Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    معاشرے میں برداشت کا ہونا بہت ضروری ہے،  جس سے زندگی تو آسان ہوتی ہی ہے  انسان کی،  اسکے ساتھ ہی امن کوبھی فوقیت ملتی ہے انتہا پسندی اور لڑائی جھگڑوں پر۔ اخلاق میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ہمیں،  پہلے خد کو ٹھیک کرنا ہے پھر دوسروں کو،  پہلے اپنی نصیحت خد پر تجربہ کرنی ہے پھر دوسروں کو بتلانی ہے معاشرے کی بنیاد ہی ایک دوسرے کی فکر و محبت،  بھائی چارے اور برداشت کرنے میں ہے ایک دوسرے کے کام آئیں ہمیشہ دوسروں کا بھلا سوچیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔ اپنے نیک مقاصد کی کامیابی کے حصول کےلئے  پوری جان کے ساتھ بھرپور محنت کریں ،  جب تک کہ آپ اپنی منزل مقصود تک پہنچ نہیں جاتے ۔ کوشش کبھی مت چھوڑیئے،  منزل ملے یا ناں ملے ! اگر ، مگر اور کاش زندگی تباہ کر دیتی ہے انسان کی ۔

    اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنا ہی کامیابی ہے ، جو ملا نہیں اس پر مایوس ہونے کے بجائے صبر اور وتحمل کام لیا جائے ۔ یہ دنیا آپکو نہیں سمجھ سکتی سوائے اللہ تعالی کے، اللہ ہی ہے جو اپنے بندے/ بندی کو کبھی بھی مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑتا ! اللہ کوئی نہ کوئی وسیلہ ضرور بنادے دیتا ہے انسان کی مشکلات کودور فرمانے کا۔

    اللہ تعالی کی قربت چاہتے ہو تو اللہ کی خوب عبادت کرو اللہ کا کلام قرآن پاک سمجھ کر پڑھو ذکر الہی زیادہ سے زیادہ کرو ، اپنے دکھ درد میں اللہ کو یاد کرو ، دعائیں کرو رو رو کر اللہ کے آگے جھکو۔ تہجد کی نماز میں قربت الہی حاصل کی جاسکتی ہے، تب اللہ اپنے بندے/بندی سے فرماتا ہے مانگ جو مانگنا ہے میں تجھے دوں ۔

    موت اور زندگی دینے والا میرا اللہ ہی ہے، موت کا فرشتہ ایک گھر کے دن میں پانچ چکر لگاتا ہے، لیکن فرشتہ جان اپنی مرضی سے نہیں نکال سکتا، موت کا فرشتہ تو حکم الہی پر ہی اپنا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ معاشرہ میں عظیم کامیابی کے حصول کے لیے اللہ کی رضا میں راضی بہت ضروری ہے ۔

    ایک دفعہ ایک بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار اپنی کسی منزل کی طرف تیزی سے جارہا تھا تو اک درویش نے بادشاہ کو راستے میں روکا اور کہا کہ گھوڑے سے نیچے اترو، میں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے تو بادشاہ نے کہا جو بات ہے میرے کان میں بتا دو مجھے بہت جلدی ہے ، تو بادشاہ کےبار بار
    کان میں بات بتانے کے اسرار پر ، درویش نے بادشاہ کے کان میں صرف اتنا کہا ہے کہ میں موت کا فرشتہ ہوں اور تیری جان نکالنے آیا ہوں ۔

    یہ سنتے ہی کہ بادشاہ کو سکتا جاری ہوگیا، روئے پیٹے کہ مجھے میرے بیوی بچوں سے تو مل لینے دو ۔ تب درویش نما موت کے فرشتے نے کہا ہم تو اللہ کےحکم کے پابند ہیں، میں تمہیں تمہارے بیوی بچوں سے نہیں ملنے دوں گا۔ تمہاری جان ابھی اسی وقت نکالنے کا حکم مجھے اللہ تعالی نے دے دیا ہے ۔

    شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
    اس سے تو خاموشی بہتر ہے ، کہ کسی کو دل کی بات کہہ کر پھر اس سے کہا جائے کہ کسی سے نہ کہنا ۔ میرا اک دوست مجھ کہتا کہ میرا دل نماز میں نہیں لگتا تو میں کیا کروں کہ میرا دل نماز میں لگ جائے؟

    تومیں نے جواباً اپنے دوست سے کہا کہ:

    جب تم نماز شروع کرو تو زمین کی طرف دیکھو !
    کہ مرنے کے بعد ہمیں زمین میں جانا ہے ۔

    جب رکوع میں جاؤ تو اپنے پاؤں کی طرف دیکھو!
    اس لئے کہ انسان کی جان پاؤں سے نکلتی ہے ۔

    جب سجدہ کرو تو اپنے ناک کیسمت میں دیکھو!
    مرنے کے بعد قبر میں انسان کی سب سے پہلے ناک ختم ہوتی ہے۔

    اور جب تشہد کی حالت بیٹھو تو اپنی خالی جھولی کی طرف دیکھو!

    خالی جھولی دنیا میں آئے اور ہمیں خالی جھولی ہی لوٹنا ہے ۔

    اللہ تعالی ہم سب کو اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطافرمائیں۔

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @khubaibmkf

  • شعور_گناہ  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    شعور_گناہ تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے. اچھائی اور برائی کی تمیز، رہن سہن کے طور طریقے سکھاے ہیں. زندگی کو راہ راست پر رکھنے اور بقا کے لئے گاہے بگاہے مختلف ادوار میں مختلف انبیاء کرام علیہم السلام بھیجے ہیں. جن کا سلسلہ ہمارے پیارے نبی کریم ختم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر ختم ہوا ہے. یہ سب انسان کو راہ راست کی تلقین اور رب کے بندوں کا رب سے تعلق قائم رکھنے کے لیے کیا گیا. شیطان چونکہ جب سے جنت سے نکالا گیا تب سے نوع انسانی کو راہ رب العالمین سے متنفر کرنے کا کام کرتا چلا آیا ہے. اسی سے محفوظ رکھنے کے لیے بنی نوع انسان کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کے نزول کا سلسلہ چلتا رہا. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ رب العزت نے یہ زمہ داری امت کو سونپی کہ اچھائی کا حکم دے اور برائی سے روکے. انسان کی سب سے بڑی کمزوری جو کہ شیطان کا سب سے کارآمد ہتھیار بھی ہے وہ انسان کے اندر موجود اس کا نفس ہے. جسے شیطان دنیا کی طلب میں الجھاے رکھتا ہے. اگر انسان اس طلب کو کنٹرول نہ کرے تو یہی طلب بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے کو جا پہنچتی ہے. یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے انسان کا تباہی کا سفر شروع ہوتا ہے. انسان ہوس کے حصول کے لیے اچھائی اور برائی کی تمیز چھوڑ دیتا ہے. یہاں ہوس سے مراد ہر وہ خواہش کی شدت ہے جو اگر اعتدال میں رہے تو ضرورت کے درجے میں ہوتی ہے. اگر اعتدال کے دائرے سے باہر ہو جاے تو ہوس بن جاتی ہے.
    اگر انسان کو سفر کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے تو یہ اس کی ضرورت ہے اگر مالی لحاز سے یہ فی الوقت اس کی پہنچ سے دور ہے تو اسے صبر کرنا چاہیے محنت کرے حلال اور حرام کی تمیز رکھے اور اپنے ضمیر کو شیطان کی ہتھے چڑھ کر اس ضرورت کو ہوس بننے سے محفوظ رکھے. ہوس اسی کو کہتے ہیں جس میں کسی طلب کا اپنی اصلی حیثیت سے اس قدر بڑھ جانا کہ اس کے حصول کے لیے انسان حلال اور حرام کا فرق نا رکھے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہر برائی اور گناہ جیسے رشوت، چوری جھوٹ فریب حق تلفی الغرض انسان کا اس کی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہر حد سے گزر جانا یہی ہوس ہے.

    ہر انسان کے اندر یہی نفس اس کے لیے منصف کا کام انجام دیتا ہے لیکن کب تک؟ جب تک یہ شیطان کےبہکاوے میں نہیں آتا. جب تک یہ زندہ رہتا ہے تب تک انسان اچھائی اور برائی کا شعور رکھتا ہے.

    انسان کا گناہ سے قبل گناہ کو بھانپ لینا اور اس سے بعض رہنا یہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے. اور نفس کہ زندہ ہونے کی دلیل ہے.

    *اسی کو شعور_گناہ کہتے ہیں*
    انسان رب کی راہ سے بھٹنے سے بچا رہتا ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں میں شامل رہتا ہے.
    جب شعور_گناہ ختم ہو جائے تو رب العالمین کی طرف سے مہلت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور تب تک چلتا ہے جب تک انسان اپنی پوری قوت وقت طاقت لگا کر گناہوں سے اپنے دامن کو داغدار نہیں کر لیتا. رب کی رحمت اس بندے کو ڈھیل دیتی رہتی ہے وہ گناہ حق تلفی اور حقوق اللَّهُ حقوق العباد سب روند دیتا ہے. اور تباہی اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں اس گناہ کا شعور ہی ختم ہو جاتاہے. وہ گناہ کر کہ سمجھتا ہے کہ میں ٹھیک راستے پر ہوں. جب انسان اپنی پوری قوت گناہوں پر صرف کر کے مطمئن ہو جاتا ہے اور اسے تب بھی احساس نہیں ہوتا کہ میں گناہ کرتا رہا. جب اسے کے رویے میں فرعونیت آجاتی ہے کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگڑ سکتا. تب اس کا احتساب شروع ہو جاتا ہے جسے مکافات کہتے ہیں.
    پھر انسان کی سب کاوشیں بے بس ہو جاتی ہیں اور رب کی رحمت اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے. اور وہ رب کے غضب کا شکار ہونے لگتا ہے.
    اس کی مثال ماضی کے ادوار سے ملتی ہے.
    حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ایک شخص بہت گنہگار تھا ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا موسی علیہ السلام میں نہ آج تک کوئی گناہ نہیں چھوڑا تم اپنے رب سے کلام کرنے جا رہے ہو. رب سے میرے بارے سوال کرنا کہ وہ مجھے سزا کیوں نہیں دیتا. جب موسی علیہ السلام نے سوال کیا کہ اے رب العالمین اس کے گناہ کا تو سارا شہر گواہ ہے پھر بھی اس پر خوشحالی ہی خوشحالی ہے اسے سزا کیوں نہیں ملتی؟ جواب آیا موسی علیہ السلام اسے سزا مل چکی اسے گناہ کی طرح سزا کا شعور نہیں ہے پوچھا اللہ کیا سزا دی اسے؟ جواب آیا اس کی آنکھ سے ندامت کے آنسو چھین لیے ہیں یہ چاہے بھی تو میرے سامنے توبہ نہ کر سکے گا.
    تو پتہ چلا کہ شعور_گناہ ہو تو ندامت کی توفیق ملتی ہے اور جو رب العالمین کے سامنے اپنے کئے پر نادم ہو جائے رب کریم غفور الرحيم اسے معاف کر کے دوبارہ اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے. اپنے نفس کو شیطان سے بچائیں اور شعور_گناہ کو قائم رکھیں تا کہ رب العالمین کی رحمت کی آغوش میں رہ سکیں اسی میں دنیا و آخرت بھی بھلائی ہے

