Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • درخت اور جاندار   تحریر : سید اویس بن ضیاء

    درخت اور جاندار تحریر : سید اویس بن ضیاء

    حضور اکرم (ص) فرماتے ہیں کہ "کوئ بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے پھر اس میں سے پرند، انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے”

    درخت اللہ تعالی کی عطاء کردہ بیشمار نعمتوں میں سے خاص نعمت ہے۔ انسانوں سے لیکر چیونٹیوں،پرندے اور جانور سب کی زندگیاں درختوں سے جڑی ہیں۔ سیلاب اور قحط سے بچاؤ، پانی کی مسلسل دستیابی، لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ، زراعت کی بہتری اور انسانی صحت کی بہتری، آکسیجن کی فراہمی، گرمی کی شدت میں کمی، مٹی میں زرخیزی، ماحولیاتی توازن اور سیاحت کا فروغ جنگلات کے اہم فوائد ہیں

    گزشتہ کئ سالوں سے جنگلات میں نمایاں کمی آئی ہے جسکی وجوہات میں سے ایک وجہ جہاں جنگلات ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کا بہتر روزگار نا ہونا ہے، لوگ درخت کاٹ گھروں میں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں اور بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ حکومت وقت کو وہاں ملازمت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہیے تاکہ لوگ جنگلات کا خاتمہ نا کریں دوسری اور سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے جب بھی سرکاری سطح پر کوئ منصوبے تیار کئے جاتے ہیں نا تو جگہ کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ یہاں جنگلات کا کتنا نقصان ہوگا نا یہ سوچا جاتا ہے کہ اسکے متبادل درخت لگا کر انکی کمی پوری جائے گی لہذا اگر کہیں بھی کوئ بھی سڑک بنے یا کوئی بھی سرکاری عمارت سب سے پہلے درختوں کو مد نظر رکھنا لازمی جزو ہونا چاہیے

    پچھلی کئ حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے درختوں جیسے بڑے مسئلے پر کبھی کسی کا دھیان نہیں گیا،

    پاکستان میں جنگلات پر تحقیق کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان میں 90 کی دہائ میں تقریباً 36 لاکھ ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو کہ دو ہزار کی دہائ میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک رہ گیا ہے۔ پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے اور اگر جنگلات کے اس کٹاؤ کو نا روکا گیا تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کےلئے یہ بہت بڑا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کی بڑھوتری کےلئے موجودہ حکومت کی حکمت عملی قابل ستائش ہے، عمران خان کے کامیاب بلین ٹری سونامی کی وجہ سے ملک میں درختوں کی شرح میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے جوکہ خوش آئند ہے، پی ٹی آئ حکومت کے اس احسن اقدام کو نا صرف پاکستان میں سراہا گیا ہے بلکہ عالمی دنیا بھی اسکی کافی حوصلی افزائ کی گئ ہے،

    بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبے کی وجہ سے نوجوان نسل میں پھر سے درخت لگانے کی لگن پیدا ہوگئ ہے جوکہ اس کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان میں ترقی کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے جنگلات کے تحفظ پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اللہ تعالٰی پاکستان کو ترقی اور خوشحالی عطاء فرمائے آمین۔

    @SyedAwais_

  • غریب عوام اور امیرسیاستدان   تحریر : وقاص رضوی جٹ

    غریب عوام اور امیرسیاستدان تحریر : وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ کاالمیہ رہاہے کہ قیام پاکستان کےبعد جیسےہی بانیان پاکستان اس دنیاسےرخصت ہوۓتو ملک کی باگ ڈور چندامیرزادوں کےہاتھوں میں چلی گٸ۔ پنجاب کےبڑےبڑےجاگیردار ٗ سندھ کے وڈیرے ٗ بلوچستان کے سردار اور خیبرپختونخواہ کے قباٸلی سردار سیاست پر مکمل قابض ہوگۓ۔ ملک میں سیاست کو اس انداز میں مروج کیاگیاکہ کوٸی غریب اور مڈل کلاس سیاست میں آنےکاسوچ بھی نا سکے۔1970 کی دہاٸی میں جو سیاسی جماعتیں وجود میں آٸیں ان کےسربراہ انہیں جاگیرداروں میں سےتھے۔ بعدازاں موروثی سیاست نےایسی جڑیں مضبوط کیں کہ باپ کےبعد بیٹا پھر پوتااور یہ سلسلہ چل نکلا۔اس کی واضح مثال پیپلزپارٹی کی ہے جس کی بنیاد سندھ کے زمیندار ذولفقار بھٹو نے رکھی۔اسکےبعد پارٹی کی باگ ڈور اسکی بیکم نصرت بھٹو کےہاتھ میں چلی گٸ ۔ بعدازاں انکی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی پہ قبضہ کیا۔ بینظیر کی وفات کےبعد اس کےشوہرآصف زرداری چٸیرمین بنے۔اب انکے بیٹے بلاول بھٹو چٸیرمین ہیں۔ اور جب کبھی بلاول کسی جلسےمیں شرکت نہ کرسکیں تو اس موقع پہ آصفہ بھٹو کو بھیج دیاجاتاہے۔ اور یہی حال ملک کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا ہے جس کا صدر پہلےنوازشریف تھاجب وہ جلاوطن ہواتواسکی بیگم مرحومہ کلثوم نوازٗ پھر اب جب نوازشریف جلاوطن ہےتواسکی بیٹی مریم نواز پارٹی چلارہی ہیں۔ایسا کرنا دراصل پاکستان اور اسکے انتہاٸی قابل اور پڑھےلکھےنوجوانوں کی توہین ہے۔ کیا پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سےکوٸی اس قابل نہیں جو شریف اور زرداری خاندان کی جگہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی چلاسکے؟یہ امیر زادے باقی عوام کو کیڑےمکوڑےسمجھتےہیں۔عوام کےٹیکس کےپیسےسےعیاشیاں کرتےہیں۔ پھر پارٹی ٹکٹ بھی ایسےلوگوں کودیتےہیں جو انکو کروڑوں روپےٹکٹ کےعوض دیتےہیں۔ پارٹی ٹکٹ ایسےلوگوں کی دی جاتیں جو بڑےبڑےتاجر ٗ ٗ جاگیردار ٗ وڈیرے ٗ سردار اور ریٹاٸرڈ اور بیوروکریٹس ہوتےہیں۔ جن کےہاتھ کرپشن سےرنگےہوتےہیں۔انہیں غریب کےمساٸل کا زرہ برابر بھی ادراک نہیں ہوتا۔
    ساری زندگی ایٸرکنڈیشنڈ گھر اور مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے بلاول بھٹو کو کیاپتہ کہ تھر کے بچے بھوک پیاس سے مررہےہیں ۔ راٸونڈ کے محلات میں رہنے والی اور کروڑوں کی سرجری مریم نواز کو کیا پتہ کہ ایک غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونےسے شادی کےانتظار میں بوڑھی ہورہی ہے۔
    تین سو کنال کے گھر میں رہنے والے عمران خان کو ان بےگھر افراد کے دکھ کاکیاپتہ جن کےگھر تجاوزات کے نام پر مسمار کردیےگۓاور وہ سر چھپانےکیلیےدر بدر کی ٹھوکریں کھارہےہیں۔ اربوں روپے کے بینک بیلنس رکھنے والے اسد عمر کو ا باپ کےدکھ کاکیا پتہ کہ لاک ڈون کی وجہ جس کی دہاڑی نہ لگنےسےاسکےبچےبھوکے سوتےرہےہوں۔سرکاری خرچ پر حج کرنےوالے پیرنورالحق قادری کو اس 70 سالہ بوڑھی کےدکھ کاکیااحساس نے حج کرنےکیلیے پاٸی پاٸی جمع کرکے 3لاکھ جوڑےتھےکہ حج مہنگا ہوکر 8لاکھ تک پہنچ گیا۔
    ان امیر سیاستدانوں کوغریبوں کا نہ احساس پہلےکبھی تھانہ اب ہے۔اس لیےغریبوں کو اب خود اپنےلیےاوراپنی آٸندہ آنیوالی نسلوں کیلیے آگےبڑھناچاہیےاور سٹیٹس کاخاتمہ کرناچاہیے۔

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک  اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔  تحریر: ثاقب محمود

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ تحریر: ثاقب محمود

    وطن عزیز میں ٹریفک آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ایک مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ جن کا حل بہت ضروری ہے اگر ان مسائل کا فوری حل کے لئے پلان ترتیب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں بہت سنگین
    مسائل اور حوادث جنم لے سکتے ہیں ۔ اب جبکہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا چاہئے جس میں سب سے پہلے ٹریفک کے نظام کو بھی اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو سب سے پہلے آتے ہیں ہم گاڑیوں کے رجسٹریشن کے نظام کی طرف جس کا اپڈیٹ ہونا بہت ضروری ہے ۔مثلا” گاڑی کی رجسٹریشن بک روٹ پرمٹ وغیرہ کو ایک جدید سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے جیسے سعودی عرب میں مرور کا سسٹم ہے۔ اگر آپ گاڑی ڈرائیور کو دینا چاہتے ہیں تو بھی آنلائن اس کے آئی ڈی کارڈ کے اوپر یعنی اقامے کے اوپر ہوگی اس کا یے فائدہ ہوگا کے کوئی بھی ٹریفک چالان ہوگا تو وہ ڈائریکٹ اسی بندے کے نام جائے گا جو گاڑی کو استعمال کر رہا ہوگا۔چاہے رینٹ کی گاڑی بھی کوئی رینٹ پے لے گا تو وہ آنلائن مستخدم یعنی استعمال کرنے والے کے نام ہوگی اس کے دو فائدے ایک تو جرائم پیشہ افراد رینٹ کی گاڑی استعمال نہیں کر سکیں گے اور دوسرا حکومت کو پتا ہوگا سسٹم میں ڈیٹیل ہونگی کس نے کتنا کاروبار کیا اور ساتھ میں ٹیکس کے سسٹم سے بھی منسلک ہو جہاں ڈائریکٹ انکم ٹیکس کٹ جائے۔گاڑی کا رجسٹریشن سسٹم صرف ایک کارڈ پر ہو جو کے مالک تبدیل ہونے کے ساتھ تبدیل ہو جائے ۔اس کے علاوہ جو لوگ اوپن لیٹر پر بغیر نام کے گاڑیاں چلا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گاڑی نام پر کروانا اولین شرط ہونی چاہیے ۔ایک ہی کارڈ پر لکھا ہو کے گاڑی پبلک سروس ہے یا پرائیویٹ بجائے اس کے کے دو بڑی بڑی بکس اٹھائے پھرے ٹوکن پاسنگ پرمٹ الگ الگ کی بجائے ایک ہی کارڈ پر ہونی چاہیے پاسنگ کا سٹکر شیشے پر آویزاں ہو تاکہ آفیسر دور سے ہی دیکھ پائے کے گاڑی فٹنس کلئیر ہے یا نہیں سب گا ڑیوں کو ڈیجیٹل کرنے سے فائدہ یے ہوگا کے ٹریفک پولیس اگر کسی کا ای چالان کرے گا تو ڈائریکٹ اس کے موبائل پر میسج جائے گا بجائے اس کے کہ ٹریفک پولیس والے روکیں گھنٹوں بحث ہو یا رشوت لے کر چھوڑ دی جائے یا کسی رشتے دار افسر سے سفارش کروا کر چھوٹ جانے والا کلچر ختم ہو جائے گا ٹریفک سارجنٹ بغیر بحث کیے ای چالان کرے گا جو استعمال کنندہ کے کھاتے میں ڈائریکٹ جائے گا ۔گاڑی
    کےنمبر پر چالان ہوگا۔اس کے بعد انشورنس بہت ضروری ہے جو کہ تصادم ہونے کے بعد گاڑی والے دونوں فریقین میں صلح کروائے اور روڈ پر جھگڑا ختم ہو گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد تیری غلطی اور میری غلطی والا کام بھی ختم ہو اور طاقتور کا کمزور پر دھونس جمانا بھی ختم ہو ۔روڈ پر آٹومیٹک کیمراز ہوں کھلی جگہوں پر جو کے اوور سپیڈ گاڑیوں کے فوری آٹو چالان کیپچر کریں۔ اس کے علاوہ تمام مین سگنلز پر آٹو میٹک کیمراز ہونے ضروری ہیں جس سے ٹریفک وارڈن کی کھپت میں کمی ہوگی اور اچھا ریونیو اکھٹا ہوگا اور تقریبا” ایک سال کے اندر ٹریفک جرائم میں کمی واقع ہوگی ۔ اور حادثات ٹریفک جام اور دیگر مسائل میں نمایاں کمی نظر آئے گی ۔انشورنس کمپنیز میں اچھے خاصے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے ۔عوام میں شعور پیدا ہوگا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی ۔
    لیکن اس سب کے لئے ضروری ہے ایک مکمل میکنزم جو ٹریفک پولیس انشورنس کمپنیز اور دیگر
    اداروں کے مدد سے تیار ہو ۔
    خصوصا” ڈیجیٹل کیمراز اور فاسٹ نیٹ ورک موبائل ڈیوائسز کی ایک جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ہم عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹریفک نظام کو دیکھتے ہوئے اپنے ٹریفک کے نظام میں بہتری لا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ چھوٹی دستی ٹرانسپورٹ جیسا کے موٹر سائیکل رکشہ چنگ چی وغیرہ جو کے اکثر انتہائی خطرناک اور مہلک حادثات کا باعث بنتے ہیں ۔ان کا چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے جن کی حد سے بڑھی تعداد بھی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ڈبل کو چھوڑیں ٹرپل سواری اور بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائکل چلاتے نظر آتے ہیں جو کے کم عمری اور ناتجربہ کاری اور تیز رفتاری کے باعث کثیر تعداد میں حوادث کا باعث بنتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کے کم عمر بچوں کے بائک چلانے پر مکمل پابندی عائد کرے اور بغیر لائسنس کے ڈرائیو پر بھی مکمل پابندی ہو ۔جو ماں باپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل دیں ان کے خلاف بھی سخت کاروائی اور موٹر سائیکل ضبط ہونا چاہیے ۔
    حکومت کو پتا ہو کے شہر میں
    کتنی ٹرانسپورٹ کی گنجائش ہے اور کتنی تعداد میں موجود ہے ۔
    حد سے زیادہ کوئی بھی چیز ہوگی تو وہ گزرتے وقت کے ساتھ مشکلات پیدا کرے گی۔ آپ راولپنڈی یا لاہور کے کسی چوک میں چلے جائیں آپ کو رکشوں اور موٹر سائیکل کی بھرمار نظر آئے گی اگر آپ غور کریں گے تو ٹریفک کے جنگل میں پھنسے آپ کا سر دکھ جائے گا ۔پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ میٹر پر بننا چاہئے یا کوئی معقول نظام ہو تاکہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ سے سہی معنوں میں مستفید ہو سکے ۔
    اللہ ہماری معاشرے میں سدھار
    کے لئے اس چھوٹی سی تحریر کو پر اثر بنائے اور اس کے فوائد کے ثمر سے وطن عزیز کو نوازے آمین ۔

