Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان کا29 سال کا انتظار مزيد طويل تحریر:سلطان محمود خان

    پاکستان کا29 سال کا انتظار مزيد طويل تحریر:سلطان محمود خان

    پاکستاني ايتھليٹ ارشد نديم ميڈل تو نہ جيت سکے مگر پوري قوم کے دل جيت لئے۔ جيولن تھرو کے فائنل ميں ارشد نديم نے پانچويں پوزيشن حاصل کي۔ جس کے بعد مياں چنوں کا سپوت فخر پاکستان بن گيا ۔ مستري کے بيٹے ارشد نديم کے پاس اسپورٹس کي بہترين سہوليات تو نہ تھيں ليکن اس کا جذبہ آسمان سے بلند تھا ۔۔ اس نے مسلسل محنت اورلگن سے قوم کو اميد دلائي اور کروڑوں لوگوں کے دل جيت لئے۔ پاکستان میں جیولن تھرو نامی کھیل کو کوئی نہیں جانتا تھا ليکن اس کھیل کی پہنچان "ارشد ندیم” بنے اور اب نئے نوجوان کھلاڑي ارشد نديم کي وجہ سے جيولن تھرو ميں آئيں گے۔

    ٹوکيو اولمپکس تک ارشد نديم کے سفر کي بات کريں تو اس کے پاس نہ جديد سہوليات تھي نہ ٹريننگ کيلئے غير ملکي کوچ، اس کے باوجود ارشد نديم نے وہ کردکھايا جو شايد کسي نے سوچا بھي نہ تھا۔ ارشد نديم نے دل ضرور جيتے مگر وہ 29 سال بعد پاکستان کو اولمپکس ميں ميڈل نہ جتواسکے۔ اب سوال يہ ہے کہ کيا ہم کسي بھي مقابلے ميں دل جيتنے جاتے ہيں؟؟ ٹھيک ہے کہ ہمارے پاس سہولتيں نہيں، جديد ٹريننگ کا سامان نہيں، غير ملکي کوچز نہيں ليکن جذبہ تو ہے کيا جيت کيلئے صرف جذبہ کافي نہيں ہوتا ؟ تو اس کا جواب ہے نہيں۔ سوال يہ ہے کہ پاکستان کيوں 29 سال سے اولمپکس ميں کانسي کا تمغہ بھي نہيں جيت سکا؟ اور بھارت کے نيرج چوپڑا نے گولڈ ميڈل کيسے جيت ليا؟؟ تو اس کا جواب ہے سہولتيں، آسائشيں، ٹريننگ کيلئے جديد سازو سامان، جيولن تھرو ميں بھارتي ٹيم کے کوچ تھے ورلڈ ريکارڈ ہولڈر جرمن ليجنڈ "او ہون” مگر نيرج چوپڑا نے صرف جرمن کوچ پر انحصار نہ کيا۔ جنوبي افريقہ ميں بائيو ميکينکس ايکسپرٹ کے ساتھ ٹريننگ کي۔ جب کہ پاکستان کے ارشد نديم کو غير ملکي کوچ کا ساتھ نہ مل سکا۔ ٹوکيو اولمپکس سے قبل بھارتي ايتھليٹ ٹريننگ کے لئے يورپ گئے جہاں انھيں جديد سہولتيں ملي مگر پاکستاني ايتھليٹ ان سب سے محروم رہے۔ ويٹ لفٹنگ مقابلے ميں پانچويں پوزيشن لينے والے طلحہ طالب بھي جديد سہوليات اور بہترين کوچز سے محروم رہے تھے۔

    پاکستان کے 10 ايتھليٹس نے ٹوکيو اولمپکس ميں حصہ ليا اور تمام کے تمام ناکام ہوئے۔ جيولن تھرو ميں ارشد نديم اور ويٹ لفٹنگ ميں طلحہ طالب نے بہترين پرفارمنس دکھائي مگر وہ بھي پاکستان کا ميڈل جيتنے کا انتظار ختم نہ کرواسکے۔ پاکستان نے آخري بار 1992 کے بارسلونا اولمپکس ميں ہاکي ايونٹ ميں کانسي کا تمغہ جيتا تھا اب 29 سال گذر جانے کے بعد بھي پاکستان ميڈل سے محروم ہے۔ کھليوں کے عالمي مقابلوں ميں کاميابي کے ليے جہاں کھلاڑيوں کو وسائل فراہم کرنے ہوں گے وہيں جديد ترين سہوليات سے آراستہ ہائي پرفارمنس سينٹرز وقت کي ضرورت ہيں

  • بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    ‏”
    بے روزگاری کو عام طور پر اس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد ایک مخصوص عمر سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے اور ملازمت نہیں رکھتے۔
    بے روز گاری ایک عالمی مسٸلہ ہے۔ایشیاٸی ممالک میں بے روزگاری زیادہ ہے۔جس میں پاکستان بھی شامل ہے ۔بے روزگاری ایک سماجی براٸی تصورکی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں۔یہ معاشی زہر ساری سوساٸٹی میں پھیل جاتا ہے۔ اور ملک کی سیاسی صورتحال بھی متاثرہوتی ہے۔
    بیروزگاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو بھی مجرم بنا دیتی ہے ۔اس سے بد عنوانی پھیلتی ہے جھوٹ بڑھتا ہے۔اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آ جاتا ہے ۔بیروزگار آدمی سے سچاٸی، شرافت ، اور امانت داری کی توقع کرنا ناممکن ہے۔
    غربت اور بیروزگاری ریاست کی سب سے بڑی کمزوری اور نااہلی مانی جاتی ہے۔بیروزگاری سے بے اطمینانی اور بے چینی پھیلتی ہے۔بےاطمینانی سےسیاسی بے چینی اور حکومت کی اطاعت سے انحراف کے جذبات ابھرتے ہیں۔سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے۔اور پھر بغاوت انقلاب کی صورت نمودار ہوتی ہے۔
    حکومت کیلیے لازم ہے کہ بیروزگاری کے لیے مٶثر اقدامات کرے۔تاکہ لوگ اپنےکاموں میں مصروف رہیں اور معاشرے میں بے چینی نہ پھیلے۔
    ”برطانوی فلاسفر سر ڈبلیو بیورٸج کا تجزیہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بیروز گار افراد کو زمین پر گڑھےکھودنے پرلگاۓ رکھے اور پھر انھیں پُر کرانے پر مامور رکھے ۔یہ زیادہ مٶثر قدم ہے نہ کہ بیروزگاری کے مہلک اثرات حکومت پر حاوی ہوں۔
    سرکاری محکموں اور پراٸیویٹ اداروں نے اخبارات کے ذریعے آسامیاں پُر کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مختلف آسامیوں کے لیے امید وار بلاۓ جاتے ہیں۔سرکاری ملازمتوں کیلیے پہلے ہی گٹھ جوڑ کر لیا جاتا ہے۔آسامیوں کی تشہیر ایک عام دفتری کارواٸی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پراٸیویٹ ادارے مجبوراً امیدواروں کو کم تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں۔ جہاں سے انہیں کسی وقت بھی ملازمت سے ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ ادارے لیبر قوانین کی پرواہ تک نہیں کرتے۔طویل دورانٸے کے اوقات میں کام لیتے ہیں۔
    اب سرکاری دفتروں میں آسامیاں پُر کرنے کے لیے ”سفارشی“ اور ”رشوتی“ افراد ہی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ بیروزگاری کا مسٸلہ بڑی سنجیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔تعلیم یافتہ ،غیر تعلیم یافتہ،ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد سب متاثر ہیں۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں میٹرک،انٹرمیڈیٹ، اور گریجویٹ افراد ملازمتوں سے محروم ہیں۔دفاتر کے چکر لگاتے ہیں لیکن ملازمت کیلیے کوٸی آسامی دستیاب نہیں ہوتی۔
    دوسرا مرحلہ صنعتی بیروزگاری کا بھی ہے ۔انڈسٹری پر بھاری ٹیکس لگانے سے اب صنعت کاروں نے جدید مشینیں لگا لی ہیں جہاں بہت کم تعداد میں ملازم رکھ کر زیادہ مقدار میں پروڈکشن حاصل کی جاتی ہے ۔آۓ دن ہڑتالوں اور فیکٹریوں کی تالا بندی سے تجارت اور کامرس پر بھی برے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔ ہڑتالوں کیوجہ سیاسی اور لسانی فسادات ہیں ۔سیاسی لیڈر اپنی دکانیں چمکانے کیلیے ناممکن مطالبات کرتے ہیں۔جس سے ملک میں لوٹ مار کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ان حالات میں صنعت بہت متاثر ہوٸی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں ۔ملک مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
    ساری دنیا آج کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں ملازمت پیشہ اور خاص کر مزدور طبقہ بہت متاثر ہوا ہے ۔ملک مزید لاک ڈاٶن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
    نوجوان نسل ڈگریاں لیکر بیکار رہنے کی وجہ سے ذہنی خلفشار کا شکار ہے ۔جس سے معاشرہ بہت سے مساٸل کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
    بے روزگاری ایک ایسا عفریت ہے جس سے دور جدید کی تمام قومیں پناہ مانگتی ہیں۔ امریکہ کے عوام کی نظر میں آج بھی سب سے خطرناک معاشی بحران بیروزگاری ہی ہے۔
    جب تک دنیا کی حکومتوں نے ملکی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا تب تک بیروزگاری کسی حد تک انفرادی مسٸلہ تھی ۔مگر موجودہ صورت حال میں جب ملک کے تمام وساٸل حکومت کے ماتحت ہیں بیروزگاری اور افراطِ زر دونوں ہی حکومت کی پالیسیوں کے تحت بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔گو انفرادی طور پر کسی شخص کے روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت اسکی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے مگر روزگار کے مواقع معیشت کے پھلنے پھولنے سے ہی پیدا ہوتےہیں۔ جس کا زیادہ تر انحصار حکومت کی صحیح پالیسیوں پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مناسب تربیت اور تعلیم کے باوجود ہمارے ہاں بیشمار افراد کو روزگار نہیں مل پاتا۔
    کہنے کوتو پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے پر ہم آخر اسکو کس نظر سے فلاحی ریاست کہتے ہیں اور کس بنیاد پر اسکو فلاحی ریاست ہونے کا درجہ دے رہے ہیں۔اسلام کے نام پر اس ملک کو بنایا گیا لیکن آج یہ حالات ہو گٸے ہیں ہر طاقتور اپنے سے کمزور کے حقوق سلب کر رہا ہے اور فراٸض کی پاسداری نہ کرتے ہوۓ ملک کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے۔آخر اس سب کیوجہ کیا ہے ؟
    ہم لوگ نفسیات کے کس درجے پر آ گٸے ہیں۔اگر ان سب مساٸل کا جاٸزہ لیا جاۓ تو وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے بیروزگاری۔
    آج جسطرف بھی نظر ڈالی جاۓ ہر تیسرا پڑھا لکھا شخص روزگار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ اس دوران بہت بار اسکا واسطہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی چیزوں سے پڑتا ہے۔ہر ایک اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے اور اگر کوٸی کچلا جاۓ تو کسی کے پاس دوسرے کو اٹھانے کی فرصت نہیں ہے۔اورحالات کو بہتر کرنے کیلیے حکومتی سطح پر بھی کوٸی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔روزگار نہ ملنے پر سب سے زیادہ نقصان ان نوجوانوں کا ہوتا ہے جنہوں نے اعلیٰ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے اور اپنی تعلیم پر انھوں نے لاکھوں روپے صَرف کیے ہوتے ہیں اور جب اتنی تعلیم حاصل کرنے اور میرٹ پر آنے کے باوجود بھی وہ ملازمت نہیں حاصل کر پاتے تو وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    حکومت کو نجی تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے سیاستدان جلسوں میں تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں روزگار دینے کے۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔اگر وہ غریب لوگوں پر تھوڑی سی توجہ دیں اور انکو بھی روزگار فراہم کیا جاۓ تو یہ لوگ برے اور غیر قانونی کاموں میں پڑنے کی بجاۓ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرینگے۔
    ہماری نوجوان نسل بیروزگاری کیوجہ سے تباہ ہو رہی ہے انکی صلاحیتوں کو ایسے حالات میں زنگ لگنا لازم ہے جب ان کے پاس اپنی صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے مواقع نہیں ہیں۔

    @Ra_jo5

  • شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت،دوسری،تیسری قسط  تحریر: محمد صابر مسعود

    شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت،دوسری،تیسری قسط تحریر: محمد صابر مسعود

    اسکی وجہ شیخ کی وہ ایمانی فراست بھی تھی جس کی بدولت انہیں حاضرین کی حقیقت کا فوراً اندازہ ہوجاتا تھا کہ کون تقویٰ کا خوگر ہے اور کس نے اپنے دل میں ظلمت کو جگہ دی ہے، دنیوی معاملات سے یکسر علیحدہ، علم و معرفت کے بادہ کش اور مولیٰ کی خلوت نشینی کرنے والے عموماً شعور و بصیرت کا وہ مقام حاصل کرلیتے ہیں جس پر فائز ہوکر باطنی کیفیات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا اور قلب و جگر کے احوال خود عیاں ہوکر سامنے آجاتے ہیں، متقدمین و متاخرین علماء میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔
    شیخ کی کتاب حیات کا سب سے روشن ورق انکا علمی انہماک ہے وہ محدثین کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو ساری کشتیاں جلا کر علمی میدان ہی کے مسافر بن جاتے ہیں اور اسے دنیا کی رنگینیوں سے کوئ سروکار نہیں ہوتا، انہوں نے جب حدیث رسول کو اپنا موضوع بنایا تو سستانے کا نام نہیں لیا، وادی کے ہر ٹیلے کو سر کیا، ہر پتھر کو الٹ کر دیکھا اور کارواں کی تلاش میں عرصۂ دراز تک صحرا نوردی کرتے رہے، انکا مطالعہ ذوق سے بڑھ کر فطرت و مزاج بن گیا تھا جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہتی اسی طرح انہیں بھی کتب کی ورق گردانہ کے بغیر چین نا آتا تھا، وہ زندگی کے شب و روز مطالعہ میں گذارتے تھے اگر کہیں سفر پر ہوتے تو سب سے پہلے نایاب کتب، نادر مخطوطات اور قدیم تصنیفات کو تلاش کرتے، وہ معرفت کی شراب پی کر گویا دنیا کو تو بھول ہی گئے تھے اسلئے پوری زندگی مجرد رہے اور ابن جریر طبری، ابو اسحاق شیرازی، امام نووی، حافظ ابن تیمیہ، عزالدین ابن جماعہ، شیخ طاہر الجزائری اور مولانا ابوالوفاء افغانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے علم دین کی خدمت کو شادی پر ترجیح دی، باری تعالیٰ کسی کی قربانی کو ضائع نہیں کرتا، اس لئے انہیں حدیث کی بزم میں ایسا بلند مقام عطا فرمایا کہ بڑے بڑے علماء کو جب کوئی اشکال پیش آتا تو وہ سب بلا تکلف ان سے رجوع کرتے تھے، استفادہ کرنے والے ان علماء میں ہمیں شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، محدث کبیر حضرت مولانا عبدالجبار اعظمی رحمۃ اللہ علیہ، محی السنۃ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئ جیسے بلند و بالا نام ملتے ہیں ۔
    علمی رسوخ کی اصل آزمائش درس و تدریس کے منصب پر ہوتی ہے، یہ در اصل صلاحیت کو پرکھنے کی وہ عظیم کسوٹی ہے جو لائق کی لیاقت کو اجاگر کرکے اور نا اہل کے بودے پن کو فوراً آشکارا کردیتی ہے، اس بزم میں محنت سے جی چرانے والے کبھی نہیں ٹک پاتے اور نکمے پژمردگی کا شکار ہوکر اپنا وقار کھو بیٹھتے ہیں، یہاں تو اسی دیوانے کا سکہ چلتا ہے جو ذہین و باتوفیق ہونے کے ساتھ اولوالعزم ہو، وہ شاہینوں کی طرح پرواز کرکے ثریا کر کمندیں ڈالے اور ستاروں کی گزر گاہوں سے آگے بڑھ کر آسمان سے تارے توڑ لانے کا عزم رکھتا ہو، ایسا معلم جب مسند درس پر جلوہ افروز ہوتا ہے تو اسکے مطالعے کی وسعت، مضامین کے ورود، لہجے کے بانکپن اور فاتحانہ اسلوب کی بدولت علمی حلقوں میں تہلکہ مچ جاتا ہے، طالبان علوم نبوت حیران و ششدر ہوتے ہیں، معاصرین کو اچنبھا ہوتا ہے اور یہ معلم بالآخر زمانے پر چھا جاتا ہے، شیخ مرحوم بلاشبہ ایسے ہی معلم تھے، انہوں نے جب مظاہر علوم سہارنپور کی مسند حدیث کو رونق بخشی تو ہر سمت معرفت کا سماں بندھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور بحث و تحقیق کے ایسے یاقوت و مرجان لٹائے کہ بخارا و سمرقند کی یادیں تازہ کردیں، ان کا درس فقہ الحدیث تک محدود نہیں نہ تھا بلکہ وہ ان اسلاف و متقدمین کے مسلک پر تھے جو منشاء نبوت کو سمجھانے کے لئے روایت و درایت کے ہر پہلو کی تشریح کرتے ہیں اور کہیں بیجا تعصب کا شکار نہیں ہوتے وہ تاویل بارد کے خلاف تھے لیکن مطلق آزادی کے بھی ہم نوا نہ تھے جو امت کو ائمہ اربعہ کی تقلید سے نکال کر اباحیت کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی، شیخ کی یہ ضوفشانیاں آب و تاب کے ساتھ تقریباً پچاس سال تک ایمان و یقین کی سوغات تقسیم کرتی رہیں اور اس طویل عرصے میں ہندو پاک کے علاؤہ لندن و افریقہ اور عرب ملکوں کے بے شمار پروانوں نے آکر انکی شمع معرفت سے اپنے دامن کو روشن کیا ۔۔
    علمی شخصیات عموماً زہدو قناعت کی خوگر ہوتی ہیں ان کا سرمایئہ حیات بحث و تحقیق کی وہ وادی ہے سبزہ زاروں میں کھو کر وہ دنیا کو بھول جاتے ہیں اور اسکی رنگینیوں کو کبھی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھتے، شیخ مرحوم کی زندگی شہادت دیتی ہے کہ انہیں نبوی وراثت کا یہ مقام بھی حاصل تھا۔ وہ بچپن میں مفلوک الحال تھے، افلاس میں ہی پلے بڑھے اور تدریس کے ابتدائی زمانے میں کافی عسرت رہی لیکن کیا مجال کبھی بھی فقیری سے ذرا بھی گھبراہٹ ہوئ ہو اور وسعت و کشادگی کی بابت انہوں نے کبھی بھی سوچا ہو، دنیا دوسروں کے لئے وسیع ہو سکتی ہے لیکن مرحوم کا تعلق تو بس اس سے اتنا ہی تھا کہ زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لئے بقدرِ ضرورت ہی سامان سفر ہو اس لئے انکی زندگی بس درسگاہ سے قیام گاہ تک محدود تھی، باقی عالم رنگ و بو کی رعنائیاں کیا ہوتی ہیں انہیں اس سے کوئ سروکار نہ تھا، افریقہ و لندن میں انکے معتقدین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جسے اللہ نے مالی وسعت کے ساتھ مشائخ کی خدمت کو حوصلہ بھی عطا کیا ان مخلصیوں نے کیا کیا نہ چاہا اور کون کونسی سبیلیں نہ نکالیں لیکن مرحوم نے انہیں دنیوی پھیلاؤ کی اجازت نہ دی، اگر انکے دل میں مادیت کا کوئ معمولی ذرہ ہوتا تو محبین کی ان عنایتوں کو وہ بھی آسانی سے فتوحات کا نام دے کر اپنا شیش محل تعمیر کر سکتے تھے لیکن نہیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ عزیمت کا نہیں خطرات کا راستہ ہے اور اس پر چل کر تقویٰ کا دامن بالآخر داغدار ہو ہی جاتا ہے، اس لئے شیخ کی زندگی تو بس اسی کمرے تک محدود رہی جو رہائش گاہ کم کتب خانہ زیادہ تھا، شاعر نے تو طبع آزمائی ہی کی ہوگی لیکن یہاں تو دیوانہ زبانِ حال سے کہ گیا۔

    ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا
    مریں گے ہم کتابوں پر، ورق ہوگا کفن اپنا۔۔

    دنیا کی رنگینیوں سے توجہ ہٹا کر ملاءِ اعلی سے وابستگی میں زہدو قناعت کا بہت کردار ہوتا ہے تاریخ میں جن عبقری علماء نے مثالی خدمات انجام دیں وہ اپنے درویشانہ مزاج کی بدولت ہی ذوق انابت تک پہنچے اور ان کا دل اس وقت تک ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا جب تک آنکھیں اشکوں سے غسل نہ کرلیتیں وہ اپنے تمام تر اوصاف و کمالات کے باوجود خود کو حقیر و عاصی سمجھتے تھے اور انہیں نجات و مغفرت کی امید اپنے اعمال و اشغال کی بناء پر نہیں بلکہ الله کے فضل وکرم کی بنیاد پر تھی شیخ مرحوم کی زندگی کا مطالعہ کر نے والے شہادت دیتے ہیں کہ انہیں عبادت کا یہ ذوق مکمل طور پر حاصل تھا پورا دن درس و مطالعہ میں گزار کر جب وہ بستر پردراز ہوتے تو خلوت نشینی کا ذائقہ انہیں بہت جلد بستر چھوڑنے پر مجبور کر دیتا تھا پھر وہ ہوئے اور ان کا مولا…ان کا بیشتر حصہ آه و بکاء میں گزر جاتا اور اس راز و نیاز کی کسی کو خبر تک نہ ہوتی وہ اس باب میں بھی واقعتا اسلاف ومتقدمین کی مثال تھے۔
    @sabirmasood_

  • بند دروازہ  تحریر فرزانہ شریف

    بند دروازہ تحریر فرزانہ شریف

    پڑھنے والی آنکھ مسکرا دے کہ
    اللہ تمہاری کوشش دیکھ رہا ہے۔
    وہ تم سے اور تمہاری کوشش سے محبت کرتا ہے۔
    وہ جلد تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے اور جو آج کا دکھ ہے وہ کل تک لگے گا
    کہ کبھی تھا ہی نہیں۔
    ان شاء اللّٰہ الرحمٰن_
    آپ نےکبھی نوٹس کیا ہے…
    بہت سے ایسے چھوٹے موٹے معمولی سے گناہ ہوتے ہیں…
    جنہیں آپ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھتے ہیں لیکن آپ چاہ کر بھی نہیں کرپاتے… کوئی نا کوئی چیز راستے میں آڑے آجاتی ہے…
    جیسے قدرت ہی نہ چاہتی ہو کہ آپ وہ کام کریں….
    یا یوں ہوتا ہے, وہ غلط کام ہی کسی طرح آپ سے دور ہو جاتا ہے..
    یہ بھی اللّہ کا بہت بڑا احسان ہے اس کے بندوں پر…
    کیونکہ بہت سی برائیاں جنہیں ہم برائی بھی نہیں سمجھتے, روزِ حشر دکھائی جائنگی تو ہم نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے کے قابل بھی نہیں ہونگے…ہم تو اللہ سبحان تعالی کا یہ احسان ہی نہیں اتار سکتے کہ ہم ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئے اس کے عطا کئے خوبصورت گفٹس کا ہردم شکر بجا لائیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھیں کہ اللہ شائد اپنے حقوق معاف کردے لیکن اپنے بندوں کے حقوق معاف نہیں کرے گا کینہ پروری منافقت سے بچیں ۔فیملی میں یا دوستوں میں لڑائی جھگڑے میں صلح کروانے والے بنیں نہ کہ تیل اور تیلی لگانے کا کا م سرانجام دینے کی خود پر ڈیوٹی لگا لیں

    جب آپ اپنی فیملی میں یا کہیں اور جہاں دیکھیں ایک بندہ غصے میں ہے،اور کچھ کر گزرنے کی حالت میں ہے جبکہ غلطی بھی مکمل اسی کی ہے،اور سب اسی بندے کا قصور نکال رہے ہیں تو آپ سب کے مخالف ہوکر اس بندے کا ساتھ دیں ،میں نے بہت بڑی لڑائیاں،بہت بڑے حادثے کا باعث بن جانے والی لڑائیاں ایسی تدبیروں سے رکتی دیکھی ہیں۔
    جب ایک بندہ غصے میں ہو تو وہ مکمل شیطان کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔
    اسے اس وقت آپ اس کو جو کچھ بھی سمجھائیں گے وہ اس کا الٹ ہی اثر لے گا۔
    لہذا کوشش کریں،جب لڑائی ہو،فساد ہو،حشر برپا کردینے والی قیامت خیز بحث ہو اور یہ بحث خون کے رشتوں میں ہو تو آپ نے اس وقت حق کا نہیں،انصاف کا نہیں،اس انسان کا ساتھ دینا ہے،جو مکمل شیطان کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔
    یقین کیجیے یہ ساتھ دینا اس شخص کو آپ کا ہمیشہ مرید بنا دے گا۔
    آپ کے بہن بھائی اتنے برے نہیں ہیں جتنا برا شیطان ان پر حاوی ہوکر ان کو آپ کے لیے برا بنا دیتا ہے۔
    اس بات کو سمجھیں خود کو اور خود کے بہن بھائیوں کو اپنے پیاروں کو بچائیں۔اگر کسی پر برا وقت چل رہا ہے ماضی میں اس کا رویہ بےشک آپ کے ساتھ جیسا بھی رہا ہو اللہ کی رضا کے لیے اس کا ساتھ دینا اس کا حوصلہ بڑھانا اس کی آدھی مشکل ختم ہوجائے گی اور ایسا میں تجربہ کرچکی ہوں کہ وہ بندہ پھر جب تک ذندگی ہے اپ کا مرید بن جائے گا اور اللہ کی خوشنودی بھی آپ کو حاصل ہوجائے گی مشکل ہر انسان پر آسکتی ہے اللہ سے ہروقت مشکل وقت آنے سے معافی مانگتے رہنا چاہئیے جس بندے کا ذکر کررہی ہوں ان کے گھر کبھی جانا ہوتا تھا وہ بندہ اپنے گھر کا دروازہ بھی نہیں کھولتا تھا اکثر مایوس ہوکر واپس آیا کرتی تھی ہر دم دوسرے لوگوں کا ساتھ دیتا تھا اور ہمیں اس قابل ہی نہیں سمجھتا تھا کہ ہم سے کوئی سیدھے منہ بات بھی کرے اور جب مشکل وقت آیا تو سب سے پہلے ہمیں آواز دی اور ہم نے بنا سوچنے سمجھے ہر ممکن ساتھ دینے کا وعدہ کیا اپنے گھر تحفظ دینے کا وعدہ کیا بات کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ دنیا چند دن کی چاندنی ہے دل میں بغض نفرت رکھ کر ہم اللہ اور اس کے محبوب کو تو ناراض کرتے ہی ہیں اپنے دل کا سکون بھی ختم کردیتے ہیں جتنا ہوسکے جتنا آپ کے بس میں ہے اتنا کریں خیر بانٹیں ۔تاکہ جب اللہ الرحمن کے پاس جائیں آپ ندامت سے نظریں نہ جھکائیں بلکہ اللہ کی نظر میں خود کو سرخرو پائیں کہ اللہ اپ کے اچھے عمل کی جزا آپ کی سوچ سے بڑھ کر عطا فرمائے گا کبھی اپنے مال و دولت پر غرور نہ کریں میں نے اکثر کھکھ پتی کو لکھ پتی ہوتے دیکھا ہے لاکھ پتی کو کنگال ہوتے دیکھا ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کریں اللہ عاجز بندے سے بہت محبت کرتا ہے اور اسے اپنے غیب کے خزانوں سے نوازتا ہے بدیر یا جلدی ۔لیکن کبھی اس کی رحمت سے مایوس نہ ہونا جو پتھر میں کیڑے کو خوراک پہنچا سکتا ہے اس پاک ہستی پر یقین رکھیں آپ کے حصے کا رزق سکھ چین آپکو ضرور ملے گا بس آپ ثابت قدم اور اپنے پروردیگار پر مکمل بھروسہ رکھیں ۔بےشک اللہ بےانصافی نہیں کرتا اس کا ہر دم شکر ادا کرنا اپنی ذندگی کا نصب العین بنالیں کہ میں نے شکر کرنے والوں کو بہت بڑے مرتبے میں فائز ہوتے دیکھا ہے ہمیشہ اپنے پیاروں کا خیال رکھیں جن کے لیے آپ بہت اہم ہیں جن کو آپ کے دنیا سے جانے کا سب سے ذیادہ صدمہ ہوگا ان کو اپنی ذندگی میں ہی اتنا پیار دیں کہ وہ پھر آپکو یاد تو کریں لیکن ان کے دل اپ کی محبت سے لبریز رہیں اچھی یادیں چھوڑ کر جائیں اپنے پیاروں کے پاس کہ ان کے جینے کے لیے کچھ تو ان کے پاس ہو کہ وہ آپ کی جدائی پر صبر کرسکیں ۔۔
    میں ذیادہ لمبا آرٹیکل اس لیے بھی نہیں لکھتی میرے ماموں جی میرا آرٹیکل پڑھتے ہیں بہت محبت سے تو باریک لفظ پڑھتے انھیں کافی تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن میرے لکھے ورڈز وہ بہت محبت سے پڑھتے ہیں یہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات ہے ۔۔میرے آرٹیکل لکھنے سے جس طرح میرے بہین بھائیوں نے خوشی کا اظہار کیا وہیں میری کزنز کی خوشی واقعی میرے لیے خوشگوار سرپرائز تھی اللہ میرے پیاروں کو اور آپ سب کو دنیا و آخرت میں عزت عطا فرمائے اور اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے۔۔عشق مصطفیﷺ
    کی جیسی لو آپ کے دل میں پہلے سے بھی ذیادہ کردے ہردم خوش آباد رکھے آمین۔۔
    https://twitter.com/Farzana_Blogger?s=09

  • والدین کا مقام اور اولاد پر انکاحق تحریر؛سید ماجد حسین شاہ

    والدین کا مقام اور اولاد پر انکاحق تحریر؛سید ماجد حسین شاہ

    ہم اپنی زندگی میں والدین کے کردار اور قدرو مقام جو اللہ نے انہیں عطافرمایا ہےسےکبھی انکار نہیں کر سکتے۔
    والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کےلئے
    ’’احسان‘‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔
    والدین کے بغیر زندگی گزارنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے والدین ہمارے لیے سہارا اور سایہ ہیں۔ وہ ہماری زندگیوں میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں اور ہمیں خوش رکھنے کے لیے ہر قربانی دیتے ہیں۔ والدین ہمارے حقیقی سرپرست ہیں۔ اس دنیا میں ہماری کامیابی اور خوشی کی اصل وجوہات ہیں۔
    ہم اپنے والدین سے محبت کرتے ہیں. وہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ھمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میرا ہیرو میری ماں ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھتی ہے۔ وہ صبح سے شام تک ہمارے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ گھر کی بہترین مینیجر ہیں ۔ وہ گھر کی ہر چیز کا خیال رکھتی ہیں ۔
    میں اپنے والدین اور خاص طور پر اپنی ماں کا بہت شکر گزار ہوں جو گرمی سردی میں ہمارے لئے خوشی خوشی اچھے اچھے اور لذیز کھانے بنانے کے علاوہ ہمارا گھر کی صفائی ستھرائی کا بھی مکمل خیال رکھتی ہیں
    ہم تمام خاندان کے افراد ہفتہ وار ڈنر گھر سے باہرکرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران ہم خاندان کے تمام افراد کنٹری سائیڈ ٹرپ پر جاتے ہیں۔ ہم سب وہاں بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میرے والد ہر وقت ہمارے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے کام میں مصروف ہی ہوں پھر بھی وہ ہمیشہ ہمارے بارے میں ہر چیز کو یاد رکھتےہیں۔
    والدین کی اپنے بچوں کے لیے محبت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر والدین کا تعاون نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔ ہم مسکراتے ہنستے اور کامیاب نہ ہوتے۔ لہذا ، ہمیں ان سب وجوہات کی بنا پر اپنے والدین کی اپنے دل وجان سےقدر کرنی چاہیے
    والدین اپنے بچوں سے بناکسی لالچ کے پیار کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم غلطیاں بھی کرتے ہیں اور کئی دفعہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر پا سکتے یہ ہی غیر مشروط محبت ہے۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: لوگوں میں سے کون میرے ہاتھ سے اچھے اخلاق اور خدمت کا مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    تمہاری ماں۔ اس نے پھر کہا پھر (اگلا کون ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے : پھر فرمایا تمہاری ماں ہے (جو تم سے بہترین اخلاق کی مستحق ہے)۔ اس نے کہا: پھر (اگلا کون ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار پھر فرمایا تمہاری ماں ہے۔ اس نے (پھر) کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔
    ایک اور شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر والدین میں سے کوئی بے حس ہو تو کیا اپنے والدین کی اطاعت کرنی چاہیے چاہے وہ ان کے لیے بے حس ہی کیوں نہ ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ جواب دیا ، "ہاں ، چاہے وہ بے حس ہوں ہاں ، یہاں تک کہ اگر وہ بے حس ہیں ہاں ، چاہے وہ بے حس ہوں۔قرآن مجید میں ارشاد خدا وندی ہے
    اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ تک بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا
    قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا
    اسلئے میرےوالدین ہی میرے اصل ہیرو ہیں کیونکہ وہ میری مدد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ ہی ہیں جو میرے لیے اپنی جان تک کوخطرے میں بھی ڈال سکتے ہیں۔
    جنہوں نے میرےسب مسائل میں میری مدد کی۔ میرے ہیروز نے مجھے بڑے ہونے میں مدد کی ، مجھے غلط سے صحیح بتایا ، مجھے ایسی چیزیں سکھائیں جو میں نہیں جانتا تھا
    خدا کی قسم ماں سے زیادہ کوئی پیار نہیں کر سکتا اور باپ سے زیادہ کوئی خیال نہیں رکھ سکتا
    دنیا میں کوئی کسی کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتا۔باپ ایسی ہستی ہے جو اپنی اولاد آپنے سے بھی بہت اوپر دیکھنا چاہتا ہے
    والدین سب کیلیے بہت اہم ہیں اس لیے ہمیں اپنے والدین کی توقعات کو پورا کرتے ہوئے ان کی دل سے خدمت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے والدین کی مدد ، رہنمائی اور حفاظت کے ساتھ والدین کی فرمانبرداری کرنی چاہیے والدین جیسی نعمت دینے پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہیے تاکہ ہمارے والدین خوشیوں اور سکون والی لمبی عمر پائیں
    میری دعا ہے! اے ہمارے رب! مجھے اورمیرے ماں باپ اور مومنین کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے آمین
    تحریر

    @SHAHKK14

  • ایمان کو کیسے مضبوط کریں؟  تحریر:محمد اسعد لعل

    ایمان کو کیسے مضبوط کریں؟ تحریر:محمد اسعد لعل

    اپنی اصلاح کا سب سے بڑا نسخہ یہ ہے کہ جیسے ہی شعور کی عمر کو پہنچیں تو روز رات کو اپنے بستر پر لیٹتے وقت اپنے احتساب کی عادت ڈالیں۔اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ آج میں نے سارے دن میں کچھ سیکھا؟کوئی عمل کیا؟اگر کیا تو اچھا عمل کیا یا بُرا عمل کیا؟کسی کے ساتھ زیادتی کی؟کسی کا حق مارا؟کیا کسی کے ساتھ حسدانہ جذبات رکھےیا کسی کے ساتھ دشمنی رکھی؟
    اپنا احتساب کر کے فیصلہ کریں کہ میں اپنی غلطیوں میں کمی کروں۔ غلطیاں ایک دن میں ختم نہیں ہوتیں۔ اگر یہ عادت ڈال لی جائےکہ آدمی روزانہ اپنا احتساب کرتا رہے تو اللہ اُسے مہلت دیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک اچھا اور بہتر انسان بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
    ہم جب بستر پر لیٹتےہیں تو جو کامیابیاں ہم نے دوسروں کے مقابلے میں حاصل کی ہوتی ہیں ان میں سرشار ہوتےہیں، جبکہ کامیابی ہو یا ناکامی ہر صورت اپنا احتساب کرنا چاہیے۔احتساب کی عادت ہی ہے جو انسان کو بہتر کرتی ہے، بلند کرتی ہے۔یہ احتساب بےلاگ اور بے رحمانہ ہونا چاہیئے۔
    یعنی آپ اکیلے ہیں ، آپ کو کسی کے سامنے کوئی اعتراف نہیں کرنا ہے لیکن اپنے سامنے اعتراف کریں کہ گفتگو میں ،بات چیت میں،میاں ہو تو بیوی کے ساتھ،بیوی ہو تو میاں کے ساتھ،بچوں کے ساتھ،انسانوں میں ،پڑوسیوں میں یا کہیں اور میں نے یہ غلطی کی ہے اور میں اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا۔ایک دفعہ اس کی عادت بنا کر دیکھیں بہت جلد آپ کو اپنے اخلاق اور کردار میں واضح بہتری محسوس ہو گی۔
    اپنے دین کے بارے میں یہ بات سمجھ لیں کہ یہ پاکیزگی کی دعوت ہے۔یعنی میرے بدن کو پاکیزہ ہونا ہے، میرے کھانے پینے کو پاکیزہ ہونا ہےاور میرے اخلاق کو پاکیزہ ہونا ہے اور اس کے احکامات دین میں دیے گئے ہیں۔جب آپ یہ سمجھ لیں گے کہ پاکیزگی میرا دین ہےتو پھر پاکیزگی کو آپ نے ہدف بنا لیا ہے،اپنے قلب کی صفائی کو اپنا ہدف بنا لیا ہے تو آپ کبھی بھی دین کے معاملے میں اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوں گےکہ میں نے یہ بحث کر لی،میں نے کسی کو نیچا دکھا دیا ، یا اچھا کام کر لیا ہے تو اللہ کے نزدیک برتر ہوں گا۔بلکہ اس معیار پر خود کو جانچیں گے کہ میں نے اپنے آپ کو کتنا پاکیزہ بنایا،اپنے آپ کی کتنی رہنمائی کی۔دین کی ساری ہدایت کا محور تزکیہ(پاکیزگی) ہے۔
    دوسرا انسان کو اپنے معاملات میں تین چیزیں داخل کرنی چاہیں اور بڑی ہمت سے داخل کرنی چاہیں۔
    ایک یہ کہ جس حد تک ممکن ہو سکے ایک،دو،تین یا اللہ توفیق دے تو پانچ نمازیں مسجد میں جا کر پڑھنی چاہیں۔تنہا نماز کے مقابل میں جب آپ مسجد میں جاتے ہیں تو مسجدکی اپنی ایک روحانیت ہےاور اُس سے آپ کو اپنے وجود کو بہتر طور پر سمجھنے اور اپنے پروردگار سے تعلق کی ہدایت ملتی ہے۔
    نماز کا مقصد کیا ہے؟ قرآن مجید میں ہے کہ یہ خدا کو یاد کرنے کا ذریعہ ہے۔یعنی خدا یاد رہے اور بار باریہ توجہ دلائی جائے کہ تم خداکے بندے ہو اور ایک بندے کی حیثیت سے جینا سیکھو۔اس یاد دہانی کے لیے آپ تنہا نماز پڑھ رہے ہیں تب بھی اس کے مقصد کو سامنے رکھ کر پڑھیں۔اور اللہ توفیق دے تو مسجد میں نماز ادا کریں ۔
    دوسری چیز قرآن مجید جو ہر ایک کے پاس موجود ہے، معمول بنانا چاہیے کہ ہفتے میں کم از کم ایک آدھ گھنٹا اللہ کی کتاب کو سمجھ کر اُس کی تلاوت کریں۔جتنا بھی ممکن ہو سکے۔چند آیتیں ہی صحیح ،ایک آدھ حصہ ہی صحیح ،لیکن اس کو معمول بنا لینا چاہیے جیسے زندگی کے دوسرے معاملات کو معمول بناتے ہیں۔
    اللہ کی کتاب سے زندہ تعلق ہر مسلمان کا ہونا چاہیےتاکہ وہ ہمیشہ اُس سے ہدایت حاصل کرتا رہے۔
    تیسری چیز یہ ہے کہ ہمیشہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ آپ کی صحبت کیا ہے۔کن لوگوں سے ملتے ہیں،کن کے پاس بیٹھتے ہیں۔ قرآن مجید نے یہ بتایا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی صحبت کے بارے میں محتاط نہیں رہتے ،بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو صحیح رکھ سکیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو سیدھے اور دین کے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • اولیاء کی شان (تیسری قسط) تحریر یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان (تیسری قسط) تحریر یاسمین ارشد

    جن کے اندر اللہ پاک نے ولیوں کا تذکرہ فرمایا مالک کائنات نے ولیوں کی صفتیں بیان کی مالک کائنات نے فرمایا وَاللّهُ وَلِىُّ الْمُؤْمِنِيْنَ (آیات نمبر 68 ) سورہ آل عمران )
    جن کے اندر ایمان ہے وہ اللہ کے ولی ہیں دوسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے (قد افلح المؤمنون)تیسرے مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے (سورہ الجاثیہ میں ) آیات نمبر 19) وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ صاحب تقوی بندے جو صاحب تقوی بندے ہیں جن کے دل کے اندر اللہ کا ڈر ہے وہ اللہ کے ولی ہیں اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَآئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِىْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ  ( آیت نمبر 30 سورہ حم)
    نَحْنُ اَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (آیات نمبر 31 )سورہ حم)
    اللہ پاک نے فرمایا میرے جو ولی ہوتے ہیں صرف دنیا کے ولی نہیں بلکہ آخرت میں بھی میرے ولی ہوں گے جس ٹائم آخرت کے اندر آئے ہوئے ہوں گے یہ دنیا کے اندر زندگی کیسے گزار کے آئے جیسے میں اللہ کریم کہتا رہا یہ ویسے کرتے رہے اپنی منشا اور چاہت قربان کر دی ہے میں اللہ کریم کی چاہت کے سامنے جس ٹائم میرے پاس آئے ہوئے ہوں گے۔ میں کہوں گا (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِىٓ) اے میرے ولیوں جیسے میں کہتا تھا ویسے کرتے تھے آج میں جلال کی قسم ہے جیسے تم چاہو گے میں اللہ ویسے ہی کروں گا (،،وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ) جس چیز کا کہو گے میں اللہ اس کو پورا کروں گا (نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ (سورہ فصلت آیات نمبر 32)یہ میرے اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہے اے لوگو دوسرا مقام قرآن کا اللہ پاک فرماتا ہے وَعِبَادُ الرَّحْـمٰنِ الَّـذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَاِذَا خَاطَبَهُـمُ الْجَاهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًا (آیات نمبر 62 سورہ الفرقان) میں اللہ رحمنٰ کے بندے وہ ہیں جو زمین پردبے پاؤں چلتے ہیں اورجب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے(سورہ المائدہ آیا نمبر 55 اور 56) میں اللہ پاک نے فرمایا جو ولی ہیں وہ ایسے سمجھو اللہ کی جماعت ہے جو اللہ والے ہیں۔ اے لوگو جیسے تمہارے بڑے سردار لوگ تم کو منع نہیں کر سکتے تو میں اللہ پاک اپنی جماعت کے لوگوں کو کیسے رسوا کر سکتا ہے اللہ ولیوں کی ولایت برحق۔ اللہ پاک نے (سورۃ انفال آیات نمبر 2 ) میں فرمایا جو ایمان دار ہیں وہ ولی ہیں ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ ڈر جاتے ہیں اگر ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو ان لوگوں کے دل کے اندر ایمان ہوتا ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے اللہ فرماتا ہے ولی اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہیں لوگوں کے پیسوں پر بھروسہ نہیں کرتے لوگوں کے تبصروں پر بھروسہ نہیں کرتے لوگوں کی عقیدت پر بھروسا نہیں کرتے دوکانداریاں کھول کے لوگوں کے رزق پر بھروسہ نہیں کرتے اے میرے رب کریم پھر تیرے ولی کہاں بھروسہ کرتے ہیں اللہ پاک فرماتا ہے میں رازق ہوں رزق والی نعمت پر بھروسا کرتے ہیں میں پالنے والا ہوں میرے رب ہونے پر بھروسا کرتے ہیں میں مشکل کشا ہوں میں اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہیں جو اللہ پر بھروسہ کرے وہ اللہ کا ولی ہے اللہ پاک نے (سورہ یونس آیات نمبر 62) میں ولیوں کی عظمت بیان فرمائیں اللہ پاک نے فرمایا خبردار جو اللہ کا ولی ہے ان لوگوں کو کوئی ڈر نہیں ہوتا اور اللہ کے ولیوں کو کوئی غم نہیں ہوتا کوئی پریشان نہیں ہوتے اللہ پاک کی ان لوگوں پر کرم نوازی ہوتی ہے اللہ پاک کا ان کے ساتھ پیار ہوتا ہے یہ وہ ولی ہیں جن کے دل میں ایمان ہے۔ داڑھی کو کاٹ کے نالیوں میں ڈالنے والا وہ ولی کبھی نہیں ہو سکتا جس کے دل میں ایمان ہے وہ ہمارے پیغمبر کی سنت کا قاتل کبھی نہیں بن سکتا جو سنت کا قاتل ہے وہ اللہ کا ولی کبھی نہیں بن سکتا ولی وہ ہوتا ہے جن کی دل میں جن کی آنکھ میں جن کے کان میں جن کی زبان میں ایمان موجود ہو سچا ولی ہوتا ہے سچا ولی کہتا ہے میں قرآن پاک کی سورتیں تمہارے اوپر دم کیا ایسا نہ سمجھنا کہ یہ میرے الفاظ ہیں شفا اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے یہ میرا عقیدہ ہے ولی کی کرامت بر حق ہے جس ولی کے ہاتھ میں کوئی انوکھا ایسا واقعہ پیش آیا ہو جس کی عقل نہ مانے جن کو کرامت کہتے ہیں یہ قرآن کہتا ہے ولی کا کمال نہیں ہوتا میں اللہ پاک کی شان کا کمال ہوتا ہے اللہ پاک کہتا ہے کسی ولی کے ہاتھ پر کوئی کرامت پیش کروں یہ میری مرضی ہے اگر یہ کسی بندے کی مرضی ہوتی تو کسی ٹائم بھی وہ اپنی مرضی کرلیتے سورۃ انعام آیات نمبر 109 میں اللہ پاک نے ایک ولیت کا ذکر کیا جس کا نام ہے بی بی سیدہ مریم معصوم مریم ہے اللہ پاک فرماتا ہے معصوم مریم میری ولیا ہے ایک کمرے میں بند ہے اس کمرے کو کوئی روشندان نہیں تھا اللہ کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے جس ٹائم اللہ کی سچی ولیا مریم بی بی کے بند کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر وہ کیا دیکھتا ہے معصوم مریم اللہ کی سچی ولیا بیٹھی ہے اس کے چاروں طرف میواجات موجود ہیں موسمیات بھی اور غیر موسمیات بھی ایسے بیٹھی ہے جیسے تاروں کے درمیان چاند چمکتا ہو معصوم مریم کے دائیں بائیں کڑا بنا ہوا ہے چاروں طرف پھل ہیں اللہ کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے بی بی معصوم مریم سے سوال کیا اے مریم یہ پھل میوہ جات کون دے کے گیا ہے تم کو، تمہاری کفالت تو میرے ذمے ہے تمہاری تو سرپرستی میرے ذمے ہے میں نے تمہارے کھانے کی خبر کرنی ہے یہ تم کو کس نے دیا مریم بی بی نے جواب دیا اے بابا زکریا بند کمرے کہ اندر مجھے وہ روزی دینے والا ہے جو ماں کے بند پیٹ میں روزی دیتا ہے جو پتھر کے اندر کیڑے کو روزی دیتا ہے جو بند زمین کے اندر ہر مخلوق کو روزی دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے نیکسٹ قسط پبلش کی جائے گی ان شاءاللہ

    @IamYasminArshad
    twitter.com/IamYasminArshad

  • سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا: تحریر  محمد جاوید:

    سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا: تحریر محمد جاوید:

    یہ منصوبہ چین اور پاکستان دونوں کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کو دونوں ممالک گیم چینجر منصوبے کے نام سے منصوب کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ منصوبہ چین اور پاکستان کے معشیت کو نئی بلندیوں پہ لے جائے گا اس لیے اس منصوبے کی ترقی اور پیش رفت میں تیزی لانا بہت ضروری ہے
    جتنا جلدی یہ منصوبہ مکمل ہوگا اتنا ہی پاکستان کی معشیت کے لئے اچھا ہے اس منصوبے کے مکمل ہوتے ہی پاکستان کی معاشی ترقی رفتار پکڑلے گی ۔
    اصل میں CPEC ایک پیکج ہے جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر مشتمل ہے اور ان منصوبوں کی مالیت 46 بلین ڈالر ہے۔
    اس منصوبے میں 33 بلین ڈالر پاکستان توانائی اور بجلی کے منصوبوں کے قیام اور تخلیق کے لیے وقت اور مقرر ہے۔
    یہ پروجیکٹ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ہے؟
    اس کے کچھ وجوہات ہے آج کے کالم میں ان وجوہات پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کر لونگا۔
    اس CPEC کی وجہ سے ہماری توانائی کی فراہمی کی کمی دور ہو جائے گی اور ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کو بہتر بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کی وجہ سے ، ہمارے ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور یہ بالآخر پائیدار اور بڑے پیمانے پر معاشی ترقی کا ضامن ہوگا۔
    اس منصوبے کی وجہ سے بڑی حد تک بے روزگاری کم ہوگی۔ یہ منصوبہ 700000 ڈائریکٹ ملازمتیں فرہم کرے گا اور ان گنت ان ڈائریکٹ ملازمتں فراہم کرے گا۔
    اس منصوبے کی ساخت کی وجہ سے اسکو گیم چینجر آف پاکستان بھی کہاں جاتا ہے اس منصوبے کا سب سے اہم پروجیکٹ گوادر پورٹ ہے جو کہ اپنی لوکشین اور ساخت کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے جس کی اہمیت نہ صرف پاکستان اور چین کے لیے ضروری ہے بلکہ پورا خطہ اور دنیا کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
    بتایا جاتا ہے کہ اگر یہ CPEC پروجیکٹ وقت پر مکمل ہوجائے گا تو رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گوادر میں زمینوں کی قیمتں آسمان سے باتیں کررہی ہے۔
    حالیہ مہینوں میں قیمتوں کا دوگنا ہونا بھی یہی وجہ ہے۔
    یہ معاشی راهداری اس قرضوں میں ڈوبے ہوۓ ملک کے لئے ایک نعمت ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معشیت کو ان بلندیوں پہ لے جاسکتا جن کا ہمارے معشیت دان خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ پروجیکٹ ہمارے ملک کے معاشی بلندیوں کو نئی اڑان دے گا چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہمارا زیادہ تر انحصار ذراعت پہ ہے اب اس پروجیکٹ کی وجہ سے پاکستان ایک زرعی معیشت والے ملک سے اپنے آپ کو بڑے پیمانے پر لاجسٹکس اور انڈسٹریل حب میں تبدیل کر سکتا ہے۔
    اس پروجیکٹ میں کوئلے سے چلنے والے بجلی کے بہت سے منصوبے اور پلانٹس مشتمل ہے۔ یہ منصوبہ یقینی طور پر ہمارے توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گا۔
    ہمیں یقین ہے کہ یہ CPEC منصوبہ پاکستان کے لیے معاشی بحالی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ وقت ہے۔
    کہ ہمیں اپنے تمام شہریوں کے درمیان ان سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ اس پہلو میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ یہ سب پاکستان کے لیے CPEC کی اہمیت کے بارے میں ہے۔ یہ منصوبہ تقریبا اپنی تکمیل کے مراحل کی طرف گامزن ہے۔
    اس منصوبے کی تکمیل پر پاکستان کی معشیت ڈرامائی انداز میں یقینی طور پر بہت بہتر ہو گی۔ اور پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا اور یہ پاکستان کا نقشہ بدل دے گا۔
    @I_MJawed

  • پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جواب دے تحریر:  ماریہ ملک

    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جواب دے تحریر: ماریہ ملک

    پاکستان کے حالیہ ہیرو ایتھلیٹ “ارشد ندیم” کے ایک انٹرویو میں کہے گئے کلمات نے دل کو جیسے چھلنی کر دیا ہو۔ اُس متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے محنتی اور حب الوطنی کے جزبے سے سرشار کھلاڑی نے ایک ہی جملے سے بلخصوص پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور بالعموم پاکستان حکومت سے اپنے گِلے کا اظہار تو کیا لیکن اس کے ساتھ میں سمجھتی ہوں کہ سب کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اُٹھا دیے ہیں

    ارشد ندیم نے کہا:

    کہ انہیں "شرم” محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے تمغہ نہیں جیتا ، لیکن افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اس وقت کھلاڑیوں کے لیے جو تربیتی سہولیات اور سرکاری امداد دستیاب ہے۔ اس کی موجودگی میں "دل جیتنا تو ممکن ہے ، تمغے نہیں”

    ارشد ندیم پاکستان کا وہ ہیرو ہے جس نے کروڑوں پاکستانیوں کو ایک امید، ایک خواب اور گھٹن کے ماحول میں تازگی کا احساس دیا۔
    سیمی فائنل میں بہترین کارکردگی کے باعث نہ صرف ہر پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کا شغف رکھنے والے ہر ناظر کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ پاکستانیوں کو ایک امید دی کہ 1988 کے بعد شائد ایک بار پھر یہ خواب حقیقت کا روپ دھار لے اور پاکستان کو اولیمپک کھیلوں میں کوئی سونے کا تمغہ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہو جائے۔
    لیکن فائنل میں پاکستان یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم رہا۔
    گو ارشد ندیم یہ اعزاز تو حاصل نہ کر سکا لیکن اپنی بھرپور کوشش اور محنت سے پاکستانیوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہر پاکستانی نے ارشد ندیم کو وہ محبت اور عزت دی جس کا وہ حقدار ہے۔

    ایک اہم سوال جو اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ جب حکومت ہر سال کروڑوں روپے مختلف کھیلوں کے فروغ پر خرچ کر رہی ہے۔ کھیلوں کے مختلف ادارے قائم ہیں اور ہر ادارے میں لاکھوں کی تنخواہ لینے والے افسران سالوں سے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں لیکن جب بات اِن کی کاردگی کی ہو تو وہ نہایت ناقص ہے۔ ہر بار کھیلوں کے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اُٹھتے ہیں لیکن اُن میں کسی قسم کی بہتری نظر نہی آتی۔

    اولمپکس میں کسی بھی ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے تاریخ کے پہلے پاکستانی ارشد ندیم کا مقصد 1988 کے بعد اپنی قوم کے لیے انفرادی تمغہ جیتنے والا پہلا اولمپین بننا تھا۔
    اس مقابلے کے تیسرے دن 85.16 میٹر کے بہترین تھرو کے زریعے فائنل میں پہنچنے والا ارشد ہفتہ کو پانچویں نمبر پر رہا جبکہ نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر کا بہترین تھرو جیت کر ہندوستان کے لیے تاریخی پہلا اولمپک ایتھلیٹکس گولڈ میڈلسٹ بننا تھا
    ایسا بار ہا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جیسے پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیل ترجیحی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی تمام حکومتوں کو کرکٹ کا جنون رہا ہے۔ پاکستان میں کسی بھی میدان کے لئے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن اُن دیگر کھیلوں کے سرپرست اداروں کی طرف سے دی گئی سہولیات کی کمی، عدم دلچسپی، افسران اور اداروں کے سرپرستوں کا سفارش یا سیاسی پشت پناہی کے بل بوتے پر سالہاسال سے عہدوں سے چمٹے رہنا اس ناکامی کی اصل وجہ ہے۔
    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو ہی لے لیجئیے! اس ادارے کے سرپرست ریٹایرڈ سید عارف حسن پچھلے چودہ سالوں سے اس ادارے کی سرپرستی کر رہے ہیں لیکن کارکردگی صفر ہے۔
    حکومت کی جانب سے جب بھی اِن سے کارکردگی پر بات کی جاتی ہے تو موصوف کا یہ جواب اِن کی شخصیت اور انا پرستی کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ایک آزاد ادارہ ہے اور اگر حکومت نے زیادہ دخل اندازی کی تو ہم ورلڈ اولمپک سے کہہ کر پاکستان پر اولمپک میں حصہ لینے پر بین کروا دیں گے۔
    اگر اسی بیان ہی کو دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج تک پاکستان اولمپک گیمز سے کوئی میڈل کیوں نہی جیت سکا۔
    نہ صرف ارشد نے بلکہ اُن کے کوچ نے بھی ادارے کی طرف سے دی گئی سہولیات کی کمی اور عدم توجہ کی شکایت کی ہے۔
    ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ریٹایرڈ سید عارف حسن فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور حکومت پوری توجہ سے اس ادارے کو از سرِنو ترتیب دے تاکہ دوبارہ کوئی ارشد ندیم اس طرح دلبرداشتہ اور انتہائی ٹیلنٹڈ ہونے کے باوجود اس طرح اعزاز سے محروم نہ ہو۔
    ایتھلیٹ ارشد ندیم نے انٹرویو میں حکومت پر زور دیا کہ وہ سہولیات کو بہتر بنائے ، فنڈنگ ​​میں اضافہ کرے اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری کرے: "میں اس بار اولمپکس میں پانچویں نمبر پر آیا۔ اگر سہولیات کو بہتر بنایا گیا تو میں 2024 اولمپکس میں پاکستان کے لئے بڑا اعزاز حاصل کر سکتا ہوں۔

    ندیم کے فزیوتھیراپسٹ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ "جو لوگ چار یا پانچ نمبر پر آتے ہیں وہی ہیں جن پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔”
    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے میڈیکل کمیشن کے سیکرٹری ڈاکٹر اسد عباس شاہ نے عرب نیوز کو بتایا ، "ارشد ندیم فائنل میں پریشانی میں مبتلا تھے اور ایسی چیزیں اس وقت ہوتی ہیں جب کوئی انتہائی شائستہ پس منظر سے ہو۔”
    قارئین کیا آپ نے ہندوستانی ایتھلیٹ کے ساتھ ٹوکیو میں حاضر دستہ دیکھا؟
    وہ اپنے ساتھ ایک آسٹیو پیتھ ، فزیوتھیراپسٹ ، اسپورٹس سائیکالوجسٹ ، ڈاکٹر ، آرتھوپیڈک سرجن اور حتیٰ کہ نیورولوجسٹ لے کر آئے تھے۔ ان کے پاس ایک آرکسٹرا ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے؟
    اور بقول فہمیدہ راجہ ہماری اولمپک ایسوسی ایشن نے کھلاڑیوں کے ساتھ باقاعدہ پروفیشنل کوچز روانہ کرنے کے بجائے اپنے ادارے کے افسران کو سیر کرنے بھیج دیا۔ جب اس طرح اقربا پروری اور زاتی مفادات کو فوقیت دی جائے گی تو پھر اسی طرح ہی کی کارکردگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

    “ہم کہہ سکتے ہیں کہ تمغہ ہمارے ہاتھ سے پھسل گیا۔”

    اور اس کی ساری کی ساری زمہ داری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سرپرست اور دیگر عہدا داران کی ہے جنہوں نے کئی سالوں سے اس ادارے کو کمزور سے کمزور تر کرنے کے ساتھ ساتھ زاتی مفادات کے حصول کا زریعہ بنا دیا ہے۔

    تحریر: ماریہ ملک
    ‏@No1Mariya

  • ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل.  تحریر شاہ زیب احمد

    ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل. تحریر شاہ زیب احمد

    نشے کو اگر عام الفاظ میں بیان کرے تو نشے سے مراد ایسے اشیاء یا اجزاء کا استعمال کرنا ہے جس سے انسان کی وقتی طور پر ذہنی و جسمانی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ وہی نشہ انسان کی ضرورت بن جاتی ہیں

    آج اکیسویں صدی میں جہاں ہر طرف مقابلے، نت نئے تجربات اور ایجادات کے طرف لوگ مائل ہے اور کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اسی طرح ہمارے پاکستان کے نوجوان نسل میں نشے کی عادت تیزی سے پھیل رہی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں جس میں ہر سال ہزاروں افراد کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ شاید ہمیں اس صورت میں مل رہا کہ ہماری نئی نسل روز مرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ صحت مند ایکٹیویٹیز سے دور ہوتی جا رہی ہے، 2021 کے اولیمپک مقابلے ہمارے سامنے ہے جہاں ہمارے کتنے نوجوانوں نے حصہ لیا؟ اور کتنے نوجوان کامیاب ہو کے واپس لوٹ آئے ؟ یقیناً یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، جو پاکستان کو اپنے لپیٹ میں لے رہا ہے اور اسکا روک تھام نہایت ضروری ہیں، اس حالت کی سب سے اہم وجہ شاید یہی ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں کے سرگرمیوں سے واقف نہیں ، بچے اسکول، کالج یونیورسٹی میں کیا کر رہے انکے دوست کون ہے وہ کون سے ایکٹیویٹیز میں حصہ لے رہے ہیں، کہاں جا رہے کہاں سے آرہے وغیرہ وغیرہ.
    آج پاکستان کے نوجوان بطور فیشن سیگریٹ اور دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جو رفتہ رفتہ یہی فیشن یہی شوق انکی عادت اور ضرورت بن جاتی ہے اور مکمل طور پر نشے کا عادی بنا دیتی ہیں.
    نشہ شروع کرنے کے بہت سارے وجوہات ہیں لیکن یہاں وجوہات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کس طرح نوجوان نسل کو نشے کے لت سے بچایا جائے اور انہیں دیگر سرگرمیوں میں مصروف کیا جائے،
    نشے سے نجات اور بچاؤ کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آگاہی پھیلاؤ مہم زیادہ سے زیادہ کئے جائے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پہ اس مہم کو پروموٹ کیا جائے، جیسے پولیو پہ زور دیا گیا اور آج پاکستان پولیو فری زون کے طرف جا رہا اسی طرح نشے سے متاثر افراد کیساتھ ساتھ نشہ آور اجزاء کے ڈیلرز کے خلاف آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے ، آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ والدین جان سکیں کہ جیسے ہی بچے کے عادات تبدیل ہو رہی اس پہ زیادہ توجہ دینا شروع کریں، علامات کے بارے میں مکمل جان کاری ہو جیسے نشے کے عادی افراد،
    * زیادہ تر گھر سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں،
    * رات کو دیر سے گھر آنا معمول بن جاتا ہے،
    * گھر والوں کیساتھ بیٹھنے اور زیادہ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں،
    * معمولی باتوں پر غصہ آتا ہے،
    * وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، بھوک نہیں لگتی، رنگ بدل جاتا ہے،
    * اپنے صفائی پہ زیادہ دیہان نہیں دیتے،
    * اسکول / آفس سے غیر حاضریاں شروع ہو جاتی ہیں،
    * جسم سے بدبو آتی ہے
    * چوری کی لت پڑھ جاتی ہیں وغیرہ،

    یہ چند اہم علامات ہیں یعنی جس سے ہم نشہ کرنے والے کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اسکا علاج معالجہ شروع کر سکتے ہیں.

    نشے کا علاج عام بیماریوں سے مختلف ہیں، یہاں میڈیسن سے زیادہ کاؤنسلینگ زیادہ ضروری ہے جس کے لئے سائیکالوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ کی خدمات لی جاتی ہیں، اور ترتیب وار علاج کیا جاتا ہے،

    * جہاں سب سے پہلے علاج کے لئے ترغیب دی جاتی ہیں، مریض اور گھر والوں دونوں کو علاج کے لئے امادہ کیا جاتا ہے اسکے لئے مختلف ادارے کام کر رہے جہاں سے یہ میسج نکلتا ہے کہ نشے کے مریض مجرم نہیں پیار و شفقت کے مستحق ہے تاکہ وہ زندگی کے طرف لوٹ کے آئے،
    * مریض کو نشے کے اثرات سے پاک کرنا ، نشے سے نجات کے علاج میں یہ دوسرہ عمل ہے یعنی ڈیٹکسی فیکیشن کرنا، اس عمل میں مریض کو کافی تکلیف ہوتی ہے نشہ چھوڑنے کی وجہ سے مختلف علامات سامنے آجاتے ہیں جس میں جسم میں شدید قسم کا درد محسوس ہونا ، جمائیاں آنا، بے خوابی ، آنکھوں اور ناک سے پانی بہنا ، چڑچڑا پن ، سخت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت وغیرہ ۔ Detoxification کے طریقہ کا ر میں ان تمام اذیت ناک اثرات کو کم سے کم کرتے ہوئے مریض کا نشہ چھڑوایا جاتا ہے۔ مریض کو دس پندرہ دن اور کبھی کبھی اِس سے زیادہ بھی Detoxification کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ جہاں ایک ماہر سائیکاٹرسٹ کے ساتھ میڈیکل ڈاکٹرز کی بھی خدمات لی جاتی ہے،
    * نفسیاتی علاج، مریض کا دوائیوں کے ساتھ نفسیاتی علاج بھی ہونا ضروری ہوتا ہے جہاں اسے زندگی کے طرف واپس آنے کی ترغیب دی جاتی ہیں، مریض کو یہ یقین کروایا جاتا ہے کہ نشہ زندگی کے مشکلات اور مسائل بڑھانے کا نام ہے، اسے ہمت دی جاتی ہے کہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کے اندر سوئے ہوئے اچھے اور ذمہ دارانسان کو جگایا جاتا ہے۔
    * دوبارہ نشہ شروع کرنے کی روک تھام : علاج کے بعد مریض کو دوبارہ نشہ کی طرف لوٹ جانے سے روکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے مریض کی مسلسل نگرانی اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج کے بعد مریض کو دوبارہ ان دوستوں کے پاس ہر گزنہیں جانے دینا چاہئے جہاں سے اسے یہ مرض لاحق ہوا تھا، وہاں سے دوبارہ نشے میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اس سارے عمل میں گھر والوں کا رویہ نہایت مناسب اور پیار بھرا ہونا چاہئے.

    * مریض کی بحالی یعنی (Rehabilitation): مریض کی بحالی بھی علاج ہی کا اہم حصہ ہے ۔ بحالی کا مطلب یہ ہے کہ علاج کے بعد صحت یاب مریض کو معاشرے کا اہم فرد بنانا ، مریض کے عزت و وقار کو مجروح نہ کرنا ، معاشرے میں ایک مقام دینا ، اسے وہی زندگی دینا جیسے وہ نشے سے پہلے تھا/تھی ، اگر مریض ملازم تھا تو صحت یابی کے بعد ملازمت دوبارہ دینا، سکول کالج میں تھا تو واپس داخل کرنا غرضیکہ اس کو وہ تمام سہولیات دینا جو ایک عام فرد کو دی جاتی ہے، اور یہ ہم سب کی ، پورے معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے،

    اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں شعور اجاگر کر سکیں جس طرح ہم شوگر ، بلڈ پریشر اور دیگر تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اسی طرح نشہ بھی ایک بیماری ہے اور قابل علاج ہے ہمیں مریض سے نہیں بلکہ اسکے مرض سے نفرت کرنی چاہئے ، اگر بطور مسلمان اور بطور انسانیت ہم اپنا فرض ادا کریں نشے کے مریضوں سے نفرت کے بجائے محبت سے پیش آئے ، انکا سہارہ بنے تو یقیناً کئی خاندانوں کے بجھے ہوئے چراغ ہم روشن کر سکتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کو نشے کے لت سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں.
    نشے کا علاج، کل نہیں آج.

    تحریر شاہ زیب احمد
    Twitter ‎@Zebi_afridi