Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • غیبت سے بچیں     تحریر: صفدر حسین

    غیبت سے بچیں تحریر: صفدر حسین

    گناہ درحقیقت دنیا اور آخرت میں تمام مصائب برائیوں اور عذاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور تمام گناہوں میں سے بدترین وہ ہیں جو انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غیبت اور بہتان دونوں گناہ اللہ نے حرام کیے ہیں کیونکہ یہ لوگوں میں دشمنی برائی اور اختلاف کو جنم دیتے ہیں اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک ہی گھر کے لوگوں اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے درمیان دشمنی کا سبب بنتے ہیں۔ وہ نیکیوں میں کمی اور برائیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور بے عزتی اور بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔
    غیبت کرنا شرم اور رسوائی کا کام ہے۔ ان کا مرتکب دوسروں کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو جاتا ہے ۔ اللہ ان کاموں سے منع کرتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کہتا ہے غیبت سب سے ناپاک اور حقیر چیزوں میں سے ہے ۔پھر بھی انسانوں میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اس طرح کہ کوئی بھی اس سے آزاد نہیں ہے سوائے چند لوگوں کے۔
    غیبت کرنے کا مطلب ہے کسی شخص کے بارے میں کچھ بتانا (اس کی غیر موجودگی میں) جس کے بارے میں ذکر کرنے سے وہ نفرت کرتا ہے چاہے وہ اس کے جسم ، اس کی مذہبی خصوصیات ، اس کے دنیاوی معاملات ، اس کے جسم ، اس کے کردار کے بارے میں ہو۔ اس کی دولت ، اس کا بچہ ، اس کا باپ ، اس کی بیوی ، اس کا چلنے کا انداز اور اس کی مسکراہٹ۔ یہ ایک ہی ہے چاہے آپ اس کے بارے میں الفاظ کے ساتھ ، تحریروں کے ذریعے ذکر کریں ، یا آپ اپنی آنکھوں ، ہاتھ یا سر سے اس کی طرف اشارہ کریں۔
    جہاں تک اس کی مذہبی خوبیوں کا تعلق ہے ، یہ تب ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہیے وہ گنہگار ہے ، وہ چور ہے ، وہ غدار ہے ، وہ ظالم ہے،وہ نماز نہیں پڑھتا ، "وہ اتنی جلدی دعا کرتا ہے وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا وہ زکوٰۃ مناسب طریقے سے ادا نہیں کرتا ۔
    جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تب یہ ہوتا ہے جب آپ کہتے ہیں اس کا اخلاق خراب ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ کسی کا اس پر حق ہے،وہ بہت زیادہ بات کرتا ہے وغیرہ۔
    اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے: ” اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے "(قرآن 49:12) اس آیت میں اللہ تعالیٰ غیبت کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے اور وہ غیبت کرنے والے کا موازنہ اس شخص سے کرتا ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کا گوشت کھانے سے نفرت کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ غیبت کرنے سے گریز کرے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا: اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو (تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی (جو تم بیان کررہے ہو) اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان باندھا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4874) (مسلم)

    @itx_safder

  • تعلیم کی ضرورت و اہمیت  تحریر: اعجاز حسین

    تعلیم کی ضرورت و اہمیت تحریر: اعجاز حسین

    آج کے اس تیز ترین دور میں تعلیم بہت زیادہ ضرورت و اہمیت کی حامل ہے۔زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    حالانکہ آج کمپیوٹر اور ایٹمی ترقی کا دور ہے۔ساٸنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے ۔مگر سکولوں میں بنیادی عصری علوم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجٸینٸرنگ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف علوم حاصل کرنا جدید دور کا تقاضا ہے۔
    جدید علوم تو ضروری ہیں ہی ساتھ ہی دینی علوم کی تعلم بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔اس کیساتھ ساتھ انسان کو اخلاقی تعلیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اسی تعلیم کیوجہ سے زندگی میں اللہ کی اطاعت،عبادت ،محبت،خلوص،ایثار،خدمت خلق ،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اخلاقی تعلیم کیوجہ سے ہی ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    تعلیم کے حصول کیلیے قابل اساتذہ کا میسرہونا لازم ہے۔جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر مبّرا ہو گیا،بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے۔انہیں شعور اور ادراک سے مالامال کرتا ہے۔علم و آگہی نیز فکر و تدّبر پیدا کرتا ہے۔
    اگر موجودہ حالات کو دیکھا جاۓ تو شعبہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے۔
    محکمہ تعلیم،سکول انتظامیہ ،معاشرہ بھی بس چار کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا۔آج ڈگری،نمبر اور مارک شیٹ پر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قابض رہا ہے۔
    جن کے نزدیک اس عظیم شعبے کی کوٸی اہمیت نہیں رہی۔بدقسمتی اس بات کی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوتے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کیلیے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جسکی وجہ سے تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔
    مگر پھر بھی جسطرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی جدید تعلیم سے کبھی دور نہیں رہے۔ بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں، زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں ۔آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    جہاں پوری دنیا کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں تعلیمی نظام بھی بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس مشکل وقت میں حکومت ،تعلیمی اداروں اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عاٸد ہوتی ہے کہ وہ باہمی تعاون سے تعلیمی نظام کو دوبارہ بحال کریں۔
    تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
    حضرت معاذبن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا” علم سیکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کیلیے علم سیکھنا خشّیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت، اسکا پڑھنا پڑھانا تسبیح، اسکی جستجو جہاد ، ناواقف کو سکھانا صدقہ اور اسکی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔نیز علم تنہاٸی کا ساتھی، دین کا راہنما، خوشحالی و تنگدستی میں مددگار، دوستوں کے نزدیک وزیر، اور جنت کی راہ کا مینارِ ہدایت ہے۔
    علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت و عبادت کیجاتی ہے۔ اسکی حمدوثنا ہوتی ہے،اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کیجاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام میں فرق جانا جاتا ہے۔
    تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیرہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے۔یہ انسان کا حق ہے جو کوٸی اس سے چھین نہیں سکتا۔انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہاٸی کیلیے فدیہ کی رقم مقرر کی گٸی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دٸیے گٸے۔ لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،انہیں حکم ہوا کہ دس ،دس بچوں کو لکھنا ،پڑھنا سکھادیں تو چھوڑ دیے جاٸیں گے۔چنانچہ سیّدنا زید بن ثابتؓ نے جو کاتب وحی تھے ۔اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔
    اسی بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کی اہمیت کیا ہے۔اور اسکا حصول کتنا ضروری ہے۔
    تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نٸی نسل تک پہنچانے کا، کہ وہ انکی زندگی کا جز بن جاۓ۔ جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوۓ وہ غلام بنا لٸے گٸے یا پھر جب انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
    قرآن مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ” جو شخص طلبِ علم کے راستے پر چلا،اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیا“۔
    اسوقت ہمارے مروّجہ روایتی طریقہ تدریس میں بچوں کیلیے کوٸی کشش باقی نہیں رہی۔بچے سکول، کالج اور جامعات میں جانے سے کتراتے ہیں۔لگ بھگ 70 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی کچھ فیصد بچے پراٸمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روایتی طریقہ تدریس میں کوٸی تبدیلی نہیں کی گٸی اور دوسری وجہ مہنگاٸی کی شرح میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو چاٸلڈ لیبر کے طور پر کام میں مشغول کروا دیتے ہیں۔
    اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی دلچسپی کے لیے دیگر پروگراموں کو ترتیب دے کر ان میں دلچسپی کا سامان پیدا کیاجاۓ۔

    @Ra_jo5

  • ابوجہل کا قتل  تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل کا قتل تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل ایک ایسے گروہ میں تھا جنہوں نے اس کے گرد اپنی تلواروں اور نیزوں کی باڑھ قائم کر رکھی تھی ۔ ادھر مسلمانوں کی صف میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جن کے اردگرد دو انصاری نوجوان تھے ، جن کی موجودگی سے وہ مطمئن نہ تھے کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر ان سے کہا : چچا جان ! مجھے ابوجہل تو دکھلا دیجے ۔“
    انہوں نے کہا : ” اسے کیا کرو گے ؟
    اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے ہے وہ مر جائے۔
    اتنے میں دوسرے نے بھی یہی بات کہی ۔ اس کے بعد جب6 صفیں پھٹ گئیں تو عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابوجہل چکر کاٹ رہا ہے ، انہوں نے دونوں جوانوں کو اسے دکھلا دیا ۔ دونوں جھپٹ پڑے اور تلوار مار کر قتل کردیا ۔ ایک نے پنڈلی پر ضرب لگائی اور اس کا پاؤں یوں اڑ گیا جیسے موسل کی مار پڑنے پر گٹھلی اڑ جاتی ہے ۔ دوسرے نے بری طرح زخمی کردیا اور اس حال میں چھوڑا کہ صرف سانس آجارہی تھی ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ یہ دونوں عفراء کے صاحبزادے معاذ اور معوّذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معوذ رضی اللہ عنہ تو اسی غزوے میں شہید ہو گئے البتہ معاذ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک باقی رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کو ابوجہل کا سامان دیا۔
    معرکہ ختم ہو گیا لوگ ابوجہل کی تلاش میں نکلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے اسے پا لیا ابھی اس کی سانس آ جا رہی تھی انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا سر کاٹنے کے لئے داڑھی پکڑی اور فرمایا
    اللہ کے دشمن آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا اس نے کہا
    مجھے کاہے کو رسوا کیا؟
    کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے اوپر بھی کوئی آدمی ہے پھر بولا کاش مجھے کسانوں کی بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
    اس کے بعد کہنے لگا مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔
    ابوجہل نے کہا: او بکری کے چرواہے تو بڑی مشکل جگہ پر چڑھ گیا
    اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ لیا اور خدمت نبوی میں حاضر کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دے دی ۔
    پھر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • زندگی اور مشکلات  تحریر:  سیدہ بنت زینب

    زندگی اور مشکلات تحریر: سیدہ بنت زینب

    زندگی خوبصورت ہے لیکن ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، اس میں مسائل بھی ہوتے ہیں اور اصل چیلنج ان مسائل کا ہمت کے ساتھ سامنا کرنا ہے. زندگی کی خوبصورتی کو بام کی طرح کام کرنے دینا، جو مشکل وقت میں درد کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے.
    خوشی، غم، فتح، شکست، دن، رات سکے کے دو رخ ہیں. اسی طرح زندگی خوشی، لذت، کامیابی اور سکون کے لمحات سے بھری ہوئی ہے جو مصائب، شکستوں، ناکامیوں اور مسائل سے جڑی ہوئی ہے. اس کرہ ارض پر کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو مضبوط، طاقتور، عقلمند یا امیر ہو، جس نے جدوجہد، تکلیف یا ناکامی کا تجربہ نہ کیا ہو.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی خوبصورت ہے اور ہر لمحہ زندہ رہنے کا جشن لیکن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے. جو شخص زندگی میں مشکلات کا سامنا نہیں کرتا وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا.
    مشکلات انسان کی ہمت، صبر، ثابت قدمی اور حقیقی کردار کی جانچ کرتی ہیں. مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور ہمت کے ساتھ زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتیں ہیں.
    اس طرح زندگی صرف گلابوں کا بستر نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے. کانٹے بھی اس کا ایک حصہ ہیں اور ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے جس طرح ہم زندگی کے باقی خوبصورت پہلو کو قبول کرتے ہیں.
    کانٹے یاد دلاتے ہیں کہ کامیابی اور خوشی کیسے ہم سے دور ہو سکتی ہیں لیکن اس سے مایوس نہیں ہونا بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ کانٹوں کا درد مختصر ہوتا ہے، اور زندگی کی خوبصورتی جلد کانٹوں کی چبائی پر قابو پاتی ہے.
    وہ لوگ جو اس تاثر میں ہیں کہ زندگی گلاب کا بستر ہے جلد ہی مایوس ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں. جو ہمت سے مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور کامیابی کو اپنی محنت سے قبول کرتا ہے وہی ہے جو زندگی میں حقیقی خوشی، اطمینان اور سکون کا ذائقہ چکھتا ہے.
    وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ اچھا وقت ہمیشہ کے لیے رہتا ہے، مشکلات کے دوران آسانی سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں. وہ مطلوبہ محنت اور کوششیں نہیں کرتے کیونکہ وہ آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں.
    آپ ایک طالب علم کی مثال لے سکتے ہیں، جو آدھی رات کو جاگ جاگ کے محنت کرتا ہے، قربانیاں دیتا ہے اور فتنوں کا مقابلہ کرتا ہے تاکہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے. اسی طرح ایک کامیاب ایگزیکٹو کو زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ نہ بھولیں کہ زندگی کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم کا امتزاج ہے.
    اگر انسان مشکل وقت میں امید کھو دیتا ہے، تو وہ کامیابی حاصل نہیں کرے گا اور دوسروں کی جگہ لے لے گا. یہاں تک کہ مضبوط ترین بادشاہوں اور شہنشاہوں کو بھی ان کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. زندگی گلاب کا بستر تو انکے لیے بھی نہیں رہی.
    خلاصہ یہ کہ زندگی گلاب کی طرح خوبصورت ہے لیکن اس میں چیلنجز ہیں جو کانٹوں کی طرح ہیں اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے. جو لوگ ان چیلنجوں کو قبول کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں، وہی ہیں جو زندگی کو صحیح معنوں میں جینا جانتے ہیں. اسی طرح زندگی سے لطف اٹھائیں بلکہ درد کی چوٹیں برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہیں.
    زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں ہے، اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے. اپنی مشکلات کے باوجود دوسروں کے دکھ درد میں ان کا ساتھ دیا جائے، دوسروں کے لیے کام کیا جائے. سب سے بڑھ کر اپنے ملک اور اسکے لوگوں کے لیے کام کیا جائے تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں میں "عظیم قابلِ تعظیم” بن جائے. پاکستان ذندہ باد….!

    @BinteZainab33

  • ‏ہمارا سیاست میں کیا کام    تحریر؛ طیب شبیر

    ‏ہمارا سیاست میں کیا کام تحریر؛ طیب شبیر

    پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آج کوئی ایماندار اور قابل آدمی آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو یہ اس کے لیے ناممکن بات ہو گی۔
    بلکہ آج تو یہ تک کہا جاتا ہے کہ سیاست شریف آدمی کا کام نہیں۔
    آخر کیوں ہم یہ نہیں چاہتے کہ اچھے لوگ سیاست میں آئیں کیوں ہم نہیں چاہتے کہ ہم اپنے انتظامی معاملات کسی اچھے انسان کے سپرد کریں۔؟
    جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء انکی سیاسی رہنمائی فرماتے تھے۔

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی راہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب ایک نبی وفات پا جاتے تو دوسرے نبی ان کی جگہ آ جاتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تو پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: ”خلفاء (نائب) ہوں گے اور بہت ہوں گے، ان کا حق انہیں ادا کرو، اور اپنے حق کے متعلق اللہ سے سوال کرو۔“
    صحيح البخاري #3455
    یہ ناانصافی ہمارے ساتھ جو کی گئی ہمارے بڑوں کی طرف سے کی گئی ہے جن کی نیت تو اچھی تھی لیکن انکو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اسکا نتیجہ اس صورت میں نکلے گا۔
    کچھ لوگوں نے خود کو اس ذمہ داری سے اس لیے بھی دور رکھا کہ کل اللہ کے حضور اسکا حساب دینا پڑے گا۔

    کچھ نے سوچا سیاست تو کسی شریف النفس آدمی کا کام نہیں
    کچھ نے کہا ہمارا کیا لینا دینا سیاست سے ہم تو غیر سیاسی ہیں۔
    ہمارے غیر سیاسی ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند مالدار لوگوں نے اہل نہ ہونے کے باوجود اس ذمہ داری کو سنبھال لیا اور اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے پیسے کا استعمال کیا اور پھر اپنے پیسے کے نقصان پورا کرنے کے لیے ہمارا ہی پیسہ لوٹا ۔
    انتخابات میں پیسے کا استعمال اس قدر کیا جاتا ہے کہ اب کوئی غریب ایماندار آدمی تو انتخابات میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
    مسئلہ یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ہم وہیں پر کھڑے ہیں آج بھی ہم کسی شریف اور ایماندار آدمی کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتے آج بھی کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اسکا اپنا بیٹا بھتیجا یا کوئی عزیز اگر اس میں قابلیت ہے تو وہ آگے آئے اور انکے معاملات کو سنبھالے ہم لوگ بس انہی چند خاندانوں کے نعرے لگا کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
    آج بھی خاندان سے ایک شخص آٹھے گا اور کسی بدعنوان شخص کے چار نعرے لگائے گا کسی نااہل بندے کے ساتھ دو تصویریں بنائے گا اور پورے خاندان کی ووٹیں تھالی میں رکھ کر پیش کر دے گا ۔
    آج اگر ہم بھی اپنے بڑوں کے اسی قول پر قائم رہے کہ “ ہمارا سیاست میں کیا کام “ تو جو ناانصافی ہمارے ساتھ کی گئی ہم آنے والی نسل سے اس سے بھی بڑی ناانصافی کریں گے۔

  • ہمارے معاشرے کی تباہی تحریر: علی معصوم

    ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں قدر و قیمت انسان کی نہیں رہی بلکے اس کے سٹیٹس کی ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی حالت نہیں بلکے اوكات پوچھی جاتی ہے کے آپ کے پاس دولت کتنی ہے آپ کا بزنس کیا ہے آمدنی کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    غریب تو ویسے بھی تباہ ہے جسے اکثر امیر زادے گلی کا آوارہ جانور سمجھتے ہیں وه جیے، مرے، کھاہے یا بھوکا رہے اس کی پرواہ کسی کو نہیں البتہ کوئی امیر زادہ راستے میں بھی مل جاہے تو دس بار کھانے پینے کا پوچھا جاتا ہے۔ اور آجکل اگر ہم کسی بھی محفل میں چلے جاہیں تو وہاں امیر کے لیے مخصوص قسم کا الگ سے بیٹھنے کا انتظام، کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے غریب کو دور سے سلام اور امیر کے لیے ہر شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور آگے سلام کرنے کو جک جاتا ہے۔
    دیکھنے میں آیا ہے آجکل اکثر لوگ شادی بیاہ کے فیصلوں میں بھی سٹیٹس کو ترجیح دیتے ہیں کے لڑکا کیا کرتا ہے؟ لڑکے کا رہن سہن کھانا پینا حلال حرام اخلاق مطلب اس سے نہیں بلکے مطلب اس سے ہے کے اس کے پاس دولت کتنی ہے اور یہی سوچ ہمارے معاشرے کی تباہی ثابت ہوئی۔
    اندازے کے مطابق پاکستان میں اکثر طلاق یافتہ عورتيں تعلم یافتہ یا امیر خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور غریب کم پڑی لکھی عورتيں کم طلاق یافتہ ہوتی ہیں جس کی وجہ یہی ہے لڑکی کی شادی کرتے وقت امیر زادوں نے سٹیٹس کو ترجیح دی لیکن غریب گھرانے کے لوگوں نے لڑکے کو اہمیت دی اس کی اچھایاں یا براہیاں۔۔۔۔
    معاشرہ تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وه امیر اور غریب کے درمیان فرق کو ختم نا کر دے اور یہ فرق تب ختم ہو گا جب تک ہم دنیاوی تعلم کے ساتھ ساتھ دینی تعلم کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔
    رسول ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمیں چین جانا پڑے۔
    علم کہتے ہیں جاننا
    اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا۔
    آجکل لوگ سائنس کی تعلم کے لیے بیرونے ملک جاتے ہیں وه دنیا میں رہنے کے لیے فنی تعلم حاصل کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی علم سے دور بہت دور رہتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل وغیرہ علم نہیں فن ہے اور یہ فن اس کے پاس ہوتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے اس کے ہارے میں جانے۔ علم صرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا ہے باقی سب فن ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا لیکن علم ہر شخص پے فرض ہے۔
    ہمارے معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہی علم ہے ہم نے فن کو علم سمجھا اور پھر علم سے دور رہ کر ہم سلیبرٹی بن گے ہم نے اللّه کے دین اسلام سے غلطیاں نکالنا شروع کی، ہم نے شہریت کو بھلا دیا، ہم نے اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا، ہم نے شہریت میں دی جانے والی سزاہوں کو جہالت سمجھ لیا جس سب کا نقصان ہمیں یہ ہوا کے ہمارا معاشرہ تباہ ہو گیا۔ ہم نے امیر اور غریب کے درمیان فرق پیدا کیا، بچوں کے ساتھ زیادتی، قتل و غارت، چوری، زنا، تشدد، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریب اور پھر ان کے بے رحمی سے قتل ہر برے عمل میں اضافہ ہوا اس کی وجہ یہی ہے کے ہم نے علم/شہریت سے دوری اختیار کی۔
    جب تک ہم علم کی طرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹ کر نہیں اہے گے تب ہمارا ممعاشرہ ایسے ہی تباہ ہوتا رہے گا۔
    @AM03100

  • رجعت پسندی   تحریر:حُسنِ قدرت

    رجعت پسندی تحریر:حُسنِ قدرت

    زندگی میں ہماری سوچ ہر معاملے کے بارے میں دو قسم کی ہوتی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی جبکہ مثبت سوچ کا ایک پہلو "رجعت پسندی” ہے جسے ہم آپٹیمزم کہتے ہیں
    رجعت پسندی کا مطلب ہے اگر آپ بہت زیادہ کوشش کرنے کے باوجود ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں تو ہار نہ مانیں اور دوبارہ کوشش کریں اپنا کوشش کرنے کا طرز دیکھیں اور اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو مزید بہتر طریقے سے کوشش کریں اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کامیابی کی طرف اپنی جدوجہد جاری رکھیں
    اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اٹل ہے کہ اگر انسان کسی چیز کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ اسے ضرور حاصل کرتا ہے اگر زندگی کے کسی مرحلے میں آپ لوگوں کا ناکامی سے سامنا ہو تو اسکا مطلب ہے کہ ہم سے ہی کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے کیونکہ قانون قدرت ہمیشہ ہے اٹل رہے ہیں
    اکثر لوگوں کو جب انکی کوشش یا خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں ملتا تو وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کا ازالہ کرنے کی جگہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں
    اگر کسی کام کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آتا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری کوشش رائیگاں گئی ہے کوشش اور محنت کبھی بھی ضائع نہیں جاتی اسکا نتیجہ ضرور نکلتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اسکا شعور نہیں ہوتا
    جیسا کہ ایک انسان کسی کاروبار میں پیسے انوسٹ کرتا ہے اور وہ ڈوب جاتے ہیں تو اگر وہ روتا رہتا ہے دوبارہ کوشش نہیں کرتا تو وہ اسکی ناکامی ہے لیکن اگر وہ انسان اپنے پچھلے کاروبار میں کی گئی غلطیوں سے سیکھتا ہے نوٹ کرتا ہے کہ اسے خسارہ کہاں اور کس وجہ سے ہوا اور کون سی ایسی غلطی تھی جس کی وجہ سے اسکا کاروبار ڈوب گیا تو وہ جب دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرتا ہے پھر ان پوائنٹس کا خیال کرتا ہے کہ یہ غلطی وہ نہیں دہرائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اگلی دفعہ اس کا کیا گیا کاروبار بہترین طریقے سے کامیاب ہو اور پہلے سے اسٹیبلش لوگوں سے زیادہ جلدی وہ بہت زیادہ ترقی کرے اور کامیاب بھی ہو
    اگر آپ لوگوں کی محنت اور کوشش کا نتیجہ آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہے تو مایوس ہو کر محنت نہ چھوڑیں کیونکہ محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے یہ بہت بڑی اور کھلی حقیقت ہے ایک سیانے کا قول ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف اس لیے ناکام رہتے ہیں کہ کامیابی کے سرے پہ پہنچ کر محنت چھوڑ دیتے ہیں
    یہ بات ماننا یہاں مشکل ہے کہ ہم مثبت طرز عمل اور رجعت پسندی کو اپناتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں خاص کر جو ماحول یہاں بنا ہوا ہے سیاسی،سماجی اور معاشی نظام درہم برہم ہوا ہے لیکن اسکی زمہ داری ہم پہ عائد نہیں ہوتی ہمارا کام بس اپنے حصے کا مثبت کام کرنا ہے
    رجعت پسندی کے ذریعے آپ مثبت سوچ کو اس طرح اپنا سکتے ہیں کہ آپ اس وقت تک محنت جاری رکھتے ہیں جب تک بامراد نہیں ہو جاتے
    کیونکہ چیلنج ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس انعام کے قابل ہیں جو ہمارے لیے اللہ تعالٰی نے محفوظ کر رکھا ہے
    کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اگر آپ ناکامی کو پاچکے ہیں تو یقیناً بہت جلد کامیابی آپ سے ملے گی
    دنیا کی ہر چھوٹی بڑی شے سے جذباتی تعلق رکھنا اور اسکے نہ ملنے یا کھو جانے پر اداس ہو جانا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اگر ہم چاہیں تو اپنی محنت کوشش مثبت سوچ (رجعت پسندی) اور دعا سے وہ واپس حاصل کرسکتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • سندھ بھی کپتان کا تحریر:  فرزانہ شریف

    سندھ بھی کپتان کا تحریر: فرزانہ شریف

    کشمیر فتح کرنے کے بعد خان صاحب کا اگلا پڑاو سندھ ہے جوں جوں 8اگست قریب آرہی ہے جیالوں کی رات کی نیند دن کا سکون ختم ہونا شروع ہوچکا پہلے لاک ڈاون کا سوشا چھوڑا وہ کامیاب نہیں ہوا اب 8تاریخ کو بےچارے کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی مثال بنیں گے نہ ہنس سکیں گے نہ رو سکیں گے۔۔زرداری جو کہتا تھا میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا اب بھیگی بنا بیٹھا ہے اندر سے یہ چور لٹیرے خوف زدہ ہیں اوپر اوپر سے بلاول بھٹو کہتا ہے خان صاحب یہ میرا پہلا اور آپ کا آخری الیکشن ہو گا۔
    بلو رانی! تمہارے خاندان نے ابھی تک اس ملک کو کیا دیا ہے؟ عمران خان نے بغیر حکومت کے عوام کو ورلڈ کپ، نمل یونیورسٹی، 3 کینسر ہسپتال اور سیاسی شعور دیا ہے، اور جب سے حکومت میں ایا ہے بنا قرض کے پہلا پورا سال ملک چلایا بناکسی کے اگے جھولی پھلائے۔۔۔۔!! اور ان تین سالوں میں بڑے بڑے منصوبے شروع کیے دس ڈیمز پر کام شروع ہے جو 2028تک مکمل ہوجائیں گے تب تک سندھ سے بھی ڈاکو راج ختم ہوجائے گا ان شاءاللہ
    چاروں صوبوں کا سلطان
    ان شاءاللہ عمران خان
    فیلحال خان صاحب کا پہلا جلسہ مٹھی میں ہورہا ہے 8اگست کو ۔۔۔
    تو سوچ لو کشمیر کا سلطان بننے کے بعد کیا اب سندھ کو آپ کے مزید لوٹنے کے لیے چھوڑ دے گا سوچنا وی ناں
    اس وقت میں بہت ہنستی ہوں
    جب جیالے کہتے ہیں خان صاحب ہمت ہے تو ہمارے لیڈر کو نااہل کرکے دکھاو
    آپ کو نااہل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے آپ کا پہلے ہی بیڑا غرق ہو چکا ہے آپکو 5000سے زیادہ ووٹ نہیں مل رہے۔ خان صاحب کو مردے مارنے کا شوق نہیں
    زرداری اور فریال تالپور کے ہوتے ہوئے اپکو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ۔پیپلز پارٹی پنجاب سے تو ایسے ختم ہوگی ہے جیسے برسات کے بعد مینڈک۔۔

    ‏کبھی کسی نے نوٹ نہیں کیا کہ جیالوں اور نون لیگیوں کا ایک ہی اسٹائل ہے۔ واسکٹ مافیا اور کاٹن مافیا ٹائپ اکڑتے ہوئے ۔
    پی ٹی آئی منسٹرز پر نظر دوڑائیں تو نہائت سلجھے ہوئے صوبر اور شفیق ۔ جن سے بات کرنے میں خوف نہ محسوس ہو ۔
    یہ تبدیلی کی نشانی ہے

    ‏پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے کسی بھی ساستدان کی ہسٹری آپ دیکھ لیں ۔ کرپشن میں لت پت پایا جائے گا ۔ جبکہ ان دو پارٹیز کا موازنہ پی ٹی آئی کے منسٹرز سے کریں ۔ کسی بھی منسٹر پر کرپشن کا کوئی چارج نہیں ۔
    یہی وجہ ہے kpkمیں خان صاحب دوسری دفعہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ایسے ہی کشمیر میں دو تہائی اکثریت لینے میں کامیاب ہوگے ہیں اب ان شاءاللہ سندھ بھی کپتان کا ۔۔

  • ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب  تحریر: ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب

    ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب تحریر: ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب

    کھیلوں کا سب سے بڑا عالمی میلہ جاپان کے دارلحکومت ٹوکیو میں کورونا وبا کے سائے میں سج گیا ہے۔ کھیلوں کے مقابلے جاپان کے مختلف شہروں میں ہوں گے۔ افتتاحی تقریب میں بھی کورونا کا خوف غالب تھا جس کی وجہ سے رنگا رنگ تقریب میں مہمان انتہائی قلیل تعداد میں موجود تھے اور مارچ پاسٹ میں بھی کھلاڑیوں کی تعداد کم کردی گئی تھی۔
    اس عالمی ایونٹ کی افتتاحی تقریب میں کورونا رولز پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔ کھلاڑیوں کے مارچ پاسٹ میں زیادہ تر دستوں نے چہروں پر ماسک لگا رکھے تھے اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا تھا۔ پاکستانی پرچم ماحور شہزاد اور خلیل اختر نے اٹھایا ہوا تھا۔ پاکستانی کھلاڑی سفید شلوار قمیض اور سبز واسکٹ میں ملبوس تھے۔
    ٹوکیو اولمپکس میں 33 کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں ریکارڈ 339 گولڈ میڈلز کے لیے دنیا بھر کے 207 ممالک کے 11 ہزار سے زیادہ ایتھلیٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ اس مرتبہ ٹوکیو اولمپکس میں خواتین کی ایک ریکارڈ تعداد شرکت کر رہی ہے جن کا تناسب 48 فیصد ہے۔
    ٹوکیو اولمپکس میں 22 رکنی پاکستانی دستے میں 10 ایتھلیٹس اور 12 آفیشلز شامل ہیں۔ پاکستانی ایتھلیٹس 6 کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے میڈل جیتنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اولمپکس تاریخ میں پہلی مرتبہ 3 خواتین کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں جن میں نیشنل بیڈمنٹن اسٹار ماحور شہزاد، ایتھلیٹ نجمہ پروین اور تیراک بسمہ خان شامل ہیں۔ پاکستان 28 سال سے اولمپک گیمز میں میڈل جیتنے کا منتظر ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان ہاکی کا عالمی چیمپیئن تھا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم اولمپکس کے عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کرسکی۔
    ان سب باتوں میں سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی دستے میں شامل ہونہار اور محنتی ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے 45 سال بعد ویٹ لفٹنگ کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرکے ملک کا نام روشن کردیا۔ طلحہ طالب نے 67 کلوگرام ویٹ لفٹنگ کیٹگری کے عالمی مقابلے میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے وطنِ عزیز پاکستان اور پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ طلحہ طالب نے مجموعی طور پر 320 کلوگرام وزن اٹھایا اور اس میں ایک دفعہ 170 کلوگرام وزن اٹھانا بھی شامل ہے۔ وہ صرف 2 کلوگرام کے فرق سے میڈل جیتنے سے محروم رہے۔ مگر انہوں نے پوری پاکستانی قوم کے دل جیت لیے۔ طلحہ طالب کا کہنا تھا کہ اگر ان کو بنیادی سہولیات اور عالمی معیار کا سامان اور تربیت دی جاتی تو وہ ضرور میڈل جیت کر آتے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ طلحہ طالب نے اپنی مدد آپ کے تحت محنت کی بلکہ جس جگہ وہ ہاسٹل میں رہتے تھے اس کا کرایہ بھی وہ خود دیتے تھے۔ ان کو کسی قسم کوئی سپورٹ اور مالی معاونت نہیں کی گئی۔ جب کہ دوسرے ممالک کے ایتھلیٹس کو ہر طرح کی معیاری سہولیات میسر ہوتی ہیں۔
    لٰہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایتھلیٹس کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا جائے۔ ان کو انٹرنیشنل لیول کی جدید سہولیات اور سامان مہیا کیا جائے۔ ان کی مالی معاونت کی جائے۔ اور سب سے ضروری بات یہ کہ کوچنگ سٹاف بھی انٹرنیشنل لیول کا ہونا چاہیئے۔ ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو۔اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مقابلے منعقد کیے جائیں تاکہ ہونہار کھلاڑیوں کو موقع مل سکے۔کم از کم ہر یونیورسٹی میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے جہاں جدید سامان اور سہولیات موجود ہوں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے فنڈ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہمارے ایتھلیٹس کو مناسب سہولیات میسر ہوں اور وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرسکیں۔

    ‎@Rumi_PK

  • 32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان . تحریر :‌ غنی محمود قصوری

    32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان . تحریر :‌ غنی محمود قصوری

    ہندوستانی زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وادی کشمیر جنت نظیر میں مسلمان 95 فیصد،جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بدھ مت 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں.

    1931 سے کشمیری قوم تقریبآ 32850 دنوں سے غلامی کی زندگی گزار رہی ہے مگر گزشتہ 730 دنوں یعنی 5 اگست 2019سے ان کی مظلومیت میں انتہاہ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ غاصب ہندو نے کیا ہے.

    ہندوستان میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل کرکے پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کیا تاکہ کشمیر کو تقسیم کرنے کے فارمولا پر عمل درآمد کیا جائے.

    کرفیو لگاتے ہی ہندوستانی گورنمنٹ نے 500 سے زائد حریت لیڈروں بشمول بزرگ ترین لیڈر سید علی شاہ گیلانی کو قید کر دیا
    جس پر کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی اور اور گزشتہ دو سالوں سے 5 اگست کو بطور یوم سیاہ منا رہی ہے.

    اس سال بھی 5 اگست کو کشمیری بطور یوم سیاہ کے طور پر منائینگے کشمیریوں نے پوری وادی کو ہندوستانی فوج کے انخلا پر مبنی پوسٹرز سے بھر دیا ہے اور ہڑتال کے ساتھ احتجاج کی کال بھی دی ہے جس کیلئے مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار فوج کا ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے.

    بھارت نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے کشمیریوں پر ظلم کی ہر حدیں پار کیں ہیں مگر کشمیری قوم کا جذبہ آزادی کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا گیا ہے.

    ہندوستان نے 1989 سے لے کر ابتک مقبوضہ وادی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1 لاکھ سے زائد معصوم کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا.

    ہندوستان کی اس قتل غارت گری سے 25 ہزار سے زائد خواتین بیوہ اور 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب کشمیری بچے یتیم ہوئے ہیں جبکہ ہندوستانی فوج نے 13 ہزار سے زائد کشمیری خواتین کی عصمت دری کی اور 2 لاکھ سے زائد املاک کو تباہ کیا.

    حتی کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی خاطر جانوروں پر استعمال کی جانے والی پیلٹ گن کشمیریوں پر استعال کی جاتی ہے. اس پیلٹ گن میں 300 سے 600 چھرے ہوتے ہیں جو کہ انسانی جسم میں داخل ہو کر سخت اذیت کا باعت بنتے ہیں.
    ایک تحقیق کے مطابق پیلٹ گن سے متاثرہ 33 فیصد سے زائد افراد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پاتے مگر اس سب مظالم کے باوجود وہ ایک ہی نعرہ لگاتے ، کشمیر بنے گا پاکستان، ہندوستان جتنا مرضی ظلم کرلے وہ اپنا مستقل جبری قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے جس نے ایک اذان کی تکمیل کی خاطر 22 شہادتیں پیش کی تھیں.

    رواں سال ہندوستان نے مظالم کی نئی داستان رقم کی ہے مگر اس کے ساتھ کشمیریوں نے بھی جرآت و استقامت کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے. کشمیر کا بچہ بچہ ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا ہے.

    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں

    ان شاءاللہ بہت جلد کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا.