Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    2 اگست کو دو سے ڈھائی سال کی محنت کے بعد "سنگل نیشنل کریکولم” کا صوبہ پنجاب سے آغاز کر دیا گیا. ابتدائی طور پر یہ پہلی سے پانچویں کلاس کے لیے اور اس کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہوا ہے بعد میں بتدریج ساری کلاسز اور اس کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھایا جائے گا. اس طرح صوبہ پنجاب پہلا صوبہ جس نے یکساں قومی نصاب کا اجرا کیا ہے، یقیناً وزیر تعلیم مراد راس صاحب، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ مبارکباد کے مستحق ہیں.
    یکساں نصاب تعلیم وزیراعظم عمران خان کا ذاتی طور پر بھی ایک خواب تھا اور پاکستان تحریک انصاف کا 2018 کے الیکشن کے منشور کا پہلا ایجنڈا تھا جو اب اپنی تکمیل کو پہنچا. یکساں قومی نصاب، تعلیم کے شعبہ میں انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے. اب پورے ملک میں ایک ہی یکساں نصاب پڑھایا جائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں بھی اسی نصاب کو پڑھایا جائے گا. اب سرکاری، پرائیویٹ اور مدارس کا فرق ختم ہو جائے گا. وزیراعظم عمران خان کی یہ ایک دیرینہ خواہش تھی کہ دینی مدارس کے طلباء بھی ڈاکٹر اور انجینئر بنیں اور باقی طلباء کی طرح عملی زندگی میں برابر کے مواقع حاصل کر سکیں جو کہ اب ممکن ہو سکے گا. پہلے سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کو کمزور اور پرائیویٹ اداروں کے نصاب کو معیاری سمجھا جاتا تھا، اب جب سب اداروں میں ایک ہی نصاب ہو گا تو یہ فرق ختم ہو جائے گا اور یکسانیت پیدا ہو گی جو کہ بہت اچھی بات ہے.
    یکساں تعلیمی نصاب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایلیٹ پرائیویٹ، سرکاری اور دینی مدارس کا تصور ختم ہو اور تمام طلباء ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کریں تا کہ عملی زندگی میں یکساں مواقع حاصل کر سکیں. پہلے سرکاری سکولوں کے طلباء اور والدین کسی حد تک احساسِ کمتری کا بھی شکار تھے کہ پرائیویٹ سکولوں میں تو کوئی بہت ہی معیاری اور ہم سے اچھی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، اب یکساں قومی نصاب سے یہ سب باتیں دم توڑ جائیں گی اور پوری قوم میں یکسانیت کی فضا قائم ہو گی. اس نصاب سے قوم پر بھی خوشگوار اثر ہو گا. جب تمام صوبوں کے طلباء ایک ہی نصاب پڑھیں گے تو بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا جو کہ قومی ترقی کے لئے انتہائی ضرورت ہے.
    یکساں قومی نصاب پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کی طرف پہلا قدم ہے. اس سے آگے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات اور دیگر خصوصیات کی بھی یکسانیت پر توجہ دی جانے کی ضرورت ہے تا کہ تعلیمی معیار بلند ہو اور” یکساں نظام تعلیم” کا حصول ممکن ہو. یکساں سہولیات کی فراہمی اس تصور کو ختم کرے گی کہ سرکاری سکولوں میں غریب اور مڈل کلاس فیملی کے بچے بڑھتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں ایلیٹ اور اَپر کلاس فیملی کے بچے پڑھتے ہیں. گو کہ سرکاری سکولوں میں پچھلے چند سالوں سے کافی بہتری آئی ہے لیکن ابھی بھی "کوالٹی ایجوکیشن” فراہم کرنے اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کافی ضرورت ہے. کوالٹی ایجوکیشن اور معیار تعلیم کی بہتری کے لیے جہاں تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے سہولیات کی فراہمی ضروری ہے وہاں ماہر اور قابل اساتذہ کی بھی ضرورت ہے. اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کے موجودہ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس صاحب اساتذہ کو صرف پڑھانے پر توجہ دینے کے قائل ہیں اور وہ اساتذہ سے پڑھانے کے علاوہ کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کر رہے ہیں جو کے خوش آئند بات ہے. ایسے ہی اقدامات سے ہمارے نظام تعلیم میں بہتری آ سکتی ہے.

    @ibrahimianPAK

  • آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ   تحریر : زوہیب زاہد خان

    آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ تحریر : زوہیب زاہد خان

    ہمارے ملک میں اکثریت آبادی غریب طبقے پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غریب ہے. آج کے دور میں مہنگائی شدید بڑھ رہی ہے. اسکے ساتھ غربت اور بیروزگاری میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔

    ان حالات میں اوورسیز پاکستانیوں نے ایک عالمگیر تحریک کا آغاز کیا ہے۔ جسکا نام آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ ہے۔ دنیا بھر سے کئی ہزار پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیا۔ الله کے فضل سے یہ تحریک اب دن بدن مشہور ہوتی جارہی ہے۔

    اس تحریک کے بانی و چیئرمین سید احمد ہیں۔ سید احمد پاکستان کی سب سے بڑی ویلفیئر موومنٹ پاکستان ورلڈ وائد موومنٹ کے بانی اور چیئرمین ہیں۔ انہوں نے ایک بیچ بویا تھا. اس بیچ کو کو رفتہ رفتہ لوگ پانی دیتے گئے اور آج وہ تحریک دنیا بھر کے پاکستانیوں میں ایک عالمگیر تحریک بن کر ابھر رہی ہے۔

    دنیا بھر سے پاکستانی بزنس مین، سول سوسائٹی، وکلاء، پروفیسرز، اسٹوڈنٹس اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس تحریک کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔

    سید احمد کی کاوشوں کی مرہون منت یہ تحریک اس وقت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے درمیان مشہور ہوچکی ہے۔ لوگ بڑھ چڑھ کر اس تحریک کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔

    اس تحریک کی بنیاد پاکستان کو قرضوں کے دلدل سے باہر نکالنے کیلئے رکھی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے ذریعے اس مہم میں عطیات و خطیر رقم بھیج چکے ہیں جوکہ دیامر بھاشا ڈیم اور دیگر توجہ طلب عوامی مسائل کیلئے استعمال ہوگی۔

    یہ مکمّل طور پر ایک غیرسیاسی عالمگیر تحریک ہے۔ پاکستانیوں کو چائیے اس عالمگیر تحریک آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ کا حصہ بنیں۔ اپنے ملک کی خوشحالی کیلئے اس تحریک کا ساتھ دیں۔

    الله رب العالمین کے فضل سے اس تحریک کے عروج میں پاکستان کے نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔ وجاہت سمیع اس تحریک کی مرکزی یوتھ ونگ کے سربراہ ہیں۔ جنہوں نے نوجوان نسل کو موومنٹ کا حصہ بننے کی ترغیب دی. وجاہت سمیع، شکیل احمد، نور وہاب اور دیگر ساتھیوں کی شب وروز کی محنت سے یہ تحریک پاکستان بھر میں بھی عام ہورہی ہے۔

    انشاءاللہ 14 اگست کو یوم پاکستان کے موقع پر آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ کا اسلام آباد میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوگا۔ جس میں بانی و چیئرمین سید احمد خصوصی شرکت کریں گے۔ اس جلسے اور تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے وجاہت سمیع اور انکے ساتھی بھرپور محنت کررہے ہیں۔

    انشاءاللہ ہم پرامید ہیں آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ کی کوششوں سے اور اوروسیز پاکستانیوں کے تعاون سے پاکستان قرض کے دلدل سے نکلے گا اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

    سونی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد🇵🇰🇵🇰

    Written by : @ZohaibZahidKhan

  • بچوں پر سختی کے برے اثرات  تحریر: علی رضا بخاری

    بچوں پر سختی کے برے اثرات تحریر: علی رضا بخاری

    آج کل بچوں پر بہت سختی کی جاتی ہے اور اس سختی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں۔

    بچے پر سختی کرنے اسے وہ آپ سے دور ہو جائے گا، غصہ کرے گا اور ضدی بن جاۓ گا اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا۔

    سب سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جو کام بھی کر رہا ہے اچھا کر رہا ہے یا برا کر رہا ہے اگر برا کر رہا ہے تو آپ کا كام اسے سمجھنا ہے، مثلاً وہ گالی دے رہا ہے تو آپ اسے پیار سے سمجھائیں کہ گالی دینا بری بات ہوتی ہے اگر وہ پڑھ نہیں رہا تو آپ اس پر یہ زور نہ دیں کہ بس پڑھو پڑھو پڑھو اس سے اس کے دماغ پر اچھا اثر نہیں پڑے گا، اگر وہ پڑھتا نہیں تو آپ اسے پیار سے پڑھائی کے فائدے بتائیں کہ آپ پڑھ لکھ کر کیا بن سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر کہ ایک اچھا انسان بن سکتے ہیں۔

    اب اگر بچہ ضد کر رہا ہوتا ہے یا آپ کی بات نہیں مان رہا ہوتا تو آپ اسے آنکھیں دکھاتے ہیں اور اس کا بچہ پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب سکول میں کوئی بچہ اس کی بات نہیں مانتا تو وہ اسے آنکھیں دکھائے گا، چلائے گا، ہاتھ اٹھائے گا کیوں کے یہ سب اس نے آپ سے سیکھا ہے۔

    اسلام میں ہے کہ بچہ جب سات سال کا ہو اسے نماز کیلئے کہا جائے نماز کے فائدے بتائے جائیں اور اگر دس سال کی عمر تک نماز نہ پڑھے تو پھر سختی کرنی چاہئے، لیکن آپ تو ڈھائی، تین سال کے بچے پر سکتی کر رہے ہیں اس عمر میں سختی کے بچے کے ذہن پر کیا اثرات پڑیں گے کبھی سوچا ہے؟ جب اسلام میں اتنی سختی نہیں تو آپ کیوں کر رہے ہیں، کیا سکول نماز سے زیادہ اہم ہے؟ اور کچھ نہیں بس آپ اتنی کم عمر میں سختی کر کے بچے کو ذہنی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔

    سختی کرنے سے بچہ غصہ کرے گا، آپ سے دور بھاگے گا اور سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا، پھر وہ آگے چل کر آپ کی طرح اپنی بات منوانے کیلئے آنکھیں دکھائے گا، غصہ کرے گا، چیخے گا، چلائے گا یعنی آگے چل کر وہ وہی کرے گا جو آپ سے سیکھے گا، لہٰذا بچپن میں بچوں سے پیار کریں کیونکہ وہی عمر ان کے سیکھنے کی ہوتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • والدین کا بچوں پر ذہنی دباٶ تحریر : ثمرہ مصطفی

    والدین کا بچوں پر ذہنی دباٶ تحریر : ثمرہ مصطفی

    انسان کی زندگی بہت خوبصورت ہے اور بچپن اسکا خوبصورت حصہ ہے.بچے پھول کےپتوں کیطرح نازک ہوتے ہیں   اور والدین کا بچوں کی پرورش میں اہم کردار ہے.والدین کا اولین فریضہ ہے کہ وہ بچوں میں خود کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کریں .بچوں کو دوسروں کے سامنے ،گوار،نالاٸق جیسے ناموں سے بلانے سے ان پہ ذہنی دباٶ پیدا ہوتا ہے.جس سے انکی شخصیت متاثر ہوتی ہے.والدین اپنی خامیوں کو چھپانے  کیلے بچوں کو ایک آلہ کی طرح استعمال کرتے ہیں اور   انکی   خواہشات کو پورا کرنے کیلے بچے اپنی جان لگا دیتے ہیں جسکی وجہ سےانہیں ذہنی اورنفسیاتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے.اگر بچے فیل ہوجاٸیں یا کوٸ غلطی کریں.تو والدین انکو ڈانٹنا شروع کردیتے ہیں جس وجہ سے بچے ناامید ہوجاتے ہیں ڈانٹنے کی بجاۓ اگر والدین بچے کو پیار سے سمجھاٸیں تو اس میں اعتماد پیدا ہوگا.گھر اور والدین بچے کی پہلی درسگاہ ہوتے ہیں گھر بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتاہے.اس لیے اگر بچوں کو انکی ذہانت اور صلاحیت کے مطابق ماحول نہ ملے تو انکی ترقی کی رفتار کم ہوجاتی ہے.جیسے کہ اگر کوٸ بچہ فیشن  ڈیزاٸننگ کرنا چاتا ہے اور اسے زبردستی میڈیکل پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے.والدین بچوں کی پسند پر اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں .والدین اپنے بچوں کا موازنہ کرتے ہیں اور انہیں نالاٸق ،بےوقوف ہونے یا پھر کہا جاتا ہے فلاں تم سے بہتر ہے جسکی وہ ذہنی کشمکش ،ڈپریشن،مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے انکے ذہن  میں خودکشی ،ناامیدی ،گھرچھوڑنے ، جیسے خیلات پیدا ہونے لگتے ہیں اور انکا دل بیزار ہوجاتا ہے اور وہ روزمرہ کے کام بھی ٹھیک سے نہیں کر پاتے .اگر والدین بچوں کے دوست بن کر انکی بات سنیں تو بچوں اور خود کو اس طرح کی اذیت سا بچا سکتے ہیں .والدین کو بچوں سے پیار سے پیش آنا چاہیے اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انکی ناجائز خواہشات پوری کریں بلکہ وہ انکے ساتھ کچھ اچھا وقت گزاریں کچھ انکی سمجھیں اور کچھ اپنی سمجھاٸیں .مصروفیات میں سے تھوڑا وقت بچوں کیلے نکالیں .انکی سکول کی سرگرمیوں کا جاٸزہ لیں انکی ٹیچر سے پوچھتے رہیں کلاس میں کیسی کارکردگی ہے اور بچے کو پیار سے سمجھاٸیں بجاۓ اسکے کہ ڈانٹنے لگ جاٸیں .والدین کو بچوں کا دوست بن کے رہنا چاہٸے ناکے حکمران.اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کریں پوشیدہ محبت کی بجاۓ والدین کی محبت اور حوصلہ  بچوں میں جوش ولولہ پیدا کرتی ہےاور ان میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے.والدین اپنی خوہشات کو پورا کرنے کیلے بچوں کو ایسی ایکٹیویٹز کرواتے ہیں جس میں انکی کوٸ دلچسچی نہیں ہوتی جس سے بچوں پرپریشر پڑتا ہے اور وہ ذہنی دباٶ کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ ظلم ہے محبت نہیں . اسکے بجاۓ  والدین کو چاہے  پیار خلوص سے حوصلہ افزاٸی کریں. والدین کی ہر وقت الزام تراشی اور حاکمانہ رویہ بچوں کیلے ناقابل برداشت ہےاس وجہ سے بچے بے چین رہتے ہیں.جب والدین ہر وقت ڈانٹتے رہیں گے اور بچوں کو انکی ناکامیوں اور کمیوں کا احساس دلاتے رہیں گے تو اس سے بچوں کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ مایوس ہو جاتے ہیں .اب یہ والدین کہ ہاتھوں میں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مضبوط بنا کر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں یا کمزور بنا کہ انکی وہی الجھن میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں.
    اس لیے والدین کو چاہے بچوں کو وقت دیں انکی کامیابی پر انہیں شاباش دیں اور غلطیوں پر پیار سے سمجھاٸیں .بچے کس بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں .بچے کی اچھی تربیت نہ صرف خاندان سنوارتی ہے بلکہ ملک و قوم کی خوشخالی کیلے بھی مثبت ثابت ہوتی ہے. 
    @Samra_Mustafa_

  • پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    دہشت گردی افراد، گروہوں اور گورنمنٹ کے خلاف سیاسی یا دوسرے مقاصد کے حصول کیلئے طاقت اور دھمکیوں کا استعمال ہے دہشتگردی کشت و خون کا کھیل ہے جس میں دھماکوں اور قتل و غارت کے ذریعے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اور عوام کو خوفزدہ کیا جاتا ہے دہشت گردی میں جدید سے جدید اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اور ملک میں بھیانک صورت حال پیدا ہو جائے۔
    موجودہ دور میں دہشت گردی اور دھماکے کے ایک منظم عمل بن چکے ہیں آج کل دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں جہاں دہشت گرد تنظیمیں نہ ہوں،
    ایشیائی ممالک میں ان تنظیموں کی بھرمار ہے ہمارے ملک میں بھی ان تنظیموں کا سلسلہ بہت وسیع ہے دنیا کے مختلف دہشت گرد تنظیمیں "را”
    کے جی بی، سی آئی اے اور موساد ہیں۔
    پاکستان تو ان کا خاص نشانہ ہے اپریل انیس سو اٹھاسی میں ان تنظیموں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں راکٹ برسائے جن سے سیکڑوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے،لاکھوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا عمارتیں زمین بوس ہو گئی سڑکوں پر چلتی ہوئی گاڑیوں پر مزائل گرنے سے بے شمار لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے اور اجڑی کیمپ کے نام سے مشہور فوجی ڈپو میں دھماکے ہوئے جن سے ڈپو میں موجود اسلحہ برباد ہوگیا۔۔۔
    دہشت گرد تنظیمیں بڑی مضبوط اور طاقتور ہوتی ہیں بعض اوقات ان تنظیموں کو غیرملکی حکومتیں بھی امداد فراہم کرتی ہیں انہیں خطیر رقم اور جدید ترین اسلحہ دیتی ہیں بعض اوقات دہشتگرد ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کے روپ میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہیں،
    دہشتگردی کا مقصد عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانا ہوتا ہے تاکہ ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں پاکستان میں تو یہ لعنت وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے یہاں تو آئے دن دہشتگردی اور دھماکے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں ہمارا نا قابل تلافی نقصان ہوتا رہتا ہے اس دہشت گرد نے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر صدر ضیاءالحق تک اور دوسرے ایک کئی علماء،وکلاء،ججوں اور سیاستدانوں کو بھی نہ چھوڑا۔
    قومی اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جن کو کام ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنا اور اہم ا امیر شخصیات کو اغوا کرنا ہے اس قسم کے دہشتگرد تاوان کے طور پر بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اگر یہ تعاون ادا نہ کیا جائے تو یہ اغوا کیے ہوئے افراد کو قتل کر دیتے ہیں،
    دہشت گردی کو بہت ہی محتاط انداز میں چیک کرنا چاہیے حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی لوگوں کو بزور طاقت پر ملک چھوڑنے پر مجبور کرے دہشت گردی کے سلسلے میں حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ ملک میں آئے ہوئے مہاجرین کو ان کے کیمپوں میں میں محصور رکھیں تاکہ وہ ملک میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہ کر سکیں،
    نیز حکومت کے پاس ایسی پوشیدہ سروس ہونی چاہیے جو ہر قسم کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتی رہے علاوہ ازیں حکومت کو پولیس، فوج، رینجرز اور دیگر رضاکار تنظیموں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی عمدہ قسم کے اقدامات کرنے چاہیے۔
    اب پہلے سے کہی گناہ زیادہ پاکستان کی انٹیلی جنٹس الرٹ ہیں کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا اور اگر کوئی ایسی جرات کر بھی لے تو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے
    پاکستان میں الحمد اللہ دہشت گردی تقریبا ختم ہو چکی ہے اس امن کے حصول کیلئے ہر ادارے نے اپنا نمایاں کردار ادا کیا،
    اللّه پاک اس ملک خداداد کی حفاظت فرمائے تا قیامت اور ملک میں اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر قوتوں کو تباہ و برباد کریں۔

    @SyedUmair95

  • صلاح الدین ایوبی پیدا کیے جاتے ہیں-تحریر قاسم ظہیر

    صلاح الدین ایوبی پیدا کیے جاتے ہیں-تحریر قاسم ظہیر

    دیکھا جائے تو ہماری قوم عوام کے بہت المیے ہیں جن میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر وقت منتظر رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارا کام کرے آئے اور ہماری ذمہ داری لے کوئی آئے اور یہ فیصلہ کرے کوئی آئے اور ہمارے کندھوں سے بوجھ ہلکا کرے لیکن ہم نے کچھ نہیں کرنا اگر ماضی کی کتاب کے اوراق الٹ کر دیکھا جائے تو ہمارا ایک عظیم الشان ماضی تھا ہم کیا تھے ہم لوگ کٹی پتنگ نہ تھے ہم لوگوں کے آگے ضابطہ حیات تھا ہمارا ایک مقصد تھا آگے بڑھنے کا ہم یہاں پر کسی کام کے آئے تھے جو ہمیں اکثر بھلا چکے ہیں
    دنیا میں کوئی قوم یا لوگ جب بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں تو وہ اپنی محنت لگن اور جستجو کی بنا پر آئے ہیں مسلسل کوشش ان کو اوپر لے کر آئی ہے ہم لوگ کس کے منتظر ہیں محمد بن قاسم صلاح الدین ایوبی طارق بن زیاد یہ لوگ پیدا نہیں ہوئے یہ پیدا کیے گئے حالات و واقعات اور ضرورت نے ان کو پیدا کیا اسلام کو ان کی ضرورت تھی دین ملک و قوم کو ان کی ضرورت تھی آج ہم بحیثیت قوم کہاں پر کھڑے ہیں ہمارا کیا کردار ہے اس سب میں ہم کیا کر رہے ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں
    آج کا مسلمان نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ تعلیمی تحقیقی اور تکنیکی میدان میں بھی مشرکوں سے پیچھے ہے اس کی کیا وجہ ہے ہم لوگ کیوں پیچھے رہ گئے نہ ہم دین کے رہے نہ دنیا کے نہ ہمارا اسلام اور دین پر عمل کامل ہے ورنہ ہمارے دنیا کے کاموں میں کوئی حیثیت ہے جس کی وجہ سے نہ ہمیں دنیا میں عزت مل رہی ہے اور نہ آخرت میں ہمارا مقام ہوگا
    ایک بہن کی آواز پر محمد بن قاسم عرب سے دوڑا چلا ایا طارق بن زیاد نے اپنی غیرت عزت اور اسلام کو تقویت بخشنے کی خاطر سمندر کے کنارے پر کشتیاں جلا دی اس نے یہ جان لیا کہ یہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہے واپس جانے میں اس کی اپنی جان کی بقا تو ہوسکتی تھی لیکن دنیا دین اور آخرت کی بقااس میں نہ تھی اسے پتہ تھا کہ اگر اسلام کو عزت و احترام اور رتبہ بخشنا ہے تو کشتیاں جلا نہیں پڑے گی اسی پر منحصر ہونا پڑے گا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جیت کا گر جیت گئے تو پوری دنیا ہماری ہے اور اگر ہار گئے تو پھر بھی عزت سے سر کروائیں گے نہ کہ غیر کے قدموں میں پڑے رہیں گے
    ہم ایک شاندار ماضی کے مالک ہیں لیکن ہمارا حال اور مستقبل بالکل اس چیز سے منسلک نہیں ہے
    دنیا کی چھوٹی چھوٹی اقوام نے محنت لگن اور جستجو کے بل پر اپنی عزت کا لوہا منوایا لیکن ہم کثرت ہونے کے باوجود خوار ہو رہے ہیں اس کے پیچھے کیا وجہ ہے کچھ وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہے بے مقصد کی چیزوں پر اپنی توانائیاں صرف کرنا ہمارا نوجوان اقبال کا شاہین یہ شاہین جو کبھی مردہ گوشت نہ کھایا کرتا تھا آج اس کا مشغلہ صرف ایک ٹک ٹاک اور فضول کے کام ہے جن کا نہ کوئی فائدہ اور نہ کچھ اخذ ہے جس کی وجہ سے ہماری آنے والی نسل پر بہت منفی اثرات پڑ رہے ہیں

    @QasimZaheer3

  • دیسی لبرلز کی وارداتیں تحریر : نعمان سرور ملک

    دیسی لبرلز کی وارداتیں تحریر : نعمان سرور ملک

    پاکستان میں دیسی لبرلز کی تعداد گو آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن ان کا اتحاد ان کا گٹھ جوڑ آپ کو باقی طبقے سے زیادہ نظر آتا ہے، دیسی لبرلز پاکستان میں کئی سالوں سے کسی نہ کسی طرح موجود تو تھے ہیں لیکن سن 2000 کے بعد یہ ایک پیشہ بن گیا،
    آپ سوچ رہے ہونگے پیشہ کیسے ؟؟؟
    تو چلئے۔۔آپ کو بتاتے ہیں۔۔۔
    ہمارے جتنے بھی دیسی لبرلز ہیں یہ تمام کسی نہ کسی طرح بیرون ملک ایجنسیوں سے پیسے لے کر ملک کے خلاف کام کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔
    پہلے ان کا طریقہ واردات یہ تھا کے یہ لوگ این جی اوز بناتے تھے ان کے نام پر فنڈ لیتے تھے اور ان فنڈز کا دس فیصد لگا کر باقی سارا جیب میں۔۔۔
    اس طرح یہ لوگ تحقیقاتی ایجنسیوں سے بھی بچ جاتے تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے تھے لیکن یہ طریقہ وقت کے ساتھ پرانا ہوگیا اب ان لوگوں نے اپنا طریقہ واردات تبدیل کر لیا ہے۔
    اب یہ لوگ پرانے طریقے کے ساتھ نئے طریقے بھی متعارف کرا چکے ہیں جن میں ایک بڑا طریقہ یہ ہے کے یہ لوگ بیرون ملک سیاسی پناہ لے کر وہاں سے ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں کئی دیسی لبرلز یہ کام کر چکے ہیں کئی اس پر کام کر رہے ہیں اور کئی مستقبل میں یہ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں گلا لئی اسماعیل وقاص گورایہ اور اس طرح کے کئی اور لوگ بھی ہیں۔
    اب سوال یہ ہے کے سیاسی پناہ سے انہیں ملتا کیا ہے؟؟؟
    سیاسی پناہ بنیادی طور پر ان کی بیرون ملک رہائش اور ماہانہ آمدن ہوتی ہے جس کا انتظام بیرون ملک کی ایجنسیاں ان کو کر کے دیتی ہیں تاکہ یہ لوگ ان کا کام جاری رکھ سکیں۔
    صرف کینیڈا کی بات کریں تو وہاں پر سیاسی پناہ کے فوائد میں گھر،تعلیم،صحت کے علاوہ ان لوگوں کو مختلف چیزوں کی مد میں حکومت کے طرف سے پیسے دییے جاتے ہیں۔ یہ لوگ وہاں رہ کر کوئی کام نہیں کرتے سوائے ملک دشمنی کے اور ملک کو بدنام کرنے کے اور اس مد میں لاکھوں روپے یہ لوگ کماتے ہیں وہ الگ بات ہے کے یہ لوگ حرام حلال آمدنی کا فرق نہیں کر سکتے۔
    دیسی لبرل ملک میں رہ کر اپنے آپ کو یہاں پر بیرون ملک کے نام نہاد خبر رساں اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور اس مد میں لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں اور اس طرح یہ لوگ تحقیقات سے بچ جاتے ہیں اور اگر ان سے کوئی سوال کرلے تو یہ لوگ آذادی اظہار رائے کا منجن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔
    دنیا بھر میں ہزاروں ایسے نیوز چینلز اور ویب سائٹس ہیں جو ایک ملک کی ایجنسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرتی ہے جس کی حالیہ نشاندہی دی انڈین کرونکل رپورٹ میں کی گئی۔ ایسی نیوز ایجنسیاں ان دیسی لبرلز کو پالتی ہیں۔
    دیسی لبرل کا ایک اور طریقہ واردات یہ ہے کے یہ لوگ ملک دشمن سیاسی پارٹیوں کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں کرتے وہاں کچھ نہیں بس یہ ان کا فنڈنگ سورس ہوتا ہے تازہ مثال اس کی پی ٹی ایم جیسی جماعتیں ہیں۔
    دیسی لبرلز کی پہچان بہت آسان ہے یہ لوگ آپ کو پاکستان میں موجود بیرونی ممالک کے سفارت خانوں کی محفلوں میں اکثر پائے جاتے ہیں اورمحفل کے آخر می شراب کی بوتلیں چھپا کر ساتھ لے جاتے نظر آتے ہیں یا اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں آدھی پتلون کے ساتھ سستا سا سگریٹ لگا کر اپنے آپ کو "جان شلبے” سمجھتے نظر آئیں گے، یا آپ ٹویٹر پر دیکھیں تو آپ کو منافقت کا بورڈ ہاتھ میں لئے یہ لوگ نظر آ جاتے ہیں، یہ لوگ سارا سال کے ایف سی اور مکڈونلڈ کی مرغیاں پھاڑتے ہیں،ان میں موجود سرخے مردان کے چپلی کبابوں کی تصویریں خود ٹویٹس کرتے ہیں لیکن جب عیدالضحی کا موقع آتا ہے تو اسلام دشمنی میں یہ لوگ جانوروں کو اپنا "خالو” بنا لیتے ہیں ان کی منافقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس پر جتنا لکھو اتنا کم ہے آنے والی تحریروں میں اس پر مزید روشنی ڈالونگا آخر میں دیسی لبرلز کے لئے اتنا ہی کہونگا۔
    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

