Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک  تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان انصاف انصاف (پی ٹی آئی) انصاف کیلئے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد پر قائم ہوئی
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد زمان پارک ، لاہور میں 25 اپریل 1996 کو ورلڈ کپ کے فاتح ، فلسفی اور سماجی کارکن پاکستانی کرکٹر عمران خان نے رکھی ۔
    پی ٹی ائی نے انصاف تحریک کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور پاکستان میں صحت ، تعلیم ، شہری ، بہبود اور اظہار رائے کی آزادی ، روزگار، مذہبی اہلیت ، باہمی فرقہ وارانہ نقصان کے بارے میں ریاست کی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور بیدار کرنا شروع کیا۔ اس کی توجہ پاکستان میں سماجی اور سیاسی ترقی پر ہے۔ تحریک انصاف قابل اعتماد جمہوریت ، حکومت میں شفافیت اور رہنماؤں کے احتساب کے ذریعے پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے پرعزم

    پی ٹی آئی نے 1996 میں ابھرتے ہوئے عمران خان کی سربراہی میں 6 رکنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ پی ٹی آئی نے 1997 کے عام انتخابات میں ایک نئ جماعت کی حیثیت سے حصہ لیا ، اگرچہ تحریک انصاف عام انتخابات میں جیتنے میں ناکام رہی۔ لیکن تحریک انصاف نے ثابت کردیا کہ وہ مستقبل میں دوسری جماعتوں کے لئے خطرہ

    2002 عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے دو سیٹیں جیتیں ، ایک میانوالی سے ایک عمران خان نے اور دوسری نصیر گل نے

    تحریک انصاف نے 18 فروری 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

    اس کے بعد عمران خان نے 30 اکتوبر 2011 کو لاہور میں ایک جلسئہ کیا جس میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔

    2013 میں ، تحریک انصاف نے انتخابات میں حصہ لیا اور وہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔
    لیکن خیبرپختونخوا صرف حکومت بنا سکی اور پنجاب میں مقابلہ کیا لیکن اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی
    جبکہ خیبر کی صوبائی اسمبلی میں ، پرویز خٹک کی سربراہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی حیثیت سے مخلوط حکومت تشکیل دی گئی۔

    2013 ء الیکشن میں ن لیگ دھاندلی کر کے جیتی تھی خان نے ن لیگ کی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی ۔
    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ چاروں حلقوں این اے 57 ، این اے 110 ، این اے 122 اور این اے 125 میں آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کروائے۔
    پی ٹی آئی ریسرچ ونگ نے یہ ثابت کرنے کے لئے 2100 صفحات پر مشتمل کتابچہ تیار کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
    پی ٹی آئی نے الیکشن کے اختتام کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توجہ مبذول کروانے کے لئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے۔ عمران خان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ کو ملک کی معزول عدلیہ کو اس کے نتیجے کا نوٹس لینا چاہئے۔
    تمام قانونی فورموں سے مایوس پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر 22 اپریل 2014 کو مستحکم انتخابات کے خلاف اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
    احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسکے بعد پی ٹی آئی نے چودہ اگست 2014 کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا۔ جو 126 دن تک جاری رہا 💞
    2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اور خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم حلف لیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی حکومت قائم کی۔
    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک غالب پوزیشن سمیٹی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان کی سربراہی میں اپنی ایک صوبائی حکومت تشکیل دی۔
    پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف نے اپنی مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔انتخابات میں 16.8 ملین ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔

    2020 کے گلگت بلتستان انتخابات میں ، گلگت کے غیرت مند لوگوں نے تحریک انصاف کو انتخابات میں جیتوا کر حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا۔

    اور اب عمران خان نے 25 جولائی 2021 کشمیر انتخابات میں مخالفین کو کلین بولڈ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی 26 سیٹوں کے ساتھ حکومت بنا رہی ہے
    کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات میں ، پی ٹی آئی نے سادہ اکثریت حاصل کی ، کپتان کے کھلاڑیوں نے 45 میں سے 26 نشستوں پر اپنے مخالفین کو شکست دی۔

    اور اور آخر پر اہم بات جہاں سے گیم پلٹی وہ یہ کہ عمران خان نے بات 4 حلقوں سے شروع کی تھی جو پھر وفاق سے شروع ہوئی اور وہاں سے ہوتی ہوئی 4 صوبوں کی حکمرانی تک آگئی ہے✌️وفاق ، پنجاب ، بلوچستان، گلگت کے بعد اب آزاد کشمیر بھی لے لیا✌️🤗

    @Patriot_Mani

  • غسل میت کا طریقہ  تحریر: فرزانہ شریف

    غسل میت کا طریقہ تحریر: فرزانہ شریف

    ہر موضوع پر آرٹیکل لکھ رہی ہوں سوچا جو معلومات ہر مسلمان کو ہونی چاہئیے اس پر لکھتے ہوئے ہم ہچکچاتے ہیں یا پھر ہلکا سا خوف اور ڈر بھی ہوتا ہے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے جو اس دنیا میں آیا اس نے آخر ایک دن واپس لوٹنا بھی ہے چاہے ہم سو سال بھی ذندہ رہیں
    خود بھی سیکھئے ، گھر والوں کو بھی سکھائیے
    کون جانے ہم میں سے کون پہلے رخصت ہو
    موت اور موت کے بعد کی حقیقی زندگی کے تذکرے روزانہ کی بنیاد پر گھروں میں ہونے چاہیں
    یہی تذکرے ہیں جو ہماری باطنی صفائی کرتے ہیں ، گناہ سے روکتے ہیں
    آج سے سو برس بعد ہم سب اس دنیا کے لئے ایک کہانی ہوں گے
    یہاں نئے چہرے ہوں گے ، اسی تکبر ، اسی "میں” کے زعم کے ساتھ ۔۔۔۔
    اور وہاں اس ہمیشہ کی زندگی میں صرف ہم ہوں گے اور ہمارے ساتھ صرف ہمارے اعمال۔
    ۔۔۔جن دو بہنوں کی وجہ سے یہ معلومات مجھ تک پہنچی اللہ ان دونوں کو اجر عظیم عطا فرمائے دونوں جہاں میں ان کا بھلا ہو آمین ثمہ آمین
    غسل میت کا طریقہ

    بہت تفصیل سے ایک ایک سٹیپ لکھ رہی ہوں ،

    عورت کا کفن پانچ چیزوں پر مشتمل ہوتا یے

    1) چادر
    2) آزار (قدرے چھوٹی چادر)
    3) کرتا (گلے سے پاوں تک)
    4) سربند
    5) سینہ بند

    دیگر ضرورت کی چیزیں جو اہل خانہ سے لیں گے
    تین گہرے رنگ کی بڑی چادریں
    (جو پرانی بستر وغیرہ کی چادریں گھر کے استعمال میں ہوتی ہیں )
    گہرے رنگ کی اس لئے تا کہ دوران غسل گیلی ہونے پر جسم نہ چھلکے ۔۔۔۔
    2 ڈسٹ بن
    قینچی
    گلوز
    کاٹن
    ٹب / دو تین مگ
    (اگر غسل واش روم کے ساتھ کسی کمرے میں دیا جا رہا اور استنجا کے لئے زیادہ پانی کی ضرورت محسوس ہو تو نل کے ساتھ ٹیوب اٹیچ کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا یے ، یہ صورتحال پر منحصر ہے )

