Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • فلسطین میں حاضر ہوں  تحریر  : راجہ ارشد

    فلسطین میں حاضر ہوں تحریر : راجہ ارشد

    بات کروں گا وزیر خارجہ کے حالیہ دورے کی۔
    ارض فلسطین میں حاضر ہوں
    یہ وہ نعرہ ہے جو کپتان کے سپاہی نے کفر کی دہلیز پے بڑی جرآت کے ساتھ بلند کیا۔
    بس واضح ہوا کہ کپتان ہی ہے
    جو میری اور ہر پاکستانی کے امیدوں پر پورا اترا۔یہی نہیں بلکہ اب عالم اسلام کی امیدیں بھی کپتان سے وابستہ ہو چکیں ہیں۔

    اس وقت ہر پاکستانی کی یہ آرزو تھی۔بلکہ میں تو کچھ یوں کہوں گا کہ امت مسلمہ کے ہر فرد کی خواہش تھی کہ کوئی تو ہو جو ڈٹ کر مقابلہ کرئے ۔جو دیار غیر میں کھڑا ہو کر ان کو للکار سکے۔ جو شیر کی طرح دھاڑے اور مسلمانوں کے دل کی آواز بن سکے۔ایک ایسا رہنما جس کی زبان سے ادا ہونے والا حرف ہر پاکستانی اور ہر مسلمان کے دل کی آواز بن جائے۔

    آفرین ہے سبز ہلالی پرچم والے اسلامی جمہوریہ پاکستان
    عالمی سطح پر پاکستان نے فلسطیںن کا مقدمہ جس دلائل، جرآت اور مہارت کے ساتھ لڑا اور جیتا۔
    اسرائیل کو جس طرح للکارا بلکہ اقوام عالم میں ننگا کر کے بھر پور انداز میں آئینہ بھی دکھایا ۔

    یہاں پے یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک بات تو واضح ہو گئی کہ عمران خان کا مشن صرف پاکستان کو اٹھانا نہیں بلکہ عالم اسلام کو اٹھانا ہے۔
    انسانیت کو تذلیل سے بچانا اور انسانیت کی بقا کی جنگ لڑنا ہے۔

    ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سی این این کو دیا گیا انٹرویو پاکستانیوں کے لئے باعث فخر ہے۔بلکل صاف ستھرے اور دو ٹوک الفاظ میں بین الاقوامی دہشتگرد کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا۔

    اس وقت پوری دنیا کو یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ جانی چاہیے کہ پاکستان کی باگ ڈور بلکہ عالم اسلام کے تاریخ کے دیانت دار ترین اور مخلص ترین ہاتھوں میں ہے۔
    عالمی قوتوں کی صفوں میں بھونچال آ چکا اور سب پر لرزہ طاری ہے۔

    میرے عزیز ہم وطنوں! آج تو کچھ لوگوں کو تھوڑی سی عقل آنی چاہیئے جو یہودی ایجنٹ یہودی ایجنٹ کی رٹ بغیر سوچے سمجھے لگائے پھرتے تھے۔ آج
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ہمارے ملک اور ہمارے لیڈر کا محافظ ہو۔آمین

    پاکستان زندہ باد

    @RajaArshad56

  • نیوکلیئر پاکستان اور فاتحین اسلام  ‎تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    نیوکلیئر پاکستان اور فاتحین اسلام ‎تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    پاکستان نے اپنا نیوکلئیر پروگرام70 کی دہائی میں شروع کیا جبکہ میزائل پروگرام کا آغاز 1988ءمیں ہوا۔پاکستان کے میزائل پروگرام نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور آج پاکستان کے پاس بھارت سے بہتر میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی گواہی غیرملکی میڈیا نے بھی دی ہے۔پاکستان وقتا” فوقتا” جدید مزائیلز کے تجربے کر کے دشمن کے دلوں پر ہیبت طاری کئے رکھتا ہے ۔ یہ مزائیل اور دوسرے جنگی آلات انڈیا سمیت دوسرے بڑے دشمنوں کا غرور مٹی میں ملانے کے لیے کافی ہیں ۔
    ‎ پاکستان کے جنگی آلات کے نام مسّلم تاریخ کے بہترین جنگجو ،فاتحین ،شیر دل مجاھدوں اور ایسے مسلم سپہ سالاروں کے نام پر رکھے گئے ہیں جوتاریخ اسلام کے نامور فاتحین ہیں
    ‎سب سے پہلے بات کرتے ہیں پاکستان کے پاس موجود چند خطرناک ٹینکوں کی جو اسلام کے عظیم سپہ سالاروں کے نام پر ہیں ۔

    ‎پاکستانی ٹینک الخالد کا نام مشہور اسلامی سپہ سالار، ایک بہادر جنگجو،ایک عظیم فاتح جنہوں نے ایک بھی میدان جنگ میں شکست نہیں کھائی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے نام پر ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا لقب سیف اللہ ہے جس کا مطلب اللہ کی تلوار ہے۔

    ‎ ٹینک الضرار کا نام مشہور صحابی حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ بڑے شہسوار، بہادر اور شاعر تھے۔اپ جب میدان جنگ میں اترتے تو دشمن کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر صفوں کو چیرتے ہوے نکل جاتے ۔
    ‎اب بات کرتے ہیں پاکستان کے پاس موجود کچھ ایسے مزائیل کی جنہوں نے دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ، دشمن کے غرور کو مٹی میں ملایا اور انکو اس پاک سر زمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کے قابل نا چھوڑا ۔

    ‎حتف مزائیل ۔ حتف نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی تلوار کانام تھا لہٰذا پاک فوج نے اس راکٹ کا نام حتف رکھا۔یہ ایک آرٹلری راکٹ ہے اور بہت عمدہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
    ‎حتف میزائل ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہے۔آئی ایس پی آر کاکہناہے کہ یہ ایک ملٹی ٹیوب بلیسٹک میزائل ہے یعنی لانچ کرنے والی وہیکل سے ایک سے زائد میزائل داغے جا سکتے ہیں۔

    ‎ابدالی مزائیل ۔
    ‎پاکستانی میزائل ابدالی کا نام فاتح احمد شاہ ابدالی کے نام پر ہے ۔ احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو پانی پت کے میدان میں شکست فاش دی۔
    ‎۔ ابدالی بھی سوپر سانک زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل ہے جبکہ اس کی رینج 180 سے 200کلومیٹر تک ہے۔

    ‎ غزنوی مزائیل ۔ غزنوی میزائل کا نام مشہور فاتح محمود غزنوی کے نام پر ہے ۔ محمود غزنوی نے بھارت پر 17حملے کیے
    ‎غزنوی ایک ہائپر سانک میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مار کرتا ہے جبکہ اس کی رینج 290کلومیٹر تک ہے۔اس کی لمبائی 9.64میٹر،چوڑائی 0.99میٹر اور وزن 5256کلوگرام ہے۔

    ‎غوری میزائل کا نام عظیم مسلم سپہ سالار فاتح محمدغیاث الدین غوری کے نام پر رکھا گیا
    ‎یہ میڈیم رینج کا میزائل ہے جو زمین سے زمین تک مارکرتا ہے اور700کلوگرام وزن اٹھا کر 1500 کلومیٹر تک جاسکتا ہے
    ‎غوری II ایک میڈیم رینج بلیسٹک میزائل ہے جس کی رینج 2000کلومیٹر ہے۔اس کی لمبائی 18میٹر، موٹائی1.35میٹراورلانچ کے وقت وزن 17800کلوگرام ہے۔
    ‎۔
    ‎ بابر مزائیل ۔ بابر میزائل کا نام مشہور فاتح ظہیر الدین بابر کے نام پر ہے ۔ ظہیر الدین بابر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے بانی تھے۔
    ‎یہ پاکستان کاپہلا کروزمیزائل ہے اور اس کی رینج 700کلومیٹر ہے۔ یہ دشمن کے ریڈار سے بچ کر اس کے ائیڑ ڈیفنس کو تہس نہس کرسکتا ہے۔

    ‎نصر مزائیل ۔ نصر میزائل کا نام عربی لفظ نصر سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے فتح پانا یا بچانے والا۔
    ‎یہ دنیا کا سب سے چھوٹا میزائیل ہے، اور رینج 40 سے 655 کلومیٹر ہے، اِس ایک میزائیل نے بھارت کی پوری ڈاکٹرائن کو ناکارہ بنا دیا ہے، یہ میزائیل صرف 5 منٹ کے اندر بھارت کی پوری کولڈ ڈاکٹرائن کو نیست و نابود کردے گا۔
    ‎کیونکہ اِس میں استعمال ہونے والہ ایٹم بم اتنا چھوٹا ہے کہ اِسکو توپ سے بھی لانچ کیا جاسکتا ہے۔

    ‎ابابیل مزائیل ۔ ابابیل ایک چھوٹے سے پرندے کا نام ہے جس نے ابرہہ کے ہاتھیوں کے لشکر پر کنکریاں برسائی تھیں۔
    ‎ ابابیل ’’زمین سے زمین تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جس سے 2200 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل ایک سے زائد اور جوہری اور دیگر ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے اور یہ میزائیل کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت رکھتا ہے

    ‎شاہین مزائیل ۔ شاہین بھی ایک پرندے کا نام ہے جو حملہ کرنے اور پرواز کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔
    ‎شاہین۔ون، 650 کلو میٹر تک مار کرنے اور ہر طرح کا وار ہیڈ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ‎رعد مزائیل ۔ رعد اور برق کا مطلب اور مفہوم ایک ہی ہے یعنی بادل کی گرج۔
    ‎یہ رعد کروز میزائل جس کی رفتار کی حد 350 کلومیٹر ہے اور وہ زمین پر یا سمندر میں اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے، جو تجربہ کیا گیا اس میں اس کی کامیابی 100 فیصد تھی۔ یہ کروز میزائل ہے جو رکاوٹوں کے باوجود سیدھا اپنے ہدف کی طرف لپکتا ہے۔

    ‎حتف میزائل کا سلسلہ غزنوی، ابدالی، غوری، شاہین، بابر سے ہوتا ہوا 2750 کلومیٹر رینج کے حامل شاہین 3 تک پہنچ چکا ہے جو بھارت کے مشرق میں خلیج بنگال تک مارکرسکتا ہے اور رعد کی بات کریں تو بحر ہند کے پانیوں میں پاکستان نہ صرف اپنے تحفظ کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ سمندری حملے کی استعداد بھی حاصل کررہا ہے۔

    ‎جس طرح اسلام کے بہادر سپہ سالاروں نے پوری دنیا میں اپنی جرات و بہادری، جانثاری ،اور قابلیت سے انقلاب برپا کئے کئی جنگوں میں فاتحین بن کر ابھرے ۔ ویسے ہی انکے نام پر رکھے گئے پاکستانی جنگی آلات اپنی مثال آپ رکھتے ہیں جو دشمن کے لیے ہمیشہ سے ایک ڈراؤنا خواب ہیں

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

    Follow @IamYasif

  • ‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    حضرت عثمانؓ بن عفانؓ کا نام عثمانؓ کنیت ابو عبداللہ اور ابو عمر تھا، آپ کے والد کا نام عفانؓ بن ابی العاصؓ تھا، عثمانؓ بن عفانؓ تعلق شہر مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تھا

    عثمان غنیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپؓ کا شمار آپﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے اور اُمت مسلمہ میں کامل الحیاء والایمان کے الفاظ آپؓ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں، آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر آپ ﷺسےجاملتاہے۔ آپ ؓ خليفہ سوم تھے، آپؓ کی نانی آپﷺ کی سگی پھوپھی اورآپ ﷺْ کے والد حضرت عبداللہؓ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپؓ حضرت محمدﷺْکےقریبی رشتے دار تھے

    آپؓ چوتھے ایسے شخص تھے جہنوں نے اسلام ،
    قبول کیا، آپﷺ عثمان غنیؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپؓ  نبی کریمﷺ کےدوہرے داماد تھے، حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ سے دو بیٹیوں حضرت رقیہ ؓ اور انکے انتقال کے بعد حضرت ام کلثومؓ کی شادی فرمائی اور ذو النورین کا خطاب دیا، اللہ تعالیٰﷻ نےآپؓ  کوخوب مال عطافرمایاتھا، اور آپ اللہ عطا کردہ مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہﷻ کے آخری رسول حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ کو "غنی” کا لقب عطا فرمایا۔

    آپؓ نے ٢٤ ہجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،آپؓ خلیفہ مقرر ہوئے، تو شروع میں عثمان غنیؓ نے ٢٢ لاکھ مربع میل پر حکومت کی، مختلف علاقوں کو فتح کر کے آپؓ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا.

    آپؓ کو اللہﷻ نے عظیم صفات سے مُتصف فرما کر صحابہ اکرام ؓ میں ممتاز فرمایا،جو اُن ہی کا حصہ ہے، آپؓ شرم و حیا کا ایسا پیکر تھے، کہ فرشتے بھی آپ ؓسے شرم وحیا کرتے تھے ۔آپؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبویﷺ کی توسیع اور قرآن مجید کو یکجا فرمایا۔

    اسی طرح مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی کمی تھی شہر مدینہ منورہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا، جوحضرت عثمان نے ۳۵ ہزار درہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے عثمان کو جنت کی بشارت دی۔

    ٤٥ ہجری میں باغيوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کرکے آپؓ کا کھانا، پینا بند کردیا گیا، ٤٠ دنوں تک آپؓ اور آپؓ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا آپؓ کے ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی حضرت مُحَمَّد ﷺکے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا، عثمان غنیؓ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود آپﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری

    ٤٠ دن بھوکے، پیاسے ٨٢ سالہ آپؓ کو جمعہ کے دن ،١٨ ذو الحج ٣٥ ؁ء ہجری کو قران مجید کی تلاوت کےدوران انتہائی درد ناک انداز میں عثمان غنی ؓ شہید کردیا گیا۔شہادت کے وقت آپؓ روزے سے تھے
    اس جانکاہ حادثہ میں آپؓ کی زوجہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک عثمان غنیؓ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ شہید کرنے کے بعد باقیوں نے آپؓ کا گھر بھی لوٹ لیا

    آپؓ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسولﷺ اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری، آپؓ عبادت، حیاء، تقوی، طہارت، صبر، شکر کے پیکر تھے۔ آپؓ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔

    آپؓ کی قبر مبارک مسجد نبویﷺ شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ پاکﷻ انکے درجات بلند فرمائے اور انکی قبر پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرماٸے۔آمین یار رب العالمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ‏باغی عورت  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    ‏باغی عورت تحریر: ماہ رخ اعظم

    عورت کو اتنا مت تنگ کریں۔کہ وہ بغاوت پر اتر آۓ کیونکہ جب ایک عورت بغاوت پر اتر آتی ہے تو اس باغی عورت میں شرم و حیاء اخلاقیات اور تہذیب کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ،وہ باغی ہوکر ہر شخص کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتی ہے ،اتنی بد لحاظ ہو جاتی ہے، کہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی چاہے، وہ بڑا ہو یاجھوٹا ہو اور ہر مرد کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے چاہے وہ مرد اس باپ ہی کیوں نا ہو ،باغی عورت اس وقت تک ہی پرامن اور خاموش رہتی ہے جب تک وہ تہذیب میں ہے جیسے ہی باغی عورت تہذیب چھوڑتی ہے تو وہ فتنہ برپا کر دیتی ہے۔

    پھر بڑے بڑے لوگ بھی اس سے پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ باغی عورت تمیز تہذیب اخلاقیات سب بھول کر اگلے انسان کی اینٹ سے اینٹی بجا دیتی ہے۔

    مرد حضرات توجہ فرماٸیں!! ان کو لگتا ہے کہ باغی عورت ہمارا کیا اکھاڑ سکتی ہے ؟ جب یہ ایک عورت باغی ہوتی ہے اور بغاوت پر اتر آتی ہے تو ہر انسان کا بھی ایمان ڈگمگا کر رکھ دیتی ہے ،باغی عورت کے شر سے بچنا ہے، تو عورت کے ساتھ حسن سلوک کروں، انہیں امن عزت، محنت اور اہمیت دو اسکی راۓ کا احترام کرو ،اسے کبھی مجبور اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو ،پیار محبّت سے اس سے بےشک جان بھی مانگ لوں ،وہ باغی عورت ہنس کر دے دے گی ،لیکن اگر اس کے ساتھ زور و زبردستی کرنی کی کوشش کروگے، وہ باغی عورت اس وقت آپ کی بات کا مان بھی رکھ لے گی ، لیکن موقع ملتے ہی آپکو دھوکہ دیتے ہوۓ ایک لمحے کو بھی نہیں سوچے گی اور وہ حشر کریں کہ آپ روح تک کانپ جاٸیں گی ۔

    اکثر دیکھا گیا ہے، کہ جس عورت کی زبردستی شادی کروائی جاتی ہے ،وہ عورت اس لہحے تو وہ صبر کا گھونٹ پی جاتی ہے، لیکن جس کی زندگی میں وہ عورت جاتی ہے، اسکی زندگی کو دوزخ بنا کر رکھ دیتی ہے ،جب ہمارے اہل خانہ جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اس وقت وہ بیٹی کے ساتھ داماد کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ،کہ ہم اگر اپنی بیٹی کے ساتھ زور و زبردستی کر رہے ہیں تو اس خمیازہ انکے کو داماد بھی بھگتنا پڑیں گا۔

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ سو میں سے چالیس فیصد ہی عورتیں زبردستی کی شادی کو ایمانداری سے نبھاتی ہیں ورنہ ساٹھ فیصد عورتیں زبردستی کی شادی کے بعد باغی بن جاتی ہے اور مرد کے ساتھ بےوفا ، بے لحاظ بے بد زبان ، مروت ہی ثابت ہوتی ہیں!!

    آخر میں بس یہی کہوں گی

    رہزن ہے میرا رہبر منصف ہے میرا قاتل
    سہہ لوں تو قیامت ہے، کہہ دوں تو بغاوت ہے!!

    >

  • ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن  تحریر : ندرت حامد

    ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن تحریر : ندرت حامد

    دنیا بھر میں ہر سال 28 جولائی کو ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کے اندر ہے ہیپاٹائٹس جیسے مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ یہ جگر کی بیماری ہے جگر میں سوزش (زخم ,درد) کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہیپاٹائٹس کے دن ایک خاص تھیم رکھا گیا ہے اس سال کا تھیم (theme ) ہے
    Hapatites can’t wait
    یعنی ہیپاٹائٹس انتظار نہیں کر سکتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام ہیں ۔ ہیپاٹائٹس آۓ بی ,سی ڈی اور ای ۔
    ہیپاٹائٹس بی اور سی سب سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ ان کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 1.1 ملین لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ اور ہر سال تین لاکھ سے زائد کیس سامنے آتے ہیں ۔ہیپاٹائٹس کی پہلی قسم میں ہیپاٹائٹس A ہے ۔ HAV کھانے پینے میں ناقص صفائ کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔ جنسی عمل سے بھی یہ پھیل سکتا ہے ۔ ویکسین دستیاب ہونے کی وجہ سے عام طور پر متاثرہ افراد صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔
    دوسری قسم ہیپاٹائٹس B ہے ۔HBV متاثرہ خون , میڈکل ٹریٹمنٹ کے دوران استمعال ہونے والے جراثیم سے آلودہ آلات کے زریعے پھیلتا ہے ۔متاثرہ ماں سے زچگی کےدوران بچے میں منتقل ہوتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس بی بہت ہی خطرناک ہے لیکن اسکی ویکسین دستیاب ہے ۔ ہیپاٹائٹس سی HCV زیادہ تر بلڈ ٹرانسمیشن اور غیر صاف آلات جراحی کی وجہ سے پھیلتا ہے بہت کم حد تک جنسی عملHCV کی وجہ بنتا ہے ۔HCV کی اب تک کوئ ویکسین ایجاد نہیں ہوئ ۔ لیکن احتیاطی تعدبیر اختیار کر کے اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے ۔
    ہیپاٹائٹس D وائرس اکثر اوقات ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پہلے سی ایچ بی وی کا شکار ہوتے ہیں ۔ دونوں وائرس مل کہ شدت اختیار کر لیتے ہیں اور مریض نازک کی حالت نازک ہو جاتی ہے۔ تاہم ایچ بی وی کی ویکسین کی وجہ سے علاج ممکن ہے ۔پانچویں قسم ہیپاٹائٹس E ہے ۔ ایچ ای وی ناقص خوراک کھانے اور ناقص پانی پینے کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔ ہیپاٹائٹس زیادہ تر ترقی پزیر ممالک میں عام ہے ۔جہاں صحت و صفائ کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ پچاس ہزار ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نئے کیس سامنے آتے ہیں ۔ ایچ ای وی کی ویکسین میسر ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں ہیپاٹائٹس اور اسکی مختلف اقسام کے متعلق معلومات دینا ہے تاکہ حفاظتی اقتدام اختیار کر کے خود کو ہیپاٹائٹس سے بچایا جا سکے
    @N_Hkhan

  • سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد  تحریر: احسان الحق

    سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد تحریر: احسان الحق

    سحر کی ابتداء کے متعلق کوئی حتمی معلومات دستیاب نہ ہونے کے مترادف ہیں. سحر کب، کہاں اور کس جگہ سے شروع ہوا مکمل یقین کے ساتھ کچھ کہنا بہت مشکل ہے. مگر زمانہ قدیم میں مختلف قوموں اور تہذیبوں میں سحر اور جادو کا وجود ملتا ہے. آسٹریلیا، یورپ، افریقہ، ایشیا اور قدیم یونانی، رومی اور مصری تہذیبوں میں جادو یا سحر کے متعلق تفصیل کے ساتھ تاریخ موجود ہے. آسٹریلیا کے Aborigines قبیلے میں، امریکہ میں Red Indians لوگوں میں، افریقہ کے Azande and Cewa باشندوں میں، قدیم مصری، یونانی، رومی باشندوں میں سحر کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہا ہے.

    جادو یا سحر ہر زمانے میں ہر قوم کے لوگوں کے عقیدہ میں رہا ہے. قدیم مصر کے پجاری اسی جادوئی دعوے یا عقیدے کی بنیاد پر عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے. قدیم بابلی، ویدک اور دیگر روایات میں اپنے دیوتاؤں اور خداؤں کی طاقت کا منبع یا زریعہ جادو کو ہی تصور کیا جاتا تھا. دنیا کے مختلف حصوں کی دریافت شدہ باقیات یا غاروں میں ملنے والی تصاویر، تحاریر اور پتھروں پر تراشیدہ مجسموں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں سحر کی تصویر کشی کی گئی ہے مگر یہ محض دعویٰ یا قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے.
    سحر کے مظہر یا وجود کے متعلق زیادہ قابل بھروسہ معلومات قدیم مشرق وسطیٰ، یونانی، رومی، نصرانی یورپ اور ان کے ہم عصر تہذیبوں کے بارے میں موجود ہے. مصر اور mesopotamia جس کا زمانہ تقریباً 2300 قبل مسیح ہے کے سحر کے متعلق کافی مواد ملتا ہے جس سے جادوئی منتر، جادوئی قواعد و ضوابط اور ترکیبات کا احساس ہوتا ہے. اس کے بعد دیگر اقوام یا تہذیبوں میں جادو کا ذکر ملتا ہے ان میں انڈمان کے جزائر، کلاہاری سان، جنوب مغربی امریکا کے Navajo، ہمالیہ کے ترائی لوگوں میں بحرالکاہل کے جزائری، بابلی وینیوائی، قدیم مصری، کنعانی، یونانی اور رومی باشندوں میں.

    برصغیر میں سحر کی ابتداء اور ترویج کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ سحر کی ابتداء ارض فارس سے ہوئی اور یہیں سے یہ علم برصغیر اور عرب دنیا میں پھیلا. قدیم ایران میں مگ نامی ایک قوم آباد تھی جو زرتشت کے پیروکار تھے. سنسکرت زبان میں جادو کو "مای گگ” مطلب مگوں کا علم کہا جاتا ہے. انگریزی میں لفظ magic میجک اسی لفظ سے ماخوذ ہے. یہ قوم ایران سے جب یہ برصغیر میں آئی تو جادو کا علم بھی ساتھ لیکر آئی. یہاں کے باشندوں نے یہ علم سیکھا جس سے وہ لوگوں کو مفتون و مسحور کیا کرتے تھے. برصغیر میں زمانہ قدیم میں ہندوؤں کے نزدیک سحر کو خاص اہمیت اور شہرت حاصل رہی ہے. موجودہ دور میں بھی اس علم کو خاص اہمیت حاصل ہے بلکہ کچھ ہندو اس کو اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہیں. ان کے نزدیک چار یوگوں میں سے "ہٹ یوگ” سحر کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے زبردستی، جبر، ہٹ، ضد اور زبردستی خالق کائنات تک پہنچنا.

    انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق لفظ ماگی Magus کی جمع ہے. یہ ایک ایرانی قبیلہ تھا جو مذہبی رسومات کے لئے مختص تھا. اسی سے لاطینی لفظ Magoi ہے اس کی اصل بھی ایرانی ہے. ماگی قبیلے کے لوگ ابتداء سے زرتشت تھے یا نہیں، اس بابت کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے. ماگی ساسانی اور پارسی ادوار میں ایک مذہبی طبقے کے طور پر جانا جاتا تھا. زرتشی مذہبی کتاب اویستا Avesta کا آخری حصہ غالباً اسی سے ماخوذ ہے.

    نوٹ: مندرجہ بالا تحریر کو لکھنے کے لئے ان کتب کا مطالعہ کیا گیا
    1: جادو کی حقیقت اور اس کا قرانی علاج
    2: انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا

    @mian_ihsaan

  • والدین معاشرتی بگاڑ روکیں  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.

    فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
    حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
    تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
    فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
    بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
    متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.

    یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
    فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
    اس بارے سخت وعید موجود ہے.
    جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.

    کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
    خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیے

    والدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
    1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
    2. کردار پر نظر رکھیں.
    3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
    4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
    بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
    بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
    یاد رکھئیے!
    ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
    حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    جہاں اسلام نے رشوت کو گناہ کبیرہ کہا وہاں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔
    آج رشوت کا جو بازار گرم ہے اور جو طریقے رائج ہیں انکو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب رشوت پیسے کی صورت میں یا قیمتی سامان کی صورت پیش کی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں سے کچھ نئے طریقے آئے جنکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
    اپنے چھوٹے سے عہدے اور فائدے کیلئے طوائفوں کو پیش کیا جانے لگا کچھ تو اس حد کو بھی پار کر گئے اپنی ہی بیوی،بہن اور بیٹی تک کو اس گھناؤنے کام کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔
    اندازہ لگائیں کہ معاشرہ کس قدر گر گیا اور سوچیں کہ اسلام نے آخر یہ کیوں منع کیا تھا اور کیوں اس پہ سخت وعیدیں آئیں کیوں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا۔
    رشوت سے نا صرف کمزور طبقے،مظلوم اور بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس نے تو غیرت اور شرم و حیا کو بھی بیچ بازار فروخت کر دیا۔
    رشوت نے ہماری انسانیت کو ہمارے وقار کو ہماری عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    ہماری اسلامی تعلیمات کو تقریبا دفن کر دیا۔
    ہمارے معاشرے ہمارے نظام کو تہس نہس کر دیا۔
    ہمارے سکول کے چوکیدار سے لیکر بائیس گریڈ تک کا افسر رشوت دے کر بھرتی ہونے لگا۔
    جہاں ہمارے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتے تھے اسلامی قوانین کے مطابق ہوا کرتے تھے وہ اب رشوت کی بہتی گنگا کی نظر ہونے لگے۔
    ہمارا نظام انصاف ہماری خواہشات کے تابع ہو گیا ہمارا نظام عدل پیسے کی ریل پیل کی نظر ہو گیا۔
    ہمارا مظلوم ظالم کے سامنے بے بس ہو کر خودکشیاں کرنے لگا کیونکہ اس کو عدالتیں انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں۔
    ہمارا معاشرہ کے پورا نظام رشوت کے زہر نے زہریلہ کر دیا۔
    قاتل رشوت دے کر آزاد ہو گیا مقتول کے ورثا عدالتوں کے چکر لگا لگا کر انصاف سے مایوس ہو کر بے بس ہو گئے۔
    مظلوم مزید کمزور ہوا ظالم رشوت دے کر مزید طاقتور ہو گیا۔
    مظلوم ظالم کی فریاد عدالتوں میں لے جانے سے ڈرنے لگا۔
    گواہ رشوت لیکر سچی گواہی سے مکر گیا۔
    نوکریاں قابلیت کی جگہ رشوت کے ساتھ تلنے لگیں۔
    غریب آدمی محبت کر کے آگے آنے کی کوشش کرتا رہا اور رشوت کی شاٹ کٹ نے کئی نااہل لوگوں کو آگے لا کر کھڑا کر دیا۔
    نظام تعلیم کو رشوت نے متاثر کیا الغرض ہمارے معاشرے کے ہر کام پہ رشوت کا زنگ چڑھ گیا آج ہر کوئی اسی شاٹ کٹ کو استعمال کرتا ہے بجلی کا میٹر لگانا یا اپنا ہی پیسہ نکلوانا ہے بجلی کا بل جمع کروانا ہے یا اس کو ٹھیک کروانا ہے رشوت تو دینی پڑے گی۔
    یہاں تک کہ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری کسی بھی دفتر میں جائیں رشوت خور ملے گا۔
    لوگ رشوت دیں گے۔
    آخر کب تک اور کیوں؟
    ہمیں اس نظام کو ختم کرنا ہے اش نظام کے کوڑھ مرض سے اپنے معاشرے کو اپنی نسل کو بچانا ہے۔
    اس نظام کے خاتمے کیلئے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے۔
    ہم نے اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے رشوت نہیں دینی کسی کے حق پہ ڈاکہ نہیں ڈالنا۔
    ہم نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔
    رشوت سے پاک پاکستان۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد کو اللہ نے ہر لحاظ سے مضبوطی عطأ کی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی لیکن بعض اوقات یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ آخر کو مرد بھی ایک انسان ہے دل رکھتا ہے خواب دیکھتا ہے اور خواب پورے نا ہونے پہ درد اور تکلیف سہنے کے مرحلے سے گزرتا ہے لیکن مرد کو رونا منع ہے آہ و بکا کرنا منع ہے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور کٸ دفعہ یہ بات سننے کو ملتی کہ مرد بن مرد , مرد روتے نہیں 😊

    مرد کے خواب اصل میں اس کے اپنے لۓ ہوتے ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور ان کے خواب پورے کرنے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہی ذندگی گزر جاتی ہے
    چھوٹے ہوتے سے اس پریشر میں بڑا ہوتا کہ والدین کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر یا انجینٸر بننا ہے اور خوب پیسا کمانا ہے پھر شادی کے لۓ ماں باپ کی خواہش اور خوشی سب سے پہلے سوچنی ہے بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں

    شادی کے بعد ذمہ داریوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب بیوی اور پھر بچوں کی خوشی کی خاطر روزی روٹی کی تگ و دو کرتا ہے اور جب کبھی قدرت کی طرف سے تنگی آجاۓ تو بہت سی باتیں سنتا ہے

    بیوی اور اپنے ماں باپ بہن بھاٸی کے درمیان ایک بیلنس رکھنا بھی ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر دونوں طرف سے طرفداری کے الزام لگتے ہیں
    آندھی طوفان دھوپ بارش گرمی سردی یہ سب خود پہ سہتا ہے اور اپنے خاندان کی خواہشیں اور خوشیاں پوری کرتا ہے

    ان سب کے باوجود مرد کو ہمیشہ ظالم کے طور پہ پورٹریٹ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی پتھر سمجھ لیا جاتا ہے جسے کوٸی تکلیف یا درد نہیں ہوتا
    مجھے یقین ہے کہ اکیلے میں عورت سے ذیادہ مرد روتے ہیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے رو نہیں سکتے آخر مرد ہے نا

    یہ سب لکھتے ہوۓ ایک ہی مرد میرے ذہن میں ہے جو میرے آٸیڈل ہیں اور وہ میرے والد صاحب ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی خوشیوں کے لۓ نا دن دیکھا نا رات بس اپنا آپ مار کے ہمیں دنیا جہان کی سہولتیں دیں جو انہیں نہیں ملی تھی

    عورت اللہ کا ایک تحفہ تو مرد اللہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مٹی میں خاندان کی محبت اور ذمہ داریوں کا احساس خوب اچھے سے ملایا گیا ہے

    بیٹا , بھاٸی , باپ اور شوہر , اِن سب رشتوں کو سوچتے ہی اَن گِنت ذمہ داریوں کا سلسلہ ذہن میں آتا ہے جو کہ ذندگی کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے

    @ch_danishh

  • انسان اور اس کی خواہشات  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی خواہشات تحریر : اسامہ خان

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے، انسان ایک خواہشات کا پتلا ہے جو کہ آخری دم تک خواہشات کرتا رہتا ہے، انسان پیدا ہوتا ہے اور اس کی خواہشات کا عمل شروع ہوتا ہے کبھی انسان کو پیسہ چاہیے ہوتے ہیں تو کبھی کار انسان کا بس نہیں چلتا پوری دنیا کو خرید لے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی خواہشات نہیں ختم ہو گئی، اس دنیا میں تین طرح کی خواہشات والے لوگ پائے جاتی ہیں پہلے تو وہ جو اللہ کی خدمت اور عبادت میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو صرف اللہ کو راضی رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں بے شک وہی مومن ہیں بے شک ہم سب میں سے بہتر وہی ہیں، ایسے لوگوں کی پیدائش پرورش ایسے ماحول میں کی جاتی ہے جہاں ان کو اسلام کا اصل مقصد سکھایا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے اور سروں کو کروانے پر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی خواہش نہیں ہوتی، یہ ہوتے ہیں اللہ والے لوگ جن پر اللہ کا کرم ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے پاس پیسے ہو یا نہ ہو ان کو فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ پیسے کی طرف بھاگتے ہیں وہ صرف چاہتے ہیں تو اللہ کی رضا۔ اور دوسری طرف آتے ہیں امیر لوگ جن کے پاس جتنی بھی دولت ہو ان کے لئے کم ہے کیونکہ وہ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے لئے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو بے شک ان کو اس کے لیے کسی غلط طریقے سے بھی کیوں نا پیسے کمانے پڑے ایسے لوگوں کی خواہش بڑھتی جاتی ہے نہ کہ کم ہوتی ہے ان کو صرف اپنے بینک بیلنس سے پیار ہوتا ہے ایسے لوگ شراب زنا کو حرام نہیں سمجھتے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے دوست احباب کو بھی شراب پینے کا مشورہ دیتے ہیں ہمارے معاشرے میں شراب پر پابندی ہونے کے باوجود اس کو بیچا جا رہا ہوتا ہے اور خریدنے والے بھی فخر سے خریدتے ہیں جب ایسے لوگ ایسے حرام کام کرتے ہیں تم ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہ جاتی وہ اپنے سے نیچے کے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ جب چاہے اس کو حقیر بنا سکتا ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں آپ کو اس دنیا میں مل جائے گی جو کبھی بادشاہ ہوا کرتے تھے ایک وقت کو وہ ایک کھانے کو ترستے تھے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کے سب امیر ایسے ہی ہو آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو اتنے خوش اخلاق ہونگے کے آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکیں گے کہ اللہ پاک نے ان کو اتنا دیا ہوا ہے۔ تیسرے نمبر پر آتے ہیں وہ غریب لوگ جب بمشکل دو یا تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ایسے لوگ نہ تو حرام کام کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو کرنے دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے پاس پیسہ تو ہوتا نہیں ہے ان کے پاس ان کی صرف عزت ہوتی ہے غریب کا بچہ اپنے والدین سے خواہشات تو ضرور کرتا ہے لیکن اس کے والدین سب خواہشات پوری نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے اپنے گھر کا چلہ بہت مشکل سے جلتا ہے ایسے لوگ بے شک اللہ کو بہت پیارے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے تھوڑے پر راضی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ دو وقت کا کھانا کھا بیٹھے ہیں اور باعزت طریقے سے اپنے گھر میں بیٹھے ہیں جہاں یہ کسی کا برا نہیں سوچ سکتے وہی اگر ان کے ساتھ برا ہو تو اللہ کی رضا کے لئے ان کو معاف کر دیتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو خواہشات سے نکل کر زندگی کے اصل مقصد کی طرف لائے اور آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے یہ تینوں قسم کے انسان بے شک ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں اللہ ہم سب کو دنیاوی خواہشات سے دور رکھے اور ہمارے دلوں میں اپنا نور منور کر دے