Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان  تحریر: وسیم اکرم

    سلطان صلاح الدین ایوبی اور آجکا مسلمان تحریر: وسیم اکرم

    بارہویں صدی عیسوی میں ایک سلطان اپنی فوج کے ساتھ ایک میدان میں خیمہ زن تھا۔ اس خیمے کے باہر ایک کم عمر لڑکی کھڑی ہے جو خیمے میں داخل تو ہونا چاہتی ہے لیکن سلطان کے خوف سے اسکا جسم کانپ رہا ہوتا ہے۔ آخر کار اس نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور ڈرتے کانپتے ہوئے خیمے کے اندر داخل ہوگئی۔۔۔

    لڑکی کے سامنے وقت کا سلطان بیٹھا ہوا تھا سلطان نے لڑکی کو مخاطب کیا اور پوچھا تمہارے آنے کا مقصد کیا ہے۔۔؟ لڑکی نے کانپتے ہوئے کہا میں آپ سے ایذاز مانگنے آئی ہوں۔ ایذاز اس شہر کا نام تھا جسے حاصل کرنے کیلئے سلطان نے 38 دن کی لڑائی اور ہزاروں سپائی شہید کروانے کے بعد حاصل کیا تھا یہاں تک کہ اس شہر کی خاطر سلطان نے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی تھی۔۔۔

    لیکن سلطان پھر بھی اس لڑکی کو انکار نہیں کرسکا اور اسے کہا کہ تم مجھ سے ایذاز مانگتی ہو تو یہ تمہارا ہوا اور ساتھ بہت ساری دولت بھی دی اور رخصت کردیا۔ سلطان جانتا تھا اس لڑکی کو اس کے دشمنوں نے بھیجا ہے پھر بھی سلطان نے اسے سب کچھ دے دیا کیونکہ وہ سلطان کے محسن نورالدین زنگی کی بیٹی تھی۔۔۔

    وہی نورالدین زنگی جنہوں نے خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک تک سرنگ کھودنے کی ناپاک کوشش کرنے والے دو یہودیوں کو قتل کردیا تھا۔ اور وہ بیٹی جس شخص سے شہر مانگنے آئی تھی وہ بھی کوئی معمولی شخص نہیں بلکہ صلاح الدین یوسف تھا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے۔۔۔

    صلاح الدین ایوبی اتنے رحمدل اور سخی تھے کہ مصر کے گورنر بنتے ہی قاہرہ کا سارہ خزانہ غریبوں میں تقسیم کردیا اور اپنے لیئے ایک سکہ بھی نہیں رکھا۔ صلاح الدین ایوبی شاید مصر کے گورنر کی حیثیت سے ہی اپنی زندگی گزار دیتے لیکن نورالدین زنگی کے انتقال کے انکی زندگی بدل کے رکھ دی۔ نورالدین زنگی کا بیٹا ابھی چھوٹا تھا اور محل میں موجود درباریوں نے سازشوں کے ذریعے زنگی سلطنت کو تقسیم کردیا۔۔۔

    جب صلاح الدین ایوبی نے یہ سب دیکھا تو انہوں نے مصر کو ایک الگ سلطنت میں تبدیل کردیا اور خود اس کے سلطان بن کر زنگی سلطنت میں موجود سازشیوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے شام پر حملہ کردیا۔ بہت جلد سلطان نے دمشق فتح کردیا اور مصر سے لے کر شام تک ایک بڑے علاقے کے سلطان بن گئے۔۔۔

    اب سلطان صلاح الدین ایوبی کیلئے بڑا چیلنج فلسطین کی صلیبی سلطنت تھی۔ صلیبوں نے 1099 میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا۔ صلیبی بار بار صلاح الدین ایوبی سے صلح کے معاہدے کرتے اور توڑ دیتے تھے آخر کار سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1177 میں بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور فلسطین پر حملہ کردیا۔۔۔

    اس حملے کے دوران بہت سی مشکلات پیش آئیں اور کہیں بار سلطان کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا لیکن آخر کار صلیبوں کو شکست نظر آنے لگی اور انہیں لگا کہ مسلمان تو ہمارے بیوی بچوں کو اپنا غلام بنا لیں گے تو انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے رحم کی بھیگ مانگنی شروع کردی۔۔۔

    سلطان تو سنت محمد صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے والے تھے کیسے معاف نہ کرتے لہذا سلطان صلاح الدین ایوبی نے سب کو معاف کردیا اور یوں اکتوبر 1187 میں بیت المقدس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کا مکمل کنٹرول ہوگیا۔۔۔

    سلطان فتح بیت المقدس کے بعد بھی 3 سال تک برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے جنگ لڑتے رہے اور بیت المقدس کا دفاع کرتے رہے اور پھر صلیبوں نے اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے صلح کرلی۔ صلح کے بعد سلطان واپس اپنے وطن دمشق پہنچ گئے لیکن ان کے دن میں ایک خلش تھی کہ وہ کبھی حج نہ کرسکے۔۔۔

