Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر  تحریر : محمّد عثمان

    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر تحریر : محمّد عثمان

    ………………
    عید کے تیسرے دن دوست کے ساتھ شاہ عبدالطیف بھٹائی رح کے مزار پر جانا ہوا تو وہاں موجود سات آٹھ سال کا ایک خوب صورت اور معصوم سا بچہ اچانک ہمارے پاس آ کھڑا ہوا. "انکل ہم سے بیلون خرید لیجیے نا امی کے لیے دوا لانی ہے.” میرے ساتھ میرے دوست نوید احمد (بھٹ شاہ والے ) تھے. بچے کی خوبصورتی، اس کے لہجے کی معصومیت اور بیلون بیچنے کا اس کا یہ انداز ہم دونوں کے لیے حیران کن تھا. میں نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اس کا نام اور پتہ پوچھا. ہمیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ بچہ( بھٹ شاہ) کا رہائشی ہے. ہم نے بچے سے بیلون لے کر اسے کچھ پیسے دے دییے اور اسے یہ کہہ کر گھر جانے کو کہا کہ ہم تمہارے گھر آئیں گے. رات جب ہم واپس آئے تو بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر اسے ڈھونڈنے نکلے. تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کے گھر کا پتہ چل گیا. گھر میں اس کی والدہ تھیں جو واقعی بیمار تھیں اور بیماری کی وجہ سے کام پر جانے سے معذور تھیں. انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ گھروں میں کام کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے. انہوں نے اقرار کیا کہ بحالت مجبوری وہ اپنے بچے کو بیلون بیچنے کے لیے باہر بھیجتی ہیں تاکہ گھر کا خرچ نکل سکے اور دوا وغیرہ کا انتظام ہو سکے.
    خاتون کی بات کس حد تک صحیح ہے یہ پتہ کرنے کے لیے ہم نے آس پاس کے کچھ معتبر لوگوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عورت واقعی قابل افسوس ہے. اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے.
    اللہ عزیزی مبشر حیات خاں اور اسامہ سلمہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بروقت وہاں فوری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دی ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ضرور ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی تحریر و تقریر سے زمانے میں انقلاب لانے کا خواب دیکھتے ہیں اور ہمارے اس پاس میں ہی نہ جانے کتنے گھر ہماری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا. ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو. آج ہمارے یہاں عبادات کے نام پر مساجد ضرور آباد ہیں، بڑے بڑے اصلاحی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے خدمت خلق کے نبوی اصول کو بہت حد تک فراموش کر دیا ہے. یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنے محلے کے اس گھر کی خبر نہیں جہاں غربت و افلاس کی وجہ سے دو وقت چولہا جلنا محال ہے. اللہ ہمیں معاف فرمائے.
    ………….

    Twitter @UsmanKbol
    Email MrUsmann44@gmail

  • اندھے  مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اندھے مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ملتان سے اسلام آباد واپسی کے راستے میں ایک ایسی تحریر لکھ رہا ہو جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ الفاظ اکٹھے ہو رہے ہیں اور نہ ہی سوچ ۔۔۔ پنجاب کا صوبائی درالکومت لاہور اور سرزمین اولیا ملتان میں مختلف اور تاریخی مقامات کا وزٹ کر نے کے بعد ملتان سے اسلام آباد کے لمبے اور تَکا دینے والے سفر کے باعث زہن بھی ماوّف ہیں اور نیند کی غلبے کی وجہ سے لکھنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے ۔

    چلتی ہوئی گاڑی میں یوں بھی کچھ لکھنا آسان نہیں ہوتا !
    راستوں کی نہ ہمواری کے باعث ہاتھ ایک جگہ پر ٹھہر ہو ہی نہیں پاتا۔۔اور آج تو محض ہاتھ نہیں سوچھے بھی تو کسی ایک نقطے پر ٹھہر نہیں ہو پا رہی ۔۔ کیونکہ ملتان میں جو دیکھا ہے اُس نے میرے دیکھنے اور سوچھنے کے تمام زاویوں کو بدل کر رکھ دیا ہیں ۔
    میں نےبیس برسوں میں شاید یہ پہلی بار دیکھا ہوں ۔

    یہ کہانی ” حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزار کے احاطے میں ہونے والے وہ مناظر جس پرلکھنا بھی مشکل ہے ۔ وہ مناظر آپ آخر میں اس تحریری نوٹ میں پڑھ لیں گے لیکن حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کے بارے جو قصہ مشہور ہے پہلے وہ زرا پڑھیئے گا. کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مورخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس نے ملتانیوں سے آگ مانگی۔ اور اہل ملتان نے اس درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آگیا۔ نام ان کا شمس تھا انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ نہیں دے رہے۔ ایسے میں سورج شمس کی مدد کو آیا بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پر آ گیا۔ اورشاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر مزے سے کھا لی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ملتانی زبان میں” دھپ سڑی “کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو کچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں لیکن یہ کچھ سوالات کو ضرور جنم دیتی ہے۔ مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟ اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید یہ شہر اس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکار بھی نہ ہوتا۔ ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟ خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں اور آیئے وہ مناظر ملاحظہ کیجئے۔

    برصغیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ اسلام حضرت بہاالدین زکریا اور سلسلہ سہروردیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شیخ شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کی مزار کے بعد چند منٹ کے فاصلے پر حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزارکا رخ کرلیا۔
    ملتان کے گنجان گلیوں میں واقع شاہ شمس تبریزی کے مزار پہنچے تو مزار کے تمام داخلی راستوں پر دس زیادہ پولیس اہلکار تعینات کردی گئی تھی۔ راستے میں تین جگہ جامہ تلاشی دینے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو ۔ مزار پر زائرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جو لوگ زیارت کے لیے آئے تھے وہ جوش وجذبہ سے بھرپور تھے۔

    اب میں عین اُس ہال میں کھڑا تھا جہاں پر بہت آسانی سے تمام تر ہونے والے عمل کو نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔میری پہلی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو چہچ چہچ کر کہتا تھا کہ مولا مجھے یہاں موت نصیب کریں ۔ ساتھ میں کھڑی جوان لڑکی رو رو کر یہ دعا مانگتی تھی کہ بابا تین سال ہونے کو ہے مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی۔ ایک اور عمر رسیدہ شخص مزار پر چادر ڈال کر چلتے چلتے دو تین سجدے کر کے چلے گئے۔ وہاں موجود ہر دوسرا شخص ایسی ایسی حرکتے کررہے تھے جسے دیکھ کر میری اندر کی روح کانپ اُٹھی ۔کچھ لوگوں نے قبر کے ساتھ لگی ہوئی گریل کو تالا لگا کر اپنی من پسند دعائیں کی ۔۔خواتین زائرین نے سرخ اور کالا دھاگہ باندھ کر منتے مانگتی رہی۔ ایک اور اندھے مقلد نے اپنی نئی نویلی دہلن کے ساتھ اسی دعا سے رخصت ہوئے کہ شادی کی زندگی کے بعد سکون ملے۔ اس علاوہ لڑکے اور لڑکیاں مزار کے اندر ایک دوسرے کو انگوٹھی پہن کر” بابا” کو گواہ بناتے رہے۔کچھ مردوعورت اپنے محسوس انداز میں قبر کا طواف کر رہے تھے ۔ متعد افرا دیا جلا کر عجیب قسم حرکتیں کرہے تھے ۔ چند حضرات قبر کے ساتھ لیٹ کر پورے دن کی تکاوٹ دور کر رہے تھے ،سیڑ یوں میں بیٹھے چرس کے نشے میں دُھن نشائی اس کے علاوہ تھے۔

    یہ وہ مناظر تھے جو بیان کرسکا اس کے علاوہ جو ہے وہ نہ قابل بیان ہے نہ تو اس کےلیے الفاظ ہے اور نہ ہی ہمت ۔۔۔یہ تحریرلکھتے ہوئے زہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ دنیا اب بھی اندھے مقلدینوں سے بَری پڑی ہے ۔مزار کی تقدس پامال کرنے میں ان اندھے مقلدینوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ جن چیزوں سے ہمیں روک دیا گیا ہے ان سے بازنہیں آتے ۔
    آج کل ہم اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ہمیں ہر مسئلہ میں آزادی چاہئے ہر معاملہ کو طبیعت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو،آج ہم جہالت میں اس طرح ڈوب چکے ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنالیا ہے جو طبیعت کہتی ہے، جس کی طرف عقل چلنے کو کہتی ہے اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ غلط ہو یا ٹھیک ۔ عقل وطبیعت کی لاٹھی نے ہمیں مار کر اس قدر اندھا کردیا ہے کہ غلط اور ٹھیک میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کون سی چیز ہمارے لیے ٹھیک ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔

    ہماری دھرتی پر سب سے زیادہ بوجھ جہالت کا ھے جو انسانوں کے دماغ کو مفلوج بنا دیتی ہے. ‏ہماری قوم ہر دوسری چیز کو قیامت کی نشانی کہہ دیتی ہے مگر مجال ہے اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی وہ اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں !

    Jawad_Yusufzai@

  • منفی خیالات سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ تحریر:   مریم صدیقہ

    منفی خیالات سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ تحریر: مریم صدیقہ

    منفی تجربات اور درد ناک یادیں انسان کی خود اعتمادی کو مجروح ، زندگی سے خوفزدہ اور اس کے ذائقہ سے محروم رکھتی ہیں۔ آپ دردناک یادوں کو اپنی زندگی کے تجربے کا ایک اہم حصہ کیسے بنا سکتے ہیں؟
    جیسا کہ آپ اور باس کے درمیان ایک ناخوشگوار گفتگو جو آپ سارا دن بلکہ بعض دفعہ پورا ہفتہ اسی کو سوچنے میں گزار دیتے ہے جس سےشدید ذہنی دباو کا شکار بھی ہو سکتے ہیں جبکہ اس کے برعکس آپ اس وقت اپنے دل کی ساری باتیں اگر سب کے سامنے کر دیتے یا اگر غلطی پہ تھے بھی تو اس کے لیے معذرت کر لیتے توبہتر نتائج ہو سکتے تھے۔ اکثر و بیشتر ، اعتماد میں کمی کے باعث انسان یہ سھاد نے میں ناکام رہتا ہے کہ اس کی سوچ مثبت تھی اور وہ کچھ غلط نہیں کرنا چاہتاتھا پراسے سمجھانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس سب سے لوگ ذہنی طور پر بچپن میں واپس چلے جاتے ہیں ، جس وقت اس کے دوست جارحانہ الفاظ سے پکارتے اور وہ ان سب سے خود کو بہت الگ اور تنہا محسوس کرتاتھا۔ یا جب آپ وہ پیاروں کے ساتھ گزارا ہوا تکلیف دہ وقت یاد کرتا ،اور خود کو منفی سوچوں سےاس کامورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ہر ایک کوزندگی میں کم از کم ایک بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ، اگر ہم ان واقعات کو زیادہ عرصہ تک یاد رکھیں تو ہماری زندگی مستقل منفی بن سکتی ہے۔
    منفی سوچ کا ذہنی صحت اثر:
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہم جتنا زیادہ وقت گہری منفی سوچ میں ہوں گے ، اتنا ہی زیادہ ہم ڈپریشن کا شکار ہوتےجایں گے۔کیوں کہ منفی سوچ ایک عادت بن جاتی ہے جسے گزرتے لمحوں کے ساتھ تبدیل کرنا بہت مشکل ہے اور یہاں تک کہ اگر ہم صورت حال کو تعمیری انداز سے دیکھنا چاہیں تو بھی ہم یہ نہیں کر سکتے۔ ذہنی پریشاناں، بے چینی کو بڑھاتی اور دیگر عوارض کا باعث بھی بنتی ہیں،جو ہماری زندگیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ہم اپنی ہی کمزوری کے غلط احساس سے مغلوب ہو جاتے، اور ان چیزوں میں راحت تلاش کرنے لگتے ہیں جو ہمیں اپنے تجربات سے دوسری طرف لے جاتی ہیں مثال کے طور پر ، زیادہ کھانے یا کمپیوٹر گیمز میں۔
    اسے کیسے روکا جائے:
    اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنا شروع کریں۔ یہ نا صرف پہلی نظر میں آسان لگتا ہے بلکہ نتائج بھی آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔یہ جاننے کے لئے یہ پتہ ہونا ضروری ہے کہ آپ کب سے تباہ کن یادوں میں گم ہیں۔ اور پہلا قدم اس سے لڑنے کے لیے ہے کہ آپ جان لیں کہ یہ سب آپ کے اپنے اندر کا ڈرامہ ہے جس کے پروڈیوسر سے لے کر اداکار تک، سب کردار آپ کو ہی نبھانے ہیں۔اور جس تیزی سے آپ یہ کام کریں گے ، اتنا ہی اپنی توجہ کو کسی مثبت سوچ کی طرف موڑنا آسان ہوگا۔
    اس عنوان کے بارے میں مختلف زاویہ سے سوچئے اور اپنے آپ سے ایک سوال پوچھیں –منفی سوچ آپ کے حالیہ واقعات کو کس طرح متاثر کررہی ہے؟ ہم اکثر خود سے بہت زیادہ تنقید یا متعصبانہ سلوک کرتے ہیں۔ شاید آپ اب اچھے کام کر رہے ہیں ، مگر ماضی آپ کے تخیل کا صرف ایک سایہ ہے۔ اگر حالات نے کسی طرح سے آپ کی زندگی کو تبدیل کیاہے تو اس کے بارے میں سوچیں کہ اب آپ ایسا کیا تبدیل کر سکتے ہیں جس سے آپ کو بہتر محسوس ہو؟ اپنے ماضی کے لوگوں سے ملیں اوربات کریں، ضرورت پڑے تو اپنے خدشات کا بھی تذکرہ کریں۔ اس بات کو قطع ہی نظر انداز کر کے کہ آپ کی گفتگو کس موڑ پہ جا رہی یقینا اس فیصلہ کن اقدام سےآپ کو،ماضی کو ماضی میں ہی چھوڑنے میں خاصی مدد ملے گی۔ اگر کسی وجہ سے ملنا ناممکن ہے تو ، بات چیت کرنے والے کا کردار ایک ماہر نفسیات کے ذریعہ لیا جاسکتا ہے ، جس کے ساتھ آپ واقعات کو مختلف زاویے سے دیکھ سکتے ہیں۔
    دن بھر کے تمام حالات و اقعات کو سمجھنے کے لیے انسانی دماغ کو کچھ وقت درکار ہوتا ہے تواگر بیس منٹ بھی صرف خود کو دیں اور اس میں بس ان واقعات کا سوچیں جس سے آپ کو کسی بھی ایک لمحے میں خوشی محسوس ہوئی ہوتو یقینایہ ذہنی اذیت سے نجات دلانے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اور جب آپ یہ کام کرلیں ، تو خود سے وعدہ کریں کہ آپ بعد میں اپنے تکلیف دہ لمحوں کے بارے میں پھر سوچیں گے۔یہ احساس کہ آپ کو تکلیف دہ موضوع پر واپس آنے کا موقع ملے گا لاشعوری طور پر آپ کو اس سے دور ہونے میں مدد دے گا۔ اور ان لمحوں کی بدولت ، آپ بہتر ہوتی صورتحال کو دیکھ پائیں گے۔جیسے ہی ہم کسی چیز کے بارے میں اپنے آپ کو سوچنے سے روکنا شروع کرتے ہیں تو ذہن فورا ہی مخالف نتیجے کی طرف لے جاتا ہے۔ لاشعوری طور پر اندرونی مزاحمت آپ کو اذیت سے بھرپور یادوں میں واپس جانے پر مجبور کرتی ہے تو اس سب سے بچنے کے لیے خود کو مصروف کریں اور دن میں کسی بھی وقت کی اچھی اور مثبت یادوں کو وقت دینا نہ بھولیں۔ آپ کے خوش رہنے سے ہی آپ کے ارد گرد کے لوگ خوش رہ سکتے ہیں!

    @MS_14_1

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • جنگی قیدی اور اسلام  تحریر : اے ار کے

    جنگی قیدی اور اسلام تحریر : اے ار کے

    دو متحارب قوتوں کے درمیان جنگ
    ( عین لڑائی کے دوران یا لڑائی کے احتمال کے وقت ) گرفتار ہونے والا شخص جنگی قیدی کہلاتا ہے۔
    تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے پہلے قدیم جاہلیت کے دور میں جنگی قیدیوں کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
    جنگی قیدیوں کے حقوق کاغذ پر بھی تسلیم نہیں کئے جاتے تھے۔
    جنگی قیدیوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا تھا یا ایسا غلام بنا لیا جاتا تھا کہ مالک کو ان کے زندگی اور موت کا مختیار بنا دیا جاتا۔
    اسلام کا ابرِ رحمت برسا تو انسان کی احیثیت یک دم بدل گئی اور محسنِ انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نےانسانی سماج پر احسانِ عظیم فرمایا۔
    فتح مکہ کے موقع پر فوج میں اعلان کروایا کہ کسی مجروح پر حملہ نا کیا جائے کسی بھاگنے والے کا پیچھا نا کیا جائے کسی قیدی کو قتل نا کیا جائے۔
    بلکہ سب کیلیے عام معافی کا اعلان کیا۔
    بے شک ۔۔۔۔۔!!!
    اسلام سے زنگی خوبصورت ہوجاتی ہے۔
    ظہور اسلام کے بعد جن مصائب و تکلیفات کا سامنا صحابہ کرام نے کیا اج بھی ان مصائب تکلیفوں کا سامنا صالحین کر رہے ہیں۔
    اج بھی میر صادق میر جعفر جیسے دین کے غدار لوگ مسلمانوں کے صفوں میں پائے جاتے ہیں۔
    نام نہاد مہذب مغربی اقوام کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ مسلم اکثریتی ملکوں میں زمامِ اقتدار ان لوگوں کو سونپی جاتی ہے جو مغرب پرست ہو اور مسلمانوں کے خون سے مغرب کی پیاس بجھانے میں مغرب کی تقلید کرتی ہو۔امریکہ بہادر کوافغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد جیسے ہی افغانستان سے
    راہ فرار ملی اسٹوڈنٹس ( طالبان )یک بعد دیگرے ولایتوں (صوبوں) کو برق رفتاری سے فتح کرنے لگ گئے ہیں اور انکی پیش قدمی تاحال جاری ہے۔
    اسٹوڈنٹس نے جنگ کے پینتھرے یکسرتبدیل کئے ہیں اورشروعاتی لڑائی وہاں سے شروع کی(شمالی افغانستان قندوز شبرغان فاریاب وغیرہ) جہاں سن 2000 ء سے پہلے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور شمالی اتحاد کی ملیشیاء ("گلم جلم ملیشیا“ اسے ”بوری لپیٹ ملیشیا“ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ لوگ دشمن کو قالین وغیرہ میں لپیٹ کر ہلاک کرتے تھے)ان کا ہر حملہ پسپا کرتی۔ اج الحمد اللہ وہاں کی فضاء "اللہ اکبر ” کےفلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
    طالبان کے پیش قدمی کے ساتھ ہی ذہن میں دشت لیلی کی المناک داستان اور غدار جنرل رشید دوستم گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔
    دسمبر 2001 ﻗﻨﺪﻭﺯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ محاصرہ طاﻟﺒﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺮﻝ ﺭﺷﯿﺪ ﺩﻭﺳﺘﻢ ﻧﮯ وعدہ کیا تها کہ تم لوگ ہتھیار ڈال دو ﻣﯿﮟ نے ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺳﮯ مذاکرات ﮐﺮلئیے
    ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ بحفاظت نکالونگا،
    کہیں دنوں سے محاصرہ ،بھوک پیاس سے نڈھال، اور اسلحہ کی شدید کمی کے باعث ،
    مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ لڑائی میں ان کا ہی زیادہ نقصان ہونا تھا اس صورتحال میں یہ انکا بہترین فیصلہ تھا۔کیونکہ اس معاہدے کا ضامن بہر حال ایک مسلمان تھا
    جنہوں نے قران پر ہاتھ رکھ کر انکو یقین دلایا تھا کہ میں بحفاظت سب کو قندوز سے شبرغان تک پہنچاہونگا۔ یوں مجاہدین نے
    ہتھیار ڈال دئیے۔
    دوستم نے گنجائش سے زیادہ طالبان کوکنٹینروں میں ڈال کے قندوز سے شبرغان روانہ کیا ۔
    جب ان بند کنٹینروں میں ان مظلوموں کا دم۔گھٹنے لگا تو زور زور سے کنٹینر پیٹناشروع
    کر دئیے۔
    عالمی امن کے مہذب اور نام نہاد ٹھیکداروں نے کنٹینر کھولنے کے بجائے ان چلتی کنٹینروں پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔
    ایک جرمن رپورٹر کے مطابق کہ میری گاڑی اس کنٹینروں کے قافلے کے پیچھے جا رہی تھی اور اب پورے روڈ پر خون ہی خون بہہ رہا تھا۔
    طالبان کی بڑی تعداد کو کنٹینروں میں ہی
    شہید کر دیا گیا اور جو بچ گئے یا زخمی تھے انکے ہاتھ پاؤں باندھ کر جنرل دوستم ( جو اجکل فیلڈ مارشل ہیں) نے دشت لیلی میں زندہ دفن کر دئیے ۔
    امریکی حکومت کی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کی دستاویزات اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینٹیلیجنس رپورٹ ،جو 2002 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی تھی، کے مطابق دشت لیلی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1500 سے 2000 کے درمیان تھی جبکہ طالبان کے مطابق اس سانحہ میں شہید ہونے والے مجاھدین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔
    یاد رہےافغانستان کے سب سے بڑا فوجی
    اعزاز( مارشل جنرل ) پانے والا جنرل دوستم روسی اتحاد کے افغانستان پر قبضے کےبعد روس کی حمایت میں بھی جنگ لڑی اور
    بعد ازاں شمالی اتحاد کے پرچم تلے امریکہ کا ساتھ دے کر طالبان کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ٹویٹر ہینڈل: @chalakiyan

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے   تحریر : لاریب ناز

    ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تحریر : لاریب ناز

    ۔دنیا کی کسی بھی مخلوق سے موازنہ کر لیا جائے تو ہمیشہ انسان ہی بہترین نظر آئے گا۔
    عقل ، شعور، حس ،اعضاء، شکل و صورت نیز ہر خوبی میں بنی نوع انسان کو برتری حاصل ہے۔
    ہر اچھے برے کی تمیزاور فرق کی صلاحیت بھی صرف انسان کو عطا کی گئی۔
    خواہشات کرنے کا شرف بھی صرف حضرت انسان کو ہی حاصل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    "اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا کی۔”

    ان سب کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں ہم پر
    رزق ، ہوا ، پانی ، زمین سب اس رب کی عطا کی گئی نعمتیں ہیں۔ لیکن ہم ان سب احسانات اور نعمتوں کو بھول چکے ہیں ہم روز حشر کیسے سامنا کریں گے کیا منہ دکھائیں گے؟
    کہ جس نے ہمیں تخلیق کیا اتنی ساری نعمتیں عطا کی ہم اسی کو بھول گئے۔
    اسی کے آگے سجدہ ریز ہونے میں غفلت برتی۔۔۔۔۔
    اسی کا شکر ادا نہ کیا۔
    اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو سکے
    اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بھی ہم صراط مستقیم پر نہ چل سکے۔
    ہم اپنے مقصد تخلیق کو بھول گئے اور دنیا کی رنگینیوں میں اتنا کھو گئے کہ ہم بھول گئے کہ یہ دنیا فانی ہے، لاحاصل ہے ، مٹ جانے والی ہے۔

    ہم بھول گئے کہ زندگی اللّٰہ کی عطا کی گئی امانت ہے، جسے ہم نے اللّٰہ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق گزارنا ہے ۔ ہماری احسان فراموشی کے باوجود بھی وہ رب ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔اس کے باوجود بھی ہم ایک دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب سے ملاقات کے مواقع بھی گنواتے ہیں صرف اس دنیا کے لیے جو کہ محض ایک فریب ہے۔

    یہ سب جانتے ہوئے بھی پھر ہم اپنے رب کے ساتھ ایسا کیونکر کر سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا؟ کیا ہمارے گناہ کرنے پر اس نے ہم سے رزق چھینا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!!
    پھر اپنے خالق کے ساتھ ایسا رویہ کیوں۔۔۔۔۔؟؟
    ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ایک روز ہمیں رب کے حضور حاضر ہونا ہے تب کیا کریں گے ہم۔۔۔۔؟؟

    ابھی بھی وقت ہے اللّٰہ عزوجل کی معرفت کو پہچانو اور اپنے تخلیق کے مقصد سے آگاہ ہو ۔ یہ دنیا فانی ہے اور یہ کسی کی بھی ملکیت نہیں ہو سکتی۔تقویٰ اور پرہیز گاری ایسی چیزیں ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کا ورثہ ہیں پس تم انبیاء کے وارث بنو نہ کہ اس فانی دنیا کے۔

    اللّٰہ عزوجل نے ہمیں آخری امت بنا کر ہم پر اپنا فضل کیا ہے اور ہم سے پہلی امتوں کے بارے میں ہمیں آگاہ کر کے بتا دیا کہ ان پر عذاب کیوں نازل ہوئے؟

    اگر ہم نے اپنی عادات و اطوار کو نہ بدلا اور ان کے حالات سے عبرت حاصل نہ کی تو یقیناً ہمارا حشر بھی انہی اقوام جیسا ہو گا۔

    ‎@LaraibNaz2

  • کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت  تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت سے جیت لیا الحمداللہ؟ کشمیر کے الیکشن میں انڈین بیانے کی ہار ہوئی ہے انڈین میڈیا چیخ رہا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اور نون لیگ کے ایک امیدوار اسماعیل گجر نے بیان دیا ہم انڈیا سے مدد مانگے اس انڈیا سے جو ہمارے مظلوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے اس انڈیا سے جو بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے اس انڈیا سے مدد مانگیں گے جو دنیا میں ہمارے پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے یہ لوگ کیوں ہمدرد ہے انڈیا کے نون لیگ انڈیا سے کیا مدد مانگے گی کیا ان سے کہے گی اپنی فوج آزاد کشمیر میں بھیج دیں چیف الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو چاہیے اس کو نااہل کر دیں ان لوگوں نے قومی سلامتی کا مذاق بنایا ہوا ہے اسماعیل گجر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا یہ سچ کہا وہاں ایک لاکھ کشمیری ہمارے بہن بھائیوں کو شہید کر دیا گیا اور ہزاروں کشمیر ی انڈیا کی قید میں ہے جموں کشمیر میں ہماری کشمیری بہنوں کی عزت کو پامال کیا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لی لیکن نون لیگ انڈیا سے مدد مانگے گی افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ہم نے چالیس سال تک ووٹ دیے اپنے ملک کا حکمران سمجھا لیکن یہ ہمارے دشمن ملک انڈیا سے مدد مانگے گے اور نون لیگ کا لیڈر نواز شریف ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے جن لوگوں نے ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا افغان سیکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ سے نواز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی لندن میں جس کو حمداللہ نے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ایکسپوز کر دیا یہ ملاقات انڈیا کی خواہش پر سی آئی اے نے ایک عرب ممالک کی مدد سے یہ ملاقات کروائی حمداللہ محب اجیت ڈاوول کا قریبی دوست ہے اور اجیت ڈاوول سے کشمیری سخت نفرت کرتے ہیں اب نون لیگ کو سمجھ نہیں آرہی جو حمد اللہ محب سے ملاقات ہوئی اس کی کیا توجیج پیش کریں نون لیگ نے پہلے کہا باہمی دلچسپی کے امور پر ملاقات ہوئی ان دونوں کی باہمی دلچسپی کا امر ایک ہی ہے وہ ہے افواج پاکستان جس ٹائم اس ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تو پاکستانیوں کا ردعمل دیکھ کے مریم نواز نے دو تصویریں شیئر کی وہ بھی دو سال پرانی حمد اللہ محب پاکستان دورے پر آئے ہوئے تھے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی جنرنل قمر جاوید باجوا کی تصویر شیئر کرکے مریم نواز نے پاکستانی عوام کو بیوقوف بنا رہی تھی میڈم مریم صاحبہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری حیثیت سے ملاقات کی تھی وہ بھی تب حمداللہ محب نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور پاکستان نے بھی اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا دوسری تصویر عمران خان کی شیر کی جب وہ افغانستان گئے اور قطار میں کھڑے لوگوں کا اشرف غنی تعارف کروا رہا تھا اس قطار میں حمداللہ بھی کھڑا تھا توعمران خان کیا کہتا؟ کہ اس بندے کو قطار سے نکال دو تب بھی حمداللہ نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور نہ ہی بائکاٹ ہوا تھا ورنہ عمران خان انڈین وزیر خارجہ کی طرح شائد ہاتھ بھی نہ ملاتا اس سے؟ اور مریم نواز نے ایک اور تصویر شئیر کی پرائیویٹ گاڑی میں جوان ڈیوٹی پر جا رہے تھے اس گاڑی پر پی ٹی آئی کا جھنڈا بڑا لگا ہوا تھا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو مینشن کر کے پوچھ رہی تھی یہ کیا ہے دوسرے دن پاک فوج کے جوان ڈیوٹی پر جاتے ہوئے گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور 4 جوان شہید ہوگئے تین زخمی ہوئے پاک فوج سے ن لیگ کی نفرت اور اس حادثے نے بھی کشمریوں کے دلوں میں آگ لگائی۔ پاک فوج ستر سال سے ایل او سی پر کھڑی آزاد کشمیر کا دفاع کر رہی ہے اور ایل او سی کی دوسری جانب کھڑی 10 لاکھ انڈین فوج کو روکے ہوئے ہے اور روزانہ ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں پاک فوج کے خلاف کشمیری کچھ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈیا اور مودی پر زبردست تنقید کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ کسانوں کو سود کے بغیر قرضہ دیں گے بے روزگاروں کو بھی سود کے بغیر قرضے دیں گے اور کشمیریوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے کشمیری دس لاکھ تک اپنا علاج مفت کرا سکیں گے اور عمران خان نے اپنے تقریر میں یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کو ریفرنڈم کے ذریعے موقعہ دیں گے کہ وہ خود مختیار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا عمران خان کا آخری جلسہ اتنا بڑا تھا شاید کشمیر میں کبھی ایسا جلسہ نہیں ہوا بیرون ملک دشمنوں اور نون لیگیوں کے تمام پروپیگنڈے کے باوجود کشمیری انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے الحمد اللہ محبت کرتے ہیں اسی وجہ سے کشمیر کا الیکشن عمران خان نے جیتا کشمیریوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور آخر میں اپنے سب کشمیری بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں پاکستان زندہ باد. پاک فوج زندہ باد

    @IamYasminArshad

  • بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری ہمارے معاشرے کا ایسا رَوگ ہے جوکہ مسلسل بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔
    بے روزگاری کو عام طورپراس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد جو ایک مخصوص عمر سے زیادہ (عام طور پر15 سال سے زیادہ) تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں اور تنخواہ یا خود ملازمت میں ملازمت نہیں رکھتے ہیں۔ وہی افراد کام کے لیے دستیاب ہوں۔ بے روزگاری ایک اہم معاشی اشارے ہے کیوں کہ اس سے فائدہ مند ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے کارکنوں کی رضامندی کا اشارہ ہوتا ہے۔ تاکہ وہ بھی قومی معیشت میں اپنا کردارادا کرسکیں ۔

    موجودہ صورتحال کی طرف دیکھا جائے تو ہمارا موجودہ نظام تعلیم کچھ حد تک پڑھے لکھے نوجوان پیدا تو کر رہا ہے مگر ایک بڑی اکثریت کو وہ تعلیم نہیں دی جا رہی جس کی شاید ان سب کو ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں ہنرمند نوجوانوں کی کمی ہے اور زیادہ تر نوجوان حکومتی نوکریوں کے منتظر ہوتے ہیں۔
    معیاری تعلیم کی ثابت دستیابی اس کا مسئلےحل ہے۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔

    عالمگیریت نے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن ثقافتی امتزاج گلوبلائزیشن کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے پوری دنیا کے لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ، ہاتھ بانٹنے کی روایتی سرگرمیاں حدود ختم ہوتے ہی معدوم ہوجاتی ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے . جو بے روزگاری کو کم کرسکیں۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت میں سامان اور خدمات کا مطالبہ پورا روزگار نہیں دے سکتا ہے۔ یہ سست معاشی نشوونما یا زوال کے اوقات کے دوران ہوتا ہے۔ اعلی بے روزگاری سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے ، معاشی نمو کو نقصان ہوتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق جون 2005 میں، تمام بے روزگار افراد میں سے 33.5 فیصد چوبیس سال سے کم عمر کے افراد تھے، ان میں سے کچھ ان کے اہل خانہ کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھے۔ بیروزگاری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو بھی روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہر آٹھ سیکنڈز کے بعد ایک نئے فرد کا اضافہ ہوتا ہے جو آبادی میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ترقی کی سمت دیکھتے ہوئے آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی موجودہ رفتار اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع اس ملک کو ایک سنگین سماجی مشکل سے دوچار کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
    امن و امان تب ہی ہو سکتا ہے اگرمعاشرے کا ہرفرد اپنا اپنا کردار ادا کرے ۔

    بیروزگاری کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے ۔ جب آپ کی معیشت میں استحکام ہوگا ۔ معیشت مضبوط ہوگی ۔ انڈیسٹریز لگیں گی ۔ سرمایہ داری ہوگی ۔ اور یہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیئے معاشرے کے ہر طبقے ، سرمایہ دار سے لیکر ایک عام فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں حکومت کو عوام کے سامنے نئی ترجیحات کیساتھ نئی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنی پڑیں گی ۔ اور ان تمام چیزوں میں پہلے سب سے اہم امن کا خریدنا ہے ۔ امن ہوگا تو یہ مراحل طے ہونگیں ۔ بصورتِ دیگر بنجر زمین میں آبیاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کام میں لانے کے لئے معاشرے کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
    کیوں کہ ایک ملک بے روزگاری اور معاشی حیثیت کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی طرح بے روزگاری ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے ۔

    @_aqsasiddique

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم)  تحریر:  رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم) تحریر: رانا بشارت محمود

    جیساکہ آپ نے اِس سلسلے کی پہلی قسط جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری آج کی سوسائٹی اور زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں تھی، ضرور پڑھی ہوگی۔ تو چونکہ یہ اُسی سلسلے کی دوسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ہماری خط و کتابت اور علمی و ادبی کتابوں کو پڑھنے والے ورثے کا ناپید ہو جانا۔

    اِس سلسلے کی پہلی قسط میں آج کے دور کے اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آنے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن برے اثرات کا ذکر کیا گیا تھا اُن کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی برا ہوا کہ جو ہمارا انتہائی قیمتی خط و کتابت کا ورثہ تھا جس کے زریعے ہم اپنے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں اور وہ لوگ جنہیں کوئی پیغام یا خبر بھیجنا مقصود ہوتا، تو خط لکھا جاتا تھا جسے کبھی تار کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

    اور پھرعیدین کے موقع پہ تو بازاروں میں تو طرح طرح کے ڈیزائنوں والے عید کارڈز بھی ملا کرتے تھے جنہیں پھر ہم مختلف اشعار لکھ کر یا پھر چھوٹی سی تحریر لکھ کر مبارکبادوں کے ساتھ اسے ڈاک کے ذریعے بھیجنے کے لئے اپنے گلی، محلوں یا پھر کسی قریبی گاوں میں موجود لیٹر بکس میں ڈال کے آیا کرتے تھے۔

    پھر اِس سارے خوشگوار اور شاندار عمل سے گزرنے کے بعد اُس بندے کا کام شروع ہوتا تھا، جس کا نام اور کام دونوں کو ہی ہم آج کے دور میں ناپید ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں اور اُس کا نام ڈاکیا تھا۔ جو اُن خطوط یا تاروں، شادی کارڈوں اور عید کارڈوں کو لیٹر بکسوں سے وصول کرنے کے بعد اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے مطلوبہ پتوں پہ اُن کے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں تک پہنچاتا تھا (البتہ! دیہاتوں اور قصبوں میں زیادہ تر منگنیوں اور شادیوں وغیرہ کے موقع پہ شادی کارڈز دے کر اپنے خاندانی طور پہ رکھے ہوئے نائی/ حجام جسے مقامی اور پنجابی زبان میں سیپی بھی کہا جاتا ہے، اُسے بھی بھیج دیا جاتا ہے/تھا)۔

    اور اب نہ تو وہ خطوط اورعید کارڈ ہی رہے ہیں اور نہ ہی وہ اُس سہانے دور میں سائیکلوں پہ گھومنے والے ڈاکیے، وہ سب کچھ تو جیسے دفن ہی ہو کے رہ گیا ہو۔ کیونکہ اب اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہر طرف عام ہو جانے کے بعد عیدین اور تہواروں پہ بس اِنہی موبائلوں کے زریعے صرف یا تو ایک میسج بھیج دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ کہ فون کال کر کے دو چار منٹ کے لیے پیغام دینے کی غرض سے تھوڑی بہت بات کر لی جاتی ہے۔

    اب تھوڑا آگے چلیے تو آپ کو بتلاوں کہ کبھی جو ہمارا کتابیں پڑھنے کا دور ہوا کرتا تھا۔ (جس کا ہم میں سے کچھ تو ہو سکتا ہے اب بھی شوق رکھتے ہوں مگر زیادہ تر تو بُھلا ہی چکے ہیں) اور جس میں بہت سارے اچھے اچھے مصنفوں کی علمی، ادبی، اسلامی، تاریخی، ہنسی و مزاح اور کئی دوسرے موضوعات پہ مبنی لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھنے کا ایک بڑا ہی اچھا زمانہ ہوا کرتا تھا۔

    کہ جب وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریوں یا پھر بازاروں میں موجود کتابوں کی دوکانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کے کتابوں کو گھر لے کے آنا اور پھر کئی کئی دن تک اُن کو پڑھنے میں ہی گزار دیے جاتے تھے۔ اور پھر کتابوں کو پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو علم و حکمت کی باتیں کتابوں کو پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں، ایک تو وہ دل و دماغ پہ نقش ہو جاتی ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ باتیں حِفظ کی طرح اپنے قاری کے دماغ میں گھر کر لیتی ہیں اور اُن کا بھولنا پھر تقریباً ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

    اور پھر اِن کتابوں کو پڑھنے کے بعد اپنے کتابوں کا شوق رکھنے والے دوستوں سے بھی کئی موضوعات پہ انتہائی اچھی علمی، ادبی اسلامی اور تاریخی گفتگو بھی اپنے آپ میں ایک شاندار قسم کی بیٹھک بن جایا کرتی تھی۔ اور یہی علمی و ادبی بیٹھک اُن سب کے علم میں مزید اضافہ کا باعث بھی بنتی تھی۔ الغرض یہ سارے کا سارا عمل ایک انتہائی خوشگوار تجربہ ہوا کرتا تھا۔

    مگر! مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آ جانے کے بعد اب نہ تو وہ گفتگو ہی رہی ہے، نہ ہی ویسی بیٹھکیں رہیں ہیں اور نہ ویسے شوق ہی باقی رہے ہیں۔ اب تو ہر کوئی اپنے اِن موبائل فونز میں ہی گم ہو کے رہ گیا ہے اور نہ کسی کے پاس وقت ہی رہا ہے اِن کتابوں کو پڑھنے کا۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو بلا شبہ جدید ٹیکنالوجی کے اس آج کے دور میں چاہے ہم کتنے ہی آگے کیوں نہ نکل جائیں مگر ہمیں یہ بھی کرنا چاہیے کہ اپنے قیمتی وِرثوں کو کسی نہ کسی صورت میں ہم زندہ بھی رکھیں اور اچھی اور علمی کتابوں کو بھی پڑھنے کے لیے تھوڑا وقت بھی ضرور نکالا کریں کہ کہیں ہم اِن کتابوں سے مکمل طور پہ ناواقف ہی نہ ہو جائیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK