Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اسلام اور پاکستان  تحریر: حادیہ سرور

    اسلام اور پاکستان تحریر: حادیہ سرور

    23مارچ1940قرار داد پاکستان کا ایک سنہرا دن ایسے امیدوں کے چمکتے ہوٸے سورج کو لے کے ڈوبا کہ اسکے بعد ہر آنے والا دن اور ان دنوں میں روزانہ ابھرنے والا سورج مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا رہا
    وہ دن دور نہیں کہ اسی مشرق میں ایک ایسا سورج طلوع ہونے والا ہے جسکے مقدر میں ڈوبنا لکھا ہی نہیں۔ یہ پہلا مقدس خطہ ہے جسے صرف اور صرف اسلام کے لیے حاصل کیا جارہا ہے۔
    وہ لوگ جس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے , وہ اسلام کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔
    ان کا مقصد اس ارض پاک کے کونے کونے کو سینماٶں اور تھیٹروں کی زینت بنانا نہیں تھا۔۔۔۔!
    باب ہند سے لٹتے ہوٸے آنے والے قافلے اس جذبے سے اپنا تن من دھن قربان نہیں کر رہے تھے کہ اس بننے والے وطن میں بیٹھ کر ہم اپنے ہی بھاٸیوں کی پُشت میں چُھرا گھونپیں گے اور جو دشمن اس وقت ہمارے سروں پہ وار کر رہے ہیں اپنے بھاٸیوں کے خلاف انہیں کو اپنے جنگی اڈے فراہم کریں گے۔۔۔
    صرف اور صرف اسلام کی خاطر ٹرین میں سفر کرنے والے وہ ہزاروں مہاجرین جن میں بچے,بوڑھے,جوان مرد اور عورتوں سمیت سب کو بڑی سفاکی اور بےدردی کے ساتھ شھید کردیاگیا, انکا مطمع نظر اپنے ہی وطن کی ماٶں, بہنوں اور بیٹیوں کی دشمنوں کے حوالے کرنا نہ تھا۔۔۔!
    وہ چند ٹکے حاصل کرکے اپنے بھاٸیوں کو بیچنے والوں میں سے نہ تھے۔۔۔۔!
    وہ عافیہ کی عزت کے رکھوالے غیرت مند مسلمان تھے۔۔۔۔!
    انہیں کا خون اس شمسِ پاکستان کو دنیا کے کونے کونے میں جلوہ گر کیے ہوٸے ہے۔

    اقتدار کی حرص و ہوس نے تمہیں اپنی روشن تاریخ ماضی سے اندھا کردیا ہے۔
    قاٸد اعظم نے فرمایا اکبر کی طرف دیکھنے کی بجاٸے ہمارے سامنے نبی اکرم محمد صلى الله عليه واله وسلم کااسوہ ہے ۔۔۔۔قیام پاکستان سے قبل 101مرتبہ اور بعد میں 14 مرتبہ کہا کہ پاکستان کے آٸینی ڈھانچے کی بنیاد اسلام اصولوں پر رکھی جاٸیگی۔۔۔۔نواب بہادر یار جنگ نے کہا، اگر پاکستان میں قرآن و سنت کا نفاذ مرآد نہیں تو اسکے لیے ہر کوشش ہرام ہوگی۔ یہ سن کر قاٸد اعظم بولے نواب تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔

    عزم یہ تھا کہ جس طرح الله تعالٰی نے اپنے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کو مدینہ دیا تھا اسی طرح ہمیں پاکستان نعمت کے طور پر دیا ہے جو کام ہمارے نبی نے مدینہ میں کیے وہی کام ہم نے پاکستان میں بیٹھ کر کرنے ہیں۔۔۔

    ذرا سا پیچھے ہٹ کے دیکھو تو تم پھانسی کے پھندے پہ تو چڑھ سکتے ہو, زمین و آسمان کے درمیان ہلاک تو کیے جا سکتے ہو, ضیاء اقتدار سے یکدم پابند سلاسل جیسی ظلمات کی اتھاہ گہراٸیوں میں گر سکتے ہو, اس ارض مقدس سے ذلیل و خوار ہو کے ملک بدر تو ہو سکتے ہو۔۔۔۔لیکن ان شہداء کے خون کو داغدار نہیں کرسکتے جنہوں نے اسلام کے لیے پاکستان کو حاصل کیا تھا۔
    اسلام اور پاکستان کے رشتےکی مضبوطی کا عالم یہ ہےکہ ہزاروں لفظوں کو تراشنے اور لاکھوں جملوں کو سمیٹنے کے باوجود اس مضبوط بندھن کے ملاپ کو ناپا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی گہراٸی تک پہنچا جا سکتا ہے۔۔۔
    الله اس ملک عظیم میں اسلام کا بول بالا فرماٸے (آمین)

    ‎@iitx_Hadii

  • ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم   تحریر: صالح ساحل

    ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم تحریر: صالح ساحل

    آج میں جس موضوع کو اپنا ہدف بنا رہا ہوں اس میں کسی کی کوئ تفریق نہیں ہر شخص کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے کے وہ کہاں کھڑا ہے میں نے اپنے موضوع کے ساتھ بیماری کا لفظ استعمال کیا جو آپ کے لیے تجسس کی بات ہو گی مگر میں نے اخلاقی برائیاں کے ساتھ بیماری کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے اور ہمارے جینز میں شامل ہو چکی ہے اور یہ سرطان کی طرح ہمارے معاشرے کو اندار سے کھوکھلا کرتی جا رہی جن اخلاقی برائیاں کو خدا کے منکر برائ تسلیم کرتے ہیں ان برائیوں پر خدا کے ماننے والے کیسے رو باعمل ہیں ہر شخص مسلمان اپنی گھر سے سیکھ کر آتا ہے کے جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے مگر وہ معاشرے میں کھل کر جھوٹ بولتا ناپ تول میں کمی کرنے والا ہم میں سے نہیں مگر ہر تاجر اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے ذخیرہ اندوزی کر کے مال بنایا جاتا ہے زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کی جاتی ہے غرض یہ کے دنیا کی کوئ ایسی برائی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو پھر ہم اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھنے کے لیے اس اخلاقیات سے دیوالیہ حرکات کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ذلت و رسوائی کا زمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کے اگر ہم آج دنیا میں روندا درگاہ ہیں تو یہ دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ جو کے سراسر خود فریبی اور دجل ہے دنیا میں انہیں قوموں کے مقدر میں ترقی ہوتی ہے جو اخلاقی طور پر ایک قوم ہوتیں ہیں انسان نام رکھ کر حیوانات والے کام کرنے والی قومیں کبھی دنیا میں ترقی نہیں کرتی اس دنیا کی سب سے اعلی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے معترف ان کے دشمن بھی تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی اخلاقی تربیت کا نتیجہ تھا کے قیصر و کسریٰ کی سلطنت آپ کے غلاموں کے قدموں تھی اور وہ عرب بدو جن کو کل تک کوئ گھاس نہیں ڈالتا تھا دنیا کے سپرپاور بن گے قوموں کے فیصلے ان کے اخلاقی وجود پر ہوتے ہیں جس قوم کا اخلاقی وجود مر چکا ہو وہ صحفہ ہستی سے مٹ جاتی ہے اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک چنگیز خان جو ایک چھوٹے سے قبیلے سے اٹھا اور اپنی ساتھ قبائل مل کر آدھی دنیا پر حکمرانی کرنے لگا تو تاریخ اٹھ کر پڑھو وہ ایک با اصول شخص تھا جس کے جھنڈے کے نیچے اس کے باقی قبائل جمع ہوئے مگر جب اس کی نسلوں نے ان اصولوں کو فروش کیا تو صحفہ ہستی سے مٹ گے عرب کی ایک کہاوت ہے کے ظلم پر تو معاشرہ قائم رہ سکتا ہے نا انصافی پر نہیں یہ تمام برائیاں نا انصافی کے زمرے میں آتی ہیں کسی سے جھوٹ بولنا حق تلافی کرنے ذخیرہ اندوزی کرنا کرپشن کرنا ان سب میں نا انصافی نظر آتی ہے اس لیے ہم سب کو معاشرے میں پھیلی بیماری کے ساتھ ساتھ اپنے اندار بھی دیکھنا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کے ہر شخص اس کے خلاف علم جہاد بلند کرے گا معاشرے کو اس ناسوار سے پاک کرنا ہماری زمہ داری ہے آئیں سب مل کر ان برائیوں کا سدباب کریں خدا کے قانون کے مطابق دنیا وہ سرفراز رہیں گے جو دنیا میں اخلاقی اصولوں پر چلیں گے
    ‎@painandsmile334

  • آؤ فرق نکالتے ہیں تحریر:  محمد وقاص شریف

    آؤ فرق نکالتے ہیں تحریر: محمد وقاص شریف

    پچھلی حکومتوں کو کوسنا پاکستانی سیاست کا وطیرہ بھی ہے اور فرض عین بھی
    ذمہ داری کو قبول کرنا ہمارے سیاستدانوں کے خون میں بھی شامل نہیں۔ یہاں ڈنگ ٹپاؤ مہم بڑی کامیابی سے جاری ہے ذہن میں ایک تصور تھا کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کچھ نیا کرے گی
    لیکن اس نے پرانوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو کمینہ کہے تو حق یہ بنتا ہے کہ دوسرا شخص یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے
    کہ وہ کمینہ نہیں بلکہ ایک شریف النفس انسان ہے ایسا کرنے کی بجائے وہ فوراً جواب دیتا ہے۔ کہ تو بھی تو کمینہ ہے
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے فریق اول کی بات کو جھٹلایا نہیں اور وہ واقعی اپنے آپ کو کمینہ ہی سمجھتا ہے۔ ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ ہم اپنی شخصیت کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ ہم لوگ جواب میں دوسرے کو نیچا دکھا کے جان چھڑا لیتے ہیں
    بالکل اسی طرح اس حکومت سے جب اپوزیشن کے لوگ کارکردگی کا سوال کرتے ہیں تو حکومت اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی بجائے یہ کہہ دیتی ہے کہ تمہاری کارگردگی بھی تو خراب تھی۔ پچھلی حکومتوں پر کرپشن کے الزامات ایک طرف مگر ان دو حکومتوں نے ملک بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے
    پاکستان کو ایک نیا چہرہ دیا
    سہولیات کی لائنیں لگا دی۔ مشکلات کے باوجود وسیع پیمانے پر کام ہوئے۔ سرکاری ملازمین پر نوٹوں کی بارش کی گئی۔ لوگوں کو لاکھوں نوکریاں دی گئیں۔ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر مندی کے لیے قرضے اور ادارے دیے گئے سڑکوں کا ایک وسیع و عریض جال بچھایا گیا خصوصا ملک بھر کو موٹروے کے ذریعے جوڑ دیا گیا سی پیک لایا گیا کمال کی ترقی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں اور موجودہ حکومت میں وہ کیا نیا ہے کہ موجودہ حکومت کارکردگی سے کوسوں دور ہے آئیے موازنہ کرتے ہیں۔
    1 پچھلی حکومتیں اتحادیوں کے ذریعے بنیں۔
    2 پچھلی حکومتیں بھی اتحادیوں کی بلیک میلنگ کا شکار تھیں یہ بھی شکار ہیں
    3پچھلی حکومتوں نے بھی ملکی بینکوں سے بے بہا قرضے لیے۔ یہ حکومت ان کا بھی ریکارڈ توڑ چکی ہے
    4 پچھلی حکومتیں آئی ایم ایف کے سامنے گڑگڑائیں۔ یہ بھی سر بسجود ہو چکے ہیں۔
    5 پچھلی حکومتوں کو بھی وراثت میں قرضے ملے۔ موجودہ حکومت کو بھی ان کا سامنا ہے
    6 پچھلی حکومتوں نے بھی سرکولر قرضوں کا سامنا کیا۔ ان کو بھی زیارت نصیب ہوئی
    7 پچھلی حکومتوں میں کرپشن ہوئی لیکن یہ کہتے ہیں کہ کرپشن نہیں ہورہی۔ یہ بھی مان لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مشکلات کا موازنہ کریں تو وہ بالکل برابر ہیں۔ کرپشن کا موازنہ کریں تو موجودہ حکومت پاکباز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان جس چیز کو تباہی کی جڑ قرار دیتے تھے وہ کرپشن اب نہیں ہو رہی تو پھر کارکردگی کہاں ہے۔ 3 سال کا عرصہ بیت گیا۔ نہ نوکری ملی۔ نہ مناسب تنخواہیں بڑھیں
    نہ ترقیاتی کام ہوئے۔ مہنگائی عروج پر چلی گئی۔ ادارے برباد ہوگئے ہیں۔ انتقامی کارروائیاں عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفین کو چن چن کر جیلیں بھری جا رہی ہیں۔ جو کام بڑی خوبی کے ساتھ ہورہا ہے وہ یہی ہے کہ اتحادیوں کی روزانہ کی بنیاد پر پاؤں دبائے جا رہے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے حکومت نا گرے۔ میں کیا بتاؤں سارے خواب چکناچور ہوگئے ہیں۔ غیرت مند خان حکومت بچاؤ مہم میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں۔ کہ کسی کا مرنا۔ گرنا۔ جلنا۔ ٹوٹنا۔ بکھرنا۔ دماغی مریض بن جانا آ س کے لئے کوئی اہم نہیں۔ اگر کچھ اہم ہے تو صرف اور صرف اپنے وجود کو برقرار رکھنا خان صاحب کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے.
    ‎@joinwsharif7

  • آزادی رائے کا اظہار  تحریر: فاروق زمان

    آزادی رائے کا اظہار تحریر: فاروق زمان

    آزادی رائے کسی بھی شخص کا آزادانہ طور پر، اپنے نظریات، خیالات اور رائے کا اظہار ہے۔ اور یہ کسی بھی شخص کا بنیادی اخلاقی حق ہے، ہر انسان اپنی سمجھ بوجھ، عقلی استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے کسی بھی شخص، چیز، یا واقعے کے بارے میں اپنی رائے رکھتا ہے، اور اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کا اظہار کرے۔

    بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے، جب آذادی رائے کے نام پر لوگ کسی خاص، شخص، مذہب، قوم یا نظریات کو نشانہ بنا لیتے ہیں، ان پر بے جا تنقید کرتے ہیں۔ آزادی رائے کا حق بجا ہے، لیکن اس کی آڑ میں اپنے زاتی مفادات کو پورا کرنے کے لیے کسی کی تذلیل کرنا ایک گھناؤنا عمل ہے، آج کل سوشل میڈیا پر آزادی رائے کے نام پر مختلف لوگوں اور شخصیات کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں، مختلف پس منظر کے لوگ کسی بھی سیاسی یا مذہبی شخصیت کے پیچھے لگ جاتے ہیں، ان کی کردار کشی اور تذلیل کرتے ہیں، نازیبا زبان و کلمات استعمال کرتے ہیں۔ اپنے مفادات پورے کرتے ہیں، آزادی رائے کے نام پر اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لوگ عموماً آزادی رائے کے نام پر تمام حدود پار کر جاتے ہیں۔ جو کہ نا قابل برداشت ہے۔ کسی کی بھی تذلیل و تضحیک کرنا، اس کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔تنقید کرتے ہویے، آزادی رائے کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے اختلافات بیان کرتے ہوئے دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔

    دنیا میں”فریڈم آف سپیچ” کے نام پر مسلمانوں، پیغبر اسلام اور اسلام کی تعلیمات کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مغرب ممالک میں مقیم خواتین کے لباس، پردے اور حجاب وغیرہ کی تذلیل کی جاتی ہیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے اور نمونے بنا کر تضحیک کی جاتی ہے۔ اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں۔ یہ خود کو مہذب سمجتے ہیں اور مسلمانوں کو تنگ نظر کہا جاتا ہے، حالانکہ مسلمان فریڈم آف سپیچ کے نام پر کسی قوم کو مذاق کا نشانہ نہیں بناتے، کسی مذہب کی تعلیمات کی تضحیک نہیں کرتے، کیونکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے، اسلام نے سب سے پہلے انسانوں کو بنیادی حقوق اور آزادی رائے کا حق دیا،

    آزادی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شائستگی اور عزت و احترام کے ساتھ اپنا نکتہ نظر بیان کریں، چونکہ آپ بدتہذیبی کا مظاہرہ کریں گے تو اگلا شخص بھی اسی آزادی رائے کا استعمال کرتے ہوئے آپ کے ساتھ ویسا ہی رویہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کے نظریات، خیالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اختلاف رائے کو قبول کیا جانا چاہیے، لوگ صرف خود کو، اپنی بات کو درست سمجھتے ہیں اور دوسرں کو غلط گردانتے ہیں۔ اپنے موقف کو درست سمجھ کر ےاس پر ڈٹ جاتے ہیں، اس سے انفرادی اور اجتماعی طور پر اختلاف جنم لیتے ہیں، جو بعض اوقات سنگین صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

    بعض اوقات آزادی رائے کسی مخصوص طبقے یا شخص کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے، اور آزادی رائے کا اظہار کرنے والوں کو برے انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے، آزادی رائے کے اظہار کے لیے کوئی تحفظ بظاہر فراہم نہیں کیا جاتا، لیکن آزادی رائے کے نام پر بہت سے فسادات بہر حال ہو سکتے ہیں۔

    آزادی رائے کی حدود ہوتی ہیں، یہ مختلف قوموں، مذہبوں، نظریات اور مزاجوں کی دنیا ہے۔ آزادی رائے کے نام پر کہے جانے والے الفاظ کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ آزادی رائے کے نام پر شر نہ پھیلائیں، شدت پسندی اور فسادات کو ہوا نہ دیں۔ معاشرے کے بگاڑ کا سبب نہ بنیں بلکہ متوازن سوچ اور مثبت رویے سے اپنی رائے کو دوسروں تک تعمیری انداز میں پہنچائیں۔ اپنی حدود و قیود پہچانیں، کسی کے دل آزاری کا سبب نہ بنیں، بلکہ اصل حقائق کے ساتھ زمہ درانہ طریقے سے اپنے آزادی رائے کے حق کو استعمال کریں۔۔

    فاروق زمان

    ‎@FarooqZPTI

  • عورتوں کے حقوق تحریر  نوید خان

    عورتوں کے حقوق تحریر نوید خان

    عرصے بعد قلم اُٹھایا تو ذہن میں کافی موضوعات گردش کر رہے تھے دلِ ناداں روٹین سے ہٹ کر کچھ مختلف لکھنے کے موڈُ میں تھا تو سوچا آج صنف نازک پر کالم نگاری کی جائے۔۔
    انسان شعور کی دنیا میں جب قدم رکھتا ہے تو اُسکا سب سے پہلے واسطہ ایک عورت سے ماں کی صورت میں پڑھتا ہے
    ماں اللّٰہ کی طرف سے پیش کئے گئےعظیم تحفوں میں سے ایک تحفہ ہے
    انسان کا پہلہ پروٹوکول دراصل اُسکی ماں ہے
    عورت کے کئی روپ ہیں
    عورت اگر ماں ہے تو جنت ہے
    اگر بہن ہے تو حوصلہ
    اگر شریکِ حیات ہے تو جینے کی وجہ اور ہر خوشی غمی کا ساتھی
    اگر بیٹی ہے تو رحمت
    اگر حالاتِ حاضرہ کا انصاف کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو زہن و گمان میں ایسے کئ ظالمانہ واقعات آتے ہیں جوکہ ثابت کرتے
    انسان ہر دور میں عورتوں پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج تک عورتوں کو اُسکا جائز حق دینے سے انکاری ہے
    دینِ اسلام میں عورتوں کو پورے حقوق دینے کے واضح احکامات ہیں
    خوش بخت ہیں وہ عورتیں جو ماں جیسی عظیم و شان مقام پر فائز ہیں خوش بخت ہیں وہ اولادیں جنکی جنّتیں دنیا میں بھی اُن کے ساتھ ہیں
    ہمارے معاشرے میں کہی تو عورتوں کی قابلیت کے قِصࣿے ہیں چرچے ہیں
    تو کہی
    خواتین کو مارا جا رہا ہیں
    اُنکے چہروں پر تیزاب پھینکا جارہا ہیں اور
    عورتوں کو بے توقیر کیا جا رہا ہیں
    یہ ہماری بد بختی ہیں
    اگر ماں جیسی عظیم ہستی اولڈ ہوم میں ہے
    بہن کو جائیداد میں حصہ نہیں ملا
    اور بیوی اپنے جائز حق سے محروم ہے
    خواتین ڈے پر تقریبات اپنی جگہ
    خوبصورت الفاظ اپنی جگہ
    پر اس ظلم کو بند ہونا جاہئے
    ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عورتوں کو اُن کے بنیادی حقوق دے
    اُن کو مضبوط کرے
    میری تحریر میرے الفاظ بے اثر ہے اگر لکھے کو پڑھنا نصیب نا ہو
    میں سماج کی اُن فرسودہ روایات کو ختم کرنا چاہتا ہوں جو کہ کسی عورت کو عزت سے اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنےکیلئے کئے گئے کاموں میں رُکاوٹ بنتی ہیں
    میں اُن خواتین کا ذکر بھی کرنا چاہونگا
    جو گلی کے بے کار لونڈوں کی آسمانوں سے باتیں کرتی بے کار اور جھوٹی محبت کا شکار ہو کر خود کو اذئیت دیتی ہے
    یا پھر ساحل پر اُن کشتیوں کا انتظار کرتی ہیں جوکہ اُس سمندر میں موجود ہی نہیں ہوتی۔۔
    شاید مردوں کو میری یہ بات پسند نا آئے
    اور وہ یہ شِکوہ کرے کہ ایک مرد ہو کر آپ نے اپنا قلم اور لفظوں کو مردوں کے خلاف استعمال کیوں کیا پر قابل اور زمانہ شناس لوگ شاید اس بات کو سمجھے کہ میں اپنا فائدہ اپنی ذات اور مفادات کو کسی تحریر پر اثر انداز نہیں کر سکتا میں سچ بولنے کا پابند ہوں
    ہم مرد حضرات بہت خوبصورتی سے کسی خاتون کے دل میں محبت کا احساس اُس وقت جگاتے ہیں جب تک اُسے یقین نہیں آجاتا
    پھر ہمارا دل بھرنے لگ جاتا ہیں
    اور ہم مجبوریوں کا بہانا کرکے کنارہ کر لیتے ہیں یہی ہماری حقیقت ہیں
    یہ ہماری اقدار کبھی نہیں تھی
    بنتِ حوا کے نرم لہجے نے
    ابنِ آدم بگاڑ رکھے ہیں
    جو سچ کہوں تو بُرا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
    یہ سماج جہل کی زَد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے

  • آنلائن شاپنگ فراڈ  تحریر : عقیل احمد راجپوت

    آنلائن شاپنگ فراڈ تحریر : عقیل احمد راجپوت


    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں روپے روز کی آنلائن شاپنگ کی جاتی ہیں لیکن دنیا بھر میں کسٹمرز کے ساتھ ہونے والے دھوکوں نے عوام کا آنلائن شاپنگ کمپنیوں سے اعتبار ختم کردیا ہے کیونکہ بہت سی آنلائن کمپنیوں نے عوام کے ساتھ کئے جانے والے دھوکوں میں شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا موبائل کے ڈبے سے موبائل کی جگہ پتھر نکالتا ہوا کسٹمر زندگی بھر آنلائن شاپنگ نہیں کرے گا پاکستان میں سب سے بڑی آنلائن کمپنی دراز پر بھی فراڈ ہوئے جس کے بعد اس نے اپنی ساکھ کو نقصان سے بچانے کے لئے ان سلیبریٹیز اور کچھ عام لوگوں تک ان کی مطلوبہ اشیاء پہنچا کر اپنا معیار بچانے کی کوشش کی مگر ہزاروں لوگوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر یہ فراڈ ہورہےہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں
    پاکستان میں کنزیومر کورٹ کے بارے میں لوگوں کو بہت کم آگاہی ہے جس کا فائدہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اٹھاتی ہے اس پر باقاعدہ ایک آرٹیکل لکھ رہا ہو جو بہت جلد دستیاب ہوگا آنلائن خریداروں سے گزارش ہے کہ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے ڈیلر کی ریٹنگ اور پروڈکٹ کے بارےمیں عوام کی رائے کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد ہی اس چیز کی حقیقت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے بہت سی اچھی کمپنی بھی ان دھوکے باز لوگوں کی وجہ سے اپنے کاروبار کو فروغ نہیں دے پاتی جس سے پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچتا ہے مگر کون ہے جس کو اس جانب توجہ ہو ہر ایک بس اپنی مستی میں مگن ہیں آنلائن کمپنیوں کے بارے میں ایک باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے جو آسان اور ہر انسان کی دسترس میں ہو آنلائن کام کرنے کے خواہشمند لوگوں کو حکومتی سطح پر رجسٹرڈ کیا جائے تاکہ دھوکہ دینے والوں کے خلاف کاروائی ہوسکے مگر فلحال تو کوئی بھی کسی بھی برانڈ کی انٹرنیشنل تصویر لگا کر فیس پک پر بکنگ شروع کر دیتا ہے اور سادہ لوح عوام اس کے دھوکوں میں پھنس کر اپنے سینکڑوں ہزاروں روپے گوا بیٹھتے ہیں حکومت سے اس جانب توجہ دینے کے لئے میں اور بہت سے لوگوں کی جانب سے لکھا اور کہا جاچکاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس چور بازاری کی گرفت کے لئے کب تک قانون سازی کی جائے گی اور عوام کی جیبوں سے نکلنے والے ان کے حلال کے پیسوں کو لوٹنے سے بچایا جاسکے گا آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے اپنے پیسوں کو لوٹنے سے بچانے کے لئے کچھ ہدایات جو لکھی گئی ہیں ان پر عمل کرے اور دوسروں تک بھی پہنچائیں
    شکریہ

  • قوم اور عوام ‏تحریر:ملک شوکت محمود

    ۔
    حضرت قائد اعظمؒ نے ہمیں ایک قوم کی طرح ایک مقصد پر جمع کیا تھا۔نباض امت اقبال ؒ نے اس قوم کی فکری آبیاری کی تھی۔ مولانا محمود الحسنؒ اسیر مالٹا، مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا محمد علی ؒجوہر اور مولانا شوکت علی ؒجیسے رہنما ئے امت نے اس قوم کو عملی جدوجہد کا سبق سکھایا تھا۔لیکن ہم یہ سب کچھ بھول گئے۔علماءاور دینی جماعتوں نے اسلام کی تبلیغ کی بجائے ہمیں اسلام آباد کے راہوں کی ترغیب دی۔سیاستدانوں نے روٹی کپڑا اور مکان کا سراب دکھایا اور یہ قوم ان قسم کے مشرکانہ نعروں کو اپنا ہدف سمجھ کر ان کے پیچھے لگ گئی۔ رازق تو اللہ کی ذات ہے اور یہ وصف صرف اسے ہی سزا وار ہے ہاں اس کے لئے جدوجہد انسانوں کے لئے شرط ہے۔لیکن اگر ہم اپنے جیسے انسانوں کو ہی ان مسائل کا حل سمجھ لیں تو عذاب خداوندی کا سروں پر مسلط ہونا عبث نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم قوم سے عوام بن گئے، ایک دوسرے سے غافل، ہمارا سب سے بڑا مقصد کرکٹ ورلڈ کپ جیتنا رہ گیا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو بھی رومی حکمرانوں کی طرح عوام کو بے وقوف بنانا آتا ہے،کیونکہ زمانے بدلنے سے تقاضے بدلتے ہیں روش یا تاریخ نہیں۔
    قوم کو متحد اور منظم رکھنا ایک باکردار با عمل لیڈر رہنما کی اولیں ترجیح ہوتا ہے،جبکہ بد قسمتی سے ہمیں قائداعظم کے بعد نہ ہی تو کوئی سیاسی لیڈر رہنما ملا اور نہ ہی ہم عوام نے کبھی خود قوم بننے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ہر کسی نے ان سیاسی مداریوں کو ہی بار بار منتخب کروایا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی انفرادی مفادات کے حصول کیلئیے انکو ہی اپنا خیرخواہ سمجھا،جس کی بدولت ہم عوام کبھی لسانیت کے نام پر اور کبھی مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر آپس میں الجھے رہتے ہیں،جس سے ہماری اخلاقیات تہذیب اور فلاحی سوچ رکھنے والوں کی نیک خواہشات کا جنازہ نکلنا شروع ہوتا گیا،اور پھر نتیجے میں میرا جسم میری مرضی،جیسی تنظیمیں ملک میں نمودار ہونے لگیں۔اور ہم قوم سے عوام رہنے کو ترجیح دیتے رہے،کبھی ملکی ترقی اجتماعی اور عوامی فلاح و بہبود جیسے منصوبوں تک ہماری سوچ نہیں پہنچ پائی،کیونکہ سیاستدانوں نے ہمیں انفرادی سوچ کی شخصیت کا حامل بنا کررکھ دیا ہے۔قومیں کبھی اپنے ملک کی املاک کی توڑپھوڑ، قومی خزانے کی چوری، کرپٹ عدلیہ،کرپٹ سیاسی مافیاز،راشی بیوروکریٹس اور صحافی پیدا نہیں ہونے دیتیں۔
    جس معاشرے میں استاد کو حقارت اور ایک کرپٹ بیوروکریٹس کو عزت سے نوازہ جاتا ہو وہاں قومیں نہیں عوامی انتشار پسند ٹولے،فرقہ وارانہ اجتماعات،اور ظالم حکمران ہی پیدا ہوتے ہیں۔اسلامی اور خاندانی اقدار ہی ختم ہو چکی ہیں،جس معاشرے میں بھائی کے ہاتھوں بہن اور باپ کے ہاتھوں بیٹی تک کی عزت نیلام ہونے لگے پھر ایسا معاشرہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواہاں کیسے ہو سکتا ہے۔موجودہ پاکستان میں تقریبا %59 فیصد لوگ پڑھے لکھے اور باشعور ہونے کے باوجود سنگین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں کیوں۔؟وجہ تعلیم کی کمی نہیں تربیت کا بحران ہے۔

    آج 73 سال گذرنے کے باوجود بھی ہم عوام کا ہجوم ہیں قوم نہیں۔

  • حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق کی عظمت

    حضرت عمر فاروق ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی رسولﷺ ہیں جو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ہیں آپ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں 583ہجری میں ہوئی۔
    نام۔ عمر
    والد کا نام۔ خطاب
    والدہ کا نام۔ خنتمہ
    جو ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں
    ابو بکر صدیق ؓ کی وفات کے بعد 22 جمادی الثانی سنہ 13ہجری کو مسند خلافت پر فائز ہوئے، آج بھی عمر بن خطاب ؓ ایک انصاف پسند عادل حکمران تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ رض تاریخ اسلام کی وہ نامور شخصیت ہیں جو بہادری کی وجہ سے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے ہی مشہور تھے۔ امام ترمذی رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی اسی وجہ سے حضرت محمدﷺ نے بحضور الٰہی التجا کی کہ اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ اللہ رب العزت نے حضرت محمدﷺ کی دعا قبول کی اور سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے ذریعے اسلام کو عزت دی۔ آپ ؓ کے قبول اسلام سے قبل مسلمان مشرکین قریش سے چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے لیکن جب آپ ؓ نے اسلام قبول کیا تو آپ نے اعلان کیا کہ آج سے مسلمان اپنی عبادات علی الاعلان کریں گے۔
    عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ:”بے شک سیدنا عمر ؓ کا قبول اسلام ہمارے لئے فتح تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے مگر حضرت عمر ؓ کی وجہ سے ہم نے مشرکین کا مقابلہ کیا اور خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنا شروع کیں۔”
    اسی دن سے سیدنا عمر ؓ کا لقب فاروق رکھ دیا گیا یعنی حق وباطل میں فرق کرنے والا۔ آپ کو لقب فاروق اور کنیت ابو حفص دونوں حضورﷺ نے عطا کیے ہیں۔
    ہجرت کے وقت کا واقعہ:
    کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہ کی۔
    آپ نے تلوار ہاتھ میں لی اور کعبہ کا طواف کیا پھر کفار سے مخاطب ہو کر فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی بیوہ اور اس کے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ مکہ سے باہر آ کر میرا راستہ روکے، مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ راستہ روک سکے۔
    قبول اسلام کے بعد آپ کا حضور ﷺ سے ایسی محبت تھی کہ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی ہے ایک مرتبہ ایک مسلمان اور یہودی کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا اس تنازع کے حل کے لیے وہ دونوں حضور حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوئے حضور ﷺ نے دلیلوں کی بنیاد پر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا مگر وہ مسلمان اس فیصلے پر مطمئن نہیں ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ مقدمہ حضرت عمر فاروق کے پاس لے جاتا ہوں وہ اسلام کی وجہ سے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیں گے مگر جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس مقدمے کا فیصلہ پہلے سے حضور ﷺ کر چکے ہیں، تو فوراً تلوار اٹھائی اور اس مسلمان کا سر قلم کر دیا جس مسلمان نے حضور ﷺ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تھا
    رسول اللہﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے
    آپؓ کے دسترخوان پر کھبی دو سالن نظر نہیں آئے آپؓ سر کے نیچے اینٹ رکھ کر خالی زمین پر بھی سو جاتے تھے۔ آپ کے کپڑے میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے
    ایک مرتبہ عمر فاروقؓ مسجد میں منبر رسولﷺ پر کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک بندہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ” اے عمرؓ ہم تیرا خطبہ نہیں سنیں گے جب تک آپ ہمیں یہ نہ بتاؤ کہ یہ جو تم نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یہ کپڑا آپ کے پاس زیادہ کہاں سے آیا حالانکہ جو بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہوا وہ تو کم تھا تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ مسجد میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے تو فوراً عبداللہ بن عمرؓ کھڑے ہو گئے تو اس وقت حضرت عمر فاروقؓ بولے بیٹا بتاؤ تیرے باپ نے یہ کپڑا کہاں سے لایا ہوں ورنہ میں کھبی بھی اس منبر رسولﷺ پر کھڑا نہیں ہوں گا پھر ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر فاروقؓ نے بتایا کہ بابا جان کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت کم تھا اس سے ان کے پورے کپڑے تیار نہیں ہو سکتے تھے اور ان کے پاس پہننے والا لباس بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد محترم کو دیا
    جن کے بارے میں کفار اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام میں اگر ایک عمر اور آتا تو آج پوری دنیا میں صرف اسلام پھیلا ہوتا۔
    آپﷺ نے حضرت عمر فاروق کے بارے میں فرمایا تھا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر فاروقؓ ہوتا
    27 ذی الحجہ کو
    خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ کو نماز فجر میں خنجر سے زخمی کیا گیا،
    جو 4 دن بعد یکم محرم کوجام شہادت نوش فرماگئے۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے حالات وواقعات تحریر:سمیع نیازی

    پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے حالات وواقعات تحریر:سمیع نیازی

    السلام عليكم قارئين میں آپ کی خدمت میں اپنا پہلا ارٹیکل لے کر حاضر ہوا ہوں جہاں ہم بات پاکستان کرکٹ کی کریں گے جس ُملک میں میری طرح کروڑوں شائقین کرکٹ ہے دل و جان سے کرکٹ کو فالو کرتے ہے جس میں ہماری ٹیم ہیمں بہت مایوس کر دیتی ہے ایسی ٹیموں سے ہارنا جس سے بندہ توقع ہی نہیں کر سکتا جس کی ہال ہی میں بڑی مثال زمبابوے سے ہارنا ہے اور انگلینڈ کے مین کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں ان کی بی ٹیم سے ہارنا اور یہی ٹیم بعض و اوقات ایسے کارنامے سر انجام دیتی ہے بندہ حیران و پرشیان ہو جاتا ہے یہ ٹیم ایسا بھی کر سکتی ہے جس کی بڑی مثال چئمینز ٹرافی 2017 ہیں جو ٹیم ِاس ٹورنامنٹ کے شروع ہونے سے پہلے دگ و دو میں تھی کہ کس طرح اس ٹورنامنٹ کےلیے کولیفائی کرے جیسے تیسے ہم نے کولیفائی تو کرلیا لیکن میرے سمیت سب کا یہی خیال تھا یہ ٹیم جائيں گی انگلینڈ گھوم کے واپس آ جائیں گی اس ٹیم کا ٹورنامنٹ کیا ایک میچ بھی جیتنا مشکل ہے اور پھر ِاس بات پہ مُہر اس وقت ثابت ہوئی جب ہم اپنا پہلا میچ انڈیا سے ہار گئے اس ہارنے کے بعد پھر تو جیسے پاکستانی ٹیم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہ رہی اور ناقدین نے ہر طرف سے تنقیِد نشتر چلا دیے کہ اِس کو ہٹاؤ اس کو لاؤ اِس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی ُاس کی نہیں بنتی یہ پرچی وہ سفارشی یہ سب سننے اور سہنے کے بعد تو جیسے پاکستان ٹیم زخمی شیر بن گئ پھر اس نے نہ تاؤ دیکھا نہ بھاؤ جو ٹیم سامنے آتی گئ اُسی کو رگڑتی گئ جنوبی افریقہ جیسی نمبر ون ٹیم ہو یا آپنی جیسی سرلنکا (یہ بات یاد کراتا چلوں اگر اس میچ می عامر اور کپتان سرفراز نہ ہوتے تو ہم نے میچ ہار جانا تھا ہم نے آسانی والا میچ بھی ٹف بنا دیا تھا) پھر اِن کو ہرانے کے بعد ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ خطرناک اور ہوم ٹیم انگلینڈ کو انھی کے گراؤنڈ میں سیمی فائنل میں شکست دی اور آخر میں ہمارا ٹاکرا ایک بار پھر فائنل میں بھارت سے ہو گیا جہاں ہم ان سے پہلے میچ میں بُری طرح ہار چکے تھے اور ہمارے پڑوسی اس بات پر جشن منا رہے تھے کہ ہمارا مقابلہ پھر اُس کمزور ٹیم سے ہو رہا ہے جس کو وہ پہلے ہی ہرا چکے ہے آسانی سے وہ بھول چکے تھے یہ ٹیم بلکل بدل چکی ہے اور پھر دنیا نے دیکھا اِس ٹیم نے دنیا کی خطرناک ٹیم کو بُری طرح شکست سے دو چار کیا اور پہلی دفعہ چمیئنز ٹرافی کا چمپینز بنا جس ٹیم کو کولیفائی کے لیے لالے پڑے ہوئے اس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ "we are unprdctable” انگلینڈ کے سابقہ کرکٹر اور موجودہ مشہور کمنٹیٹر ناصر حیسن نے کیا خوب کہا تھا کہ
    Pakistan Cricket Is The Best One Minute Down
    Next Minute Up
    اس کے بعد تو پاکستان کرکٹ ٹیم ون ڈے اور ٹیسٹ تو مرجھا گئ لیکن ٹی ٹونٹی میں تو وہ دو سال چھائی رہی اور لگاتار گیارہ سیریز جیتنے والی ٹیم بن گئ اور دو سال ائی سی سی کی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں نمبر ون رہی اسی اثنا میں وقت گزرتا گیا اور 2019 کا میگا ایونٹ آن پنچہا اور حسب توقع ہماری کارگردگی اونچ نیچ ہی رہی جس میں ہم پہلا اور دوسرا میچ ویسٹ انڈیز اور انڈیا سے بُری طرح ہار گئے اور تیسرے میچ میں اسٹریلیاں نے ہمیں شکست دے دی ان شکستوں کے بعد پاکستان نے انگلیڈ نیوزیلینڈ جنوبی افریقہ بنگادیش اور افغانستان کو شکست دی اور ہما را سری لنکا والا میچ بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا ہم پہلے دو میچ ُبری طرح ہارنے کی وجہ سے پاکستان ٹیم کا رن ریٹ اچھا نہ ہو سکا اور ہم ٹورنامنٹ کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئے اور اس کے بعد پھر رونا دھونا شروع ہو گیا کہ کپتان کو ہٹا دو کوچ کو ہٹا دو اسی رونے دھونے میں پاکستان ٹیم کے کپتان مکی ارتھر کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ناتجربے کار کوچ مصباح الحق کو لگا دیا گا اور ان کا ساتھ بولنگ کوچ وقار یونس نے دیا جن کو پہلے بھی دو تین دفعہ خراب کارکردگی پر فارغ کیا جا چکا تھا کوچنگ سٹاف کو تبدیل کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ جس گروانڈ کے ہم لوگ شیر تھے جہاں ہم نے بڑی بڑی ٹیموں کو شکست دی ہوئی UAE میں آکر سری لنکا نے دو ٹیسٹ میچوں میں شکست دے دی اور یہی نہیں اُسی سریلنکا ٹیم نے آکر پاکستان میں پاکستان کو ٹی ٹونٹی میں وائٹ واش کیا اور ان شکستوں کے پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا جس کی قیادت میں پاکستان ٹیم ملسل دو سال نمبر ون ٹیم رہی کوئی ٹیم اسے شکست نہ دے سکی اسے ایک بُر سیریز کے بعد کپتانی سے ہٹا دیا گیا ُاس کے بعد سے سرفراز ٹیم کے ساتھ تو ہوتے ہے لیکن پلنگ الیون جگہ نہیں بنا پاتے سرفراز کے بعد کپتانی کا سہرا بابراعظم کے سر سجایا گیا جس کے بعد ان کی زاتی کارکردگی تو اچھی ہے لیکن ٹیم اچھی گارکردگی مظاہرہ نہیں کر پا رہی اگر 2019-20 کے بعد جائزہ لیا جائے تو تو پاکستانی باہر جا کر اچھا پرفارم نہیں کر پائی اگر کہیں جیتی بھی ہے تو وہ محالف ُملک کی بی ٹیم سے جس کا سہرا مصباح الحق اور وقار یونس کے سر جاتا ہے مصباح الحق کو کرکٹ سے ِرٹائرمنٹ کے بعد پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ لگا دیا گیا ان کا کوچنگ میں کوئی تجربہ نہیں تھا وہ صرف ایک دفعہ پاکستان سُپر لیگ میں ِاسلام آباد یونائٹڈ کی کوچنگ کی تھی جس میں ِان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخر میں تھی جو کہ یہی ٹیم PSL کے دو سیزن جیت چکی تھی اس لیے میں کہتا ہوں پاکستان کا بیرا غرق مصباح نے کیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں وہ ایک بہت ہی زبردست کرکٹر اور کپتان تھے لیکن یہ بات اپنی جگہ صیح ہے کہ ایک اچھا کرکٹر ایک اچھا کوچ نہیں بن سکتا اور مصباح نے آپنے کیس میں یہ ثابت کر کے دیکھایا ہے اب بات کرتے ہے بولنگ کوچ وقار یونس کی جو آپنے دور میں بہترین فاسٹ بولر تھے جن سے دنیا کے بڑے بڑے بٹسمین ڈرتے تھے وقار یونس اور وسیم اکرم کی جوڑی مشہور تھی یہ دونوں W تن تنہا میچ جتوا دیتے تھے یہ بات لازمی نہیں کہ ایک اچھا کھلاڑی ایک اچھا کوچ ثابت ہو وقار یونس کے مامعلے میں تو بالکل ہی ایسا ہے جن کوچنگ کرئیر داغ دار رہا جیسا کہ 2011 کے ورلڈ کپ میں پاکستان بہت اچھا کھیل رہا تھا اپنے راؤنڈ میچوں میں صرف ایک میچ ہارا تھا جس کے بعد پاکستان سمی فائنل گیا جہاں ُان کا مقبالہ بھارت سے تھا جب ٹاس ہوا تو حیرانگی طور پر ٹیم شعب اختر موجود نہیں تھے جو کہ راؤنڈ میچوں میں بہت سے میچ اپنی بولنگ سے جتوا چکے تھے لیکن وہ سیمی فائنل میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے یہ میچ پاکستان بھارت سے ہار گیا تھا جب بعد میں شیعب اختر سے پوچھا گیا تو انھوں جواب دیا وہ مکمل فٹ تھے لیکن وقار یونس نے ان کو جان بوجھ کر نہیں کھلایا 2015 کے ورلڈ کپ میں کوچ وقار یونس تھے جن کو بُری پرمارمنس کی وجہ سے ٹیم سے جدا کر دیا گیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد ان کو پھر کوچ لگا دیا گیا اور 2016 کے ٹی ٹوںنٹی ورلڈ کپ میں کوچ تھے اور ُاس ٹورنامنٹ میں پاکستان بہت ُبرا کھیلا جس کے بعد ان کو میڈیا عوام نے بہت کوسا جس سے انھوں نے تنگ آکر استعفا دے دیا اور جناب آج کل پھر پاکستان ٹیم کے کوچ ہے اور دو ماہ بعد ایک بار پھر ٹی ٹو ئنٹی ورلڈ کپ آ رہا ہے اور ُامید ہے جناب اس بار آپنی روایتی کارکردگی نہیں دیکھائے بلکہ کچھ اچھا ہی کریں ورنہ شاید مصباح اور وقار ٹیم کے ساتھ رہے
    امید کرتا ہوں آپ کو یہ میرا پہلا ار
    ٹیکل بہت پسند آیا ہو گا آج سالگرہ بھی ہے تو وش کر دیجے گا انشاالللہ اگلے ارٹیکل میں پھر ملاقات ہوتی ہے تب تک کے لیے الللہ حافظ

    Twitter id : SamiNia19670549

  • نیا پاکستان تحریر:آفاق احمد

    وزیر اعظم عمران خان نے تاریخی ٹیکس اکھٹا کی۔جو اس سے پہلے کسی نے نہی کی تھی۔رکارڈ ٹیکس ہے۔جس کا دعوہ عمران نے اپنے الیکشن کمپین میں کیا تھا اور یہ ٹیکس اس وقت اکٹھا کیا تھا جس وقت پوری دنیا کی اکانومی بیٹھ گئ تھی۔اور کورونہ کہ وجہ سے پاکستان بھی بہت متاثر رہا لیکن پھر بھی اللہ کے خاص فضل و کرم سے بہت سے ممالک سے بہتر رہا پاکستان ۔اور اس دوران پاکستان نے 4732 بلین ٹیکس اکٹھا کیا تھا 2020۔2021 میں جو کہ 4691 بلین کے ہدف سے زیادہ ہے اور اس دفعہ اکتالیس ارب زیادہ ہیں۔

    2۔برآمدات میں اضافہ
    ملکی برآمدات میں رکارڈ اضافہ ہوگیا ہے یعنی 25۔3 بلین ڈالر پہ پہنچ گیا ہیں۔جو کہ ایک رکارڈ اضافہ ہوگیا ہے جو کہ پہلے نہی ہوا تاریخ میں۔اس میں پاکستان نے ٹیکسٹائل میں،چمڑے، اور سپورٹس میں بہت کام کیا آئی ٹی کی مصنوعات جارہی ہیں اور جو آنے والے سال میں پاکستان نے جو ہدف رکھا ہے وہ 35 ارب ڈالر ہے جو کہ امید کی جاتی ہے انشاء اللہ پورا ہو جائے گا جو کہ پاکستان کو ایکسپورٹ کرنی ہے اس میں چاول ہے زراعت ہے مکئی ہے اس میں گندم ہے جو کہ پاکستان میں بڑھ رہی ہے اور پاکستان اس کو مہنگے داموں فروخت کرینگے اور امید ہے 10 ارب ڈالر کا زیادہ ٹارگٹ پورا ہو جائے گا

    3۔مہنگائی پر قابو پانا
    سالانہ بنیادوں پر جو مہنگائی کی شرح تھی وہ بڑھتی جا رہی تھی اور اس کے بارے میں سب لوگ تنقید کر رہے تھے کہ مہنگائی پر قابو پا نہ سکا عمران خان کی حکومت نے اور یہ عمران کی حکومت کی بیڈ گورنس ہے تو اس مہنگائی کی وجہ سے نئے اعداد وشمار آگئے تھے جو ادارہ ہے اس نے ایک رپورٹ دی تھی کی مہنگائی کی شرح کم ہو کر 8۔9 تک آگئی۔جو کہ قابل تعریف ہے اور عام آدمی کی زندگی میں اور بہتری آجائیں گی ڈان کی رپورٹ میں بھی مہنگائی کی شرح کم بتایا تھا

    4۔گردشی قرضہ کم ہونا
    جب عمران کی حکومت ائی تو پتہ چلا کہ نواز حکومت نے مہنگی بجلی لی بھی اور بن بھی مہنگی ہو رہی ہے اور مہنگے معاہدے بھی کیں ہے لیکن پاکستان میں یہ طاقت ہے کہ وہ زیادہ بجلی بنائے لیکن تواتر کے ساتھ لوگوں کو دینا مشکل ہے کیونکہ لائن ٹوٹ جائےگی اور پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔اور آنے والے وقت میں اور بھی مہنگی ہو جائے گی کیونکہ ہم نے بجلی کو اس وسائل سے بنا رہے وہ بہت مہنگے ہے اور بجلی مہنگی لینے پڑے گی تب تک جب تک ہم پانی سے رونیویبل سورس سے نہ ونڈ سے سولر سے وغیرہ اور نواز شریف کے دور میں 1200 ارب گردشی قرضہ تھا لیکن پی ٹی آئی نے اس کو کم کیا ہے اوت کم کر رہے ہے اور وہ معاہدے سستی کئیں

    ٹویٹر آئی ڈی ۔۔۔ ‎@afaq6464