Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • زانی کی سزا تحریر:حناء سرور

    زانی کی سزا تحریر:حناء سرور

    ۔
    زانی کی سزا: سورۃ النور (آیت ۱ سے ۹ تک) میں زنا کرنے والوں کی سزا اور اس کے متعلق بعض احکام بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ اور جس کے احکام کو ہم نے فرض کیا ہے۔ اور اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔ آگے آنے والی آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص بدکاری کا عادی ہواور توبہ نہ کرتا ہو مگر کسی وجہ سے اُس پر حد جاری نہیں ہورہی ہے تو اس کا نکاح پاکدامن عورت کے ساتھ نہ کیا جائے۔ زنا کی حد جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس جرم عظیم کا خود اعتراف کرے یا پھر چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے دونوں کو اس حالت میں پایا کہ ایک کی شرمگاہ دوسرے کی شرمگاہ میں موجود تھی۔ چونکہ کسی مرد یا عورت کو زنا جیسے بڑے گناہ کا مرتکب قرار دینے پر سخت سزا دی جاتی ہے۔ اس لیے صرف دو گواہ کافی نہیں ہیں بلکہ چار گواہوں کی گواہی کو لازم قرار دیا گیا، اور ان گواہوں کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر چار گواہوں کی گواہی ثابت نہیں ہوسکی تو تہمت لگانے والوں پر ۸۰کوڑے مارے جائیں گے۔ قرآن کریم حضور اکرم ﷺ پر نازل فرماکر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ وہ قرآن کریم کے مسائل واحکام کو کھول کھول کر بیان فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے قول وعمل کے ذریعہ بیان فرمایا کہ سورۃ النور میں وارد حدِّ زنا اُس مردو عورت کے لیے ہے جس نے ابھی شادی نہیں کی ہے اور زنا کا خود اعتراف کیا ہے یا چار گواہوں کی چند شرائط کے ساتھ گواہی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ یعنی اُس کو سو کوڑے ماریں جائیں۔ ’’فاجلدوا‘‘ لفظ جَلْد کوڑا مارنے کے معنی میں ہے، وہ جِلد سے مشتق ہے، کیونکہ کوڑا عموماً چمڑے سے بنایا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ جَلْد سے تعبیر کرنے میں اس طرح اشارہ ہے کہ یہ کوڑوں کی سزا اس حد تک رہنی چاہئے کہ اس کا اثر انسان کی کھال تک رہے، گوشت تک نہ پہونچے۔ نبی اکرم ﷺ نے خود کوڑے کے متعلق عملاً یہ تلقین فرمائی کہ کوڑا نہ بہت سخت ہو جس سے گوشت تک ادھڑ جائے اور نہ بہت نرم ہو کہ اس کی کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے۔ لیکن اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے قول وعمل سے بتایا کہ اُس کی سزا رجم (سنگساری) ہے۔یعنی شرعی ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو زندہ زمین میں اس طرح گاڑا جائے کہ اس کا آدھا نچلا حصہ زمین میں ہو اور جسم کا اوپر والاآدھا حصہ باہر ہو۔ پھر چاروں اطراف سے اُس پر پتھر برسائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ صحابۂ کرام نے بھی شادی شدہ شخص کے زنا کرنے پر رجم (سنگساری) ہی کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے قول وعمل اور صحابۂ کرام کے عمل پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ چار گواہوں کی شہادت کے ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو رجم (سنگساری) ہی کیا جائے گا۔ اگر زنا ہوجائے تو ظاہر ہے کہ عمومی طور پر دنیا میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے حد جاری نہیں کی جاسکتی، لیکن پہلی فرصت میں توبہ کرنی چاہئے اور پوری زندگی اس جرم عظیم پر اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا اور گڑگڑانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادے اور آئندہ زنا کے قریب بھی نہ جاناچاہئے کیونکہ زنا کرنے والے شخص سے اللہ تعالیٰ بات بھی نہیں فرمائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے، اگر زنا سے سچی توبہ نہیں کی.

  • امام حسینؓ ، دلیری و شجاعت کی داستان    تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    امام حسینؓ ، دلیری و شجاعت کی داستان تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    حسینؓ بن علیؓ کا یہ ایثار و قربانی تاریخ دین اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو ہر رہروان منزل شوق و محبت و الفت ، ایمان والوں کیلٸے ایک عظیم ترین نمونہ ہے۔ کربلا کے میدان میں حسینؓ بن علیؓ اور شہدا ٕ کربلا ؓ نے یزید معلون کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا
    دس محرم الحرام کو زمین و آسمان نے کربلا کے میدان میں حق وباطل کا محیّرالعقول سانحہ دیکھا کہ جب حاکمیتِ الہیٰ اور شریعتِ محمدی ﷺکے تحفّظ و بقا کے لیے امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے یزیدیت کے سامنے سَر جھکانے کی بجائے اپنے ساتھیوں کو خاتم النبیین ﷺ کے دین اسلام پر قربان کردیا۔

    قارئين اکرام!8 ذی الحج 6 ہجری کو مکے مکرمہ سے روانگی کے وقت اپنے ساتھیوں کو جمع فرما کر ایک خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص راہ اللہﷻ میں جان قربان کرنا پسند کرتا ہو وہ میرے روانہ ہو ۔ہم ان شاء اللہ صبح ہوتے ہی یہاں سے روانہ ہوجاٸے گے ۔ حسینؓ بن علیؓ اس سے باخبر تھے کہ آپؓ کے فرائض امامت کا اہم جزو کربلا میں شہادت تھا۔ حسینؓ بن علیؓ اپنے شہادت کا تذکرہ اپنے نانا جان حضرت مُحَمَّد ﷺ سے بچپن سے سنتے آرہے تھے۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خاتم النبیین حضرت مُحَمَّد ﷺ نے فرمایا مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ میرا بیٹا حسینؓ بن علیؓ میدان کربلا میں شہید کر دیے جائیں گے اور جبرائیل علیہ السلام میرے پاس مٹی اس میدان کربلا کی لائے ہیں کہ یہی ان شہادت ہوگی

    حسینؓ بن علیؓ جب میدان کربلا پہنچے تو یزید معلون کو بڑی دلیری شجاعت سے کہا کہ میں تیری بیعت نہیں کرونگا ۔حسین ؓ بن علیؓ نے ظلم و جبر کے آگے شہادت کو گلے لگانے کو فوقیت دی ۔امام حسینؓ نے دین اسلام کی سر بلندی سے یزید معلون سے لڑنا بہتر سمجھا اور ارشاد فرمایا شہادت کو ترجيح دی

    یزیدی لشکر کے ایک سپاہی عبد ﷲ بن عمار کہتے ہیں حضرت حسین ؓ بن علیؓ کا محاصرہ ہوا تو اللہ کی قسم کہ میں نے حسینؓ بن علیؓ سے پہلے اور بعد کوئی ایسا بشر نہیں دیکھا ،جو کثیر دشمنوں کی تعداد میں اس طرح گھیرا ہوا ہو اور انکے ساتھیوں کو شہید کر دئے گیا مگر پھر بھی امام حسینؓ صبروتحمل کی اعلی مثال بنے رہے ۔شب روز حسینؓ بن علیؓ کی مصیبت بڑھتی جاتی آپ ؓ کے وقار و تمکنت میں اضافہ ہوتا جاتا اور انکے چہرے مبارک کی تا بندگی بڑھتی رہتی ۔

    امام حسینؓ نے ایک ایک کرکے عزیز و اقارب اور اپنے جگر گوشوں کو خاک و خون میں نہاتے دیکھا آپ ؓ کے سامنے معصوم بچّوں و بچیوں کے سینے زہر آلود تیروں سے چھلنی کیا جارہے تھے اور بھوک و پیاس سے نڈھال بچّیوں کی صدائوں سے کربلا کی فضائیں لرزتی رہیں، یہاں تک کہ امام حسینؓ نے خود بھی سیکڑوں دشمنوں کے سَر قلم کرتے ہوٸے شہید کردٸیے گے، امام حسینؓ کے جسم مبارک پر ٣٣ زخم نیزوں کے ٤٣ تلواروں کے اور آپؓ کے پیرہن شریف میں ١٢١ سوراخ تیر کے تھے۔جنگ کے دوران میں تین دن تک بھوک پیاس میں رہے مگر شجاعت و دلیری کے وہ جوہر دکھائے جس سے دشمن حیران و پریشان حال رہا۔ ساری لڑائی میں دشمن پر ہیبت و خوف کے بادل چھائے رہے ۔ اور مظلوم انسانیت کو یہ سبق دیا کہ وقت کے یزیدوں کے سامنے کبھی نہ جُھکنے چاہیے

    سانحہ کربلا دراصل تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم سانحہ ہے کہ جس نے تاریخ کے اوراق میں امام حسینؓ کی شجاعت و صداقت کے ایک نہایت روشن باب کا اضافہ کرکے مسلمانوں کو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ جانے کا شعور دیا۔ امام حسینؓ ؓنے ثابت کیا کہ اگر یقین محکم اور مقصد نیک ہو اور اللہ پر کامل یقین ہو تو رائے حق میں آنے والے مصائب و آلام اور باطل قوتوں کی دولت و طاقت کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں رہتی ۔یہی وجہ ہے کہ امام حسینؓ بن علیؓ کی قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔

    حسینؓ بن علیؓ کی رگوں میں خون خاتم النبیین ﷺ ہے ۔آپ کے بازوں میں قوت علی حیدرؓ ہے ۔آپ جیسا کوئی شہسوار نہیں ۔ کیونکہ آپ نے دوش رسول ﷺ پر سواری کی ہوئی ہے۔آپ جیسا کوئی دلیر و بہادر نہیں ہے، اس لئے کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی شجاعت و صداقت بخشی تھی ، آپ مظہر شجاعت رسول ﷺ تھے ۔ کربلا میں یزید معلون حق پر نہیں تھا اور حسینؓ بن علی ؓ حق پر تھے جس کی وجہ سے اب ساری دنیا کہتی ہے کہ یزید معلون تھا اور حسینؓ بن علی ؓ ہیں

    ‎@HamxaSiddiqi

  • ‏امام حسینؓ کی سخاوت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏امام حسینؓ کی سخاوت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    امام حسینؓ بن علی ؓ کی ذات گرامی فضائل اخلاق کا مجموعہ تھی ۔آپؓ بہت عبادت گزار ، عاجز و بہادر ،روزے دار، سخاوت پسند تھے ۔امام حسینؓ کی سخاوت کا ذکر گرامی صرف فرش والے نہیں بلکہ عرش والے بھی کرتے ہیں

    ہمارے مُعاشرے میں جو شخصيت جس قَدربلند مرتبے کی حامل ہوتی ہے وہ عاجزی و انکساری جیسی عظیم صِفات  سے عاری ہوتی ہے مگر قربان جائیے !امام حسینؓ کے اندر یہ صِفات بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔آج اگر کوئی اس دنیا  کے کسی  منصب پر فائز ہوجائے یا  اُسے کوئی بڑا عُہدہ مل جاتا ہے تواُس کے اُٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے، وہ غریبوں سے ملنا،ان کے دکھ سکھ میں ساتھ دینا تو دُور کی بات اُنہیں دیکھنا تک پسند نہیں کرتے ہیں ۔ایسے متکبر لوگوں کو امام حسینؓ کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنا چاہیے۔

    ایک دفعہ ایک فقیر در دولت آ پہنچا ۔امام حسینؓ اللہ ﷻ کی عبادت میں مصروف تھے ۔ایسے میں اس فقیر کی آواز آپؓ کو سنائی دی امام حسینؓ نے فورا عبادت مختصر کی اور اپنے ساتھی سے پوچھا کیا ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی ہے؟؟ ساتھی نے عرض کی کہ آپؓ نے ٢٠٠ درہم اہل بیت میں تقسیم کیلٸے دیٸے تھے وہ ابھی تک تقسیم نہیں کئے۔ امام حسینؓ نے فرمایا یہ تمام درہم لے آﺅ اب اہل بیت سے زیادہ ایک حق دار آ گیا ہے ۔لہذا امام حسینؓ نے یہ دو سو درہم کی تھیلی اس فقیر کو دے دی سبحان الله، آپؓ اکثر غریب و مسکین کے گھروں میں خود کھانا پہنچاتے تھے۔

    امام حسینؓ  کی شان کے قربان  کہ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ دعوت کرنے والے خود مسکین و مفلوک الحال ہیں ایک دفعہ امام حسین کے راستے میں فقرا بیٹھے کھانا کھا رہے تھے آپؓ کو دیکھ کر فقرا نے آپؓ کو اپنے ساتھ کھانا کھانے کو کہا ۔ امام حسینؓ نے گھوڑے سے اترے اور ان کے ساتھ کھانا تناول کیا۔ اور ارشاد فرمایا میں نے آپ کی دعوت قبول کی ،اب آپ میرے ساتھ میرے گھر میں دعوت قبول کرو۔ پھر آپؓ نے فقرا کو اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلایا۔

    اِس سے ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ جب  بھی کسی کی دل جُوئی  کرنے مثلا ً ضرورت مندوں کی  مَدَد کرنے،انکے کی غمگساری  کرنے، انکی کی عیادت  کرنے ،انکے فوت شدہ احباب کی تعزیت کرنے ،ان کی دعوت قبول کرنے الغرض جب بھی اِس طرح کے مَوَاقع ملیں تو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ محتاجوں اور غریبوں کا  دل خوش کرکے ثوابِ عظیم کا حَقْدار بننا چاہیے.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • میاں بیوی جنت تک کا ساتھ تحریر ۔فرزانہ شریف