    @Ssatti_

  • زمانہ نازک ہے تحریر: آفاق حسین خان

    زمانہ نازک ہے” یہ فقرہ غالبا ہر صدی اور دہائی میں اپنے عروج پر رہا ہے- ہم نے اپنے بزرگوں سے اور بڑوں سے ہمیشہ یہی کہتے سنا- ہرعمرمیں ہرانسان یہ فقرہ دہراتا رہا- ہو سکتا ہے ہردورمیں زمانہ نازک رہا ہوں- یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہردورکا ہر انسان فرشتہ ہو اور زمانہ ان کے لئے خراب ہو- اس دنیا میں تقریبا سات ارب لوگ ہیں- سات ارب کی اس دنیاوی آبادی میں تقریبا ہزاروں کی تعداد میں ثقافتی روآیآت پائی جاتی ہیں- چھ ہزارسے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تویہاں تقریبا اکیس کروڑ لوگ رہتے ہیں- سترسے زائد مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں- مختلف علاقے میں مختلف زبانیں اور مختلف روایات پائی جاتی ہی- جیسے ایک گھر میں رہنے والے اورایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کی سوچ عادت ذہنیت اور پیشہ مختلف ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر جگہ کی ثقافت اور روایات مختلف ہیں- ہرانسان دوسرے انسان سے مختلف ہے- ہر انسان کی سوچ , طرز زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے- یہاں تک کہ اگرایک گھرمیں رہنے والے سب بہن بھائیوں کے کمرے دیکھنے کا اتفاق ہو توسب کمروں میں آپ کو مختلف ماحول دیکھنے کو ملے گا- ہرانسان خود میں ایک ثقافت ہے لیکن ظاہر ہے بہت سی چیزیں انسان پیدا ہونے کے بعد اپنے بڑوں سے, استاد سے اورارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے- لیکن ان سب سے بڑھ کر بہت سی صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں جو کہ پیدائشی کہلاتی ہیں مثلا بہت سے لوگ قابل دماغ ہوتے ہیں بہت سے لوگ دلیر ہوتے ہیں, بہت سے لوگ محنتی ہوتے ہیں اور یہ سب صلاحیتیں انسان میں پیدائشی پائی جاتی ہے- ہرانسان کا زمانے کودیکھنے, سوچنے اورسمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے- زمانہ نازک کیوں ہے ایسی کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہرعمرکے شخص کی زبان پر اکثریہ جملے سننے کو ملتے ہیں کیا واقعی زمانہ نازک ہے یا یہ محض ایک سنی سنائی بات ہے –
    آج کے جدید دورمیں سوشل میڈیا ہرانسان کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اورہر شخص اس پر مصروف دکھائی دیتا ہے- زمانہ روزبروزبدل رہا ہے ہرچھوٹی سے چھوٹی بات بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے- ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اورایک برا, بلکل اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں وہاں چند نقصانات بھی پائے جاتے ہیں- سوشل میڈیا بالاخرکیا چیزہے جواس ہرانسان اپنا قیمتی وقت دینے کو تیارہے- اس میں ایسا کیا ہے جوہرشخص اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کراس پروقت گزارتا ہے- میرے نزدیک سوشل میڈیا کے تین طرزہیں- کچھ لوگ اس کوصرف انٹرٹینمنٹ کے لیےاستعمال کرتے ہیں ایک پرانا محاورہ ہے “نیکی کر دریا میں ڈال” جس کو اگرہم آج کے دورمیں موڈیفائیڈ کریں تو بن جائے گا جو بھی کر سوشل میڈیا پر ڈال- سوشل میڈیا کے دوسرے پہلوکی بات کی جائے جو سب سے بہترین پہلو ہے تو وہ ہے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال جبکہ سوشل میڈیا کا تیسرا روخ دیکھا جائے تواس میں کچھ عناصرایسے ہیں جوسوشل کا منفی استعمال کرتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے –
    چندہ دہائیاں پہلے کسی کے گھرمیں ٹیلی ویژن کا ہونا ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی یہ زیادہ پرانی بات نہیں محض تیس چالیس سال پرانی بات ہے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زمانے میں انٹرٹینمنٹ نہیں تھی- بالکل تھی لوگ اپنے فارغ وقت میں پارک وغیرہ یا سینما گھروں کا رخ کرتے تھے- لیکن آج کل کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سنیما موجود ہے جس کو آپ اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں اورانٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں- پرانے وقت میں لوگ خود مطالعہ کرنا پسند کرتے تھے جس میں اخبارات, کتابیں اور میگزین شامل ہیں لیکن آج کل بڑی تعداد میں لوگ سنی سنائی بات پرعمل کرلیتے ہیں اورخود سے اس کہانی یا آرٹیکل کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے- سوشل میڈیا آج بہت بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے جہاں ہر کوئی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہارکرسکتا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند عناصرایسے ہیں جو غلط انفارمیشن کو پرموٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے چونکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں اسی وجہ سے ایسے غلط مواد کی روک تھام کرنا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے- دوسری طرف اگردیکھا جائے توسوشل میڈیا کے ان گنت فوائد بھی ہیں- ہرعام شہری اپنے مسائل یا اپنی رائے کا اظہار باآسانی کرسکتا ہے اورلوگوں تک پہنچا سکتا ہے- بہت سے لوگوں کو سوشل میڈیا پرنیوکسٹمرملتے ہیں جس کی بدولت ان کا کاروباردن دگنی رات چگنی ترقی کرتا- سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک بہترین سہولت ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے –

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • حکمران اورعدل و انصاف تحریر: مطاہر مشتاق

    حکمران اورعدل و انصاف تحریر: مطاہر مشتاق

    محترم قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ
    پاکستان کا نظام انصاف روزِ اول سے ہی بازارِ حُسن میں کھڑکی کھولے بیٹھی کسی بِکاؤ حسینہ کا سا ہے اور اسکے بعض سربراہان عین نائقہ کی سی عکاسی کرتے ہوئے اپنی آخری آرام گاہوں کو جہنم بنا کر اسمیں غریق ہو چکے ہیں،
    اس نظام نے محمد علی جناح کے بعد آج تک کوئی ایسا انسان حکمران نہیں بننے دیا جو کہ صرف غریبوں کو اوپر اٹھانے،قوم کو یکجاء کرکے ملک کو مستحکم کرنے میں سنجیدہ ہو،
    اس ملک کا المیہ یہ ہے ایسے قاضی جنہوں نے آئین و قانون پر سختی سے عمل کیا اور کروایا وہ تعداد میں اتنے کم ہیں کہ انکو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی گِنا جا سکتا ہے،
    کیونکہ جہاں اشرافیہ اقتدار کی مالک ہو وہاں انصاف ہونا ناممکن ہے جہاں امیر کو غریب پر فوقیت ہو،طاقتور کے لیے انصاف کا ترازو جھول کھائے، غریب اور بے سہارا کو کوئی سہارا دینے والا انصاف دینے والا نا ہو،اس ملک میں جینا محال ہو جاتا ہے،
    جیسا کہ ماضی میں اس ملک کو ایسے ایسے نگینے بھی میسر آئے ہیں کہ جنکا نام لیتے وقت باضابطہ چہروں پر کوفت لانی پڑتی ہے،
    کہنے کو تو سربراہ ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے زیارت میں موجود اپنی آخری سانسیں پوری کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کو چالاک بڈھے جیسے القابات سے نوازا،
    مادرِ ملت فاطمہ جناح تک کو تادمِ مرگ ازیت پہنچائی،
    اس ُملک کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ سے دو لخت کردیا،
    سرعام منشیات اور اسلحہ کلچر کی بھرمار کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول دیا،
    پھر ایسے کرپٹ وطن فروش بھی اس مُلک نے جھیلے جنہوں نے روئے زمین پر شائد ہی کوئی جگہ ہو جہاں اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر اپنی دولتوں کے انبار نا لگائے ہوں،
    شاید وہ وقت اب دوبارہ نا آئے جیسا کہ ایک آمر کو اللہ نے موقع دیا تھا اس مُلک کی تقدیر سنوار کر ایسے عناصر سے ملک و قوم کی مستقل جان چھڑا دے مگر اس نے بھی اپنے اقتدار کی حوس کو پورا کرنے کی خاطر این آر او جیسے مکروہ حربے کے زریعے انکو مزید اس ملک کو لوٹنے کے سنہری موقع دئیے،
    جسکا خمیازہ اس ُملک و قوم نے اربوں ڈالر کے قرضے،دہشت گردی،انسانی حقوق کی خلاف ورزی،معصوم بچوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے کیسز،مہنگائی،بے روزگاری،کرپشن،و دیگر معاشرتی جرائم کی صورت بُھگتا،اور آج بھی بھگت رہے ہیں،
    موجودوہ حکومت اپنے تبدیلی کے نعرے کو لیکر تین سال سے تگ و دو میں ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی گندگی اور غلاظت قرضے کو سمیٹ کر ختم کر سکے،مگر اس دوران بھی مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے کہ جس نے غریب کا سانس لینا محال کر رکھاہے،
    اس میں بعید نہیں کہ اس میں ساٹھ فیصد پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بھی ہے،مگر اس حکومت سے بیورو کریسی آجتک مکمل کنٹرول میں نہیں آئی،جو کہ آج بھی ماضی کی حکومتوں سے ہمدردی اور اپنی کرپشن کا مان رکھتے ہوئے عہدو و پیماں نبھانے میں مصروف ہے،
    اگر حکومت کرپٹ لوگوں کو این آر او دینے سے گریزاں ہے تو وہ عدالتوں سے ریلف لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،
    یہاں آکر پھر نظام انصاف میں ایسے سقم مجرم کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے ثابت ہوتے ہیں جنکی بنا پر وہ دندناتے ہوئے پھر باھر نکل آتے ہیں،
    ناجانے کب اس ملک کو ایسے قاضی اور ایسے حکمران میسر ہونگے جنکا مقصد اس ُملک سے وفاداری ہوگا،
    ہماری یہ دُعا ہے کہ اللہ اس ملک کو اس کے اداروں کو ہمیشہ امان میں رکھے،

    @iamMutahir4

  • مزدور کی زندگی  تحریر:کاشف حسین

    مزدور کی زندگی تحریر:کاشف حسین

    مجھے اپنی زندگی کے دوران نوکری کے سلسلے میں پاکستان دیکھنے اور گھومنے کا کافی موقع ملا بس ایک صوبہ سندھ ہی رہتا تھا اور میری شدید خواہش تھی کہ میں سندھ جاؤں اور سندھ کے مختلف شہر گھوموں تاکہ مجھے پتا چلے کہ سندھ کے لوگوں کی طرز زندگی اور رہن سہن کیا ہے۔۔اور سندھ کے پسماندگی کی وجہ کیا ہے۔۔کوی چار مہینے پہلے میری پوسٹنگ سندھ کے شہر چھور کینٹ میں ہوی یہ شہر حیدرآباد سے 170 کلو میٹر دوری پر واقعہ ہے۔بہت ہی پسماندگی کا شکار ہے۔شہر اور گردونواح میں مسلمان اور ہندو آبادی کی شرح برابر ہے۔۔دور دور تک سکول نظر نہیں آتا اور علاج کے لیے ہسپتال بھی مجھے ابھی تک نظر نہیں آیا بس سنا ہے کہ یہاں سے 25 کلومیٹر دور عمر کوٹ شہر ہے جہاں سرکاری ہسپتال ہے۔وہاں کے لوگوں کی غربت اور بے بسی پر رونا آتا ہے۔شہر کے علاؤہ آس پاس دیہات میں بجلی نہیں اور پانی کی بھی شدید کمی ہے۔۔شدید گرمی میں لوگ درختوں کے سایہ میں دن گزارتے اور سارا دن اپنے علاقے کے جاگیردار اور وڈیرے کے کھیتوں میں محنت مشقت کرتے۔میں اکثر جب یہاں کے لوگوں کو دیکھتا جن کے پاس اپنی ضروریات زندگی کے لیے کوئ سہولت موجود نہیں تو اپنے ساتھ لڑکوں سے کہتا کہ بہت شوق تھا سندھ آنے اور رہنے کا لیکن جب یہاں کے لوگوں کو بے بسی کی زندگی گزارتے دیکھا تو میرا یہاں رہنے کا شوق تو پورا ہوگیا۔کچھ دن پہلے ایک کسان سے ان کے رہن سہن کے بارے میں پوچھنے لگا جو اپنے وڈیرے کے کھیتوں میں محنت مشقت کر رہا تھا۔اس سے پوچھا بھائ آپ کھانے میں کیا کھاتے اور دن میں کتنے ٹائم کھانا کھاتے تو کہنے لگا پسی ہوئ لال مرچوں کو تڑکا لگا کر پھر پانی ڈال کر شوربہ بنا کر اس میں کھانا کھاتے دن دس بجے اور رات کھانا کھاتے سبزی دال کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں کہ خرید کر کھا سکے البتہ کبھی کبھی ٹماٹروں کی چٹنی بنا کر اس سے کھانا کھاتے۔۔میں اکثر یہ سوال کرتا کہ کیا چھور میں رہنے والے لوگ پاکستان کا حصہ نہیں ہیں ۔کیا ان کی نسلیں اسی طرح پروان چڑھتی رہے گے۔بس ساری زندگی آپنے وڈیروں کی خدمت کی ۔کیا اس سسٹم کے خلاوہ آواز اٹھانے والا کوئ نہیں۔کیا ان کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئ حق حاصل نہیں۔ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم سندھ کے شہر چھور اور ایسے بہت سے شہروں کے لوگ جو غربت اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔۔سندھ حکومت سے میری گزارش ہے کہ اب بہت ہوگیا اب تو اس بے بس عوام کے بارے میں سوچنا شروع کردے ان کے بچوں کے لیے سکول بنوا دے اور علاج کے لیے ہسپتال تاکہ یہ لوگ پڑھ لکھ کر اپنے مسقبل کا تحفظ کرسکے۔ شکریہ
    @kashu_uu

  • بچوں کی تعلیم اور والدین کی زبردستی  تحریر: عتیق الرحمن

    بچوں کی تعلیم اور والدین کی زبردستی تحریر: عتیق الرحمن

    ہمارے معاشرے میں بچے تب تک والدین پر انحصار کرتے ہیں جب تک وہ خود کمانے لائق نہیں ہوجاتے
    یہاں تک کے جوائنٹ فیملی سسٹم میں تو روزگار کمانے کے بعد بھی انکی زندگی کے فیصلے والدین ہی کررہے ہوتے ہیں۔ یہ بات بلکل درست ہے کہ والدین اپنی اولاد کے بارے میں جو سوچیں گے وہ بہترین ہوگا کیونکہ واحد والدین ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ انکی اولاد ان سے بھی زیادہ خوشحال زندگی گزارے اور بہترین مقام حاصل کرے
    لیکن بچوں کی تعلیم کے فیصلے میں والدین اکثر غلطی کرتے ہیں اور اسکا خمیازہ اولاد پھر مستقبل میں بھگتتی رہتی ہے۔ معاشرے کو دیکھ کر یا کسی کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا دیکھ کر والدین کی خواہش ہوتی کہ انکا بچہ بھی ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے جو کہ ایک غلط راستہ ہے
    اللّہ نے سب کو دماغ ضرور ایک جیسا دیا ہے مگر اسکو استعمال کرنے کا طریقہ ہر انسان کا مختلف ہے اور بعض و اقات اس کے ذہن بننے میں اس سوسائٹی اور اردگرد کے لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جہاں وہ رہتا ہے۔ اسکا دماغ ویسے ہی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے سوچنے کے زاویے سے جیسا وہ دوسروں کو دیکھتا ہے
    اب ایک بچے کی دلچسپی اگر اکاؤنٹنگ میں ہے تو اسے سائنس کے مضامین بہت مشکل لگیں گے۔ اسکی تازہ مثال میرے سامنے ایک روم میٹ ہے اور وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ میں ڈاخلہ بجھوا چکا اور بھرپور تیاری سے پڑھ بھی رہا تھا کہ اچانک اسے گھر سے کال آتی ہے
    وہ فون کے بعد پریشان دکھائی دیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا اس کے گھر والے اب اسے میڈیکل کالج میں داخلے کا کہہ رہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہے کہ جو داخلہ بجھوایا ہے اسے وہیں چھوڑ دو اور میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرو۔ تھوڑا پوچھنے پر معلوم ہوا کے اسکے ماموں کا بیٹا ڈاکٹر ہے تو اس وجہ سے ابھی اسکی والدہ بھی چاہتی کہ وہ بھی ڈاکٹر بنے جو کہ اس لڑکے کا چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسے یہ فیصلہ منظور نہیں اور وہ کہہ رہا تھا کہ میں نہ اب اس امتحان کی تیاری کرنی ہے جس کا داخلہ بجھوایا اور نہ ہی یہ ٹیسٹ مجھ سے پاس ہونا ہے
    نتیجہ کیا ہوا؟ سال برباد ہجائے گا اور وہ بچہ ذہنی دباؤ کا شکار بھی۔ اگر والدین پہلے اس سے پوچھ لیتے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو کتنا اچھا ہوتا۔ تعلیم کے معاملے میں بچوں پر اپنا فیصلہ زبردستی مسلط کرنا انتہائی غلط ہے اور مستقبل تباہ ہونے کا خدشہ ہوتا۔ عدم دلچسپی کے باعث فیل ہونے سے بہتر ہے اسے وہ امتحان دینے دیا جائے جو وہ پاس کرلے
    رزق تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی تعلیم رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لئے خدارا تعلیم کے معاملے میں پہلے اپنے بچے کی ذہنی حالت کا تعین کرلیں کہ جس تعلیم کی ڈگری حاصل کرنے کا اسے کہا جا رہا ہے وہ اتنا قابل بھی ہے۔ یا پھر کسی فوجی کو بنا ٹریننگ یا بندوق پر محاذ پر لڑنے بھیج دیا جائے تو لڑنے کی بجائے خود بچنے پر زیادہ فوکس کرے گا
    بچے کے تعلیمی مراحل کا انتخاب کرتے وقت اسکے ذوق کو مد نظر رکھیں . اپنی پسند یا کسی پیشے کی مالی منفعت کے باعث اسے زبردستی کے مضامین اختیار کرنے پر مجبور نہ کریں . اپنے ذوق کے مطابق تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ہمیشہ اپنے فن میں یکتا ثابت ہوتے ہیں ۔ اپنے فن میں یہ مہارت اور دلچسپی نہ صرف انہیں مالی مسائل سے دوچار نہیں ہونے دیتی بلکہ وہ کام کر کے بھی ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں اور یہی ذہنی سکون انسان کا کل سرمایہ ہوتا ہے ۔

    @AtiqPTI_1

  • تتہ پانی یا موت کا کنواں؟  تحریر:روشن دین دیامری

    تتہ پانی یا موت کا کنواں؟ تحریر:روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ایک ایسا علاقہ جہاں سے کے کے ایچ ہمیشہ بلاک ہوتا ہے۔ اس روڈ پہ اب تک سیکٹروں لوگوں کے جان اور گاڑیاں چلی گی ہے ۔ اج ہم اس پہ بات کرتے کہ یہ روڈ اخر کیوں بلاک ہوتا ہے کیا قدرتی افت کی وجہ سے بلاک ہوتا ہے کچھ ادارے جان بوجھ کے اس روڈ کو اسے کنڈیشن میں رکھے ہوے ہیں ؟ یہ بہت سارے سوالات ہیں جن کے جواب باہر حال ہر گلگت بلتستانی شہری کو چاے۔جب اپ اسلام اباد سے جیسے ہی دیامر میں داخل ہوتے ہو تو سب سے پہلے چلاس شہر اتا ہے چلاس سے دو گھنٹے کے سفر گلگت کے طرف کرنے کے بعد تہ تہ پانی کا مقام اتا ہے۔اس علاقہ کا نام بھی اس لے تہ تہ پانی (تتو وی) کہا گیا کیونکہ یہاں گرم چشمے پوٹھتے ہیں۔یہاں کا پانی گرم ہونے کی وجہ یہاں پہ گندھک (سلفر) کثیر مقدار میں ہونا ہے ۔اسی پہاڑ میں سے ایک فالٹ گزرتا ہے جسے رائیکوٹ فالٹ کہتے ہیں ۔یہ ایک ایکٹیو فالٹ ہے مطلب یہ کہ یہاں کی زمین ہمیشہ ہلتی رہتی ہے۔جس کے وجہ سے ہمیشہ سلائڈنگ ہوتی ہے یہ تتہ پانی کا ایریا تقریبا پانچ کلومیڑ کے ایریا پر مشتمل ہیں جو کہ ہمیشہ سے اس پہاڑوں کٹاو کی وجہ سے بند رہتا ہے۔اس روڈ کو کلیر کرنے کے لےاین ایچ اے کے سب کنٹریکٹر ایف ڈبلو او نامی ادارے کے زمداری ہےکہ وہ کسی بھی قسم کے صورت حال میں روڈ کو صاف کرنے کے زمدار ہے اور روڈ بند ہونے کے صورت میں اوپن کرنا وغیرہ سب ان کے زمے ہے.اس روڈ کے متبادل ایک اور روڈ جو بلکل اس روڈ کے مخالف سمیت یعنی دریا سند ھ کے دوسرے طرف ہے وہ گوہراباد سے رائیکوٹ بریج کے لیفٹ بنک سے جوڑتا ہے جو کہ بلکل سیف روڈ ہے۔ اگر رائیکوٹ بٹسولئ سے پل کو دریا کے دوسرے طرف جوڑ دیا جاے اور وہاں ایک لینک روڈ جو پہلے سے موجود ہے کو میٹل کیا جاے اور اسے رائیکوٹ پل کے لیفٹ طرف جوڑ دیا جاے تو اس پریشانی کا مکمل حل ہوجاے گا۔مگر اس سے جو ادارے روزانہ روڈ کھولنے کے نام پہ کروڑوں پیسے کھا رہے ہیں ان کا روزی روٹی بن ہوجاے گی اور کرپشن کرنے کے مواقع ختم ہوجاے گے۔عوام گلگت بلتستان گزشتہ تیس سالوں سے ہزاروں دفع اس اشو پہ احتجاج کیا ہے لیکن این ایچ اے کو کوئی پرواع ہی نہیں ہے۔دوسرا اپشن اب چونکہ سی پیک کا روڈ بھی اسے طرف سے بننا ہے جو ڈرنگ پل تک ہے ڈرنگ پل سے رائیکوٹ پل اٹھ کلومیڑ ہے اگر اسی کے ساتھ مذید اٹھ کلومیٹر ایکسیٹنشن کیا جاے تو یہ اشو مکمل طور پہ حل ہوگا۔ہزاروں انسانوں کی قیمتی جانی ضیا ہونے سے بچیں گے

  • پاکستان کو اولمپکس ميڈل جيتے 29 برس بيت گئے  تحریر: نام: سلطان محمود خان

    پاکستان کو اولمپکس ميڈل جيتے 29 برس بيت گئے تحریر: نام: سلطان محمود خان

    يہ بات ہے 1992 کي جب پاکستان نے آخري بار اولمپکس ميں ميڈل جيتا تھا۔ بانوے ميں ہونے والے بارسلونا اولمپکس ميں پاکستان ہاکي ٹيم نے کانسي کا تمغہ جيتا تھا مگر اب 29 سال ہوگئے پاکستان کي اولمپکس ميں ميڈل کي تلاش ختم ہي نہيں ہورہي۔ ميڈل تو دور کي بات ہے پاکستان ہاکي ٹيم لگاتار دوسري بار اولمپکس کيلئے کواليفائي کرنے ميں ناکام رہي۔ 2016 کے ريو اولمپکس اور پھر2020 کے ٹوکيو اولمپکس ميں پاکستان ہاکي ٹيم جگہ نہ بناسکي۔ يہ وہي کھيل ہے جس ميں پاکستان نے 8 ميڈلز جيتے۔ پاکستان نے اولمپکس کي تاريخ ميں 10 ميڈل حاصل کيے جن ميں سے 8 ہاکي نے ديے۔ ان آٹھ ميڈلز ميں تين گولڈ، تين چاندي اور دو کانسي کے تمغے شامل ہيں۔ مگر اب قومي کھيل مسلسل تنزلي کا شکار ہے۔ ہاکي کے علاوہ پاکستان نے ريسلنگ اور باکسنگ ميں بھي ايک ايک ميڈل جيت رکھا ہے

    جاپان کے شہر ٹوکيو ميں کھيلوں کي دنيا کا سب سے بڑا ميلہ جاري ہے۔ دنيا بھر کے 11 ہزار سے زائد ايتھليٹس ميڈلز کي دوڑ ميں جان مارہے ہيں۔ پاکستان کے بھي دس ايتھليٹس قسمت آزمانے ٹوکيو گئے مگر آدھے سے زائد ايتھليٹس کسي ميڈل کے بغير ہي ايونٹ سے باہر ہوگئے۔ ٹوکیو اولمپکس میں سب سے پہلے باہر ہونے والے پاکستانی شوٹر گلفام جوزف تھے جنہوں نے 10 میٹر ائیر پسٹل میں شرکت کی۔ چھتيس شوٹرز میں سے آٹھ شوٹرز نے فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنا تھا، پاکستانی شوٹر گلفام نے 600 میں سے 578 شوٹ نشانے پر مارے مگر وہ فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکے اورنویں پوزیشن حاصل کی۔

    اولمپکس مقابلوں میں پہلی بار بیڈمنٹن میں انٹری حاصل کرنے والي ماحور شہزاد ایک میچ بھی نا جیت سکیں، انہیں پہلے ميچ ميں جاپانی کھلاڑی نے شکست دي جبکہ دوسرے ميچ ميں انگلینڈ کی کرسٹی نے ہرا کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

    ٹوکيو اولمپکس سے باہر ہونے والے پاکستان کے تيسرے ايتھليٹ طلحہ طالب تھے۔ طلحہ نے ويٹ لفٹنگ کي 67 کلو گرام کيٹگري ميں پاکستان کي نمائندگي کي۔ طلحہ طالب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچويں پوزيشن حاصل کي اور معمولی فرق سے ہار گئے۔ مجموعی طور پر 320 کلو گرام وزن اٹھا کر طلحہ نے ایک وقت پر میڈل کی امید روشن کر دی تھی لیکن پھر اطالوی ویٹ لیفٹرز نے صرف دو کلو اضافی وزن اٹھا کر طلحہ طالب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

    سوئمر حسیب طارق نے 100 میٹر فری اسٹائل کے ہیٹ ٹو میں انٹری دی اور 72 سوئمرز میں ان کا نمبر 62 واں رہا۔

    جوڈو میں میڈل کی امید شاہ حسین شاہ تھے۔ 100 کلو گرام کيٹگري ميں شاہ حسين کا مقابلہ عالمی نمبر پر 13 مصر کے رمضان درویش سے تھا، مصری جوڈو کاز نے شاہ حسین شاہ کو باآسانی شکست دے دیکر پاکستان کی یہ امید بھی ختم کر دی۔ شاہ حسین شاہ پاکستانی باکسر حسین شاہ کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے 1988 سیئول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

    سوئمر بسمہ خان نے 50 ميٹر فري اسٹائل ميں پاکستان کي نمائندگي کي مگر وہ بھي کواليفانگ راونڈ ميں ناکام رہي۔ ہيٹ فائيو ميں آٹھ سوئمرز پول ميں اتريں جس ميں بسمہ خان کا ساتواں نمبر رہا اور يوں پاکستان کے چھ ايتھليٹس ٹوکيو اولمپکس سے باہر ہوگئے۔ آنے والے دنوں ميں پاکستان کے مزيد چار ايتھليٹس ايکشن ميں ہوں گے۔ یکم اگست کو شوٹر خلیل اختر اور غلام بشیر 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل ايونٹ ميں اپني قسمت آزمائيں گے۔ نجمہ پروین 2 اگست کو 200 میٹر ریس میں حصہ لیں گی جبکہ 4 اگست کو ارشد ندیم جیولن تھرو میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ ارشد ندیم پاکستانی دستے کے واحد ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے ٹوکیو اولمپکس کے لیے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کوالیفائی کیا۔

    پاکستان کي آبادي 22 کروڑ سے زائد ہے مگر کھيلوں ميں پاکستان "برمودا” اور "سان مارينو” سے بھي پيچھے رہ گيا۔ چھوٹے سے جزيرے پر قائم برمودا کي آبادي صرف 63 ہزار لوگوں پر مشتمل ہے۔ ٹوکيو اولمپکس ميں برمودا کے صرف دو ايتھليٹس آئے ان ميں سے بھي ايک نے گولڈ ميڈل جيت ليا۔ خواتين کے ٹرائي تھلون مقابلوں ميں فلورا ڈفي نے سونے کا تمغہ جيت کر تاريخ رقم کي۔ برمودا اولمپکس کی تاریخ میں گولڈ میڈل جیتنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ ايک اور ملک ہے جو رقبے اور آبادي کے لحاظ سے برمودا سے بھي چھوٹا ہے۔ یورپی ملک "سان مارینو” اولمپکس کی تاریخ میں میڈل حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک بن گیا۔ سان مارينو کي خاتون کھلاڑي نے شوٹنگ مقابلوں میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ خاتون شوٹر کی جانب سے کانسی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد سان مارینو اولمپک کی تاریخ میں کوئی بھی میڈل حاصل کرنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔ سين مارينو کي آبادي صرف 34 ہزار ہے۔ جس کے پانچ ايتھليٹس ٹوکيو اولمپکس ميں شرکت کررہے ہيں۔ دوسري طرف 22 کروڑ آبادي والا ملک پاکستان اس بار بھي اولمپکس ميڈل سے محروم ہے۔

  • خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ

    خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ

     

    دنیا میں آپ جتنی خرابیاں دیکھتے ہیں ان سب کی جڑ دراصل حکومت کی خرابی ہے ۔ طاقت اور دولت حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ قانون حکومت بناتی ہے ۔ انتظام کے سارے اختیارات حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں ۔ پولیس اور فوج کا زور حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہے وہ یاتو و حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہے ، یا اس کی مدد سے پھیلتی ہے ، کیونکہ کسی چیز کو کھیلنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہے ۔

    مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ زنا دھڑلے سے ہو رہا ہے۔اور علانیہ کوٹھوں پر بیکاروبار جاری ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت کے اختیارات جن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ، ان کی نگاہ میں زنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ وہ خود اس کام کو کرتے ہیں اور دوسروں کو کرنے دیتے ہیں ، ورنہ وہ اسے بند کرنا چاہیں تو یہ کام اس دھرلّے سے نہیں چل سکتا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سود خواری کا بازار خوب گرم ہو رہا ہے اور مال دار لوگ غریبوں کا خون چوستے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ حکومت خودسود کھاتی ہے اور کھانے والوں کو مدد دیتی ہے ۔ اس کی عدالتیں سودخواروں کو ڈگریاں دیتی ہیں اور اس کی حمایت ہی کے بل پر یہ بڑے بڑے ساہوکارے اور بینک چل رہے ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں بے حیائی اور بداخلاقی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ یہ کس لیے ؟ محض اس لیے کہ حکومت نے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا ایسا ہی انتظام کیا ہے اور اس کو اخلاق اور انسانیت کے وہی نمونے پسند ہیں جو آپ کو نظر آرہے ہیں کسی دوسرے طرز کی تعلیم وتربیت سے آپ کسی اورنمونے کے انسان تیار کرنا چاہیں تو ذرائع کہاں سے لائیں گے ؟ اور تھوڑے بہت تیار کر بھی دیں تو وہ کھپیں گے کہاں ؟ رزق کے دروازے اور کھپت کے میدان تو سارے کے سارے بگڑی ہوئی حکومت کے قبضے میں ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بے حدوحساب خون ریزی ہورہی ہے ۔ انسان کا علم اس کی تباہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انسان کی محنت کے پھل آگ کی نذر کیے جارہے ہیں اور بیش قیمت جانیں مٹی کے ٹھیکروں سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ ضائع کی جارہی ہیں ۔ یہ کس وجہ سے ؟ صرف اس وجہ سے کہ آدم کی اولاد میں جولوگ سب سے زیادہ شریر اور بد نفس تھے وہ دنیا کی قوموں کے رہنما اور اقتدار کی باگوں کے مالک ہیں۔ قوت ان کے ہاتھ میں ہے ، اس لیے وہ دنیا و جدھر چلارہے ہیں اسی طرف دنیا چل رہی ہے ۔ علم دولت محنت ، جان ، ہر چیز کا جو مَصرف انھوں نے تجویز کیا ہے اس میں ہر چیز صَرف ہورہی ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف ظلم ہورہا ہے ، کمزور کے لیے کہیں انصاف نہیں غریب کی زندگی دشوار ہے ۔ عدالتیں بنئے کی دوکان بنی ہوئی ہیں جہاں سے صرف روپے کے عوض ہی انصاف خریدا جاسکتا ہے ۔ لوگوں سے بے حساب ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور افسروں کی مہانہ تنخواہوں پر، بڑی بڑی عمارتوں پر، لڑائی کے گولہ بارود پر اور ایسی ہی دوسری فضول خرچیوں پراڑا دیے جاتے ہیں ۔ ساہوکار زمین دار ، راجہ اور رئیس خطاب یافتہ اور خطاب کے امیدوار عمائدین ، گدی نشین پیر اور مہنت ، سینما کمپنیوں کے مالک شراب کے تاجر، فحش کتابیں اور رسالے شائع کرنے والے ، جوئے کا کاروبار چلانے والے اور ایسے ہی بہت سے لوگ خلق خدا کی جان ، مال ، عزت ، اخلاق ، ہر چیز کو تباہ کر رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟ صرف اس لیے کہ حکومت کی کل بگڑی ہوئی ہے ۔ طاقت جن ہاتھوں میں ہے ، وہ خراب ہیں ۔ وہ خود بھی ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیتے ہیں ، اور جو ظلم بھی ہوتا ہے اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس کے ہونے کے خواہش مند یا کم از کم روادار ہیں ۔

    ان مثالوں سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ لوگوں کے خیالات کا گمراہ ہونا ، اخلاق کا بگڑنا ، انسانی قوتوں اور قابلیتوں کا غلط راستوں میں صَرف ہونا ، کاروبار اور معاملات کی غلط صورتوں اور زندگی کے بُرے طور طریقوں کا رواج پانا ظلم و ستم اور بد افعالیوں کا پھیلنا اور خلقِ خدا کا تباہ ہونا ، یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس ایک بات کا کہ اختیارات اور اقتدار کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب طاقت بگڑے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور جب خلقِ خدا کا رزق انھی کے تصّرف میں ہوگا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھیلائیں گے ، بلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے کھیلے گی اور جب تک اختیارات ان کے قبضے میں رہیں گے کسی چیز کی اصلاح نہ ہو سکے گی ۔

     

    @muhammadmoawaz_