    @Nomysahir

  • بھارتي سازشيں ناکام، کشميرپريميئرليگ کےشيڈول کااعلان تحریر: انيلا سلطان

    بھارتي سازشيں ناکام، کشميرپريميئرليگ کےشيڈول کااعلان تحریر: انيلا سلطان

    بھارتي کرکٹ بورڈ ( بي سي سي آئي) نے کشمير پريميئر ليگ کے انعقاد کو روکنے کيلئے سر دھڑ کي بازي لگائي، کبھي غير ملکي کھلاڑيوں کو دھمکياں ديں کبھي انٹرنيشنل کرکٹ کونسل ( آئي سي سي ) کو ليگ روکنے کيلئے خط لکھا مگر بھارت کي تمام سازشيں ناکام ہوئيں۔ بھارتي کرکٹ بورڈ کي رکاوٹوں کے باوجود کشمير پريميئر ليگ کے شيڈول کا اعلان کرديا گيا ہے۔ ليگ 6 سے 17 اگست تک مظفرآباد کے خوبصورت اسٹيڈيم ميں منعقد ہوگي۔ ايونٹ ميں مجموعي طورپر 29 ميچزکھيلے جائيں گے۔ جس ميں 12 ميچز ڈے نائٹ شيڈول ہيں۔ کشمير پريميئر ليگ کے پہلے سيزن کا افتتاحي ميچ شاہد اؔٓفريدي کي راولاکوٹ اورشعيب ملک کي ميرپور رائلز کے درميان ہوگا۔ کشمیر پریمیئر لیگ کے افتتاحی سیزن میں کھیلنے والی چھ ٹیموں میں سے پانچ ٹیمیں آزاد کشمیر کی ہیں جبکہ چھٹی ٹیم باہر کے علاقے سے ہے۔

    پاکستان دشمني ميں اندھي مودي سرکار نے ايونٹ کو ناکام بنانے کيلئے بہت کوششيں کي۔ جنوبي افريقي کرکٹر ہرشل گبز کو دھمکياں دي مگر گبز نے بھارتي سازش پوري دنيا ميں بے نقاب کردي۔ ٹویٹ میں کہا بھارتی بورڈ نے دباؤ ڈال کر ” کے پی ایل” میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جومضحکہ خیز ہے۔ گبز نے کہا کہ دھمکی دی گئی کہ اگر پاکستان کي ليگ ميں حصہ ليا تو آئندہ بھارت ميں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کا کھیل میں سیاسی ایجنڈا لانا غیر ضروری ہے۔ بھارت کي دھمکياں صرف گبز تک ہي محدود نہيں رہي بھارتي بورڈ کا اگلا نشانہ انگلينڈ کے سابق اسپنر مونٹي پنيسر تھے۔ سابق انگلش اسپنر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بی سی سی آئی نے تمام کرکٹ بورڈز کو کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں کھلاڑیوں کو نا بھیجنے کا کہا ہے۔ انگلش بورڈ نے مجھے بتایا ہے کہ کے پی ایل کھیلنے کی صورت میں بھارتی ویزہ نہیں ملے گا، بھارتي دھمکيوں کے بعد مونٹي پنيسر کشمير پريميئر ليگ سے دستبردار ہوگئے۔ دوسری جانب بھارت کی دھمکیوں کے باوجود سابق سری لنکن کپتان تلکارتنے دلشان نے کے پی ایل کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے کشمیرپریمئیرلیگ کو ”نامنظور” کروانے کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو درخواست بھي دي۔ جس ميں بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کے رکن ممالک کو بھی کشمیر لیگ کے بائیکاٹ کا کہا ہے مگر آئي سي سي نے بھارت کي ايک نہ سني اور بھارتي بورڈ کي درخواست مسترد کردي۔ آئی سی سی کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کو پاکستان کرکٹ بورڈ( پي سي بي ) نے منظور کیا ہے، غیرانٹرنیشنل کرکٹ کی منظوری یا غیر منظوری آئی سی سی کا دائرہ اختیار نہیں۔

    بھارتی بورڈ کی دھمکیوں پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اس معاملے کو آئی سی سی کے فورم پر اٹھائيں گے ايسے طرز عمل کو برداشت نہيں کيا جاسکتا۔ پی سی بی نے کہا کہ اس طرح کا قدم اٹھا کر بھارت نے کھیل کے بین الاقوامی معیار اور جنٹل مین گیم کی روح کو پامال کیا ہے۔ بي سي سي آئي نے غيرملکي کھلاڑيوں کو روک کر کھيل کو بدنام کيا۔ يہ طرز عمل کسي بھي طور پر قابل قبول نہيں

    بھارتي بورڈ کي سازشيں کشمير پريميئر ليگ کا پہلا ايڈٰيشن منسوخ تو نہ کراسکي مگر بھارت کي دھمکيوں سے ڈر کر کئي غير ملکي کھلاڑيوں نے ليگ ميں شرکت سے انکار کرديا۔ کشمير پريميئر ليگ کا پہلا ايڈيشن 6 اگست سے مظفر آباد ميں شروع ہوگا۔

  • خلافت، ملوکیت اور ریاست تحریر جواد یوسف زئی

    خلافت، ملوکیت اور ریاست تحریر جواد یوسف زئی

    حضورؐ خدا کے نبی تھے اور وہ انسانی معاشرے کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے۔ وہ رسولوں کے ایک طویل سلسلے کی آخری کڑی تھے۔ آپؐ نے ضمنی طور پر معاشرے کے سیاسی امور کو نمٹایا اور ان کے بارے میں ہدایات بھی دیں۔ تاہم آپ بطور حکمراں زیادہ تر وحی پر انحصار کرتے تھے۔ آپؐ کی بعثت کے وقت جزیرہ نمائے عرب اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر تھا۔ ہزاروں سال کم آبادی اور بدویت کی حالت میں رہنے کے بعد یہاں دو شہری آبادیاں، مکہ اور یثرب بن چکی تھیں۔ شہری آبادیوں کے انتظام کے لیے باقاعدہ ریاستی ڈھانچے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ روایت ہے کہ یثرب میں ایک شخص عبد اللہ ابن اُبی کو بادشاہ بنانے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ ادھر مکہ میں قریش کی قبائلی بادشاہت قائم ہونے کے امکانات پیدا ہورہے تھے۔ یہی حالات تھے جن میں سرکردہ لوگوں نے اسلام کے پیعام کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا۔
    بہر حال حضورؐ کے ہاتھوں جزیرہ نمائے عرب کی پہلی ریاست کا قیام عمل یں آیا۔ یہ ریاست اپنے ظاہری خد و خال کے لحاظ سے قبائلی تھی۔ اس کی قیادت ایک قبلیے قریش کے ہاتھ میں رہی۔ حضورؐ کے فرمان "الائمۃ من القریش” کا مفہوم یہی تھا۔ لیکن ریاست کی روح آئینی تھی۔ یعنی اس کا قیام کسی فرد یا قبیلے کی شان و شوکت میں اضافے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں کی سربلندی کے لیے تھا۔ آپؐ کی وفات کے بعد قبائلی مشورے سے ریاست کے نظام کو انہی خطوط پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ اس کا ظاہری ڈھانچہ قبائلی رہا اور روح آئینی۔ خلافت راشدہ کے ابتدائی سالوں کے دوران فتوحات کے سبب ریاست کی وسعت تیزی سے بڑھی اور یہ ایک عظیم سلطنت بن گئی جس میں سینکڑوں تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد تھے۔ اتنی بڑی سلطنت کا انتظام قبائلی شوریٰ کے ذریعے کرنے میں دشواریاں پیش آنے لگیں۔ حضرت عمرؓ کی طاقتور شخصیت نے حالات کو سنبھالے رکھا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد مسائل نے سر اُٹھانا شروع کیا۔ ان کا نتیجہ بالاخر حضرت عثمانؓ کی شہادت کی صورت میں نکلا۔
    حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد قریش کی قبائلی ریاست رفتہ رفتہ شہنشاہیت کی طرف سرکنے لگی۔ یہ پراسیس بالاخر حضرت علی کی شہادت تک پہنچ کر مکمل ہوا۔ بنو امیہ کی ریاست ایک مکمل شہنشاہیت تھی۔ مملکت کے قبائلی نظام سے شہنشاہیت میں تبدیلی کے ساتھ مشاورت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اور ساتھ ریاست کی ائینی حیثیت کا بھی۔ جب سارا قتدار ایک فرد واحد کے ہاتھ میں آگیا تو اسے کسی کے مشورے یا قوانین کی پابندی کی ضرورت نہیں رہی۔ اب اس کی مرضی کا نام قانون تھا۔ اُس زمانے میں دنیا میں ریاست کی یہی دو شکلیں یعنی قبائلی بادشاہت اور شہنشاہیت مروج تھیں۔ جمہوریت کے تجربے قدیم یونان کی شہری ریاستوں میں ہوئے تھے لیکن وہ زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ چنانچہ اسلام نے جو ریاست قائم کی اس کی ظاہری شکل و صورت بھی انہی دو شکلوں تک محدود رہی۔ جدید دور میں جب قومی ریاستوں اور جمہوری طرز حکومت کا رواج ہوا تو مسلم ریاستوں نے اس کو بھی ازما کر دیکھا۔ اس کی مثالیں پاکستان اور دیگر مسلم ملکوں کی ہے۔ یعنی اسلامی ریاست قبائلی بادشاہت، شہنشاہیت یا قومی ریاست میں سے کسی بھی شکل میں ہوسکتی ہے۔
    اب رہا یہ سوال کہ بنو امیہ اور بنو عباس کی شہنشاہیت نیز پاکستان کی قومی ریاست کتنی اسلامی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ریاست انسانوں کا بنایا ہوا ایک ادارہ ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ناقص ہوتی ہے یعنی اپنے آئیڈیل کے ہو بہو مطابق نہیں۔ یاد رہے کہ خلافت راشدہ کا آخری دور شروع کے دور سے کافی مختلف تھا۔
    یہ انسانی تاریخ کے مسائل ہیں۔ ان پر علم تاریخ اور بشریات کے اصولوں کے تحت بحث مباحثہ ہوسکتا ہے۔ اس پر سائینسی طریقہ کار کے تحت تحقیق ہوسکتی ہے۔ یہ اعتقادی معاملہ ہر گز نہیں، جیتے جاگتے انسانوں کی تاریخ ہے۔ اس کی طرف ہم اپنی انکھیں بند بھی کرلیں تو دوسرے لوگ تحیقیق کرتے رہیں گے۔
    ہمارے سامنے معاشرتی آئڈیل ہونے چاہیں اور ہمِیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آئیڈیل کبھی نکمل طور پر حاصل نہیں ہوتا۔

