Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میوزک کی حقیقت    تحریر:نصرت پروین

    میوزک کی حقیقت تحریر:نصرت پروین

    آج ہم ایک ایسے فتنہ خیز دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں لوگ برملا عبادت کا انکار کرنے لگے، کچھ تو رب ہی کا انکار کرتےہیں، کوئی حجاب کو قید کہتا ہے تو کہیں حجاب سے آزادی ہے اور کہیں تو مکمل لباس سے ہی آزادی ہے۔ یقیناً یہ تکلیف دہ حالات ہیں کئی باتیں ایسی ہیں جو تحریر کرنا بھی بہت مشکل ہے کیوں آج لوگ میوزک کو ہی دین بنا بیٹھے ہیں؟ کیوں وہ اپنی ہر تکیف کا علاج میوزک کو سمجھتے ہیں؟ کیوں وہ میوزک کو اپنے لئے ضروری غذا کہتے ہیں؟ کچھ کہتے ہیں۔ ".God is a dj” نعوذ باللہ۔ کچھ نے کہا میوزک تو آپکی سانسیں ہیں یعنی جیسے انسان سانس کے بغیر نہیں جی سکتا ایسے ہی میوزک کے بغیر جینا بھی مشکل ہے۔

    "سیدنا قتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ شیطان جب ملعون ہو کر آسمان سے نیچے اتر آیا تو کہنے لگا اے الله تو نے مجھے ملعون تو بنا دیا اب یہ بتا دیجئے کہ دنیا میں میرا علم کونسا ہوگا؟ الله نے فرمایا تیرا علم جادو ہوگا۔ پھر کہنے لگا میری پسندیدہ آواز کونسی ہوگی؟ الله نے فرمایا گانا بجانا۔ پھر کہنے لگا میرا پسندیدہ مشروب کونسا ہوگا؟ الله نے فرمایا ہر نشہ آور چیز تیرا مشروب ہوگا۔”
    تین چیزین ہیں جادو، میوزک، اور تمام قسم کی منشیات۔ تینوں کا تعلق شیطان سے ہے۔
    ان تینوں کاموں سے الله اور اسکے رسول صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
    یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ خوبصورت آواز اور خوبصورت پیغام سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ آدم سے لے کر نبی صلی الله علیہ وسلم تک کسی نے آواز کے حسن سے منع نہیں کیا لیکن شرط یہ ہے کہ جذبات پاکیزہ ہوں، بےضرر ہوں اور بےحیائی نہ ہو۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے نکاح کے وقت، عیدین پر، عورتوں کی خاص نجی محفل میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے آواز کے حسن کی اجازت دی ہے لیکن کچھ پڑھنے یا گانے کے شرط رکھی کہ آوازیں مردوں تک نہ پہنچیں اور فحش نہ ہوں۔
    آواز کے ساتھ جب ساز مل جانے سے وہ میوزک بن جاتا ہے۔ اور ساز معاشرے کے لئے بہت نقصاندہ ہے یہ بات سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت ہے کہ میوزک سننے سے آپکی سوچنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے انسان جب میوزک سنتا ہے تو وہ ایک خیالی دنیا میں چلا جاتا ہے جسکا اثر دماغ کے اس حصے پر پڑتا ہے جہاں لانگ ٹرم میموری واقع ہے پس لانگ ٹرم میموری کمزور ہوجاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ سوچنے اور یاد کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسکے علاوہ میوزک انسان کو جنسی اشتعال انگیزی پہ ابھارتا ہے۔ گوگل پہ انکی لسٹ پائی جاتی ہے کہ کس گانے میں کتنا جنسی آلہ استعمال ہوا ہے۔
    میوزک ایک خطرناک جادو کی طرح ہے جو انسان پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے انسان اس آواز کے سحر میں چلا جاتا ہے۔ انسان خود کو ہلکا پھلکا، اور ہر غم سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ دراصل، انسان کا جسم، ذہن اور روح ایک پوزیشن پہ نہیں رہتے۔ جیسے ایک طیارہ جب تباہ ہوتا ہے اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسے نیچے آنےمیں کوئی طاقت اور وقت نہیں لگتا اور وہ لمحے میں تباہ ہوجاتا ہے یہ ہی کیفیت میوزک سننے والے کی ہوتی ہے۔ اور پھر میوزک انسان کی روح کو ایسے بکھیر دیتا ہے۔ جسے شیشے کا گلاس نیچے گرتا ہے اور بکھر کر چوُر چوُر ہوجاتا ہے۔
    میوزک تزبزب پیدا کرتا ہے۔ آپکو بے چین کرتا ہے۔ میوزک سکون نہیں دیتا۔ میوزک انسان کی عقل پہ غالب آجاتا ہے۔ انسان کے حواس کو قابو میں کرلیتا ہے۔ انسان کا کنٹرول شیطان کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ آواز، ساز اور لہجہ تینوں چیزیں انسانی کیفیات کو متاثر کرتی ہیں۔ میوزک کی ایک شناخت رقص بھی ہے میوزک کے ساتھ انسان کے ہاتھ پاؤں حرکت کرنے لگتے ہیں۔ میوزک کوئی معمولی یا بے ضرر چیز نہیں ہے یہ ایک ایسا نشہ ہے جو آپکودوسری نشہ آور اشیا کے مقابلے میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے کیونکہ اگر کوئی نشہ کرنا چاہے تو وہ پہلے خریدتا ہے پھر کرتا ہے اس پہ وقت لگتا ہے لیکن میوزک ایسا نشہ ہے جو آپ نہ بھی سننا چاہیں تو بعض اوقات آپکو سنوا دیا جاتا ہے۔ اور ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ جب انسان برائی کا عادی ہوجاتا ہے تو اس میں احساسِ گناہ ختم ہو جاتا ہے
    قرآن و حدیث میں میوزک سے منع کرنے کے مختلف انداز ہیں مثلاً یہ کہا گیا کہ میوزک حرام ہے، کبھی منع کر کے، کبھی ناپسندیدہ قرار دے کر، کبھی شیاطین کا آلہ قرار دے کر، کبھی باعثِ عذاب کہہ کر، کبھی گناہ کہہ کر، کبھی بے ہودہ کام کہہ کر۔ قرآن و حدیث میں میوزک کے حرام ہونے کی درج زیل دلائل ملتی ہیں۔

    "الله رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں:
    وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾
    ترجمہ: اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔ (سورہ لقمان: 6)”

    اس کے علاوہ قرآن پاک میں متعدد بار الله رب العزت نے فحاشی اور شیطان کی پیروی سے منع کیا ہے۔ اور میوزک فحاشی کا مرکز اور شیطان کی پسندیدہ آواز ہے۔

    "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
    گانا(میوزک) دل میں نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو پیدا کرتا ہے۔
    (السنن الکبری للبھیقی:21537)”

    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔
    (صحیح بخاری:5590)”

    صحابہ کرام کے طرزِعمل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ میوزک کو سخت ناپسند کرتے تھے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دی اور راستہ بدل لیا حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں ان کے ساتھ تھا جب میں نے کہا اب آواز نہیں آرہی تب انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکال کر فرمایا کہ ایک دفعہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی طرح میوزک کی آواز سنی اور اسی طرح کانوں میں انگلیاں دے دی تھی۔
    بعض حقیقتیں بہت تلخ ہوتی ہیں لیکن جب انسان حقیقت جان لیتا ہے تو اس کے لئے برائی چھوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ پس حقیقت جان لیجئے اور برائی چھوڑ دیجئے!!
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    پاکستان کی تاریخ میں آمریت اور جمہوریت دونوں دور اس قوم نے دیکھے ہیں 

    بے شک بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے لیکن اس آمریت اور جمہوریت کے درمیان میں ہمارے ملک میں بادشاہت کا دور بھی دیکھا گیا جسے جمہوریت کا لبادہ پہنایا گیا 

    جمہوری دور وہی کہلائے گا جو عوامی طاقت سے اقتدار میں آئے اور عوامی رائے کا احترام کیا جائے ،ایک جمہوریت پسند انسان کبھی عوامی رائے کے خلاف نہیں جاسکتا 

    ہمارے ملک میں وہ سیاسی جماعتیں جو خود کو جمہوریت کی علمبردار سمجھتی ہیں خود ان کے اندر بھی جمہوریت کہیں نظر نہیں آتی کہیں پارٹی نانا سے نواسے کو منتقل ہوتی ہے تو کہیں باپ سے بیٹی کو ان کی پارٹی کا سربراہ  ایک عام ورکر کبھی نہیں بن سکتا چاہے اس نے اپنی پوری زندگی اس پارٹی کے نام ہی کیوں نا کردی ہو 

    پھر بھی اسے وہ مقام نہیں ملتا جو پارٹی سربراہ کے اپنے بچوں کو ملتا ہے پھر چاہے ان بچوں نے سیاست میں وقت گزارا کوئ سیاسی جدوجہد کی ہو یا نہیں 

    جب اس ملک میں دو جماعتیں باری باری اس ملک پر حکمرانی کرتی آئ تب تک ان دونوں جماعتوں کے نزدیک سب اچھا ہے ہمارے ادارے ،اسٹیبلشمینٹ بھی اچھی ،عدالتی نظام بھی بہتر اور ملک میں خالص جمہوریت تھی 

    لیکن پھر جیسے ہی تیسری پارٹی میدان میں اتری ان دو پارٹی سسٹم کو چیلنج کیا ،عوامی حمایت حاصل کی تو ان دونوں باریاں لینے والی جماعتوں کے نزدیک اب ادارے بھی خراب ہوگئے ،اسٹیبلشمینٹ بھی خراب اور جمہوریت کے خلاف سازش بھی نظر آنے لگ گئ 

    تین تین بار سے بھی ذیادہ باریاں لینے والوں سے عدالت نے حساب مانگا تو وہاں بھی بجائے حساب دینے کے ان کو سازش کی بو آنے لگ گئ ،عوام نے تیسری پارٹی کو ووٹ دیئے تو وہاں بھی سازش نظر آنے لگی ان کو 

    حالانکہ جمہوری روایات کے مطابق تو ان دو جماعتوں کو تیسری جماعت کے ووٹوں اور عوامی انتخاب کو کھلے دل سے تسلیم کرکے اپنے اندر کی وہ غلطیاں اور خامیاں درست کرنی چاہیے تھی جن کی وجہ سے عوام نے ان کو مسترد کیا 

    لیکن اس ملک میں باری باری حکومت کرنے والی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جب تک ہم جیت نا جائیں ،ہماری حکومت نا آجائے تب تک ہر الیکشن دھاندلی زدہ سمجھا جائے گا آنے والے حکومت یا ملکی اداروں سب میں جمہوریت کے خلاف کوئ سازش نظر آنی ہے 

    باریاں لینے والی جماعتوں کا اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات دیکھیں تو ان کی مالی حالت کس طرح بہتر ہوئ یہ اندازہ ایک عام پاکستانی بھی اچھی طرح لگاسکتا ہے ،جس جمہوریت میں ان لوگوں کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے تھی ،ملک کی معاشی حالات بہتر کرنے تھے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا نا عوام کے حالات بدلے اور نا ہی اس ملک نے کوئ خاص ترقی کی البتہ ملک قرضوں کی دلدل میں ضرور دھنستا چلا گیا ،صحت کا نظام اتنا برباد ہوا کہ تین تین بار حکمرانی کرنے والوں کو اپنا علاج باہر سے کروانا پڑ رہا ہے ،اپنا علاج باہر سے کروانے والوں نے کبھی سوچا کہ میرا غریب ووٹر خدانخواستہ اسی بیماری میں مبتلا ہوا جس میں وہ خود ہے تو کیسے وہ پاکستان میں علاج کروا پائے گا کون سا ایسا اسپتال ہم نے بنوایا ہے جس میں عام ووٹر اور ہمارا اپنا علاج ہوسکے 

    حکمرانی پاکستان میں اور اپنی جائیدادیں ،کاروبار سب ملک سے باہر ،ملک کا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک میں اقامے پر کوئ عام سی  نوکری کررہے ہوں ،جائیدادیں اتنی بنالی لیکن رسیدیں نہیں ،بچے ان کے پاکستانی نہیں ،حکومت ختم ہوتے ہی ملک سے فرار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ جمہوریت کا نعرہ لگائیں ،ووٹ کی عزت کا نعرہ لگاتے لگاتے اپنی لوگوں کو مک مکا کرنے کے لئے اسٹیبلشمینٹ کے پاس بھی بھیجتے رہیں ،عمران خان کی حکومت گرادو تو اسٹیبلشمینٹ سے بات بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ایسا سب کچھ کس جمہوریت میں ہوتا ہے ،کیا عوام آپ کی غلام تھی جو تاحیات صرف آپ کو ووٹ دیں بے شک آپ کرپشن کریں ،ملک کو معاشی لحاظ سے تباہ کردیں ،قرضے لے کر اپنی جائیدادیں بنائیں اور ملک مقروض ہوکر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے ،عوام کے لئے صحت ،تعلیم ،خوارک جیسی بنیادی ضروریات بھی نا ہوں اور خود دن بدن اربوں ،کھربوں کی جائیدادوں کے مالک بن جائیں لیکن پھر بھی آپ یہ امید رکھیں کہ عوام ہمیں ووٹ دیں ،پی ٹی آئ کو ووٹ دیا تو اسے ہم جمہوریت کے خلاف سازش سمجھیں گے ،عدالتیں ہم سے حساب نا مانگیں ،بس تاقیامت ہمیں ہماری اولادوں کو عوام ووٹ دیں اور ہم جمہوریت کے نام پر اس ملک پر بادشاہت کریں 