    دنیا کے خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک رشتہ میاں بیوی کا بھی ہے جب دو انسان نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو ایک قسم کا عہد ہوتا ہے ہردکھ درد ۔خوشی غم میں ایک دوسرے کا مضبوط سہارا بنیں گے نہ کہ کسی ایک پر آزمائش آنے پر بدنسلوں کی طرح دوسرے منڈھیروں کی تلاش میں نکل جائیں گے تو میں کہہ رہی تھی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے سکھ چین کے ساتھ ہوتے ہیں میاں بیوی کو چاہئیے اگر ہوسکے تو آپس میں پیار محبت بڑھانے کے لیے اور ساتھ اپنی دلی خوشی کے لیے بھی ہر موقع پر ایک دوسرے کو مہنگے تحائف دینے کی بجائے ایک دوسرے کی خاطر چند سطریں لکھ دیا کریں یا پھرچوری کے کچھ اشعار کا سٹیٹس لگا کر اپنی اپنی زندگی میں ایک دوسرے کے کردار پر خوشی اور اعتماد کااظہار کردیا کریں چوری کے اشعار اس لیے کہہ رہی ہوں اب ہر کوئی شاعر یا شاعرہ تو ہو نہیں سکتے چوری چکاری سے ہی کام چلانا پڑے گا ناںْ۔رشتے بنانے آسان ہیں نہ نبھانے۔ عام طور پر زیادہ تر لوگ اپنے شریک حیات کی خامیاں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ خوبصورت پاکیزہ رشتہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔
    ہمیشہ ایک دوسرے کی خامیوں کو نظرانداز کیا کریں اور خوبیوں کو سراہا کریں ہے بلکہ سرِ عام سراہا جایا جانا چاہئیےیہی ہمارے رشتے کی خوبصورتی ہے۔۔
    میرے نزدیک اس بات میں کوئی قباحت نہیں کہ آپ اپنے ساتھی کی تعریف کریں اسکے ساتھ کو اپنی خوش نصیبی سمجھیں اور برملا اس کا اظہار بھی کریں

    اکثر دیکھا جاتا ہے کچھ خواتیں جب گھر سے باہر جاتی ہیں خوب بن سنور کرواپس گھر آتے ساتھ سب سے پہلے وہ اپنا سارا بناو سنگار ختم کرتی ہیں حالانکہ یہ بہت غلط بات ہے اپنے شوہر کے لیے بننا سنورنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔۔شوہر کے لئے بن سج کر رہیں۔ پرفیوم، ماؤتھ واش وغیرہ کا استعمال روٹین میں کریں۔ نیل پالش ریموور بھی پاس رکھیں تا کہ نماز سے پہلے نیل پالش اتار کر وضو کیا جا سکےاپنے شوہر اور سسرال کے سامنے اپنے میکے کا بھرم رکھیں۔ اگر میکے میں اپنی بھابیوں سے کچھ ان بن ہو، یا کسی اور کے ساتھ مسئلے مسائل ہوں، تو بھی شوہر کو ان سلسلوں میں مت ڈالیں۔ بالکل اسی طرح، میکے کے سامنے سسرال کا بھرم رکھیں۔ سسرال کو ٹاپک بنا کر غیبت میٹنگ کو عادت نہ بنائیں سسرال جو اپ کو اپنے گھر کی عزت بناکر لاتے ہیں ان کو کبھی اپنا دشمن نہ سمجھیں بلکہ ان میں گھل مل جائیں کہ یہ ہی اچھے خاندان کی بیٹی کی نشانی ہوتی ہے
    ہر رشتے کو مضبوط ہونے میں وقت کے ساتھ ساتھ کوشش بھی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے اس رشتے میں بھی بہت سے اُتار چڑھاؤ آتے ہیں ۔ بہت دفعہ ان بن ہوجاتی ہے لیکن اس رشتے میں کبھی آنا کو آنے بلکہ اپنے پاس بھٹکنے بھی نہ دیا جائے
    کہتے ہیں میاں بیوی کی لڑائی ناراضگی کے بعد صلح اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط ترکردیتی ہے لیکن کوشش یہ ہی کرنی چاہئیے اگر شوہر غصے میں ہو کسی وقت تو بجائے ٹر ٹر جواب دینے کے صبر سے خاموش ہو جائیں اگر خاموش رہنا مشکل تو وقتی طور پر آگے پیچھے ہوجائیں جب دونوں کا غصہ ختم ہوجائے تو پھر آرام سے اپنی بات کا نقطہ نظر سمجھائیں۔۔ کبھی کوئی ایسی ویسی بات اپنے بیڈروم سے باہر نہ نکلنے دیں ۔اسے چھوٹی سی ٹپ سمجھ لیں لیکن یہ چھوٹا سا عمل کبھی آپ کے رشتے کو کمزور نہیں ہونے دے گا۔مانیں یا نہ مانیں لیکن رشتوں کو کمزور ہمیشہ دوسروں کی مداخلت ہی کرتی ہے۔
    ہاں اگر آپ خود معاملات سلجھانے کی سکت نہیں رکھتے تو کسی اپنے سے مشورہ کر لیا کریں لیکن بلا ضرورت کسی کو ذاتی معاملات تک رسائی نہ دی جائے تو بہتر ہے۔
    اپنے شوہر کی تعریف کرنے میں کبھی کنجوسی نہ کریں جی بھر کر ان کی تعریف کریں لاڈ کریں انھیں اپنا اتنا عادی بنالیں کہ انھیں آپکے بنا ایک پل چین نہ ملے
    اگر اسے آپ میری بولڈنیس سمجھنا چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ معشوق کی خاطر عشقیہ شاعری پوسٹ کر کر کے ہلکان ہونے والی قوم اگر اپنے اپنے حقیقی ساتھی کی شان میں بھی کچھ پوسٹ کر دیا کریں تو یہ بالکل شرمندہ ہونے والی بات نہیں۔بلکہ یہ چیز ایک مثبت کردار ہی ادا کرے گی۔
    ایک دوسرے کے والدین کی بہت عزت کریں ایک دوسرے کےرشتہ داروں کو مان دیں عزت دیں ۔یہاں ایک اور ٹپ دینا چاہوں گی کہ اگر کوئی اپنی بیوی کے دل میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو وہ بیوی کے والدین کی بھی اتنی ہی عزت کرے جتنی وہ بیوی سے اپنے والدین کیلئے چاہتا ہے۔
    کہتے ہیں عورت کی وفاداری دیکھنی ہو تو شوہر کی تنگدستی میں دیکھو اور میں کہتی ہوں کہ اگر شوہر کے ساتھ نبھانے کے وعدے پرکھنے ہوں تو بچوں کی پیدائش اور پرورش کے دوران اس کا کردار دیکھ لو
    آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں کہ
    زندگی میں کچھ ایسے حالات و واقعات بھی ہو جاتے ہیں جن کا اثر آپ سے زائل نہیں ہوپاتا اور وہ آپکا ماضی نہیں بن پاتے۔ اور آپ کے دل پر بوجھ ہونے کے ساتھ آپ اپنی نئی زندگی شروع نہیں کر پاتے۔ اور پھر کوئی ایسی بات جو کسی اور کے منہ سے سن کے آپکے تعلق پر اثر پڑے آپ خود اعتماد میں لے کے بتا دیں تو بہتر ہے۔ اور پھر کسی بھی تعلق میں سچائی، اعتماد اور بھروسہ ہی اس کی بنیاد ہوتی ہے۔
    اللہ تعالی آپ کے حلال رشتوں میں برکت فرمائے ایک دوسرے کا سکون بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نصیب ہو آمین ثمہ آمین

  • نواب آف کالا باغ  تحریر: محمد اسعد لعل

    نواب آف کالا باغ تحریر: محمد اسعد لعل

    23 مارچ 1940 میں جب منٹو پارک میں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قراردادِپاکستان منظور ہوئی تو اس کے بعد قائداعظم نے اپنے تنظیمی ساتھیوں سے تقریر کرتے ہوا کہا کہ ہمیں لوگوں کو بیدارکرنا ہے،لوگوں میں ایک تحریک پیدا کرنی ہے اور اس کے لیے ہمیں فنڈز چاہیے ہوں گے۔کیوں کے لوگوں تک بات چیت کو پہنچانے کے لیےبہت سارے لوگوں کو مختلف جگہوں پر سفر کرنا پڑے گا،بہت ساری چیزیں لکھنی اور پھر چھپوانی پڑیں گی۔ اس دور میں یہ ایک مشکل کام بھی تھا۔وہ ایک نیا ملک بنانے جا رہے تھےاور اس کے لیے بہت زیادہ فنڈزکی ضرورت تھی۔
    تحریک کے جتنے ساتھی وہاں موجود تھے انہوں نے قائداعظم کے سیکرٹری کو چندا جمع کروانا شروع کر دیا۔لوگ چندا جمع کرواتے اور واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتے۔ شورقہ کی دوسری صف میں سے ایک لمبے قد کا نوجوان کھڑا ہو ا۔جس نے سر پر لنگی سجائی ہوئی تھی۔اس نوجوان نے رعب دار آواز میں کہا سیکرٹری صاحب جتنا چندا ان سب نے مل کر جمع کروایا ہےاُتنا ہی چندا آپ میری طرف سے جمع کر دیں۔
    قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ وہاں بیٹھے تمام شورقہ دنگ رہ گئے۔ قائداعظم نے نواب ممتاز دولتانہ سے پوچھایہ نوجوان کون ہے۔ دولتانہ صاحب نے بتایا کہ یہ ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے دولتانہ صاحب سے کہا کہ آپ میری ساتھ والی کرسی چھوڑ دیں تاکہ میں اِنہیں عزت کے طور پر اپنے ساتھ بیٹھاؤں۔
    یہ عزت نواب آف کالا باغ کو اس لیے نہیں دی کہ ان کے پاس بہت زیادہ جاگیریں تھیں بلکہ اس لیے دی کہ وہ زیادہ ڈونیٹ کر رہے تھے،زیادہ حصہ لے رہے تھے آزادی کی تحریک میں۔اور اُس وقت برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ ڈونیشن آکسیجن کا درجہ رکھتی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح یہ اچھی طرح جانتے تھےکہ کس کو کب اور کہا بٹھانا ہے۔
    عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نواب لوگوں کی بڑی بڑی جاگیریں ،ان کی دولت،ان کا دبدبا اوران کے سامنے سلطنت کے لوگوں کےجھکے سر اُن کی پہچان ہوتی ہے۔لیکن نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی زندگی میں ان کی پہچان ان کی جاگیر نہیں تھی،ان کی نوابی نہیں تھی،ان کا کنٹرول نہیں تھا بلکہ ان کی پہچان اپنی مٹی سے محبت اور ان کے اصول تھے۔
    ملک امیر محمد خان سالٹ رینج کے سرخ پہاڑوں کے درمیان بہتے ہوئے شیر دریائے سندھ کی دھاروں کا نواب تھا۔کیوں کہ وہاں سے دریائےسندھ بل کھاتا ہوا گزرتا ہے اور یہیں پہ تو کالا باغ ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔نواب ملک امیر محمد خان 20 جون 1910 میں کالاباغ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔نواب صاحب نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ان کا شمار ملک کے سب سے بڑے جاگیر داروں میں ہوتا تھا۔
    کالاباغ کو "کالا باغ "اس لیے کہتے ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے بہت پہلے ماضی میں شہر کے اندر برگد کا بہت بڑا باغ بنایا تھا۔درخت جب بڑے اور گھنے ہو گئے تو دور سے دیکھنے پرکالے رنگ کے معلوم ہوتے تھے۔اس لیے یہ جگہ آہستہ آہستہ کالا باغ کے نام سے مشہور ہو گئی۔
    1956 میں انہوں نےمغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ گئے۔مغربی پاکستان کے اس وقت کے وزیراعلیٰ کا نام نواب افتخار حسین تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب نواب امیر محمدخان کے علاوہ کسی سے نہیں ملتے تھے۔بلکہ ملنا گوارا ہی نہیں کرتے تھے۔اور وہ چاہتے تھے کہ نواب صاحب کو وزیر بنایا جائے لیکن نواب صاحب نے انکار کر دیا۔پھر صدر سکندر مرزا کی جانب سے انہیں وزارت کی پیشکش ہوئی جس کو انہوں نے ان تاریخی جملوں کے ساتھ رد کیا۔انہوں نے کہا "میرے لیے یہ ممکن نہیں ٹکے ٹکے کے ممبران کے سامنےجواب دوں اور بات بات پر جنابِ سپیکر، جنابِ سپیکرکی گردان کروں۔” یہ ان کی شخصیت کا ایک رنگ تھا۔
    پھر ایوب خان صاحب نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی ۔جنرل ایوب خان نے نواب صاحب کی تمام شرائط مان لیں ، جیسا کہ آپ کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہوں گے،آپ سے کوئی سوال نہیں کر سکے گا،آپ کو کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑے گا اور آپ خود مختیار ہوں گے۔ انہیں مغربی پاکستان کے گورنر کا عہدہ دیا گیا اور انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
    نواب امیر محمد خان کا طرزِحکمرانی ان کے قردار کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نواب صاحب کی حکمرانی آنے والے حکمرانوں کے لیے مثال بن گئی۔آج بھی عام آدمی ان کی طرزِحکمرانی کی مثال دیتا ہے۔جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آج جو مہنگائی ہے اگر نواب امیر محمد صاحب ہوتے تو یہ نہ ہوتا۔ان جیسی اقتدار کی طاقت نہ پہلے کسی نے استعمال کی نہ ان کے بعد کوئی ایسی ہمت کر سکا۔منصب پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے خاندان سے کوئی شخص بھی گورنر ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکتا۔
    جب وہ اہم تعیناتی کے لیے انٹرویوکرتے تو خاندانی پسِ منظر تک پتہ کرتے۔ان سے سوال کیا گیا کہ نواب صاحب اتنی احتیاط کیوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ تو گھوڑا اور کتا خریدتے وقت اس کی نسل دیکھتے ہیں ، یہ تو میرے ملک کا معاملہ ہے۔
    حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ ان کے دور میں ایک پانچ سال کا بچہ اغوا ہو گیا۔نواب صاحب نے ایس ایس پی کو بلوایا اور 24 گھنٹے کا ٹائم دیا کہ بچہ ڈھونڈ کے لاؤ، مگر پولیس ناکام ہو گئی۔نواب نے اگلے دن "اے ایس پی،ایس پی اورایس ایس پی” تینوں کے بیٹے اُٹھوائے اور کالا باغ بھجوا دیے۔اور علان کروا دیا کہ جب تک اغوا ہونے والا بچہ نہیں مل جاتا ان آفسران کے بچے بھی ان کے گھر نہیں آئیں گے۔یہ فارمولا کا م کر گیا اور اسی دن ہی بچے کو بازیاب کروا لیا گیا۔اس طرح کا انصاف انہوں نے کیااور یہی وجہ تھی کہ وہ کہتے تھے میں کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گا۔
    جب 1965 میں پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو نواب صاحب نے تمام تاجروں کو طلب کیا اور کہا کہ جنگ کا دور ہے میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کسی نے ذخیرہ اندوزی کی یا کسی نے سامان کو مہنگا بیچنے کی کوشش کی تو پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔جنگ کے دوران انہیں خبر ملی کے ایک تاجر زیادہ پیسوں پر گندم فروخت کر رہا ہےتو نواب صاحب بنا سکیورٹی کے اس تاجر کے پاس پہنچ گے اور کہا کہ "تم یہ سمجھتے ہو کہ امیر محمدجنگ میں مصروف ہے اور تم من مانی کر لو گے۔میری مونچھ کو تاؤ آنے سے پہلے نرخ اپنی جگہ پر لے آؤ ورنہ ایسی سزا دوں گاکہ رہتی دنیا یاد کرے گی۔” اور اس کے بعد پورے مغربی پاکستان میں ان کے دور میں کوئی ایک شکایت بھی نہیں آئی کہ کوئی شخص کسی چیز کو زیادہ قیمت پر بیچ رہا ہے یا ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے۔
    نواب صاحب طبعی موت نہیں مرے تھے۔یہ ایک الگ حقیقت ہے جس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ نواب صاحب ایک قیمتی آدمی تھے۔ نواب صاحب کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔کالا باغ نواب آف کالاباغ کی وجہ سے مشہور ہے اور نواب آف کالا باغ کا درجہ ملک امیر محمد خان کی وجہ سے مشہور ہے۔اور ملک امیر محمد خان اپنی جاگیر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی گورننس کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی  پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستانی عوام کی بار بار اپیل وزیز اعظم پاکستان کا اعتراف کہہ ہم مہنگائی مافیا کو قابو کریں گے لیکن اس سب اعلانات کے باوجود غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے آپ کو یاد ہوگا پچھلے دنوں وزیر اعظم صاحب نے خود گلہ کیا تھا کہہ جو تنخواہ ان کو ملتی ہے اس میں گھر چلانا مشکل ہوتا ہے

