Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار

    فاروقی عدل وقت کی ضرورت تحریر: صائمہ ستار


    جب سے یہ دنیا بنی جرائم ہمیشہ سے ہیں.یہ دنیا خطا کہ پُتلے "انسانوں "کی ہے. حق و باطل, اچھائ و برائ کی یہ جنگ رہتی دنیا تک جاری رہنے والی ہے.یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ سب فرشتہ صفت ہو جائیں کوئ گنہگار نہ بچے اور یہ دنیا جنت کا منظر پیش کرے.جہاں بہت سے اچھے لوگ ہیں جنکی وجہ سے انسانیت زندہ ہے وہیں کچھ لوگ انسانیت کے نام پر شرمناک دھبہ ہیں. اس دنیا میں اچھائ کی برتری اور بدی و جرائم کی سرکوبی کے لیے خالقِ کائنات نے دین ِاسلام میں واضح شرعی سزائیں مقرر فرمائ ہیں تا کہ نظام ِعدل سر بلند رہے اور دنیامیں اچھائ کو برائ پر فوقیت رہے. .نبیِ آخر الزماںﷺ کے مبارک دور سے خلفائے راشدین اور جب تک اسلام سپر پاور رہا,مسلمانوں کا دورِ عروج رہا یہ صرف تب تک تھا جب تک امتِ مسلمہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا.اور دنیاوی و دینی تعلیم ہو,میدانِ سیاست ہو یا نظامِ عدل ہر جگہ احکامِ الہی کو مدِ نظر رکھا جاتا رہا.سخت شرعی سزاؤوں کا نفاظ رہا.حکمران اپنے آپ کو رعایا کے جان و مال کا امیں سمجھتے رہے.وقت کا سفر جاری رہا مسلمانوں نے عروج سے زوال کی سیڑھی پر قدم رکھا حاکم سے محکوم ہوئے.. بظاہر اسلامی ممالک رہے مگر جدید دنیا کے تقاضوں اور مغرب کی اندھی تقلید میں اسلامی نظام اور قوانین کو کہیں پسِ پشت ڈال دیا گیا.اسلامی سزائیں مغرب کے کہنے پر "انسانیت "کے نام پر ختم کر دی گئیں. یہاں سے انسانیت کے شرمناک دور کا آغاز ہوا ہر آنے والے وقت میں جرائم, نا انصافی کی شرح پہلے سے بڑھتی گئی.غرباء اور بے بس لوگوں کی عزت دو کوڑی سے بھی کم خون پانی سے سستا ہوتا گیا. نظامِ عدل, انصاف,قوانین صرف نام کے رہ گئے.عدالتیں اور فوری انصاف صرف اشرفیہ جاگیرداورں,سیاست دانوں , بیوروکریسی اور طاقتور لوگوں کا حق بن گیا.کیس اپنی مرضی کی عدالت میں لگوا کر,مرضی کا مصنف خرید لینا اور فیصلہ بھی مرضی کا یہ عام سی باتیں بن کہ رہ گئی ہیں. شاہ زیب قتل کیس سے زین قتل کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ یتیم خانہ چوک لاہور تک ہزاروں مثالیں ہیں. غریبوں کے لیے فوری انصاف حاضر ہے جب کہ غرباء میں اگر مقتول قتل ہوتا ہے تو لواحقین کی وکلاء کی مہنگی فیسوں اور عدالتوں کے چکروں میں زندگی تمام ہوتی ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ملزم پابندِ سلاسل وفات پا جائے بعد میں عدالت میں بے گناہی ثابت ہو. ایسی مثالیں بھی ہیں نوجوانی میں بے گناہ لوگ اس اندھے نظام کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور بالوں میں سفیدی آنے پر انہیں باعزت رہائ کا پروانہ ملتا ہے ان رسمی لفظوں کے ساتھ کہ نظامِ عدل آپکی ساری زندگی ضائع کر دنیے پر معزرت خواہ ہے.یہ معزرت ہے یا بدترین مذاق؟ہزاورں بے گناہ زینب /ماہم / نور مقدم ہوس کے پجاریوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں 100 میں سے ایک کو سزا ملتی ہےاور باقی چند سال سرکاری مہمان پر جیل میں رہتے اور رہائ پاتے ہیں.مجرم طاقت ور ہو تو ایف آی آر تک درج نہیں ہوتی. آج اپنے نظامِ عدل سے ذرا سی واقفیت رکھنے والا شخص آسانی سے نور مقدم کیس کا مستقبل بتا سکتا. ملزم کو ذہنی مریض ثابت کیا جائے گا ,ڈی این اے رپورٹ تبدیل ہوگی یا تھراپی ورکرز میں سے کسی کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے یا انکے بیانات بدلوا لیے جائیں گے.یہ ہے ملک کا جوڈیشنل سسٹم.مقتول لاشوں کو کندھوں پر رکھ کے پھرتے ہیں, بے گناہ کے آنسو انکے گریبانوں پر گرتے ہیں پتھر دل نظامِ عدل کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.

    کچھ سرعام ،کچھ پسِ دیوار بکتے ہیں !
    اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں!
    یہاں تہزیب بکتی ہے !
    یہاں فرمان بکتے ہیں!
    ذرا تم "دام ” تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟کیا ہم مسلمان ہیں اس اسلام کے پیروکار ہیں جسکے رہنما سیدنا محمدﷺ کا عدل یہ تھا کہ فرمایا میری جان سے عزیز بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی چوری کریں تو انکے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں. ہمارے اسلاف /ہمارے رہنما وہی عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نہیں کہ گلیوں میں گشت فرما رہے تھے بوڑھی عورت ملی نا جانتے ہوئے کہ یہی تو امیرَالمومنین عمر رضی اللہ عنہ ہیں شکوہ شکائیت کرنے لگی کہ عمر میرے حال کی خبر نہیں رکھتا.آپ نے کہا اماں جی عمر کو اتنی بڑی سلطنت میں آپکے مسائل کا علم کیسے ہوگا؟اگر آپ خود نہیں بتائیں گی.. بوڑھی عورت نے تاریخی جواب دی کہا کہ عمر کو چاہیے اتنی ہی زمیں پر حکمرانی کرے اور اتنے ہی لوگوں کا خلیفیہ بنے جنکی خبر رکھ سکے.آپ کا دل ہِل کے رہ گیا اور فوراً خبر گیری کی مہم تیز تر کردی.عدل کیسے قائم ہوتا منصف/ حکمران کیسے ہوتے ہیں تو کوئ عمرِ فاروق کو دیکھے فرماتے "قوم کا سچا حکمران قوم کا خادم ہوتا ہے”.راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر پہرا دیتے.خوفِ خدا اور اقتدار کی جواب دہی کا ڈر اسقدر کہ فرماتے اگر دریائے فرات کے کنارے عمر کی خلافت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر بارگاہِ الہی میں جواب دہ ہو گا. اس ایک بات سے وطنِ عزیز کے بوسیدہ نظامِ عدل کی تمام تر وجہ سمجھ آجاتی ہے کہ عمرِ فاروق کتے کی جان کو بھی سراسرا صرف اور صرف اپنی ذمہ داری قرار دیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہر روز سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر محظ رسمی, مذمتی تقاریر اور کبھی نظام کو موردِ الزام ٹھہرا کہ فارغ ہو جائیں. نظام حکمران نے درست کرنا ہے بروزِ قیامت ہرنگہبان/حکمران سے سے ہی رعایا کے حقوق کی جواب دہی ہو گی.”فاروقی عدل ” وقت کی ضرورت ہے. حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی کا مطلب عوام کی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے.اقتدار کو مسندِ عیاشی سمھجنے اور دن رات صرف سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اصل ذمہ داری کی کی طرف آنا ہو گا جو کہ جو کہ رعایا کے جان و مال کا تحفظ اور منصفانہ معشرے کا قیام ہے.یہی پاکستان کی معاشی ترقی اور ہر میدان میں عروج کا راز ہو گا کیونکہ معاشرے عدل پر پھلتے پھولتے اور سپر پاور بنتے ہیں.جس وطن میں مظلوموں, بے بسوں کی آہیں ہوں.طاقتور کے لیے معافی اور بے بس اور چھوٹے لوگوں کے لیے سزا ہو. وہاں لاکھ کوئ ایک کے بعد ایک نام نہاد بہترین حکمران بدلے.. معاشی ترقی کے لیے بہترین سے بہترین پالسیز /منصوبے بنیں عدل سے روگردانی کرنے والے معاشروں کا مقدرصرف تباہی ہے.آج بھی نظامِ مصطفیﷺ کی روشنی میں مکمل اسلامی سزاوؤں کا نفاذ ہو,حکمران حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلیں تو یہ معاشرہ جنگل بننے سے بچ جائے.اور عجب نہیں کہ دنیا فاروقی عدل اور امتِ مسلمہ کی کھوئ ہوئ شان و شوکت ایک بار پھر دیکھے.
    ‎@SMA___23‎

  • اسلام اور سیاست  تحریر: رانا محمد جنید

    اسلام اور سیاست تحریر: رانا محمد جنید

    یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور پچھلی بہت سی دہائیوں سے چلتا آ رہا ہے،
    کیا اسلام سیاست کی اجازت دیتا ہے،کیا اسلام میں سیاست کا کوئی کردار ہے۔؟
    یقیناً یہ سوال آپ بھی بہت دفعہ سن چکے ہوں گے،
    اور یہ کے جوابات بھی بہت الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں
    کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسلام صرف اور صرف عبادات کا ہی نام ہے۔
    پر کیا یہ حقیقت ہے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں۔۔۔۔؟
    اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوال پیدا کب ہوا۔
    کیوں لوگوں کو ایسا بولنا پڑا کے اسلام اور سیاست جدا جدا ہیں
    اگر ہزاروں سال پیچھے جا کے دیکھا جائے اور اسلام کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو ہمیں یہ پڑھنے کو ملے گا اللہ پاک جب بنی اسرائیل کی طرف کوئی نبی بنا کے بھیجتا تھا تو اسے نبی کے ساتھ ساتھ حاکم بھی بنا کے بھیجا جاتا تھا
    جب ایک نبی وفات پا جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ پر آ جایا کرتا تھا
    نبی کریم خاتم النبیین محمدﷺ نے ارشاد مبارک فرمائے:

    ‏بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں
    (صحیح بخاری باب الانبیاء ذکر بنی اسرائیل حدیث 3455)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئیے گا اس لیے صحابہ کرام امت کے رہنمائی کے لیے خلیفہ بن کے آئیے
    اور خلیفہ وہ ہی بنا کرتا تھا جو جتنا زیادہ متقی اور پرہیز گار ہوتا تھا
    خلافت کے بعد ملوکیت شروع ہوئی جو کے اسلام کے ساتھ ساتھ چلتی آئی
    اور پھر اس کے بعد بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمان بہت سارے حصوں میں تقسیم ہو گئے
    اس کی وجہ دین دشمنوں کو دین اسلام کا ڈر تھا کے اگر مسلمان متحد رہے اور اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو روکنا ممکن نہیں۔
    اس لیے یہود و نصارٰی نے مسلمانوں کو آپس کے اختلاف میں ڈال کے سرحدوں میں تقسیم کر دیا
    اور مسلمان حکمرانوں اور نوجوان نسل میں یہ بات زہر کی طرح شامل کر دی کی اسلام اور سیاست جدا ہیں۔
    جب تک کوئی پرہیز گار شخص حاکم نہیں بنے کا تب تک دین دشمنوں کو اسلام کے کوئی خطرہ ہی نہیں
    اور یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء اکرام کو حکومتی معاملات سے الگ کر دیا گیا
    چاہے وہ بادشاہت نا نظام ہو یا جمہوری نظام

    علامہ محمد اقبال نے کیا خود کہا تھا

    جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
    جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    اگر ہم اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کریں گے تو ہمارے پاس انگریزوں کا ظالمانہ نظام جمہوریت کی شکل میں ملے گا جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے
    آج کا ہر مسلمان حکمران اسلام کی خدمت کو چھوڑ کر اپنے ملک اور اپنی سرحد کی فکر میں ہے، اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں
    اگر مسلمان حاکم مل بیٹھ کر اپنے معمولات کو اسلام کی رو سے حل کریں کی کوشش کریں تو ممکن ہے مسلمان ایک بار پھر سے متحد ہو سکتے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس پا سکتے ہیں
    پر اس کے لیے سب کو اسلام کے بارے سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرنا لازم ہے
    ایران کے سپریم لیڈر امام خمینی صاحب نے کیا خوب کہا ہے

    ”ہمارا دین عین سیاست اور ہماری سیاست عین دین ہے“

    ہمارا اسلام ہمیں سیاست کے بہترین اصول فراہم کرتا ہے
    اور اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے

  • ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ  تحریر:- مدثر حسین

    ‏امتحانات ہیں اس بار پیچیدہ تحریر:- مدثر حسین

    کرونا کے باعث جہاں دنیا بھر میں تمام نجی و سرکاری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، وہیں تعلیمی میدان میں بھی طلبہ کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے. کرونا کی صورتحال ملک کے سبھی علاقوں میں ایک جیسی نہیں ہے. گنجان آبادی والے علاقوں میں کرونا کے وار انتہائی تیز اور متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے.
    2020 کے امتحانات میں میٹرک کے طلباء کو پروموٹ کیا گیا. جماعت دہم کے طلباء کو جماعت نہم میں حاصل کردہ نمبروں کی مناسبت سے نمبرز دے کر پاس کر دیا گیا جبکہ جماعت نہم کو دہم میں پروموٹ کر دیا گیا. امسال بھی شروع میں ایسی ہی پیشن گوئیاں گردش کرتی رہیں.
    حکومت پاکستان نے طلباء کی پریشانیوں کا ادراک کرتے ہوئے نصاب کو مختصر کیا، بعد ازاں مزید مختصر کیا گیا. سکول و کالج کے دوبارہ کھلنے پہ بچوں سے جو ٹیسٹ لئے گئے اس میں یہ بات سامنے آئی کہ طلباء کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور امتحانات کے حوالے سے خاصی پیچیدہ صورتحال نظر آ رہی ہے. اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے، وزیر تعلیم کی سربراہی میں کئی اجلاس ہوئے. جن میں ہفتے میں تین دن کلاس لگانے کے آرڈرز دئے گئے.
    کرونا کی بدلتی صورتحال کے باعث کئی دفعہ سکول و کالج بند کرنا پڑے جس سے طلباء کی کارکردگی پہ حد درجہ اثر پڑا.
    اپریل مئی میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف سائنسی مضامین کے امتحانات لئے جائیں گے اور ایک مضمون میں سے حاصل کردہ نمبر دوسرے مضامین کے بھی لگائے جائیں گے مثلا جماعت دہم کے طالب علم کے فزکس میں سے حاصل کردہ نمبر ہی اسکی جماعت نہم کی فزکس کے حاصل کردہ نمبرز کے برابر ہوں گے. اور اس کے ساتھ اردو یا انگلش کے بھی اتنے ہی نمبرز لگائے جائیں گے.
    اس وقت راولپنڈی بورڈ میٹرک کے امتحانات جاری ہیں، بہت سارے تعلیمی اداروں کے سربراہان (پرنسپلز) امتحانات کے نتائج کے حوالے سے کافی پریشان نظر آ رہے ہیں تاہم بعد اداروں میں طلباء کو نقل فراہم کرنے کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں. پرچہ شروع ہونے سے 15 منٹ قبل طلباء کو معروضی پرچہ کے جوابات بزریعہ واٹس ایپ اپلیکیشن بھیج دئیے جاتے ہیں. امتحانی مراکز کا عملہ اس عمل میں پیش پیش ہے. ظاہری طور پہ طلباء کی مدد کے لئے کی جانے والی یہ کوشش حقیقت میں ایک جرم ہے. پرچہ آؤٹ ہونے پہ گورنمنٹ کی طرف سے پرچہ کینسل بھی کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے طلباء کو دوبارہ امتحانات دینے پڑیں گے.

    ‎@MudassirAdlaka

  • سلطان عبدالحمید ثانی تحریر: ذیشان علی

    سلطان عبدالحمید ثانی تحریر: ذیشان علی

    سلطنت عثمانیہ کا 34 سلطان عبدالحمید ثانی 21 ستمبر 1842 کو استنبول (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے، دس سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا ان کی سوتیلی ماں نے ان کی دیکھ بھال کی تھی ان کی سوتیلی ماں کی کوئی اولاد نہیں تھی انہوں نے سلطان عبد الحمید کی بہترین تربیت کی اور سگی ماں کی طرح ان کی پرورش کی اور وفات کے وقت اپنی ساری جائیداد عبدالحمید کے نام کر دی تھی،
    عبدالحمید ثانی ایک ہنر مند بڑھائی بھی تھے۔ انہوں نے ذاتی طور پر کچھ اعلی معیار کا فرنیچر تیار کیا تھا جسے استنبول کے یلدز ، سیل کوسکو اور بییلربی محل میں آج بھی دیکھا جا سکتا ہے،
    13 اگست 1876ء جب سلطان عبدالحمید ثانی کی بیعت کی گئی، اس وقت وزراء اعیان سلطنت اور بڑے بڑے سول اور فوجی افسر سرائے طوبقیو میں موجود تھے، مختلف جماعتوں کے نمائندوں نے انہیں خلافت کی مبارکباد دی سلطنت کے طول و عرض میں گولے داغے گئے اور جشن کا اہتمام کیا گیا تین دن تک استانبول میں خوب چہل پہل رہی اور صدر اعظم نے اطلاع کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں کو ٹیلی گرام بھیجے،
    سلطان عبدالحمید ثانی نے مدحت پاشا کو صدر اعظم مقرر کیا پھر 23 دسمبر 1876 کو اس دستور کا اعلان کر دیا جس میں شہری آزادیوں کی ضمانت دی گئی اور پارلیمانی حکومت کی طرز پر دستور پیش کیا گیا،
    سلطان عبد الحمید کو اپنے دور حکومت کے ابتدائی سالوں میں وزراء کی طرف سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جدید عثمانیوں کی جمعیت کی قیادت میں ان کی مغربی طرز کی پالیسیوں کی وجہ سے انہیں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا،
    یہ لوگ اگرچہ تعلیم یافتہ تھے لیکن مغربی رہن سہن اور تہذیب و ثقافت نے انہیں متاثر کردیا،
    اور سلطنت کی تباہی میں متحرک جماعتوں نے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا،وزراء کا حکومت پر دباؤ حد سے بڑھ گیا اور مدحت پاشا جو جدید عثمانیوں کی جماعت کی نمائندگی کر رہے تھے سلطان عبدالحمید کو ابتدائی دور حکومت 1877 میں لکھا!؛
    "”دستور کے اعلان سے ہمارا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ظلم کا خاتمہ ہو سب کے حقوق و فرائض کا تعین ہو وزراء کے وظائف کا تعین اور تمام لوگوں کی آزادی اور حقوق کی ضمانت ہو تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے، میں آپ کے احکام کی اسی صورت میں بجا آوری کروں گا کہ یہ احکام قوم کے مفادات کے منافی نہیں ہونگے،
    سلطان عبدالحمید ثانی اس خط کے جواب میں کہتے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ مدحت پاشا اپنے آپ کو مجھ پر حاکم اور آمر خیال کرتا ہے اور اپنے معاملے میں جمہوریت سے بہت دور اور آمریت کے بہت قریب ہے،
    مدحت پاشا اور اس کے ساتھی شراب نوشی کیا کرتے تھے، مدحت پاشا شراب نوشی کی خصوصی محفل میں مملکت کے اہم ترین راز افشا کر دیتا تھا اور دوسرے دن یہ راز استانبول کے رہنے والوں کے درمیان پھیل جاتے تھے ایک رات میں اس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بہت جلد دولت عثمانیہ میں جمہوریت کا اعلان کرنے والے ہیں،
    مدحت پاشا پر سلطان عبدالعزیز کے قتل کا الزام بھی تھا سلطان عبدالحمید نے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ وہ اس بارے تحقیق کرے پھر الزام لگانے والوں کو عدالت میں پیش کیا گیا پاشا پر جرم ثابت ہو گیا عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی لیکن سلطان عبدالحمید کی مداخلت پر موت کی سزا کو قید میں تبدیل کر دیا گیا مدحت پاشا کو حجاز مقدس کی طرف جلاوطن کر دیا گیا جہاں فوجی قیدیوں کے لیے قید خانہ موجود تھا،
    سلطان عبد الحمید اپنے اسلاف کی طرح 1876 تا 1909 تک کلی اختیارات استعمال کرتے رہے،
    جو دستور متعارف کرایا گیا اس میں پارلیمنٹ کے ممبران کو آزادی رائے کا حق حاصل ہوگا، ان کا محاسبہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ وہ مجلس کے اصولوں سے تجاوز کر جائیں یہ دستور عثمانی ترکوں کی زبان میں لکھا گیا تھا کیونکہ یہی ملک کی سرکاری زبان تھی،
    دستور میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ملک میں رہنے والے تمام افراد عثمانی قوم کے افراد شمار ہوں گے اور ان میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جائے گی تمام افراد کا تعلق کسی بھی دین سے ہو قانون کی نظر میں یکساں ہوں گے تمام افراد پر ایک جیسے فرائض واجبات عائد ہونگے،اور تمام کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے،
    سلطان عبدالحمید نے حکم دیا کہ دستور کو نافذ کیا جائے اور عام انتخاب کرائے جائیں تاریخ عثمانی میں اس طرح کا کام پہلی بار ہو رہا تھا اس انتخاب میں 71 سیٹیں مسلمانوں کو اور 44 سیٹیں نصرانیوں کو اور 4 سیٹیں یہودی نمائندوں کو حاصل ہوئیں،
    پہلی عثمانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس 29 مارچ 1877 کو ہوا ایوان بالا 26 ممبران پر مشتمل تھا جس میں 21 مسلمان نمائندے اور باقی غیر مسلم تھے لیکن مجلس نمائندگان 120 ارکان پر مشتمل تھی اجلاس میں جب مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی تو بعض عرب نمائندوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا لیکن مجلس نمائندگان کی عمر بہت کم ثابت ہوئی اس سے پہلے کہ اس کا دوسرا سیشن مکمل ہوتا 13 فروری 1878 میں بعض نمائندگان نے تین وزراء کو مجلس کے سامنے جوابدے ہونے کے لیے طلب کر لیا کیونکہ ان پر کچھ الزامات تھے معاملہ سلطان تک پہنچا سلطان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا سلطان عبدالحمید نے مجلس کو برخاست کر دیا اور بہت سے ممبران کو جلاوطن کردیا،
    عبدالحمید دوم نے دور دراز کے ممالک کا دورہ کیا تخت سنبھالنے سے 9 سال قبل وہ اپنے چاچا سلطان عبدالعزیز کے ساتھ کئی یورپی دارالحکومت اور شہروں کے دورے پر گئے جن میں پیرس، لندن اور ویانا وغیرہ سرفہرست ہیں،
    سلطان عبدالحمید نے بیوروکریسی میں اصلاحات کی رمیلیا ریلوے اور اناطولیہ ریلوے کی توسیع کے ساتھ ساتھ بغداد اور حجاز ریلوے کی تعمیر ان کے دور میں ہوئی،
    ان کے دور میں بہت سے پیشہ وار اسکول قانون سمیت تمام شعبوں کے لیے قائم کیے گئے آرٹس سول انجینئر ویٹرنری میڈیسن کاشتکاری اور لسانیت البتہ 1881 نے استانبول یونیورسٹی بند کر دی گئی تھی لیکن 1900 میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا تھا،
    اور پوری سلطنت میں ثانوی پرائمری اور فوجی اسکولوں کا نیٹ ورک بڑھا دیا گیا۔عثمانی سلطنت کی جدید کاری ان کے دور حکومت میں جاری رہی،
    تاریخ میں ان کا نام سلطنت عثمانیہ کے آخری بااثر اور با اختیار خلیفہ کے طور پر جانا جاتا ہے جو اپنا وژن خارجہ پالیسی اور نظریات رکھتے تھے،
    1877 اور 1878 روس کے ساتھ جنگ میں سلطنت عثمانیہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود سلطان عبدالحمید نے اپنی فوج کو منظم کیا اور سلطنت کو سہارا دیا روس کے ساتھ جنگ کے بعد وہ اس بات پر قائل ہو گئے کہ یورپی اتحاد ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا، یورپی اتحادی سلطنت پر مشکل وقت میں کام نہیں آئیں گے،
    لیکن یونان کے ساتھ جنگ میں عثمانیوں کو فتح حاصل ہوئی،
    سلطان عبدالحمید نے اسلامی قانون اور ضابطہ اخلاق پر زور دیا کیونکہ تنظیمات کے تحت سلطنت کے زوال کو روکنا ممکن نہیں تھا، اسلامی شناخت پر توجہ کم کرنے کے باعث قومیت پسندی کو زیادہ تقویت ملی تھی سلطان نے اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ مغرب کو ترکی سے کم ہی خار ہے مغربی طاقتوں کو اصل ہدف اسلامی شناخت کا طرز حکومت ہے، سلطان اس بات پر قائل ہوگئے تھے کہ مسلمانوں کو نظریاتی طور پر مسلم شناخت کی جانب قائل کرنا ہوگا،
    انیسویں صدی دنیا بھر میں یورپی قومیت کے نظریات کی لپیٹ میں آ چکی تھی اور سلطنت عثمانیہ کی کئی ریاستیں ان نظریات سے متاثر ہو چکی تھی عرب ممالک میں اسلامی شناخت کی بجائے عرب قومیت کے نظریات فروغ پانے لگے،
    1881 میں فرانس نے تیونس اور 1882 میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر لیا تھا انیسویں صدی کے آخری دہائی میں برطانوی اخبارات میں مختلف تجاویز شائع ہوتی رہی کہ برطانیہ کو جزیرہ نما عرب میں اپنا کنٹرول بڑھانا چاہیے اور یہ بھی کہ خلیفہ عبدالحمید چونکہ سادات میں سے نہیں اس لئے میں نے سلطنت کا حق نہیں چناچہ عرب کے لیے خلیفہ عرب میں سے ہی ہو اور سادات میں سے ہونا چاہیے ان حالات میں قومیت کو فروغ ملا بیرونی محاذوں پر مسائل کا سامنا کرنے والی سلطنت کو اندرونی سطح پر زیادہ چیلنجز کا سامنا ہونے لگا،
    اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سلطان عبدالحمید نے حجاز مقدس کی جانب بھی دستے روانہ کئے تاکہ حالات کو کنٹرول میں رکھا جائے اور سلطنت کی وحدت قائم رہے السعود خاندان کی جانب سے بھی مختلف علاقوں میں کنٹرول کے لئے سلطنت کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہیں 1902 ملک عبدالعزیز ابن سعود نے ریاض کا کنٹرول سنبھال لیا اور یہی تاریخ بعد میں سعودی عرب کے قیام کا باعث بنی،
    اسی طرح سلطنت کے بہت سے علاقے ہاتھ سے نکلتے گئے،
    لیکن سلطان عبدالحمید ثانی نے بہت مشکل حالات میں سلطنت کو سنبھالے رکھا سلطان عبدالحمید ثانی کا شمار سلطنت عالیہ کے نامور اور ذہین سلاطین میں ہوتا ہے۔
    مگر مغرب کی طرف سے قومیت پرست سازش کی شورش اتنی زیادہ تھی کہ آخر کار وہ سلطنت کے خاتمے کا باعث بنی،
    اگرچہ سلطان عبدالحمید ثانی کے بعد دو اور بھی سلطان منتخب ہوئے لیکن وہ سلطنت کے نام نہاد سلطان تھے،
    سلطان 27 اپریل 1909 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین،

    سلطان عبدالحمید ثانی کے دور حکومت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن اس سے یہ تحریر بہت لمبی ہو سکتی ہے بہت ایسے واقعات ہیں جو اس تحریر میں شامل نہیں کر پایا،

    ذیشان علی
    @zsh_ali

  • گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا حصول وقت کے ساتھ مشکل ھوتا جا رھا ھے متوسط طبقے کے لیے ممکن نہیں کے سب بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی جاۓ ۔ نوجوانوں کو چاھیے کہ ڈگری کے حصول کے ساتھ ساتھ اس طرح کے ہنر سیکھیں جن کی مدد سے آپ آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بیروزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں کئی لوگ ، بذریعہ انٹرنیٹ یا شارٹ کورسز، اور آئی ٹی کے ہنر سیکھ کر پیسے کما رھے ھیں۔

    فری لانسنگ:

    آپ فری لانسنگ کے ذریعے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتے ھیں۔ فری لانسنگ کی پہلی شرط کوئی ہنر سیکھنا ہے، جیسے ایس سی او ، ڈیجیٹل مارکٹنگ ، گرافک ڈیزائننگ اور ویب ڈیزائننگ وغیرہ ۔یہ سب آپ گوگل اور یو ٹیوب سے با آسانی سیکھ سکتے ھیں ۔
    آج کل ہر بندے کو اپنی ویب سائٹ اور برانڈنگ چاہیے تاکہ اپنی حریف کمپنی سے بہتر کارکردگی کر سکیں ۔ آپ لوگ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی بھی ہنر سیکھ کر فری لانسنگ کر سکتے ہیں ۔
    آپ لوگ فائیور، اپ ورک اور فری لانسر ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹس پر اپنے ہنر کے مطابق کام اور کلائنٹس ڈھونڈ سکتے ہیں ۔

    آپ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پراجیکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ شروعات میں آپ کو اپنا پورٹ فولیو بنانا ہوتا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ آپ کو کام آتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کلائنٹ کو آپ کا کام پسند آئے گا تو وہ ضرور آپ کو کام دے گا ۔

    یوٹیوب:

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے آپ یو ٹیوب کو بھی اپنا کیرئیر بنا سکتے ھیں۔ جس فیلڈ میں اپ کو دلچسپی ھو اسی کے مطابق چینل بنائیں ۔ یوٹیوب چینل بنانے کے لیے آپ کو یوٹیوب سے ھی کافی معلومات مل جائیں گی ۔

    کاروبار:

    اگر آپ پہلے ہی کوئی آف لائن دوکان چلا رہے ہیں تو اسی کو آن لائن لے آئیے، فیس بک اور ٹویٹر ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے گاہک تلاش کیجیے اور اپنے کاروبار کو بڑھائیے ۔ اگر آپ کے پاس بیچنے کے لیے کوئی پراڈکٹ فی الوقت دستیاب نہیں تو اپنے علاقے کی کسی بھی مشہور پراڈکٹ یا سوغات کو آن لائن بیچنا شروع کر دیں اور وقت کے ساتھ اسے بڑھاتے جائیں۔

    آنلائن ٹیوشن:
    دنیا کے سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں جتنے بھی سبجیکٹس پڑھے پڑھائے جاتے ہیں وہی سب آن لائن بھی پڑھا کر بہترین انکم حاصل کی جا سکتی ہے ۔ آپ بھی آن لائن فیلڈ میں آئیں ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا ۔

    مختلف ھنر:

    اگر آپ کو سلائی، کڑھائی کا ھنر اتا ھے تو آپ بچوں کے کپڑے سلائ کر کے یا عورتوں کے کپڑے ،چادریں کڑھائی کر کے آن لائن ویب سائٹس مثلاً فیس بک، ٹویٹر، او ایل ایکس وغیرہ پر فروخت کر سکتے ھیں۔

    یاد رکھیں ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت میں نا ھی برکت ھوتی ھے اور نا عزت ۔ کوشش کریں جائز طریقے سے حلال کمائیں وہ چاھے کم ھو اس میں عزت بھی ھے اور برکت بھی ۔

    ٹویٹر: @Oye_Sunoo

  • حیاتِ قلب   تحریر: نصرت پروین

    حیاتِ قلب تحریر: نصرت پروین

    دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
    کہ یہ ہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
    قلب انسانی جسم میں بادشاہ کی حثیت رکھتا ہے۔ انسان کے تمام احساسات، جذبات اور خیالات کا محور و مرکز یہ دل ہی ہے۔ یہ حیات کو بحال رکھنے کا اہم جزو ہے۔ یہ بہترین حصہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر یہ شیطان کا آلہ کار بن جائے تو یہ بد ترین عضو قرار پاتا ہے۔ انسان کے تمام عقائد اور اعمال کا دل سے گہرا تعلق ہے۔ اور اسکا اثر انسان کی ساری حیات پر ہوتا ہے۔ لہذا دل کا بنیادی طور پر زندہ ہونا بہت ضروری ہے۔
    بقول امام بخاری:
    "عمل سب سے پہلے قلب کا ہے پھر اعضاء کا ہے۔”
    رسول اللهﷺ نے فرمایا: جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہو تو سارا نظام درست رہتا ہے۔ اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا نظام بگڑ جاتا ہے۔ جان لو وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔
    اگر جسمانی طور پر کوئی بیماری لگ جائے تو ہم اسکا خوب علاج کرتے ہیں۔ لیکن اگر روحانی طور پر دل کو بیماریاں لگ جائیں تو اعمال کو گھن لگ جاتا ہے۔ خواہش پرستی، شہوت، حسد، خودغرضی، تکبر، کینہ، حرص اور شیطانی وسوسے یہ دل کی بیماریاں ہیں۔ ان بیماریوں میں مبتلا انسان کا دل الله کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے اور انسان گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
    حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ الله علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ دلوں کو کس چیز نے مردہ کیا ہے تو اس پر انہوں نے کہا تمہاری آٹھ عادتیں ایسی ہیں جس سے دل مردہ ہوجاتے ہیں:
    ۱۔ تمہیں الله تعالیٰ کے حق کی معرفت حاصل ہوئی۔( تمہیں پتہ لگ گیا کہ الله تعالیٰ کا حق کیا ہے؟) لیکن تم نے ادا نہیں کیا۔
    ۲۔ تم نے قرآن حکیم پڑھا لیکن اسکی حدود پر عمل نہیں کیا۔
    ۳۔ تم الله کے رسولﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہو لیکن ان کی سنت پر عمل نہیں کرتے۔
    ۴۔ تم کہتے ہو کہ تمہیں موت کا ڈر ہے لیکن موت کے لیے تیاری نہیں کرتے۔
    ۵۔ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:
    بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے اسے اپنا دشمن ہی سمجھتے رہو(سورہ فاطر:6)
    مگر تم نافرمانی کر کے شیطان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو۔
    ۶۔ تم دوزخ سے اپنے خوف اور ڈر کا اظہار کرتے ہو۔ لیکن کام وہ کرتے ہو جس سے دوزخ میں جانا یقینی ہوجائے۔
    ۷۔ تم جنت کے خواہشمند ہو لیکن وہ کام نہیں کرتے جو تمہیں جنت میں پہنچا دیں۔
    ۸۔ جب تم بستروں سے اٹھتے ہو تو اپنے عیبوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہو اور لوگوں کی عیب جوئی میں لگ جاتے ہو۔
    (احیاء العلوم)
    بقول حافظ ابن قیم رحمہ الله جب دل مردہ ہو جائے تو اپنی معصیت کاشعور نہیں رہتا۔ (الفوائد) مردہ دل کے ساتھ جینا بہت ازیت ناک ہوتا ہے۔ ایسا دل گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا۔ گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے لیکن محسوس نہیں کرتا۔ ایسا دل اپنی مفید غذا ایمان کو چھوڑ کر مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا دل باطل عقائد میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ الله کو بھول جاتا ہے، اور خود کو شیطان کے سپرد کر دیتا ہے۔ اور پھر مردہ دل میں شیطان یہ بات ڈال دیتا ہے کہ میں تو میں گنہگار ہوں میری دعا کیسے قبول ہوگی۔ انسان گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا اور توبہ کر کےگناہ چھوڑنے کی بجائے شیطان کے بہکاوے میں آکر دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ بقول شاعر:
    تیری دعا میں اثر کچھ اس لئے بھی کم ہوگیا
    تیری روح سو گئی، تیرا دل مردہ ہو گیا۔
    آپ غور کریں آپ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو ایک بات
    آپکے رب کی طرف سے ہوتی ہے اور ایک وسوسہ شیطان کی طرف سے۔ تو آپ شیطان کے وار سے بچنے کی کوشش کریں اور وہی کام کریں جو رب کو پسند ہو۔
    حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ بے شک مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے اور اگر استغفار کر لے تو اس کے دل کو صاف و شفاف کیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ گناہ کرتا چلا جائے تو سیاہ دھبہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔
    مسند احمد کی روایت میں ہے دل چار قسم کے ہوتے ہیں:
    پہلا قلب (سلیم) یعنی ایسا دل جو صاف شفاف ہوفرمایا اس کی مثال روشن چراغ جیسی ہے۔ جس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
    دوسرا قلب اغلف ہے جو غلاف میں بند کر دیا گیا ہے اور پھر اوپر سے دھاگے کے ساتھ باندھ دیا گیا۔
    تیسرا قلب منکوس یعنی اوندھا دل ہے اس کا سر نیچے اور پیندا اوپر ہے۔
    چوتھا دل مخلوط دل ہے دوپہلو والا دل۔
    پہلا دل تو مومن کا ہے جو پوری طرح نورانی ہے۔ دوسرا دل کافر کا ہے جس پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ تیسرا دل منافق کا ہے جو جانتا ہے اور انکار کرتا ہے۔ اور چوتھا دل اس منافق کا ہے جس مین ایمان اور نفاق دونوں جمع ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مردہ دل کیسے زندہ کیا جائے؟
    مردہ دلوں کو الله زندہ کر سکتا ہے الله کا قرآن زندہ کر سکتا ہے۔ تو الله سے مدد مانگی جائے۔
    الله رب العزت کا فرمان ہے:
    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
    ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے۔
    (سورہ یونس:57)
    حافظ ابن قیم رحمہ الله نے بیان کیا ہے کہ جس نے یاحی یا قیوم مسلسل کہنا شروع کر دیا الله اس کے دل کو زندہ کر دیتے ہیں۔
    انسان سب سے پہلے دل کے اندر رب کو دریافت کرے۔ تفکر و تدبر، صبر و شکر، توکل، اور اخلاص یہ ایسے اعمال ہیں جن کا تعلق دل کی عبادت سے ہے
    رسول کریمﷺ نے فرمایا آدمی کا دل الله تعالی کی دو انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے جب چاہے اسے سیدھا رکھتا ہے اور جب چاہے اس ٹیڑھا کر دیتا ہے لہذا دل کی سلامتی کے لئے آپﷺ کثرت سے یہ دعا کرتے۔
    یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِكَ
    اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے!میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔
    (مسند احمد:26679)

    قلب سلیم سے مراد سلامتی والا دل ہے۔ جو خالص توحید پر مشتمل ہو۔ حق پر ہو۔ بے عیب ہو۔ نفاق، سرکشی، نافرمانی، حسد اور شک و شبہ سے پاک ہو۔
    انسان جب دل کی عبادت سے متعلقہ اعمال جو اوپر بیان کئے گئے ہیں انجام دیتا ہے تو وہ رب کو پالیتا ہے۔پھر الله انسان کو نور دیتا ہے۔ انسان اسی نور کی روشنی میں صالح اعمال کرتا ہے اور قلب سلیم تک پہنچ جاتا ہے۔
    تو دل بدلیں۔ اور قلب سلیم کے مقام تک پہنچ جائیں۔دل بدلے تو زندگی بدل جاتی ہے۔
    زندگی زندہ دلی کا نام ہے
    مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔
    @Nusrat_writes

  • کراچی اور بھکاری  تحریر: ام سلمہ

    کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    بھکاری جو کراچی میں اس وقت ایک بڑے اور آسان پیشے کا رخ اختیار کر کیا ہے بہت ہی آسان لگتا ہے حلیہ بدلنا اور سڑک پے آجانا اور بھیک مانگنا کہیں عورتیں کہیں مرد کہیں بچے کہیں بوڑھے کہیں زبردستی معذور کیئے گئے لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں.
    بھکاریوں کی دن با دن بڑھتی ہوئی رفتار سے جرائم کو روکنے والے ادارے اس شک میں ہیں کہ کراچی میں بھکاری بھی بچوں کے اغوا ملوث ہیں.
    اور ساتھ ساتھ پولیس نے بھکاری مافیا کے منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں شمولیت کا انکشاف کیا ہے.
    پولیس کی طرف سے کراچی کی سڑکوں سے متعدد بھکاریوں کوگرفتار کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جہ سکے کے ان کے ساتھ بھیک مانگنے والے بچے شاید ان کے اپنے نہ ہوں اور ان کو اغوا کیا گیا ہو
    اس شبہے کی تصدیق کے لئے پولیس پولیس بچوں اور گرفتار شدہ بالغ بھکاریوں کا کچھ طبی جانچ کرنے کا کام شروع کر رہی ہے۔
    پولیس نے کچھ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شہر میں بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لئے مشترکہ تفتیش کا آغاز کیا ہے۔تاکہ اگر یہ کسی قسم کی جرائم میں ملوث ہیں تو اسکا پتہ لگایا جہ سکے.
    کراچی پولیس چیف سے بات کرنے پے پتہ چلا کہ اس سلسلے میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کے "حکومت سندھ کے کچھ محکمہ جیسے کے سوشل ویلفیئر اور بچوں کی پروٹیکشن اتھارٹی کچھ ٹرسٹ ، ٹریفک پولیس اور کچھ ہیلپ لائن جیسے کے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، جرائم کو روکنے کے محکمے ، اور دیگر تنظیمیں اس کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔”
    ان کے مطابق اس بات کے کافی شواہد مل رہے ہیں کہ کراچی کے بھکاری بھتہ منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
    پولیس سربراہ نے کہا ان بھکاریوں میں سے بیشتر کا تعلق شہر کی مقامی آبادی سے نہیں ہے دوسرے شھروں سے آتے ہیں. اس میں سے کچھ تو جنوبی پنجاب کی طرف کے ہیں اور کئی نسلوں سے بھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے مختلف زبانوں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کئی غیر ملکی شہری بھی ہیں ، جن میں سے ایک بڑی تعداد افغانی بھی ہے۔
    انہوں نے کہا ،مختلف تنظیموں سے ہماری ملاقات کے دوران ، ہم نے ان بھکاریوں کے ہمراہ بچوں کے بارے میں اپنے شک کا ظاہر کیا اور ان کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ بچوں کو کہیں سے اٹھایا تو نہں گیا ہے۔
    بہت سے معاملات میں ، بھکاریوں نے جان بوجھ کر اغوا کیے گئے بچوں کے اعضاء اور ہاتھ / پاؤں کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھیک مانگنے کے کاروبار میں بطور اوزار استعمال کرسکیں۔
    کراچی پولیس چیف کے مطابق ، شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی نگرانی میں کورنگی اور ملیر میں بھکاری بچوں کے رہائش کے مراکز موجود ہیں جہاں بھکاریوں اور ان کے بچوں کو رہائش اور کھانے کی مکمل سہولت فراہم کی جائیں گی۔
    پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی صحیح طرح تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ بکھاری مافیا کو پتہ چلے اور ساتھ ہی عوام کے بھی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بچوں کے اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے اور ایک معاشرہ بنانے میں ہوں پولیس کی مدد کر سکیں.

    @salmabhatti111

  • تحریک آزادی کا سفر تحریر: مزمل مسعود دیو

    تحریک آزادی کا سفر تحریر: مزمل مسعود دیو

    1857ء میں سلطنت مغلیہ کے آخری حکمران بہادر شاہ ظفر کو شکست دیکر انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو انگریزوں نے ہندووں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کو غلامی میں دھکیلنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ انگریزوں کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے تھا کیونکہ یہ حاکم قوم تھی۔ کسی وقت بھی سر اٹھا سکتے تھے اور ہندو جو عرصہ دراز سے رعایا بن کر رہ رہے تھے‘ اسی حال میں مطمئن اور خوش تھے بلکہ اب انہیں انگریزوں سے مل کر مسلمانوں کو دبانے کا موقع ہاتھ آگیا تھا۔ انگریز حکومت نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ ہندوئوں کی سرپرستی کریں اور مسلمانوں کیو کمزور کریں تاکہ یہ خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا سکے۔

    ہندووں نے مسلمانوں کی شکست اور زوال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کا ڈھونگ رچایا کہ انگریز کے سامنے ہندو مسلمان مل کر ہی اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف انگریز کی تابعداری اور بھرپور تعاون کی حکومت کو یقین دہانی کرا دی۔ 1885ء میں کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو ہندو سیاستدانوں نے اس میں جوق در جوق شمولیت اختیار کی۔ مسلمان جو بہادر شاہ ظفر کی شکست کے بعد پریشان تھے انہیں بھی اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے کانگرس میں شمولیت کرنا پڑی۔ ہندووں کے تعصبانہ رویے نے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا اور ڈھاکہ میں 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کیلئے باقاعدہ سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔

    انگریزوں کی مسلمانوں سے نفرت کا فائدہ ہندووں کو ہونے لگا اور اس بات کو بھانپتے ہوئے سرسید احمد خان نے جدید تعلیم کے حصول کے لیے علی گڑھ میں ایک ادارہ بنایا جسے بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی بنا دیا گیا۔ یہیں سے قائداعظم کی رہنمائی میں دو قومی نظریہ پروان چڑھا۔ ملی یکجہتی نے قوم میں ایک نئی جان ڈال دی۔ قوم میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔ قائداعظم جو پہلے کانگریس میں تھے، مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ قائداعظم نے 1929ء میں مطالبات کے 14 نکات پیش کردیئے اور کانگریس نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس الہ آباد میں ہوا جس کی صدارت حضرت ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ہندووں کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم بیان کیے اور اس سے نجات کا واحد حل مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کے مطالبے کے طور پر بتادیا۔

    1936ء میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیاگیا اور 1937 ء کے الیکشن کے نتیجہ میں صوبائی حکومتیں بنائی گئیں۔ کانگریس حکومت کے صوبوں میں مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا گیا ، جائیدادوں پر غاصبانہ قبضے کر لئے گئے اور مسلمانوں کو درجہ دوم کا شہری بنا کر ان کے وجود کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔سرکاری ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کر دیئے گئے۔ ان تمام حالات کی وجہ سے 23 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا تاریخ ساز جلسہ لاہور میں کروایا گیا اس جلسہ کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی اس کے علاوہ بہت سارے مسلم قائدین نے شرکت کی۔ جلسہ کے آخری سیشن میں تاریخی قرارداد پاکستان پاس کی گئی۔ جلسہ گاہ میں جس جگہ پر سٹیج لگایا گیا تھا یہ وہی جگہ ہے جہاں مینار پاکستان پوری شان سے کھڑاہے۔ اس پارک کا پرانا نام منٹو پاک تھا جسے تبدیل کرکے اب اس پارک کا نام اب اقبال پارک رکھا گیاہے۔
    اس جلسے کے بعد مسلمانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور انہوں نے متحد ہوکر ایک علیحدہ وطن کے علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عہد باندھ لیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے میں شدت آتی گئی اور انگریز اس بات پر سوچنے کو مجبور ہوگئے۔ مسلمان رہنماوں نے ہر محاذ پر اپنے مطالبے کو بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا اور آخرکار 14 اگست 1947ء کو وہ ملک پاکستان ہمیں مل گیا جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور اس کو پورا قائداعظم محمد علی جناح نے کیا۔
    آزادی کی اس نعمت کے لیے ہمارے آباو اجداد نے بہت قربانیاں دیں اپنے گھر بار چھوڑے اور ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ یہ آزادی اتنی سستی نہیں اس کی قیمت کا شاید ہم میں سے کوئی بھی اندازہ نئیں لگا سکتا۔ اس کی قدر کریں اور عہد کریں کہ اس ملک کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ نکال دیں گے اور اس کا دفاع کریں گے۔
    اللہ پاک ہمارے وطن کو تاقیامت سلامت رکھے آباد رکھے اور شاد رکھے۔ آمین

    ‏@warrior1pak

  • حسد بیوقوفی ہے  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    حسد بیوقوفی ہے تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    حسد ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو انسان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ تی۔ ہم حسد کیوں کرتے ہیں ؟ کبھی سوچا ہے یقیناً نہیں سوچا ہوگا! آج سوچ کر دیکھیں کہ ہم آخر کس وجہ سے حسد کرتے ہیں۔ اب بات کُچھ یوں ہے کہ جب کوئی شخص ہماری آنکھوں کے سامنے کامیابی سمیٹ رہا ہوتا ہے تو ہمارے دل میں یہ خیال آتا ہے فلاں شخص آخر کیوں کامیاب ہو رہا اُسکی عزت کیوں ہو رہیں ہے؟ مگر میں پیچھے رہ گیا مجھ سے سب کچھ چھین لیا جائے گا۔ جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہر انسان کا اپنا نصیب ہوتا ہے جو اسکو مل کر رہتا ہے اور دُنیا کی کوئی طاقت اُس سے چھین نہیں سکتی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی محنت کے بغیر بستر پر لیٹ کر خود کو کامیاب کروانا چاہتے ہیں جو کہ فطرتی طور پر نا ممکن ہے اور جب ایسا نہیں ہو پاتا تو ہم پھر دل میں حسد کی چنگاری کو آگ پھیلانے کے لیے ابھار دیتے ہیں اور پھر یہ چنگاری ہماری شخصیت کو ہیں جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے نعمتیں رکھی ہیں ہر انسان کو اُسکی محنت اور لگن کے مطابق نوازا ہے۔مگر پھر بھی کچھ لوگ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔جب کہ کچھ لوگ خود کچھ نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض کہ شکار بنے ہوئے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اللہ کی تقسیم کو کھلم کھلا کیوں چیلنج کر رھے ھیں؟ ہمیں پتہ ہی نہیں کے جس چیز کی ہم مانگ کر رھے ھیں وہ ہمارے لیے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے یہ ہم نہیں جانتے مگر رب العالمین جانتے ہیں۔رب کعبہ ہمیشہ انسان کو وہی دیتے ہیں جو اسکے لیے بہتر ہے کیوں کہ وہ اپنے بندے سے ماں سے بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔
    حسد کے متعلق شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے بہت خوب لکھا ہے جو میں بیان کیے دیتا ہوں۔”تم کیوں اپنے ہمسائے کے رزق،گھر اور جو نعمتیں جو اسے اللہ نے دی ہیں سے جلتے ہو۔یہ رویہ تُمھیں اللہ کے نزدیک قابل نفرت بنا دیگا۔اگر تم اس حصے سے جلتے ہو جو اللہ نے اسے عنایت کیا ہے تو تم اس بندے کے ساتھ زیادتی کر رھے ہو۔اور اگر تم اپنے حصے کی وجہ سے حسد کر رہے ہو تو تُم نا انصاف ،جاھل ہو کیونکہ تمہارا حصہ تمھارے سوا کسی کو نہیں دیا جائے گا۔تمہیں کیا پتہ کے جس مال کی وجہ سے تُم اسے حسد کر رھے ھو وہ آخرت میں اسکے لیے کتنا عذاب بن جائے گا اور اس وقت تُم کو احساس ہوگا کہ تم کیا مانگ رھے تھے”۔اس لیے اللہ کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور رزق حلال کی تمنا کریں۔آپکی آخرت اور دنیا کی زندگی پرسکون رھے گی۔ ہم اپنی محنت اور خدا سے دعا کی بدولت سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے اُن سے حسد نہیں کریں گے تو رب العالمین بھی ہمارے لیے آسانی پیدا کریں گے۔ اللہ ہمیں اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ آپکی دعا کا طالب۔شکریہ
    TA: @AhtzazGillani

  • قبرستان میں سونے والی خاتون اور ہمارا معاشرہ تحریر : عروج منطور

    میں پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ وہاں کا تھانیدار میرا دوست ہے ۔ باتیں کرتے کرتے وہ اپنا کام بھی نمٹا رہا تھا ، وہاں آئی ایک سائل خاتون کی بات سن کر میں چونک گیا ۔وہ کہہ رہی تھیں میں ہر رات قبر میں لیٹ کر سوتی ہوں ۔
    میں نے ان سے کہا اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ معلوم ہوا خاتون کے شوہر وفات پا چکے ہیں ۔ وہ گھر میں تنہا ہوتی ہیں ۔ کہنے لگیں قبر اور کمرے میں فرق ہی کیا ہے ، چاروں طرف دیواریں اور اوپر چھت ۔ لائٹ بند کر کے میں باقاعدہ نیت کرتی ہوں کہ مر گئی تو یہی میری قبر ہے ،24 گھنٹے تسبیح ہی کرتی رہتی ہوں ۔ اس کہانی میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی
    ان خاتون کو یقین تھا کہ ان کے رشتہ دار انہیں قتل کر کے ان کے مکان پر قبضہ کر لیں گے ۔ خاتون چاہتی تھی کہ وہ مر جائے تو اسی مکان کو اس کی قبر ڈکلیئر کر دیا جائے ۔ اپنی ذات میں ولی ہونے کے زعم کے ساتھ ساتھ ان کا حسد اور انتقام اس سطح پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔
    خاتون کے بچے بیرون ملک تھے اور واپس آنے کو تیار نہیں تھے۔خاتون مکان چھوڑ کر بچوں کے پاس جانے پر آمادہ نہیں تھیں ۔انہیں ڈر تھا کہ وہ گئیں تو مکان پر قبضہ ہو جائے گا ۔ وہ یہ مکان بیچنے پر بھی آمادہ نہیں تھیں۔ تھانیدار نے ان کے رشتے داروں کو بھی بلا لیا ۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے وہم کا علاج کچھ نہیں ۔دو ماہ پہلے تک خاتون کے تمام اخراجات ہم اٹھاتے تھے ،اب بھی راشن پانی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ خاتون کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے بھائی کی بیوہ ہے ۔ پہلے یہ مکان خاندانی جائیداد میں تھا ،ہم نے ہی حصے کر کے خاتون کے نام یہ مکان کروایا تھا ۔ جیسے ہی مکان خاتون کے نام ہوا انہیں وہم ہو گیا کہ اس مکان پر یہ رشتے دار قبضہ کر لیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔
    ان کے دیور بڑی سے بڑی قسم اور گارنٹی دینے کو تیار تھے، ان کے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار تھے لیکن خاتون کا اصرار تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہوا تو پرچہ ان کے دیوروں کے خلاف کاٹا جائے اور ان کے گھر کو قبر ڈکلیئر کیا جائے ۔
    وہ اپنے ممکنہ قتل کی ایڈوانس درخواست اور وصیت لکھ کر لائی تھیں۔ یہ ایسی درخواست تھی جو قتل ہونے والا ایڈوانس میں اپنے دستخط کے ساتھ تھانے جمع کروا رہا تھا اور فوری پرچہ دینا چاہتا تھا
    یہ کہانی صرف اس خاتون کی نہیں ہے ۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر ایسے ہی ہو چکے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہماری چھوٹی سی خوشی سے بھی باقی سب جل جاتے ہیں ، حسد کرتے ہیں اور ہمارے خلاف انتقامی باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی روٹین میں معمول کی بات کرے تو ہمیں لگتا ہے ضرور یہ اشارہ ہماری جانب ہے ۔
    یہ رویہ ہمیں آہستہ آہستہ نفسیاتی مریض بنا رہا ہے ،ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے سمیت 21 کروڑ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں
    آگہی کے ایک خاص لمحے اس درویش کو ادراک ہوا تھا ۔اس دنیا میں اہم اب کوئی بھی نہیں رہا ۔کسی کے چلے جانے سے نہ تو دنیا کا کاروبار رکتا ہے اور نہ کسی دفتر کا نظام ٹھہرتا ہے ۔یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ہر سیر کو سوا سیر میسر ہے ۔
    کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی سے جلے اور اگر کوئی حسد کرتا بھی ہے تو اس پر توجہ دینا بےوقوفی اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے خوش رہنے کا راز پایا ۔ میں نے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دی ۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اس دنیا کے لیے میں اتنا اہم نہیں ہو سکتا کہ کوئی اپنے کام چھوڑ کر مجھ سے حسد کرے گا یا میری خوشیوں سے جلے گا ۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو میں اسے نظر انداز کرکے مسکراتا ہوا گزر جاتا ہوں ۔میں اب ایسی ٹینشن پالنے کا قائل نہیں جس کا انجام کچھ نہ ہو ۔
    آپ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف کشید کیجیے ۔ لمحہ موجود میں خوش رہنے کا ہنر سیکھیں ۔ اپنی خوشیوں کے لمحے یہ سوچ کر برباد نہ ہونے دیں کہ کون کون جل رہا ہو گا اور کس کس کو جواب دینا ہے ۔
    یاد رکھیں ایک ہی کام کچھ لوگوں کے نزدیک درست ہو گا اور کچھ کے نزدیک غلط ہو گا ۔آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔آپ نے صرف اپنے ضمیر کو خوش رکھنا ہے ، کیا درست ہے اور کیا غلط یہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور پھر ثابت قدم رہیں ۔
    اپنی نجی خوشیوں کو دکھاوے میں بدلنے کی بجائے اپنی یادوں کا حصہ بنائیں ۔ تصاویر ضرور بنائیں لیکن اتنی نہیں کہ اپنی آنکھ کو براہ راست نظارے سے محروم کر کے وہی منظر لینز سے دیکھتے رہیں ۔
    یقین مانیں زندگی بہت خوبصورت ہے ،محبت کرنے والوں کے لیے تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن یہ خوبصورتی اس وقت اذیت میں بدل جاتی ہے کب آپ اپنے آپ کو نیشنل ہیرو سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی سے باقی سب کو جلن ہو رہی ہے آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس جلن کا جواب سوچنے لگتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت وہ خاص لمحہ آپ کی مٹھی سے پھسل جاتا ہے جو آپ کے لیے باعث تسکین ہونا تھا

    Twitter ID: @AroojKhan786