Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ماحولیاتی آلودگی اور ہمارا کردار!  تحریر : ناصرہ فیصل

    ماحولیاتی آلودگی اور ہمارا کردار! تحریر : ناصرہ فیصل

    ماحولیاتی آلودگی دنیا کے چند برّے مسائل میں سے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ جسکے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی وہ اسکے بارے میں کچھ سوچتے ہیں اسکے بارے میں کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کے اسکے بارے میں لوگوں تک سب معلومات پہنچائی جائیں اور انکو اس معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا جائے تاکہ سب مل کر اسکا مقابلہ کر سکیں۔
    ماحولیاتی آلودگی ہماری زندگی کو اقتصادی اور جسمانی دونوں لحاظ سے بہت متاثر کر رہی ہے۔۔ اس پر اگر ابھی بھی توجہ نہ دی گئی تو یہ پوری دنیا کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے. ایک آلودہ ماحول سے بہت سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں جسکا تدارک وقت پر کر لینا ہی بہتر ہے۔
    بہت سے ایسے اقدامات ہیں جو کے ہم انفرادی طور پر اور بہت سے حکومتی سطح پر کیے جا سکتے ہیں ک جس سے ماحولیاتی آلودگی کو بہتر کیا جا سکے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کچھ ضروری اقدامات کرنا ہی ہوں گے.

    سب سے پہلے تو انفرادی طور پر ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہوگا، ہمیں اچھے شہری کا فرض نبھاتے ہوئے ہر قسم کی آلودگی پھیلانے والی چیزوں سے بچنا ہوگا.

    پولی تھین سے بنے شاپرز کا استعمال بند کرنا ہوگا انکی جگہ پر کپڑے کے تھیلے استمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان شاپرز کا استعمال ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسی طرح کوڑا کرکٹ کو بجائے پھینکنے کے اسکا دوبارہ استعمال یعنی ریسائیکل کرنا بھی ایک اچھا قدم ہے اس سلسلے میں۔ سوکھا ہوا کچرا سڑکیں بنانے میں اور گیلا کچرا ہمارے گھروں کے باغات میں یوریا کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔۔
    اسی طرح شور کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں کہ ایک حد سے اوپر نہ جائے۔
    گند نکاسی کے نظام کے لیے مناسب قوانین کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی بہت سے بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ گاڑیوں کو بہت اچھی حالت میں رکھا جائے تاکہ اس سے ہوا کی آلودگی میں کمی لائ جا سکے۔اسی طرح اینٹوں والے بھٹے اور ایسی فیکٹریاں جو ہوا میں دھواں اور گیس خارج کرتی ہیں حکومت کو انکو بھی ایسے نظام لگانے کی ہدایت کرنی چاہیے جس سے یہ دھواں اور گیس ہوا میں نا چھوڑیں۔ بہت سی فیکٹریاں دریا کے ساتھ لگائی جاتی ہیں تاکہ انکا چھوڑا ہوا گند پانی میں ضایع کیا جا سکے۔۔ اس کام کو بھی روکنا ہوگا کیونکہ اس سے آبی آلودگی میں دن با دن اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔فیکٹریاں اپنے کیمیکلز اور دوسرے ضایع شدہ چیزوں کو دریا میں بہانا چھوڑ دیں۔
    درخت ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ لیتے ہیں اور ہوا میں آکسیجن چھوڑتے ہیں آب و ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں اس لیے انفرادی طور پر سب اپنے گھروں میں یا اپنے شہروں میں جتنے ہو سکیں درخت لگائیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ماحول اور آب و ہوا چھوڑ کر جائیں۔

    حکومتی سطح پر بھی بہت سے سنجیدہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ ایک تو لوگوں میں آگاہی مہم چلائ جائے جس میں ہر قسم کے میڈیا کا بخوبی استعمال کیا جائے۔جتنا لوگ اس کے بارے میں جانیں گے اتنا ہی وہ اس میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔۔ ٹریفک کے قوانین اور اُن پر پابندی کی بہت اہمیت ہے۔ موجودہ حکومت کا بلین ٹری سونامی ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور بہت اہمیت کا حامل ہے جسکے لیے موجودہ حکومت بہت داد کی مستحق ہے۔
    میری تمام پاکستانی بہنوں بھائیوں سے درخواست ہے کہ ان سب چیزیں پر عمل کریں اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد کریں۔ اگر ہم لوگ ایک اچھے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور اچھی زندگی گزارنا اناaچاہتے ہیں تو خود کو بدلنا ہوگا اور ایک اچھا شہری اور اچھا مسلمان بن کر رہنا ہوگا تاکہ ہم اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے اپنے حصے کا کام کر کے جائیں۔
    پاکستان زندہ اباد

    @NiniYmz

  • شجر_کاری  تحریر: اعجازاحمدپاکستانی

    شجر_کاری تحریر: اعجازاحمدپاکستانی

    درخت اگانا ایک ماحول دوست عمل ہے۔ درختوں کیوجہ سے ہوا صاف رہتی ہے۔ بارشوں کاسبب بنتاہے۔ درخت لگانے سے بنجر زمین بھی خوبصورت اورکارآمد ہوجاتی ہے۔ درخت لگانامسلمانوں کیلئے باعث ثواب بھی ہے۔ اگرپھلدار درخت اگائی جائے تولوگوں اس کے پھل اورسائے سے فائدہ ہوگا۔ پرندوں کیلئے بھی ایک آشیانے کاسامان ہوگا۔ درختوں کیوجہ سے موسم بھی خوشگوار رہتاہے۔ ہمارے نبیﷺنے بھی درخت اگانے کی ترغیب دی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں درخت لوگوں کیلئے ایندھن کاکام بھی کرتے ہیں جہاں ابھی تک سوئی گیس کی رسائی ممکن نہیں ہوئی۔
    ہمارے موجودہ *وزیراعظم عمران خان* بھی شجرکاری میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ خودبھی اس میں حصہ لے رہے ہیں اورجگہ جگہ شجرکاری کے مہمات شروع کئے ہوئے ہیں۔ اپنے پچھلی پختونخواہ حکومت کے دورانئے میں 1ارب سے زائددرخت اگاچکے ہیں جسکو عالمی سطح پربھی کافی پذیرائی ملی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ شجرکاری کادنیا کی موسم سے براہ راست تعلق ہے اورایک ماحول دوست عمل ہے۔
    شمالی علاقہ جات کے جنگلات میں اور بھی شجر کاری کر کے اس کو محفوظ بنانا چاہئے اور جنگلات کو اور بھی وسعت دینی چاہیے تا کہ ہمارے وطن میں موجود ہریالی کی کمی وہاں سے پودے لے کر پوری کی جاسکے.
    مِن حیثُ القوم ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں اور اپنے ارد گرد کم از کم ایک، ایک درخت لگائے تاکہ ہمارا بھی اس کارِ خیر میں حصہ ہو اور ہمارا خطہ اور ہمارا پیارا *پاکستان* ہرا بھرا، سر سبز و شاداب اور آلودگی سے پاک ہو۔
    اس یومِ آزادی کو ہمیں چاہئے کہ ہری بھری جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ 10، 10 پودے لگائے اور اپنے گھر، محلے، علاقے یا ضلع کی سطح پر اپنے لئے ایک ہدف رکھیں اور بھر پور کوشش کرکے اس کو حاصل کرنا چاہئے-
    ہمیں چاہئے کہ درختوں کی حفاظت کریں اور اس کی کٹائی کو روکے- اور ماحول دوست درخت لگائے جو کارآمد ہو-
    پوری دنیا کے موسم پر درختوں کا براہ راست اثر ہے اور آج پوری دنیا شجر کاری جیسے مہمات جگہ جگہ شروع کر رہے ہیں. تاکہ دنیا کی موسم کو موسم کی شدت سے بچایا جاسکے.
    جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ سالوں سے موسم بدل گیا ہے اور گرمی ہو یا سردی اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ کچھ عرصے بعد جیسا کہ آج کل ہم شہری علاقوں میں پانی خریدتے ہیں اسی طرح اگر جنگلات کی کٹائی نہ روکی گئی اور ہم نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا تو ہمیں آکسیجن بھی خریدنی پڑیگی سانس لینے کے لئے کیونکہ دنیا کا موسم انتہائی تیزی سے بدل رہا ہے.
    پوری دنیا کی طرح ہمیں بھی اپنے ملک میں شجر کاری پر زور دینا ہوگی اور اپنی نسلوں کو اس موسمی شدت، آکسیجن کی کمی اور آلودگی سے بچانا ہوگا.
    اور اپنی نسلوں کو بھی یہ پیغام دینگے کہ شجر کاری سے ہی ہمارا ملک ہرا بھرا، صاف ستھرا، موسمی شدت سے محفوظ اور آلودگی سے بچا رہیگا. آج سے ہمیں اپنا یہ شعار بنانا چاہئے کہ ایک فرد ایک درخت لازمی لگائے اور اسکی تبلیغ بھی کریں.

    Twitter ID:
    ‎@IjazPakistani

  • ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام دین کامل ہے، دین اسلام کا پیغام امن و آشتی اور محبت کا پیغام ہے، اور رحمتِ کریمی صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ رب لعالمین کے فیوض و برکات نے جہاں عالمِ انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمتِ بے کراں سے مالامال کیا۔ دورِجاہلیت میں اہلِ عرب جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ رحمت العالمین ﷺ کے آنے کے بعد گویا ان بے زبان جانوروں کو بھی جائے اماں ملی۔

    دین اسلام نے جانوروں کے حقوق متعیّن کرکے رہتی دنیا تک انہیں عزت و تحفظ دیا ہے کیونکہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اوریہ سلامتی کا مژدہ صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ہے، آپ ﷺ نے بارہا تلقین فرمائی کہ جانوروں کی ساتھ بدسلوکی کا برتاﺅ مت کرو اور ان سے وحشیانہ سلوک کرنے والوں کو جہنم کے عذاب کی وعید سنائی اور انسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے چنانچہ حضرت امام بخاریؒ نے روایت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ، ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائےمسلم

    قرآن پاک کی دو سو آیات ایسی ہیں جن میں جانوروں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ﷻ نے قرآن مجید میں 35 جانوروں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے نام بھی موجود ہیں۔ اسی طرح قرآن پاک کی چند سورتیں بھی جانوروں کے نام پر ہیں۔ مثلا سورت بقرہ ،سورت فیل اور سورت عنکبوت وغیرہ

    ہمارا دین اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم دیتاہے۔ قران پاک میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور آپﷺ نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ احسن سلوک کاحکم دیا ہے ، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں، بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی ہمدردی کی تاکید کی ہے ، جنگلی جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کم لادنے کا حکم دیا اور دوران سفر ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے، جانوروں پہ زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ،جانوروں کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا کی تاکید کی، جانوروں کے منہ پر مارنے ،جانوروں کے باہم لڑاٸی کروانے کی ممانعت فرمائی اور ایسا کرنے والے کو ملعون قرار دیا ۔

    مکرمی!! ہم میں سے بعض احباب جانوروں کے ساتھ بہت وحشیانہ سلوک کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ جانوروں کے کوٸی حقوق نہیں ہے انکے کوٸی جذبات احساسات نہیں ہے، جبکہ نزول اسلام
    کے بعد جہاں انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کیے گٸے ہیں وہی جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، محبت ہمدردی اور انکے حقوق بیان فرماٸیے گٸے اور بتایا گیا انہیں ہماری طرح درد ہوتا ہے، انکے بھی احساسات اور جذبات ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے

    آخر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں سنجیدگی سے اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیا مسلم کمیونٹی اللہ اور پیغمبر ﷺ کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کر رہی ہے ؟

    اللہ ہمیں جانوروں کے صلہ رحمی کے ساتھ پیش آنے کی اور انکے حقوق پورے کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ،آمین!

  • وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ  تحریر: وسیم

    وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ تحریر: وسیم

    پیغمبر خدا نے امت کو ایسے علاقے میں جہاں یہ بیماری پہلے سے موجود ہو، داخل ہونے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بیماری پھیل گئی ہو،وہاں سے دوسرے ایسے علاقے میں جہاں بیماری نہ ہو بھاگ کر جانے سے بھی روکا تاکہ غیر متاثر علاقے متاثر نہ ہو۔ خدا پاک نے جو رہنمائی کی ہے اس بارے میں انسان کو اس کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔ایسی جگہوں سے دور رہنا،ایسی فضا اور آب وہوا سے بچنا چاہیے جہاں اس قسم کی موذی بلاؤں کا زور ہو
    اور یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاقوں سے جہاں یہ وبا پھوٹ گئی ہو اس سے بھی نکل بھاگنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی غالباََ دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ ہے انسان کا ان مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر اللہ سے تعلق کی مظبوطی کو ظاہر کرنا، خدا پر بھروسہ کرنا، خدا کے فیصلے پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا، اور تقدیر کے نوشتے پر راضی رہنا۔
    دوسری وجہ وہ ہے جسے تمام ماہرین طب نے یکساں بیان کیا اور سراہا ہے۔ وہ یہ کہ ہر وہ شخص جو وبا سے بچنا چاہتا،اس کو لازم ہے کہ اپنے بدن سے رطوبت فضلیہ کو نکال ڈالنے کی کوشش کرے اور غذا کی مقدار کم کر دے، اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وبا کا زور ہے جو رطوبات بھی پیدا ہونگی وہ رطوبت فضلیہ میں تبدیل ہو جائیگی، اس لیے کم سے کم غذا استعمال کرے کہ ضرورت سے زیادہ رطوبت پیدا نہ ہونے پائے لیکن ریاضت و حمام کی اجازت نہیں، اس سے اس زمانے میں سختی سے پرہیز کریں، اس لیے کہ انسانی جسم میں ہر وقت فضولیات ردیہ کسی نہ کسی مقدار میں موجود رہتی ہے جن کا آدمی کو اندازہ نہیں ہوتا، اگر وہ ریاضت یا حمام کر لیتا ہے، تو اس سے یہ فضولیات ابھر جاتے ہیں اور پھر ابھار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیموس جید کے ساتھ مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔
    اور وبا کے پھوٹنے کے وقت وبا کے مقام سے نکلنا اور دور دراز علاقوں کا سفر کرنا سنگین قسم کی حرکت کا متقاضی ہے جو اصول مذکورہ کی روشنی میں سخت ضرر رساں ہوگا ۔ اس سے وبا کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے سفر نہ کرنا ہی بہتر ہے اور مقام وبا سے غیر متاثر مقامات کو جانا مضر خلائق ہوگا۔ اس روشنی میں اطباء کے کلام کی بھی تائید ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبی حکمت اور بالغ تدبیر پر بھی روشنی پڑگئ۔

    جن مقامات پر وبا پھوٹ چکی ہو وہاں داخلے پر پابندی میں چند حکمتیں اور مصالح:
    1: پریشان کن اسباب سے دوری اور اذیت ناک صورت حال سے پرہیز۔
    2:جس عافیت سے معاش اور معاد دونوں کا گہرا رابطہ ہے، اسے اختیار کرنا۔
    3:ایسی فضا میں سانس لینے سے بچاؤ جس میں عفونت گھر کر گئی ہو اور جس کا ماحول فاسد ہو چکا ہے۔
    4: جو لوگ اس مرض کا شکار ہیں ان کی قربت سے روک، ان کے آس پاس پھرنے سے پرہیز تاکہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان تندرست لوگوں کو بھی اس مرض کے پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔

  • کائنات کی دو عظیم ہستیاں  تحریر: مریم وحید

    کائنات کی دو عظیم ہستیاں تحریر: مریم وحید

    میں نے محسوس کیا کہ اس کائنات میں صرف دو ہی ہستیاں ہیں جو مایوس نہیں ہوتے۔ خدا اور ماں۔ اس زمین پر بہت سارے ظلم ہیں۔ کتنی ناانصافیاں ہیں۔ کہاں ، اللہ کے احکامات کی کتنی خلاف ورزیاں ہیں اور انسان اپنے اوپر کس حد تک ظلم کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود خدا کی رحمت انسان سے مایوس نہیں ہوتی۔ اس طرح سائے اور پھل بڑھتے رہتے ہیں ، اسی طرح ہوا چلتی رہتی ہے ، سورج اسی طرح طلوع ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح بارشیں ہوتی رہیں اور اس طرح پانی زمین سے ابلتا رہے۔ جاؤ یا پانی میں گر جاؤ اور پوری دنیا اسے یقین دلا رہی ہے کہ اس کا بچہ مر گیا ہے لیکن وہ اس بچے کا آخری سانس تک انتظار کرتی ہے۔ اس کا دل ہر ایک دستک کے ساتھ تیزی سے دھڑکتا ہے ، وہ ہر خط کی طرف بے صبری سے دوڑتی ہے اور اس کا چہرہ ہر کال ، ٹیلی فون کی ہر گھنٹی پر کھلتا ہے۔ قدرت کا یہ معجزہ کیا ہے؟ ہم نے ایک بار سوچا ، یہ ماں کی امید ہے ، یہ ماں کی امید ہے ، امید کی یہ طاقت ، امید کی یہ طاقت ، اللہ تعالی نے صرف ماں کو دی ہے۔ ماہی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بچوں کو حوصلہ دیتی ہے، انہیں ہمت دیتی ہے، انہیں طاقت دیتی ہے اور ان کا حوصلہ بلند کرتی ہے، جو انہیں اچھی دوا دیتی ہیں۔ اللہ اور ماں کا بھی عجیب رشتہ ہے۔

    جب اللہ اپنی رحمت کی ضمانت دیتا ہے تو وہ فورن کہتا ہے کہ میں ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہوں۔ اس پر ایک حدیث کا ترجمہ:

    ترجمہ : حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ اور قیدیوں میں ایک عورت تھی جو اپنے بچے کی تلاش میں تھی۔اتنے میں ان کا دیو میں ایک بچہ اس کو ملا اس نے جلدی سے اسے اپنے گلے سے لگایا اور دودھ پلانے لگی۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے کہا نہیں۔ بخدا! جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنا بچہ آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا ہی عورت اپنے بچے پر مہربان ہے اللہ تعالی اپنے بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہے۔

    دوسری طرف ایک ماں کبھی کبھی اپنے بچے کو مایوس اور اداس پاتی ہے۔ تو وہ اسے یہ بھی ہدایت دیتی ہے کہ وہ صرف اللہ سے رابطہ کرے اور صرف اللہ سے مانگے۔ اس دنیا میں شاید ہی کوئی ماں ہو جس نے کہا ہو کہ جس زمین پر اس کے بچے رہتے ہیں وہ تباہ ہو جائے گی۔ وہ ملک فنا ہو جائے گا یا وہ گھر گر جائے گا۔ آپ اس کا ذکر ماں کے سامنے کر سکتے ہیں۔ وہ فورا جھولی پھیلائے گی اور اس جگہ ، یہ جگہ ، یہ شہر ، یہ ملک جہاں اس کے بچے رہتے ہیں ، کے لیے خیر کی دعا کریں گی۔ ایک ماں جس کے چڈور میں سو پیچ ہیں ، جس کے سر پر چھت نہیں اور پاؤں میں جوتے نہیں ، وہ اپنے بچے کے لیے محل کا خواب بھی دیکھتی ہے۔ ایک ماں جس کا بچہ پیدائشی طور پر معذور ہے ، جس کے بچے کے پاس پہننے کے لیے پاجامہ نہیں اور ستر کا احاطہ کرنے والا بھی اپنے بچے کے لیے بادشاہ بننے کی دعا کرتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ڈاکٹر ماؤں نے اپنے کینسر سے متاثرہ بچوں کو تعویذ دیتے ہوئے ، مزاروں کی دھول چاٹتے ہوئے اور ناخواندہ پیروں سے دم گھٹاتے دیکھا ہے۔ یہ کیا ہے ؟ یہ ماں کا عقیدہ ہے۔ ماں کی امید ، ایک امید ، ایک یقین جو اسے مایوس نہیں کرتا ، جو اسے سمجھاتا رہتا ہے ، فطرت کے دامن میں اربوں اربوں معجزے ہیں ، اگر فطرت چاہتی ہے کہ مردے اٹھ بیٹھیں۔

    ٹویٹر ہینڈل: @MeryamWaheed

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔

  • محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    بچے سب کو اچھے لگتے ہیں، والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے انہیں اچھی تعلیم دلاتے ہیں،اور ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ اچھے شہری اور اچھے انسان بن سکیں، لیکن بدقسمتی سے دنیا میں بعض بچوں کو غریبی اور مجبوری کی وجہ سے تعلیم کے بجائے محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے ۔۔ ۔۔
    یہ بچے سارا دن سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں، بہت سے معصوم اور پھول جیسے بچے گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے، بسکٹ اور ٹافیاں بیچتے ہوئے، اخبار اور پھولوں کے ہار فروخت کرتے نظر آتے ہیں، ان کی عمریں بھی عموماً کم ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔
    بعض والدین بھی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کو کام پہ لگا دیتے ہیں، غربت اور تنگدستی کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ان سے محنت مشقت کروانے پہ مجبور ہوتے ہیں، تاکہ وہ بھی کچھ کما کر گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر سکیں، ان میں ایسے بچے بھی ہیں جو ماں باپ کے سائے سے محروم ہوتے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    یہ محنت کش معصوم بچے تعلیم سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور اور زندگی کے آرام و آسائش سے بے نیاز صبح سے رات تک اپنے کام میں مگن رہتے ہیں، انہیں تو زندگی کی سہولتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا، یہ ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں، لیکن وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    بچوں کو مستقبل کے معمار کہا جاتا ہے، لیکن کیا تعلیم سے محروم یہ محنت کش بچے ہمارے ملک کا روشن مستقبل اور معمار بن سکتے ہیں ؟ محنت مزدوری کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن معصوم بچوں سے مشقت لینا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 11 میں کہا گیا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ فیکٹری، دکان، ہوٹلز، میں ملازمت نہیں کر سکتا، لیکں اس کے باوجود چودہ سال سے کم عمر کے بچے مختلف ہوٹلوں، کارخانوں میں کام کرتے نظر آئیں گے، اکثر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پہ بھی رکھا جاتا ہے جہاں ان کی عمر سے بھی بڑے کام کروائے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔۔۔
    بطور معاشرہ ہم اتنے پستی میں گھر چکے ہیں کہ ان معصوم بچوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک دیکھنے میں آتا ہے،جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ شرم بات ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی یہ زمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کریں اور جہاں کہیں انہیں ظلم کا شکار ہوتا دیکھیں ہر ممکن طور پہ ان کی مدد اور داد رسی کریں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں نظر آنے والے محنت کش بچوں کو روزانہ کی بنیاد پہ کم سے کم دو گھنٹے نکال کر پڑھانے کا اہتمام کریں، یقیناً یہ بچے پڑھ لکھ کر مستقبل کے معماروں میں شامل ہوں گے۔۔۔
    محنت کش بچے قابلِ تعریف اور قابلِ توجہ ہوتے ہیں، زیادہ نہیں تو اپنے گھر کے ملازم بچوں کو ہی تعلیم دینا شروع کریں، ہو سکتا ہے کہ کل کو یہ بچے اس قابل ہو جائیں کہ دوسرے بے سہارا بچوں کا سہارا بن جائیں، اس طرح علم کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں گے۔۔۔
    آئیں بے سہاروں کا سہارا بنیں یہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور اللّٰہ کی خوشنودی کا باعث بھی، آئیے ہم اور آپ بھی اس کا حصہ بنیں
    ” وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں گم ہیں،
    جنہیں تتلی پکڑنا تھی، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

    ‎@Waji_12

  • عبادات مساوات  تحریر: آمنہ خان

    عبادات مساوات تحریر: آمنہ خان

    اسلام دینِ کامل ہے جو مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسی دین کے بدولت امت مسلمہ ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ عبادت انسان میں نظم وضبط پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ عبادات کی ادائیگی سے انسان کو بہترین معمول زندگی میسر آتا ہے۔

    اللہ پاک سورة الزایات میں فرماتے ہیں کہ؛

    وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ
    ترجمہ؛ میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔

    عبادات قرب الہی کا ذریعہ بنتیں ہیں۔ یہ انسان میں احساس پیدا کرتیں ہیں۔ اللہ پاک کی رحمتیں، دین کی تعلیمات تمام انسانوں کے لئے برابر ہیں۔ بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور فضیلت کی بنیاد محض ” تقویٰ” ہے۔

    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ؛

    یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لَاَعْجَمِیٍِّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی
    ترجمہ؛ لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔

    تقویٰ ایک باطنی کیفیت کا نام ہے، جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔
    تمام انسان ظاہری لحاظ سے یعنی رنگ، نسل، علم، حکمت کے اعتبار سے برابر ہیں۔ فضیلت کا معیار تقویُ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
    اسلام نام ہی مساوات کا ہے جہاں سب برابر ہیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    مختلف عبادات بھی ہمیں مساوات کا درس دیتیں ہیں۔
    مثال کے طور پر نماز جو کہ ہم مسلمانوں پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نماز اسلامی مساوات کی واضح مثال ہے۔ جس میں تمام مسلمان بیک وقت ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر خالقِ حقیقی کو سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
    مالدار ہو یا فقیر اللہ کے گھر میں سب برابر ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب انداز میں اس مساوی کیفیت کو بیان کیا ہے۔

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    اس کے ساتھ زکوٰۃ بھی اتحاد و مساوات کا درس دیتی ہے۔ سارا سال امیر ترین طبقہ پیسے کماتا ہے، مال زخیرہ کرتا ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
    زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔
    زکوٰۃ کے نظام سے مال و دولت چند لوگوں کی میراث بننے کی بجائے، معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے اور غریب طبقے تک پہنچ جاتی ہے۔
    غریبوں کا عید کی خوشیوں پہ اتنا ہی حق ہے جتنا امیروں کا۔ عیدالفطر پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور عید الاضحی پر قربانی کے گوشت کی تقسیم ہمیں اسلامی مساوات کا سبق دیتیں ہیں ۔اور یہی عبادات دوسروں کے لیے ہمارے احساسات جگا دیتیں ہیں۔

    حج دینِ اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔
    حج اسلامی مساوات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان مخصوص ایام میں مخصوص جگہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ایک اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔
    اسلام، صرف اسلام ہی ہے جس نے ان انجانے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا رفیق بنا دیا۔
    حج کے موقع پر لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کی پکار مسلمانوں کے مساوات اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہے جو دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔

    اگرچہ روزہ ایک باطنی عبادت کا نام ہے جس کا گواہ صرف اللہ ہے۔ لیکن پھر بھی روزہ دوسروں کے ساتھ احسن سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔
    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہی اس کا اجر دے گا لیکن یہ دل میں دوسروں کے لیے احساس ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان سارا دن بھوک پیاس ترک کرتا ہے تو اسے اپنے غریب بھائیوں کی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح انسان روزہ بھی لوگوں میں مساوات کی روح پھونکتا ہے۔
    ہمیں اللہ پاک نے ان قبائل، اور قوموں میں اسی لیے تقسیم کیا تاکہ ہم پہچانے جائیں۔

    سورة الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
    ترجمہ؛ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں۔

    اللہ ہمیں دین کے حقیقی معنی سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

    ‎@AmnaKhanPK

  • دیہاتی اور شہری زندگی  تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی میں بہت فرق ہے دیہاتی زندگی گاؤں کی زندگی کو کہتے ہیں جہاں پرفزا ماحول کھلی ہوا ، خالص اشیاء آسانی سے میسر ہوتی ہیں ہر انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی مٹی وہاں کی فزا میں بہت کشش ہوتی ہے انسان خود ہی کھینچا چلا جاتا ہے دیہات کی زندگی میں مویشی پالنا ان کی دیکھ بھال کرنا ان کا کاروبار کرنا معمول سمجھا جاتا ہے گاؤں کی زندگی میں بڑا سکون ملتا ہے

    شہر میں ہر طرف بھیڑ آب و ہوا کا مسئلہ خالص اشیاء کا مسئلہ ہوتا ہے شہر میں رہنے والا جب دیہات میں آتا ہے تو وہاں کا ہی ہو جاتا ہے وہاں کا سکون اسے اطمینان مہیا کرتا ہے شہروں میں لوگ دفاتر میں چلے جاتے ہیں جبکہ گاوں میں تھوڑا مختلف ہے گاؤں میں لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں نماز پڑھ کر اپنے مویشیوں کیلئے چارے کا بندوست کرتے ہیں بہت کٹھن کام ہوتا ہے لیکن دیہات کے لوگ بڑی خوشی کے ساتھ کرتے ہیں دن رات محنت کرتے ہیں جسے ہم اپنے کسان بھی کہتے ہیں اگر دیکھا جاۓ تو انہی کسان کی بدولت ملک چل رہا ہوتا ہے جو گندم کسان کاشت کرتا ہے وہاں کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے بیچ دیتے ہیں اور وہ گندم پورے ملک میں لوگ خرید کر اپنے گھر میں روٹی پکاتے ہیں

    اسی طرح دھان (چاول) اور تمام سبزیاں ہیں جو کسان کی انتھک محنت کے بعد شہروں تک پہنچتی ہیں دیہات میں ایک کسان کا سرمایہ اس کے مویشی اس کی زمین ہوتی یے جس پہ وہ کاشت کاری کرتا ہے اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے گاؤں میں دل موہ لینے والے نظارے آپ کو ملتے ہیں وہاں عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ گھر کے کام کے ساتھ برابر کام کرتی ہے شہروں میں ایک دن اتوار کی چھٹی ہوتی ہے بہت سے لوگ گاؤں کا رخ کرتے ہیں تاکہ موسم کو انجوائے کیا جاۓ کھلے آسمان کا نظارہ کیا جاۓ کاروباری لوگ اتوار کے دن کا شدت سے انتظار کرتے ہیں

    کاروبار کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے شہر کے لوگ اپنے وقت کو اس طرح مینٹین کرتے ہیں کہ وقت نکال کے گاؤں کا رخ کرتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں اگر شہروں کے لوگوں کو گاؤں میں ایک ماہ گزارنا پڑھے تو بہت مشکل ہوگا شہر والوں کیلئے کیونکہ شہروں کی طرح دیہات میں سہولیات کم ہوتی ہیں فون ، انٹرنیٹ وغیرہ کی وہ سپیڈ نہیں ہوتی جو شہروں میں ہوتی ہے اس لئے شہر والوں کو رہنا مشکل ہے گاؤں کے لوگ اس چیز کے عادی ہوتے ہیں وہ پر سکون ماحول میں رہتے ہیں شہروں میں اگر فوتگی ہوجاۓ تو چند عزیز و اقارب سوگ میں ہوتے ہیں بہت سے ہمسایوں کو بھی نہیں پتا ہوتا کیا پہاڑ ٹوٹا ہے ہمسائیوں میں لیکن دیہات میں سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تمام گاؤں سوگ کی حالت میں ہوتا ہے

    بہت سے لوگ گاؤں کو چھوڑ کر شہر کی طرف سفر کر دیتے ہیں وقت کے ساتھ انہیں سکون شہروں میں میسر ہوتا ہے لیکن وہ گاؤں کی رنگینیوں کو بھول جاتے ہیں اپنا بچپن جہاں گزارہ ، اپنے والدین کے ساتھ گزرے دن اپنے دوستوں کے ساتھ گزاری یادیں سب بھول جاتے ہیں پھر وہی لوگ شہر میں ہی خوشی ڈھونڈتے ہیں اپنا آرام اور آسائش شہر میں ڈھونڈتے ہیں اور آخر کار گاؤں میں ہی اُن کی آخری منزل ہوتی ہے

    @JingoAlpha

  • آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی  تحریر: محمد خواص خان

    آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی تحریر: محمد خواص خان

    خوبصورت علاقے قدرت کی تخلیق کا ایک بہترین شہکار ہیں ۔ جن کو دیکھنے سے بنی نوع آدم سکون اور راحت محسوس کرتی ہے وطن عزیز بھی خوبصورت مقامات کی دولت سے مالا مال ہے بلند وبالا چوٹیاں، گہرے اور ٹھنڈے بہتے چشمے سفید اور سبز چادر اوڑھے دلکش پہاڑ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ پاکستان بھر سے لاکھوں اور دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ جتنی ہمارے ہاں خوبصورت ترین علاقے ہیں بدقسمتی سے اتنے ہی یہ علاقے پسماندہ اور سہولیات سے محروم ہیں ماضی قریب تک تو کسی گورنمنٹ بے بالکل بھی اس طرف توجہ نہیں دی جبکہ موجودہ حکومت آٹے میں نمک کے برابر کچھ کررہی ہے ۔ حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سیاحتی مقامات سے اچھی خاصی آمدن لے رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ان چیزوں کو پس پشت ڈال جارہا ہے ۔

    کشمیر جنت نہیں ہے لیکن جنت نما ضرور ہے ۔ کشمیر کا تقریبا ہر علاقہ گرین اور انتہائی خوبصورت ہے کشمیر میں بہت زیادچشمے اورخوبصورت چوٹیاں ہیں لیکن ان تک پہنچنے کے لیے راستے انتہائی دشوار ہیں ۔ اسی لیے زیادہ تر سیاح وہاں کا رخ نہیں کرسکتے ۔ انہی بلند و بالا چوٹیوں میں سے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ہے ۔ جو انتہائی خوبصورت چوٹی ہے

    اسلام آباد سے 200 کلو میٹر شمال مشرق میں آزاد کشمیر کے دو اضلاع باغ اور مظفر آباد کے سنگھم پر واقع ایک خوبصورت سیاحتی مقام جسے گنگا چوٹی کہاجاتا ہے ۔اسے گنگاکیوں کہا جاتا ہے یہ ایک حل طلب سوال ہے ظاہراً یہ نام ہندو مذہب سے منسوب ہے تاریخ دان اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی صورتحال ہو گئی۔ انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیااس نے شیوا کو براہمان کے پاس بھیجا پھر وہاں سے آکاش گنگاکا وجود ہوا ہے جو ہندوں کی کتب میں درج ہے ۔بعض کتب میں یہ چوٹی دیوی گنگا کے نام سے منسلک ہے ۔ گنگا چوٹی کی بلندی تقریبا دس ہزار فیٹ ہے ۔یہاں پہنچنے کے لیے باغ سے براستہ سُدھن گلی سے پہنچا جاسکتا ہے ۔سُدھن گلی میں طعام وقیام کا اعلی بندوبست ہے ۔خصوصاً دیسی ہوٹل اپنی نفاست اور لذیذ دار کھانوں سے مشہور ہے اگر آپ کا یہاں جانا ہو تو ایک دفع ضرور ٹیسٹ کریں سپیشلی کڑی پکوڑہ اعلیٰ ومعیاری ہے۔ سُدھن گلی سے آگے آدھا راستہ پکا اور زیادہ کچا ہے تاہم اس پر کام جاری تھا یہاں گرمیوں میں موسم کافی معتدل اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کے بے تاب رہتا ہے ۔یوں تو سارا کشمیر ہی خوبصورت ہے لیکن گنگا چوٹی اس خوبصورتی کا ایک خاص درجہ رکھتی ہے۔سرسبز میدان ،ٹھنڈی ہوائیں اور دھند کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی گنگا چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا گوکہ راستہ طویل تھا لیکن ہر حسین منظر نے آنکھوں کو تازگی اور دل کو سکون میسر کیا راستے میں ایک دو کیمپ(جن میں چاٸےاوربسکٹ کاساماں موجودتھا) اور کافی سارے مویشی نظر آئے ہم جوں ہی آدھے راستے پہنچے بادلوں کو بھی پتہ چل گیا کہ مہمان پہنچ چکے ہیں ۔گنگا چوٹی کے چاروں اطراف جنگلات ہیں ۔گنگا چوٹی جنگلی حیات اور نباتات کا مسکن ہے جہاں موسم بہار میں ہر طرف خوبصورت پھول کھلتے ہیں. چوٹی جولائی میں اکثر سفید چادر اوڑھے رکھتی ہے جس سے آپ مکمل نظارہ نہیں کر سکتے۔سیروسیاحت پر پہلی تحریر ہے آئندہ لکھنے کا مصم ارادہ ہے ۔آپ لوگوں سے بھی گزارش ہے سیاحتی مقامات کا پروموٹ کریں ۔

    Twitter I’d link
    @iamkhawaskhan