    گھریلو ں استعمال یعنی ضروریات زندگی میں اضافہ مصنوعی ہے یا اصلی قلعے اس سب کی زمہ دار تو حکومت ہی ہے حکومت وقت کو ایسی پالیسی بنانی چائیے کہہ ضروریات زندگی کی اشیاء میں کمی نہ ہو اور مصنوعی قلت پیدا کر کے کوئی بھی مافیا اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے
    حکومت وقت کو ایسی معاشی پالیسی دینی ہوگی جس سے طلب و رسد کی قوتیں فیر متوازن نہ ہوں یعنی کھانے پینے ضروریات زندگی کی اشیاء نہ کہہ زیادہ ہوجائیں اور ان کو بنانے والوں کا نقصان ہو اور نہ کم ہوں کہہ غریب آدمی مہنگائی کی چکی میں پس جاۓ

    اس سال سٹیٹ بینک نے جو مہنگائی کا تخمینہ لگایا تھا جو اعداد شمار جاری کیے تھے زمینی حقائق ان سے بلکل مختلف ہیں حیران کن طور پر شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوا ہے پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کا بحرانوں کے مصنوعی ہے اور غیر معمولی گراں فروشی ناقابل فہم ہے ہمارے ہاں منافع خور مافیا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا کر بے تحاشا ناجائز منافع کما رہی ہے۔جن کو حکومت قابو نہیں کر رہی اور عوام انہی ناجائز فروشوں اور زخیرہ کرنے والوں کیوجہ سے مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے

    ارض پاک میں دولت کی واضح غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرے میں معاشرتی بے چینی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ نوجوان نسل چوری ڈکیتی راہزنی بھتہ خوری میں مبتلا ہو رہی ہے۔ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے
    ملک میں چینی مافیا آٹا مافیا گھی مافیا گوشت خصوصا چکن مافیا کی اپنی من نانیاں عروج پر پیں
    باقی اشیاء ضروریہ دالیں انڈے گندم پیاز ٹماٹر آلو یعنی کھانے پینے کی تمام اشیاء میں بوش ربا اضافہ نے غریب کا جینا مشکل کر دیا ہے حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اگر مہنگائی والے ایشو کو سیریس نہ لیا اور صرف ترجمانوں کے زریعے پریس کانفرنس میں اپوزیشن کو ہی ابھی تک مہنگائی کا زمہ دار ٹھہراتے رہے تو آئندہ آنے والے الیکشن میں بھی ناقابل تلافی نقصان ہوگا
    مہنگائی کے جن کو قابو کر لیا تو تحریک انصاف کی حکومت اگلے آنے والے الیکشن میں کامیابھی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے

    @ChAttaMuhNatt

  • میرے قائد محمد علی جناح  تحریر: مدثر حسین

    میرے قائد محمد علی جناح تحریر: مدثر حسین

    قائد اعظم محمد علی جناح جس نے ہندوستان کے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک الگ آزاد اور خودمختار ریاست کا تحفہ دیا ویسے تو جدوجہد آزادی تو 1857 میں ہی شروع ہو چکی تھی۔ مگر ہر بار کی طرح اس قوم کو تقسیم کیا جاتا رہا جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔لیکن اس وقت ان کو کوئی ایسی قیادت نہ مل سکی جو متحد کر کے جدوجہد آزادی کا آغاز کرے بالآخر ایک عظیم انسان کی صورت میں ایک لیڈر قائداعظم محمد علی جناح مل گیا۔

    جو ہندوستان کے مسلمانوں کا اور علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل کرنے کے لیے کافی تھا۔ گویا اس خواب کی تعبیر کا وقت آن پہنچا قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی سیاسی بصیرت کے ذریعے مسلسل جدوجہد کی وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اب کبھی بھی انگریزوں کی غلامی نہیں کر سکتے۔

    اور نہ ہی ہندوستان کے دوسرے مذاہب کے ساتھ مسلمان اکٹھے رہ سکتے ہیں پس یہی وجہ تھی کہ دو قومی نظریہ پیش کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہندو اور مسلمان اب اکٹھے نہیں رہ سکتے اس بات کی نفی کبھی بھی نہیں کی جا سکتی آج ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے۔ کہ اس وقت ایک الگ ریاست کا قیام کتنا ضروری تھا۔

    اس وقت دوراندیش لیڈر یہ جان چکے تھے مسلمانوں کی آزادی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ان کی آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ اس جدوجہد میں شامل پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی داستانیں ہم پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ اور جدوجہد آزادی کی داستانیں اتنی درد ناک ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھیں آشک بار ہو جاتی ہیں۔

    ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی ایک تاریخ رقم کی اپنی قربانیوں کی ہماری علماء کرام نے جو اپنی جانوں کے نزرانے پیش کیے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کلمہ حق بلند کرتے کرتے سولی پر چڑ گئے۔

    ان قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد اور خودمختار قوم ہیں اے قائد اعظم محمد علی جناح تیرا اس قوم پر احسان ہے احسان جسے ایک پہچان دی جسے ایک نام دیا پاکستان کا قیام ایک انقلاب تھا۔آو آج ہم ایک عہد کریں دشمن جتنا بھی طاقتور اور چالاک کیوں نہ ہو ہمیں کبھی ہار نہیں ماننی اور کبھی بھی طاقتور کے سامنے اپنا سر نہیں جھکانا نہ گھٹنے ٹیکنے ہیں مقاصد کے حصول کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

    اس وقت کے مسلمانوں کی قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی جانی و مالی قربانیوں کے نتیجے میں آج ہماری نسلیں آزاد، خودمختار اور محفوظ ہیں اے بابائے قوم محمد علی جناح تیرا نام تاقیامت چمکتا رہے گا آپ کی قبر پر رحمتوں کا نزول ہوں اللہ تعالٰی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائیں

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @EngrMuddsairH

  • محنت کیسے کہتے ہیں تحریر:حسیب احمد

    محنت کیسے کہتے ہیں تحریر:حسیب احمد

    "”

    محنت سے سب کچھ ممکن ہے دنیا میں، محنت سے آپ ہر چیز جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو مل سکتی ہے۔ محنت جب تک نہیں کی جاتی تب تک کام نا مکمل سا لگتا ہے۔ محنت سے اندازہ ہوتا ہے ہم کتنا شدت سے اس چیز کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

    محنت کرنا مشکل نہیں بس دل سے ارادہ کرنا پڑتا ہے
    اس حقیقت سے انکار نہیں کہ کارکردگی ، محنت اور لگن سے کامیابی یقینی ہے۔ کوئی بھی ہنر اور قسمت کی بنیاد پر کامیابی کا دعوی نہیں کر سکتا۔ کامیابی برسوں کی محنت ، مستقل مزاجی ، ٹائم مینجمنٹ اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام عوامل ہماری زندگی میں کامیابی اور ترقی میں اضافہ کرتے ہیں۔ لہذا ، صرف ہنر اور قسمت کے ساتھ ، کوئی بھی ہمیشہ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ کام عبادت ہے۔ یہ بنی نوع انسان کی خوبی ہے۔ ایک سچا آدمی ہر وقت سست نہیں رہ سکتا۔ وہ مقصد تلاش کرتا ہے ، منصوبہ بندی کرتا ہے اور اہداف کو ترجیح دیتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کی زندگی میں کامیابی ہو۔ محنت کرنا ایک سرشار شخص کا اعزاز ہے۔ اسے سخت محنت کرتے ہوئے دل و دماغ کا حقیقی اطمینان مل جاتا ہے۔ یقینا ، دنیا اپنی تمام جدید حقیقت کے ساتھ ، ہمارے درمیان محنتی لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ٹیلنٹ سے آپ محنت کو شکست دے سکتے ہیں۔ محنت اور حساب کتاب کامیابی کا بنیادی جزو ہے۔ ہنر اور قسمت ثانوی چیزیں ہیں۔

    محنتی قومیں آج کی کامیاب ترین قومیں ہیں۔ اس لیے شروع سے ہی محنت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ طلباء کو اپنی زندگی ، کیریئر کے انتخاب اور مستقبل کے اہداف کے لیے محنت کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری اجتماعی تشویش ہونی چاہیے کہ ہمیں حوصلہ افزائی اور محنت کرنے کے طریقوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اس لیے ہمارے لیے سخت محنت کرنا ، اپنے اہداف اور عزم کے حصول کے لیے دن رات جدوجہد کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ ، محنت میں عزت ، وقار اور قومی وقار ہوتا ہے۔

    یہ کہنا ہے کہ محنت ، ٹائم مینجمنٹ اور ہوشیار حکمت عملی سے آپ ٹیلنٹ کو شکست دے سکتے ہیں۔ بالآخر ، جو محنت کرتا ہے اور ہر وقت ہلچل مچاتا ہے ، وہ فاتح ٹھہرتا ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد کرتے ہیں۔ اس لیے محنتی لوگوں کو خدا نے ان کے خواب دیکھنے میں مدد دی ہے۔ وہ کام کرتے ہیں جبکہ دوسرے سوتے ہیں۔ دنیا کا جدید چہرہ جس میں بہت ساری سہولیات ہیں جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں ، بہت سے کامیاب لوگوں کی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ تاریخ ایک زندہ باب ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح آئن سٹائن ، ایڈیسن ، نیوٹن ، سٹیفن ہاکنگ ، الیگزینڈر اور دوسرے نے محنت کی اور کامیاب ہوئے۔

    وہ بہت نظم و ضبط ، سرشار ، دیکھ بھال کرنے والے اور مہربان ہیں۔ لہذا ، یہ بہت ضروری ہے کہ محنت کی عادت شروع سے ہی طلباء کے ذہنوں میں داخل ہو۔ وہ محنتی طالب علم ہیں جو زندگی میں انعامات ، عزت اور وقار حاصل کرتے ہیں۔ اگر ہم ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے بہت سے کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ انہوں نے سخت محنت کی ہے۔ ہمارے عظیم رہنما ، سائنسدان ، سیاستدان اور کامیاب لوگ ، ہمیشہ محنت کرنے کے حق میں بولے ہیں۔ یہ زندگی کی فطرت ہے کہ بعض اوقات سخت محنت کے باوجود بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔ اس صورت حال میں ، ہمیشہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہمت نہ ہاریں۔ کسی کو جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اور کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ کامیابی اپنے مقاصد کے حصول تک محنت کرنے میں مضمر ہے۔ اسی لیے کامیاب لوگوں کو ہمیشہ جرات مند ، بہادر اور مضبوط ہونا چاہیے۔ بنی نوع انسان باصلاحیت پیدا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں اعتماد اور ہمت ہونی چاہیے۔ محنت اور اپنی صلاحیتوں کے ہوشیار استعمال سے وہ اس دنیا میں حیرت انگیز کام کر سکتا ہے۔ سمارٹ کام ، جوہر میں ، محنت کا حصہ ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ کسی کو محنت کے بجائے ہوشیار کام کرنا چاہیے۔ کوئی ہوشیار کام نہیں کر سکتا ، اگر اس نے کوئی محنت نہیں کی ہوتی۔ کچھ استثناء ہیں ، جہاں آپ تھوڑی کوششوں اور ہوشیار کام سے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کے پاس اپنے استاد کی رہنمائی اور سرپرست جہاز ہو جس نے خود محنت کی ہو۔ اس کا کہنا ہے کہ ، کسی کو سخت محنت کرنی چاہئے اور اس زندگی میں بڑے خواب دیکھنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ کامیابی یقینی ہے۔
    @JaanbazHaseeb

  • نماز، دین کا ستون  تحریر : اقصٰی صدیق

    نماز، دین کا ستون تحریر : اقصٰی صدیق


    عربی زبان میں لفظ "صلوٰۃ” (نماز) کے لیے استعمال ہوا ہے، جس کے لغوی معنی "دعا” کے ہیں۔
    نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے دوسرا ایک اہم رکن ہے۔اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے، توحید (اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا، حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔

    قرآن کریم میں سات سو(٧٠٠) مقامات پر نماز (صلوٰۃ) کا ذکر ہوا ہے، جبکہ
    اسی (٨٠) مقامات پر اس کا صریح حکم دیا گیا ہے۔ اس امر سے دین اسلام میں عبادات کے لحاظ سے نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    نماز ہی توحید و رسالت کی گواہی اور اس کی عملی تصدیق کا پہلا قدم ہے۔ارکان اسلام میں سے یہ امتیاز صرف نماز کو ہی حاصل ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کرام کے ادوار میں ہر امت پر نماز فرض رہی ہے۔
    نماز شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی۔
    معراج کا سفر گویا کہ ظلم و تشدد اور جہالت کے دور کے خاتمے کی نوید تھا۔
    حضرت انس بن مالکؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ،
    ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کردیں میں اس کے ساتھ واپس لوٹا تو جب میں راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ،
    اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟میں نے کہا پچاس نمازیں کہنے لگے اپنے رب کے پاس واپس جائیں اس لئے کہ آپ کی امت ان کی ادائیگی نہیں کر پائے گی ۔ سو آپ ﷺ نے اللہ رب العزت سے التجا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کردیا۔ میں حضرت موسیٰ کے پاس آیا اور کہا کہ پروردگار نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ وہ کہنے لگے آپ اپنے رب کے ہاں پھر واپس جائیں کیوں کہ آپ کی امت اس کی طاقت بھی نہیں رکھتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اللّٰه تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دی تو اللہ نے ان کا ایک حصہ بھی معاف فرما دیا۔ لیکن جب پھر میں واپس حضرت موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے پھر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جانے کا کہا۔ اب کی بار اللّٰہ رب العالمین نے فرمایا یہ پانچ نمازیں اصل میں پچاس نمازوں کا اجر اور ثواب رکھیں گی،
    میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ایک بار اور اپنے رب کی طرف رجوع فرمائیں لیکن اس بار میں نے کہا اب مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہے۔ (صحیح بخاری)

    قرآن و سنت اور حدیث کی رو سے نماز کی ادائیگی کے پانچ اوقات ہیں۔
    فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء
    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جا بجا نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالی ہےکہ ، نماز قائم کرو اور زکوہ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (البقرہ ۴۳،)

    کائناتِ ارض و سماں کی ہر مخلوق اپنے اپنے تئیں بارگاہِ الٰہی میں صلوٰۃ اور تسبیح و تحمید کرتی نظر آتی ہے۔
    نماز کی تاریخ کی بات کریں تو نماز کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنی ہمارے مذہب اسلام کی۔
    اور یہ ہر دور میں فرض رہی ہے۔
    قرآن کریم میں ارشاد ہے ہوا ہے کہ نماز پڑھنا ہرگز مشکل نہیں ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالی اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
    ارشادہوا،
    ” بیشک نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے مگر ان لوگوں کے لیے نہیں جو خشوع و خضوع کے ساتھ میری طرف جھکتے ہیں، جنہیں اپنے رب کے ملنے پر یقین ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (البقرہ ۴۵،۴۶)

    بعض اصطلاحات میں نماز (صلاۃ) کے معنی دعاء، رحمت اور استغفار کے ہیں، اسلام نے نماز کو ایک اہم فریضہ کے طور پر مختص کیا ہے۔

    نماز انسان کی اپنے خالق کے ساتھ تعلق کا ایک مظہر ہے، اور اس کے مذہبی واجبات میں سے ایک واجب رکن ہے۔
    نماز میں دو عناصر پائے جاتے ہیں: اللہ رب العزت کی عظمت وتخلیق پر اس کا شکرگزار ہونا، اور دوسرا اللہ رب العزت سے طلب کا عنصر ہے، کہ جس سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اپنے بندے کو جواب دیتا ہے،۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ،

    ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد مانگو، بیشک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘
    (البقرة، 2 : 153)

    سورۃ البقرۃ کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ،
    ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، نماز کو قائم رکھا اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، اور ان پر آخرت میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے‘‘

    نماز جو کہ ایمان اور کفر کے درمیان امتیاز کرتی ہے۔ ابتدائے اسلام ہی سے مسلمانوں کا معمول رہی۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ہی سے نماز ادا فرماتے تھے۔
    جب کبھی آپﷺ صحن حرم میں نماز ادا فرماتے تو وہاں پر قریش آپ ﷺ کو ایزاء دینے کی کو شش کرتے ۔ کبھی آپ کا تمسخر اڑاتے،کبھی آپ ﷺ کی گردن مبارک میں رسی ڈال دیتے ۔تو کبھی تو سجدہ کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نجاست ڈال دیا کرتے تھے۔
    قریش کی ان حرکات کی وجہ سے عام مسلمان رات کی تاریکی میں نماز پڑھتے یا دن میں ادھر اُدھر چھپ کر نماز ادا کرتے۔

    اِس کے علاوہ بھی کثیر احادیث مبارکہ میں نماز کی فضیلتِ بیان کی گئی ہے، اور نماز ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔اور نماز نہ ادا کرنے والوں کو منافقین سے تشبیع دی گئی ہے،
    نماز میں سستی کرنا منافقین کی نشانی ہے۔ (القرآن)

    حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،

    ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو گویا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہے اور جس شخص نے اﷲ تعالیٰ کی ذمہ داری میں مداخلت کی، اﷲ تعالیٰ اس کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔‘‘

    قرآن و حدیث کی رو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر مسلمان (مرد و عورت) پر پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرنا فرض ہے۔

    نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حدیث پاک میں بچپن ہی سے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو۔

    دن اور رات یعنی چوبیس گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ان میں سے ہرنماز کی فرضیت کا تعلق اپنے وقت کے ساتھ منسلک ہے،چنانچہ مقررہ وقت پر ہی نماز کو ادا کرنا چاہیے، بے وقت نماز کی ادائیگی قضا کے زمرے میں آتی ہے۔
    قرآن مجید میں ک ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’بیشک ہم نے اسے (نماز) کو اس کے مقرر وقت میں مومنین پر فرض کیا ہے‘‘۔(سورہ نساء آیت ۱۰۳)
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں وقت کی پابندی کرتے ہوئے اسے اپنے وقت پر پڑھنا ضروری ہے اور اس کو قضا کر دینا گناہ ہے۔
    ایک اور حدیث کے مطابق
    نماز کو وقت پر پڑھنا افضل ترین اعمال میں سے ہے۔(مسلم)
    نماز کو چھوڑ دینا بہت ہی سخت گناہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے. اس لئے ابھی بھی وقت ہے، توبہ کر لیں، اپنے رَبّ کو راضی کر لیں یہی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

    نماز نہ پڑھنا کافروں کا طریقہ ہے، ایک حدیث کے مطابق
    "بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے”۔ (مسلم)
    اسلئیے بطور مسلمان ہمیں چاہیے کہ نماز مقرر وقت پر پابندی سے ادا کریں ،اور اپنے بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں تاکہ دین و دنیا دونوں میں رب کائنات کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔

    ‎@_aqsasiddique

  • ‏کیا روسی فوج "امپیریل سیمیٹری” کی طرف ایک بار پھر  لوٹ سکتی ہے؟  تحریر:زبیر حسین

    ‏کیا روسی فوج "امپیریل سیمیٹری” کی طرف ایک بار پھر  لوٹ سکتی ہے؟ تحریر:زبیر حسین

    افغانستان سے تازہ ترین خبروں کے مطابق صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے ، اور روسی فوجی دوبارہ ” امپیریل سیمیٹری ” میں جا سکتے ہیں۔ روس کے مطابق جب امریکہ نے 5 اگست کو فوجیوں کے انخلا کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو افغانستان میں طالبان کی سرگرمیاں بڑھ گئیں اور افغانستان کے حالات مزید خراب ہوئے۔ طالبان نے ملک بھر میں فوجی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور    80 سے 100 اضلاع اور متعدد سرحدی  شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ افغان سکیورٹی فورسز کمزور ہیں اور ان میں طالبان سے لڑنے کی ہمت اور صلاحیت نہیں ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ افغان نیشنل آرمی (ANA) کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ازبکستان اور تاجکستان کی طرف بھاگ گئی  ہے ، جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہے۔  جب طالبان  افغانستان میں مکمل طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ باقی افغان  افواج جو پڑوسی ممالک کو  بھاگ گئے ہیں، سے نمٹنے کے کوشش کرے گے اور یہ روس کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔

    آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ روس ، ازبکستان اور تاجکستان کا تعلق سنٹرل سیکورٹی آرگنائزیشن کیمپ (CSTO) سے ہے۔ سنٹرل سکیورٹی آرگنائزیشن سیکورٹی ٹریٹی کے مطابق جب رکن ملک  پر حملہ ہو جاتا ہے ، تو روس کی ذمہ داری بنتی ہے  کہ وہ رکن ممالک کی مدد کے لیے فوج بھیجے اور ان کے  سلامتی کو برقرار رکھے اور جارحیت کا مقابلہ کرے۔

    اس کے علاوہ روس نہیں چاہتا کہ امریکہ واپس آئے۔ منصوبے کے مطابق امریکہ کو 31 اگست تک افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کرنا چاہیے۔ طالبان بھی پر تشدد حملے کم کریں گے اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے۔ لیکن افغان حکومت کو طالبان جنگی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد رہا کرنا ہے۔ اب امریکہ نے افغانستان سے اپنی واپسی ملتوی کر دی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ امریکہ واپسی کر سکتا ہے اور افغانستان کی صورت حال میں مزید خلل ڈالتا رہے گا۔

    ابتدا میں امریکہ نے افغانستان میں خلل ڈالنے ، پڑوسی اور خصوصی طور پر  پاکستان ، چین اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور روس کو روکنے کے لیے افغانستان میں داخل ہوا۔ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں امریکی حکمت عملی دیوالیہ قرار دی گئی ہے۔ یقینا امریکہ افغانستان سے آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ تازہ ترین امریکی منصوبے کے مطابق ، امریکہ افغان دارالحکومت ہوائی اڈے کو ترکی کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور افغان مسئلے پر پاکستان ، افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ نے چین اور روس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور افغانستان کو دور سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    افغانستان ایشیا کے وسط میں واقع ہے ، اور اس کا اسٹریٹجک مقام بہت اہم ہے۔ افغانستان میں جنگیں اور افراتفری جنوبی اور وسطی ایشیا  اور خاص طور پر پاکستان کو متاثر کرے گی۔ امریکہ کے اقدامات غیر دانشمندانہ ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی تمام حکمت عملی ضائع ہورہی ہے۔ روس امریکہ کو لاپرواہی سے کام کرنے نہیں دے گا اور نہ ہی چین امریکہ کو ایسا کرنے دے گا۔ افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانا وسطی ایشیا اور پورے ایشیا اور خاص طور پر پاکستان کی سلامتی کے لیے ضروری  ہے۔ روس کو تشویش ہے کہ افغانستان میں جنگ سی ایس ٹی او (CSTO) کے رکن ممالک کی سرحدوں تک پھیل جائے گی۔ جو  نہ صرف روس بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ روس کے فعال کردار سے امریکہ کی وسطی ایشیا میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے  کی ناکام کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
     
    Written by: Zubair Hussain 
    PhD scholar, School of Medicine,
    Seoul National University.
    Email: 2021-25986@snu.ac.kr
    Twitter: ‎@zamushwani