیٹس میں سر عام جوس میں جعلی رنگ کی ملاوٹ کرکے لوگوں کو بیچا جا رہا ہے اور لوگ شوق سے اس زہر کو خرید رہے ہیں جعلی جوس بنانے والے مختلف طرح کے سینٹ (پرفیوم) استعمال کرتے ہیں اور پانی میں اسکرین کی ملاوٹ کرکے بڑی مقدار میں بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومتی ارکان بیانات کی حد تک ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور ملاوٹ کی روک تھام کےلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے زیادہ تر جگہوں پر رشوت لے کر منہ بند کر دیئے جاتے ہیں کوئی چیکنگ کرنے والا نہیں ۔ جو جوس تیار کیا جارہا ہے کیا وہ کار آمد ہے یا مضر صحت ہے ۔ مارکیٹس میں بہت سی ایسی اشیاء کی خرید و فرخت ہو رہی ہے جو ایکسپائر ہو گی ہے اور جس کو پینے سے انسان بیمار ہو رہے ہیں لیکن سرِعام سیل ہو رہی ہیں

    اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن لگاۓ جا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ اس قوم میں ملاوٹ، دھوکا دہی اور ناپ تول میں کمی جیسی برائیاں بہت زیادہ پائی جاتی تھیں، انہی بُری عادتوں کی وجہ سے ان پر ﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور پوری قوم تباہ ہوگئی اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

    ‎@JingoAlpha

  • اسلام میں ٹیکسوں کا نظام  تحریر سمعیہ رشید

    اسلام میں ٹیکسوں کا نظام تحریر سمعیہ رشید

    مغربی ممالک میں حکومت کی آمدنیوں اور اخراجات کی پوری تفصیلات عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں اور انہیں یہ جائزہ لینے کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خود دیکھ لیں کہ کہاں سے حکومت نے فنڈ حاصل کیے اور کہاں خرچ کیے۔ عام مصلحتوں کا پوری طرح لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسکولوں سے لے کر اسپتالوں تک عوام کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔ نہ کوئی بھی ٹیکس بغیر عوامی نمائندوں کی منظوری کے لگایا جاسکتا ہے نہ ان کی منظوری کے بغیر کوئی خرچ کیا جا سکتا ہے۔ گویا حق کے ساتھ حکومت مال لیتی ہے اور حق کے ساتھ خرچ کرتی ہے۔
    لیکن ہماری یہاں کیا صورت رہی ہے؟ مجھے عربی شاعر شریف کے اشعار یاد آتے ہیں یہ شاعر عباسی خلافت کے مقابلے میں خروج کرنے والے نفس زکیہ کے ساتھ تھا وہ اللہ تعالی سے فریاد کرتا ہے۔ "خدایا! ہمارا مال منصفانہ تقسیم کے جائے اہل اقتدار و دولت کے درمیان ہی گردش کر رہا ہے۔ حکومت و امارت مشورہ کے بجائے استبداد سے کام لیتی ہے۔ عام مال میں یتمیوں اور بیواؤں کاحق لہوولعب او عیش و عشرت میں ضائع کیا جارہا ہے ۔ ہر علاقہ کا حاکم وہاں کا سب سے بد کردار شحض بنادیا گیا ہے۔ خدایا! باطل کی اس کھیتی کو اب کاٹ دے۔ تا کہ اپنی بہترین صورت میں نمایاں ہو”۔
