Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏باغی عورت  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    ‏باغی عورت تحریر: ماہ رخ اعظم

    عورت کو اتنا مت تنگ کریں۔کہ وہ بغاوت پر اتر آۓ کیونکہ جب ایک عورت بغاوت پر اتر آتی ہے تو اس باغی عورت میں شرم و حیاء اخلاقیات اور تہذیب کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ،وہ باغی ہوکر ہر شخص کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتی ہے ،اتنی بد لحاظ ہو جاتی ہے، کہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتی چاہے، وہ بڑا ہو یاجھوٹا ہو اور ہر مرد کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے چاہے وہ مرد اس باپ ہی کیوں نا ہو ،باغی عورت اس وقت تک ہی پرامن اور خاموش رہتی ہے جب تک وہ تہذیب میں ہے جیسے ہی باغی عورت تہذیب چھوڑتی ہے تو وہ فتنہ برپا کر دیتی ہے۔

    پھر بڑے بڑے لوگ بھی اس سے پناہ مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ باغی عورت تمیز تہذیب اخلاقیات سب بھول کر اگلے انسان کی اینٹ سے اینٹی بجا دیتی ہے۔

    مرد حضرات توجہ فرماٸیں!! ان کو لگتا ہے کہ باغی عورت ہمارا کیا اکھاڑ سکتی ہے ؟ جب یہ ایک عورت باغی ہوتی ہے اور بغاوت پر اتر آتی ہے تو ہر انسان کا بھی ایمان ڈگمگا کر رکھ دیتی ہے ،باغی عورت کے شر سے بچنا ہے، تو عورت کے ساتھ حسن سلوک کروں، انہیں امن عزت، محنت اور اہمیت دو اسکی راۓ کا احترام کرو ،اسے کبھی مجبور اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو ،پیار محبّت سے اس سے بےشک جان بھی مانگ لوں ،وہ باغی عورت ہنس کر دے دے گی ،لیکن اگر اس کے ساتھ زور و زبردستی کرنی کی کوشش کروگے، وہ باغی عورت اس وقت آپ کی بات کا مان بھی رکھ لے گی ، لیکن موقع ملتے ہی آپکو دھوکہ دیتے ہوۓ ایک لمحے کو بھی نہیں سوچے گی اور وہ حشر کریں کہ آپ روح تک کانپ جاٸیں گی ۔

    اکثر دیکھا گیا ہے، کہ جس عورت کی زبردستی شادی کروائی جاتی ہے ،وہ عورت اس لہحے تو وہ صبر کا گھونٹ پی جاتی ہے، لیکن جس کی زندگی میں وہ عورت جاتی ہے، اسکی زندگی کو دوزخ بنا کر رکھ دیتی ہے ،جب ہمارے اہل خانہ جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اس وقت وہ بیٹی کے ساتھ داماد کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ،کہ ہم اگر اپنی بیٹی کے ساتھ زور و زبردستی کر رہے ہیں تو اس خمیازہ انکے کو داماد بھی بھگتنا پڑیں گا۔

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ سو میں سے چالیس فیصد ہی عورتیں زبردستی کی شادی کو ایمانداری سے نبھاتی ہیں ورنہ ساٹھ فیصد عورتیں زبردستی کی شادی کے بعد باغی بن جاتی ہے اور مرد کے ساتھ بےوفا ، بے لحاظ بے بد زبان ، مروت ہی ثابت ہوتی ہیں!!

    آخر میں بس یہی کہوں گی

    رہزن ہے میرا رہبر منصف ہے میرا قاتل
    سہہ لوں تو قیامت ہے، کہہ دوں تو بغاوت ہے!!

    >

  • ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن  تحریر : ندرت حامد

    ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن تحریر : ندرت حامد

    دنیا بھر میں ہر سال 28 جولائی کو ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کے اندر ہے ہیپاٹائٹس جیسے مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ یہ جگر کی بیماری ہے جگر میں سوزش (زخم ,درد) کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہیپاٹائٹس کے دن ایک خاص تھیم رکھا گیا ہے اس سال کا تھیم (theme ) ہے
    Hapatites can’t wait
    یعنی ہیپاٹائٹس انتظار نہیں کر سکتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام ہیں ۔ ہیپاٹائٹس آۓ بی ,سی ڈی اور ای ۔
    ہیپاٹائٹس بی اور سی سب سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ ان کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 1.1 ملین لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ اور ہر سال تین لاکھ سے زائد کیس سامنے آتے ہیں ۔ہیپاٹائٹس کی پہلی قسم میں ہیپاٹائٹس A ہے ۔ HAV کھانے پینے میں ناقص صفائ کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔ جنسی عمل سے بھی یہ پھیل سکتا ہے ۔ ویکسین دستیاب ہونے کی وجہ سے عام طور پر متاثرہ افراد صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔
    دوسری قسم ہیپاٹائٹس B ہے ۔HBV متاثرہ خون , میڈکل ٹریٹمنٹ کے دوران استمعال ہونے والے جراثیم سے آلودہ آلات کے زریعے پھیلتا ہے ۔متاثرہ ماں سے زچگی کےدوران بچے میں منتقل ہوتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس بی بہت ہی خطرناک ہے لیکن اسکی ویکسین دستیاب ہے ۔ ہیپاٹائٹس سی HCV زیادہ تر بلڈ ٹرانسمیشن اور غیر صاف آلات جراحی کی وجہ سے پھیلتا ہے بہت کم حد تک جنسی عملHCV کی وجہ بنتا ہے ۔HCV کی اب تک کوئ ویکسین ایجاد نہیں ہوئ ۔ لیکن احتیاطی تعدبیر اختیار کر کے اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے ۔
    ہیپاٹائٹس D وائرس اکثر اوقات ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پہلے سی ایچ بی وی کا شکار ہوتے ہیں ۔ دونوں وائرس مل کہ شدت اختیار کر لیتے ہیں اور مریض نازک کی حالت نازک ہو جاتی ہے۔ تاہم ایچ بی وی کی ویکسین کی وجہ سے علاج ممکن ہے ۔پانچویں قسم ہیپاٹائٹس E ہے ۔ ایچ ای وی ناقص خوراک کھانے اور ناقص پانی پینے کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔ ہیپاٹائٹس زیادہ تر ترقی پزیر ممالک میں عام ہے ۔جہاں صحت و صفائ کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ پچاس ہزار ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نئے کیس سامنے آتے ہیں ۔ ایچ ای وی کی ویکسین میسر ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں ہیپاٹائٹس اور اسکی مختلف اقسام کے متعلق معلومات دینا ہے تاکہ حفاظتی اقتدام اختیار کر کے خود کو ہیپاٹائٹس سے بچایا جا سکے
    @N_Hkhan

  • سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد  تحریر: احسان الحق

    سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد تحریر: احسان الحق

    سحر کی ابتداء کے متعلق کوئی حتمی معلومات دستیاب نہ ہونے کے مترادف ہیں. سحر کب، کہاں اور کس جگہ سے شروع ہوا مکمل یقین کے ساتھ کچھ کہنا بہت مشکل ہے. مگر زمانہ قدیم میں مختلف قوموں اور تہذیبوں میں سحر اور جادو کا وجود ملتا ہے. آسٹریلیا، یورپ، افریقہ، ایشیا اور قدیم یونانی، رومی اور مصری تہذیبوں میں جادو یا سحر کے متعلق تفصیل کے ساتھ تاریخ موجود ہے. آسٹریلیا کے Aborigines قبیلے میں، امریکہ میں Red Indians لوگوں میں، افریقہ کے Azande and Cewa باشندوں میں، قدیم مصری، یونانی، رومی باشندوں میں سحر کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہا ہے.

    جادو یا سحر ہر زمانے میں ہر قوم کے لوگوں کے عقیدہ میں رہا ہے. قدیم مصر کے پجاری اسی جادوئی دعوے یا عقیدے کی بنیاد پر عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے. قدیم بابلی، ویدک اور دیگر روایات میں اپنے دیوتاؤں اور خداؤں کی طاقت کا منبع یا زریعہ جادو کو ہی تصور کیا جاتا تھا. دنیا کے مختلف حصوں کی دریافت شدہ باقیات یا غاروں میں ملنے والی تصاویر، تحاریر اور پتھروں پر تراشیدہ مجسموں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں سحر کی تصویر کشی کی گئی ہے مگر یہ محض دعویٰ یا قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے.
    سحر کے مظہر یا وجود کے متعلق زیادہ قابل بھروسہ معلومات قدیم مشرق وسطیٰ، یونانی، رومی، نصرانی یورپ اور ان کے ہم عصر تہذیبوں کے بارے میں موجود ہے. مصر اور mesopotamia جس کا زمانہ تقریباً 2300 قبل مسیح ہے کے سحر کے متعلق کافی مواد ملتا ہے جس سے جادوئی منتر، جادوئی قواعد و ضوابط اور ترکیبات کا احساس ہوتا ہے. اس کے بعد دیگر اقوام یا تہذیبوں میں جادو کا ذکر ملتا ہے ان میں انڈمان کے جزائر، کلاہاری سان، جنوب مغربی امریکا کے Navajo، ہمالیہ کے ترائی لوگوں میں بحرالکاہل کے جزائری، بابلی وینیوائی، قدیم مصری، کنعانی، یونانی اور رومی باشندوں میں.

    برصغیر میں سحر کی ابتداء اور ترویج کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ سحر کی ابتداء ارض فارس سے ہوئی اور یہیں سے یہ علم برصغیر اور عرب دنیا میں پھیلا. قدیم ایران میں مگ نامی ایک قوم آباد تھی جو زرتشت کے پیروکار تھے. سنسکرت زبان میں جادو کو "مای گگ” مطلب مگوں کا علم کہا جاتا ہے. انگریزی میں لفظ magic میجک اسی لفظ سے ماخوذ ہے. یہ قوم ایران سے جب یہ برصغیر میں آئی تو جادو کا علم بھی ساتھ لیکر آئی. یہاں کے باشندوں نے یہ علم سیکھا جس سے وہ لوگوں کو مفتون و مسحور کیا کرتے تھے. برصغیر میں زمانہ قدیم میں ہندوؤں کے نزدیک سحر کو خاص اہمیت اور شہرت حاصل رہی ہے. موجودہ دور میں بھی اس علم کو خاص اہمیت حاصل ہے بلکہ کچھ ہندو اس کو اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہیں. ان کے نزدیک چار یوگوں میں سے "ہٹ یوگ” سحر کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے زبردستی، جبر، ہٹ، ضد اور زبردستی خالق کائنات تک پہنچنا.

    انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق لفظ ماگی Magus کی جمع ہے. یہ ایک ایرانی قبیلہ تھا جو مذہبی رسومات کے لئے مختص تھا. اسی سے لاطینی لفظ Magoi ہے اس کی اصل بھی ایرانی ہے. ماگی قبیلے کے لوگ ابتداء سے زرتشت تھے یا نہیں، اس بابت کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے. ماگی ساسانی اور پارسی ادوار میں ایک مذہبی طبقے کے طور پر جانا جاتا تھا. زرتشی مذہبی کتاب اویستا Avesta کا آخری حصہ غالباً اسی سے ماخوذ ہے.

    نوٹ: مندرجہ بالا تحریر کو لکھنے کے لئے ان کتب کا مطالعہ کیا گیا
    1: جادو کی حقیقت اور اس کا قرانی علاج
    2: انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا

    @mian_ihsaan

  • والدین معاشرتی بگاڑ روکیں  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    والدین معاشرتی بگاڑ روکیں تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بچے من کے سچے ہوتے ہیں عقل کے بھولے ہوتے ہیں اور زہن کے کچے بھی ہوتے ہیں. بچوں کے معاملات میں بچپن سے ہی احتیاط ضروری ہوتی ہے. کیونکہ جب کوئی انوکھی چیز بچے کے زہن میں اترتی ہے تو اس کے دو اثرات ہوتے ہیں. ایک اسکے زہں میں اس حرکت واقع یا چیز کے بارے کئی نے سوالات جنم لیتے ہیں تو دوسرا اس تحقیقی عمل کو بچہ ہمیشہ کے لیے اپنے زہن میں محفوظ کر لیتا ہے. اسی وجہ سے بچوں کی پرورش میں بچپن کا دور انتہائی معنی رکھتا ہے.

    فی زمانہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کا زمہ سکول یا کوچنگ سنٹر پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں جو کہ قطعاً درست نہیں. دوسرا بچوں کو رواج اور فیشن میں انکی پسند پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے. دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے والدین رواج اور فیشن میں بچے کو اچھائی برائی کی پہچان کے بجائے خود اس کے پہناوے اور صحبت کو نظر انداز کرتے ہیں.
    حدیث شریف میں حضور اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے.
    تو بچے کی قربت رکھنا اور اس کی قربت میں رہنے والوں کی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کس سے کس قسم کا اور کس حد تک تعلق اور میل جول ہے.
    فیشن انڈسٹری نے پاکستان میں جس رفتار سے پنجے گاڑے ہیں اور جس بے دردی سے موجودہ جوان نسل اور چھوٹے بچوں کے مستقبل کو برباد کرنے کی تیاری میں مصروف ہے آج کل کے ماں باپ اس پر توجہ دینے کی بجائے الزام تراشی اور معاشرے پر اس کا زمہ ٹھراتے اور خود کی زمہ داری سے نظریں چرا رہے ہیں.
    بچہ جب چھالیہ یا سپاری کھاتا ہے تو ماں باپ یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں چلو ابھی بچہ ہی تو ہے. وہی بچہ عمر کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ جب سگریٹ نوشی تک ترقی پاتا ہے تو والدین کہتے ہیں زمانہ خراب ہے. بھئ زمانہ تو تب بھی ایسا ہی تھا جب اس نے چھالیہ کھایا. تب آپ اگر مطمئن تھے تو اب زمانے کو مت کوسئیے. بچے جب سکولوں میں رقص کرتے والدین شوق سے تصویریں کھنچواتے ہیں. یاد رکھیں یہ وہی تربیت کل اس کو جوانی میں بھی نچواے گی. زمانہ تو اب بھی ویسا ہی ہے تب بھی ایسا ہی ہو گا. زمانہ ایسا بنیا کس نے؟ آپ کی غیر زمہ داری نے.
    متوسط طبقہ کے ماں باپ یہ کہکر بچوں کو چست لباس پہنا دیتے کہ آج کل بازار میں ہے ہی یہی کیا کیا جائے. جس بچی کو آپ نے آج سے ہی بنا بازو شرٹ پہنا دی ہے وہ اس کے زہن میں نقش ہو چکی ہے صاحب. کل کو اسے نافرمانی کے طعنے دینے کی بجاے اپنی غلطی پر ندامت کیجئے کیوں کہ یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے.

    یاد رکھیں ایک عادت جو بچپن کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بدلتی خصوصی طور پر ہر وہ عادت جسے خود فروغ دیا جائے.
    فحاشی کا لباس بازاروں میں بکتا رہا. دوکاندار کو منافع خوری سے غرض، مل مالکان کو منافع خوری کی ہوس. کپڑے کا معیار گھٹیا سے گھٹیا کر دیا کی جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے. فیشن کے نام پر آدھا بدن ننگا کر دیا گیا. ایسا منافع دنیا میں بھی بیماریوں میں خرچ ہوتاہے اور آخرت میں بھی زوال کا باعث ہو گا. کیونکہ
    اس بارے سخت وعید موجود ہے.
    جو شخص چاہے قوم میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے.

