Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ‏کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار  نام: محمد عمران خان

    ‏کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار نام: محمد عمران خان

    وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے جیت گئی۔
    مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بیان دیا کہ "کشمیری غلامانہ سوچ رکھتے ہیں اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔”
    کشمیریوں کو دی گئی اس شرمناک گالی سے قطع نظر اس نے تسلیم کر لیا کہ دھاندلی ‏نہیں ہوئی ہے اور عمران خان کشمیریوں کے ووٹ سے ہی یہ الیکشن جیتے ہیں ۔”
    پورے پانچ سال میں کشمیر کا وزیراعظم رہتے ہوئے جس بندے نے کشمیریوں کے حق پہ ڈاکا ڈالا، ان کے فنڈز ہڑپ کر گیا، کشمیر میں پانچ سالوں میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا، کشمیری عوام کو ہمیشہ مایوس کیا، جب کشمیریوں نے اس مایوسی کا بدلہ لیا تو راجا فاروق حیدر نے نہایت ہی شرمناک شکست کھانے کے بعد کشمیریوں کو ہی الٹا گالیاں دینا شروع کر دیں جو کہ نا صرف کشمیریوں بلکہ پورے پاکستان کیلئے انہتائی افسوسناک بات ہے۔ تم کس قسم کے وزیراعظم ہو کہ اپنے ہی عوام کو غلام ذہن سوچ رکھنے والا کہہ رہے ہو؟ کیا تمہیں ان کی قربانیاں یاد نہیں آئیں؟ کیا کئ سالوں سے کشمیریوں کا حق کھانے کے بعد تمہیں الٹا وہی کشمیری غلام لگنے لگے؟ قابل مذمت بیان دیا ہے راجا فاروق حیدر نے، جس پر کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا ، کوئی بھی نہیں کیونکہ قوم سب سمجھتی ہے ۔
    کشمیر انتخاب میں اینٹی انڈیا اور پرو انڈیا بیانیہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جب بھی جلسہ کیا تو اپنی ذاتی گاڑیاں بھر بھر کے جلسہ گاہ کو سجایا گیا، یا وہاں کے لوگ جلسے میں آئے بھی تو مریم نواز صاحبہ کا تماشا دیکھنے آئے، ووٹ دینے کا انکا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا،
    اور ووٹ دیتے بھی کیسے؟ جب بھی مریم نواز نے تقریر کی تو ہمیشہ پاکستان کے اداروں کے خلاف بات کی، ہمیشہ ہر جلسے میں پاک فوج کے خلاف بولتی رہیں ۔ اپنے ہر جلسے میں عمران خان نے یہ کر دیا عمران خان نے وہ کر دیا، بس صرف عمران خان عمران خان کرتی رہیں،
    کشمیر پہ مظالم انڈیا نے ڈھائے ہوئے ہیں، اور ڈھا رہا ہے ۔
    کشمیری عوام کو ہر طرح کی تکلیف نریندر مودی دے رہا ہے اور مریم نواز صاحبہ نے وہاں جا کے مودی کا نام تک نہیں لیا، کیا کشمیری اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ آپ کی مکاری نہیں سمجھ سکے؟
    عمران خان جب اپنی ہر تقریر میں انڈیا اور نریندر مودی کو جھاڑ رہا تھا تو مریم نواز اور بلاؤل مودی کا نام تک لینے سے کترا رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ
    ‏عمران خان مقبوضہ کشمیر میں مودی کو مظالم کا ذمہ دار ٹہرا رہا تھا تو مریم نواز عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ذمہ دار ٹہراتی رہی۔

    کشمیری گھاس نہیں کھاتے۔ نا ہی کشمیری ابھی دودھ پیتے بچے ہیں، مریم نواز صاحبہ کی تقریریں سن سن کر کچھ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر طنز کیا کہ "اگر مریم نواز کی تقریروں سے "عمران خان” کا نام
    ‏نکال لیا جائے تو وعدہ کرو، آو گے، دو گے اور لوگے وغیرہ ہی رہ جاتا ہے۔”

