Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عمران خان ، مافیا اور عوام۔  تحریر :احسن وقار خان

    عمران خان ، مافیا اور عوام۔ تحریر :احسن وقار خان

    ہم روز مافیا کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ مافیا اتنا طاقتور بنا کیوں ؟
    ہم مافیا کو پاکستان کی بربادی کا سبب تو قرار دیتے ہیں لیکن کبھی خود اس مافیا کے خلاف کھڑے ہوۓ؟
    ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملے گا ۔
    اگر آج کا مافیا اتنا طاقتور ہے تو اس کی قصور وار عوام خود بھی ہے ۔
    ایک طرف غریب عوام مافیا کو گالیاں نکالتی ہے تو دوسری طرف خود یہی عوام اگر اس مافیا کو کچھ کہو تو اس مافیا کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔

    پاکستانی عوام کی سوچ روٹی کپڑے اور مکان سے شروع ہوتی ہے اور دکھ سکھ میں شرکت سے ہوتی ہوئی گٹر کی صفائی ، نالیاں اور روڈیں پکی کرنے پر پورا ہو جاتی ہے ۔

    افسوس کی بات یہ ہے کے ہمارے پیارے پاکستان کی ایک ایسی جماعت نے تین دفعہ حکومت کی۔ جس نے نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان “کا لگایا لیکن بیرون ملک ”مسٹر 10 پرسنٹ“ کے نام سے مشہور رہی۔
    اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کہ کیوں اس جماعت کو سپورٹ کرتے ہو ؟ تو ان کے پاس بس ایک ہی جواب ہوتا ہے ۔””۔۔بھٹو لیڈر تھا اس لیے سپورٹ کرتے ہیں““۔۔ ان سپوٹروں کو نا پاکستان کی تصویر بیرون ملک خراب ہونے کی فکر ہے نا پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے پر اس جماعت پر غصہ ۔۔۔۔۔۔بس فکر ہے تو اس مردہ بھٹو کی جس نے پاکستان کو تقسیم کر دیا ۔

    اس جماعت کے چوروں ڈاکوں پر ہاتھ ڈالو تو یہی عوام جو روتی ہے ان کی خاطر ان کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے تو مافیا طاقتور کیوں نا ہو ۔؟

    اب آتے ہیں دوسری جماعت کی طرف جس کے لیڈر کو عدالت عظمٰی کی طرف سے”” سسیلہن مافیا ““کے لقب سے نوازا گیا لیکن وہ جناب آج بھی کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”مجھے کیوں نکالا “؟؟اور پھر یہی عوام تالیاں مارتی ہے ۔
    حمزہ شہباز کہتا ہےکہ
    ” کرپشن تو ہوتی رہتی ہے“ـ
    مریم نواز کہتی ہے
    ”” میرے باپ کو جان کی گارنٹی دو پھر پاکستان آۓ گا““
    اس شخص کو پاکستان آتے ڈر لگتا ہےجو پاکستان کا تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہے۔
    سب سے بڑا مافیا اس جماعت میں ہے لیکن طاقتور ہے عوام کی طاقت سے۔اس مافیا کو پتا ہے ہم جو مرضی کریں یہ عوام ہماری حفاظت کے لیے باہر نکل آۓگی ۔
    اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کیوں سپورٹ کرتے ہو تو کہیں گے کہ اس نے موٹر وے بنائی اس نے روڈیں بنائیں۔
    کوئی مجھے یہ نہیں بتاتا کہ کیا روڈیں بنانے سے ان کے گھر کا چولہا جلے گا ؟؟؟؟؟۔

    اب آتے ملک کی تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف جو تعلیم ، روزگار کے نعرہ کے ساتھ 2018 میں اقتدار میں آئی جس کا سربراہ عمران خان آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرتا ہے ۔کشمیر کا سفیر بن کر”” کلمہ حق ““بلند کرتا ہے ۔
    جو روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے پر عمل کرتے ہوۓلنگر خانے بھی چلا رہا ہے اور سستے گھر بھی بنا کر دے رہا ہے ۔
    روڈیں اور پل بھی بنا رہا ہے
    صرف اتنا نہیں ملک میں بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
    بہت سی کمپنیاں کارخانےلگا رہی ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گا ۔لیکن عوام کو یہ سب ایک رات میں چاہیے ۔
    اس عوام کو سمجھنا چاہیے کارخانے، فیکٹریاں اور ڈیم ایک دن میں نہیں بنتے ۔انھیں وقت درکار ہے ۔
    عوام کو سوچنا چاہیے کے اسے کس کو سپورٹ کرنا ہے ایک ایسے شخص کو جس کی وجہ سے ہر شخص کا سر فخر سے بلند ہو رہا ہے ۔ایک ایسا شخص جس کے آنے کے بعد پاکستان ہمیشہ سامنے کھڑا رہتا ہے ۔جس شخص کی وجہ سے اب تمام اہم معاملات میں پوچھا جاتا ہے ۔
    وہ شخص جو اقوام متحدہ میں” کلمہ طیبہ“ یہودیوں کے سامنے سر بلند کرتا ہے ۔جو شخص پاکستان کو دن رات محنت کر کے اندھیرے سے اجالوں میں لا رہا ہے ۔
    یا دوبارہ اس مافیا کو سپورٹ کرنا ہے جس نے پاکستان کو لوٹنے کی سوا کچھ نہیں دیا ۔

    خدارا!!!
    تمام پاکستانی سب سے پہلے پاکستان کا سوچیں ۔کبھی کسی کرپٹ کے بازو نا بنیں ۔
    سب سے پہلے پاکستان کو رکھیں ۔
    پاکستان زندہ باد

    @KhanKh23151672

  • اسلامی احکامات اور لبرلز   تحریر : تقویٰ نور

    اسلامی احکامات اور لبرلز تحریر : تقویٰ نور

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے.انسانی زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل قرآن پاک میں موجود نہ ہو. قرآن پاک میں ہر چیز کے متعلق احکامات موجود ہیں. ہر نیک عمل کا اجر اور ہر گناہ کی سزا بتا دی گئی ہے اور اہل ایمان کو بار بار ان احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی تاکید کی گئی ہے.

    دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا. پاکستان کے بانی رہنماؤں نے اس کے قیام کے دوران ہمیشہ پاکستان کو اسلامی احکامات کے مطابق چلانے کے عزم کا اظہار کیا. لیکن آج کے پاکستان میں جب بھی اسلامی احکامات یا سزاؤں کی بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ جو کہ اپنے آپ کو لبرلز کہتے ہیں اس کے خلاف کمپین شروع کر دیتے ہیں.

    مثال کے طور پر اگر خواتین کے پردے کی بات کی جائے تو قرآن پاک میں متعدد مقامات پر عورت کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کی غلیظ نظروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے. لیکن لبرلز اسے عورت کے حقوق کا استحصال کہتے ہیں حالانکہ جتنی آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے اتنی دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دی. افسوس صد افسوس کہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے اور خود کو لبرلز ثابت کرتے یہ لوگ نہ صرف پردے کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ اپنی حرکات سے اللہ کے اس حکم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.

    اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زنا کے بڑھتے ہوئے واقعات قابل تشویش ہیں.اگر مرد و عورت اسلامی احکامات پر عمل کریں. اول تو یہ واقعات ہوں ہی نا اور دوسرا اگر مجرموں کو اللہ کی نافذ کردہ سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تو ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.. لیکن یہاں پھر وہی لبرلز، غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی تنظیمیں اور این جی اوز شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور اسلامی سزا کو( معاذ اللہ) ظلم سے تعبیر کرتے ہیں.

    مختصر یہ کہ خود کو ماڈرن اور لبرلز ثابت کرنے کے چکر میں یہ لوگ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی برباد کر رہے ہیں کیونکہ نجات تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں ہی ہے.
    @TaqwaNoorPTI

  • "پاکستان کی شان وزیراعظم عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    "پاکستان کی شان وزیراعظم عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    جو قومیں اپنا حال درست نہیں کرتی برے اور کرپٹ لوگوں کو سپورٹ کرتی ہوں اپنے گناہوں پر فخر کرتی ہوں اچھے اور ایماندار لوگ جو ان کی اصلاح چاہیں ان کا مذاق اڑاتی ہوں ایسی قوموں پر پھر اللہ تعالی زرداری اور نواز شریف جیسے بد ترین حکمران مسلط کر دیتا ہے 30 سال تک یہ کرپٹ سیاستدان پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگے رہے ملک کو مقروض کردیا سبز پاسپورٹ اوورسیز پاکستانی باہر کے ممالک میں لوگوں سے چھپاتے پھرتے تھے کہ لوگ یہ نہ سوچیں ہمارا تعلق پاکستان جیسے پسماندہ ملک سے ہے لیکن پھر اللہ نے عوام کی سن لی اور عمران خان جیسا نڈر جرآت مند لیڈر پاکستان کونواز دیا جس نے امریکہ جیسی سپر پاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
    ABSOLUTELY NOT
    کہا اور اپنی پاکستانی عوام کو سر فخر سے بلند کردیے پاکستانیوں کو سر اٹھاکر چلنےکا حوصلہ دیا چین جیسی سپر پاور سے مل کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال دیاہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ سب مخالفین خان صاحب کے اس اچھے قدم کو سراہتے الٹاخان صاحب کے دشمن ہوگے
    وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے اپوزیشن کے لیے ناپسندیدہ بہو کی طرح ہیں لیکن برداشت کرنا مجبوری ہے مجھے یاد ہے جب خان صاحب کے وزیراعظم بننے کا اعلان اسد قیصر نے کیا تو میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب اپوزیشن نے ایسا شور مچایا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی بس ڈنڈے سوٹے اٹھانے کہ کسر باقی رہ گی تھی اور میں سوچ رہی تھی بہت اچھا میسج دے رہے ہیں یہ پوری دنیا کو۔
    پھر تین سال تک اپوزیشن نے ایک دن بھی غریب عوام کے مسائل پر آواز نہیں اٹھائی ۔بلکہ ان چور کرپٹ سیاسی پارٹیوں نے آپس میں اتحاد کرلیا کہ بس کسی طرح سےاپنا چوری کاپیسہ بچانے کے لیے خان صاحب کی حکومت گرا کر چھوڑنی ہےلانگ مارچ دھرنےاور پھر ایسی ایسی دھمکیاں کہ بعض اوقات میں خود بھی ڈر جاتی تھی کہ واقعی اب حکومت گی۔پھر جب کوئی بس نہ چلا تو وزیراعظم عمران خان پر عدم اطمینان کی تحریک لے کر آگے اللہ تعالی کا خان صاحب پر خاص کرم ہے جس نے خان صاحب کو ستایا اس نے زلت کا ہی سامنا کیا۔۔خان صاحب کو اللہ تعالئ نے یہاں بھی سرخرو کیا اور بھاری اکثریت سے کامیاب کیا ان چوروں نے اس سے بھی سبق حاصل نہ کیا سینٹ کے انتخابات میں جب ان چوروں کو منہ کی کھانی پڑی تو پھر غبارے سے ہوا نکلنی شروع ہوئی
    اندر سے پی ڈی ایم والے لڑلڑ کر مر رہے ہوتے تھے اوپر سے کہتے تھے ہم ایک ہیں لیکن ان کے ستے ہوئے چہرے کوئی اور ہی کہانی بیان کررہے ہوتے تھے
    ۔مولانا فضل الرحمان شروع دن سے خان صاحب پر یہودی لابی کا فتوی لگاتے آرہے ہیں کوئی موقع جانے نہیں دیتے تھے کہ لوگوں کو یہ نہ بتائیں کہ عمران خان یہودیوں کا سپوٹر ہے
    ‏جو ہر بات کا آغاذ اس بات سے کرتا ہو ، یا اللہ تجھ پر ایمان رکھا ہوں اور تجھی سے مدد مانگتا ہوں اس کے ایمان پر سیاست کرنے والوں کی عقل پر ماتم کے سوا اور کیا ہو سکتا تھاایمان اللہ اور بندے کا معاملہ ہے اگر آپ کو خان میں بددیانتی اور اقربا پروری نہیں ملتی تو اتنا کیوں گرتے ہو؟
    مولانا فضل الرحمن کا جب تک بس چلتا رہالوگوں کے دلوں میں خان صاحب کے لیے زہر بھرنے کی پوری کوشش کرتے رہے لیکن پھر خدا کا انصاف کہ اللہ نے کیسے انھیں ثبوتوں کے ساتھ ایکسپوز کیا کہ مولانا صاحب کے کارندوں کے تانے بانے اسرائیل سے جا ملے کہ کیسے یہ اسرائیل اور امریکہ کے پاوں پڑتے رہے کہ ایک دفعہ ہمیں پاکستان کا وزیراعظم بنا دیں پاکستان کا ہر فیصلہ آپ کی مرضی سے ہوگا یہ تو اللہ کا پاکستان پر خاص کرم ہے کہ اس نے پاکستان کو ایک سچا عاشق رسول ﷺ محب وطن لیڈر دیا شائد اس لیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور جس کی حفاظت کا بیڑا میرے رب نے اٹھایا اسے زوال کیسے آسکتا تھا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا پہلی دفعہ پوری دنیا میں روشن چہرہ ابھر کرسامنے آیا ہے
    اور کشمیر الیکشن بری طرح ہارنے سے مریم باجی ویسے ہی اب لمبے عرصے تک کومے میں چلی جائے گی مولانا صاحب کسی نادیدہ بیماری میں مبتلا ہیں اللہ جانے کونیسی بیماری ہے کہ خود کو نظر بند ہی کرلیا ہے اب بہت موقع ہے خان صاحب کے پاس ان دو سالوں میں بہت کچھ کرنے کا۔ جب تک یہ چور غدار لٹیرے دوبارہ سر اٹھانے کے قابل ہوں بڑے بڑے فیصلے کرلیں۔۔چوری کا پیسہ ری کور کرنا خان صاحب کے لیے سب سےبڑا چیلنج ہے لیکن خان صاحب کے ساتھ رب کی مدد قوم کی دعائیں ہیں اللہ ضرور سرخرو کرے گا ان شاءاللہ
    https://twitter.com/Farzana99587398?s=09

  • ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    جب ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ،جنہوں نے ہمیں دنیا کے رسم و رواج سکھایا ، جو ہمارے لئے مشکلات کے وقت ہمارے پاس موجود تھے ، جو اچھے وقت میں ہمارے ساتھ ہنستے تھے ، جنہوں نے ہمارے لیے اپنی تمام تر خوشیاں اور خواہشات کو قربان کیا ، ہم میں سے بیشتر اپنے والدین کے بارے میں فورا ہی سوچتے ہیں۔ اور یہ سچ ہے، ہمارے والدین وہی ہیں جو ہماری زندگی میں تقریبا ہر چیز کے ساتھ ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    ہمارے والدین ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے لیے پلاننگ کر لیتے ہیں اور کچھ چیزوں کی فہرست بھی بنالیتے ہیں ، ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں ، ہمارے تعلیم کے اخراجات ، ہماری چھوٹی بڑی خواہشات پوری کرنا ، اور مالی اور تعلیمی لحاظ سے ہمارے لئے بہترین سہولتيں مہیا کرنا، ان کے بغیر ، ہم میں سے بیشتر ان جگہوں پر نہیں ہوتے جہاں ہم آج ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ مگر بدقسمتی سے ، بہت سے لوگ اپنے والدین کے ساتھ اس طرح سلوک نہیں کرتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

    کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ نہایت ہی معمولی موضوعات پر لڑتے رہتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے والدین کو نظرانداز کرتے ہیں ، بجائے اپنے دوستوں کے ساتھ یا آن لائن وقت گزارتے ہیں۔. جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے والدین کو ہماری ضرورت ہیں ، اور جب ہم اپنے
    پریٹکل زندگی شروع کرتے ہیں تو انہیں سہارا دینے کے بجاٸے اولڈ ایج ہوم میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں
    اسلام میں بھی اس کی سختی سے ممانعت ہے

    اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ والدین کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ سلوک کریں ، چاہے ہم جس صورتحال میں ہوں۔ والدین دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی، اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی ،قران مجید میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے

    اللہ تعالیٰﷻ کا ارشاد ہے۔

    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔بنی اسرائیل:23

    شریعت ہمیں واضح طور پر اپنے والدین کا احترام کرنا حکم دیتی ہے۔ ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ،سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہمارے والدین کی اہمیت اور مختلف آیات کو یاد کرنا چاہئے جو ہمیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سارے حدیث بھی ہیں جو ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک کا درس دیتی ہے

    قارئين!ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں کرنے کی عادت بنانی چاہئے،ہمارے والدین نے ہمارے لیے کتنی تکالیف برداشت کیں ، ہمارے والدین سے روزانہ کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے، ان کا حال احوال پوچھیں انہیں کیسی چیز کی ضرورت تو وہ پوری کیں جاٸیں ، ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، انکی ہر چھوٹی اور بڑی خواہشات کو پورا کرنا چاہیے انکی عزت کرنی چاہیے ،آخر میں بس اتنا کہوں گا اپنے والدین کی قدر کریں اور انکی خدمت کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کریں!

    اللہ پاک ہمارے والدین کا سایہ ہم پر قاٸم و داٸم رکھے اور انکی خدمت کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ۔آمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ‏عنوان : ایسا کیوں؟؟  تحریر : شاہ زیب

    ‏عنوان : ایسا کیوں؟؟ تحریر : شاہ زیب

    یہ میرا ہی تجزیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے اور بالکل سچ ہے
    پاکستانی تاریخ میں نواز شریف تقریباً سب سے زیادہ وقت اقتدار میں براجمان رہے لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان بھی نواز شریف نے ہی پہنچایا
    پہلے تو پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ایسا لوٹا کہ ایک لوہار کے بیٹے صرف چار سال کی عمر میں اربوں روپے کے مالک بن گئے
    اور صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان سے باہر لندن میں مہنگے ترین علاقے میں فلیٹس کے مالک نکلے
    نواز شریف نے ان کا جواز پاکستانی سپریم پارلیمنٹ میں یہ دیا کہ میرے والد ایک معروف انڈسٹریلسٹ تھے جن سے وراثت میں ہمیں اتنی جائیداد ملی
    دوسری طرف بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ
    شہباز شریف نے بھی اسی ایوان میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں ایک غریب کسان کا بیٹا ہوں جو اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچا
    اب نواز شریف اور شہباز شریف دونوں سگے بھائی ہیں
    لیکن دونوں کا باپ کے بارے میں اختلاف ہے جو پاکستانی عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے
    نواز شریف سے معصوم سمجھے جانے والے شہباز شریف کی داستانِ کرپشن دیکھی جائے تو موصوف ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے
    درجنوں ملازمین اور نامعلوم پاپڑ والے/ ٹھیلے والے وغیرہ وغیرہ کے اکاؤنٹ سے ان کی رقم نکل رہی ہے
    یہاں تک کہ ان کے ذاتی اکاؤنٹس سے بھی اربوں روپے کی رقم نکل رہی ہے
    پوچھنے پر ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ ہمارے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرتا رہا
    الغرض ان کی کرپشن کی داستانیں ایسی مشہور ہیں کہ یہ خاندان کرپشن میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے اور ان کی پارٹی مسلم لیگ نواز دنیا میں دوسرے نمبر پر 🙏
    نون لیگ اور پیپلز پارٹی بدل بدل کے باریاں لیتے رہے اور ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے کے میں آپ کے حلق سے پیسے نکال لوں گا اور میں آپ کو لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا لیکن یہ صرف بیان بازیاں تھیں لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے
    پانامہ لیکس وکی لیکس میں ان کی ہوشربا کرپشن کے انکشافات کیے گئے
    2018 کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے ان کو مزید ایکسپوز کیا جس کے بعد ایک نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا جن میں ان کی اصلیت عام عوام تک پہنچی
    جس کے بعد یہ جماعت عوام میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھونے لگی
    نواز شریف حسبِ سابق جیل کے ڈر سے مختلف بیماریوں کا بہانہ بنا کر پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا پارٹی کی کمان ظاہری طور پر شہباز شریف اور عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں آ گئی
    مریم نواز کے عمران مخالف بیانات پاکستان مخالفت کا روپ دھارتے گئے
    حتی کہ جو پاکستان کے خلاف کوئی بات کرتا ہے یہ محترمہ ان کے حق میں بیان کرتی نظر آتی ہیں
    یہ پارٹی شروع سے فوج محالف تو رہی ہی ہے اب پاکستان مخالفت میں بھی کوئی شک نہیں رہا
    نواز شریف واحد پاکستانی سابق وزیراعظم ہیں جن کا بیان پاکستان ہی کے خلاف عالمی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا
    انڈیا امریکہ اور اسرائیل جیسے بد ترین دشمن بھی پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں تو یہ ان کی حمایت کرتے ہیں
    آخر ایسا کیوں؟؟
    کیا وجہ ہے؟؟
    مریم نواز کے آنے سے پارٹی کی جو تباہی ہوئی سو ہوئی پاکستان کی بھی دنیا میں بدنامی ہوئی
    اور ان محترمہ کو کوئی پچھتاوا بھی نہیں بلکہ الٹا مزید یہ کھل کر پاکستان کے خلاف بول رہی ہیں
    وجہ صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہے اور کچھ نہیں 🙏
    اقتدار میں آ کے یہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اس کا مشاہدہ آپ ان کے گذشتہ ادوار سے بخوبی لگا سکتے ہیں
    دنیا کے مہنگے ترین منصوبے انہوں نے پاکستان میں شروع کیے کس لئے؟؟ صرف اور صرف بھاری کمیشن کی غرض سے
    اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آیا کنٹریکٹر اصل میٹریل استعمال کر رہا ہے یا ناقص
    اورنج ٹرین کے منصوبے کو دنیا کا مہنگا ترین منصوبہ قرار دیا گیا ہے
    مہر 27 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط اورنج ٹرین پر جتنا پیسہ لگایا گیا اس سے لاہور تا کراچی مکمل نیا ریلوے ٹریک بچھایا جا سکتا تھا
    یا پورے پاکستان میں ہسپتالوں کا ایک بہترین نظام بنایا جا سکتا تھا
    یہی حال میٹرو بسوں کا ہے جو کہ ادھار پر لی گئیں اور ان پہ لاگت بھی ہم پاکستانی عوام افورڈ نہیں کر سکتے
    کیا اب بھی ہم بحیثیت پاکستانی اس کرپٹ لیگ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟
    یقیناً نہیں
    کیوں کہ ہمیں پاکستان اور پاکستان کے وسائل عزیز ہیں ہم ایک بہترین قوم ہیں جو کم ترین بجٹ کے باوجود دنیا کی بہترین فوج رکھتے ہیں واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے عالم اسلام میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں دنیا میں ایک نمایاں جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں ہر موسم اور ہر طرح کا خطہ ارض رکھتے ہیں
    وسیع معدنی ذخائر اور ہر طرح کے پانیوں کی سرزمین کے باسی ہیں الحمدللہ
    دشمن پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی افادیت سے بخوبی واقف ہے
    اور اس کی نظر میں یہی چیزیں سب سے زیادہ کھٹک رہی ہے
    دشمن نے پاکستان کی سرزمین کو نقصان پہنچانے کی خاطر پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جس سے نواز شریف جیسے لوگوں کو خرید کر اپنی مرضی کے کام کروائے افغانستان کے ذریعہ پاکستان میں امن کو نقصان پہنچایا اور بلوچستان میں کئی نام نہاد تحریکیں چلوائیں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچایا
    پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی اس جنگ میں بے مثال فتح حاصل کی اور اب اس فتح کو برقرار رکھنے میں پاکستانی عوام کا کردار نہایت اہم ہے.
    ہمیں چاہئے کہ اپنے ووٹ کی طاقت ان پاکستانی رہنماؤں کے لیے استعمال کریں جو پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں پاکستان کو لے کر چلتے ہیں نہ کہ دشمنوں کو مضبوط کریں
    پاکستان ہمارا ہے اور فرمانِ قائد کے مطابق "دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی”

  • قلم کا ادب   حُسنِ قدرت

    قلم کا ادب حُسنِ قدرت

    قرآن پاک میں جہاں علم کا ذکر آیا ہے وہیں قلم کا بھی آیا ہے کیونکہ علم سکھانے کا ذریعہ”قلم” ہے اسلیے قلم ہمارے لیے حرمت کا باعث ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب میں قلم کی بے حرمتی ہوتی ہوئی دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
    بچے اپنی پنسلز اور مارکرز کو پھینک رہے ہوتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اگر سلیبس کی کتاب گِر جاتی تھی تو وہ ہم اٹھا کر چومتے تھے کہ یہ کتاب کی بے ادبی ہے ہم سے یہ زمین پہ گِر گئی، ہم نے اپنے استادوں کو بھی ایسے کرتے دیکھا تھا کہ اور وہ کہتے تھے کہ بیٹا اگر کتاب کی عزت کرو گے تو ہی علم آئے گا،ہمارے استاد سے پڑھانے کے دوران کتاب زمین پہ کبھی گِر جاتی تو وہ بسم اللہ پڑھ کر اٹھاتے تھے اسے چومتے تھے آنکھوں سے لگاتے تھے اور پھر استغفرُللہ پڑھتے تھے اسکے بعد دوبارہ ایک دفعہ بسم اللہ اور دور شریف پڑھ کے ہمیں پڑھانا شروع کرتے تھے اور آج کل بچے جیسے ہی بال پوائنٹ ختم ہو رہا ہے،مارکرزکی انک ختم ہو رہی ہے یا پین خراب ہو رہے ہیں تو ڈائریکٹ اسے ڈسٹ بین میں یعنی گند والی ٹوکری میں پھینک رہے ہوتے ہیں
    اکثر بچے تو نشانہ فکس کرتے ہیں ڈسٹ بین کا پھر ایک ساتھ استعمال شدہ پنسلز کوڑے دان میں پھینک کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے بال پین ختم کرکے کوئی عظیم۔ کارنامہ سر انجام دیا ہو
    ایک دن سورہ علق پڑھتے
    ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہم قلم کی بے حرمتی کرتے ہیں تب سے میں نے اپنی استعمال شدہ بال پین ڈسٹ بین میں نہیں ڈالتی تھی اور اپنی سہیلیوں کو بھی منع کرتی تھی تاکہ میرا نام قلم کی بے ادبی کرنے والوں میں نہ آئے
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ قلم کی بےادبی کرنے سے بچیں اور آپکے بچے بھی قلم کا ادب کریں تو اسکے لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قلم ہمارے لیے اسلیے بھی مقدس ہے کہ ہم اس کے ذریعے علم سیکھتے ہیں
    اسے اِدھر اُدھر نہ پٹخیں استعمال کرنے کے بعد آرام سے قلم کو اسکی جگہ ہر رکھ دیں
    جب ہمارا بال پین یا مارکرز ختم ہوں تو انہیں ایک باکس میں اکھٹا کریں اور جب وہ بھر جائے تو جو بندہ ری سائیلنگ کےلئے چیزیں لینے آتا ہے اسے دیں یا کسی ایسی شاپ پہ دے آئیں جہاں ریسائیکلنگ کا کام ہوتا ہے۔قلم کو گند میں نہ ڈالیں اور اس کا ادب کریں

  • تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی  تحریر چوہدری عطا محمد

    تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی تحریر چوہدری عطا محمد

    25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات نے یہ واضح کر دیا کہہ جس طرح پاکستان میں 25جولائی 2018میں تبدیلی کی ہوا چلی اور تبدیلی آگئ اسی طرح کشمیر میں بھی الیکشن سے پہلے بہت سے مبصرین نے تبدیلی کی پیشین گوئی کی اور تقریباً سب نے ہی اسی طرح کے رزلٹ کی پیشین گوئی کی جو رزلٹ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت کی صورت میں آیا
    کشمیر کی عوام نے تو وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین کی آواز پر نہ صرف جلسوں میں نعرے لگاۓ بھر پور شرکت کی بلکہ الیکشن والے دن تبدیلی والوں کے انتخابی نشان بلے پر مہر لگا کر اپنا حق ادا کر دیا
    کشمیری عوام نے سادہ اکثریت 25سیٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن جتوا کر وزیز اعظم عمران خان سے اب بہت سی توقعات کر لی ہیں
    پاکستان تحریک انصاف یہ بات یاد رکھے کہ عوام کو ترقی اور کمزور علاقوں کو اگر اٹھانا ہے تو اختیارات کو نچلی سطع پر لانا ہوگا اس کا طریقہ بہت آسان ہے اور پوری دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں ان ممالک میں بلدیات کا نظام بہت ہی موثر ہے اگر پاکستان تحریک انصاف کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروا دیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کا فائدہ نچلی سطع پر غریب عوام کو ضرور حاصل ہوگا
    یہاں یہ بات بھی یاد کرواتا چلوں کہ کشمیر میں آخری بلدیاتی انتخابات 1991ء میں ہوئے تھے۔ ذرا غور کیجئے کہ کشمیر میں گزشتہ کتنے لمبے عرصے سے جمہوریت بغیر بلدیاتی اداروں کے چل رہی ہے۔ زرا سوچیں جہاں جمہوریت بھی ہو اور بلدیاتی ادارے نہ ہوں کیا بلدیاتی نظام کے بغیر حقیقی جمہوریت کے ثمرات عوام تک بہتر طریقہ سے پہنچاۓ جا سکتے ہیں پوری دنیا میں تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری ادارے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور اختیارات انتہائی نچلی سطح تک تقسیم کیے جاتے ہیں
    اگر ترقی یافتہ دنیا کی بات کی جاۓ تو دُنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیکس وصولی سے لے کر بیشتر اختیارات شہری حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا
    یہاں یہ بات بھی یاد دلاتا چلوں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ ادوار میں جب آزاد کشمیر میں الیکشن کے جلسے جلوس کئے تھے اس وقت ہر جلسے میں بھی اور اپنے منشور میں بھی لکھا تھا کہ ہم بہت جلدی بلدیاتی انتخابات کروائیں گے پیپلز پارٹی کی جب حکومت تھی تو مسلم لیگ ن کے ابھی کے وزیز اعظم راجہ فاروق حیدر نے بہت یہ مسلہ اٹھایا کہ بلدیاتی انتخابات کرواۓ جائیں لیکن پیپلز پارٹی کے پانچ سال مکمل ہوگے لیکن بلدیاتی الیکشن نہ ہوا پاکستان مسلم لیگ نواز نے 2016ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کا تیسرا نکتہ ہی یہ تھا کہ ہم ہر صورت میں بلدیاتی انتخابات کروایں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جس راجہ فاروق حیدر نے بہت آواز اٹھائی وہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں عدالتی حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکے اور اس کا نقصان آج کے الیکشن میں انہیں بہت زیادہ ہوا
    اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے تو عوامی خواہش کے مطابق اور کشمیر جیسے خوبصورت علاقے کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہوگا کہہ ایسا وزیز اعظم کشمیر میں لایا جا سکے جو ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کی بہتری کے لئے کام کرے اور بلدیاتی انتخابات کا جلد سے جلد انعقاد کرے جس دن کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوگے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت پہلے سے دوگنا ہوجاۓ گی ان شاءاللہ

    اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • تعلیم اور شعور   تحریر: فرمان اللہ

    تعلیم اور شعور تحریر: فرمان اللہ

    ہم ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر شعور کو اجاگر نہ کیا جائے تو وہ تعلیم یافتہ معاشرہ بھی کبھی کامیابی کی منزلوں کو چھو نہیں سکتا۔ آجکل ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور ہم اپنی اس کوشش اور مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ شعور اجاگر نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہم ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

    شعور ہمارے اندر احساس کو جنم دیتا ہے اور احساس کے بغیر کوئی بھی انسان بہترین انسان نہیں بن سکتا، اگر ہم بہترین انسان نہیں بن پائیں تو ہماری تعلیم کس کام کی؟ کیا کریں اُس تعلیم کا اُن ڈگریوں کا؟

    میں نے بہت سارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے جن میں احساس نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور ایسے لوگ معاشرے کے مستقبل کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں شعور اور احساس کے حوالے سے بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور اور احساس کی شدید کمی ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں ہماری آنے والی نسل ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے سکیں۔

    Twitter Account
    @ForIkPakistan

  • کرونا وائرس اور فیک نیوز   تحریر: مجاہد حسین

    کرونا وائرس اور فیک نیوز تحریر: مجاہد حسین

    آزاد میڈیا کو جمہوریت میں چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ اس سے کسی کو کوئی انکار نہیں۔ عوام تک بروقت اور حقیقی خبریں پہنچنا اور ریاست کے معاملات سے آگاہی بلاشبہ ضروری عنصر ہے لیکن آج کل کی "بریکنگ نیوز” کی دوڈ نے ایسے ایسے بگاڑ پیدا کر دئیے ہیں جو نہ صرف صحافتی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ بعض معاملات میں ریاست کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔
    اسی دوڑ میں سوشل میڈیا صارفین نے تو حد کر دی ہے، کسی بھی شخص کو کسی بھی پلیٹ فارم پہ کوئی ویڈیو ملے وہ اسے وائرل کرنے کے چکر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلنے کے علاوہ رسیاستی سطح پر بھی اس کے خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    جب سے کرونا وائرس جیسی عالمی وبا آئی ہے تب سے اسے لے کے سوشل میڈیا پر ایسی ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کوئی بتا رہا ہے کہ ویکسین کے دو سال بعد آدمی مر جائے گا تو کوئی کہتا ہے اس کے ذریعے مردوں میں "چِپ” ڈالی جا رہی ہے جو انہیں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دے گی۔ کوئی انجیکشن والی جگہ پر بلب روشن کر کے دکھا رہا ہے تو کوئی وہاں مقناطیس بنا کے دکھا رہا ہے۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں اپنی مشہوری کے لئے ہی کی جا رہی ہیں لیکن لوگوں میں اس قدر خوف پیدا ہو گیا کہ انہوں نے نا صرف خود ویکسین نہیں لگوائی بلکہ اپنے خاندان میں کسی کو بھی لگوانے سے گریزاں ہیں۔
    اس سے زیادہ خطرنا بات ہمارے مین سٹریم میڈیا کی غیر ذمہ دار رپورٹنگ ہے۔
    کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ شکار یورپی ممالک میں سفری پابندیاں پاکستان سے کم کیوں ہیں حالانکہ ہمارے ہاں اللہ کے کرم سے کرونا کافی حد تک کنٹرول میں رہا؟
    وہ ہے صرف اور صرف میڈیا کا کردار۔
    ہمارا میڈیا بریکنک نیوز کے چکر میں کبھی کہہ رہا ہوتا ہے کہ پاکستان میں "افریقی ویرینٹ” آ گیا تو کبھی ہسپتال کے ایمرجینسی میں لگی آگ سے بچائے گئے لوگوں کو جب باہر نکالا گیا تو یہ پراپیگنڈا کر دیا گیا کہ کرونا کے مریضوں سے پاکستانی ہسپتال بھر چکے ہیں اور مریضوں کو جگہ نہیں مل رہی۔ اور ابھی ابھی ہمارا میڈیا یہ خبریں بھی چلا رہا ہے کہ پاکستان میں "انڈین ویرینٹ” بھی داخل ہو گیا ہے۔ انڈیا جس پر پوری دنیا میں براہ راست داخلے پر پابندی ہے جب اس کے ساتھ پاکستان کا نام پاکستانی میڈیا ہی جوڑ دے گا تو اس کے بین الاقوامی اثرات کیا ہونگے کیا اس بات کا ادراک اس نام نہاد "آزاد صحافت” کے داعیوں کو نہیں ہے۔
    بے شک آپ آزاد صحافت کریں لیکن جہاں ریاست کی بے وجہ بدنامی یا نقصان کا احتمال ہو وہاں اپنے بریکنک نیوز کے لالچ میں پاکستان کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اپنا مثبت کردار ادا کریں اور لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔

    @Being_Faani

  • قوموں کے مزاج تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    قوموں کے مزاج تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    شاید پاکستان اور دیگر ممالک کے بیشتر افراد یہ نہیں جانتے کہ سعودی عرب کا ہر شہری اس کا باقاعدہ شہری نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس شہریت نہیں ہے
    غلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ وہاں ہر شہری کے پاس شناختی کارڈ یعنی شہریت کارڈ ہے وہاں کے شہریوں کو جو شناختی کارڈ دیا جاتا ہے اسے عربی میں بطاقۃ الھویۃ کہتے ہیں لیکن اسے تابعیۃ بھی کہتے ہیں جس کا مطلب حکومت وقت کے تابع ہونا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی سعودی شخص حکومت وقت کی تابعداری سے انکار کر دے تو اس سے یہ کارڈ اور متعلقہ سہولیات واپس لے لی جاتی ہیں
    اور اس سے بھی اہم بات کہ آج کے دور میں جب کہ غلام رکھنے یا غلام ہونے کے بارے میں دنیا میں سوچ نہیں پائی جاتی
    لیکن سعودیہ میں آج بھی آل عبد (خاندان غلاماں) ہیں۔
    لیکن یہ غلام صرف آل سعود کے پاس ہیں۔آسان الفاظ میں سعودی عرب کے پہلے فرماں روا عبدالعزیز کے خاندان کے پاس غلام ہیں لیکن عوام کو اختیار نہیں کہ وہ اس بابت حکومت سے سوال کر سکے۔ سعودی عرب کے دوسرے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز جب فوت ہو گیا تو شاہ فیصل بن عبد العزیز نے ریاض شہر کے نواح میں واقع ایک علاقے (ناصریہ) میں شاہ سعود کی 63 بیویوں اور شادی شدہ بچوں کے لیے گھر بنانے کا حکم دیا۔ جب یہ گھر بننے لگے تو مزید 40 خواتین شاہ سعود کے دستخط شدہ حکم نامے کے ساتھ سامنے آ گئیں اس طرح شاہ سعود کی 103 بیویوں کے لیے محلات تعمیر کیے گۓ۔ قانون اسلام کے مطابق تو ہر شخص چار شادیاں کر سکتا ہے۔ شاہ سعود نے بقیہ خواتین کے ورثاء کو رقم ادا کر کے یہ خواتین اپنے حرم میں شامل کیں۔ المختصر یہ خواتین بھی غلام تھیں۔ لیکن آج بھی سعودی عرب کے شہری کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس بابت سوال کر سکے
    جبکہ یہاں پاکستان میں تو ہر شخص غیر متعلقہ معاملات میں پاؤں پھنساۓ بیٹھا ہے۔ اسے روکنے والا کوہی بھی نہیں۔
    لیکن ہم اس آزادی سے پھر بھی خوش نہیں
    مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کوہی ٹولہ پاکستان کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوۓ پاکستانی قوانین کے برخلاف کسی معاملے کی ڈیمانڈ کرتا ہے اور حکومت وقت اس ٹولے کو بزور طاقت چپ کرانے کی بجاۓ مذاکرات کرتی ہے۔

    جہاں ریاست کمزور ہو وہاں مختلف مافیاز وجود میں آ کر غیر قانونی طور پر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں اور ریاست کے اہم ستونوں کو بذریعہ رشوت یا دھونس دھاندلی کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں
    اس نظام کو درست کرنے کے لیے ایسے ہی کسی طاقتور گروپ ، تنظیم یا جماعت کی ضرورت ہے جو بزور بازو قانون کی عملداری کو یقینی بناۓ
    ہوسکتا ہے کہ ان بے رحمانہ اقدامات کی وجہ سے کچھ چیدہ بے گناہ افراد بھی اس قانون کی زد میں آہیں لیکن ملک و قوم کی بقاء کے لیے ایسی قربانی دینی ہی پڑے گی
    متفق ہونا ضروری نہیں
    #حبیب_خان