    دمشق واپس آئے تو اس بار بھی حج گزر چکا تھا لیکن جب سلطان کو پتہ چلا کہ کچھ حاجی واپس آرہے تو سلطان ان سے ملنے نکل پڑے اور ہر حاجی سے گلے لگ لگ کر رونے لگے۔ حاجیوں سے ملاقات کے بعد واپسی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو سخت بخار نے گیر لیا اور یوں مارچ 1193 کی صبح سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔۔۔

    @Waseemakrm_

  • ہمارا ملک سونے کی چڑیا ہے تحریر: مدثر حسن

    ہمارا ملک سونے کی چڑیا ہے تحریر: مدثر حسن

    ہمارے ملک کو اللہ پاک نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہمارا ملک معدنیات سے مالا مال ہے یہ سونے کی چڑیا ہے لیکن افسوس کرپٹ حکمران اس پر مسلط کیے گئے جنہوں نے نہ صرف اس کو لوٹا بلکہ اس کی ساخت کو بھی نقصان پہنچایا ہمارا ملک پاکستان خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا کےٹاپ ممالک میں شامل ہے

    ہمارے ملک میں ہر قسم کا موسم ہے اور ہر قسم کے پھل ہیں ہمارے ملک میں پہاڑی سلسلہ واقع ہے اور اس میں دنیا کی مشہور ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو شامل ہیں ۔۔۔

    ہمارے ملک میں کوئلہ اور معدنی تیل کے ذخائر موجود ہیں نمک کے پہاڑ موجود ہیں ہمارے ملک کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی قیمتی اشیاء سے نوازا ہے بہت سے ممالک محروم ہیں

    ہمارے ملک میں ایسے ایسے خوبصورت قدرت کے کرشمے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں گے ہمارے ملک کی خوبصورتی ہی ایسی ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے

    جنت سے کہیں بڑھ کے حسین میرا وطن ہے
    ہمسر ہے فلک کہ جو زمیں میرا وطن ہے!!!!

    اگر اس ملک پر اچھے صادق و امین حکمران آجائیں تو پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا اور پاکستان کا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوگا ماضی کے حکمران ملک کو نوچ کر کھا گئے اور ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا گئیں کرپشن لوٹ مار سے ملک کا وقار ختم کرگئے۔۔۔۔

    جب سے عمران خان اس ملک کے وزیراعظم بنے سیاحت کو پرموٹ کیا ملک کی سالمیت ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا بہت سے ممالک کو دعوت دی کہ آئیں وہ اور ہمارے ملک انویسٹمنٹ کریں ہر فارم پر ملک کا امیج اجاگر کیا ملک کو سرسبز وشاداب بنانے کے لیے اور ماحولیاتی آلودگی کو قابو پانے کے لیے بلین ٹری سونامی مہم کا آغاز کیا ۔۔۔۔

    ملک کو صادق و امین اور مخلص حکمران کی کئی دہائیوں سے ضرورت رہی جب سے عمران خان اس ملک کے وزیراعظم بنے ملک کی سالمیت، خودمختاری اور کھویا ہوا وقار بھال ہوا ۔۔۔۔۔

    @MudasirWrittes

  • لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے  تحریر :  مریم صدیقہ

    لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے تحریر : مریم صدیقہ

    لاہور، اس کی ثقافت، سیاحت اور کھانے
    لاہور دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہے جو سیاحوں کے مطابق کوئی شہر نہیں بلکہ عادت یا نشہ ہے۔ یہ ،مشہور قول تو سنا ہی ہوگا کہ جن نے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ہی نہیں۔ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر لاہور جو کہ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت بھی ہے ۔ یہ پاکستان کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہےجو کہ پاکستان کے سب سے زیادہ سماجی طور پر لبرل ، ترقی پسند اور کسمپولیٹن شہروں میں گنا جاتا ہے ، اسی طرح پنجاب کے بڑے صوبے میں یہ تاریخی ثقافتی مرکز ہے۔
    پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کی کوششوں میں لاہور کا بہت اہم قلیدی کردار رہا ہے کیوں کہ یہ شہر ہندوستان کے اعلان آزادی کے مقام کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہاں ہی قیام پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ دہائیوں تک لاہور نے پاکستان کی آزادی کے لیے کئی فسادات دیکھے۔ 1947 میں تحریک پاکستان کی فتح ہوئی اور اس کی بلآخر آزادی کے بعد لاہور کو صوبہ پنجاب کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔
    پاکستان بھر میں لاہور کی ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ پاکستان میں اشاعت کا ایک اہم مرکز اور ادبی زندگی میں اس کا بہت قلیدی کردار ہے۔ شہر کے اندر متعدد مشہور تعلیمی اداروں کی موجودگی اسے پاکستان میں تعلیم کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اس شہر میں سیاحوں کے لیے بہت سے پرکشش مقامات ہیں جیسے والڈ سٹی ، بادشاہی مسجداور وزیر خان جیسی مشہور مساجد اور مختلف صوفی کے مزارات بھی موجود ہیں، لاہور قلعہ اور شالیمار گارڈن بھیی یہاں واقع ہے جو سیاحت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔
    جدید شہر لاہور کا بہترین نظارہ اس کے شمالی حصےوالڈ سٹی میں واقع ہے جہاں دنیا کی معتدد اشیاء اور قومی اثاثے موجود ہیں۔لاہور کی شہری منصوبہ بندی نہ صرف ہندسی ڈیزائن پر بنی تھی ، بلکہ قریبی عمارتوں کے تناظر میں بنی ہوئی ایک بکھرے ڈھانچے پر بھی مبنی تھی ، جس میں چھوٹی چھوٹی کل-ڈی-ساکس اور سڑکیں تھیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں کا نام مخصوص مذہبی یا نسلی گروہوں کے نام پر رکھا گیا تھا ، لیکن یہ علاقے خوداس سے اکثر مختلف ہوتے تھے اس لیے ناموں سے ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
    قدیم والڈ سٹی تیرہ دروازوں سے گھرا ہوا ہے۔ روشنایی ، مستی ، یکی ، کشمیری اور کزری ، شاہ برج ، اکبری اور لاہوری ان میں سے چند دروازے ہیں جو اب بھی قائم ہیں۔ عظیم برطانوی دور کا لاہور،والڈسٹی کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ والڈ لاہور دنیا کے قدیم شہروں میں سے ایک ہے اور اس میں بہت ساری کشش ہے۔ فورٹ لاہور مغلوں اور بعد میں سکھوں نے اپنے شاہی طریقوں کے ذریعہ سے ایک وسیع عمارت کی صورت میں تعمیر کیا۔ بادشاہی مسجد ، جو ایک عرصے تک کرہ ارض کی سب سے بڑی مسجد تھی ، مغل بادشاہ اورنگ زیب نے بنائی تھی۔
    لاہورکا پاکستان کےسیاحوں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز بدستور قائم ہے۔ 2014 میں تجدید شدہ یہ شہر، لاہور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کے لئے مشہور ہے۔ والڈ سٹی کے قریب لاہور کے کچھ مشہور قلعے ہیں جن میں شیش محل ، عالمگری گیٹ ، نولہ پویلین اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981 کے بعد سے ، یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی سائٹ پر درج کیا گیا ، جیسا کہ قلعہ اور اس کے پڑوسی شالیمار باغات ہیں۔ اندرون شہر ،مندروں اور محلوں سے بھر پور ہے ، ان میں سب سے قابل ذکر آصف جاہ حویلی (حال ہی میں تجدید شدہ) ہے ۔یہاں پر کئی پرانے یادگاریں موجود ہیں ، جن میں مشہور ہندو مندر ، کرشنا مندر اور والمیکی مندر شامل ہیں۔ سمدھی رنجیت سنگھ بھی اس کے آس پاس ہی ہے جہاں سکھ بادشاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ دفن ہیں۔1673 میں تعمیر ہونے والی بادشاہی مسجد دنیا کی مشہور عمارت ہے اور اس وقت یہ دنیا کی سب بڑی مسجد کے طور پہ بنائی گئی تھی۔ 1635 میں بنائی جانے والی وزیر خان مسجد اپنی بڑی بڑی ٹائلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ مینار پاکستان، قلعے اور بادشاہی مسجد کے بالکل بالمقابل واقع ہے۔ یہ ایک خاص مسلم ریاست (پاکستان) کے قیام کی 1940 میں منظوری کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
    اب لاہوری کھانوں کی طرف چلتے ہیں اور اس بات سے انکار کرناممکن ہی نہیں کہ لاہور اور اس میں رہنے والے اپنے کھانے کی وجہ سے پاکستان کی ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتےہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جس میں ایک معتبر گیسٹرنومی روایت ہے۔ یہاں گیسٹرونک کے بہت سے مواقع فراہم کیے جاتےہیں۔ حال ہی میں ، اس طرح کا کھانا آسانی سے ہضم اور ہلکے ذائقہ کی وجہ سے دوسرے ممالک میں ، خاص طور پر پاکستانی ڈا ئسپورہ میں خاصے مشہور ہوچکے ہیں۔ لاہور کی کافی ڈشز میں مقامی پنجابی اور مغلائی ڈشز کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ چینی ، مغربی اور بین الاقوامی کھانوں کے علاوہ روایتی مقامی کھانے شہر بھر میں مشہور ہے اور علاقائی ترکیبوں کے ساتھ مل کر ایسے بہترین ذائقوں کو تیار کیا جاتا ہے جس کو پاکستانی چینی کھانے بھی کہا جاتا ہے۔