    عین مہم کے دوران نواز شریف کی جعلی تصویر فوٹو شاپ کروا کر اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کہ "کشمیر سے رشتہ پرانا ہے ”
    پکڑی گئی تو ڈیلیٹ کردی ۔ مگر ڈلیٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نا ہوا، آج کل تیز زمانہ ہے لوگوں نے سکرین شاٹ لے کر ٹویٹ کیے تو مریم صفدر کا جھوٹ فریب نا صرف کشمیر والوں نے دیکھا بلکہ پوری دنیا میں بہت رسوائی ہوئی اور اس جعل سازی پر معذرت بھی نہیں کی۔ جس کا صلہ اسے کشمیر میں بد ترین شکست کی صورت میں مل چکا ہے۔
    لہذا عرض ہے نانی یہ اپنا چورن لاہور میں بیچے ،یا پھر سندھ کا رخ کرے۔ کیونکہ یہ جہاں بھی جائے گی رسوائی اس کا مقدر ہو گی، امید ہے کہ اب پاکستان کا ہر ذی شعور یہ بات سمجھ چکا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان ہی پاکستان کے اصل محب وطن لیڈر ہیں جو پاکستان کو اپنے وطن کو سپر پاور بنا کر ہی دم لیں گے ان شاء اللہ!
    پاکستان زندہ باد عمران خان پائندہ باد!!

    @Imran1Khaan

  • ہوس اقتدار اور شریف خاندان  تحریر-سید لعل بُخاری

    ہوس اقتدار اور شریف خاندان تحریر-سید لعل بُخاری

    اقتدار تو آنی جانی چیز ہے،اسکی وجہ سے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں اسی ملک کی بدولت ہیں۔
    اس مُلک نے جتنا شریف خاندان کو نوازا،ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
    فوج نے انہیں گود میں پالا
    اسٹیبلش منٹ کی آنکھ کا یہ تارہ رہے
    مگر اقتدار چھن جانے کے بعد زخمی بھیڑیے کی طرح یہ ملک پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
    اقتدار بھی کسی اور نے نہیں چھینا،بلکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس سے محروم ہونا پڑا
    نہ یہ کرپشن میں پکڑے جاتے اور نہ ہی انکی موجیں کبھی ختم ہوتیں
    مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا
    چور جتنا بھی ہوشیار ہو ایک دن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہچتا ہے۔
    یہی کچھ شریفوں کے ساتھ ہوا۔
    پانامہ کیس نے انکا بھانڈہ پھوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔اب
    کشمیر الیکشن میں شکست انہیں بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی
    مریم کی سربراہی میں اس وقت ایک ایسا گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے ملک کے لئے تباہ کُن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں کو لڑانے کے لئے ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو کشمیر اورپاکستان کو خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف سے دھکیل سکتا ہے
    مگر ان کی بلا سے،
    اگر خاکم بدہن ایسا کچھ ہوا تو ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔
    پوارا خاندان پہلے ہی لندن میں قوم کے پیسے پر عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
    ضرورت پڑی تو مریم بی بی بھی گلاسی اُٹھاۓ رفو چکر ہو جاۓ گی۔
    ان کے لئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لینا بھی کوئ مشکل کام نہیں۔
    جس کی مثال نواز شریف کا 50روپے کے اسٹامپ پر ملک سے فرار ہے۔
    کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے والے ججز نے کبھی سوچا ہے کہ جس بیمارکی زندگی کی گارنٹی وہ عمران خان سے مانگ رہے تھے،اس نے وہاں جا کے علاج کے بجاۓ پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔وہ یا توجاگنگ کرتا ہے یا پاکستان کے دشمنوں سے ملاقاتیں۔
    بات یہاں تک بھی نہیں رُکتی کہ یہ خاندان اقتدار سے دوری کا بدلہ پاکستان سے لے رہا ہے،یہ خاندان تو اتنا احسان فراموش ،کم ظرف اور بے فیض ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوۓ بھی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا تھا
    کون بھول سکتا ہے ان کی وہ سازشیں جو یہ اقتدار میں موجود رہتے ہوۓ اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کرتے تھے۔ڈان لیکس جیسے متعدد واقعات ہیں ،جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی فوج کے بھارت سے زیادہ مخالف تھے اور ہیں-
    ان کے کرتوت کئی دفعہ سامنےآۓ،مگر انہیں کچھ نہ کہا گیا
    پرویز رشید اور مشاہداللہ مرحوم جیسے غلامان کو قربانی کا بکرہ بنا کے انہیں پھر معاف کر دیا گیا
    یہ کہتے ہوۓ ہوۓ کہ چلو خیر ہے ، یہ بچی ہے
    اب وہی بچی ایک بار پھرملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔
    چلیں خیر جانے دیں،اُس کا زکر ہی کیا
    وہ تو بچی ہے ! #

    تحریر سید لعل بُخاری
    @lalbukhari

  • بزرگ

    بزرگ

    بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے

    ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا

    ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا

    ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
    کہتے
    ” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”

    بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
    جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔

    اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
    زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیں

    شائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
    چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
    کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
    شعر ہے کہ
    اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
    ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے

    @Talha0fficial1

  • تتہ پانی اور گلگت بلتستان کے مسافر  تحریر ۔سیف الرحمن افق ایڈووکيٹ

    تتہ پانی اور گلگت بلتستان کے مسافر تحریر ۔سیف الرحمن افق ایڈووکيٹ

    شاہراہ قراقرم جسے شاہراہ ریشم بھی کہا جاتا ہے اسی روٹ کو اب مزید جدت لا کے سی پیک قرار دیا گیا ہے اور چین کے ساتھ مکمل زمینی تجارت کا انحصار اس شاہراہ پر ہے جس سے مملکت خداداد پاکستان میں معاشی انقلاب برپا ہوگا گلگت بلتستان کے عوام کے لیے یہ شاہراہ لاٸف لاٸن کی حیثیت رکھتی ہے گلگت بلتستان کے عوام کا مکمل انحصار ملک کے باقی حصوں سے زمینی رابطے و تجارت کے لیے اسی روٹ پر منحصر ہےاگرچہ گلگت بلتستان کے لیے متبادل راستوں پر شاہراہیں تعمیر کرنے کےلیے مقتدر حلقوں میں غور ہورہا ہے اور مسقبل میں اس خطے کو تین متبادل راستوں کے زریعے ملک کے باقی حصوں سے منسلک کیا جاۓ گا جن میں سر فہرست گلگت چترال روٹ ، شونٹر پاس کے زریعے آزاد کشمیر شاہراہ اور بابوسر پاس تا کاغان ناران شاہراہ کو آل ویدر بنانا شامل ہے لیکن سردست گلگت بلتستان کے عوام ملک کے باقی حصوں سے آمدورفت، تجارت اور دیگر معاملات کے لیےمکمل اس روٹ پر انحصار کرتے ہیں شاہراہ قراقرم کو سنگلاخ چٹانوں کے دامن کو چیر کر تعمیر کیاگیا ہے اسی وجہ سے اس شاہراہ کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے اس شاہراہ کا زیادہ تر حصہ سنگلاخ پہاڑوں اور خشک پہاڑی سلسلوں سے ہوکر گزرتا ہے برساتی موسم میں لینڈ سلاٸڈنگ ،مٹی کے تودے اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے روڈ کی بندش کی وجہ سے مسافر اور خطے کے باسی شدید مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں عام مسافر ،سیاح اور تجارتی سرگرمياں مفلوج ہوکر رہ جاتی ہیں اگرخدانخواستہ یہ بندش طویل ہوجاٸے تو ان علاقوں میں بنیادی اشیاٸے ضروریہ کا بحران سر اٹھانے لگتا ہے شاہراہ قراقرم پر چلاس شہر سے تقریبا پچاس ساٹھ کلو میٹر آگے تتہ پانی کے مقام (اس مقام پر گرم پانی کے چشمے ہیں )پر شاہراہ قراقرم کا تقر یبا دو کلوميٹر کاحصہ عرصہ دراز سے اس خطے کے باسیوں کے لیے درد سر اور موت کا کنواں بنا ہوا ہے اب تک اس سیکشن میں لینڈ سلاٸیڈنگ کیوجہ سے سینکڑوں حادثات رونما ہوئے ہیں اور درجنوں قیمتی جانیں اس بیانک سیکشن کی نذر ہوچکی ہیں معمولی بارشوں میں بھی اس سیکشن کا بلاک ہونا معمول ہے حالیہ بارشوں میں بھی اس سیکشن پر حادثات رونما ہوے اور دو قیمتی جانیں لینڈ سلاٸیڈنگ کے باعث چلی گٸی اور یہ سیکشن آمدورفت کے لیے بلاک رہا جس سے ہزاروں مسافر عید کے ایام میں پھنسے رہے اور اب بھی اس سیکشن کی بحالی کے لیے کام جاری ہے گلگت بلتستان کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اس سیکشن کے متبادل دریا کے دوسری جانب شاہراہ منتقل کی جاۓ تو حادثات اور روڈ بلاک کے مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے اور اس سیکشن کے مرمت اور بحالی پر اٹھنے والے آٸے روز کے اخراجات بھی بچاٸے جاسکتے ہیں دریا کے دوسری جانب جانب جگہ مناسب اور پہاڑ سخت ہیں جبکہ تتہ پانی والا سیکشن گرم چشموں کے بدولت نرم مٹی والے پہاڑی ٹیلوں پر مبنی ہےجو ہمہ وقت خطرے کی علامت بنے رہتے ہیں گلگت بلتستان کے سایسی سماجی اور عام عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ اس سیکش کے متبادل کے طور پر دریا کے دوسری جانب شاہراہ تعمير کرکے یہ سیکشن دوسری جانب منتقل کیاجاٸے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسافروں کی پریشانی بھی کم ہوسکے۔۔۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle…….@Srufaq

  • اسلام اور جدید سائنس تحریر :صفدر حسین

    اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں اپنی قدرت کی بے شمار نشانیاں پیدا کی ہیں۔ قرآن اس دنیا کے انسانوں کے لئے مکمل ظابطہ حیات ہے۔قرآن مجید کے صحیح معنوں کو سمجنے کیلئے ہمیں قرآنی آیات میں موجود سائنسی حقائق پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل کی اس میں بنی نوع انسان کو علم حاصل کرنے اور آفاق اور زمین کی گہرائیوں میں غور کرنے کا حکم دیا۔اسلام کے احکامات پر عمل کر کے دنیا کی وہ قوم جس پر کوئی بھی حکمران حکومت نہیں کرنا چاہتا تھا اس نے صرف ایک صدی کے اندر دنیا بھر کی امامت کی اور یونانیوں کے لا حاصل فلسفے کو ختم کرتے ہوئے فطری علوم کی تجربے کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے انسانی علم نے عظیم کروٹ لی اور جس کاپھل موجودہ صدی نےپایا ۔
    ممکن کو حقیقت کا روپ اس وقت ملتا ہے جب صدی کروٹ بدلتی ہے موجودہ نسل نے جو منزلیں عبور کی ہیں اس کی پچھلی صدی نے خواہش بھی نہیں کی تھی۔سانس کی اس قدر تیزی نے اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کو انسان کے سامنے لا کھڑا کیا یے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسان کے ذہین میں علم کی موجودہ عروج کے بارے میں ادنی سا تصور بھی نہیں تھا ۔وہ اپنی جہالت کو عظمت کی علامت سمجتا تھا جس کو اسلام کی آفاقی تعلیمات نے ختم کیا اور فطری ضوابط کو بےنقاب کیا جس پر دور حاضر کا سائنسی ذہین بھی محو حیرت ہے۔
    مسلمان سائنسدانوں نے جس سائنسی علم کی بنیاد رکھ اس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے جس کو موجودہ دور میں استمعال کرتے ہوئے بے شمار فوائد حاصل کیے ہیں ۔مسلمان جب تک علم حاصل کرتےاور اس پر عمل کرتے ریے وہ دنیا میں امام و مقتدر ریے اور جیسے ہی اس علم سے دوری اختیار کی ہم آسمان سے زمین پر آگرے اور حالت ہہ ہے کہ ہمارے اسلاف کا علمی ورثہ جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھے ہوئے تھا غیروں کا اوڑھنا بچھونا ہے اور ہم ان سے علمی،ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں بھیک مانگتے ھوئے نظر آتے ہیں ۔
    بیسویں صدی میں مسلمانوں نے سیاسی آزادی حاصل کی اور علمی میدان میں بھی مثبت تبدیلی کے آثار نمودار ہوئے مگر مسلمان حکمرانوں نے آزادی کے اثرات کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا اور ان کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا ۔مسلمان ممالک دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ہیں اور دنیا کی اکانومی کا اس پر انحصار ہے جس سے مسلمانوں کی معاشی زندگی بہتر ہوتی اور عالمی سطح پر سیاسی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی تھی لیکن وہ اپنی عیاشی میں مصروف رہے اور امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا .
    دور حاضر کے مسلم نوجوان کے ایمان کو سنبھالا دینے کی واحد صورت یہ ہے کہ اسے اسلامی تعلیمات کی عقلی و سائنسی تفسیر و تفہیم سے آگاہ کرتے ہوئے سائنسی دلائل کے ساتھ مستحکم کیا جائے۔ قومی سطح پر چھائے ہوئے احساس کمتری کے خاتمے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو مسلمان سائنسدانوں کے کارناموں سے شناسا کیا جائے تا کہ اس کی سوچ کو مثبت راستہ ملے اور وہ جدید سائنسی علوم کو اپنی متاع سمجھتے ہوئے اپنے اسلاف کی پیروی میں علمی و سائنسی روش اپنا کر علمی بنیادوں کے ساتھ احیائے اسلام کا فریضہ سرانجام دے سکے۔
    یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ سائنسی علوم جانتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی تعلیمات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مستشرقین کی طرف سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے ٹھوس عقلی و سائنسی بنیادوں پر جواب کے لئے جدید علم کلام کو باقاعدہ فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف مغربی افکار کی یلغار کی وجہ سے مسلم نوجوانوں میں اپنے عقائد و نظریات کے بارے میں جنم لینے والے شکوک و شبہات سے نجات ملے گی بلکہ غیر مسلم اقوام پر بھی اسلام کی حقانیت عیاں ہو گی۔

    @itx_safder

  • افضل کون تحریر : بابر شہزاد

    انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت انسان روز ازل سے ہی اس بات پر بضد ہے کہ میں تم سے افضل ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے 2 بیٹے تھے جن کا نام ہابیل اور قابیل تھا اور ان دونوں میں بھی یہی جھگڑا تھا کہ میں دوسرے سے افضل ہوں اور نتیجتاً دونوں میں سے ایک کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    اب زرا اس بھی پیچھے چلے جاتے ہیں کہ یہ صفت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے کہ ابلیس اس وقت کا سب سے معتبر فرشتہ تھا اور جب اللہ کریم نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تو سبھی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کو سجدہ کیا جائے تو سبھی فرشتوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سجدہ کیا جبکہ ابلیس نے انکار کر دیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنا ہے تو میں کیسے اسے سجدہ کر سکتا ہوں مطلب ابلیس نے بھی خود کو افضل سمجھا اور اسی نشے میں اللہ تعالٰی کی حکم عدولی کر دی اور فرشتے سے شیطان کا لقب حاصل کیا۔
    چاہے کوئی فرشتہ ہو یا انسان جب بھی انسان کے اندر میں آ جائے اور خود پسندی کا شکار ہو جائے تو سمجھ لیں کہ اس کا زوال شروع ہوگیا۔ انسانی تاریخ میں ایک لمبی لائن ہے جنہوں نے خود کو دوسروں سے افضل سمجھا اور دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل اور رسوا ہوئے تو پھر چاہے نمرود ہو یا فرعون، قوم عاد ہو یا قوم سمود یا پھر بنی اسرائیل ہو سبھی خودپسندی کا شکار ہو کر دنیا کے لیے نشان عبرت بنے۔ یزید بھی انہی لوگوں میں سے تھا جس نے معاذاللہ خود کو نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام سے افضل سمجھا اور تا ابد اپنے لیے لعنتوں کا سامان کیا۔
    بحیثیت انسان ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری اتنی اوقات ہے کہ رات کو جب ہم سو جائیں تو ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھنا بھی ہے کہ نہیں۔ انسان کا اختیار تو یہ بھی نہیں کہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں تو ہمارے اندر مغروری کس بات کی ہے؟
    ہمیں چاہیے کہ اس ذات کی نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہوئے ہر وقت عاجز رہیں کہ اللہ پاک کو عاجزی بہت پسند ہے اور سب سے افضل ذات بھی وہی ذات مقدسہ ہے جس نے دونوں جہانوں کی ہر چیز کو تخلیق کیا اور وہی سبھی کو فنا کرنے والا ہے اور پھر روز محشر دوبارہ زندہ بھی وہی ذات کرے گی۔
    Twitter handle : @babarshahzad32

    03334043316

  • دین اسلام کیا ہے    تحریر:    ارشاد حسین

    دین اسلام کیا ہے تحریر: ارشاد حسین

    اسلام کا مطلب اطاعت ہے کسی اور کے آگے جھکنے کی بجائے نفس سے بالاتر ہو کے اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر زندگی گزارنا ہے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما تسلیم کرنا ہے اسلام وہ واحد دین ہے جو دیگر تمام ادیان کا احاطہ کرتا ہے رب کریم کا قرآن میں ارشاد ہے دین تو صرف اسلام ہے سورہ المائدہ آیت نمبر (3)میں رب کریم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے دین کو ہم نے مکمل کر لیا ہے نعمتوں کو تمام کردیا اور تمہارے لئے تمام ادیان دین اسلام کو منتخب کیا ہے جس رب نے ہم سب کو اس دین کا پیروکار بنایا اس رب کریم کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے ایک اچھا مسلمان بننے کے لئے ہم سب کو صاحب اعتبار بننا ہوگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان پہ امین ہونے کا یقین ہو لوگوں کو۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال قائم کی وہ مبارک ہستی اس قدر لائق اعتبار تھی کہ مشرکین بھی اپنی امانتیں ان کے پاس رکھوایا کرتے تھے ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ ہجرت پر نکلے تو لوگوں کی بیش قیمت امانتیں ان کے پاس تھی وہ بیش قیمتی امانتیں کس کی تھی جانتے ہو ان کی جان کے دشمن مشرکین کی ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت پر روانہ ہونے سے پہلے وہ امانتیں باحفاظت لوگوں تک پہنچانے کے لئے حضرت علی کے سپرد کر دیں سوچو اس معاشرے کے بارے میں جو ان کی جان کے دشمن تھے لیکن وہ اپنی قیمتی چیزیں امانتن ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھوایا کرتے تھے اب یہ بات تو طے ہے کہ صاحب اعتبار ہونا ضروری ہے عظیم حکمت پوشیدہ ہے اس میں ہمیں ہمیشہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے اپنی بساط کے مطابق اپنے پیغمبر کی طرح عمل کرنا چاہیے ہمارے پیغمبر کی زندگی انسانیت کے لئے مثال ہے اگر ہم نے نیک نیتی سے اس عمل کو انجام دینے کی کوشش کریں تو اللہ بھی ہماری مدد کرتا ہے ہم مسلمان بہت خوش قسمت ہیں اس مبارک ہستی کی امت میں شامل ہوئے اللہ پاک ہم سب کو کوشش کرنے والوں میں قرار دے آمین

    @ir_Pti
    twitter.com/ir_Pti

  • دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    ﷲ سبحانہ و تعالی کا روحِ عرض پر ایک اصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم اس (ﷲ)کے دئیے ہوئے مہم/راستے پر نہیں چلی اس(ﷲ) نے اس قوم کو تباہ کر دیا یا اس سے اپنی رحمت کے سائے اُٹھا لیے اور ان کو کھلی چھُوٹ دے دی گئی کہ جو کرنا ہے کرو ایک دن میری ہی طرف پلٹ کر آؤ گے۔ چھ سو سال حکومت کی عربوں نے اور بلاآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پھر رحمت کے سائے ترکوں کے حصے میں آئے پھر برصغیر پر پڑے اور ستائیسویں رات یعنی شبِ قدر کو پاکستان ایک تحفہ کی صورت میں نازل ہوا۔ دنیا میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چلی، کوئی عرب قومیت پر، کوئی نسل اور رنگ پر لیکن تحریک پاکستان وہ واحد تحریک تھی جو اسلام کے نام پر چلی کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ یہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بنا، آج اسی میں رہنے والے مسلمان صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اس ملک کو ﷲ سبحانہ و تعالی نے خاص مقصد کے کیے ہمیں تحفہ میں دیا لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملنے والے ملک میں ہر جگہ دوہرا میعار پایا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والا ہر شخص اپنے چند ٹکے کے فائدہ کے لیے اسلام مذہب، دین، ایمان، قانون اور ریاست کا نقصان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہاں ایک گلی محلے سے لے کر گاؤں شہر اور پھر صوبوں میں بھی نسلی تناسب عام ہے اسلام تو دور انسانیت کی بھی قدر نہیں۔ آج کل ہر جگہ سیاست چل رہی ہے وہ گھر ہو یا رشتہ دار، گاؤں ہو یا شہر، صوبہ ہو یا ملک۔ یہاں ایک پڑھے لکھے انسان کو ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ملازمت حاصل کرنے کے لیے لیکن ایک ان پڑھ جاہل چور ڈاکو وزیراعظم تک بن جاتا ہے۔ ہر ایک بندہ خود کو ایک اسلامی مذہبی مان کرکے دوسروں کو کافر یہودی ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ عوام ایک پڑھے لکھے یا مذہبی بندے کو ووٹ نہیں دیتی اور چور ڈاکو ، کرپشن سے بھرپور کو وزیر تک بنا دیتی ہے۔ ایک وقت کی روٹی چرانے والے کو مار مار لہولہان کر دیتی ہے اور اربوں چوری کرنے والوں کے نام کے نعرے لگتے ہیں۔ کسی محکمے میں ایک ایماندار آفیسر آنے سے سارے کرپٹ آفسران اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا حق تو دور کی بات ہے اپنے ہی گھر کے افراد اور رشتہ داروں کا حق کھانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہر چیز میں ملاوٹ کرنے کی عادت کو دن بدن بڑھاتے ہیں اور الزام اپنے ہی چُنے ہوئے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ اپنی پسند کی چیزیں اقتدار مل جائے تو ٹھیک ورنہ اسلام کیا ریاست کیا ہر ایک کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے والے ملک ہونے کے ساتھ ہم بےایمانی میں سب سے اُوپر ہیں۔ اس میں کسی کافر، یہودی اور عیسائیوں کا عمل دخل نہیں بلکہ اپنا ہی دوہرا میعار ہے جو ہم کو ہمارے کردار اور عادات پر پردہ ڈال کر صرف دوسروں کی خامیوں کو دیکھنے اور پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج کل پاکستان میں رہنے والے پاکستانی اور مسلمان کم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان زیادہ نظر آتے ہیں۔ بشتر افراد سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کسی بھی ملک و ریاست کی سلامتی، امن و امان میں کلیدی کردار صحافت اور میڈیا کا ہوتا ہے جب کہ آج کل میڈیا بھی سیاست زد میں آیا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ سب ہی ایک طرح کے ہیں بہت سے صحافی آج بھی دن رات محنت کرکے ریاست، اسلام اور عوام کے مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب عوام کو سوچنا کہ ہمیں خود کو ٹھیک کر کے ایک اچھے مسلمان اور پاکستانی بننا ہے تاکہ ہم سے جو ﷲ نے بحثیت قوم کام لینا ہے وہ بھی کر سکیں اور دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے آخرت بھی سنور سکے۔ @SajjadHQamar

  • آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر:  فائزہ خان

    آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر: فائزہ خان

    آزاد کشمیر کے کل کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ بظاہر میک اپ شدہ ڈمی کو لوگ دیکھنے تو آ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ اسی کو دیں گے جن کی زبانوں سے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں۔ جن کے وعدوں پر انہیں یقین ہے۔ جن کی بیانیہ مضبوط ہیں
    کشمیری جو اپنے فوجی جوانوں پر جان دیتے ہیں انہوں نے نون لیگ کا بنیادی بیانیہ ہی مسترد کر دیا۔ اداروں کے خلاف زبان چلانے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے نون لیگ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    کشمیریوں نے بدلے کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا
    علی امین گنڈا پور کے صرف اتنا کہنا کہ مریم نے سرکاری خرچہ سے پلاسٹک سرجری کرائی انہیں کشمیر سے دیس نکالا دے دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نون لیگ کی حکومت تھی تو سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بدلے کی سیاست کا کھیل کھیلا گیا مگر کیا فائدہ ہوا کشمیریوں نے ان کا یہ کھیل بھی مسترد کر دیا
    جبکہ بلاول کو این الیکشن کی کمپین کے دوران امریکہ جانا زیادہ ضروری لگا صرف امریکہ کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کرتے ہمیں استعمال کرو ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں ایک ایسے وقت میں امریکہ جانا بھی مہنگا پڑا۔ اور آصفہ بھٹو نے پیچھے سے دو ناکام جلسیاں کرکے ان کے الیکشن میں جیتنے کی ہر امید پر پانی پھیر دیا مریم اور بلاول نے اپنی پارٹیوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کشمیر میں الیکشن صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں جیتا گیا بلکہ مریم اور بلاول کی پچگانہ حرکتوں نے بھی پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ دی اور جیتنے میں مدد فراہم کی
    اس بار آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران بہت گہما گہمی نظر آئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے اسی سلسلے میں بہت سے بیانات بہت سخت بھی دے دیے گئے تھے تینوں بڑی پارٹیوں نے ان انتخابات میں گہری دلچسپی بھی لی اور آخری وقت تک اپنے آپ کو ہی فاتح قرار دیتے رہے مگر نتائج وہی برآمد ہوئے جو عمران خان کے جلسے میں آنے والی عوام سے ظاہر تھے دیکھا جائے تو مریم کے جلسے میں بھی عوام کم نہ تھے مگر نتائج نے ثابت کیا کہ عوام بس سجی سجآئی ڈمی کو دیکھنے آتے تھے ورنہ وہ عمران خان کے بیانیہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاص مماثلت رکھتی ہے
    اس سے پہلے کی حکمران جماعتیں کشمیر کے عوام کو الگ حیثیت دینے کو تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کہہ کر کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنی علیحدہ حیثیت رکھنا چاہتے ہیں کشمیریوں کا دل جیت لیا اب دعا یہ ہے کہ عمران کشمیر کی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز کس طرح ان کے اس مشن کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں

    @_Faizakhann

  • مسیحا یا مافیہ  تحریر:  توقیر عالم

    مسیحا یا مافیہ تحریر: توقیر عالم

    کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک ڈاکٹر کو مسیحا سمجھا جاتا بے شک ڈاکٹر بننے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے
    بہت محنت اور قسمت کے ساتھ کسی میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا ہے بھاری فیس اور بہت ساری محنت کے بعد فارغ التحصل ڈاکٹر کو ہاوس جاب کرنی پڑتی ہے اس کے بعد وہ عملی میدان میں قدم رکھتا ہے والدین کی عمر بھر کی کمائی تعلیم پر لگ چکی ھوتی ہے ترقی اور بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں سجائے یہ ڈاکٹر دن رات مریضوں کی جان بچانے میں لگے رہتے ہیں موجودہ دور میں کرونا جیسی وباء میں ڈاکٹرز نے جس محنت اور جانفشانی سے اپنی ڈیوڈی سرانجام دی وہ قابل ستائش ہے اس عمل میں سینکڑوں ڈاکٹرز نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے بے شک ڈاکٹرز بھی افواج کی طرح اپنی قوم کو بیماریوں سے بچانے کے لیے دن رات محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں میں ایسے کئی ڈاکٹرز کو جانتا ھوں جو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار بنا کسی لالچ کے مفت علاج کرتے ہیں اور باقاعدہ مختلف شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں میں اپنے کیمپ لگاتے ہیں جہاں پر غریب اور نادار افراد کا مفت علاج کیا جاتا ہے اس بات میں کوی شک نہیں کہ دریا دلی اور انسانیت سے محبت پاکستانی قوم کے خون میں شامل ہے جس کی زندہ مثالیں ایدھی فاونڈیشن شوکت خانم ہسپتال اور ایسے بہت سے ادارے ہیں جو فقط عوام کے تعاون سے لاکھوں غریب لوگوں کو مستفید کر رہے ہیں
    جہاں ایسے لوگ موجود ہیں وہیں دو نمبری اور بے ایمانی میں بھی ہماری قوم کچھ کم نہیں دولت کے لالچ میں ہم ہر غلط کام کر جاتے ہیں اس کام میں ہمارے ڈاکٹرز بھی کم نہیں سرکاری ڈکٹرز کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ مریض کو جلد سے جلد لاھور لیجانے کا کہہ دیا جاتا ھے
    ادویات بنانے والی کپمنیاں رشوت کے طور پر ڈاکٹرز کو لاکھوں روپے کے تحائف اور مختلف ممالک کے دورے کرواتے ہیں تاکہ ڈاکٹرز مریض کو ان کی مہنگی ادویات تجویز کریں جو کہ اس مقدس پیشے سے بے ایمانی کے متراف ھے پرائیویٹ ہسپتالوں میں مختلف ٹیسٹ مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر کئیے جاتے ہیں جس سے کا بوجھ مریض کے لواحقین کو اٹھانا پڑتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو توجہ نہیں دی جاتی بلکہ ان کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی راہ دکھائی جاتی ہے جہاں انہی سرکاری ڈاکٹرز کو بھاری فیسں ادا کرنے کے بعد علاج کیا جاتا ہے پرائیویٹ ہسپتال بھی ہوٹلوں کی طرز پر فیس لیتے ہیں جتنی اچھی کسی ہسپتال کی عمارت اور اندر خوبصورتی ھو گی اتنی زیادہ ڈاکٹر کی فیس ھو گی ہمارے ہاں ایک کہاوت ھے خدا دشمن کو بھی وکیل اور ڈاکٹرز سے بچائے کیونکہ ان کے پاس جانے کے بعد آپ کی جمع پونجی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے آئے روز ڈاکٹرز کی ہڑتال سے مریض خوار ھو جاتے ہیں ڈاکٹرز بھی اب ایک مافیہ کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو جب چاہیں حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے کام چھوڑ کر احتجاج کرنا شروع کر دیتے ہیں اپنے کمیشن کے چکر میں حاملہ خواتین کے آپریشن کرنا بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی بجائے انفینٹ فارمولے کی تجویز اور غریب مریضوں کو مہنگی ادویات تجویز کرنا ڈاکٹرز کا معمول ہے ڈاکٹرز کو اس سب کے بدلے میں ادوئیات بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے تحائف کے نام پر اچھی خاصی رشوت دی جاتی یے
    حکومت کو چاھیے انفینٹی فارمولے کی تشہیر پر پابندی لگائی جائے ڈاکٹرز کو نسخہ لکھتے ھوے برینڈ کی بجاے فارمولہ لکھنے کا پابند کیا جائے اور بلاوجہ آپریشن کرنے والے اور مریضوں کو ہسپتالوں میں ریفر کر کے کمیشن کھانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے
    ڈاکٹرز بھی اپنا احتساب کریں اور اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں تاکہ اس مقدس پیشے کو بدنام ھونے سے بچایا جا سکے

    اللہ ہم سب کو انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے آمین

    @Lovepakistan000