    کل کو یہی نسل جو بچپن سے بے حیائی کا لباس پہنتی آئی ہو گی آج بھی پہنے گی اور اس کی نظر میں اس میں کوئی برائی والی بات نہیں. اس کی مثال حالیہ وزیراعظم عمران خان کے فحاشی کےبیان پر تلملاتے لبرل فسادیوں کی بکواسیات سے لگایا جا سکتا ہے.
    خدارا اپنی نسلوں کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر برباد ہونے سے بچائیے

    والدین معاشرتی بگاڑ کو روکیں اور اپنی زمہ داری نبھائیں
    1. بچوں کی صحبت پر نظر رکھیں.
    2. کردار پر نظر رکھیں.
    3. لباس پر نظر رکھیں خود سلا لیں لیکن مناسب پہنائیں اور مستقبل کی ندامت اور شرمندگی سے بچیں. تاکہ کل کو آپ کو اپنی اولاد سے لاتعلقی والی بیان بازی نہ کرنی پڑے.
    4. اپنے والدین اپنے بہن بھائیوں کا ادب سکھائیں. ان سے تعلق کیسا ہونا چاہیے سکھائیں.
    بلوغت میں یہ زمہ داری بھائی کے زمہ بھی آتی ہے کہ ماں باپ کی تربیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرے.
    بہنوں کو بھی چاہیے کہ بحیثیت بیٹی باپ کی عزت، بحیثیت بہن بھائی کی غیرت بحیثیت بیوی شوہر کے وقار اور بحیثیت ماں بچوں کے مستقبل کی محافظ رہے.
    یاد رکھئیے!
    ایک مرد کا سدھرنا ایک فرد کا سدھرنا اور ایک عورت کا سدھرنا ایک نسل کا سدھرنا ہے کیونکہ عورت اپنی نسل کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.
    حضور نبی اکرم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل بروز قیامت عورت اپنے ساتھ چار مرد جہنم میں لے کر جاے گی. باپ بھائی شوہر اور بیٹا کہ مجھے اس نے مجھے گناہ سے نہیں روکا.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    رشوت کا نظام اور معاشرے کا بگڑتا توازن۔ تحریر بشارت حسین

    جہاں اسلام نے رشوت کو گناہ کبیرہ کہا وہاں رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا۔
    آج رشوت کا جو بازار گرم ہے اور جو طریقے رائج ہیں انکو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب رشوت پیسے کی صورت میں یا قیمتی سامان کی صورت پیش کی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے پچھلی چند دہائیوں سے کچھ نئے طریقے آئے جنکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
    اپنے چھوٹے سے عہدے اور فائدے کیلئے طوائفوں کو پیش کیا جانے لگا کچھ تو اس حد کو بھی پار کر گئے اپنی ہی بیوی،بہن اور بیٹی تک کو اس گھناؤنے کام کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔
    اندازہ لگائیں کہ معاشرہ کس قدر گر گیا اور سوچیں کہ اسلام نے آخر یہ کیوں منع کیا تھا اور کیوں اس پہ سخت وعیدیں آئیں کیوں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی قرار دیا۔
    رشوت سے نا صرف کمزور طبقے،مظلوم اور بےگناہ لوگوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس نے تو غیرت اور شرم و حیا کو بھی بیچ بازار فروخت کر دیا۔
    رشوت نے ہماری انسانیت کو ہمارے وقار کو ہماری عزت و آبرو کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    ہماری اسلامی تعلیمات کو تقریبا دفن کر دیا۔
    ہمارے معاشرے ہمارے نظام کو تہس نہس کر دیا۔
    ہمارے سکول کے چوکیدار سے لیکر بائیس گریڈ تک کا افسر رشوت دے کر بھرتی ہونے لگا۔
    جہاں ہمارے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتے تھے اسلامی قوانین کے مطابق ہوا کرتے تھے وہ اب رشوت کی بہتی گنگا کی نظر ہونے لگے۔
    ہمارا نظام انصاف ہماری خواہشات کے تابع ہو گیا ہمارا نظام عدل پیسے کی ریل پیل کی نظر ہو گیا۔
    ہمارا مظلوم ظالم کے سامنے بے بس ہو کر خودکشیاں کرنے لگا کیونکہ اس کو عدالتیں انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں۔
    ہمارا معاشرہ کے پورا نظام رشوت کے زہر نے زہریلہ کر دیا۔
    قاتل رشوت دے کر آزاد ہو گیا مقتول کے ورثا عدالتوں کے چکر لگا لگا کر انصاف سے مایوس ہو کر بے بس ہو گئے۔
    مظلوم مزید کمزور ہوا ظالم رشوت دے کر مزید طاقتور ہو گیا۔
    مظلوم ظالم کی فریاد عدالتوں میں لے جانے سے ڈرنے لگا۔
    گواہ رشوت لیکر سچی گواہی سے مکر گیا۔
    نوکریاں قابلیت کی جگہ رشوت کے ساتھ تلنے لگیں۔
    غریب آدمی محبت کر کے آگے آنے کی کوشش کرتا رہا اور رشوت کی شاٹ کٹ نے کئی نااہل لوگوں کو آگے لا کر کھڑا کر دیا۔
    نظام تعلیم کو رشوت نے متاثر کیا الغرض ہمارے معاشرے کے ہر کام پہ رشوت کا زنگ چڑھ گیا آج ہر کوئی اسی شاٹ کٹ کو استعمال کرتا ہے بجلی کا میٹر لگانا یا اپنا ہی پیسہ نکلوانا ہے بجلی کا بل جمع کروانا ہے یا اس کو ٹھیک کروانا ہے رشوت تو دینی پڑے گی۔
    یہاں تک کہ کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری کسی بھی دفتر میں جائیں رشوت خور ملے گا۔
    لوگ رشوت دیں گے۔
    آخر کب تک اور کیوں؟
    ہمیں اس نظام کو ختم کرنا ہے اش نظام کے کوڑھ مرض سے اپنے معاشرے کو اپنی نسل کو بچانا ہے۔
    اس نظام کے خاتمے کیلئے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہے۔
    ہم نے اپنے اوپر لازم و ملزوم کرنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے رشوت نہیں دینی کسی کے حق پہ ڈاکہ نہیں ڈالنا۔
    ہم نے ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں یہ زہر پھیلا رہے ہیں۔
    رشوت سے پاک پاکستان۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد روتے نہیں تحریر:دانش اقبال

    مرد کو اللہ نے ہر لحاظ سے مضبوطی عطأ کی ہے چاہے وہ ذہنی ہو یا جسمانی لیکن بعض اوقات یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ آخر کو مرد بھی ایک انسان ہے دل رکھتا ہے خواب دیکھتا ہے اور خواب پورے نا ہونے پہ درد اور تکلیف سہنے کے مرحلے سے گزرتا ہے لیکن مرد کو رونا منع ہے آہ و بکا کرنا منع ہے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور کٸ دفعہ یہ بات سننے کو ملتی کہ مرد بن مرد , مرد روتے نہیں 😊

    مرد کے خواب اصل میں اس کے اپنے لۓ ہوتے ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور ان کے خواب پورے کرنے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہی ذندگی گزر جاتی ہے
    چھوٹے ہوتے سے اس پریشر میں بڑا ہوتا کہ والدین کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر یا انجینٸر بننا ہے اور خوب پیسا کمانا ہے پھر شادی کے لۓ ماں باپ کی خواہش اور خوشی سب سے پہلے سوچنی ہے بہنوں کی شادیاں کرنی ہیں

    شادی کے بعد ذمہ داریوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب بیوی اور پھر بچوں کی خوشی کی خاطر روزی روٹی کی تگ و دو کرتا ہے اور جب کبھی قدرت کی طرف سے تنگی آجاۓ تو بہت سی باتیں سنتا ہے

    بیوی اور اپنے ماں باپ بہن بھاٸی کے درمیان ایک بیلنس رکھنا بھی ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر دونوں طرف سے طرفداری کے الزام لگتے ہیں
    آندھی طوفان دھوپ بارش گرمی سردی یہ سب خود پہ سہتا ہے اور اپنے خاندان کی خواہشیں اور خوشیاں پوری کرتا ہے

    ان سب کے باوجود مرد کو ہمیشہ ظالم کے طور پہ پورٹریٹ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی پتھر سمجھ لیا جاتا ہے جسے کوٸی تکلیف یا درد نہیں ہوتا
    مجھے یقین ہے کہ اکیلے میں عورت سے ذیادہ مرد روتے ہیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے رو نہیں سکتے آخر مرد ہے نا

    یہ سب لکھتے ہوۓ ایک ہی مرد میرے ذہن میں ہے جو میرے آٸیڈل ہیں اور وہ میرے والد صاحب ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی خوشیوں کے لۓ نا دن دیکھا نا رات بس اپنا آپ مار کے ہمیں دنیا جہان کی سہولتیں دیں جو انہیں نہیں ملی تھی

    عورت اللہ کا ایک تحفہ تو مرد اللہ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مٹی میں خاندان کی محبت اور ذمہ داریوں کا احساس خوب اچھے سے ملایا گیا ہے

    بیٹا , بھاٸی , باپ اور شوہر , اِن سب رشتوں کو سوچتے ہی اَن گِنت ذمہ داریوں کا سلسلہ ذہن میں آتا ہے جو کہ ذندگی کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے

    @ch_danishh

  • انسان اور اس کی خواہشات  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی خواہشات تحریر : اسامہ خان

