Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نظریں شیطان کا تیر- تحریر: نصرت پروین

    ارے عادتِ بد نگاہی سے خود کو
    نگاہِ خدا میں گرائے ہوئے ہو
    الله سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب میں مردوں کو نظر کی حفاظت اور عورتوں کو حجاب کا حکم دیا۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم فتنوں سے بھرپور ایسے دور میں جی رہے ہیں۔ جہاں بے حیائی سرِ عام ہے۔ اور بے حیائی کے نتائج بھی واضح ہورہے ہیں۔ جہاں ایک گروہ کے نزدیک حجاب بوجھ ہے اور حجاب کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اس دلیل کے ساتھ کہ مرد اپنی نظر کی حفاظت کریں تو دوسرے گروہ کے نزدیک بس عورت کو حجاب پہننا چایے تو بے حیائی کا خاتمہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ جیسے عورت پر حجاب فرض ہے ویسے ہی بلا تفریق مرد پر بھی نگاہیں نیچی رکھنا فرض ہے۔ اور دونوں اپنے اعمال کے لئے الله کے سامنے جوابدہ ہیں۔ تو نظر کی حفاظت فرض ہے۔ آج نظر کی حفاظت کرنا تو بہت دور بلکہ فیشن اور ماڈرن ازم کی طرف لوگوں کو راغب کر کے اس بے حیائی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
    نظروں کو شیطان کا تیر کہا جاتا ہے۔ یہ شیطان کی طرف سے پہلا حملہ ہوتا ہے جس کے زریعے شیطان انسان کو برائی میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ بد نگاہی کا ہمارے تمام عقائد اور اعمال سے گہرا تعلق ہے یہ بد نگاہی ہی تو ہے جس سے کبیرہ گناہ کی ابتدا ہوتی ہے اگر نگاہیں جھکی رہیں تو دل کا نظام بھی درست رہتا ہے لیکن جیسے ہی یہ نگاہیں آزادانہ اٹھیں دل کے اندر کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ اندر کا تمام نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ دراصل آغاز وسوسوں سے ہوتا ہے۔ شیطان انسان کو کئی کئی وسوسے دلاتا ہے کہ انسان آزادانہ طور پر بد نگاہی کا مرتکب ہو اور جب انسان ایسا کرتا ہے تو پھر دل کے اندر کئی کئی سوچیں آتی ہیں۔اور انسان ان سوچوں کو نہیں جھٹکتا بلکہ انہیں سرکش احساسات میں پروان چڑھاتا ہے اور پھر بد نگاہی کے توسط سے وہ گھناؤنے اعمال بن جاتے ہیں۔ جو گناہِ کبیرہ ہیں۔ پھر انسان مسلسل ان فحش اعمال کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور اسطرح انسان گناہوں کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور کفر میں ایسا پھنس جاتا ہے کہ اکثر واپسی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔

    الله جی اپنی کتابِ حبیب میں فرماتے ہیں۔
    قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ ﴿۳۰﴾
    ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
    (سورہ النور:30)
    اس آیت میں نگاہیں نیچی کرنا، ادھر ادھر نہ دیکھنا اور الله کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا مقصود ہے (تفسیر ابنِ کثیر)
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ نگاہوں کی حفاظت نفس کی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ الله رب العزت نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم مشقت کے طور پر نہیں دیا بلکہ یہ الله کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ یہ آیت دو ٹوک انداز میں بد نگاہی کی مذمت کر رہی ہے۔ احادیث میں بھی اس معاملے میں بہت سی وضاحت موجود ہے۔ الله کے رسول نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے پوچھا کہ اگر کام کاج کے لئے ضروری ہو تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر راستوں کا حق ادا کرتے رہو۔ لوگوں نے راستوں کے حق کے متعلق پوچھا تو کریم نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو ایذا نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
    (بخاری)

    حضرت جریر رضی الله عنہ نے رسول صلی الله علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نگاہ فوراً ہٹا لو۔
    (صحیح مسلم)

    نظر کی حفاظت پر الله جی اپنے بندے کو اپنا تقرب دیتے ہیں۔ اسے ایسی عبادت عطا کرتے ہیں کہ انسان بہت لذت محسوس کرتا ہے۔
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کی نگاہ عورت کے حسن و جمال پر پڑ جائے اور وہ اپنی نگاہ ہٹا لے تو الله تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ دل میں محسوس کرتا ہے۔
    (مسند احمد)
    بدنگاہی انسان کے لئے بے سکونی کا سبب بن جاتی ہے۔ انسان مایوسی، ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسان بے چین رہتا ہے۔ وہ برائی کو پروان چڑھانے کے لئے ابلیس کے ساتھ مشاورت میں مگن ہوجاتا ہے۔ وہ ایک ایسی بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے جس کا علاج ناممکن ہے کیونکہ بدنگاہی انسان کے خیالات، جذبات کو منتشر کر دیتی ہے۔ یوں انسان الله کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔
    ایک نشید کے الفاظ کچھ یوں ہیں۔
    بدنگاہی بے سکونی کی وجہ کیسے نہ ہو
    بدنگاہی جرم ہے تو پھر سزا کیسے نہ ہو۔

    صورتِ جنس مخالف کو مسلسل دیکھنا
    غلطیاں آنکھیں کریں دل مبتلا کیسے نو۔

    خالقِ دل کی بجائے دل میں رہتے اور ہیں۔
    پھر یہ شب بھر جاگنے کا سلسلہ کیسے نہ ہو۔

    لب پہ جنت کی دعائیں خوب ہیں لیکن میاں
    اتباعِ نفس و شیطاں میں خطا کیسے نہ ہو۔

    فتنہِ عشق مجازی دشمنِ ایمان ہے
    ہم کریں من مانیاں رب کو پتہ کیسے نہ ہو۔

    بندہِ رحمن ہو کر نفس کے تابع ہوئے
    نفس کے ماروں کا شیطاں رہنما کیسے نہ ہو۔

    چند مٹی کے کھلونوں کو طلب کرنے لگے
    پھر انہیں ہدہد موبائل کا نشہ کیسے نہ ہو۔

    امام ابنِ قیم لکھتے ہیں کہ زنا کے واقعات کا آغاز نگاہوں سے ہوتا ہے جس نے اپنی نگاہ کو آزاد چھوڑ دیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالا۔ انسان تک پہنچنے والی مصیبت اور آفات میں سب سے پہلے نظر کے زریعے ہی مصیبت اور پریشانیاں پہنچتی ہیں۔ جب انسان نظروں کی لاپرواہی کے سبب مصیبت میں پڑجاتا ہے تو پھر اسے سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا وہ ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اس پر اسے نہ صبر کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے کی اور یہ انسان کے لئے سب سے بڑا عذاب ہوتا ہے۔
    بدنگاہی انسان کے ایمان کی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور بہت سے دیندار لوگ بھی بدنگاہی کی سبب گمراہ ہوجاتے ہیں۔ ایک مؤذن جسے اذان دیتے ہوئے چالیس سال ہوگئے تھے۔ ایک دن اذان دیتے ہوئے اس کی نظر ایک نصرانی لڑکی پر پڑ ی تو دل اور عقل دونوں پر پردے پڑ گئے اذان چھوڑ کر اس لڑکی کے پاس پہنچا اور نکاح کا پیغام دیا۔ وہ لڑکی کہنے لگی میرا مہر تجھ پر بھاری ہو گا گی۔ پوچھا تیرا مہر کیا ہے؟ لڑکی بولی دین اسلام چھوڑ کر نصرانی بن جا (معاذالله) یہ سن کر اس بدنصیب نے مرتد ہو کر عیسائ مذہب اختیار کر لیا۔ نصرانی عورت نے کہا میرا باپ گھر کے سب سے نچلے کمرے میں ہے تو اس سے نکاح کی بات کر لے۔ چنانچہ جب وہ اترنے لگا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ شادی کی تمنا دل میں لئے ہی مردہ حالت میں مر گیا۔ آپ اس واقعے کو دیکھیں۔ ایک دیندار انسان پر بھی ابلیس کیسے وار کرتا ہے اور "نگاہ اٹھی” اور ایمان کا سودا کر دیا۔
    نگاہوں کی حفاظت مشکل کام ہے لیکن الله کا حکم ہے اور معاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ بھی ہے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو الله کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو الله کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو الله کے خوف میں رو دے گو اس میں آنسو صرف مکھی کے سر برابر ہی نکلا ہو۔
    @Nusrat_writes

  • شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ  تحریر: احسان الحق

    شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ تحریر: احسان الحق

    27 ذوالحج سے یکم محرم الحرام تک کے ایام خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے زخمی ہونے اور شہید ہونے کے دن ہیں. امیرالمؤمنین نے مدینہ منورہ میں اجنبی غیر مسلم نوجوانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی. ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے امیرالمؤمنین کی خدمت میں معروضہ پیش کیا کہ ایک کاریگر نوجوان ہے جو لوہار اور بڑھئی کے ساتھ ساتھ ماہر خطاط بھی ہے. اس کے علاوہ بھی کافی ہنر جانتا ہے. اگر اس نوجوان کو مدینے میں آنے کی اجازت عنایت فرمائیں تو لوگوں کا بہت فائدہ ہوگا.

