Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    ﷲ سبحانہ و تعالی کا روحِ عرض پر ایک اصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم اس (ﷲ)کے دئیے ہوئے مہم/راستے پر نہیں چلی اس(ﷲ) نے اس قوم کو تباہ کر دیا یا اس سے اپنی رحمت کے سائے اُٹھا لیے اور ان کو کھلی چھُوٹ دے دی گئی کہ جو کرنا ہے کرو ایک دن میری ہی طرف پلٹ کر آؤ گے۔ چھ سو سال حکومت کی عربوں نے اور بلاآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پھر رحمت کے سائے ترکوں کے حصے میں آئے پھر برصغیر پر پڑے اور ستائیسویں رات یعنی شبِ قدر کو پاکستان ایک تحفہ کی صورت میں نازل ہوا۔ دنیا میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چلی، کوئی عرب قومیت پر، کوئی نسل اور رنگ پر لیکن تحریک پاکستان وہ واحد تحریک تھی جو اسلام کے نام پر چلی کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ یہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بنا، آج اسی میں رہنے والے مسلمان صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اس ملک کو ﷲ سبحانہ و تعالی نے خاص مقصد کے کیے ہمیں تحفہ میں دیا لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملنے والے ملک میں ہر جگہ دوہرا میعار پایا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والا ہر شخص اپنے چند ٹکے کے فائدہ کے لیے اسلام مذہب، دین، ایمان، قانون اور ریاست کا نقصان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہاں ایک گلی محلے سے لے کر گاؤں شہر اور پھر صوبوں میں بھی نسلی تناسب عام ہے اسلام تو دور انسانیت کی بھی قدر نہیں۔ آج کل ہر جگہ سیاست چل رہی ہے وہ گھر ہو یا رشتہ دار، گاؤں ہو یا شہر، صوبہ ہو یا ملک۔ یہاں ایک پڑھے لکھے انسان کو ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ملازمت حاصل کرنے کے لیے لیکن ایک ان پڑھ جاہل چور ڈاکو وزیراعظم تک بن جاتا ہے۔ ہر ایک بندہ خود کو ایک اسلامی مذہبی مان کرکے دوسروں کو کافر یہودی ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ عوام ایک پڑھے لکھے یا مذہبی بندے کو ووٹ نہیں دیتی اور چور ڈاکو ، کرپشن سے بھرپور کو وزیر تک بنا دیتی ہے۔ ایک وقت کی روٹی چرانے والے کو مار مار لہولہان کر دیتی ہے اور اربوں چوری کرنے والوں کے نام کے نعرے لگتے ہیں۔ کسی محکمے میں ایک ایماندار آفیسر آنے سے سارے کرپٹ آفسران اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا حق تو دور کی بات ہے اپنے ہی گھر کے افراد اور رشتہ داروں کا حق کھانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہر چیز میں ملاوٹ کرنے کی عادت کو دن بدن بڑھاتے ہیں اور الزام اپنے ہی چُنے ہوئے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ اپنی پسند کی چیزیں اقتدار مل جائے تو ٹھیک ورنہ اسلام کیا ریاست کیا ہر ایک کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے والے ملک ہونے کے ساتھ ہم بےایمانی میں سب سے اُوپر ہیں۔ اس میں کسی کافر، یہودی اور عیسائیوں کا عمل دخل نہیں بلکہ اپنا ہی دوہرا میعار ہے جو ہم کو ہمارے کردار اور عادات پر پردہ ڈال کر صرف دوسروں کی خامیوں کو دیکھنے اور پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج کل پاکستان میں رہنے والے پاکستانی اور مسلمان کم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان زیادہ نظر آتے ہیں۔ بشتر افراد سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کسی بھی ملک و ریاست کی سلامتی، امن و امان میں کلیدی کردار صحافت اور میڈیا کا ہوتا ہے جب کہ آج کل میڈیا بھی سیاست زد میں آیا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ سب ہی ایک طرح کے ہیں بہت سے صحافی آج بھی دن رات محنت کرکے ریاست، اسلام اور عوام کے مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب عوام کو سوچنا کہ ہمیں خود کو ٹھیک کر کے ایک اچھے مسلمان اور پاکستانی بننا ہے تاکہ ہم سے جو ﷲ نے بحثیت قوم کام لینا ہے وہ بھی کر سکیں اور دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے آخرت بھی سنور سکے۔ @SajjadHQamar

  • آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر:  فائزہ خان

    آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر: فائزہ خان

    آزاد کشمیر کے کل کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ بظاہر میک اپ شدہ ڈمی کو لوگ دیکھنے تو آ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ اسی کو دیں گے جن کی زبانوں سے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں۔ جن کے وعدوں پر انہیں یقین ہے۔ جن کی بیانیہ مضبوط ہیں
    کشمیری جو اپنے فوجی جوانوں پر جان دیتے ہیں انہوں نے نون لیگ کا بنیادی بیانیہ ہی مسترد کر دیا۔ اداروں کے خلاف زبان چلانے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے نون لیگ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    کشمیریوں نے بدلے کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا
    علی امین گنڈا پور کے صرف اتنا کہنا کہ مریم نے سرکاری خرچہ سے پلاسٹک سرجری کرائی انہیں کشمیر سے دیس نکالا دے دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نون لیگ کی حکومت تھی تو سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بدلے کی سیاست کا کھیل کھیلا گیا مگر کیا فائدہ ہوا کشمیریوں نے ان کا یہ کھیل بھی مسترد کر دیا
    جبکہ بلاول کو این الیکشن کی کمپین کے دوران امریکہ جانا زیادہ ضروری لگا صرف امریکہ کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کرتے ہمیں استعمال کرو ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں ایک ایسے وقت میں امریکہ جانا بھی مہنگا پڑا۔ اور آصفہ بھٹو نے پیچھے سے دو ناکام جلسیاں کرکے ان کے الیکشن میں جیتنے کی ہر امید پر پانی پھیر دیا مریم اور بلاول نے اپنی پارٹیوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کشمیر میں الیکشن صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں جیتا گیا بلکہ مریم اور بلاول کی پچگانہ حرکتوں نے بھی پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ دی اور جیتنے میں مدد فراہم کی
    اس بار آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران بہت گہما گہمی نظر آئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے اسی سلسلے میں بہت سے بیانات بہت سخت بھی دے دیے گئے تھے تینوں بڑی پارٹیوں نے ان انتخابات میں گہری دلچسپی بھی لی اور آخری وقت تک اپنے آپ کو ہی فاتح قرار دیتے رہے مگر نتائج وہی برآمد ہوئے جو عمران خان کے جلسے میں آنے والی عوام سے ظاہر تھے دیکھا جائے تو مریم کے جلسے میں بھی عوام کم نہ تھے مگر نتائج نے ثابت کیا کہ عوام بس سجی سجآئی ڈمی کو دیکھنے آتے تھے ورنہ وہ عمران خان کے بیانیہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاص مماثلت رکھتی ہے
    اس سے پہلے کی حکمران جماعتیں کشمیر کے عوام کو الگ حیثیت دینے کو تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کہہ کر کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنی علیحدہ حیثیت رکھنا چاہتے ہیں کشمیریوں کا دل جیت لیا اب دعا یہ ہے کہ عمران کشمیر کی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز کس طرح ان کے اس مشن کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں

    @_Faizakhann

  • مسیحا یا مافیہ  تحریر:  توقیر عالم

    مسیحا یا مافیہ تحریر: توقیر عالم

    کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک ڈاکٹر کو مسیحا سمجھا جاتا بے شک ڈاکٹر بننے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے
    بہت محنت اور قسمت کے ساتھ کسی میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا ہے بھاری فیس اور بہت ساری محنت کے بعد فارغ التحصل ڈاکٹر کو ہاوس جاب کرنی پڑتی ہے اس کے بعد وہ عملی میدان میں قدم رکھتا ہے والدین کی عمر بھر کی کمائی تعلیم پر لگ چکی ھوتی ہے ترقی اور بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں سجائے یہ ڈاکٹر دن رات مریضوں کی جان بچانے میں لگے رہتے ہیں موجودہ دور میں کرونا جیسی وباء میں ڈاکٹرز نے جس محنت اور جانفشانی سے اپنی ڈیوڈی سرانجام دی وہ قابل ستائش ہے اس عمل میں سینکڑوں ڈاکٹرز نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے بے شک ڈاکٹرز بھی افواج کی طرح اپنی قوم کو بیماریوں سے بچانے کے لیے دن رات محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں میں ایسے کئی ڈاکٹرز کو جانتا ھوں جو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار بنا کسی لالچ کے مفت علاج کرتے ہیں اور باقاعدہ مختلف شہروں قصبوں اور دیہی علاقوں میں اپنے کیمپ لگاتے ہیں جہاں پر غریب اور نادار افراد کا مفت علاج کیا جاتا ہے اس بات میں کوی شک نہیں کہ دریا دلی اور انسانیت سے محبت پاکستانی قوم کے خون میں شامل ہے جس کی زندہ مثالیں ایدھی فاونڈیشن شوکت خانم ہسپتال اور ایسے بہت سے ادارے ہیں جو فقط عوام کے تعاون سے لاکھوں غریب لوگوں کو مستفید کر رہے ہیں
    جہاں ایسے لوگ موجود ہیں وہیں دو نمبری اور بے ایمانی میں بھی ہماری قوم کچھ کم نہیں دولت کے لالچ میں ہم ہر غلط کام کر جاتے ہیں اس کام میں ہمارے ڈاکٹرز بھی کم نہیں سرکاری ڈکٹرز کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ مریض کو جلد سے جلد لاھور لیجانے کا کہہ دیا جاتا ھے
    ادویات بنانے والی کپمنیاں رشوت کے طور پر ڈاکٹرز کو لاکھوں روپے کے تحائف اور مختلف ممالک کے دورے کرواتے ہیں تاکہ ڈاکٹرز مریض کو ان کی مہنگی ادویات تجویز کریں جو کہ اس مقدس پیشے سے بے ایمانی کے متراف ھے پرائیویٹ ہسپتالوں میں مختلف ٹیسٹ مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر کئیے جاتے ہیں جس سے کا بوجھ مریض کے لواحقین کو اٹھانا پڑتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو توجہ نہیں دی جاتی بلکہ ان کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی راہ دکھائی جاتی ہے جہاں انہی سرکاری ڈاکٹرز کو بھاری فیسں ادا کرنے کے بعد علاج کیا جاتا ہے پرائیویٹ ہسپتال بھی ہوٹلوں کی طرز پر فیس لیتے ہیں جتنی اچھی کسی ہسپتال کی عمارت اور اندر خوبصورتی ھو گی اتنی زیادہ ڈاکٹر کی فیس ھو گی ہمارے ہاں ایک کہاوت ھے خدا دشمن کو بھی وکیل اور ڈاکٹرز سے بچائے کیونکہ ان کے پاس جانے کے بعد آپ کی جمع پونجی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے آئے روز ڈاکٹرز کی ہڑتال سے مریض خوار ھو جاتے ہیں ڈاکٹرز بھی اب ایک مافیہ کی صورت اختیار کر چکے ہیں جو جب چاہیں حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے کام چھوڑ کر احتجاج کرنا شروع کر دیتے ہیں اپنے کمیشن کے چکر میں حاملہ خواتین کے آپریشن کرنا بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی بجائے انفینٹ فارمولے کی تجویز اور غریب مریضوں کو مہنگی ادویات تجویز کرنا ڈاکٹرز کا معمول ہے ڈاکٹرز کو اس سب کے بدلے میں ادوئیات بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے تحائف کے نام پر اچھی خاصی رشوت دی جاتی یے
    حکومت کو چاھیے انفینٹی فارمولے کی تشہیر پر پابندی لگائی جائے ڈاکٹرز کو نسخہ لکھتے ھوے برینڈ کی بجاے فارمولہ لکھنے کا پابند کیا جائے اور بلاوجہ آپریشن کرنے والے اور مریضوں کو ہسپتالوں میں ریفر کر کے کمیشن کھانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے
    ڈاکٹرز بھی اپنا احتساب کریں اور اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں تاکہ اس مقدس پیشے کو بدنام ھونے سے بچایا جا سکے

    اللہ ہم سب کو انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے آمین

    @Lovepakistan000

  • پاکستان میں صحافت کا معیار اور پرنٹ میڈیا کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا تحریر:  سید محمد مدنی

    پاکستان میں صحافت کا معیار اور پرنٹ میڈیا کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا تحریر: سید محمد مدنی

    پاکستان میں صحافت کا معیار اب آپ دیکھ ہی رہے ہیں میں نے سنا تھا کہ صحافت مقدس پیشہ ہے عبادت ہے مگر اب صحافت کسی بھی کوٹھے پر ایک طوائف کی طرح بِکنے کے لیے تیار رہتی ہے اور اس کو بیچنے والے بھی وہی کردار ہوتے ہیں جو بدقسمتی سے صحافت میں ہوتے ہیں اور اپنا قلم ایمان روح دل غرض یہ کہ سب کچھ چند ٹکوں کی خاطر بیچ دیتے ہیں اور اب جو پاکستان میں صحافت ہو رہی ہے اس کو اپ دیکھ ہی رہے ہوں گے پرنٹ میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کی قدر گرتی چلی جا رہی ہے اس کی وجہ ہے جھوٹ اور صرف جھوٹ جب آپ کسی کے لیے ایک بار بِکتے ہیں تو آپ بار بار بکتے ہیں اب صحافت میں اول فول اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہ تمیز بھی ختم ہوچکی ہے کہ آیا بات ریاست پاکستان کے خلاف ہے بھی یا نہیں ہر چیز سے بے نیاز کو کر جو دل اور منہ میں آتا ہے لکھ دیتے ہیں اب ڈیجیٹل میڈیا نے پرنٹ میڈیا کی جگہ لے لی ہے جو اب ایک نئی دنیا ہے آپ نے نوٹ کیا ہوگا بلکہ نوٹ کیا کرنا سب ہی اب وی لاگز دیکھتے ہیں اس کی وجہ کہ وی لاگرز بھلے خبر فائدے کی ہو یا نہ ہو سچ اور حقائق بیان کرتے ہیں اب وہ دور چلے گئے کہ آپ من مانی کر کے لکھ دیں یا بول دیں اب جھوٹ بولنا اتنا آسان نہیں رہا کیونکہ کچھ ہی منٹ بعد جھوٹ ایکسپوز ہوجاتا ہے ہاں البتہ یہ الگ بات ہے کہ آپ چند ٹکوں کی خاطر اگر بک گئے ہوں تو آپ میں اچھے اور برے کی تمیز بھی ختم ہو جاتی ہے
    لوگ بغض میں آ کر ایسی ایسی بات کر جاتے ہیں کہ انھیں ﷲ سے بھی خوف نہیں آتا
    ہم نے صحافت کا بہت برا حشر کردیا ہے کہ لوگ اب اس پیشے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
    صحافت کو مقدس پیشے کی طرح اپنائیں اور اپنی آخرت کو سنواریں نا کے بگاڑیں اب یو ٹیوبرز بھی اپنے اپنے وی لاگز کرتے ہیں مگر کچھ ایسے عناصر ہیں جو یہ تک نہیں دیکھتے کہ آیا ہم بات جو کررہے ہیں وہ درست بھی ہے یا نہیں کچھ جھوٹ بھی اتنے کانفیڈینس سے بولتے ہیں جیسے انھیں کسی کا خوف ہی نا ہو چلو دنیا میں تو جھوٹ بول لو گے آخرت میں کیا کرو گے

    پاکستان میں صحافت کو عزت دیں اور جب آپ عزت دیں گے تو بدلے میں دنیا آپ کی بھی عزت کرے گی اپنے آپ ایک معیار رکھیں اور اسی پر قائم رہیں تاکہ آپ کو دیکھنے والی دنیا آپ کی عزت کرے

    میرا آخری پیغام صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اسے اپنے من پسند مفادات کی خاطر گندا نا
    کریں.
    شکریہ

    @ M1Pak

  • تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر:  فرقان اسلم

    تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر: فرقان اسلم

    قارئین کرام اگر ہمیں کسی چیز کی عادت ہوجائے تو وہ ہمارے لیے ایک نشہ بن جاتا ہے۔ اس کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ چیز ہمارے دل و دماغ میں بس گئی ہوتی ہے اور پھر اس سے چھٹکارا بہت مشکل ہوتا ہے۔
    بالکل اسی طرح کا حساب تمباکونوشی کا ہے۔ شروع شروع میں انسان اسے معمولی سمجھ کر یا شوق کے طور پر اس کا شکار ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ انسان کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کو اس کام کی لَت لگ جاتی ہے۔ اور اس کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ تمباکونوشی کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثر نوجوان ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ بری محفل میں بیٹھنے سے اس کا شکار ہوتے ہیں اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کا خیال رکھیں کہ وہ کن کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں جو طلباء پڑھتے ہیں وہ اس ناسور کا شکار ہیں۔ جو مستقبل کے معمار اپنی توجہ پڑھائی پر دینے کی بجائے ان فضول کاموں میں دیں گے تو پھر ان کا مستقبل روشن کی بجائے تاریک ہوتا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر تمباکونوشی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انسان کی جسمانی اور دماغی صلاحیت کو کمزور کردیتی ہے۔ جب انسان کی صحت ہی بری طرح متاثر ہوگی تو نہ تو پڑھائی ہوگی اور نہ دوسرے کام۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکونوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکونوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اور کارسینوجنز بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ تمباکونوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈی نینس، مجریہ 2002 کے مطابق اس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے ۔
    لٰہذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس سے بچنے کے لیے لوگوں کے اندر شعور اور آگاہی پیدا کی جائے۔ اور حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس اب ہم اس لَت کا شکار ہوگئے ہیں اب نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر انسان مصمم ارادہ کرلے تو ہر بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے ایک ذہن سازی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا ہمارے معاشرے میں فقدان ہے۔
    ہر برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ تمباکونوشی وقت کے ساتھ ساتھ دولت بھی ضائع کردیتی ہے۔ ظاہر ہے جب انسان اس کا شکار ہوگا تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس کا مال کن کاموں میں استعمال ہورہا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی فضول خرچی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ فضول خرچی کرنے والے کو تو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو اس برے کام سے محفوظ رکھے اور جو اس کام میں مبتلا ہیں ان کو اس سے نجات حاصل فرمائے۔۔۔آمین

    @Rumi_PK

  • جنات اور جادو  تحریر : جواد خان یوسفزئی

    جنات اور جادو تحریر : جواد خان یوسفزئی

    دنیا کے ہر معاشرے میں غیر مرئی مخلوقات کے بارے میں عقیدے ملتے ہیں۔ہر معاشرہ اپنے کلچر اور زبان کے مطابق ان کا نام رکھتا ہے اور ان کی تفصیلات طے کرتا ہے۔ابراہیمی مذاہب میں ان چیزوں کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں لیکن دیگر مذاہب میں یہ مذہب کے بنیادی اعتقادات کا لازمی حصہ ہیں۔ ان مذاہب، مثلاً ہندومت میں یہ سب دیوی دیوتا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کائینات بالخصوص انسانی زندگی میں یہ بنیادی رول ادا کرتے ہیں۔ لوگ ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں۔
    ابراہیمی مذاہب میں اگرچہ غیر مرئی باشعور مخلوقات کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے تاہم ان کو دیوی دیوتا کی حیثیت حاصل نہیں۔ اس لیے یہ زیادہ سے زیادہ انسان کی طرح باشعور اور ذمہ دار مخلوق ہوسکتے ہیں، بس۔ بلکہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجہ سے یہ انسان کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ ان مذاہب میں ان مخلوقات کی رضامندی حاصل کرنے یا ان کو خوش کرنے کی کوشش کرنامستحسن نہیں سمجھا جاتا۔ خصوصآً اسلام کے کڑے موحدانہ اصولوں کی وجہ سے ایسے مخلوقات کو برتر سمجھنا، ان کی اطاعت کرنا اور ان سے مدد مانگنا شرک کے زمرے میں آسکتا ہے۔
    اسلام میں صرف دو قسم کی غیر مرئی مخلوقات کا تصور پایا جاتا ہے۔اول فرشتے ہیں جو خدائی نظام کے کارکن اور اس کے حکم کے تابع ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ با اختیار مخلوق نہیں بلکہ اللہ تعالےٰ کے احکام کو بجا لانے والے ہیں۔اس لیے انسان کے لیے ان کی اطاعت یا ان کو خوش رکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری مخلوق جن ہے۔ جن کے معنی عربی میں "پوشیدہ” کے ہیں۔ یعنی غیر مادی، غیر مرئی با اختیار مخلوق۔ اس کے بارے میں دینی مأخذ زیادہ تفصیلات بیان نہیں کرتے کیونکہ انسان کو ان کے بارے میں جاننے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ ان کے بارے میں ایک اہم اطلاع یہ ہے کہ شیطان بنیادی طور پر انہی میں سے تھا۔ نیز یہ کہ شیطان کے کچھ ایجنٹ جنات میں سے بھی ہیں (جیسے انسانوں میں سے ہیں)۔شیطان اپنے ان دو قسم کے ایجنٹوں کے ذریعے انسانوں (اور غالباً جنات کو بھی) گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالےٰ ٰ کا حکم ہمیں یہ ہے کہ ہم ان شیاطین کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔شیطان اور اس کے دونوں قسم کے ایجنٹ ایک نیٹورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔جنی شیاطین انسانی شیاطین کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کو غلط کاموں پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس عمل کو جادو کہتے ہیں۔ جادو (جسے کوئی بھی نام دے دیں) مذہب کا متضاد عمل ہے۔مذہب خود کو ایک برتر ہستی کی مرضی کے تابع کردینے کا نام ہے، جب کہ جادو کا مقصد کسی ان دیکھی طاقت کو قابو میں کرکے اس سے فایدہ اٹھانا ہوتا ہے۔پس جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی ان دیکھی طاقت ہے جس کی مدد سے وہ کوئی کام طبعی ذرائع کے بغیر کر سکتا ہے، وہ جادو کرتا ہے۔
    قران مجید میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ جادو کفر ہے (کیونکہ جادو کرنے والا اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگتا ہے)۔ قران مجید کی آخری دو سورتوں میں کچھ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت ہے۔ ان میں جھاڑ پھونک کرنے والے (نفاسات فی العقد) نیز جنی اور انسی شیطان شامل ہیں، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔ ان کو ملا کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جنی شیطان انسی شیطانوں کی مدد کرتے ہیں اور انسی شیطان لوگوں کو توحید کی راہ سے بھٹکانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان حربوں میں ایک جھاڑ پھونک بھی ہے۔

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.Com

  • حضرت محمدﷺ   کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    حضرت محمدﷺ کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اس جہاں میں بہت سے رسول اور نبی بھیجے۔ حضرت آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے پہلے نبی ہیں جبکہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کا شجرہ نسب کچھ اس طرح ہے۔
    (محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن مناف بن قُصی بن کلاب بن مُرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن ادو بن ہمسیع بن سلامان بن عوض بن یوز بن قموال بن اُبی بن عُوام بن ناشد بن حزا بن بلداس بن یدلاف بن طابخ بن جاحم بن ناحش بن ماخی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعا بن حمدان بن سنبر بن یثربی بن یحزن بن یلجن بن ارعوے بن عیضی بن دیشان بن عیصر بن اقناد بن ایہام بن مقصر بن ناحث بن زارح بن سمی بن مزی بن عوض بن عرام قیدار بن اسمعیل بن ابراہیم بن آزر بن نحور بن سروج بن رعو بن فلج بن ہود بن سلح بن ارفکسد بن سام بن نوح بن لمک بن متوسلح بن ادریس بن یارو بن محل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدمؑ)
    بنی اسرائیل میں نسل در نسل نبوت کا سلسلہ جاری رہا، پیغمبروں کی اولاد (بیٹے) بھی پیغمبر ہوئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور جوان بیٹوں کے باپ بھی ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام خود نبی ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے والد بھی ہیں۔ اس طرح حضرت داؤد علیہ السلام اللہ کے پیغمبر ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام آپ کے بیٹے ہیں۔
    تو پھر حضرت محمدﷺ کا کوئی جوان بیٹا کیوں نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں”۔ آخر اس میں کیا حکمت ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پہ اس لیے زور دیا کہ حضرت محمدﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں کیوں کہ آپؐ خاتم النبین ہے۔ اگر حضرت محمدﷺ کا کوئی بیٹا ہوتا اور وہ جوان ہوتا تو دو صورتیں ممکن ہوتیں۔
    ایک یہ کہ بیٹا بھی اللہ کانبی ہوتا جیسا کہ پہلے انبیاء کے بیٹے نبی یا رسول تھے، اور دوسری صورت یہ کہ بیٹا نبی نہ ہوتا۔ یعنی دو ہی امکانات ممکن تھے۔ پہلی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی نہ ہوتے بیٹا بھی جوان ہو کر نبی بنتا اور سلسلہ نبوت حضرت محمدﷺ پر ختم نہ ہوتا۔ دوسری صورت میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا جوان ہوتا اور نبی نہ بنتا تو دوسرے انبیاء کی امتیں طعنہ دیتیں کہ ہمارے نبی کا تو بیٹا بھی نبی تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی جوان بیٹا ہو اور نبوت کی سعادت سے محروم رہے۔
    جس طرح اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں ہے اگر ہوتا تو وہ بھی خدا ہوتا اور یہ شرک ہوتا پھر توحید ،توحید نہ رہتی۔ جس طرح توحید الوہیت نے رب کو بیٹے سے پاک رکھا اسی طرح شانِ ختم نبوت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوان بیٹے سے علیحدہ رکھا۔
    حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم وفات پاگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھاتے ہوئے فرمایا ان کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی ہے اور اگر زندہ رہتے تو سچے نبی ہوتے۔
    اس لئے اللہ رب العزت نے انہیں بچپن ہی میں اپنے پاس بلالیا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کو نہیں آنا تھا۔ حضرت محمدﷺ کو آخری نبی مانے بغیر ایمان معتبر نہیں۔
    تحریر کے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر خاتمہ کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • امیرالمومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ کی زندگی پر مختصر نظر تحریر: عثمان بشیر گجر

    آپؓ کانام عثمان کنیت ابوعبداللہ لقب ذوالنورین تھا آپ کاشمار سابقین اسلام میں ہوتا ہیں
    آپؓ نے 34سال کی عمر میں اسلام قبول کیا
    آپؓ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے
    آپؓ کو نبی اکرمؐ کا دوہرا داماد ہونے کا شرف بھی حاصل تھا
    آپؓ کے دور خلافت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا
    اس لئے آپؓ کو جامع قرآن بھی کہا جاتا ہیں
    آپؓ نے سب سے پہلے اسلام کی خاطر سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی
    اور بعدازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی طرف فرمائی
    آپؓ کے نکاح میں سرکار دوعالمؐ کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ رہی ہیں جس کی وجہ سے آپؓ کالقب ذوالنورین ہیں
    آپؓ کاشمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہیں
    آپؓ کے دور خلافت میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی
    آپؓ کے دور خلافت میں ہی پہلا بحری جہاز بنایا گیا

    نبی اکرمؐ نے فرمایا
    جنت میں ہر نبی کا ایک رفیق( ساتھی) ہو گا میرا رفیق عثمان بن عفان ہو گا

    آپؓ کو متعدد مرتبہ نبی اکرمؐ نے جنت کی بشارت دی
    سیدنا عبد الرحمن بن سمرہؓ فرماتے ہیں
    جس وقت نبی کریم ﷺ جیش العسرة کی تیاری کر رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفانؓ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور انہیں آپ ﷺ کی جھولی میں ڈال دیا

    ❞فرأيت النبي ﷺ يقلبها في حجره ويقول ماضر عثمان ما عمل بعد اليوم.❝
    ترجمہ:
    میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ ان دیناروں کو اپنی جھولی میں الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرمارہے تھے:
    "آج کے بعد عثمانؓ کا کوئی عمل انہیں کچھ بھی نقصان نہیں دے سکے گا۔”
    📚 سنن الترمذی:3701:وسندہ حسن لذاته

    آپؓ شرم وحیا کا پیکر تھے

    ایک واقعہ اماں عائشہؓ بیان فرماتی ہیں
    رسول الله ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کی دونوں رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا اتنے میں باری باری سیدنا ابو بکرصدیقؓ اور سیدنا فاروق اعظمؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور ایسے ہی لیٹے لیٹے ان سے گفتگو کرتے رہے
    پھر جب سیدنا عثمان بن عفانؓ نےاندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنا کپڑا درست کرلیا
    سیدہ اماں عائشہؓ فرماتی ہیں
    ان تینوں کے جانے کے بعد جب میں نے آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا

    ❞ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة.❝
    ترجمہ: "میں اس شخص سےحیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں!”
    📚 «صحیح مسلم: ٢٤٠١
    آپؓ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے
    جس وقت باغیوں نے آپؓ کو گھر میں محصور کر دیا اور 40دن تک کھانا اور پانی تک اندر نہ جانے دیا
    تو اس وقت سیدنا علی المرتضیؓ نے اپنے دونوں شہزادوں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو سیدنا عثمان بن عفانؓ کی حفاظت پر مامور فرمایا تھا
    اس طرح 40 دن بھوکے اور پیاسے رہنے کیبعد مسلمانوں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ مظلوم مدینہ امیرالمومنین سیدنا عثمانؓ کو سنہ 35 ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعتہ المبارک
    82 سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے

  • صفائی نصف ایمان    تحریر سجاد احمد

    صفائی نصف ایمان تحریر سجاد احمد

    صفائی نصف ایمان ہے کہنے کو تو یے ایک جملہ ہے لیکن حقیقت میں اس میں دنیااور آخرت کی کامیابی کا رازچھپا ہے۔ ایمان اسلام میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ زرا سو چیئے اگر صفائی کوئی عام سی بات ہوتی تواس کو یوں ایمان کے ساتھ جوڑا جاتا ۔ ہم اس اہم رکن کو نہایت آسانی سے قائم رکھ سکتے ہیں اگر ہم اس جملے کو روز مرہ زندگی کاحصہ بنا لیں۔ صفائی قائم رکھنا کوئی مشکل کام نہیں یے ناہی اس میں کوئی راکٹ سائنس درکار ہے جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح ہم اپنے محلے، شہر اور ملک کےلیے بھی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہمیں یے تو یاد رہ گیا کہ ہوا، پانی اور خوراک زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مگر بھول گئے کہ جب یے سب صاف ہونگے تب ہی زندگی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے گلی ،محلے،شہر میں جگہ جگہ کچراڈالنے کے لئے ڈبے تو نظر آتے ہیں مگر ہم انکو استعمال نہیں کرتے جو ہم اصل میں اپنے ساتھ ہی ظلم کرتے ہیں۔ صاف ماحول زندگی کے لئے اتناہی ضروری ہے جتنا کہ ہوا، پانی اور خوراک ضروری ہیں
    افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم لوگ دوسرے ممالک جاکر صفائی کا بہت خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہاں کے قوانین سخت ہیں جبکہ اپنے ملک میں اسکو نظر انداذ کرتے ہیں اور پھرکہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں گندگی بہت ہے۔ پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ مگر ہمارے سیاح جب ان علاقوں کارخ کرتے ہیں تو وہاں بھی گندگی پھیلاکر اس قدرتی حسن کو داغدار کرتے ہیں جو کہ نہا یت افسوسناک ہے۔ حکومت کواس کی روک تھام کیلئے قوانین بنانے چاہیئں جبکہ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئیے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اور ایک اچھا انسان ہونے کے ناطے اپنے اس اہم فریضہ کو سمجھنا ہو گا تا کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں ایک صاف ماحول میں سانس لے سکیں ۔
    @imsajjadkhan