عید سے دو روز قبل شام کو قربانی کےجانور دیکھنے فتح پور کے قریب کے دیہات میں جانا ہوا۔ وہیں ایک چک میں ہماری ملاقات محمداسماعیل سے ہوئی جو چھوٹے سے زمیندار ہیں۔ہم نے پوچھا کہ کتنی زمین ہے۔ کہنے لگے تیرہ ایکٹر تھی مگر اب صرف چار ایکٹر رہ گئی ہے، باقی نو ایکٹر ایک جھوٹے مقدمے پر لگ گئی ہے۔
مزید تفصیلات پوچھیں تو بتانے لگے کہ آج سے دس بارہ سال قبل کسی سے زمین کے ایک حصے کا سودا کیا۔ انھوں نے کچھ پیسے بیعانے کے طور پر دیے اور ایک پرونوٹ پر دستخط کروائے کہ اتنی رقم وصول کی ہے، اور پرونوٹ پر اصل رقم کی بجائے پندرہ لاکھ لکھوا لیا۔ محمد اسماعیل ایک ان پڑھ شخص تھا، لینے والے بھی قریبی تھے اس لیے بغیر کسی سے تصدیق کروائے، انگوٹھے لگا دیے۔
مخالف پارٹی نے کچھ دن کے بعد سودا کینسل کر دیا اور کہا کہ ہماری رقم واپس کر دیں۔ اسماعیل نے جتنے پیسے لیے تھے وہ واپس کیے تو انھوں نے کہا کہ یہ ہماری رقم نہیں بلکہ ہمیں پندرہ لاکھ دیں جو آپ نے لیے ہیں۔ گواہ بھی موجود تھے کہ اصل کتنی رقم دی گئی تھی۔
مخالف پارٹی نےاس دھوکے بازی کو قانونی رنگ دے کر کیس کر دیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ میں کئی سال مقدمہ چلا اور فیصلہ محمد اسماعیل کے حق میں ہو گیا۔ مخالف پارٹی نے اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ ہائی کورٹ میں کئی سال پھر مقدمہ چلا اور پھر سے محمد اسماعیل کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔ اب تک محمد اسماعیل مقدمے کی فیس اور آنے جانے کے خرچ پر نو ایکٹر لگا چکا تھا۔ مخالف پارٹی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ محمد اسماعیل نے سپریم کورٹ کے وکیل کی فیس کا پتہ کیا تو اس نے دو لاکھ مانگے۔
محمد اسماعیل یہاں کے وڈیرے پیروں کے پاس گیا، منت ترلا کیا کہ اب چار ایکٹر بچ گئے ہیں یہ بھی چلے جانے ہیں، جو دو لاکھ ادھر دینے ہیں وہی آپ لے لیں اور یہ صلح کر وا دیں۔ پیروں کو محمد اسماعیل پر رحم آگیا اور دو لاکھ دے کر محمد اسماعیل کی جان چھوٹ گئی۔
دس بارہ سال عدالتوں کے دھکے کھانے، نو ایکٹر اور دو لاکھ گنوانے کے باوجود بھی محمد اسماعیل کو انصاف نہ مل سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہے ہمارا نظام انصاف۔ یہ انصاف کا سسٹم ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس پورے سسٹم کو ہی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی خرابی وکلاء ہیں جو بنے تو اس لیے تھے کہ اس نظام کو سہارا دیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی وکلاء اس نظام کو سب سے زیادہ خراب کر رہے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں اطراف کے وکیل عدالت کے باہر مل کر خوش گپیاں لگاتے ہیں اور طے کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح بس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہونے دینا۔
نظام انصاف کی دو خصوصیات لازمی ہیں، پہلی یہ کہ فوری ہو اور دوسری یہ کہ فری ہو۔ مگر یہ نظام ایسا ہے کہ بندے کو کنگال کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور وقت اتنا لگتا کہ نسلیں انصاف کی امید میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جب ایک عدالت سے فیصلہ ہو گیا تو پھر کسی بھی دوسری عدالت میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟
اور اگر ضلعی عدالت میں انصاف نہیں ہوتا تو پھر سارے مقدمے سپریم کورٹ میں ہی سن لیے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے گھر چوری ہوئی ، پولیس نے چور پکڑ لیے، سامان برآمد کروا لیا۔ اب کیس عدالت میں پیش ہوا۔ سیدھا سا کیس ہے جس میں چور پکڑے بھی چا چکے اور سامان بھی برآمد ہوا، سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگز اور فارنزک رپورٹ کے علاوہ چوروں کا اقرار جرم بھی موجود۔ اب ایسے مقدمے میں وکیل کی کیا ضرورت مگر وکیل کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ دو تین وکیل تبدیل کیے مگر جس کو بھی کیا کسی ایک نے بھی مجھ سے وقوعہ کی تفصیلات تک نہیں پونچھیں۔ میں نے بتانے کی کوشش کی تو بھی نہیں سنی، عدالت میں خود پیش ہوا تو چھ دفعہ جج نے سوائے نئی تاریخ کے کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد اتنے ثبوتوں کے باوجود تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے۔ اس دوران اس نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش کے کوئی اس نظام کوبدلنے کی کوشش کرے تاکہ میرے ملک میں ناانصافی ختم ہو، لاقانونیت کا خاتمہ ہو جائے اور دھوکے دینے والوں کو سخت سے سخت سزاملے اور جھوٹے مقدموں میں پھنسانے والوں کو کڑی سزائیں ملیں۔ یہ انقلاب صرف تب آ سکتا ہے جب وہ لوگ سنجیدہ کوشش کریں جو اسی نظام کا حصہ ہیں۔
@joinwsharif7
Author: Baaghi TV
-

یہ نظام بدلنا چاہیے تحریر: محمد وقاص شریف
-

خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے تحریر: ذیشان علی
ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. جب ہم یہ نام لیتے ہیں تو بڑا فخر محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے،اس لیے جب ہمارے ملک کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہے تو ہمیں مسرت ہوتی ہے،
لیکن کیا ہم اپنے ملک کے نام کے ساتھ جڑے اسلام جو کہ ہمارا مذہب بھی ہے کا پاس ہے،؟
ہمیں اس کی قدر ہے؟ اس کا ادب و احترام اور اسے باوقار بنانے کی کیا ہم سمجھ رکھتے ہیں،
کیوں ہمارے معاشرے کے افراد ملک اور اپنے وقار کو بد نام کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں اور ایسے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں جو ناقابل معافی ہے،
عورت کی عزت اور ناموس کا محافظ مرد ہے، لیکن انتہائی شرم کا مقام ہے ہمارے معاشرے کے ان افراد کے لیے جو عورتوں پر ظلم اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں،
ہمیں تو انصاف پسند ہونا چاہیے ہمارا دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ تو کیا تم لوگ دین سے پھر گئے ہو جو اس کے منع کرنے کے باوجود اس ظلم اور گناہ کو جاری رکھے ہوئے ہو،
آج کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ ظلم کرو گے تو وہ ظلم تمہیں لوٹایا جائے گا، کیا تمہیں اس کی خبر نہیں یا اس کا کوئی خوف نہیں،؟
تم باز نہیں آتے تو پھر تمہیں ٹھیک کرنے کے ہماری ریاست ہے اور اس کا قانون ہے،
ہم مل کر آواز بلند کریں گے اور تم لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گئیں، ہم قانون سے تم لوگوں کی ایسی کی تیسی کروائیں گے کہ تم لوگ یاد رکھو گے بلکہ تم لوگوں کی نسلیں بھی یہ سب یاد رکھیں گی،
قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور عوام کے محافظوں سے ہماری منہ زور اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں،
ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی اللہ حفاظت کرے اور میری تمام ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اسلامی اقدار کو اپنائیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عمل پیرا ہوں۔
اللہ اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کی مدد کرتا ہے بےشک اس کا وعدہ ہے وہ اپنے بندوں کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑتا،
جن خواتین پر ظلم ہوتا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے وہ اس گناہ سے مبرا ہیں اور کچھ شک نہیں کہ پروردگار انہیں بخش دے گا وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے،
ظلم کو روکنا ریاست اور معاشرہ کے ذمہ داری ہے اپنی خواتین کی حفاظت کریں اور دوسروں کی ماں بہن بیٹی کو اپنی ماں بہن بیٹی جیسا سمجھیں یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے،
عورت کوئی کھیل کا سامان نہیں ہے کہ جب دل چاہا اس سے کھیلا اور جب دل بھرا اسے پھینک دیا،
اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو ایسا کرنے والوں پر ہر گز ہر گز تمہیں اس ظلم کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں دینا پڑے گا،
معاشرے کو گندا اور تباہ و برباد مت کرو کہ اس سے خود بھی رسوا ہو گے اور اپنے خاندان والوں کو بھی رسوا کرو گے،
اسلامی اقدار کو فروغ دو پانچ وقت کی نماز ادا کرو شیطانی وسوسوں سے دور رہو اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈروتے رہوں،
اللہ بے ہدایت لوگوں کو ہدایت دے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں لکھی انہیں غرق کر یہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں سو ہمارے معاشرے کو ان ناسوروں سے پاک کر دے،@zsh_ali
-

اسلام اور جانوروں کے حقوق تحریر: محمد اختر
تمام جاندار – انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔
قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔
حدیث اورجانوروں کی حقوق
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔
نوٹ:
آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔@MAkhter_
-

کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار نام: محمد عمران خان
وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے جیت گئی۔
مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بیان دیا کہ "کشمیری غلامانہ سوچ رکھتے ہیں اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔”
کشمیریوں کو دی گئی اس شرمناک گالی سے قطع نظر اس نے تسلیم کر لیا کہ دھاندلی نہیں ہوئی ہے اور عمران خان کشمیریوں کے ووٹ سے ہی یہ الیکشن جیتے ہیں ۔”
پورے پانچ سال میں کشمیر کا وزیراعظم رہتے ہوئے جس بندے نے کشمیریوں کے حق پہ ڈاکا ڈالا، ان کے فنڈز ہڑپ کر گیا، کشمیر میں پانچ سالوں میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا، کشمیری عوام کو ہمیشہ مایوس کیا، جب کشمیریوں نے اس مایوسی کا بدلہ لیا تو راجا فاروق حیدر نے نہایت ہی شرمناک شکست کھانے کے بعد کشمیریوں کو ہی الٹا گالیاں دینا شروع کر دیں جو کہ نا صرف کشمیریوں بلکہ پورے پاکستان کیلئے انہتائی افسوسناک بات ہے۔ تم کس قسم کے وزیراعظم ہو کہ اپنے ہی عوام کو غلام ذہن سوچ رکھنے والا کہہ رہے ہو؟ کیا تمہیں ان کی قربانیاں یاد نہیں آئیں؟ کیا کئ سالوں سے کشمیریوں کا حق کھانے کے بعد تمہیں الٹا وہی کشمیری غلام لگنے لگے؟ قابل مذمت بیان دیا ہے راجا فاروق حیدر نے، جس پر کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا ، کوئی بھی نہیں کیونکہ قوم سب سمجھتی ہے ۔
کشمیر انتخاب میں اینٹی انڈیا اور پرو انڈیا بیانیہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جب بھی جلسہ کیا تو اپنی ذاتی گاڑیاں بھر بھر کے جلسہ گاہ کو سجایا گیا، یا وہاں کے لوگ جلسے میں آئے بھی تو مریم نواز صاحبہ کا تماشا دیکھنے آئے، ووٹ دینے کا انکا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا،
اور ووٹ دیتے بھی کیسے؟ جب بھی مریم نواز نے تقریر کی تو ہمیشہ پاکستان کے اداروں کے خلاف بات کی، ہمیشہ ہر جلسے میں پاک فوج کے خلاف بولتی رہیں ۔ اپنے ہر جلسے میں عمران خان نے یہ کر دیا عمران خان نے وہ کر دیا، بس صرف عمران خان عمران خان کرتی رہیں،
کشمیر پہ مظالم انڈیا نے ڈھائے ہوئے ہیں، اور ڈھا رہا ہے ۔
کشمیری عوام کو ہر طرح کی تکلیف نریندر مودی دے رہا ہے اور مریم نواز صاحبہ نے وہاں جا کے مودی کا نام تک نہیں لیا، کیا کشمیری اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ آپ کی مکاری نہیں سمجھ سکے؟
عمران خان جب اپنی ہر تقریر میں انڈیا اور نریندر مودی کو جھاڑ رہا تھا تو مریم نواز اور بلاؤل مودی کا نام تک لینے سے کترا رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ
عمران خان مقبوضہ کشمیر میں مودی کو مظالم کا ذمہ دار ٹہرا رہا تھا تو مریم نواز عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ذمہ دار ٹہراتی رہی۔کشمیری گھاس نہیں کھاتے۔ نا ہی کشمیری ابھی دودھ پیتے بچے ہیں، مریم نواز صاحبہ کی تقریریں سن سن کر کچھ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر طنز کیا کہ "اگر مریم نواز کی تقریروں سے "عمران خان” کا نام
نکال لیا جائے تو وعدہ کرو، آو گے، دو گے اور لوگے وغیرہ ہی رہ جاتا ہے۔”عین مہم کے دوران نواز شریف کی جعلی تصویر فوٹو شاپ کروا کر اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کہ "کشمیر سے رشتہ پرانا ہے ”
پکڑی گئی تو ڈیلیٹ کردی ۔ مگر ڈلیٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نا ہوا، آج کل تیز زمانہ ہے لوگوں نے سکرین شاٹ لے کر ٹویٹ کیے تو مریم صفدر کا جھوٹ فریب نا صرف کشمیر والوں نے دیکھا بلکہ پوری دنیا میں بہت رسوائی ہوئی اور اس جعل سازی پر معذرت بھی نہیں کی۔ جس کا صلہ اسے کشمیر میں بد ترین شکست کی صورت میں مل چکا ہے۔
لہذا عرض ہے نانی یہ اپنا چورن لاہور میں بیچے ،یا پھر سندھ کا رخ کرے۔ کیونکہ یہ جہاں بھی جائے گی رسوائی اس کا مقدر ہو گی، امید ہے کہ اب پاکستان کا ہر ذی شعور یہ بات سمجھ چکا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان ہی پاکستان کے اصل محب وطن لیڈر ہیں جو پاکستان کو اپنے وطن کو سپر پاور بنا کر ہی دم لیں گے ان شاء اللہ!
پاکستان زندہ باد عمران خان پائندہ باد!!@Imran1Khaan
-

ہوس اقتدار اور شریف خاندان تحریر-سید لعل بُخاری
اقتدار تو آنی جانی چیز ہے،اسکی وجہ سے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں اسی ملک کی بدولت ہیں۔
اس مُلک نے جتنا شریف خاندان کو نوازا،ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
فوج نے انہیں گود میں پالا
اسٹیبلش منٹ کی آنکھ کا یہ تارہ رہے
مگر اقتدار چھن جانے کے بعد زخمی بھیڑیے کی طرح یہ ملک پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
اقتدار بھی کسی اور نے نہیں چھینا،بلکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس سے محروم ہونا پڑا
نہ یہ کرپشن میں پکڑے جاتے اور نہ ہی انکی موجیں کبھی ختم ہوتیں
مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا
چور جتنا بھی ہوشیار ہو ایک دن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہچتا ہے۔
یہی کچھ شریفوں کے ساتھ ہوا۔
پانامہ کیس نے انکا بھانڈہ پھوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔اب
کشمیر الیکشن میں شکست انہیں بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی
مریم کی سربراہی میں اس وقت ایک ایسا گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے ملک کے لئے تباہ کُن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں کو لڑانے کے لئے ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو کشمیر اورپاکستان کو خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف سے دھکیل سکتا ہے
مگر ان کی بلا سے،
اگر خاکم بدہن ایسا کچھ ہوا تو ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔
پوارا خاندان پہلے ہی لندن میں قوم کے پیسے پر عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
ضرورت پڑی تو مریم بی بی بھی گلاسی اُٹھاۓ رفو چکر ہو جاۓ گی۔
ان کے لئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لینا بھی کوئ مشکل کام نہیں۔
جس کی مثال نواز شریف کا 50روپے کے اسٹامپ پر ملک سے فرار ہے۔
کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے والے ججز نے کبھی سوچا ہے کہ جس بیمارکی زندگی کی گارنٹی وہ عمران خان سے مانگ رہے تھے،اس نے وہاں جا کے علاج کے بجاۓ پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔وہ یا توجاگنگ کرتا ہے یا پاکستان کے دشمنوں سے ملاقاتیں۔
بات یہاں تک بھی نہیں رُکتی کہ یہ خاندان اقتدار سے دوری کا بدلہ پاکستان سے لے رہا ہے،یہ خاندان تو اتنا احسان فراموش ،کم ظرف اور بے فیض ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوۓ بھی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا تھا
کون بھول سکتا ہے ان کی وہ سازشیں جو یہ اقتدار میں موجود رہتے ہوۓ اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کرتے تھے۔ڈان لیکس جیسے متعدد واقعات ہیں ،جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی فوج کے بھارت سے زیادہ مخالف تھے اور ہیں-
ان کے کرتوت کئی دفعہ سامنےآۓ،مگر انہیں کچھ نہ کہا گیا
پرویز رشید اور مشاہداللہ مرحوم جیسے غلامان کو قربانی کا بکرہ بنا کے انہیں پھر معاف کر دیا گیا
یہ کہتے ہوۓ ہوۓ کہ چلو خیر ہے ، یہ بچی ہے
اب وہی بچی ایک بار پھرملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔
چلیں خیر جانے دیں،اُس کا زکر ہی کیا
وہ تو بچی ہے ! #تحریر سید لعل بُخاری
@lalbukhari -

بزرگ
بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے
ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا
ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا
ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
کہتے
” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیںشائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
شعر ہے کہ
اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے@Talha0fficial1
-

تتہ پانی اور گلگت بلتستان کے مسافر تحریر ۔سیف الرحمن افق ایڈووکيٹ
شاہراہ قراقرم جسے شاہراہ ریشم بھی کہا جاتا ہے اسی روٹ کو اب مزید جدت لا کے سی پیک قرار دیا گیا ہے اور چین کے ساتھ مکمل زمینی تجارت کا انحصار اس شاہراہ پر ہے جس سے مملکت خداداد پاکستان میں معاشی انقلاب برپا ہوگا گلگت بلتستان کے عوام کے لیے یہ شاہراہ لاٸف لاٸن کی حیثیت رکھتی ہے گلگت بلتستان کے عوام کا مکمل انحصار ملک کے باقی حصوں سے زمینی رابطے و تجارت کے لیے اسی روٹ پر منحصر ہےاگرچہ گلگت بلتستان کے لیے متبادل راستوں پر شاہراہیں تعمیر کرنے کےلیے مقتدر حلقوں میں غور ہورہا ہے اور مسقبل میں اس خطے کو تین متبادل راستوں کے زریعے ملک کے باقی حصوں سے منسلک کیا جاۓ گا جن میں سر فہرست گلگت چترال روٹ ، شونٹر پاس کے زریعے آزاد کشمیر شاہراہ اور بابوسر پاس تا کاغان ناران شاہراہ کو آل ویدر بنانا شامل ہے لیکن سردست گلگت بلتستان کے عوام ملک کے باقی حصوں سے آمدورفت، تجارت اور دیگر معاملات کے لیےمکمل اس روٹ پر انحصار کرتے ہیں شاہراہ قراقرم کو سنگلاخ چٹانوں کے دامن کو چیر کر تعمیر کیاگیا ہے اسی وجہ سے اس شاہراہ کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے اس شاہراہ کا زیادہ تر حصہ سنگلاخ پہاڑوں اور خشک پہاڑی سلسلوں سے ہوکر گزرتا ہے برساتی موسم میں لینڈ سلاٸڈنگ ،مٹی کے تودے اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے روڈ کی بندش کی وجہ سے مسافر اور خطے کے باسی شدید مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں عام مسافر ،سیاح اور تجارتی سرگرمياں مفلوج ہوکر رہ جاتی ہیں اگرخدانخواستہ یہ بندش طویل ہوجاٸے تو ان علاقوں میں بنیادی اشیاٸے ضروریہ کا بحران سر اٹھانے لگتا ہے شاہراہ قراقرم پر چلاس شہر سے تقریبا پچاس ساٹھ کلو میٹر آگے تتہ پانی کے مقام (اس مقام پر گرم پانی کے چشمے ہیں )پر شاہراہ قراقرم کا تقر یبا دو کلوميٹر کاحصہ عرصہ دراز سے اس خطے کے باسیوں کے لیے درد سر اور موت کا کنواں بنا ہوا ہے اب تک اس سیکشن میں لینڈ سلاٸیڈنگ کیوجہ سے سینکڑوں حادثات رونما ہوئے ہیں اور درجنوں قیمتی جانیں اس بیانک سیکشن کی نذر ہوچکی ہیں معمولی بارشوں میں بھی اس سیکشن کا بلاک ہونا معمول ہے حالیہ بارشوں میں بھی اس سیکشن پر حادثات رونما ہوے اور دو قیمتی جانیں لینڈ سلاٸیڈنگ کے باعث چلی گٸی اور یہ سیکشن آمدورفت کے لیے بلاک رہا جس سے ہزاروں مسافر عید کے ایام میں پھنسے رہے اور اب بھی اس سیکشن کی بحالی کے لیے کام جاری ہے گلگت بلتستان کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اس سیکشن کے متبادل دریا کے دوسری جانب شاہراہ منتقل کی جاۓ تو حادثات اور روڈ بلاک کے مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے اور اس سیکشن کے مرمت اور بحالی پر اٹھنے والے آٸے روز کے اخراجات بھی بچاٸے جاسکتے ہیں دریا کے دوسری جانب جانب جگہ مناسب اور پہاڑ سخت ہیں جبکہ تتہ پانی والا سیکشن گرم چشموں کے بدولت نرم مٹی والے پہاڑی ٹیلوں پر مبنی ہےجو ہمہ وقت خطرے کی علامت بنے رہتے ہیں گلگت بلتستان کے سایسی سماجی اور عام عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ اس سیکش کے متبادل کے طور پر دریا کے دوسری جانب شاہراہ تعمير کرکے یہ سیکشن دوسری جانب منتقل کیاجاٸے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسافروں کی پریشانی بھی کم ہوسکے۔۔۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle…….@Srufaq
-
اسلام اور جدید سائنس تحریر :صفدر حسین
اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں اپنی قدرت کی بے شمار نشانیاں پیدا کی ہیں۔ قرآن اس دنیا کے انسانوں کے لئے مکمل ظابطہ حیات ہے۔قرآن مجید کے صحیح معنوں کو سمجنے کیلئے ہمیں قرآنی آیات میں موجود سائنسی حقائق پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل کی اس میں بنی نوع انسان کو علم حاصل کرنے اور آفاق اور زمین کی گہرائیوں میں غور کرنے کا حکم دیا۔اسلام کے احکامات پر عمل کر کے دنیا کی وہ قوم جس پر کوئی بھی حکمران حکومت نہیں کرنا چاہتا تھا اس نے صرف ایک صدی کے اندر دنیا بھر کی امامت کی اور یونانیوں کے لا حاصل فلسفے کو ختم کرتے ہوئے فطری علوم کی تجربے کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے انسانی علم نے عظیم کروٹ لی اور جس کاپھل موجودہ صدی نےپایا ۔
ممکن کو حقیقت کا روپ اس وقت ملتا ہے جب صدی کروٹ بدلتی ہے موجودہ نسل نے جو منزلیں عبور کی ہیں اس کی پچھلی صدی نے خواہش بھی نہیں کی تھی۔سانس کی اس قدر تیزی نے اس کائنات کے پوشیدہ رازوں کو انسان کے سامنے لا کھڑا کیا یے ڈیڑھ ہزار سال پہلے انسان کے ذہین میں علم کی موجودہ عروج کے بارے میں ادنی سا تصور بھی نہیں تھا ۔وہ اپنی جہالت کو عظمت کی علامت سمجتا تھا جس کو اسلام کی آفاقی تعلیمات نے ختم کیا اور فطری ضوابط کو بےنقاب کیا جس پر دور حاضر کا سائنسی ذہین بھی محو حیرت ہے۔
مسلمان سائنسدانوں نے جس سائنسی علم کی بنیاد رکھ اس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے جس کو موجودہ دور میں استمعال کرتے ہوئے بے شمار فوائد حاصل کیے ہیں ۔مسلمان جب تک علم حاصل کرتےاور اس پر عمل کرتے ریے وہ دنیا میں امام و مقتدر ریے اور جیسے ہی اس علم سے دوری اختیار کی ہم آسمان سے زمین پر آگرے اور حالت ہہ ہے کہ ہمارے اسلاف کا علمی ورثہ جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھے ہوئے تھا غیروں کا اوڑھنا بچھونا ہے اور ہم ان سے علمی،ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں بھیک مانگتے ھوئے نظر آتے ہیں ۔
بیسویں صدی میں مسلمانوں نے سیاسی آزادی حاصل کی اور علمی میدان میں بھی مثبت تبدیلی کے آثار نمودار ہوئے مگر مسلمان حکمرانوں نے آزادی کے اثرات کو عوام کی پہنچ سے دور رکھا اور ان کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا ۔مسلمان ممالک دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ہیں اور دنیا کی اکانومی کا اس پر انحصار ہے جس سے مسلمانوں کی معاشی زندگی بہتر ہوتی اور عالمی سطح پر سیاسی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی تھی لیکن وہ اپنی عیاشی میں مصروف رہے اور امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا .
دور حاضر کے مسلم نوجوان کے ایمان کو سنبھالا دینے کی واحد صورت یہ ہے کہ اسے اسلامی تعلیمات کی عقلی و سائنسی تفسیر و تفہیم سے آگاہ کرتے ہوئے سائنسی دلائل کے ساتھ مستحکم کیا جائے۔ قومی سطح پر چھائے ہوئے احساس کمتری کے خاتمے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو مسلمان سائنسدانوں کے کارناموں سے شناسا کیا جائے تا کہ اس کی سوچ کو مثبت راستہ ملے اور وہ جدید سائنسی علوم کو اپنی متاع سمجھتے ہوئے اپنے اسلاف کی پیروی میں علمی و سائنسی روش اپنا کر علمی بنیادوں کے ساتھ احیائے اسلام کا فریضہ سرانجام دے سکے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ سائنسی علوم جانتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اسلامی تعلیمات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مستشرقین کی طرف سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے ٹھوس عقلی و سائنسی بنیادوں پر جواب کے لئے جدید علم کلام کو باقاعدہ فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف مغربی افکار کی یلغار کی وجہ سے مسلم نوجوانوں میں اپنے عقائد و نظریات کے بارے میں جنم لینے والے شکوک و شبہات سے نجات ملے گی بلکہ غیر مسلم اقوام پر بھی اسلام کی حقانیت عیاں ہو گی۔@itx_safder
-
افضل کون تحریر : بابر شہزاد
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت انسان روز ازل سے ہی اس بات پر بضد ہے کہ میں تم سے افضل ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے 2 بیٹے تھے جن کا نام ہابیل اور قابیل تھا اور ان دونوں میں بھی یہی جھگڑا تھا کہ میں دوسرے سے افضل ہوں اور نتیجتاً دونوں میں سے ایک کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اب زرا اس بھی پیچھے چلے جاتے ہیں کہ یہ صفت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے کہ ابلیس اس وقت کا سب سے معتبر فرشتہ تھا اور جب اللہ کریم نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تو سبھی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کو سجدہ کیا جائے تو سبھی فرشتوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سجدہ کیا جبکہ ابلیس نے انکار کر دیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنا ہے تو میں کیسے اسے سجدہ کر سکتا ہوں مطلب ابلیس نے بھی خود کو افضل سمجھا اور اسی نشے میں اللہ تعالٰی کی حکم عدولی کر دی اور فرشتے سے شیطان کا لقب حاصل کیا۔
چاہے کوئی فرشتہ ہو یا انسان جب بھی انسان کے اندر میں آ جائے اور خود پسندی کا شکار ہو جائے تو سمجھ لیں کہ اس کا زوال شروع ہوگیا۔ انسانی تاریخ میں ایک لمبی لائن ہے جنہوں نے خود کو دوسروں سے افضل سمجھا اور دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل اور رسوا ہوئے تو پھر چاہے نمرود ہو یا فرعون، قوم عاد ہو یا قوم سمود یا پھر بنی اسرائیل ہو سبھی خودپسندی کا شکار ہو کر دنیا کے لیے نشان عبرت بنے۔ یزید بھی انہی لوگوں میں سے تھا جس نے معاذاللہ خود کو نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام سے افضل سمجھا اور تا ابد اپنے لیے لعنتوں کا سامان کیا۔
بحیثیت انسان ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری اتنی اوقات ہے کہ رات کو جب ہم سو جائیں تو ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھنا بھی ہے کہ نہیں۔ انسان کا اختیار تو یہ بھی نہیں کہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں تو ہمارے اندر مغروری کس بات کی ہے؟
ہمیں چاہیے کہ اس ذات کی نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہوئے ہر وقت عاجز رہیں کہ اللہ پاک کو عاجزی بہت پسند ہے اور سب سے افضل ذات بھی وہی ذات مقدسہ ہے جس نے دونوں جہانوں کی ہر چیز کو تخلیق کیا اور وہی سبھی کو فنا کرنے والا ہے اور پھر روز محشر دوبارہ زندہ بھی وہی ذات کرے گی۔
Twitter handle : @babarshahzad3203334043316
-

دین اسلام کیا ہے تحریر: ارشاد حسین
اسلام کا مطلب اطاعت ہے کسی اور کے آگے جھکنے کی بجائے نفس سے بالاتر ہو کے اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر زندگی گزارنا ہے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما تسلیم کرنا ہے اسلام وہ واحد دین ہے جو دیگر تمام ادیان کا احاطہ کرتا ہے رب کریم کا قرآن میں ارشاد ہے دین تو صرف اسلام ہے سورہ المائدہ آیت نمبر (3)میں رب کریم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے دین کو ہم نے مکمل کر لیا ہے نعمتوں کو تمام کردیا اور تمہارے لئے تمام ادیان دین اسلام کو منتخب کیا ہے جس رب نے ہم سب کو اس دین کا پیروکار بنایا اس رب کریم کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے ایک اچھا مسلمان بننے کے لئے ہم سب کو صاحب اعتبار بننا ہوگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان پہ امین ہونے کا یقین ہو لوگوں کو۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال قائم کی وہ مبارک ہستی اس قدر لائق اعتبار تھی کہ مشرکین بھی اپنی امانتیں ان کے پاس رکھوایا کرتے تھے ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ ہجرت پر نکلے تو لوگوں کی بیش قیمت امانتیں ان کے پاس تھی وہ بیش قیمتی امانتیں کس کی تھی جانتے ہو ان کی جان کے دشمن مشرکین کی ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت پر روانہ ہونے سے پہلے وہ امانتیں باحفاظت لوگوں تک پہنچانے کے لئے حضرت علی کے سپرد کر دیں سوچو اس معاشرے کے بارے میں جو ان کی جان کے دشمن تھے لیکن وہ اپنی قیمتی چیزیں امانتن ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھوایا کرتے تھے اب یہ بات تو طے ہے کہ صاحب اعتبار ہونا ضروری ہے عظیم حکمت پوشیدہ ہے اس میں ہمیں ہمیشہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے اپنی بساط کے مطابق اپنے پیغمبر کی طرح عمل کرنا چاہیے ہمارے پیغمبر کی زندگی انسانیت کے لئے مثال ہے اگر ہم نے نیک نیتی سے اس عمل کو انجام دینے کی کوشش کریں تو اللہ بھی ہماری مدد کرتا ہے ہم مسلمان بہت خوش قسمت ہیں اس مبارک ہستی کی امت میں شامل ہوئے اللہ پاک ہم سب کو کوشش کرنے والوں میں قرار دے آمین
@ir_Pti
twitter.com/ir_Pti