Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ  تحریر: عتیق الرحمن

    زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی معاشرے مختلف لوگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر مضبوط ہیں جبکہ دیگر کمزور ہیں۔ کچھ دانشورانہ طور پر برتر ہیں جبکہ دوسرے کم سمجھے جاتے ہیں پر ہوتے نہیں ہیں۔ سب سے اہم فرق مال و دولت سے متعلق ہے۔ مسلمان کی دولت پر واجب الادا سالانہ ٹیکس ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے جس پر عمل کیے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوتا۔
    یہ اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ جو اپنے منہ میں چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرا مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو ان حالات میں زکوۃ کے ستون پر عمل کرنا اسلامی فریضوں میں شامل ہوتا ہے۔ تمام معاشروں میں معاشی طور پر کمزور اکثریت میں ہوتے ہیں اور قدرتی اور غیر قدرتی آفات سے شدید متاثر بھی۔ اسی طرح ، موجودہ کوویڈ 19 وبائی بیماری نے معاشرے کے تمام طبقات کو دھچکا پہنچایا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثرہ درمیانے اور نچلے طبقے کو نقصان پہنچا ہے۔ وبائی امراض نے امیر اور غریب کے درمیان فرق کو بڑھا دیا ہے اور سماجی اقتصادی کمزوریوں میں ایک نئی پرت کا اضافہ کیا ہے۔ سماجی یکجہتی کے بہت سے مجموعی نظام غیر رسمی اور غیر رسمی کاروباری شعبوں میں مصروف دیگر مزدوروں نے شہروں میں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کھو دی ہے۔ وہ غربت کے جال میں پھنس چکے ہیں اور زیادہ پسماندہ ہو چکے ہیں ، اس لیے انہیں بارش کی ضرورت ہے جو کہ مٹی تک پہنچتی ہے ، ترقی یافتہ ممالک میں حکومت کی طرف سے اور فلاح یافتہ لوگوں کی طرف سے فوری امداد اور مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اسلام نے صدقہ دینے کے تصور پر زور دیا ہے۔ خیرات کو توہین آمیز طریقے سے نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس طرح دیا جانا چاہیے کہ ضرورت مندوں کو پسماندگی کا احساس نہ ہو۔ ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے جبکہ آہستہ آہستہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صدقہ مستحق افراد کو باوقار طریقے سے دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چند پیسے وصول کرنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں انہیں ہر آنے جانے والے کی سوالیہ نظروں کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلام صدقہ وصول کرنے والوں کی عزت نفس کے بارے میں بہت خاص احکامات دیتا ہے صدقہ و زکوۃ سخاوت کام ہے- قرآن مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ "اپنے خیراتی کاموں کو یاد دہانیوں اور تکلیف دہ الفاظ سے منسوخ نہ کریں”۔ اسلام لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ مومن اپنی دولت اور وسائل ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔ جو لوگ بہت زیادہ دولت اور وسائل کے ساتھ معاشی طور پر مضبوط ہیں ان کو اضافی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی دولت کو کئی گنا زیادہ کے ساتھ بانٹیں۔ صدقہ دینے کا تصور اسلامی معاشی نظام کے لیے بنیادی ہے۔ اس کا مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ یہ سماجی یکجہتی کو ایک آئیڈیل کے طور پر زور دیتا ہے جو انصاف اور سخاوت دونوں کا حکم دیتا ہے جبکہ دولت کے ذخیرہ اندوزوں کی مذمت کرتا ہے۔ صدقہ دینے کی ضرورت اور قدر قرآن میں بڑی تعداد میں بیان کی گئی ہے۔ ان شرائط کے معنی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ نہ صرف اپنی دولت اور جائیداد کو پاک کرتا ہے بلکہ معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ قرآن پاک نے زکوٰۃ دینے سے روح کی زرخیزی کو تقویت بخشی ہے ، پیداوار میں مزید اضافہ کیا ہے۔
    یہ ایک مومن کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے جائز وصیت میں سے اپنے خالق کو زکوٰۃ ادا کرے جس نے اسے اس کے لیے دولت کمانے اور جمع کرنے کے قابل بنایا اپنی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی۔ دوسرے لفظوں میں ، کسی کو اپنی صلاحیت کے مطابق دینا ہے اور خاندان کے ساتھ ساتھ ذاتی ضروریات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ قرض حسنہ بھی صدقہ دینے کی ایک شکل ہے ، جو اللّہ کی طرف سے انعام کے ساتھ منسلک ہے۔ قرآن پاک لوگوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ اللہ کو "ایک خوبصورت قرض” پیش کریں ، جو اللہ کے فضل سے ہو گا، چونکہ قرض حسنہ اللہ کو آخری دینے والا سمجھا جاتا ہے ، اس طرح کی پیشکشوں کو محض اللہ کی طرف لوٹنے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کی سخاوت کی وجہ سے ہے۔ . اسی طرح کی دیگر اصطلاحات جیسے خیرات بھی دوسروں کی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے کے تصور کو لاگو کرنا حکومتی ذمہ داری تو ہے ہی لیکن بطور مسلمان ہماری دینی فریضہ بھی ہے اور اللّہ کی خوشنودی کے لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسلام کے پانچوں ستونوں میں سے ایک زکوۃ دینے پر عمل کرے اور امید ہے کہ یہ کوویڈ 19 کے منفی اثرات کو کم کرے گا اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں پرامن بقائے باہمی ہوگی۔ قرآن کے الفاظ میں جو لوگ اپنے وسائل سے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ واقعی نیک ہیں۔