    @EngrMuddsairH

  • اسلام اور پاکستان کا تعلق؟  تحریر: فرح بیگم

    اسلام اور پاکستان کا تعلق؟ تحریر: فرح بیگم

    ہم صدیوں سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا. لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک پاکستان میں کوئ قانون اسلام کے مطابق نہیں چل رہا .یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز پستی کی طرف جا رہے ہیں.ہم پاکستان کے حق میں بولتے وقت ایک بہت اچھا منطق سامنے لے کے آتے ہیں.کہ پاکستان ہماری ماں ہے اور اسی وجہ سے ہم اس سے محبت کرتے ہیں.یہ میں گواہی کیساتھ کہ سکتا ہوں جب یہ ماں اپنے بچوں کے لئے پانی پیدا کرنا چھوڑ دے گی اور جانوروں کے لئے گھاس پیدا کرنا چھوڑ دے گی تو سب یہ لوگ اپنے ماں کا بھی ساتھ چھوڑ دیں گے.دنیا میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ خوب صورت ممالک موجود ہیں جہاں انسان کو زندگی کی تمام تر سہولتیں میسئر ہیں اور وہاں پر انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی حقوق ملتے ہیں. تو کیوں نہ میں وہاں جا کر رہائش اختیار کر لوں جہاں پر میری زندگی اچھی طرح سے گزرے.
    پاکستان سے محبت اور عشق کرنے کی وجہ کچھ اور ہے.پاکستان سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے.
    جب دنیا کے نقشے میں نئے ممالک وجود میں آرہے تھے تو کوئ اس وقت کہ رہا تھا کہ ہم مصری ہیں اور صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اس لئے ہمیں یہاں رہنے دو.اُس وقت کوئ یہ کہتا ہوا نظر آرہا تھا کہ ہمارے پاس سے دریائے فرات گزرتا ہے اس لئے ہمیں علیحدہ ملک دے دو.پاکستان کو حاصل کرنے وقت صرف ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا اللہ الا اللہ.
    اس وقت 189گھر ہیں لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو مسجد کی حیثیت حاصل ہے.پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہیں. لیکن آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم زوال کی طرف جا رہے ہیں اس کی چند وجوہات ہیں.آپ پاکستان کی شاہراؤں پر نکل کر دیکھیں تو آپ کو مذہبی نعرے لکھے ہوئے نظر آئیں گے اور ان پر لکھا ہو گا حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے.رسول اکرم کی عزت ہم سب پر فرض ہے.لیکن افسوس کیساتھ ہم اُن کے کہے ہوئے باتوں پر عمل نہیں کر رہے.حضرت محمد کی زندگی ہمارے لئے ایک عملی نمونہ ہیں.
    دوسری بات ہم نے آج کل قرآن پاک کو صرف گھروں میں سجانے کے لئے رکھا ہوا ہے اس کو سمجھنے کی کوئ کوشش نہیں کرتا. دنیا بھر کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل ضرور آپ کو قرآن مجید میں ملے گا.آج کل ہم صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں.نماز پڑھنے کے بعد دودھ میں ملاوٹ کرنے کو کوئ بُرا کام نہیں سمجھتا. جھوٹ بولنا اور دوسروں کا حق مارنا ہمارا وطیرہ بن کر رہ گیا ہے. ہم اپنی ناکامیوں کا قصوروار امریکہ کو ٹھہراتے ہیں.ان ناکامیوں کے ذمے دار ہم خود ہیں. چند سالوں پہلے امریکہ کا کوئ وجود نہیں تھا پوری دنیا میں لوگ برطانیہ کو سپرپاور سمجھتے تھے.لیکن اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی دنیا پر راج کیا تھا. ہمارا اکثر خدا سے یہی شکوہ رہتا ہے کہ اللہ تعالی کافروں پر بہت مہربان ہے. یہی باتیں علامہ اقبال نے بھی شاعرانہ انداز میں یوں بیان کہیں تھیں.
    رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
    برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر
    اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے. کوئ مسلم امہ میں ایسی طاقت نہیں ہے جو یہودیوں کا مقابلہ کرے. کیا اللہ پاک عاجز ہیں کہ ان یہودیوں پر اپنا عذاب نازل نہیں کر رہا.دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں. ہم ایس ایچ او سے ڈرتے ہیں,ہم وزیراعلی سے ڈرتے ہیں اور ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں.لیکن اللہ کے سوا کسی سے اور سے ڈرنا شرک کہلاتا ہے.جو اللہ کا بندا اللہ کے دین کے آگے سر جھکاتا ہے.وہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے. اور وہ بندا جو اس نیک راہ سے ہٹ جائے تو وہ کافر سے بھی بد تر ہو جاتاہے.ہم دودھ میں ملاوٹ کرتے وقت فوڈ اتھارٹی سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے .حالانکہ اللہ تعالی سارے جہانوں کا مالک ہے اور وہ ہر چیز دیکھ رہا ہے.
    انشااللہ ایک دن پھر مسلمان عروج پر ہو نگے اور ملک پاکستان جس کی بنیادیں اسلام کے نام پر کھڑی کی گئیں .ایک دن ضرور یہاں سورج نئ افق کے ساتھ طلوع ہو گا.اس وقت ہم مسلمان سائنس کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں.کوئ بھی نئ چیز تعمیر کروانی ہو تو بیرونی ممالک سے انجینئر منگواتے ہیں.
    اللہ کو پا مردی مومن پہ بھروسہ
    ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
    ہم اس وقت دنیا کا صرف جنگی حوالے سے مقابلے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں.لیکن ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہورہا کہ ہم تعلیمی حوالے سے اپنے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں.ہمارے ملک کا تعلیمی سلیبس انگریزوں کے مشورے سے تیار ہوتا ہے.اور اس سے بڑی افسوسناک بات ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.پوری دنیا کی پانچ ہزاز سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں .کسی ممالک نے دوسروں کی زبان اختیار کرنے کے بعد کوئ ترقی نہیں کی. دنیا میں کئ ممالک ایسے ہیں جہاں پی ایچ ڈی اپنی زبان میں کروایا جاتا ہے.
    تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا چاہیے.پاکستان کا تب تک ترقی کرنا مشکل لگ رہا ہے جب تک یہاں اسلامی قانون نافذ نہ کیا جائے.یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اس ملک کو چلانے کا بھی سب سے بہتر حل یہاں پر اسلامی قانون کا نفاز ہے.

