Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • الیکٹرانک ووٹنگ مشین ناگزیر…. تحریر ڈاکٹر ذکاءاللہ

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین ناگزیر…. تحریر ڈاکٹر ذکاءاللہ

    ترقی یافتہ ممالک میں الیکٹرنک مشین سے ھی ووٹنگ ھوتی ھے جس سے الیکشن کا نتیجہ بہت جلد آجاتا ھے بہت سے ملکوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ھی استعمال ھوتی ہے اور اس سے آے ھوے نتایج سب کو قابل قبول ھوتے ہیں جس سے وقت کا ضیاع بھی نہیں ھوتا یعنی نتیجہ بھی بہت جلد آجاتا ھے اور دوسرا سب پارٹیوں کو الیکٹرانک ووٹنگ والے الیکشن پر زیادہ اعتماد ھوتا ھے امریکہ جیسا ملک بھی اپنے الیکشن ہمیشہ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ھی کراتے ہیں
    اسے دیکھتے ھوے موجودہ حکومت نے بھی اپنی ٹیکنالوجی میں جدت لاتے ھوے اپنی الیکٹرنک ووٹنگ مشین متعارف کرایی ھے جس پر بار بار تجربات بھی کییے گیے جس سے یا ثابت ھوا کہ یہ سب سے محفوظ اور دھاندلی سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ ھے پھر اس کے بعد اسے پاکستان کے کسی حلقے میں ضمنی انتخابات میں بھر پور کوریج کرکے چیک کیا جاسکتا ھے کہ آیا یہ الیکٹرنک ووٹنگ مشین ٹھیک ھے یا اس میں کچھ خرابیاں ہیں یہ حکومت کی ایک بہترین کاوش ھے جسے تمام پارٹیوں کو سراہنا چاھیے
    لیکن یہاں معاملہ ھی الٹ ھے وقت سے قبل ھی اپوزیشن پارٹیوں نے چیخنا چلانا شروع کردیا ھے
    حکومت آج اس ووٹنگ مشین کو پارلیمنٹ میں لارھی ھے جس پر بحث بھی کرایی جاے گی اور اگر کسی پارلیمنٹ ممبر کو کویی شکایت ھو یا اس میں کچھ گڑ بڑ نظر آے تو وہ بھی اس پر تجربہ کرسکتا ھے اگر تمام رکن پارلیمنٹ اسے تجربے کے طور پر ھر لحاظ سے چیک کریں اگر کچھ مسلہ آے تو اسے فورا حل کیا جانا چاھیے اگر کویی مسلہ یا دھاندلی کا شبہ نہیں ھے تو اسے آیندہ ضمنی الیکشن میں بھی چیک کیا جاسکتا ھے
    اس بہترین کاوش پر بلاشبہ موجودہ حکومت داد کی مستحق ھے کیونکہ ہر الیکشن میں تمام ھارنے والی جماعتیں جیتنے والی جماعت پر دھاندلی کا الزام لگادیتی ھے پھر وہ حکومت بجاے عوامی کام کرنے کے وہ اپنا دور حکومت عدالتوں اور پارلیمنٹ میں اپنے الیکشن کا دفاع کررھی ھوتی ہیں کہ ھم عوام کا مینڈیڈیٹ لے کر آے ہیں نہ کہ دھاندلی کی ھے پھر اسی طرح کرتے کرتے وقت ختم ھوجاتا ھے پھر نیے الیکشن ھوتے ہیں لیکن مسلہ وھی پرانا کہ دھاندلی ھویی ھے
    اب یہ باتیں ختم ھونی چاہیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی کو روکنے کیلیے ایک بہترین حل ھے جسے تمام پارٹیوں کو چاھیے کہ آیین میں ترمیم کریں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے ھی آیندہ الیکشن کا بل قومی اسمبلی سے پاس کراییں ورنہ جو پارٹی اس عمل کو سبوتاژ کرے اسے عوام یکسر مسترد کردے
    جو پارٹیاں ابھی سے شور کررھی ہیں کہ یہ دھاندلی کی وجہ بنے گی وہ اپنی تجاویز دیں کہ اس الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں کیا بہتری لایی جا سکتی ھے اگر کویی تجویز نہیں ھے تو براے کرم اس پر تجربہ کریں ووٹ ڈالیں اس میں کویی خامی ڈھونڈیں پھر حکومت کو بتاے لیکن ان میں سے کچھ بھی نہیں کرسکتیں تو پھر شور کرنے والی پارٹیاں اصل میں اپنی دھاندلی والی چال فلاپ ھونے کی وجہ سے ناجایز شور کررھی ہیں جسے عوام پہلے بھی مسترد کرچکی ھے پھر مسترد ھو جاییں گیں
    اب ان پارٹیوں کا جگہ جگہ سرکس لگانا کام نہیں آے گا اور نہ ھی میڈیا ان کو کوریج دے سکے گا کیونکہ جو پارٹیاں پارلیمنٹ میں کچھ نہیں کرسکتیں وہ پاکستان سے باہر سفارتی سطح پر اپنے وطن کا بہتر موقف بھی نہیں دے سکتیں جس سے ماضی میں بھی پاکستان کو شدید نقصان پہنچا ھے
    ایسی پارٹیاں صرف اپنے ووٹرز کو بیوقوف بنانے کے ناکام کوشش کررھی ہیں
    یہ مافیا اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے سٹھیاگیا ہے۔ E V Mسے الیکشن چرانے اور دھونس دھاندلی کے تمام حربے ناکام ہونے جارہے ہیں۔
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین قوم کے دل کی آواز,انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے وزیراعظم عمران خان کا قوم کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے اور اپنے وعدے کی طرف ایک اور قدم ھے عمران کا ایک اور وعدہ تمام اداروں میں اصلاحات پورا ھونے جارھا ھے…
    ان شاءاللہ

  • دو دن کی محبت تحریر:اسامہ اسلام

    دو دن کی محبت تحریر:اسامہ اسلام

    نومبر کا مہینہ تھا. ہمارے ایک چچا زاد شہیر جو کہ اپنے والدین کا اکھلوتا بیٹا تھا ,اس کی شادی کی تقریب میں کچھ دن رہ گئے تھے. یہ خوشی ہم پر کافی عرصے بعد آئی تھی اس لیے گھر کا ہر فرد انتہائی خوش دکھائی دیتا تھا.
    میں چونکہ بچپن سے تنہائی پسند تھا اور اکیلے رہنے میں مجھے سکون ملتا تھا , مجھے اس میں کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی. شادی سے ایک دن پہلے ,مہندی والی رات میں اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ پر اپنا کام کر رہا تھا کہ اچانک سے میرے سارے کزن منگولوں کے لشکر کی طرح میرے کمرے میں گھس آئے اور کہنے لگے کہ تمھاری امی نے تمہیں طلب کیا ہے.
    میرا جی تو نہیں کر رہا تھا لیکن امی کا نام سن کر میں اپنے کزن کے ہمراہ شادی کی تقریب میں چلا گیا.
    نومبر کی راتیں, سردی اپنا زور دکھا رہی تھی لیکن شادی کی تقریب میں اتنی ہلچل مچی ہوئی تھی کہ سب پسینے میں شرابور دکھائی دے رہے تھے.
    میں چادر اوڑھ کر چچا کے گھر ایک کھونے میں بیٹھ گیا اور امی سے ایک کپ چائے کا کہا. میں بچپن سے ایک ہی نشہ کرتے آرہا ہوں اور وہ ہے چائے کا نشہ. چائے کے بغیر بھی بھلا کوئی زندگی ہوتی ہے.
    میں اسی کھونے میں بیٹھ کر چائے پینے لگا, اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی مجھ پر نظر جمائے کافی دیر سے گھور رہا ہے جسے ہم (peripheral vision) َ بھی کہتے ہیں. میں نے جب غور سے دیکھا تو ایک خوبصورت, جوان ,کھلے لمبے بال ,کالے رنگ کا جوڑا ,ہاتھوں میں مہندی اور کالی کالی بڑی بڑی آنکھوں والی صنفِ نازک میری طرف کافی دیر سے دیکھ رہی تھی.
    میں نے اس کو دیکھ کر اپنا سر جھکایا اور چائے کا سپ لیا, لیکن میری نظریں غیر ارادی طور پر اس کا طواف کرنے لگی. ایسا دوسری بار بھی ہوا. تیسری بار جب میں نے اس کی طرف دیکھنا چاہا تو وہ میرے پاس آ کھڑی تھی , اس نے سلام کیا اور میرا حال پوچھا. میرے منہ سے بس اتنا ہی نکلا "الحمد للہ”.
    "میں نے آپ کو پہچانا نہیں؟” میں نے اس سے پوچھا.
    "ہاں کیسے پہچانو گے, اپنے کمرے سے نکلو گے, اپنے رشتہ داروں کے گھر جاؤ گے , حال چال پوچھو گے تو ہی پہچانو گے نا مسٹر شہروز” اس نے ہنس کر جواب دیا.
    وہ میرا نام جانتی تھی.
    میں نے پوچھا تمھارا نام کیا ہے؟
    "حیا” بس اتنا کہہ کر وہ واپس چلی گئی ,شاید کوئی اس کو آواز دے رہا تھا.
    میں اپنے گھر آیا , اپنے کمرے میں, رات کے ۲ بج رہے تھے, میں نے سونے کی کوشش کی لیکن اس کا چہرہ اور اس کی باتیں میرے دماغ میں منڈلا رہی تھی. پھر انہی سوچو میں پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی .
    صبح جلدی اٹھا اور اپنے چچا کے گھر چلا گیا, وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور میں دیکھتا ہی رہ گیا. یا تو ایسا حسن میں پہلی بار دیکھ رہا تھا یا شاید میں نے اس سے پہلے کبھی دیکھنا گوارا نہ کیا تھا.
    رات کو کالے جوڑے میں وہ جتنی پیاری لگ رہی تھی اس سے زیادہ تو وہ دن کو گلابی رنگ کے جوڑے میں لگ رہی تھی. کہتے ہیں "انسان فطرتی طور پر حسن پرست ہے” اور اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا .
    اس کو دیکھنے کے لیے میں کسی بہانے گھر آتا اور اس کو ایک نظر دیکھ کر واپس چلا جاتا لیکن جس طرح میں اس کو دیکھنے آتا, اسی طرح وہ بھی میری منتظر دکھائی دیتی کیونکہ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ سی آجاتی.
    شاید مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی. اس کی ایک جلک میرے دل کو پارہ پارہ کر دیتی. لیکن مجھے اس بات کا غم تھا کہ کل یہ لوگ اپنے گھر جائیں گے ,پھر شاید ملاقات ہو یا نہ ہو. اور اوپر سے میں اتنا ڈرپوک تھا کہ اپنی محبت کا اظہار کرنا تو دور کی بات , اس کا حال پوچھنا بھی میرے لیے محال تھا.
    رات کے ١١ بج گئے تو سارے دن کی تھکاوٹ تھی, میں اپنے گھر کو چلا گیا اور اپنے بستر پر گرتے ہی ایسے سو گیا جیسے تیسری جنگ عظیم لڑ کر آیا ہوں.
    صبح اٹھا تو ہر طرف خاموشی تھی, معمول کے مطابق صبح اٹھ کر میں نے پہلے امی کو آواز دی.
    "وہ فوتگی پر گئی ہے” بھابھی نے باہر سے جواب دیا.
    "ہے؟ فوتگی؟ کس کی فوتگی؟” میں کمرے سے باہر آیا اور پوچھا.
    "رات کو مہران , فیزان اور علی (میرے چچازاد) آتش بازی اور فائرنگ کر رہے تھے تو علی کے ہاتھ سے بندوق چوٹی اور ایک گولی خان پور سے آئے مہمانوں کی ایک لڑکی حیا کو لگی, صبح صبح اس کا انتقال ہو گیا” بھابھی نے جواب دیا.
    یہ سن کر جیسے میرے پیروں سے کسی نے زمیں کھینچ لی ہو.
    میں اپنے کمرے میں واپس گیا اور نہ چاہتے ہوئے اتنا رویا کہ جتنا رویا جا سکتا تھا .
    کپڑے بدل کر اس کے جنازے پر چلا گیا اور اپنی دو دن کی محبت کو انور مسعود صاحب کے اس درد بھرے شعر کے ساتھ سپرد خاک کیا.

    "خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
    ہم نے سونا سپرد خاک کیا "

  • پولیس اور معاشرہ  تحریر: سید اویس بن ضیاء

    پولیس اور معاشرہ تحریر: سید اویس بن ضیاء

    پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جسے چھوٹے سے لے کر بڑے اور سنگین جرائم جیسے کہ چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی، قتل ، زمینوں پر قبضہ اور بھی کئ طرح کے جرائم پر قابو پانے کے لئے بنایا گیا ہے۔پولیس کو مظلوموں کی مدد کرنے کےلئے بنایا گیا ہے ناکہ ظالم انسانوں کے ساتھ مل کر مظلوموں پر ظلم کرنے کےلئے۔
    حالات حاضرہ میں جرائم کی بڑھوتری میں خاصی شدت دیکھی گئ ہے۔ آج کل جنسی زیادتی کے کیسز بہت تیزی بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے چھوٹی بچیاں ہو یا بچے درندے نما انسان انہیں اپنی حوس کا شکار بنائے ہوئے ہیں جنکو روکنے کےلئے پولیس اور حکومت دونوں فل وقت ناکام ہیں،جو کہ کافی تشویش ناک بات ہے۔حکومت وقت کو فوری طور پر اسلامی قوانین کی روشنی میں ان درندوں کو سزائیں دینی چاہیے۔

    معاشرے میں جرائم کے خاتمے کےلئے ضروری ہے کہ پولیس با صلاحیت باکردار قابل اور تربیت یافتہ ہو اسکے برعکس موجودہ دور بالکل مختلف ہے، رشوت کے بازار عروج پر ہیں جو چاہے جس پر چاہے جھوٹا پرچہ کروا سکتا ہے جسکو چاہے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتا ہے ضرورت ہے تو صرف پیسے کی، رشوت دیں اور اپنا کام نکلوائیں کلچر بہت آگے نکل چکا ہے جسے روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
    اگر کوئ غریب مظلوم تھانے میں اپنی فریاد لے کر انصاف کی خاطر جاتا ہے تو پہلے تو اسے کئ چکر لگانے پڑتے ہیں منتیں کرنی پڑتی ہیں پھر جا کر اسکی سنوائ ہوتی ہے لیکن اس میں بھی پولیس بد دیانتی سے بعض نہیں آتی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر مظلوم کی آواز دبا دی جاتی ہے اور ظالم لوگوں کو پیسے کے دم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
    طلباء پر جھوٹی ایف آئ آر دے کر انکا کیریئر تباہ کر دیا جاتا ہے ،جھوٹے انکاؤنٹر میں مظلوموں کو قتل کر دیا جاتا ہے، عام لوگوں کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور سیاسی ملی بھگت سے سیاسی انتقام لئے جاتے ہیں۔ علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ مل کر بے گناہ لوگوں پر پولیس کی جانب سے ظلم کروائے جاتے ہیں

    پولیس کے ادارے کو شفاف بنانے کےلئے مکمل طور پر اس میں سے سیاسی مداخلت کرنی ہوگی
    تبھی جا کر ملک خوش ہوگا۔ سانحہ ساہیوال ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ،صلاح الدین کا پولیس کی حراست میں بے رحمی سے قتل اور نقیب اللہ محسود جیسے کئ اور واقعے پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگر پولیس کا نظام بدلنا ہے تو پہلے ان میں انسانیت پیدا کی جائے ۔

    جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں

    حضرت عمر فاروق کنزالاعمال ۸/۱۳۸

    جب پولیس میں کسی شخص کو بھرتی کیا جاتا اسکو لڑنے کی ،مارنے کی، اسلحہ چلانے کی ، اور مشکل حالات سے نمٹنے کی ٹریننگ تو دی جاتی ہے لیکن انکو اخلاقیات، پیار ، محبت اور لوگوں سے سلیقے کے ساتھ بات کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔
    اگر پولیس عام لوگوں کے ساتھ بہتر رویے سے پیش نہیں آئے گی انکے مسائل نہیں سنے گی تو عوام کے دِلوں سے انکےلئے جو عزت ہے وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گی۔ عوام پولیس سے محبت تب کریگی جب پولیس عوام سے کریگی۔

    جن پولیس والوں کی تربیت نہیں ہو سکتی انکو گھر کا راستہ دکھایا جائے اور انکی قابل ایماندار اور محنت کش لوگ بھرتی کئے جائیں۔
    پولیس کو بہترین ٹریننگ کے ساتھ اخلاقیات کی تربیت بھی دینی چاہیے تاکہ عوام کے دلوں میں انکےلئے محبت اور جزبہ بڑھے ، رشوت خوری کے نظام کو ختم کرنے کےلئے پولیس کی تنخواہیں بھی بڑھائ جائیں۔

    معطل کرنے والا سسٹم بھی بند ہونا چاہیے جو شخص بھی قصور وار ہو عام عوام کی طرح اسے سزا بھی ملنی چاہیے اور نوکری سے بھی نکالا جائے تاکہ آئندہ کوئ جرم نا کر سکے۔

    ہمارے معاشرے میں برے لوگوں کے ساتھ ساتھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جوکہ بڑی ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اچھے لوگ بھی برے لوگوں کی وجہ سے بدنام ہو رہے ہیں۔
    ہمارے تمام محکوموں میں جو بھی اچھا کام کر رہیں انہیں پوری قوم کا سلام۔ اللہ پاک ہم سبکو نیکی کے راستے پر چلنے اور مظلوم کی مدد کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

    ‎@SyedAwais_

  • ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ماحولیاتی تبدیلیاں اور پاکستان تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور کرونا کی روک تھام کے لئے کئے گئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
    ان اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی خوب پزیرائ ملی۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لئے پاکستان کا بلین ٹری سونامی منصوبہ ٹاک آف دی ٹاؤن رہا۔
    مگر بغض عمران کی ماری اپوزیشن ان منصوبوں پر بھی بلاجواز تنقید کرتی نظر آئ۔اس تنقید کے پیچھے بغض عمران کے علاوہ کمزور آئ کیو لیول والا معاملہ بھی تھا،
    جیسا کہ ن لیگ کے ایک ممبر
    پنجاب اسمبلی کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ اتنے درخت لگانے سے ہمارے شہر جنگل بن جائیں گے۔
    شعور کی کمی کا دنیا میں کوئ علاج نہیں۔
    اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی مخالفت کریں،اس پر تنقید کریں۔مگر خدارا ان منصوبوں کو تو بخش دیں۔جن کے ساتھ پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملکوں کے مابین جنگیں خدانخواستہ پانی جیسے وسائل کے معاملے پر ہوا کریں گی-
    گلوبل وارمنگ سے دن بدن دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،جبکہ زیر زمیں آبی وسائل کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
    ان حالات میں ہمیں ڈیمز بنانے کی سخت ضرورت تھی۔جو کہ بدقسمتی سے پچھلی حکومتیں نہیں بنا سکیں۔
    بھارت،چین جیسے ہمسایہ ممالک نے بے تحاشہ ڈیمز بنا کر اپنا مستقبل کافی حد تک محفوظ بنا لیا ہے۔مگر ہم تماشہ دیکھنے میں مصروف رہے۔
    ڈیمز نہ بناۓ جانے کی وجہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں ہی کا کردار تھا۔جبکہ حکمرانوں کی مفاد پرستانہ مصلحتیں اور ان کے کمیشن کی خواہشات بھی اس معاملے میں آڑے آتے رہیں۔
    کالا باغ ڈیم جیسے اہم ترین منصوبے کو بھی اپنے اپنے زاتی اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا،حالانکہ یہ منصوبہ ہماری توانائ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
    ماہرین نے اس منصوبے کو ہر لحاظ سے مناسب اور عوام کے لئے بے ضرر قرار دیا مگر مفاد پرست سیاستدان اپنی ہی ضد پر اڑے رہے،جس کا بھرپور فائدہ بھارت نے اٹھایا اور جائز ،ناجائز طریقے سے کئی متنازعہ جگہوں پر بھی ڈیمز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
    اس مفاد پرست ٹولے نے بھارت کی طرف سے ہماری آبی گزر گاہوں کا پانی روک کر ڈیم بنانےپر احتجاج تو دور کی بات،کبھی مخالفت میں بات تک نہیں کی۔ہر ایک کو اپنے اپنے وظیفے بند ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔
    مگر جب بھی کالا باغ ڈیم کسی بھی فورم پر زیر بحث آیا تویہ لوگ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اسکی مخالفت میں پہنچ گئے۔
    اس منصوبے کی فزیبلیٹی رپورٹ اور رہائشی کالونیوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے جو ضائع ہو گئے۔اسی مقام پر تیار کی گئی رہائشی کالونی اور سڑکیں کھنڈر بن گئیں۔
    ایک انتہائ شاندار منصوبہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔کسی کو پرواہ نہ ہوئ۔کسی نے نہ سوچا کہ ہمارے بچوں کا کیا ہو گا؟
    کیسے ہم مستقبل میں توانائ کے چیلنجز سے نمٹ پائیں گے۔؟
    کوئ فکر کیوں کرتا؟
    جنہیں فکر کرنا تھی وہ تو بیرونی ممالک میں اپنے بڑے بڑے ایمپائر کھڑے کر چکے ہیں،انہوں نے کونسا یہاں رہنا ہے؟
    کونسا انکے بچوں کا مسقبل اس ملک کے مسائل سے جڑا ہوا ہے؟
    وہ تو یہاں صرف لوگوں کو بیوقوف بنا کر اقتدار کے مزے اڑانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔
    یہ مکار اور دھوکے باز لوگ اس بدقسمت ملک پر حکمرانی کے لئے اپنی آئندہ نسلوں کو بھی تیار کر چکے ہیں۔
    ہم انگریزوں کی غلامی سے تو نکل آۓ مگر اپنی غلامانہ اور بیوقوفانہ سوچ کی بدولت اب بھی ان لٹیروں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
    ملکی خزانہ یہ لوگ لوٹ لیتے ہیں،جبکہ ہمارے حصے میں صرف
    آوے ای آوے
    کے نعرے آتے ہیں۔
    تاہم یہ امر انتہائ خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت نے توانائ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوۓ نہ صرف شجر کاری مہم چلا رکھی ہے بلکہ متعدد ڈیمز پر بھی کام شروع کر رکھا ہے۔
    ان میں سے کچھ ڈیمز تو ان شاءاللہ موجودہ حکومت کی اسی مدت میں مکمل ہو جائیں گے،کیونکہ وہاں دن رات کام جاری ہے۔
    اس کام کی نگرانی براہ راست وزیر اعظم ہاوس سے کی جارہی ہے۔
    جو منصوبے حکومت کی موجودہ مدت میں پورے نہیں ہوں گے وہ کچھ عرصہ بعد پورے ہو جائیں گے۔
    عمران خان کی سوچ دوسرے سیاستدانوں سے قدرے مختلف ہے۔وہ قوم کا سوچتا ہے،آنے والے الیکشن کا نہیں۔
    اسی نظریے کے تحت اس نے کئی ایسے ڈیمز پر بھی کام شروع کروا رکھا ہے،جو اسکی موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد پایہ تکمیل تک پہچیں گے۔
    اب یہ بات اللہ کے سوا کسی کو نہیں معلوم کہ 2023میں کون اقتدار میں آۓ گا؟
    اسکے باوجود عمران خان نے ان میگا پراجیکٹس پر کام شروع کروا کے دل گردے کا مظاہرہ کیا،جو ماضی کے حکمران نہیں کر سکے،
    کیونہ وہ اس محدود مفاد پرست سوچ کے اسیرتھے کہ ان لمبے عرصے کے اور عام انتخابات کے بعد مکمل ہونے والے منصوبوں کا انکو الیکشن کے وقت سیاسی فائدہ نہیں ہو گا۔
    اسلئے ایسے منصوبے انکی ترجیحات میں شامل نہ ہو سکے۔
    کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اگر متنازعہ بنا دیا گیا تھا تو دوسرے کئی ڈیمز پر کام شروع کروایا جا سکتا تھا۔
    مگر سواۓ عمران خان کے اس سوچ پر کسی دوسرے نے کام نہ کیا،جو ہماری بدقسمتی تھی۔
    ان سارے ڈیمز کی تکمیل کے بعد بھی شائد ہماری ان ماضی کی غفلتوں کا ازالہ نہ ہو پاۓ مگر کسی حد تک ہم اس مسئلے کی سنگینی سے البتہ ضرور نکل آئیں گے۔
    آبی وسائل کو بڑھانے اور گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں آگے بڑھنے کے لئے ابھی سے آنے والے کئی عشروں کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔چین ماڈل فالو کرنا ہو گا،جہاں ہزاروں ڈیمز بناۓ جا چکے ہیں-#

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    ‎@lalbukhari

  • امیدیں بانٹیں خوف نہیں . تحریر:  زہراء مرزا

    امیدیں بانٹیں خوف نہیں . تحریر: زہراء مرزا

    تحقیق یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں ہونے والے اموات میں 20 فیصد اموات ہی کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے ہوتی ہیں. جبکہ 80 فیصد اموات بیماری یا حادثے کے خوف سے وقوع پذیر ہوتی ہیں. بلکہ اسی طرح ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی بیمار شخص کے علاج میں 20 فیصد عمل دخل ادویات یا دیگر وسائل کا ہوتا ہے. جبکہ اسی فیصد علاج یقین اعتماد اور امید جگانے سے ہو جاتا ہے. مزکورہ بالا تحقیقی سروے انسانوں کی نفسیات کو ہم پر مکمل کھول رہے ہیں. ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا ہے اور اصلاح بھی. کیونکہ ہم نے معاشرے کی احسن تعمیر کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے. اس ضمن میں سب سے پہلی کوشش مایوسیوں اور خوف کو ختم کرنے کے لیے کرنی ہو. ہمیں خوف ناک و افسوسناک خبروں سے پرہیز کرنا ہے. اگر خبر سن بھی رہے ہیں تو بس علم کی حد تک سنیے.
    اس کے متعلق مختلف تجزیے اور تبصرے نہ پڑھیے. اگر تو آپ ایسے کسی افسوسناک واقعہ کے بعد کچھ تعمیری کام کر سکتے ہیں جس سے نقصان کا ازالہ ممکن ہو تو ضرور اور بڑھ چڑھ کر حادثے واقعے اور سانحے کو مختلف زاویوں سے پرکھیں. اور اگر آپ کچھ بھی کرنے جوگے نہیں تو سب سے پہلے اپنی توجہ اس واقعے یا حادثے سے ہٹا لیجیے.

    آپ کسی غمزدہ یا افسوسناک چیز کو کم سنیں گے یقینا اسے دوسرے لوگوں کی ڈسکس بھی کم ہی کریں گے. اگر آپ کسی چیز کے بارے میں زیادہ جان گئے ہیں تو یہ انسانی فطرت ہے کہ اپنا علم آگے پھیلاتا ہے. آپ بری خبروں تجزیے اور تبصروں سے جتنا دور رہیں گے معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب اتنا ہی کم ہوگا. آپ بری خبروں اور تجزیوں میں جتنا زیادہ دماغ صرف کریں گے. معاشرے میں خوف اور مایوسی اتنی زیادہ بڑھے گی. جہاں آپ نے بری اور افسوسناک خبر سے بچنا ہے وہیں آپ نے اچھی اور محسور کن خبر کی طرف لپکنا ہے. خبر کا ہر زاویے سے تجزیہ کرنا ہے. اور اسے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ ڈسکس کرنا ہے. تاکہ معاشرے میں امید ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا رہے. لوگوکے لیے مشکلات پیدا نہ کریں. غصہ کو کم کریں، لوگوں کی مدد کو پیش پیش رہیں. گھر گلی محلے اور شہر کو صاف رکھیں. بے کسوں اور مسکینوں کا سہارا بنیے.

    اگر آپ کسی کی مالی معاونت نہیں کر سکتے تو اسے مسکرا کر تسلی تو دے سکتے ہیں نا. لوگوں کی پریشانیوں کو سن کر انہیں حوصلہ دیں. مداوے کی کوشش کریں. اپنی گفتگو سے گالی کو مائنس کریں. ان لوگوں سے ملاقات ضرور رکھیں جو اپنی زندگی کو اچھے طریقے سے گزار رہے ہیں. تاکہ اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کر سکیں. اور پریشان لوگوں کو بھی ملیں مگر تبھی جب آپ ان کی پریشانی کا حل رکھتے ہو. ایک دوسرے کی مشکلات کا حل نکالنے میں وقت لگائیں. فقط مشکلات ڈسکس کرنے کے لیے نہیں. یہ چند باتیں اپنی زندگی میں اپلائی کریں اور دیکھیں کہ خوشحالی کس طرح ہر طرف نظر آنا شروع ہو جائے گی. شکریہ

    @zaramiirza

  • پاکستان کا مطلب کیا؟ . تحریر : عظمیٰ صابر

    پاکستان کا مطلب کیا؟ . تحریر : عظمیٰ صابر

    "غزوہء بدر ”
    اسلام اور کفر، حق اور باطل کے درمیان پہلا معرکہ جسکی بنیاد کلمہ تھا کلمے کے اقرار اور انکار کے سبب خونی رشتے مدمقابل تھے،
    غزوہ بدرمیں مسلمانوں کی فتح اس بات کی تائید کہ اگر اللہ کی مدد شامل حال ہو اگر اطاعت سیدالانبیاء ﷺ ہو اگر جذبہء ایمانی ہو تو
    مدمقابل کی عددی برتری، ہتھیاروں کی کثرت اور راہ میں حائل دیگر مشکلات بھی کوئ معنی نہیں رکھتیں اور کامیابی مقدر بنتی ہے
    یہی کلمہ ملک پاکستان کی بنیاد کاسبب بنا دشمنوں کی لاکھ مخالفت,عداوت اور ریشہ دوانیوں کے باوجود وہ ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا جسکی بنیاد کلمہ ہے قائداعظم محمد علی جناح نےفرمایا تھا کہ پاکستان تو اسی روز وجود میں اگیا تھا جس روز برصغیر کا پہلا شخص
    مسلمان ہوا تھا جنگ اور امن کفر اور اسلام جھوٹ اور سچ خدائے واحد کے ماننے والے اور خدائے واحد کا انکار کرکے بتوں کی پرستش کرنے والے کبھی یکجا نہیں ہوسکتے. بلکل اسی طرح "پاکستان "کا بننا بھی لوح محفوظ پر طے تھا 1857کی جنگ ازادی میں پاکستان کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا بعد میں ہندوئوں کی مکاری نے متعدد بار مسلمان رہنمائوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس قوم کے ساتھ مزید رہنا ممکن نہیں اور اگر جمہوریت کے اکثریت کے اصول کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمان ہمیشہ کے لئے محکوم بن کر رہ جائیں گے.

    علامہ اقبال نے جمہوریت کی کیا خوب تعریف کی ہے کہ :
    "جمہوریت ایسا طرزحکومت ہے
    جس میں سروں کو گنا جاتا ہے
    تولا نہیں جاتا ”
    اس تعریف کے تحت ہندوستان میں ہندوئوں کی اکثریت تھی اور مسلمان کبھی بھی حکومت بنانے کے اہل نا ہوتے
    ہندوئوں کی تنگ نظری اور مسلم دشمنی تو سب پر عیاں تھی
    ان حالات میں مسلم لیگ کاقیام مسلمانوں کے لئے ایک غنیمت تھا
    شاعر مشرق علامہ اقبال اور قائدکا وجود ایک نعمت تھا.

    اور سونے پر سہاگہ یہ نعرہ ثابت ہوا :
    "پاکستان کا مطلب کیا?
    لا الہ الااللہ ”
    یہ کلمہ جو روئے ارضی پر ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے یہی وہ کلمہ جسے پڑھ کر دائرہ ءاسلام میں داخل ہوا جاتا ہے اور یہی وہ کلمہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس وقت وحدت کی لڑی میں پرو دیا ان میں وہ قوت ایمانی جگادی جومصائب اور مشکلات کے پہاڑوں سے ٹکرانے کا جذبہ رکھتی ہے کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ دیتی ہے پھر قدرت بھی ایسی اقوام کا ہاتھ تھام تھام لیتی ہے اپنی قسمت میں توجگنوبھی نہیں تھا پہلے سبز پرچم کے لئے چاند ستارہ پایا مسلمان اس کلمے کے نام پر ہر مشکل سے ٹکرا گئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کوتیار ہوگئے یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے صلے میں ہمیں ملا جنون سے اور عشق سے ملتی ہے ازادی
    قربانی کی بانہوں میں ملتی ہے ازادی ہمارے ابائو اجداد تو اپنے حصے کا کام کرگئے لیکن ہمارے حصے کا کام ابھی باقی ہے
    ہمارے بزرگوں نے یہ ملک کلمے کے نام پر حاصل کیا تاکہ انکی ائندہ نسلیں اس ملک میں اسلامی اصولوں کےمطابق زندگی بسر کرسکیں ابھی نفاذ اسلام کےلئے بہت کام کرنا باقی ہے ابھی حقیقی منزل دور ہے ابھی تو پہلا پڑائو ہے ابھی تو اللہ اور اسکے رسول سے کیا وعدہ نبھانا باقی ہے ابھی تو کلمے کے تقدس اور حرمت کو ماتھے پہ سجانا باقی ہے کیونکہ ہمیں یاد ہے وہ سب کچھ کرپانوں پر جھولتے بچے
    بےردا بہنیں ,فریاد کرتی مائیں جوان بھائیوں کے بےگوروکفن لاشے لاشوں سے بھری سرحد پار سے اتی ریل گاڑیاں مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے لاشوں سے اٹے راوی اور چناب ہم یہ سب نہیں بھولے ہمارے زخم اج بھی ہرے ہیں ہم اس اذیت کو بھولنا بھی نہیں چاہتے کہ سرحد پار سےملنے والی یہ اذیت اج بھی جاری ہے کبھی ہمارے ملک کی سرحد پر حملے کی صورت ,کبھی ہم پر مسلط کی گئ جنگوں کی صورت کبھی مقبوضہ کشمیراور کبھی ازاد کشمیر میں دشمن کے حملوں کی صورت ,کبھی سپاہی مقبول حسین کی صورت ,کبھی بلوچستان میں کلبھوشن یادیو کی صورت ,کبھی میڈیا وار کی صورت ,کبھی ففتھ جنریشن وار کی صورت سرحد پار کی یہ نفرت اور دشمنی ہمارے وجود سے ہے ,ہماری نسلوں سے ہے.

    اے سیاست تیری سازشیں ہرطرف
    ہم مٹیں بس یہی خواہشیں ہر طرف

    لیکن دشمن یاد رکھے ہم ٹیپو سلطان اور
    صلاح الدین ایوبی کے وارث ہیں
    دشمن کی چالیں ان پر ہی پلٹا دی جائیں گی کیونکہ :
    ہم مصطفوی ﷺ ہیں اور
    اساں نہیں مٹانا ,نام و نشاں ہمارا

    @Nucleus_Pak

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات   تحریر: عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ

    پارٹ ۵:
    کروگر پارک کے تین گیٹس کا ٹور ہم کر چکے جس میں وہاں کی تاریخی اہمیت کے علاوہ کثرت سے پائے جانے والے جانور اور اندرونی و بیرونی راستوں کا احاطہ کیا۔
    آج ہم شروعات کریں گے Kruger Park کے خوبصورت ترین گیٹس میں سے ایک Numbi Gate سے جو ساؤتھ افریقہ کے صوبہ Limpopo میں ہے۔ لمپوپو کی خاص بات یہاں کے جنگلات اور سانپوں کی بہتات ہے۔ موسم گرما میں اگر آپ شام کے بعد ڈرائیو پر نکلیں تو Klaserie سے Numbi Gate کی طرف یا Hoedspruit کی طرف آپ کو سڑک کے بیچ یا کنارے کوئی نا کوئی سانپ ضرور دِکھے گا۔ یہ پورا علاقہ ساؤتھ افریقہ کے چند بہترین سفاری لاجز اور گیم ریزروز سے گھِرا ہوا ہے۔ عام سڑک پر ڈرائیو کے دوران بھی اکثر جانور چہل قدمی کرتے دِکھ جاتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی باڑ پوچرز یا کسی بڑے جانور کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی لیے آپ کو سڑک کے ساتھ ٹریفک سائنز کے علاوہ جانوروں کے سائن بھی نظر آئیں گے جو پاکستان میں شاید آپ نے کبھی نا دیکھے ہوں۔
    لمپوپو صوبہ کی ایک اور خاص بات اس کے بارڈر ہیں جو تین ممالک کو چھوتے ہیں موزمبیق، زمبابوے اور بوٹسوانا۔ موزمبیق بارڈر کا ایک بڑا حصہ کروگر پارک میں آتا ہے اور غیرقانونی بارڈر کراسنگ کے علاوہ اکثر پوچرز بھی شکار کے لیے یہی راستے اختیار کرتے ہیں جو بہت پُرخطر ہیں اور ان کی مکمل نگرانی تقریباً ناممکن ہے۔
    اس کے علاوہ لمپوپو صوبے اور کروگر پارک کی بہت بڑی خاصیت یہاں ایئرپورٹ کا ہونا ہے۔ Hoedspruit میں موجود یہ ایئرپورٹ بہت بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد و رفت میں سہولت کار ہے اور Nelspruit کے بعد دوسرا ایئرپورٹ ہے جو Kruger کے ساتھ منسلک ہے۔ موسم زیادہ گرم اور بارانی ہے۔
    ۴: نُومبی گیٹ Numbi Gate
    نُومبی گیٹ کی سب سے بڑی خاصیت یہاں کی زرخیز زمین اور نباتات کی بہتات ہے۔ یہی وجہ ہے یہاں سرسبز چرگاہیں اور پانی کی وجہ سے جانوروں کی کثیر تعداد بھی رہتی ہے اور ان کے شکار کے لیے شیر، چیتا اور دوسرے شکار کرنے والے جانور بھی۔ گیم واچنگ کے لیے اس سے آئیڈیل جگہ اور کیا ہو سکتی ہے۔
    یہاں سے داخلے کے بعد چار راستے ہیں۔
    ٭ فور ٹریکر روڈ
    ٭ سکوکوزا کی جانب ناپی روڈ H1-1
    ٭ پریٹوریس کوپ کی ڈرائیو S8 S14
    ٭ الباسینی روڈ سے پھابینی کی جانب ڈرائیو S3
    سنہ 1926 میں جب پہلی بار کروگر پارک ایک سال کے لیے عام عوام کے لیے کھولا گیا تو نُومبی گیٹ سے پہلی اینٹری ہوئی۔ 1927 میں صرف تین کاریں کروگر پارک میں داخل ہوئی جن کی فیس ایک پاؤنڈ تھی۔
    اس وقت پریٹوریس کوپ ریسٹ کیمپ میں ہی سیاحوں کے لیے رات گزارنے کی سہولت موجود تھی۔ دو سال کے بعد ایک اور سڑک کو یہاں لنک کیا گیا اور کچھ مزید ریسٹ کیمپس تعمیر کیے گئے۔ اس سے نا صرف سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ 850 کاروں کی اینٹری تک پہنچ گئی بلکہ جنگل کے بہت اندر موجود اولی فینٹس ریور تک سیاحوں کی رسائی بھی ممکن ہو پائی۔
    اگر آج کے دور سے موازنہ کیا جائے تو کروگر پارک میں سالانہ دس لاکھ کے قریب سیاح آتے ہیں جس سے 850 کی تعداد بہت کم لگتی ہے پھر بھی اس دور کی کروگر پارک اتھارٹیز بہت حیران تھیں کہ جنگل کم وقت میں زیادہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ کروگر پارک کے پہلے وارڈن سٹیونسن ہیملٹن اپنی یادداشت میں بتاتے ہیں کہ اس وقت ہمارے پاس مہمانوں کی تعداد کے مقابل انہیں رہائش و دیگر سہولیات نا ہونے کے برابر میسر تھیں اور اکثر اوقات گیم رینجرز سیاحوں کو سونے کے لیے اپنے کوارٹرز دے دیا کرتے تھے اور خود باہر کھلے میں سوتے تھے۔
    نُومبی گیٹ بلاشبہ کروگر پارک کے خوبصورت ترین داخلی پوائنٹس میں سے ایک ہے اور اس کی میدانی وسعت و اونچائی کہ وجہ سے بہترین واکنگ ٹریلز اور لامحدود حدنگاہ جانوروں کو قریب سے دیکھنے کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ مالےلان گیٹ کی طرح چونکہ یہاں بھی بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور زمین انتہائی زرخیز ہے لہذا ہر قسم کے پودے، بوٹیاں اور گھاس وافر میسر ہے اور چراگاہوں کی جنت۔ جانور یہاں رہنا پسند کرتے ہیں کہ انہیں خوراک کے لیے جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔
    بارش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر جنگل بہت گھنا ہو جاتا ہے اور وہاں جانور دیکھنے کے لیے بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے۔ یہاں آپ کا مرکزی ہتھیار دوربین اور کیمرے کا زُوم آپشن ہے۔ کئی بار جسے آپ جھاڑی سمجھتے ہیں وہ کوئی جانور ہوتا ہے اور جسے جانور سمجھتے ہیں وہ عجیب الخلقت درخت نکل آتا ہے۔
    یاد رہے یہاں گاڑی سے اترنے کی سخت ممانعت ہے اور آپ کی زرا سی لاپرواہی نا صرف آپ کی بلکہ دوسرے ہمسفروں کی جان بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ناصرف کار کا دروازہ نہیں کھولنا بلکہ گاڑی کی سکرین نیچے کرنے سے بھی گریز کرنا ہے کہ جانوروں کی اکثریت کیموفلاج ہوتی ہے اور عام نظر دھوکہ کھا جاتی ہے۔ یہ جانور مکمل طور پر حیوان ہیں اور اصلی جنگل کے باسی ہیں کیونکہ کروگر پارک کا صرف نام پارک ہے ورنہ یہ اصل جنگل ہی ہے جسے باڑھ لگا کر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ کچھ حادثات میں ڈرائیور یا مسافر کی لاپرواہی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی جن میں سب سے تازہ واقع دو سال قبل پیش آیا جب جیپ کی کھلی کھڑکی سے شیر نے حملہ کر دیا جس میں غیرملکی سیاح لڑکی شدید زخمی ہوئی جبکہ ڈرائیور زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے چل بسا۔
    کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں آپ نے رینجرز ہیلپ لائن پر کال کرنی ہے جو خود ماہر شکاریوں کی نگرانی میں آپ کی مدد کریں گے۔
    یہاں کے جانور ماہر شکاری ہیں اور سامنے نظر آنے والی گھاس جو بظاہر خالی نظر آتی ہے سے بجلی کی طرح لپکتے ہیں آناً فاناً سب ختم کر دیتے ہیں۔ اگر رینجرز نے آپ کو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑ لیا تو آپ پر نا صرف بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے بلکہ آپ کے کروگر میں داخلے پر مستقل پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ لہذا ہمیشہ کوشش کیجیے کہ آپ قانون کی خلاف ورزی نا کریں۔
    “نُومبی گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • ہمارا عدالتی نظام تحریر: فرمان اللہ

    ہمارا عدالتی نظام تحریر: فرمان اللہ

    تحریر لکھنے سے پہلے کچھ دیر سوچتا رہا کہ کہا سے شروع کروں، ہمارا عدالتی نظام کیا اس قابل ہے کہ وہ کسی غریب یا مظلوم کو انصاف دلا سکے؟

    آئے روز میرے ملک میں ظلم و ستم کے پہاڑ کھڑے کر دیے جاتے ہیں لیکن نہ مظلوم کو انصاف ملتا ہے اور نہ ہی ظالم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایک طرف مظلوم غریب جس کے پاس اچھا وکیل کرنے کے پیسے تک نہیں ہوتے تو دوسری طرف طاقتور اور ظالم جو پیسے کی طاقت سے بہترین سے بہترین وکیل خرید لیتا ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا ماہر ہوتا ہے۔

    بڑے سے بڑا ظلم بھی ہو جائے تو ظالم اگلے دن ضمانت پر رہا ہو چکا ہوتا ہے اور مظلوم عدالت کے چکر کاٹ کاٹ کر ذلیل و خوار ہو جاتا ہے لیکن انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آتا آخر کار وہ ہمت ہار جاتا ہے بے بس ہو جاتا ہے اور ظالم کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر کے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

    مجرم کو ہمارے عدالتی نظام پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ اسے سزا نہیں ہو گی اور ہمارا عدالتی نظام مجرم کے اس بھروسے کو نہیں توڑتا اور یہی وجہ ہے کہ جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

    حضرت علیؓ کا قوم ہے کہ کفر کا تو نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔

    اگر ہم ایک نظر ترقی یافتہ ممالک پر ڈالیں تو ہمیں سب سے پہلے ان کا بہترین عدالتی نظام نظر آئے گا جہاں امیر اور غریب کو ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر غریب کے پاس وکیل کرنے کے لیے پیسے نہ ہوں تو حکومت وکیل بھی کر کے دیتی ہے لیکن کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیتے۔ ترقی یافتہ ممالک کی توجہ بہترین عدالتی نظام پر ہوتی ہیں جہاں طاقتور اور امیر کو بھی فوری سزا سنا دی جاتی ہے اگر وہ کسی جرم میں ملوث پایا جائے لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ملک کے طاقتور اور امیر لوگ اپنے مرضی کے فیصلے کراتے ہیں۔ جرم کرنے کے بعد فوری طور پر طاقتور کو ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد کئی سالوں تک وہ مقدمہ چلتا ہے لیکن کیس کا فیصلہ نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے آخر مظلوم ہمت ہار جاتا ہے اور اپنی شکست تسلیم کر لیتا ہے۔ اگر طاقتور اور کمزور کے فرق کو مٹا دیا جائے تو بہترین عدالتی نظام ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

    ہمارے حکمران ہمارے منصف اگر ملک و قوم کے خیر خواہ ہیں تو سب سے پہلے عدالتی نظام کو بہتر کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، مظلوم کے لیے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ اس معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ہو سکے۔ آج ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ ہمارا عدالتی نظام ہے جو اس قابل نہیں کہ کسی کو فوری انصاف دلا سکے اور ہم بحیثیت قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک انصاف کے معیار کو بہتر نہیں کر دیا جاتا۔

    جزاک اللہ

    Farman Ullah
    Twitter Acct: @ForIkPakistan

  • صبر اور ہم،  تحریر: محمد خبیب فرہاد

    صبر اور ہم، تحریر: محمد خبیب فرہاد

    "صبر” کے معنی ہیں کسی خوشی، مُصیبت، غم اور پریشانی وغیرہ کے وقت میں خود کو قابو میں رکھنا اور خلاف شریعت کاموں سے بچنا۔

    روزمرہ کی زندگی میں، ہم میں صبر ناں ہونے کے برابر ہے، کامیابی کا حصول ہی یہی ہے کہ صبر وتحمل سے کام لیا ۔

    صبر ایک ایسا عظیم اور اعلیٰ فضیلت والا عمل ہے جس کو اللہ تعالٰیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام کی صفات میں تعریف کرتے ہوئے بیان فرمایا
    ”وَإِسمَاعِیلَ وَإِدرِیسَ وَذَا الکِفلِ کُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِینَ 
    اور اِسماعیل اور اِدریس اور ذاالکِفل سب ہی صبر کرنے والوں میں سے تھے۔

    اور اس صبرکو ایک نیک عمل قرار فرماتے ہوئے اُس کا پھل یہ بتایا، إِنَّمَا الصَّبر عِندَ الصّدمۃ الأولیٰ 
    بے شک صبر (تو وہ ہے جو) کسی صدمے کی ابتداء میں کیا جائے۔

    اور اللہ تبارک و تعالٰیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو یہ بتایا کہ یہ عظیم کام بہت بُلند حوصلہ رسولوں کی صفات میں رہا ہے اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُس کام کا حکم فرمایا:

    فَاصبِر کَمَا صَبَرَ أُولُوا العَزمِ مِنَ الرُّسُلِ 
    اور (اے مُحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی اُسی طرح صبر فرمایے جس طرح (آپ سے پہلے )حوصلہ مند رسولوں نے فرمایا۔
    ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    طہارت ایمان کا حصہ ہے اور الحمداللہ  (کہنا) میزان(ترازو) کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ  (کہنا) آسمانوں اور زمین کے درمیان کو بھر دیتا ہے اور نماز روشنی ہے، اور صدقہ واضح دلیل ہے، اور صبر چمک ہے، اور قُرآن حجت ہے( یا خود ) تمہارے لیے (یاخود) تمہارے خِلاف ہر انسان نے کل کو جانا ہے اور اپنی جان کو بیچنا ہے تو کوئی تو اپنی جان کو چُھڑانے والا ہے اور کوئی اس کو ہلاک کرنے والا۔

    سورۂ یوسف کی آ یت نمبر 89 کو غور سے پڑھا تو آ نکھیں حیرت سے کھل گئیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے ظرف کو دیکھ کر بے اختیار خیال آ یاکہ انسان ایسا بھی ہوسکتا ہے جن بھایئوں نے بچپن میں باپ سے الگ کر دیا اور مصر کے بازار میں بولی لگائی گئی جیل میں الزام لگا کر قید کر دیا۔ مگر جب بھائیوں سے ملاقات ہوئی تو انھیں شرمندہ نہ ہونے دیا اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود بولے بھی تو کیا؟ کہ کیا تم جانتے ہو کہ نادانی میں تم نے یوسف اور اسکے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟ سبحان اللہ کیا اس سے بڑا اخلاق کا مظاہرہ ہوسکتا ہے؟ نادانی کرنے کی عمر تو حضرت یوسف علیہ السلام کی تھی اور بھائی تو صاحب عقل تھے ۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا اخلاق تھا کہ بھائیوں کو نظریں نہ جھکانی پڑیں ھم اکثر ایک فقرہ بولتے ہیں کہ ” غلط بات برداشت نہیں مجھے” حالانکہ غلط بات پر ہی تو ہماری برداشت دیکھتا ھے اللہ تعالیٰ آیا کہ ہم میں صبر ھے کہ نھیں کیا ہم صبر کر کے جنت کے راستے کے مسافر بن سکتے ہیں کہ نہیں؟ ایک انسان ہونے کے ناطے صبر کرنا سیکھیں اور اپنا اخلاق ایسا بنائیں کہ ہم موت کے وقت لقب حاصل کر سکیں۔

    "اے اطمینان پانے والی روح”

    .اللّٰه والوں کی صحبت کی برکت ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
    ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﻠﺤﺎﺀ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﺘﺎﺭ ﺍﻟﻌﯿﻮﺏ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﯿﺐ ﮐﻮﻥ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟

    ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
    ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﻟﮯ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟

    ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻏﺒﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ , ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﺺ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ نہ ﻟﯽ ہو،

    ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ لوگ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮍﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻮ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﺳﮯ
    ﺟﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ

    ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ،
    ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

    @khubaibmkf

  • آج کے نوجوان   تحریر :  نواب فیصل اعوان

    آج کے نوجوان تحریر : نواب فیصل اعوان

    آج کا نوجوان طبقہ والدین کے نزدیک باغی ہے ۔
    والدین کا نافرمان و گستاخ ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں ۔
    نوجوان طبقہ آزادی کا خواہاں ہے جبکہ والدین اپنی اولاد کو اپنے اثرو رسوخ تلے رکھنا چاہتے ہیں ۔
    والدین کے نزدیک ان کی اولاد ان کے ہاتھ سے نکل جاٸیگی جبکہ نوجوان طبقے کے نزدیک ان پہ یہ سب مسلط کیا جا رہا ہے جبکہ وہ والدین کے اس اثرورسوخ سے چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔
    اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ غیر ضروری دباٶ ان پہ بن وجہ غصہ کرنا ان کی شخصیت پہ اثرانداز ہورہا ہے ۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ وہ فیصلے مسلط کرنا جو ان کے نزدیک سہی نہیں ہیں ۔
    ایسا کرنا بچوں کو والدین سے باغی بنا رہا ہے ۔
    بچوں کے نزدیک اب وہ بڑے ہوگۓ ہیں ان کو اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں جبکہ والدین ابھی اپنے بچوں کو نومولود بچہ ہی سمجھتے ہیں جس سے نوجوان باغی دکھاٸ دیتے ہیں کہ ان کو بڑا تصور کرتے ہوۓ اپنے من پسند فیصلے کرنے کا حق دیا جاۓ ۔
    بچے غلط کمپنی کا شکار ہو رہے ہیں گھریلو پریشر کی وجہ سے تھوڑی دیر ریلیکس ہونے کے بہانے ناجانے کیا کیا کر رہے ہیں ۔
    اکثر اوقات بچوں کے منہ سے یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ان کے والدین ٹھیک نہیں ہیں ایسے والدین مر ہی جاٸیں تو اچھا ہے ۔
    آخر اتنی بدتمیزی ، بے حیاٸ ، نافرمانی اور بغاوت بچوں کے ذہن میں آٸ ہی کیوں ۔؟
    اس کے دو پہلو ہیں ۔
    پہلا پہلو یہ ہے کہ والدین دوسروں کی باتیں سن کے جب اپنی اولاد کو دوسروں کے سامنے ڈانٹیں گے تو وہ والدین سے نفرت کرنے لگیں گے ۔
    دوسرا پہلو یہ ہے کہ
    والدین اولاد کو اہمیت دیتے ہی نہیں ہیں جس سے اولاد نافرمان و باغی ہوتی جا رہی ہے ۔
    حدیث مبارکہ ہے کہ
    ” ماں کے پیروں تلے جنت ہے “
    دوسری حدیث میں آیا ہے کہ
    ” باپ جنت کا دروازہ ہے “
    تو کیا ہوا ایسا کہ جس ماں کے پیروں تلے جنت رکھی ہے اللہ پاک نے اور جس باپ کو جنت کا دروازہ بنایا ہے ان سے ہی اولاد عاری کیوں ہے ۔؟
    اس سلسلے میں والدین کچھ رہنما اصول اپنا لیں تو شاید بغاوت کی تیزی سے بڑھتی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے ۔
    پہلا اصول
    والدین اولاد کیلۓ وقت نکالیں تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کے ان سے ان کے معاملات زندگی بڑے تحمل سے پوچھیں ۔
    دوسرا اصول
    اولاد سے ان کی خوشی کے بارے میں پوچھا جاۓ تاکہ اولاد غلط فیصلے لینے سے بچ سکے کہ ان کی خوشی کس چیز میں ہے کیا جو یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے یا کیا جاۓ گا وہ ان کو منظور ہے تاکہ بچوں میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ آپ کو جواب دے سکیں ۔
    تیسرا اصول
    بچوں سے پوچھ لیا کریں کہ مستقبل میں وہ کیا بننا چاہتے ہیں ان کا کیا کرنے کا ارادہ ہے وہ کیا کر سکتے ہیں ۔؟
    دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں پہ جبری فیصلے مسلط کر دیتے بچہ کہتا میڈیکل فیلڈ میں جانا تو والدین نہیں تم انجینٸر بنو گے جس سے اس پہ پریشر پڑتا ہے اور بچہ وہ اہداف حاصل نہیں کر پاتا جس کا وہ ارادہ کیۓ ہوۓ ہوتا ہے ۔
    چوتھا اصول
    بچوں کی دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس میں غصے کی شدت پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک باعزت شہری بننے کی بجاۓ انتقام پسند بن جاتا ہے جو کہ معاشرے کیلۓ ٹھیک نہیں ہے ۔
    پانچواں اصول
    بچوں کے ساتھ اپنا رویہ دوستانہ رکھیں تاکہ بچے والدین سے اپنی ہر اچھی بری بات شٸیر کرتے ہوۓ نہ ڈریں ۔
    کٸ بلیک میلنگ کے واقعات میں بچے اس لیۓ بھی بلیک میل ہو رہے ہوتے ہیں کہ وہ والدین کو نہیں بتا سکتے کیونکہ والدین نے الٹا ان کو ہی قصوروار ٹھہرا دینا ہوتا ہے ۔
    چھٹا اصول
    بچوں کی نفسیات سمجھ کے ہر معاملے پہ ان کے ساتھ بات چیت کی جاۓ ان کو اچھا برا سمجھایا جاۓ رویہ نرم اور شفقت بھرا رکھا جاۓ تو بچے والدین کے مزید قریب آجاتے ہیں ۔
    اگر یہی بنیادی چھ اصول آج سے ہی والدین اپنا لیں تو بچے نہ تو جھوٹ بولیں گے ناں نافرمانی کریں گے نہ باغی ہونگے نہ غلط کمپنیوں کا شکار ہونگے ۔