Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان میں صحافت کا معیار اور پرنٹ میڈیا کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا تحریر:  سید محمد مدنی

    پاکستان میں صحافت کا معیار اور پرنٹ میڈیا کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا تحریر: سید محمد مدنی

    پاکستان میں صحافت کا معیار اب آپ دیکھ ہی رہے ہیں میں نے سنا تھا کہ صحافت مقدس پیشہ ہے عبادت ہے مگر اب صحافت کسی بھی کوٹھے پر ایک طوائف کی طرح بِکنے کے لیے تیار رہتی ہے اور اس کو بیچنے والے بھی وہی کردار ہوتے ہیں جو بدقسمتی سے صحافت میں ہوتے ہیں اور اپنا قلم ایمان روح دل غرض یہ کہ سب کچھ چند ٹکوں کی خاطر بیچ دیتے ہیں اور اب جو پاکستان میں صحافت ہو رہی ہے اس کو اپ دیکھ ہی رہے ہوں گے پرنٹ میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کی قدر گرتی چلی جا رہی ہے اس کی وجہ ہے جھوٹ اور صرف جھوٹ جب آپ کسی کے لیے ایک بار بِکتے ہیں تو آپ بار بار بکتے ہیں اب صحافت میں اول فول اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہ تمیز بھی ختم ہوچکی ہے کہ آیا بات ریاست پاکستان کے خلاف ہے بھی یا نہیں ہر چیز سے بے نیاز کو کر جو دل اور منہ میں آتا ہے لکھ دیتے ہیں اب ڈیجیٹل میڈیا نے پرنٹ میڈیا کی جگہ لے لی ہے جو اب ایک نئی دنیا ہے آپ نے نوٹ کیا ہوگا بلکہ نوٹ کیا کرنا سب ہی اب وی لاگز دیکھتے ہیں اس کی وجہ کہ وی لاگرز بھلے خبر فائدے کی ہو یا نہ ہو سچ اور حقائق بیان کرتے ہیں اب وہ دور چلے گئے کہ آپ من مانی کر کے لکھ دیں یا بول دیں اب جھوٹ بولنا اتنا آسان نہیں رہا کیونکہ کچھ ہی منٹ بعد جھوٹ ایکسپوز ہوجاتا ہے ہاں البتہ یہ الگ بات ہے کہ آپ چند ٹکوں کی خاطر اگر بک گئے ہوں تو آپ میں اچھے اور برے کی تمیز بھی ختم ہو جاتی ہے
    لوگ بغض میں آ کر ایسی ایسی بات کر جاتے ہیں کہ انھیں ﷲ سے بھی خوف نہیں آتا
    ہم نے صحافت کا بہت برا حشر کردیا ہے کہ لوگ اب اس پیشے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
    صحافت کو مقدس پیشے کی طرح اپنائیں اور اپنی آخرت کو سنواریں نا کے بگاڑیں اب یو ٹیوبرز بھی اپنے اپنے وی لاگز کرتے ہیں مگر کچھ ایسے عناصر ہیں جو یہ تک نہیں دیکھتے کہ آیا ہم بات جو کررہے ہیں وہ درست بھی ہے یا نہیں کچھ جھوٹ بھی اتنے کانفیڈینس سے بولتے ہیں جیسے انھیں کسی کا خوف ہی نا ہو چلو دنیا میں تو جھوٹ بول لو گے آخرت میں کیا کرو گے

    پاکستان میں صحافت کو عزت دیں اور جب آپ عزت دیں گے تو بدلے میں دنیا آپ کی بھی عزت کرے گی اپنے آپ ایک معیار رکھیں اور اسی پر قائم رہیں تاکہ آپ کو دیکھنے والی دنیا آپ کی عزت کرے

    میرا آخری پیغام صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اسے اپنے من پسند مفادات کی خاطر گندا نا
    کریں.
    شکریہ

    @ M1Pak

  • تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر:  فرقان اسلم

    تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر: فرقان اسلم

    قارئین کرام اگر ہمیں کسی چیز کی عادت ہوجائے تو وہ ہمارے لیے ایک نشہ بن جاتا ہے۔ اس کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ چیز ہمارے دل و دماغ میں بس گئی ہوتی ہے اور پھر اس سے چھٹکارا بہت مشکل ہوتا ہے۔
    بالکل اسی طرح کا حساب تمباکونوشی کا ہے۔ شروع شروع میں انسان اسے معمولی سمجھ کر یا شوق کے طور پر اس کا شکار ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ انسان کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کو اس کام کی لَت لگ جاتی ہے۔ اور اس کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ تمباکونوشی کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثر نوجوان ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ بری محفل میں بیٹھنے سے اس کا شکار ہوتے ہیں اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کا خیال رکھیں کہ وہ کن کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں جو طلباء پڑھتے ہیں وہ اس ناسور کا شکار ہیں۔ جو مستقبل کے معمار اپنی توجہ پڑھائی پر دینے کی بجائے ان فضول کاموں میں دیں گے تو پھر ان کا مستقبل روشن کی بجائے تاریک ہوتا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر تمباکونوشی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انسان کی جسمانی اور دماغی صلاحیت کو کمزور کردیتی ہے۔ جب انسان کی صحت ہی بری طرح متاثر ہوگی تو نہ تو پڑھائی ہوگی اور نہ دوسرے کام۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکونوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکونوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اور کارسینوجنز بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ تمباکونوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈی نینس، مجریہ 2002 کے مطابق اس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے ۔
    لٰہذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس سے بچنے کے لیے لوگوں کے اندر شعور اور آگاہی پیدا کی جائے۔ اور حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس اب ہم اس لَت کا شکار ہوگئے ہیں اب نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر انسان مصمم ارادہ کرلے تو ہر بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے ایک ذہن سازی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا ہمارے معاشرے میں فقدان ہے۔
    ہر برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ تمباکونوشی وقت کے ساتھ ساتھ دولت بھی ضائع کردیتی ہے۔ ظاہر ہے جب انسان اس کا شکار ہوگا تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس کا مال کن کاموں میں استعمال ہورہا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی فضول خرچی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ فضول خرچی کرنے والے کو تو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو اس برے کام سے محفوظ رکھے اور جو اس کام میں مبتلا ہیں ان کو اس سے نجات حاصل فرمائے۔۔۔آمین

    @Rumi_PK

  • جنات اور جادو  تحریر : جواد خان یوسفزئی

    جنات اور جادو تحریر : جواد خان یوسفزئی

    دنیا کے ہر معاشرے میں غیر مرئی مخلوقات کے بارے میں عقیدے ملتے ہیں۔ہر معاشرہ اپنے کلچر اور زبان کے مطابق ان کا نام رکھتا ہے اور ان کی تفصیلات طے کرتا ہے۔ابراہیمی مذاہب میں ان چیزوں کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں لیکن دیگر مذاہب میں یہ مذہب کے بنیادی اعتقادات کا لازمی حصہ ہیں۔ ان مذاہب، مثلاً ہندومت میں یہ سب دیوی دیوتا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کائینات بالخصوص انسانی زندگی میں یہ بنیادی رول ادا کرتے ہیں۔ لوگ ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں۔
    ابراہیمی مذاہب میں اگرچہ غیر مرئی باشعور مخلوقات کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے تاہم ان کو دیوی دیوتا کی حیثیت حاصل نہیں۔ اس لیے یہ زیادہ سے زیادہ انسان کی طرح باشعور اور ذمہ دار مخلوق ہوسکتے ہیں، بس۔ بلکہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے یہ انسان کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ ان مذاہب میں ان مخلوقات کی رضامندی حاصل کرنے یا ان کو خوش کرنے کی کوشش کرنامستحسن نہیں سمجھا جاتا۔ خصوصآً اسلام کے کڑے موحدانہ اصولوں کی وجہ سے ایسے مخلوقات کو برتر سمجھنا، ان کی اطاعت کرنا اور ان سے مدد مانگنا شرک کے زمرے میں آسکتا ہے۔
    اسلام میں صرف دو قسم کی غیر مرئی مخلوقات کا تصور پایا جاتا ہے۔اول فرشتے ہیں جو خدائی نظام کے کارکن اور اس کے حکم کے تابع ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ با اختیار مخلوق نہیں بلکہ اللہ تعالےٰ کے احکام کو بجا لانے والے ہیں۔اس لیے انسان کے لیے ان کی اطاعت یا ان کو خوش رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری مخلوق جن ہے۔ جن کے معنی عربی میں "پوشیدہ” کے ہیں۔ یعنی غیر مادی، غیر مرئی با اختیار مخلوق۔ اس کے بارے میں دینی مأخذ زیادہ تفصیلات بیان نہیں کرتے کیونکہ انسان کو ان کے بارے میں جاننے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ ان کے بارے میں ایک اہم اطلاع یہ ہے کہ شیطان بنیادی طور پر انہی میں سے تھا۔ نیز یہ کہ شیطان کے کچھ ایجنٹ جنات میں سے بھی ہیں (جیسے انسانوں میں سے ہیں)۔شیطان اپنے ان دو قسم کے ایجنٹوں کے ذریعے انسانوں (اور غالباً جنات کو بھی) گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالےٰ ٰ کا حکم ہمیں یہ ہے کہ ہم ان شیاطین کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔شیطان اور اس کے دونوں قسم کے ایجنٹ ایک نیٹورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔جنی شیاطین انسانی شیاطین کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کو غلط کاموں پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس عمل کو جادو کہتے ہیں۔ جادو (جسے کوئی بھی نام دے دیں) مذہب کا متضاد عمل ہے۔مذہب خود کو ایک برتر ہستی کی مرضی کے تابع کردینے کا نام ہے، جب کہ جادو کا مقصد کسی ان دیکھی طاقت کو قابو میں کرکے اس سے فایدہ اٹھانا ہوتا ہے۔پس جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی ان دیکھی طاقت ہے جس کی مدد سے وہ کوئی کام طبعی ذرائع کے بغیر کر سکتا ہے، وہ جادو کرتا ہے۔
    قران مجید میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ جادو کفر ہے (کیونکہ جادو کرنے والا اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتا ہے)۔ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں کچھ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت ہے۔ ان میں جھاڑ پھونک کرنے والے (نفاسات فی العقد) نیز جنی اور انسی شیطان شامل ہیں، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔ ان کو ملا کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جنی شیطان انسی شیطانوں کی مدد کرتے ہیں اور انسی شیطان لوگوں کو توحید کی راہ سے بھٹکانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان حربوں میں ایک جھاڑ پھونک بھی ہے۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.Com

  • حضرت محمدﷺ   کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    حضرت محمدﷺ کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اس جہاں میں بہت سے رسول اور نبی بھیجے۔ حضرت آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی ہیں جبکہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کا شجرہ نسب کچھ اس طرح ہے۔
    (محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن مناف بن قُصی بن کلاب بن مُرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمسیع بن سلامان بن عوض بن یوز بن قموال بن اُبی بن عُوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلجن بن ارعوے بن عیضی بن دیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسمعیل بن ابراہیم بن آزر بن نحور بن سروج بن رعو بن فلج بن ہود بن سلح بن ارفکسد بن سام بن نوح بن لمک بن متوسلح بن ادریس بن یارو بن محل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدمؑ)
    بنی اسرائیل میں نسل در نسل نبوت کا سلسلہ جاری رہا، پیغمبروں کی اولاد (بیٹے) بھی پیغمبر ہوئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور جوان بیٹوں کے باپ بھی ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام خود نبی ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے والد بھی ہیں۔ اس طرح حضرت داؤد علیہ السلام اللہ کے پیغمبر ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام آپ کے بیٹے ہیں۔
    تو پھر حضرت محمدﷺ کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں”۔ آخر اس میں کیا حکمت ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پہ اس لیے زور دیا کہ حضرت محمدﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں کیوں کہ آپؐ خاتم النبین ہے۔ اگر حضرت محمدﷺ کا کوئی بیٹا ہوتا اور وہ جوان ہوتا تو دو صورتیں ممکن ہوتیں۔
    ایک یہ کہ بیٹا بھی اللہ کانبی ہوتا جیسا کہ پہلے انبیاء کے بیٹے نبی یا رسول تھے، اور دوسری صورت یہ کہ بیٹا نبی نہ ہوتا۔ یعنی دو ہی امکانات ممکن تھے۔ پہلی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی نہ ہوتے بیٹا بھی جوان ہو کر نبی بنتا اور سلسلہ نبوت حضرت محمدﷺ پر ختم نہ ہوتا۔ دوسری صورت میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا جوان ہوتا اور نبی نہ بنتا تو دوسرے انبیاء کی امتیں طعنہ دیتیں کہ ہمارے نبی کا تو بیٹا بھی نبی تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جوان بیٹا ہو اور نبوت کی سعادت سے محروم رہے۔
    جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں ہے اگر ہوتا تو وہ بھی خدا ہوتا اور یہ شرک ہوتا پھر توحید ،توحید نہ رہتی۔ جس طرح توحید الوہیت نے رب کو بیٹے سے پاک رکھا اسی طرح شانِ ختم نبوت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوان بیٹے سے علیحدہ رکھا۔
    حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم وفات پاگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھاتے ہوئے فرمایا ان کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی ہے اور اگر زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔
    اس لئے اللہ رب العزت نے انہیں بچپن ہی میں اپنے پاس بلالیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کو نہیں آنا تھا۔ حضرت محمدﷺ کو آخری نبی مانے بغیر ایمان معتبر نہیں۔
    تحریر کے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر خاتمہ کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • امیرالمومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ کی زندگی پر مختصر نظر تحریر: عثمان بشیر گجر

    آپؓ کانام عثمان کنیت ابوعبداللہ لقب ذوالنورین تھا آپ کاشمار سابقین اسلام میں ہوتا ہیں
    آپؓ نے 34سال کی عمر میں اسلام قبول کیا
    آپؓ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے
    آپؓ کو نبی اکرمؐ کا دوہرا داماد ہونے کا شرف بھی حاصل تھا
    آپؓ کے دور خلافت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا
    اس لئے آپؓ کو جامع قرآن بھی کہا جاتا ہیں
    آپؓ نے سب سے پہلے اسلام کی خاطر سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی
    اور بعدازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف فرمائی
    آپؓ کے نکاح میں سرکار دوعالمؐ کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ رہی ہیں جس کی وجہ سے آپؓ کالقب ذوالنورین ہیں
    آپؓ کاشمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہیں
    آپؓ کے دور خلافت میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی
    آپؓ کے دور خلافت میں ہی پہلا بحری جہاز بنایا گیا

    نبی اکرمؐ نے فرمایا
    جنت میں ہر نبی کا ایک رفیق( ساتھی) ہو گا میرا رفیق عثمان بن عفان ہو گا

    آپؓ کو متعدد مرتبہ نبی اکرمؐ نے جنت کی بشارت دی
    سیدنا عبد الرحمن بن سمرہؓ فرماتے ہیں
    جس وقت نبی کریم ﷺ جیش العسرة کی تیاری کر رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفانؓ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور انہیں آپ ﷺ کی جھولی میں ڈال دیا

    ❞فرأيت النبي ﷺ يقلبها في حجره ويقول ماضر عثمان ما عمل بعد اليوم.❝
    ترجمہ:
    میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ ان دیناروں کو اپنی جھولی میں الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرمارہے تھے:
    "آج کے بعد عثمانؓ کا کوئی عمل انہیں کچھ بھی نقصان نہیں دے سکے گا۔”
    📚 سنن الترمذی:3701:وسندہ حسن لذاته

    آپؓ شرم وحیا کا پیکر تھے

    ایک واقعہ اماں عائشہؓ بیان فرماتی ہیں
    رسول الله ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کی دونوں رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا اتنے میں باری باری سیدنا ابو بکرصدیقؓ اور سیدنا فاروق اعظمؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور ایسے ہی لیٹے لیٹے ان سے گفتگو کرتے رہے
    پھر جب سیدنا عثمان بن عفانؓ نےاندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنا کپڑا درست کرلیا
    سیدہ اماں عائشہؓ فرماتی ہیں
    ان تینوں کے جانے کے بعد جب میں نے آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا

    ❞ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة.❝
    ترجمہ: "میں اس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں!”
    📚 «صحیح مسلم: ٢٤٠١
    آپؓ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے
    جس وقت باغیوں نے آپؓ کو گھر میں محصور کر دیا اور 40دن تک کھانا اور پانی تک اندر نہ جانے دیا
    تو اس وقت سیدنا علی المرتضیؓ نے اپنے دونوں شہزادوں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو سیدنا عثمان بن عفانؓ کی حفاظت پر مامور فرمایا تھا
    اس طرح 40 دن بھوکے اور پیاسے رہنے کیبعد مسلمانوں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ مظلوم مدینہ امیرالمومنین سیدنا عثمانؓ کو سنہ 35 ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعتہ المبارک
    82 سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے

  • صفائی نصف ایمان    تحریر سجاد احمد

    صفائی نصف ایمان تحریر سجاد احمد

    صفائی نصف ایمان ہے کہنے کو تو یے ایک جملہ ہے لیکن حقیقت میں اس میں دنیااور آخرت کی کامیابی کا رازچھپا ہے۔ ایمان اسلام میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ زرا سو چیئے اگر صفائی کوئی عام سی بات ہوتی تواس کو یوں ایمان کے ساتھ جوڑا جاتا ۔ ہم اس اہم رکن کو نہایت آسانی سے قائم رکھ سکتے ہیں اگر ہم اس جملے کو روز مرہ زندگی کاحصہ بنا لیں۔ صفائی قائم رکھنا کوئی مشکل کام نہیں یے ناہی اس میں کوئی راکٹ سائنس درکار ہے جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح ہم اپنے محلے، شہر اور ملک کےلیے بھی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہمیں یے تو یاد رہ گیا کہ ہوا، پانی اور خوراک زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مگر بھول گئے کہ جب یے سب صاف ہونگے تب ہی زندگی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے گلی ،محلے،شہر میں جگہ جگہ کچراڈالنے کے لئے ڈبے تو نظر آتے ہیں مگر ہم انکو استعمال نہیں کرتے جو ہم اصل میں اپنے ساتھ ہی ظلم کرتے ہیں۔ صاف ماحول زندگی کے لئے اتناہی ضروری ہے جتنا کہ ہوا، پانی اور خوراک ضروری ہیں
    افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم لوگ دوسرے ممالک جاکر صفائی کا بہت خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہاں کے قوانین سخت ہیں جبکہ اپنے ملک میں اسکو نظر انداذ کرتے ہیں اور پھرکہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں گندگی بہت ہے۔ پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ مگر ہمارے سیاح جب ان علاقوں کارخ کرتے ہیں تو وہاں بھی گندگی پھیلاکر اس قدرتی حسن کو داغدار کرتے ہیں جو کہ نہا یت افسوسناک ہے۔ حکومت کواس کی روک تھام کیلئے قوانین بنانے چاہیئں جبکہ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئیے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اور ایک اچھا انسان ہونے کے ناطے اپنے اس اہم فریضہ کو سمجھنا ہو گا تا کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف ماحول میں سانس لے سکیں ۔
    @imsajjadkhan

  • خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک   تحریر:یاسرشہزادتنولی

    خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    قلم جب جب اٹھے گا
    سیاہی سچائی کی ہوگی
    میں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کی تمام بہاریں دیکھی ہیں۔اللہ نے خوشیاں دی تو سنبھالی نہ گئیں تو دوسری طرف دکھوں کا ایک سمندر بھی برداشت کیا۔میرے کاندوں نے باپ کے جنازۓ کو اٹھایا ۔مگر دل اس قدر افسردہ اور خون کے آنسو نہیں رویا یوں سمجھے کہ آج صبح کے واقعہ کو دیکھنے کا موقع ملا تو خون کے آنسو بھی خشک ہوگئے۔میں نے آج تک اس قدر رونما ہوا واقعہ کو نہیں دیکھا۔کل حسب عادت گھر سےمانسہرہ پریس کلب جانے کے لئے ۹ بجے گھر سے نکلا اور گاڑی میں سوار ہوا مسافر چڑھتے گئے کیری ڈبہ میں چلنے والی قوالیوں نے ایک سحر باندھ دیا۔میں اسی میں غرق تھا کہ اچانک میری نظر سڑک پر بیھٹے اس بچہ پر پڑی جو گردن جھکائے دنیا و جہاں سے بے خبر تھا وہ شین باغ بفہ کی سڑک کے بیچو بیچ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا اور ٹریفک کا ہجوم،لوگوں کی چلنے کی آہٹ،گاڑیوں کا دھواں،سب سے بڑھ کر وہ ایک زندہ لاش کی مانند تھا اسے یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اس کے کپڑے کہا ں کے کہاں جا رہے ہیں۔اس کی عمر۱۲سے ۱۳ سال تھی،چہرہ جھکا ہوا ہونے کے باوجوداس کی گوری رنگت کو ظاہر کر رہا تھا بال کلر میں رنگے ہوئے تھے اور گولڈن کلر صاف واضح ہورہا تھا۔

    وہ ہیروئن کے نشے میں دھت تھا۔میں نے ہیروئن کے نشے میں دھت بہت سے نوجوان دیکھے ہیں جوکہ پکھل مانسہرہ کے مختلف ایریا میں پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کوئی نشے کی حالت میں کھڑے کا کھڑا رہے گا گھنٹوں، تو کوئی سر جھکائے سجدے کی حالت میں ساکن جسم کے ساتھ دکھائی دے گا،کسی کو اتنا ہوش تک نہیں ہوتا کہ وہ کچرے میں پڑا ہوا ہے اور مکھیاں اس کے گر د چکر لگا رہی ہیں اور وہ اس بدبو دار کچرے کو نرم بستر سمجھ کر سو رہا ہوتا ہے۔بات ہو رہی تھی اس بچہ کی اسے اس حالت میں دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی وہ کس گھر کا ہوگا،کس کے گھر کا چراغ ہوگا،کس ماں باپ کا بیٹا ہوگا،کس بہن کا بھائی ہوگا یا پھر یتیم۔۔۔۔
    کیری ڈبہ میں سوار تمام لوگوں نے استغفار کہا اور میری آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے رومال سے اس دنیا سے ایسے چھپایا جسے وہ میرا کوئی اپنا ہو اور اس کے لئے دل سے خون کے آنسوں جاری ہوگئے ہو۔اسی وقت میرے دل سے ایک بد دعا اس وقت کے حکمراں ضیاء الحق کے لئے نکلی کہ جس نے اس غلیظ وباء کو افغان روس وار میں پاکستان میں داخل کیا آج اس انسان کی اس حرکت کا خمیازہ میری نسل کے میری قوم کے نوجوان ہی نہیں بچے،بوڑھے،جوان مرد و عورت سب ہی بھگت رہے ہیں ہمارے ملک کے ہونہار،نونہال اور مستقبل کے چمکتے ستارے اس نشے میں لگ کر اپنی دنیا برباد کر رہے ہیں۔اس نشے کو پروموٹ کرنے والوں تمھاری نسلیں بھی اس میں مبتلا ہوں گی جب معلوم ہوگا کہ قبر کا حال مردہ جانے۔۔۔۔۔
    اللہ پاک میرۓ پیارۓ پاکستان کے مستقبل ستاروں کو اس موذی نشے کی عادت سے چھٹکارا عطاء فرماۓ۔آمین
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • انسانی سمگلنگ  تحریر۔محسن ریاض

    انسانی سمگلنگ تحریر۔محسن ریاض

    پنجاب کے چند اضلاع میں انسانی سمگلنگ اس وقت اپنےعروج پر ہے ان اضلاع میں گجرات ، گوجرانوالہ ،منڈی بہاؤالدین اور جہلم شامل ہیں – دور حاضر میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا کر سکونت اختیار کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے جنگ زدہ اور غریب ممالک کے شہریوں کی اکثر یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہاں کسی خوشحال ملک کی طرف ہجرت کر جائیں اس کے لیے وہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہیں-پاکستان میں غیر قانونی طور پر سرحدوں کو عبور کرنے جنون دیکھنے میں آیا ہے خاص کر دیہاتوں کے لوگوں کو ایجنٹ ورغلا کر اس بات لر آمادہ کرتے ہیں کہ آپ کو بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے وہاں آپ ایک پر آسائش زندگی گزار سکتے ہیں جبکہ ان سادہ لوح لوگوں کو اس بات کا اندازہ بالکل نہیں ہوتا کہ راسے میں کس طرح کے حالات گزرتے ہیں ایران تک تو راستہ آسانی سے طے ہو جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو زائرین کی شکل میں ایران کی حدود میں داخل کر دیا جاتاہے اس کے بعد ایک مشکل امتحان شروع ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں سے غیر قانونی طور پر ترکی کا بارڈر کراس کرنا ہوتا ہے اور ظاہری بات ہے بارڈر پر بہت سختی ہوتی ہے زیادہ تر تو بارڈر کراس کرتے وقت پکڑے جاتے ہیں ہیں مگر کچھ خوش قسمت کراس کر جاتے ہیں یہیں امتحان ختم نہیں ہوتا بلکہ بارڈر کراس کرنے کے بعد بھی اگر آپ بارڈر کے نزدیک پکڑے جاتے ہیں تو آپ کو واپس ایران بھیج دیا جاتاہے اور اگر آپ ترکی پہنچ گئے ہیں تو پھر آپ محفوظ ہیں اور آپ کو براستہ پانی ایک کشتی میں یونان اور پھر یونان سے اٹلی کی طرف روانہ کیا جاتا ہے اور چھوٹی سی کشتی کے سمندر میں ڈوبنے کے واضح امکانات موجود ہوتے ہیں اگر آپ یہاں سے بچ گئے تو پھر آپ اٹلی پہنچ جائیں گے -اس حوالے سے میں نے منڈی بہاؤالدین کے عدنان گوندل سے بات کی تو اس نے بتایا کہ شروع میں تو یہ سب آسان لگ رہا تھا مگر جب ہم ایران پہنچے تو اس کے بعد مشکل دور شروع ہوا کیونکہ چار دفعہ بارڈر کراس کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر بار ناکامی کا سامنا ہوا کیونکہ ان دنوں بارڈر پر بہت سختی تھی پانچویں بارہم بارڈر کراس کرنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہمیں کردوں نے پکڑ لیا تھا اور پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے ہمارے پاس جو کچھ تھا سب لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ جو بندہ گھر سے دو ہزار ڈالر منگوا کر دے گا صرف اس کو رہائی ملے گی چند دنوں کے بعد ان کا رویہ بدل گیا اور انہوں نے ہم پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا جس کے بعد مجبوراً ہمیں گھر سے دو ہزار ڈالر منگوانے پڑے اور اس طرح انہوں نے ہمیں زخمی حالت میں فوج کی ایک چوکی کے پاس اس حالت میں چھوڑا کہ ہمارے جسم پر صرف ایک پینٹ تھی اس کے بعد ہمارا پاکستان واپسی کا سفر آسان ہی رہا-میرے لیے یہ ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ تھا-اس طرح کہ واقعات آئے دن سننے کو ملتے ہیں کہ تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی اور اس ہیں مرنے والے زیادہ تر پاکستانی ہی ہوتے ہیں-میری ان تمام نوجوانوں سے گزارش ہے جو اس بات کا ارادہ کیے بیٹھے ہیں کہ یورپ ہی جانا ہے کہ ان ایجنٹوں کے جھانسے میں ہر گز نہ آئیں کیونکہ ان کو آپ کی سلامتی سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کو صرف پیسہ چاہیے جو ان کو مل رہا ہے-حکومت کو بھی چاہیے کہ نوجوانوں کو سکلز سکھانے کے ادارے قائم کیے جائیں تاکہ وہ جان کا رسک لے کر بیرون ملک جانے کی بجائے اپنے ملک میں رہ کر باعزت طریقے سے زندگی گزاریں-اس کے علاوہ حکومت کو ایجنٹ مافیا کہ خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے جو لوگوں کو موت کے راستے سے گزارتے ہیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • سلف میڈیکیشن یا خود سے دواں   تحریر: حفیظ اللہ

    سلف میڈیکیشن یا خود سے دواں تحریر: حفیظ اللہ

    خود سے میڈیسن لینا یعنی (سلف میڈیکیشن) ایک خطرناک فعل ہے
    آج کل ہم سارے ایسے ہی کرتے ہے کہ مریض کو ڈاکٹر کو دکھانے کے بجائے خود سے میڈیسن لیتے ہے اگر چہ ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ جو میڈیسن ہم لیتے ہے اس میڈیسن کا ہمارے جسم پر کوئی اثر ہے یا نہیں
    یا وہ میڈیسن اس بیماری کے لئے ہے یا نہیں
    یا وہ میڈیسن ہمارے عمر اور وزن کے حساب سے کتنا ملی گرام رکھنا ہے ایسے خود سے میڈیسن بعض اوقات ہمیں بہت سے بیماریوں میں مبتلا کرتا ہے
    سر درد بخار جسم میں درد کے لئے ہم بے تحاشا میڈیسن لیتے ہے اس میں بعض لوگ تو سیدھا اینجکشن لگاتا ہے
    پیناڈول ڈسپرین فلئیجل تو عام دوائیاں ہے لیکن اس کا استعمال بھی حد سے زیادہ نہیں کرنا چاہیے اگر کسی ایمرجنسی میں استعمال کرنا پڑے تب بھی ملی گرام کم رکھنا چاہئے بعض لوگ تو میڈیسن کے دکان پر ڈاکٹر یا ٹیکنیشن کو زیادہ ملی گرام کا بتاتا ہے کہ تیز دواں دو
    اینٹی بائیوٹک دوائیوں کا خود سے استعمال تو بلکل ترک کرنا چاہئے جب تک ڈاکٹر کا تجویز کردہ دواں نا ہو
    کسی بھی دوائی کا سائڈ ایفکٹ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے
    بسا اوقات زیادہ اینٹی بائیوٹک دوائیوں کے استعمال سے معدہ،جگر،اور گردوں پر زیادہ اثر پڑتا ہے
    تو کسی علاج کے غرض سے دواں کا خود سے استعمال ہمیں بہت سے بیماریوں کے طرف دکھیلتا ہے اور ایک چھوٹی سی غلطی سے بہت جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے
    ہمیں چاہئے کہ ڈاکٹر کے بجائے خود سے میڈیسن خاص طور پر اینٹی بائیوٹک کا استعمال بلکل ترک کردے تاکہ ہم مزید بیمار نا پڑ جائے
    بعض اوقات ایسے لوگ جو کسی دواں کا استعمال کرتا ہے وہ بھی دوست یا کوئی اسکے سامنے بیماری کا ذکر کر کے تو وہ بھی فوراا اس کو بتاتا ہے یہ دواں لے لو ہر گز ایسے دوائیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے
    آج کل ہر گلی محلے میں ڈاکٹر ہو یا میڈیکل ٹیکنیشن موجود رہتا ہے خود سے میڈیسن لینے کے بجائے اس سے مشورہ لینا چاہئے اور ڈاکٹر یا ٹیکنیشن کا تجویز کردہ دواں لینا چاہئے تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرے کے تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے

    @H_afiz8 ٹوئٹر آئی ڈی