Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات   تحریر: محمد بلال

    ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات تحریر: محمد بلال

    قرآن انسانوں کی عظمت پر بہت زور دیتا ہے چاہے ان کی جنس یا نسل ہو یا حیثیت۔قرآن پاک میں فرمانِ مبارکہ ہے کہ: ”ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے، انہیں خشکی اور سمندر میں نقل و حمل کی سہولت دی ہے، انہیں اچھی اور پاک چیزوں کی فراہمی کے لیے دی ہے، اور ان کو ہماری تخلیق کے ایک بڑے حصے کے اوپر خاص احسانات سے نوازا ہے۔” (قرآن 17:70) وقار حقوق اور فرائض پر مشتمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک خالق کے ذریعہ برابر بنائے گئے ہیں، اور کوئی بھی اپنی پیدائش یا خاندان یا قبیلے کی بنیاد پر دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ یہ صرف الہی ہے جو صرف یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ دوسرے کے وقار کو قبول کرتے ہوئے اس کی باوقار حیثیت پر کس نے عمل کیا۔وقار کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کو زندگی کا حق ہے، مذہب کی آزادی کا حق، طرز زندگی کی آزادی کا حق، مزدوری کا حق، تحفظ کا حق اور خاندان کا حق محفوظ ہے.قرآن پاک میں اس چیز کی ممانعت کی گئی ہے کہ لوگ دوسروں کو ان کے رنگ، جنس یا مذہب کی وجہ سے ان حقوق سے محروم رکھیں۔ قرآن پاک ایک پر دوسرے کو ترجیح نہیں دیتا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ صرف مسلمان یا جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ عزت یا حقوق کے مستحق ہیں جو وقار سے وابستہ ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح میں بات کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو ان کے وقار سے انکار کرے جو خدا کا دیا ہوا حق ہے۔کچھ عرصہ پہلے، دنیا کو اس قرآنی پیغام کی صداقت کو سمجھنے میں دشواری تھی۔ لوگوں کو ان کی نسل یا جنس یا حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا اور مذہبی اسکالر اور سیاسی ماہرین ان امتیازی سلوک کا جواز فراہم کر رہے تھے۔وقار کے اس انکار کا ایک کلاسک معاملہ ہندوستان میں پایا جا سکتا ہے جہاں مذہبی صحیفے کے مطابق لوگوں کے ایک گروہ کو ایک خاص سماجی گروہ میں ان کی پیدائش کی وجہ سے کم ذات یا اچھوت کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔اگرچہ، بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے کہ اس کے آئین میں اور قانونی طور پر اس طرح کا امتیازی سلوک قابل سزا ہے، پھر بھی یہ ملک میں بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیازی سلوک کی دلیل نہیں دے سکتا۔دنیا نے انسانیت کے وقار کے قرآنی پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ پیغام آج کے دور جدید میں پہلے سے کہیں زیادہ ذیرِبحث ہے، قطع نظر اس کے کہ مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ یقینی طور پر تمام عقیدے کے لوگوں کو سب کے انسانی وقار کے دفاع میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ تیسرا قرآنی پیغام جو بڑے پیمانے پر انسانیت سے متعلق ہے، اس کا قدرتی وسائل کی آفاقی پر زور ہے۔ زمین، سمندر، آسمان کا پانی اور ہوا سب کے فائدے کے لیے ہیں۔ کوئی بھی ان کے خصوصی استعمال کے لیے ان کی اجارہ داری نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ان وسائل تک ان کی رسائی کو دوسروں کو دیے گئے حقوق سے انکار کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔اس طرح قرآن کہتا ہے، ”وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے” (قرآن 2:29) مندجہ بالا مختصر مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں بطور مسلمان ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے
    ‎@Bilal_1947

  • طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    ‏پرانے زمانے میں طلاق کی شرح کم اور آج کل روز بروز بڑھتی جارہی ھے تو کوٸی بیوی کو بد زبان، بد اخلاق، نافرمان، کہتا ھے، لیکن یہ ایسا ہر گز نہیں ھے اس کی ایک وجہ بیوی کےحقوق اور دوسری وجہ بچوں کے مرضی کے بغیر شادی کرنا، آج کل تعلیم بہت عام ہو چکی ہے ہر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہے ہر عورت اپنےحقوق جانتی ہے، لیکن بہت سے مرد ایسے ھے جو بیوی کے حقوق سے نا واقف ہیں، وہ بیوی کو اسکا حق تو دے نہیں سکتے لیکن بیوی کی توجہ چاہتا ہیں اوربیوی سے نوکرانیوں کی طرح خدمت کرواتے ہیں ، لیکن عورت اپنے حق پر ڈٹی رہتی ھے، مرد کو توجہ نہیں دیتی، تو یہ مرد کی انا کا مسلہ بن جاتا ھے اور مرد جزبات میں آکے ایسا فیصلہ کرتا ھے. جزبات کے فیصلوں کے نتاٸج بہت سنگین ہوتے ھیں، بات دشمنی تک بھی جا سکتی ھے، اور دشمنی میں دو خاندانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ھے۔ اگر مرد ایسے فیصلے کرنے سے پہلے جزبات سے نہیں صبر سے کام لے اور بیوی کو اپنا حق وقت پر دیا جاۓ تو بہت نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔طلاق کا نقصان صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو اور بچوں کو بھی ہوتا ہے۔عورت کو طلاق کے بعد یا تو بدکردار کہہ دیا جاتا ہے یا معاشرے میں اس کی رسواٸی ہوتی ہےلیکن مرد کے لٸے یہ خاندانی دشمنی کا جواز بھی ہو سکتی ہے اور بچوں کی تربیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔کیونکہ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے بچوں کی تربیت ماں کے گود میں ہوتی ہےاور صرف والدین ہی ھیں جو بچوں کو اچھی تربیت دے سکتے ھیں ایسے فیصلوں سے بچوں کا مستقبل بھی برباد ہوتا ھے۔ بہت سے لوگ کہتے ھیں یہ کاغذی رشتہ ہے ایسا رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ھے۔ نکاح سنت ھے (حدیث مفہوم ھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت سے منہ موڑے اس کا مجھ سے کوٸی تعلق نہیں اس کے حوالے سے فیصلے جذبات میں نہیں بلکہ حوصلے اور تحمل سے کرو ۔بیوی کو سمجھو کہ وہ کیا چاہتی ہے، بیوی کو پیار اور عزت دو۔ عورت صرف عزت اور پیار کی بھوکی ہوتی ہے اور کسی چیز کی بھی نہیں ۔بیوی کبھی بھی شوہر کا نقصان نہیں چاہتی۔
    ایسے لوگ بھی ہیں جن کی طلاق کی وجہ دوسری شادی ہوتی ہے تو کہتے ہیں اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ھے۔ بےشک اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ پہلی والی کو طلاق دو ۔یہ شرط بھی نہیں ہے کہ دوسری شادی یا تیسری شادی کسی کنواری لڑکی سے کرو۔ چار کی اجازت ھے لیکن اس میں طلاق یافتہ عورتیں، بیوہ عورتیں ،عمر میں بڑی یا چھوٹی عورتیں سے شادی کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کو انکی زندگی گزارنے میں جو بنیادی ضرورتیں درکار ہیں فراہم ہو سکیں۔شرط یہ بھی ہےکہ سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہٸیے۔ میرا اس تحریر کا صرف یہ مقصد ہے کہ یہ فلمی اور ڈراماٸی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف آٶ ۔ایک چھوٹی سی بات کو اپنی انا کا مسلہ مت بناٶ۔اپنے جزبات پر قابو رکھ کر فیصلے کرو۔
    اپنا اور اپنے بچوں کےمستقبل کے بارے میں سوچوں۔ والدین کو چاہٸیے کہ رشتہ طے ہونے سے پہلے اپنے اولاد کی رضامندی پوچھیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اس کو ایسے فیصلوں سے برباد مت کرو۔اپنے رشتے مضبوط کرو۔ اپنے رشتوں کو کمزورہونے سےبچاٶ ۔اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارو کسی تیسرے کے باتوں پرکان مت دھروں،کیونکہ اگر بیوی کو اسکاحق ملے تو وہ شوہر کو ،اپنے بچوں کو اور گھر کو توجہ دے گی ۔اگر بیوی گھر کے کسی فرد جیسے ساس، دیور، نند سے بد زبانی کرے یا نافرمانی کرے تو فیصلے کرنے سے پہلے دونوں کی طرف سے دلاٸل سن لو اور خود کو اور اپنی نسل کو نقصان سے بچاٶ۔ اللہ ہم سب کو ایسے نقصانات سے بچاۓ ۔آمین
    @Munn_wajji (rtwitter)

  • نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    اللّٰہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق انسان ہے اور اللّٰہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اللّٰہ کی عبادت تو چرند پرند، درخت، پھول، جانور نیز کائنات کی ہر شے کرتی ہے پر اللّٰہ کو سب سے محبوب انسانوں کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہمارے بار بار غلطی کرنے پر وہ ہمیں فوراً سے سزا نہیں دے دیتا بلکہ ہمارے ایک بار توبہ کرنے پر ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔

    اللّٰہ کی ہم سے محبت کی انتہا ہے کہ اس ذات نے جہاں دیکھا کہ میرا بندہ گناہ کرسکتا ہے وہیں اس کے لیے کچھ ایسے طور طریقے اور رشتے بنا دیے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے اور نکاح اسی کی ایک مثال ہے۔

    جیسے انسان کی بہت سی دیگر فطری ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک ضرورت ہے۔ نکاح وہ خوبصورت رشتہ ہے جو مرد اور عورت کو جائز طریقے سے ایک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے لیے حلال کردیتا ہے۔ نکاح کو اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "نکاح کرنا میری سنت ہے”۔
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
    ” جو کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے اور باقی آدھے دین میں اللّٰہ سے ڈرتا رہے”۔

    یعنی ہمارا دین خود نکاح جیسے پاک رشتے پر زور دیتا ہے کہ وہ شخص جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے۔ لیکن آج کے دور میں نکاح کو کچھ اور ہی طریقے سے لیا جاتا ہے۔ نکاح کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے جہیز لینا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ یعنی اب ماں باپ اپنی بیٹی بھی دیں اور ساتھ جہیز جیسی لعنت بھی۔ جہیز کے نام پر لڑکے کو گاڑی بھی چاہیے اور اپنے گھر کے لیے فرنیچر بھی، فریج سے لے کر برتنوں تک ہر چیز لی جاتی ہے۔

    بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی، جہیز کے علاؤہ کچھ اور فضول قسم کی رسمیں بھی ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کو سونے کی بنی بالیاں یا انگوٹھیاں دینا۔ ایسے ہی سب کے دیکھا دیکھی ان رسموں کو مزید سے مزید فروغ ملتا چلا جارہا ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔ دوسرا ان سب باتوں کی وجہ سے آج کل نکاح بھی مشکل ہورہے ہیں۔ نکاح کرنا اب ایک غریب کے لیے کوئی آسان کام نہیں رہا۔

    اسی لیے ایک ایسا قانون بننا چاہیے جس میں جہیز لینے اور دینے پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے اور جہیز لینے والے کو سزا بھی ملنی چاہیے تاکہ نکاح کو آسان بنایا جاسکے۔ اس سب کے علاؤہ بحیثیت انسان ہمیں بھی اپنا کچھ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد اپنے معاشرے کو جہیز جیسی لعنت سے پاک کرسکیں۔

    @SeharSulehri

  • ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے نبی ﷺ کائنات کے قائد ورہنما تحریر : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی نے کائنات میں جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں سب سے بہترین تخلیق ہمارے نبیﷺ ہیں۔ اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے آپﷺ کا نور پیدا کیا اسی لیے آپﷺ کو نور اول بھی کہا جاتا ہے۔جس طرح اللہ تعالٰی رب العالمین ہے اسی طرح ہمارے نبی رحمت للعالمین ہیں۔یعنی تمام مخلوقات کے لیے رحمت اور محبت لے کر آنے والے۔

    قائد اور رہنما کے معنی ہیں سیدھا راستہ دکھانے اور ہدایت کی طرف بلانے والا چونکہ آپ ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہیں اس لیے آپﷺ کائنات کے قائد ورہنما بھی ہیں۔اور کوئی مخلوق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے محروم نہیں۔

    قارئین جانتے ہیں کہ پچھلے مذاہب کی تعلیمات خاص زمانے کے لیے تھیں مگر آپ ﷺ کی تعلیمات ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہیں اور قیامت تک ہر آنے والے دور میں ان پر عمل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ واحد پیغمبر ہیں جن کی قیادت ورہنمائی کی پوری انسانیت محتاج ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی اور ہدایت نہ ملتی ہو۔اس رہنمائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اور شفقت اس حد تک شامل تھی کہ توحید کا پیغام پھیلانے میں جس قدر زیادہ زہنی اور جسمانی ازیتیں اٹھانی پڑیں وہ آپ ﷺ نے بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیں اور کبھی کسی کو بد دعا نہ دی۔پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے بد دعا دینے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

    @RajaArshad56

  • بدعنوانی سے لت پت ریاست۔  تحریر: غلام نبی بلوچ

    بدعنوانی سے لت پت ریاست۔ تحریر: غلام نبی بلوچ

    پاکستان میں الیکشن اور دھاندلی کا چولی دامن کا ساتھ ھے یہ رشتہ برسوں پرانا ھے کچھ روز قبل ریاست أزاد جموں کشمیر میں انتخابات ہوئے جس میں پاکستان تحریک انصاف نے واضع برتری حاصل کی اور سادہ اکثریت سے حکومت بنا لے گی۔ اس انتخاب میں تحریک انصاف کی پہلی پوزیشن آئی دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی اور تیسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ۔
    ان انتخابات میں واضع تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی تحریک انصاف کی حکومت تو وفاق میں ہے ہی سب کو معلوم تھا کہ تحریکِ انصاف واضع برتری حاصل کر لے گی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ن لیک سے زیادہ سیٹیں کیسے حاصل کر لیں حالانکہ ن لیگ کےجلسے زبردست ہوۓ اور ن لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز نے اسے بھی 2018 کی طرح دھاندلی والے انتخابات کی طرف جوڑ دیا اس کے علاؤہ حال ہی میں سیالکوٹ میں ضمنی انتخابات ہوئے جس میں تحریک کے ممبران نے دس ہزار کے ووٹ سے پنجاب اسمبلی کی سیٹ جیتی جو ن لیگ گزشتہ تیس برس سے جیتتی آرہی تھی ن لیگ کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اس میں حکومتی مشینری کا بھی بے دریغ استعمال ہوا اسی وجہ سے تحریک انصاف جیتی البتہ ن لیگ شہباز گروپ کے لوگوں نے اس انتخابات میں دھاندلی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کو مبارکباد دی۔
    مبارک باد دینے والوں میں ملک احمد خان اور نوشین افتخارتھے اگر ہم پیچھے ماضی کی طرف چلےجائیں تو ہر الیکشن متنازعہ رہا ہر الیکشن میں دھاندلی کا شور برپا ہوتا رہا 2018 کے عام انتخابات کی بات کی جائےتو تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر اس الیکشن کو دھاندلی زدہ کہا یہاں تک کہ عمران کو سلیکٹڈ بھی کہا گیا دھاندلی کی وجہ سے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں واضع دھاندلی ہوئی اور انہوں نے حکومت گرانے کے لیے ایک اتحاد بھی قائم کی جو اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ناکام رہا اس طرح 2013 کے انتخابات کی بات کی جائے تو اس انتخاب میں دھاندلی پر بڑی بڑی تحریکیں چلیں عمران خان نے اسلام آباد ڈی چوک پر 126 دن دھرنا دیا اور عمران خان کا مؤقف تھا کہ یہ دھاندلی زدہ انتخابات ہوئےجو ہمیں قبول نہیں۔ اگر ن لیگ یہ کہتی ہے کہ صاف شفاف الیکشن ہوئےتو ہم انہیں چار حلقے دیتے ہیں یہ اوپن کرائیں پتہ چل جائےگا کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں لیکن حکومت وقت نے ان کی بات کو مسترد کردیا ۔
    پاکستانی الیکشن کی بھی ایک مکمل داستان ہے اور قریباً ہر الیکشن متنازعہ رہا اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے یقیناَُ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے صاف شفاف الیکشن کروائیں تاکہ جو ہار جائیں وہ اسے صاف شفاف تسلیم کرے اور دھاندلی کا شور نہ مچائے۔ دھاندلی کے شور شرابے کی وجہ سے اپوزیشن کے لوگ اپنے کارکنان کو احتجاج کرنے کے لیے بلاتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے اپنے لیڈران کے ہمراہ آجاتے ہیں اور روڈ بندکرتے دکھائی دیتے ہیں اور ملکی املاک کا نقصان کرتے ہیں جو مملکت خداداد کے حق میں بالکل نہیں ھے اور نہ ہی یہ نظریہ اقبال اور قائد کا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے تمام سیاست دان اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے متفق ہوجائیں اور آنے والے انتخابات ٹیکنالوجی کے ذریعے کروائیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ الیکشن کون جیتا کون ہارا جب صاف شفاف الیکشن ہو جائیں تو آدھے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے اور مملکت پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گی۔انشااللہ
    Twitter id:@GN_bloch

  • قائد اعظم محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت کے طور پر  تحریر! صاحبزادہ ملک حسنین

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک منفرد شخصیت کے طور پر تحریر! صاحبزادہ ملک حسنین

    شیکسپیئر کہتا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں کچھ اپنی انتھک محنت اور جدوجہد کی بدولت بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں گو کہ محمد علی جناح میں عظمت ہمت اور طاقت طاقت جیسی خوبیاں تھیں
    محمد علی جناح جب پیدا ہوئے تو لوگوں نے یہ کہا کہ یہ بڑا ہو کر عظیم حکمران بنے گا اور پھر تاریخ گواہ ہے کے لوگوں کے وہ الفاظ سچ ثابت ہوئے 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہونے والا بچہ جس کا نام محمد علی جناح تھا اس نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کیسے برصغیر کے لوگوں کی زندگی بدل دی اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی برصغیر کے مسلمان پچھلی دو دہائیوں سے الگ ریاست کی آس لگائے بیٹھے تھے جس کو حقیقی معنوں میں قائداعظم محمد علی جناح نے پورا کیا
    22 ستمبر 1939 میں روزنامہ انقلاب میں قائد کے شائع ہونے والے الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں

    "مسلمانوں! میں نے دنیا میں بہت کچھ دیکھا، دولت شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے
    اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو اطمینان اور یقین لے کر مرو اور میرا ضمیر گواہی دے کہ محمد علی نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی میں اپنا فرض ادا کیا اور میرا رب یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں سے عالم اسلام کے لیے جدوجہد کی”