    @AtiqPTI_1

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام :تحریر : سید محمد مدنی

    پاکستان میں ٹریفک کا نظام :تحریر : سید محمد مدنی

    کہا جاتا ہے کے کوئی ملک کتنا مہذب ہے اس کو چیک کرنے کے لئے اس ملک کے لوگوں کے گھر کے واش رومز یا پھر وہاں کے ملک کا ٹریفک کا نظام دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا.
    پاکستان میں ٹریفک کا نظام گندا ہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ عوام خود اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانے والوں کی سُستی سب برابر کے شریک ہیں پہلے بات کرتے ہیں ٹریفک پولیس کی.
    اکثر اوقات دیکھا گیا ہے ٹریفک پولیس جان بوجھ کر بھی احتیاط نہیں کرواتی اور وہ خود بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں اور بلاوجہ چالان بھی کرتے ہیں اس کی وجہ ہے س عملے کی تنخواہیں کم ہونا جب کوئی خاص مواقع آتے ہیں تو ٹریفک پولیس اپنے پوائنٹس بڑھانے کی خاطر چالان کی کاپیاں پُر کرتی ہے اور عوام کو تنگ کرتی ہے جب تنخواہیں کم ہوں گی تو ظاہر ہے پھر یہ لوگ بھی دوسرے زرائع سے وہ کمی پوری کرتے ہیں اگر چہ ٹریفک پولیس کی طرف سے سُستی کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ یہی ہے جو میں نے لکھی
    اب آتے ہیں عوام پر
    پاکستان میں عوام کی مینٹیلیٹی ہی کچھ ایسی نوابیت کی سی ہے جو بھی سڑک پر ہوتا ہے بس وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں ہی اس سڑک کا مالک ہوں باقی سب حقیر ہیں وہ کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ٹریفک پولیس اول تو پکڑتی نہیں اور اگر روک بھی لے تو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ضرور کسی بڑی شخصیت کی اولاد یا پھر اثر و رسوخ والا ہوتا ہے اور پولیس والے اس کا چالان کرتے گھبراتے ہیں کہ کہیں اگر کوئی شکایت لگ گئی تو ہماری نوکری چلی جائے گی اور اسی کو سب سے بڑی جہالت کہا جاتا ہے کے جو بگڑا ہؤا ہے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا یہاں جس کے پاس جتنی بڑی اور قیمتی گاڑی ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو فرعون سمجھتا ہے کیا وجہ ہے کے یورپ اور حتی کے عرب ممالک میں ٹریفک کا بہترین نظام ہے خاص کر یو اے ای میں یہ بھی کہاجاتا ہے کے عرب ممالک میں سب سے زیادہ بہترین ٹریفک کا نظام اور سختی اور اس پر عمل یو اے ای میں ہے جس کا عینی شاہد میں خود بھی ہوں.
    آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کے سڑک پر ہر فاصلے کے ساتھ پینٹ نما پٹیاں لگائی جاتی ہیں اور سارا ٹریفک اپنی لین میں چلتا ہے زگ زیگ کر کے نہیں چلتا لیکن پاکستان میں سڑکوں پر موٹرویز پر جگہ جگہ آویزاں ہوتا کے اپنی لین میں چلیں بار بار لین نا بدلیں اس سے پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ تیز آرہی ہوتی ہیں چاہے موٹر وے ہو یا معمولی سڑک ہم جو چاہے وہ کرتے ہیں سڑکوں پر انتہائی دائیں جانب یو ٹرن کے لئے بیچ والی سیدھا جانے کے لئے اور بائیں والی بائیں جانب جانے کے لئے بنی ہوتی ہے اور ہم لوگ کیا کرتے ہیں کہ اگر کسی کو دائیں جانب جانا ہو تو وہ بس بے صبری اور جلدی میں ایکسٹریم بائیں جانب سےٹریفک اشارے پر دائیں جانب گاڑی کا اشارہ دیتے ہوئے جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی دائیں جانب وہ ٹریفک جس نے سیدھا جانا ہوتا ہے وہ سارا ٹریفک ڈسٹرب ہوتا ہے
    باہر کے ممالک میں آپ نے دیکھا ہوگا کے دائیں جانب صرف وہی آتے ہیں جنھیں دائیں جانا ہوسیدھا جانے والے بیچ اور بائیں جانے والے بائیں ہی رہتے ہیں مگر یہاں لوگوں کو شوخی اور کرتب دکھانا ہوتے ہیں اس لئے یہ سب اوچھی حرکتیں کرتے ہیں اور پھر جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ہمارے ہاں عوام میں اٹھارہ سال سے کم بچے بھی کھلے عام موٹر-سائیکل چلاتے گاڑی چلاتے نظر آتے ہیں اور وہ اپنے والدین تک کی بھی پرواہ نہیں کرتے کچھ والدین بھی لاپرواہی کرتے ہیں جب تک لائسینس نا بن جائے ایسے کیسے آپ سڑک پر آنے دیتے ہیں یہاں زمہ داری عوام اور
    والدین کی ہوتی ہے ہمارے ہاں صبر بھی ختم ہو چکا ہے اور بس چاہتے ہیں کے آگے نکل جائیں بلاوجہ ہارن دیتے ہیں جبکہ آپ دیکھ رہے ہیں کے آگے راستہ بند ہے تو کوئی وجہ ہی ہوگی فرانس سمیت کئی ممالک میں ہارن بجانا ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کوئی سنگین غلطی اگلے نے کی ہو اور یہاں تک کے گالی بھی سمجھا جاتا ہے کہنے کا مطلب ہے کے بلاوجہ نہیں بجاتے.
    امریکہ کا ایک واقعہ مشہور ہے کے وہاں ایک لڑکی نے ٹریفک لائسینس کے لئے ایپلائی کیا جب اس نے ایپلائی کیا تو اسکی عمر بیس سے پچیس سال تھی مگر اسے لائسینس پینتیس سے چالیس سال کی عمر میں جا کر ملا اس کی وجہ سخت ترین ٹریفک قوانین لیکن اس عورت نے بھی ہمت نا ہاری اور ہر بار ٹیسٹ دیا پھر ایک دن کامیاب ہوگئی.
    ہم پاکستانی بھی اگر خود سے عمل صبر اور نظم وضبط کا مظاہرہ کریں توہمارے ہاں بھی حادثات کم ہوں گے آئیں اور آج سے فیصلہ کریں کے پہلے ہم خود ٹھیک ہوں گے.

