Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5

  • حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔  تحریر: طیبہ

    حسد کیا ہے ؟ اور اس سے پچنا کیوں ضروری یے۔ تحریر: طیبہ

    حسد عربی ذبان کا لفظ ہے
    جسکے معنی ہیں جلن، کینہ پروری ،بدخواہی کے ہیں۔ اگر اس کے مفہوم کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی کی کامیابی اور خدادا صلاحیتوں کو برداشت نا کرنے کا نام ہے۔ اور دل میں یہ خیال آنا کے اس کو ہی یہ سب کچھ کیوں مل رہا ہے کیا مجھ میں ایسی کوئی کمی ہے جیسا کے کسی کی شہرت،دولت ، علم، کامیابی کو دیکھ کر جلنا کہ یہ سب میرے پاس کیوں نہیں ہے۔اصل میں ایمان کی کمزوری ہی انسان کو حسد کی طرف لے کر جاتی ہے دنیاوی چیزوں کی ہوس اور لالچ انسان کو تباہ کر دیتی ہے ۔اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے جلن کرنا بے حد بیوقوفی کی علامت ہے۔ اس طرح کے متعد سوالات جہنم لیتے ہیں جس سے دل میں بدخوی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان حسد کرنے لگ جاتا ہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔اج کل معاشرے میں حسد جیسی برائی عام ہو چکی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا رحجان پیدا ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتان اور الزام تراشی بھی بڑھ رہی ہے ۔زاتی زندگیوں کو نشانہ بنا یا جاتا ہے کریکٹر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس طرح کے رحجان سے معاشرے میں انتہا کی جہالت پھیل چکی ہے۔ ایک دوسرے سے سبقت لیے جانےمیں یہ بھول چکے ہیں کہ اخلاقی رویہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے ۔اسی لیے اسلام میں بھی اس پہ ذور دیا گیا ہے کہ حسد سے بچیں عقل کو کھا جاتا ہے دوسروں کا نقصان کرتے کرتے اپنا نقصان ہو جاتا ہے۔یہ بھول جاتاہے کہ عزت وذلت اور ترقی و تنزل اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ۔
    اللہ تعالیٰ نے بہت صاف اور واضح طورپر ارشاد فرمایاہے
    کہو : اے اللہ! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(اٰل عمران
    )3:26)
    اللہ تعالی ہی کی زات ہے جو انسان کو صلاحیتوں سے نوازتی ہے ۔جس کی قدرت کیے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا ہے ۔زوال اور عروج انسان کی زندگیوں سے جڑے ہیں۔ کبھی نعمتیں چھن بھی جاتی ہے اور کبھی انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ کچھ مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔حسد اخلاقی برائیوں کی ایک قسم ہے جس سے انسان کی شخصیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔حسد کرنا ذہنی پستی کی علا مت ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک بہت مشہور حدیث ہے کہ ایک بار غریب و مفلس مہاجرین کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عرض کی: یارسول اللہ! مال دارو خوش حال لوگ مرتبے میں ہم سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ لوگ ہماری ہی طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری ہی طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ چوں کہ وہ ارباب ثروت ہیں، اس لیے وہ حج بھی کرلیتے ہیں، عمرہ بھی کرلیتے ہیں اور جب جہادکا وقت آتاہے تو وہ مال و دولت سے بھرپور مدد کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر غریبوں،مفلسوں اور حاجت مندوں کی بھی امداد کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ ہم ان پر سبقت نہیں حاصل کرسکتے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی اْس جماعت کی بات سنی اور ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتادوں، جس سے تم بھی ان سب کے برابر ہوجاؤ، تم اپنے پیچھے رہنے والوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ، اور تمھاری برابری اْن لوگوں کے سوا کوئی نہ کرسکے جو وہی عمل کریں، جو میں تمھیں بتانا چاہتاہوں؟ سب نے خوشی خوشی بہ یک زبان کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولؐ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوق وطلب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ اور 34مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (بخاری، مسلم، بیہقی، کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقول بعد السلام، حدیث: 348)
    حسد سے بچنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اخلاقی رویوں کو درست کر نا ہے برداشت پیدا کرنی ہے ۔دوسروں کی کامیابی اور خوشیوں پہ خوش ہونا ہے ان کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے۔جس سے انسان کے اندر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان خود بھی خوش رہتا ہے مایوسی سے بچ سکتا ہے۔اللہ تعالی پہ کامل اور بھروسے سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم محنت اور لگن سے جو چاہتے ہیں حاصل کر سکتے ہیں کوئی انسان بھی کسی سے کم نہیں ہے اللہ تعالی نے سب کو ایک جیسا دماغ دیا ہوا ہے اس کا صحیح اور درست استمال کیا جائے تو ہم تو وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتےہیں ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    تم سے پچھلی امتوں کی بیماریوں میں سے بغض و حسد کی بیماری تمھارے اندر سرایت کرگئی ہے۔ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ بتاؤں، جو تمھارے اندر محبت پیداکردے؟ وہ یہ ہے کہ تم باہم سلام کو عام کرو۔

    @JeeTaiba

  • کشمیر عمران خان کا مگر   تحریر:محمد شہباز سرکانی

    کشمیر عمران خان کا مگر تحریر:محمد شہباز سرکانی

    آذاد کشمیر میں حالیہ الیکشن ہوۓ جس میں پاکستان تحریک انصاف کا سادہ اکثریت سے 25 کے قریب سیٹیں ملیں اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگٸ ہے ۔ اب وفاقی کی ایک اور حکومت آذاد کشمیر میں بھی بن گٸ ہے مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں فرق نظر آۓ گا یا ان کی طرح یہ بھی ویسے چلیں گے ۔
    وزیراعظم عمران خان نے اپنی الیکشن کمپین میں بہت سے وعدے تو کیے مگر یہ تو ویسے ہی ہے جس طرح عمومی الیکشن کمپین میں ہوتا ہے ۔ مگر اب پاکستان تحریک انصاف کو اور حکومتوں کے درمیان فرق تو دکھانا پڑے گا تاکہ ایک واضع صورتحال نظر آۓ اور عمران خان کا نعرہ کرپشن سے پاک اور ترقی پسند کشمیر کی تقدیر بدلے
    حالیہ الیکشن کے بعد عمران خان کی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جس سے ان کو عوامی مساٸل پر توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ یہ حکومت تو مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی کو ہمیشہ کرپٹ کہتی رہی ہے اب تو ان کی اپنی حکومت بنے گی اب یہ کرپشن سے پاک حکومت کو چاہیے کہ عوام کے حقیقی معنوں میں مساٸل حل کرے تاکہ تھوڑے بہت عوام کے مساٸل حل ہوں ۔
    آذاد کشمیر میں عمران خان پہلی بار حکومت بنانے جارہے ہیں اور اس حکومت کو بہت سے مساٸل کا سامنا بھی ہوگا اور یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ کشمیر میں حکومت کو ایک چیز کا ہمیشہ سے فاٸدہ رہا ہے کہ جس کی حکومت وفاق میں ہوتی ہے اس کی حکومت آذاد کشمیر میں بنتی ہے اور اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ایسا ہوا ہے اور اب عمران خان کی وفاق میں حکومت ہونے کے ناطے وہ اپنا بجٹ عوام کے مساٸل حل کرنے پر صرف کریں اور نا صرف مساٸل حل کریں بلکہ سیاحت کےلیے بہت سے اور نۓ راستے کھولیں اور سیاحتی مقامات کو پر رونق بنانے کےلیے حقیقی معنوں میں پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہت سا ریونیو حاصل کرکے ہم دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ اجاگر کریں ۔
    کشمیر جنت نظیر وادی ہے جہاں بہت سے سیاحتی مقامات قابل ذکر ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی قابل رشک ہے ۔ حکومت کا چاہیے کہ وہ بہت سے نۓ مواقع پیدا کرے جس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہو اور اس کا براہ راست فاٸدہ حکومت اور عوام کو پہنچے اس سے روزگار کے نۓ مواقع پیدا ہونگے اور مقامی افراد کو ترقی کا موقع حاصل ہوگا اور بہت سے مساٸل حل ہونگے. تحریر : https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    1947 قیام پاکستان کے بعد ہی مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کے لیے، متعلقہ ادارہ تشکیل دیئے گئے تھے، ان میں سپیس ٹیکنالوجی کےلیے 1961 میں ڈاکٹر عبدوسسلام سپارکو(خلائی و بالائے فضائی تحقیقاتی مأموریہ) کی بنیاد رکھی گئی ۔ابتداء میں سپارکو نے خوب ترقی کی جس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ 7 جون 1962 کو ، رہبر راکٹ کے لانچ کیاجس سے پاکستان ،اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ، ایشیاء میں تیسرا ، اور بغیر پائلٹ خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔اسی کے ساتھ ہی کامیابیوں کا سفر طےکرتے ہوئے سپارکو نے متعدد ساؤنڈ راکٹ لانچ کیے , پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ -بدر 1 ، 1990 میں , بدر-بی کو 2001 میں ۔ 2011 میں ، پاکس سیٹ -1 جو پاکستان کا پہلا مواصلاتی مصنوعی سیارہ بن گیا۔
    1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کو معاشی طور پر کمزوری کی وجہ سے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی کی وجہ سے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2021 میں سپارکو کا بجٹ صرف 46 ملین ڈالر تو 1971 میں چند ملین تھا جس میں تمام معاملات چلانا ناممکن تھا جس سے پاکستان سپیس مشنز التوٰا کا شکار ہوتے گئے،یہئ سے سپارکو کا زوال شروع ہواجو کئی دہائیوں سے چل رہاہے، اس کے علاوہ ایک وجہ 70 و 80 کی دہائی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جووقت کی اہم ضرورت تھا جوعسکری و سیاسی توجہ کے سبب اس پرزیادہ کام ہورہاتھا ، جس سے فنڈ میں دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے سپیس مشنز کو بریک لگ گئی۔
    اس کے علاوہ چین کی طرف بڑھنے سے پاکستان کے جوہری عزائم کے بارے میں امریکی پالیسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، جو 1980 کی دہائی کے دوران تیزی سے واضح ہورہے تھے۔ مواصلاتی مصنوعی سیارہ لانچ کرنے کا منصوبہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا کیونکہ ضیا الحق کے دور حکومت میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ بجٹ میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ خلا میں مزید گھٹ جانے والے عزائم کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی آگیا جب پاکستان سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں اپنی جنگ میں مصروف تھا۔ پاکستان کے لئے سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نے سپارکو کی پیشرفت میں طوقیں ڈال دی ہیں۔
    لیکن سپیس ٹیکنالوجی کی طرف کم دھیان ہونے کی وجہ سے ریسرچ و ڈیلومنٹ کے ساتھ نئی سٹیلائٹ تیار کرناو لانچ بروقت نہیں کرسکا جو زیرالتوا ہوتے ہوتے 2000 کی دہائی تک مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔9/11 کے بعد کی دہشت گردی کی لہر نے امریکی پاپندیوں نے پاکستان کو مالی طور پر شدید کمزور کردیا جو 2015 تک پاکستان کے مستحکم ہونے تک سپیس مشنز بلکل ہی غائب ہوگئے۔
    سپیس ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بڑھ چکی کیونکہ سٹیلائٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی ، سیلاب ، ظوفان ، بارشوں کا وقت سے پہلے پتہ لگاسکتاہے، جس سے ناصرف بہت بڑی تباہی سے بچا جاسکتاہے، اسی تناظر میں موجودہ دور میں دفاعی میدان میں بھی سپیس ٹیکنالوجی بے انتہاہ ضروری ہے کیونکہ فوجی دستہ آپس میں خفیہ پیغامات بھی سٹیلائٹ کی مدد سے بھیجتے ہیں، میزائل بھی مقررہ ہدف کو کامیابی دے نشان بنانے کے لیے سٹیلائٹ کا استعمال کرتاہےاور اس کے علاوہ دشمن کے علاقہ کی جاسوسی کےلیے بھی سٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں موبائل کالز و میسجز آپس میں رابطہ کے لیے سگنلز سے جو سٹیلائٹ کی مدد سے ہی برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، مجموعی طور پر یہ بات کی جائے تو ایک ملک کے تمام معاملات حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے ساتھ جودراصل سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چل رہے ہوتے ہیں، جس کوچند منٹ میں مکمل تباہ بھی کیاجاسکتاہے جس پورا ملک مفلوج ہوسکتاہے، اس کی طاقت اس وقت روس ، امریکہ ، چین وغیرہ کے پاس جو ایک میزائل کی مدد سے کسی بھی ملک کی تمام سٹیلائٹس کوتباہ کرسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیاہے، جس کا صرف اس خطے میں ہی مقابلہ بہت مشکل ہے۔2022 میں چین کی مدد سے پاکستان سے ایک خلاباز خلا میں بھیجاجائے ، جس کاتکمیل موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ ناممکن نظر آرہاہے، اس کے علاوہ پاکستان خود سے سٹیلائٹ خلا ءمیں بھیجنا تو دور خودساختہ سٹیلائٹ بھی تیار نہیں کرپارہاہے،اس کے برعکس دنیا کے باقی ممالک چاند و مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ماحول کی دستیاب ہو جو اس کے لئے سازگار ہو اور سیاسی مرضی جو اس کا حامی ہو۔
    ایک پاکستانی ہونے کی ناطے حکومت ِوقت سے میری ذاتی طور پر گزارش ہے کہ خداراہ جس طرح ایٹمی پروگرام کو ممکن کربنایا تھا ، اسی طرح سپیس ٹیکنالوجی کی طرف بھی توجہ دی جائے جس سے ملک کی افواج و عوام اور کاروبار کو فائدہ ہوگا ناصرف قدرتی آفات کی تباہی سے بچنے میں مدد حاصل ہوگئی، اس کے علاوہ سپیس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوگاتو پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
    اللہ پاک پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی و عروج عطا فرمائے ، آمین۔
    Name Muhammad Haris MalikZada
    Twitter ID:@HarisMalikzada

  • اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ  تحریر: سیدہ بخاری

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ تحریر: سیدہ بخاری

    کہاں گئے وہ گستاخیاں کرنے والے؟
    کہاں گئے وہ قریش کے متکبر سرداران جو
    نبی اکرمﷺ کو ایذا پینچایا کرتے تھے ،کہاں گیا ابو جہل، ابو لہب ، عتبہ، عتیبہ ،ولید اور کہاں ہیں باقی سب؟
    اور ابو لہب کو تو دیکھو کہ نبی ﷺ کا سگا چچا لیکن ایذا رسانی میں سب سے پیش پیش ہے۔ بغض و عناد اور تکبر کے اعلی درجے پر فائر ہے۔
    کیا تمہیں معلوم ہے کہ اسکا کیا ہوا؟
    اللہ کے اسقدر غصے کا شکار ہوا کہ اللہ نے قرآن میں فرما دیا
    تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِىۡ لَهَبٍ وَّتَبَّؕ‏ 
    ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو  ﴿۱﴾
    یہ کیسے ممکن کہ تم میرے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرو اور میرے رب کا غضب تمہیں جا نہ لے؟
    چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوا اور گل سڑ کر مرگیا۔لاش کے قریب کوئی پھٹکتا نہ تھا چند حبشیوں کو اجرت دے کر لاش گڑھے میں پھنکوائی گئی اور دیکھو تو اوپر سے پتھر یوں برسائے گئے جیسے رجم کو سزا دی جا رہی ہو۔
    اور اسکی بیوی ام جمیل جو اسکے ساتھ مل کر نبی اکرمﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی دیکھو تو قرآن کیا کہتا ہے اسکے بارے میں

    فِىۡ جِيۡدِهَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ
    اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی ﴿۵﴾

    ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مری اور اسکی گردن میں مونج کی رسی ڈال کر جہنم میں بھیجا گیا۔
    اور کہاں گیا ان بدبختوں کا گستاخ بیٹا عتیبہ؟
    نبی اکرم ﷺ کی بددعا کا ایسا شکار ہوا کہ اللہ نے ایک شیر کو اس پر مسلط کردیا اور وہ یوں ہلاک ہوا۔
    اور مکے کے متکبر سرداروں کے بارے میں تو سنو
    "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلیﷺ  نے کعبہ کی طرف منہ کر کے کفار قریش کے چند لوگوں شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابوجہل بن ہشام کے حق میں بددعا کی تھی۔ میں اس کے لیے اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے (بدر کے میدان میں) ان کی لاشیں پڑی ہوئی پائیں۔ سورج نے ان کی لاشوں کو بدبودار کر دیا تھا۔ اس دن بڑی گرمی تھی”۔
    سب کے سب بدر کے کنوئیں میں گلتے سڑتے چیل کووں کا شکار ہو گئے اور انکا غرور اور تکبر کسی کام نہ آیا۔
    کہاں گیا وہ کعب بن اشرف جو میرے نبی ﷺ پر سب و شتم کرتا تھا اور آپﷺ کی ہجو میں اشعار لکھتا تھا؟
    صحابہ کرام رض نے نبی پاک ﷺ کے حکم سے اسکو جہنم واصل کیا۔
    کہاں ہے وہ اسماء بنت مروان اور وہ بوڑھا بدزبان ابو عفک؟
    سب کے سب جہنم کے نچلے درجوں میں پڑے سڑ رہے ہیں،سب نے اپنی جانوں کیساتھ دشمنی کی اور اپنے تکبر سمیت بے نام و نشان ہو گئے کہ میرے رب نے یہ فرما دیا

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ ﴿3﴾
    (اے نبیﷺ )بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہ بے نام و نشان رہے گا

    اور آج تک ایسا ہی ہوتا آرہا ہے کہ میرے پیارے نبیﷺ کا ہر دشمن زلت کی موت کا شکار ہوا اور دنیا و آخرت میں زلیل و رسوا ہوا اور میرے نبی ﷺ کی شان ایسی اونچی ایسی نرالی ہے کہ قرآن نے انکی مدح بیان کی، اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور میرے نبی ﷺ کا ذکر ازل سے بلند تھا اور ابد تک بلند رہے گا۔
    اور گستاخیاں کرنے والے ہمیشہ سے زلیل و رسوا تھے اور ہمیشہ رہیں گے
      اور میرے  پیارے نبی ﷺ کی شان پر زرہ برابر فرق نہ آئے گا
    اور انکا ﷺ ذکر ہمیشہ بلند رہے گا
    وَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ‏ ﴿۴﴾
    اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا  ﴿۴﴾

  • یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

    یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

    ہم بچپن سے یہ الفاظ سنتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے یا تم سے یہ نہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود اپنی زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے اور پھر دوسروں کے کانوں میں بھی یہی الفاظ پھونکتے ہیں۔ حلانکہ اس دنیا میں کوٸی بھی چیز نہ ممکنات میں سے نہیں ایسا نہ ممکن کہ آپ کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ آپ کیا کر سکتے ہو اور کیا نہیں یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے لوگوں کو یہ فیصلہ نہ کرنے دیں کیونکہ اپنے بارے میں جس طرح آپ جانتے کوٸی اور نہیں جان سکتا۔ ہمارا دماغ جس میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ اس میں مایوسی کو جگہ دینی ہے یا امید کو۔ اگر آپ اپنے دماغ میں ایک بات بٹھا لیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں اللہ نے مجھے قابلیت اور صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس مجھے اب ہمت کرنی ہے اور اپنے مقصد کے لیے کوشش کرنی ہے تو آپ ضرور کامیاب ہونگے ۔اور اگر آپ خود ہی یہ سوچ لیں کے آپ کسی قابل نہیں یا آپ کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو motivate نہیں کر سکتی۔ ایک بچہ پیدا ہوتے ساتھ ہی چلنا شروع نہیں کر دیتا وہ بچہ پہلے گرتا ہے
    پھر اٹھتا ہے اور تین چار بار یہی ہوتا پھر آخر کار وہ آہستہ آہستہ اپنی ماں کی طرف قدم بڑھاتا جو بازو پھیلاۓ اس کی منتظر ہوتی لیکن اگر ماں بچے کے لڑکھڑانے پر اسے آکر سہارا دے دے گی تو وہ کوشش نہیں کرے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتی وہ چاہتی کہ اپنے پیروں پہ چل کر اس کی طرف آۓ اب اور بچے کی محبت کا مرکز چونکہ ماں ہوتی وہ کیسے بھی ہمت کر کے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوے اسکے پاس پہنچ جاتا
    بلکل اسی طرح آپکا مرکز بھی آپ کا مقصد ہونا چاہیۓ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے جاٸیں ہو سکتا ہے دو تین دفعہ آپکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑھے مگر ہر بار ایسا نہیں ہو گا اور بلآخر آپ کامیاب ہو جاٸیں گے۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت آپکو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک آپ خود شکست تسلیم نہ کر لیں۔ اسلیے خود پر اعتماد رکھیں اگر آپ خود ہی اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تو کوٸی دوسرا کیسے کرے گا۔
    خامی اگر آپ کے اندر کوٸی موجود بھی ہے تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ حقیر ہیں اس دنیا میں کوٸی شخص مکمل نہیں ہے ہم سب میں کوٸی نہ کوٸی خامی موجود ہوتی اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اس سے مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے یہ سراسر بے وقوفی ہے کیونکہ لوگ تو آپ کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے دور حاضر میں زندگی اتنی مصروف ہے کہ کسی کے پاس فرصت ہی نہیں کہ وہ کسی اور کے بارے میں سوچ سکے ہاں کچھ فارغ لوگ آپکی ٹانگیں ضرور کھینچتے مگر جب آپکے اندر خود اعتمادی موجود ہو گی تو یہ سب چیزیں کوٸی معنی نہیں رکھیں گی اور آپکو خود اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی ہے کوٸی اور آ کر آپ کے لیے یہ نہیں کرے گا۔ اپنی ذہن سے یہ جملہ نکال کر پھینک دیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کو اشرف المخلوقات یونہی تو نہیں بنایا اور کہا ہے۔ اس نے آپ کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اس لیے خود پر یقین کرنا سیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ناکامیاں تو زندگی کا حصہ ہیں اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ نکمے یا ناکارہ ہیں بلکہ اسکا مطلب ہے کہ آپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاٸیں اور پھر سے کھڑے ہوں اور دنیا کو ثابت کریں کہ اگر ہو ہمت سینوں میں تو سر کر لیے جاتیں ہیں پہاڑ بھی۔ خود سے بس ایک جملہ کہا کریں کہ آپ کر سکتے ہیں😇

    @b786_s

  • "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    اللہ پاک رحمن ہے رحیم ہے کریم ہے اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ پختہ یقین ہے امید اور یقین صرف رب کریم پہ سرخروع ہونے کی دلیل ہے ہر دعا کے اخر میں امین کہنا اپنی دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت پہ بھروسہ اور پختہ یقین ہے اکثر لوگ دعا مانگنے کے بعد کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی دعا قبول ہوتی ہے بس کن فیکون پہ اور مقرر وقت پہ ہوتی ہے اللہ پاک کے فیصلوں پہ اگر ہم راضی ہوجائے تو ہر مشکل کی راہ نکل آتی ہے خود سے منسلک ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہوں گی میرا ایک پودا کچھ قبل روز تیز بارش اور گرج چمک ہونے کی وجہ جل گیا بجلی اس پہ پڑنے سے وہ اوپر سے پوری طرح جل گیا نیچے سے کچھ تنا اور ایک پتہ بچا میری والدہ محترم نے اس پودے کو دوبارہ سے صیحح کرنے کے لیے اس میں کھاد ڈال دی اور اس امید پہ کہ اللہ اس پودے میں پر سے جان ڈال دے گا مجھے پہلے نہیں بتایا مگر کچھ دن بعد والدہ نے بتایا کہ ایسا واقعہ تمھارے پودے کیساتھ درپیش آیا اب تمھارا پودا پر سے صیحح ہوگیا ہے مجھے یہ سن کہ خوشی بھی تعجب بھی ہوا کیسے اس پودے کی پر سے زندگی رواں ہوگئ وہ رب کریم ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے میں اکثر مایوس ہوجاتی ہوں مگر میرا بھروسہ ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ میرے ساتھ ہے بس جینے کی وجہ مل جاتی ہے ہر مشکل میں اللہ کے سوا کسی بھی انسان کو ہمنوا نا پایا اسلیے اللہ پہ بےحد پختہ یقین نے ہر مشکل کو خود آساں فرمایا رب پاک کی ذات کی مدد پہ یقین اس کدھر ہے کہ خود سے بے خبر ہوسکتی ہوں پر رب پاک مجھ سے باخبر ہے اسکا یقین آخری سانس تک قائم و دائم رہے گا
    مجھ کو ملے نا ملے میرے ہونے کا نشاں
    وہ باخبر ہے مجھ سے جو ہے لامکاں
    نا کر سکوں میں خود کے فیصلوں پہ بھی یقین
    پر اس ذات پہ ہے پختہ یقین کہہ دو ہردعامیں امین !

    @ Hu__rt7

  • یہ نظام بدلنا چاہیے  تحریر: محمد وقاص شریف

    یہ نظام بدلنا چاہیے تحریر: محمد وقاص شریف

    عید سے دو روز قبل شام کو قربانی کےجانور دیکھنے فتح پور کے قریب کے دیہات میں جانا ہوا۔ وہیں ایک چک میں ہماری ملاقات محمداسماعیل سے ہوئی جو چھوٹے سے زمیندار ہیں۔ہم نے پوچھا کہ کتنی زمین ہے۔ کہنے لگے تیرہ ایکٹر تھی مگر اب صرف چار ایکٹر رہ گئی ہے، باقی نو ایکٹر ایک جھوٹے مقدمے پر لگ گئی ہے۔
    مزید تفصیلات پوچھیں تو بتانے لگے کہ آج سے دس بارہ سال قبل کسی سے زمین کے ایک حصے کا سودا کیا۔ انھوں نے کچھ پیسے بیعانے کے طور پر دیے اور ایک پرونوٹ پر دستخط کروائے کہ اتنی رقم وصول کی ہے، اور پرونوٹ پر اصل رقم کی بجائے پندرہ لاکھ لکھوا لیا۔ محمد اسماعیل ایک ان پڑھ شخص تھا، لینے والے بھی قریبی تھے اس لیے بغیر کسی سے تصدیق کروائے، انگوٹھے لگا دیے۔
    مخالف پارٹی نے کچھ دن کے بعد سودا کینسل کر دیا اور کہا کہ ہماری رقم واپس کر دیں۔ اسماعیل نے جتنے پیسے لیے تھے وہ واپس کیے تو انھوں نے کہا کہ یہ ہماری رقم نہیں بلکہ ہمیں پندرہ لاکھ دیں جو آپ نے لیے ہیں۔ گواہ بھی موجود تھے کہ اصل کتنی رقم دی گئی تھی۔
    مخالف پارٹی نےاس دھوکے بازی کو قانونی رنگ دے کر کیس کر دیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ میں کئی سال مقدمہ چلا اور فیصلہ محمد اسماعیل کے حق میں ہو گیا۔ مخالف پارٹی نے اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ ہائی کورٹ میں کئی سال پھر مقدمہ چلا اور پھر سے محمد اسماعیل کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔ اب تک محمد اسماعیل مقدمے کی فیس اور آنے جانے کے خرچ پر نو ایکٹر لگا چکا تھا۔ مخالف پارٹی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ محمد اسماعیل نے سپریم کورٹ کے وکیل کی فیس کا پتہ کیا تو اس نے دو لاکھ مانگے۔
    محمد اسماعیل یہاں کے وڈیرے پیروں کے پاس گیا، منت ترلا کیا کہ اب چار ایکٹر بچ گئے ہیں یہ بھی چلے جانے ہیں، جو دو لاکھ ادھر دینے ہیں وہی آپ لے لیں اور یہ صلح کر وا دیں۔ پیروں کو محمد اسماعیل پر رحم آگیا اور دو لاکھ دے کر محمد اسماعیل کی جان چھوٹ گئی۔
    دس بارہ سال عدالتوں کے دھکے کھانے، نو ایکٹر اور دو لاکھ گنوانے کے باوجود بھی محمد اسماعیل کو انصاف نہ مل سکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ہے ہمارا نظام انصاف۔ یہ انصاف کا سسٹم ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس پورے سسٹم کو ہی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی خرابی وکلاء ہیں جو بنے تو اس لیے تھے کہ اس نظام کو سہارا دیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی وکلاء اس نظام کو سب سے زیادہ خراب کر رہے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں اطراف کے وکیل عدالت کے باہر مل کر خوش گپیاں لگاتے ہیں اور طے کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح بس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہونے دینا۔
    نظام انصاف کی دو خصوصیات لازمی ہیں، پہلی یہ کہ فوری ہو اور دوسری یہ کہ فری ہو۔ مگر یہ نظام ایسا ہے کہ بندے کو کنگال کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور وقت اتنا لگتا کہ نسلیں انصاف کی امید میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جب ایک عدالت سے فیصلہ ہو گیا تو پھر کسی بھی دوسری عدالت میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟
    اور اگر ضلعی عدالت میں انصاف نہیں ہوتا تو پھر سارے مقدمے سپریم کورٹ میں ہی سن لیے جائیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے گھر چوری ہوئی ، پولیس نے چور پکڑ لیے، سامان برآمد کروا لیا۔ اب کیس عدالت میں پیش ہوا۔ سیدھا سا کیس ہے جس میں چور پکڑے بھی چا چکے اور سامان بھی برآمد ہوا، سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگز اور فارنزک رپورٹ کے علاوہ چوروں کا اقرار جرم بھی موجود۔ اب ایسے مقدمے میں وکیل کی کیا ضرورت مگر وکیل کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ دو تین وکیل تبدیل کیے مگر جس کو بھی کیا کسی ایک نے بھی مجھ سے وقوعہ کی تفصیلات تک نہیں پونچھیں۔ میں نے بتانے کی کوشش کی تو بھی نہیں سنی، عدالت میں خود پیش ہوا تو چھ دفعہ جج نے سوائے نئی تاریخ کے کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد اتنے ثبوتوں کے باوجود تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے۔ اس دوران اس نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے کوئی اس نظام کوبدلنے کی کوشش کرے تاکہ میرے ملک میں ناانصافی ختم ہو، لاقانونیت کا خاتمہ ہو جائے اور دھوکے دینے والوں کو سخت سے سخت سزاملے اور جھوٹے مقدموں میں پھنسانے والوں کو کڑی سزائیں ملیں۔ یہ انقلاب صرف تب آ سکتا ہے جب وہ لوگ سنجیدہ کوشش کریں جو اسی نظام کا حصہ ہیں۔
    @joinwsharif7

  • خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے  تحریر: ذیشان علی

    خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے تحریر: ذیشان علی

    ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. جب ہم یہ نام لیتے ہیں تو بڑا فخر محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے،اس لیے جب ہمارے ملک کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہے تو ہمیں مسرت ہوتی ہے،
    لیکن کیا ہم اپنے ملک کے نام کے ساتھ جڑے اسلام جو کہ ہمارا مذہب بھی ہے کا پاس ہے،؟
    ہمیں اس کی قدر ہے؟ اس کا ادب و احترام اور اسے باوقار بنانے کی کیا ہم سمجھ رکھتے ہیں،
    کیوں ہمارے معاشرے کے افراد ملک اور اپنے وقار کو بد نام کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں اور ایسے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں جو ناقابل معافی ہے،
    عورت کی عزت اور ناموس کا محافظ مرد ہے، لیکن انتہائی شرم کا مقام ہے ہمارے معاشرے کے ان افراد کے لیے جو عورتوں پر ظلم اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں،
    ہمیں تو انصاف پسند ہونا چاہیے ہمارا دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ تو کیا تم لوگ دین سے پھر گئے ہو جو اس کے منع کرنے کے باوجود اس ظلم اور گناہ کو جاری رکھے ہوئے ہو،
    آج کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ ظلم کرو گے تو وہ ظلم تمہیں لوٹایا جائے گا، کیا تمہیں اس کی خبر نہیں یا اس کا کوئی خوف نہیں،؟
    تم باز نہیں آتے تو پھر تمہیں ٹھیک کرنے کے ہماری ریاست ہے اور اس کا قانون ہے،
    ہم مل کر آواز بلند کریں گے اور تم لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گئیں، ہم قانون سے تم لوگوں کی ایسی کی تیسی کروائیں گے کہ تم لوگ یاد رکھو گے بلکہ تم لوگوں کی نسلیں بھی یہ سب یاد رکھیں گی،
    قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور عوام کے محافظوں سے ہماری منہ زور اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں،
    ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی اللہ حفاظت کرے اور میری تمام ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اسلامی اقدار کو اپنائیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عمل پیرا ہوں۔
    اللہ اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کی مدد کرتا ہے بےشک اس کا وعدہ ہے وہ اپنے بندوں کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑتا،
    جن خواتین پر ظلم ہوتا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے وہ اس گناہ سے مبرا ہیں اور کچھ شک نہیں کہ پروردگار انہیں بخش دے گا وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے،
    ظلم کو روکنا ریاست اور معاشرہ کے ذمہ داری ہے اپنی خواتین کی حفاظت کریں اور دوسروں کی ماں بہن بیٹی کو اپنی ماں بہن بیٹی جیسا سمجھیں یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے،
    عورت کوئی کھیل کا سامان نہیں ہے کہ جب دل چاہا اس سے کھیلا اور جب دل بھرا اسے پھینک دیا،
    اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو ایسا کرنے والوں پر ہر گز ہر گز تمہیں اس ظلم کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں دینا پڑے گا،
    معاشرے کو گندا اور تباہ و برباد مت کرو کہ اس سے خود بھی رسوا ہو گے اور اپنے خاندان والوں کو بھی رسوا کرو گے،
    اسلامی اقدار کو فروغ دو پانچ وقت کی نماز ادا کرو شیطانی وسوسوں سے دور رہو اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈروتے رہوں،
    اللہ بے ہدایت لوگوں کو ہدایت دے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں لکھی انہیں غرق کر یہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں سو ہمارے معاشرے کو ان ناسوروں سے پاک کر دے،

    @zsh_ali

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق  تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار – انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔
    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔
    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔
    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_