Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • لوگوں کو توجہ دو  تحریر: انجینئرمحمد امیر عالم

    لوگوں کو توجہ دو تحریر: انجینئرمحمد امیر عالم

    آج کے دور میں ہمارے اندر محبتیں ختم ہوتے جارہی ہیں اور نفرتیں بڑھ گئی ہیں ۔

    جن کا بڑا سبب یہ ہے کہ اگر کوئی ہم سے گفتگو کررہا ہو تو ہم اس کی باتوں کو اچھی طرح نہیں سنتے اور نہ اس کی طرف پوری توجہ دیتے ہیں ۔بلکہ اس کی گفتگو ہم صرف اس خیال سے سنتے کہ اس کی بات ختم ہوجائے اور پھر ہم باتیں شروع کردیں ۔اس طرح ہم دوسرے کی گفتگو اور شخصیت کی انتہائی زیادہ ناقدری کرتے ہیں۔دوسرے شخص کی گفتگو کے دوران ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم موباٸل استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ یہ شخص میرے لیے اس موباٸل سے ذیادہ ضروری نہیں،اس لیے توجہ بھی نہیں دیتا۔

    چنانچہ دوران گفتگو موباٸل وغیرہ کا استعمال ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور آداب معاشرت کے خلاف ہے نیز یہ تکبر کی بھی علامت ہے۔

    ،چونکہ ہر آدمی کی اپنی ایک قدر، عزت اور منزلت ہوتی ہے اس لیے بسا اوقات ہمارے اس عمل سے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مجھے حقیر خیال کرتا ہے۔

    تجربے سے یہ بات ثابت ہوٸی ہے کہ جو شخص دوسروں کی باتوں کو توجہ دیتا ہے تو لوگ اس کی عزت بھی کرتے ہیں اور اچھی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

    راقم خود ایک بندہ کے بارے میں ہر کسی سے اس کی اچھاٸی اور تعریفیں ہی سنتا آیاہے، جب غور کیا توپتہ چلاکہ اس میں یہی عادت ہے کہ جب کوٸی اس کے ساتھ بات کرتا تو بات ختم ہونے تک اس کی طرف پورا دھیان رکھتاہے ساری گفتگو ہمہ تن متوجہ ہوکر سنتاہے ۔

    اور نبی کریم ﷺ کا بھی یہی مبارک طریقہ تھا۔کہ آپ ﷺ کے ساتھ کوئی بھی شخص گفتگو کرتا تو آپ صرف یہ نہی کہ اس کی طرف دیکھتے بلکہ اپنا پورا جسم مبارک بھی اسی کی طرف موڑ لیتے اور پوری توجہ سے اس کی بات سنتے۔

    ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کسی کی باتوں کو غور سے سنیں، کسی کی گفتگو کے دوران بے توجہی، بے رخی کا اظہار نہ کریں ۔بالخصوص موبائل کا استعمال ہرگز ہرگز نہ کریں اور ضروری کال یا میسج ہو تو مخاطب سے اجازت لے کر اس میں مصروف ہوں ۔

    اسی طرح اگر وہ آپ کے ساتھ کوٸی بات کرے تو اس کو اچھے الفاظ سے جواب دیں۔ اس سے اس کو صاف پتہ چلے گا کہ اس نے میری بات سنی ہے، اس سے اس کو دلی خوشی ملے گی، عزت ملے گی ۔

    اور جتنی توجہ آپ کسی کو دیں گے اتنا ہی ان کےدل میں آپ کی محبت بڑھے گی۔آج بھی اگر ہم اس صفت کو اپناٸیں تو ہماری نفرتیں محبتوں میں بدل سکتی ہیں اور خوشی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔

    ‎@EKohee

  • بدگمانی ایک زہر ہے  تحریر: معین وجاہت

    بدگمانی ایک زہر ہے تحریر: معین وجاہت

    ‎تبلیغ جماعت والے گشت کررہے تھے کہ ایک صاحب کو گھر میں داخل ہوتے ہوٸے دیکھا تبلیغی جماعت والے بھی اس کے پیچھے گٸے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بچہ باہر آیا تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کہا کہ فلاں صاحب گھر پر ہے جو اب ہمارے سامنے گزرگئے بچے نے کہا میں دیکھتا ہوں بچہ گھر گیا اور واپس آکر کہا وہ گھر پر نہیں ہے،امیر صاحب کو اندازہ ہوا کہ اب تو سب کو بدگمانی ہوگی تو کہا کہ دیکھو پیچھے بھی دروازہ ہے شاید وہ گھر آیا ہو اپنی ضرورت پورا کرکے پھر کسی کام کے لیے گیا ہو۔
    ‎تو غور کریں تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کتنا اچھا گمان کیا۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کسی پر اچھا گمان کرنا چاہیے۔آج کل بہت سے لوگ دوسروں کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    ‎کسی بات کی تحقیق کٸے بغیر کسی شخص کے بارے میں کوٸی برا خیال قاٸم کرلینا کہ اس نے شاید ایسا کیا ہوگا یہ بدگمانی ہے۔اپنی طرف سے کسی شخص کے بارے میں کوٸی خیال گھڑلینا ،یا معمولی سی بات کسی کے اندر نظر آٸی اور اس پر اپنی طرف سے ہواٸی قلعے تعمیر کرلینا اور اوراس کے بارے میں بدگمانی میں متبلا ہونا گناہ ہے۔جب تک کسی کے بارے میں کوٸی بات دلاٸل کے ساتھ آنکھوں سے مشاہدہ کرکے ثابت نہ ہوجاٸے تو اس وقت تک ہمیں کسی کے کےبارے میں کوٸی برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎معاملات میں بھی ہم بغیر تحقیق کے لوگوں پر بدگمانی کرتے ہیں۔کوٸی ہمارا فون نہ اٹھاٸے تو ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے اب ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتا،ہوسکتا ہے وہ کسی کام میں مصروف ہو اس میں بہت احتمالات ہوسکتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی کے پاس آپ نے دیکھا کہ بہت ذیادہ روپے پیسے ہیں تو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ حرام کا پیسہ ہے،حرام خوری کرتا ہے تو یہ بدگمانی ہے۔
    ‎اور یہ ایک ایسا زہر ہے جب آدمی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے ہر آدمی چور،بےایمان،بدفطرت اور بدکردار دکھاٸی دینے لگتا ہے۔
    ‎عربی کا مقولہ ہے:
    ‎سوء الظن مرض یقتل کل شیی جمیل
    ‎”یہ بدگمانی ایسا گناہ ہے جو ہر چیز کے نکھار کو ختم کردیتا ہے“
    ‎ابن ابی الدنیا کی کی کتاب ”حسن ظن باللہ“میں آیات اور احادیث کے 150 نصوص پیش کٸے گٸے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں پر نیک گمان رکھیں اور بدگمانی سے بچیں۔
    ‎اس لیے ہمیں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔بزرگوں کا فرمان ہے کہ بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی پر براٸی کا الزام لگاٸے ہیں اور یہ براٸی کا الزام قیامت کے دن ثابت کرنا ہوگا۔لہذا بدگمانی سے پہلے ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ بدگمانی مجھے قیامت کے دن ثابت کرنی ہوگی۔یہ بدگمانی بیشک کسی رشتہ دار کے بارے میں ہو،یا عام انسان کے بارے میں ہو،یا کسی عالم کے بارے میں ہو۔
    ‎اور یاد رکھنا چاہیے بدگمانی ایک ابتداء ہے جس کی انتہاء غیبت اور بہتان پر ہوتی ہے۔
    ‎اللہ تعالی ہمیں بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرماٸیں۔

  • الٹی گنگا  تحریر: بشیر احمد

    الٹی گنگا تحریر: بشیر احمد

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ظالم بادشاہ پورے جاہ و جلال کے ساتھ دربار سجائے تخت پہ سایہ فگن تھا ۔۔۔۔کہ کسی وزیر نے محاورتا” کہہ دیا کہ
    ” یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے”
    الٹی گنگا کا نام سنتے ہی بادشاہ سلامت اشتیاق و جلال سے اٹھ کھڑا ہوا اور شاہی چغہ لہراتے ہوئے وزیر موصوف کو حکم دیا کہ ۔۔۔۔پتہ کرو کہ الٹی گنگا کہاں واقع ہے؟

    پورا دربار خوف سے ساکت تھا۔۔۔۔کسی کو کیا معلوم کہ الٹی گنگا کہاں بہتی ہے؟؟؟
    تمام وزرا کی یہ خاموشی دیکھ کر شہنشاہ مزید طیش میں آ گیا ۔۔۔۔
    اور وزیر موصوف کو حکم دیا دو ہفتوں کے اندر اندر الٹی گنگا دریافت کر کے لے لاو ورنہ تمہاری گردن مار دی جائے گی۔۔۔۔۔۔
    چنانچہ وزیر موصوف دربار سے فرشی سلام بھرتا ہوا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔۔
    حواس باختہ وزیر ایک ہفتے تک گھوڑا دوڑاتا رہا مگر اسے کوئی ندی، نالا یا دریا ایسا نہ ملا جو مشرق کی طرف الٹا بہہ رہا ہو۔۔۔۔ہر ندی نالا غربی سمت رواں دواں تھا۔۔۔۔
    آخر کار کسی بھلے مانس نے بتایا کہ گنگا تو ہندوستان میں واقع ہے۔۔۔۔
    چنانچہ وزیر ہندوستان کی طرف روانہ ہو گیا اور منزلوں پہ منزلیں مارتا ہوا دریائے گنگا جا پہنچا۔۔۔۔۔
    وہاں جاکر اسے شدید مایوسی ہوئی کیونکہ گنگا بھی اپنی ٹھیک سمت یعنی مغرب کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔۔۔
    چنانچہ وہ کسی امید کے تابع گنگا کے ساحل کے ساتھ ساتھ گھوڑا دوڑاتا رہا کہ شاید کسی جگہ ۔۔۔گنگا الٹی سمت بہہ رہی ہو۔۔۔۔مگر اسے کسی جگہ بھی الٹی سمت بہاو نہ ملا۔۔۔
    آخر تھک ہار کہ گنگا کے کنارے ایک پیپل کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر سو گیا۔۔۔۔
    کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پہ بھی آ جاتی ہے۔۔۔۔چنانچہ جلد ہی وزیر بے چارہ خوابوں کی وادی میں کھو گیا۔۔۔۔۔
    خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک نورانی شکل والے بزرگ تشریف لائے جن کے ماتھے پر مہراب جلوہ آفروز تھا اور ایک چار پہیوں والی ریڑھی نما گاڑی پہ سایہ فگن تھے اور گاڑی معجزاتی طور خود بخود چل رہی تھی۔۔۔۔
    چنانچہ وزیر خواب میں اس کے پاوں سے لپٹ گیا اور آہ فریاد کی۔۔۔
    کہ میرا بادشاہ بہت ظالم ہے وہ مجھے اور میرے بیوی بچوں کو قتل کرا دے گا۔۔۔۔مجھے صرف یہ بتا دیں کہ الٹی گنگا کہاں بہہ رہی ہے۔۔۔۔۔
    بزرگ کے چہرے مبارک پہ کئی رنگ آئے اور کئ گزر گئے آخرکار ایک مبہم تبسم ابھر آیا اور جنوب مغرب کی سمت اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کسی بدیسی زبان میں بارعب انداز میں فرمایا کہ۔۔۔۔
    "اوچ ونج۔۔۔۔اوچ ۔۔۔۔۔۔(اوچشریف جاو)
    چنانچہ وزیر نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا مگر اب بھی بزرگ کے وہ الفاظ کسی ارتعاش کی طرح زہن میں گونج رہے تھے۔۔۔۔اوچ ونج۔۔۔۔اوچ ونج۔۔۔۔۔۔اوچ ونج۔۔۔۔۔۔

    چنانچہ اس نے فورا گھوڑے کو ایڑ لگائی اور بزرگ کی بتائی ہوئی سمت روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
    کئ دنوں کی مسافت کے بعد ایک نئی دنیا میں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ایک بازار میں پہنچا دو تین بندوں سے جگہ کا نام پوچھنے کی کوشیش کی مگر سبھی موبائل پہ لگے ہوئے تھے کسی نے جواب نہ دیا۔۔۔آخر ایک فقیر کو ایک اشرفی تھمائی تو اس نے بتایا یہ نوابوں کا شہر بہاول پور ہے اوچ ستر کلومیٹر آگے ہے۔۔۔۔۔
    دو گھنٹے گھوڑا دوڑانے کے بعد ایک اور شہر آیا وہاں ٹرین اسٹیشن موجود تھا پوچھنا کیا۔۔۔ایں شہر اوچ است؟ یہ اوچ شہر ہے؟ جواب ملا ۔۔۔۔ہنوز اوچ دور است۔۔۔۔۔۔
    یہ ڈیرہ نواب صاحب ہے۔۔۔۔قریب ہی ایک غریبوں کی بستی تھی
    وزیر نے ایک انگریزی کیکر کے ساتھ گھوڑا باندھا ۔۔۔۔۔اتنے میں ایک تگڑی موچھوں والا کندھے پہ رومال ڈالے ایک ببر شیر جوان موچھوں کو تاو دیتا ہوا ۔۔۔۔آن پہنچا اور بڑے پرتپاک انداز میں ملا اور اپنی کٹیا میں لے گیا۔۔۔۔وہاں پر ۔۔۔۔۔(حورالمستورات فی لخیام) کی عملی تصویر موجود تھی۔۔۔۔
    چنانچہ مشروب حسن بن صباح پیش کیا گیا۔

    وزیر کو جب ہوش آیا تو شاہی چغہ ایک طرف پڑا تھا ۔۔۔جیبوں کو ٹٹولا تو بے اختیار منہ سے یہ شعر نکلا۔۔۔۔۔

    اجڑ گیا وہ باغ ۔۔۔۔جس کے لاکھوں مالی تھے۔۔۔۔
    وزیر جب رخصت ہوا تو دونوں جیب خالی تھے۔۔۔۔

    المختصر۔۔۔۔وزیر مرتا کیا نہ کرتا اوچشریف پہنچ گیا۔۔۔شہر میں داخل ہوتے ہی پورے اوچ کے آوارہ کتوں نے گھوڑے اور وزیر کو گھیر لیا اور شایان شان استقبال کیا۔۔۔۔

    اوچشریف کی پاک گلیاں پسلتے پھلانگتے وزیر موصوف ۔۔۔بالے نائی۔۔۔کی دکان پہ پہنچا۔۔۔گھوڑا نزدیکی بجلی کے کھنمبے کے ساتھ باندھا اور شیو کروانے کی غرض سے بالے نائی کے سامنے کرسی پر براجمان ہو گیا۔۔۔۔
    شیو کے دوران وزیر نے ساری رام کہانی بالے نائی کو سنائی۔۔۔۔
    بالا نائی کہانی سنتا رہا اور روتا رہا۔۔۔۔۔۔اتنے میں بالے نائی کے شاگرد جگنو نے ڈیک پہ جاری گانے کی آواز اونچی کی۔۔۔۔۔۔۔۔

    جو ہم نے داستاں اپنی سنائی۔۔۔۔آپ کیوں روئے۔۔۔۔۔۔۔
    تھوڑی دیر بعد بالے نائی نے ایک سرد آہ بھری اور وہ تاریخی الفاظ کہے جو اوچ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    او کاکے۔۔۔یہ اوچشریف ہے یہاں ہر گلی میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔۔۔۔آو خود ملاحظہ فرما لو۔۔۔۔۔۔
    وزیر بالے نئی کے ساتھ باہر آیا تو دیکھا کھمبے کے ساتھ بندھا وزیر کا گھوڑا مر چکا ہے ۔۔۔شائد بجلی کے میٹر کی سرعت رفتاری دیکھ کر شرم سے مر گیا ہو گا۔۔۔۔۔
    بالا نائی وزیر کو لے کر جیسے ہی ٹینکی چوک سے ہوتا ہوا بورڈنگ موڑ پہنچا سامنے۔۔۔۔الٹی گنگا پوری حشر سامانیوں کے ساتھ رواں دواں تھی۔۔۔۔۔
    اس کے بعد پورے شہر کی سیوریج کو غربی سمت ڈھلوان کے بجائے۔۔۔الٹی گنگا بہا کر شرقی سمت واقع عباسیہ لنک کینال میں گندہ پانی ڈالنے کی ناکام کوشیش کے ضمن میں ایجاد فرمایا جانے والا گندہ کھوہ ملاحظہ کیا گیا۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر۔۔۔
    وزیر نے خوشی سے کلکاری ماری اور خالی جیب بغیر گھوڑے کے اپنے بادشاہ کو خبر دینے بھاگ کھڑا ہوا

  • زندگی کا اہم ترین سوال۔ تحریر : فہد ملک

    زندگی کا اہم ترین سوال۔ تحریر : فہد ملک

    ہر کوئی جو بہتر محسوس کرتا ہے وہ چاہتا ہے۔ ہر کوئی ہلکا پھلکا ، خوشگوار اور سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہے ، جذباتی جذبات کا تجربہ کرنا اور شاندار سرگرمیاں اور تعلقات رکھنا ، شاندار نظر آنا اور پیسہ لانا ، اور مرکزی دھارے میں رہنا اور بہت زیادہ قابل احترام اور سراہا جانا اور اس مقام پر ایک مکمل ہاٹ شاٹ جب آپ کمرے میں ٹہلتے ہیں تو بحر احمر جیسا حصہ۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے ، اسے پسند کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس موقع پر کہ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں ، "آپ کیا چاہتے ہیں؟” اور آپ کچھ اس طرح کہتے ہیں ، "مجھے مطمئن رہنے کی ضرورت ہے اور ایک ناقابل یقین خاندان اور ایک نوکری ہے جو مجھے پسند ہے ،” یہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایک سنجیدہ دلچسپ انکوائری ، ایک انکوائری جس کے بارے میں شاید آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا ، کیا درد آپ کی زندگی میں بنیادی چیز ہے؟ آپ کس چیز کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں؟ چونکہ یہ تمام اکاؤنٹس اس بات کا زیادہ تعین کرنے والے ہیں کہ ہماری زندگی کیسے ختم ہوتی ہے۔

    ہر کوئی ایک شاندار نوکری اور مالی خودمختاری چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص 60 گھنٹے کام کے ہفتوں ، لمبی ڈرائیوز ، اور ناخوشگوار انتظامی کام کو برداشت نہیں کرنا چاہتا ، اہمیت کی خود ساختہ کارپوریٹ زنجیروں اور لامتناہی ڈیسک ایریا کی نرم حدوں کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جہنم کی آگ افراد کو خطرے کے بغیر امیر ہونے کی ضرورت ہے ، بغیر تپسیا کے ، بغیر کسی تاخیر کی خوشی کے کثرت جمع کرنے کے لیے۔
    ہر کوئی غیر معمولی جنسی تعلقات اور ایک حیرت انگیز رشتہ کرنا چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص انتہائی مباحثوں ، آف کلٹر ہشس ، تکلیف دہ جذبات ، اور پرجوش سائیکوڈرما سے نہیں گزرے گا۔ اس طرح وہ بس جاتے ہیں۔ وہ طے کرتے ہیں اور معجزہ کرتے ہیں "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟” ایک طویل عرصے تک جب تک انکوائری تبدیل نہ ہو جائے "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟ "کیا یہ تھا؟ اور جب قانونی مشیر اپنے گھر لوٹتے ہیں اور سپورٹ چیک راستے میں ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ، "یہ کس لیے تھا؟” اگر وہ 20 سال پہلے سب سے آسان آپشن اور مفروضوں کے لیے طے نہیں کرتے ہیں ، تو پھر اس وقت کس کے لیے۔ نعمت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مثبت منفی سے نمٹنے کا نتیجہ ہے۔ آپ زندگی میں دوبارہ گرنے سے پہلے اتنے طویل عرصے تک منفی مقابلوں سے دور رہ سکتے ہیں۔

    تمام انسانی رویوں کے علاقے میں ، ہماری ضروریات کافی زیادہ تقابلی ہیں۔ مثبت تجربے سے نمٹنا مشکل نہیں ہے۔ یہ منفی تجربہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ، وضاحت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کے بعد ، جو ہم زندگی سے بچ جاتے ہیں وہ ان اچھے جذبات کے ذریعے کنٹرول نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں ، پھر بھی اس خوفناک جذبات کے ذریعے جو ہم ان اچھے جذبات تک پہنچانے کے لیے تیار اور مدد کے لیے تیار ہیں۔ افراد کو ایک حیرت انگیز جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی کے ساتھ اختتام نہیں کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اگر آپ ایمانداری سے درد اور حقیقی دباؤ کو پسند کرتے ہیں جو ایک ورزش مرکز کے اندر طویل عرصے تک رہنے کے ساتھ ہوتا ہے ، سوائے اس کے کہ اگر آپ اپنے کھائے ہوئے کھانے کا اندازہ لگانا اور سیدھا کرنا پسند کرتے ہیں ، اپنی زندگی کا بندوبست کرتے ہیں۔ چھوٹے پلیٹ سائز کے حصوں میں افراد کو کاروبار میں جانے یا مالی طور پر آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر بھی ، آپ ایک نتیجہ خیز کاروباری وژن کو ختم نہیں کرتے سوائے اس کے کہ اگر آپ کو اندازہ ہو کہ خطرے کی قدر کو کس طرح دیکھنا ہے ، کمزوری ، دوبارہ سے مایوسی ، اور کسی ایسی چیز پر پاگل گھنٹے کام کریں جس کے بارے میں آپ کو کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ کارآمد ہوگا۔ افراد کو ایک ساتھی ، ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی ایسے شخص کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو حیران کن ہو جو کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ہے یہ محبت کے دور کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو جیتنے کا موقع نہیں ہے کہ آپ نہیں کھیلتے ہیں۔

    آپ کی خوشحالی کا فیصلہ کیا نہیں آپ کس چیز کی تعریف کرنا چاہیں گے؟ انکوائری یہ ہے ، "درد کا اہم واقعہ جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟” آپ کی زندگی کی نوعیت آپ کے مثبت مقابلوں سے طے نہیں ہوتی ، البتہ آپ کے منفی مقابلوں کی نوعیت۔ نیز ، منفی مقابلوں کا انتظام کرنا زندگی کا انتظام کرنا ہے۔ وہاں ایک بری نصیحت کا لہجہ ہے جو کہتا ہے ، "آپ کو حال ہی میں اس کی کافی ضرورت کا موقع ملا ہے!”
    ہر کوئی کچھ چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر کوئی کچھ نہ کچھ چاہتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں جانتے کہ یہ ان کی ضرورت کیا ہے ، یا بلکہ ، انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ "کافی” ہے۔ چونکہ ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ آپ کو زندگی میں کسی چیز کے فوائد کی ضرورت ہے ، آپ کو بھی اسی طرح اخراجات کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو فٹ فگر کی ضرورت ہے ، آپ کو پسینہ ، جلن ، صبح سویرے ، اور کھانے کی خواہش کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو یاٹ کی ضرورت ہے ، آپ کو اسی طرح دیر سے شام ، خطرناک کاروباری چالوں ، اور ایک فرد یا 10،000 کو پریشان کرنے کا موقع درکار ہے۔ اگر آپ کو کئی مہینوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کی ضرورت پڑ جائے ، کئی سالوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کے بعد ، پھر بھی کچھ نہیں ہوتا ہے اور آپ اس کے قریب کبھی نہیں آتے ہیں ، پھر ، اس وقت ممکنہ طور پر آپ واقعی ضرورت ہے ایک خواب ، تسبیح ، تصویر ، جعلی ضمانت۔ شاید جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ نہیں ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے آپ صرف اس کی تعریف کریں۔

    شاید واقعی کسی ذریعہ کی ضرورت نہ ہو۔ ایک بار میں لوگوں سے پوچھتا ہوں ، "آپ کیسے برداشت کرنے کا فیصلہ کریں گے؟” یہ لوگ سر جھکا کر مجھے دیکھتے ہیں جیسے میرے بارہ ناک ہیں۔ لیکن میں اس بنیاد پر پوچھتا ہوں کہ اس سے آپ کی خواہشات اور خوابوں کے مقابلے میں مجھے آپ کے بارے میں بلاشبہ زیادہ روشنی ملتی ہے۔ چونکہ آپ کو کچھ لینے کی ضرورت ہے۔ آپ بغیر درد کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ سب گلاب اور ایک تنگاوالا نہیں ہو سکتے۔ مزید کیا ہے ، آخر کار وہ سخت انکوائری ہے جو اہم ہے۔ خوشی ایک سادہ انکوائری ہے۔ مزید یہ کہ عملی طور پر ہم سب کے تقابلی جوابات ہیں۔ واقعی دلچسپ انکوائری درد ہے۔ وہ کونسا درد ہے جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟ . انکوائری آپ کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ وہی ہے جو مجھے اور آپ کو بناتا ہے ، یہ وہی ہے جو ہمیں خصوصیات اور الگ تھلگ کرتا ہے ، اور آخر کار ہمیں متحد کرتا ہے۔ میری جوانی سے پہلے اور جوانی کے جوانی کے ایک بڑے حصے کے لیے ، میں نے خاص طور پر ایک پرفارمر ، ڈیمیگوڈ بننے کے بارے میں تصور کیا۔ گٹار کی کوئی بھی دھن جو میں سنتا ہوں ، میں ہر صورت میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور اپنے آپ کو سامعین کے سامنے کھڑا ہونے کا تصور کرتا ہوں۔ یہ خواب مجھے کافی دیر تک روک سکتا ہے۔ میں اپنے موقع کی تلاش میں تھا اس سے پہلے کہ میں وہاں سے باہر نکلنے اور اسے کام کرنے میں وقت اور مشقت کی جائز پیمائش میں حصہ ڈالوں۔ سب سے پہلے ، میں نے اسکول مکمل کرنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے پیسے لانے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے وقت نکالنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت… کچھ نہیں۔ میری زندگی کے بیشتر حصے کے بارے میں اس کے بارے میں تصور کرنے کے باوجود ، سچ کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ نیز ، اس میں مجھے کافی وقت لگا اور بہت زیادہ منفی مقابلوں کو آخر کار اس وجہ سے حل کرنا پڑا کہ: مجھے واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے نتائج سے پیار تھا ، سامعین کے سامنے میری تصویر ، لوگ خوش ہو رہے ہیں ، میں کانپ رہا ہوں ، میں جو کھیل رہا ہوں اس میں میرا دل خالی کر رہا ہوں ، پھر بھی مجھے سائیکل سے محبت نہیں تھی۔ نیز ، اس وجہ سے ، میں اس پر چکرا گیا۔ ایک سے زائد بار. میں نے اس میں ہلچل مچانے کے لیے کافی کوشش نہیں کی۔

    مجھے انعام کی ضرورت تھی جدوجہد کی نہیں۔ مجھے آؤٹ پٹ کی ضرورت تھی نہ کہ سسٹم کی۔ مجھے جنگ سے نہیں بلکہ صرف فتح سے محبت تھی۔ مزید یہ کہ ، زندگی اس طرح کام نہیں کرتی ہے۔ آپ کی پہچان ان خصوصیات سے ہوتی ہے جن کے لیے آپ جدوجہد کریں گے۔ وہ افراد جو ایک ریک سینٹر کی جدوجہد میں حصہ لیتے ہیں وہ وہی ہیں جو بطور موزوں ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو طویل کام کے ہفتوں اور پیشہ ور بیوروکریسی کے قانون سازی کے مسائل کو سراہتے ہیں۔ وہ افراد جو بے سہارا کاریگر کی زندگی کی پریشانیوں اور کمزوریوں میں حصہ لیتے ہیں آخر کار وہی رہتے ہیں اور اسے بناتے ہیں۔ یہ خود نظم و ضبط یا "حوصلہ افزائی” کی کال نہیں ہے۔ یہ کوئی درد نہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    یہ زندگی کا سب سے بنیادی اور ضروری حصہ ہے۔ ہماری جدوجہد ہماری فتوحات کا فیصلہ کرتی ہے۔ ان خطوط پر ، ساتھی ، اپنی جدوجہد کو دانشمندی سے چنیں۔ @Malik_Fahad333

  • ضلع مظفرگڑھ!  قاتل روڈ ڈبل کرو ۔   تحریر علیہ ملک

    ضلع مظفرگڑھ! قاتل روڈ ڈبل کرو ۔ تحریر علیہ ملک

    ضلع مظفرگڑھ کی عوام زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہو تم جانوروں سے بھی بدتر ہو۔ کچل دیئے جاؤ گے کسی افسر کی گاڑی سے ،کسی ٹرالر یا بس کی ٹکر سے۔کیونکہ تم پیدل چلنےوالے،سائیکل،موٹرسائیکل اور رکشوں پر سفر کرنیوالے غریب لوگ ہو۔تمہیں کیا معلوم امیر ، امراء افسر کی گاڑیوں مرسڈیز ، پجارو کا انجن کتنے ہارس پاور کا ہوتا ہے اور اسکی کتنی سپیڈ ہوتی ہے۔اور کتنا مزہ آتا ہے اس کو فل سپیڈ میں نشے میں دھت ہو کر چلانے کا، مگر تم غریب لوگ جب ہمارے سامنے آتے ہو تو سارا نشہ اور مزہ کراکرا کر دیتے ہو خوامخواہ میں کچلے جاتے ہو۔ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ سال 2014 کی رپورٹ کی مطابق دنیا کا امیرترین انسان میکسیکوکارلوس سلم اپنی دولت میں سے روزانہ دس لاکھ ڈالر بھی خرچ کرے تو اس کی ساری دولت کے ختم ہونے میں 220 سال لگ جائیں گے اور اگر وہ اپنی ساری دولت کو ایک عام سیونگ اکاؤنٹ میں رکھے تو اس کی دولت پر اسے جو منافع ملے گا اس کی رقم روزانہ 43 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہوگی۔ یہ ہے تفریق تم میں اور ہم میں۔یہی عدم مساوات ہمارے عہد کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ ایک طرف تو دنیا کے امیرترین افراد کی تعداد دوگنی ہورہی ہے تو دوسری طرف اسی دوران کم از کم دس لاکھ مائیں بچوں کی پیدائش کے دوران موت کا شکار ہوگئیں کیونکہ انہیں طبی نگہداشت کی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ اور نہ ہی میسر ہوں گی کیونکہ جہاں صحافی کا قلم بکتا ہو طوائف کی جسم کیطرح، جہاں منتخب یا سابق سیاسی نمائندوں پر بے حسی طاری ہو، جہاں انتظامیہ کرپشن میں دھنس چکی ہو، جہاں حکمران 74 سال سے ملک کو دمیک کیطرح چاٹ رہے ہوں۔جہاں قانون امرا کے گھر کی لونڈی ہو، جہاں انصاف کی بولی لگتی ہو، وہاں روڈز کیوں بنیں گے وہاں ہسپتالوں کی حالت زار کیوں بدلے گی ، وہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کیوں میسر ہوں گے۔ اگر ایسا ہو جائے پھر تو امیر اور غریب کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو۔جائے گا۔۔پھر غریب کے بچےاعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے اور تب ہماری افسر شاہی اور وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔لہٰذا ان کو روند ڈالو ، کچل ڈالو، ان کی نوجوان نسل کا قیمہ بنا ڈالو۔ ان کو ایسا سبق سکھاؤ کہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں یہ پڑھنا لکھنا چھوڑ دیں۔ان کے جسم میں ملک کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا دھڑکتا دل روڈ پر پڑا تڑپ رہا ہو،انکے سپنوں کو بھاری بھرکم گاڑیوں کے آہنی راڈوں اور ٹائروں کے بیچے مسل ڈالو۔ تاکہ یہ سر نہ اٹھا سکیں۔ یہ سسکتے اور ٹڑپتے رہیں۔ اور لوگ ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں جیسے کوئی لاوارث کتے کو کچلا جاتاہے ان کا انجام بھی ویسے ہو گا۔ یہ المیہ ہے جہاں حقائق کو مسخ کر کے غریب کی عزت و عصمت کی قیمت ، جبکہ قتل کیے جانے کے بعد ڈرا دھمکا کر ، ہراساں کر کے ، ریاستی پریشر ڈال کر اسلام کا سہارا لیتے ہوئے دیت دی جاتی ہے۔ اس خون کی قیمت دے کر اپنی گاڑیوں سے غریب کا گندا خون دھو ڈالتے ہیں۔کیونکہ غریب ان کے لیے حقارت کی علامت ہے اور امراء کی سوسائٹی میں ایک بد نما داغ اور دھبہ ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے ۔

    @KHT_786

  • لازوال قربانیوں کی داستان  تحریر  : راجہ ارشد

    لازوال قربانیوں کی داستان تحریر : راجہ ارشد

    ۔

    حصہ اول
    آزادی کی جستجوں میں ناجانے کیسے کیسے کڑیل جوانوں نے اپنی جان کے نزرانے پیش کیے ، جانے کتنی ماؤں کی گود ویراں ہوئ،ان گنت سہاگنوں کے سہاگ اجڑے ،لاکھوں معصوموں جانوں کو نیزوں میں پرویا گیا لاتعداد بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں ۔لاکھوں بچوں نے یتیمی کا تاج پہنا تو پھر کہیں جا کے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

    دنیا کے کیلنڈر پے نقش 14 اگست 1947 کا دن ایک دن نہیں بلکہ لازوال قربانیوں،ازیتوں اور عظم و حوصلے کی داستان ہے جو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے

    لاالہ کے نام پر حاصل کی گئ یہ سر زمیں پاک ہمارے اجداد کی قربانیوں اور وفاؤں کی ایک لا زوال داستاں ہے جس کا لفظ لفظ لہو سے تحریر ہے جسکی اک اک سطر ہمت و استقلال اور درد کی لامحدود گہرائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

    1862 سے 1867 تک تایخ برِصغیر کے الم ناک سال تھے اس عرصے کے دوران 14 ہزارا علمائے دین کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا گیا دہلی سے لیکر پشاور تک کوئی درخت ایسا نا تھا جس پہ ظالموں نے کسی مسلمان کا سر نا لٹکایا ہو ۔

    بادشاہی مسجد جو آج عزیز ہم وطنوں کے لیے صرف تفریح گاہ ہے اس کے صحن میں ایک دن میں ان گنت علماء کرام کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا سلام ہے ان مرد مجاہدوں پہ جن کے سر انگریزوں کے سامنت جھکنے کو تیار نہ تھے وہ صرف لاالہ کا ورد کرتے قربان ہوتے چلے گئے ۔
    برِصغیر کے مسلمانوں پہ جب مایوسی کے بادل چھانے لگے تو چند عظیم ہستیوں نے انقلاب آزادی کا بیڑا اٹھایا ۔

    قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اب ایک طرف اقبال کا خواب آزادی اور مسلمانوں کی بیداری کا جزبہ تھا تو دوسری طرف قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت جس نے مسلمانوں میں نئ روح اور آزادی کی امنگ پیدا کی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمانانِ برصغیر کو ان کی اعلیٰ روایات یاد دلاتے ہوئے مسلم لیگ کے اجلاس میں فرمایا مسلمانوں میں اخلاقی سیاسی اور ثقافتی شعور کا وہ پہلا سااحساس نہیں رہا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامیان ہند نے اپنی عظمت رفتہ کو آوازدی۔ جرأت، محنت اور استقلال کو مشعل راہ بنایا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ تحریک پاکستان کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئی۔

    23 مارچ کو قرار داد پاکستان کے منظور ہونے کے بعد مسلمانوں کی جدو جہد آزادی نے زور پکڑا لیا مگر وہی دشمنان اسلام کی سازشیں بھی کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئیں ۔آفرین ہے ان بزرگوں ہستیوں پر جنہوں نے اپنے خون سے اس تحریک آزادی کو سینچا اور بلا آخر14اگست 1947 کو سرزمین مقدس پاکستان دنیا کے نقشے پر مانند آفتاب طلوع ہوا۔

    آج 14 اگست کا دن ہمیں پکار پکار کر یہ کہہ رہو ہے کہ اے اہل وطن! تم اس دن کی اہمیت اور قدروقیمت بھول گئے؟
    آزادی کے اس دن کو دیکھنے کیلئے تم نے جانیں قربان کرنے کی قسمیں کھائی تھیں اور تعمیر وطن کیلئے عظیم جدوجہد کی تھی۔تم نے تو اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہوکر یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم پاک وطن کو مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ مملکت بنائیں گے۔ ہم اس وطن کو محبت و اخوت، بھائی چارے، امن و سکون، اسلامی تہذیب پر اسلامی نظام کا گہوارہ بنائیں گے۔ 14 اگست کا دن ہم سے سوال کرتا ہے کہ آج پاکستان کس مقام پر کھڑا ہے؟ آج پاکستان میں لاقانونیت کیوں ہے؟ ناانصافی کیوں ہے؟ درحقیقت آج کا دن ہم سے قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق اتحاد، ایمان اور تنظیم کا تقاضا کرتا ہے۔

    @RajaArshad56

  • مہنگائی کا شور  تحریر : سحر عارف

    مہنگائی کا شور تحریر : سحر عارف

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کا شور ہر دور کی حکومت میں رہا ہے ہماری عوام کی یادداشت شاید بہت کمزور ہے اس لیے ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے بہت جلدی بھول جاتے ہیں اس لیے آجکل عمران خان حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ ہماری عوام کو اتنا شعور تو ہونا چاہیےکہ مہنگائی کی بنیادی وجوہات اور موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں میں فرق کر سکیں۔

    اس وقت سب سو رہے تھے جب اسی قوم کے نام پر بیرون ممالک سے قرضے لیے گئے جن میں سے 20٪ سے بھی کم عوامی فلاح کے لیے خرچ ہوتا تھا باقی تو حکمرانوں نے اپنے اکائونٹس بھرے قرض وآپس کرنے کے لیے اور سود پے قرضے لیے جاتے تھے
    قرض اتارنے کے لئے مزید قرضے لے کر عوام کو کچھ سہولیات بھی دی جاتی تھیں تاکہ کوئی بولے نہ 2018 کے انتخابات تک پاکستان اس جگہ پر پونچ چکا تھا کہ مزید ملک کا نظام چلانے کے لئے ایٹمی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے تھے آپ کا یہ ملک ڈیفالٹر ہونے والا تھا مزید پابندیاں لگنے جا رہی تھیں
    مشکل کے اس دور میں محب وطن وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے بیرونی ممالک کے پے در پے دورے کیے ملکی حالات سے آگاہ کیا اور دوست ممالک سے مدد لی۔

    الحمدللہ اب پاکستان کو پاوں پر کھڑا کیا ہے لیکن ہماری عوام کی یادداشت کمزور ہے اسے مفادات کی ضرورت ہے آرام طلبی ان کی رگ رگ میں خون کی ماند شامل ہو چکی ہے۔ یاد رکھیں غلام ذہن کبھی بھی مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتے ان کو صرف سکون اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے قومی غیرت اور خودداری سے ان کا کوسوں دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا

    ابھی حال ہی میں موجود حکومت نے تقریبا 19 ارب ڈالر بیرونی قرض واپس کیے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو ہے 2008 سے 2018 تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریبا برابر ہے یا اس سے کسی حد تک کم ہے
    کرونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے پوری دنیا کے طاقتور ممالک اور ان کی عوام دو وقت کے لالے پڑھے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے ممالک کی معیشتیں تباہ ہو گئیں لیکن ان مشکل حالات میں بھی الحمدللہ پاکستان نے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوا ۔عوام تک احساس پروگرام کے ذریعے گھر گھر راشن پہنچایا جو کہ ہر ایک خاندان بارہ ہزار روپے کی صورت میں عوام کو میرٹ پر ملا عوامی وزیراعظم نے غربت اور دور دراز سے آنے والے مسافروں کے لئے لنگر خانے اور مسافر خانے بنوائے جو ریاست مدینہ کے ماڈل جیسی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہیں۔ مافیاز سے مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے بڑے بڑے کاروبار پر ملک اور عوام دشمن بزنس مین کا قبضہ ہے اس کے باوجود بہادر اور نڈر حاکم کھڑا ہے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہرممکن کوشش کر رہا ہے پوری دنیا میں مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے مملکت خداداد میں آج بھی مہنگائی کی شرئع انتہائی کم ہے ہمارے ہاں کسی چیز کا فقدان ہے تو پڑھے لکھے لوگوں کے اندر بھی شعور کی کمی ہے۔
    باشعور قوم بننے کے لئے وقت تو لگے گا لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو جائے گی عوامناس کے مفادات کے لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے مگر اس ملک کی سمت درست کرنے کے لئے وقت تو درکار ہے مہنگائی کرنے والے دو نمبر اشیاء بنانے اور فروخت کرنے والے بھی ہم عوام ہی ہیں مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اور ریاست مدینہ جیسے ماڈل کی ریاست بنانے کے لئے ہم عوام کو آگے بڑھ کر سب سے پہلے اپنی سمت درست کرنا ہو گی
    تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے کریں یہ ملک ان شاءاللہ اٹھے گا اور ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے۔

    @SeharSulehri

  • پاکستان کیا ہے؟ تحریر: شہاب خان

    پاکستان کیا ہے؟ تحریر: شہاب خان

    *صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو*

    دُنیا میں دُوعالمی جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ تیسری اور فیصلہ کُن جنگ ابھی ہونا باقی ہے جس کے لیے میدان سج رہا ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ھو گی۔ اگر ہم دیکھیں تو دُنیا میں دو ممالک ھی خالص مذھب کی بنیاد پر بنے ھیں ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل جبکہ پاکستان اسلام کے نظریہ پر بنا اور اسرائیل یہودیت کے نظرئیے پر قائم ھوا۔

    اسرائیل اپنے وجود کے قیام سے ھی پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتا ھے جسکی بنیادی وجہ پاکستان کا خالصتاً مذھب اسلام کے نام پر وجود میں آنا ھے اور اسرائیل اچھی طرح جانتا ھے کہ وہ پورے عرب کو زیر کر سکتا ھے لیکن اگر اسے کبھی سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ صرف پاکستان ھے۔ گو کہ پاکستان اور اسرائیل کی کبھی دانستہ و دست بہ دست لڑائی نھیں ھوئی لیکن اسکے باوجود اسرائیل پاکستان سے ایک بار عرب اسرائیل جنگ میں شکست کھا چکا ھے جسکے بعد اسکا یہ یقین ایمان میں بدل چکا ھے کہ پاکستان کے فناء میں ھی اسکی بقاء ھے اسی لئے اسرائیل پاکستان کو باالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نھیں جانے دیتا۔

    اسرائیل پر یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اللہ نے وجود کیوں دیا جبکہ یہ ہماری بدقسمتی اور نااہلی ہے کہ ہم قیام پاکستان کا مقصد ھی نھیں جانتے اور جانے انجانے میں الٹا اپنے ھی وطن کو نقصان پہنچانے میں لگے رھتے ھیں۔

    پاکستان اور اسرائیل کا مذاہب کے نظریہ پر وجود میں آنا کوئی اتفاقاََ حادثہ نھیں بلکہ اس بات کا پیش خیمہ ھے کہ دنیا کی آخری جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہو گی اس پئے اس بات سے قطعی انکار نھیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کوئی عام ملک نھیں بلکہ پاکستان دنیائے ارض کا سب سے اھم اور خاص ملک ھے۔

    پاکستان ھے کیا جسکے بنانے والے بھی چُنے ہوئے، جس کے بننے کا دن بھی چُنا ہوا، جس کا جھنڈا چُنا ہوا، جس کے بننے کا مقام بھی چُنا ہوا۔ جس کے بننے کا مقصد چُودہ سُو سال پہلے بتائے گئے سنہری اصولوں سے چن لیا گیا ھے۔

    جس کی بنیاد مضبوط کرنےمیں لاکھوں کلمہ گو کا خون، بہا جس کی جنگ میں خدا کی نصرت ساتھ رھی، جس کو مٹانے والے خود مٹ گئے، جس کو بچانے والے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارتیں پا گئے، جس کے خطے پر پیارے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئیاں کہ مجھ کو مشرق سے ٹھنڈی ہواؤں کے چلنے کا یقین لگتا ھے۔
    جس ملک سے اللہ اپنے عظیم گھر خانہ کعبہ کی حفاظت کا کام لیں، دُنیا کی پہلی اسلامی مملکت جسے اللہ نے ایک بہترین ایٹمی طاقت بنایا ۔دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دی ،دُنیا کے بہترین کمانڈوز، دُنیا کی بہترین فوج، دُنیا کا بہترین جنگی و دفاعی نظام، دُنیا میں محلِ وقوع ایسا دیا کہ دُنیا رشک کرتی ہے، دریا، سمندر، پہاڑ، میدان دئیے، تمام موسم دئیے دنیا کا ھر میوہ دیا، ھر فصل سے نوازا، سر سبز کھیت کھلیان دئیے

    دنیا کی دو سپر پاورز روس اور امریکہ کو پاکستان کے ذریعے نہ صرف شکست دلوائی بلکہ انکے غرور کو سمندر برد کروایا، ھمارے ازلی دشمن بھارت کو ھر بار ناکام و نا مراد لوٹا کر اسکی چیخیں پوری دُنیا کو سنوائیں۔ جس کے مجاہدوں کو دشمنِ دین و کفار سے ٹکرانے کا شرف ملے، ایسے میں یاد رکھنا وھی خدا ھے جو اس ملک کو چلا رہا ہے ،جس کے ہتھیاروں کا کوئی ثانی نہیں، جدید ٹیکنالوجی، ذہین لوگ، چُنے ہوئے انجینیرز اور سائنسدان جنہوں نے محدود وسائل میں ملک کیلئے وسائل بنائے، جو اپنی طرف اٹھنے والی ہر انگلی و ہاتھ کو وہ چوٹ دے جو ھمیشہ کیلئے عبرت بن جائے گویا خدا نے فضائے بدر کے ماحول میں فرشتے اتار دئیے ھوں۔

    جسے غزوہ ہند کی فتح کی خوشخبری چُودہ سُو سال پہلے مل جائے، جو لڑنے سے پہلے تیسری جنگ عظیم کیلئے صف آراء ٹھہرے، جس کا وجود مسلمانوں کے وجود کی ضمانت، کشمیر بنے گا پاکستان سے لیکر یا اھل الا فلسطین پکارنے والا۔

    گو کہ ایسی طاقت ایسی نعمت ایسے ملک سے دھوکہ وہ نا شکری ھے جس کا اذالہ جان دے کر بھی نھیں کیا جا سکتا۔

  • زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    کسی بھی معاشرے کی زینت اور مضبوطی اس کی اخلاقی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ زنا معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ موجودہ دور میں بد اخلاقی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے جہاں معاشرے میں اخلاقی گراوٹ وقوع پذیر ہو رہی ہے وہیں معاشرے کا امن اور آزادی بھی انتہائی گہرائی سے مضروب ہو رہے ہیں۔
    معاشرے کی بقا اس کی اخلاقی اقدار، تہذیبی اصناف اور ذہنی بلندی سے وابستہ ہے۔
    آج کل کا معاشرہ جہاں مختلف مصائب کا شکار ہے وہیں زنا جیسا ناسور بھی اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
    زنا انسانی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گو کہ یہ انسانی جبلت ہے لیکن بطور انسان اخلاقیات بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑی جا سکتیں۔
    آج کل زنا کی وجوہات کو لے کر ایک وسیع و عریض بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ عورت کے لباس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے تو کسی کے نزدیک مرد کی نظر اس کی ذمہ دار ہے۔
    لیکن ہم ابتدا سے اس ناسور کا جائزہ لیتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں پہناووں کو لے کر ایک خاص رسم چل پڑی ہے جس کے تحت عورت کے پہناوے دن بدن سکڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دو سال کی بچیوں کو بھی ایسے ملبوسات پہنائے جا رہے ہیں کہ بچیاں کسی فیشن انڈسٹری کی ماڈل لگنے لگ گئی ہیں۔
    بچیاں ابھی دو سال کی ہی ہوتی ہیں کہ انہیں تنگ اور مختصر لباس پہنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ لباس مزید مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دوپٹہ جو کہ خاص مشرقی روایات میں سے ایک تھا، آج کل تو ناپید ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زیرِ نظر شعر شاید ہمارے ماضی کے لئے کسی شاعر نے لکھا تھا کیونکہ ہمارا حال تو اس شعر کا بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

    تعلق ہے میرا اس قوم سے، جس قوم کے بچے
    خریدیں جب کوئی گڑیا، دوپٹہ ساتھ لیتے ہیں

    عورت مختصر لباس میں معاشرے میں گھومتی ہے اور اسے اپنی آزادی کا نام دیتی ہے۔
    جبکہ دوسری طرف
    ایک بچہ جب دو سال کا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا ہے اور اس ماحول پر غور وفکر کرتا رہتا ہے۔ گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچہ ہے اسے کوئی سدھ خبر نہیں ہو گی لیکن وہ مکمل طور پر معاشرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہی بچہ جب نوجوان ہوتا ہے اور اپنے اردگرد تنگ لباسی کو عام دیکھتا ہے اور وہ عورت جس کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا ہو لیکن وہ نیم برہنہ کپڑوں میں ملبوس کھلے عام گھوم رہی ہو تو اسے دیکھ کر وہ نوجوان بھی تنگ نظر بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نوجوان اپنی انسانی جبلت کے زیرِ اثر شہوانیت کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے اور حوا زادیوں کی طرف اس کی رغبت مزید بڑھنے لگ جاتی ہے۔
    ہمارے معاشرے میں شادیاں ویسے بھی دیر سے ہوتی ہیں اس لئے نوجوان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    آج کل جہاں فحش ویب سائٹس عام ہیں اور فحش لباس میں ملبوس کچھ گمراہ ذہنی مریضائیں کھلے عام گھومتی ہیں وہیں کسی مومن کو ابلیس بننے میں دیر نہیں لگتی۔
    میری اس بات کا اگر آپ معاشرتی تجربہ کرنا چاہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے علاقے جہاں زنا کی سزائیں جرگوں میں دی جاتی ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے وہاں ترقی یافتہ شہروں کی نسبت زنا کی شرح نہ صرف انتہائی کم ہو گی بلکہ وہاں کی خواتین پردے کا بھی سختی سے اہتمام کرتی ہوں گی اور مرد بھی اپنی نظریں اپنے قابو میں رکھ کر گھومتے ہوں گے۔
    زیادتی اور اغوا کے جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں ان کی اکثریت ترقی یافتہ شہروں میں صرف اس وجہ سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر فیشن اور آزادی کے نام پر عورت سے اس کی حیا اور روایات چھین لی گئی ہیں اور عورت تک مرد کی دسترس آسان کر دی گئی ہے۔
    یہ نام نہاد آزادی اور فیشن کا ناسور مغرب سے درآمد ہو کر آیا اور اب مختلف این جی اوز اور دیگر اداروں کے ذریعے مشرق میں اس کی بڑھوتری اور ترویج پر کام جاری ہے۔
    بطور ایک منظم اور تہذیب یافتہ معاشرہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بنیاد کو نہ بھولیں۔ اس معاشرے کی بنیاد مشرقی اصولوں پر مبنی ہے۔ لہٰذا مغربی تہذیب اور پہناوے یہاں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اسلامی لباس اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد شروع کر دیں تو نہ صرف عورت کے لباس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس لباس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مرد کی تنگ نظری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
    کچھ لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر زنا کی وجہ عورت کا لباس ہے تو پردہ دار خواتین اور بچے کیوں محفوظ نہیں؟ اس سے میری عرض ہے کہ جب کوئی جانور خونخوار بن جاتا ہے تو وہ اونٹ اور چوہے میں فرق نہیں کرتا۔ اسے جہاں بھی خون کی خوشبو آئے جھپٹ پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ خونخواری کی وجہ کیا ہے؟ اگر آپ معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ میری ساری گزارشات خود ہی سمجھ جائیں گے۔

    زنا جیسے ناسور پر قابو پانے کے لئے ہمیں جلد از جلد اس فیشن انڈسٹری سے چھٹکارہ حاصل کر کے معاشرے کو راہِ راست پہ لانا ہو گا۔
    اگر آپ نے ضائع ہوتا پانی بند کرنا ہے تو آپ کو بجائے اس پانی کو ٹھکانے لگانے یا پائپ کو مروڑنے کے نلکہ ہی بند کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جب تک سر نہ کچلا جائے سانپ زندہ رہتا ہے۔

    لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک آرٹیکل میں سب دلائل اور گفتگو کا سما جانا ممکن نہیں۔ اس کے لئے بیسیوں صفحات پر مشتمل کتابچہ بھی شاید کم پڑ جائے۔ بہر حال ہم صرف جڑ سے ہی اس لعنت کو ختم کر سکتے ہیں اور کوئی حل نہیں ہے۔
    @1nVi5ibL3_

  • ‏بدعنوانی اور پاکستان  تحریر:  جہانتاب احمد صدیقی

    ‏بدعنوانی اور پاکستان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    قیام پاکستانی کے بدعنوانی پاکستان کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔. بدعنوانی سے نمٹنے کے مختلف اداروں کے باوجود بدعنوانی پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔. بدعنوانی ایک ایسا مہلک مریض ہے جس میں ملک کا ہر ارادہ مبتلا ہے، بدعنوانی پر قابو پانے کے بہت سے ادارے برسوں سے بدعنوانی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان کے شہری اس بدعنوانی کے نظام سے بے افسردہ ہیں۔.

    بدعنوانی چار اہم وجوہات کی بناء پر پاکستانی معاشرے کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سب سے پہلے ، پاکستان کی شبیہہ کو پچھلی چند دہائیوں میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ معاہدوں کو دیتے ہوئے بدعنوان طریقوں ، غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے منصوبوں کا آغاز اور اعلی سطح کے عہدیداروں کے ذریعہ منی لانڈرنگ نے ملک کے لئے ایک برا نام پیدا کیا۔.

    1996 میں ، برلن میں قائم سول سوسائٹی کی تنظیم ، شفافیت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو دنیا کا دوسرا بدعنوان ملک قرار دیا۔. رپورٹ TI پاکستان کے لئے بہت شرمندگی کا باعث تھی کیونکہ اس نے ملک کی شبیہہ کو بکھر نہیں کیا بلکہ غیر ملکی عطیہ دہندگان کو بھی اس کے ترقیاتی منصوبوں میں پاکستان کی حمایت کرنے کی حوصلہ شکنی کی۔

    جب غیر ملکی کمپنیوں اور ایجنسیوں سے کمیشن لینے کے نتیجے میں لالچ کی ثقافت گہری ہوگئی تو ، دنیا کا اعتماد اور اعتماد کم ہوا۔. ٹی آئی کے قومی بدعنوانی کے تصور این سی پی سروے 2010 کے مطابق پاکستان میں 2009 میں 195 ارب روپے سے لے کر 2010 میں 223 بلین روپے تک بڑے پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔.

    پاکستان میں ٹی آئی کے ذریعہ شناخت کیے جانے والے کچھ انتہائی کرپٹ ادارے اور علاقے یہ ہیں: پولیس ، بجلی کا شعبہ ، زمینی انتظامیہ ، مواصلات ، تعلیم ، مقامی حکومت ، عدلیہ ، صحت ، ٹیکس لگانے اور رواج۔

    ٹی آئی کے سروے کے مطابق ، موجودہ حکومت میں بدعنوانی میں پچھلے ایک کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔. نہ تو غیر ملکی شہری اور نہ ہی سمندر سے زیادہ پاکستانی جو اس ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں صرف اس وقت حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جب انہیں رشوت اور کک بیک کی شکل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔.

    بدعنوانی پر صرف اسی صورت میں قابو پایا جاسکتا ہے جب سیاسی اور انفرادی طور پر ہر شہری نہ صرف اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہو بلکہ اس عمل پیرا بھی ہو

    آخر میں ، پاکستان کے تمام حکام کو اپنی طرف سے بدعنوانی کے عنصر کو کم سے کم کرنے اور قانونی طور پر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔. شہریوں کو قانونی کاروبار کرنے پر توجہ دینی چاہئے اور کالے پیسے کمانے سے گریز کرنا چاہئے۔. اگر ہم چھوٹے عوامل پر بھی توجہ دیں گے تو ہم کسی نہ کسی سطح پر بدعنوانی پر قابو پاسکتے ہیں۔.

    ‎@JahantabSiddiqi