Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سرائیکی زبان   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    سرائیکی زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    سرائیکی بولنے والا خطہ صوبہ پنجاب کے جنوب مغربی اضلاع میں پھیلتا ہے ، یہ پڑوسی صوبوں سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متصل علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ 21 ویں صدی کے شروع میں کم از کم 20 ملین سرائیکی بولنے والے موجود تھے ، لیکن متعلقہ اعدادوشمار کو مرتب کرنے اور شائع کرنے میں سرکاری عدم دلچسپی کے پیش نظر ، درست تعداد کا قیام ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں زبان کے امور کی حساسیت کو قرار دیا جاسکتا ہے ، جس میں خاص طور پر سرائیکی کو پنجابی سے الگ زبان سمجھنے کے لئے بڑھتے ہوئے دباؤ اور صوبہ پنجاب سے سرائیکی بولنے والے اہم خطے کو الگ کرنے کے نتیجے میں مطالبہ بھی شامل ہے۔ ان دعوؤں کا اکثر طور پر ان لوگوں کی طرف سے سخت مخالفت کی جاتی ہے جو سرائیکی کو پنجابی کی بولی کے سوا کوئی نہیں سمجھتے ہیں ، اس طرح انھیں پوری طرح سے سیاسی پہچان کا کوئی حق نہیں ہے۔

    اس معاملے پر کہ سرائیکی کو زبان کے طور پر درجہ بندی کیا جانا چاہئے یا بولی کو لسانیات نے الجھا دیا ہے چونکہ لسانی نظام مغربی مستشرقین کے ذریعہ دریافت کیا گیا تھا ، جس نے مشکوک درجہ بندی کو جنم دیا تھا اور ساتھ ہی اس معاملے پر رائے کے اختلافات کو جنم دیا تھا۔ یہ بنیادی طور پر اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ماہر لسانیات کے ذریعہ زبانوں اور بولیوں کی درجہ بندی کے لئے ایک واضح معیار قائم نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ ان کی زبان اور بولی کی خصوصیات پر اختلاف رائے ہے۔
    جدید سرائیکی تحریک ، جو بمشکل 1960 کی دہائی کی پیش گوئی کرتی ہے ، اس کے معاشی ترقی اور سیاسی اثر و رسوخ کے لحاظ سے اس خطے کی معمولی حیثیت کے بارے میں ہمیشہ گہری احساس کو ہوا دی جاتی ہے جب ان کے امیروں کے ساتھ ، پنجاب کے مشرقی اضلاع کی طاقتور پوزیشن کے مقابلے میں۔ وسائل ، صوبائی دارالحکومت لاہور کے آس پاس۔ اس تحریک کی سب سے اہم ابتدائی کامیابی ، سرائیکی کے لفظ کو عام طور پر قبول کرنا تھا – اصل میں ایک سندھی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "شمال کی زبان (سیرو)” – جنوب مغربی پنجاب اور اس کے پڑوسی علاقوں میں تقریر کی تمام مقامی اقسام کے لئے مشترکہ لیبل کے طور پر۔ اضلاع خود ہی علاقائی شناخت کا ایک طاقتور احساس پیدا کرنے کے بعد ، کامیابی کے ساتھ مختلف مقامی ناموں کی جگہ لے لی ہے ، جیسے ملتانی ، ملتان کی زبان ، تاریخی طور پر اس خطے کا اہم شہر ، یا ریاستی ، جو سابقہ ​​طاقتور شاہی ریاست کی زبان تھی (ریاضت) بہاولپور کی اسی کے ساتھ ہی ، سرائیکی کے ثقافتی تشخص کو اپنے مخصوص ادبی ورثے کی اپیل کرتے ہوئے اس کی پامالی کی گئی ہے۔ اگرچہ ابتدائی شاعروں کی زبان ، جیسے شیخ فرید شکر گنج (1175–1266) ، سرائیکی یا پنجابی بولنے والوں میں سے کسی کے دعووں کے لئے کھلا ہے ، لیکن حالیہ زمانے سے سرائیکی شاعری کی ایک روایت ہے ، اٹھارہویں صدی میں شمالی سندھ میں اشعار کی ایک بھرپور پیداوار بھی شامل ہے۔ ۔ لیکن سرائیکی شناخت کی عظیم ثقافتی علامت بہاولپوری بزرگ شاعر خواجہ غلام فرید (1845–1901) کی ایک عمدہ شاعری ہے ، جو مقامی صحراؤں کے مناظر کو خالصتا مقامی ذخیرہ الفاظ کی فراوانی کے ساتھ مناتی ہے اور اس کا ایک اہم الہام ہے۔ جدید سرائیکی ادب۔ سرائیکی زبان کو ملک بھر میں میٹھی زبان مانا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے با اثر اور با وقار شاعروں نے سرائیکی زبان کو ترجیح دی ہے اور ان مشہور شاعروں نے سرائیکی زبان میں اپنے شاعر کہے ، ان شاعروں کی شاعری پڑھتے ہوئے بھی دلی سکون ملتا ہے ۔ یو بھی کہا جا سکتا ہے کہ سرائیکی زبان کی اپنی ایک عظیم تاریخ موجود ہے ۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • شہداء کے لہو کا فیضان پاکستان تحریر :صائمہ ستار

    "شہیدوں کا لہو وہ آسماں ہے جس کے سائے میں سنور جاتی ہیں تاریخیں، نکھر جاتی ہیں تہذیبیں”

    دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے, نئی سلطنتوں نے جنم لیا سب کی بنیادیں گمنام مجاہدین کے خون سے سینچیں گئیں. برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کی شمع شہداء کے مبارک خون سے روشن ہوئ جسکی روشنی سے نئی نسلوں نے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطا "پاکستان” کو حاصل کیا.آزادی سے عظیم اور بیش قیمت نعمت بے شک کوئ نہیں ہوتی. برصغیر میں غلامی و محکومی کی 100 سالہ تاریک رات کی روشن صبح انتھک مجاہدین کے اپنی لازوال قربانیوں سے دیکھی.
    ہجرت کا سفر لہو لہو تھا.اس عظیم آزادی کی قیمت مسلمانوں نے اپنے خون سے اد کی تھی.آزادی کی جدوجہد اور ہجرت کے اس سفر میں لاکھوں گمنام شہداء کے اپنی قربانیوں سے وطنِ عزیز کی بنیاد رکھی.اس وطن کی مبارک خاک کو پانے کے لیے ہزاروں روشن چہرے سپردِ خاک ہوئے. لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پورے پورے خاندان کو لٹتے دیکھا.پاکدامن ماوؤں,بہنوں نے عصمت کی حفاظت کی خاطر کنوؤں اور نہروں میں چھلانگیں لگا کر جانیں قربان کیں. مسلمانوں کے شہروں کے شہر ، قصبوں کے قصبے ، گاؤں کے گاؤں مٹادیے گئے.کلکتہ کے فسادات میں اسقدر مسلمانوں کا خون بہا کہ مردہ خانوں میں جگہ نہ بچی.سڑی ہوئ لاشوں کی بو اسقدر تھی کہ سانس لینے کا مصنوعی آلہ استعمال کرے بغیر مردہ خانے میں سانس لینا محال تھا. صوبہ بہار میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں تیس ہزار سے زیادہ مسلمان شہید اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے. مساجد اور مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ممسار کیا گیا.لندن ٹائمز کے نامہ نگار آئین مور لسین کی ایک رپورٹ جو اس نے 24اگست 1947کوجالندھر سے روانہ کی جس میں لکھا مشرقی پنجاب میں ہونے والا قتلِ عام جنگِ عظیم کی تمام تر ہولناکیوں سے بڑھ کر ہے.وحشت کا عالم یہ تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور پہنچنے والی ایک مال گاڑی سے عورتوں اور بچوں کے کٹے سر اور دیگر اعضاء کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا اور مال گاڑی کے باہر لکھا گیا تھا کہ یہ مسلمانوں کے لیے عید کا تحفہ ہے. ٹرینوں پر بم حملے کیےگئے اور بعض ایسی ٹرینیں تھیں کہ ان سے خون اور لاشوں کہ علاوہ کچھ برآمد نہ ہو سکا.قیامِ پاکستان کے سلسلے میں ہجرت تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی جس میں 10 سے 15 لاکھ مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا.غرض یہ کہ مظالم,شہادتیں اور قربانیاں اسقدر ہیں جنکا احاطہ کرنا مشکل ہے. قابلِ غور امر یہ ہے مسلمانوں نے یہ تمام قربانیاں جس عظیم مقصد کے لیے دیں کیا ہم اس مقصد کی پاسبانی کرنے میں کامیاب ہوئے؟ جس دو قومی نظریے کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے,اسلامی اقدار کے مکمل نفاذ کے لیے,پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لیے عظیم قائد محمد علی جناح نے یہ لازوال اور انتھک جدوجہد کی کیا ہم اس جدوجہد کا پاس رکھ رہے ہیں؟افسوس ناک امر یہ ہے قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کے پائے کی قیادت اس وطن کو نصیب نہ ہو سکے. پاکستان جو اللہ کی عظیم عطا اور شہداء کے مبارک خون کا فیضان ہے ترقی اور عروج کی اس سمت گامزن نہ ہو سکا جسکا محمد علی جناح نے خواب دیکھا تھا.گزشتہ 73 سالوں سےہم ترقی پزیر سے ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکے. علاوہ ازیں نظریہ اسلام جو اصل نظریہ پاکستان اور وطنِ عزیز کی بنیاد ہے جدید دنیا کے تقاضوں کے نام پر مسلسل نظریاتی اقدار کی نفی کی جارہی.قومیں اپنے نظریاتی تشخص کی بنا پر زندہ رہتی ہیں. نوجوان قوم کا مستقبل ہیں لہذا انہیں چاہیے کہ جس عظیم مقصد کی آبیاری تحریک آزادی کے شہداء کے مبارک خون سے ہوئ اس عظیم مقصد کی سر بلندی کے لیے متحد ہو کر قائدِ اعظم کے مطابق "کام, کام اور صرف کام” کے اصول پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں.اپنے اسلامی اور نظریاتی تشخص کو پہچانیں اور اسے ختم ہونے سے بچائیں. دعا کہ شہداء کے مبارک خون کافیضان پاکستان تاصبح قیامت قائم رہے.آمین.

    SMA___23
    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • پیار کرنا سیکھو۔  تحریر: نبیل آمین

    پیار کرنا سیکھو۔ تحریر: نبیل آمین

    ایک بار کی بات ہے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا اس کے گھر کے قریب ایک پہاڑ تھا جہاں پر وہ روز صبح جاتا اس پہاڑ پر وہ تھوڑی دیر کے لئے بیٹھتا پھر واپس آ جاتا تو روز کی طرح وہ صبح صبح جا رہا تھا پیچھے سے اس کا چھوٹا سا بیٹا آیا اس نے آ کرکے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کے آج میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا اس نے پہلے تو اسے تھوڑا سمجھایا اور منع کیا کہا کہ جو راستہ ہے وہ تھوڑا چھوٹا ہے اور چڑھائی بہت زیادہ ہے تو تم میرے ساتھ نہیں چل پاؤ گے لیکن پھر جب اس بیٹے نے زد کری تو باپ مان گیا تو دونوں پہاڑ پر چڑھنے لگے باپ نے بیٹے کا ہاتھ قس کے پکڑا ہوا تھا لیفٹ سائیڈ میں پہاڑ تھے اور رائٹ سائیڈ میں کھائی تھی اور راستہ بہت ہی چھوٹا تھا اور وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والے تھے تب ہی راستے میں ایک بڑا سا پتھر آیا کیونکہ باپ اس راستے پر روز آتا تھا تو اس کو پتہ تھا کہ وہاں پر پتھر ہے تو وہ سائیڈ سے نکل گیا لیکن جو بیٹا تھا اس کا دھیان کہیں اور تھا تو اس کا گھٹنا جا کے بڑے سے پتھر میں ٹکرا گیاتو پھر اس بچے کے منہ سے ایک چیخ نکلی آہ جیسے ہی وہ چیخا اس کی آواز ان پہاڑوں میں گونجنے لگی اس سے پہلے اس بچے نے کبھی بھی اپنی آواز کی گونج کبھی نہیں سنی تھی تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے وہ اندر سے تھوڑا سا گھبرا گیا تو اسے لگا کے شاید کہیں کوئی ہے جو اسے چھپ کر دیکھ رہا ہے اور اس کا مذاق اڑا رہا ہے پھر اس بچے نے بولا کون ہو تم تو جب اس بچے نے اس گونج کو سنا تو اسے غصہ آگیا اس کو لگا کہ کون ہے یہ جو میرا مذاق اڑائے چلے جا رہا ہے پھر اس نے غصے سے کہا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں اور پھر جیسے ہی اس نے اس گونج کو سنا تو وہ گھبرا گیا اس کا باپ سمجھ گیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اس نے اپنے باپ کا ہاتھ قس کے پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کون ہے یہ جو مجھے اتنا تنگ کر رہا ہے کون ہے یہ جو مجھے اتنا ڈرا رہا ہے تو اس کا باپ تھوڑا سا مسکرایا اور انہوں نے کھائی کی طرف دیکھا اور زور سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں یہ سن کر وہ بچہ حیران ہوگیا اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کہ وہی انسان جو اس کا مذاق اڑا رہا ہے اس کو تنگ کر رہا ہے وہ اس کے باپ کو بول رہا ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور وہ سمجھ گئے کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے اور پھر دوبارہ انہوں نے بولا تم بہت اچھے ہو اور یہ سن کر ان کا بیٹا بھی تھوڑا سا مسکرایا اور یہ پوچھا اپنے باپ سے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا یہ جو آواز تم سن رہے ہو نہ یہ کسی اور کی نہیں ہے یہ تمہاری ہی آواز ہے جو کہ پہاڑوں میں گونج رہی ہے اور تمہیں اپنی ہی آواز سنائی دے رہی ہے جیسا تم بولتے ہو ٹھیک ویسا ہی تمہیں سنائی دیتا ہے اگر تم غصے سے کچھ کہو گے تو پلٹ کر کہ جو آواز آئے گی اس میں بھی غصہ ہوگا لیکن اگر تم کچھ اچھا کہو گے تو آواز بھی اچھی ہوگی بلکل اسی طرح سے ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے جیسا تم اپنے دل میں اس زندگی کے بارے میں سوچتے ہو یہ زندگی تمہارے لئے بلکل ویسے ہی ہو جاتی ہے اگر تم دل ہی دل میں اپنے آپ کو یہ بولتے رہو گے کہ میری زندگی تو بہت بری ہے تو تمہاری زندگی سچ میں بری ہو جائے گی اور اگر تم اپنی زندگی سے پیار کرو گے تو تمہاری زندگی بھی تم سے پیار کرے گی یہ بات اس بچے کے دماغ میں گھر کر گئی اور پھر وہ دونوں اس پہاڑی کی چوٹی پر گئے لیکن بچے کے دماغ میں یہی بات گھوم رہی تھی اور پھر وہ بچہ کھلکھلا کے ہنسا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ کھولے اور اپنی پوری طاقت سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
    جزاک اللہ ! خوش رہیں اور خوش رکھیں ، تحریر محمد بخش
    Twitter user name @Im_NabeelAmeen

  • تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک پاکستان کاقیام 2017میں وجود میں آیا۔ اس تحریک کےقیام کےپیچھےجو وجہ کارفرما تھی وہ ممتاز قادری کی گرفتاری اور سزاۓموت تھی۔ حافظ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی رہاٸی کیلیے مذہبی تحریک لبیک یارسول ﷺ کی بنیاد رکھی۔ 2017میں ختم نبوت ﷺکےقانون میں تبدیلی کیخلاف فیض آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺنےدھرنادیا جسےتاریخ کامیاب دھرناماناجاتاہے۔ اس دھرنےکےبعد اس تحریک کےسیاسی ونگ کےقیام کی ضرورت محسوس کی گٸ اور تحریک لبیک پاکستان کوالیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایاگیااور کرین کانشان الاٹ کیاگیا۔ TLPنے2018کےانتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری۔ اسکی شاندار کامیابی سے سب چونک اٹھے۔ اور بڑےبڑے مگرمچھ جو گزشتہ 73سالوں سےپاکستان کو نسل در نسل لوٹتےآرہےہیں انہیں اپنی طاقت خطرےمیں پڑتی نظر آٸی ۔غریب جوکٸ سالوں سے معاشی استحصال کاشکارہیں انکو کوٸی آپشن نہیں مل رہاتھا کیونکہ تمام قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نماٸندگی کرتی ہیں۔ تحریک لبیک کی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سےبڑے بڑے دیاسی برج اور سرمایہ دار خوفزدہ ہیں۔آخر وہ کیاوجہ ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی سےلیکر تاجرمافیا تک اور کرپٹ سیاستدانوں سےلیکر بڑےبڑے میڈیا ہاٶسسز TLP سےخوفزدہ ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ TLPمتوسط اور غریب طبقےکی جماعت ہے جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ٗ میڈیا ٗ بیوروکریسی ٗ سرمایہ دار ٗ بڑےبڑے عیش پرست گدی نشین سب اشرافیہ کی نماٸندگی کرتےہیں۔ اور پوری دنیاجانتی ہےکہ یہ اشرافیہ کس طرح پاکستان کےغریب اورمتوسط طبقےکاکٸ سالوں سےاستحصال کررہےہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ تحریک لبیک بمقابلہ دیگر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ غریب بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں وقتی طور پراشرافیہ جیتتی ہوٸی نظر آرہی ہےکیونکہ یہ پورےسسٹم پر قابض ہے۔مگر یہ ایک لاوا ہے جو پھٹنےوالاہے اور یہ لاوا تمام اشرافیہ اور سرمایہ داروں کو بہاکر لےجاۓگا۔کیونکہ اب غریب کو تحریک لبیک کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکاہے۔جلد یا بدیر غریب اور متوسط طبقےسے تعلق رکھنےوالٕےپاکستانیوں کو اس اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ملنےوالاہے۔

    @waqasRizviJutt

  • میں انمول ہوں  تحریر: فریال نیازی

    میں انمول ہوں تحریر: فریال نیازی

    سترہ اٹھارہ سال کی عمر تک ماں باپ آپ پہ روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لیکن یونیورسٹی کی عمر کو پہنچ جانے یا شادی ہوجانے کے بعد آپ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ کوئی آپ پہ روک ٹوک نہیں کر سکتا ۔ نہ آپ سے کسی کی روک ٹوک برداشت ہوتی ہے ۔ اس عمر میں آپ جو چاہیں کھائیں ۔ جب چاہیں کھائیں آپ کی مرضی ہے تو کام کریں نہیں ہے تو نہ کریں ۔ آپ یونیورسٹی یا جاب پہ جائیں یاسارا دن سو کے گزاریں اس عمر میں اماں اباکم ہی کچھ کہتے ہیں نہ ان کے کہنے کا اثر بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ وہ جتنا کہہ لیں کہ آدھی آدھی رات تک نہ جاگو‘ موبائلز رکھ دو اور صبح جلدی اٹھو۔۔۔ فرق نہیں پڑتا ۔ پھروہ عموماََ کہنا چھوڑ دیتے ہیں
    میں اکثر کہتی اور لکھتی ہوں کہ اپنے ہیرو خود بنیں ۔ لیکن وہی شخص اپنا ہیرو خودبن سکتاہے جو پہلے اپنا پیرنٹ خود بننا سیکھے ۔ اپنی ماں بنے ۔ خود پہ روک ٹوک کرے ۔ خود پہ پابندی لگانے کا جگر پیدا کرے ۔ خود کو کام کے لیے اٹھائے ۔ کب کھانے سے ہاتھ روک لینا ہے اور کب ایکسرسائز کے لیے اٹھ جانا ہے ۔ اپنی ذات‘ کیرئیر اور دین کو بہتر بنانے والے کاموں پہ اس عمر میں کوئی آپ کو مجبور نہیں کرسکتا کوئی آپ سے یہ کام نہیں کرواسکتا ۔ اور یہ کام نہ ہونے کی صورت میں کوئی آپ کو نقصان سے بچانے بھی نہیں آئے گا کیا کرنا ہے اور کس سے رک جانا ہے۔
    اپنی پیرنٹنگ آپ نے اب خود ہی کرنی ہے ۔ اس کو کہتے ہیں سیلف ڈسپلن۔۔ ری پیرنٹنگ۔۔!!!!

    @Missfaryalkhan

  • رشتوں کی قدر  تحریر: محمداحمد

    رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

    رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

    آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

    معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

    مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

    @JingoAlpha

  • نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    ‏نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا، دن دیہاڑے حوا کی بیٹی کی عصمت کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی نوچ لیا اور اُس معصوم عورت کی عصمت دری کے بعد مزاحمت پر اس کی گردن پر چھڑی چلا دی۔ ایک تو وہ درندہ تھا جس نے اس معصوم، غریب عورت کے ساتھ ظلم کیا لیکن اس کے علاوہ وہاں کچھ اور بھی درندے موجود تھے۔ اس معصوم، زخمی عورت کے جسم کو مرہم پٹی کی ضرورت تھی کیونکہ اس کے گلے سے خون بہہ رہا تھا۔ مگر افسوس کہ اس بے حس دنیا کے بے حس لوگ اُس معصوم عورت کی ویڈیو بنانے لگ گئے، اس سے بیان لینے لگ گئے۔ اس بنتِ حوا کو بروقت ہسپتال لے جانے کی بجائے اس کے انٹرویو لینے لگ گئے۔
    یہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک بچے کو قتل کر دیا گیا اس کی ماں کی عصمت لوٹی گئی اور جب اس نے مزاحمت کی تو اس کے گلے میں چھڑی چلا دی گئی۔ وہ علاقہ غیر ہو چکا ہے وہاں کوئی قانون نہیں ہے لوگ بغیر کسی خوف و خطر کے معصوم لوگوں کو ازیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ معصوم عورت تو ابدی نیند سو گئی مگر اس کے ساتھ کیے گیے ظلم کا حساب معاشرے کو دینا ہو گا۔
    ہمارا معاشرہ ایسے درندوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہوس کے اتنے پجاری ہو گئے ہیں کہ اپنی ہوس کی انتہا پر کسی معصوم انسان کی زندگی کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ ایسا کوئی انسان مر رہا ہو تو اُس وقت بھی پیسے اور شہرت کے چکر میں ہوتے ہیں کہ اُس کی مدد کی بجائے تصاویر بنانے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ کب تک ایسی بے حسی کی زندگی گزار رہے ہوں گے اور اپنی شہرت اور پیسے کی خاطر دوسروں کی زندگیوں سے مذاق کر رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں جو انسانوں کی مدد کی بجائے گمراہی پھیلا رہے ہیں اور اپنی سستی شہرت کی خاطر کسی معصوم کی آخری سانس پر بھی اس کی مدد نہیں کرتے۔
    ایسے ظلم معاشرے سے تب ہی ختم ہو سکتے ہیں جب اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قوانین نافذ کیے جائیں۔ جب تک شرعی سزائیں نافذ نہیں ہوتیں ایسے ظلم ہوتے رہیں گے۔
    اللّٰہ بڑا بے نیاز ہے۔ جب ظالم کے گلے اللّٰہ کا عذاب پڑتا ہے تو اُس عذاب کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس ظالم کے کیے گئے ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللّٰہ پھر ہمارے انفرادی عمل کو نہیں دیکھتا۔ اللّٰہ اپنے دین کے چلانے کا کام دوسری اقوام سے بھی لے سکتا ہے اور تاریخ میں بہت دفعہ لیا ہے۔

    ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
    پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے (اقبال)

    اور اب بھی لے سکتا ہے اور پھر پرانے مسلمانوں کی طرح ہمارے بھی صرف قصّے اور کہانیاں ہی رہ جائیں گی۔
    خدارا اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور آواز اٹھائیں اپنے ایمانوں کی خاطر، اس بات کی خاطر کہ کل کو یہ فتنہ ہمارے گھروں تک نہ پہنچ جائے۔ اور اپنی شہرت اور لالچ پسِ پردہ ڈالیں۔ اللّٰہ کی رضا کے لیے مظلوموں، مسکینوں کے لیے اٹھیں نا کے سوشل میڈیا پر شہرت اور پیسے کمانے کی خاطر۔ اگر ہم اللّٰہ کی رضا کی خاطر اُٹھے تو اللّٰہ سب کچھ دے گا اور اگر شہرت اور پیسوں کی خاطر اُٹھے تو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

    اللّٰہ رحم کرے اس ملک و قوم پر۔ پتہ نہیں یہ روز کی داستانیں جو لوگ اپنے رب کو سنانے چلے جاتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا !!

    Name : زوہا علی
    Twitter handle : @ZoHaAli_15
    Topic :
    سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں

    وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

  • پنجاب میں صنعتی انقلاب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات  تحریر:  شعیب قدیر ملک

    پنجاب میں صنعتی انقلاب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات تحریر: شعیب قدیر ملک

    آبادی کے لحاظ سے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے ، مناسب قیادت کا فقدان اور معاشی منصوبہ بندی کا فقدان ، صوبہ برسوں سے معاشی جمود کا شکار ہے۔ 2018 میں عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا اور پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آگئی۔

    وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے محروم حصے سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار کو پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت دینے کا فیصلہ کیا۔ جو اپنی نوکری کو اپنا فرض سمجھتا تھا۔ ہر طرف سے بزدار پر تنقید پھیل گئی ، لیکن اس نے نظر انداز کیا اور صوبے کی تقدیر بدلنے کے لئے دن رات کام کیا۔

    آج ، وزیر اعلی عثمان بزدار کی سربراہی میں ، صوبے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ در حقیقت ، صوبہ پنجاب وزیر اعظم عمران خان کے نئے پاکستان کے وژن کی بنیاد بن گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہ صرف صوبے کی معاشی حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی بلکہ لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے۔

    آئیے حکومت کے اٹھائے گئے کچھ اہم اقدامات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے پنجاب میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہیں تھی۔ پہلے وزیر اعلی عثمان بزدار نے پہلی بار پنجاب میں مربوط اور جامع صنعتی پالیسی لانے کے لئے اقدامات اٹھائے اور پہلی صنعتی پالیسی پنجاب کو دی۔ اگرچہ ایک نیا دور شروع ہوا۔

    اگر ہم روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صنعتوں کے قیام پر نظر ڈالیں تو ، حکومت پنجاب نے اب تک 8 نئے خصوصی اقتصادی زون تشکیل دیئے ہیں ، جبکہ 4 پرانے صنعتی اسٹیٹس کو اپ گریڈ کرکے صنعتی زون کا درجہ دیا گیا ہے۔
    فیصل آباد میں قائم کیا جانے والا عالم اقبال انڈسٹریل سٹی 3217 ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے جو 4 لاکھ ہزار افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرے گا جبکہ مجموعی طور پر 10 لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
    شیخوپورہ میں موٹر وے کے قریب 1536 ایکڑ رقبے پر محیط پاکستان کے پہلے سمارٹ اقتصادی زون قائداعظم بزنس پارک کا منصوبہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ اس منصوبے پر کام زوروں سے جاری ہے۔ اس منصوبے سے 25 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
    پی ٹی آئی حکومت نے بھلوال ، رحیم یار خان اور وہاڑی کے صنعتی اسٹیٹس کو خصوصی معاشی زون کا درجہ دے دیا ہے۔ اس سے بالترتیب 6،000 ، 5،500 اور 4،000 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
    سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیڈمک میں ون ونڈو سروس سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

    جہاں حکومت پنجاب صوبے میں صنعتی انقلاب لانے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے ، وہیں ان صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔
    صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لئے صوبے میں ٹیکنیکل یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں ، ان میں تیآنجن ٹیکنیکل یونیورسٹی لاہور میں ایک کروڑ روپئے کی لاگت سے۔ 3 ارب ، رند یونیورسٹی آف ٹکنالوجی ڈی جی خان نے ایک ارب روپے کی لاگت سے۔ 2 ارب اور ڈی جی خان نے 5 ارب روپے کی لاگت سے۔ 2.16 بلین۔ پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاؤالدین کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں راولپنڈی میں ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ، تکنیکی نصاب پیش کرنے والے اداروں کی تعداد اور ان میں طلباء کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
    اس ضمن میں ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے ایک ہنر مند نوجوان پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ ٹویوٹا کمپنیوں کی گنجائش 90،000 سالانہ سے بڑھا کر 233،000 کردی گئی ہے۔ ہنر مند یوتھ پروگرام کے تحت ، صنعت کے تقاضوں کے مطابق 5 6 نئے جدید کورسز کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ٹویوٹا ، پی وی ٹی سی اور پی ایس ڈی ایف ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کو ایک چھتری میں لانے کے لئے پنجاب اسکل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے

    سرکاری اور نجی پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی اتھارٹی میں آن لائن رجسٹریشن جاری ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ کی رجسٹریشن اور امتحانات فیس کو کورونا کے دوران ایک سال کے لئے ختم کردیا گیا تھا۔ نجی تعلیمی اداروں میں اس سے 17،000 بچوں کو بھی فائدہ ہوا۔
    حکومت پنجاب نے صوبے میں نئے سرمایہ کاروں کو لانے اور کاروبار میں آسانی کے ل valuable قیمتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ پنجاب بزنس رجسٹریشن پورٹل قائم کیا گیا ہے جس نے کاروباری اندراج کے عمل کو 24 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے۔ انویسٹر ہیلپ لائن کو پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ میں قائم کیا گیا ہے۔ اس سے کاروباری برادری کو کاروبار کے اندراج ، شکایت کے ازالے ، مسئلہ حل کرنے اور کاروبار کے بارے میں معلومات فراہم ہوں گی۔

    حکومت پنجاب نے 90 متعلقہ محکموں کو 90 دن کے اندر این او سی جاری کرنے کی ضرورت کے ذریعے نیا سیمنٹ پلانٹ لگا کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ، سیمنٹ کے نئے پلانٹ لگانے کے لئے 5 این او سی جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ کابینہ نے مزید 5 این او سی جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یاد رہے کہ نئے سیمنٹ پلانٹ کی تعمیر پر 300-250 ملین ڈالر لاگت آئے گی ، جس کی متوقع سرمایہ کاری آئندہ پانچ سالوں میں 4.5 بلین ڈالر ہوگی۔
    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب میں صنعتی انقلاب لانے کے لئے اٹھائے گئے کچھ اہم اقدامات یہ ہیں۔

    @ShoaibQadeer1

  • حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری  تحریر: مجاہدحسین

    حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری تحریر: مجاہدحسین

    تازہ خبریں: تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر سے 25 نشستوں پہ کامیابی سمیٹی، عمران خان نے اگلا ہدف سندھ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
    اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عمران خان کسی چیز یا کام کے بارے میں فیصلہ کر لے تو پھر وہ اسے پورا کر کے رہتا ہے۔

    ووٹ چرانے والوں کو استعفی مانگتے وقت شرم آنی چاہیئے۔ مریم اورنگزیب
    یاد آیا، کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں بیٹھے ن لیگ کے سینئر سیاستدان اور پاکستان کے سابق وزیراعظم یہ فرما رہے تھے کہ جتنا ووٹ چوری کرنے کا تجربہ ہمارا ہے اتنا کسی کا بھی نہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا موصوف اور موصوفہ بھی شرم محسوس کرتے ہونگے یا ان کی شرم والی حس مر چکی ہے؟

    کرونا کے کیسسز میں خطرناک اضافہ، مئی کے بعد کیسسز بلند ترین سطح پر۔
    ہم اس قوم کو بار بار اس وائرس سے احتیاط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو یہ بات شوق سے کہتے ہیں کہ جو رات قبر میں ہے وہ دنیا میں نہیں۔ ان پہ خاک کسی دلیل کا اثر ہونا ہے۔ لیکن اس وقت تک جب ہر ایک کے گھر سے کوئی رشتہ دار اس بیماری سے جانبحق نہ ہو تب تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔

    پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی اور تشدد کا سہارا لیا۔ بلاول زرداری
    قارئین! آپ کو بتاتے چلیں کے انہیں کی پارٹی کے عہدیداروں کے خلاف الیکشن والے دن تحریک انصاف کے دو نوجوانوں کو سیدھی گولیاں مار کے شہید کرنے کا پرچے ہو رہے ہیں۔

    بھارت سے مدد مانگنے کے بیان کا معاملہ، ن لیگ نے اسماعیل گجر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
    یہ سن کے یاد آیا کہ ہمارے ہاں ایک محاوہ بہت مشہور ہے کہ "وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جائی۔ مطلب پہلے اپنے لوگوں چاہے وہ نہال ہاشمی ہو، جاوید لطیف یا پھر اشرف گجر۔ یہ لوگ اتنے بڑے سیاستدان نہیں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی بیان دے دیں، قوی امکان ہے کہ ان کی پشت پناہی ن لیگ کی سیاسی وارث اور شاہی خاندان کی ولی عہد مریم صفدر ہی فرما رہی ہونگی۔

    اور اب نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری

    ‏یہی نہیں مرے سرکار جھوٹ بولتے ہیں
    یہاں کے کوچہ و بازار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ میرے شہرِ خرابی میں بسنے والے لوگ
    عجیب ہیں کہ سر دار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏دیئے جلائے ہوئے شام کی حویلی میں
    تمام ریشمی کردار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏کمال یہ ہے ترے چشم و لب کے آئینے
    بڑے یقین سے ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ باب عشق، اسے روشنی سے نسبت ہے
    یہاں تو صرف سیاہ کار جھوٹ بولتے ہیں۔

    اور اب آخر میں ایک مطلع:

    ‏قرار دل فسانہ ہو گیا ہے
    تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

    @Being_Faani

  • مضبوط سامراجی قوت کا خواب تحریر: محمد معوّذ

    مغرب کی طرف سے مسلسل اسلام سے متعلق منفی پروپیگنڈا جس سے بنیاد پرستی کی قدامت پسندی اور انتہا پسندی شامل ہیں زور وشور سے کیا جارہا ہے اور اسلام کو دقیانوسی نا قابل عمل اور دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ دنیا میں جب بھی کہیں بھی کوئی گڑبڑ تخریب کاری حادثہ یا سانحہ رونما ہو تو فوری طور پر تمام ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر اس حساب سے کرتے ہیں کہ جیسے تمام تر مسلمان اس میں بیک وقت ملوث ہوں ۔ اگر وہ براہ راست نہیں تو بلا واسطہ وہ اس میں ضرور شریک ہیں ۔ مغربی دنیا ویسے تو حقوق العباد پر سب سے زیادہ ڈھونگ رچاتا ہے لیکن خود امریکا بهادر بغیر جواز کے عراق پر چڑھ دوڑا ۔ سیکوریٹی کونسل کی اس نے پروانے کی دنیا بھر میں عراق پر فوج کشی کے خلاف جلوس اور مظاہرے ہوئے مگر امریکا ٹس سے مس نہ ہوا اور کسی اخلاقی اور قانونی جواز کے بغیر عراق پر فوج کشی کی اور قابض ہوا ساتھ میں برطانیہ شیطان کو بھی ملالیا ۔ اب جب کہ عراق میں منظم گوریلا جنگ شروع ہو چکا ہے تو مختلف ملکوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ عراق میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی فوجیں دیں تا کہ امریکا اپنا ظالمانہ تسلط قائم رکھ سکے ۔ بھارت نے امریکی درخواست پرعراق میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیا ہے ۔ فوج نہ بیجھنے کا فیصلہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی زیر صدارت کابینہ کی سیکوریٹی کمیٹی کے دو گھنٹے کے اجلاس میں کیا گیا امریکا نے بھارت سے اپنی 17 ہزار فوجی عراق بھیجنے کی درخواست کی تھی جسے واجپائی کابینہ نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ۔ امریکا ہندوستان کو جدید ہتھیار سپر الیکٹرانک آلات جنگی ساز و سامان اور مالی امداد فراہم کرتا ہے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ ترجیح دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے عراق میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے تا کہ وہ پاکستان کو پوری طرح عرب دنیا اور اسلامی ملکوں کے درمیان بدنام کرسکے ۔ بھارت پروپیگنڈہ کرے گا کہ پاکستانی فوج عراقی مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ عربوں کا دوست ہے۔
    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 1990 ء میں جہادکشمیر شروع ہونے کے بعد سے اب تک بھارت تین بار اپنی فوجیں سرحدوں پر لے آیا لیکن یہ کشمیری مجاہدی تھے جنھوں نے بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ الجھا کر بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہونے دی لیکن ہم نے ان مجاہدوں کے مدد کے ہاتھوں کو جھٹک دیا ہمیں امریکی صدر کے ہاتھوں زیادہ مضبوط نظر آئی جس کا بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے بڑے دعووں کے باوجود آخر تک نہ پہنچ سکا ۔
    ہمارے حکمران کی کم عقلی کو دیکھو کہ جب امریکا دباؤ ڈالے تو کہتے ہیں ہم دراندازی بند کر دیں گے کہ کون کی سیاست ہے بلکہ یہ بے وقوفی ہے 1948 ء میں مجاہدین نے ہند وفوج سے کشمیر کا جو حصہ آزاد کروایا وہ علاقہ اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی لائن قرار دیا گیا دنیا کے کسی بھی قانون میں سیز فائر لائن کو بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا جب بارڈر لائن ہی نہیں تو پھر دراندازی کا مطلب کیا ہے ؟ خدا حکمرانوں کو ہوش دے یہ سب کچھ پاکستان کو پوری اسلامی دنیا سے تنہا کرنے کی سازش ہے جس کا سہرا بھی امریکا مکار کو ہی جاتا ہے۔

    @muhammadmoawaz_