    جو کفن کے پیکٹ میں سامان ہوتا یے ، اس میں کافور، اگربتی، صابن ، کاٹن اور بیری کے پتے موجود ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    استنجا کے لئے کپڑے کے گلوز بھی اس میں موجود ہوتے ہیں لیکن بہتر یے کہ پلاسٹک کے گلوز کا استعمال کیا جائے

    بیری کے پتے ملا کر ایک بڑے برتن میں پانی ابال لیا جائے اور پھر موسم کی مناسبت سے اس میں دوسرا پانی ملا کر ٹب میں ملا لیا جائے
    (باقی بیری ملا پانی برتن میں رہنے دیا جائے اور بوقت ضرورت دوبارہ ملا لیا جائے )
    پانی ایسا ہو جیسے ہم اس موسم میں خود غسل کے لئے استعمال کرتے ہیں

    سب سے پہلے غسل کے پھٹے کو دھو کر صاف کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔
    پھر اس کے گرد تین بار ، پانچ یا سات بار اگربتی جلا کر دھونی دیں گے ، اس کے بعد اگر بتی کو سائڈ پر کہیں رکھ دیں گے ۔۔۔۔
    باڈی کو چادر سمیت پھٹے پر لٹا دیں گے
    ( جسم بھاری ہو یا اٹھانا مشکل ہو تو گھر کے مرد آ کر لٹا سکتے ہیں )
    اب بہت نرمی سے باڈی کے نیچے سے چادر نکالنی یے بلکہ غسل کے ہر سٹیپ میں باڈی کو بہت نرمی سے ہاتھ لگانا یے کہ تکلیف نہ ہو
    چادر نکالنے کے لئے جسم کو دائیں کروٹ پر لٹائیں گے اور نرمی سے نیچے سے چادر رول کر کے دوسری طرف لے جائیں گے اور پھر آہستگی سے بائیں کروٹ پر لٹا کر آرام سے چادر نکال لیں گے
    اب سب سے پہلے ایک ڈارک بیڈ شیٹ میت کے اوپر پھیلا دیں گے اور نرمی سے قینچی کے ساتھ لیفٹ بازو کو کندھے تک کاٹ لیں گے ،اسی طرح دایاں بازو کاٹ لیں گے
    اور قمیض کو دونوں طرف سے چاک سے کندھے تک کاٹ لیں گے ، جب سب حصے کٹ کر الگ ہو جائیں گے تو نرمی سے ایک طرف کروٹ بدل کر لباس علیحدہ کر دیں گے اور اسی طرح دوسری طرف سے
    اس پروسیجر کے دوران اور مکمل غسل کے دوران اوپر والی چادر ہٹنے نہ پائے اور میت کے ستر کا احترام برقرار رہے ،
    اسی طرح شلوار کا بایاں حصہ پائینچے سے نیفے تک کاٹا اور پھر دایاں حصہ کاٹا اور نرمی سے ان حصوں کو کروٹ کے بل لٹا کر الگ کر لیں گے
    کٹا ہوا لباس موجود ڈسٹ بن میں سے ایک میں ڈال دیں گے ۔۔۔
    استنجا کے لئے گلوز پہن لیں گے اور نرمی سے پیٹ ملیں گے اور کاٹن پکڑ کر نجاست صاف کریں گے
    اس موقع پر کچھ دیر انتظار کریں گے ، کھانے کے چند گھنٹوں کے بعد وفات ہو جائے تو نجاست کچھ دیر نکلتی رہتی یے اور خالی پیٹ ہو تو پھر زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں
    نجاست نکلنے کا انتظار کر کے اچھی طرح کاٹن سے صاف کرتے جائیں گے اور ساتھ ساتھ اچھی طرح پانی بہاتے جائیں گے اور پھٹا بھی صاف کرتے جائیں گے
    یہ کاٹن دوسری ڈسٹ بن میں پھینکتے جائیں گے ، اس بن میں پہلے بیگ لگوا لیں گے

    اور اگر پھٹا واش روم کے قریب ہو تو ایک خاتون مستقل واش روم کی طرف وائپر کے ساتھ پانی کو دھکیلنی جائیں اور اگر واش روم نہ بھی ہو تو جس طرف پانی کا بہاؤ ہو ، اسی طرف پانی کو وائپر سے ساتھ ساتھ صاف کیا جائے تا کہ پانی اکٹھا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب سب سے پہلے میت کو وضو کروانا ہے ، وضو میں چاروں اعضاء دھونے ہیں جو فرائض وضو میں شامل ہیں
    منہ ، دونوں بازو کہنی سمیت، سر کا مسح اور دونوں پاوں اچھی طرح دھوئیں گے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے

    کاٹن پیس لے کر گیلا کر کے دانتوں، مسوڑھوں پر اور دوسرا ناک کے دونوں نتھنوں میں پھیر دیا جائے تو بھی جائز ہے
    (یہ عمل ضروری نہیں لیکن اگر میت کا حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں انتقال ہوا ہو تو یہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے )
    اب نتھنوں اور کانوں میں الگ الگ خشک روئی ڈال دیں گے تا کہ دوران غسل پانی ناک اور کانوں میں نہ جائے ۔۔۔
    پھر سب سے پہلے سر دھونا ہے
    شیمپو میسر ہو یا صابن جو چیز موجود ہو اسے پانی میں مکس کر لیں گے ، سر اٹھا کر بازو پر رکھیں گے اور دوسری خاتون دھو دیں گی
    اب جسم کے لئے دوبارہ پانی میں صابن یا باڈی واش پانی میں مکس کریں گے ، براہ راست باڈی پر رگڑنے کی بجائے ۔۔۔۔۔
    نرمی سے ہینڈل کرنے کے پوائنٹ آف ویو سے

    میت کو بائیں کروٹ کر کے دائیں طرف پہلے اچھی طرح اس لیکوئڈ سے دھو کر پھر پانی بہائیں گے ، تمام سائڈ کو اچھی طرح دھو کر اور پھر دائیں کروٹ پر لٹا کر بائیں سائڈ کو اسی طرج اچھے طریقے سے تسلی سے دھونا ہے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے
    اس سارے عمل کے دوران دھیان رہے کہ اوپر والی چادر ہٹنے نہ پائے
    پھر سیدھا لٹا کر ہاتھ کے سہارے ذرا اوپر اٹھا کر پیٹ کو ہلکا ہلکا ملیں گے
    اگر دوبارہ نجاست نکلے تو صاف کریں گے ،غسل یا وضو پر اس سے فرق نہیں پڑے گا
    آخر میں بائیں کروٹ لٹا کر دوبارہ دائیں طرف دھوئیں گے
    ممکن ہو تو پانی میں کافور ڈال کر دائیں طرف تین بار کندھے سے پاوں تک وہ پانی ڈالنا یے اور کافور ڈالنا بھول جائے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں
    اب غسل مکمل۔ہوگیا