    یہ آپ ہی کی انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کو ایک الگ ریاست وجود میں آئی جس کو ہم آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں
    جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائد کے یہ تاریخی الفاظ تھے
    ” اس ملک کے پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو برابری کے حقوق میسر ہوں گے بلا مذہب رنگ و نسل کے ”

    قیام پاکستان کے بعد جب پہلی دفعہ کابینہ کا اجلاس ہوا تو آپ سے پوچھا گیا کہ ممبران کے لئے کھانے میں کیا پیش کیا جائے تو آپ کے یہ الفاظ تھے کہ یہ اس قوم کا پیسہ ہے اور اس قوم پر ہی خرچ ہوگا جس کسی نے کھانا پینا ہو وہ اپنے گھر سے کھا پی کر آئے

    قیام پاکستان سے قبل قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا
    ” مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں بلکہ اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیونکہ ان برائیوں نے مسلمانوں کو دو سو سال سے کمزور کر رکھا ہے”

    دور اندیش با کردار اور ہمہ صفحات شخصیت کا انتقال پر ملال 11 ستمبر 1948 کو ہوا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے آپ کی وفات پر صرف پاکستان کے مسلمان ہی نہیں عالم اسلام کے مسلمان بھی غم سے نڈھال تھے ان کی شخصیت میں قوم کو یکجا کر رکھا تھا اور قوم میں ایک جذبہ تھا کہ ہم نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا ہے مگر آپ کی وفات کے بعد حقیقی معنوں میں کوئی لیڈر نہ مل سکا جس کی وجہ سے اس ملک کے اندرونی اور بیرونی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا اگر ہم قائد کے اصولوں پر عمل کرتے تو آج دنیا کے نقشے پر وہ پاکستان موجود ہوتا جس کا خواب محمد علی جناح نے دیکھا تھا

  • بےحیائی کے محرکات تحریر: آصف گوہر

    سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن دینار سے ، انہوں ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : "ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔”
    صحیح المسلم
    حیا کے لغوی معنی سنجیدگی وقار اور متانت کے ہیں۔ یہ بے شرمی، فحاشی اوربے حیائی کی ضد ہے
    اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے اعلی معیار کے ڈرامہ سریل پیش کئے گئے جو سارا خاندان بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا ان میں جاندار کہانی کے ساتھ اعلی معیار کی ادکاری دیکھنے کو ملتی تھی اور ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی بڑے مقبول ہوتے تھے ۔
    پھر پاکستان میں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو کام کرنے کی اجازت ملنے کے ساتھ ہی ہماری تہذیب و ثقافت پر وار شروع ہوگئے اسٹیج اور ٹی وی چینلز کے لئے فحش موضوعات اور بازاری جملہ بازی پر مبنی ڈرامے لکھے جانے لگے جس کی وجہ سے
    ہمارے معاشرے میں ہر طرف بےحیائی کا دور دورہ ہے پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر پیش کئے جانے والے ڈرامہ چربہ سازی بےحیائی اور مقدس رشتوں سے بغاوت شادی شدہ افراد کے معاشقوں سے بھرپور اخلاق باختہ کہانیوں پر مبنی ہوتے ہیں بات ڈراموں تک ہی نہیں رکی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہار سازی کی صنعت نے بھی بےحیائی کا سہار لیا اور مصنوعات کے لئے خواتین ماڈلز کے مختصر لباس اور ذومعنی جملہ بازی سے فحاشی کا پرچار کیا گیا ۔
    فحاشی کی اس قدر بھرمار کا نتائج ہمارے سامنے ہیں اولادیں نافرمان ہو رہی ہیں اخلاق و حیا سے بیزار نوجوان نسل تیار ہوچکی ہے تعلیمی اداروں میں مخلوط ڈانس اور بوس و کنار کی ویڈیوز آئے روز وائرل ہوتی ہیں خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے دست درازی کی سی سی ٹی وی فوٹیج تواتر سے سامنے آ رہی ہیں ۔ معصوم بچے مساجد اور مدارس میں بھی غیر محفوظ ہیں ۔
    معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے سلسلے رکنے کا نام نہیں لے رہے اور ان واقعات میں ملوث افراد کو جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا ملنے کے عمل میں سالوں لگ جاتے ہیں ۔
    اس صورتحال سے ملک کے سنجیدہ شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔
    گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی پہاڑی پر قائد اعظم رحمہ اللہ کے پوٹریٹ کے سامنے نیم برہنہ لباس میں نوجوان لڑکی اور لڑکے کے فوٹ شوٹ نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ اس ملک میں اس بےحیائی کو روکنے والا کوئی نہیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمیشنر جو بزرگ شہری کے دوران ڈرائیو شیشے میں سے پیچھے دیکھنے پر ایکشن لے لیتے ہیں لیکن بابائے قوم کے پوٹریٹ اور فرمان کی سرعام بے حرمتی پر خاموش ہیں ۔
    ملک کے وزیراعظم خواتین کے لباس بارے گفتگو کرنے پر مادر پدر آزاد طبقہ نے وہ طوفان برپا کیا کہ اللہ کی پناہ۔
    عورت مارچ کے نام پر خونی لبرلز وہ بےحیائی اور بیہودگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ مارچ میں شریک خواتین کے ہاتھوں میں پکڑے کتبوں پر لکھی بیہودہ عبارتیں یہاں بیان اور لکھنے کے قابل نہیں
    اس بےحیائی کو روکنے کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا مکمل ناکام ہے یا اس سے جان بوجھ کر نظریں چرائے بیٹھی ہے ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ سوسائٹی اور حکومت دونوں کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا سخت قانون سازی اور عملداری کو ممکن بنانا ہوگا بےحیائی کا پرچار کرنے والے میڈیا ہاوسز اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا ۔تعلیمی اداروں میں کردار سازی اور تربیت پر زور دینا ہوگا۔
    حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات اور لائحہ عمل طے کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔ ‎@Educarepak

  • تصویر کے دو رخ تحریر:  از قلم محمد وقاص شریف

    تصویر کے دو رخ تحریر: از قلم محمد وقاص شریف

    ہر تصویر کے دورخ ہوتے ہیں کبھی کبھی دوسرا رخ بھی زیر بحث لایا جانا چاہیے ۔ دنیا میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو نایاب ہیں اور بہت کم ملکوں کے پاس ہیں لیکن ایک ایسی چیز ہے جو نہ صرف یہ کہ دنیا کے ہر ملک کے ہر ادارے کے پاس ہیں بلکہ بہت زیادہ تعداد میں دستیاب بھی ہیں یہ ہیں ’’کالی بھیڑیں‘‘دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوجس کے پاس یہ دولت نہ ہو۔اداروں کی تفصیل میں چلے جائیں تو بات بہت آگے نکل جائے گی،ایک ہم بھی ہیں اور کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں، ابھی صرف کا لی وردی والی کالی بھیڑوں کو دیکھ لیتے ہیں کیونکہ کالی بھیڑیں ویسے تو دنیا بھر میں بدنام ہیں لیکن پاکستان میں ان کو بدنامی کا شرف کچھ زیادہ ہی حاصل ہے۔اور اگر نظر عام سے دیکھا جائے تو یہ بدنامی غلط بھی نہیں ہے کیونکہ پولیس کے ستائے لوگوں کی تعداد خطرناک حد تک زیادہ ہے۔پولیس کی کالی بھیڑیں نسبتاً کم لوگوں کو نشانہ بناتی ہیں لیکن ان کی بدنامی وسیع پیمانے پر اس لیے ہو جاتی ہے کیونکہ اس کم، کے پیچھے ذلیل وخوار ہونے والے زیادہ ہوتے ہیں۔کسی بھی جگہ کسی بھی مقام پر پولیس کی بات ہو رہی ہو تو گلے شکوے اور گالی گلوچ کا سماں بندھا ہوتا ہے۔کوئی بھی شخص پولیس کو با عزت مقام دینے کیلئے تیار نہیں۔کچھ لوگ اپنے اوپر بیتی پر اور کچھ دوسروں پر بیتی پر پولیس کو کوس رہے ہوتے ہیں۔پولیس پر شکوے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھ جائیں لیکن قصور وار چند کالی بھیڑیں ہی ٹھہرائیں گی۔پولیس میں دیانتدار وں اور مخلص اوردینداروں کی کبھی کمی نہیں رہتی تبھی تو یہ ادارہ جیسے تیسے چل رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے پولیس کا دوسرا رخ کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی اور شاید ایک عام آدمی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔پولیس مین کا دوسرا رخ عام آدمی جان لے تو ممکن ہے پولیس کے خلاف اس کی نفرت میں کچھ کمی آجائے۔کم تنخواہیں۔24گھنٹے ڈیوٹی سیاسی پریشر،محکمانہ سہولیات کا فقدان،پولیس مقابلے،خودکش حملوں کا سامنہ،مجرمان کی دھمکیاں،انگلی کے اشارے پر تبادلے،دن کی تھکاوٹ، رات کے جگراتے،عید کا تصور نہیں،شب برات سے واقفیت نہیں،اپنوں کے جنازے پڑھ نہیں سکتے،ولیموں کا انہیں علم نہیں،اپنوں سے دور ہیں،بچے شفقت پدری سے محروم ہیں تو بیوی بیوہ بیوہ سی لگتی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھیں تو وہ حرکت میں آجاتا ہے۔نا جائز مدد نہ کریں تو مجرم حرکت میں آجاتا ہے۔حق دار کو حق دے دیں تو ظالم دشمن بن جاتا ہے۔ظالم کو پناہ دیں تو مظلوم کی آہیں آڑے آجاتی ہیں۔رات تھانے میں گذرتی ہے تود ن عدالت میں بسر ہوجاتا ہے اپنے دفاع میں گولی چلائیں تومجرم کسی کی گولی کا شکار ہوجائیں تو کوئی آہ و بقا نہیں۔چند سلامیاں ایک عدد چیک اور بات ختم۔سلامیاں اور چیک پیٹ کا دوزخ تو بھر سکتے ہیں لیکن جس یتیم سے باپ اور بیوی سے شوہر جیسی جنت چھن جائے اس خاندان کے بارے میں کسی نے کبھی سوچا۔پولیس کے بارے میں سب کو سب کچھ کہنے کا حق ہے۔لیکن ہر تصویر کے دو۔رخ ہوتے ہیں۔کبھی کبھی دوسرا رخ بھی زیر بحث لایا جانا چاہیے
    ‎@joinwsharif7