    یہ سارا پراسیس کسی سازش (اندرونی یا بیرونی) سے زیادہ تاریخی ارتقا کا نتیجہ تھا۔ انسانی تاریخ میں جہاں کہیں ریاست قائم ہوئی ہے، اسی طریقے سے ہوئی ہے۔ یعنی ایک قبیلہ طاقت پکڑتا ہے تو اردگرد کے قبیلوں پر اپنا اقتدار قائم کرلیتا ہے۔ اس طرح قبائلی بادشاہت وجود میں اتی ہے۔ قبائلی بادشاہ مطلق العنان نہیں بلکہ قبائلی سرداروں کے مشورے کا پابند ہوتا ہے۔ لیکن جب مزید فتوحات کی وجہ سے بادشاہت کی حدود بہت بڑھ جاتی ہیں تو ایک قبیلے کے ذریعے اسے سنبھالنا ممکن نہیں ہوتا۔ اُس وقت شہنشاہیت وجود میں آجاتی ہے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • ریاستِ مدینہ تحریر: سلمان الیاس

    ریاستِ مدینہ تحریر: سلمان الیاس

    ‏ریاستِ مدینہ وہ اسلامی فلاحی ریاست تھی جو ٭حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭کی قائدانہ صلاحیتوں کا ایک نمونہ تھا ۔جنہیں بنانے اور قائم رکھنے میں بہت سے "اصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین "نے اپنی جانیں قربان کی تھی۔

    اور ایک ایسا ریاست قائم کیا تھا ۔جو اسلام کا ایک قلعہ تھا جہاں کے حکمران اور رعایہ اللہ سے ڈرنے والے تھے
    جہاں انصاف ہر امیر غریب مسلم غیر مسلم کے لئے یکسا تھا۔ہر کسی کو مذہبی آذادی تھی مظلوم کے لئے ایک مضبوط پنا گاہ تھی ۔ظالم کے لئے ایک دھشت کی علامت تھی ۔جہاں انسان تو کیا جانور پر بھی کوئی ظلم نہیں کرسکتا تھا

    ریاست مدینہ کے لوگ والدین کے نافرمان نہیں تھے
    وہاں والدین کی فرمانبرداری کروانے کے لئے اسمبلی میں قانون نہیں بنتی تھی
    وہاں کوئی شیلٹر ہومز نہیں تھے بلکہ ہر کوئی والدین کی خدمت کرنا سعادت سمجھتے تھے
    وہاں بہنوں کو اپنے حقوق لینے کے لئے عدالتوں اور تھانوں کے چکر نہیں لگانے پڑھتے بلکہ خود مل جاتے تھے
    وہاں بیوی کو معلوم تھا کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتا
    اور خاوند اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اور نرمی کا برتاؤ کرتا اور اپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرتا جو اس کے لئے محبت اور الفت کا باعث ہوتا

    وہاں بیوہ اور یتیم کا حق نہیں مارا جاتا
    کاروبار میں دھوکا اور فراڈ روکنے کے لئے وہاں کسی محکمہ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ لوگ خود اللہ سے ڈرنے والے تھے
    کسی کا پڑوسی بھوکا نہیں سوتا تھا کیونکہ پڑوسیوں کے حقوق وہ لوگ جانتے تھے

    بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت مظلوم کا ساتھ اور ظالم کا ہاتھ روکنا ان کا دستور تھا

    وہاں انسانی حقوق کے لئے کوئی تنظیم نہیں تھی پھر بھی ہر انسان کو اپنا حق پورا ملتا تھا

    وہاں پر سیاسی اختلاف پر کسی بے گناہ کو قتل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ انکو معلوم تھا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے
    معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں سوچنا بھی وہ لوگ گناہ سمجھتے تھے کرنا تو دور

    انکے اخلاق ایسے تھے جو زیادہ تر غیر مسلم انکے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوجاتے تھے ۔کیونکہ انکو معلوم تھا حقوق اللہ تو اللہ چاھے معاف بھی کردے پر حقوق العباد کی کوئی معافی نہیں جب تک وہ انسان معاف نہ کرے
    وہاں پر مولوی صاحبان ممبر رسول سے فرقہ واریت کو ہوا نہیں دیتے تھے بلکہ لوگوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد بیان کرتے تھے
    وہاں کوئی فرقہ نہیں تھا بس صرف مسلمان تھے

    وہاں علماء کرام کی عزت کی جاتی تھی کیونکہ علماء عملی تھے۔لوگ انکی عمل سے سیکھتے تھے

    ان لوگوں کے پاس ہماری طرح سہولیات نہیں تھے موبائیل ٹیلی فون انٹرنیٹ وغیرہ
    لیکن پھر بھی اپنوں سے با خبر رہتے تھے
    اور
    سب سے بڑی بات وہ لوگ پڑھنا لکھنا کم جانتے تھے مگر جاہل نہیں تھے

    ایسے اور بھی بہت سی باتییں ہے پر لکھنا مشکل ہے

    اب ہم لوگوں میں سے کتنے ہے جو ان سب باتوں پر پورے اترتے ہے کیونکہ جب سے پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے کی بات کی ہے ۔جہاں بھی پاکستان میں کچھ غلط ہوتا ہے
    لوگ اسکی ویڈیو یا تصویر سوشل میڈیا پر ڈال کر ساتھ لکھتے ہے یہ ہے ریاستِ مدینہ اور اچھے کام کرنے پر ایسا نہیں کرتے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ لوگ انجانے میں یا جان بھوجھ کر ریاستِ مدینہ کا مذاق کیوں اڑا رہے ہے یہ ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے

    اب حکومت کا نعرہ سیاسی تھا یا حقیقی اس بحث میں نہیں جاتا
    لیکن پاکستانی قوم کا کیا کردار ہے ریاستِ مدینہ میں جو کہ صرف حکومت کا کام تو نہیں ہے سب سے بڑی ذمہ داری اور بڑا کردار اس میں ہمارا ہی ہے
    اپنے گریبان میں جھانک کر سوچئے گا ضرور۔۔!

    پہلے خود کو بدلے ارگرد سب کچھ خود بخود بدل جائیگی
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا

    🌷خوش رھے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے🌷

    ٹویٹر
    ‎@Salmanjani12