    کوئی عام چادر ایک چارپائی پر ڈالیں گے
    تینوں جگہ پٹیاں رکھیں گے
    سر کی طرف
    کمر کی جگہ (لمبی پٹی درمیان میں ہو گی)
    اور پاوں کی طرف
    اور اس کے اوپر پہلے کفن کی چادر اور پھر آزار بند بچھا لیں گے
    اور پھر کرتہ کی نیچے رہنے والی سائڈ بچھا دیں گے اور جو سائڈ باڈی کے اوپر آنی ہے اس چارپائی کے سر کی طرف پیچھے ڈال دیں گے ۔۔۔۔
    اب واپس باڈی کی طرف آئیں گے
    ناک اور کان سے گیلی روئی نکال لیں گے
    اگر کسی کے ناک یا کان سے خون یا کوئی لیکوئڈ نکل رہا تو تو خشک روئی رکھ دیں گے ، عام صورتحال۔میں ضرورت نہیں
    اب گیلی چادر باڈی کے اوپر سے اس طرح ہٹائیں گے کہ پہلے دوسری گہرے رنگ کی خشک چادر اوپر ڈالیں گے اور نیچے سے گیلی چادر نکال کہیں گے کہ ستر کا احترام قائم رہے ، گہرے رنگوں کی چادر استعمال کرنے کی بھی یہی وجہ ہے ۔۔۔۔
    اب تیسری چادر آہستگی اور نرمی سے باڈی کے نیچے بچھائیں گے ، اسی طرح دونوں طرف کروٹ چینج کروا کے
    اب اسی چادر سمیت اٹھا کر چارپائی پر ڈالیں گے
    چارپائی پر ڈال کر نیچے والی چادر آرام سے نکال لیں گے
    کرتے کی چارپائی کے سر کی طرف رکھی سائڈ کو گلے سے ڈال کر سامنے ڈالیں گے اور پاوں تک لے جائیں گے ۔۔۔۔

    اب کرتا پہنانے کے بعد وہ گہرے رنگ کی اوپر دی گئی چادر ہٹا دیں گے ۔۔۔۔
    کافور کو ذرا سا ہاتھ پر مل کر ان سات جگہوں پر ملیں گے جو سجدہ کرتے ہوئے زمین سے لگتی ہیں
    ماتھا ، ناک
    دونوں ہتھیلیاں
    دونوں گھٹنے اور دونوں پاوں کی اوپر کی طرف جو دوران سجدہ زمین پر لگتی ہے
    اب سینہ بند کو سینہ پر ڈال دیں گے ، پہلے ایک بازو کے نیچے سے گزار کر اور پھر دوسرے بازو کے نیچے سے گزار کر نیچے کی طرف دبا دیں گے ، سینہ کور ہو جائے گا ، اگر بڑا ہو تو فولڈ کر کے استعمال کرہں گے
    بال دونوں طرف سے آگے لا کر سینے پر ڈال دیں گے
    سربند کو سر کے نیچے کی طرف رکھا ، آگے سے سکارف کی طرح آگے لا کر سائڈوں پر دبا دیں گے
    اب آزار کی بائیں طرف پہلے سامنے ڈالیں گے اور دائیں طرف بعد میں اوپر کریں گے
    اسی طرح بڑی چادر کو پہلے بائیں طرف سے اوپر ڈالیں گے اور پھر دائیں سائڈ اس کے اوپر کریں گے
    اب تینوں پٹیاں باندھ دیں گے
    پھر چہرے کی طرف سے چادر اور آزار کو تھوڑا سا کھول دیں گے
    پھر اوپر ایک کوئی بھی علیحدہ چادر ڈال دیں گے ۔۔۔۔

    ہم سب کو یہ طریقہ سیکھنا چایئے ، اپنے اطراف میں خود کو پیش کرنا چاہیئے غسل میت کے لیے
    بہت اجر و ثواب کا باعث ہے ____

    https://twitter.com/Farzana99587398?s=09

  • ہر ایک سے سیکھیے  تحریر: حُسنِ قدرت

    ہر ایک سے سیکھیے تحریر: حُسنِ قدرت

    میری عادت ہے کہ میں ہر شخص میں کوئی مثبت عادت ڈھونڈتی رہتی ہوں اسکی مثبت بات نوٹ کر لیتی ہوں اور اگر وہ مجھ میں موجود نہ ہو تو اسے اپنا لیتی ہوں کیونکہ اگر ایک انسان میں بہت ساری خوبیاں ہوتی ہیں تو وہیں اس میں چند خامیاں بھی ہوتی ہیں اور جس میں بہت ساری خامیاں ہوتی ہیں اس میں کوئی تو خوبی ہوتی ہی ہے اسلیے میں کوشش کرتی ہوں ہر انسان کی خوبی ڈھونڈوں "دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں جسے کچھ معلوم نہ ہو اور دنیا میں کوئی ایک فرد ایسا بھی نہیں جسے سب کچھ معلوم ہو” ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم ہر انسان سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ سیکھنے سکھانے کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے اسلیے آپ چاہیں تو دوسروں کو سکھا بھی سکتے ہیں
    اپنے قلب کو وسیع اور ذہن کو کشادہ رکھ کر ہی ہم دوسروں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے دل میں کسی کے لیے بغض اور عناد نہ رکھیں ہمیں چاہیے کہ ہم ہر انسان کو عزت کی نظر سے دیکھیں
    کیونکہ جب ہم کسی کے لیے تحقیر کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہم اس سے کچھ نہیں سیکھ سکتے کیونکہ جس نے کچھ سیکھنا ہوتا ہے تو وہ چیونٹی سے بھی سبق سیکھ لیتا ہے اور ہاری ہوئی جنگ جیت لیتا ہے
    زندگی میں مشکلات اور آسانیاں کبھی یہ فیصلہ نہیں کرتیں کہ ہم کتنے ناکام ہوں گے یا کامیاب ،ہماری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہمارا ردعمل کرتا ہے اسلیے کسی مشکل یا آسانی کو ہم کبھی بھی کامیابی کی علامت نہیں کہہ سکتے نپولین کا ردعمل ہی تھا جسکی وجہ سے وہ چیونٹی سے سیکھ کر ہاری ہوئی جنگ جیت گیا۔ یہ بات بچوں کی تربیت میں شامل کریں کہ نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں ہم جسطرح کے حالات سے گزرے ہیں انہیں مسائل یا وسائل کے روپ میں دیکھنا ہماری زندگی کا حصہ ہے یعنی برے حالات میں ان سے سیکھنا کہ ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں اتنی ساری حالات کی زنجیروں کے باوجود اور اچھے حالات میں آگے بڑھنا یہ بھی امتحان ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو خود کو میسر آسودگیوں کی نظر کرنے کے بجائے ان سے بھی سیکھتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی انسان چاہتا ہے کہ وہ مشکل حالات سے سیکھے تو اسے چاہیے کہ ان مشکل حالات کو مسئلے کی شکل نہ دے ،پریشان نہ ہو بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ ایک امتحان کا مرحلہ ہے جو بہت جلد گزر جائے گا اور سب کچھ پہلے سے بھی بہتر ہو جائے گا لیکن مجھے موقع مل رہا میں ان سے کچھ سیکھوں میں آپ کو مثال دیکر سمجھاتی ہوں جو انسان حالات کی وجہ سے پیسے کی تنگی دیکھ رہا ہے اور اسکا کاروبار تباہ ہو چکا ہے تو اب وہ سیکھے گا ریسرچ کرے گا ،کتابیں پڑھے گا ،اپنا محاسبہ کرے گا اور ایک لائحہ عمل تیار کرے گا کہ اس کے پیچھے کونسی وجوہات تھیں اور دوبارہ سے وہ اپنا بزنس کیسے کھڑا کر سکتا ہے تو اس سب پہ عمل کرے گا اور جلد ہی دربارہ سے اپنے پیروں پہ کھڑا ہو جائے گا جبکہ جو انسان ہار تسلیم کرلے نہیں سیکھے گا وہ ان حالات میں جی بھی مشکل پائے گا اب کوئی انسان اس کی قدر نہیں کرتا کہ اسکا کاروبار تباہ ہو گیا ہے اور دوسری کوشش کر رہا پتہ نہیں کیا بنتا ہے اسکا اسکی کیا ویلیو ہے عین ممکن ہے کہ اسکا کاروبار بہت جلد پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرے اور آپ اسکی ناقدری کرکے اس کے ملے تجربے سے بھی محروم ہو جائے گا
    اگر آپ کو کوئی انسان اس وجہ سے ناگوار گزرے کہ اس میں کوئی خامی ہے تو اس خامی یا بری عادت کو دور کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ اسکی برائی کےبہت جگہ گُن گاتے پھریں اسکا طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے الگ بلائیں اور انتہائی موزوں الفاظ کے ساتھ نرم لہجے میں اسے سمجھائیں کہ آپ ویسے تو اچھے ہیں لیکن تھوڑا سا یہ مسئلہ ہے اسے آپ ٹھیک کر لیں
    اس طرح وہ انسان بھی آپ کے اچھے رویے سے بہت کچھ سیکھے گا اور آپ بھی انسانوں کی قدر کرکے ان سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • O man, be patient   Article Writen by Bobswiffey

    O man, be patient Article Writen by Bobswiffey

    "اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ”

    اے انسان صبرکر !

    "لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”

    "اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ”

    کتنی خوبصورت آیت ہے دل کو سکون دینے والی۔ تکلیف میں دکھ میں تسلی دینے والی ۔واقعی اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اور اس بات کی مثال آپکے سامنے ہے چونٹی کو اللہ نے کبھی لکڑی اٹھانے کی تکلیف سے نہیں گزارا ۔جتنی طاقت چونٹی میں ہے اللہ ہمیشہ اسے اتنی ہی تکلیف میں ڈالتے ہیں ۔

    اب ہم اپنی بات کرتے ہیں کبھی درد کی شدت ہماری روح کو چھلنی کر دے کبھی ہمارے آنسو ہمارے جگر کو چھلنی کر رہے ہوں ۔کبھی لگے کہ آزمائش بہت زیادہ بڑی ہے ہماری طاقت سے زیادہ ہے کبھی خیال آئے یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ۔کبھی لگے کے ہمت ختم ہو گئی مگر آزمائش ختم نہیں ہو رہی ۔تو بس یہ آیت یاد کر لیجے گا ۔
    "اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ”
    اگر آپ بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں تو یاد رکھئے آپ میں زیادہ طاقت ہے باقی لوگوں کی نسبت ۔آپ زیادہ طاقت ور ہیں ۔اگر تکلیف جسمانی ہے تو آپ کے جسم میں زیادہ طاقت ہے باقی لوگوں سے۔اور اگر تکلیف روحانی ہے تو بھی آپ زیادہ مضبوط ہو ۔

    یہ آیت مجھے اکثر حوصلہ دیتی ہے اور اب تو مجھے جسے دل وجان سے اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ اللہ مجھ پر میری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے ۔

    آپ بھی آج سے اس آیت کو یاد کر لیں جب بھی لگے آزمائش زیادہ ہے تھک گیا ہوں تو بس یہ آیت حوصلہ دے گی آپکو ۔آپ کے اندر نئی انرجی پیدا ہونے لگ جاۓ گی یہ سوچتے ہی کہ آپ میں باقی لوگوں سے زیادہ طاقت ہے اور اللہ تو کبھی بھی اپنے بندے پر ظلم نہیں کرتے ۔اور پتہ ہے بڑی آزمائش کے بعد زیادہ تکلیف کے بعد اجر بھی زیادہ ہی ملتا ہے اگر آپکی آزمائش زیادہ ہے تو خوش ہو جائیں اس آزمائش کے بعد آپکو درجات ملیں گے اجر ملے گا اور تب تک آپ بہت مضبوط بن چکے ہوں گے ۔جیسے فوج کی ٹرینگ کتنی مشکل ہوتی ہے مگر وہ آپکو مضبوط کرتی ہے آپکے درجات بڑھتے ہیں بس ایسے ہی جتنی بڑی آزمائش اتنا بڑا درجہ ۔

    اب اپنی آزمائش کو کھلے دل سے قبول کرنا ہے اور یہ سوچنا ہے کہ اللہ نے آپکو باقی لوگوں کی نسبت زیادہ طاقت دی ہے۔

    اے میرے پروردگار! ہم تیرے کمزور بندے ہمیں معاف فرما، درگزر فرما ہم پر ایسے بوجھ نہ ڈال جو ہم میں اٹھانے کی سکت نہیں تجھے تیرے رحیم کریم ہونے کا واسطہ ستر ماوں زیادہ سے زیادہ پیار کرنے والے میرے خالق ہم پر رحم فرما۔
    آمیـــن یارب العالمیــــن!!!
    ائے۔

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     

  • عذرااصغر تحریر :  مہناز وحید

    عذرااصغر تحریر : مہناز وحید

    ایک ایسی ہستی جنھوں نے اپنی پوری زندگی اُردو ادب کی خدمت کے لئے وقف کردی ۔آپ ایک بہترین ناول نگار ، افسانہ نگار، مضمون نگار ، کالم نگار ،شاعرہ اور مدیر ہیں۔آپ بھارت کے شہر دہلی میں22-دسمبر 1940ء میں پیدا ہوئیں ۔قیامِ پاکستان کے وقت آپ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستا ن آئیں ۔آپ کا اصل نام مبارک شاہی بیگم تھا۔ پاکستان میں آپ کا خاندان لائل پور(فیصل آباد) میں آکر آباد ہوا۔
    آپ کا بچپن نامساعد حالات کا شکار رہا ۔جس کی وجہ سے آپ باقاعدہ سکول کی تعلیم حاصل نہ کر سکیں ۔اس کی بڑی وجہ والد کی دوسری شادی تھی ۔ آپ بے حد حساس طبیعت کی مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہانت جیسی دولت سے نواز رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو زنگ آلود نہیں ہونے دیا اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے کہانیاں لکھتی رہیں ۔آپ نے بہت کم عمری میں کہانیاں لکھنی شروع کر دیں تھیں ۔آپ نے جو سب سے پہلی کہانی لکھی تھی وہ اپنے ہی گھر کے متعلق لکھی تھی ۔ گھر میں کسی نے بھی آپ کی حوصلہ افزائی نہ کی مگر آپ نے چوری چھپکے اپنی کوشش جاری رکھی ۔ شادی کے بعد آپ کے خاوند اصغر مہدی نے آپ کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے باقاعدہ لکھنے کی اجازت دے دی ۔ انھی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے آپ نے شادی کے بعدبی -اے تک تعلیم بھی حاصل کی اور لکھنے کا شوق جاری رکھتے ہوئےدو ناول ” دِل کے رشتے“ اور ” مسافتوں کی تھکن“ لکھے ۔اس کے علاوہ سات افسانوی مجموعے بھی تحریر کئے، جن میں سے ایک پنجابی زبان میں ہے جس کا نام ”موتیے دِیاں کلیاں “ ہے۔ آپ کے اُردو افسانوی مجموعوں کے نام درج ذیل ہیں :۔

    i. پت جھڑ کا آخری پتّا
    ii. بیسویں صدی کی لڑکی
    iii. تنہا برگد کا دکھ

    iv. گد لا سمندر
    v. یادوں کی طاق پہ رکھی کہانیاں
    vi. کھڑکی میں بیٹھا وقت

    عذرااصغرایک کامیاب کالم نگار بھی ہیں ۔آپ نے ریڈیو اور اخبارات کے لئے کالم لکھے ۔ آپ نے بنیادی طور پر معاشرتی مسائل پر کالم لکھے ۔ اس کے علاوہ سیاسی ، مذہبی اور ادبی موضوعات پر بھی کالم لکھے ۔ کالم نگاری کی کتاب”قلم پارے “ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کالموں کے ذریعے عذراا صغر نے معاشرے کی اصلاح وفلاح کا کام لیا ۔آپ نے ان معاشرتی مسائل کی طرف قاری کی توجہ دلائی جن کو امدادِ باہمی کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کے کالم ہر ذہنی سطح کے فرد کے لئے یکساں سود مند ہیں ۔ آپ پیچیدہ مسائل اور ان کے حل کو اتنی آسانی سے بیاں کرتی ہیں کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    آپ نے بحیثیتِ مضمون نگار ادبی شخصیات پر مضامین بھی لکھے ۔ آپ کی تحریر کا یہ کمال ہے کہ اگرچہ آپ کسی شخصیت پر لکھتی ہیں مگر اسے ہدفِ تنقید نہیں بناتیں بلکہ اس شخصیت کی خامیاں اور خوبیاں اس انداز سے بیان کر دیتی ہیں کہ فریق ثانی آپ کا گرویدہ ہو جاتا ہے ۔ آپ ادبی دنیا میں نئے آنے والوں کا کھلے دِل سے خیر مقدم کرتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ۔ آپ نے اپنے مضامین کے ذریعے بہت سی ادبی شخصیات کو متعارف کروایا ۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اُردو ادب کے پودے کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔
    آپ نے ڈرامے ، نظمیں ، ہائیکو ، ماہیے،دوہے بھی لکھے ۔آپ کا تحریر کیا ہوا ڈرامہ ”ہیڈ کوارٹر “ کے نام سے پی ٹی وی پر نشر ہوا۔اس کے علاوہ ریڈیو پر جشنِ تمثیل کے سلسلے میں لکھے جانے والے ڈرامے بھی اوّل انعام یافتہ قرار پائے ۔ آپ نے بحیثیتِ مدیر ماہنامہ”نورونار“، ”تخلیق“ اور ”تجدیدِ نَو “ کے لئے خدمات سر انجام دیں ۔ شاعری کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ خود باقاعدہ شاعرہ نہیں کہلواتیں اس کی وجہ وہ یہ بتاتی ہیں کہ ” وہ غزل نہیں کہہ سکتیں “۔ مگر نظمیں بہت خوب لکھتی ہیں ۔اس کے علاوہ جاپانی صنفِ شاعری” ہائیکو “ میں بھی طبع آزمائی کی۔
    بحیثیتِ مجموعی عذرااصغر ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ جنھوں نے اردو ادب کی خدمتِ خاموش کے جذبے کے تحت کام کیا ۔آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو بغیر کسی لالچ کے محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں ۔ آپ کی ادبی خدمات کے صلے میں ہی آپ کو 2017ء میں ”تخلیق ایوارڈ “ سے نوازا گیا ۔ اگر آپ کے تخلیقی سفر کو دیکھا جائے تو آپ کا کوئی استاد نہیں۔ آپ نے حالات سے بہت کچھ سیکھا اور اسی کو اپنی تحریر کا حصہ بنایا ۔ آپ کا اسلوبِ بیاں دہلوی ہے جو اس دور میں کمیاب ہے ۔ آپ ہمار ا قومی اثاثہ ہیں ۔ ہمیں فخر ہے کہ ایسی قابل ہستی ہمیں نصیب ہوئی ۔

  • کشمیر- انسانی المیہ  تحریر: سید غازی علی زیدی

    کشمیر- انسانی المیہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    جلتی بستیاں
    خون کی ندیاں
    عصمت دریاں
    لاشوں کے انبار
    لہورنگ وادی چنار

    انسانیت کی پامالی کے تمام ریکارڈ توڑتی، جبر و استبداد کی المناک تاریخ!

    خون منجمند کرتی کہانیاں اور سفاکیت کا منظر پیش کرتے قصے، لیکن وائے افسوس یہ قصے کہانیاں جھوٹ نہیں بلکہ حرف بہ حرف، ورق بہ ورق سچائی کی وہ دلخراش داستانیں ہیں جن کی گونج برسوں سے کشمیر کے پہاڑوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ظلم وستم کا عریاں رقص جو پوری شدومد اور تال میل کے ساتھ جاری وساری ہے۔ عصمت دری کا شکار عورتوں کے زندہ لاشے، سبز پرچم میں لپٹے کڑیل جوانوں کے جنازے، آزادی کی راہ تکتے موت کی دہلیز پر کھڑے بوڑھوں کے نوحے، غرض کشمیر ایک خطہ نہیں بلکہ چلتی پھرتی لاشوں کا مسکن ہے۔ خواتین ہو یا نوجوان، شیرخوار اطفال ہوں یا بزرگوار، کون ہے جو بھارتی فوج کے ظلم و بربریت سے محفوظ ہے؟
    سیکولرازم کا راگ الاپتے بھارتی انتہا پسندوں کا مکروہ چہرہ کشمیری مسلمانوں کی جرات کی بدولت تمام دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش میں بھارت نے وادی میں خون کی ندیاں بہا دی لیکن آج تک کشمیری عوام کے جذبہ جہاد کو دبانے کی کوششوں میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

    انگریز کی انصاف پسندی و امانتداری کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملانے والوں کیلئے مسئلہ کشمیر کا قضیہ بدعہدی اور بد دیانتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہندوستان کی غیر منصفانہ تقسیم کے زریعے برطانوی راج نے شرپسندی کا جو بیج بویا تھا وہ اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس کی جڑوں میں ہزاروں انسانوں کا خون شامل ہے۔ لہو سے سینچا گیا یہ خون آشام پیڑ کاٹنے کیلئے دو ایٹمی طاقتیں سات دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ لیکن بھارتی عہد شکنی اور ڈھٹائی کی وجہ سے مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔
    جدید ترین ہتھیاروں سے لیس بھارت کی نو لاکھ فوج کشمیریوں کے جدوجہد آزادی کے سامنے بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جھنجھلاہٹ کا شکار مودی سرکار کشمیری عوام کو حق خودارادیت کیا دیتی الٹا آرٹیکل 370 کو کالعدم کر کےان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ اٹوٹ انگ کا دعویٰ کرنے والوں نے کشمیر کا انگ انگ زخمی کردیا ہے۔ بیگناہ کشمیری عوام پر کیا گیا بھارت کا غاصبانہ قبضہ، بھارتی جمہوریت کے ماتھے کا سیاہ داغ ہے۔ بھارتی فوج کی چیرہ دستیاں خود بھارت کیلئے ناسور بن چکی ہیں۔ کشمیری مسلمان تمامتر بربریت کے باوجود، جذبہ شہادت سے سرشار، بھارتی تسلط کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ بھارتی جنگی جرائم کے باوجود اپنی آزادی کیلئے صف پیرا، سر بہ کف مجاہدین بغیر ہتھیاروں کے قابض فوج کیلئے دہشت کی علامت ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری پوری قوت سے بھارت پر زور ڈالے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرے۔ بھارت کا ناجائز اور غاصبانہ تسلط نہ تو کسی کشمیری اور نہ ہی پاکستان کیلئے قابل قبول ہے۔ بھارتی فوج ظلم و ستم کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک آزادی کو روکنے میں ہمیشہ سے ناکام رہی جو کشمیریوں کی بھارت سے نفرت کا مظہر ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر میں عالمی امن فوج تعینات کی جائے اور کشمیری عوام کو ان کا حق استصواب رائے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

    چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو
    ہیں ان گنت شہادتیں، پکار ہے لہو لہو

    @once_says

  • خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    عورت وہ ہستی ہے جو دیکھنے میں تو نرم و نازک ہوتی ہے پر مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہے پھر چاہے کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نا آجائے۔ عورت اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے جو ہر رشتے میں خواہ وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی ہو اپنے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لیے قابلِ فخر ہے۔ اسلام سے قبل عودت کو کوئی حیثیت حاصل نا تھی۔ زمانہ جاہلیت میں مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں جب پیدا ہوتی تو انھیں بوجھ سمجھ کر زندہ زمین میں درگور کردیا جاتا۔ عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نا تھا۔ پر اسلام نے عورت کو تمام حقوق دیے۔ عورت کو ماں کا درجہ دے کر ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیوی، بہن اور بیٹی کو بھی ان کے حقوق دیے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مردوں کی سوچ میں کافی حد تک فرق آچکا ہے۔ جہاں پہلے وہ عورت کو کوئی حق نا دیتے تھے آج وہیں عورتوں کو کافی حد تک آزادی حاصل ہوچکی ہے۔ اب زیادہ تر عورتیں تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی بہتری اور ملک کے ترقی میں بھی اپنا حصّہ ڈالتی ہیں۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کے طرح ہیں جس میں سے اگر ایک بھی خراب ہو جائے تو گاڑی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ گاڑی کا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پہیے صحیح سے کام کریں۔ ٹھیک اسی طرح ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت ایک ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے ملک کی خوشحالی میں کردار ادا کریں۔

    عورت جہاں گھرداری سمبھالنا جانتی ہے وہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈالنا بھی جانتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحیح سے ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین نے ہمیشہ یہ بات باور کروائی ہے کہ کوئی بھی شعبہ ہو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نام بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کو اللّٰہ نے بےشمار ایسی خواتین سے نوازا ہے جنھوں نے عالم فارم تک اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔

    زارا نعیم پاکستان کا وہ نام جس نے چند ماہ قبل تعلیمی میدان میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہوا۔ زارا نعیم نے ایسے حالات میں اے سی سی اے کے امتحان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستانی قوم کو خود پر فخر کرنے کا موقع دیا جب دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے باقی کے طلبہ بےشمار پریشانیوں کا شکار تھے۔

    شرمین عبید چنائے وہ خاتون جنھوں نے معاشرے میں موجود ایک ایسے عنصر پہ فلم بنائی جو کہ کئی سالوں سے پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر آئے روز عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ شرمین عبید چنائے کی اس فلم پر انھیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    بلقیس ایدھی پاکستان کی قابلِ فخر خاتون جنھوں نے اپنے شوہر ایدھی صاحب کے ساتھ مل کر بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق کے بے سہارا لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ بلقیس ایدھی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    مریم مختار پاکستان کی بیٹی اور بہادر فائٹر پائلٹ جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جام شہادت نوش کیا۔ مریم مختار نے اس وقت شہادت حاصل کی جب ان کا طیارہ انجن میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک حادثے کا شکار ہوا۔

    ثناء میر پاکستان کی نامور خاتون کرکٹر جنھوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنا نام اپنی محنت اور صلاحیت سے منوایا۔ ثناء میر نے کرکٹ کی دنیا میں بہت سے عالم ریکارڈ بنائے۔ وہ پاکستان کا فخر اور اپنے جیسی باقی عورتوں کے لیے مثال ہیں جو کہ مستقبل میں کرکٹ کے شعبے سے منسلک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    ان خواتین کے علاوہ اور بھی بہت سی خواتین ہیں جنھوں نے اپنی قابلیت اور جدوجہد سے دنیا کے ہر شعبے خواہ وہ ڈاکٹری کا ہو، انجیرنگ کا ہو، تعلیم کا ہو، فلم انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا ہر ایک شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چل کے اپنے ملک کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔ بےشک ایسی خواتین ہمارے ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • فلسطین میں حاضر ہوں  تحریر  : راجہ ارشد

    فلسطین میں حاضر ہوں تحریر : راجہ ارشد

    بات کروں گا وزیر خارجہ کے حالیہ دورے کی۔
    ارض فلسطین میں حاضر ہوں
    یہ وہ نعرہ ہے جو کپتان کے سپاہی نے کفر کی دہلیز پے بڑی جرآت کے ساتھ بلند کیا۔
    بس واضح ہوا کہ کپتان ہی ہے
    جو میری اور ہر پاکستانی کے امیدوں پر پورا اترا۔یہی نہیں بلکہ اب عالم اسلام کی امیدیں بھی کپتان سے وابستہ ہو چکیں ہیں۔

    اس وقت ہر پاکستانی کی یہ آرزو تھی۔بلکہ میں تو کچھ یوں کہوں گا کہ امت مسلمہ کے ہر فرد کی خواہش تھی کہ کوئی تو ہو جو ڈٹ کر مقابلہ کرئے ۔جو دیار غیر میں کھڑا ہو کر ان کو للکار سکے۔ جو شیر کی طرح دھاڑے اور مسلمانوں کے دل کی آواز بن سکے۔ایک ایسا رہنما جس کی زبان سے ادا ہونے والا حرف ہر پاکستانی اور ہر مسلمان کے دل کی آواز بن جائے۔

    آفرین ہے سبز ہلالی پرچم والے اسلامی جمہوریہ پاکستان
    عالمی سطح پر پاکستان نے فلسطیںن کا مقدمہ جس دلائل، جرآت اور مہارت کے ساتھ لڑا اور جیتا۔
    اسرائیل کو جس طرح للکارا بلکہ اقوام عالم میں ننگا کر کے بھر پور انداز میں آئینہ بھی دکھایا ۔

    یہاں پے یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک بات تو واضح ہو گئی کہ عمران خان کا مشن صرف پاکستان کو اٹھانا نہیں بلکہ عالم اسلام کو اٹھانا ہے۔
    انسانیت کو تذلیل سے بچانا اور انسانیت کی بقا کی جنگ لڑنا ہے۔

    ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سی این این کو دیا گیا انٹرویو پاکستانیوں کے لئے باعث فخر ہے۔بلکل صاف ستھرے اور دو ٹوک الفاظ میں بین الاقوامی دہشتگرد کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا۔

    اس وقت پوری دنیا کو یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ جانی چاہیے کہ پاکستان کی باگ ڈور بلکہ عالم اسلام کے تاریخ کے دیانت دار ترین اور مخلص ترین ہاتھوں میں ہے۔
    عالمی قوتوں کی صفوں میں بھونچال آ چکا اور سب پر لرزہ طاری ہے۔

    میرے عزیز ہم وطنوں! آج تو کچھ لوگوں کو تھوڑی سی عقل آنی چاہیئے جو یہودی ایجنٹ یہودی ایجنٹ کی رٹ بغیر سوچے سمجھے لگائے پھرتے تھے۔ آج
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ہمارے ملک اور ہمارے لیڈر کا محافظ ہو۔آمین

    پاکستان زندہ باد

    @RajaArshad56

  • نیوکلیئر پاکستان اور فاتحین اسلام  ‎تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    نیوکلیئر پاکستان اور فاتحین اسلام ‎تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    پاکستان نے اپنا نیوکلئیر پروگرام70 کی دہائی میں شروع کیا جبکہ میزائل پروگرام کا آغاز 1988ءمیں ہوا۔پاکستان کے میزائل پروگرام نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور آج پاکستان کے پاس بھارت سے بہتر میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی گواہی غیرملکی میڈیا نے بھی دی ہے۔پاکستان وقتا” فوقتا” جدید مزائیلز کے تجربے کر کے دشمن کے دلوں پر ہیبت طاری کئے رکھتا ہے ۔ یہ مزائیل اور دوسرے جنگی آلات انڈیا سمیت دوسرے بڑے دشمنوں کا غرور مٹی میں ملانے کے لیے کافی ہیں ۔
    ‎ پاکستان کے جنگی آلات کے نام مسّلم تاریخ کے بہترین جنگجو ،فاتحین ،شیر دل مجاھدوں اور ایسے مسلم سپہ سالاروں کے نام پر رکھے گئے ہیں جوتاریخ اسلام کے نامور فاتحین ہیں
    ‎سب سے پہلے بات کرتے ہیں پاکستان کے پاس موجود چند خطرناک ٹینکوں کی جو اسلام کے عظیم سپہ سالاروں کے نام پر ہیں ۔

    ‎پاکستانی ٹینک الخالد کا نام مشہور اسلامی سپہ سالار، ایک بہادر جنگجو،ایک عظیم فاتح جنہوں نے ایک بھی میدان جنگ میں شکست نہیں کھائی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے نام پر ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا لقب سیف اللہ ہے جس کا مطلب اللہ کی تلوار ہے۔

    ‎ ٹینک الضرار کا نام مشہور صحابی حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ بڑے شہسوار، بہادر اور شاعر تھے۔اپ جب میدان جنگ میں اترتے تو دشمن کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر صفوں کو چیرتے ہوے نکل جاتے ۔
    ‎اب بات کرتے ہیں پاکستان کے پاس موجود کچھ ایسے مزائیل کی جنہوں نے دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ، دشمن کے غرور کو مٹی میں ملایا اور انکو اس پاک سر زمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کے قابل نا چھوڑا ۔

    ‎حتف مزائیل ۔ حتف نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی تلوار کانام تھا لہٰذا پاک فوج نے اس راکٹ کا نام حتف رکھا۔یہ ایک آرٹلری راکٹ ہے اور بہت عمدہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
    ‎حتف میزائل ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہے۔آئی ایس پی آر کاکہناہے کہ یہ ایک ملٹی ٹیوب بلیسٹک میزائل ہے یعنی لانچ کرنے والی وہیکل سے ایک سے زائد میزائل داغے جا سکتے ہیں۔

    ‎ابدالی مزائیل ۔
    ‎پاکستانی میزائل ابدالی کا نام فاتح احمد شاہ ابدالی کے نام پر ہے ۔ احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو پانی پت کے میدان میں شکست فاش دی۔
    ‎۔ ابدالی بھی سوپر سانک زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل ہے جبکہ اس کی رینج 180 سے 200کلومیٹر تک ہے۔

    ‎ غزنوی مزائیل ۔ غزنوی میزائل کا نام مشہور فاتح محمود غزنوی کے نام پر ہے ۔ محمود غزنوی نے بھارت پر 17حملے کیے
    ‎غزنوی ایک ہائپر سانک میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مار کرتا ہے جبکہ اس کی رینج 290کلومیٹر تک ہے۔اس کی لمبائی 9.64میٹر،چوڑائی 0.99میٹر اور وزن 5256کلوگرام ہے۔

    ‎غوری میزائل کا نام عظیم مسلم سپہ سالار فاتح محمدغیاث الدین غوری کے نام پر رکھا گیا
    ‎یہ میڈیم رینج کا میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مارکرتا ہے اور700کلوگرام وزن اٹھا کر 1500 کلومیٹر تک جاسکتا ہے
    ‎غوری II ایک میڈیم رینج بلیسٹک میزائل ہے جس کی رینج 2000کلومیٹر ہے۔اس کی لمبائی 18میٹر، موٹائی1.35میٹراورلانچ کے وقت وزن 17800کلوگرام ہے۔
    ‎۔
    ‎ بابر مزائیل ۔ بابر میزائل کا نام مشہور فاتح ظہیر الدین بابر کے نام پر ہے ۔ ظہیر الدین بابر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے بانی تھے۔
    ‎یہ پاکستان کاپہلا کروزمیزائل ہے اور اس کی رینج 700کلومیٹر ہے۔ یہ دشمن کے ریڈار سے بچ کر اس کے ائیڑ ڈیفنس کو تہس نہس کرسکتا ہے۔

    ‎نصر مزائیل ۔ نصر میزائل کا نام عربی لفظ نصر سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے فتح پانا یا بچانے والا۔
    ‎یہ دنیا کا سب سے چھوٹا میزائیل ہے، اور رینج 40 سے 655 کلومیٹر ہے، اِس ایک میزائیل نے بھارت کی پوری ڈاکٹرائن کو ناکارہ بنا دیا ہے، یہ میزائیل صرف 5 منٹ کے اندر بھارت کی پوری کولڈ ڈاکٹرائن کو نیست و نابود کردے گا۔
    ‎کیونکہ اِس میں استعمال ہونے والہ ایٹم بم اتنا چھوٹا ہے کہ اِسکو توپ سے بھی لانچ کیا جاسکتا ہے۔

    ‎ابابیل مزائیل ۔ ابابیل ایک چھوٹے سے پرندے کا نام ہے جس نے ابرہہ کے ہاتھیوں کے لشکر پر کنکریاں برسائی تھیں۔
    ‎ ابابیل ’’زمین سے زمین تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جس سے 2200 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل ایک سے زائد اور جوہری اور دیگر ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے اور یہ میزائیل کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت رکھتا ہے

    ‎شاہین مزائیل ۔ شاہین بھی ایک پرندے کا نام ہے جو حملہ کرنے اور پرواز کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔
    ‎شاہین۔ون، 650 کلو میٹر تک مار کرنے اور ہر طرح کا وار ہیڈ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ‎رعد مزائیل ۔ رعد اور برق کا مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے یعنی بادل کی گرج۔
    ‎یہ رعد کروز میزائل جس کی رفتار کی حد 350 کلومیٹر ہے اور وہ زمین پر یا سمندر میں اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے، جو تجربہ کیا گیا اس میں اس کی کامیابی 100 فیصد تھی۔ یہ کروز میزائل ہے جو رکاوٹوں کے باوجود سیدھا اپنے ہدف کی طرف لپکتا ہے۔

    ‎حتف میزائل کا سلسلہ غزنوی، ابدالی، غوری، شاہین، بابر سے ہوتا ہوا 2750 کلومیٹر رینج کے حامل شاہین 3 تک پہنچ چکا ہے جو بھارت کے مشرق میں خلیج بنگال تک مارکرسکتا ہے اور رعد کی بات کریں تو بحر ہند کے پانیوں میں پاکستان نہ صرف اپنے تحفظ کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ سمندری حملے کی استعداد بھی حاصل کررہا ہے۔

    ‎جس طرح اسلام کے بہادر سپہ سالاروں نے پوری دنیا میں اپنی جرات و بہادری، جانثاری ،اور قابلیت سے انقلاب برپا کئے کئی جنگوں میں فاتحین بن کر ابھرے ۔ ویسے ہی انکے نام پر رکھے گئے پاکستانی جنگی آلات اپنی مثال آپ رکھتے ہیں جو دشمن کے لیے ہمیشہ سے ایک ڈراؤنا خواب ہیں

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

    Follow @IamYasif

  • ‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    حضرت عثمانؓ بن عفانؓ کا نام عثمانؓ کنیت ابو عبداللہ اور ابو عمر تھا، آپ کے والد کا نام عفانؓ بن ابی العاصؓ تھا، عثمانؓ بن عفانؓ تعلق شہر مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تھا

    عثمان غنیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپؓ کا شمار آپﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے اور اُمت مسلمہ میں کامل الحیاء والایمان کے الفاظ آپؓ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں، آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر آپ ﷺسےجاملتاہے۔ آپ ؓ خليفہ سوم تھے، آپؓ کی نانی آپﷺ کی سگی پھوپھی اورآپ ﷺْ کے والد حضرت عبداللہؓ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپؓ حضرت محمدﷺْکےقریبی رشتے دار تھے

    آپؓ چوتھے ایسے شخص تھے جہنوں نے اسلام ،
    قبول کیا، آپﷺ عثمان غنیؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپؓ  نبی کریمﷺ کےدوہرے داماد تھے، حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ سے دو بیٹیوں حضرت رقیہ ؓ اور انکے انتقال کے بعد حضرت ام کلثومؓ کی شادی فرمائی اور ذو النورین کا خطاب دیا، اللہ تعالیٰﷻ نےآپؓ  کوخوب مال عطافرمایاتھا، اور آپ اللہ عطا کردہ مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہﷻ کے آخری رسول حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ کو "غنی” کا لقب عطا فرمایا۔

    آپؓ نے ٢٤ ہجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،آپؓ خلیفہ مقرر ہوئے، تو شروع میں عثمان غنیؓ نے ٢٢ لاکھ مربع میل پر حکومت کی، مختلف علاقوں کو فتح کر کے آپؓ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا.

    آپؓ کو اللہﷻ نے عظیم صفات سے مُتصف فرما کر صحابہ اکرام ؓ میں ممتاز فرمایا،جو اُن ہی کا حصہ ہے، آپؓ شرم و حیا کا ایسا پیکر تھے، کہ فرشتے بھی آپ ؓسے شرم وحیا کرتے تھے ۔آپؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبویﷺ کی توسیع اور قرآن مجید کو یکجا فرمایا۔

    اسی طرح مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی کمی تھی شہر مدینہ منورہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا، جوحضرت عثمان نے ۳۵ ہزار درہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے عثمان کو جنت کی بشارت دی۔

    ٤٥ ہجری میں باغيوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کرکے آپؓ کا کھانا، پینا بند کردیا گیا، ٤٠ دنوں تک آپؓ اور آپؓ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا آپؓ کے ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی حضرت مُحَمَّد ﷺکے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا، عثمان غنیؓ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود آپﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری

    ٤٠ دن بھوکے، پیاسے ٨٢ سالہ آپؓ کو جمعہ کے دن ،١٨ ذو الحج ٣٥ ؁ء ہجری کو قران مجید کی تلاوت کےدوران انتہائی درد ناک انداز میں عثمان غنی ؓ شہید کردیا گیا۔شہادت کے وقت آپؓ روزے سے تھے
    اس جانکاہ حادثہ میں آپؓ کی زوجہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک عثمان غنیؓ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ شہید کرنے کے بعد باقیوں نے آپؓ کا گھر بھی لوٹ لیا

    آپؓ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسولﷺ اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری، آپؓ عبادت، حیاء، تقوی، طہارت، صبر، شکر کے پیکر تھے۔ آپؓ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔

    آپؓ کی قبر مبارک مسجد نبویﷺ شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ پاکﷻ انکے درجات بلند فرمائے اور انکی قبر پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرماٸے۔آمین یار رب العالمین!

    ‎@JahantabSiddiqi