Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بادشاہ است حسین  تحریر: مدثر حسن

    بادشاہ است حسین تحریر: مدثر حسن

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے وہ مہینہ آرہا ہے جس میں جنت کے سردار نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین کی شہادت ہوئی ۔ امام حسین کون تھے ؟
    امام حسین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے تھے اور حضرت امام حسن کے بھائی تھے ۔۔۔۔
    امام حسین کی پیدائش پر رسول ﷺ بہت خوش ہوئے فرمایا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں نوجوان جنت کے سردار ہیں۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کی سواری وجہ تخلیق کائنات رسول ﷺ خود تھے ۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ کو بے چینی ہوتی تھی۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے نماز کا سجدہ لمبا کر دیا۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ نے حضرت فاطمتہ الزہرا سے فرمایا بیٹی میرے حسین علیہ السلام کو رونے نہ دیا کرو مجھ سے رہا نہیں جاتا اور اس کا رونا مجھ سے دیکھاجاتا نہیں۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”حسین منی وانامن الحسین“حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کودوست رکھے ۔۔۔۔

    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس نے نانا کے دین کی لاج رکھی۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو خود جان قربان کرگئے لیکن یزید کی بیعت نہیں کی ۔
    اما حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو باطل سے لڑ گئے اور باطل کے سامنے ڈٹ گئے ۔۔۔۔

    قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    دین کی پناہ ہے حسین علیہ السلام میرا بادشاہ است حسین ہے
    اگر اہلبیت سے محبت کرنا شیعہ کہلاتی ہے تو سب سن لو میں شیعہ ہوں۔ امام حسین سے نفرت کرنے والا یزید پلید ہے۔۔۔

    امام حسین سے محبت ہماری زندگی کا کل اثاثہ ہے ۔۔۔۔

    اللہ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔

    MudasirWrittes

  • ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور والدین کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ پیدائشی یتیم تھے۔ حضرت بی بی آمنہ کی وفات کی بعد آپ ﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بڑی محبت اور دل داری سے کی ۔اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے پوتے تھے مگر وہ خصوصا

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق و عادت کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بیت اللہ کی مسند پر ان کے علاوہ کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر انہوں نے آپﷺ کو اس پر بیٹھنے سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ایک موقع پر فرمایا: میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو۔ خدا کی قسم اس کی شان کچھ اور ہی ہے۔ وہ آپﷺ کو کندھے پر بٹھا کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔

    حضرت عبدالمطلب نے اپنی بیماری کے دوران ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو پرورش کے لیے اپنے باقی بیٹوں کے بجائے حضرت ابو طالب کے حوالے کر دیا جو خود بھی اپنی عظمت اور سخاوت کی وجہ سے قوم کے سردار مانے جاتے تھے۔وہی آپﷺ کی صحیح طور پر حمایت اور نگرانی کر سکتے تھے۔

    اس وقت مکہ کے اجڈ اور غیرمہزب ماحول میں خود کو برائیوں سے بچا کر پاک صاف زندگی گزارنا صرف نبی ہی کا کام ہو سکتا تھا کیونکہ نبی کی حفاظت اور تربیت اللّٰہ تعالٰی خود فرماتا ہے۔اس لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے شریف، سنجیدہ، فرماں بردار، حیادار، راست گو،بلندہمت اور باادب تھے۔

    بچپن کی عمر کھیل کود اور بے فکری کی ہوتی ہے۔ مگر آپ ﷺ کا بچپن بالکل محنتلف اور مثالی ہے۔آپ ﷺ ہمیشہ مناظر قدرت پر غور و فکر کرنے ، خالق کائنات کی عظمت اور اس کے عجائبات پر سوچ بچار کرنے میں سکون محسوس کرتے۔ حضرت ابو طالب آپ ﷺ کے بچپن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بچپن میں آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے ، ہنسی مذاق کرتے ،نہ ہی کبھی کوئی جاہلانہ بات کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کی کبھی بازاری اور آوارہ لڑکوں سے دوستی نہ رہی

    قارئین ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ حسنہ سلوک میں بھی اپنی مثال آپ ہیں
    ایک مشہور وقع ہے کہ ایک بوڑھی عورت مکہ میں رہتی تھی ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے وہ آپ ﷺ پر کوڈا پھینک دیتی۔ کبھی پتھر اور کبھی کانٹے آپ ﷺ کے راستے میں بچھاتی۔آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی لیکن آپﷺ اسے کچھ نہ کہتے تھے۔

    ای دن ہمارے پیارے نبی ﷺ اسی راستے سے گزرے تو کسی نے ان کے اوپر کوڈا نہیں پھینکا۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ آپ ﷺ اس عورت کے گھر گئے ۔ وہ بہت بیمار تھی ۔ آپ ﷺ نے اسے کھانا کھلایا۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئی اس کا خیال رکھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے اس سلوک کی وجہ سے وہ عورت مسلمان ہو گئی۔

    اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی طرح سب سے آچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ‏فرقہ ورایت کی وجہ  تحریر: صالح ساحل

    ‏فرقہ ورایت کی وجہ تحریر: صالح ساحل

    ہمارے ہاں آپ نے اکثر سنا ہو گا کے اتحاد امت کانفرنس اور فرقہ ورایت سے پاک پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر آج ہم کوشش کرتے ہیں کے فرقہ ورایت کی اصل وجہ کیا ہے جس نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر دیا تو میں دین کا ایک ادنی سا طالب ہونے کی حیثیت سے جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کے فراہ ورایت کی یہ لعنت صرف مسلمانوں کے ہاں نہیں بلکہ اس سے پہلے عیسائیوں اور دیگر مذہب کے درمیان بھی موجود تھی اور میری علمی تحقیق اور سوچ کے مطابق اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت کیونکہ کے جب کسی معاشرے میں علمی روایت برقرار رہے گی تو وہاں فرقہ واریت جنم نہیں لے گی ان کے ہاں علمی بحثیں ہوں گی علمی اختلاف ہو گا کئی بار یہ اختلاف بڑھ جائے گا مگر یہ شدت پسندی نہیں ہو گی وہ اس اختلاف پر اپنا اپنا نقط نظر بیان کریں گے لیکن اگر آپ کسی معاشرے میں علم کی روایت کو بند کر دیں اور جہاں خدا کی کتاب کو صرف ثواب کی حیثیت سے پڑھا جائے پڑھنے والے کو اس سے غرض نہ ہو کے میرا رب کیا کہہ رہا بلکہ کے وہ صرف مولوی کی بات کو خدا کی بات سمجھ لے تو جب اس سے کوئ اختلاف کرے گا تو علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرے گا اگر ہم آج پوری امانت داری کے ساتھ یہ تحریک شروع کر دیں کے ہر آدمی کو سادہ ترجمہ کے ساتھ زندگی میں اللہ کی کتاب قرآن مجید ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنی ہے تو بہت سے فرقے خود بخود ختم ہو جائے گے مگر ہم صرف قرآن کو ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں حالانکہ کے جگہ جگہ اللہ یہ کہتا ہے کے یہ ہدایت کی کتاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال نے بھی کہا تھا اے مسلمان تم نے جس کتاب کو مردے بخشوانے کے لیے اور جب روح اٹک جائے تو سورہ یسین کی تلاوت کے لیے رکھا ہے اگر تم سمجھ کے زندگی میں پڑھ لے تو تمہارا مردہ وجود اور ضیمر زندہ ہو جائے اس لیے ہم کو چاہیے قرآن سے تعلق کو جوڑئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر اسرار صاحب جب یہ آیات پڑھتے تھے
    Surat No 3 : سورة آل عمران – Ayat No 67 68

    مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ ( خالص ) مسلمان تھے وہ مشرک نہ تھے ۔

    تو کہہ کرتے تھے کے اس آیات کو اپنے اوپر فٹ کر لو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شیعہ تھے نہ سنی نہ بریلوی نہ دیوبندی بلکہ کے وہ صرف مسلم تھے
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

    ہو تو سبھی کچھ بتاؤ کے مسلمان بھی ہو
    ‎@painandsmile334

  • ‏ن لیگ بنی جھوٹ لیگ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ‏ن لیگ بنی جھوٹ لیگ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خواجہ آصف نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ خدا کی قسم اُٹھا کر کہتا ہوں کہ نواز شریف جلد وطن واپس آ جائیں گے،اُنہیں بس علاج کے لئے جانے دیں۔
    اور پھر نواز شریف چلے گئے خواہ جس طرح بھی گئے بحرحال وہ چلے گئے۔
    اب وہی نواز شریف برطانوی حکومت سے دھکے مارے جانے کے باوجود لندن کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاؤں پڑا ہوا ہے کہ مجھے نہ نکالو۔
    مجھے پاکستان نہیں جانا۔
    یہاں سے فرار ہوتے وقت بیماری کا بہانہ بنایا گیا۔عدالتوں کی مہربانی سے نہ صرف ہر ایک کو چُونا لگایا بلکہ شیریں مزاری جیسے نرم و گداز دل والے حکومتی ارکان کو اپنے ڈرامے سے رونے پر مجبور کر دیا۔
    حالانکہ یہی شیریں مزاری ہے جسے معصوم بچوں کے اغوا،ان کے ساتھ زیادتی،حتی کہ ان کو قتل کر دیے جانے پر بھی رونا نہیں آتا۔
    اس قسم کے حکومتی ارکان کا اس قسم کے گھناونے جرائم پر سخت سزاوں کے معاملے پر نرم رویہ اور انسانی حقوق کے حوالے کسی طور پر لائق تحسین نہیں۔ایسے مجرم کسی انسانی ہمدردی یا حقوق کے لائق نہیں جو معصوم بچوں کو کتوں کی طرح بھنبھوڑ کے رکھ دیتے ہیں۔
    تو بات ہو رہی تھی نواز شریف اور انکے پارٹی قائدین کے سفید جھوٹوں کی،جن کے زریعے یہ لوگ قوم کو 30سال سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔
    نواز شریف نے پاکستان میں تو محض بیماری کا ڈرامہ کیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
    مگر لندن میں جونہی ویزے میں مزید توسیع کی درخواست مسترد ہوئ،وہاں پر انسانی ہمدردی کو بھی ڈھال بنا کر پیش کر دیا۔
    یہ پینترا اس لئے بدلا گیا، کیونکہ وہاں بیماری کا ڈرامہ پٹ چکا ہے۔برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے متعدد بار طلب کئے جانے کے باوجود میڈیکل رپورٹس نہیں دی گئیں،کہ جن سے پتہ چلتا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں اور انکا علاج معالجہ چل رہا ہے۔
    پاکستان میں جن پلیٹ لیٹس کے کم ہونےکو لیکر سارا ٹوپی ڈرامہ کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر لندن جا کر ٹیسٹ کروانے پر وہی پلیٹ لٹس حیران کن طور پر بہت زیادہ نکلیں۔ان رپورٹس کو ہسپتال کے ریکارڈز میں مبینہ طور پر اس لئے کلاسیفائیڈ کروا دیا گیا تاکہ برطانوی قانون کے مطابق انہیں کوئ آدمی دیکھ نہ سکے اور میاں ساب کا مکر و فریب دنیا پر آشکارا نہ ہو سکے۔
    مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کا،ایک دن شاہ کا
    بالاخر برطانوی حکام میںاں ساب کی مکاریوں اور عیاریوں کی تہہ تک پہچ چکے ہیں،جس کے باعث اب نواز شریف کے لندن میں دن گنے جا چکے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ نواز شریف اپیلوں اور حیلوں بہانوں کے زریعے لندن میں کچھ مزید عرصہ گزارنے میں کامیاب ہو جائیں،مگر جو جگ ہنسائ ہونا تھی۔
    وہ تو ہو چُکی۔پاکستان کا تین دفعہ کا وزیر اعظم لندن میں اپنے قیام کو توسیع دینے کے لئے انکے پاؤں پڑ رہا ہے۔یہ نواز شریف اور اسکے حواریوں کے لئے چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
    جن کا اپنا نام تو ہے ہی کوئ نہیں۔مگر ملک کا نام ضروربدنام کر رہے ہیں۔
    ویسے تو جھوٹ اور ن لیگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔مگر پانامہ میں اپنی چوری پکڑے جانے کے بعد تو انہوں نے اگلے پچھلے ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔ان سب جھوٹ بولنے والوں اور فیک چیزیں سچ بنا کے پیش کرنے والوں کی قیادت بہت اچھے طریقے سے کرنے والی مریم صفدر ہیں۔جو آۓ روز کوئ نہ کوئ پُھلجڑی چھوڑنے میں خاصی مشہور ہو چکی ہیں۔جو انہیں شائد بہت جلد گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں لے جائیں۔
    ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد بندہ شرم محسوس کرتا ہے،مگر ن والے ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد دوسرا جھوٹ بولنے کی تیاری پکڑتے ہیں۔
    کچھ اسی طرح ویزہ مسترد ہونے کے بعد نظر آیا۔
    جونہی ویزہ مسترد ہونے کی خبر آئ۔عطا تارڑ جیسے مستقل بنیادوں پر جھوٹ کا ن لیگی بیانیہ بناۓ رکھنے والے لوگ میدان میں آگئے اورایک بار پھر کہناشروع کر دیاکہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس ایک بار پھر کم ہو گئے ہیں۔
    ان کے مسلسل جھوٹوں سے تنگ آکر ان کے اپنے شاہزیب خانزادہ جیسےخاص صحافیوں نے بھی ان کے ڈراموں پر سوال اُٹھانا شروع کر دیےہیں۔گزشتہ رات اس نے شاہد خاقان عباسی کو کہا کہ اگر نواز شریف کے پاس کچھ مستند دستاویزات ہوتیں تو انکا ویزہ کیوں مسترد ہوتا؟
    اب کیا نواز شریف خود واپس آئیں گے یا برطانیہ زبردستی انہیں وہاں سے نکالا جاۓ گا؟
    شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ نوازشریف اپنا علاج مکمل کروا کے آئیں گے۔
    جی ہاں یہی انکے جھوٹوں کی انتہا اور ڈھٹائ کی آخری حد ہے کہ نواز شریف وہ علاج کروا کے آئیں گے جو وہ کروا ہی نہیں رہے #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    ‎@lalbukhari

  • ‏آذادی  تحریر خالد اقبال عطاری

    ‏آذادی تحریر خالد اقبال عطاری

    آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے. کہتے ہیں وطن سے محبت ایمان کی علامت ہوتی ہے. آذادی کی قدر و قیمت جاننی ہو تو مقبوضہ کشمیر میں 2 سال سے لگے کرفیو سے بھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کشمیری قوم کن مشکلات سے گزر رہی ہے. الحمداللہ عزوجل ہم سب ایک آذاد اسلامی ملک پاکستان میں رہتے ہیں. جہاں پر ہم پر کام آزادی سے کرسکتے ہیں. ہمارا پیارا ملک پاکستان 14 اگست 1947 مطابق 27 رمضان المبارک 1366 ہجری کو آزاد ہوا. اس کی آذادی میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہیں جنہیں شہید کر دیا گیا.
    آزادی کی نعمت کی قدر ہمیں پرندوں سے بھی حاصل ہوسکتی ہے. کہ پرندے جب قید ہوتے ہیں تو اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتے صرف مالک کی مرضی چلتی ہے. لیکن پرندے آزاد ہوتے ہی ہر کام اپنی مرضی سے کر تے ہے. اسی طرح ہم بھی اپنے پیارے آذاد ملک پاکستان کی قدر کریں. اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں. ہمارا پیارا وطن پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے. اس کی آزادی میں علماء کرام سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا.
    تو ہمیں بھی اپنے پیارے وطن کی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرنے چاہیے. اسکا ایک طریقہ جیسا کہ آجکل دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے عہد کریں کہ 14 اگست کو ہر پاکستانی ایک پودا لگائے گا اور اسکی دیکھ بھال کرکے اسے درخت بنائیں گے اور یوں ہمارے سوہنے وطن پاکستان کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو گا. اپنے پیارے وطن کو کرپشن سے پاک کریں گے. آج کل نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کے استعمال کو اپنے طور پر روکنے کی کوشش کریں گے اور خود بھی کسی بھی کسی کی منشیات استعمال کرتے ہیں تو آذادی والے دن اسے چھوڑنے کا پکا عہد کریں . اپنی وطن کی سرکاری یا غیر سرکاری کسی بھی طرح کی پراپرٹی کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں .
    اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل سے مالا مال آزاد ملک پاکستان عطا فرمایا. جسمیں سونے سے لیکر نمک تک
    پیٹرول سے لیکر گیس تک،. کوئلے سے لیکر بہترین لکڑی تک ، تقریباً تمام اقسام کے پھل، سبزیاں، خشک میواجات اور بہت ہی بہترین قسم کی زرعی زمین کا حامل آزاد وطن عطا فرمایا.
    الحمدللہ عزوجل ہمارا پیارا پاکستان موسمیاتی لحاظ سے بھی بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے. جس میں چار مختلف موسم ہیں. گرمی سردی، خزاں بہار.
    اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل ہمارے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت فرما اور اسکو دشمنوں کی مزموم سازشوں سے محفوظ فرما.
    ‎@AttariKhalid1

  • میں کنفیوز ہوں! تحریر:      آفاق احمد

    میں کنفیوز ہوں! تحریر: آفاق احمد

    ایک سال پہلے جب عمران خان کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی ہے تو اس میں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ گندم ہے گندم ایکسپورٹ کر دی جائےپھر جب ایک سال بعد کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی ہے بتایا جاتا ہے ہمارے پاس تو گندم تھی ہی نہی اوپر سے ہم نے ایکسپورٹ کردی، اصل میں مسئلہ کابینہ میں کرپٹ ٹولے کا ہیں اب گندم کی قلت اگئی۔جب تک یہ ٹولہ ختم نہی ہوتا تب تک یہ کنفیوژن رہی گی

    اسی طرح ایک سال کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی ہے کہ ہمارے پاس تو ضرورت سے زیادہ چینی موجود ہے کیو نہ چینی ایکسپورٹ کر دی جائے، ایک دفعہ پھر وہی کام ہو جاتا ہے، کہ ہمارے پاس تو چینی پہلے ہی کم تھی اوپر سے چینی ایکسپورٹ کر دی گئی، اب چینی کی قلت۔سیم ایشو!

     ایک دن وزیراعظم کو پتہ چلا کہ چینی، گندم پر تو کابینہ کو غلط، جھوٹے، جعلی اعدادوشمار والی بریفنگز دی ہیں۔ وزیراعظم حیران ہو گیا اور کہنے لگا اب یہ غلط بریفنگز کیوں دی گئی کس نے دیں، ذمہ دار کون، کیا سزاملی، کچھ پتا نہیں ۔ کیونکہ جب اسٹیبلشمنٹ نے خان کو دو تہائی اکثریت سے روکا تھا اور وہ ابھی تک سسک سسک کہ تین سال گزر گئے تو پھر خان نے تو چپ کرنا ہے کیونکہ خان بہت کچھ کرنے والا تھا لیکن جب آپ ایک بندہ دونوں ہاتھوں سے باندھے تو کچھ نہی کر سکتا۔
    آجائیں کپتان نے خود چینی ایکسپورٹ، سبسڈی کی اجازت دی تھی اور تحقیقات کا حکم دے دیا

     گزرے تین سال سے ملک میں انرجی کے حوالے سے کیا کیا نہی ہوا، ایل این جی، بجلی،گیس بل اضافے، انرجی سیکٹر چوری، نجی بجلی گھر ڈاکے،لیکن کپتان نے ڈٹ کر اپنی انرجی پالیسیوں کا دفاع تو کیا لیکن ایک دن کپتان بولے’’مجھے تو تین سال انرجی پر غلط بریفنگ دی تھی۔ اسی روز رات کو ہی اسد عمر کو فارغ کردیا گیا۔

    اب آجائے نوز شریف کا مسئلہ۔
    6گھنٹے کابینہ اجلاس ہوا اور سب نے چیک کرنے کے بعد خودہی نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت دی مگر یہ سب ڈرامہ رچایا اور کہتے تھے کہ اس نے ہمیں غلط رپورٹ دی تھی حالانکہ ان سب کو معلوم تھا۔ تو پاکستان کہ ڈاکٹر یہ بھی نہی جانتے تھے کہ اس میں کیا تھا وہی رپورٹ اج لنڈن کے ڈاکٹر نے فراڈی ثابت کیے کہ اس رپورٹ میں ایک بیماری نہی ہے اب
    کیونکہ کچھ خاص باتوں کی وجہ سے اور ڈیل کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اور گورنمنٹ مل کہ طے ہو جا تا ہے اور ان کو جانے دیا جاتا ہے
    اب باری ادویات کی آجاتی ہے ادویات مہنگی ہوتی ہے پھر بعد میں وہی بندہ سکریٹری بن جاتا ہے
    ان سب چیزوں کا مین وجہ ڈیل ہے جب آپ ایک بندے کو اپنے من کے لئے نہی چھوڑتے تو پھر ملک میں اسی طرح کی کنفیوژن رہی گی
    جب اپ ایک بندہ لے کہ آتے ہے تو پھر ان کو چھوڑ دے
    اسی وجہ سے آج نوے فیصد لوگ یہ بات تسلیم کرتے ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بدنام ہے
    خدا کے واسطے اس بندے کو اپنے من کے لئے چھوڑ دے
    میں کنفیوز ہوں!
     

    ٹویٹر آئی ڈی ‎@afaq6464

  • صحت مند طرز زندگی تحریر: زارا سیٌد

    صحت مند طرز زندگی تحریر: زارا سیٌد


    صرف جسمانی تندرستی ھی صحت مند رہنے کی واحد بنیاد نہیں ہے۔ صحت مند ہونے کا مطلب ذہنی اور جذباتی طور پر فٹ ہونا ہے۔ صحت مند ہونا آپ کے مجموعی طرز زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ صحت مند طرز زندگی گزارنے سے ھر قسم کی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھنا آپ کی خود اعتمادی اور اپنے اچھے امیج کے لیے اہم ہیں۔ آپ کے جسم کے لیے جو صحیح ہے وہ کریں اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھیں ۔

    ایک صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ، آپ کو صحت بخش خوراک کی ضرورت ہے۔ اپنی خوراک میں زیادہ پھل اور سبزیاں دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء شامل کریں اور کاربوہائیڈریٹ ، زیادہ سوڈیم اور غیر صحت بخش چربی کم سے کم کھائیں۔ جنک فوڈ اور مٹھائیوں سے پرہیز کریں ۔ فاقے کرنے سے وزن کم نہیں ھوتا بلکہ اس طرح آپ کی بھوک مزید بڑھ جاۓ گی جب آپ کھانا دوبارہ سے شروع کریں گے ۔

    اچھی غذائیت:

    اچھی غذائیت اکثر کئی بیماریوں سے بچنے کے لیے دفاع کی پہلی لائن ہوتی ہے ، صحت مند زندگی کا سب سے پہلا اصول اچھی خوراک ھے ۔

    پانی:

    اچھی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ پانی پیئں،

    منشیات:

    کوشش کریں ھر قسم کے نشے سے خود کو بچائیں اگر کسی بھی قسم کا نشہ یا سگریٹ کے عادی ھیں تو کسی اچھے ماہر نفسیات کی مدد سے اسے چھوڑا جا سکتا ھے۔

    اچھا رویہ:

    ایک مثبت رویہ آپ کی توانائی کو بڑھاتا ہے ، آپ کو ایک مضبوط انسان بناتا ھے جو دوسروں کو متاثر کر سکتا ہے ، اور آپ میں مشکلات سے نمٹنے کا حوصلہ آتا ھے ۔ سب کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں اور دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کر دیا کریں اس سے دلی سکون حاصل ھوتا ھے۔

    ورزش:

    جسمانی ورزش ، یوگا، ایروبک ، واک، تیراکی آپ کے جسم کو مضبوط بناتی ھے اور فالتو چربی کم کرنے میں مدد کرتی ھے اور ورزش کسی بھی قسم کے ذھنی دباؤ کو کم کرتی ھے یہ ضروری نہیں کہ آپ جم میں جا کر سخت ورزش ھی کریں لیکن آپ کو ہر ممکن حد تک فعال رھنے کی ضرورت ہے۔ آپ آسان ورزش کر کے اپنے آپ کو حرکت میں رکھیں۔ وہی کریں جو آپ کا جسم آپ کو کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بس ضروری یہ ہے کہ آپ ورزش جاری رکھیں۔ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ورزش کریں اور کم از کم تیس سے چالیس منٹ تک ورزش کریں ۔

    مشاغل:

    ایسے کاموں میں خود کو مصروف رکھیں جو آپ کو پسند ھیں روزانہ کے کام اور ذھنی دباو سے خود کو بچانے کے لیے بریک ضرور لیں ۔

    دوست:

    مثبت سوچ کے لوگوں سے دوستی رکھیں۔ تمام مسائل سے بچا نہیں جا سکتا۔ لیکن کوشش کی جا سکتی ہے دوستوں کی حوصلہ افزائی اور تعمیری تنقید سے آپ کو بہتر بننے میں مدد ملے گی ۔ھمیشہ زندگی کے روشن پہلو کو دیکھنے کی عادت ڈالیں۔ بدترین صورتحال میں بھی کچھ اچھا اور مثبت ضرور ھوتا ھے ۔ اس پر غور کریں۔ صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنا اتنا مشکل نہیں ہے جو کچھ آپ کرتے ہیں کرتے رہیں اور اوپر درج صحت مند رہنے کی تجاویز کو خود پہ لاگو کریں-یقینا آپ بغیر کسی دقت کے معاشرے کے اچھے فرد بن سکتے ھیں ۔

    ٹویٹر: ‎@Oye_Sunoo

  • نوکری نہیں کاروبار کریں !!  تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    نوکری نہیں کاروبار کریں !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر


    ہمارے ملک پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد بہت ذیادہ ہے اگر سب نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لئے اور پاکستان کی بہتری کے لئے کچھ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کو فوری کاروبار کی طرف آنا چاہیے
    اس وقت ایسے لاکھوں نوجوان اسی امید پر اپنی جوانی کا وہ عرصہ جس میں وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں کو ایک سرکاری نوکری کے چکر میں بیٹھے بیٹھے ضائع کردیتے ہیں
    اور ہر سال تعلیمی اداروں سے لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر فارغ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری نوکری بھی اب کافی مشکل ہوگئ
    آپ اپنے ارد گرد نظر اٹھاکر دیکھیں جو بندہ سرکاری نوکر ہو اور اگر کسی کرپشن وغیرہ میں ملوث نا ہو تو یقین کریں وہ ساری زندگی اپنا اچھا گھر تک بنا نہیں سکتا اور اسی جگہ پر کسی کاروباری پر نظر دوڑائیں تو وہ اچھی خاصی دولت کے مالک ہوتے ہیں
    دنیا میں جتنے بھی امیر ترین لوگ ہیں وہ یا تو کاروباری شخصیات ہیں یا پھر جن لوگوں نے سرکار میں آکر اپنے ملک کا پیسہ لوٹا ہو
    عزت اور حق حلال کی کمائ والا سرکاری ملازم کبھی دولت جمع نہیں کرسکے گا
    اس لئے خود کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ابھی سے کسی چھوٹے سے کاروبار سے آغاز کریں ،مت سوچیں لوگ کیا کہیں گے ،لوگوں کی باتوں پر توجہ نا دیں اپنا رزق حلال کمانا شروع کریں یقین کریں جب آپ کامیاب بن جائیں گے تو یہی تنقید کرنے والے لوگ آپ کو بہت ذیادہ عزت دیں گے ،کوئ بھی کام شروع کریں ،محنت کریں اللہ پر یقین رکھیں اور یہی سوچ رکھیں کہ آپ نے ایک بہت بڑا بزنس مین بننا ہے ،برگر،بریانی،جوس،سبزی،فروٹ،سموسے،پکوڑے ،چائے،وغیرہ جیسے کئ ایسے چھوٹے کاروبار ہیں جس میں سرمایہ بہت کم ہے لیکن اس میں اچھا خاصہ منافع ہے آپ خود مارکیٹ میں ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں
    گھر پر سارا دن فارغ بیٹھ کر گھر سے روزانہ ۵٠٠ لینے سے اچھا ہے اپنا حق حلال کاروبار کرکے محنت مزدوری سے روزانہ ١٠٠٠/١۵٠٠ اپنے گھر لے کر آئیں جس سے آپ کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور آپ کے اس چھوٹے سے کام کی وجہ سے تھوڑا بہت وطن عزیز کا بھی فائدہ ہونا ہے معاشی لحاظ سے بھی اور حکومت پر نوکریوں کا کوئ بوجھ نہیں پڑنا
    اس لئے تمام دوست کاروبار شروع کریں آج سے کریں ،خواتین بھی گھر بیٹھ کر کاروبار کرسکتی ہیں آج کل تو ہر چیز اونلائن مل رہی ہے تو اپنا کوئ فیس بک پیج ہی بناکر اس پر مختلف چیزیں بیچیں حلال رزق میں اللہ پاک نے برکت رکھی ہے یقین کریں چند ہی سالوں میں آپ اپنا ایک اچھا نام کماسکتیں ہیں اور عزت کے ساتھ پیسہ بھی

  • پاکستان میں چائے کی کاشت کا منصوبہ۔ ناکامی یا کامیابی ؟ تحریر:یاسرشہزاد۔

    پاکستان میں چائے کی کاشت کا منصوبہ۔ ناکامی یا کامیابی ؟ تحریر:یاسرشہزاد۔


    وزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے ٹی گارڈن شنکیاری مانسہرہ کے دورہ میں باتیں تو بہت کیں لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں جتنا وہ سمجھتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات تو یہ ہے چائے کی کاشت کو جب تک پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اسلام آباد کے چنگل سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس وقت تک یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
    کونسل نے یہاں ایک کچھڑی بنا دی ہے۔ یعنی چائے کے ساتھ زیتون کی کاشت اور پھر مختلف پھلوں کے پودوں کی کاشت وغیرہ
    بنیادی طور پر زیتون کی کاشت یعنی تیل دار اجناس یا درخت۔ اس کے لئے ایک ادارہ آئل اینڈ سیڈ کارپوریشن ہوتا ہے۔ یہ اس کا کام ہے۔
    اسی طرح سبزیات اور پھلوں کے لئے بھی ایک ادارہ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل بورڈ ہوتا ہے یہ اس کا کام ہے۔
    چائے کے لئے پاکستان ٹی بورڈ ہے یہ اس کا کام ہے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کو فعال کرکے انھیں اس پر کام کرنے دیا جائے۔
    پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اگر چائے میں اتنا ہی مخلص ہے وہ یہ بتائیں کہ پچاس سال میں انھوں نے کتنے رقبہ پر چائے کے باغات لگائے؟
    میں اس وقت تفصیل میں نہیں جانا چاہتا اس کے لئے الگ سے ایک آرٹیکل لکھوں گا یا اپنے صحافی بھائیوں کو بلا کر انھیں اصل حقائق سے آگاہ کروں گا۔
    اہم بات یہ ہے کہ معاون خصوصی اپنے دورہ میں اسلام آباد سے صحافیوں کی ٹیم لے کر آئے جو چائے کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے۔ جبکہ مقامی صحافیوں کو نظرانداز کیا گیا۔ شاید معاون خصوصی ڈرتے تھے کہ ان سے اصل سوالات نہ پوچھ لئے جائیں۔
    اگر معاون خصوصی ملک کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ دوبارہ یہاں کا دورہ کریں اور مقامی صحافیوں کا سامنا کریں یا کسی چینل پر ہمارے ساتھ لائیو آجائیں ۔
    معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل میں اس وقت چائے کا کوئی ایسا ماہر نہیں جو اس چائے کے بارے عملی طور پر معلومات رکھتا ہو۔ یہ بھی عرض کروں کہ معاون صاحب ان لوگوں سے میٹنگ کریں جو اسے سمجھتے ہوں اور وہ لوگ مقامی طور پر موجود ہیں جو 1980 کے بعد سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ جن میں صحافیوں کا کردار کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
    بحیثیت مجموعی میں سمجھتا ہوں کہ معاون خصوصی کا یہ دورہ صرف ایک نمائشی دورہ ہوگا۔

    https://t.co/qquHD0JKfP‎

  • لمحہ فکریہ  تحریر۔۔ محمد نوید

    لمحہ فکریہ تحریر۔۔ محمد نوید


    ہمارے میانوالی شہرکی تہذیب و ثقافت اور لوگ پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ میانوالی کی ثقافت میں جہاں سادگی کے رنگ نمایاں ہیں وہاں حیا کو بھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔یہاں کی خواتین ہمیشہ با پردہ ہو کر باہر نکلتی ہیں اور پردے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔اگر خواتین کسی گلی یا چوراہے سے گزریں تو مرد حضرات رستہ خالی کر کے ایک طرف ہو جاتے ہیں۔یہاں کے لوگ عورتوں کو اپنی ماوں بہنوں جیسی عزت دیتے ہیں۔لیکن گزشتہ چند سالوں سے موسیقی کے نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی نے میانوالی کی تہذیب کوبہت نقصان پہنچایا ہےاور یہ فحاشی و عریانی بڑی تیزی سے سرایت کر رہی ہے۔گلوکاروں نے ماڈلنگ کے نام پر بے حیائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔گزشتہ روز ایک گلوکار کی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جو نہایت ہی بے ہودہ تھی وہ خود تو بڑی عمر کے تھے لیکن ایک دوشیزہ کے ساتھ نہایت ہی غیر اخاقی انداز میں رنگ رلیاں منا رہے تھے۔جس عمر میں انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اس عمر میں خود بھی بدکاری کر رہے ہیں اور پھر اس کی ترویج بھی کر رہے ہیں۔اب انسان ان سے سوال کرے کہ حضرت آپ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کے ساتھ اس طرح کی ویڈیوز بنوا کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔خیر سستی شہرت کے نشے میں دھت یہ لوگ اچھائی برائی کا تصور بھی نہیں کرتے۔ قابلِ فکر بات یہ ہے کہ کسی شخصیت نے اس سیلابِ فحاشی کے آگے بندھ باندھنے کی ادنیٰ سی بھی کوشش نہیں کی۔اس معاملے میں اسلام کے احکامات بھی واضح اور روشن ہیں.
    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
    "جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحاشی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک عزاب کے مستحق ہیں ”
    سورة النور : 19
    حدیث شریف میں آتا ہے کہ
    "حیاء اور ایمان دونوں ایک ساتھ ہیں اگر ان میں ایک بھی اٹھا لیا حائے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے” ( الحاکم )

    ضرورت اب اس امر کی ہے کہ ان گلوکاروں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے خلاف یک جا ہو کر مہم چلائی جائے اور ان کے غلط افعال کی حوصلہ شکنی کی جائےورنہ بتدریج بے حیائی کی راہ ہموار ہوتی جائے گی اور اسکے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔
    اگر آپ میری تحریر سے متفق ہیں تو اس پیغام کو آگے پھیلائیں۔ شکریہ

    ‎@naveedofficial_