    @MS_14_1

  • سرائیکی زبان   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    سرائیکی زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    سرائیکی بولنے والا خطہ صوبہ پنجاب کے جنوب مغربی اضلاع میں پھیلتا ہے ، یہ پڑوسی صوبوں سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متصل علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ 21 ویں صدی کے شروع میں کم از کم 20 ملین سرائیکی بولنے والے موجود تھے ، لیکن متعلقہ اعدادوشمار کو مرتب کرنے اور شائع کرنے میں سرکاری عدم دلچسپی کے پیش نظر ، درست تعداد کا قیام ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں زبان کے امور کی حساسیت کو قرار دیا جاسکتا ہے ، جس میں خاص طور پر سرائیکی کو پنجابی سے الگ زبان سمجھنے کے لئے بڑھتے ہوئے دباؤ اور صوبہ پنجاب سے سرائیکی بولنے والے اہم خطے کو الگ کرنے کے نتیجے میں مطالبہ بھی شامل ہے۔ ان دعوؤں کا اکثر طور پر ان لوگوں کی طرف سے سخت مخالفت کی جاتی ہے جو سرائیکی کو پنجابی کی بولی کے سوا کوئی نہیں سمجھتے ہیں ، اس طرح انھیں پوری طرح سے سیاسی پہچان کا کوئی حق نہیں ہے۔

    اس معاملے پر کہ سرائیکی کو زبان کے طور پر درجہ بندی کیا جانا چاہئے یا بولی کو لسانیات نے الجھا دیا ہے چونکہ لسانی نظام مغربی مستشرقین کے ذریعہ دریافت کیا گیا تھا ، جس نے مشکوک درجہ بندی کو جنم دیا تھا اور ساتھ ہی اس معاملے پر رائے کے اختلافات کو جنم دیا تھا۔ یہ بنیادی طور پر اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ماہر لسانیات کے ذریعہ زبانوں اور بولیوں کی درجہ بندی کے لئے ایک واضح معیار قائم نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ ان کی زبان اور بولی کی خصوصیات پر اختلاف رائے ہے۔
    جدید سرائیکی تحریک ، جو بمشکل 1960 کی دہائی کی پیش گوئی کرتی ہے ، اس کے معاشی ترقی اور سیاسی اثر و رسوخ کے لحاظ سے اس خطے کی معمولی حیثیت کے بارے میں ہمیشہ گہری احساس کو ہوا دی جاتی ہے جب ان کے امیروں کے ساتھ ، پنجاب کے مشرقی اضلاع کی طاقتور پوزیشن کے مقابلے میں۔ وسائل ، صوبائی دارالحکومت لاہور کے آس پاس۔ اس تحریک کی سب سے اہم ابتدائی کامیابی ، سرائیکی کے لفظ کو عام طور پر قبول کرنا تھا – اصل میں ایک سندھی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "شمال کی زبان (سیرو)” – جنوب مغربی پنجاب اور اس کے پڑوسی علاقوں میں تقریر کی تمام مقامی اقسام کے لئے مشترکہ لیبل کے طور پر۔ اضلاع خود ہی علاقائی شناخت کا ایک طاقتور احساس پیدا کرنے کے بعد ، کامیابی کے ساتھ مختلف مقامی ناموں کی جگہ لے لی ہے ، جیسے ملتانی ، ملتان کی زبان ، تاریخی طور پر اس خطے کا اہم شہر ، یا ریاستی ، جو سابقہ ​​طاقتور شاہی ریاست کی زبان تھی (ریاضت) بہاولپور کی اسی کے ساتھ ہی ، سرائیکی کے ثقافتی تشخص کو اپنے مخصوص ادبی ورثے کی اپیل کرتے ہوئے اس کی پامالی کی گئی ہے۔ اگرچہ ابتدائی شاعروں کی زبان ، جیسے شیخ فرید شکر گنج (1175–1266) ، سرائیکی یا پنجابی بولنے والوں میں سے کسی کے دعووں کے لئے کھلا ہے ، لیکن حالیہ زمانے سے سرائیکی شاعری کی ایک روایت ہے ، اٹھارہویں صدی میں شمالی سندھ میں اشعار کی ایک بھرپور پیداوار بھی شامل ہے۔ ۔ لیکن سرائیکی شناخت کی عظیم ثقافتی علامت بہاولپوری بزرگ شاعر خواجہ غلام فرید (1845–1901) کی ایک عمدہ شاعری ہے ، جو مقامی صحراؤں کے مناظر کو خالصتا مقامی ذخیرہ الفاظ کی فراوانی کے ساتھ مناتی ہے اور اس کا ایک اہم الہام ہے۔ جدید سرائیکی ادب۔ سرائیکی زبان کو ملک بھر میں میٹھی زبان مانا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے با اثر اور با وقار شاعروں نے سرائیکی زبان کو ترجیح دی ہے اور ان مشہور شاعروں نے سرائیکی زبان میں اپنے شاعر کہے ، ان شاعروں کی شاعری پڑھتے ہوئے بھی دلی سکون ملتا ہے ۔ یو بھی کہا جا سکتا ہے کہ سرائیکی زبان کی اپنی ایک عظیم تاریخ موجود ہے ۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • شہداء کے لہو کا فیضان پاکستان تحریر :صائمہ ستار

    "شہیدوں کا لہو وہ آسماں ہے جس کے سائے میں سنور جاتی ہیں تاریخیں، نکھر جاتی ہیں تہذیبیں”

    دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے, نئی سلطنتوں نے جنم لیا سب کی بنیادیں گمنام مجاہدین کے خون سے سینچیں گئیں. برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کی شمع شہداء کے مبارک خون سے روشن ہوئ جسکی روشنی سے نئی نسلوں نے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطا "پاکستان” کو حاصل کیا.آزادی سے عظیم اور بیش قیمت نعمت بے شک کوئ نہیں ہوتی. برصغیر میں غلامی و محکومی کی 100 سالہ تاریک رات کی روشن صبح انتھک مجاہدین کے اپنی لازوال قربانیوں سے دیکھی.
    ہجرت کا سفر لہو لہو تھا.اس عظیم آزادی کی قیمت مسلمانوں نے اپنے خون سے اد کی تھی.آزادی کی جدوجہد اور ہجرت کے اس سفر میں لاکھوں گمنام شہداء کے اپنی قربانیوں سے وطنِ عزیز کی بنیاد رکھی.اس وطن کی مبارک خاک کو پانے کے لیے ہزاروں روشن چہرے سپردِ خاک ہوئے. لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پورے پورے خاندان کو لٹتے دیکھا.پاکدامن ماوؤں,بہنوں نے عصمت کی حفاظت کی خاطر کنوؤں اور نہروں میں چھلانگیں لگا کر جانیں قربان کیں. مسلمانوں کے شہروں کے شہر ، قصبوں کے قصبے ، گاؤں کے گاؤں مٹادیے گئے.کلکتہ کے فسادات میں اسقدر مسلمانوں کا خون بہا کہ مردہ خانوں میں جگہ نہ بچی.سڑی ہوئ لاشوں کی بو اسقدر تھی کہ سانس لینے کا مصنوعی آلہ استعمال کرے بغیر مردہ خانے میں سانس لینا محال تھا. صوبہ بہار میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں تیس ہزار سے زیادہ مسلمان شہید اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے. مساجد اور مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ممسار کیا گیا.لندن ٹائمز کے نامہ نگار آئین مور لسین کی ایک رپورٹ جو اس نے 24اگست 1947کوجالندھر سے روانہ کی جس میں لکھا مشرقی پنجاب میں ہونے والا قتلِ عام جنگِ عظیم کی تمام تر ہولناکیوں سے بڑھ کر ہے.وحشت کا عالم یہ تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور پہنچنے والی ایک مال گاڑی سے عورتوں اور بچوں کے کٹے سر اور دیگر اعضاء کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا اور مال گاڑی کے باہر لکھا گیا تھا کہ یہ مسلمانوں کے لیے عید کا تحفہ ہے. ٹرینوں پر بم حملے کیےگئے اور بعض ایسی ٹرینیں تھیں کہ ان سے خون اور لاشوں کہ علاوہ کچھ برآمد نہ ہو سکا.قیامِ پاکستان کے سلسلے میں ہجرت تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی جس میں 10 سے 15 لاکھ مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا.غرض یہ کہ مظالم,شہادتیں اور قربانیاں اسقدر ہیں جنکا احاطہ کرنا مشکل ہے. قابلِ غور امر یہ ہے مسلمانوں نے یہ تمام قربانیاں جس عظیم مقصد کے لیے دیں کیا ہم اس مقصد کی پاسبانی کرنے میں کامیاب ہوئے؟ جس دو قومی نظریے کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے,اسلامی اقدار کے مکمل نفاذ کے لیے,پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لیے عظیم قائد محمد علی جناح نے یہ لازوال اور انتھک جدوجہد کی کیا ہم اس جدوجہد کا پاس رکھ رہے ہیں؟افسوس ناک امر یہ ہے قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کے پائے کی قیادت اس وطن کو نصیب نہ ہو سکے. پاکستان جو اللہ کی عظیم عطا اور شہداء کے مبارک خون کا فیضان ہے ترقی اور عروج کی اس سمت گامزن نہ ہو سکا جسکا محمد علی جناح نے خواب دیکھا تھا.گزشتہ 73 سالوں سےہم ترقی پزیر سے ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکے. علاوہ ازیں نظریہ اسلام جو اصل نظریہ پاکستان اور وطنِ عزیز کی بنیاد ہے جدید دنیا کے تقاضوں کے نام پر مسلسل نظریاتی اقدار کی نفی کی جارہی.قومیں اپنے نظریاتی تشخص کی بنا پر زندہ رہتی ہیں. نوجوان قوم کا مستقبل ہیں لہذا انہیں چاہیے کہ جس عظیم مقصد کی آبیاری تحریک آزادی کے شہداء کے مبارک خون سے ہوئ اس عظیم مقصد کی سر بلندی کے لیے متحد ہو کر قائدِ اعظم کے مطابق "کام, کام اور صرف کام” کے اصول پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں.اپنے اسلامی اور نظریاتی تشخص کو پہچانیں اور اسے ختم ہونے سے بچائیں. دعا کہ شہداء کے مبارک خون کافیضان پاکستان تاصبح قیامت قائم رہے.آمین.

    SMA___23
    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • پیار کرنا سیکھو۔  تحریر: نبیل آمین

    پیار کرنا سیکھو۔ تحریر: نبیل آمین

    ایک بار کی بات ہے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا اس کے گھر کے قریب ایک پہاڑ تھا جہاں پر وہ روز صبح جاتا اس پہاڑ پر وہ تھوڑی دیر کے لئے بیٹھتا پھر واپس آ جاتا تو روز کی طرح وہ صبح صبح جا رہا تھا پیچھے سے اس کا چھوٹا سا بیٹا آیا اس نے آ کرکے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کے آج میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا اس نے پہلے تو اسے تھوڑا سمجھایا اور منع کیا کہا کہ جو راستہ ہے وہ تھوڑا چھوٹا ہے اور چڑھائی بہت زیادہ ہے تو تم میرے ساتھ نہیں چل پاؤ گے لیکن پھر جب اس بیٹے نے زد کری تو باپ مان گیا تو دونوں پہاڑ پر چڑھنے لگے باپ نے بیٹے کا ہاتھ قس کے پکڑا ہوا تھا لیفٹ سائیڈ میں پہاڑ تھے اور رائٹ سائیڈ میں کھائی تھی اور راستہ بہت ہی چھوٹا تھا اور وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والے تھے تب ہی راستے میں ایک بڑا سا پتھر آیا کیونکہ باپ اس راستے پر روز آتا تھا تو اس کو پتہ تھا کہ وہاں پر پتھر ہے تو وہ سائیڈ سے نکل گیا لیکن جو بیٹا تھا اس کا دھیان کہیں اور تھا تو اس کا گھٹنا جا کے بڑے سے پتھر میں ٹکرا گیاتو پھر اس بچے کے منہ سے ایک چیخ نکلی آہ جیسے ہی وہ چیخا اس کی آواز ان پہاڑوں میں گونجنے لگی اس سے پہلے اس بچے نے کبھی بھی اپنی آواز کی گونج کبھی نہیں سنی تھی تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے وہ اندر سے تھوڑا سا گھبرا گیا تو اسے لگا کے شاید کہیں کوئی ہے جو اسے چھپ کر دیکھ رہا ہے اور اس کا مذاق اڑا رہا ہے پھر اس بچے نے بولا کون ہو تم تو جب اس بچے نے اس گونج کو سنا تو اسے غصہ آگیا اس کو لگا کہ کون ہے یہ جو میرا مذاق اڑائے چلے جا رہا ہے پھر اس نے غصے سے کہا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں اور پھر جیسے ہی اس نے اس گونج کو سنا تو وہ گھبرا گیا اس کا باپ سمجھ گیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اس نے اپنے باپ کا ہاتھ قس کے پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کون ہے یہ جو مجھے اتنا تنگ کر رہا ہے کون ہے یہ جو مجھے اتنا ڈرا رہا ہے تو اس کا باپ تھوڑا سا مسکرایا اور انہوں نے کھائی کی طرف دیکھا اور زور سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں یہ سن کر وہ بچہ حیران ہوگیا اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کہ وہی انسان جو اس کا مذاق اڑا رہا ہے اس کو تنگ کر رہا ہے وہ اس کے باپ کو بول رہا ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور وہ سمجھ گئے کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے اور پھر دوبارہ انہوں نے بولا تم بہت اچھے ہو اور یہ سن کر ان کا بیٹا بھی تھوڑا سا مسکرایا اور یہ پوچھا اپنے باپ سے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا یہ جو آواز تم سن رہے ہو نہ یہ کسی اور کی نہیں ہے یہ تمہاری ہی آواز ہے جو کہ پہاڑوں میں گونج رہی ہے اور تمہیں اپنی ہی آواز سنائی دے رہی ہے جیسا تم بولتے ہو ٹھیک ویسا ہی تمہیں سنائی دیتا ہے اگر تم غصے سے کچھ کہو گے تو پلٹ کر کہ جو آواز آئے گی اس میں بھی غصہ ہوگا لیکن اگر تم کچھ اچھا کہو گے تو آواز بھی اچھی ہوگی بلکل اسی طرح سے ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے جیسا تم اپنے دل میں اس زندگی کے بارے میں سوچتے ہو یہ زندگی تمہارے لئے بلکل ویسے ہی ہو جاتی ہے اگر تم دل ہی دل میں اپنے آپ کو یہ بولتے رہو گے کہ میری زندگی تو بہت بری ہے تو تمہاری زندگی سچ میں بری ہو جائے گی اور اگر تم اپنی زندگی سے پیار کرو گے تو تمہاری زندگی بھی تم سے پیار کرے گی یہ بات اس بچے کے دماغ میں گھر کر گئی اور پھر وہ دونوں اس پہاڑی کی چوٹی پر گئے لیکن بچے کے دماغ میں یہی بات گھوم رہی تھی اور پھر وہ بچہ کھلکھلا کے ہنسا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ کھولے اور اپنی پوری طاقت سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
    جزاک اللہ ! خوش رہیں اور خوش رکھیں ، تحریر محمد بخش
    Twitter user name @Im_NabeelAmeen

  • تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک پاکستان کاقیام 2017میں وجود میں آیا۔ اس تحریک کےقیام کےپیچھےجو وجہ کارفرما تھی وہ ممتاز قادری کی گرفتاری اور سزاۓموت تھی۔ حافظ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی رہاٸی کیلیے مذہبی تحریک لبیک یارسول ﷺ کی بنیاد رکھی۔ 2017میں ختم نبوت ﷺکےقانون میں تبدیلی کیخلاف فیض آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺنےدھرنادیا جسےتاریخ کامیاب دھرناماناجاتاہے۔ اس دھرنےکےبعد اس تحریک کےسیاسی ونگ کےقیام کی ضرورت محسوس کی گٸ اور تحریک لبیک پاکستان کوالیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایاگیااور کرین کانشان الاٹ کیاگیا۔ TLPنے2018کےانتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری۔ اسکی شاندار کامیابی سے سب چونک اٹھے۔ اور بڑےبڑے مگرمچھ جو گزشتہ 73سالوں سےپاکستان کو نسل در نسل لوٹتےآرہےہیں انہیں اپنی طاقت خطرےمیں پڑتی نظر آٸی ۔غریب جوکٸ سالوں سے معاشی استحصال کاشکارہیں انکو کوٸی آپشن نہیں مل رہاتھا کیونکہ تمام قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نماٸندگی کرتی ہیں۔ تحریک لبیک کی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سےبڑے بڑے دیاسی برج اور سرمایہ دار خوفزدہ ہیں۔آخر وہ کیاوجہ ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی سےلیکر تاجرمافیا تک اور کرپٹ سیاستدانوں سےلیکر بڑےبڑے میڈیا ہاٶسسز TLP سےخوفزدہ ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ TLPمتوسط اور غریب طبقےکی جماعت ہے جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ٗ میڈیا ٗ بیوروکریسی ٗ سرمایہ دار ٗ بڑےبڑے عیش پرست گدی نشین سب اشرافیہ کی نماٸندگی کرتےہیں۔ اور پوری دنیاجانتی ہےکہ یہ اشرافیہ کس طرح پاکستان کےغریب اورمتوسط طبقےکاکٸ سالوں سےاستحصال کررہےہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ تحریک لبیک بمقابلہ دیگر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ غریب بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں وقتی طور پراشرافیہ جیتتی ہوٸی نظر آرہی ہےکیونکہ یہ پورےسسٹم پر قابض ہے۔مگر یہ ایک لاوا ہے جو پھٹنےوالاہے اور یہ لاوا تمام اشرافیہ اور سرمایہ داروں کو بہاکر لےجاۓگا۔کیونکہ اب غریب کو تحریک لبیک کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکاہے۔جلد یا بدیر غریب اور متوسط طبقےسے تعلق رکھنےوالٕےپاکستانیوں کو اس اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ملنےوالاہے۔

    @waqasRizviJutt

  • میں انمول ہوں  تحریر: فریال نیازی

    میں انمول ہوں تحریر: فریال نیازی

    سترہ اٹھارہ سال کی عمر تک ماں باپ آپ پہ روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لیکن یونیورسٹی کی عمر کو پہنچ جانے یا شادی ہوجانے کے بعد آپ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ کوئی آپ پہ روک ٹوک نہیں کر سکتا ۔ نہ آپ سے کسی کی روک ٹوک برداشت ہوتی ہے ۔ اس عمر میں آپ جو چاہیں کھائیں ۔ جب چاہیں کھائیں آپ کی مرضی ہے تو کام کریں نہیں ہے تو نہ کریں ۔ آپ یونیورسٹی یا جاب پہ جائیں یاسارا دن سو کے گزاریں اس عمر میں اماں اباکم ہی کچھ کہتے ہیں نہ ان کے کہنے کا اثر بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ وہ جتنا کہہ لیں کہ آدھی آدھی رات تک نہ جاگو‘ موبائلز رکھ دو اور صبح جلدی اٹھو۔۔۔ فرق نہیں پڑتا ۔ پھروہ عموماََ کہنا چھوڑ دیتے ہیں
    میں اکثر کہتی اور لکھتی ہوں کہ اپنے ہیرو خود بنیں ۔ لیکن وہی شخص اپنا ہیرو خودبن سکتاہے جو پہلے اپنا پیرنٹ خود بننا سیکھے ۔ اپنی ماں بنے ۔ خود پہ روک ٹوک کرے ۔ خود پہ پابندی لگانے کا جگر پیدا کرے ۔ خود کو کام کے لیے اٹھائے ۔ کب کھانے سے ہاتھ روک لینا ہے اور کب ایکسرسائز کے لیے اٹھ جانا ہے ۔ اپنی ذات‘ کیرئیر اور دین کو بہتر بنانے والے کاموں پہ اس عمر میں کوئی آپ کو مجبور نہیں کرسکتا کوئی آپ سے یہ کام نہیں کرواسکتا ۔ اور یہ کام نہ ہونے کی صورت میں کوئی آپ کو نقصان سے بچانے بھی نہیں آئے گا کیا کرنا ہے اور کس سے رک جانا ہے۔
    اپنی پیرنٹنگ آپ نے اب خود ہی کرنی ہے ۔ اس کو کہتے ہیں سیلف ڈسپلن۔۔ ری پیرنٹنگ۔۔!!!!

    @Missfaryalkhan

  • رشتوں کی قدر  تحریر: محمداحمد

    رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

    رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

    آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

    معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

    مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

    @JingoAlpha

  • نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    ‏نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا، دن دیہاڑے حوا کی بیٹی کی عصمت کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی نوچ لیا اور اُس معصوم عورت کی عصمت دری کے بعد مزاحمت پر اس کی گردن پر چھڑی چلا دی۔ ایک تو وہ درندہ تھا جس نے اس معصوم، غریب عورت کے ساتھ ظلم کیا لیکن اس کے علاوہ وہاں کچھ اور بھی درندے موجود تھے۔ اس معصوم، زخمی عورت کے جسم کو مرہم پٹی کی ضرورت تھی کیونکہ اس کے گلے سے خون بہہ رہا تھا۔ مگر افسوس کہ اس بے حس دنیا کے بے حس لوگ اُس معصوم عورت کی ویڈیو بنانے لگ گئے، اس سے بیان لینے لگ گئے۔ اس بنتِ حوا کو بروقت ہسپتال لے جانے کی بجائے اس کے انٹرویو لینے لگ گئے۔
    یہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک بچے کو قتل کر دیا گیا اس کی ماں کی عصمت لوٹی گئی اور جب اس نے مزاحمت کی تو اس کے گلے میں چھڑی چلا دی گئی۔ وہ علاقہ غیر ہو چکا ہے وہاں کوئی قانون نہیں ہے لوگ بغیر کسی خوف و خطر کے معصوم لوگوں کو ازیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ معصوم عورت تو ابدی نیند سو گئی مگر اس کے ساتھ کیے گیے ظلم کا حساب معاشرے کو دینا ہو گا۔
    ہمارا معاشرہ ایسے درندوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہوس کے اتنے پجاری ہو گئے ہیں کہ اپنی ہوس کی انتہا پر کسی معصوم انسان کی زندگی کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ ایسا کوئی انسان مر رہا ہو تو اُس وقت بھی پیسے اور شہرت کے چکر میں ہوتے ہیں کہ اُس کی مدد کی بجائے تصاویر بنانے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ کب تک ایسی بے حسی کی زندگی گزار رہے ہوں گے اور اپنی شہرت اور پیسے کی خاطر دوسروں کی زندگیوں سے مذاق کر رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں جو انسانوں کی مدد کی بجائے گمراہی پھیلا رہے ہیں اور اپنی سستی شہرت کی خاطر کسی معصوم کی آخری سانس پر بھی اس کی مدد نہیں کرتے۔
    ایسے ظلم معاشرے سے تب ہی ختم ہو سکتے ہیں جب اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قوانین نافذ کیے جائیں۔ جب تک شرعی سزائیں نافذ نہیں ہوتیں ایسے ظلم ہوتے رہیں گے۔
    اللّٰہ بڑا بے نیاز ہے۔ جب ظالم کے گلے اللّٰہ کا عذاب پڑتا ہے تو اُس عذاب کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس ظالم کے کیے گئے ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللّٰہ پھر ہمارے انفرادی عمل کو نہیں دیکھتا۔ اللّٰہ اپنے دین کے چلانے کا کام دوسری اقوام سے بھی لے سکتا ہے اور تاریخ میں بہت دفعہ لیا ہے۔

    ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
    پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے (اقبال)

    اور اب بھی لے سکتا ہے اور پھر پرانے مسلمانوں کی طرح ہمارے بھی صرف قصّے اور کہانیاں ہی رہ جائیں گی۔
    خدارا اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور آواز اٹھائیں اپنے ایمانوں کی خاطر، اس بات کی خاطر کہ کل کو یہ فتنہ ہمارے گھروں تک نہ پہنچ جائے۔ اور اپنی شہرت اور لالچ پسِ پردہ ڈالیں۔ اللّٰہ کی رضا کے لیے مظلوموں، مسکینوں کے لیے اٹھیں نا کے سوشل میڈیا پر شہرت اور پیسے کمانے کی خاطر۔ اگر ہم اللّٰہ کی رضا کی خاطر اُٹھے تو اللّٰہ سب کچھ دے گا اور اگر شہرت اور پیسوں کی خاطر اُٹھے تو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

    اللّٰہ رحم کرے اس ملک و قوم پر۔ پتہ نہیں یہ روز کی داستانیں جو لوگ اپنے رب کو سنانے چلے جاتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا !!

    Name : زوہا علی
    Twitter handle : @ZoHaAli_15
    Topic :
    سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں

    وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا