Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بحثیت قوم ہم جانور ہیں تحریر:ماہم بلوچ

    لفظ جانور انسان کے لئے استعمال کرو تو غصے میں آ جاتا ہے جبکہ جانتا ہے جانور کیا ہوتا ہے وه جس کو نا تو کوئی شعور ہوتا ہے نا ہی اس کے کوئی اصول و ضوابط ہوتے ہیں،سارا دن کھا پی کر گزار دیتا ہے اور اس کے سامنے درندہ ایک جانور کو کھا رہا ہوتا ہے تو بجاۓ مدد کے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا ہے۔
    کیا بطور مجموئی ہم جانور نہیں ہیں؟؟سارا دن کھا پی کر سو جاتے ہیں نا یہ پتا کہ جو کھایا حلال بھی تھا نا ہی صفائی کا پتا گھر کا کچرا گلی میں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ گھر صاف کر لیا۔۔جانور بھی جس جگہ بیٹھا ہوتا ہے وہی صاف کرتا ہے۔۔۔
    کیا ہم جانوروں کے جیسے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایک دوسرے کو مرنے مارنے تک نہیں آ جاتے؟؟جنگلوں میں جب خوراک کم ہو تو ایک ہی قبیلے کے جانور ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
    جانوروں کی بستی میں کوئی اصول نہیں ہوتے کوئی قانون نہیں ہوتا صرف طاقتور کی حکمرانی چلتی ہے۔۔۔کیا ہمارے معاشرے میں کوئی قانون ہے؟؟کیا امیر غریب قانون کی نظر میں کامیاب ہیں؟؟؟
    جنگلوں میں کوئی تعلیمی شعور نہیں ہوتا بس کھانا پینا اور سونا ہوتا ہے۔۔۔کیا ہمارے ملک میں اکثریتی آبادی کا حال نہیں؟؟؟
    جانوروں کی بستی میں درندہ بنا دیکھے کے شکار کتنا کمزور ہے اسکی کھال تک اتار دیتا ہے۔۔۔کیا ہماری بستی میں ڈاکٹر یہ فریضہ سر انجام نہیں دے رہے؟؟؟
    جنگلوں میں صبر برداشت اور رواداری نہیں ہوتی صرف کھینچا تانی ہوتی ہے سارا دن۔۔۔کیا ہمارے نام نہاد کچھ شوز میں ہماری پڑھی لکھی قوم ایسا نہیں کرتی؟؟؟
    جانوروں میں تہذیب تمدن نہیں ہوتا انکا کوئی لباس نہیں ہوتا وه ایسے ہی گھومتے ہیں سارا دن۔۔۔کیا آج کل ہماری کچھ لبرلز آنٹیاں یہی سب ہمارے ملک میں کرنا نہیں چاہتی؟؟؟
    جنگلوں میں جب کسی ایک جانور کے ساتھ درندگی ہو رہی ہوتی تو باقی جانور یا تو دور سے چپ چاپ دیکھتے ہیں یا پھر اپنی جان بچا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔کیا ہمارے معاشرے میں بچوں اور زیادتی کے بڑھتے واقعات پر ہماری قوم کا یہی رویہ نہیں ہے؟؟
    ان سب چیزوں کا یہاں موازنہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سمجھیں ہم اشرف المخلوقات ہیں،ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،ہم نے یہ ملک لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎ کے نام پر بنایا ہے
    خدارا جاگیں اور معاشرے کو تباہی سے بچائیں اور اس ملک کو وہی ریاست بنائیں جس کا خواب اقبال نے دیکھا اور قائد نے جدوجہد کی۔۔
    خدارا بدلیں خود کو🙏

  • مثبت سوچ۔وقت کی ضرورت تحریر:شعبان اکبر

    مثبت سوچ۔وقت کی ضرورت تحریر:شعبان اکبر


    انسان کےہرعمل کی اساس اس کی سوچ ہے۔سوچ کامثبت یامنفی ہونا،اعمال کی پائیداری پربراہِ راست اثراندازہوتاہے۔اگرسوچ ہی کمزور پڑجائے اوربندہ ذہنی انتشارکاشکارہوجائے تواعمال کابہتراندازمیں ہوناتودرکنار،واقع ہونابھی محال ہوجاتا ہے۔اس لیےان تمام ترذرائع کواپنانےکی حتی المقدور کوشش کی جائےجن سےفکرکوجولانی عطاہو۔معاشرےمیں اکثریت حوصلےاورہمت کوگھٹادینےوالی باتیں کرتی ہے،جس کےباعث انسان اہلیت واستعدادکےباوجود بھی عمدہ کارکردگی نہیں دےپاتا۔لہٰذااس ضمن میں یہ بات نہایت اہم ہےکہ اس شخص کےپاس بیٹھاجائےجس کی باتیں آپ کے حوصلےکوبڑھاوا دیں،جس کےالفاظ سن کرآپ اپنےخوابوں کی تکمیل کےلیےکمربستہ ہوجائیں۔اگرچہ ناکامیاں کسی حدتک اذیتِ قلب کاباعث بنتی ہیں مگرمثبت سوچ انسان کوباہمت ومستحکم رکھتی ہےاورمقصدکی تکمیل تک لےجاتی ہے۔نوجوانوں کی تربیت کےامورمیں سب سےاہم نوجوانوں کی فکری تطہیرہے تاکہ زندگی کےہرمرحلے پروہ مختلف معاشرتی مسائل کاسامناکرسکیں۔اللہ رب العزت نےہرشخص کولازوال خوبیوں سےنوازا ہےاورانھی اوصافِ حمیدہ کی بناہ پرتمام مخلوقات میں شرف عطافرمایا۔اگرکہیں کمی ہےتواس کےذمہ دارہم ہیں کہ اپنےمالک کی عطاکردہ خوبی کوبروئےکارنہ لاسکے۔حق تویہ تھاکہ رب تعالیٰ کی دی گئی قابلیت کواستعمال میں لاکراوجِ کمال پاتے۔مگرمنفی سوچ نےہمارےپاؤں جکڑلیےاوراردگردکےمنفی کرداروں نےہمیں بلندعزم وہمت سےمحروم کردیااوریوں ہم وہ کام ہی نہ کرپائےجس کی کبھی دُھن سوارتھی۔گویامثبت سوچ ہمیں کسی بھی سفرکےآغازسےلےکراختتام تک منزل کےحصول کی امیددلاتی ہے۔قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نےاپنےایک انٹرویومیں فرمایاکہ وہ بہت پہلےہی مسلمانانِ ہندکےلیےعلیحدہ وطن کےقیام کاسوچ چکےتھےمگرقوم کوآہستہ آہستہ ذہنی طورپرغلامی سےنجات کےلیےتیارکیا۔گویامملکتِ خدادادپاکستان کےحصول میں بھی پختہ مثبت سوچ نقطہِ آغازتھی۔ہربندہ اپنےکام کےمتعلق یہ کہتانظرآتاہےکہ اس شعبےمیں مت آنا،یہاں بہت خواری ہے۔ایسےلوگ درحقیقت محنت کرنےکےلیےتیارہی نہیں اوریوں اِن کی منفی افکارنئےآنےوالوں کوذہنی مفلوج بنادیتی ہیں۔مگرافسوس صدافسوس کہ ہمارےمعاشرےمیں کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی گئی کہ ہم نےاپنی آنےوالی نسلوں کی تربیت کیسےکرنی ہے۔والدین اپنی اولادکویہ توسکھاتےہیں کہ حصولِ دولت کےلیےکیسےتگ ودوکرنی ہےمگرکبھی فکرکی پاکیزگی اوربلندی کےلیےاپنی اولادمیں شعوربیدارنہیں کرتے۔تاریخ گواہ ہےکہ فطرت بھی انھی چیزوں کواپنےدامن میں جگہ دیتی ہےجنھیں ہم اپنی ترجیحات میں رکھتےہیں۔اگرترجیحات میں مال ودولت کاحصول مقدم ہےاورمعاشرےکی فلاح کےلیےتعمیری ومثبت سوچ کوپسِ پشت ڈالاگیاہےتوپھرچندٹکےتومل سکتےہیں۔مگرطمانیتِ قلب جیسی نعمتوں سےمنتفع نہیں ہوسکتے۔احسان دانشٓ کی زندگی کولےلیجئےکہ ایک وہ وقت تھاجب وہ پنجاب یونیورسٹی میں مزدوری کرتےرہےمگرامیدآمیزمحنت اورلگن کےبل بوتےپروہ اِسی جامعہ میں بطورِممتحن تعینات ہوئے۔پس اگرمثبت سوچ طبیعت میں راسخ ہوجائےتواعمال میں کاملیت آجاتی ہے۔محنتِ شاقہ قابلیت کونکھاردیتی ہے۔
    لہذا ہرلمحہ مثبت اورتعمیری سوچ کاپرچارکریں تاکہ تخلیقی قوت دبنےنہ پائے اورصلاحیتیں نکھرسکیں۔

    twitter handle ‎@iamshabanakbar

  • رب اشرح لی   تحریر: محمد شفیق

    رب اشرح لی تحریر: محمد شفیق

    چھوٹی بہن کی ایم ایس کی پریزنٹیشن تھی۔رات بھر جاگتی رہی ۔آنکھیں سوجی تھیں ۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی ۔کوئ دعا بتا دیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
    میں نے کہا پڑھو تب۔
    رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي *

    کہنے لگی اس کا مطلب بھی بتا دیں۔ میں نے مطلب بتایا۔
    ” اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا کام آسان کراور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھیں”
    وہ حیرت سے گنگ میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگی۔
    بھائ اس میں تو میرے ہر مسئلہ کا ذکر ہے۔جس کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔وہ گویا ہوئ۔
    رات بھر پڑھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا۔ جیسے میرا سینہ بند ہوگیا ہو۔اور مجھے لگتا ہے۔کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔ذہن جیسے منتشر ہے۔خدشہ ہےمیں کچھ بول نہیں پاؤں گی۔جیسے زبان پر گرہ لگی ہو ۔اور میرے لئے کچھ کہنا مشکل ہو۔اور ایسے میں جو کہوں گی۔وہ کسی کو کہاں سمجھ آۓ گا۔
    اللہ نے یہ سورت شاید میرے لۓ ہی اتاری ہے۔میری ساری کیفیت کہ کر مجھے مانگنا سکھایا ہے۔کتنا مہربان ہے نا وہ رب۔
    اب یہ بتائیں۔یہ آیت کب اور کس پس منظر میں اتری۔ وہ اپنی ٹینشن بھول کر اس دعا کو سمجھنا چاہتی تھی ۔
    میں نےاسے بتایا۔ان الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ۔جب انھیں فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ وہ سبق کی دہرائی بھول چکی تھی۔
    اس کا اگلا سوال تھا۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا میں یہ سب کیوں مانگا ۔وہ فوج طاقت اور دیگر وسائل بھی تو مانگ سکتے تھے۔ اگر میں ہوتی تو میں شاید یہ سب مانگتی۔
    میں نے اس دعا کو بارہا پڑھا تھا اور دل کی گہرائی سے۔اور اس کے اثرات بھی ہمیشہ کئی لحاظ سے محسوس کیے تھے۔ایسے وقت جبکہ کوئی حل سمجھ نہ آتا۔یہ دعا میری ڈھارس بندھاتی۔مگر اس انداز سے کبھی نہ سوچا تھا۔لہذا کچھ د ن کے غوروفکرسے چند پہلو سمجھ آۓ۔
    سوچا آپ سے بھی شئیر کرو ں۔

    ۔پغمبر کے الفاظ اللہ کی کتاب میں ۔یقینا اس میں خزانے کی کنجیاں چھپی ہیں۔اسکی کھوج لگانی پڑے گی۔

    ۔پتہ چلاکسی کام کی سب سے پہلی رکاوٹ اندر سےہوتی ہے۔آپکے اندر اعتماداور خلوص پیدا ہوجاۓ۔کسی بھی چیز کے درست ہونے کا یقین ہو جائے۔ابہام نہ رہے۔تو دلیری پیدا ہوتی ہے۔انسان بےخوف ہو جاتا ہے۔بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔بہترین مشاہدہ سوچ وفکر کے نۓ زاوۓ سجھاتا ہے۔دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔انسان کنواں کا مینڈک نہیں بنتا ۔دوسروں کے نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے۔یہی سینے کا کھلنا ہے۔ یہ تو کامیابی کا بنیادی نکتہ ہوا یقیناً۔
    ۔مانگنے والا کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاۓ۔اور رب سے متعین کر کے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگے۔ کہ بڑے مقاصد چھوٹے چھوٹے پہلوؤں پر توجہ دینے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    موسیٰ علیہ السلام نے سافٹ اسکلز مانگیں۔معلوم ہوا سافٹ اسکلز کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
    اللہ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگیں۔اسے پسند ہے۔کہ جوتی کا تسمہ تک اس سے مانگیں۔اس کے لیۓ کچھ مشکل نہیں ۔
    بے دھڑک مانگیں۔
    ہمیشہ اللہ سے آسانی مانگیں۔آپ بس مانگنے والے ہوں۔دینے والا دینے کو تیار ہے۔

    انھوں نے زبان کی روانگی مانگی۔اس سے زبان و بیان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اور یہ کہ یہ صلاحیت اللہ کی بہترین عطا ہے۔
    اس دعا کے ساتھ انھوں نے مددگار کے طور پر اپنے بھائی کو مانگا۔معلوم ہوا کامیابی اور ترقی کے لئےمادی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہے۔ انسانی وسائل اعلیٰ درجے کے ہوں تو مادی وسائل خودبخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے بدلہ نہیں مانگا اللہ سے۔یعنی بے غرض ہونا دنیا کے عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔

    ۔کسی بھی فرعون سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ کا کھلنا ،بیان اور اظہار کا ملکہ ہونا ،مخلص ساتھیوں کا میسر ہونا بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔

    سافٹ اسکلز کا ہونا کسی بھی فوج اور مادی وسائل سے ذیادہ اہم ہے۔
    ایک ساتھی سے بات ہوئی کہنے لگا۔
    بعض اوقات اچھا بولنے اور قاٸل کرنے کے لۓ الفاظ اور دلاٸل کا انبار ہوتا ہے لیکن سامنے والا سمجھنے کے لۓ تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعا الفاظ میں وہ تاثیر عطا کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کا مطمع نظر سمجھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اور پہلو ۔۔۔۔۔۔
    اس دعا کو ہم درس یا Presentation دینے سے پہلے تو پڑھتے ہی ہیں لیکن اپنی عام گھریلو روٹین میں بھول جاتے ہیں ۔
    تو اپنے روز مرہ کے معمولات میں شامل کرلیں تو اللہ جی ہمارے کام میں آسانیاں پیدا فرما دیںتے ہیں ۔۔۔۔جیسے کسی کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بڑے کو کسی بات کا اچھا پہلو بتاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔اپنی کسی ساتھی ۔والدہ۔ساس۔بہو۔۔ شوہر کسی بھی تعلق میں اپنا مسٸلہ اپنی کیفیت سمجھانے کے لۓ ۔۔۔۔۔یا گھر کے کسی معاملے کسی شادی بیاہ کی رسم کے خاتمے کے لۓ ۔۔۔اپنے کسی بچے یا چھوٹے بہن بھاٸیوں کو کوٸ بات سمجھانے سے پہلے اس دعا کو اس پیراۓ میں رکھ کر رب سے مانگیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمارے کاموں کو آسان فرما دیتے ہیں ۔
    @IK_fan01

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 02   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 02 تحریر: محمداحمد


    جیسا کہ پچھلی تحریر میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے ہر انسان دوسرے میں کیڑے نکالتا ہے اپنے اندر کے انسان کی طرف کوئی راغب نہیں ہوتا 95٪ لوگ چور بازاری ، ہیرا پھیری میں لگے ہیں جیسے کہ

    گھی میں کیمیکل کا استعمال:
    گھی بیچنے والے گھی کو خالص گھی ضرور لکھتے ہیں ایسی نوبت ہی کیوں آتی ہے اصل گھی کی نشانی یہ ہے کہ گرمیوں میں گھی پگھل جاتا ہے اور سردیوں میں گھی جم جاتا ہے جبکہ ملاوٹ والا گھی سردیوں میں نہیں جمتا ۔ پاکستان میں کچے کیلے اور ایسنس (مصنوعی خوشبو) کی ملاوٹ سے گھی تیار کیا جارہا ہے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا منافع خوروں کا معمول بن گیا ہے اور جو ملاوٹ کا گھی تیار کر رہے ہیں دراصل وہ زہر بیچ رہے ہیں اسی طرح مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل کیا جا رہا ہے

    مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل:
    مرغیوں کی انتڑیوں کی بہت بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوتی ہے مرغیوں کی انتڑیوں کو بہت دیر تک پگھلایا جاتا ہے اس سے جو بدبو دار تیل نکلتا ہے اس میں رنگ کاٹ ڈال کر اسے صاف کیا جاتا ہے اور خوشبو دار پرفیوم کا استعمال کرکے پیکنگ کرکے مارکیٹ میں بھیجا جاتا ہے اسی طرح آج کل گاۓ ، بھینس کی ہڈیوں سے بھی گھی تیار کیا جارہا ہے اور مختلف برانڈ کی صورت میں مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے آج کل تیل کی قیمت اتنی زیادہ ہوگی ہے کہ غریب طبقہ سستے تیل لینے پر مجبور ہیں اور اس تیل میں ان کے لئے زہر بیچا جارہا ہے یہ وہ نہیں جانتے

    سرخ مرچ میں اینٹوں کا بورا:
    سرخ مرچ میں انٹیوں کے بورا کا استعمال وزن بڑھانے کیلئے کیا جاتا ہے کیونکہ رنگت ایک جیسی ہوتی ہے اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں لگتا ہم کیا استعمال کر رہے ہیں اس کو پکڑنا بڑا آسان ہے کہ سرخ مرچوں میں ملاوٹ کی گئ ہے یا نہیں ۔ اس کیلئے ایک گلاس پانی لیں اس میں تھوڑی سے مقدار سرخ مرچ کی شامل کریں اگر پانی کی رنگت بدل گی یا کچھ مقدار نیچے پانی میں بیٹھ گی تو مرچیں ملاوٹ شدہ ہیں اسی طرح مرچوں کو تہہ دار جگہ پر رکھ کر گلاس کو رگڑیں اگر آواز پیدا ہو جسے کرکرا پن کہتے ہیں تو اس کا مطلب مرچیں ملاوٹ شدہ ہے ایک اور طریقہ ہے محلول کے ذریعے سے چیک کرنے کا اگر تھوڑی سے مقدار مرچوں میں آئیوڈین کے چند قطرے ڈالیں اگر مرچیں ملاوٹی ہوں گی تو محلول کی وجہ سے اس کا رنگ نیلا ہوجاۓ گا اس طرح آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہم جو استعمال کر رہے وہ خالص ہیں یا نہیں

    اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح ہلدی میں مصنوعی رنگ اور کالی مرچ میں چنے کے چھلکے کا پیس کر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ جوس میں کس طرح جعلی رنگ استعمال کیا جارہا ہے باہر کے مملک میں ایسا نہیں ہے چائنہ میں ایسی ملاوٹ انسانی زندگی سے کھیلنا سمجھا جاتا ہے اور اس کی سزا سب بہتر جانتے ہیں چائنہ میں زہر کا انجیکشن لگا کر خاموش کر دیتے ہیں ہمارے ملک میں رشوت خوری عام ہے فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں رشوت خور آفیسر کو رقم دےکر خاموش کر دیا جاتا اور محکمہ چیکنگ کیلئے آتا ہی نہیں اسی طرح جعل ساز اپنا کاروبار عروج پہ رکھ کر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اس سے ثابت ہے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

    ‎@JingoAlpha

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    پردہ کرنا نہ کرنا ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے اگر پردہ کرنے کا ارداہ کرلیا ہے تو پھر پورے خلوص نیت سے کریں کہ آپ کی شخصیت سے لوگ متاثر ہوں نہ کہ آپکو چلتی پھرتی ماڈل سمجھنے لگ جائیں جی میں بات کررہی ہوں آجکل کے فیشن ایبل حجاب کی کی اپ پہن کے اتنے پرکشش نہ لگنے لگ جاو کہ پردے کی ساری ۔۔۔ختم ہوجائےآج کے دور میں جو چیز میں نے نوٹ کی ہے وہ حجاب کے نام پرفتنہ
    بازار میں حجاب کے نام سے بیچا جانے والا وہ کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس کی چوڑائی عموماً ڈیڑھ فٹ اور لمبائی ڈیڑھ سے دو گز ہوتی ہے۔یہ سلائی شدہ حالت میں دستیاب ہوتا ہے۔کبھی کبھار اس کی چوڑائی زیادہ بھی ہوتی ہے لیکن یہ زائد چوڑائی بھی صرف سر کی جانب خوبصورت پلیٹس بنانے کیلئے رکھی جاتی ہے۔خیر یہ جس بھی حالت میں ہو مطلب سلا یا ان سلا یہ سر ڈھانپنے کے کام تو آسکتا ہے لیکن کسی بھی طور پر پردے کے طور یوز نہیں ہوسکتاکیونکہ پردے کا مطلب صرف بال چھپانا نہیں ہے۔
    پردے کے کچھ تقاضے ہیں دل میں حیا کی کیفیت پیدا کرنا
    خود کو ہر نا محرم کی نظر سے محفوظ رکھنے کا ارادہ کرنا۔
    ایسا لباس زیب تن کرنا جو اتنا باریک نہ ہو کہ اس میں سے جسم نظر آئے اور اتنا کھلا ہو کہ جسمانی ساخت واضح نہ ہو
    لباس میں دوپٹے کو شامل کرنا تاکہ بال گردن اور سینہ بھی ڈھانپا جاسکے۔۔
    پردے کیلئے برقعہ پہننا ضروری نہیں ہے لیکن اگر آپکا لباس پردے کے تقاضے پورے نہیں کررہا تو برقعہ پہن لیں اس سےبرقعے کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ یہ رنگ برنگے کپڑوں کو چھپا کر آپ کے پرکشش وجود کو بہتر طریقے سے ڈھانپ لیتا ہے۔لیکن اس کیلئے برقعے کا سادہ ہونا ضروری ہے زرق برق نقش و نگار والے برقعے پہننے سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے برقعے کے اوپر سے کوئی بڑا سا سکارف یا دپٹہ لیا جائے نہ کہ جدید حجاب کیونکہ کپڑے کا یہ حقیر سا ٹکڑا جب سر پہ لپیٹا جاتا ہے تو یہ بمشکل گردن تک پہنچ پاتا ہے
    پردے کیلئے تو اللّه تعالی ایسی چادر استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے جو سر سے ہوتی ہوئی گردن اور سینے کو بھی ڈھانپ لے۔یہ جدید حجاب قرآن پاک میں بیان کردہ ‘جلباب’ کے معنی ومفہوم پر کسی طور پورا نہیں اترتا۔
    لیکن اکثر دیکھتی ہوں کچھ خواتین اور لڑکیاں اسی حجاب کو پردہ سمجھتی ہیں۔اس میں ان کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ حجاب کی مارکٹینگ کرنے والے اپنی ماڈلز کو یہ حجاب کھلے کھلے برقعوں کے ساتھ پہنا کر اس فیشن کو پردہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اسی وجہ سے میں اس قسم کے حجاب کو فتنہ سمجھتی ہوں۔ میں ہر اس چیز ،عمل اور عقیدے کو فتنہ سمجھتی ہوں جو انسان کو غلط ہونے کے باوجود بھی یہ باور کروائے کہ وہ ٹھیک ہے اس کے ضمیر کو خاموش کروا دے اس کے گناہ کرنے کے احساس کو پیدا ہی نہ ہونے دے
    یہاں ایک چیز کی مزید وضاحت کرتی چلوں کے عورت کے جسمانی ساخت کو صرف وہی کپڑا چھپا سکتا ہے جو سر سے ہوتا ہوا نیچے کی جانب جائے اگر ایک کپڑے سے صرف سر ڈھانپ لیا جائے اور دوسرے کپڑے سے باقی جسم تو یہ طریقہ کار بھی شرعی پردے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ سر والے کپڑے سے ہی سینہ ڈھانپنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر آپکا پردہ آپ کو مزید پرکشش بنانے کے کام آئے گا۔اپنا ایک سٹائل رکھیں اگر حجاب لینے کا ارادہ کرلیا ہے تو مکمل سر تا پاوں خود کو با پردہ کرلیں اگر نہیں اس پر کاربند رہ سکتے تو پردے کے نام پر فیشن کرنے کے بجائے عام روٹین کے سٹائل کو ہی اپنی شخصیت کا خاصہ بنائے رکھیں

    @Farzana_Blogger

  • اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ”  تحریر: احسان الحق

    اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ” تحریر: احسان الحق

    ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا. خواتین کا کوئی مقام، عزت اور حیثیت نہیں تھی. یہ سب زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا. پھر اسلام آیا، اسلام نے خواتین کو زندہ دفن کرنے سے بچایا، خواتین کو زندگی دی. جائیداد میں حصہ دیا. عزت دی، مقام دیا، ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا. بحیثیت ماں عورت کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بحیثیت بیٹی عورت کی اچھی تعلیم و تربیت کے بدلے جنت کی بشارت دے دی. بحیثیت بیوی عورت کو اللہ تعالیٰ، رسولﷺ اور شوہر کی اطاعت کے بدلے جنت کی خوشخبری سنائی. یہ اسلام ہی ہے جس نے دوران زچگی عورت کی موت کو شہادت کا درجہ دیا. اسلام نے عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا.

    ایک جنگ میں صحابئ رسولؐ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہہ شہید ہو گئے. آپ کافی مالدار تھے. آپکی شہادت کے بعد آپکے بھائی نے تمام مال پر قبضہ کر لیا. حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی بیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور اپنی پریشانی بتائی تو اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حقوق کے لئے ایک پوری سورۃ "النساء” نازل فرما دی. اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کے تمام حقوق بیان فرما کر عورتوں کو ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کردی اور قیامت تک خواتین کے مسائل حل کر دئیے. حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ ساتھی صحابیوں سے فرماتے تھے کہ مجھ سے سورۃ النساء کے بارے میں پوچھو، اس میں عورتوں کے متعلق احکامات بیان کئے گئے ہیں. فرماتے ہیں کہ میں نے سورۃ النساء کو خصوصی اہتمام سے سیکھا ہے کیوں کہ اس میں پردے کے احکام، شادی بیاہ کے مسائل، رشتے داری کے احکام، معاشرتی اور سماجی مسائل، نکاح اور بیاہ کے مسائل اور یتیم بچی کے مسائل پر بحث کی گئی ہے. زمانہ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر بہت ظلم کیا جاتا تھا.

    پاکستان میں چند سالوں سے عورت کے حقوق کی آڑ میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے. شرعی اقدار کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے. سب سے پہلے MeToo والی کچھ طلاق یافتہ Feminist خواتین نے تحریک چلائی. اسی MeToo کی بنیاد پر متنازعہ تنظیم "عورت مارچ” معرض وجود میں آئی. تنظیم "ہم عورتیں” کی سہولت کاری اور شراکت داری سے کراچی میں 8 مارچ 2018 کو پہلی بار عورت مارچ کا انعقاد ہوا اور متنازعہ پلے کارڈز اور نعروں کی وجہ سے مارچ کی انتظامیہ اور شرکاء کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا. خواتین کے عالمی دن کے موقع پر باقاعدگی سے عورت مارچ کیا جا رہا ہے. 8 مارچ 2021 کو اسلام آباد میں ہونے والا مارچ انتہائی شرمناک اور بے ہودہ تھا. جس میں شرمناک اور غیر اخلاقی پلے کارڈز کے ساتھ ساتھ ایک گستاخانہ پلے کارڈ بھی شامل تھا جس کی بعد میں تردید کی گئی، حالانکہ وہ پلے کارڈ پوری دنیا نے دیکھا. LGBT تنظیم کا جھنڈا بھی شامل مارچ تھا. عورت مارچ کی متعدد ذیلی تنظیمیں یا سہولت کار جماعتیں بھی ہیں جیسا کہ WDF یا Women Democratic Front اور WAF مطلب Women Action Forum اور کچھ طلبہ تنظیمیں بھی شامل ہیں. ان سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے.

    اگر خواتین شرعی، اخلاقی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کریں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ سارا معاشرہ ان کا ساتھ بھی دے گا. مثلاً
    جائیداد میں حصہ
    معیاری تعلیم کے لئے مطالبہ
    جہیز کے خلاف تحریک
    مرضی کے خلاف شادی…
    خواتین کے جسمانی یا جنسی تشدد کے خلاف سزاؤں کا مطالبہ وغیرہ مگر خواتین کے نعرے اور مطالبے انتہائی فحش، بے ہودہ اور غیر اخلاقی ہیں. عورت مارچ کی خواتین کو ہر حال میں ہر وقت ہر طرح کی آزادی چاہئے.
    لاحول ولاقوة الا بالله

    اگر آپ خواتین پر سب سے زیادہ جنسی اور جسمانی زیادتی اور تشدد کرنے والے ممالک کو دیکھیں تو سب سے زیادہ واقعات وہاں ہو رہے ہیں جو ترقی یافتہ اور غیر مسلم ممالک ہیں. وہاں کوئی عورت مارچ کی تنظیم نہیں. سب سے زیادہ واقعات جنوبی افریقہ، امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے بڑے ممالک میں رونما ہوتے ہیں. جو آزاد خیال اور ملحد ممالک ہیں. پاکستان کا شمار آخری چند ممالک میں ہوتا ہے مطلب خواتین کے ساتھ ناخوشگوار واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں مگر لبرل خواتین و مرد اسلام اور اسلامی اقدار کو نشانہ بناتے ہوئے چادر اور چاردیواری کی حدود سے تجاوز کرنا چاہتے ہیں.

    پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم خواتین لبرل، اسلام دشمن یا اسلام سے دوری کی وجہ سے ناواقف یا لاعلم ہیں، یہی دو فیصد علمی یا لاعلمی میں عورت مارچ جیسی انتہائی متنازعہ، غیرشرعی اور غیر اخلاقی ریلی اور مارچ کا حصہ بنتی ہیں. یہ بات انتہائی پریشان کن اور حیران کن ہے کہ حکومت اور قوم کی بھرپور مخالفت کے باوجود باقاعدگی سے عورت مارچ کا انعقاد ہو رہا ہے اور ہر آئندہ سال گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ فحاشی اور بدتمیزی والا ہوتا ہے. عورت مارچ کے لئے کون فنڈنگ کر رہا ہے اور کس کے ذریعے فنڈنگ کر رہا ہے؟ ریاست، حکومت اور قوم اچھی طرح جانتی ہے مگر ابھی تک نتیجہ صفر ہے.

    @mian_ihsaan

  • اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ہم ایک ایسے معاشرے میں پلے بڑھے کے آجکل کے جو نئے مسلمان متعارف کروائے جارہے ہمیں لگتا جیسے ہم تو اسلام ہی نہیں جب کے حیرت کی بات یہ ہے کبھی کبھی مجھے خود پر شک ہونے لگتا کے کیا میں ایک سچا مسلمان ہوں جب جب ان نئے متعارف ہونے والے مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو اپنی پانچ وقت کی ادا کی گئی نمازوں پر شک ہونے لگتا کہ کیا میں نے جو نمازیں پڑھی میں نے ادا کی وہ غلط تھیں یا صحیح ۔
    ہمارے ماں باپ نے ہماری تربیت کچھ ایسے انداز میں کی کہ ہمیں اللہ کے بعد اپنے ماں باپ کا پھر انکے بعد اپنے مسلمان بھائی کا پھر اپنے ملک کا درد محسوس کرنا سیکھایا ۔
    یہ ہمارا کلچر کہیں یا ہمارا رہن سہن کہیں ہم تو بھئی اسی میں خوش رہنے والی قوم ہیں ۔
    ماں باپ سے سیکھا کے عورت کے ساتھ حس سلوک سے رہنا چاہیے ماں ہے تو احترام کی ہر حدیں پار کردو بیوی ہے تو "عزت ‘ محبت ” میں کوئی نہیں رہنی چاہیے اور بہن ہے تو اسکی حفاظت میں چاہیے جان بھی گنوانا پڑے تو ایک پل میں سوچے سمجھے بغیر گنوا دو ۔
    یہ سب ہمارے کلچر ہماری تہذیب اور ہماری روایات میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
    یہ جو نیا اسلام ہمیں اور ہمارے معاشرے کو سیکھانے کی کوشش کی جا رہی وہ اسلام نہیں اسے ہم لبرلزم کہیں گے تو برا نہ ہوگا ۔عورت کو معاشرے میں کونسے ایسے حقوق دلوانے کے لئے یہ خواتین سڑکوں پر اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہوئے یہ کہتی پھرتی کہ "میرا جسم میری مرضی” نظریں تیری گندی پردہ میں کروں ” لو بیٹھ گئی ” لو بتاو کہاں بیٹھ گئیں یہ محترمہ ؟ اور جب تنگ لباس پہنے دوپٹے بنا چھوٹی شرٹیں پہنے یہ سب نعرے لگاو گی تو ہر دیکھنے والے نے تم سب کو دیکھنا بھی ہے اور باتیں بھی کرنی ہے ۔اسلام ایسا تو نہیں اسلام میں عورت کا مقام ہی بہت اونچا ہے
    اللہ "سورہ نور ” کی آیت نمبر 31 مین اللہ تعالی فرماتا ہے ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کو کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے ۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں "۔
    جب اللہ نے یہ فرمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تو یہ سب کون ہیں جو ہمارے اسلام کو غلط رنگ میں ڈھال رہے ۔
    ہم ایسے معاشرے میں بڑھے اور جوان ہوئے اور آنے والی اپنی نسلوں کو بھی یہی نصیحت کریں گے کے اپنی بیوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا اگر وہ کام کرکے تھک جائے تو میں کام کرلوں تو اس سے کیا میں اپنی بیوی کا نوکر ہوگیا؟ نہیں اس رشتے کو پیار احساس اور عزت کا نام دیتے ہیں ۔
    یہ ہے میرا اسلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت اور ہم ان کی سنت پر عمل کرکے چلتے ہیں ۔اسلام میں عورت کا مقام اللہ نے بہت اونچا رکھا ۔ یہ لوگ خالی اپنی آزادی چاہتیں ہیں اور ان جیسی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

    تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ‎@Aahadpirzada

  • پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے چند حقائق   تحریر : اقصٰی صدیق

    پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے چند حقائق تحریر : اقصٰی صدیق

     1947ء کو تقسیم ہند کے موقع پر پاکستان  ہندوستان سے الگ ہو کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلایا۔تاریخ میں اس قصے کو تاریخ پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

     تقسیم ہندوستان  سے پہلے موجودہ پاکستان کا خطہ برطانوی تسلط میں تھا۔ اور اُس سے پہلے بھی اس خطے پر مختلف ادوار میں مختلف مقامی بادشاہوں اور کئ غیر ملکی طاقتوں کا راج رہا ہے۔

    پرانے وقتوں میں یہ خطہ برصغیر پاک و ہند کی کئی سلطنتوں اور چند بڑی تہذیبوں کا حصہ بنا رہا۔ اور اسی تناظر کے پیش نظر 18 ویں صدی عیسوی میں یہ سرزمین برطانوی ہند میں ڈھل گئی۔
     آل انڈیا مسلم لیگ 1906ءکے قیام سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ اس جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور اُن کی نمائندگی کرنا تھا۔
    آل انڈیا مسلم لیگ 1906ء سے لے کر 1947ء تک کی قیادت کا بنیادی مرکز دو قومی نظریہ ہی رہا ہے۔
    دو قومی نظریہ کی بنیاد برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ تھا،
    دو قومی نظریہ ہی ہماری آزادی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سر فہرست رہا۔اور اسی نظریے کو صف اول رکھتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کے مسلمان بالآخر 1947ء میں اپنے مقصد کو پانے میں سرخرو ہوگئے۔

    مسلم لیگ کے قائدین کو دو قومی نظریے سے برگشتہ کرنے اور اس نظریے کو غلط مفروضے کے طور پر پیش کرنے کے ضمن میں آل انڈیا کانگریس، دیگر ہندو تنظمیں اورہندو رہنما اپنی تمام تر کوششوں اور چالوں میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
    وہ مسلمانوں کو اپنی غلامی کے تسلط میں رکھنے کے قائل تھے۔

    مختصر یہ کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے دس سال بعد علی گڑھ مکتب کے سربراہ سرسید احمد خان نے ہندی اردو تنازعہ کے باعث 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا، اسے دو قومی نظریے کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظریے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو الگ الگ قومیں قراردیا گیا۔
    علی گڑھ کے قائدین نے دو قومی نظریے کو حقیقی انجام تک پہنچانے میں بھرپور کوششیں کیں۔

    1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین ایک اور جھگڑے نے طول پکڑا۔
    یہ جھگڑا مسلمانوں کی قومی زبان اردو کی ساکھ کے خلاف کھڑا کیا گیا، اس جھگڑے کو اردو ہندی تنازعہ 1867ء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اردو کے خلاف ہندوؤں کی تحریک ایک ناقابل فہم اور غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔جس میں انہوں نے ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ کیا۔
    1857ء کی جنگ آزادی میں بہت سے مسلمانوں نے حصہ لیا اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کیا ان مطالبات کے نتیجے میں ہی آل انڈیا کانگریس 1885ء قیام میں آئی۔

    قائداعظم محمد علی جناح اعظم نے 1906ء آل انڈیا کانگریس میں شمولیت اختیار کی جو کہ اُس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔
    محمد علی جناح دو قومی نظریہ کے حامی تھے،
    دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہی آپ نے برصغیر کے مسلمانوں ایک الگ ریاست کے حصول کیلئے لڑے،
    اس کے علاوہ آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو ہندوستان میں ایک الگ سیاسی جماعت کے طور پر منوایا۔

    غرضیکہ دو قومی نظریے کو نظریہ پاکستان میں منتقل کرنے کا سہرا آپ ہی کو جاتا ہے۔

    روشنیوں کے شہر کراچی میں جنم لینے جناح، بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی دو عشروں میں آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ اپنی سیاست کے ابتدائی ایام میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کیا۔

    شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شخصیت، اور پاکستان کے لیے غور و فکر کے نظریات کا محمد علی جناح پر بہت زیادہ اثر تھا ،اور اسی اثر کے نتیجے میں پاکستان جیسی آزاد اور خودمختار ریاست کے قائم ہونے کی راہ ہموار ہوئی اور اس اثر و رسوخ کو مورخین نے قابل ستائش اور ناقابل انکار تک لکھا۔

    29 دسمبر 1930ء کو فلسفی و شاعر، علامہ محمد اقبال نے جنوب مشرقی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ اور خود مختار ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ ایک ایسی ریاست جس میں برصغیر کے مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
    1930ء کے آخری دنوں میں مسلم لیگ نے مقبولیت حاصل کرنا شروع کی۔
    چوہدری رحمت علی نے 1933ء میں اس ریاست کا نام "پاکستان ” تجویز کیا اور مختلف علاقوں کو ملاتے ہوئے پاکستان کو ایک نقشہ کی صورت میں ڈھالا۔
    اس کے علاوہ چودھری رحمت علی نے دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنے مشہور کتابچہ Now or) (Never "ابھی یا کبھی نہیں” میں پہلی بار لفظ پاکستان استعمال کیا۔

    محمد علی جناح اقبال کی سوچ سےکافی حد تک متاثر تھے۔جس کا اندازہ 23 مارچ 1940ء کو علامہ اقبال کی ایک عوامی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔

    1930ء تک برصغیر کے اکثر مسلمان آزادی حاصل ہونے کے بعد ہندوں کے ساتھ ایک متحد مملکت میں رہنے کا خیال رکھتے تھے جیسا کہ وہ صدیوں پہلے سے ہی رہ رہے تھے۔

    1930ء میں خطبہ الہ آباد میں سر علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ آزاد ریاست کا مطالبہ کیا۔
    اقبال کا یہ خطبہ دو قومی نظریہ کا واضح عکس تھا۔
    محمد علی جناح نے اپنی تقاریر میں اقبال کے خواب کی بھرپور حمایت کی۔

    چونکہ 1857ء کی جنگ آزادی میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے انگریزوں کے خلاف لڑے تھے، لیکن اس کے بعد کچھ ہندوؤں کے نا مناسب رویے اور کچھ انگریزوں کی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی وجہ سے مسلمان اور ہندو الگ الگ قوموں کی صورت میں تقسیم ہو گئے۔ اس طرح پہلی مرتبہ برصغیر پاک و ہند میں دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی۔

    1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا رہا، اس کے برعکس مسلمان ثابت قدم رہے، اور
    جنگ آزادی کے دوران عظمت و بہادری کی کئی داستانیں رقم ہوئیں۔اس جنگ میں ناکامی کے بعد مسلمانوں سے بہت امتیازی سلوک رکھا گیا۔

    1857ء کی جنگ آزادی نے برصغیر کے مسلمانوں کے دل و دماغ میں اپنے لیے الگ ریاست کے عزم کو یقینی بنایا۔
    مسلمان ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اور انگریزوں کے تسلط سے نکلنے کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
    ان تمام حالات و مصائب میں مسلم رہنما قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، سر سید احمد خان، چوہدری رحمت علی، مولانا فضل الحق، شبلی نعمانی اور دیگر کئی نامور شخصیات مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنے میں، ان میں آزادی کا احساس پیدا کرنے میں برصغیر کے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔
    اور ایک الگ ریاست کے قیام کے لئے ڈٹے رہے،
    بالآخر 23 مارچ 1940 ء کے خطبہ آلہ آباد کے سات سال بعد مسلمان ایک الگ ریاست کے حق دار ٹھہرے۔

    تقسیم کے بعد ہندوستان برطانوی راج کی سب سے بڑی نوآبادیاتی اکثریت تھی، جبکہ اگست 1947ء میں ملک کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر دیا گیا۔

    یوں ملک کی تقسیم نے مشکلات و مصائب کا ایک طوفان کھڑا کر دیا، بہت بڑی اکثریت کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، اس ہجرت نے مسلمانوں کی ساکھ کو تباہ کر دیا۔
    لاکھوں افراد پناہ کی تلاش میں در بہ در ہوئے۔ لاکھوں محفوظ ٹھکانوں کی جانب سفر کرتے ہوئے راستے میں مارے گئے، جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ سبھی شامل تھے۔مسلمان عورتیں،غیر مسلم مردوں نے اغوا کر لیں۔

    موجودہ دور میں تقسیمِ ہند کی تلخ یادیں پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں ایک زہر کی طرح گھُلی ہوئی ہیں اور آج 70 برس بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔

    تقسیمِ ہند کی غیر منصفانہ تقسیم میں سرفہرست مسئلہ کشمیر ہے۔
    یہ تنازعہ آج تک حل نہیں ہو سکا اور موجودہ دور میں پاک و ہند تعلقات میں بڑے مسائل کو ہوا دے رہا ہے۔

    گزشتہ 70 سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آزاد مملکت کا حصول مسلمانوں کی لازوال جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے صلہ ہے۔
    برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خود مختار ریاست کے لیے جدوجہد کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔

    تحریر میں موجودہ پاکستان کی تاریخ زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو اور اس مقصد کو پا لینے کی جستجو میں وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی نہ گھبراتی ہو تو پھر کامیابی ایسی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہے۔

    یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد کی بے شمار قربانیوں کے بعد وجود میں آیا ہے، لاکھوں شہیدوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ خطہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے حاصل کیا۔تا کہ ہم اس میں اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔
    اب اس مملکت کی حفاظت کا ذمہ قائد کے جوانوں اور اقبال کے شاہینوں کے سر پر ہے۔
    ہماری نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اچھی تعلیم و تربیت حاصل کریں، تاکہ وہ آنے والے وقت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
    آپس میں مل جل کر رہیں اور ایک اچھے انسان اور شہری ہونے کا ثبوت دیں۔بھائی چارے کو فروغ دیں۔
    کیوں کہ ہم آپس میں اتحاد و اتفاق کی بنا پر ہی ملک کو ملت اسلامیہ کا روپ دے سکتے ہیں۔
    جس کا اشارہ ہمیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ جیسا کہ آپ ہی کا ایک شعر ہے،

    ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

    اگر میں اور آپ ! سب مل کر درختوں کی بریدہ شاخوں کی مانند آپس میں جڑے رہیں، زمین پر پھیلے اشجار سے رب العالمین کی تخلیق کے ہر روپ میں چھپے درد کو سمجھنا شروع کردیں گے تو کوئی ایسی طاقت نہیں جو ہمیں ہرا سکے۔

    @_aqsasiddique

  • کیسا مثالی تھا وہ حکمران…؟تحریر:جویریہ بتول


    بنو عدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے سخت مزاج عمر کو علم الانساب،تلوار زنی،گھڑ سواری،تیر اندازی اور پہلوان زنی میں خوب مہارت تھی…
    اس منفرد کردار کے مالک عمر نے جب اسلام قبول کیا تو بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی…
    اسلام قبول کر کے با آواز بلند نعرۂ تکبیر لگایا اور بیت اللّٰــــہ میں نماز ادا کی…
    وہ عمر جنہیں پیارے نبیﷺ نے اپنی زبانِ اطہر سے دنیا میں ہی جنّت کی بشارت دی…
    جن کے بارے میں فرمایا:
    عمر تو جس راستے سے گزرتا ہے،شیطان اس راستے سے بھاگ جاتا ہے…
    جن کی پردہ،حرمتِ شراب اور مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنانے کی خواہش پر قرآن نازل ہوا…
    اس عمر نے قبولِ اسلام کے بعد زندگی کا ہر لمحہ راہِ وفا میں وقف کر دیا…
    تمام غزوات میں پیارے نبیﷺ کے ساتھ رہے…
    آپ کی بیٹی ام المومنین حفصہ رضی اللّٰــــہ عنھا کا نکاح رسول اللہ صلی اللّٰــــہ علیہ وسلم سے ہونے کی وجہ سے آپ وہ عظیم صحابی ہیں جنہیں سسرِ رسول اللہ صلی اللّٰــــہ علیہ وسلم کا اعزاز بھی حاصل ہے…
    خلافتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰــــہ عنہ کے بعد آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا…
    تب اس فقیر منش انسان نے سادگی اور کردار کی وہ تاریخ رقم کی جس کی دنیا نظیر پیش نہ کر سکی…!
    راتوں کو رعایا کی خبر گیری کرنے والا…
    دودھ پیتے بچوں کا وظیفہ مقرر کرنے والا…
    نظامِ عشر…جیل خانہ جات کا قیام…تعمیرات،رفاہِ عامہ،مساجد و نہریں اور مسافر خانے بنوانے والا یہ عظیم حکمران اپنوں اور غیروں سبھی کے لیے ایک مثال بن گیا…
    سنِ ہجری کا آغاز کیا…سکہ جاری کیا…
    دمشق،یرموک،قادسیہ،مدائن اور بیت المقدس کی فتح انہی کے دَور میں ہوئی…
    اور اسلام کا پرچم چہار دانگ عالم لہراتا چلا گیا…
    وہ حکمران جس نے نہ صرف اندورنی امن و سکون کو برقرار رکھنے کے لیے امن و انصاف کا قانون نافذ کیا بلکہ سلطنتِ اسلامیہ کے دفاع اور پھیلاؤ پر بھی توجہ مرکوز رکھی…جنگی قافلوں کی روانگی،فتوحات اور تمام تر امور کی خود نگرانی کرتے تھے…
    قانون کی عملداری کا عالم یہ تھا کہ دورِ فاروق میں رعایا خیانت سے ڈرتی اور قانون کا پہلو نہ چھوڑتی تھی…!!!
    لیکن اس بے لاگ عدل کے حامل حکمران کا لاء یہ تھا کہ:
    مسلمانو!
    نہ میں بادشاہ ہوں اور نہ تم غلام ہو،البتہ خلافت کا بار میرے کندھوں پر ہے اگر تم چین و آرام سے سوؤ تو میرا فرض اَدا ہو گیا…
    یہ بات واقعتاً سچ ہے کہ اگر حکمران خود امانت دار،فرض شناس،تقویٰ کا حامل،فکرِ آخرت سے سرشار ہو تو ایسی قوموں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا…
    ان کا استحصال ناممکن بات ہوتی ہے…
    وہ کرپٹوں کے ہاتھوں نہیں لٹتے…
    ہاں پھر دولت و رشتہ داری نہیں بلکہ کردار و اہلیت چلتی ہے…!!!
    ساڑھے دس سال تک سلطنتِ اسلامی کا حکمران لوگوں کی زندگیوں میں آسانی اور انصاف کی روشنی بھرنے والا دنیا کے حکمرانوں کے لیے انمٹ مثال بن گیا…!
    کہ دنیا آج بھی عمر لاء سے استفادہ کرتی نظر آتی ہے…
    پیوند زدہ لباس پر گزارہ کرنے والا حاکم جب پارسی غلام کے خنجروں کے وار سے زخمی ہو کر جب منصبِ شہادت کی طرف بڑھنے لگا تو تاریخ وہاں بھی دنگ رہ جاتی ہے…
    پوچھا میرے قاتل کو ڈھونڈو کون ہے ؟
    بتایا گیا پارسی غلام ہے تو بولے:
    شکر ہے اللّٰه نے مجھے ایسے شخص کے ہاتھوں قتل نہیں کروایا جو خود کو مسلمان کہتا ہو…
    جب کہا گیا…
    عمر رضی اللّٰہ عنہ!
    آپ تو بہت لوگوں سے پہلے اسلام میں آئے…حاکم بنے،عدل کیا اور پھر شہادت کا رتبہ…!!!
    حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جواب دیا حکومت کی نسبت تو میری خواہش ہے کہ برابر برابر چھوٹ جاؤں کوئی وبال نہ پڑے…
    اپنے بیٹے عبداللہ کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی خدمت میں بھیج کر حجرۂ نبیﷺ میں دفن ہونے کی اجازت چاہی…
    لوگوں نے کہا امیر المومنین خلیفہ کون ہو گا…
    فرمایا:
    خلافت کا حقدار ان لوگوں سے زیادہ کوئی نہیں جن سے رسول اللہ صلی اللّٰــــہ علیہ وسلم مرتے دم تک راضی رہے پھر فرمایا…:
    عبداللہ بن عمر تمہارے ساتھ مشورے میں شریک ہو گا…مگر خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں…!!!
    آہ وہ کوئی موروثی سیاست نہ تھی کہ ہر اہل،نا اہل نوازا جاتا…!!!
    جس کا موٹو تھا کہ میرے لیے ایک جوڑا گرمی کے لیے اور ایک جاڑے کے لیے اور قریش کے ایک اوسط آدمی کے برابر معاش اپنے گھر والوں کے لیے کہ میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں…!!!
    عمر تیرے بے لاگ عدل کو میرا سلام کہ جب انسان تو رہے ایک طرف…جانوروں پر ظلم کرنے والوں سے بھی باز پرس ہوتی تھی…!
    عیسائی مؤرخ نے یونہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ اگر ایک عمر اور ہوتا تو اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب نہ پنپ سکتا…!!!
    الٰہی آج کے حکمرانوں کو بھی نقشِ عمر پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین…!!!
    (رضی اللہ عنہ)