    کاریگر نوجوان کی مدینہ آمد سے پہلے کچھ اور اہم حالات اور واقعات جان لیتے ہیں. معید بن مسیب اور حاکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اونٹ پر سوار ہو کر منیٰ سے نکلے اور مقام بطح پر رک گئے. سیدنا عمرؓ اپنے اونٹ کے سہارے کھڑے ہو کر آسمان کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی.
    "اے اللہ، میں کمزور ہو گیا ہوں. میری قوت جواب دے رہی ہے. میرے خیالات منتشر ہو رہے ہیں. اس سے پہلے کہ ضعف عقلی کی وجہ سے خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر ہو، مجھے اپنے پاس بلا لے”
    امام بخاری نے بحوالہ ابو صالح لکھا ہے کہ ایک دن حضرت کعب بن احبار نے امیرالمؤمنین سے فرمایا کہ میں نے تورات میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ شہید کئے جائیں گے. یہ سن کر آپ امیرالمؤمنین فرماتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں رہتے ہوئے مجھے شہادت ملے.
    اسلمی کہتے ہیں کہ کعب کی بات سن کر امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ "اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب عطا فرما اور میری روح مدینہ میں قبض ہو اور یہاں مجھے دفن فرما”

    حج کی غرض سے امیرالمؤمنین خلافت کے 11ویں سال بمطابق ذوالحج 23 ہجری کو مکہ مکرمہ تشریف لے گئے. اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے. جمعہ کا طویل خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو نصیحتیں کیں اور ایک خواب کا ذکر کیا. معدان بن ابوطلحہ کی زبانی حاکم لکھتے ہیں کہ خطبہ جمعہ میں امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو ٹھونگیں ماریں. جس کا مطلب ہے کہ میری موت نزدیک ہے. آپ نے یہ فرمایا کہ لوگ اصرار کر رہے کہ میں اپنا جانشین مقرر کروں، اگر میری موت جلدی واقع ہو جائے تو ان 6 لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر لینا جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیات میں راضی تھے. آپ نے خلافت کے لئے ان 6 حقداروں اور امیدواروں کا نام لیا.
    عثمان بن عفان، علی بن ابوطالب، سعد بن وقاص، عبدالرحمن بن عوف، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا.

    کاریگر نوجوان کا نام ابولولوء فیروز تھا جو کہ ایرانی مجوسی تھا. ابولولوء مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا. ابولولوء فیروز ایک دن امیرالمؤمنین کے دربار میں حاضر ہو کر حضرت مغیرہ بن شعبہ کی شکایت کی کہ میں جو دن بھر کماتا ہوں میرا آقا اس میں زیادہ رقم لے لیتا ہے. اس میں سے کمی کروا دیں. امیرالمؤمنین نے دریافت کیا کہ کون سا کام جانتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں لوہار بھی ہوں، بڑھئی بھی ہوں اور بیل بوٹے بنانا بھی جانتا ہوں. سیدنا عمرؓ نے پوچھا کہ تمہارا آقا روزانہ کتنی رقم لیتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ دو درہم روزانہ. امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ تم جو کام کرتے ہو اس کے لئے تو یہ رقم مناسب ہے. یہ سنتے ہی ابولولو اندر سے ناراض ہو کر چلا گیا.

    دوبارہ امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ابولولوء کو بلایا اور فرمایا کہ تم نے کہا تھا کہ ہوا سے چلنے والی چکی بنا کر دونگا. اس پر ملعون ابولولوء نے کہا کہ ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ تم یاد کروگے. اس کے جانے کے بعد امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ مجھے دھمکی دے کر گیا ہے اور میں اس پر گرفت نہیں کر سکتا کیوں اس کا جرم واضح یا ظاہر نہیں، اس نے ذو معنی الفاظ میں اپنا ارادہ ظاہر کر کے مجھے دھمکی دی ہے.
    اگلے دن صبح کی نماز کے وقت ملعون ابولولوء مسجد نبویؐ میں چھپ کر بیٹھ گیا. قاتل کے پاس 2 رخ والا دو دھاری خنجر تھا. جس کے درمیان میں دستہ تھا.
    امیرالمؤمنین نماز پڑھا رہے تھے اور جب سورۃ یوسف کی تلاوت شروع کی تو ملعون ابولولوء نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیرالمؤمنین کے کندھے اور کوکھ کے درمیان 6 وار کئے اور بھاگنے کی کوشش میں پہلی صف میں کھڑے 13 نمازیوں پر بھی پر حملہ کیا. اس حملے میں امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو کر گر پڑے. ایک عراقی نے ابولولوء پر چادر پھینک کر پکڑنے کی کوشش کی مگر ابولولوء نے اسی خنجر سے خود پر وار کرتے ہوئے خودکشی کر لی. 13 زخمی نمازیوں میں سے 7 شہید ہو گئے.

    ادھر امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو چکے تھے. انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو نماز مکمل کرنے کے لئے آگے کر دیا. امیرالمؤمنین نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ مجھ پر کس نے حملہ کیا. بتایا گیا کہ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے، یہ سنتے ہی امیرالمؤمنین نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے ایک ایسے بندے نے مارنے کی کوشش کی جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ نہیں کیا. میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہو رہی جو کلمہ گو ہو. آپ کو گھر لایا گیا. زخمی امیرالمؤمنین کو دودھ پلایا گیا تو وہ زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا. ایسے میں آپ امیرالمؤمنین کو اندازہ ہو گیا اب میرا زندہ رہنا بہت مشکل ہے.
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ میرا کتنا قرض ہے، حساب لگا کر بتایا گیا کہ چھیاسی ہزار. آپ نے اپنے بیٹے کو یہ قرض اتارنے کے ساتھ ساتھ دوسری نصیحتیں بھی کیں پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کہ جا کر امی عائشہ صدیقہ کو کہو کہ عمر سلام کہتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پہلو میں دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے. امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت دے دی. امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد اور دفنانے سے پہلے میرا جنازہ امی عائشہ صدیقہ کے پاس لے جانا اور دوبارہ پوچھنا، ہو سکتا ہے ابھی انہوں نے مجھے بحیثیت خلیفہ دفن ہونے کی اجازت دی ہو.

    امیرالمؤمنین 27 ذوالحج 23 ہجری کو زخمی ہوئے اور 3 دن بعد یکم محرم 24 ہجری کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے. آپ کی عمر پر کچھ اختلاف ہے مگر 63 سال پر زیادہ اتفاق ہے. آپ امیرالمؤمنین کا جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے پڑھایا. حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت سعد بن وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے امیرالمؤمنین کی میت مبارک کو قبر میں اتارا. خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امام الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفہ اول امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا ساتھ نصیب ہو گیا.

    @mian_ihsaan

  • موسمیاتی تبدیلیاں اور پاکستان  تحریر : احسن وقار خان

    موسمیاتی تبدیلیاں اور پاکستان تحریر : احسن وقار خان

    دنیا کا تیس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ۔جبکہ پاکستان میں جنگلات کی تعداد ”آٹے میں نمک “کے برابر ہےـ جو بمشکل تین سے چار فیصد بنتی ہے اور ان جنگلات کو بھی مافیا کاٹ کاٹ کر ختم کرتا جا رہا ہے ـجس وجہ سے بہت سی موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی جا رہی ہیں ـ

    ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے ـجبکہ اس کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔سموگ اور اس جیسی دیگر پولوشن میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔

    خدارا اپنی آنے والی نسلوں کے لیے درخت لگائیں ۔جںگلات ماحولیاتی تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس وقت ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔درختوں کی کٹائی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں .

    عمران خان کا شروع کیا گیا
    ”بلین ٹری پروجیکٹ “
    ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہت مفید ہے ۔ہر شخص کو چاہیے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ۔ہر شخص کو اس پروجیکٹ میں آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔جنگلات لگانا ہماری آنے والی نسلوں کو زندگی دینے کے مترادف ہے۔
    درخت نہیں ہوں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو جاۓ گا ۔آلودگی سے بھری آب و ہوا ان کے لیے بیماریوں کا باعث ہوں گی ۔
    خدارا درخت لگائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو زندگی بخشیں ۔
    پاکستان کو سر سبز و شاداب بنائیں ۔
    پاکستان زندہ باد

  • پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط  تحریر:ضمیر آفاقی

    پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط تحریر:ضمیر آفاقی

    پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط
    پاکستان نیوی کی سمندری سرحدوں سے لیکر معاشی اور امدادی اموں میں خدمات سے تاریک بھری پڑی ہے جس کا زکر اکثر ہوتا رہتا ہیں لیکن پاک نیوی کے بحری جہاز دنیا بھر میں امدادی سرگرمیوں کءحوالے سے بھی نام کما رہے ہیں ایسا ہی ایک بحری جہاز پی این ایس ذوالفقار جو سمندر پر اپنا تسلط قائم رکھنے اور نگرانی کے مقصد کے لیے حاصل کردہ پاک بحریہ کا جدید ترین جہاز ہے یہ تباہ کن بحری جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے اور اس میں دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے تارپیڈو بھی نصب ہیں۔ یہ بحری جہاز ملک کی ساحلی پٹی کی حفاظت اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ایک مکمل طور پر فعال پیکج ہے۔
    ابھی حال ہی ہی میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے روس کی بندرگاہ سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ کیا جو پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کی شاندارمثال ہے ۔ پی این ایس ذوالفقار نے روسی بحریہ کی 325 ویں ڈے پریڈ میں شرکت کی۔سینٹ پیٹرزبرگ میں جہاز کے قیام کے دوران مشن کمانڈر اور جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے لیننگراڈ نیول بیس کے کمانڈر کیپٹن سالوشین آندریو اور ڈپٹی گورنر خارجہ تعلقات جناب ایوگینی ڈی گریگوریف سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معززین نے پاک بحریہ کیلئے خیر سگالی اور گرم جوشی کا اظہار کرتے ہوے روس کی نیول ڈے پریڈ میں شرکت پر پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا۔ مشن کمانڈر نے روسی عوام بالخصوص روسی بحریہ کیلئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ مشن کمانڈر نے بندر گاہ پر جہاز کے قیام کے دوران روسی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے پسکیریوسکو میں یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ اس کے علاوہ رشین نیوی ڈے کی اہمیت کے لحاظ سے پی این ایس ذوالفقار پر ایک تقریب اور پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر روسی حکومت کے عہدیداروں ، سفارتی شخصیات اور رشین فیڈریشن نیوی کے افسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔پی این ایس ذوالفقار کا روس کا دورہ اور 325 ویں نیوی ڈے کے موقع پر روسی بحریہ کی پریڈ میں شرکت پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کا باعث ہے۔ بندرگاہ سے روانگی پر پاک بحریہ کے جہاز نے رشین فیڈریشن نیوی کے جہاز اوڈینٹوسو کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق عریبین مون سون میں بھی حصہ لیا۔
    علاوہ ازیں عالمی سمندروں میں تعیناتی کے سلسلے میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے ہیمبرگ، جرمنی کا بھی دورہ کیا۔ جہاز کی آمد پر، برلن میں پاکستان کے دفاعی اتاشی اور جرمن بحریہ کے افسران نے جہاز کا استقبال کیا۔بندرگاہ کے دورے کے دوران، مشن کمانڈر کموڈور سید رضوان خالد اور جہاز کے کمانڈنگ افسر کیپٹن راو¿ احمد عمران انور نے چیف آف اسٹاف جرمن نیول کمانڈ رئیر ایڈمرل فرینک لینسکی، کمانڈر ہیمبرگ نیول کمانڈ کیپٹن مائیکل گس اور ہیمبرگ پورٹ کے چیف ہاربر ماسٹر مسٹر پولمین سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے کے امن اور بحری سیکیورٹی کے لیے پاک بحریہ کی خدمات کو سراہا گیا۔ مشن کمانڈر نے جرمنی کی عوام کے لیے بالعموم اور جرمن بحریہ کے لیے بالخصوص چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی جانب سے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے جرمن بحریہ کی یادگار لیبو کیل پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ علاوہ ازیں پی این ایس ذوالفقار پر پاکستان اور جرمنی کے مابین 70سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے کی خوشی میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔قبل ازیں پی این ایس ذوالفقار نے پولینڈ بحریہ کے جہاز او آر پی کورموران کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق میں حصہ لیا۔ مشق میں جدید بحری حربے جن میں میری ٹائم انٹر ڈکشن آپریشنز بورڈنگ، فورس پروٹیکشن ڈرل شامل تھے۔ مشق کا مقصد بحری معاملات کے ذریعے دفاعی معاونت کو فروغ دینا اور دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔پی این ایس ذوالفقار کا دورہ جرمنی اور پالش بحریہ کے ساتھ بحری مشق میں شرکت دوست ممالک کے درمیان نہ صرف بحری افواج کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث ہے بلکہ سفارتی اور دفاعی تعلقات کوبھی فروغ دیتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے برطانیہ کی بندرگاہ پورٹسموتھ کا بھی دورہ کیا، جہاں میزبان بحریہ اور پاکستان کے سفارتی حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مشن کمانڈر نے جہاز کے کمانڈنگ آفیسر کے ہمراہ میزبان حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ بحری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشن کمانڈر نے امیرالبحر کی جانب سے برطانیہ کے عوام کیلیے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق دورے میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے مشترکہ بحری مشق واٹ اسٹار میں بھی حصہ لیا۔ مشق کے دوران جدید بحری آپریشنز کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاک بحریہ کے جہاز کا یہ دورہ اور مشترکہ مشق میں شرکت دونوں ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔
    پاک بحریہ نے خلیج عدن میں پھنسی کشتی کو بچالیا ، پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقارنے بحری گشت کے دوران خراب سمندری حالات میں 16 گھنٹے تک آپریشن کے بعد کشتی کو کھینچ کر بحفاظت ساحل کے قریب پہنچایا۔ کشتی سفر کے دوران آپریشنل صلاحیت کھو چکی تھی۔ مسافر کئی دنوں سے بغیر پینے کے پانی اور خوراک سمندر میں امداد کے منتظر تھے پاک بحریہ زمانہ امن و جنگ دونوں میں عسکری، سفارتی اور انسانی ہمدردی کے آپریشنز سر انجام دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رپتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پاکستان نیوی کا کھلے سمندر میں یہ اس طرز کا دوسرا امدادی آپریشن ہے۔ پاک نیووی کی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار نہ صرف وسیع ہت بلکہ دنیا بھر کے ممالک اس کے معترف بھی ہیں۔
    یوں تو پاک بحریہ کی شاندرا کارکردگی کا زکر اکثر کیا جاتا ہے لیکن پاک بحریہ کے افسران اور نوجوان جو جو اپنی جاں جوکھم میں ڈال کر دن دارت دفاع وطن اور عوامی خدمات میں مصروف رہتے ہیں ان کے شب روز کس طرح گزرتے ہیں اس بارے بہت کم لوگوں کو جانکاری ہے بتایا جاتا ہے دوران ڈیوٹی ایسے افسران بھی ہیں جو اپنے بچوں کی پیدائش کے مواقع پر وہاں موجود نہیں ہوتے ۔ مگر سب سے تکلیف دہ کہانیاں ان کی ہیں جو اپنے پیاروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہو پاتے اور یہ بوجھ اپنے دلوں پر لیے پھرتے دان رات خدمت میں مصروف رہتے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ لوگ بہت بہادر ہیں جفا کش ہیں۔ وہ سخت ترین کاموں کے بارے میں شکایت نہیں کرتے اور نہ ان کے لب کھلتے ہیں وہ ہمیشہ مسکراتے چہروں اور کھلی بانہوں سے اپنی ذمہ داریوں کو گلے لگاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے لئے بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ مختص کیا جائے ،اور اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے حوالے سے بھی انہیں یاد رکھا جائے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہم پرسکون شہروں میں انہیں کی وجہ سے رہتے ہیں۔

  • عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تحریر حمزہ احمد صدیقی

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تھے ،ایک ایسے حکمران جو صدیوں بعد قیامت تک نہیں آسکتی ایسی حکمران جس کے خلق کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کر دیا کرتی ہیں،ایسی عظیم حکمران تھے، انکی زندگی سادگی کا مجسمہ تھی
    ۔آپ ؓ نے عدل و انصاف، مساوات ،سادگی ، امانت و دیانت، شجاعت ،صداقت کا وہ درس دیا جس کی وجہ سے امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کو تمام حکومت کرنے والوں پر برتری حاصل ہے ۔ آئیے ان کی خوبصورت دور حکومت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

    امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے ٢٣ جمادی الثانی کو منصب خلافت سنبھالا اس وقت آپؓ کی عمر تقریباََ باون برس تھی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے وفات سے قبل آپؓ کا نام خلافت کے لئے تجویز کر دیا تھا اور بعض صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس تجویز کو بے حد پسند کیا البتہ بعض صحابہ کرام ؓ نے حضرت عمرؓ کی سخت طبیعت کی طرف اشارہ کیا تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ جب خلافت کا بوجھ آئے گا تو آپؓ خود نرم ہو جائیں گے

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ہر لحاظ اور ہر پہلو سے سادہ رہائش تھے، سادہ خوراک کھانے کے عادی تھے ، سادہ لباس زیب تن کرتے تھے اور آپ ؓ کا رہن سہن بھی سادگی کی اپنی مثال تھا، گویا امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ سادگی کا ایک مرقع بھی تھے ۔

    امیرالمومنین کے پاس صبح و شام قیصر و کسریٰ کے درباروں سے سفیر چلے آتے تھے اور نصف جہاں پر انکی بھیجی ہوئی افواج حملہ کر رہی تھیں عظیم عظیم فاتح امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کے زیر کمان سرگرم عمل تھے اور آپ ؓ ایسے حکمران تھے، جس کے بدن پر کئی کئی پیوند لگا کرتہ پہنا ہوتا تھا ، آپؓ سر پر معمولی عمامہ اور ہاتھ میں کوڑا تھامے جنگل میں بیت المال کے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں سرگرداں تھے ، کبھی کاندھے پر مشک لٹکائے تیزی سے بیوہ کے گھر کی جانب رواں دواں ہوتے تھے ۔

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایسے حکمران تھے ،جن میں غرور و تکبر کا نام و نشان تک نہ تھا ، آپؓ جیسا حکمران بھلا کس طرح متکبر ہو سکتا ہے، جس کے لباس پر ایک نہیں سترہ پیوند لگے ہوں، علامہ شبلی نعمانی ؒ امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ عمرؓ بن خطابؓ کی سوانح عمری الفاروقؓ میں رقم طراز ہیں کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا عظیم حکمران دکھا سکتے ہو؟ جس کی سادگی یہ ہو کہ قمیص میں سترہ سترہ پیوند لگے ہوں۔

    امیرالمومنین عمرؓ بھی خطاب ؓ اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور اپنی رعایا کے خدمت و آرام کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ ؓ عوامی شکایات کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ آپؓ کا یہ معمول تھا کہ ہر فرض نماز کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں بیٹھ جاتے اور قوم کے لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے اسی موقع پر احکامات جاری کرتے۔ آپ ؓ راتوں کو گشت کرتے اور راہ چلتے لوگوں سے مسائل و حالات پوچھتے تھے ۔ آپ ؓ دوردراز علاقوں کے لوگ وفود کی صورت میں حاضر ہوکر اپنے مسائل وغیرہ سے آگاہ کرتے تھے اور بعض دفعہ آپؓ مختلف علاقوں کا خود دورہ فرماتے تھے اور لوگوں کی شکایات کا ازالہ فرماتے تھے ۔

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ اپنے کاندھے پر مشک رکھ کر غریب و لاچار عورتوں کے ہاں پانی بھر آتے تھے، آپ ؓفرش خاک پر سو جاتے تھے، آپؓ بازاروں میں گشت لگے تھے اور ضرورت مندوں کی مدد فرماتے تھے ، آپؓ جہاں جاتے تھے وہاں جریدہ و تنہا جاتے تھے ، آپؓ اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتے تھے ، آپؓ دور دربار، نقیب و چاؤش، حشم وخدم کے نام سے آشنا نہ ہوتے ، اور پھر یہ رعب و ادب ہو کہ عرب و عجم آپ کے نام سے لرزتے تھا اور جس طرف آپؓ رخ کرتے ہتھے زمین دہل جاتی تھی ، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج کا لشکر رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب آپؓ کا رعب و دہشت قائم ہوتا تھا۔

    امیرالمومنین بہت عظیم شجاع تھے، جب اسلام لائے تو قریش قبلیہ سے لڑے یہاں تک کہ بیت اللہ میں نماز پڑھی آپؓ کی بہادری نے یہ گوارہ نہ کیا کہ چھپ کر بیٹھا جائے ،امیرالمومنین نے اعلانیہ دین اسلام ظاہر کیا اور کفار مکہ سے ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر آپؓ کا یہ وصف بہت وسیع تھا کہ آپؓ نے اپنے دامن شجاعت میں کمزور مسلمانوں اور کفار کو پناہ دی اسی طرح مدینہ کے ہو نہار اور دلفگار تلامذہ میں آپؓ کو بہت بلند مقام حاصل تھا وہ اس نورانی مکتب عشق کے قابل فخر ارادت مند تھے ۔

    ۔امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطانؓ نے ١٣٠٩٥٠١ مربع میل علاقہ اپنے دور خلافت میں فتح کیا، آپ ؓ کا مدت خلافت چونکہ تقریبا ساڑھے دس سال تھی ،اس مدت خلافت پر رقبہ کو جب تقسیم کیا گیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، ایک دن کا مفتوحہ علاقہ تقریباََ ٣٥١ مربع میل نکلا، آپؓ نے ٣٦٠٠ علاقے فتح کیا ، آپ کے دور خلافت نو سو جامع مسجدیں اور چار ہزار عام مساجد تعمیر کی گئیں ،آپؓ نے ملک کو آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا بعض مورخین حضرات نے سات صوبے بھی لکھے ہیں ،امیرالمومنین عمرؓ بھی خطابؓ کی سلطنت کی وسعتوں کا اندازہ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ صرف مفتوحہ علاقے سینکڑوں اضلاع پر مشتمل تھے ، آپ ؓ نے صرف مصر میں٤٣ اور فارس میں ٤٥ اضلاع تھے ۔

    23 لاکھ مربع میل کے علاقے پر حکومت کرنے والا عظیم حکمران حضرت عمر ؓ بن خطاب جس کا دل خوف خدا ۔ سے سرشار تھا ایسا حکمران جو عادل و انصاف کا پیکر تھا ایسا عظیم رہنما جس کے خزانہ میں سونے، چاندی، ہیرے موتی، جواہرات اور ریشم کے انبار تھے۔ مگر اس عظیم حکمران کے پاس نہ کچھ پہننے کے لئے نہ کھانے کے لئے..

    اس عظیم حکمران عمرؓ بن خطابؓ کا دور خلافت تاریخ کا درخشندہ اور بے مثال دور ہے۔ ان کے دور خلافت کی کہانیاں تمام مذاہب میں ضرب المثل بن گئی ہیں۔

    اللہ پاکﷻ ہمیں عمرؓ بھی خطاب ؓجیسی صفات والا حکمران عطا فرماٸے، آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi ۔

  • 14 اگست اور عوام کا جذبہ تحریر : اسامہ خان

    14 اگست اور عوام کا جذبہ تحریر : اسامہ خان

    پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا پاکستان کا نظریہ علامہ محمد اقبال صاحب نے دیکھا تھا اور اس کو پورا قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا 1880 سے لے کر 1947 تک بہت سی تحریکے چلی اس میں سب سے بڑی تحریک دو قومی نظریہ کی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ابھی پاکستان کچھ سنبھال نہیں رہا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح 1948 میں وفات پاگئے انڈیا نے بہت کوشش کی لیکن پاکستان کے جذبے کو اور پاکستان کو نہ توڑ سکے اسکے باد 1965 میں انڈیا کے ساتھ جنگ ہوئی اور ہمارے ملک پاکستان کی فوج نے بھرپور طریقے سے اپنے ملک کا دفاع کیا۔ اور یہ سازشیں چلتی رہی اور آخرکار 1971 میں انڈیا اپنے منصوبے میں کامیاب ہوا اور بدقسمتی سے بنگلہ دیش الگ ملک جا بنا جو کہ پاکستان کا حصہ تھا پاکستانی نے بہت قربانی دے کر یہ ملک حاصل کیا اور الحمداللہ اللہ کا بہت کرم ہے اس ملک پر اس دھرتی پر عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات پیدا ہوئیں اور انہوں نے ملک پاکستان کے لیے اور خدمت خلق کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہم 70 سالوں سے 14 اگست کو آزادی مناتے آرہے ہیں آزادی کے موقع پر جھنڈے وغیرہ خریدتے ہیں ان کو اپنے گھروں گاڑیوں پر آویزاں کرتے ہیں جب لے کر آتے ہیں تو انکا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں شاید ہماری آزادی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے وہی جھنڈے ہمیں گلیوں سڑکوں پر نظر آتے ہیں زمین پر پڑے ہوئے کبھی ہم اس پرچم کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں اور کبھی ہم اس کی پرواز بھی نہیں کرتے ہم کیسے پاکستانی ہیں جو 14 اگست والے دن ہی اپنے جھنڈے کی قدر سمجھتے ہیں اور بعد میں ایسے بولتے ہیں جیسے ہم اس جھنڈے کو جانتے ہی نہیں۔ کیا یہ ہے آزادی ؟ آج میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں کیا قائداعظم محمد علی جناح نے اس لیے ملک آزاد کروایا تھا مسلمانوں کے لیے کہ اپنی مصروفیات میں اتنے مصروف ہو جائیں کہ ہماری قربانیوں کو ہی بھول جائیں۔ ہمیں باقی سب تو غلط نظر آتے ہیں کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ہے کہ ہم 365 دنوں میں کتنی بار اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آج ہم آزاد ملک میں بھی رہے ہیں جہاں ہم اپنی عبادات با آسانی کر سکتے ہیں جہاں ہمارے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ہماری فوج اس وطن کے لیے اور اس جھنڈے کے لئے جیتی ہے اور اس وطن اور جھنڈے کے لیے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتی کاش یہ جذبہ ہم سب میں پیدا ہو تاکہ 14 اگست والے دن اور اس کے بعد کوئی ایک بھی جھنڈا زمین پر گرا نظر نہ آئے ہمیں۔ اگر غلطی سے کوئی گرا ہوا نظر آتا بھی ہے ہم اس کو اٹھا کر اپنے سینے کے ساتھ لگا کر کسی محفوظ جگہ پر رکھیں کیونکہ یہی وہ وطن ہے جہاں ہم اپنی خواہشات کو پورا کر سکتے ہیں اور پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں اگر ہم اپنے وطن اور وطن کے جھنڈے کے ساتھ محبت نہیں کریں گے تو ہمارا حال بھی ان قوموں جیسا ہو گا جن کا نہ تو مستقبل ہے اور نہ ہی موجودہ دور۔ مجھے بہت خوشی ہوئی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سن کر پرچم کی بے حرمتی کرنے پر تین سال کی سزا سنائی جائے گی۔ اس چودہ اگست کو یہ بات یقینی بنائیں کہ کوئی جھنڈا یا جھنڈی زمین پر نہیں گرنے دیں گے اگر گرا ہوا نظر آے بھی صحیح تو اس کو اٹھا کر محفوظ جگہ منتقل کر دیں گے تاکہ وہ دوبارہ زمین پر نہ گرے۔ جس پرچم تلے ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اس کے ساتھ اتنا مخلص ہونا تو لازم ہے مجھے امید ہے پاکستان کی عوام با شعور طریقے سے 14 اگست والے دن آزادی منائے گی اور اپنے پرچم کو بلند رکھے گی۔
    Twitter : @usamajahnzaib

  • یوم شہادت عمرؓ بھی خطابؓ تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    یوم شہادت عمرؓ بھی خطابؓ تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    عمرؓ بھی خطابؓ وہ شخصیت ہیں، جن کی آمد پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے مرحبا کی آواز بلند فرمائی اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ میں کھل کر اللہ ﷻ کی عبادت کرنا اور باجماعت نماز ادا کرنا نصیب ہوئی۔

    خاتم النیین حضرت مُحَمَّد ﷺ ؐنے اپنی دعاؤں میں رو رو کرمانگا کہ یا اللہﷻ دین اسلام کی سربلندی کے لیے مجھے عمرؓ بن خطابؓ یا عمر بن ہشام دے دے تو اللہ تعالیٰﷻ نے حضرت مُحَمَّد ﷺ کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت عمؓر بن خطابؓ کو اسلام کی دولت سے نوازا۔

    حضرت عمرؓ بن خطابؓ کی پیداٸش سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد قبیلہ بنو عدی خطاب بن نفیل کے گھر پیدا ہوئے، آپؓ کا نام عمر بن خطابؓ تھا ، آپؓ کا لقب فاروقؓ تھا، آپؓ کے والد کا نام حضرت خطابؓ تھا، آپؓ کی والدہ کا نام حضرت ختمہؓ تھا، آپؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر خاتم النبیین ﷺسے ملتا ہے، آپؓ کا ددھیال ننھیال قریش کے معزز خاندانوں میں سے تھا، اور قبیلہ کے اہم مناصب انہیں کے حوالے تھے.

    خاتم النبیینؓ حضرت مُحَمَّد مصطفیٰﷺ کی جانب سے نبوت کے اعلان کے چھٹے سال حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے 35 برس کی عمر میں اسلام قبول کیا جس کے بعد حضرت محمدﷺ کے شانہ بشانہ رہے۔

    عمرؓ بن خطابؓ سسر رسولﷺ تھے ، آپ ؓ داماد علیؓ اور مراد نبیﷺ تھے ، آپؓ فاتح قبلہ اوّل اور تھے،آپؓ پیکر عدل وشجاع اور شہید مسجد نبویﷺ تھے ، آپؓ خلیفہ راشد اور خلیفہ دوم تھے ۔ حضرت عمرؓ بھی خطابؓ نے دو بڑی طاقتوں ایران اور روم کو شکست دی تھی ، آپؓ نے بیت المال کا شعبہ فعال کیا، آپؓ نے اسلامی مملکت کو صوبوں اور اضلاع میں تقسیم کیا، آپؓ نے عشرہ خراج کا نظام نافذ کیا اور آپؓ نے پولیس کا محکمہ قائم کیا۔

    حضرت عمرؓ بن خطابؓ کا زمانہ خلافت اسلامی فتوحات کا دور تھا ، حضرت عمرؓ بن خطابؓ نے اپنی ١٠ سالہ دور خلافت میں ٢٢ لاکھ مربع میل پر اسلامی حکومت قائم کی اور قیصر و کسری کی دونوں سلطنت کا خاتمہ کیا، آپ ؓ نے اپنی رعایا پر عدل و انصاف قائم کیا اور دشمنان اسلام کے تمام دین اسلام مخالف منصوبوں و فتنوں کو خاک میں ملایا۔

    حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے بعد تمام غزوات میں شرکت کیں ۔ حضرت عمرؓ بن خطابؓ کی خدمات، جرات و بہادری، فتوحات، شان دار کردار اور کارناموں سے دین اسلام کا چہرہ روشن ہے۔حضرت عمر ؓ بن خطابؓ کی اشاعت دین اسلام کے لیے بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا۔

    عمرؓ بھی خطاب ؓ کو ستاٸیس ذوالججہ کو نماز فجر کی امامت کے دوران ابو لولو فیروز نامی معلون مجوسی نے خنجر کے وار سے زخمی کر دیا تھا جس کے تین دن بعد آپ ؓ یکم محرم الحرام چوبیس ہجری کو جام شہادت نوش فرمایا۔ آپؓ روضہ رسولﷺ کے پہلو مبارک میں مدفن ہیں۔

    اللہ حضرت بن خطاب کے درجات بلند فرماٸے، آمین یارب العالمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • امام عدل و حریت، خلیفہ دوم، امیرالمؤمنین، حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظمؓ تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    امام عدل و حریت، خلیفہ دوم، امیرالمؤمنین، حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظمؓ تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    نام: عمر
    کنیت: ابوحفص
    القاب: فاروق اعظم، شھید منبر و محراب، مراد نبیﷺ، سسرمصطفیٰﷺ، امیرالمؤمنین وغیرہ۔۔۔
    والد: خطاب
    والدہ: حنتمہ بنت ھاشم،
    ولادت: واقعہ فیل کے 13 برس بعد،
    قبول اسلام: نبوّت کے چھٹے سال 33 برس کی عمر میں اسلام لائے،
    وجاہت: رنگ سفید مائل بہ سرخی، رخساروں پر گوشت کم، قد مبارک دراز تھا،

    ٭سلسلہ نسب:٭
    عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن فھر بن مالک،
    ۔۔۔۔ عَدی کی دوسرے بھائی مُرّہ تھے جو حضوراکرمﷺ کے اجداد میں سے ہیں، اس لحاظ سے حضرت عمرؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں رسول اکرمﷺ سے جا کر مل جاتا ہے،

    ٭قبول اسلام:٭
    اسلام لانے سے قبل عمر اور ابوجھل نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اسلئے آپﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کیلئے اسلام کی دعا فرمائی، ”اَللّٰھمَّ اَعِزَّالاِسلاَمَ بَاَحدِ الرَّجُلَینِ اَمَّابْن ھِشامٍ امَّا عُمرَ بْن الْخَطاؓبٍ“ یعنی اے اللہﷻ اسلام کو ابوجھل یا عمر بن خطابؓ سے معزز کر،  اور ایک روایت میں تو آپﷺ نے صرف عمرؓ کا نام ہی لیا ہے کہ اللہﷻ اسلام کو عمرؓ کی ذریعے سے معزز فرما چنانچہ اس وجہ سے آپؓ کو  ”مراد نبی“ کہا جاتا ہے، آپؓ کے اسلام لانے سے قبل بہت سے مرد اور عورت ایمان لاچکے تھے، آپؓ کے اسلام لانے کی نمبر میں اختلاف ہے کوئی 41 واں، کوئی 40 واں، بعض 45 واں بتاتے ہیں، حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ” رسول اللہﷺ پر 39 مرد و عورت ایمان لاچکے تھے پھر عمرؓ اسلام لے آئے تو 40 ہوگئے، پس جبرئیل علیہ السلام آسمان سے اترے اور اللہﷻ کی طرف سے یہ آیت مبارک لے آئے ” يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِینَ۞
    ترجمہ:
    اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔(سورہ انفال آیت نمبر64)۔

    ۔۔۔۔۔ آپؓ کی اسلام لانے کی بعد اسلام کا بول بالا ہوگیا اور مکہ میں اسلام ظاہر ہوگیا،

    ٭ھجرت مدینہ:٭
    سیّدنا عمرفاروقؓ کا شمار بھی مھاجرین صحابہؓ میں ہے، آپؓ نے کھلم کھلا مدینے کی طرف ھجرت فرمائی۔ سیّدنا علیؓ سے ایک روایت کا مفھوم ہے، کہ ” میں نہیں جانتا کہ مھاجرین میں سے کسی نے کھلم کھلا ھجرت کی ہو سوائے عمرؓ کے، آپؓ نے جب ھجرت کا ارادہ کیا تو مسلح ہوکر مشرکین مکہ کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، اطمنان کی ساتھ طواف کیا نماز پڑھی، پھر مشرکین کی طرف مخاطب ہوکر اعلان کرنے لگا کہ اگر کوئی اپنی ماں کو رلانا، اپنی بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے تو وہ میرے پیچھے آکے مجھے روک لیں، علیؓ فرماتے ہے کہ کسی نے ان کا پیچھا نہیں کیا“

    ٭جنگ بدر وغیرہ میں شرکت:٭
    سیّدنا عمرفاروقؓ حضوراکرمﷺ کی معیت میں جنگ بدر، اُحُد، خَندق، بیعة الرضوان، غزوہ خَیبَر، فتح مکہ، جنگ حُنَین، وغیرہ سب محاذوں پر شریک تھے، اور آپؓ کفار پر بہت زیادہ سخت تھے، رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ کے دن ارادہ کیا تھا کہ عمرؓ کو اہل مکہ بھیج دے لیکن عمرؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! مشرکین قریش میری ان سے سخت عداوت کو جان چکے ہیں، اسلئے اگر ان کو موقعہ ہاتھ آئے تو وہ مجھے قتل کرینگے، تو رسول اللہﷺ نے عمرؓ کو روکا اور حضرت عثمانؓ کو اہل مکہ بھیج دیا،

    ٭علم مبارک:٭
    آپؓ عدالت، شجاعت، اور بھادری کی ساتھ میدان علم کی بھی شہسوار تھے، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ” اگر عمرؓ کا علم ترازو کی ایک پلٹرے میں رکھا جائے اور سارے لوگوں کا علم دوسرے پلٹرے میں رکھا جائے تو عمرؓ کا علم زیادہ بھاری اور راجح ہوگا،

    ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ” میں دیکھتا ہوں کہ گویا مجھے دودھ کا ایک پیالہ تناول کیا گیا میں نے اس سے پیا اور باقی ماندہ دودھ میں نے عمرؓ کو دیا، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّہﷺ! آپ اس کی کیا تاویل کرتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ”علم سے،
    (یعنی اس دودھ سے مراد علم ہے،)
    اور بھی بہت سے احادیث مبارکہ ہیں جس سے آپؓ کا علم و حکمت میں اعلی مقام کا ثبوت ملتا ہے،

    ٭تواضع اور زھد:٭
    آپؓ جس طرح سخت تھے اتنا نرم مزاجی، عاجزی و انکساری، اور زھد آپکا شیوۂ خاص تھا، طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ ” عمر بن خطابؓ ہم سے اسلام لانے اور ھجرت کرنے میں پہلے نہیں تھے لیکن وہ ہم میں سب سے زیادہ دنیا کی معاملے میں بے رغبت اور زاھد تھے، اور آخرت کی معاملے میں ہم سب میں سے زیادہ رغبت کرنے والے تھے،

    ۔۔۔۔۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ ” کہ میں نے عمرؓ کو دیکھا کہ آپؓ کے دونوں کندھوں کے درمیان قمیص میں چار پیوند لگے ہوئے تھے،

    آپؓ پر موت کا ڈر اتنا غالب تھا کہ ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے، آپؓ کی انگوٹھی پر بھی لکھا تھا کہ ”کَفیٰ بِالْمَوْتِ وَاعِظاً یَاعُمرْ“ یعنی اے عمر نصیحت کیلئے موت ہی کافی ہے،

    ٭فضائل اور کمالات:٭
    آپؓ کے بہت سے فضائل اور کمالات ہیں جو قرآن و احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں، قرآن کریم کے بائیس (22) آیات ایسے ہیں جو عمرؓ کی رائی کی مطابق نازل ہوئے ہیں، اور وہ بائیس آیات گوشۂ علم میں ”موافَقاتِ عمرؓ“ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، اس عنوان پر الگ رسالے اور کتابیں بھی لکھی گئے ہیں، تفصیل کیلئے وہاں رجوع کریں، یہاں صرف اشارةً چند مقامات ملاحظہ فرمائیں۔
    ①…مقام مقام ابراھیمؑ میں نماز کا حکم بھی آپؓ کے رائی پر تھا،
    ②…آپ کی خواہش تھی کہ پردہ ہو چنانچہ آیت حجاب نازل ہوئی،
    ③…جنگ بدر میں مشرکین قیدیوں کے بارے میں آپؓ کی رائی تھی کہ ان کو قتل کیا جائے اور آپؓ کی علاوہ سب کی رائی تھی کہ ان سے فدیہ وصول کرکے ان کو چھوڑا جائے، چنانچہ فدیہ والے رائی پر عمل ہوگیا اور بعد میں اللہ تعالی نے سورة انفال کی آیت مبارک نمبر 68 نازل فرمائی اور ظاہر کیا کہ صحیح رائی عمرؓ کی تھی، یہ چند مقامات بطور مثال ہیں ان تمام موافقات کیلئے مولانا حافظ لیاقت علی شاہ نقشبندی کی رسالہ ”موافقاتِ سیّدنا عمرؓ“ ملاحظہ فرمائیں،

    آپؓ کے احادیث میں بھی بہت فضائل مروی ہیں،
    ①…حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ ” ہم حضورﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ” کہ میں سو گیا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا پس اچانک ایک عورت ایک بنگلہ کی قریب وضو کر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ کس کا بنگلہ ہے؟ تو اس عورت نے کہا یہ عمرؓ کا ہے، (حضورﷺ فرماتے ہیں کہ شاید میں بھی بنگلہ کو دیکھ لے تھا لیکن) مجھے عمرؓ کا غیرت یاد آیا اور میں واپس لوٹا، عمرؓ نے جب یہ بات سنا تو روئے اور فرمانے لگے ”أَعَلیْكَ أغَارُ یَارَسولَ اللہِ؟! کہ یارسول اللہﷺ کیا میں آپ پر بھی غیرت کرونگا،
    (مطلب یہ ہے کہ کیا میں آپ کو اپنے گھر دیکھنے سے منع کرونگا؟)
    ②…حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا” اہل آسمان میں سے میرے دو وزیر جبرئیلؑ اور میکائیلؑ ہیں، اور اہل زمین میں سے میرے دو وزیر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں،
    ③…ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اللہﷻ نے عمرؓ کے زبان اور دل پر حق کو جاری فرمایا ہے،
    ④…عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا، (لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں)،
    ⑤… ام المؤمنین سیّدہ حضرت امی عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، ”پہلے امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن کو من جانب اللہ الھام ہوا کرتا تھا اگر میرے امت میں ایسا کوئی شخص ہے تو وہ عمر بن خطاب ہوگا،،،

    آپؓ کے اور بھی بہت فضائل ہیں لیکن خوف طوالت کی وجہ سے ان کو متروک کیا ہے،

    ٭خلافت:٭
    آپؓ سیّدنا خلیفة النبیﷺ، امیرالمؤمنین، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسندِ آرائے خلافت ہوئے، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دس سال چھ ماہ دس دن تک 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی خلافت قائم کی، آپؓ کے دور میں 3600 علاقے فتح ہوئے، آپؓ کے دور میں 900 جامع مسجد اور 4000 عام مسجدیں تعمیر ہوئیں، قیصر و کسریٰ دنیا کی دو بڑی سلطنتوں کا خاتمہ آپ ہی کی دور میں ہوا، آپؓ کے عہد خلافت میں عدالت کے ایسے بے مثال فیصلے چشم فلک نے دیکھے جن کا چرچا چاردانگ عالم پھیل گیا، فتوحات میں عراق، ایران، روم، ترکستان، شام، مصر، آذربائیجان، جزیرہ، خوزستان، قادسیہ اور دیگر بلاد عجم پر اسلامی عدل کا پرچم لہرانا سیّدنا عمرفاروق اعظمؓ کا بے مثال کارنامہ ہے، حضرت عمرؓ کے زریں اور درخشندہ عہد پر کئی غیرمسلم بھی آپؓ کی تعریف کئے بغیر رہ نہ سکے، حقیقیت میں آنحضرتﷺ کے آفاقی دین کی تعمیر و ترقی کے اوج ثریا پر پہنچانے اور دنیا بھر میں اسلام کی سطوت و شوکت کا سکہ بٹھانے کا سہرا حضرت عمر فاروقؓ کے سر ہے،
    ٭شھادت:٭
    حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ایک فارسی غلام فیروز نامی نے جس کی کنیت ابولؤلؤ تھی، حضرت عمرؓ سے اپنے آقا کے بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی اس کی شکایت بےجا تھی اسلئے حضرت عمرؓ نے توجہ نہ کی، اس پر وہ اتنا ناراض ہوا کہ چھپ کے حضرت عمرؓ کی قتل کا منصوبہ بنایا اور صبح کی نماز سے پہلے خنجر لے کر مسجد کی محراب میں چھپ گیا اور جب حضرت سیّدنا عمرفاروقؓ نے امامت شروع کی تو ابولؤلؤفیروزہ نے اچانک حملہ کردیا اور متواتر چھ وار کیے، حضرت عمرؓ گہرے زخم کے صدمہ سے گر پڑے تو حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے نماز پڑھائی، یہ ایسا کاری زخم تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہوسکے لوگوں کے اصرار سے آپؓ نے چھ شخصوں کو منصب خلافت کیلئے نامزد کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو جس پر باقی پانچوں کا اتفاق ہوجائے اس منصب کیلئے منتخب کرلیا جائے، ان لوگوں کے نام یہ ہیں، علیؓ، عثمانؓ، زبیرؓ، طلحہؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، اور عبدالرحمان بن عوفؓ،۔۔۔
    اس مرحلہ سے فارغ ہونے کے بعد آپؓ نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت لی،
    ۔۔۔ وہ جگہ حضرت عائشہؓ نے اپنے لی منتخب کی تھی، لیکن اس موقع پر امی عائشہؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں عمرؓ کو اپنے پر فضلیت دیتا ہوں یہ جگہ ان کے دفن کیلئے ہوگا،
    اس کے بعد آپؓ نے مھاجرین، انصار، اعراب اور اہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی اور اپنے صاحبزادہ حضرت عبداللہؓ کو وصیت کی کہ مجھ پر جس قدر قرض ہے اگر وہ میرے متروکہ مال سے ادا ہوسکے تو بہتر ہے، ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر ان سے ادا نہ ہوسکے تو کل قریش سے، لیکن قریش کے سوا اور کسی کو تکلیف نہ دینا، غرض اسلام کا سب سے ”بڑا ہیرو“ ہر قسم کی ضروری وصیتوں کے بعد تین دن بیمار رہ کر محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن 24 ھجری میں واصل بحق ہوا اور اپنے محبوب آقاﷺ کے پہلو میں ہمیشہ کیلئے میٹھی نیند سو رہا، آپؓ کے نمازِ جنازہ سیّدنا حضرت صہیب رومیؓ نے پڑھائی،
    *اِنّا لِلهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنْ۔* 

    ٭ آپؓ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے” اَللّٰھُمَّ رْزُقْنِیْ شَھَادَةً فِیْ سَـبِیْـلِـكَ وَاجْعَـلْ مَـوْتِیْ فِـیْ بَلَـدِ رَسُـوْلِـكَ“ یعنی اے اللہﷻ مجھے اپنے راہ میں شھادت نصیب فرما اور اپنے محبوبﷺ کے شہر میں مجھے موت نصیب فرما،
    اس دعا کی قبولیت تھی کہ آپؓ کو نبیﷺ کے مسجد، نبیﷺ کے مصلیّٰ، نبیﷺ کے محراب میں شھادت کا جام نصیب ہوا، اور حضوراکرمﷺ کے پہلو میں دفن ہونا بھی۔

    ٭ازواج و اولاد:٭
    حضرت عمرؓ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کیے، ان کی بیویوں کی تفصیل یہ ہے:
    ①حضرت زینبؓ:…ہمشیرہ عثمان بن مظعونؓ۔ مکہ میں مسلمان ہوکر فوت ہوئیں،
    ②قریبہ بنت امیة المخزومی:… مشرکہ ہونے کے باعث طلاق دے دی تھی،
    ③ملیکہ بنت جرول:… مشرکہ ہونے کے باعث ان کو بھی طلاق دے دی،
    ④عاتکہ بنت زید:… ان کا نکاح پہلے حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ سے ہوا تھا پھر عمرؓ کے نکاح میں آئیں۔
    ⑤حضرت ام کلثومؓ:… رسول اللہﷺ کی نواسی اور حضرت فاطمہؓ کی نوردیدہ تھیں، حضرت عمرؓ نے خاندان نبوّت سے تعلق پیدا کرنے کیلئے 17 ھجری میں چالیس ہزار (40000) مہر پر ان سے نکاح کیا۔
    حضرت عمرؓ کی اولاد میں ام المؤمنین حضرت حفصہؓ اس لحاظ سے سب سے ممتاز ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کی ازواج مطھرات میں داخل تھیں- حضرت عمرؓ نے اپنی کنیت ابوحفص بھی ان ہی کے نام پر رکھی تھی، باقی اولاد کے نام یہ ہیں: حضرت عبداللہؓ، عاصم، ابوثحمہ، عبدالرحمان، زید، مجیر، ان سب میں حضرت عبداللہؓ، حضرت عبیداللہ اور حضرت عاصم اپنے علم و فضل اور مخصوص اوصاف کے لحاظ سے نہایت مشہور ہیں،

    آپؓ نے یکم محرم الحرام سن 24 ھجری میں امت مسلمہ کو ہمیشہ کیلئے یتیم چھوڑ کر اس فانی دنیا سے کوچ کیا،      
                        🔵فَرَضِیَ اللہ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ🔵

    Follow On Twitter:

  • وقت ہی زندگی ہے تحریر:شمیم احمد

    وقت ہی زندگی ہے تحریر:شمیم احمد

    وقت اللّٰه رب العزت کی طرف سے عطاکردہ ایک عظیم الشان نعمت ہےجو بغیر کسی تفریق کے تمام لوگوں کو عطا کی گئی ہے , اسکی اہمیت کا اندازہ کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ خالق دوجہاں نے اپنی لافانی کتاب میں بارہا اسکی قسم کھائی ہے ,کیونکہ انسان کے تمام تر اعمال اسکی زندگی ہی سے وابستہ ہیں_
    زندگی کس چیز کا نام ہے ؟ زندگی نام ہے چند سانسوں کا ,زندگی نام ہے شب و روز کے مجموعہ کا , در اصل وقت ہی زندگی ہے آپ اسکی خوب قدر کر لیں , آپ جس قیمتی سرمایہ کے مالک ہیں وہ عمر عزیز کے چند قیمتی لمحات ہیں جو سونے اور چاندی ہیرے اور جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہیں , یاد رکھو ! جو لوگ بھی وقت کی قدر کرنا جانتے ہیں , انکی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوتے ہیں , انکے ذریعہ ایجادات اور بڑے بڑے انقلابات رونُما ہوتے ہیں , وہ ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہیں , اور کائنات کو حسین رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں ,دنیا کی زمام قیادت انکے ہاتھوں میں ہوتی ہے , لیکن جو لوگ وقت کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانتے تو پھر زمانہ بھی انہیں نہیں پہچانتا , غلامی کی زندگی بسر کرنا پھر ایسے لوگوں کا مقدر بن جاتا ہے , وہ ناکامیوں اور پستیوں کے اندھیروں میں اترتے چلے جاتے ہیں ,خوب جان لو کہ وقت کا ضیاع قوموں کے سروں سے عزت و سربلندی کا تاج اُتار کر ہاتھوں میں کشکولِ گدائی تھما دیتا ہے_ کیونکہ وقت ایک دو دھاری تلوار ہے اگر تم نے اسے نہیں کاٹا تو تو وہ تمہیں کاٹ کر رکھ دے گا !
    ہاۓ افسوس !دل مارے غم سے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے کہ آج جب آپ مسلمانوں کے شب و روز کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ آج ہم غیر ضروری چیزوں کے پیچھے ضروری سے ضروری فرض بھی چھوڑ دیتے ہیں ,ہمارا قیمتی وقت ہنسی مذاق ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے , ہوٹلوں میں, غیبت کرنے میں ,موبائلوں اور فلموں میں ضائع ہو رہا ہے , ایجادات علوم و فنون , سائنس , ٹیکنالوجی میں ہم اقوام عالم سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں , اِس شدید ابتری کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ ہمارے یہاں جوانوں اور بوڑھوں , پڑھے لکھے اور ان پڑھوں , شہریوں اور دیہاتیوں , غرض کسی طبقہ میں بھی وقت کی قدر و قیمت کا احساس تک باقی نہیں رہا ہے ,ممکن ہے کہ دنیا کے کچھ دوسرے معاملات میں ہم بڑے ہی دانہ و فرزانہ سمجھے جاتے ہوں , لیکن وقت کی دولت لٹانے میں آج ہماری مُسرفانہ فیاضیوں کی داستان بھی رقم ہے ____اللّٰه رب العزت پوری امت مسلمہ کو آج وقت کا قدر دان بنا دے _ آمین

    By @Shaameem_Ahmad

  • سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران  تحریر:  محمد جاوید

    سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران تحریر: محمد جاوید

    ہم نے بظاہر سیاسی آزادی حاصل کر لی لیکن سرمایہ داری اور جاگیر داری کی گرفت سے آج بھی آزاد نہیں ہو سکے ان طبقوں کے گروہی مفادات کے سائے، سب سے لمبے ہیں اور ان کے اثرات سے ہماری زندگی کا کوئی شعبہ باہر نہیں ہے۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی زندگی شروع سے عصر حاضر کے نیو آبادیاتی نظام کے نمایندوں کے شکنجے میں جکڑرہی ہے۔ لیکن اس نظام میں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے سیاسی وہ اقتصادی غلبے کو جو استحقام اس دور میں نصیب ہوا ہے اسکا مثال نہیں ملتی ۔ اس نظام میں غریب کا استحصال تو ہو سکتا ہے۔ غربت دور کرنے کے لئے۔ زكوات کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ غریب کے کندھے پر اپنی سر پرستی اور لطف وہ کرم کی چادر بھی ڈالی جا سکتی ہے۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جگہ جگہ غریبوں کے لئے پناہ گاہیں اور لنگر کھانے بھی کھولیں جا سکتے ہے۔
    لیکن غریب کو برابر کے انسان کے طور پر Own نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اگر کہیں کوئی غریب برابر کی سطح پر بیٹھا نظر آتا ہے تو دراصل انہی وڈیروں اور سرمایہ داروں کے نوکر کے طور پر ۔
    اس نظام کے آئین میں قرآن وہ سنت کی بلادستی کی بات تو کی جاسكتی ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ کا دایرہ بھی واسع کیا جا سکتا ہے لیکن اسلام کے نظام عدل وہ اانصاف کے ان پہلوؤں کی نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام دیا جا سکتا ہے جیس سے سرمایہ داری کے عالمی نظام اور اسلامی ملکوں میں اس نظام کے علم برداروں کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ اس نظام کی گود میں پروان چڑھنے والی سينٹ اور قومی اسمبلی میں مزید ترمیم کو معرض التوا میں ڈالنے کے لئے نئی کمیٹیاں بھی بن سکتی ہیں، لیکن اس ملک کے جاگیرداروں، خانزادوں، وڈیروں اور سرداروں سے ان کے انگریز آقاؤں کی عطا کردہ اجارہ دریاں چھين کر انہيں وطن عزیز کا عام شہری بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔
    ہر دور میں ہر نیا بننے والا وزیر اعظم ہو یا صدر بشمول عمران خان اکثر قوم کو آئینوں کے ٹوٹنے کی کہانی سناتے رہتے ہیں اور آئینی اصطلاحات کے حوالے سے بلند وہ بھنگ دعوے کرتے نظر اتے مگر اس فریب خوردہ قوم کو وہ بات کوئی نہیں بتاتا جو قوم کے دل میں ہے یعنی پاکستان کا کا ہر آئين اس لئے ٹوٹا اور ہر سیاسی بحران اسلیے پیدا ہوا کہ شخص واحد نے اپنی کرسی چھوڑ نے یا اپنے اختیارات میں کمی کرنے سے انکار کر دیا۔ 1954 میں اسمبلی اسلیے ٹوٹا تھا جب غلام محمد نے اپنے اختیارات میں کمی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
    اور 1956 کا آئین اسلیے ٹوٹا کہ سکندر مرزا اور دوسرے اس آئین کے تحت انتخابات کے بعد اختیارات اور عہدے سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ 62 کا آیئن اسلے ختم ہوا کہ حکومت اور اقتدار کے تمام راستے ایک ہی شخص کی طرف جاتے تھے۔ 73 کا متفقہ اور عوامی آیئن انے والے مارشل لاء کو اسلیے نہ روک سکا کہ اس ایئن کے خالق نے اپنے ہی ایئن سے بھی آگے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 73 کا آیئن آج اپنی اصلی شکل و صورت میں باقی نہیں رہا۔ پاکستان کا آئین ہمیشہ سے صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات کی وجہ سے ترمیم کی ضد میں رہا۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف آینوں میں فرد واحد کی ذات میں اختیارات جمع ہو جانے سے ہی صوبائی نفرتوں کو ہوا ملتی رہی وان یونٹ کا تجربہ ناکام رہا اور ملک کو دو لخت کرنے میں ہمارے مظبوط مرکز نے بہت اہم کردار ادا کیا
    اخیر کب تک اسے کمزور نظام کے تحت اس ملک کی مشینری کو چلایا جاے گا ۔
    ضروری ہے اب اس آیین کے اندر اس ترامیم کئے جائے جیس میں غریب کا بھلا ہو اور اس جاگیردارانہ اور سرمایہدارانہ نظام کا خاتمہ ہو۔
    ملک میں عدل وہ انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو کسی میں ہمت ہی نہ ہو کہ اپنی ذاتی مفاد کے لئے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کریں۔
    اس تمام طاقتوں کی حوصلہ شکینی کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔

    @I_MJawed