    Twitter Id. @ M1Pak

  • ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔                  تحریر: آصف گوہر

    ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔ تحریر: آصف گوہر

    حجة الوداع کے بارے طویل حدیث ہے۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو”
    لفظ عورت کا معنی ہے چھپی ہوئی چیز یعنی جس کی حفاظت کی جائے۔ یہاں حفاظت سے مراد اچھا برتاو حسن سلوک جسکی وہ
    مستحق ہے وہ کیا جائے۔انگریزی محاورہ لیڈیز فسٹ سے بھی یہی مراد ہے کہ خواتین کو ترجیح دینا ۔
    اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا عورت کی کوئی عزت و توقیر اسلام نے بیٹیوں کی پیدائش کو رحمت کا باعث قرار دیا اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا۔
    ہمارے معاشرے میں عورت کو پیدائش کے ساتھ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بیٹوں کو اکثر بیٹیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئ طرح کے مسائل اور رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں پیدل سوار سفر کرکے سکول اور تعلیمی اداروں میں آنا جانا راستے میں اوباش مردوں کی زہر آلود نظروں جملوں اور تعاقب جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کا حصول بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔لیکن چند دہائیوں سے ہمارے ملک میں لڑکیاں اپنی محنت کے بل بوتے پر سول سروسز میڈیکل کے شعبہ میں بڑی تعداد میں کامیاب ہورہی ہیں جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے اسی طرح خواتین ٹیچنگ اور نرسز کے شعبہ میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔
    لیکن ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بھی کم نہیں کام کرنے کی جگہوں پر حراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ساتھ کام کرنے والے مرد حضرات ہر خاتون کو مال مفت سمجھ کر ڈورے ڈالنا فرض سمجھتے ہیں خواتیں کی موجودگی میں ذومعنی گفتگو کرکے خوش ہوتے ہیں اور اکثر خواتین عزت بچانے کی فکر میں یہ سب چپ چاپ برداشت کر جاتیں ہیں ۔ سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ اللہ کی پناہ ۔
    گزشتہ دو روز قبل راولپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی ہسپتال میں زخمی پڑی ہیں ۔ حکومت پنجاب محکمہ تعلیم نے اساتذہ کے تبادلوں میں آسانی تو پیدا کی ہیں لیکن خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔حکومت سے گزارش ہے کہ سرکاری ملازم خواتین کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے ۔ @Educarepak

  • تمباکو پر آپ کی زندگی سے پابندی کیوں لگائی جائے؟  تحریر: زاہد کبدانی

    تمباکو پر آپ کی زندگی سے پابندی کیوں لگائی جائے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    تم شاید پہلے ہی جانتے ہو کہ تمباکو برا ہے۔ در حقیقت ، تمباکو نوشی کی فیصد برسوں سے کم ہے۔ بدقسمتی سے ، تاہم ، اب بھی بہت سارے لوگ ہیں جو روزانہ تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ آپ ہیں ، یا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کو تمباکو ڈالنے میں مشکل ہو رہی ہو تو تمباکو اور اپنی صحت کے بارے میں یہ حقائق چیک کریں۔

    تمباکو کا استعمال بڑی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔

    کینسر بہت سی بیماریوں میں سے ایک ہے جسے تمباکو کی مصنوعات آپ کی زندگی میں لا سکتی ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو ، آپ کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوسکتا ہے۔ اگر آپ چبانے والا تمباکو یا نسوار استعمال کرتے ہیں تو یہ منہ یا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ ان جان لیوا بیماریوں کے ساتھ ، تمباکو کا استعمال دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (COPD) ، ہائی بلڈ پریشر ، اور قبل از وقت دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تمباکو اور کارسنجن جو کہ مصنوعات کے ساتھ آتے ہیں مستقبل میں صحت کے بہت سے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

    مسوڑوں کی بیماری ایک حقیقی امکان ہے۔

    تم تمباکو نوشی کرتے ہو یا چبانے والے تمباکو کا استعمال کرتے ہو ، یہ مسوڑھوں کی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ یا تو ان مصنوعات میں سے یا منہ کے ذریعے جاتا ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے مسوڑھے اور دانت مصنوعات سے برے کی سخت طاقت لیتے ہیں۔ یہ داغدار دانتوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ آپ کی صحت کے لیے کوئی خاص تشویش نہیں ہے ، یہ خود کی خراب تصویر اور ذہنی صحت کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

    خشک اور خراب جلد:
    تمباکو آپ کی جلد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی طور پر ، یہ آپ کو خشک کرتا ہے اور وقت سے پہلے جھریاں ، عمر کے مقامات اور دراڑوں کو فروغ دیتا ہے۔ واحد علاج؟ تمہیں رکنا ہے۔ موئسچرائزر اور کریم تب تک جا سکتی ہیں جب آپ تمباکو کی مصنوعات کی شکل میں اپنے جسم میں بہت زیادہ خرابی ڈال رہے ہوں۔

    نشہ:
    ظاہر ہے ، تمباکو کی مصنوعات میں موجود نیکوٹین اسے انتہائی لت کا باعث بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار شروع کرنے کے بعد ، اسے روکنا انتہائی مشکل ہے۔ یہ مذکورہ بالا صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے ، لیکن اس تناؤ میں بھی اضافہ کرسکتا ہے جو آپ کو پہلے سے ہے۔ صحت کے مسائل کا دباؤ یا چھوڑنے کا دباؤ واقعی تمباکو کو ایک مسئلہ بنا سکتا ہے جو آپ کے دماغ اور جسم پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔
    کیا تمباکو سگریٹ سے بہتر ہے؟ رولنگ تمباکو رول اپ کم از کم آپ کے لیے عام سگریٹ کی طرح نقصان دہ ہیں اور صحت کے لیے وہی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں ان کے مقابلے میں منہ ، غذائی نالی ، گلے اور گلے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اگر آپ تمباکو کا استعمال کرتے ہیں تو اسے ترک کرنے میں دیر نہیں ہوگی! ایک پارٹنر ڈھونڈیں ، ڈاکٹر سے ملیں ، یا پروڈکٹ استعمال کریں تاکہ آپ اچھے طریقے سے پروڈکٹ چھوڑ دیں۔ تمباکو صرف آپ کی زندگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، لہذا ابھی چھوڑیں اور مستقبل میں اپنی صحت کو بچائیں۔

    @Z_Kubdani

  • اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ تحریر:شعیب خان


    اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
    گو پاس میرے درہم ودینار نہیں ہیں

    لفظ اخلاقیات یونانی زبان کے لفظ اخلاق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کردار اور رواج۔ اسی طرح اخلاقیات سے مراد کسی معاشرے، کسی ادارے کیلٸے اخلاقی اصولوں ،اور اخلاقی اقدار کا نظام موجود ہو

    دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات مسلمانوں کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، ضعیفوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، غریبوں اور بے کسوں کی دادرسی ، اپنوں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہیں

    نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اخلاق کا اتمام بھی ہے ۔آپ ﷺ کامل اخلاق کی تکمیل کیلٸے اس جہاں میں تشریف لاٸے ۔ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک ورق آپﷺ کے خُلقِ عظیم کا اجلا نقش ہے۔

    میرے پیارے مسلمانوں بھاٸیوں!! اخلاق کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ معاشرہ مہذب ہو یا غیر مہذت ۔اخلاق دنیا کے ہر معاشرے کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ،انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز اخلاق ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا مسلم معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی ناپید ہوچکے ہیں جس کے باعث آپﷺ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ اسوجہ سے ہمارا معاشرہ رسواء اور زوال پذیر ہو رہا ہے اور بد اخیلاقات ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کررہی ہے

    دین اسلام جس کی اصل پہچان اخلاقیات کا عظیم باب ہے اور جس کی تکمیل کے لئے مُحَمَّد ﷺ مبعوث کیے گئے تھے آج اسی دین اسلام اور آخری نبی کے اخلاق حسنہ کو ماننے والے اخلاقیات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ ہماری عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، گلی، محلہ ، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و ستم ،بچیوں کے ساتھ زیادتی، فساد، عورتوں پر تشدد ،ماں باپ کی نافرمانی ، کینہ ، جھوٹ ، بہتان تراشی ، غیبت ، قتل و غارت، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیات کے بازار، ہوس کے اڈے ، مے خانے ، جوا ، چوری چکری ، ،زنا کاری، رشوت خوری، سود خوری ،حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی منافقت ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی کرنا آخر وہ کون سا اخلاقی بیماری ہے جو ہم سب میں نہیں ۔ خود غرضی اور کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم سب نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی اقسام ہے جو ہمارے معاشرے کے زوروں پر نہیں؟

    تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم خود پارسا اور مسلمان کہلاتے ہیں ۔۔۔ایسے برے اخلاق و اطوار والی
    عوام کا خود کو مسلمان کہلوانا تو دور کی بات ، ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ایسے میں دین اسلام ، اللہ ﷻ اور آپ ﷺ کا مبارک بھی اپنی ناپاک زبانوں سے لینے کی جسارت نہ کرو اس لیے کہ تم ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔

    گر نہ داری از محمد رنگ و بو
    از زبان خود میسا لا نام او

    قارئين!! معاشرہ اکائی سے بنتا ہے ہر فرد معاشرے کا حصہ ہے۔ ہر فرد خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں ہر فرد سمجھتا ہے کہ ہر برائی اور خرابی دوسرے لوگوں میں ہے ، یہ منفی سوچ معاشرے کو اخلاقیات سے گراتی ہے کیونکہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے لوگوں میں خامیاں اور برائیاں دیکھتا ہے۔ ہر فرد اپنیٕ ذمے داریوں سے بھاگتا ہے اور اپنی برائیوں اور خاميوں کا جواز پیدا کرتا ہے ۔

    اللہ ﷻ ہمیں ہدایت دے آمین!

    ‎@aapkashobi

  • پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ

    پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ


    آج کل جہاں دشمن ہمارے پیارے ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہاں ہمارے گمنام ہیروز اپنے وطن پاکستان کے دفاع کیلئے ہر دم تیار ہیں آج میری گمنام ہیروز کی مراد وه تمام محب وطن پاکستانی ہیں جو بے لوث ہوکر اپنی مدد اپ کے تحت دشمن کی سوشل وار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور دشمن کو لاجواب کر رہے ہیں یہ تمام لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے پیارے وطن کے لیے ہر دم حاضر ہوتے ہیں یہ سوشل میڈیا کی جنگ (وار) لڑنا بہت اہم ہے دشمن ممالک ہمارے ملک کے خلاف عالمی سطح پر جھوٹی خبرے پھیلاتا ہے تاکہ پاکستان سے دوسرے ممالک نفرت کریں اور پاکستان کی عزت و وقار میں فرق آجائے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا الحمداللہ ہماری نوجوان نسل اب میدان میں اگئی ہے اور دشمن کی ہر سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے تیار ہے خاص کر ہمارا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے خلاف غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلا رہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند لوگ ہیں پاکستانی امن نہیں چاہتے اور اس طرح کی بہت سی فیک چیزے جو بھارت اپنے میڈیا پر چلا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف دنیا کو اکسانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اب مجھے فخر ہے کہ نوجوان نسل جن کو میں گمنام ہیروز کا لقب دیتا ہوں یہ بھارت کی سازشوں کو چکنا چوڑ کررہے ہیں اور پاکستان کا حقیقی اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لارہے ہیں کہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں ہم انتہا پسند نہیں ہیں ہم خطے کے امن پر ہی یقین رکھتے ہیں
    بھارت جتنی مرضی اب پاکستان مخالف جھوٹی کمپين چلوا لے بھارت کو اب منہ کی کھانی پڑے گی کیوں کہ اب پاکستانی یوتھ ان کی چھترول اب سوشل میڈیا وار میں بھی کرے گی اور پاکستان کا نام جو بدنام کرنا چاہے گا اس کو یہ گمنام ہیروز بے نقاب کریں گے اور مودی جو کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں کے حقوق ان سے چھین رہا ہے اور ظلم کی انتہا کر رہا ہے پاکستانی گمنام ہیروز اس پر خاموش نہیں رہے گے مودی اور بھارتی فورسز کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مودی حقیقت میں انتہا پسند ہے اور آج دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر میں مودی اور بھارتی فورسز نے کرفیو لگایا ہوا ہے اور کشمیر میں ناانصافی کررہے ہیں کہاں گے انصاف فراہم کرنے والے عالمی ادارے کو انصاف کے دعوے دار ہیں اور کہاں گے ہیومن رائٹس کہاں گے عالمی قوانین کیوں بھارت کے آگے عالمی ادارے خاموش ہیں کیا وجہ ہے ؟؟
    ہمارے گمنام ہیروز نے جس طرح کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے رکھا اس پر تمام کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں اب وقت ہے کہ ہم ایک قوم بن کر اپنے دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کو اسی طرح بے نقاب کرتے رہے پاکستان کا جھنڈا ہمشہ بلند رہے گا اور ہم ہر دم وطن کے دفاع کیلئے حاضر رہے گے
    آئیں آج عہد کرتے ہیں کہ اپنے پیارے وطن پاکستان کو جب جب ہماری ضرورت پڑے گی اسی جذبہ سے اپنے ملک کی خدمت کرے گے جس طرح سے ہمارے اباؤ اجداد نے اس وطن کو حاصل کرنے میں قربانیاں دی ہیں اور انکی بے پناہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ پیارا وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان ملا اور میری للّه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سب کو اپنے عظیم ملک پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے جذبہ عطاء فرما
    پاکستان زندہ باد!
    Twitter Account : ‎@AhsanAliButtPTI

  • پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے  تحریر؛شمسہ بتول

    پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے تحریر؛شمسہ بتول


    14 اگست 1947، ,27 رمضان المبارک کی بابرکت رات کو ایک عظیم ریاست وجود میں آٸی جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ پاکستان ہمارے لیے اللّٰہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ ہمارے آباٶاجداد کی لاتعداد قربانیوں کے بعد ہمیں یہ وطن عزیز حاصل ہوا جس میں ہم اپنی مرضی سے اپنے اپنے کلچر اور مذہب کی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکتے۔
    پاکستان اندھیروں میں ایک امید کی کرن بن کر ابھرا جہاں ہر فرد کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا گیا خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار یا کسی بھی نسل سے ہو ۔ اس وطن کی قیام میں ہمارے شہیدوں کا لہو ، ہماری بہنوں کی عزتیں بھی شامل ہیں اور یہ سب قربانیاں ہمارے بڑوں نے اپنی آنے والی نسل یعنی ہمارے لیے دیں تھی مگر افسوس ہم نے ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا اور اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کی جیسا کہ اسکی قدر کرنے کا حق ہے۔
    آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے وطن کی سڑکوں یا گلی کوچوں میں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا شروع کر دیں۔ اس کے قوانین توڑیں اور نہ ہی اسکا یہ مطلب ہے کہ آپ اس ملک کو کوسنا شروع کر دیں کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلہ ہے وغیرہ وغیرہ سو اس لیے جی ہم باہر چلے جاتے ہیں ۔یہاں مساٸل کے علاوہ رکھا ہی کیا ہے اور اس طرح کی بہت سی باتیں جو کہ سراسر غلط ہوتیں ہم بڑے فخر سے کہہ رہے ہوتے۔
    آزادی راۓ کے نام پہ ملک کو کوسنا منافقت کے زمرے میں آتا ہے اس ملک نے آپ کو شناخت دی ایک پہچان دی عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا اور محض چند مساٸل کی بنیاد پر یہ کہہ دینا کہ یہاں ہے ہی کیا جبکہ ہمیں تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے بڑوں نے لہو دے کر اسے حاصل کیا اب ہم نے محنت و لگن سے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اس کے مساٸل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہے نہ کہ اسے چھوڑ کر بھاگ جانا ہے
    اور جن کے پاس باہر جانے کا آپشن نہیں ہوتا وہ پھر سارا سال اسکی سڑکوں پہ کوڑا کرکٹ پھنکتے یا پھر بجلی چوری کر لی یا ٹیکس چوری اور پھر شور مچانا شروع کر دیتے کہ جی پاکستان میں تو مساٸل ہی بہت ہیں۔ اور پھر سال میں ایک دن 14 اگست پہ جھنڈا لگا کے اور سوشل میڈیا پہ پوسٹ شیٸر کر دی یہ بتانے کے لیے جی ہمیں تو بڑی محبت ہے بس ایک دن کے لیے ۔اس طرح فرض ادا نہیں ہوتے عملی طور پر اس سے محبت کرنا سیکھیں صرف ترانے کے وقت کھڑا ہو جانا کافی نہیں بلکہ ادب کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ آپ اس ملک میں ٹیکس چوری نے کریں اس کے وساٸل کا بے دریغ استعمال نہ کریں بجلی چوری نہ کریں پانی اور گیس ضاٸع نہ کریں اس کی سڑکوں اور گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں۔
    اس دن باجے بجا کر ٹاٸم پاس کرنے کی بجاۓ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ بیٹوں یہ دن تجدید عہدو وفا کا دن ہے اس دن ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد ریاست میں سانس لے رہے اور عزت و تحفظ کے ساۓ میں جی رہے ہیں ۔لہذا ہم اس دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر ممکن پاکستان کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کریں گے اس کے وساٸل کا ضیاع نہیں کریں گےاور اس کے قوانین کا احترام کریں گے اور پوری ایمانداری سے اس وطن کے فراٸض جو کہ ہمارے اوپر لاگو ہیں ہم ادا کریں گے۔
    اور یہی اس وطن سے محبت اور وفا اور ادب کا تقاضہ ہے۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
    جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان کے بغیر ہمارا کوٸی وجود نہیں اور نہ ہی کوٸی شناخت۔ مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے😇

    ‎@b786_s

  • معاشرتی و سماجی جرائم و مسائل    تحریر : علی حیدر

    معاشرتی و سماجی جرائم و مسائل تحریر : علی حیدر

    ذی شعور ذمانے کے باسی ہونے کے باوجود بھی کرہ ارض سے ابھی تک انسان ہزاروں سال سے موجودہ جرائم کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ شاید یہ انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر موجود رہے جو اب ہمارے رگ و پے میں سما کر ہماری فطرت بن چکے ہیں۔ حالیہ دور میں یہ جرائم ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں لیکن حالات کچھ ایسے ہیں کہ ان جرائم و مسائل کو جرم تسلیم کرنا تو درکنار ان کی طرف توجہ ہی نہیں دی جاتی کیونکہ ایسے مسائل سے معاشرے کے ہر فرد کا دامن آلودہ ہے۔
    چغل خوری , بہتان تراشی , شراب نوشی , جوا , ڈکیتی جسمانی و جنسی تشدد اور رشوت خوری ہمارے معاشرے کے وہ جرائم ہیں جن سے ہمیشہ بےغفلت برتی گئی اور ان کے خلاف کسی بھی ذمانے میں مؤثر اور دیرپا اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ چناچہ یہ مسائل اب ہماری سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر کے ہمارے معاشرے کا شیرازہ بکھیر رہے ہیں۔
    یہ مسائل ایک دوسرے کے اسباب ہیں ۔ رشوت ستانی مجرم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ مجرم کو اس بات کا ادراک پہلے سے ہوتا ہے کہ اس کو مزاحمت و تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور وہ قانون کے جال کو چند نوٹوں کے عوض توڑ کر اپنا تحفظ یقینی بنا لے گا۔ اس سے بے روزگاری ,سماجی کاہلی اور حق تلفی کو فروغ ملتا ہے کیونکہ معاشرے کا غالب اور امیر طبقہ اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر غریبوں کا حق غصب کرتا ہے اور ان کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔

    اگر معاشرے میں پنپتے ہوئے تمام مسائل کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو شاید رشوت خوری کے منفی اثرات میں باقی تمام مسائل کے منفی اثرات پر غالب اور ذیادہ تباہ کن ہوں گے کیونکہ رشوت خوری ہر طرز کے مجرم کی جان بخشی کرتی ہے۔ ڈکیت , غاصب اور متشدد انسان جو مختلف جرائم میں ملوث ہوتے ہیں وہ بے خوف اور بے دریغ جرم سرانجام دیتے ہیں۔
    سماج میں موجود منشیات کے عادی افراد ہمارے لئیے المیہ ہیں اور معاشرے کا قابل فکر پہلو ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذندگیوں میں مفلوج اور ناکارہ ہوتے ہیں ۔ منشیات کی لت میں مبتلاء ان افراد کو اکثر ریپ کیسز اور ڈکیتیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ منشیات کے عادت کے اسباب میں ذمے داریوں سے فرار , احساس محرومی و کمتری اور غربت قابل ذکر ہیں۔ ان افراد کی بہتر مشاورت سے ان کو معاشرے کا مثبت فرد بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی واضح طریقہ کار اور لائحہ عمل نہیں ہے جس سے ایسے افراد کو معاشرے میں دوبارہ مثبت فرد کے طور پہ بحال کیا جا سکے۔
    ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور جنسی تششدد سب سے ذیادہ عام اور تشویشناک ہے ۔ اس حوالے سے ہمارا معاشرہ دو واضح طبقوں میں منقسم ہے ۔ مذہبی طبقے کا مؤقف یہ ہے عورت کی آزادی اور بے پردگی بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہی ہے ۔ دوسرا طبقہ سیکولر ہے جو اس بات کو رد کرتا ہے۔ سیکولر طبقے کے مطابق معاشرے میں ریپ کیسز کی وجہ جہالت ہے۔
    وجوہات کی بہتر جانچ کے بعد واضح لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے اس جرم کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس جرم پر مجرم کو سخت سزا دے کر اور مناسب تعلیم و شعور کو فروغ دے کر جنسی تشدد اور ذنا کو کافی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔
    جھوٹ , دھوکہ دہی , بد دیانتی , بہتان تراشی اور چغل خوری وہ مسائل ہیں جن کا سامنا روزمرہ ذندگی میں معاشرے کے ہر فرد کا ہوتا ہے۔ ان مسائل پر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان مسائل کو مسائل ہی نہیں سمجھا جاتا ۔ دراصل معاشرے میں ایسے مسائل کی بلند شرح ہماری شعوری گراوٹ اور اخلاقی پستی کو ظاہر کرتی ہے۔ چغل خوری , جھوٹ اور مکرو فریب جیسے روزمرہ جرائم کے ارتکاب سے نفرتیں جنم لیتی ہیں اور عزیز و اقارب کے رشتوں میں فاصلوں کا سبب بنتے ہیں۔ معاشرے میں اپنا وقار بلند رکھنے اور سزا سے بچنے کے لئیے ہر انسان جھوٹ اور فریب کا سہارا لیتا ہے۔ ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے بہتر اور مؤثر آگاہی اور مناسب تعلیم سے ختم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مسائل قدر ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں کہ ان کو مکمل طور پہ ختم کرنا نا ممکن ہے۔
    جوا اور سٹہ بازی بھی ہمارے معاشرے کے ان جرائم میں شامل ہیں جن کے تدارک کے لئیے واضح قانون اور لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ جوے کے عادی افراد مجرمانہ ذہنیت کے حامل اور کاہل ہوتے ہیں جو اپنی تمام تر جائیداد کو نیلام کر کے داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ جوا بھی شراب کی طرح انسان کو معاشرے کا مفلوج اور ناکارہ فرد بنا دیتا ہے۔ ایک جواری کی روزمرہ ذندگی کے معاملات میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کیونکہ وہ آسان راستہ اپنا کر دولت کے حصول کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئیے ایک جواری اکثر چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھی نہیں کتراتا ۔

    معاشرے کو ایسے جرائم سے پاک کرنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ مناسب قانون سازی کر کے قانون کو متحرک بنایا جائے جو مجرم کو چوری , ڈکیتی , ریپ اور شراب نوشی جیسے جرائم میں ملوث ہونے پر سزا دے ۔ جبکہ دیگر مسائل جیسا کہ جھوٹ , بہتان اور چغل خوری کے تدارک کے لئیے مناسب آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔

    ‎@alihaiderrr5

  • خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ

    خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ


    وہ جس کے انصاف کی گواہی آج بھی دنیا دیتی ہے،وہ جس نے آدھی دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا تھا،وہ جس کو دیکھ کے شیطان بھی راستہ بدل لیتا تھا، وہ جس کے خوف سے دشمن کانپ اٹھتا تھا، وہ جس کے اسلام قبول کرنے کی دعائیں میرے نبی محمد ﷺ نے مانگی تھی، وہی ہستی جس کا آج یوم شہادت ہےاور کوئی عام نہیں بلکہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا : "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔” وہ جس کے اسلام قبول کرنے پہ میرے نبیﷺ نے کہا کہ اٹھو بلال! آج اذان چھپ کر نہیں بلکہ کعبہ کی چھت پر جا کر دو تاکہ کفار کو پتہ چلے عمر اسلام قبول کر چکا ہے، وہ جس کی شہادت پہ یہودی کہنے پہ مجبور تھے کہ اگر عمر دس سال زندہ رہ جاتے تو مشرق سے مغرب تک ایک یہودی بھی نہ بچتا اور پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوتا۔
    دنیانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعدایسا حکمران نہ دیکھا جس نے 22 لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کر کےاس پہ حکومت کی لیکن ایک دن زار و قطار روتے دیکھائی دیے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ نہر کے پل سے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ گزر رہا تھا اور پل میں ایک سوراخ تھا ، اس سے ایک بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی میں اس لیے رو رہا ہوں کہ کل میں خدا کے ہاں جوابدہ ہوں گا کہ تر ی حکومت میں بکری کی ٹانگ ٹوٹی تو کیوں ٹوٹی ہے تو اس پل کو مرمت نہیں کروا سکتا تھا۔اتنا خوف خداوندی تھا کہ کہتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر کو اللہ کے ہاں جواب دینا ہوگا۔بہادری اس قدر تھی کہ ہجرت کا وقت تھا تمام لوگ کفار کے ڈر سے رات کے اندھیرے میں مکہ سے مدینہ جا رہے تھے تو ایسے میں عمر فاروق اپنی تلوار لہراتے مکے کی گلیوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ جس نے اپنے بچوں کو یتیم کروانا ہے اور بیویوں کو بیوہ کروانا ہے تو وہ آئے عمر کا راستہ روک کے دیکھائے کیوں کہ عمر آج ہجرت کر رہا ہے۔عوام کا احساس اس حد تک تھا کہ راتوں کو گلیوں میں بھیس بدل کے پہرہ دیتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں ہے ان کی سلطنت میں۔
    محمدؐ کے صحابی کا وہ زمانہ یاد آتا ہے۔
    بدل کر بھیس گلیوں میں وہ جانا یاد آتا ہے۔
    احتساب، برابری اور انصاف کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ سب سے پہلے خود کو اس کے لیے پیش کیا ایک مرتبہ ابی بن کعب اور آپ کے درمیان اختلاف ہوگئے اور یہ معاملہ قاضی زید بن ثابت کو پیش کیا گیا جب معاملہ شروع ہوا تو امیرالمومنین کا لحاظ کرتے ہوئے قاضی نے آپ کا احترام کرنا چاہا توآپ نے روک دیا اور فرمایا یہ تمہاری پہلی ناانصافی ہے یہ کہہ کر ابی بن کعب کے برابر بیٹھ گئے جب گواہ طلب کیے گئےتو آپ کا کوئی گواہ موجود نہ تھا لہذا آپ کو مدعی علیہ کے طور پر قسم کھانی تھی قاضی نے پھر سفارش کی کہ امیر المومنین کو قسم کھانے سے معاف کر دیا جائے ۔آپ رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے فرمایا یہ تمہارا دوسرا ظلم ہے پھر معاہدے کے مطابق قسم کھائی اور فرمایا "اے قاضی انصاف کرتے وقت جب تک امیر اور فقیر اور ایک عام آدمی تمہارے نزدیک برابر نہ ہو تم قاضی کے عہدے کے قابل نہیں سمجھے جاسکتے ۔”
    خلیفہ دوم نے حکومت چلانے کےوہ طریقے بتائے جن پر آج تک عمل ہو رہا ہے سلطنت کو صوبوں میں تقسیم کیا اور انکے عہدداروں کو نصحیت کی کہ رعایا کے لیے ان کے دروازے ہر وقت کھلے رہنے چاہیےپھر پولیس کا محکمہ قائم ہوا اور افسران کو حکم دیا کہ امن کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دیکھ بھال بھی کرتے رہے ایسے ہی عدالتی نظام بھی انہیں کے دورخلاقت میں رائج ہوا اور ججز کو اختیار حاصل تھا کہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان رہبروں میں سےہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں تک کے لیے زندگی کی اصول واضح کیے جن سے آج بھی دنیا استفادہ حاصل کرتی ہے۔اگر آج اسلامی دنیا پھر سے عروج اور دنیا پہ اپنی حکمرانی چاہتی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا جائزہ لے اور اسے اپنی مشعل راہ بنائیں ۔ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان نہ کرے اور اگر واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو اسلام کی ایسی تعلیمات کو ہرگز فراموش نہ کریں۔
    تقاضا ہے کہ پھر دنیا میں شان حق ہویدا ہو
    عرب کے ریگزاروں سے کوئی فاروق پیدا ہو
    بڑا غوغا ہے پھر قصر جہاں میں اہل باطل کا
    کوئی فاروق پھر اٹھے تو حق کا بول بالا ہو

    ‎@MS_14_1

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی  تحریر : چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر : چوہدری عطا محمد

    ارض پاک پاکستان میں تحریک انصاف کی گورنمنٹ کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ہے مہنگائی کا جن جو کہ حکومت کے قابو سے باہر ہے ویسے اگر مہنگائی کی بات کی جاۓ تو پوری دنیا میں مہنگائی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے حکومت وقت اس پر قابو پانے کے معاملہ میں بلکل بے بس ہے

    حکومتی وزیر مشیر اور درجنوں ترجمانوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب بھی نہی ہے ایک حکومتی وزیر نے بتایا پچھلے دنوں عید کی چھٹیوں میں نادرن ایریا میں سیرو تفریح کرنے والوں نے تین سے پانچ دنوں میں 67ارب روپے خرچ کئے اس کا بتانے کے دو مقاصد تھے ایک تو سیاحت کو فروغ ملا جو بہت اچھی بات ہے دوسرا وہ یہ بتانا چاہ رہے تھے موصوف کہ لوگوں کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہی تبھی تو تین چار دن میں اتنا خرچ کیا یعنی عوام خوشحال ہے

    میں زرا موصوف حکومتی ترجمانوں کے گوش گزار یہ بات کرتا چلا کہہ جناب یہ خرچہ کرنے والوں کی تعداد صرف 12 سے 17 فیصد لوگوں کی ہے آپ اس بات پر بیشک بغلیں نہ بجائیں باقی 80 فیصد لوگ مہنگائی کے ہاتھوں بہت زیادہ تنگ نظر آتے ہیں اگر مہنگائی مافیا کے جن کو حکومت نے قابو نہ کیا تو پھر بہت دیر ہو جاۓ گی

    یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہہ ہمارے سرکاری بابوؤں کا بھی بڑا رول ہے مہنگائی بڑھانے میں حکومت کا کام قانون سازی ہوتا ہے اس پر عمل درآمد انہیں سرکاری بابوؤں نے کروانا ہوتا ہے جو شاید اس حکومت سے خوش نہی ہیں سو وہ اس لئے بھی دلچسبی نہیں لیتے اور مہنگائی مافیا عوام کا خون نچوڑ رہا ہے

    عوام وزیر اعظم پاکستان سے لائیو کالز میں بھی اور سوشل میڈیا پر بھی درخواست کرتی نظر آتی ہے کیوں کہہ تحریک انصاف کے ووٹر سپورٹر بھی مہنگائی والے سوال پر کسی غریب کے سامنے اپنی حکومت اور جناب عمران خان صاحب آپ کو ڈیفنڈ نہی کر پاتے مہنگائی کن چیزوں میں زیادہ ہے اور یہ مافیا کس طرح عوام کو لوٹ رہا ہے اگلی تحریر میں بشرط زندگی اس پر بات کریں گے

    اللہ سبحانہ تعالی ارض پاک کی عوام کی مشکلات آسان فرمائیں آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt