Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بغداد کی بربادی اور ہم  تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    بغداد کی بربادی اور ہم تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    تاریخ بتاتی ہے کہ ابوجعفر بن المنصور نے سن 762 میں بغداد کی بنیاد رکھی اور پھر چند ہی دھاہیوں میں اس شہر نے اتنی ترقی پائی کہ برصغیر سے لے کر افریقہ تک کے صاحب ہنر و علم بغداد دیکھنے کے لیے بے چین ہو گۓ
    اور بغداد بھی ایسے صاحب علم کے لیے بے چین رہتا اور باکمال شخصیات کی کتابوں کو ہیرے جواہرات سے تولا جاتا
    بغداد میں عظیم الشان مساجد اور مدارس تعمیر کیے گۓ۔
    اس شہر نے باکمال شخصیات سے محبت کا شرف حاصل کیا جن میں فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ
    عظیم کیمیا دان جابر بن حیان
    الجبرا کے عظیم بانی الخوارزمی
    فلسفے اور حکمت کے دو عظیم نام الکندی اور الرازی
    مشہور مفکر الغزالی، عربی کے مشہور شاعر ابو نواس، تاریخ دان طبری اور کئی عالمِ دین اسی شہر کے باسی تھے
    لیکن اس شہر کی بربادی کا سبب بھی مسلمانوں کے آپس کے باہمی اختلاف ، تفرقہ بازی اور زاتی مفادات تھے
    کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان نے بغداد کا پچاس دن مسلسل محاصرہ کیے رکھا اس وقت بغداد کے پاس دنیا کے مضبوط ترین قلعے تھے لیکن دل اور ایمان کی ناپختگی نے ان قلعوں کی مضبوطی کو پاش پاش کر دیا۔
    تاریخ خلافت عباسیہ کے خاتمے کی تاریخ کچھ اس طرح رقم کرتی ہے ہلاکوخان نے محاصرے کی ابتداء 29 جنوری 1258   کو کی اور محاصرہ کا اختتام 10 فروری 1258 کو ہوا
    اس وقت خلافت عباسیہ کے سربراہ مستعصم باللہ انتہائی کمزور انسان تھا جب وزراء کے مشورے کے ساتھ وہ ہلاکو خان سے مزاکرات کے لیے گیا تو اپنے ساتھ اپنی اولاد، وزیر بھی ساتھ لے کر گیا
    خلیفہ کے سوا سب کو قتل کر دیا گیا اور منگولوں کی فوج نے شہر میں داخل ہو کر سامنے آنے والے ہر شخص کو تہہ تیغ کر دیا ایک ہی دن میں ہزاروں افراد شہید ہو گۓ ۔ خلیفہ کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ منگولوں کے عقیدے کے مطابق بادشاہ کا خون بہانا بد شگونی سمجھا جاتا تھا سو ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو باندھ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑاۓ تاکہ خون نہ بہے۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کی بربادی کی اہم وجہ مراکش اور ایران کا خلافتِ عباسیہ کا ساتھ نہ دینا تھا
    الغرض بغداد کو ایسے تباہی کیا گیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی
    لیکن اس بربادی میں مسلمانوں کا اپنا حصہ زیادہ تھا علم و فن سے منہ موڑ لیا گیا بادشاہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گۓ جس سے معاشرے کی ترقی پر جمود طاری ہو گیا اور عوام نے لاپرواہی اختیار کر لی
    کیا آج ہم بھی اسی ڈگر پر نہیں چل رہۓ؟
    کیا ہمارے وزراء مشیران عیاشیوں کے بے پناہ دلدادہ نہیں ہو گۓ اور
    کیا ہم (عوام) بھی لاپروا نہیں ہو گۓ
    اور کیا ہماری بربادی کا وقت بھی قریب نہیں آ گیا (خدانخواستہ)
    کیا ہمیں اپنے حکمرانوں کو راست پر لانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرنے چاہیں اور کرپٹ عناصر کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرنے سے چشم پوشی اختیار کر لینی چاہیے
    سوچئیے گا
    اور مناسب سمجھیں تو آنکھیں کھلی رکھ کر شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کریں
    #حبیب_خان

  • 18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    جب سے کورونا وبا آیا ہے دنیا کے ہر حصے میں موجود طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہے۔ کورونا وبا کے شروع میں تو سب ممالک نے سٹوڈنٹ ویزا بند کیا تھا لیکن جب سے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا ہے، برطانیہ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے طلباء کیلئے ویزا پالیسی آسان کردی ہے- طلباء کو نہ صرف ویزا مل رہا بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ بیرونی ممالک میں سیاحت سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی پاکستانی زیرتعلیم طلباء تھے ان کو ویزے مل گئے ہیں وہ سب اپنے یونیورسٹیز جاچکے ہیں یا جا رہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں چین میں زیر تعلیم طلباء آج بھی پاکستان میں پھنسے ہیں۔ جن کو 18 مہینوں سے چین کا ویزا نہیں مل رہا اور ویزا کے منتظر ہیں یہ طلباء مطالبہ کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کی طرح ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے چین کا ویزا جاری کیا جائے اور پاکستانی حکومت ہماری ذمہ داری لے اور چین کے ساتھ بات کرے تاکہ ہم پر کورونا وبا کی وجہ سے لگی یہ سفری پابندیاں نرم کی جائے۔

    جب دسمبر 2019 میں ووہان میں کوویڈ 19 وبائی بیماری پھیل گئی، چین میں حکام کا پہلا ردعمل شہر کو سیل کرنا تھا۔ جیسے جیسے وائرس پھیلتا گیا تو ہر طرف سفری پابندیاں لگا دی گئی تاکہ وائرس کو چین میں پھیلنے سے روکا جائے۔ چین سے غیر ملکی شہریوں میں گھر جانے والوں میں 196 ممالک کے نصف ملین سے زائد بین الاقوامی طلباء شامل تھے جن میں پاکستانی طلباء بھی کثیر تعداد میں تھے جو پاکستان آئے اور پھر پاکستان میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ اب چین نے کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور چین نے تقریبا 40 فیصد سے زیادہ آبادی کی ویکسینیشن مکمل کی ہے تو مغربی ممالک کی طرح چین بھی پاکستانی طلباء کے لئے ویزا پالیسی میں نرمی کرے۔ 18 مہینے ہمارے تعلیم کے ضائع ہو چکے ہیں ہم شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔

    چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء اکثر وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے کمپین و ہیشٹیگ ‎#TakeUsBackToChina میں ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں ٹیگ کرتے نظر اتے ہیں کہ ان کیلئے پاکستانی حکومت چینی حکومت سے بات کرے۔ طلباء نے اس سوشل میڈیا مہم کے ساتھ یو این، چینی پریذیڈنٹ ژی جنگ پنگ کو مدد کیلئے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ان کے اوپن لیٹرز بھی لکھے گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئے۔ پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں بعض ایسے ہیں جو چین میں کورونا وبا پھوٹ پڑنے پر پاکستان آئے تھے اور بعض ایسے ہیں جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ ملا ہے۔
    پاکستانی طلباء چین میں انڈر گریجویٹ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی ڈگریوں میں رجسٹرڈ ہیں ان طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو آن لائن کلاسز میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، کچھ تو پسماندہ علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس ہی نہیں کہ آن لائن کلاسز لے سکے جو میڈیکل ڈاکٹری کی ڈگری پڑھ رہے ہیں آن لائن کلاسز میں ان کیلئے کلینکل کام کرنا ممکن نہیں اور ماسٹر و پی ایچ ڈی طلباء آن لائن کلاسز میں لیب کے بغیر ریسرچ نہیں کر سکتے۔ جن طلباء کو 2020 اور 2021 میں داخلے ملے ہیں ان میں سے کچھ کو تو یونیورسٹیوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اپ آن لائن کلاسز کے بجائے لمبا انتظار کرے اور جب تک سفری پابندیاں نرم نہیں ہوتے تو اس وقت تک اپ پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ کے ساتھ وزیر داخلہ شیخ رشید نے 3 جون 2021 کو ملاقات میں پاکستانی طلباء کا معاملہ اٹھایا تھا اور چینی سفیر نے یہ معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں زیادہ تفصیل نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہوسٹ عدل شاہزیب نے وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چینی سفیر کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھاؤں گا اور میں سمجھتا ہوں چین میں حالات کافی اچھے ہوگئے ہیں، پاکستانی طلباء کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق  تحریر : اسامہ خان

    سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق تحریر : اسامہ خان

    پاکستان 1947 میں بنا اور پاکستان کا پہلا وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب تھے ان کے بعد بہت سے وزیراعظم آئے اور 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ہوا اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو صاحب تھے انہوں نے پاکستان کی خدمت کے لیے کافی اچھے کام کیے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا تھا اور اس پارٹی میں سے نظیر بھٹو صاحبہ بھی وزیراعظم بنیں 1988-1990 اور دوسری بار 1993-1996 تک وزیراعظم رہیں اور یہاں سے وقت شروع ہوتا ہے پاکستان مسلم لیگ نون کا، پاکستان مسلم لیگ نون 1993 میں نواز شریف کی صدارت میں بنی نواز شریف صاحب سب سے پہلے وزیراعلی پنجاب بننے، اور آہستہ آہستہ نواز شریف صاحب وزیراعظم اور ان کا بھائی شہباز شریف وزیراعلی پنجاب بننے، ان کی پارٹی کا صرف ایک ہی مقصد تھا خود بھی کھاؤ اور اپنے دوست احباب کو بھی کھلاؤ بے شک ملک ڈوبتا ہے ڈوبتا رہے ان دونوں بھائیوں نے مل کر جتنی کرپشن ہو سکتی تھی کی تاکہ آنے والے وقتوں میں یہ خاندان بیٹھ کر کھا سکے انہوں نے کوئی ایک ادارہ نہیں چھوڑا جس میں انہوں نے کرپشن نہ کی ہو اور اس کے ساتھ ہی ساتھ عمران خان صاحب جو کہ موجودہ وزیراعظم ہیں پاکستان کے شریف فیملی کے دور میں جدوجہد کرتے رہے اور پوری عوام کو آگاہ کرتے رہے کہ یہ پورا خاندان چور ہے جیسے جیسے عوام میں شعور آتا گیا تو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کو ووٹ دینا چھوڑ دیا سب سے پہلے عمران خان صاحب کی حکومت خیبر پختونخوا میں بنی عمران خان صاحب نے وہاں پولیس اور دیگر اداروں کا نظام ٹھیک کیا اور کرپشن فری خیبر پختونخوا بنانے کی جدوجہد شروع کردی یہ جدوجہد خیبرپختونخوا میں جاری تھی کہ پانامہ کا کیس سامنے آگیا جس میں مسلم لیگ نون کی آج تک کی 30 سال کی کرپشن سامنے آگئی جس کی وجہ سے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا اور وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ابھی الیکشن میں کچھ دیر باقی تھی تو نون لیگ نے حقان عباسی کو کچھ دنوں کے لیے وزیر اعظم مقرر کیا حقان عباسی صاحب کی شان دیکھئے جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تو ایئرپورٹ پر شرٹ کے ساتھ ساتھ پینٹ بھی اتار کر چیک کروا آئے اپنی، کتنے افسوس کی بات ہے اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اگر ان کو کوئی صرف ہاتھ لگا دے تو ان کی توہین ہو جاتی ہے، 2018 میں جنرل الیکشن آئے اور پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنی حکومت بنائیں اور ملک پاکستان کے عمران خان صاحب بائیسویں وزیراعظم بنے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب جہاں انکی کرپشن کو عوام کے سامنے لا رہے ہیں وہی بہت سے ترقیاتی کام کروا رہے ہیں جیسے کہ ماحولیات میں اور درخت لگانے میں پاکستان سب سے پہلے نمبر پر جارہا ہے نہ کہ صرف پہلے نمبر پر جارہا ہے ان ایونٹس کی میزبانی بھی کر رہا ہے وزیراعظم کی ہدایت پر احساس پروگرام شروع کیا گیا جس میں غریب طبقے کو اور طالب علموں کو سپورٹ دی جا رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ صحت کارڈ کا ہے ہر ایک خاندان کو ایک صحت کارڈ دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ خاندان سلانہ 7 سے 8 لاکھ تک فری علاج کروا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب واحد لیڈر ہیں جو صرف ملک پاکستان کے لیے اپنی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب اب تک دنیا میں سب سے مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں خان صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ جب امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوں اور فوجی انڈوں کے لیے اجازت مانگی گئی عمران خان صاحب نے تاریخ رقم کر دینے والے الفاظ بولے اور امریکہ کو منھ توڑ جواب دے کر نہ کیا۔ خان صاحب نے کہا میں اپنی قوم پر ظلم کیسے کر سکتا ہوں جیسے پچھلی حکومتوں نے کیا وہ خود اجازت دے کر بعد میں حملوں کی تعزیت کرتے تھے۔ خان صاحب کا بہت بڑا کارنامہ جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا، اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر براہ راست اپنی عوام کی کال سننا اور ان کے مسلے حل کرنے کے لئے فل فور ہدایات جاری کرنا۔ خان صاحب جیسا لیڈر نہ آج تک پاکستان کو ملا ہے اور نہ ہی کبھی ملے گا خان صاحب کے اور بھی بہت بڑی بڑی خدمات ہیں جو کہ ہر باشعور انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ان بڑے کارناموں میں سے ایک شوکت خانم میموریل ہاسپٹل ہے۔ سب عمران خان صاحب کا ساتھ دیں
    @usamajahnzaib

  • ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔  تحریر: آصف شاہ خان

    ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔ تحریر: آصف شاہ خان

    ہم میں سے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ابن عربی اور لفظ وحدت الوجود کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ابن عربی کے کسی بھی تصنیف میں ہمیں وحدت الوجود کا لفظ نہیں ملتا ہے۔شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کیلئے پہلی بار لفظ وحدت الوجود ابن عربی نے نہیں بلکہ ابن تیمیہ رحیم اللہ نے استعمال کیا ہے۔ مشہور محدث ابن تیمیہ نے شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ پر تنقید کے طور پر اس کو وحدت الوجود کا نام دیا تھا اور ابن عربی پر فتویٰ لگایا تھا۔
    شیخ الاکبر ابن عربی نے اپنی کتاب "فتوحات مکیہ” میں خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں ایک تصور پیش کیا ہے ، اس تصور کو ہم اگر آسان الفاظ میں بیان کرنا چاہے اس کی یہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا۔۔۔
    وجود باری تعالیٰ فلسفے کا ایک مسلہ ہے لہذا ہم ابن عربی کے اس فلسفے کو اصولوں کے مطابق بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کو ہم غور سے دیکھیں تو اس کے مختلف معنوی پہلؤں نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو بڑا مشہور ہوگیا ہے وہ یہ پہلو ہے جس کو لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے ابن عربی پر تنقید کی ہے اور اس کو جواز بناتے ہوئے ابن عربی پر فتویٰ لگایا یے۔ یہ معنوی پہلو آج کل بہت عام بھی ہے زیادہ تر صوفیاء، ادباء اور علماء ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے یہ مطلب لیتے ہیں اور اس کو وحدت الوجود سے ہی یاد کرتے ہیں- وحدت الوجود کے ابن تیمیہ کا بیان کردہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کی اس بات کا کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ اس سے مراد ہے کہ سب مخلوقات اور سب چیزیں اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں یعنی سب واحد چیز ہے اور اس سے مراد لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے اس کو وحدت الوجود کا نام دیا جس کا مطلب ہے کہ سب ایک ہی وجود ہے۔ اگر ہم اس پہلو کو دیکھ لے تو یہ پہلو نظریہ حلول کے طرح نظر آتا ہے یا یوں سمجھئے کہ یہ نظریہ حلول کی ایک شکل ہے۔ اور نظریہ حلول کو اگر غور سے پڑھ لیا جائے تو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کا مکمل مخالف نظر آتے ہیں اور تقریباً تمام ائمہ، فقہاء اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نظریہ حلول ایک کفریہ نظریہ ہے۔ لیکن جہاں تک بات ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ ہے اس کے اور بھی پہلوؤں ہیں اور ان پہلوؤں میں ایک زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے اگر ہم اس کو فلسفے کے اصولوں کے مطابق دیکھ لے۔ ابن تیمیہ کے علم اور اس کی نیت پہ ہم کسی قسم کا شک تو دور کے بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ اس کی نیت خراب یا علم میں کمی تھی لیکن ہاں ہم فلسفے کے مسئلے میں ان کے سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ یہاں اختلاف سے مراد یہ نہیں کہ ابن تیمیہ کی بات غلط ہے لیکن یہاں اختلاف سے مراد یہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ فلسفے کا مسلہ ہے اور فلسفے کے مسئلے میں اس نے جس معنوی پہلو کا انتخاب کیا ہے وہ تو اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ابن عربی کا اس تصور سے یہ مطلب نہیں تھا کہ سب ایک وجود ہے۔ اس بات کو ٹھیک ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس کچھ دلائل ہیں جس کو لے کر فلسفے اور عقلی طریقوں سے ہم ثابت کرسکتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات ابن تیمیہ نے ابن عربی کے وفات کے بعد یہ فتویٰ دیا تھا تو لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی نے اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ اس کے انکار کے آثار ہیں کیونکہ اس وقت وہ زندہ ہی نہیں تھے۔ اور دوسری بات اس نظریے کے وہ پہلو زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے وہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ میں ایک حقیقی وجود سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم سب اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اللّٰہ کے علاؤہ ساری چیزیں فانی ہیں صرف ایک اللّٰہ کا وجود ہے جو حقیقی ہے اور نہ ختم ہونے والا ہے۔ اس کے سوا تمام اشیاء کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور جب اس کے کوئی حثیت نہیں حقیقت نہیں تو پھر اس کا زکر ہم کیوں کرے اس لئے ابن عربی یہ لکھتا ہے کہ ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا باقی سب کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے ہیں ۔ اس پہلو کو ہم اگر عقلی دلائل سے وضاحت کرنا چاہئے اور فلسفے کے اصولوں کے مطابق بحث کرنا چاہئے تو کچھ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ تصوف محبت کا اعلیٰ درجہ ہے جس میں انسان کی محبت کسی چیز یا انسان سے بڑھ کر اللّٰہ کے لافانی وجود سے ہوجاتی ہے اور پھر اس کی سب پسند نا پسند اللّٰہ کے رضا کیلئے ہی ہو جاتی ہے اس کے اندر تکبر اور غرور ختم ہو جاتا ہے اس کے اندر یہ بات ختم ہو جاتی ہے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں یا ایسا آدمی ہوں وغیرہ اور اس میں وہ اتنا مگن ہو جاتاہے کہ اس کو اپنی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔ اس کو اپنا وجود تو نظر آتا ہے لیکن اپنے فانی ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کو اس کی کوئی حیثیت معلوم نہیں ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ یہ سوچتا ہے کہ جب کوئی حیثیت نہیں تو زکر کس لئے کروں۔ اس تصوف کے تصور کو اگر ہم ابن عربی کے نظریے کے ساتھ موازنہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ بھی ہمیں یہی بات فلسفے میں سمجھاتی ہے کہ حقیقی لافانی وجود اللّٰہ کا ہے باقی سب فانی ہیں۔ اس بات کو شرعی اصولوں سے بھی دیکھیں تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے مراد یہ تھا کہ باقی وجودیں ہیں لیکن اس کے کو حیثیت نہیں کوئی حقیقت اور لافانیت نہیں لہذا اس کے ہونے یا نہ ہونے کے اقرار کا کیا فائدہ اس لیے اس وجود کا زکر کیا جائے جو حقیقت ہے ۔
    یہ مضمون میری زاتی تجزیے اور فکر پر ہے لہذا میں غلط ہوسکتا ہوں آپ لوگ میری سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔

    __________________
    تحریر: آصف شاہ خان

    @Ibnepakistan1

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر:  آمنہ فاطمہ

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: آمنہ فاطمہ

    میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے سوشل میڈیا ایسی انسانی ایجاد ہے جس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اسکے فوائد سے ہر انسان مستفید ہو رہا ہے
    سوشل میڈیا کی بدولت میلوں کا سفر انسان کچھ سیکنڈز میں طے کر لیتا ہے جہاں لوگ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے سالوں انتظار کرتے تھے آج وہ واٹس ایپ,سکائپ,فیس بک, سنیپ چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی اپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے منٹس میں آنلائن ملاقات کر لیتے ہیں آپ گھر بیٹھے دنیا سے رابطے میں رہ رہے ہیں جہاں خبر نامے کا انتظار کیا جاتا تھا آج خبریں جاننے کے لیے کسی نیوز چینل کو لگانے کی تردد نہیں کرنی پڑتی آپ کہیں بھی کسی جگہ پر بھی موجود ہوتے ہوئے سوشل میڈیا سے گلوبل نیوز حاصل کر سکتے ہیں
    اب معلومات حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑتا او نہ ہی کتابیں چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے محض ایک لفظ گوگل پر لکھنے سے کیا کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اسطرح کم وقت میں زیادہ کام کیا جا سکتا ہے طلباء کو کسی بھی طرح کی انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے گھر بیٹھے فری لیکچرز یوٹیوب اور دوسری اپلیکیشنز پر میسر ہوتے ہیں حتیٰ کہ اب تو روزگار بھی آنلائن موجود ہیں نوکری کے حصول کے لیے جگہ جگہ دھکے نہیں کھانے پڑتے غرض کہ زندگی کہ ہر معاملے میں سوشل میڈیا کا کردار کہیں نہ کہیں موجود ہے
    اللّہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور جیسی صفات سے نوازہ ہے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے انسان نے ان صفات کا بہتر استعمال کرتے ہوئے آج چاند پر پہنچنے کی منازل بھی طے کر لیں دنیا میں ایجادات کی بھرمار کر دی ہے
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کو سوشل میڈیا پر آزادی رائے کا اختیار حاصل ہے مگر اس کا غلط استعمال کب کسی کے لیے دل آزاری کا سبب بن جائے کوئی نہیں جانتا
    جہاں سوشل میڈیا نے انسان کے لئے ترقی کی منازل طے کرنا آسان بنا دیا ہے وہیں انسان کی منفی سوچ اور غلط استعمال کی وجہ سے معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے
    کچہری میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں دوڑتا ہوا باپ اور بھائی اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ویسے انھیں آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ کورٹ میرج کر کے انکی بیٹی نے انہیں دنیا والوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جہاں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہے وہیں اسکے غیر ضروری استعمال سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں ہمارے بچے اور نوجوان گھنٹوں آنلائن گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ساری ساری رات سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال کرنا اور پھر ایسی موویز اور ویڈیوز دیکھنا جو کسی صورت انکو ایک اچھا انسان بننے میں مدد نہیں کر سکتیں, ماں باپ کو بچوں کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت ہے اورانٹر نیٹ کے صحیح وغلط استعمال کےمتعلق آگاہی دینا ضروری ہے
    ہمیں اس بڑھتی ہوئی برائی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا سدباب کرنا ہو گا تا کہ آئندہ نسلوں کو برائیوں سے پاک ایک خالص معاشرہ مہیا کیا جا سکے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کے منفی بہاؤ کی بجائے اس کے مثبت اثرات سے بہرہ ور ہوں آج کل کی جدید ایجادات کے مضر پہلوؤں سے خود بھی بچیں اور اپنی نسل کو بھی بچائیں

  • وزیراعظم عمران خان کا عوام سے ٹیلیفونک رابطہ   تحریر: محمد وسیم

    وزیراعظم عمران خان کا عوام سے ٹیلیفونک رابطہ تحریر: محمد وسیم

    ماضی میں بہت سے وزیراعظم گزرے ہے لیکن ہر ایک وزیراعظم جب اپنا عہدہ سنبھالتا ہے تو وہ عوام سے اس طرح دور ہوجاتے ہے کہ ان کا شکل کیا ان کی آواز بھی کوئ نہیں سنتا۔ جب سے عمران خان وزیراعظم بنا ہے تو ان کی یہی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو عوامی وزیراعظم بناۓ۔
    پاکستان میں چونکہ ہر وزیراعظم، صدر، اور یہاں تک کے عام وزیر کو بھی سیکورٹی کا مسلۂ ہوتا ہے اور اس وجہ سے ادارے انہیں اس طرح کلھم کھلا انہیں اجازت نہیں دیتی۔ عمران خان چاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی باہر کے ممالک جیسا سسٹم ہو لیکن وہ فلحال مشکل ہے ۔
    پاکستانی عوام کے مسائل کی اگر بات کی جاۓ۔ تو وہ ایک ٹیلیفون کال کیا ایک لاکھ ٹیلیفونک کال سے بھی نہیں حل ہوسکتے۔ ہر کسی کے ہزار مسلۓ ہے ایک گھنٹے کی کال پر 8 10 بندو‌ں سے بات ہوسکتی ہے ۔ اگر چہ یہ ایک اچھی کوشش ہے لیکن اس طرح عوام کے مسائل حل کرنا بہت مشکل ہے ۔
    اگر عمران خان عوام کیلۓ اچھا دل رکھتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن ٹیلیفونک کال سے عوام کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ اقتدار کے پانچ سال ہوتے ہے اگر اسی پانچ سالوں میں اداروں کو ٹھیک کیا جاۓ تو انہیں کالز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
    ہر وزیراعظم الیکشن سے پہلے وعدے بہت کرتے ہے اور بہت نعرے مارتے ہے لیکن اقتدار میں آتے ہی سارے دعوے اور نعرے بھول جاتے ہے اور عوام کو ایسے ہی چھوڑ جاتے ہے ۔ عوام کو اس وقت ٹیلیفون کالز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں ادارے ٹھیک کر کے دینے ہے جہاں پر عوام جا کے بغیر سفارش کے اپنا کام کرسکے۔ اس وقت اس ملک میں ہر جگہ رشوت اور سفارش سے کام چل رہا ہے جس کو ختم کرنا ہوگا۔ہمارے ملک میں چونکہ غربت زیادہ ہے تو اس وقت عوام کا ایک ہی مسلۂ ہے اور وہ مہنگائ ہے ۔
    پارلیمان میں بیٹھے لوگ مفت میں تنخوا لے رہے ہے اور عوام کے پیسوں سے مفت سرکاری وسائل کا استعمال کررہے ہے۔ عوامی نمائندوں کو چاہئیے کہ وہ عوام کے مسلۓ سنے اور اسے حل کریں۔ اگر ایم این ایز اور ایم پی ایز عوام کے مسائل نہیں سن سکتے تو وہ عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرکے الیکشن کیوں لڑتے ہے ؟
    میں نے ممالک دیکھے ہے جہاں صدارتی نظام ہے اور کئ ممالک دیکھے ہے کہ جہاں جمہوری نظام ہے اور دونوں کا موازنہ کرکے میں اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ جس ملک میں صدارتی نظام ہے وہاں کے عوام بہت خوش ہے۔ یہاں ہمارے ملک میں تو دھاندلی کرکے بدمعاش اور عیاش لوگ ہمارے حکمران بن جاتے ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ایسے حکمران آتے ہے تو عوام کی چینخے نکل جاتی ہے۔ یہاں ہر کسی کے ہزار مسلۓ ہے ہر کوئ بےایمانی، کرپشن، بےروزگاری، اور مہنگائ سے تنگ ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک انہوں نے چار دفعہ ٹیلی تھون کیا ہر بار میں عوام انہیں مسائل کے انبار لگادیتے ہے جس کا عمران خان بہت اچھے طریقے سے جواب دیتا ہے اور انہیں حوصلہ بھی دیتے ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ عوام کے مسائل سننے اور حل کرنے کا کیا یہی طریقہ ہے ؟کیا اب وزیراعظم ہی یہی کام کریگا؟ مجھے غیرت ہوتی ہے کہ میرے ملک کے عوام ابھی تک کیوں سو رہے ؟ کیوں وہ ایک سہی بندے کو ووٹ نہیں دیتے اوو جا کے اپنا ووٹ پیسوں پر دے کے آتے ہے اور بڑی فخر سے کہتے ہے کہ ہم نے بھی اپنا ووٹ ڈال دیا۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان کی سوچ بہت اچھی ہے اور وہ بہت اچھا سوچ رکھتے ہے اس ملک کیلۓ۔ ہم اللہ س دعاگو ہے کہ وزیراعظم خان کو ہمارے لئیے اچھا لیڈر بناۓ اور اگر وہ اپنے عوام کا سوچتے ہے تو انہیں ہمت عطا کریں کہ وہ اس عوام کیلۓ کچھ اچھا کرسکے۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • عدم برداشت  تحریر : صالح ساحل

    عدم برداشت تحریر : صالح ساحل

    کس بھی معاشرے کی خوب صورتی اس میں رہنے والے انسانوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی ایک اچھے یا برے معاشرے کے زمہ دار ہوتے ہیں ایک اچھا معاشرہ تب بنتا ہے جب وہاں ایک دوسری کے درمیان برداشت کا کلچر ہو وہاں ایک دوسرے کی رائے کو سنا جاتا ہو لوگ اختلاف رائے رکھتے ہوں مگر ایک دوسرے سے نفرت نہ کرتے ہوں مگر بد قسمتی سے پاکستان بھی اس بیماری سے دو چار ہے یہاں عدم برداشت کا کلچر بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے سیاست دان سے لے کر مولوی تک ہر انسان اس کا زمہ دار ہے یہاں لوگوں کی بات سنی نہیں جاتی بلکہ کے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم دن بدن پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں ہم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کے خدا نے ہر انسان کو ذہن دیا ہے اور وہ سوچتا ہے اپنے نظریات قائم کرتا ہم کو چاہیے کے اگر ہم اس کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں تو دلیل سے علمی رد کریں مگر علمی رد کے بجائے ہم عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اب ہمیں یہ کون سمجھے کے ایک ہی رائے تب ہو سکتی ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیں یا خدا ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت واپس لے لے عدم برداشت سے معاشرے میں خوف سا بن جاتا ہے نئے افکار لوگ اس ڈر سے بیان نہیں کرتے کے کہیں ہم مشکلات کا شکار نہ ہو جائیں
    جس سے شاید ہم اس بات پر تو خوش ہو رہے ہوتے ہیں کے لوگ ہمارے پیروکار مگر ہم ذہنی غلام پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور یہ اتنا خطرناک ہے کہ خاص کر جب یہ مذہب سے متعلق ہو تو آنے والی نسلیں الحاد کا شکار ہو سکتی ہیں کیوں کے ہم اپنے اس روایہ سے ان کے آندار سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر رہے اور آج کے دور میں مذہب پر اعتراضات ان کے جوابات نہ ہونے کی وجہ سے وہ متنفر نہ ہو جائیں ہمیں چاہیے کے اور شعبہ میں برداشت کے کلچر کو فروغ دیں دوسروں کے موقف کو آرام سے سنائیں اور اپنی باری پر جواب دیں جواب نہ ہونے کی صورت میں جواب تلاش کریں نہ کے الزام تراشی کریں
    @painandsmile334

  • ٹائم پاس  تحریر: افشین

    ٹائم پاس تحریر: افشین

    کسی کے ساتھ وقت گزاری کرناموجودہ دور میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے ہر کوئ ٹائم پاس کے چکر میں ایک دوسرے کو دھوکا دے رہا ہے اس عمل میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہے اول تو کسی کو موقع ہی مت دیں کہ کوئ اپکے ساتھ ٹائم پاس کر سکے پر دلِ ناداں غلطی کر ہی جاتا ہے باتوں میں آہی جاتا ہے مٹھاس لہجے کے جال میں پھنس ہی جاتا ہے انسان غلطی ایک نہیں بہت سی غلطیاں کرتا ہے پرکسی معصوم کے ساتھ ٹائم پاس کرنا اور اسکو کہیں کا نہیں چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہےٹائم پاس سے آپ اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں ٹائم پاس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوسکتی ہے اور بہت سے لڑکے لڑکیاں اس وجہ سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ ٹائم پاس سے دو انسانوں کو ایک دوسرے کی عادت لگ جاتی ہے جیسے نشے کی عادت لگ جانا۔ اگر ایک کو فرق نہیں بھی پڑتا دوسرا ضرور برباد ہوجاتا ہے۔ٹائم پاس کرنے والے کسی ایک کی نہیں بہت سے لوگوں کی زندگیاں خراب کر دیتے ہیں کاش ایسے لوگوں کے لیے بھی کوئ قانونی سزا بنی ہوتی دل کے مجرم قرار پاتےکسی کا قتل کرنا گہری جسمانی چوٹ دینا یہ سب زخم وقت کے ساتھ بڑھ ہی جاتے ہیں پھر کسی کو روحانی اذیت میں مبتلا کرنا زندہ مار دینا ہے اس کا کوئ کفارہ نہیں ہوسکتا ہے معافی لفظ استعمال کرنے سے اذیت کم نہیں ہوجاتی اگر ٹائم گزارنا ہے تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں گیمز کھیل لیں کتابیں پڑھ لیں اگر کسی سے بات کرتے بھی ہیں اسکو خوشی دینے کے مقصد سے کریں چونکہ ہر کوئ اپنی پریشانیاں دور کرنا چاہتا ہے تو کسی کے ذہنی سکون کا باعث بنے ناکہ اس کو مزید پاگل کردے کسی کو اچھا وقت دینا کسی کی دلجوئ کرنا نیکی ہے مگر کسی کو ٹائم پاس بنانا کسی کو اذیتوں میں دکھیلنا درندگی ہےمثال کے طور پہ لڑکا لڑکی کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کرتا ہےپھر محبت کا دعوہ کرنے لگ جاتا ہے کچھ تو ثابت کرتے ہیں اپنی اچھی تربیت کچھ بس وقت گزاری کے لیے جھوٹے دعوے کرتے ہیں کچھ عرصہ چلتی ہے محبت کہانی پھر وہی اسکو اپنے مزاج کے خلاف لگنے لگتی ہے جس کو شروعات میں ذہنی سکون مان رہا ہوتا ہے جس کو کہہ رہا ہوتا ہے بس تم ہی میری کل کائنات ہو تمھاری خوشی چاہیے بعد میں اسی کو جان کا عذاب کہنے میں دیر نہیں لگاتا جب ایک دوسرے کو چُنا تھا اس ٹائم کیا سوچا نہیں تھا یا کوئ اور ملا نہیں تھا ؟؟ارے کیوں برباد کرتے ہو ایک دوسرے کو؟؟اس میں ناصرف لڑکے لڑکیاں بھی شامل ہیں ایک لڑکی کسی کے ساتھ ایسے کرتی ہے تو وہ لڑکا باقی لڑکیوں سے بدلہ لینے لگتا ہے یہ سوچ کہ سب ایک جیسی ہیں کیا یہ صیح عمل ہے؟؟کچھ مہینے یا سال محبت کے نام پہ ٹائم پاس ہوتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے یا پھر دوستی کے نام پہ شروع ہوجاتا ہے۔ تم میری محبت ہو کہنے والا کہہ دیتا ہے مجھے اب تم سے محبت نہیں رہی میری زندگی میں کوئ اور آگئ یا پھر یہ کہہ دیتا ہے ساتھ چلنا ہے تو چلو مگر اب ہم دوست ہیں!! کیا محبت دوستی میں بدل سکتی ہے ؟؟؟ کیا وہ محبت بھرے جذبات اور الفاظ فریب تھے ؟؟؟ کیا وہ ٹائم پاس تھا؟؟؟آپ کیا کہے گے اسکو؟؟؟ ہمم کوئ جواب ملے ضرور بتائیے گا !! کچھ لڑکیاں لڑکے آسانی سے راستہ بدل لیتے ہیں مگر کچھ جو پاگل پن میں جا چکے ہوتے ہیں وہ اس سمجھوتے میں جینے لگتے ہیں کہ چلو ساتھ تو ہے کافی ہے انکو کسی کو چھوڑنا موت کی مانند لگتا ہے۔ عادت کہے یا پاگل پن یا جنون !! کسی کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا، اسکے لیے جس کے جذبات سچے ہو جس کے خلوص میں ملاوٹ نا ہو اگر عادت بھی ہے تو نشائ کا نشہ نا ملے تو بھی وہ مر ہی جاتا ہے یا پھر وہ اس راہ پہ چل نکل پڑتا جس کو دلدل کہتے ہیں کسی نا کسی برائ کی طرف راغب ہوجاتا ہےیہ الفاظ تو میرے ہیں پر اس میں ہر اس انسان کی آواز شامل ہے جو اس ٹائم پاس کی زد میں آچکا ہے
    کیوں کسی سے محبت کے دعوہ کے بعد اتنی آسانی سے جذبات بدل جاتے ہیں؟ ظاہر ہے سب فریب تھا اتنا گہرا تعلق رکھنے کے بعد یا تو جدائ ہوجاتی ہے یا پھر دنیا کی نظر میں "ہم دوست ہیں ” یہ کہہ کہ رشتہ چلتا رہتا ہے۔ اور ایک ایسا وقت بھی آجاتا ہے دوستی بھی اختتام پذیر ہوجاتی ہے ٹائم پاس کہا جائے؟ اسکو کیا کہا جائے ؟ کیجیے سوال خود سے کیا یہ اذیت نہیں ؟کتنی آسانی سے دوسرا انسان آجاتا ہے نا!!کیسے نئے رشتے کے لیے آپ پرانے رشتے کا لحاظ تک نہیں کرتے رنگ برنگے لوگوں میں خوش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو وہ اذیت دو جو وہ سہہ نا پا رہا ہو پھر اسکی باری پھر ناجانے کس کی باری کسی کو اتنی اذیت نا دیں کہ اپ کو بھی کسی اور کے ذریعے ایسی اذیت سہنی پڑے کیونکہ مکافات عمل آٹل ہے اور ہر ایک جواب دہ ہوگا اپنے اعمال کا !! اذیت یہ بھی ہے جب کوئ تیسرا جانتے بوجھتے درمیان میں آنے کی کوشش کرئے، کیوں کسی کی زندگی میں زہر بن کے آجاتے ہیں ؟پھر کہتے ہیں ہم تو کچھ نہیں کیا حالانکہ اپنا کام تمام کر دیتے ہیں جو وہ کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں ۔
    خدارا رحم کھائے خود پہ اور دوسروں پہ کوئ رشتہ ناتہ نا سہی انسانیت باقی ہونی چاہیے
    آگ لگے دھواں نا ہو اور محبت ہو اذیت نا ہو نا ممکن ۔ٹائم پاس نا کرئے کسی سے محبت کرئے نبھائے رشتوں کو سمجھے میری گزارش ہے میری تحریر پڑھنے والوں کے لیے ایسے رنگ بدلتے انسانوں سے بچیں کسی کے ساتھ ٹائم پاس نا کریں اپنی حدود میں رہیں محبت کا دعوہ کرئے تو اسکو نکاح کی صورت میں پورا کریں اگر ملنا نا مکمن ہو تو ایسے رشتے بنا کے اذیت نا دیں پہلے سے سوچ کے کسی کی زندگی میں داخل ہو محبت محبت ہوتی ہے دوستی میں تبدیل نہیں ہو سکتی، اور اتنا آسان نہیں ہوتا دنیا کے سامنے خود کو دوست ظاہر کرنا اور حقیقت کچھ اور ہونا ،اور جو محبت ہوجانے کے بعد بھی اپ کا ساتھ نہیں چھوڑتے دوستی میں رہ کے صبر کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں دنیا کے سامنے دوست ہی بن کے آپکے ساتھ رہنے لگتے ہیں انکے جذبات سمجھےکہ وہ آپکا ہر حکم کیوں مان رہے ہیں ظاہر ہے وہ مخلص ہیں ہمیشہ کا ساتھ چاہتے ہیں کیا ایسے انسان کے ساتھ بھی اپ ٹائم پاس کریں گے ؟سچے جذبات کی قدر کریں اور آخری بات کہنا چاہوں گی جو کسی ایک کو ایسی اذیت میں مبتلا کر سکتا ہے وہ کسی کے لیے سکھ نہیں بن سکتا اپنے قدم سنبھال لیں ایسی راہ کے راہ گیر نا بنے جو کسی کو خوشی کسی کو اذیت دے رشتوں میں عزت برقرار رکھیں

  • ہم عوام اور ہماری اخلاقی تربیت  تحریر: قاسم ظہیر

    ہم عوام اور ہماری اخلاقی تربیت تحریر: قاسم ظہیر

    کسی نے کیا خوب انداز میں ہماری ترجمانی کی ہے کہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں .میرے نزدیک ہم اخلاقی پستیوں کی انتہا کو چھو تے جا رہے ہیں جس کی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی. .لوگوں کا رہن سہن اور ان کا تہذیب و تمدن ان کے معاشرے اخلاقیات اور ان کی دینی تربیت کا عکاس ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں ہماری تہذیب و تمدن ہماری اخلاقیات ہماری تربیت ہمارے مہذب ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے یا نہیں یہ بات قابل غور ہے .کسی قوم کا عروج و زوال اس کی اخلاقیات پر منحصر ہے اخلاقی پستی کا شکار قومی تنزلی کا شکار رہتی ہیں ہم بڑی بڑی تاریخ کی کتابیں اٹھا کر پڑھ لیں ان میں واضح لکھا ہے کہ جن نے اخلاقی پستی اختیار کرلی ان کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا
    ہمارے معاشرے پر نظر دوڑائی جائے تو ہم اخلاقیات میں اس گراوٹ کا شکار ہے جہاں پر ہمارا ثانی کوئی نہیں ہم نے اخلاقی پستی کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے اپنے آپ کو اخلاقیات کے بد ترین درجے پر فائز کر دیا ہے
    اگر ہمارے پاکستان کر نظر دوڑائی جائے تو ہر شخص وہ کام کرتا ہے جو دوسرے کا ہے لیکن کوئی بھی وہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں جو اس کا اپنا اور ذاتی کام ہے ہم سیاست کو ہی لے لیں سیاسی میدان میں ہم ایک دوسرے کے نظریاتی مخالف بننے کی بجائے ہم ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالی دینے سے بھی گریز نہیں کرتے
    موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اپنی اخلاقی تربیت کی ہے بحیثیت فرد میں اپنی قوم کی کتنی خدمت کر رہا ہوں اور میں اپنے حصے کا کتنا کام اور کردار ادا کر رہا ہوں کیونکہ علامہ اقبال صاحب نے فرمایا ہے نا کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    آج کل کے ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر کوئی سوشل میڈیا یوز کرتا ہے وہاں سب سے زیادہ اشد ضرورت جس چیز کی ہے وہ ہماری اخلاقی تربیت کی ہے ہم ہر سیاسی محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں اور خلاف ہونا یا اختلاف ہونا جمہوریت کا حسن ہے لیکن ہم اپنے اقدار روایات اور اور اسلامی تعلیمات کو بلا کر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہیں اور جیسا کہ موجودہ حالات میں بھی دیکھنے کو ملا کہ تشدد واقعات سامنے آتے ہیں جس سے بہت قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں گھر اجڑتے ہیں
    میں اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق ہر شخص سے یہ التماس کرتا ہوں کہ خدارا اپنی قوم عوام خاندان اور دین کی خاطر ایک دوسرے کی عزت کریں اور عزت کرنے سے نہ صرف آپ کے اپنے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ دوسرے شخص کی نگاہ میں بھی آپ کی قدر و قیمت بڑھے گی

    @QasimZaheer3

  • ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات  تحریر: زبیر احمد

    ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات تحریر: زبیر احمد

    عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اب بہت بگڑ چکی ہے جس کی بہتری کے لئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں نوشتہ دیوار ہیں جس سے دنیا کا کوئی ملک انکار نہیں کرسکتا۔ آج 2021 میں فضاء میں کاربن کی شدت تقریبا 419 پارٹس فی ملین پہ جاچکی ہے یہ شدت تاریخ میں 300-350 سے زیادہ نہیں تھی مہذب دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس کا حوالہ دیا جاسکے کہ اتنی شدید مقدار میں کاربن فضاء میں موجود رہی ہو۔ آج کی دنیا اس حوالے سے حد سے زیادہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ کوئی ایسا حل نہیں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو واپس بہتری کی طرف موڑ سکیں لیکن ہنگامی اقدامات کے ذریعے مزید تباہی سے بچا جاسکتا ہے اس وقت زمین کا درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ اگر ہم آسان الفاظ میں سمجھنا چاہیں تو حالیہ کچھ عرصہ میں امریکا، آسٹریلیا اور ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ، بحراوقیانوس اور چین میں آنے والے سیلاب اور پچھلے سال پاکستان بھارت میں ٹڈیوں کا حملہ انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ثبوت ہیں اور اس کے نقصانات ہم دیکھ رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ایک جیسا متاثر ہورہے ہیں لیکن یہ مسئلہ ممالک کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی سے انسانی زندگی متاثر ہورہی ہے لوگ آج بھی اس کے نقصانات اٹھا رہے ہیں اور زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان ممالک نے معاشی استحکام کے لئے صنعتی ترقی جاری رکھنے کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اس وقت دنیا ایک ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے اس سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک چاہے ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑے گی۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں سے ایک ہے، 1994 سے پاکستان میں کاربن کا اخراج 123 فیصد تک بڑھا ہے اور گرین گیسوں کے اخراج میں ہر سال مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے تو 2030 تک زندگی گزارنے کے لئے ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ پاکستان کو گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے پروگراموں پہ توجہ دینے کے ساتھ ان پہ عملدرآمد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی کہ 2030 تک گرین گیسوں کے اخراج میں 20فیصد تک کمی لائی جائے۔ ملک میں 25فیصد تک جنگلات میں اضافے سے 40فیصد تک کاربن کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
    پاکستان کے سماجی و معاشی حالات پر مجموعی طور پہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات دیکھتے ہوئے عوامی سطح پہ آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سب نے ملکر ماحولیاتی تبدیلی کے ماحول اور معیشت پہ اثرات کو سمجھنا ہے اسی طرح پاکستان ان مشکل ماحولیاتی حالات پر قابو پا سکتا ہے اور پائیدار مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

    (Twitter: @KharnalZ)