Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہمیں مغرب سے کیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ تحریر:  طلحہ محفوظ خورشیدی

    ہمیں مغرب سے کیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ تحریر: طلحہ محفوظ خورشیدی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات
    ہے یہ جملہ ہم نے درسی کتب میں پڑھا اور بہت سے واعظ خطبوں میں سنا یعنی ہمارا دین ہمیں زندگی ہے ہر شعبے میں رہنمائی دیتا ہے لیکن جب ہم معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو بات سمجھ نہیں آتی کیونکہ ہمارا عدالتی نظام انگریزوں کا سیاسی نظام بھی مغرب سے درآمد شدہ اور معاشی نظام سرمایہ دارانہ ہے یعنی کوئی چیز بھی اسلامی نہیں اس بات کو مثال سے سمجھیں ہم ٹی وی پر مختلف پروگرام دیکھتے ہیں جس میں علماء کرام سے رائے لی جاتی ہے کہ فلاں معاملہ پر دین ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے لیکن کبھی کسی عیسائی پادری پنڈت الغرض اسلام کے علاوہ کسی بھی مہذب کے پیشوا کو اپنے مذاہب کی تعلیمات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا ہمارا مذہب کی دنیاوی معاملات میں یہ تعلیمات بیان کرتے ہوئے کیونکہ تمام مذاہب نے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صرف اسلام ہی نبرد آزما ہیں یہی وجہ ہے اسلام سے جڑیں شعائر کو ہر جگہ پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جیسے عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی، مغرب یقیناً ہم سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں لیکن اس کے علاوہ اسلام کا سیاسی نظام معاشی نظام الغرض تمام امور میں اسلام ہمیں واضح تعلیمات دیتا ہے اور اس پر محققین اور علماء کرام نے بہت کام کیا ہے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ مغربی ممالک معاشی طور پر مستحکم اور سائنس ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں اس لیے ہم ذہنی طور پرمرعوب ہوجاتے ہیں ، ان کی طرف سےآئی ہوئی ہر شئے کو قبول کرلیتے ہیں، جیسے ان جیسا لباس ان کا کلچر وغیرہ، معاشی طور پر مستحکم ہونا ترقی کی علامت ہے لیکن یہ مکمل حقیقت نہیں ، علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کا اصل چہرہ دیکھایا اور بتایا ہے کہ یہ چمک دمک ظاہری طور پر ہے
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
    بہرحال جدید علوم حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے لیکن اسلام اصل برکات اسی وقت ملیں گی جب ہم اسکو عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کریں یہی ایک صورت ہے کہ اسلام کے مکمل ثمرات سمیٹ سیکھیں گے، جزاک اللّہ

    @talha_mehfooz

  • ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    آج کے دور کو بہت سے نام دیے جاتے ہیں گلوبل ویلیج سے ٹیکنالوجی سے لیس تیز بھاگتی دوڑتی دنیا ہمارے اس دور میں ہر شخص مصروف ہر شخص بھاگ رہا ہے اک ریس میں اک دوڑ میں۔ پیسہ بنانے کی دوڑ میں کامیاب ہونے کی دوڑ میں ۔۔ پیسہ زندگی کی ضرورت نہیں رہا بلکہ زندگی کا مقصد بن چکا ہے ۔ کوئ بھی اپنی انکم سے خوش نہیں ہر کسی کو مزید سے مزید کی تمنا ہے۔ خواہ اسکی خاطر اپنا راتوں کا آرام اپنے دن کا سکون اپنا کھانا پینا سب قربان کرنا پڑے کرنے کو تیار ہیں.

    پیدا ہوتے بچے کے مستقبل کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے مستقبل میں اس بچے کو کس پیشے سے منسلک کرنا ہے۔ کونسا پیشہ زیادہ کامیابی سے زیادہ کمانے کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہے سکول سے کالج یونیورسٹی تک اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس ادارے سے پڑھایئں جسکی ڈگری پروفیشنل لائف میں ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کی جائے جس سے ایک اچھی بھاری تنخواہ کی نوکری مل سکے ۔۔
    کچھ عرصہ پہلے تک پیسہ اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔ہم اپنے رشتے اپنی دوستیاں حتی کہ اپنی اولاد تک کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔۔
    ہم زندہ رہنے کے لیے نہیں کماتے بلکہ کمانے کے کیے زندہ رہتے ہیں ۔ دن بدن ہماری ضروریات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے جسکے لیے مزید محنت مزید پیسہ چاہیئے۔

    پیسے کی اس دوڑ اور اس کمائ کی لت نے نوجوان نسل سے وہ کام بھی کروائے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک قبیح سمجھے جاتے تھے۔ ٹک ٹاک سنیک ویڈیوز بگو لایئو جیسی ایپس نے اس دوڑ میں آکر نوجوانوں کو ایک الگ ہی نشے سے متعارف کروا دیا ہے ۔ نوجوان نسل بنا کسی نقصان کے بارے میں سوچے دھڑا دھڑ ان ایپس سے منسلک ہوتے جا رہے ہیں اور اس سے ہماری مشرقی اقدار بہت بری طرح پامال ہوئ ہیں۔دوسرے الفاظ میں اپنی اقدار کا سودا چند ہزار یا لاکھ میں کیا گیا ۔

    ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر چلنے والی کریپٹو کرنسی نے اس ریس میں مزید نوجوان اس آگ میں دھکیل دیے ہیں۔ جوے اور سود کو ایک شوگر کوٹڈ گولیبکی طرح پیش کیا جا رہا ہے جسکو نگلنے کے لے ہزاروں لاکھوں لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔
    بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شخصیت یا معاشرے کی تعمیر نہیں بلکہ پیسہ و شہرت رہ گیا ہے ۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا مقصد بھی پیسہ کمانا ہے طلبا کی ذہنی و اخلاقی تربیت نہیں۔۔جتنا بڑا تعلیمی ادارہ ہو گا اتنے ہے بے حس لوگ معاشرے میں دے رہا ہو گا ان طلبا کی ذہنی گروتھ بھی اسی نہج پر کی جاتی ہے کہ کس طرح وہ مستقبل میں اپنے فانینشل سٹیٹس مزید بڑھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے ہم دن بدن پیسے کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اخلاقیات میں گرا ہوا معاشرہ بنا رہے ہیں اور یہی معاشرہ یہی سوچ اور یہی اقدار اپنی آنےوالی نسلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

    ہم ایک بے حس معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جسکا دنیا میں آنے کا مقصد ہی فقط پیسہ کمانا ہے۔ جہاں نوجوان نسل کو اس بات کی ترغیب دلائ جاتی ہے کی اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو آپکا قصور نہیں اگر آپ غریب مر جایئں تو آپکا قصور ہے۔ اور یہی مقصد زندگی بنا دیا گیا جو ہم آج دیں گے کل اسی حال میں معاشرے کو دیکھیں گے ۔۔۔فیصلہ آج بھی ہمارا ہے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے.

    Twitter handle @ShezM__

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار، انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔

    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔

    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔

    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس وقت پنجاب ،کے پی کے ،گلگت ،وفاق پر مکمل پی ٹی آئ کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے ان تمام صوبوں میں زبردست ترقیاتی کام جاری ہیں ،صحت کارڈ دیئے جارہے ہیں ،قبضہ مافیاز کے خلاف آپریشن جاری ہیں ،عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جارہا ہے ،عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جارہا ہے ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف انڈسٹریز کو مزید بہتر بنانے کے لئے سہولیات دی جارہی ہیں ،صحت ،تعلیم اور پولیس سسٹم میں کافی حد تک بہتری آرہی ہے کسی بھی طرح عوام کو تنہا بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جارہا ہے ابھی کشمیر الیکشن جیتنے کے بعد یقینن کشمیر کی عوام کو بھی تمام سہولیات دی جائیں گی اور کشمیر کی خوشحالی کا دور اب شروع ہوا چاہتا ہے ایسے حالات میں صرف ایک صوبہ سندہ رہ گیا جو ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہونے کی بجائے مزید تباہی وبربادی کی طرف جارہا ہے تعلیم ہے نا صحت اور پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ جسے سندہ حکومت اپنی سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال کررہی ہے ،سندہ میں پچھلے ١٣ سال سے مسلسل پپلزپارٹی کی حکومت چلتی آرہی ہے ہر سال کھربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے لیکن وہ پیسہ عوام پر استعمال ہونے کی بجائے کرپشن لوٹ مار کی نظر ہورہا ہے عوام غربت کی زندگی گزارہی ہے جبکہ وزراء اور حکومتی مشیر اربوں کی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہیں ،سندہ کی عوام کو بلکل بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے پپلزپارٹی کے اس ظلم وستم سے سندہ کی عوام تنگ آچکی وہ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی سے امیدیں لگائ بیٹھی ہے ،پی ٹی آئ واحد پارٹی ہے جو سندہ سے بھی پپلزپارٹی کا صفایا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ان حالات میں وزیراعظم صاحب نے کشمیر الیکشن کے فوری بعد سندہ میں پارٹی کو مضبوط بنانے کی حکمت بنالی اور آئندہ بلدیاتی الیکشن ہوں یا ٢٠٢٣ کا الیکشن پپلزپارٹی کو عبرتناک شکست دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سندہ میں پی ٹی آئ قیادت کو متحرک ہونے کا ٹاسک دے دیا اور وزیراعظم صاحب خود بھی سندہ کا دورہ کریں گے.

    سندہ میں پی ٹی آئ کو مضبوط کرنے کے لئے سب سے پہلے وزیراعظم صاحب کو پی ٹی آئ میں بیٹھے الطاف حسین کی سوچ رکھنے والے تعصب پرست عناصر کی زبان بند کرنی پڑے گی یہ لوگ آئے روز کراچی کو سندہ سے الگ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے سندہ کی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بات کا فائدہ پپلزپارٹی اٹھاتی ہے Mqmمہاجر کارڈ اور پپلزپارٹی سندھی کارڈ کے زریعے عوام میں تعصب پھیلاکر ووٹ لیتے آئے ،mqm کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کا نعرہ لگاکر کراچی شہر سے جیتتی آئ ہے جبکہ پپلزپارٹی باقی سندہ کے اضلاع سے مرسوں مرسوں سندہ نا ڈیسوں کا نعرہ لگاکر الیکشن جیتتی رہی دونوں پارٹیاں اس حد تک تعصب پھیلاتی رہی ہیں کہ نا mqm کبھی سندہ کے دیہی علائقوں میں اپنی جگہ بنا پائ اور نا پپلزپارٹی کبھی سندہ کے شہری علاقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکی اس کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی دونوں تعصب کی بنیاد پر عوام کو آپس میں لڑواکر الیکشن جیتتے رہے.

    لیکن پی ٹی آئ کو یہ غلطی ہرگز نہیں کرنی چاہیے ،پی ٹی آئ کو کراچی تا کشمور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،سندھی مہاجر کی تعصب کی لڑائ کو ختم کرکے دونوں کو ایک دوسرے کو قریب لانے کی ضرورت ہے اس وقت بھی پی ٹی آئ میں کراچی شہر کے کچھ لوگ ایسے بیٹھے ہیں جو الطاف حسین والی سوچ کے تحت تعصب پھیلاتے نظر آتے ہیں وہ ہر وقت کراچی والے کراچی والے کرتے نظر آتے ہیں ان کو لگتا ہے شائد پپلزپارٹی شہر کراچی کے علاوہ باقی پورے سندہ میں بڑے ترقیاتی کام کروارہی ہے بس کراچی کے ساتھ ذیادتی کررہی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں پپلزپارٹی بلاتفریق پورے سندہ کو تباہ کررہی آپ کراچی سے تھرپارکر ،شکارپور،لاڑکانہ ،نوابشاہ ،گھوٹکی کہیں بھی چلے جائیں کسی جگہ آپ کو کوئ ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آئے گا البتہ ان کراچی والے کراچی والے کرنے والوں کی وجہ سے پی ٹی آئ کو سندہ کے باقی اضلاع میں جگہ بنانے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پپلزپارٹی دیہی علائقوں میں پی ٹی آئ کے ان کراچی والے کا نعرہ لگانے والوں کی باتیں عام سندھی کو سناکر یہ تعصب پھیلانے کی کوشش میں لگی ہے کہ اگر پی ٹی آئ بھی اقتدار میں آگئ تو یہ بھی mqmکی طرح کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کی کوئ سازش کریں گے اور سندہ کی عوام بھوک ،پیاس،تکلیفیں سب برداشت کرکے ایک بار پھر پپلزپارٹی کی طرف چل پڑتی ہے تاکہ سندہ کی تقسیم نا ہو پپلزپارٹی اس کام کے لئے سندہ کی قومپرست جماعتوں کی بھی خدمات لیتی ہے تاکہ پی ٹی آئ کو سندہ دشمن مان لیا جائے ،ایسی صورتحال میں پی ٹی آئ پہلے تو بلکل واضع احکامات جاری کرے اپنی ان کراچی اور سندہ کہنے والے پارٹی قیادت کو کہ شہر کراچی کے حقوق کی جب بات کرو تو ساتھ سندہ کے باقی اضلاع کے بھی حقوق کی بھی بات کریں کسی بھی طرح اپنی زبان سے ایسے کوئ الفاظ ادا نا کریں جہاں سندہ کے باقی اضلاع کے لوگوں کو آپ کے الفاظ سے کوئ تعصب کو بو آئے.

    پورے سندہ میں پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش کریں مہاجر اور سندھی بھائیوں کو آپس میں قریب لائیں ان کے درمیان سے نفرت یا تعصب ختم کریں سندہ میں رہنے والے سب ایک ہیں کا نعرہ لگائیں ،پھر سندہ کی بڑی سیاسی شخصیات ،پڑھے لکھے نوجوانوں اور بڑا قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات کو اپنے ساتھ ملائیں ،سندہ میں اپنے کارکنوں کی داد رسی کریں ،مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں ،سندہ کے عوام کی رائے کو تسلیم کریں ،آپ کے کسل لفظ سے کسی کی دل آزاری کسی صورت نا ہو.

    ہر ضلع اوریونین کاونسل تک تنظیم سازی کی جائے ،زرداری لیگ کی سندہ میں کرپشن لوٹ مار بے نقاب کی جائے ،قومپرست جماعتوں سے بھی بات چیت کرکے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں ،سندہ میں پپلزپارٹی مخالف تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں یا ان سے اتحاد کریں ایک بہترین حکمت عملی اور واضع پالیسی کے ساتھ سندہ میں پپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے اترا جائے تاکہ سندہ سے پپلزپارٹی کی بادشاہی دور کا اختتام ہو اور ایک نیا سندہ بن سکے تاکہ سندہ میں پی ٹی آئ حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے.

    @MajeedMahar4

  • لہور لہور اے . تحریر : عمران اے راجہ

    لہور لہور اے . تحریر : عمران اے راجہ

    کسی نے سچ کہا ہے "لہور لہور ہے، جن نے لہور نی تکیا او جمیا نئ ” ( لاہور لاہور ہے، جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا)۔ یہ بات وہی جان سکتا ہے جس نے لاہور کو دیکھا ہو۔ لاہور کے اتنے رنگ اور چہرے ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب لکھنی پڑ جائے ۔ یہاں کے رنگ، ثقافت، تاریخ، قدیم روایات، جدید ترقی کی چکا چوند، باغوں کی ہریالی اور پھولوں کی خوشبو، درختوں سے ڈھکی دو رویہ سڑکیں، پاکستانی ثقافت کی لذت لیے روایتی کھانے، ماضی کی داستان بیان کرتے اور نشان عبرت بنے مقبرے، چمکتے فرش والے مزارات، عظیم درسگاہیں اور زندہ دلان لاہور کی مہمان نوازی یہ سب چیزیں سیاحوں کو بار بار کھینچ کر یہاں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لاہور ایک شہر ہی نہیں ایک دیرپا احساس اور ایک ناقابل فراموش تجربہ بھی ہے۔ پاکستان کی ثقافت کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے لاہور کو دیکھنا ضروری ہے۔

    شاہی قلعہ
    سیاح جب لاہور میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا رخ کرتے ہیں۔ شاہی قلعہ مغلیہ فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ جزوی طور پر اکبر نے تعمیر کیا تھا (1556-1605) اور اگلے تین شہنشاہوں نے اس میں توسیع کی۔ شاہی قلعہ میں دیوان عام، دیوان خاص، شیش محل قابل دید ہیں۔ شاہی قلعہ کا داخلی دروازہ بادشاہی مسجد کے سامنے ہے اور اسے "عالمگری گیٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1981 میں یونیسکو نے لاہور قلعہ کو عالمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت سے شامل کیا۔

    بادشاہی مسجد
    شاہی قلعہ لاہور کے مغرب میں بادشاہی مسجد واقع ہے۔ اسے لاہور کے مشہور مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بادشاہی مسجد مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے 1671 اور 1673 کے درمیان تعمیر کروائی۔ یہ مسجد مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار ہے ، یہ مغل عہد کی سب سے بڑی اور پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے۔ یہاں بیک وقت ایک لاکھ نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد اور قلعے دونوں کو سنگ سرخ سے سجایا گیا ہے۔

    مینار پاکستان
    شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے قریب ہی مینار پاکستان واقع ہے. مینار پاکستان ، لاہور کی ایک تاریخی یادگار ہے۔ اسے پاکستان کا سب سے بڑا ٹاور سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹاور اس جگہ پر 1960 اور 1968 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا جہاں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 کو علیحدہ وطن کے حصول کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔

    مسجد وزیر خان
    وزیر خان مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1634 میں ہوا اور یہ 1641 میں مکمل ہوا۔ یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل ہے۔ مغلیہ فن تعمیر اور کاشی کاری کے کام کی وجہ سے سیاح اس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔

    شالامار باغ
    لاہور مغلوں کا شہر ہے ، اور شالامار باغ مغلوں کی ایک اور حسین یادگار ہے۔ فواروں، چشموں ، سنگ مرمر کے تالاب ، درختوں اور گھاس کے میدانوں سے سجا یہ باغ پاکستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ باغات کی تعمیر 1641 میں شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع ہوئی ، اور یہ 1642 میں مکمل ہوئی۔ 1981 میں شالیمار گارڈن کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تحریر کیا گیا تھا.

    والڈ سٹی
    اندرون لاہور جسے اولڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے ، لاہور کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ شہر 1000 عیسوی کے قریب قائم کیا گیا تھا ۔ یہ درجنوں حکمرانوں اور کئی ادوار سے گزرا ہے۔ اندرون لاہور مغلیہ دور میں دارالحکومت کے طور پر منتخب ہونے کے بعد شہرت پذیر ہوا ، جس کے نتیجے میں لاہور قلعہ تعمیر ہوا۔ والڈ سٹی کو مغل عہد کے دوران شاہانہ طور پر سجایا گیا وزیر خان مسجد ، شاہی مسجد اور شاہی حمام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ سکھ حکمرانی کے دور میں ، اس شہر کو دوبارہ دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا گیا ، اور یہ ایک بار پھر والڈ سٹی میں تعمیر کردہ متعدد مذہبی عمارتوں کے ساتھ نمایاں ہوا جس میں رنجیت سنگھ کی سمادھی ، اور گوردوارہ جنم آستھن گرو رام داس بھی شامل تھے۔ ابتداء میں اس کے 13 دروازے تھے جن میں سے اب صرف 6 باقی ہیں۔ ان چھ میں سے ہر ایک دیکھنے کے قابل ہے۔

    مقبرہ جہانگیر
    اگر آپ فن تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مقبرہ جہانگیر یقینی طور پر لاہور میں دیکھنے کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ مقبرہُ جہانگیر17 ویں صدی کا ایک مقبرہ ہے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ مقبرہ 1637 سے قائم ہے ، اور دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ باغ میں واقع ہے۔ اس کو سنگ مرمر سے سجایا گیا ہے اور دیواروں کو رنگین پتھروں کے ٹکڑوں سے مزین کیا گیا ہے۔

    کامران کی بارہ دری
    کامران کی بارہ دری کو 1540میں پہلے مغل بادشاہ بابر کے بیٹے اور دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کے بھائی کامران مرزا نے تعمیر کیا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہر کا قدیم ترین مغل ڈھانچہ ہے جو اب بھی قائم ہے۔ یہ محل لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے پار ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے کشتی کی مدد لی جاتی ہے۔اس کی دو منزلیں اور بارہ دروازے ہیں جنھیں ہوا کے گزر کےلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ لاہور کے دیگر تاریخی مقامات کے برعکس ، اس کی حفاظت نہیں کی جارہی ہے -اور یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

    داتا دربار
    آپ لاہور جائیں اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے بزرگ سید علی ہجویری داتا گنج بخش کے مزار پر نہ جائیں یہ ممکن ہی نہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہاں 11 ویں صدی میں رہتے تھے۔ یہ لاہور کا مقدس ترین مقام ہے اور اس کے سالانہ عرس میلے میں ملک بھر سے 10 لاکھ زائرین آتے ہیں۔

    مادھو لعل حسین کا مزار
    لاہور ہی میں مادھو لال حسین کا مزار بھی بہت مشہور ہے۔ مادھو لعل حسین سولہویں صدی کے صوفی شاعر تھے۔ ان کے عرس کے موقع پر یہاں ہر سال میلہ چراغاں ہوتا ہے جو لاہور کا ایک مقبول تہوار ہے۔ یہ میلہ شالیمار گارڈن میں بھی ہوتا تھا ، یہاں تک کہ صدر ایوب خان نے سن 1958 میں اس کے خلاف حکم دیا تھا۔

    انارکلی بازار
    انارکلی بازار ، لاہور میں دیکھنے کے لئے ایک بہترین مقام ہےچاہے وہ خریداری ، کھانے ، یا محض تفریح کرنی ہو۔ اس کے رومانوی نام کا اثر ہے یا کچھ اور لیکن لاہور آنے والوں کی تفریح اور شاپنگ انارکلی جائے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہ لاہور کے قدیم بازاروں میں سے ایک ہے۔

    باغ جناح
    لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک وسیع و عریض پارک ، باغ جناح صرف ایک تفریح گاہ نہیں، یہاں ایک نباتاتی باغ ، ایک مسجد اور قائد اعظم لائبریری بھی ہے جو 19 ویں صدی کی وکٹورین طرز کی عمارت میں واقع ہے۔اس باغ کی تعمیر 1860 میں شروع ہوئی۔یہاں پر اس دور کے قدیم درخت آج بھی موجود ہیں۔ پارک کے اندر تفریحی اور کھیلوں کی سہولیات بھی ہیں۔ ایک اوپن تھیٹر ، ایک ریستوراں ، ٹینس کورٹ اور جم خانہ کرکٹ گراؤنڈ۔

    فوڈ سٹریٹ
    جب لاہور کے روایتی کھانوں کی بات ہو تو شاہی قلعہ سے متصل فوڈ سٹریٹ سے بہترین کوئی جگہ نہیں۔اندرون شہر لاہور میں واقع فوڈ اسٹریٹ صرف کھانے پینے کے لیے ہی نہیں بلکہ قدیم حویلیوں میں بنے یہ ریستوران اور اندرون لاہور کی ثقافت کو اجاگر کرتی عمارتیں سیاحوں کو یہاں کھینچ کر لانے پر مجبور کرتی ہیں۔ "حویلیاں ریستوران” اور "کوکوز ڈین” کی چھت پر بیٹھ کر نہ صرف کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے بلکہ آپ بادشاہی مسجد اور لاہور کے حسین نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    یہ تو قدیم لاہور کی ثقافت کی ایک جھلک ہے۔لیکن اگر جدید لاہور کو دیکھنا ہو تو لبرٹی، ڈیفنس، امپوریم مال، پیکجز مال اور فورٹریس سٹیڈیم میں رنگ و نور کی برسات نظر آتی ہے۔ یہاں آپ کو زندگی بھاگتی دوڑتی اور رقص کرتی نظر آئے گی۔

    جدید دور کا ساتھ دینے کے لیے نئے پلازے اور نئی تفریح گاہیں بنانا ملکی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ لیکن تاریخی عمارات اور مقامی ثقافت کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ ان کی حفاظت کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اسی ثقافت اور تہذیب کو دیکھنے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں حکومت اور عوام دونوں کا رویہ تاریخی عمارات اور ملکی املاک کی حفاظت کے بارے میں غیر سنجیدہ ہے۔ حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور عوام ان مقامات پر گندگی پھیلانے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ہمیں چاہیے کہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ان کی حفاظت کریں اور حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش کے لیے خصوصی فنڈ مختص کرے۔ کیونکہ یہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔ اور اسی سے ملکی ترقی اور بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

    @ImranARaja1

  • عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر :  محمد عمران خان

    عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر : محمد عمران خان

    جی ہاں ہم حکمرانوں کو دن رات صبح شام کرپٹ کرپٹ کہتے نہیں تھکتے حالانکہ حکمرانوں سے کہیں زیادہ کرپٹ ہم خود عوام ہیں ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جی عوام کیسے کرپٹ ہو سکتے ہیں؟
    تو پھر غور سے پوری تحریر پڑھ کے خود فیصلہ کیجئے کہ کیا ہم کرپٹ ہیں یا نہیں؟!
    ایک بینک کے مینیجر سے شروع کرتے ہیں، کہ ‏‎بہت سے بینک منیجر اپنے کام سے بے خبر ہیں انکے زیر انتظام کارکن کا رویہ کلائنٹ کیساتھ ہتک امیز ہوتا ہے, مگر ان صاحب کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ تو کیا ہم اسے ایک ایماندار بینک مینیجر کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب آتے ہیں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی طرف، ڈاکٹر حضرات نے جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے وہ کسی بھی ذی شعور سے ڈھکا چھپا ہر گز نہیں، مریضوں کی زندگی سے کھیلنے کا تو انکا شاید معمول بن چکا ہے، دوائی وہ لکھ کر دیں گے جو انکے بتائے گئے من پسند میڈیکل کے علاوہ آپکو کہیں اور نہیں ملے گی. چاہے وہ دوائی آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہو یا نہیں یہ آپکی قسمت، تو کیا ہم ان جیسے نام نہاد پڑھے لکھے ڈاکٹروں کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب بات کرتے ہیں پیٹرول مافیا کی، انکی کارستانیوں کا کس کو نہیں معلوم کہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتو فورا بعد ہی قیمتیں بڑھا کر پچھلی قیمت پر خریدا ہوا تیل نئی قیمت پر فروخت کر کے کروڑوں روپے کماتے ہیں، لیکن اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اعلان ہو جائے تو پہلے تو چند روز تک قیمت کم نہیں کرتے بلکہ اسی قیمت پر فروخت کرتے رہتے ہیں، پھر اگر کم کر بھی دیں تو تیل ڈالتے وقت پیمانے میں ایسی ردو بدل کرتے ہیں کہ قیمت بھی وصول ہو جاتی ہے اور گاہکوں کی جیب سے ہی وہ اپنا خسارہ پورا کر لیتے ہیں۔ سوال تو بنتا ہے نا ادھر کہ کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب سے آپ بخوبی واقف ہیں۔

    چلیں شوگر مافیا کے کارنامے بھی دیکھ لیں، چینی اگر مہنگی ہو جائے تو ان کا رکھا ہوا سٹاک فورا باہر آنا شروع ہو جاتا ہے اور دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگتا ہے لاکھوں کروڑوں اربوں روپے کماتے ہیں۔لیکن اگرخدانخواستہ چینی سستی ہو بھی جائے کسی طرح تو یہ بالکل بھی نہیں فروخت کرتے بلکہ اسٹاک کر لیتے ہیں چینی چھپا دیتے ہیں چینی مارکیٹوں میں ناپید ہو جاتی ہے پھر مجبورا ریٹ خود بخود بڑھ جاتے ہیں اور جب ریٹ بڑھ جاتے ہیں تو وہی چینی یہ لوگ نکال کے پھر فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں اربوں روپے کروڑوں روپے کما کے یہ لوگ کہاں جاتے ہیں کدھر کرتے ہیں کیوں کرتے ہیں ایسا ؟کیا یہ ملک کے ساتھ پاکستان کی عوام کے ساتھ ہم غریبوں کے ساتھ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟تو کیا ہم ان کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے ہرگز ہرگز نہیں!
    کس کس کا رونا روئیں شوگر مافیا، تیل مافیا، آٹا مافیا یا ایسے کئ مافیاز سے ہمارا ملک بھرا پڑا ہے۔

    چھوڑیں ان بڑے بڑے مافیاز کو تو آپ ذرا چھوٹے لیول پہ آجائیں ہم آپ کو ان کی کارستانیاں بھی سناتے ہیں ۔ چھوٹے سے چھوٹے پرچون والے سے شروع کرتے ہیں ایک پرچون والا دکان دار اگر کسی کو ادھار چیز دیتا ہے تو 2 نمبر چیز دے گا اور ریٹ کم از کم دس فیصد زیادہ رکھے گا۔ ناپ تول میں کمی کرے گا۔ اگر کوئی نقد چیز لینے والا آئے تو اسے اچھی چیز دے گا۔ موجودہ ریٹ لگائے گا۔ اور یہ ان پر احسان نہیں کر رہا ہو گا پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور گڑبڑ کرے گا پرانا خراب شدہ مال نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے چاول دال وغیرہ جو پہلے سے خراب ہوئی پڑی ہوتی ہیں وہ نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے اچھا کہے کے ،اب جو لینے آئے گا وہ ایک ایک چیز تو چیک کرے گا نہیں لیکن جب وہ گھر جائے گا دیکھے گا استعمال کرے گا تو اس کو بعد میں پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یہاں صرف یہ چیز نہیں ہے اور بھی اس طرح کی بہت سی خرابیاں ہوتی ہیں جو وہ لوگ کرتے ہیں اور خود کو ایماندار کہتے ہیں۔ ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں خود اپنے ساتھ وہ کیا کر رہے ہیں۔
    تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں جواب ہے نہیں!

    ایک چھوٹے سے چھوٹا گنے کے رس کی ریڑھی والا وہ بھی اسی طرح کی بے ایمانی کرتا ہے گنے کے رس میں برف اتنی ڈال دے گا کہ ہر گلاس میں گنے کا رس آدھے گلاس سے بھی کم ہوگا باقی پورا گلاس پوری جگ اس کی برف سے اس کے برف والے پانی سے بھر جائے گی نمک ڈالے گا مصالحے ڈالے گا اس طرح کی چیزیں ڈالے گا پورا کرکے آپ کو گلاس یا جگ پکڑا دے گا یہ آپ کا گنے کا رس پئیں اس میں زیادہ پانی ہوگا اور معمولی سا گنے کا رس ہوگا۔ اور گنا خراب ہے اچھا ہے جیسا بھی ہے وہ اپنی جوس والی مشین میں ڈال دے گا اور آپ کو اس کا رس نکال کر دے دے گا اس میں گنے میں کیڑے تھے اچھا تھا برا تھا یہ آپ کی قسمت آپ کو بس رس پینا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    شہر سے نکل کرآپ دیہات کی طرف آ جائیں جو لوگ فصلیں اگاتے ہیں کپاس، گنا ،گندم ،چاول وغیرہ جو چیز لوگ اگاتے ہیں وہ اپنی فصل کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں شاید ہی کوئی ہو گا جو اچھا پانی دیتا ہوگا اپنا حلال کا پانی دیتا ہوگا اپنا ٹیوب ویل استعمال کرتا ہوگا شاید ہی کوئی قسمت والا مل جائے۔ لیکن اکثر میں نے خود دیکھا ہے کہ بے ایمانی سے کھیتوں میں پانی ڈالتے ہیں چوری کا پانی لیتے ہیں رات کو کافی کافی دیر تک جاگتے ہیں جب دیکھتے کوئی نہیں ہوتا تو چوری کا پانی کھول کے اپنی فصلوں کو دیتے ہیں چاہے وہ کپاس ہو چاہے وہ چاول ہو چاہے وہ گنے کی فصل ہو کچھ بھی ہو چوری کا پانی دے کے چوری کی فصل اگا کے حرام اس میں شامل کرکے وہ خود کو ایماندار سمجھتا ہے۔ وہ خود کے ساتھ اتنا ظلم کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا نہ تو وہ اپنے بچوں کو حلال کھلا رہے ہوتے ہیں نا خود کھا رہے ہوتے ہیں اور نہ آنے والی ان کی نسلیں حلال کھائیں گی ۔ سب کے سب اس میں شامل ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں ؟ہر گز نہیں!

    بڑے سے بڑے وکیل کیس چاہے جیسا بھی ہو اگلے کا قتل بھی ہو چکا ہو اگلا بہت مجبور ہو لاچار ہو لاوارث ہو اس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ وکیل نہیں کر سکتا تو اس کو انصاف نہیں ملے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر اس نے قتل کیا ہو اس نے زیادتی کی ہو اس نے بچوں کا ریپ کیا ہو اس نے بڑی سے بڑی زیادتی بڑے سے بڑا جرم کیا ہو اور اچھے سے اچھا وکیل اتنا سارا پیسہ دے کہ اگر وہ خرید لیتا ہے تو وہ وکیل جی جان سے اس کو جتوانے کے لئے کیس لڑے گا اور آخر اس کو کیس جتوا کر کے ہی دم لے گا تو کیا وہ وکیل نے جو پیسے لیے وہ کرپشن نہیں ہے کیا وہ بے ایمانی نہیں ہے کیا وہ اپنی نسلوں کے ساتھ ظلم نہیں کر رہا جواب ہے کہ ہاں بالکل کر رہا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے کہ نہیں!

    ڈیجیٹل میڈیا پربیٹھے ہوئے صحافی شاید ہی کوئی ایماندار ہو گا اکثریت دیکھنے میں آتی ہے کہ جھوٹی خبریں شیئر کرتے ہیں دوسری پارٹیوں سے پیسے لے کے حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت سے پیسے لے کے دوسری پارٹیوں پر تنقید کرتے ہیں جو پارٹی ان کو پیسے دے ان کی ہر بری چیز اچھی کر کے دکھاتے ہیں اور جو پیسے نہ دے جو اپنا پیسہ حرام نہ کرے حلال کر کے اپنی قوم کو کھلائے اور ان لفافہ صحافیوں کو پیسے نہ دے وہ بیچارا ایسے ہی ذلیل ہوتا رہے گا دن رات سوشل میڈیا پر بھی اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی یہ میں صرف ایک آدمی کی بات نہیں کر رہا،ایسے شاید کئ لوگ ہوں گے۔
    تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں!

    سکول مافیا کی بات کر لیتے ہیں سکول مافیا وہ مافیا ہے جو اپنے پرائیویٹ سکولوں میں دس دس جماعت پڑھے ہوئے لوگوں کو استاد بنا کر پیش کر دیتے ہیں چند ہزار روپوں کے چکر میں آنے والی نسلوں کو بچوں کو ان سے تعلیم دلوا کے جو خود پڑھے لکھے نہیں ہوتے جن کو خود تعلیم حاصل کرنی چاہیے وہ بچوں کو پڑھا رہے ہوتے ہیں کیا پڑھا رہے ہیں؟ انہیں صرف پرائیویٹ سکول کو چلانے کے لیے ان جیسے لوگوں کو چند روپوں میں خرید کے بچوں سے پھر اس کی قیمت وصول کرتے ہیں، اربوں روپے کروڑوں روپے ان بچوں سے صرف اس مد میں وصول کیے جاتے ہیں کہ ان کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان کو تعلیم کیا دی جارہی ہے یہ نہ تو ہم جانتے ہیں نہ بچوں کے والدین جانتے ہیں اور نہ خود پڑھنے والے بچے جانتے ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ یا استاد کہہ سکتے ہیں ؟جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں!
    میری ایک چھوٹی سی تحریر سے شاید کچھ لوگ اتفاق نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے امید کروں گا کہ آپ سب کو پسند آئے گی ان شاء اللہ ۔اللہ تعالی ہم سب کو ان چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو رزق حلال کھانے اور کمانے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، آمین یا رب آمین!

    @Imran1Khaan

  • کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    ارتقاء کے دور سے ہی کتاب نے انسانوں کا ساتھ سنبھال لیا تھا مگر اس وقت اس کا استمال بہت محدود ہوتا تھا اس وقت اس کو پتھروں کے ٹکڑوں پر کندہ کر کے ، درختوں کی چھال یا پھر پتوں پر اس کے علاوہ جانوروں کی ہڈیوں پر لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ آٹھویں صدی میں کاغذ ایجاد ہوا اور کتابوں کو نئی زندگی مل گئی اور ان کاغذوں پر سیاہی کی مدد سے ہاتھوں سے لکائی کی جاتی اور یہ سہولت صرف بادشاہوں اور امرا ء کو حاصل ہوتی تھی اوران مقاصد کے لیے انہوں نے بھاری معاوضے پر خطاط رکھے ہوتے تھے اس طرح یہ سہولت عام افراد تک نہیں پہنچ پا رہی تھی اس زمانے میں زیادہ تر مسلمان ہی کتابوں کے وارث سمجھے جاتے تھے اور ہر میدان میں عیسائیوں سے آگے تھے ابن الہیثم اس وقت ماہر طبیعات تھے جنھوں نے افلاطون کی تھیوری غلط ثابت کی اور بتایا کہ آنکھوں سے روشنی نکل کر چیزوں پر نہیں پڑتی بلکہ روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے جس سے چیزیں نظر آتی ہیں انہوں نے ریاضی کی مدد سے بھی اس چیز کو ثابت کیا- جابر بن حیان پہلے کیمیادان تھے جنھوں نے گندھک کا تیزاب ایجاد کیا اور ایسا تیزاب بھی بنایا جس سے سونا پگھلایا جا سکے –

    اس کے بعد جنگ و جدل کا دور شروع ہوا اورعیسائیوں نے بغداد اور سپین میں مسلمانوں کی لائبریریوں کو جلانا شروع کر دیا یا پھر کتابوں کو قبضے میں لے لیا -قاہرہ کی لائبریری کی کتابوں کو دریا میں پھینکا گیا جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا اس کے علاوہ کئی واقعات ہیں اس سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوا اور عیسائی علم کے وارث بن گئے-وقت کا پہیہ ایک بار پھر گھوما اور چھاپنے والی مشین ایجاد ہو گئی اس نے کتاب کے نظریئے کو ہی بدل کر رکھ ڈالا اور چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد ہر خاص و عام کو کتاب تک رسائی مل گئی-اس کہ بعد لوگوں میں کتابوں کا ذوق پیدا ہوا اور لوگوں نے اپنی لائبریریاں بنانی شروع کر دیں دیوان غالب ہو یا کلیات میرانہوں نے لوگوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی –

    قیام پاکستان کے بعد چند سالوں تک تو لوگوں کو سنبھلنے میں وقت لگا مگر جب سنبھل چکے تو کتابوں کی طرف رخ کیا اس دور کو کتابوں کے لیے گولڈن دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس وقت کتابوں کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا -قرۃ العین حیدر کے آگ کے دریا نے تہلکہ مچا دیا تھا اس کے علاوہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے اہم کردار ادا کیا -شاعر حضرات میں سے احمد فراز ،حبیب جالب اور فیض احمد فیض نے اپنا کردارادا کیا-

    اس کے بعد ٹیکنالوجی کا دورآیا اور کتابوں سے لوگ دور ہونے لگے ۔زیادہ تر لوگ معلومات کے لیے کتابوں کی بچائے انٹرنیٹ کا سہارا لینے لگے اور اس طرح ایک عہد تمام ہوا-اب تو زیادہ تر لوگ کتابوں کو پی ڈی ایف پر ہی پڑھتے ہیں تاکہ وقت کی بچت بھی کو سکے اور سرمائے کی بھی-مگر وہ چاشنی جو کتابوں کے اوراق میں چھپی ہوتی ہے وہ آنلائن پڑھنے میں کہاں ملتی ہے -مگر اس دور میں بھی فیض فیسٹیول اور دیگر اس طرح کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں تاکہ کتابوں کو زندہ رکھا جا سکے -اس وقت لائبریری میں نہ ہونے کے برابر افراد ہوتے ہیں موجودہ دور میں عرصہ دراز ہو گیا تھا کہ کتابوں کو پرموٹ کیے جانے کے حوالے سے کوئی سیمینار دیکھا گیا ہو مگر گزشتہ دنوں حسنین جمال کی طرف سے کتاب لکھی گئی اور اس کی تقریب رونمائی کے علاوہ حسنین صاحب نے جس طرح مختلف شہروں میں جا کر قارئین سے ملاقاتیں کی اور کتاب کی پروموشن کی وہ قابل دید تھی یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہ صدی کتابیں اپنا وجود قائم رکھ سکیں ورنہ آجکل کے مشینی دور میں طلبا کی اکثریت ایسی ہے جس نے شائد سلیبس کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہو-آج کے دور میں ٹیکنالوجی بھی بے حد ضروری ہے مگر کتابوں کے ساتھ بھی رشتہ بنائے رکھنا چاہئیے۔کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے جو سعود عثمانی صاحب نے فرمایا
    کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
    یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

    mohsenwrites@

  • موبائل فون اور ہم . تحریر : رانا محمد جنید

    موبائل فون اور ہم . تحریر : رانا محمد جنید

    ہم آج اکیسویں صدی سے گزر رہے ہیں، جس میں آئیے روز نت نئی ایجادات پیدا کی جا رہی ہیں جو کے انسانی زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام فرہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جیسے جیسے انسانی زندگی مشکل کی طرف جا رہی ہے ویسے ویسے انسان اپنے لئے نئی چیزیں پیدا کرتا جا رہا ہے، ان میں بہت سے چیزیں تو انسان کو فائدہ کو بے شمار فائدے فراہم کر رہی ہیں اور کچھ کے نقصانات بھی ہیں۔
    آج کے دور سب سے زیادہ اور زیادہ وقت کے لیے جو چیز استعمال ہو رہی ہے وہ موبائل فون ہے، اس میں اب کوئی شک نہیں ہے کے تقریباً دنیا بھر میں موجود ہر شخص موبائل فون سے واقف ہو چکا ہے،ہر شخص موبائل فون کا استعمال جان چکا ہے۔

    موبائل فون عام طور پہ ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے علاؤہ بھی بے شمار فائدے ہیں مثلاً: انٹرنیٹ، انٹرٹینمنٹ اور حساب کتاب وغیرہ چونکہ موبائل فون کے بنانے کا مقصد اس وقت دور کے فاصلے تک ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، موبائل فون وہ ضرورت تو پوری کر ہی رہا ہے۔ پرکیا ہم نے کبھی سوچا موبائل فون نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور بھی کر دیا ہے، موبائل کے حد سے زیادہ استعمال نے انسان کی زندگی پر بے حد اثرات مرتب کئے ہیں چاہے وہ دینی ہوں دنیاوی یا سماجی اگر دیکھا جائے تو موبائل فون اب ہمارے معاشرے کے لئے بے حد ضروری ہو چکا ہے جس سے پیچھا چھوڑا ممکن نہیں، پراس وجہ سے ہم اس کے نقصانات سے بھی منہ نہیں موڑ سکتے اگر پہلے دیکھا جائے کے موبائل فون نے ہماری دینی زندگی پر کیا اثرات چھوڑے ہیں تو شاید ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کے ہم صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ سے ہٹ کر کہاں جا رہے ہیں.

    موبائل فون ہماری دینی زندگی پر کس طرح سے اثر انداز ہوا ہے وہ کچھ اس نظم میں بیان کئے گے الفاظ کے عین مطابق ہے

    موبائل نے ذوقِ تلاوت چُھڑا دی
    موبائل نے تسبیح کی عادت چُھڑا دی

    موبائل نے خود میں ہی مصروف رکھا
    موبائل نے مسجد کی رغبت چھڑا دی

    موبائل نے آنکھوں کو آوارگی دی
    موبائل نے تقوی کی نعمت چھڑا دی

    موبائل وبا ہے، موبائل ہے فتنہ
    موبائل نے اُمت کی خدمت چھڑا دی

    موبائل غمِ آخرت سے ہٹائے
    موبائل نے دعوت کی محنت چھڑا دی

    موبائل نے ایماں کو کمزور کرکے
    موبائل نے راہِ شجاعت چھڑا دی

    موبائل نے لایعنیوں میں دھکیلا
    موبائل نے نیکوں کی صحبت چھڑا دی

    موبائل نے دلدل کو گلشن بتاکر
    موبائل نے دریائے رحمت چھڑا دی

    موبائل کے لت کی نحوست ہے
    موبائل نے شوقِ شہادت چھڑا دی

    اسی طرح سے ہی اقبال کا ایک شعر جو مسلمانوں کے ان حالات کی عکاسی کرتا تھا،

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اب اگر موبائل فون کا انسان کی دنیاوی زندگی پر اثر دیکھا جائے تو وہ بھی کچھ کم نہیں، اس وقت لوگوں کو ایک دوسرے سے بے زار کرنے کے لیے موبائل فون کا بہت ہاتھ ہے لوگ اس فتنے میں اس قدر کھو چکے ہیں کے وہ اپنی قریبی رشتے ئاور دوستوں کو بھی وقت نہیں دے پاتے،جس کی وجہ سے بہت سی غلطی فہمیاں جنم لے لیتی ہیں جو کے بعد میں تعلقات کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں۔
    اور اسی طرح ہی موبائل فون سے ہمارے معاشرے پہ جو اثرات چھوڑے ہیں ان سے بے شمار برائیاں جنم لے رہی ہیں، آج کل لوگ اپنے زیادہ تر لین دین کے معاملات موبائل فون کے ذریعے ہی کرتے ہیں،اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کے کوئی تیسرا شخص موبائل فون کو ہیک کر کے ان کے پیسے یا دوسری ضروری معلومات نکال لیتا ہے اور اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔

    آج کے وقت میں ہر نا بالغ لڑکا اور لڑکی بھی فون کا استعمال کر رہے ہیں اور بعض اوقات والدین ان کی طرف توجہ نہیں دیتے تو وہ برائی کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں، اور پھر موبائل فون میں ایسے ڈرامے اور فلمیں دیکھی جاتی ہیں جن کے ذریعے بچوں کا ‘مائنڈ واش’ ہو جاتا ہے اور وہ اکثر کوئی جرم بھی کر بیٹھتے ہیں اور یہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

    اگرہم موبائل فون کا کم استعمال اور صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں تو ہم خود اور اسے اپنے معاشرے کو بے شمار برائیوں سے بچا سکتے ہیں اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزار کے بہت ساری تلخیوں کو بھی ختم کر سکتے ہیں.

    @Durre_ki_jan

  • الطاف حسین ثانی نہ بنیں . تحریر : آصف گوہر

    الطاف حسین ثانی نہ بنیں . تحریر : آصف گوہر

    جس انسان کو اس کا اپنا وطن دھتکار دے اور وہ مفرورہوکر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلے اس کے ہاں پھر دشمنوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ماضی قریب میں کراچی کو یرغمال بنانے والے الطاف حسین کا معاملہ ہمارے سامنے ہے قتل و غارت گری اغوا بھتہ خوری کے مقدمات میں مطلوب سفاک مجرم جس سے خوفزدہ پوری میڈیا انڈسٹری کی جرات نہیں تھی کہ اس کی لائیو تقریر میں خلل بھی پڑ جائے جس کی بھتہ خوری سے تنگ کراچی حیدرآباد کے سرمایہ کار اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے جس کی وجہ سے شہر میں روزانہ درجنوں افراد ٹارگٹ کلنگ میں مارے جاتے تھے ۔ بوری بند لاشوں کا ملنا معمول کی بات تھی ۔جب اس الطاف حسین نے لندن پناہ لی تو کراچی سے بھتہ منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن ٹرانسفر ہونا شروع ہوگیا اور اس نے لندن میں اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا اس کی ایک کال پر کراچی کا شہر بند ہوجایا کرتا تھا لندن میں پاکستان دشمن قوتیں الطاف حسین کے پاس جایا کرتی تھیں اوراسکو اپنے مذموم مقاصد کے لئے خوب استعمال کیا گیا۔الطاف حسین نے لندن سے کراچی میں ہونے والے جلسوں سے گھنٹوں خطاب کرنا اور پاکستانی اداروں اور افراد کے خلاف بکواس کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا پھر اسکی بدزبانی اتنی بڑھ گئ کہ مادر وطن پاکستان مخالف نعرے لگوادیئے اس سے قبل الطاف حسین قانون نافذ کرنے والے اداروں پر انکی قیادت کے خلاف مسلسل بکواس کرتا رہا لیکن ملک کے تجارتی مرکز شہر قائد کے امن و امان کے لئے سب برداشت کیا جاتا رہا لیکن جب بات پاکستان کے خلاف نعرہ کی آئی جو اس کے زوال کی وجہ بنی پھر چشم فلک بے دیکھا چند باوردی جوان نائن زیرو داخل ہوئے اور 30 منٹ میں الطاف حسین کی لنکا ڈھا دی۔

    اب آئیں بات کرتے ہیں نوازشریف کی پانامہ پیپرزمیں نام آیا کرپشن کیسزعدالتوں میں چلے ایک سوال سامنے رکھا گیا لندن فلیٹس کہاں سے خریدے رقم کی ادائیگی کیسے کی رسیدیں مانگی گئیں کوئی جواب نہ دے سکے نااہل ہوئے 7 سال قید ہوئی جیل گئے بیماری کا ایسا ڈھونگ رچایا کہ اسلام آباد کی بڑی عدالت کو کہنا پڑا کہ وزیراعظم ضمانت دیں کے منگل تک ملزم کو کچھ نہ ہوگا ۔ حکومت نے عدالت کے تحفظات دیکھتے ہوئے علاج کی غرض سے 7 ہفتوں کے لئے لندن جانے کی اجازت دے دی ۔ موصوف نے جہازمیں بیٹھتے ہی تیور دیکھائے اوربیماری والی سستی غائب ہوگئ پھر جناب لندن کی برگر اور کافی شاپس پر نظر آنے لگے عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر مفرور اور اشتہاری قرار دیا اور جائیداد ضبطگی اور نیلامی کا حکم دیا ملک بوٹا نے شیخوپورہ میں مجرم کی زمین نیلامی میں خریدی ۔
    نوازشریف نے فضل الرحمان کے ذریعے پی ڈی ایم بنوائی اور آہستہ آہستہ الطاف حسین کی طرح قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کے خلاف خطاب شروع کردیئے اور میڈیا ہاوسز نے نشر کرنے شروع کر دئیے جب بدکلامی حد سے بڑی حکومت نے نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ۔

    عالمی اسٹبلشمنٹ کو الطاف حسین ثانی میسر آگیا اورپاکستان مخالف ممالک کے نمائندوں نے ملاقاتیں شروع کردیں اسی دوران امریکا افغانستان سے بستر لپیٹ گیا افغان کٹھ پتلی انتظامیہ کو اپنے لالے پڑ گئے اور وہ پاکستان کو اپنی یتیمی کا سبب سمجھنے لگے۔ افغانستان کے سیکورٹی ادارے کے سربراہ محب نے بکواس کرتے ہوئے پاکستان کو چکلہ کہ دیا پاکستان کے وزیرخارجہ نے بروقت جواب دیا اور کہا کہ اب کوئی غیرت مند پاکستانی اس سے ملاقات کرے گا نہ ہاتھ ملائےگا۔ اسی افغان نے لندن میں نوازا شریف کی رہائش گاہ پرملاقات کی اور خوش گپیوں کی تصاویر جاری کیں گئیں جو تمام محب وطن پاکستانیوں کے لئے شدید اذیت اور غصے کا باعث بنیں۔ اور اس غصہ کا اظہار آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے کیا اورمسلم لیگ ن کو مسترد کردیا.

    ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ نواز شریف نے لندن کے نواح میں بھارتی وفد سے بھی ملاقاتیں کیں ہیں ۔ نوازشریف الطاف حسین کا انجام یاد رکھیں اس کی مقبولیت بھی کم نہیں تھی لیکن پاکستانیوں نے دل سے اتار دیا اب نہ وہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا ۔
    "‏جس فرد کو اس کا اپنا وطن دھتکار دے اور وہ مفرور ہوکر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلے اس کے ہاں پھر دشمنوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔”

    @EducarePak

  • عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    ملکِ پاکستان وہ مملکت خداداد ہے جسے ان گنت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا. یہ وہ وقت تھا جب عوام میں ملک حاصل کرنے کا شعور تھا اورایک قوم بن کے سوچنے کا وقت بھی. موجودہ دور میں ایک سے بڑھ کر ایک معاشرتی مسائل موجود ہیں. معاشرہ تب بگڑتا ہے جب اجتماعی برائیوں سے قطع نظر انفرادی برائیاں بڑھ جاتی ہیں. ڈاکٹر محمد اقبال یونہی نہیں "افراد” پر زور دے گئے. کیونکہ ایک فرد بذاتِ خود پورا معاشرہ ہوتا ہے. مختلف مقامات پر انسان کا رویہ مختلف ہوتا ہے اور بعض اوقات مختلف ہونا بھی چاہیے. کسی شخص کا مخصوص اوقات میں اپنایا گیا رویہ اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے. عوامی مقامات پر ہمیں کس قسم کے رویے اپنانے چاہیے؟ عوامی مقامات میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا عوامی مقامات پر منفی رویہ معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے؟ آئیے کچھ مقامات پر ہمارے رویوں کا جائزہ لیتے ہیں.

    پبلک پارک: صحت مند جسم میں ہی صحت مند ذہن ہو سکتا ہے، یہ تو ہم نے کتابوں میں پڑھ لیا. اس جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت سی ضروری چیزوں میں سے پارک ایک نہایت ضروری چیز ہے. صبح و شام پارک میں چہل قدمی انسان کو جسمانی و ذہنی طور پر تر و تازہ رکھتی ہے. سوچنے کی ضروت ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے کسی رویے کی وجہ سے پارک میں موجود کوئی شخص متاثر نہ نہیں ہو رہا ہو. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارکس میں کچھ "نوجوان” طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات وہاں آئی فیملیز پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی طور پر ان رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں.

    پبلک مقامات میں زیادہ استعمال ہونے والی جگہوں میں ایک بینکوں کے اے ٹی ایم بھی ہیں. یہاں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور اندر موجود ایک شخص کچھ غیر ضروری معلومات دیکھتے دیکھتے آدھا گھنٹہ صرف کر دیتا ہے جو باہر کھڑے لوگوں کے لیے اذیت ہے. ہمیں چاہیے کہ جس بینک میں اکاؤنٹ ہے اس کی موبائل ایپلیکیشن اپنے موبائل میں رکھیں اور بیلنس معلوم کرنا، بلوں کہ ادائیگی اور فنڈز ٹرانسفر جیسے کام گھر بیٹھ کر ہی کریں تا کے اے ٹی ایم پر کم سے کم رش ہو.

    ملک کا بیشتر طبقہ آمدورفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتا ہے. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بس / ویگن میں موجود اخلاقی اقدار سے ناواقف کچھ لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے جو ساتھ بیٹھے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں.
    سگریٹ-نوشی، پان چبانا، تھوکنا، اونچی آواز میں فون سننا اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی ان میں سے چند ایک ہیں. یہ ضروری ہے کہ سفر کو سفر سمجھ کر ہر شخص ساتھ بیٹھے شخص کو سہولت فراہم کرنے کا شعور رکھے.

    ملک پاکستان کو اللّٰہ پاک نے جس خوبصورتی سے نوازا ہے وہ شاید ہی کسی اور ملک میں ہو. یہاں گرم و سرد علاقے ، سر سبز میدان، دریائی مقامات، سمندری نظارے اور خوبصورت پہاڑی علاقے موجود ہیں. جہاں انواع و اقسام کی جگہیں موجود ہیں جو مقامی و انٹرنیشنل سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں. مگر کچھ عرصہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم بطور سیاح جب کسی مقام پر جاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں یا وہیں سے کچھ لے کر کھاتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ وہیں ڈھیر کر دیتے ہیں.
    پہاڑوں میں وادیوں میں جہاں ہم کیمپ لگاتے ہیں وہاں جا کر کس نے صفائی کرنی ہوتی ہے. اس لیے اشرف المخلوقات ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ان مقامات سے اپنے استعمال کے بعد بچنے والی چیزوں اور کوڑے کو اچھی طرح یا تو تلف کریں یا پھر اپنے ساتھ واپس لائیں اور جہاں کوڑے دان لگے ہوں وہاں ڈالیں. یہ رویہ ہمارے صحت افزا مقامات کو بحال رکھے گا.

    بھی بہت سے مقامات پر ہمارے رویے لوگوں پر منفی اثر ڈال رہے ہوتے ہیں. ان سب مسائل کا ایک ہی حل ہے. کہ ہم دوسروں کے لیے جو پریشانی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں، ہم یہ سوچیں کہ اگر یہ ہمارے لیے کوئی پیدا کرے تو کیا ہمیں ناگوار نہیں گزرے گا؟
    سوچنا شرط ہے. انفرادی تبدیلی لائیں، اجتماعی تبدیلی خود بخود آ جائے گی.

    Twitter : @Q_Asi07