    عالم اسلام میں اس پرانی آہ و بکا کی صورتیں اب بھی جاری ہیں۔ٹیکسوں سے مراد وہ مال ہوتا ہے جو حکومت عوام سے مختلف صورتوں میں لیتی ہے اور عام خدمات اور فلاح و بہبود کی مختلف صورتوں میں پھر عوام ہی کو واپس کرتی ہے۔ اس لیے ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے اور اس سے بھاگنا قومی غداری کے شابہ ہے۔
    اچھے نظام والے ملکوں میں یہ شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ ٹیکسوں کی رقم کسی نجی خواہش کی تکمیل میں ضائع کی جائے۔ اس لیے ٹیکس چوروں کو ایسے مجرم سمجھا جاتا ہے جو بدترین الزامات کے لائق اور بڑے عہدوں سے محروم کئے جانےکے قابل ہیں۔
    ٹیکس اور زکوۃ میں فرق یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے کہ نفس کو بخل کی برائی سے پاک کیا جائے اور غریبوں کو مسائل سے نمٹنے میں مدد دی جائے اور زکوۃ کے خرچ کی مدیں متعین ہیں۔ ٹیکسوں کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ انہی سے قوم کا سیاسی، قومی اور تہذیبی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے اور انہی سے نظام حکومت چلایا جاتا ہے ہنگامی حالات مثلا جنگ کی صورت میں ٹیکسوں کی تعداد و مقدار بہت بڑھ جاتی ہے گویا زکوۃ اور ٹیکسوں کے دائرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلام نے زکوۃ کی مقدار اور اس کے مستحقین تعین کر دی ہے۔ پھر اللہ کی خوشنودی کی راہ میں مسلمانوں کے خرچ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے تعلیم وتربیت، دعوت و تہذیب، فوجی ضروریات اور صنعتوں وغیرہ کے میدان بہت زیادہ مالی وسائل چاہتے ہیں۔
    ” نفقہ” کے لفظ میں فرض زکوۃ، نفلی صدقات اور اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کی مختلف شکلیں شامل ہیں کبھی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ کچھ بھی باقی نہ رکھا جاۓ۔
    ترجمہ:۔ اور وہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ کہہ دو جو کچھ تمہاری ضروریات سے زیادہ ہو۔ اللہ نے مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں جنت کے بدلے ۔ (التوبة:١١١)
    یہ ضرورت ٹیکسوں سے پوری ہوتی ہے ۔ بیشتر مسلم ممالک میں نظام حکومت کے بگاڑ اور سر کاری وسائل کے ساتھ کھلواڑ کی بدولت ٹیکس کا لفظ ناپسندیدہ ہوگیا ہے لیکن دیگر ممالک اس مصیبت سے محفوظ ہیں ۔ جو کچھ ٹیکس وبندگان سے لیا جاتا ہے اسے بہترین جگہوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور تیز نگاہوں سے اس کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لہذا زیادہ دولت والے اور صنعتی وغیر صنعتی پیداور کرنے والے اپنی قوموں کے مفادات کی پاسداری خوشی سے کرتے ہیں۔
    ترجمہ:۔ اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے ۔ (آل عمران: ۱۱۵)

    شیخ یوسف قرضاوی لکھتے ہی کہ ہنگامی حالات میں دولت مندوں پر مزید ٹیکس لگائے جاسکتے ہیں۔ شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ ہنگامی حالات کے تقاضوں کو پورا نہ کیا گیا تو خود دولتمندوں کےلیے بھی زیادہ تباہی آئے گی اس لیے زیادہ برائی کو دفع کرنا ضروری ہے۔
    پھر زیب وزینت اور آسائش والی چیزوں پر ٹیکس لگانے میں کوئی خرچ نہیں کیونکہ اس سے غریبوں اور معذوروں کی مدد ہوگی۔ اسی طرح قومی مصنوعات کے تحفظ اور فروغ کےلیے بیرونی مصنوعات پر ٹیکس لگانا بھی بہتر ہی ہے ۔کیونکہ متعدد ممالک اس طریقے سے خود کفالت حاصل کرچکے ہیں۔
    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ

  • شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    پے در پے حکومتوں نے آبادی پر قابو پانے کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا اور یو کے پیچھے غربت کے خاتمے اور سماجی ترقیاتی اسکیموں کی کثرت کو چھپایا۔ 225 ملین افراد کے ساتھ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے۔ تقریبا دو فیصد کی قومی شرح نمو کے ساتھ ، ہر سال کم از کم 4.4 ملین افراد کو موجودہ تعداد میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اضافہ صرف دنیا کے 40 چھوٹے ممالک کی مشترکہ آبادی کے برابر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس موضوع پر مجازی خاموشی ہے۔ یہ قومی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ وسائل اتنے نہیں ہیں جتنی ہمارے ملک کی آبادی ہوچکی ہے اور جسکی وجہ سے آمدن کا زیادہ تر حصہ صرف اور صرف غذائی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے لگ جاتا اور حتی کے ہمارا اپنا ملک اس غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ کیا یہ رویہ اطمینان اور طویل المیعاد چیلنجوں کو ختم کرنے کے رجحان کا نتیجہ ہے ، یا کیا ہمارے رہنما صرف موضوع کو سامنے لاتے ہوئے مذہبی منافرت سے ڈرتے ہیں؟ یہاں تک کہ مارچ میں منعقدہ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ میں بھی ، ہمارے سرسری تعداد سے ملک کے قدرتی اور انسانی وسائل کو لاحق خطرے کو گفتگو میں مشکل سے سمجھا گیا۔ یقینی طور پر ، ہماری سیاسی قیادت وزیر اعظم کی قیادت میں ، جو دیگر غیر معمولی اور اہم عالمی مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں ، اس کے بارے میں بھی اپنی سوچ بچار متعلقہ فورمز پر ڈسکس کرتے ہونگے۔ درحقیقت ، حکومت نے رمضان کے دوران کوویڈ 19 سے متعلقہ SOPS کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوشش کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور علماء کو ساتھ لیا اور ہر مذہبی تہوار پر علما کی رائے کے لئے انکا اجلاس بُلایا جاتا ہے تو کیا آبادی میں اضافے کی شرح کو پائیدار سطح پر لانے کی ضرورت پر مربوط بیانیہ تیار کرنے کے لیے ایسا نہیں کیا جا سکتا؟ بحث کی متنازعہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے ، شاید آبادی کو کنٹرول کرنے کی بجائے خاندانی صحت پر زیادہ زور بھی دیا جا سکتا ہے ، کیونکہ بہت سے لوگ اسے مسلم معاشروں کے خلاف مغربی سازش کے طور پر دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ افرادی قوت کو کم کرنے کی سازش ہے۔ مذہب اور قوم کی سماجی ترقی کے تناظر میں زچگی کی صحت کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی افزائش کی شرح 3.6 کا مطلب ہے کہ اوسطا ایک ماں کے کم از کم تین بچے ہوتے ہیں۔ یہ تعداد پورے جنوبی ایشیا (2.4 فیصد) سے زیادہ ہے ، یہ خطہ خود دنیا میں سب سے زیادہ افزائش کی شرح رکھتا ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق ، تولیدی عمر کی 42 فیصد خواتین کم از کم خون کی کمی کا شکار ہیں۔ تمام لوگوں کے حقوق یقینی طور پر اس حقیقت کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہو سکتی کہ صحت مند مائیں صحت مند بچے پیدا کرنے کی کلید ہیں اور پیدائش کا وقفہ صحت مند خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی خواتین صحت کی دیکھ بھال کے حصے کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ تقریبا دیگر تمام بڑے مسلم ممالک بشمول بنگلہ دیش ، ایران ، ترکی ، ملائیشیا ، انڈونیشیا وغیرہ نے اپنی اپنی حکومتوں کی قیادت میں وسیع اتفاق رائے سے آبادی اصلاحات کو کامیابی سے نافذ کیا ہے۔ پاکستان کو بہت دیر ہونے سے پہلے اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو قابو میں کرنے اور نیچے لانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

    @AtiqPTI_1

  • عمران خان کی زندگی ایک سبق کیوں؟  تحریر: رانا عزیر

    عمران خان کی زندگی ایک سبق کیوں؟ تحریر: رانا عزیر

    عظیم لیڈر کی دو نشانیاں ہوتی ہیں اس کا وہ مخصوص نظریہ جو محض وطن کیلئے ہو اور دوسرا اس نظریہ کو ہر گلی کوچے میں پہنچانے کا ہنر بھی رکھتا ہو۔ جب آپ نے یہ پڑھا تو آپکو اسکو سمجھنے کیلئے تھوڑا سا وقت چاہیے ہوگا۔ اور میں بات کرنے جارہا ہوں صرف اور صرف پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان کی۔ عمران خان سے پاکستان کی قوم کیوں متاثر ہوئی، نوازشریف، زرداری سب اس سیاست کے پرانی پاپی ہیں، ان پر لوگ اتنا کیوں نہیں مرتے۔ اس کی خاص وجوہات ہیں، عمران خان کی ساری زندگی محنت اور جدوجہد میں گزری، زندگی میں بہت سے چیلنجز سے عمران خان اکیلا لڑا، کرکٹ میں پاکستان کے لیے کام کیا، 1992 کا ورلڈکپ جیتا، پھر شوکت خانم کینسر ہسپتال کھولا، پھر پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ ان سب مراحل میں میرے کپتان کو بہت سے لوگوں کی باتوں کو برداشت کرنا پڑا، مگر ہار نہیں مانی، کپتان ڈٹا رہا۔ عمران خان 23 پہلے سے ہی پاکستان کی بربادی، ان ایشوز پر بات کررہا تھا جن پر آج پوری قوم پریشان ہے، بین الاقوامی مداخلت، امریکہ کےزیراثر پاکستان بکتا رہا، عمران خان کھل کر کھڑا رہا، مگر ہار نہیں مانی۔ عمران خان کی سیاسی مقبولیت 2013 میں عروج پر تھی لیکن کسی کو بھی کپتان کی جیت کا یقین نہیں تھا لیکن کپتان ایک بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آیا۔ 2018 کے الیکشن میں عمران خان نے جان کی بازی لگائی اور سخت محنت کی اور وہ اقتدار کے ایوان میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ آج انھیں وزیراعظم بنے 3 سال ہوچکے ہیں۔ اور عمران خان کو انھی چیلنجز کا سامنا ہے جن کا ذکر وہ 23 سال پہلے کرتے رہے، امریکہ آج پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی مدد نہ کی، افغان مہاجرین کو قبول نہ کیا، سی پیک کونہ روکا، تو امریکہ پاکستان کے خلاف ایک نئے محاذ سے سامنے آئے گا۔ کپتان آج بھی ڈٹا ہوا صرف اس وطن کی خاطر کہ میں پاکستان کاسودا نہیں کرونگا۔ عمران خان امریکہ کو نو مور کہتے چلے آرہے ہیں اور اپنی جان اور اقتدار کوخطرے میں ڈال رہے ہیں نگر اس قوم کا سودا نہیں کررہے۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم صرف چند ٹکوں کی خاطر امریکہ کے سامنے ڈھیر ہوجاتے تھے اور آج بھی وہی شخصیات عمران خان کو کہہ رہی ہیں کہ وہ بھی اسی حمام میں آجائے لیکن یہ خان کی سیاسی موت ہوگی اور اس سے بڑھ کر ان کا نظریہ دفن ہوجائے گا کہ نہ عمران خان کسی کے سامنے جھکا ہے اور نہ وہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دے گا۔ آپ اسکی مثال ایسے لے لین کہ عمران خان اور ایک لوہے کی دیوار، عمران خان اس دیوار کو ٹکر مار رہے ہیں اور وہ اگر عمران خان گرانے میں کامیاب ہوگئے جو کہ آخری مراحل میں ہے تو پاکستان کی تقدیر بدلنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی نے مودھی کو ایک رپورٹ پیش کی کہ اگر سال 2021 میں پاکستان کو نہ روکا گیا تو پھر پاکستان کو روکنا مشکل نہیں ناممکن ہوجائے گا۔ اسی ضمن میں دشمن افغانستان میں پاکستان کی ریاست، پاک فوج اور عمران خان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ کسی صورت عمران خان سرنڈر کردے لیکن میرا کپتان ڈٹا ہوا ہے۔ تو عمران خان کی ساری زندگی چیلنجز میں گزری ہے اسی ہارنا بھی آتا ہے اور ہار کر کھڑا ہونا بھی آتا ہے۔ تو اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عمران اپنے اقتدار کو چھوڑ سکتا ہے لیکن اس ملک کا سودا نہیں کرسکتا۔
    اس سے ہمیں ایک سبق حاصل ہوتا ہے، کچھ بھی بغیر محنت حاصل نہیں ہوسکتا، انسان دل و نیت سے کوشش کرتا ہے اور کامیابی اللہ دیتا ہے۔ اورخوف سے لڑنے کا جذبہ، سچ اور حق کیلئے کھڑے رہنے، ہر بار گرنے کے بعد اپنے آپ کو اگلے مقابلے کے لیے تیار رکھنا اور ہمیشہ بڑا خواب دیکھنا اور اللہ پر کامل یقین کبھی بھی انسان کو ناکام نہیں کرتا اور وہ شخص کامیاب ہوتا ہے۔

    @RanaUzairSpeaks

  • پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    ہر انسان چار قسم کے حدود میں زندگی گزارتا ہے جن میں سب سے پہلے ان کی انتہائی ذاتی زندگی کا حد ہوتا ہے جو صرف دو لوگوں یعنی میاں بیوی کے حد تک محدود ہوتا ہے دوسری زندگی ایک شخص کی ذاتی زندگی ہوتی ہے جس کو انگریزی میں پرسنل اسپیس (personal space) کہتے ہیں۔ تیسری زندگی معاشرتی زندگی اور چوتھی زندگی عوامی زندگی ہوتی ہے۔
    آج ہم پرسنل اسپیس کے بارے میں کچھ بات کریں گے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا ہے دوسروں کے پرسنل اسپیس پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سوں کو اپنے حد کا علم بھی نہیں ہوتا اگر کوئی شخص اپنے حد کی حفاظت کر بھی لے تو اس کو خود غرضی کانام دیاجاتا ہے۔
    پرسنل اسپس کو اگر مثالوں سے واضع کیا جائے تو اِس میں ایسے سوالات کا پوچھنا ہے جو سننے والے کو بلکل بھی پسند نہیں ہوں مثلاً آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ شادی کہاں سے کی ہے ؟ اگر کنوارا ہے تو شادی کیوں نہیں کی ؟ آج کل کمزور نظر آرہے ہوں کیوں؟ اِس طرح کے بہت سارے سوالات جن کے جوابات بہت حوصلے والا شخص ہی دے سکتا ہے۔
    اسی دائرے میں سوالات کے علاوہ کئی لوگ عمل کروانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔
    پرسنل اسپیس کے تعین اور اس کے بارے میں بحث کرنے والے علم کو proximics کہتے ہیں اور مغرب میں بچوں کو نو عمری سے یہ علم پڑھایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
    ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں بہت سارے بنیادی حقوق تلف کیے جاتے ہیں ہم ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں کسی ورک شاپ پر یا چائے کے ڈھابے پر کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں جن کی ڈگری اور صلاحیت کو منوانے کے لیے اچھی خاصی رقم اور جان پہچان درکار ہوتی ہے اور ایسے ضعیف العمر افراد نظر آتے ہیں جن کا حق ہے کہ معاشرہ ان کو روزی، صحت اور عزت دیں دے لیکن وہ اس سے محروم ہے۔
    ایسے عالم میں کسی دوسرے کی ذاتی معاملات میں خلل ڈالے بنا ایک باشعور شخص ہی زندگی بسر کرسکتا ہے۔
    اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی بنا پر کسی کے کام آنے سے قاصر ہے تو اس کو خود غرض گردانا جاتا ہیں اور اس کو لالچ، کنجوس اور برا بھلا کہا جاتا ہے اور اگر وہ لوگوں کی باتوں میں آکر سب کو خوش کرنے لگے تو کہیں کا نہیں رہتا۔
    اپنے پرسنل اسپیس کی حفاظت کر کے اور دوسروں کے پرسنل اسپیس کا احترام کر کے آپ خود کو اور دوسروں کو بھی خوش رکھ سکتے ہیں ایک بچے کا مثال ہی لیں لے جو آپ سے تھوڑے فاصلے پر ہنستے مسکراتے کھیل رہا ہو آپ اس کو قریب آنے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں مان رہا اور جب اس کو زبردستی اُٹھا کے لاتے ہیں تو یا تو وہ رونے لگے گا يا اس کے چہرے پر بیزاری آپ دیکھیں گے کچھ بھی نہ کرے تو وہ واپس جانے کی کوشش ضرور کرے گا یہ سب آپ کسی بالغ انسان کے ساتھ نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ آپ کو پہلے ہی منع کردیگا اور آپ اس کو اُٹھا کے نہیں لا سکتے۔
    انسانی زندگی میں بہت سی چیزیں سمجھنے کی ہوتی ہیں اور ہمیں سمجھنا چاہئے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لئے بھی دیا گیا ہے کہ انسان میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    @I_MJawed