    اصل بات تو یہ ہے کہ ان دونوں باریاں لینی والی جماعتوں پپلزپارٹی اور ن لیگ کو اب اپنا رویہ جمہوریت پسندانہ بنانا پڑے گا ،عوامی رائے کا احترام کرنا پڑے گا ،اپنی ماضی کی حکومتوں میں کی گئ کرپشن ،لوٹ مار اور بادشاہت کا حساب دینا چاہیے 

    پاکستان کے وہ تمام ادارے جن پر اس وقت آپ کو اعتماد نہیں یہی ادارے آپ کے دور میں بھی تھے تب آپ نے ان کو ٹھیک کرنے کے لئے کیوں کچھ نہیں کیا ،الیکشن میں دھاندلی کا رونا رونے سے بہتر تھا اپنے دور میں الیکشن کا نظام بہتر بناتے یا اس وقت پی ٹی آئ حکومت آپ کو الیکشن ریفارمز کے لئے مل بیٹھنے کی بات کررہی ہے تو یہ اچھا موقعہ ہے بیٹھیں اپنی تجاویز دیں الیکشن کا نظام بہتر بنائیں اور پھر ہمت پیدا کرکے ہار ہو یا جیت کھلے دل سے تسلیم کریں 

    پاکستان میں دھاندلی کا رونا تو ہمیشہ سے رویا گیا لیکن کیونکہ اس وقت کی دھاندلی سے آپ جیت کر حکومت بنالیتے تھے تو سب کچھ اچھا تھا اب آپ ہارنے لگے تو الیکشن میں دھاندلی اور جمہوریت کے خلاف سازش نظر آنے لگ گئ 

    اب ایسا نہیں چلے گا بڑے ہوجائیں  اور کھلے دل سے جمہوری حکومت کو تسلیم کرنا سیکھیں 

  • خلش  تحریر: محمد حماد

    خلش تحریر: محمد حماد

    خلشوہ ایک عام دن تھا
    مگر نہیں وہ عام دن نہ تھا کیوں کہ بعض اوقات عام دن بالکل بھی عام نہیں رہتے وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل سے خاص ہو جاتے ہیں۔ انعم کے لیے بھی وہ بہت خاص دن تھا کیوں کہ اس کے ابّو نے اس کے لیے دوبئی سے تحائف بھیجے تھے اگرچہ ان تحائف میں کچھ خاص نہ تھا مگر لفظ تحفہ ہی بذات خود ایک خاص لفظ اور احساس کا نام ہے اور پھر وہ خاص کیوں نہ ہوتے ؟ جو ابّو نے ان کے لیے بہت پیار سے بھیجے تھے جو اس کے لیے پیار اور خلوص کے مجسم شکل تھے۔ انعم نے ڈبّے کھول کر دیکھے تو اس میں ایک گھڑی ، چوکلیٹ کا ڈبّہ اور خوب صورت عبایا تھا۔نعم نے عبایا کھول کر دیکھا تو اسے پسندیدگی کی سند اس کی خوشی اور آنکھوں کی چمک نے عطاکی۔ سیاہ رنگ کا خوبصورت عبایا جس پر جھل مل کرتی خوبصورت موتیاں ٹکی تھیں اور اس کے ساتھ عربی طرز پر ڈئزائن کردہ خوب صورت اسکارف۔ انعم نے عبایا کی خوشی میں اپنی پسندیدہ فلیور کے چوکلیٹ بھی نظر انداز کردئیے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    امّی یہ عبایا کتنا خوب صورت ہے ناں؟ کتنے کا ہوگا؟ مجھ پر اچھا لگے گا ناں ؟ اس قسم کے سوالات سے جب امی کے کان پک گئے تو اس نے ڈانٹ کر کہا ؛
    نادیدی ! کوئی نئی چیز کھبی نہیں دیکھی کیا جو یوں شور مچا رہی ہوں ۔ جاؤ دفع ہوجاؤ۔۔۔۔پتہ نہیں کس پر گئی ہے آخر اس کا بچپنا کب ختم ہوگا یہ بڑبڑاتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئی اور انعم پیر پٹخ کر کمرے میں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    وہ کالج جانے کے لیے تیار تھی۔ نیا عبایا اور عریبک اسکارف میں وہ ایسی خوش ہو رہی تھی جیسے بچپن میں من پسند کھلونا ملنے پر خوش ہوتی۔ کلائی پر نازک گھڑی پہن کر وہ سوچ رہی تھی کہ کالج میں دوستوں کے ساتھ ڈسکس کرنے کے لیے اچھا موضوع ہاتھ لگا ہے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے آپ مسکرا دی۔ آخر اس نے قدِ آدم آئینے میں اپنا ناقدانہ جائزہ لیا اور کمرے سے باہر نکلی۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    وہ کندھے پر بستہ لٹکائے رجسٹر ہاتھ میں پکڑے بے چینی سے صحن میں ادھرسے اُدھرٹہل رہی تھی۔ انتظار کرتے کرتے تھک گئی کہ کب اسد بھائی اٹھ جائے اور اسے یہ نیا upGet دکھایا جائے اور ساتھ میں وہ کالج بھی ڈراپ کرےمگر نہیں وہ گدھے گھوڑے بیچ کر خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ انعم بیچاری امّی سے بھی پوچھ پوچھ کر تھک گئی۔
    ” بھائی اٹھا کے نہیں ؟”
    "آخر یہ کب اٹھے گا؟”
    مگر ہنوز سو رہا ہے کہ رپلائی سے تنگ آکر اس نے اکیلے کالج جانے کا فیصلہ کیا ۔ وہ پہلے ہی لیٹ ہوئی تھی اور اب مزید دیر ہورہی تھی ۔سو اسد کا مزید انتظار کرنا بیکار تھا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    پورے بیس منٹ بعدوہ ہانپتے کانپتےِارم کے گھر پہنچ گئی۔ مگر یہ کیا ؟ "یار میں آج نہیں جاسکتی بخار ہے مجھے ہو سکتا ہے کل بھی نہ جا سکوں پلیز میرا اپلی کیشن دے دینا”
    ارم نے سُتے ہوئے چہرے اور نقاہت سے کہا ۔
    "تواس کا مطلب ہے آج مجھے پھر اکیلے جانا پڑے گا ” انعم نے قدرے مایوسی سے کہا،
    اس کے بعد ارم نے روئے سخن انعم کی گھڑی اور عبایا کی طرف پھیر دیا۔جس پر گھنٹہ بھر بحث متوقع تھی مگر انعم کوکالج کے لیے دیر ہو رہی تھی لہٰذا دونوں کا بحث طول نہ پکڑ سکا۔ جونہی انعم کی نظر گھڑی پر پڑی: "اوہ خدایا ! آج پھر میڈم سے ڈانٹ پڑے گی "کہہ کر دروازے کی طرف بھاگی۔ ٭٭٭٭٭٭٭
    انعم کے گھر سے نکلنے کے بعد اسد اٹھا ۔ فریش ہو کر ناشتہ کرنے لگا۔ ادھر اُدھر نظر دوڑا کر انعم کو تلاش کیا مگر نا پا کر امی سےکہا:
    "امّی انعم سے کہیں میں اسے کالج چھوڑ آتا ہوں جلدی کرے۔
    "وہ تو چلی گئی مگر تم جاؤ تمھیں دیر ہو رہی ہے”
    امی نے ناشتے کے برتن اٹھاتے ہوئے کہا ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    اسد جیسے ہی گھر سےنکلا راستے میں دانیال ملا۔ دانیال اسد کے بچپن کا ساتھی اور پڑوسی ہونے کے ساتھ یو نیورسٹی فیلو بھی تھا۔ دونوں رنگین مزاجی میں ایک سے بڑھ کر ایک تھے یہی وجہ تھی کہ دونوں کی خوب بنتی تھی۔ کالج روڈ پرپر چلتے چلتے انھیں ایک لڑکی نظر آئی۔ دانیال نے باچھیں کھول کر لڑکی کوایکسرے نظروں سے دیکھنا شروع کیا ۔وہ اس قسم کے حرکات کے لیے مشہور بلکہ بدنام تھا۔ اور یہ سچ ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ دانیال کی صحبت کا یہ رنگ تیزی سے اسد پر بھی چڑنے لگا تھا۔ دونوں لڑکی کے پیچھے گز بھر کا فاصلہ رکھ کر چل رہے تھے کہ دانیال نے فقرے کسنا شروع کیے:
    "اااااےےےے سن تو! بھاگ کیوں رہی ہوں؟آرام سے ! ہم کھا تو نہیں جائیں گے”
    اور پھر بیہودگی سے قہقہہ لگایا ۔
    انعم نے خوف کے مارے اور بھی تیز تیز چلنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ دوڑنے کے انداز میں قدم اٹھاتی دونوں بھی تھوڑا فاصلہ رکھ کر چلنے لگے۔ بدقسمتی سے سڑک پر سکول کے بچّوں کے علاہ کوئی نہیں تھا جس سے انعم مدد مانگتی۔ اس کے کانوں میں دونوں کے شوخ اور بے باک فقرے اور سیٹیوں کی آوازیں آ رہی تھیں اس وقت اسے اپنا آپ بہت بے بس محسوس ہوا مگر وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔
    "کیوں ہم بیچاروں پر بجلی گرا رہی ہوں۔ زرا سن تو سہی۔۔۔۔”
    دونوں کچھ اور قریب ہوئے تھے کہ اسد نے ایک چُبھتا ہوا فقرہ کَسا۔
    انعم کو آواز کچھ مانوس معلوم ہوئی تو پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔ اس کے پیچھے دانیال تھا اور ساتھ میں اسد ، اس کا بھائی!
    اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔ وہ محاورۃً نہیں حقیقتاً پتھر کی ہوگئی اور صرف اتنا کہہ پائی؛
    بھائی آآآآآپ۔۔۔ اس کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا نہ گالی ، نہ بحث ، نہ ڈانٹ کچھ بھی نہیں۔ وہ صرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسد کو دیکھنے لگی۔
    آ آ نعم م م تم ۔۔۔۔۔۔ وہ میں سمجھا۔
    اسد کی زبان لڑکھڑانے لگی ، اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ جبکہ دانیال تو بیچ سے اس وقت کسک گیا جب انعم نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ، جب اسد کے چلتے قدم رک گئے ، اور جب انعم نے ” بھائی آپ” کے الفاظ کہے۔
    ” وہ تمھارا گاؤن تو گرے کلر کا تھا یہ وہ میں سمجھا کہ۔۔۔”اسد کچھ بے ربط وضاحتیں دینے لگا مگر انعم کے کانوں میں سائیں سائیں ہو رہا تھا اسے کچھ سنائی دے رہا تھا نہ کچھ دکھائی ۔اسد کے جملے اس کے کانوں میں صدائے بازگشت کی طرح سنائی دے رہے تھے ۔ بے آواز آنسوں اس کے آنکھوں سے بہہ کر نقاب میں جذب ہو رہے تھے۔ اسے خود سے گن آنے لگی ۔ اسے ماحول سے کراہت محسوس ہونے لگی۔ وہ اس ماحول اور ان نا زیبا جملوں سے فرار چاہتی تھی جو اس کی دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ وہ بے جان قدموں سے کالج جانے کی بجائے گھر کی طرف واپس موڑ گئی۔چلتے ہوئے اسے دل میں بہت چھبن محسوس ہو رہی تھی مگر یہ چبھن وقتی نہیں بلکہ عمر بھر کے لیے تھی کیوں کہ اس کا مان ، یقین ، اعتبار ، فخر اور نہ جانے کیا کیا سراب بن گیا تھا۔ اور اب شاید زندگی بھر اسے اس کسک اور چبھن کے ساتھ جینا تھا کیوں کہ گھر کے محافظ ہی لٹیرے نکلے تھے۔
    ؎ وہ ڈاکا ڈالنے آئے تھے مرے گھر اک رات
    میں معاف کرتی اگر چہرے اجنبی ہوتے
    ٭٭٭٭٭٭٭

  • ہماری نوجوان نسل اور موبائل فون  تحریر: محمد مصطفی

    ہماری نوجوان نسل اور موبائل فون تحریر: محمد مصطفی

    ‏”بســم اللّٰـہ الرحمٰـن الرحـیم”
    میری یہ تحریر اپ میں سے کس کس کو پہنچے گی یہ تو مجھے پتا نہیں کیونکہ کوئی ویڈیوز دیکھ رہا ہوگا کوئی گیم میں مصروف ہوگا تو کوئی دوستوں سے چیٹ میں مصروف ہوگا تو کوئی کمنٹوں میں مصروف ہوگا مگر پھر بھی جنکو یہ مضمون ملے تو ایک بار ضرور پڑھیں کیونکہ اس مضمون کا تعلق براہ راست اپ کی زندگی سے ہے اج ہمارے معاشرے میں موبائل فون نے نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔
    جی ہاں!ہم پاکستان کی وہ پہلی نوجوان نسل ہیں جن کو اسمارٹ فون اور سستا انٹرنیٹ ملا ہوا ہے ہم سے پہلے لوگوں میں نا اتنے موبائل فون تھے اور نا اتنا انٹرنیٹ تھا۔
    اِس موبائل فون پر ہم روانہ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ہم سے بیشتر اگر موبائل فون کے سکرین پر صرف کیے جانے والے وقت کا جائزہ لیں تو روزانہ کے حساب سے تقریباً ہر جوان پانچ سے سات گھنٹے موبائل کا استعمال کرتا ہوگا یہ انتہائی قیمتی وقت ہماری حالت بیداری کا ایک تہائی حصہ ہم موبائل کی سکرین پر لگا لیتے ہیں ۔کسی بھی دوسری منشیات کی طرف یہ موبائل کی لت بھی ہماری زندگی کت کافی حصہ کو کھاتی جارہی ہے۔
    اگر ہم اسکو اوسطاً ساٹھ سال کے ادمی کی زندگی پر حساب جر تو تقریباً اٹھارہ سال اس کی زندگی سے وہ موبائل فون نے کھالیں ۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے چاہ کر بھی ہم اسے خود سے جدا نہیں کر سکتے مگر اصل مسئلہ تب ہے جب یہ ہماری رادت بن جائے اسکا پہلہ نقصان تو وقت کی بربادی ہے اگر یہ وقت ہم بچا کر کسی دوسرے نفع بخش کاموں میں لگا لیں مسئلہ مطالعہ میں ورزش میں یا کوئی ہنر سیکھنے میں تلاوت میں یا اِس اور کسی فائدے والے کام میں۔ یا کوئی علم سیکھنے میں تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔
    دوسرا بڑا نقصان اسکا یہ ہے۔کہ موبائل فون پر بیکار اشیاء کے دیکھنے سے اپکی قوت مدرکہ(حافظہ) بڑی متاثر ہوتی ہے ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک جذباتی دوسرا ادراکی- صحت مند دماغ وہی ہوتا ہے جس کے دونوں حصے کام کرنے میں تیز ہو ۔لیکن جب ہم بیکار اشیاء دیکھتے ہیں تو اس سے ہماری قوت مدرکہ متاثر ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہ بہت کمزور ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پھر ہم مختلف نقطہ نگاہ کو نہیں سمجھ پاتے۔زندگی میں پیش انے والے مختلف حالات کو سمجھنے اور برتنے کی طاقت پھر ہم میں نہیں ہوگی مختلف حالات کی درست تشخص اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت پھر ہم میں نہیں ہوگی
    یہی موبائل کے وہ نقصانات ہے جو ہماری زندگی کو دیمک کی طرح ختم کئے جارہی ہے۔
    ایک نقصان دینی بھی ہے۔ اور وہ دنیاوی نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ روز مرہ کے دینی امور میں سب سے اہم نماز ہے مگر اج ہماری نمازیں بے رونق جسکا بڑا سبب یہی نحوست ہے موبائل نے ذوقِ تلاوت چھڑوادی موبائل نے نماز کی لذت چھڑوادی
    یاد رکھئے یہ موبائل محض ایک اوزار ہے زندگی کا اپنایا ہوا سٹائل ہر گز نہیں بہتر ہے کہ ہم کسی وقت بیٹھ کر حساب کرے کہ ہم موبائل کے استعمال سے فائدہ زیادہ لے رہے ہیں یا نقصان۔۔۔

    @Muhmmadi786

  • Child training  Article written by Bobswiffey

    Child training Article written by Bobswiffey

    بچے کی تربیت کا آغاز اس کے گھر سے ہوتا ہے سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ بچے کی تربیت ک ے لیے سب سے پہلی جو ضروری چیز ہے وہ ہے والدین کا اپنا کردار۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود عمل میں کھوٹے ہیں اور بچوں کو با عمل ہونے کا درس دیتے ہیں۔
    ویسے تو ہم خود روایتی طرز کے مسلمان ہیں کبھی رزق کی کمی کا گلہ کرتے ہیں تو کبھی مستقبل کے اندیشوں کا ذکر۔ ہمارا اپنا توکل خدا کی زات پر نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی خود قران کو تفصیل سے پڑھا ہی نہیں سمجھا ہی نہیں۔ کبھی حدیث کا مطالعہ نہیں کیا، اگر خود کیا تو بچوں کو نہیں کروایا۔ ہمارے لائف ہیروز، یہ بس نام کے سوشل میڈیا کے ہیروز رہ گئے، کبھی کسی صحابہ کا ذکر ہمارے دستر خوان پر نہیں ہوا، ہماری اپنی ترجیحات میں اللہ نہیں رہا، آخرت نہیں رہی، تو ہم بچوں میں یہ چیزیں چاہ کر بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ سب سے پہلے والدین اپنا کردار ادا کریں۔ وہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلو پر غور و فکر کرتے ہوں، ان کی زندگی کا اپنا ایک واضح مقصد ہو۔
    اس کے بعد بچوں کو مکمل فہم و علم دیا جائے، انہیں دوست دشمن کا علم دیا جائے، ان کی زندگی کے بنیادی مقصد کے بارے میں بتایا جائے، ان کی زہن سازی کی جائے، ان کے لائف ہیروز میں صحابہ کا کردار ہو۔
    ویسے تو اسلامی ریاست ہونے کے ناطے یہ حکومت کی اولین ترجیح میں سے تھا، کہ وہ اسلام کا نفاذ کریں، لیکن اس فتنوں کے دور میں والدین پر ساری زمہ داری آن پڑی ہے۔ شروع کے دس سال کسی بھی بچے کے لیے بڑے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔بچوں کی دوستیاں ان کی محفلیں، ان کے ماحول کو مکمل اپنی نگاہ میں رکھا جائے۔ اللہ سے محبت اور خوف خدا ان کے دل میں پیدا کرنے کے لیے انہیں اللہ کے بارے میں علم دیا جائے، اللہ کے صفاتی ناموں کا ان کے سامنے تذکرہ کیا جائے، بچوں کو بتایا جائے۔ اللہ کی محبت شفقت رحمت کا احساس کروایا جائے۔ لیکن ان پر حقیقت بھی عیاں ہونی چاہیے۔ زندگی میں آنے والی آزمائشوں کا بھی انہیں علم ہو۔انہیں اپنے ماضی کی تاریخ کا بھی علم ہو، ان کے پاس مستقبل میں واضح ایک مقصد ہو۔
    بعض اوقات انہیں چھوٹی چھوٹی آزمائشوں سے بھی گزارا جائے، ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کے بجائے، انہیں صبر و شکر کرنا سکھایا جائے۔ انہیں بعض اوقات مشکل کاموں میں ڈالاجائے تاکہ زندگی کے سخت حالات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔ ان میں معافی کا عمل کو اجاگر کیا جائے، ان کے ہاتھوں سے کسی غریب کی مدد کی جائے۔ان سے دعا منگوائی جائے، بعض اوقات ان کی خواہشوں کی تکمیل ان کی دعا کے ذریعے کی جائے۔

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     

  • ‏کورونا واٸرس اور زرعی بحران  تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    ‏کورونا واٸرس اور زرعی بحران تحریر : جہانتاب احمد صدیقی

    کورونا واٸرس کی وجہ سے زراعت معیشت کا سب سے زیادہ متاثرہ شعبہ رہا ہے ، اور آبادی کو فیڈ کیا جا رہا ہے اور صنعتوں کو کام کرنے کے لئے محنت کی فراہمی کو یقینی بنانا سب سے اہم ضرورت ہے۔ زرعی شعبہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی کی آمدنی کے ایک اہم حصے ، صنعتی آدانوں کا ایک اہم حصہ اور ملک کی تقریبا تمام غذائی سپلائی کے لئے ذمہ دار ہے۔

    پاکستان پہلے ہی ایک دہائی سے زیادہ زرعی بحران کی لپیٹ میں ہے ، پچھلی دونوں حکومتوں نے ملک میں ’زرعی ایمرجنسی‘ کا اعلان کیا تھا۔ ایک دیرینہ ماحولیاتی بحران کے دوران زراعت کو نقصان اٹھانا پڑا ہے جو نوآبادیاتی زرعی آبادکاری کے عمل کے طور پر کم از کم پیچھے چلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو صرف شدت اختیار کرچکا ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پچھلی ڈیڑھ صدی کے دوران جو کچھ بھی محدود قسم کی فصلوں کی پیداوار کی موجودگی میں رکاوٹ ہے پچھلی دو دہائیوں میں صورتحال اور بھی سنگین ہوگئی ہے کیونکہ زرعی آدانوں کی قیمتوں میں فصلوں کی قیمتوں میں معمولی اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ جاری ہے۔

    لاکھوں بے روزگار مزدوروں کی جبری واپسی نے کئی دہائیوں میں پہلی بار دیہی علاقوں میں زائد مزدوری پیدا کی ہے۔. کاشت کار جو اکثر فصلوں کے موسموں میں مزدوری کی قلت کی شکایت کرتے ہیں انہیں ایک انوکھا موسم درپیش ہوتا ہے جہاں مزدوری دستیاب ہوتی ہے ، لیکن زرعی منڈیوں تک رسائی زیادہ مشکل ہوتی ہے۔. انہیں کھانے کی طلب گرنے کے ساتھ اپنی فصلوں کی کٹائی کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ہے۔. کوئی بھی رومانٹک نظریہ لے سکتا ہے کہ شہری مزدوری کی اس بڑے پیمانے پر واپسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گاؤں کی نام نہاد ’اخلاقی معیشت‘ غریبوں کی آخری پناہ گاہ ہے ، جہاں کسی نہ کسی طرح واپس آنے والی بے زمین آبادی کے لئے دیہات میں روزی ہوگی۔. لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کھانے کی فصلوں کی کٹائی نہیں کی جاتی ہے اور تجارتی فصلیں فروخت نہیں کی جاتی ہیں تو دیہات میں زائد مزدوری کھلایا جانے کا امکان نہیں ہے۔.

    اگرچہ یکجہتی معیشت کی کچھ شکل ابھرنے کا نظریاتی امکان موجود ہے۔, جیسا کہ ہندوستان کے کچھ حصوں میں بارٹر طریقوں کے چھوٹے پیمانے پر بحالی کی اطلاعات کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔اس طرح کے طریقوں میں اہم رکاوٹیں اس تناظر میں سامنے آتی ہیں جہاں زرعی آدانوں اور مزدوری کو ضرورت سے زیادہ تیزی سے رقم کی جاتی ہے۔.

    حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانی کسانوں سمیت زیادہ تر دیہی گھرانے کھانے کے خالص خریدار ہیں۔. اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کاشت کاروں کو کچھ غیر منڈی والے کھانے تک رسائی حاصل ہے ، لیکن فصلوں کا انتخاب ، زمینوں کے ذخیرے کا سائز ، قرضوں کی مقدار ، اور گھریلو مویشیوں جیسے متعدد عوامل خاص طور پر کسانوں کو بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی تشکیل میں اہم ہیں۔

    یہ سنگین صورتحال وہ سیاق و سباق ہے جس میں پاکستان کے زرعی پروڈیوسر کورونا لاک ڈاؤن میں داخل ہوئے تھے۔. زرعی تجارتی منڈیوں کی مکمل بندش ، خاص طور پر وہ لوگ جو کسانوں سے آؤٹ پٹ خریدتے ہیں ، اس سے کسانوں کو نمایاں نقصان ہوا ہے۔ سامان کی نقل و حرکت معطل ہونے کے بعد ، اناج سمیت فصلوں کے لئے تیار فصلوں کو کھیتوں میں سڑنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کو فوری نقصانات کا ترجمہ ہوتا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا روایتی بمپر گندم کا ذخیرہ دستیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ‏آئیں درخت لگائیں  تحریر : نعمان سرور

    ‏آئیں درخت لگائیں تحریر : نعمان سرور

    درخت انسانی زندگی کی بقا کے لئے بہت ضروری ہیں ہم جو آکسیجن اپنے جسم میں لے کر جاتے ہیں یہ درخت ہی مہیا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو یہ جذب کرتے ہیں، سیلاب سے بچاتے ہیں زمین کی کٹنگ کو روکتے ہیں اور زمین کے ماحول اور موسم کو سازگار بناتے ہیں۔
    کیا آپ جانتے ہیں رقبے کے لحاظ سے بڑے ممالک میں دنیا میں سب سے زیادہ جنگل کس ملک میں ہے ؟؟
    روس کا 70 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان کے کل 5 فیصد حصے پر جنگلات تھے جو اب کم ہو کر 3 فیصد پر پہنچ گئے ہیں جو کے انتہائی خطرناک سطح ہے۔
    پاکستان میں 2013 میں جب عمران خان کو خیبرپختون خواہ میں حکومت ملی تو وہاں پر ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا،لوگوں نے اپوزیشن نے خوب مذاق بنایا لیکن پانچ سال جب مکمل ہونے کو آئے تو تو پوری دنیا کے ماحولیاتی اداروں نے اس منصوبے کی تعریف کی اس منصوبے سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا اسی طرح اب ہماری حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا اعلان کیا ہے جو کے ممکن ہو سکتا ہے اگر پوری قوم مل کر اس پر کام کرے پاکستان کے انہی اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو اس سال عالمی یوم ماحولیات کے 5 جون کو میزبانی ملی جو کے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔
    پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونگے
    پاکستان جسے 1999 سے 2018 تک شدید موسم سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والا دنیا کا پانچواں ملک قرار دیا گیا ہے ،
    اگر ہم درخت نہیں لگائیں گے تو امکان ہے کہ زیادہ بارش، زیادہ گرمی اور گلیشیرز کا پانی پگھلنے سے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہونگے جو کے ہم اب بھی محسوس کر رہے ہیں اور ایسے حالات کا اثر ہماری فصلوں پر پڑنے کی کمی کے ساتھ دیگر کئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    اس سے سب سے زیادہ متاثر ہماری معیشت ہوگی کیونکہ ہمارے جی ڈی پی کا 20 فیصد زراعت سے منسلک ہے اور لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
    حکومت نے اس سلسلے میں سب سے بہترین یہ کام کیا ہے کے اس معاملے کو سیریز لیا ہے جو کے پہلے والی حکومتیں نہیں لیتی تھیں حکومت نے اپنے چار سال کے عرصہ میں جنگلات کی مہم کے لئے 800 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ رکھے ہیں جس سے دس ارب درخت لگانے کا خواب پورا ہوگا اور حقیقی معنوں میں کلین اور گرین پاکستان کا خواب پورا ہوگا۔
    حکومت اس بات پر بھی کام کر رہی ہے کے ماحولیات کے لئے کام کرنے والے اداروں سے ملکر ایک ایسا فنڈ بنایا جائے جو ماحولیات کے لئے کام کرنے والے ممالک کو دیا جائے اگر وزیراعظم اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کا بہت بڑا فائدہ ہوگا۔
    وزیراعظم کا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خواب بھی کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبہ پورا کر سکتا ہے دس ارب درخت لگانے میں جو غریب علاقے ہیں ان کی عوام برسرروزگار ہو پائے گی، مقامی لوگوں کو نگہبان کے طور پر نوکریاں ملیں گی، تربیت ملے گی، پچھلے سالوں میں جو درخت لگ چکے ہیں ان پر شہد لگنے سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور مقامی نرسریاں اور وہاں کام کرنے والے روزگار کی سہولت سے مستفید ہوئے ہیں اور مزید بھی ہونگے۔
    حکومت نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کے پاکستان میں 15 نئے قومی پارکس بنائے جائیں گے جو کے 7300 سکوائر کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہونگے۔ جہاں اتنے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں وہاں یہ بات بھی ضروری ہے کے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکی جائے اور اس میں ملوث لوگوں کو سزا دی جائے اس کے ساتھ ساتھ درخت لگانا سلیبس کا حصہ بنایا جائے بچوں کو اس کے فوائد بتائے جائیں اور جو بچے درخت لگائیں شجرکاری کریں ان کو اس کے اس باقاعدہ نمبر دئیے جائیں ایک قوم بن کر ہی ہم یہ مشن پورا کر سکتے ہیں کوئی حکومت اکیلے یہ کام نہیں کر سکتی پوری قوم کو اس معاملے پر ایک ہونا ہوگا تب ہی جا کر ہم یہ کر پائیں گے ہمارے دین اسلام میں بھی درخت لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔
    حضرت انسؓ سے روایت ہے‘ فر ماتے ہیں‘ رسول اللہ ؐ کا اِرشادِ مقدس ہے: جو مسلمان درخت لگائے یا کھیت بوئے پھر اُس میں سے کوئی اِنسان یا پرندہ یا جانور کھائے (تو جس مسلمان نے وہ درخت لگائے ہوں یا کھیتی بوئی ہو) اُسے صدقہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ کیونکہ صدقہ کرنا بھی عبادت ہے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق دے آمین

    ‎@Nomysahir

  • معاشرہ اور قانون  تحریر: جواد یوسفزئی

    معاشرہ اور قانون تحریر: جواد یوسفزئی

    ہمارے ملک میں جب کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے حمایتی پیدا ہوکر کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ہوگا تو اور کیا کریں۔
    یہ بڑی غلط بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ملک میں انصاف کا نظام ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ کئی مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے۔ کچھ پکڑے جانے کے بعد جلد چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ کسی کو سزا نہیں ملتی۔ اکثریت پکڑی بھی جاتی ہے اور سزا بھی ملتی ہے لیکن ہمیں وہ کیس یاد رہتے ہیں جن میں ملزم بچ جاتا ہے۔ آپ کو ثبوت چاہیے تو جیل جا کر دیکھیں۔
    لیکن یہ ملزم سزا سے بچتے کیوں ہیں، اس میں قانون نافذ کرنے والوں کی کمزوریاں ضرور ہیں۔ پولیس بعض صورتوں میں جرم کا سراغ نہیں لگا سکتی۔ سراع لگاتی ہے تو کیس مظبوط نہیں بناتی جس سے ملزم کے خلاف عدالت میں مکمل ثبوت مہیا نہیں ہوتے۔ بعض ملزم نہایت شاطر ہوتے ہیں اور اپنے جرم کا کوئی ثبوت ہی نہیں چھوڑتے۔ کچھ کیسوں میں عدالتوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔
    یہ سب سچ ہے لیکن پولیس اور عدالتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جیسی کارکردگی دوسرے شعبوں کی ہے، ان دو اداروں کی بھی کم و بیش ویسی ہی ہے۔ اس لیے ان کو خصوصی طور پر مطعون کرنے کی وجہ نہیں بنتی۔
    ادھر عوام پولیس اور عدالت کا کتنا ساتھ دیتے ہیں۔ کیا ہم ہر موقع پر سچی گواہی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ کیا ہم ملزم کی سفارش نہیں کرتے۔ کیا ہم کوشش نہیں کرتے کہ راضی نامہ کرکے ملزم کو سزا سے بچایا جائے۔ کیا اس مقصد کے لیے مدعی پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا؟ انسانی معاشرے میں قتل شدید ترین جرم ہے اور اس کا مجرم سب سے قابل نفرت انسان ہوتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم کسی قاتل کو سزائے موت دینے کو برداشت نہیں کرتے۔ اول تو کوئی اس کے خلاف گواہی ہی نہیں دیتا۔ اگر گواہیاں مل جائیں اور عدالت اسے سزا سنا دے تو سارا معاشرہ مقتول کے وارثوں کے خلاف اتحاد کرلیتا ہے اور ہر قسم کا دباؤ ڈال کر انہیں معاف کردینے پر مجبور کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ قانون دشمن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی شخص پر الزام لگتے ہی بغیر کسی عدالتی کاروائی کے اسے سزا دی جائے۔ لیکن دوسری طرف کسی پر جرم ثابت ہوکر سزا سنائی جائے تو اسے بچانے کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔
    حقیقت پسند حضرات کچھ دیر کے لیے تصور کرلیں کہ ملک میں پولیس اور عدالتیں کام بند کردیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMjawadKhan@Gmail.Com

  • معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار  تحریر: سید عمیر شیرازی

    معاشرے کی اصلاح میں خواتین کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    بقول حکیم الامت علامہ اقبال وجودزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اگر آپ مصرع پر غور کریں تو کوزہ میں دریا کو سموسے کی مثال صادق آئے گی وجودزن ہی دراصل اس پر آشوب اور رخج و محن سے لبریز دنیا میں سکون و اطمینان کا باعث ہے۔
    اسلام سے پہلے عورتوں کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں تھا ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا مسیحی دنیا میں عورت کو ایک ناگزیر برائی تصور کیا جاتا تھا اور ہندو اسے ناپاک حیوان سمجھتے تھے اور شوہر کے مرنے پر اسے ستی ہونا پڑتا تھا،
    عرب کی دنیا میں بھی یہی حال تھا عرب کے لوگ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے اور انہیں جائیداد منقولہ کی طرح بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا باپ کے مرنے کے بعد بیٹے سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے میراث میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اسے حصول تعلیم کی اجازت دی اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حقوق حاصل تھے ان کا کام صرف مردوں کو آرام و سکون پہنچانے اور ان کی اولاد کی پرورش کرنا تھا۔۔
    ایک وقت میں مرد کئی کئی عورتیں رکھتے تھے
    اہل مغرب (جو اپنے آپ کو تہذیب کا علمبردار سمجھتے ہیں) عورت کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مغربی دنیا میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ روزی کمانا پڑتا ہے جسے تہذیب کے یہ علمبردار مساوات سمجھتے ہیں،
    یہ مساوات نہیں بلکہ عورت کے حقوق کے غصب کی ایک صورت ہے مغربی دنیا میں آج بھی عورت کی حالت بدتر ہے اور وہ غلام بنی ہوئی ہے ۔۔۔ گویا اسلام سے پہلے عورتوں کی زندگی محرومیت کا شکار تھی اور وہ ذلت کی زندگی گزار رہی تھیں۔
    دنیا کے تمام مذاہب میں صرف دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں باعزت اور قابل احترام مقام بخشا ہے اسلامی معاشرے میں عورت ماں ہو یا بیٹی بہن یا بیوی ہر لحاظ سے باعزت اور قابل احترام ہے اس کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق اس کے حقوق مقرر کردیا گئے ہیں اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و وقار کا خیال رکھیں،
    اسلام نے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز حق اور بلند مرتبہ عطا فرمایا بیوی کو میراث میں اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ عطا کیا۔

    "وہ رتبہ عالی کوئی مذہب نہیں دے گا
    کرتا ہے جو عورت کو عطا مذہب اسلام”

    اس سلسلے میں قرآن پاک کی بلاغت کی انتہا یہ ہے کہ اس نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے اندر بیوی کے جملہ حقوق ارشاد فرما دیے،
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی سے بہتر سلوک کرتا ہے”
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے پیٹنے اور برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
    اس میں شک نہیں کہ مردوں کو اللہ تعالی نے زیادہ طاقتور توانا اور مضبوط بنایا ہے اور انہیں قوی اعضاء سے آراستہ کیا جب کہ عورتوں کو کمزور اور نرم و نازک بنایا ہے ان کے اعضاء بھی کمزور اور ان کی دماغی قوتیں بھی مردوں سے کم ہیں البتہ عورتیں بالحاظ جذبات مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں،
    ان میں محبت،الفت، رحم،حیاء، شرم اور غصہ کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے حصول تعلیم سے ان کے جذبات میں اور بھی نکھار پیدا ہوجاتا ہے اور یہی جذبات پھر ان کے بچوں میں سرایت کرتے جاتے ہیں اور ان کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں دنیا میں جس قدر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں ان کی تعلیم و تربیت میں اصل ہاتھ ماں کا تھا اور ماں ایک عورت ہی ہو سکتی ہے۔

    "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”

    ‎@SyedUmair95

  • خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ   تحریر: محمد اختر

    خواتین کے خلاف بڑھتا تشدد: تاریخی جائزہ تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، یوں تو کہنے کو پاکستان اسلامیملک ہے مگر افسوس صد افسوس پاکستان میں عورتوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے واقعات باعث تشویش ہے، جس کی بنیادی و جہ ناقص تحقیقات اور انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ آئیے! اس ضمن میں حالات اور واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔پاکستان میں خواتین کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ملازمت پر ہراساں کرنے سے لے کر بے دردی سے قتل کیے جانے تک، پاکستانی خواتین عام طور پر زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے تخمینے کے مطابق، پاکستان میں 70%-90% خواتین کو کسی نہ کسی طرح کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2005 میں، ایک مطالعہ میں 176 شادی شدہ مردوں سے کراچی میں گھریلو تشدد کے بارے میں اپنی رائے کے بارے میں انٹرویو کیاگیا۔ 46%نے کہا کہ مردوں کو اپنی بیویوں کو زدوکوب کرنے کا حق ہے، جبکہ65% نے اپنی ماؤں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنتا دیکھا ہے۔ پاکستان میں اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کی سطح بہت زیادہ ہے۔ شوہر یا سسرال والے عام طور پر خواتین پر تشدد جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ 2003 میں، اسلام آباد میں ہونے والی ایک تحقیق میں 216 شادی شدہ خواتین نے حصہ لیا۔ ان خواتین میں سے، 96.8% نے گھریلو زیادتی کی کچھ اقسام کا سامنا کیا۔مبینہ طور پر 80% مجرم شوہر ہیں اور 17%ماں یا سوتیلی مائیں ہیں۔خواتین کے خلاف جسمانی تشد د ہی صرف زیادتی کی واحد قسم نہیں ہے بلکہ اس کی بہت سی اقسام ہیں۔ پاکستان میں گھریلو تشدد معمول بنتا جارہا ہے کیوں کہ مرد اپنی بیویوں کا واحد مالک اور نگہبان تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کے حقوق کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔1999 کی ایک رپورٹ میں 24-45سال کی عمر کے 70 مردوں سے انٹرویو کیا گیا جس میں سے 54 افراد نے اپنی بیویوں کے ساتھ اتفاق رائے سے تعلقات کو قبول کرنے کا اعتراف کیا۔ پاکستان میں بیویوں پر تشدد کے بارے میں 2015 کے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ جنسی تشدد کی انفرادی رپورٹس خواتین میں 77%، جسمانی 50% اور نفسیاتی 90 فیصد تک ہیں۔پاکستان میں خواتین کا ازدواجی زیادتی کا شکار بننے سے اکثر غیر ضروری حمل ہوجاتے ہیں۔ 2002 میں چوبیس لاکھ غیر ارادتاً حمل ہوئے۔ جس کے نتیجے میں نو لاکھ کا اسقاط حمل ہوا۔پاکستان میں اسقاط حمل کے محفوظ طریقوں کی کمی کی وجہ سے،دو لاکھ خواتین پیچیدگیوں کے سبب اسپتال میں داخل ہوگئیں، اور ہر 10 خواتین میں سے 1 عورت فوت ہوگئی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی کا بہت بڑا فقدان ہے کیونکہ عام طور پر اسے اسلام کے مخالف بیانیہتصور کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے اسلا می تعلیمات کے مطابق شوہر کو خاندان کا حاکم ہونے کا اعزاز ضرور ہے مگر شوہر کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ بیوی کے حقوق کو سلب کرے کیونکہ دینِ اسلام میں خواتین کو بہت معتبر سمجھا گیا ہے۔ پاکستان میں خواتین کو عوام میں بھی ہراساں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مددگار ہیلپ لائن کے مطابق، پاکستان میں 93% خواتین کو عوامی مقامات پر جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کو موصول ہونے والی شکایات میں 56% خواتین کی طرف سے ہیں جبکہ 13% مردوں کی طرف سے ہیں۔2015 سے اب تک، پاکستان میں 22000 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ روزانہ اوسطا 11 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں سزا کی شرح صرف 0.3% ہے۔مزید یہ کہ اس دور جدید میں آن لائن ہراساں کرنے کے معاملات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ خواتین کو فوٹو شاپ تصویروں کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کو 2018-2019 میں خواتین کی جانب سے 8500 شکایات موصول ہوئیں۔ تاہم، صرف 19.5%ہی تحقیقات کی گئیں۔پاکستان میں خواتین کو درپیش تمام پریشانیوں کی وجہ سے، عالمی سطح پر صنفی گیپ انڈیکس سیاسی بااختیارگی، معاشی شراکت، تعلیمی حصول، صحت اور بقا کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا کا تیسرا بدترین ملک قرار دیتا ہے۔

    @MAkhter_