  • ‏خوبصورت تحفے  تحریر : محمد نوید

    ‏خوبصورت تحفے تحریر : محمد نوید

    باعث غربت اور معذوری میرے لئے تعلیم کو جاری رکھنا مشکل تھا تھا میرے پڑھنے کے شوق کو جہاں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا وہاں دوستوں نے اور اساتذہ صاحبان نے بھی میری اچھی حوصلہ افزائی کی جب کبھی حالات انگڑائی لینے لگتے میرے حوصلے کبھی پست ہوتے تو کبھی بلند اللہ پاک مجھے اچھے نیک دل لوگوں سے ملواتا گیا یوں میرا پڑھنے کا شوق زندہ رہا میرا پڑھنے کا شوق اس وقت مزید بڑھ جاتا جب کوئی مجھے کتاب یا پین تحفے میں دیتا یوں تو بہت ساری کتابیں مجھے میرے محسنوں نے مجھے تحفے میں دی جس کی وجہ سے کتاب پڑھنے کا شوق ھوا میٹرک مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھ سا گیا
    سکول جانے کے لیے کبھی گدھا گاڑی کا استعمال بھی غلط نہ لگا بس بیٹھ جاتا کہ کسی طرح سکول ٹائم سے پہلے پہنچ جاؤں
    اللہ کے فضل سے میٹرک کر لی لیکن نمبر بہت کم تھے کیوں کے ایک دو دن سکول پیدل جانا پڑجاتا تو اگلے دن تھکاوٹ کی وجہ سے بخار ہو جاتا اسی طرح تعلیم کو جاری رکھے رکھا استاد صاحبان کو بھی میرے جسمانی حالت بارے علم تھا تو انہوں نے بھی شرکت فرما کر مجھے اسمبلی حال میں آنے سے منع کردیا اسمبلی میں کبھی ادھر لڑھکجاتا تو اسمبلی کا نظم و ضبط بگڑ جاتا یوں جو ٹائم اسمبلی میں دینا ہوتا میں استاد صاحب کی کرسی اور جھاڑو پہنچا کرتے گزرتا استاد صاحبان نے مجھے باپ کی طرح شفقت سے نوازا ایک استاد صاحب نے تو میری فیس کا ذمہ اپنے سر لے لیا تو دوسرے استاد نے میری ورزی وغیرہ کے ذمہ لیا اور جوتے تو میں پہن نہیں سکتا تھا
    آج بھی استاد صاحبان اور دوستوں کے احسانات یاد کرکے دل بھر آتا ہے کہ اگر وہ مشکل وقت میں میرا سہارا نہ بنتے تو میں آج کہاں ہوتا؟میری تمام نوجوانوں سے اپیل ہے جن کے پاس وسائل ہیں اور اللہ پاک کی دی ہوئی آسائشیں موجود ہیں اگر آپ کسی وجہ سے خود تعلیمی میدان میں آگے نہ بڑھ سکے تو آپسے اپیل ہے کے اپنے دوستوں اور ان مستحق بھائیوں اور بہنوں کے لئے ہروقت باہیں کھولیں رکھے ان کو کامیاب ہوتا دیکھ یقیناً آپ کو دلی خوشی نصیب ہوگی اور میں اپنے محسنوں کی آنکھوں میں وہ خوشی دیکھ چکا ہوں اگر آج میں کچھ بول لیتا ھوں کچھ لکھ لیتا ھوں تو یہ سب ان تمام کرم فرماؤں کی محبت کی وجہ سے ھے جہنوں نے میری حوصلہ افزائی کی میرے شوق کو زندہ رکھا

    ‎@naveedofficial_

  • پاکستان کا شہری  تحریر: جنید خان ہا نبھی

    پاکستان کا شہری تحریر: جنید خان ہا نبھی

    ہمارے ملک میں طرح طرح کی اچھی چیزیں ہو رہی ہیں لیکن اس کی پیدائش کے فورا بعد ، بہت سے غیر حل شدہ مسائل بھی ہیں جو بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ گڈ گورننس اور ٹرانسپرٹی عام ہیں اس کے علاوہ سرکاری محکموں کے درمیان موثر مواصلات کا فقدان ہے جو ہمارے نظام میں مزید مسائل کا اضافہ کر رہے ہیں۔ میری تشویش ، آج ، محکمہ تعلیم ہے جہاں سالوں سے وضاحت کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ، اسکولوں کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ اسکول کے ہر داخل طالب علم کے پیدائشی سرٹیفکیٹ مکمل کریں۔ اس پر عمل کرنا ایک اچھا قدم ہے لیکن کیا یہ سمجھنا مناسب نہیں ہے کہ یہ دنوں میں کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ایک تفویض جس کے لیے نادرا کا تعاون درکار ہے۔ ہر روز ہزاروں بچے ملک میں جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح ، ہر روز ہزاروں بچے 18 سال کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں (شناختی کارڈ رکھنے کے اہل)۔ چونکہ اس کی تخلیق ہے ، نادرا شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسکولوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کا کام ان کے ساتھ ساتھ بچوں اور ان کے والدین کے لیے اضافی چیز ہے۔ اس مرحلے پر نادرا حکام اور محکمہ تعلیم کے درمیان وزارت سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ دوسری صورت میں مؤثر ریلیف کا متبادل طریقہ جیسے کہ موبائل رجسٹریشن وین مختلف ہائی سکولوں کو مناسب شیڈول میں نئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کارکردگی اور پیداوری کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اس مسئلے کے حوالے سے کئی شکایات وزیر اعظم پاکستان کے شہری پورٹل پر جمع کرائی گئی ہیں (موبائل رجسٹریشن وین دینا)۔ ہر شکایت پر ، نادرا آفس ملتان کو ایک فون کال موصول ہوتی ہے جس میں صرف لب سروس کا جواب ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر موبائل رجسٹریشن وین تشویشناک علاقے میں پہنچ جائے گی۔ اور فوری طور پر انہوں نے شہری پورٹل پر رائے دی کہ انہوں نے اس مسئلے کو حل کر لیا ہے۔ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ، بہت سے دلوں سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے اگر کوئی شخص جو کہ اتھارٹی کے عہدے پر ہے اس آرٹیکل کو پڑھ رہا ہے تاکہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی تکلیف کسی طرح کی راحت سے مل سکے۔ ان کے والدین یا دادا والدین ان علاقوں میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں شامل ہیں ، شہریت ایکٹ 1951 کے آغاز سے پہلے پاکستان کے شہری ہیں۔ پاکستان شہریت ایکٹ ، 1951 کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا کوئی بھی شخص پاکستان کا شہری ہے۔ پاکستانی شہریت کا قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہریت کو کنٹرول کرتا ہے۔ قومیت کا تعین کرنے والی بنیادی قانون ، پاکستان شہریت ایکٹ ، پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 13 اپریل 1951 کو پاس کیا۔ برٹش انڈین ایمپائر (جس میں جدید ہندوستان ، بنگلہ دیش اور برما شامل تھے) اور اس کے لوگ برطانوی رعایا تھے۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے لیے ایک ریاست کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور برطانوی دولت مشترکہ میں ایک ڈومینین کا درجہ رکھتا تھا۔ اس میں جدید بنگلہ دیش شامل تھا ، جو مشرقی بنگال اور مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا اور 1971 میں پاکستان سے آزاد ہوا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کے بعد ، لاکھوں مسلمان ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر گئے ، اور کئی لاکھ ہندو اور سکھ جو پاکستان بن گیا اس میں رہ کر ہندوستان میں ہجرت کی ، شہریت کے کئی مسائل اٹھائے۔ 1951 کا پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 13 اپریل 1951 کو نافذ کیا گیا۔ اس کا مقصد بتاتے ہوئے "پاکستان کی شہریت کی فراہمی” ہے۔ اس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اس ایکٹ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص پیدائشی طور پر پاکستان کا شہری ہوگا۔ اس کے پاس مقدمہ اور قانونی عمل سے ایسی استثنیٰ ہے جیسا کہ پاکستان میں تسلیم شدہ بیرونی خودمختار طاقت کے ایلچی کو دیا گیا ہے اور وہ پاکستا کا شہری نہیں ہے اس کا باپ دشمن اجنبی ہے اور پیدائش اس جگہ پر ہوتی ہے جب دشمن کے قبضے میں ہو۔
    جنید خان ہانبھی
    Twitter :junaidhanbhi