Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تعلیم اور شعور   تحریر: فرمان اللہ

    تعلیم اور شعور تحریر: فرمان اللہ

    ہم ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر شعور کو اجاگر نہ کیا جائے تو وہ تعلیم یافتہ معاشرہ بھی کبھی کامیابی کی منزلوں کو چھو نہیں سکتا۔ آجکل ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور ہم اپنی اس کوشش اور مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ شعور اجاگر نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہم ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

    شعور ہمارے اندر احساس کو جنم دیتا ہے اور احساس کے بغیر کوئی بھی انسان بہترین انسان نہیں بن سکتا، اگر ہم بہترین انسان نہیں بن پائیں تو ہماری تعلیم کس کام کی؟ کیا کریں اُس تعلیم کا اُن ڈگریوں کا؟

    میں نے بہت سارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے جن میں احساس نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور ایسے لوگ معاشرے کے مستقبل کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں شعور اور احساس کے حوالے سے بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور اور احساس کی شدید کمی ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں ہماری آنے والی نسل ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے سکیں۔

    Twitter Account
    @ForIkPakistan

  • کرونا وائرس اور فیک نیوز   تحریر: مجاہد حسین

    کرونا وائرس اور فیک نیوز تحریر: مجاہد حسین

    آزاد میڈیا کو جمہوریت میں چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ اس سے کسی کو کوئی انکار نہیں۔ عوام تک بروقت اور حقیقی خبریں پہنچنا اور ریاست کے معاملات سے آگاہی بلاشبہ ضروری عنصر ہے لیکن آج کل کی "بریکنگ نیوز” کی دوڈ نے ایسے ایسے بگاڑ پیدا کر دئیے ہیں جو نہ صرف صحافتی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ بعض معاملات میں ریاست کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔
    اسی دوڑ میں سوشل میڈیا صارفین نے تو حد کر دی ہے، کسی بھی شخص کو کسی بھی پلیٹ فارم پہ کوئی ویڈیو ملے وہ اسے وائرل کرنے کے چکر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلنے کے علاوہ رسیاستی سطح پر بھی اس کے خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    جب سے کرونا وائرس جیسی عالمی وبا آئی ہے تب سے اسے لے کے سوشل میڈیا پر ایسی ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ کوئی بتا رہا ہے کہ ویکسین کے دو سال بعد آدمی مر جائے گا تو کوئی کہتا ہے اس کے ذریعے مردوں میں "چِپ” ڈالی جا رہی ہے جو انہیں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دے گی۔ کوئی انجیکشن والی جگہ پر بلب روشن کر کے دکھا رہا ہے تو کوئی وہاں مقناطیس بنا کے دکھا رہا ہے۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں اپنی مشہوری کے لئے ہی کی جا رہی ہیں لیکن لوگوں میں اس قدر خوف پیدا ہو گیا کہ انہوں نے نا صرف خود ویکسین نہیں لگوائی بلکہ اپنے خاندان میں کسی کو بھی لگوانے سے گریزاں ہیں۔
    اس سے زیادہ خطرنا بات ہمارے مین سٹریم میڈیا کی غیر ذمہ دار رپورٹنگ ہے۔
    کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ شکار یورپی ممالک میں سفری پابندیاں پاکستان سے کم کیوں ہیں حالانکہ ہمارے ہاں اللہ کے کرم سے کرونا کافی حد تک کنٹرول میں رہا؟
    وہ ہے صرف اور صرف میڈیا کا کردار۔
    ہمارا میڈیا بریکنک نیوز کے چکر میں کبھی کہہ رہا ہوتا ہے کہ پاکستان میں "افریقی ویرینٹ” آ گیا تو کبھی ہسپتال کے ایمرجینسی میں لگی آگ سے بچائے گئے لوگوں کو جب باہر نکالا گیا تو یہ پراپیگنڈا کر دیا گیا کہ کرونا کے مریضوں سے پاکستانی ہسپتال بھر چکے ہیں اور مریضوں کو جگہ نہیں مل رہی۔ اور ابھی ابھی ہمارا میڈیا یہ خبریں بھی چلا رہا ہے کہ پاکستان میں "انڈین ویرینٹ” بھی داخل ہو گیا ہے۔ انڈیا جس پر پوری دنیا میں براہ راست داخلے پر پابندی ہے جب اس کے ساتھ پاکستان کا نام پاکستانی میڈیا ہی جوڑ دے گا تو اس کے بین الاقوامی اثرات کیا ہونگے کیا اس بات کا ادراک اس نام نہاد "آزاد صحافت” کے داعیوں کو نہیں ہے۔
    بے شک آپ آزاد صحافت کریں لیکن جہاں ریاست کی بے وجہ بدنامی یا نقصان کا احتمال ہو وہاں اپنے بریکنک نیوز کے لالچ میں پاکستان کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اپنا مثبت کردار ادا کریں اور لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔

    @Being_Faani

  • قوموں کے مزاج تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    قوموں کے مزاج تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    شاید پاکستان اور دیگر ممالک کے بیشتر افراد یہ نہیں جانتے کہ سعودی عرب کا ہر شہری اس کا باقاعدہ شہری نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس شہریت نہیں ہے
    غلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ وہاں ہر شہری کے پاس شناختی کارڈ یعنی شہریت کارڈ ہے وہاں کے شہریوں کو جو شناختی کارڈ دیا جاتا ہے اسے عربی میں بطاقۃ الھویۃ کہتے ہیں لیکن اسے تابعیۃ بھی کہتے ہیں جس کا مطلب حکومت وقت کے تابع ہونا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی سعودی شخص حکومت وقت کی تابعداری سے انکار کر دے تو اس سے یہ کارڈ اور متعلقہ سہولیات واپس لے لی جاتی ہیں
    اور اس سے بھی اہم بات کہ آج کے دور میں جب کہ غلام رکھنے یا غلام ہونے کے بارے میں دنیا میں سوچ نہیں پائی جاتی
    لیکن سعودیہ میں آج بھی آل عبد (خاندان غلاماں) ہیں۔
    لیکن یہ غلام صرف آل سعود کے پاس ہیں۔آسان الفاظ میں سعودی عرب کے پہلے فرماں روا عبدالعزیز کے خاندان کے پاس غلام ہیں لیکن عوام کو اختیار نہیں کہ وہ اس بابت حکومت سے سوال کر سکے۔ سعودی عرب کے دوسرے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز جب فوت ہو گیا تو شاہ فیصل بن عبد العزیز نے ریاض شہر کے نواح میں واقع ایک علاقے (ناصریہ) میں شاہ سعود کی 63 بیویوں اور شادی شدہ بچوں کے لیے گھر بنانے کا حکم دیا۔ جب یہ گھر بننے لگے تو مزید 40 خواتین شاہ سعود کے دستخط شدہ حکم نامے کے ساتھ سامنے آ گئیں اس طرح شاہ سعود کی 103 بیویوں کے لیے محلات تعمیر کیے گۓ۔ قانون اسلام کے مطابق تو ہر شخص چار شادیاں کر سکتا ہے۔ شاہ سعود نے بقیہ خواتین کے ورثاء کو رقم ادا کر کے یہ خواتین اپنے حرم میں شامل کیں۔ المختصر یہ خواتین بھی غلام تھیں۔ لیکن آج بھی سعودی عرب کے شہری کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس بابت سوال کر سکے
    جبکہ یہاں پاکستان میں تو ہر شخص غیر متعلقہ معاملات میں پاؤں پھنساۓ بیٹھا ہے۔ اسے روکنے والا کوہی بھی نہیں۔
    لیکن ہم اس آزادی سے پھر بھی خوش نہیں
    مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کوہی ٹولہ پاکستان کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوۓ پاکستانی قوانین کے برخلاف کسی معاملے کی ڈیمانڈ کرتا ہے اور حکومت وقت اس ٹولے کو بزور طاقت چپ کرانے کی بجاۓ مذاکرات کرتی ہے۔

    جہاں ریاست کمزور ہو وہاں مختلف مافیاز وجود میں آ کر غیر قانونی طور پر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں اور ریاست کے اہم ستونوں کو بذریعہ رشوت یا دھونس دھاندلی کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں
    اس نظام کو درست کرنے کے لیے ایسے ہی کسی طاقتور گروپ ، تنظیم یا جماعت کی ضرورت ہے جو بزور بازو قانون کی عملداری کو یقینی بناۓ
    ہوسکتا ہے کہ ان بے رحمانہ اقدامات کی وجہ سے کچھ چیدہ بے گناہ افراد بھی اس قانون کی زد میں آہیں لیکن ملک و قوم کی بقاء کے لیے ایسی قربانی دینی ہی پڑے گی
    متفق ہونا ضروری نہیں
    #حبیب_خان

  • سندھ میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ اور سخت حکومتی پابندیاں  تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    سندھ میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ اور سخت حکومتی پابندیاں تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے جان لیوا کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے عید سے پہلے ہی سندھ حکومت نے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے اور احکامات جاری کرنے کے باوجود عوام نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں سندھ کے شہر کراچی میں مثبت نتائج آنے والوں کی شرح 21.58 اور باقی ضلعوں مجموعی طور پر شرح 10.3 تک پہنچ گئی ہے. جس کے بعد سندھ حکومت نے پیر 26 جولائی سے مزارات , شادی ھال اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے. کراچی کی تاجر برادری نے ہفتے میں دو دن کاروبار بند رکھنے والی حکومتی پابندیوں کو رد کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے.

    سندھ میں کرونا کے کیسز میں خطرناک حد تک بڑھ جانے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام ایس او پیز پر سختی سے عمل نہیں کر رہی. اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عید والے دن کرونا ایس او پیز کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا. جس کی وجہ سے اس قاتل وائرس کو پھیلنے کے لئے سازگار ماحول مل گیا ۔ سندھ میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.3 ہے جو کہ بہت بڑی ہے. کراچی میں تو اس سے بھی زیادہ ہے اور وہاں پر کرونا وائرس کی خطرناک قسم "ڈیلٹا ویریئنٹ” کے سبب متاثرین کی بہت بڑی تعداد ہے. سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ ہوا تو اس وقت چین جیسا جدید ٹیکنالوجی والا ملک بھی اس وائرس کے سامنے بےبس نظر آیا اور وہاں پر وائرس کی وجہ سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا. پر کراچی کی آبادی ووہان سے دوگنی ہے. کرونا کی خطرناک قسم "ڈیلٹا ویریئنٹ ” کا سندھ بشمول کراچی میں پھیلنے کے خطرات زیادہ ہیں اگر اس پھیلاؤ میں تیزی آ جاتی ہے تو اس کو قابو میں لانا مشکل ہوجائے گا. سندھ میں پہلے ہی محکمہ صحت کی کارکردگی اچھی نہیں اس لئے سختی سے کام نہ لیا گیا تو بہت نقصان ہوگا اس وقت شہروں میں صفائی کے انتظامات بھی اچھے نہیں عید پر قربانی کرنے کی وجہ سے جانوروں کی آلائشیں بھی گلی محلوں میں پڑی ہیں جس کی وجہ سے گندگی میں اضافہ ہوا ہے. کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے اس لئے ضروری ہے سخت اقدامات اٹھائے جائیں. کراچی کی تاجر برادری نے حکومتی احکامات پر اعتراض کرتے ہوئے سخت احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے. پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کاروبار سے انسانی جانیں زیادہ ضروری ہیں. اگر پہلے ہی ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جاتا تو یہ صورتحال کبھی نہیں آتی. عید سے تھوڑا عرصہ پہلے اور عید کے دنوں میں جس طرح بازاروں, شاپنگ مالز, اور جس طرح ایس او پیز ( قربانی کے جانوروں کی منڈیوں میں) نظر انداز کیا گیا یہی نتیجہ تو نکلنا تھا. کیوں کہ لوگوں کی اکثریت نے نہ ماسک پہننا ضروری سمجھا اور نہ ہی سماجی مفاصلہ برقرار رکھا گیا. اس دوران سندھ انتظامیہ کا ایس او پیز پر عمل والا کردار انتہائی لا تعلقی والا رہا جو صورتحال کو مزید خراب کا سبب بنا.

    سندھ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ والی صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر کراچی کی صورتحال بہت پریشان کن ہے. یہ صورتحال اس بات کی تقاضا کرتی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں. کراچی کی تاجر برادری کو بھی معاملے کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہیے. یہی تاجر برادری, شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹ والے اگر ایس او پیز پر عمل کو یقینی بنواتے تو صورتحال اس خطرناک حد تک نہ پہنچتی. مانتے ہیں کاروبار اہم ہے پر جب بات لوگوں کی زندگی پر آئے تو اس صورتحال میں لوگوں کی زندگیاں ضرور ہیں

    @Nadir0fficial

  • عورت   تحریر: اعزاز شوکت

    عورت تحریر: اعزاز شوکت

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِمکنوں
    مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
    عورت کی مدح میں ان اشعار کو لکھےہوئے سو سال بیت گئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عظمت اور حدِ کمال کے بیان کا حق آج تک ادا نہیں ہوسکا۔ مرد کے ہرمعجزے نے کسی نہ کسی عورت ہی کی گود میں پرورش پائی ہے۔ اولین انسان حضرت آدم کو بھی جب تنہائی کی وحشت کاٹ کھانے لگی تو ربِ کریم نے اماں حوا کو پیداکر کے انھیں تسکین بخشی اور یوں مرد اورعورت کے قدم قدم پہ اشتراک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے خلاف بولا اور سوچا تو جا سکتا ہےمگر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    عورت کی ذات کا سب سے حیران کن پہلو اس کی ایک نئی زندگی کو جنم دینے کی صلاحیت ہے۔قدیم زمانوں میں لوگ جب بے جان زمین سے لہلہاتی فصلیں پیدا ہوتے دیکھتے تو اس زمین کی پرستش شروع کردیتے، جب انھوں نے یہی صلاحیت عورت میں دیکھی تو اسے دیوی مان لیا اور اس طرح قدیم مادرسری (Matriarchal)معاشرے کی بنیاد پڑی جوعورت کو مرکزی اہمیت دیتا تھا۔
    سبطِ حسن اپنی کتاب "ماضی کے مزار” میں لکھتے ہیں کہ زراعت کا پیشہ بھی عورتوں ہی کا ایجادکردہ تھا۔ مرد شکاراور جڑی بوٹیاں ڈھونڈنے جنگلوں میں نکل جاتے تھے جبکہ عورتیں بچوں کی نگہداشت کے لیے خیمہ نما گھروںمیں رہتی تھیں، اسی دوران انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جہاں وہ جڑی بوٹیوں کو استعمال کے بعد پھینکتی ہیں وہاں سے ویسی ہی جڑی بوٹیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔یوں آہستہ آہستہ پودے اور فصلیں اگانے کا رواج شروع ہونے لگا۔گویا یہ عورتیں ہی تھیں جن کی دریافت نے پوری انسانیت کو خوراک کے نہ ختم ہونے والے ذخیرے سے روشناس کروادیا۔
    عورت وہی قوت ہے جو کبھی اولمپیاس بن کر سکندر کی پرداخت کرتی ہے تو کبھی قلوپطرہ بن کر مصر کے تخت پر راج کرتی ہے .
    جدید دور میں بھی عورت کی فتوحات ہر شعبے سے ستاروں کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔خود پاکستان میں فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم سلمیٰ تصدق سے لے کر بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسف زئی ، ارفع کریم جیسی خواتین بے مثال کارناموں سے مشعلِ راہ کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔یہ کامیابیاں ہمیں ماضی کی عورتوں کی قدر کااعتراف کرانے کے ساتھ ساتھ اس امر کا احساس بھی دلاتی ہیں کہ آج بھی عورتیں مرد کے شانہ بشانہ محیرالعقول واقعات سرانجام دے سکتی ہیں۔

    @Zee_PMIK

  • پاک فوج سے محبت تحریر: وسیم اکرم

    پاک فوج سے محبت تحریر: وسیم اکرم

    پوری دنیا میں آپ کو پاکستان جیسی قوم نہیں ملے گی جو پاکستان کی فوج کے ساتھ جس خندہ پیشانی کے ساتھ ملتی ہے اُس کی مثال اپ کو کہیں نہیں ملے گی میں دل سے سلام پیش کرتا ہوں ان ماؤں کو ان بہنوں کو جو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتیں اور ان وطن کے رکھوالے کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو کئ کئ دن تک نہیں سوتے اپنے وطنِ عزیز کے لئے ہر اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ تیار رہتے ہیں ان کا ایک ہی ایمان اور یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے وطنِ عزیز کی خاطر قربان ہونا ہے اب سوچیں اور بتائیں پاک فوج ہی وطن کے مخلص اور سچے سپاہی ہیں
    پاکستان فوج واحد ایک ایسا ادارہ ہے جس کی محبت ہر پاکستانی کے خون میں شامل ہے کیونکہ جو ملک میں سکون ہے اس کے پیچھے وردی والوں کا خون ہے

    پاک فوج کا مطلب امن ہے پاکستان آرمی نے ہر مشکل حالات میں پاکستان عوام کی خدمت کو پہنچی ہے
    جنگ ہو یا امن ، زلزلہ ہو یا سیلاب، مردم شماری ہو یا الیکشن یا سول انتظامیہ کی مدد ، پاک فوج نے ہمیشہ قوم کی پکار پہ لبیک کہا ہے ۔ جس طرح ملک میں فسادات شروع ہوگے تھے اس کو بہت اچھے طریقے سے پاکستان کی بہادر فوج نے اچھے اقدامات کرکے ملک کو اس مشکل دور سے نکالا ہے اور الحمداللہ پاکستان دن بدن محفوظ ہاتھوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے ہمیں چاہیے کہ ہمارے محافظ جو وطن عزیز کے لئے قربان ہوۓ ہیں انہیں یاد رکھیں کیونکہ جو قومیں اپنے محسنین کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں.
    پاکستان کے باوڈر والے علاقہ جات میں دشت گردوں میں ظلم کے بہت پہاڑ توڑے ہیں وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر ہر بار پاکستان فوج اپنے جزبے کے ساتھ ثابت قدم ہوکر دشمن کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہے وہ ممالک جن کے پاس فوج نہیں آج وہ کس حال میں ہیں دوسرے ممالک ان پہ بہت زور کے حملے کر رہے ہیں ان کا مال نا ان کی ناموس نا، ان کی نسلیں محفوظ ہیں بلکہ دنیا کے سامنے وہ ایک عبرت بنے ہوئے ہیں
    اور ہماری افواج جو دن رات سرحدوں پہ بنا موسموں
    کی پرواہ کیے صرف اس ارض پاک اور ہماری جان و مال کی حفاظت کر رہی ہے
    اس سوہنی دھرتی کے پیچھے سہی معنوں میں یہی خاکی وردی ہے جس کی دہشت سے دشمن اپنی صفیں چھوڑ کے بھاگ جاتا ہے ۔ "پاکستان زندہ آباد پاک فوج زندہ آباد” @MalikGii06

  • استاد کا معاشرے میں مقام  تحریر : اسامہ خان

    استاد کا معاشرے میں مقام تحریر : اسامہ خان

    انسان ایک اشرف المخلوقات ہے لیکن اس کو اشرف المخلوقات کا اصل مقصد اور مطلب اس کے والدین اور اس کے استاذہ کرام سمجھاتے ہیں، ایک بچہ پیدا ہوتا ہے زندگی کے تین برس گھر میں گزارتا ہے اور اس کے بعد دنیاوی اور دینی تعلیم کے لئے سکول و مدرسہ جاتا ہے یہاں سے اس کا استاذہ کرام سے سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے سکول میں اس کے بہت سے اساتذہ کرام تبدیل ہوتے ہیں جیسے کہ پرائمری سکول کے الگ استاد ہوتے ہیں مڈل کے الگ اور میٹرک کے الگ ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے پرائمری میں بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکھایا جاتا ہے کیا اس نے اپنے استاذہ اور والدین کا کیسے احترام کرنا ہے اور بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی زندگی کیسے گزار سکتا ہے اور کامیاب انسان بننے کے لئے اس پر سب کا احترام لازم ہے۔ یہ سلسلہ کالجز اور یونیورسٹیز میں چلتا رہتا ہے لیکن جب بچہ یونیورسٹی میں جاتا ہے تو اس کو دنیا کے اصل رنگ دکھائے جاتے ہیں ان رنگوں میں ایک رنگ یہ بھی ہوتا ہے آپ کے ساتھ ساری زندگی کوئی نہیں چلے گا سوائے آپ کے والدین کے اور ساتھ ہی ساتھ استاذہ کرام پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے اس کے بعد جب وہ بچہ ایک اعلی درجے کا افسر بن جاتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے استاذہ کرام کی دعائیں اور محنتوں کا صلہ ہوتا ہے اگر استاذہ کرام اس پر اپنا وقت اور محنت نہ لگاتے شاید وہ بچہ ایک اچھے مقام تک نہ پہنچ سکتا آج استاذہ کرام کو برا بھلا کہا جاتا ہے کہ آپ نے ہمارے بچے پر ہاتھ کیوں اٹھایا اگرچہ دیکھا جائے تو آپ کے بچے کی بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے، کل کو وہ بچہ جب ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے تو استاد کو بھی کبھی بھی داد نہیں دیتا کہ آپ نے ہمارے بچے پر اتنی محنت کی کہ آج وہ اتنا اچھے مقام پر پہنچ گیا ہے حالانکہ استاد اس بچے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے کہ یہ بچہ ہم سے پڑھ کر گیا ہے اور آج اتنے اچھے مقام پر بیٹھا ہے، ایک استاد کے ہاتھ سے پڑھے ہوئے بچے سیاست دان، جج، وکیل، ڈپٹی کمشنر اور بہت بڑے بڑے انسان بنتے ہیں۔ لیکن افسوس اپنی کامیابی کے بعد ہم اپنے استاد اکرام کو بھول جاتے ہیں ایک دفعہ ایک استاد کا ٹریفک پولیس افسر نے چلان کاٹ دیا استاد کی مصروفیات کی وجہ سے پورا مہینہ چلان نہ بھروا سکے جب استاذہ کرام کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ نے چلان کیوں نہیں جمع کروایا تو انہوں نے کہا میں استاد ہوں مصروفیات کی وجہ سے میں چالان جمع نہ کروا سکا جب جج نے یہ سنا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ سب اٹھ کھڑے ہوئے ان کے احترام میں تو جج صاحب نے کہا آپ جیسے استاذہ کرام کی وجہ سے آج ہم جج بنے ہیں یہ کہہ کر جج صاحب نے چلان پھاڑ دیا اور استاد صاحب کو باعزت طریقے سے ان کی مصروفیات کی طرف روانہ کیا۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں پائی جاتی ہیں آج ہم جو بھی ہیں اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہیں ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہیں اس لیے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ اہم مقام پر فائز ایک استاد ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ باشعور قومیں بناتے ہیں وہی قومیں کل کو ملک کے لیے دن دگنی رات چگنی محنت کرتے ہیں لیکن یہ سفر یہی پر ختم نہیں ہوتا جب ایک انسان ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتا ہے اور اپنے ملک کے لیے کام کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کو اس وقت بھی ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی رہنمائی کر سکے کہ آپ نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کیسے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور یہ عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے

  • جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور آیا ہے تب سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے خواتین بچے چھوٹی بچیاں غرض کے ان درندوں سے تدفین ہونے والی لاشیں بھی نہیں محفوظ، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ہمیشہ سے اس معاملے پر متحرک نظر آتے ہیں ان ایشوز پر بات کرتے ہیں آواز بلند کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں پاکستان میں جو اس معاملے پر اپنی سیاست چمکاتے یا اپنا دھندہ رکتے نہیں دیکھ سکتے ہیں ان میں اکثریت ہے ہمارے دیسی لبرلز کی جو اپنے آپ کو کہتے تو لبرل ہیں معاشرے کو دکھانے کے لئے ایک ڈھونگ بھی رچاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ زیادتی کرنے والوں کے ساتھی ہیں۔

    کیسے ؟؟
    چلئیے میں بتاتا ہوں، آپ لوگوں کو زینب زیادتی کیس یاد ہوگا اس کیس کے بعد ملک میں ایک رائے عامہ تشکل پا گئی تھی کے زیادتی کرنے والے کو سر عام سزا دی جائے لیکن یہ لبرل کا کارنامہ ہے اور پی پی اور ن لیگ میں چھپے ان عناصر کا کارنامہ ہے کہ یہ کام نہ ہوسکا ان لوگوں نے اس کی مخالفت صرف اس لئے کی کیونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو بیرون ممالک کے سامنے لبرلز بنا کر پیش کرتے ہیں خاص کر پیپلزپارٹی، اس کے بعد فیصل واوڈا ایک بل لے کر آئے جس میں زیادتی کرنے والے کے لئے عبرتناک سزائیں شامل تھیں جس کی مخالفت ان عناصر نے کی اور کہا گیا کے یہ سزائیں غیر انسانی سزائیں ہیں تو سوال یہ ہے کے وہ لوگ جو بچوں سے زیادتی کے بعد ان کا قتل کرتے ہیں کیا وہ انسان کہلانے کے لائق ہیں؟؟
    یہ لبرلز ان کا ساتھ کیوں دیتے ہیں ؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے؟؟ نہیں ؟

    اس کی وجہ میں بتاتا ہوں زیادتی کے واقعات کا تعلق معاشرتی بے حیائی سے ہے جسے یہ لبرلز آذادی کا نام دیتے ہیں فحاشی اس کی بڑی وجہ ہے اور یہ لبرلز اور ان کا کاروبار اس سے منسلک ہے اس لئے یہ اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے فحاشی اور عریانی کے خلاف ایک جملہ کہا تھا جس پر لبرلز میں صف ماتم بچھ گیا تھا اب کچھ لوگوں نے اس میں اس بات پر بھی اعتراض کیا کے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں انہوں نے کونس فحش لباس پہنا ہوتا ہے ؟؟؟ وزیر اعظم اس بات کا جواب دیں اور اس بات پر کافی مذاق بنایا گیا اس کا جواب یہ ہے ہر زیادتی کا واقعہ فحاشی سے نہیں جڑا ہوتا لیکن اگر آپ اس کی جڑ تک جائیں تو بات فحاشی پر آ کر ہی رکتی ہے، کوئی شخص اگر مسلسل غلط چیزیں دیکھ رہا ہے تو اس میں جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں پھر وہ انہیں پورا کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتا ہے وزیر اعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کے ایسا کرنے والا شخص بے قصور ہے بلکے وزیراعظم نے تو ان کے لئے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جسے یہی طبقہ غیرانسانی قرار دیتا ہے۔

    ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک لڑکی کا قتل ہوا ہے جو اپنے دوست کے گھر بغیر شادی نکاح کے اس کے ساتھ رہ رہی تھی،لبرل اسے آذادی کا نام دیتے ہیں کے اس کی زندگی اس کی مرضی اس لڑکی کو اس کے دوست نے قتل کر دیا آپ سوچ سکتے ہیں اگر اس پر وزیراعظم یا کوئی شخص اس بات کا مطالبہ کر دے کے یہ ہمارے معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے ایسے رشتے جنہیں رشتہ بھی نہیں کہا جا سکتا صرف مغربی معاشرے میں ہوتے ہیں اور اس سے اس معاشرے کی جو تباہی ہوئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں امریکہ اور برطانیہ زیادتی اور آبارشن میں سہرفہرست ممالک میں آتے ہیں وہ الگ بات ہے ان کا میڈیا اس بات کو چھپاتا ہے۔ ایسی بات کرنے والے کا یہ لبرلز کیا حال کریں گے ؟؟؟
    کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک سزا بھی ان کی مرضی کی ہو۔۔۔ تعلقات بھی۔۔۔بیانات بھی۔۔۔قانون بھی اور سوچ بھی ان کی مرضی کی ہو یہ کہتے تو ہیں کے ہم آذادی رائے کا پرچار کرتے ہیں مگر ان کے سامنے آپ ان سے اختلاف کر کے دیکھیں ان سے بڑا انتہا پسند آپ کو نہیں ملے گا۔

    زیادتی کے خلاف سخت اقدامات کا مطلب ان کے کاروبار کی بندش ہے اس لئے یہ لوگ جانتے بوجھتے زیادتی کرنے والوں کی مدد کرنے والے بنے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین ان کے خلاف متحد ہوں اور ملک پاکستان میں زیادتی کرنے والوں کے لئے عبرتناک اور جلد سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کرانے میں ایک پریشر گروپ کا کردار ادا کرناہے۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو. آمین

    @Nomysahir

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود  تحریر: ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود تحریر: ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگر انسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بے عیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگر آج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے
    ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔
     اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں
    بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    Twitter: @zulfiqar7034

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر :  ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر : ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگرانسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بےعیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگرآج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔

    اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    @zulfiqar7034