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے، انسان ایک خواہشات کا پتلا ہے جو کہ آخری دم تک خواہشات کرتا رہتا ہے، انسان پیدا ہوتا ہے اور اس کی خواہشات کا عمل شروع ہوتا ہے کبھی انسان کو پیسہ چاہیے ہوتے ہیں تو کبھی کار انسان کا بس نہیں چلتا پوری دنیا کو خرید لے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی خواہشات نہیں ختم ہو گئی، اس دنیا میں تین طرح کی خواہشات والے لوگ پائے جاتی ہیں پہلے تو وہ جو اللہ کی خدمت اور عبادت میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں تو صرف اللہ کو راضی رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں بے شک وہی مومن ہیں بے شک ہم سب میں سے بہتر وہی ہیں، ایسے لوگوں کی پیدائش پرورش ایسے ماحول میں کی جاتی ہے جہاں ان کو اسلام کا اصل مقصد سکھایا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے اور سروں کو کروانے پر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی خواہش نہیں ہوتی، یہ ہوتے ہیں اللہ والے لوگ جن پر اللہ کا کرم ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے پاس پیسے ہو یا نہ ہو ان کو فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ پیسے کی طرف بھاگتے ہیں وہ صرف چاہتے ہیں تو اللہ کی رضا۔ اور دوسری طرف آتے ہیں امیر لوگ جن کے پاس جتنی بھی دولت ہو ان کے لئے کم ہے کیونکہ وہ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے لئے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو بے شک ان کو اس کے لیے کسی غلط طریقے سے بھی کیوں نا پیسے کمانے پڑے ایسے لوگوں کی خواہش بڑھتی جاتی ہے نہ کہ کم ہوتی ہے ان کو صرف اپنے بینک بیلنس سے پیار ہوتا ہے ایسے لوگ شراب زنا کو حرام نہیں سمجھتے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے دوست احباب کو بھی شراب پینے کا مشورہ دیتے ہیں ہمارے معاشرے میں شراب پر پابندی ہونے کے باوجود اس کو بیچا جا رہا ہوتا ہے اور خریدنے والے بھی فخر سے خریدتے ہیں جب ایسے لوگ ایسے حرام کام کرتے ہیں تم ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رہ جاتی وہ اپنے سے نیچے کے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ جب چاہے اس کو حقیر بنا سکتا ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں آپ کو اس دنیا میں مل جائے گی جو کبھی بادشاہ ہوا کرتے تھے ایک وقت کو وہ ایک کھانے کو ترستے تھے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کے سب امیر ایسے ہی ہو آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو اتنے خوش اخلاق ہونگے کے آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکیں گے کہ اللہ پاک نے ان کو اتنا دیا ہوا ہے۔ تیسرے نمبر پر آتے ہیں وہ غریب لوگ جب بمشکل دو یا تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ایسے لوگ نہ تو حرام کام کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو کرنے دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے پاس پیسہ تو ہوتا نہیں ہے ان کے پاس ان کی صرف عزت ہوتی ہے غریب کا بچہ اپنے والدین سے خواہشات تو ضرور کرتا ہے لیکن اس کے والدین سب خواہشات پوری نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے اپنے گھر کا چلہ بہت مشکل سے جلتا ہے ایسے لوگ بے شک اللہ کو بہت پیارے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے تھوڑے پر راضی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ دو وقت کا کھانا کھا بیٹھے ہیں اور باعزت طریقے سے اپنے گھر میں بیٹھے ہیں جہاں یہ کسی کا برا نہیں سوچ سکتے وہی اگر ان کے ساتھ برا ہو تو اللہ کی رضا کے لئے ان کو معاف کر دیتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو خواہشات سے نکل کر زندگی کے اصل مقصد کی طرف لائے اور آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے یہ تینوں قسم کے انسان بے شک ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں اللہ ہم سب کو دنیاوی خواہشات سے دور رکھے اور ہمارے دلوں میں اپنا نور منور کر دے

  • سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان  تحریر: وسیم اکرم

    سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان تحریر: وسیم اکرم

    بارہویں صدی عیسوی میں ایک سلطان اپنی فوج کے ساتھ ایک میدان میں خیمہ زن تھا۔ اس خیمے کے باہر ایک کم عمر لڑکی کھڑی ہے جو خیمے میں داخل تو ہونا چاہتی ہے لیکن سلطان کے خوف سے اسکا جسم کانپ رہا ہوتا ہے۔ آخر کار اس نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور ڈرتے کانپتے ہوئے خیمے کے اندر داخل ہوگئی۔۔۔

    لڑکی کے سامنے وقت کا سلطان بیٹھا ہوا تھا سلطان نے لڑکی کو مخاطب کیا اور پوچھا تمہارے آنے کا مقصد کیا ہے۔۔؟ لڑکی نے کانپتے ہوئے کہا میں آپ سے ایذاز مانگنے آئی ہوں۔ ایذاز اس شہر کا نام تھا جسے حاصل کرنے کیلئے سلطان نے 38 دن کی لڑائی اور ہزاروں سپائی شہید کروانے کے بعد حاصل کیا تھا یہاں تک کہ اس شہر کی خاطر سلطان نے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی تھی۔۔۔

    لیکن سلطان پھر بھی اس لڑکی کو انکار نہیں کرسکا اور اسے کہا کہ تم مجھ سے ایذاز مانگتی ہو تو یہ تمہارا ہوا اور ساتھ بہت ساری دولت بھی دی اور رخصت کردیا۔ سلطان جانتا تھا اس لڑکی کو اس کے دشمنوں نے بھیجا ہے پھر بھی سلطان نے اسے سب کچھ دے دیا کیونکہ وہ سلطان کے محسن نورالدین زنگی کی بیٹی تھی۔۔۔

    وہی نورالدین زنگی جنہوں نے خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک تک سرنگ کھودنے کی ناپاک کوشش کرنے والے دو یہودیوں کو قتل کردیا تھا۔ اور وہ بیٹی جس شخص سے شہر مانگنے آئی تھی وہ بھی کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ صلاح الدین یوسف تھا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے۔۔۔

    صلاح الدین ایوبی اتنے رحمدل اور سخی تھے کہ مصر کے گورنر بنتے ہی قاہرہ کا سارہ خزانہ غریبوں میں تقسیم کردیا اور اپنے لیئے ایک سکہ بھی نہیں رکھا۔ صلاح الدین ایوبی شاید مصر کے گورنر کی حیثیت سے ہی اپنی زندگی گزار دیتے لیکن نورالدین زنگی کے انتقال کے انکی زندگی بدل کے رکھ دی۔ نورالدین زنگی کا بیٹا ابھی چھوٹا تھا اور محل میں موجود درباریوں نے سازشوں کے ذریعے زنگی سلطنت کو تقسیم کردیا۔۔۔

    جب صلاح الدین ایوبی نے یہ سب دیکھا تو انہوں نے مصر کو ایک الگ سلطنت میں تبدیل کردیا اور خود اس کے سلطان بن کر زنگی سلطنت میں موجود سازشیوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے شام پر حملہ کردیا۔ بہت جلد سلطان نے دمشق فتح کردیا اور مصر سے لے کر شام تک ایک بڑے علاقے کے سلطان بن گئے۔۔۔

    اب سلطان صلاح الدین ایوبی کیلئے بڑا چیلنج فلسطین کی صلیبی سلطنت تھی۔ صلیبوں نے 1099 میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔ صلیبی بار بار صلاح الدین ایوبی سے صلح کے معاہدے کرتے اور توڑ دیتے تھے آخر کار سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1177 میں بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور فلسطین پر حملہ کردیا۔۔۔

    اس حملے کے دوران بہت سی مشکلات پیش آئیں اور کہیں بار سلطان کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا لیکن آخر کار صلیبوں کو شکست نظر آنے لگی اور انہیں لگا کہ مسلمان تو ہمارے بیوی بچوں کو اپنا غلام بنا لیں گے تو انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے رحم کی بھیگ مانگنی شروع کردی۔۔۔

    سلطان تو سنت محمد صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے والے تھے کیسے معاف نہ کرتے لہذا سلطان صلاح الدین ایوبی نے سب کو معاف کردیا اور یوں اکتوبر 1187 میں بیت المقدس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کا مکمل کنٹرول ہوگیا۔۔۔

    سلطان فتح بیت المقدس کے بعد بھی 3 سال تک برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے جنگ لڑتے رہے اور بیت المقدس کا دفاع کرتے رہے اور پھر صلیبوں نے اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے صلح کرلی۔ صلح کے بعد سلطان واپس اپنے وطن دمشق پہنچ گئے لیکن ان کے دن میں ایک خلش تھی کہ وہ کبھی حج نہ کرسکے۔۔۔

    دمشق واپس آئے تو اس بار بھی حج گزر چکا تھا لیکن جب سلطان کو پتہ چلا کہ کچھ حاجی واپس آرہے تو سلطان ان سے ملنے نکل پڑے اور ہر حاجی سے گلے لگ لگ کر رونے لگے۔ حاجیوں سے ملاقات کے بعد واپسی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو سخت بخار نے گیر لیا اور یوں مارچ 1193 کی صبح سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔۔۔

    @Waseemakrm_

  • ہمارا ملک سونے کی چڑیا ہے تحریر: مدثر حسن

    ہمارا ملک سونے کی چڑیا ہے تحریر: مدثر حسن

    ہمارے ملک کو اللہ پاک نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہمارا ملک معدنیات سے مالا مال ہے یہ سونے کی چڑیا ہے لیکن افسوس کرپٹ حکمران اس پر مسلط کیے گئے جنہوں نے نہ صرف اس کو لوٹا بلکہ اس کی ساخت کو بھی نقصان پہنچایا ہمارا ملک پاکستان خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا کےٹاپ ممالک میں شامل ہے

    ہمارے ملک میں ہر قسم کا موسم ہے اور ہر قسم کے پھل ہیں ہمارے ملک میں پہاڑی سلسلہ واقع ہے اور اس میں دنیا کی مشہور ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو شامل ہیں ۔۔۔

    ہمارے ملک میں کوئلہ اور معدنی تیل کے ذخائر موجود ہیں نمک کے پہاڑ موجود ہیں ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی قیمتی اشیاء سے نوازا ہے بہت سے ممالک محروم ہیں

    ہمارے ملک میں ایسے ایسے خوبصورت قدرت کے کرشمے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں گے ہمارے ملک کی خوبصورتی ہی ایسی ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے

    جنت سے کہیں بڑھ کے حسین میرا وطن ہے
    ہمسر ہے فلک کہ جو زمیں میرا وطن ہے!!!!

    اگر اس ملک پر اچھے صادق و امین حکمران آجائیں تو پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا اور پاکستان کا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوگا ماضی کے حکمران ملک کو نوچ کر کھا گئے اور ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا گئیں کرپشن لوٹ مار سے ملک کا وقار ختم کرگئے۔۔۔۔

    جب سے عمران خان اس ملک کے وزیراعظم بنے سیاحت کو پرموٹ کیا ملک کی سالمیت ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا بہت سے ممالک کو دعوت دی کہ آئیں وہ اور ہمارے ملک انویسٹمنٹ کریں ہر فارم پر ملک کا امیج اجاگر کیا ملک کو سرسبز وشاداب بنانے کے لیے اور ماحولیاتی آلودگی کو قابو پانے کے لیے بلین ٹری سونامی مہم کا آغاز کیا ۔۔۔۔

    ملک کو صادق و امین اور مخلص حکمران کی کئی دہائیوں سے ضرورت رہی جب سے عمران خان اس ملک کے وزیراعظم بنے ملک کی سالمیت، خودمختاری اور کھویا ہوا وقار بھال ہوا ۔۔۔۔۔

    @MudasirWrittes

  • لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے  تحریر :  مریم صدیقہ

    لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے تحریر : مریم صدیقہ

    لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے
    لاہور دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے مطابق کوئی شہر نہیں بلکہ عادت یا نشہ ہے۔ یہ ،مشہور قول تو سنا ہی ہوگا کہ جن نے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ہی نہیں۔ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر لاہور جو کہ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت بھی ہے ۔ یہ پاکستان کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہےجو کہ پاکستان کے سب سے زیادہ سماجی طور پر لبرل ، ترقی پسند اور کسمپولیٹن شہروں میں گنا جاتا ہے ، اسی طرح پنجاب کے بڑے صوبے میں یہ تاریخی ثقافتی مرکز ہے۔
    پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کی کوششوں میں لاہور کا بہت اہم قلیدی کردار رہا ہے کیوں کہ یہ شہر ہندوستان کے اعلان آزادی کے مقام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں ہی قیام پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ دہائیوں تک لاہور نے پاکستان کی آزادی کے لیے کئی فسادات دیکھے۔ 1947 میں تحریک پاکستان کی فتح ہوئی اور اس کی بلآخر آزادی کے بعد لاہور کو صوبہ پنجاب کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔
    پاکستان بھر میں لاہور کی ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ پاکستان میں اشاعت کا ایک اہم مرکز اور ادبی زندگی میں اس کا بہت قلیدی کردار ہے۔ شہر کے اندر متعدد مشہور تعلیمی اداروں کی موجودگی اسے پاکستان میں تعلیم کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اس شہر میں سیاحوں کے لیے بہت سے پرکشش مقامات ہیں جیسے والڈ سٹی ، بادشاہی مسجداور وزیر خان جیسی مشہور مساجد اور مختلف صوفی کے مزارات بھی موجود ہیں، لاہور قلعہ اور شالیمار گارڈن بھیی یہاں واقع ہے جو سیاحت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔
    جدید شہر لاہور کا بہترین نظارہ اس کے شمالی حصےوالڈ سٹی میں واقع ہے جہاں دنیا کی معتدد اشیاء اور قومی اثاثے موجود ہیں۔لاہور کی شہری منصوبہ بندی نہ صرف ہندسی ڈیزائن پر بنی تھی ، بلکہ قریبی عمارتوں کے تناظر میں بنی ہوئی ایک بکھرے ڈھانچے پر بھی مبنی تھی ، جس میں چھوٹی چھوٹی کل-ڈی-ساکس اور سڑکیں تھیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں کا نام مخصوص مذہبی یا نسلی گروہوں کے نام پر رکھا گیا تھا ، لیکن یہ علاقے خوداس سے اکثر مختلف ہوتے تھے اس لیے ناموں سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
    قدیم والڈ سٹی تیرہ دروازوں سے گھرا ہوا ہے۔ روشنایی ، مستی ، یکی ، کشمیری اور کزری ، شاہ برج ، اکبری اور لاہوری ان میں سے چند دروازے ہیں جو اب بھی قائم ہیں۔ عظیم برطانوی دور کا لاہور،والڈسٹی کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ والڈ لاہور دنیا کے قدیم شہروں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت ساری کشش ہے۔ فورٹ لاہور مغلوں اور بعد میں سکھوں نے اپنے شاہی طریقوں کے ذریعہ سے ایک وسیع عمارت کی صورت میں تعمیر کیا۔ بادشاہی مسجد ، جو ایک عرصے تک کرہ ارض کی سب سے بڑی مسجد تھی ، مغل بادشاہ اورنگ زیب نے بنائی تھی۔
    لاہورکا پاکستان کےسیاحوں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز بدستور قائم ہے۔ 2014 میں تجدید شدہ یہ شہر، لاہور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کے لئے مشہور ہے۔ والڈ سٹی کے قریب لاہور کے کچھ مشہور قلعے ہیں جن میں شیش محل ، عالمگری گیٹ ، نولہ پویلین اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981 کے بعد سے ، یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی سائٹ پر درج کیا گیا ، جیسا کہ قلعہ اور اس کے پڑوسی شالیمار باغات ہیں۔ اندرون شہر ،مندروں اور محلوں سے بھر پور ہے ، ان میں سب سے قابل ذکر آصف جاہ حویلی (حال ہی میں تجدید شدہ) ہے ۔یہاں پر کئی پرانے یادگاریں موجود ہیں ، جن میں مشہور ہندو مندر ، کرشنا مندر اور والمیکی مندر شامل ہیں۔ سمدھی رنجیت سنگھ بھی اس کے آس پاس ہی ہے جہاں سکھ بادشاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ دفن ہیں۔1673 میں تعمیر ہونے والی بادشاہی مسجد دنیا کی مشہور عمارت ہے اور اس وقت یہ دنیا کی سب بڑی مسجد کے طور پہ بنائی گئی تھی۔ 1635 میں بنائی جانے والی وزیر خان مسجد اپنی بڑی بڑی ٹائلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ مینار پاکستان، قلعے اور بادشاہی مسجد کے بالکل بالمقابل واقع ہے۔ یہ ایک خاص مسلم ریاست (پاکستان) کے قیام کی 1940 میں منظوری کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
    اب لاہوری کھانوں کی طرف چلتے ہیں اور اس بات سے انکار کرناممکن ہی نہیں کہ لاہور اور اس میں رہنے والے اپنے کھانے کی وجہ سے پاکستان کی ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتےہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس میں ایک معتبر گیسٹرنومی روایت ہے۔ یہاں گیسٹرونک کے بہت سے مواقع فراہم کیے جاتےہیں۔ حال ہی میں ، اس طرح کا کھانا آسانی سے ہضم اور ہلکے ذائقہ کی وجہ سے دوسرے ممالک میں ، خاص طور پر پاکستانی ڈا ئسپورہ میں خاصے مشہور ہوچکے ہیں۔ لاہور کی کافی ڈشز میں مقامی پنجابی اور مغلائی ڈشز کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چینی ، مغربی اور بین الاقوامی کھانوں کے علاوہ روایتی مقامی کھانے شہر بھر میں مشہور ہے اور علاقائی ترکیبوں کے ساتھ مل کر ایسے بہترین ذائقوں کو تیار کیا جاتا ہے جس کو پاکستانی چینی کھانے بھی کہا جاتا ہے۔

    @MS_14_1