Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پنجاب میں صنعتی انقلاب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات  تحریر:  شعیب قدیر ملک

    پنجاب میں صنعتی انقلاب کے لئے اٹھائے گئے اقدامات تحریر: شعیب قدیر ملک

    آبادی کے لحاظ سے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے ، مناسب قیادت کا فقدان اور معاشی منصوبہ بندی کا فقدان ، صوبہ برسوں سے معاشی جمود کا شکار ہے۔ 2018 میں عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا اور پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آگئی۔

    وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے محروم حصے سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار کو پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت دینے کا فیصلہ کیا۔ جو اپنی نوکری کو اپنا فرض سمجھتا تھا۔ ہر طرف سے بزدار پر تنقید پھیل گئی ، لیکن اس نے نظر انداز کیا اور صوبے کی تقدیر بدلنے کے لئے دن رات کام کیا۔

    آج ، وزیر اعلی عثمان بزدار کی سربراہی میں ، صوبے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ در حقیقت ، صوبہ پنجاب وزیر اعظم عمران خان کے نئے پاکستان کے وژن کی بنیاد بن گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہ صرف صوبے کی معاشی حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی بلکہ لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے۔

    آئیے حکومت کے اٹھائے گئے کچھ اہم اقدامات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے پنجاب میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہیں تھی۔ پہلے وزیر اعلی عثمان بزدار نے پہلی بار پنجاب میں مربوط اور جامع صنعتی پالیسی لانے کے لئے اقدامات اٹھائے اور پہلی صنعتی پالیسی پنجاب کو دی۔ اگرچہ ایک نیا دور شروع ہوا۔

    اگر ہم روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صنعتوں کے قیام پر نظر ڈالیں تو ، حکومت پنجاب نے اب تک 8 نئے خصوصی اقتصادی زون تشکیل دیئے ہیں ، جبکہ 4 پرانے صنعتی اسٹیٹس کو اپ گریڈ کرکے صنعتی زون کا درجہ دیا گیا ہے۔
    فیصل آباد میں قائم کیا جانے والا عالم اقبال انڈسٹریل سٹی 3217 ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے جو 4 لاکھ ہزار افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرے گا جبکہ مجموعی طور پر 10 لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
    شیخوپورہ میں موٹر وے کے قریب 1536 ایکڑ رقبے پر محیط پاکستان کے پہلے سمارٹ اقتصادی زون قائداعظم بزنس پارک کا منصوبہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ اس منصوبے پر کام زوروں سے جاری ہے۔ اس منصوبے سے 25 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
    پی ٹی آئی حکومت نے بھلوال ، رحیم یار خان اور وہاڑی کے صنعتی اسٹیٹس کو خصوصی معاشی زون کا درجہ دے دیا ہے۔ اس سے بالترتیب 6،000 ، 5،500 اور 4،000 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
    سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیڈمک میں ون ونڈو سروس سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

    جہاں حکومت پنجاب صوبے میں صنعتی انقلاب لانے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے ، وہیں ان صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔
    صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لئے صوبے میں ٹیکنیکل یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں ، ان میں تیآنجن ٹیکنیکل یونیورسٹی لاہور میں ایک کروڑ روپئے کی لاگت سے۔ 3 ارب ، رند یونیورسٹی آف ٹکنالوجی ڈی جی خان نے ایک ارب روپے کی لاگت سے۔ 2 ارب اور ڈی جی خان نے 5 ارب روپے کی لاگت سے۔ 2.16 بلین۔ پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاؤالدین کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں راولپنڈی میں ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ، تکنیکی نصاب پیش کرنے والے اداروں کی تعداد اور ان میں طلباء کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
    اس ضمن میں ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے ایک ہنر مند نوجوان پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ ٹویوٹا کمپنیوں کی گنجائش 90،000 سالانہ سے بڑھا کر 233،000 کردی گئی ہے۔ ہنر مند یوتھ پروگرام کے تحت ، صنعت کے تقاضوں کے مطابق 5 6 نئے جدید کورسز کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ٹویوٹا ، پی وی ٹی سی اور پی ایس ڈی ایف ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کو ایک چھتری میں لانے کے لئے پنجاب اسکل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے

    سرکاری اور نجی پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی اتھارٹی میں آن لائن رجسٹریشن جاری ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ کی رجسٹریشن اور امتحانات فیس کو کورونا کے دوران ایک سال کے لئے ختم کردیا گیا تھا۔ نجی تعلیمی اداروں میں اس سے 17،000 بچوں کو بھی فائدہ ہوا۔
    حکومت پنجاب نے صوبے میں نئے سرمایہ کاروں کو لانے اور کاروبار میں آسانی کے ل valuable قیمتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ پنجاب بزنس رجسٹریشن پورٹل قائم کیا گیا ہے جس نے کاروباری اندراج کے عمل کو 24 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے۔ انویسٹر ہیلپ لائن کو پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ میں قائم کیا گیا ہے۔ اس سے کاروباری برادری کو کاروبار کے اندراج ، شکایت کے ازالے ، مسئلہ حل کرنے اور کاروبار کے بارے میں معلومات فراہم ہوں گی۔

    حکومت پنجاب نے 90 متعلقہ محکموں کو 90 دن کے اندر این او سی جاری کرنے کی ضرورت کے ذریعے نیا سیمنٹ پلانٹ لگا کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ، سیمنٹ کے نئے پلانٹ لگانے کے لئے 5 این او سی جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ کابینہ نے مزید 5 این او سی جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یاد رہے کہ نئے سیمنٹ پلانٹ کی تعمیر پر 300-250 ملین ڈالر لاگت آئے گی ، جس کی متوقع سرمایہ کاری آئندہ پانچ سالوں میں 4.5 بلین ڈالر ہوگی۔
    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب میں صنعتی انقلاب لانے کے لئے اٹھائے گئے کچھ اہم اقدامات یہ ہیں۔

    @ShoaibQadeer1

  • حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری  تحریر: مجاہدحسین

    حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری تحریر: مجاہدحسین

    تازہ خبریں: تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر سے 25 نشستوں پہ کامیابی سمیٹی، عمران خان نے اگلا ہدف سندھ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
    اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عمران خان کسی چیز یا کام کے بارے میں فیصلہ کر لے تو پھر وہ اسے پورا کر کے رہتا ہے۔

    ووٹ چرانے والوں کو استعفی مانگتے وقت شرم آنی چاہیئے۔ مریم اورنگزیب
    یاد آیا، کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں بیٹھے ن لیگ کے سینئر سیاستدان اور پاکستان کے سابق وزیراعظم یہ فرما رہے تھے کہ جتنا ووٹ چوری کرنے کا تجربہ ہمارا ہے اتنا کسی کا بھی نہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا موصوف اور موصوفہ بھی شرم محسوس کرتے ہونگے یا ان کی شرم والی حس مر چکی ہے؟

    کرونا کے کیسسز میں خطرناک اضافہ، مئی کے بعد کیسسز بلند ترین سطح پر۔
    ہم اس قوم کو بار بار اس وائرس سے احتیاط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو یہ بات شوق سے کہتے ہیں کہ جو رات قبر میں ہے وہ دنیا میں نہیں۔ ان پہ خاک کسی دلیل کا اثر ہونا ہے۔ لیکن اس وقت تک جب ہر ایک کے گھر سے کوئی رشتہ دار اس بیماری سے جانبحق نہ ہو تب تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔

    پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی اور تشدد کا سہارا لیا۔ بلاول زرداری
    قارئین! آپ کو بتاتے چلیں کے انہیں کی پارٹی کے عہدیداروں کے خلاف الیکشن والے دن تحریک انصاف کے دو نوجوانوں کو سیدھی گولیاں مار کے شہید کرنے کا پرچے ہو رہے ہیں۔

    بھارت سے مدد مانگنے کے بیان کا معاملہ، ن لیگ نے اسماعیل گجر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
    یہ سن کے یاد آیا کہ ہمارے ہاں ایک محاوہ بہت مشہور ہے کہ "وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جائی۔ مطلب پہلے اپنے لوگوں چاہے وہ نہال ہاشمی ہو، جاوید لطیف یا پھر اشرف گجر۔ یہ لوگ اتنے بڑے سیاستدان نہیں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی بیان دے دیں، قوی امکان ہے کہ ان کی پشت پناہی ن لیگ کی سیاسی وارث اور شاہی خاندان کی ولی عہد مریم صفدر ہی فرما رہی ہونگی۔

    اور اب نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری

    ‏یہی نہیں مرے سرکار جھوٹ بولتے ہیں
    یہاں کے کوچہ و بازار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ میرے شہرِ خرابی میں بسنے والے لوگ
    عجیب ہیں کہ سر دار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏دیئے جلائے ہوئے شام کی حویلی میں
    تمام ریشمی کردار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏کمال یہ ہے ترے چشم و لب کے آئینے
    بڑے یقین سے ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ باب عشق، اسے روشنی سے نسبت ہے
    یہاں تو صرف سیاہ کار جھوٹ بولتے ہیں۔

    اور اب آخر میں ایک مطلع:

    ‏قرار دل فسانہ ہو گیا ہے
    تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

    @Being_Faani

  • مضبوط سامراجی قوت کا خواب تحریر: محمد معوّذ

    مغرب کی طرف سے مسلسل اسلام سے متعلق منفی پروپیگنڈا جس سے بنیاد پرستی کی قدامت پسندی اور انتہا پسندی شامل ہیں زور وشور سے کیا جارہا ہے اور اسلام کو دقیانوسی نا قابل عمل اور دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ دنیا میں جب بھی کہیں بھی کوئی گڑبڑ تخریب کاری حادثہ یا سانحہ رونما ہو تو فوری طور پر تمام ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر اس حساب سے کرتے ہیں کہ جیسے تمام تر مسلمان اس میں بیک وقت ملوث ہوں ۔ اگر وہ براہ راست نہیں تو بلا واسطہ وہ اس میں ضرور شریک ہیں ۔ مغربی دنیا ویسے تو حقوق العباد پر سب سے زیادہ ڈھونگ رچاتا ہے لیکن خود امریکا بهادر بغیر جواز کے عراق پر چڑھ دوڑا ۔ سیکوریٹی کونسل کی اس نے پروانے کی دنیا بھر میں عراق پر فوج کشی کے خلاف جلوس اور مظاہرے ہوئے مگر امریکا ٹس سے مس نہ ہوا اور کسی اخلاقی اور قانونی جواز کے بغیر عراق پر فوج کشی کی اور قابض ہوا ساتھ میں برطانیہ شیطان کو بھی ملالیا ۔ اب جب کہ عراق میں منظم گوریلا جنگ شروع ہو چکا ہے تو مختلف ملکوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ عراق میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی فوجیں دیں تا کہ امریکا اپنا ظالمانہ تسلط قائم رکھ سکے ۔ بھارت نے امریکی درخواست پرعراق میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیا ہے ۔ فوج نہ بیجھنے کا فیصلہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی زیر صدارت کابینہ کی سیکوریٹی کمیٹی کے دو گھنٹے کے اجلاس میں کیا گیا امریکا نے بھارت سے اپنی 17 ہزار فوجی عراق بھیجنے کی درخواست کی تھی جسے واجپائی کابینہ نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ۔ امریکا ہندوستان کو جدید ہتھیار سپر الیکٹرانک آلات جنگی ساز و سامان اور مالی امداد فراہم کرتا ہے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ ترجیح دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے عراق میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے تا کہ وہ پاکستان کو پوری طرح عرب دنیا اور اسلامی ملکوں کے درمیان بدنام کرسکے ۔ بھارت پروپیگنڈہ کرے گا کہ پاکستانی فوج عراقی مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ عربوں کا دوست ہے۔
    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 1990 ء میں جہادکشمیر شروع ہونے کے بعد سے اب تک بھارت تین بار اپنی فوجیں سرحدوں پر لے آیا لیکن یہ کشمیری مجاہدی تھے جنھوں نے بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ الجھا کر بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہونے دی لیکن ہم نے ان مجاہدوں کے مدد کے ہاتھوں کو جھٹک دیا ہمیں امریکی صدر کے ہاتھوں زیادہ مضبوط نظر آئی جس کا بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے بڑے دعووں کے باوجود آخر تک نہ پہنچ سکا ۔
    ہمارے حکمران کی کم عقلی کو دیکھو کہ جب امریکا دباؤ ڈالے تو کہتے ہیں ہم دراندازی بند کر دیں گے کہ کون کی سیاست ہے بلکہ یہ بے وقوفی ہے 1948 ء میں مجاہدین نے ہند وفوج سے کشمیر کا جو حصہ آزاد کروایا وہ علاقہ اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی لائن قرار دیا گیا دنیا کے کسی بھی قانون میں سیز فائر لائن کو بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا جب بارڈر لائن ہی نہیں تو پھر دراندازی کا مطلب کیا ہے ؟ خدا حکمرانوں کو ہوش دے یہ سب کچھ پاکستان کو پوری اسلامی دنیا سے تنہا کرنے کی سازش ہے جس کا سہرا بھی امریکا مکار کو ہی جاتا ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5

  • حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔  تحریر: طیبہ

    حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔ تحریر: طیبہ

    حسد عربی ذبان کا لفظ ہے
    جسکے معنی ہیں جلن، کینہ پروری ،بدخواہی کے ہیں۔ اگر اس کے مفہوم کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی کامیابی اور خدادا صلاحیتوں کو برداشت نا کرنے کا نام ہے۔ اور دل میں یہ خیال آنا کے اس کو ہی یہ سب کچھ کیوں مل رہا ہے کیا مجھ میں ایسی کوئی کمی ہے جیسا کے کسی کی شہرت،دولت ، علم، کامیابی کو دیکھ کر جلنا کہ یہ سب میرے پاس کیوں نہیں ہے۔اصل میں ایمان کی کمزوری ہی انسان کو حسد کی طرف لے کر جاتی ہے دنیاوی چیزوں کی ہوس اور لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے ۔اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جلن کرنا بے حد بیوقوفی کی علامت ہے۔ اس طرح کے متعد سوالات جہنم لیتے ہیں جس سے دل میں بدخوی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان حسد کرنے لگ جاتا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔اج کل معاشرے میں حسد جیسی برائی عام ہو چکی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا رحجان پیدا ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتان اور الزام تراشی بھی بڑھ رہی ہے ۔زاتی زندگیوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے کریکٹر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کے رحجان سے معاشرے میں انتہا کی جہالت پھیل چکی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت لیے جانےمیں یہ بھول چکے ہیں کہ اخلاقی رویہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔اسی لیے اسلام میں بھی اس پہ ذور دیا گیا ہے کہ حسد سے بچیں عقل کو کھا جاتا ہے دوسروں کا نقصان کرتے کرتے اپنا نقصان ہو جاتا ہے۔یہ بھول جاتاہے کہ عزت وذلت اور ترقی و تنزل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ۔
    اللہ تعالیٰ نے بہت صاف اور واضح طورپر ارشاد فرمایاہے
    کہو : اے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(اٰل عمران
    )3:26)
    اللہ تعالی ہی کی زات ہے جو انسان کو صلاحیتوں سے نوازتی ہے ۔جس کی قدرت کیے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا ہے ۔زوال اور عروج انسان کی زندگیوں سے جڑے ہیں۔ کبھی نعمتیں چھن بھی جاتی ہے اور کبھی انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ کچھ مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔حسد اخلاقی برائیوں کی ایک قسم ہے جس سے انسان کی شخصیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔حسد کرنا ذہنی پستی کی علا مت ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک بہت مشہور حدیث ہے کہ ایک بار غریب و مفلس مہاجرین کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کی: یارسول اللہ! مال دارو خوش حال لوگ مرتبے میں ہم سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ لوگ ہماری ہی طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری ہی طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ چوں کہ وہ ارباب ثروت ہیں، اس لیے وہ حج بھی کرلیتے ہیں، عمرہ بھی کرلیتے ہیں اور جب جہادکا وقت آتاہے تو وہ مال و دولت سے بھرپور مدد کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر غریبوں،مفلسوں اور حاجت مندوں کی بھی امداد کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ ہم ان پر سبقت نہیں حاصل کرسکتے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی اْس جماعت کی بات سنی اور ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتادوں، جس سے تم بھی ان سب کے برابر ہوجاؤ، تم اپنے پیچھے رہنے والوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ، اور تمھاری برابری اْن لوگوں کے سوا کوئی نہ کرسکے جو وہی عمل کریں، جو میں تمھیں بتانا چاہتاہوں؟ سب نے خوشی خوشی بہ یک زبان کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولؐ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوق وطلب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی، کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقول بعد السلام، حدیث: 348)
    حسد سے بچنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اخلاقی رویوں کو درست کر نا ہے برداشت پیدا کرنی ہے ۔دوسروں کی کامیابی اور خوشیوں پہ خوش ہونا ہے ان کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔جس سے انسان کے اندر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان خود بھی خوش رہتا ہے مایوسی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالی پہ کامل اور بھروسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم محنت اور لگن سے جو چاہتے ہیں حاصل کر سکتے ہیں کوئی انسان بھی کسی سے کم نہیں ہے اللہ تعالی نے سب کو ایک جیسا دماغ دیا ہوا ہے اس کا صحیح اور درست استمال کیا جائے تو ہم تو وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتےہیں ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    تم سے پچھلی امتوں کی بیماریوں میں سے بغض و حسد کی بیماری تمھارے اندر سرایت کرگئی ہے۔ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ بتاؤں، جو تمھارے اندر محبت پیداکردے؟ وہ یہ ہے کہ تم باہم سلام کو عام کرو۔

    @JeeTaiba

  • کشمیر عمران خان کا مگر   تحریر:محمد شہباز سرکانی

    کشمیر عمران خان کا مگر تحریر:محمد شہباز سرکانی

    آذاد کشمیر میں حالیہ الیکشن ہوۓ جس میں پاکستان تحریک انصاف کا سادہ اکثریت سے 25 کے قریب سیٹیں ملیں اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگٸ ہے ۔ اب وفاقی کی ایک اور حکومت آذاد کشمیر میں بھی بن گٸ ہے مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں فرق نظر آۓ گا یا ان کی طرح یہ بھی ویسے چلیں گے ۔
    وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن کمپین میں بہت سے وعدے تو کیے مگر یہ تو ویسے ہی ہے جس طرح عمومی الیکشن کمپین میں ہوتا ہے ۔ مگر اب پاکستان تحریک انصاف کو اور حکومتوں کے درمیان فرق تو دکھانا پڑے گا تاکہ ایک واضع صورتحال نظر آۓ اور عمران خان کا نعرہ کرپشن سے پاک اور ترقی پسند کشمیر کی تقدیر بدلے
    حالیہ الیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جس سے ان کو عوامی مساٸل پر توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ حکومت تو مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کرپٹ کہتی رہی ہے اب تو ان کی اپنی حکومت بنے گی اب یہ کرپشن سے پاک حکومت کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی معنوں میں مساٸل حل کرے تاکہ تھوڑے بہت عوام کے مساٸل حل ہوں ۔
    آذاد کشمیر میں عمران خان پہلی بار حکومت بنانے جارہے ہیں اور اس حکومت کو بہت سے مساٸل کا سامنا بھی ہوگا اور یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ کشمیر میں حکومت کو ایک چیز کا ہمیشہ سے فاٸدہ رہا ہے کہ جس کی حکومت وفاق میں ہوتی ہے اس کی حکومت آذاد کشمیر میں بنتی ہے اور اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ایسا ہوا ہے اور اب عمران خان کی وفاق میں حکومت ہونے کے ناطے وہ اپنا بجٹ عوام کے مساٸل حل کرنے پر صرف کریں اور نا صرف مساٸل حل کریں بلکہ سیاحت کےلیے بہت سے اور نۓ راستے کھولیں اور سیاحتی مقامات کو پر رونق بنانے کےلیے حقیقی معنوں میں پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہت سا ریونیو حاصل کرکے ہم دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کریں ۔
    کشمیر جنت نظیر وادی ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقامات قابل ذکر ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی قابل رشک ہے ۔ حکومت کا چاہیے کہ وہ بہت سے نۓ مواقع پیدا کرے جس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو اور اس کا براہ راست فاٸدہ حکومت اور عوام کو پہنچے اس سے روزگار کے نۓ مواقع پیدا ہونگے اور مقامی افراد کو ترقی کا موقع حاصل ہوگا اور بہت سے مساٸل حل ہونگے. تحریر : https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    1947 قیام پاکستان کے بعد ہی مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کے لیے، متعلقہ ادارہ تشکیل دیئے گئے تھے، ان میں سپیس ٹیکنالوجی کےلیے 1961 میں ڈاکٹر عبدوسسلام سپارکو(خلائی و بالائے فضائی تحقیقاتی مأموریہ) کی بنیاد رکھی گئی ۔ابتداء میں سپارکو نے خوب ترقی کی جس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ 7 جون 1962 کو ، رہبر راکٹ کے لانچ کیاجس سے پاکستان ،اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ، ایشیاء میں تیسرا ، اور بغیر پائلٹ خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔اسی کے ساتھ ہی کامیابیوں کا سفر طےکرتے ہوئے سپارکو نے متعدد ساؤنڈ راکٹ لانچ کیے , پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ -بدر 1 ، 1990 میں , بدر-بی کو 2001 میں ۔ 2011 میں ، پاکس سیٹ -1 جو پاکستان کا پہلا مواصلاتی مصنوعی سیارہ بن گیا۔
    1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کو معاشی طور پر کمزوری کی وجہ سے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی کی وجہ سے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2021 میں سپارکو کا بجٹ صرف 46 ملین ڈالر تو 1971 میں چند ملین تھا جس میں تمام معاملات چلانا ناممکن تھا جس سے پاکستان سپیس مشنز التوٰا کا شکار ہوتے گئے،یہئ سے سپارکو کا زوال شروع ہواجو کئی دہائیوں سے چل رہاہے، اس کے علاوہ ایک وجہ 70 و 80 کی دہائی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جووقت کی اہم ضرورت تھا جوعسکری و سیاسی توجہ کے سبب اس پرزیادہ کام ہورہاتھا ، جس سے فنڈ میں دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے سپیس مشنز کو بریک لگ گئی۔
    اس کے علاوہ چین کی طرف بڑھنے سے پاکستان کے جوہری عزائم کے بارے میں امریکی پالیسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، جو 1980 کی دہائی کے دوران تیزی سے واضح ہورہے تھے۔ مواصلاتی مصنوعی سیارہ لانچ کرنے کا منصوبہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا کیونکہ ضیا الحق کے دور حکومت میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ بجٹ میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ خلا میں مزید گھٹ جانے والے عزائم کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی آگیا جب پاکستان سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں اپنی جنگ میں مصروف تھا۔ پاکستان کے لئے سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نے سپارکو کی پیشرفت میں طوقیں ڈال دی ہیں۔
    لیکن سپیس ٹیکنالوجی کی طرف کم دھیان ہونے کی وجہ سے ریسرچ و ڈیلومنٹ کے ساتھ نئی سٹیلائٹ تیار کرناو لانچ بروقت نہیں کرسکا جو زیرالتوا ہوتے ہوتے 2000 کی دہائی تک مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔9/11 کے بعد کی دہشت گردی کی لہر نے امریکی پاپندیوں نے پاکستان کو مالی طور پر شدید کمزور کردیا جو 2015 تک پاکستان کے مستحکم ہونے تک سپیس مشنز بلکل ہی غائب ہوگئے۔
    سپیس ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بڑھ چکی کیونکہ سٹیلائٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی ، سیلاب ، ظوفان ، بارشوں کا وقت سے پہلے پتہ لگاسکتاہے، جس سے ناصرف بہت بڑی تباہی سے بچا جاسکتاہے، اسی تناظر میں موجودہ دور میں دفاعی میدان میں بھی سپیس ٹیکنالوجی بے انتہاہ ضروری ہے کیونکہ فوجی دستہ آپس میں خفیہ پیغامات بھی سٹیلائٹ کی مدد سے بھیجتے ہیں، میزائل بھی مقررہ ہدف کو کامیابی دے نشان بنانے کے لیے سٹیلائٹ کا استعمال کرتاہےاور اس کے علاوہ دشمن کے علاقہ کی جاسوسی کےلیے بھی سٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں موبائل کالز و میسجز آپس میں رابطہ کے لیے سگنلز سے جو سٹیلائٹ کی مدد سے ہی برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، مجموعی طور پر یہ بات کی جائے تو ایک ملک کے تمام معاملات حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے ساتھ جودراصل سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چل رہے ہوتے ہیں، جس کوچند منٹ میں مکمل تباہ بھی کیاجاسکتاہے جس پورا ملک مفلوج ہوسکتاہے، اس کی طاقت اس وقت روس ، امریکہ ، چین وغیرہ کے پاس جو ایک میزائل کی مدد سے کسی بھی ملک کی تمام سٹیلائٹس کوتباہ کرسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیاہے، جس کا صرف اس خطے میں ہی مقابلہ بہت مشکل ہے۔2022 میں چین کی مدد سے پاکستان سے ایک خلاباز خلا میں بھیجاجائے ، جس کاتکمیل موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ ناممکن نظر آرہاہے، اس کے علاوہ پاکستان خود سے سٹیلائٹ خلا ءمیں بھیجنا تو دور خودساختہ سٹیلائٹ بھی تیار نہیں کرپارہاہے،اس کے برعکس دنیا کے باقی ممالک چاند و مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ماحول کی دستیاب ہو جو اس کے لئے سازگار ہو اور سیاسی مرضی جو اس کا حامی ہو۔
    ایک پاکستانی ہونے کی ناطے حکومت ِوقت سے میری ذاتی طور پر گزارش ہے کہ خداراہ جس طرح ایٹمی پروگرام کو ممکن کربنایا تھا ، اسی طرح سپیس ٹیکنالوجی کی طرف بھی توجہ دی جائے جس سے ملک کی افواج و عوام اور کاروبار کو فائدہ ہوگا ناصرف قدرتی آفات کی تباہی سے بچنے میں مدد حاصل ہوگئی، اس کے علاوہ سپیس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوگاتو پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
    اللہ پاک پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی و عروج عطا فرمائے ، آمین۔
    Name Muhammad Haris MalikZada
    Twitter ID:@HarisMalikzada

  • اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ  تحریر: سیدہ بخاری

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ تحریر: سیدہ بخاری

    کہاں گئے وہ گستاخیاں کرنے والے؟
    کہاں گئے وہ قریش کے متکبر سرداران جو
    نبی اکرمﷺ کو ایذا پینچایا کرتے تھے ،کہاں گیا ابو جہل، ابو لہب ، عتبہ، عتیبہ ،ولید اور کہاں ہیں باقی سب؟
    اور ابو لہب کو تو دیکھو کہ نبی ﷺ کا سگا چچا لیکن ایذا رسانی میں سب سے پیش پیش ہے۔ بغض و عناد اور تکبر کے اعلی درجے پر فائر ہے۔
    کیا تمہیں معلوم ہے کہ اسکا کیا ہوا؟
    اللہ کے اسقدر غصے کا شکار ہوا کہ اللہ نے قرآن میں فرما دیا
    تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِىۡ لَهَبٍ وَّتَبَّؕ‏ 
    ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو  ﴿۱﴾
    یہ کیسے ممکن کہ تم میرے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرو اور میرے رب کا غضب تمہیں جا نہ لے؟
    چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوا اور گل سڑ کر مرگیا۔لاش کے قریب کوئی پھٹکتا نہ تھا چند حبشیوں کو اجرت دے کر لاش گڑھے میں پھنکوائی گئی اور دیکھو تو اوپر سے پتھر یوں برسائے گئے جیسے رجم کو سزا دی جا رہی ہو۔
    اور اسکی بیوی ام جمیل جو اسکے ساتھ مل کر نبی اکرمﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی دیکھو تو قرآن کیا کہتا ہے اسکے بارے میں

    فِىۡ جِيۡدِهَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ
    اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی ﴿۵﴾

    ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مری اور اسکی گردن میں مونج کی رسی ڈال کر جہنم میں بھیجا گیا۔
    اور کہاں گیا ان بدبختوں کا گستاخ بیٹا عتیبہ؟
    نبی اکرم ﷺ کی بددعا کا ایسا شکار ہوا کہ اللہ نے ایک شیر کو اس پر مسلط کردیا اور وہ یوں ہلاک ہوا۔
    اور مکے کے متکبر سرداروں کے بارے میں تو سنو
    "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلیﷺ  نے کعبہ کی طرف منہ کر کے کفار قریش کے چند لوگوں شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام کے حق میں بددعا کی تھی۔ میں اس کے لیے اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے (بدر کے میدان میں) ان کی لاشیں پڑی ہوئی پائیں۔ سورج نے ان کی لاشوں کو بدبودار کر دیا تھا۔ اس دن بڑی گرمی تھی”۔
    سب کے سب بدر کے کنوئیں میں گلتے سڑتے چیل کووں کا شکار ہو گئے اور انکا غرور اور تکبر کسی کام نہ آیا۔
    کہاں گیا وہ کعب بن اشرف جو میرے نبی ﷺ پر سب و شتم کرتا تھا اور آپﷺ کی ہجو میں اشعار لکھتا تھا؟
    صحابہ کرام رض نے نبی پاک ﷺ کے حکم سے اسکو جہنم واصل کیا۔
    کہاں ہے وہ اسماء بنت مروان اور وہ بوڑھا بدزبان ابو عفک؟
    سب کے سب جہنم کے نچلے درجوں میں پڑے سڑ رہے ہیں،سب نے اپنی جانوں کیساتھ دشمنی کی اور اپنے تکبر سمیت بے نام و نشان ہو گئے کہ میرے رب نے یہ فرما دیا

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ ﴿3﴾
    (اے نبیﷺ )بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہ بے نام و نشان رہے گا

    اور آج تک ایسا ہی ہوتا آرہا ہے کہ میرے پیارے نبیﷺ کا ہر دشمن زلت کی موت کا شکار ہوا اور دنیا و آخرت میں زلیل و رسوا ہوا اور میرے نبی ﷺ کی شان ایسی اونچی ایسی نرالی ہے کہ قرآن نے انکی مدح بیان کی، اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور میرے نبی ﷺ کا ذکر ازل سے بلند تھا اور ابد تک بلند رہے گا۔
    اور گستاخیاں کرنے والے ہمیشہ سے زلیل و رسوا تھے اور ہمیشہ رہیں گے
      اور میرے  پیارے نبی ﷺ کی شان پر زرہ برابر فرق نہ آئے گا
    اور انکا ﷺ ذکر ہمیشہ بلند رہے گا
    وَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ‏ ﴿۴﴾
    اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا  ﴿۴﴾

  • یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

    یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

    ہم بچپن سے یہ الفاظ سنتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے یا تم سے یہ نہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود اپنی زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے اور پھر دوسروں کے کانوں میں بھی یہی الفاظ پھونکتے ہیں۔ حلانکہ اس دنیا میں کوٸی بھی چیز نہ ممکنات میں سے نہیں ایسا نہ ممکن کہ آپ کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ آپ کیا کر سکتے ہو اور کیا نہیں یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے لوگوں کو یہ فیصلہ نہ کرنے دیں کیونکہ اپنے بارے میں جس طرح آپ جانتے کوٸی اور نہیں جان سکتا۔ ہمارا دماغ جس میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ اس میں مایوسی کو جگہ دینی ہے یا امید کو۔ اگر آپ اپنے دماغ میں ایک بات بٹھا لیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں اللہ نے مجھے قابلیت اور صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس مجھے اب ہمت کرنی ہے اور اپنے مقصد کے لیے کوشش کرنی ہے تو آپ ضرور کامیاب ہونگے ۔اور اگر آپ خود ہی یہ سوچ لیں کے آپ کسی قابل نہیں یا آپ کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو motivate نہیں کر سکتی۔ ایک بچہ پیدا ہوتے ساتھ ہی چلنا شروع نہیں کر دیتا وہ بچہ پہلے گرتا ہے
    پھر اٹھتا ہے اور تین چار بار یہی ہوتا پھر آخر کار وہ آہستہ آہستہ اپنی ماں کی طرف قدم بڑھاتا جو بازو پھیلاۓ اس کی منتظر ہوتی لیکن اگر ماں بچے کے لڑکھڑانے پر اسے آکر سہارا دے دے گی تو وہ کوشش نہیں کرے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتی وہ چاہتی کہ اپنے پیروں پہ چل کر اس کی طرف آۓ اب اور بچے کی محبت کا مرکز چونکہ ماں ہوتی وہ کیسے بھی ہمت کر کے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوے اسکے پاس پہنچ جاتا
    بلکل اسی طرح آپکا مرکز بھی آپ کا مقصد ہونا چاہیۓ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے جاٸیں ہو سکتا ہے دو تین دفعہ آپکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑھے مگر ہر بار ایسا نہیں ہو گا اور بلآخر آپ کامیاب ہو جاٸیں گے۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت آپکو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک آپ خود شکست تسلیم نہ کر لیں۔ اسلیے خود پر اعتماد رکھیں اگر آپ خود ہی اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تو کوٸی دوسرا کیسے کرے گا۔
    خامی اگر آپ کے اندر کوٸی موجود بھی ہے تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ حقیر ہیں اس دنیا میں کوٸی شخص مکمل نہیں ہے ہم سب میں کوٸی نہ کوٸی خامی موجود ہوتی اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اس سے مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے یہ سراسر بے وقوفی ہے کیونکہ لوگ تو آپ کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے دور حاضر میں زندگی اتنی مصروف ہے کہ کسی کے پاس فرصت ہی نہیں کہ وہ کسی اور کے بارے میں سوچ سکے ہاں کچھ فارغ لوگ آپکی ٹانگیں ضرور کھینچتے مگر جب آپکے اندر خود اعتمادی موجود ہو گی تو یہ سب چیزیں کوٸی معنی نہیں رکھیں گی اور آپکو خود اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی ہے کوٸی اور آ کر آپ کے لیے یہ نہیں کرے گا۔ اپنی ذہن سے یہ جملہ نکال کر پھینک دیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کو اشرف المخلوقات یونہی تو نہیں بنایا اور کہا ہے۔ اس نے آپ کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اس لیے خود پر یقین کرنا سیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ناکامیاں تو زندگی کا حصہ ہیں اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ نکمے یا ناکارہ ہیں بلکہ اسکا مطلب ہے کہ آپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاٸیں اور پھر سے کھڑے ہوں اور دنیا کو ثابت کریں کہ اگر ہو ہمت سینوں میں تو سر کر لیے جاتیں ہیں پہاڑ بھی۔ خود سے بس ایک جملہ کہا کریں کہ آپ کر سکتے ہیں😇

    @b786_s

  • "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    اللہ پاک رحمن ہے رحیم ہے کریم ہے اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ پختہ یقین ہے امید اور یقین صرف رب کریم پہ سرخروع ہونے کی دلیل ہے ہر دعا کے اخر میں امین کہنا اپنی دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت پہ بھروسہ اور پختہ یقین ہے اکثر لوگ دعا مانگنے کے بعد کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی دعا قبول ہوتی ہے بس کن فیکون پہ اور مقرر وقت پہ ہوتی ہے اللہ پاک کے فیصلوں پہ اگر ہم راضی ہوجائے تو ہر مشکل کی راہ نکل آتی ہے خود سے منسلک ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہوں گی میرا ایک پودا کچھ قبل روز تیز بارش اور گرج چمک ہونے کی وجہ جل گیا بجلی اس پہ پڑنے سے وہ اوپر سے پوری طرح جل گیا نیچے سے کچھ تنا اور ایک پتہ بچا میری والدہ محترم نے اس پودے کو دوبارہ سے صیحح کرنے کے لیے اس میں کھاد ڈال دی اور اس امید پہ کہ اللہ اس پودے میں پر سے جان ڈال دے گا مجھے پہلے نہیں بتایا مگر کچھ دن بعد والدہ نے بتایا کہ ایسا واقعہ تمھارے پودے کیساتھ درپیش آیا اب تمھارا پودا پر سے صیحح ہوگیا ہے مجھے یہ سن کہ خوشی بھی تعجب بھی ہوا کیسے اس پودے کی پر سے زندگی رواں ہوگئ وہ رب کریم ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے میں اکثر مایوس ہوجاتی ہوں مگر میرا بھروسہ ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ میرے ساتھ ہے بس جینے کی وجہ مل جاتی ہے ہر مشکل میں اللہ کے سوا کسی بھی انسان کو ہمنوا نا پایا اسلیے اللہ پہ بےحد پختہ یقین نے ہر مشکل کو خود آساں فرمایا رب پاک کی ذات کی مدد پہ یقین اس کدھر ہے کہ خود سے بے خبر ہوسکتی ہوں پر رب پاک مجھ سے باخبر ہے اسکا یقین آخری سانس تک قائم و دائم رہے گا
    مجھ کو ملے نا ملے میرے ہونے کا نشاں
    وہ باخبر ہے مجھ سے جو ہے لامکاں
    نا کر سکوں میں خود کے فیصلوں پہ بھی یقین
    پر اس ذات پہ ہے پختہ یقین کہہ دو ہردعامیں امین !

    @ Hu__rt7