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر  تحریر : محمّد عثمان

    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر تحریر : محمّد عثمان

    ………………
    عید کے تیسرے دن دوست کے ساتھ شاہ عبدالطیف بھٹائی رح کے مزار پر جانا ہوا تو وہاں موجود سات آٹھ سال کا ایک خوب صورت اور معصوم سا بچہ اچانک ہمارے پاس آ کھڑا ہوا. "انکل ہم سے بیلون خرید لیجیے نا امی کے لیے دوا لانی ہے.” میرے ساتھ میرے دوست نوید احمد (بھٹ شاہ والے ) تھے. بچے کی خوبصورتی، اس کے لہجے کی معصومیت اور بیلون بیچنے کا اس کا یہ انداز ہم دونوں کے لیے حیران کن تھا. میں نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اس کا نام اور پتہ پوچھا. ہمیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ بچہ( بھٹ شاہ) کا رہائشی ہے. ہم نے بچے سے بیلون لے کر اسے کچھ پیسے دے دییے اور اسے یہ کہہ کر گھر جانے کو کہا کہ ہم تمہارے گھر آئیں گے. رات جب ہم واپس آئے تو بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر اسے ڈھونڈنے نکلے. تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کے گھر کا پتہ چل گیا. گھر میں اس کی والدہ تھیں جو واقعی بیمار تھیں اور بیماری کی وجہ سے کام پر جانے سے معذور تھیں. انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ گھروں میں کام کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے. انہوں نے اقرار کیا کہ بحالت مجبوری وہ اپنے بچے کو بیلون بیچنے کے لیے باہر بھیجتی ہیں تاکہ گھر کا خرچ نکل سکے اور دوا وغیرہ کا انتظام ہو سکے.
    خاتون کی بات کس حد تک صحیح ہے یہ پتہ کرنے کے لیے ہم نے آس پاس کے کچھ معتبر لوگوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عورت واقعی قابل افسوس ہے. اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے.
    اللہ عزیزی مبشر حیات خاں اور اسامہ سلمہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بروقت وہاں فوری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دی ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ضرور ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی تحریر و تقریر سے زمانے میں انقلاب لانے کا خواب دیکھتے ہیں اور ہمارے اس پاس میں ہی نہ جانے کتنے گھر ہماری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا. ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو. آج ہمارے یہاں عبادات کے نام پر مساجد ضرور آباد ہیں، بڑے بڑے اصلاحی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے خدمت خلق کے نبوی اصول کو بہت حد تک فراموش کر دیا ہے. یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنے محلے کے اس گھر کی خبر نہیں جہاں غربت و افلاس کی وجہ سے دو وقت چولہا جلنا محال ہے. اللہ ہمیں معاف فرمائے.
    ………….

    Twitter @UsmanKbol
    Email MrUsmann44@gmail

  • اندھے  مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اندھے مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ملتان سے اسلام آباد واپسی کے راستے میں ایک ایسی تحریر لکھ رہا ہو جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ الفاظ اکٹھے ہو رہے ہیں اور نہ ہی سوچ ۔۔۔ پنجاب کا صوبائی درالکومت لاہور اور سرزمین اولیا ملتان میں مختلف اور تاریخی مقامات کا وزٹ کر نے کے بعد ملتان سے اسلام آباد کے لمبے اور تَکا دینے والے سفر کے باعث زہن بھی ماوّف ہیں اور نیند کی غلبے کی وجہ سے لکھنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے ۔

    چلتی ہوئی گاڑی میں یوں بھی کچھ لکھنا آسان نہیں ہوتا !
    راستوں کی نہ ہمواری کے باعث ہاتھ ایک جگہ پر ٹھہر ہو ہی نہیں پاتا۔۔اور آج تو محض ہاتھ نہیں سوچھے بھی تو کسی ایک نقطے پر ٹھہر نہیں ہو پا رہی ۔۔ کیونکہ ملتان میں جو دیکھا ہے اُس نے میرے دیکھنے اور سوچھنے کے تمام زاویوں کو بدل کر رکھ دیا ہیں ۔
    میں نےبیس برسوں میں شاید یہ پہلی بار دیکھا ہوں ۔

    یہ کہانی ” حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزار کے احاطے میں ہونے والے وہ مناظر جس پرلکھنا بھی مشکل ہے ۔ وہ مناظر آپ آخر میں اس تحریری نوٹ میں پڑھ لیں گے لیکن حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کے بارے جو قصہ مشہور ہے پہلے وہ زرا پڑھیئے گا. کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مورخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس نے ملتانیوں سے آگ مانگی۔ اور اہل ملتان نے اس درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آگیا۔ نام ان کا شمس تھا انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ نہیں دے رہے۔ ایسے میں سورج شمس کی مدد کو آیا بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پر آ گیا۔ اورشاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر مزے سے کھا لی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ملتانی زبان میں” دھپ سڑی “کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو کچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں لیکن یہ کچھ سوالات کو ضرور جنم دیتی ہے۔ مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟ اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید یہ شہر اس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکار بھی نہ ہوتا۔ ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟ خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں اور آیئے وہ مناظر ملاحظہ کیجئے۔

    برصغیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ اسلام حضرت بہاالدین زکریا اور سلسلہ سہروردیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شیخ شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کی مزار کے بعد چند منٹ کے فاصلے پر حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزارکا رخ کرلیا۔
    ملتان کے گنجان گلیوں میں واقع شاہ شمس تبریزی کے مزار پہنچے تو مزار کے تمام داخلی راستوں پر دس زیادہ پولیس اہلکار تعینات کردی گئی تھی۔ راستے میں تین جگہ جامہ تلاشی دینے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو ۔ مزار پر زائرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جو لوگ زیارت کے لیے آئے تھے وہ جوش وجذبہ سے بھرپور تھے۔

    اب میں عین اُس ہال میں کھڑا تھا جہاں پر بہت آسانی سے تمام تر ہونے والے عمل کو نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔میری پہلی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو چہچ چہچ کر کہتا تھا کہ مولا مجھے یہاں موت نصیب کریں ۔ ساتھ میں کھڑی جوان لڑکی رو رو کر یہ دعا مانگتی تھی کہ بابا تین سال ہونے کو ہے مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی۔ ایک اور عمر رسیدہ شخص مزار پر چادر ڈال کر چلتے چلتے دو تین سجدے کر کے چلے گئے۔ وہاں موجود ہر دوسرا شخص ایسی ایسی حرکتے کررہے تھے جسے دیکھ کر میری اندر کی روح کانپ اُٹھی ۔کچھ لوگوں نے قبر کے ساتھ لگی ہوئی گریل کو تالا لگا کر اپنی من پسند دعائیں کی ۔۔خواتین زائرین نے سرخ اور کالا دھاگہ باندھ کر منتے مانگتی رہی۔ ایک اور اندھے مقلد نے اپنی نئی نویلی دہلن کے ساتھ اسی دعا سے رخصت ہوئے کہ شادی کی زندگی کے بعد سکون ملے۔ اس علاوہ لڑکے اور لڑکیاں مزار کے اندر ایک دوسرے کو انگوٹھی پہن کر” بابا” کو گواہ بناتے رہے۔کچھ مردوعورت اپنے محسوس انداز میں قبر کا طواف کر رہے تھے ۔ متعد افرا دیا جلا کر عجیب قسم حرکتیں کرہے تھے ۔ چند حضرات قبر کے ساتھ لیٹ کر پورے دن کی تکاوٹ دور کر رہے تھے ،سیڑ یوں میں بیٹھے چرس کے نشے میں دُھن نشائی اس کے علاوہ تھے۔

    یہ وہ مناظر تھے جو بیان کرسکا اس کے علاوہ جو ہے وہ نہ قابل بیان ہے نہ تو اس کےلیے الفاظ ہے اور نہ ہی ہمت ۔۔۔یہ تحریرلکھتے ہوئے زہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ دنیا اب بھی اندھے مقلدینوں سے بَری پڑی ہے ۔مزار کی تقدس پامال کرنے میں ان اندھے مقلدینوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ جن چیزوں سے ہمیں روک دیا گیا ہے ان سے بازنہیں آتے ۔
    آج کل ہم اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ہمیں ہر مسئلہ میں آزادی چاہئے ہر معاملہ کو طبیعت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو،آج ہم جہالت میں اس طرح ڈوب چکے ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنالیا ہے جو طبیعت کہتی ہے، جس کی طرف عقل چلنے کو کہتی ہے اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ غلط ہو یا ٹھیک ۔ عقل وطبیعت کی لاٹھی نے ہمیں مار کر اس قدر اندھا کردیا ہے کہ غلط اور ٹھیک میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کون سی چیز ہمارے لیے ٹھیک ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔

    ہماری دھرتی پر سب سے زیادہ بوجھ جہالت کا ھے جو انسانوں کے دماغ کو مفلوج بنا دیتی ہے. ‏ہماری قوم ہر دوسری چیز کو قیامت کی نشانی کہہ دیتی ہے مگر مجال ہے اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی وہ اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں !

    Jawad_Yusufzai@

  • منفی خیالات سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ تحریر:   مریم صدیقہ

    منفی خیالات سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ تحریر: مریم صدیقہ

    منفی تجربات اور درد ناک یادیں انسان کی خود اعتمادی کو مجروح ، زندگی سے خوفزدہ اور اس کے ذائقہ سے محروم رکھتی ہیں۔ آپ دردناک یادوں کو اپنی زندگی کے تجربے کا ایک اہم حصہ کیسے بنا سکتے ہیں؟
    جیسا کہ آپ اور باس کے درمیان ایک ناخوشگوار گفتگو جو آپ سارا دن بلکہ بعض دفعہ پورا ہفتہ اسی کو سوچنے میں گزار دیتے ہے جس سےشدید ذہنی دباو کا شکار بھی ہو سکتے ہیں جبکہ اس کے برعکس آپ اس وقت اپنے دل کی ساری باتیں اگر سب کے سامنے کر دیتے یا اگر غلطی پہ تھے بھی تو اس کے لیے معذرت کر لیتے توبہتر نتائج ہو سکتے تھے۔ اکثر و بیشتر ، اعتماد میں کمی کے باعث انسان یہ سھاد نے میں ناکام رہتا ہے کہ اس کی سوچ مثبت تھی اور وہ کچھ غلط نہیں کرنا چاہتاتھا پراسے سمجھانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس سب سے لوگ ذہنی طور پر بچپن میں واپس چلے جاتے ہیں ، جس وقت اس کے دوست جارحانہ الفاظ سے پکارتے اور وہ ان سب سے خود کو بہت الگ اور تنہا محسوس کرتاتھا۔ یا جب آپ وہ پیاروں کے ساتھ گزارا ہوا تکلیف دہ وقت یاد کرتا ،اور خود کو منفی سوچوں سےاس کامورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ہر ایک کوزندگی میں کم از کم ایک بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ، اگر ہم ان واقعات کو زیادہ عرصہ تک یاد رکھیں تو ہماری زندگی مستقل منفی بن سکتی ہے۔
    منفی سوچ کا ذہنی صحت اثر:
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہم جتنا زیادہ وقت گہری منفی سوچ میں ہوں گے ، اتنا ہی زیادہ ہم ڈپریشن کا شکار ہوتےجایں گے۔کیوں کہ منفی سوچ ایک عادت بن جاتی ہے جسے گزرتے لمحوں کے ساتھ تبدیل کرنا بہت مشکل ہے اور یہاں تک کہ اگر ہم صورت حال کو تعمیری انداز سے دیکھنا چاہیں تو بھی ہم یہ نہیں کر سکتے۔ ذہنی پریشاناں، بے چینی کو بڑھاتی اور دیگر عوارض کا باعث بھی بنتی ہیں،جو ہماری زندگیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ہم اپنی ہی کمزوری کے غلط احساس سے مغلوب ہو جاتے، اور ان چیزوں میں راحت تلاش کرنے لگتے ہیں جو ہمیں اپنے تجربات سے دوسری طرف لے جاتی ہیں مثال کے طور پر ، زیادہ کھانے یا کمپیوٹر گیمز میں۔
    اسے کیسے روکا جائے:
    اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنا شروع کریں۔ یہ نا صرف پہلی نظر میں آسان لگتا ہے بلکہ نتائج بھی آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔یہ جاننے کے لئے یہ پتہ ہونا ضروری ہے کہ آپ کب سے تباہ کن یادوں میں گم ہیں۔ اور پہلا قدم اس سے لڑنے کے لیے ہے کہ آپ جان لیں کہ یہ سب آپ کے اپنے اندر کا ڈرامہ ہے جس کے پروڈیوسر سے لے کر اداکار تک، سب کردار آپ کو ہی نبھانے ہیں۔اور جس تیزی سے آپ یہ کام کریں گے ، اتنا ہی اپنی توجہ کو کسی مثبت سوچ کی طرف موڑنا آسان ہوگا۔
    اس عنوان کے بارے میں مختلف زاویہ سے سوچئے اور اپنے آپ سے ایک سوال پوچھیں –منفی سوچ آپ کے حالیہ واقعات کو کس طرح متاثر کررہی ہے؟ ہم اکثر خود سے بہت زیادہ تنقید یا متعصبانہ سلوک کرتے ہیں۔ شاید آپ اب اچھے کام کر رہے ہیں ، مگر ماضی آپ کے تخیل کا صرف ایک سایہ ہے۔ اگر حالات نے کسی طرح سے آپ کی زندگی کو تبدیل کیاہے تو اس کے بارے میں سوچیں کہ اب آپ ایسا کیا تبدیل کر سکتے ہیں جس سے آپ کو بہتر محسوس ہو؟ اپنے ماضی کے لوگوں سے ملیں اوربات کریں، ضرورت پڑے تو اپنے خدشات کا بھی تذکرہ کریں۔ اس بات کو قطع ہی نظر انداز کر کے کہ آپ کی گفتگو کس موڑ پہ جا رہی یقینا اس فیصلہ کن اقدام سےآپ کو،ماضی کو ماضی میں ہی چھوڑنے میں خاصی مدد ملے گی۔ اگر کسی وجہ سے ملنا ناممکن ہے تو ، بات چیت کرنے والے کا کردار ایک ماہر نفسیات کے ذریعہ لیا جاسکتا ہے ، جس کے ساتھ آپ واقعات کو مختلف زاویے سے دیکھ سکتے ہیں۔
    دن بھر کے تمام حالات و اقعات کو سمجھنے کے لیے انسانی دماغ کو کچھ وقت درکار ہوتا ہے تواگر بیس منٹ بھی صرف خود کو دیں اور اس میں بس ان واقعات کا سوچیں جس سے آپ کو کسی بھی ایک لمحے میں خوشی محسوس ہوئی ہوتو یقینایہ ذہنی اذیت سے نجات دلانے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اور جب آپ یہ کام کرلیں ، تو خود سے وعدہ کریں کہ آپ بعد میں اپنے تکلیف دہ لمحوں کے بارے میں پھر سوچیں گے۔یہ احساس کہ آپ کو تکلیف دہ موضوع پر واپس آنے کا موقع ملے گا لاشعوری طور پر آپ کو اس سے دور ہونے میں مدد دے گا۔ اور ان لمحوں کی بدولت ، آپ بہتر ہوتی صورتحال کو دیکھ پائیں گے۔جیسے ہی ہم کسی چیز کے بارے میں اپنے آپ کو سوچنے سے روکنا شروع کرتے ہیں تو ذہن فورا ہی مخالف نتیجے کی طرف لے جاتا ہے۔ لاشعوری طور پر اندرونی مزاحمت آپ کو اذیت سے بھرپور یادوں میں واپس جانے پر مجبور کرتی ہے تو اس سب سے بچنے کے لیے خود کو مصروف کریں اور دن میں کسی بھی وقت کی اچھی اور مثبت یادوں کو وقت دینا نہ بھولیں۔ آپ کے خوش رہنے سے ہی آپ کے ارد گرد کے لوگ خوش رہ سکتے ہیں!

    @MS_14_1

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • جنگی قیدی اور اسلام  تحریر : اے ار کے

    جنگی قیدی اور اسلام تحریر : اے ار کے

    دو متحارب قوتوں کے درمیان جنگ
    ( عین لڑائی کے دوران یا لڑائی کے احتمال کے وقت ) گرفتار ہونے والا شخص جنگی قیدی کہلاتا ہے۔
    تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے پہلے قدیم جاہلیت کے دور میں جنگی قیدیوں کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
    جنگی قیدیوں کے حقوق کاغذ پر بھی تسلیم نہیں کئے جاتے تھے۔
    جنگی قیدیوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا تھا یا ایسا غلام بنا لیا جاتا تھا کہ مالک کو ان کے زندگی اور موت کا مختیار بنا دیا جاتا۔
    اسلام کا ابرِ رحمت برسا تو انسان کی احیثیت یک دم بدل گئی اور محسنِ انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نےانسانی سماج پر احسانِ عظیم فرمایا۔
    فتح مکہ کے موقع پر فوج میں اعلان کروایا کہ کسی مجروح پر حملہ نا کیا جائے کسی بھاگنے والے کا پیچھا نا کیا جائے کسی قیدی کو قتل نا کیا جائے۔
    بلکہ سب کیلیے عام معافی کا اعلان کیا۔
    بے شک ۔۔۔۔۔!!!
    اسلام سے زنگی خوبصورت ہوجاتی ہے۔
    ظہور اسلام کے بعد جن مصائب و تکلیفات کا سامنا صحابہ کرام نے کیا اج بھی ان مصائب تکلیفوں کا سامنا صالحین کر رہے ہیں۔
    اج بھی میر صادق میر جعفر جیسے دین کے غدار لوگ مسلمانوں کے صفوں میں پائے جاتے ہیں۔
    نام نہاد مہذب مغربی اقوام کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ مسلم اکثریتی ملکوں میں زمامِ اقتدار ان لوگوں کو سونپی جاتی ہے جو مغرب پرست ہو اور مسلمانوں کے خون سے مغرب کی پیاس بجھانے میں مغرب کی تقلید کرتی ہو۔امریکہ بہادر کوافغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد جیسے ہی افغانستان سے
    راہ فرار ملی اسٹوڈنٹس ( طالبان )یک بعد دیگرے ولایتوں (صوبوں) کو برق رفتاری سے فتح کرنے لگ گئے ہیں اور انکی پیش قدمی تاحال جاری ہے۔
    اسٹوڈنٹس نے جنگ کے پینتھرے یکسرتبدیل کئے ہیں اورشروعاتی لڑائی وہاں سے شروع کی(شمالی افغانستان قندوز شبرغان فاریاب وغیرہ) جہاں سن 2000 ء سے پہلے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور شمالی اتحاد کی ملیشیاء ("گلم جلم ملیشیا“ اسے ”بوری لپیٹ ملیشیا“ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ لوگ دشمن کو قالین وغیرہ میں لپیٹ کر ہلاک کرتے تھے)ان کا ہر حملہ پسپا کرتی۔ اج الحمد اللہ وہاں کی فضاء "اللہ اکبر ” کےفلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
    طالبان کے پیش قدمی کے ساتھ ہی ذہن میں دشت لیلی کی المناک داستان اور غدار جنرل رشید دوستم گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔
    دسمبر 2001 ﻗﻨﺪﻭﺯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ محاصرہ طاﻟﺒﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺮﻝ ﺭﺷﯿﺪ ﺩﻭﺳﺘﻢ ﻧﮯ وعدہ کیا تها کہ تم لوگ ہتھیار ڈال دو ﻣﯿﮟ نے ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺳﮯ مذاکرات ﮐﺮلئیے
    ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ بحفاظت نکالونگا،
    کہیں دنوں سے محاصرہ ،بھوک پیاس سے نڈھال، اور اسلحہ کی شدید کمی کے باعث ،
    مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ لڑائی میں ان کا ہی زیادہ نقصان ہونا تھا اس صورتحال میں یہ انکا بہترین فیصلہ تھا۔کیونکہ اس معاہدے کا ضامن بہر حال ایک مسلمان تھا
    جنہوں نے قران پر ہاتھ رکھ کر انکو یقین دلایا تھا کہ میں بحفاظت سب کو قندوز سے شبرغان تک پہنچاہونگا۔ یوں مجاہدین نے
    ہتھیار ڈال دئیے۔
    دوستم نے گنجائش سے زیادہ طالبان کوکنٹینروں میں ڈال کے قندوز سے شبرغان روانہ کیا ۔
    جب ان بند کنٹینروں میں ان مظلوموں کا دم۔گھٹنے لگا تو زور زور سے کنٹینر پیٹناشروع
    کر دئیے۔
    عالمی امن کے مہذب اور نام نہاد ٹھیکداروں نے کنٹینر کھولنے کے بجائے ان چلتی کنٹینروں پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔
    ایک جرمن رپورٹر کے مطابق کہ میری گاڑی اس کنٹینروں کے قافلے کے پیچھے جا رہی تھی اور اب پورے روڈ پر خون ہی خون بہہ رہا تھا۔
    طالبان کی بڑی تعداد کو کنٹینروں میں ہی
    شہید کر دیا گیا اور جو بچ گئے یا زخمی تھے انکے ہاتھ پاؤں باندھ کر جنرل دوستم ( جو اجکل فیلڈ مارشل ہیں) نے دشت لیلی میں زندہ دفن کر دئیے ۔
    امریکی حکومت کی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کی دستاویزات اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینٹیلیجنس رپورٹ ،جو 2002 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی تھی، کے مطابق دشت لیلی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1500 سے 2000 کے درمیان تھی جبکہ طالبان کے مطابق اس سانحہ میں شہید ہونے والے مجاھدین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔
    یاد رہےافغانستان کے سب سے بڑا فوجی
    اعزاز( مارشل جنرل ) پانے والا جنرل دوستم روسی اتحاد کے افغانستان پر قبضے کےبعد روس کی حمایت میں بھی جنگ لڑی اور
    بعد ازاں شمالی اتحاد کے پرچم تلے امریکہ کا ساتھ دے کر طالبان کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ٹویٹر ہینڈل: @chalakiyan

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے   تحریر : لاریب ناز

    ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تحریر : لاریب ناز

    ۔دنیا کی کسی بھی مخلوق سے موازنہ کر لیا جائے تو ہمیشہ انسان ہی بہترین نظر آئے گا۔
    عقل ، شعور، حس ،اعضاء، شکل و صورت نیز ہر خوبی میں بنی نوع انسان کو برتری حاصل ہے۔
    ہر اچھے برے کی تمیزاور فرق کی صلاحیت بھی صرف انسان کو عطا کی گئی۔
    خواہشات کرنے کا شرف بھی صرف حضرت انسان کو ہی حاصل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    "اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا کی۔”

    ان سب کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں ہم پر
    رزق ، ہوا ، پانی ، زمین سب اس رب کی عطا کی گئی نعمتیں ہیں۔ لیکن ہم ان سب احسانات اور نعمتوں کو بھول چکے ہیں ہم روز حشر کیسے سامنا کریں گے کیا منہ دکھائیں گے؟
    کہ جس نے ہمیں تخلیق کیا اتنی ساری نعمتیں عطا کی ہم اسی کو بھول گئے۔
    اسی کے آگے سجدہ ریز ہونے میں غفلت برتی۔۔۔۔۔
    اسی کا شکر ادا نہ کیا۔
    اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو سکے
    اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بھی ہم صراط مستقیم پر نہ چل سکے۔
    ہم اپنے مقصد تخلیق کو بھول گئے اور دنیا کی رنگینیوں میں اتنا کھو گئے کہ ہم بھول گئے کہ یہ دنیا فانی ہے، لاحاصل ہے ، مٹ جانے والی ہے۔

    ہم بھول گئے کہ زندگی اللّٰہ کی عطا کی گئی امانت ہے، جسے ہم نے اللّٰہ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق گزارنا ہے ۔ ہماری احسان فراموشی کے باوجود بھی وہ رب ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔اس کے باوجود بھی ہم ایک دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب سے ملاقات کے مواقع بھی گنواتے ہیں صرف اس دنیا کے لیے جو کہ محض ایک فریب ہے۔

    یہ سب جانتے ہوئے بھی پھر ہم اپنے رب کے ساتھ ایسا کیونکر کر سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا؟ کیا ہمارے گناہ کرنے پر اس نے ہم سے رزق چھینا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!!
    پھر اپنے خالق کے ساتھ ایسا رویہ کیوں۔۔۔۔۔؟؟
    ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ایک روز ہمیں رب کے حضور حاضر ہونا ہے تب کیا کریں گے ہم۔۔۔۔؟؟

    ابھی بھی وقت ہے اللّٰہ عزوجل کی معرفت کو پہچانو اور اپنے تخلیق کے مقصد سے آگاہ ہو ۔ یہ دنیا فانی ہے اور یہ کسی کی بھی ملکیت نہیں ہو سکتی۔تقویٰ اور پرہیز گاری ایسی چیزیں ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کا ورثہ ہیں پس تم انبیاء کے وارث بنو نہ کہ اس فانی دنیا کے۔

    اللّٰہ عزوجل نے ہمیں آخری امت بنا کر ہم پر اپنا فضل کیا ہے اور ہم سے پہلی امتوں کے بارے میں ہمیں آگاہ کر کے بتا دیا کہ ان پر عذاب کیوں نازل ہوئے؟

    اگر ہم نے اپنی عادات و اطوار کو نہ بدلا اور ان کے حالات سے عبرت حاصل نہ کی تو یقیناً ہمارا حشر بھی انہی اقوام جیسا ہو گا۔

    ‎@LaraibNaz2