Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت  تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت سے جیت لیا الحمداللہ؟ کشمیر کے الیکشن میں انڈین بیانے کی ہار ہوئی ہے انڈین میڈیا چیخ رہا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اور نون لیگ کے ایک امیدوار اسماعیل گجر نے بیان دیا ہم انڈیا سے مدد مانگے اس انڈیا سے جو ہمارے مظلوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے اس انڈیا سے جو بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے اس انڈیا سے مدد مانگیں گے جو دنیا میں ہمارے پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے یہ لوگ کیوں ہمدرد ہے انڈیا کے نون لیگ انڈیا سے کیا مدد مانگے گی کیا ان سے کہے گی اپنی فوج آزاد کشمیر میں بھیج دیں چیف الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو چاہیے اس کو نااہل کر دیں ان لوگوں نے قومی سلامتی کا مذاق بنایا ہوا ہے اسماعیل گجر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا یہ سچ کہا وہاں ایک لاکھ کشمیری ہمارے بہن بھائیوں کو شہید کر دیا گیا اور ہزاروں کشمیر ی انڈیا کی قید میں ہے جموں کشمیر میں ہماری کشمیری بہنوں کی عزت کو پامال کیا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لی لیکن نون لیگ انڈیا سے مدد مانگے گی افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ہم نے چالیس سال تک ووٹ دیے اپنے ملک کا حکمران سمجھا لیکن یہ ہمارے دشمن ملک انڈیا سے مدد مانگے گے اور نون لیگ کا لیڈر نواز شریف ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے جن لوگوں نے ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا افغان سیکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ سے نواز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی لندن میں جس کو حمداللہ نے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ایکسپوز کر دیا یہ ملاقات انڈیا کی خواہش پر سی آئی اے نے ایک عرب ممالک کی مدد سے یہ ملاقات کروائی حمداللہ محب اجیت ڈاوول کا قریبی دوست ہے اور اجیت ڈاوول سے کشمیری سخت نفرت کرتے ہیں اب نون لیگ کو سمجھ نہیں آرہی جو حمد اللہ محب سے ملاقات ہوئی اس کی کیا توجیج پیش کریں نون لیگ نے پہلے کہا باہمی دلچسپی کے امور پر ملاقات ہوئی ان دونوں کی باہمی دلچسپی کا امر ایک ہی ہے وہ ہے افواج پاکستان جس ٹائم اس ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تو پاکستانیوں کا ردعمل دیکھ کے مریم نواز نے دو تصویریں شیئر کی وہ بھی دو سال پرانی حمد اللہ محب پاکستان دورے پر آئے ہوئے تھے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی جنرنل قمر جاوید باجوا کی تصویر شیئر کرکے مریم نواز نے پاکستانی عوام کو بیوقوف بنا رہی تھی میڈم مریم صاحبہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری حیثیت سے ملاقات کی تھی وہ بھی تب حمداللہ محب نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور پاکستان نے بھی اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا دوسری تصویر عمران خان کی شیر کی جب وہ افغانستان گئے اور قطار میں کھڑے لوگوں کا اشرف غنی تعارف کروا رہا تھا اس قطار میں حمداللہ بھی کھڑا تھا توعمران خان کیا کہتا؟ کہ اس بندے کو قطار سے نکال دو تب بھی حمداللہ نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور نہ ہی بائکاٹ ہوا تھا ورنہ عمران خان انڈین وزیر خارجہ کی طرح شائد ہاتھ بھی نہ ملاتا اس سے؟ اور مریم نواز نے ایک اور تصویر شئیر کی پرائیویٹ گاڑی میں جوان ڈیوٹی پر جا رہے تھے اس گاڑی پر پی ٹی آئی کا جھنڈا بڑا لگا ہوا تھا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو مینشن کر کے پوچھ رہی تھی یہ کیا ہے دوسرے دن پاک فوج کے جوان ڈیوٹی پر جاتے ہوئے گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور 4 جوان شہید ہوگئے تین زخمی ہوئے پاک فوج سے ن لیگ کی نفرت اور اس حادثے نے بھی کشمریوں کے دلوں میں آگ لگائی۔ پاک فوج ستر سال سے ایل او سی پر کھڑی آزاد کشمیر کا دفاع کر رہی ہے اور ایل او سی کی دوسری جانب کھڑی 10 لاکھ انڈین فوج کو روکے ہوئے ہے اور روزانہ ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں پاک فوج کے خلاف کشمیری کچھ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈیا اور مودی پر زبردست تنقید کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ کسانوں کو سود کے بغیر قرضہ دیں گے بے روزگاروں کو بھی سود کے بغیر قرضے دیں گے اور کشمیریوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے کشمیری دس لاکھ تک اپنا علاج مفت کرا سکیں گے اور عمران خان نے اپنے تقریر میں یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کو ریفرنڈم کے ذریعے موقعہ دیں گے کہ وہ خود مختیار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا عمران خان کا آخری جلسہ اتنا بڑا تھا شاید کشمیر میں کبھی ایسا جلسہ نہیں ہوا بیرون ملک دشمنوں اور نون لیگیوں کے تمام پروپیگنڈے کے باوجود کشمیری انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے الحمد اللہ محبت کرتے ہیں اسی وجہ سے کشمیر کا الیکشن عمران خان نے جیتا کشمیریوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور آخر میں اپنے سب کشمیری بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں پاکستان زندہ باد. پاک فوج زندہ باد

    @IamYasminArshad

  • بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری ہمارے معاشرے کا ایسا رَوگ ہے جوکہ مسلسل بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔
    بے روزگاری کو عام طورپراس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد جو ایک مخصوص عمر سے زیادہ (عام طور پر15 سال سے زیادہ) تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں اور تنخواہ یا خود ملازمت میں ملازمت نہیں رکھتے ہیں۔ وہی افراد کام کے لیے دستیاب ہوں۔ بے روزگاری ایک اہم معاشی اشارے ہے کیوں کہ اس سے فائدہ مند ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے کارکنوں کی رضامندی کا اشارہ ہوتا ہے۔ تاکہ وہ بھی قومی معیشت میں اپنا کردارادا کرسکیں ۔

    موجودہ صورتحال کی طرف دیکھا جائے تو ہمارا موجودہ نظام تعلیم کچھ حد تک پڑھے لکھے نوجوان پیدا تو کر رہا ہے مگر ایک بڑی اکثریت کو وہ تعلیم نہیں دی جا رہی جس کی شاید ان سب کو ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں ہنرمند نوجوانوں کی کمی ہے اور زیادہ تر نوجوان حکومتی نوکریوں کے منتظر ہوتے ہیں۔
    معیاری تعلیم کی ثابت دستیابی اس کا مسئلےحل ہے۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔

    عالمگیریت نے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن ثقافتی امتزاج گلوبلائزیشن کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے پوری دنیا کے لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ، ہاتھ بانٹنے کی روایتی سرگرمیاں حدود ختم ہوتے ہی معدوم ہوجاتی ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے . جو بے روزگاری کو کم کرسکیں۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت میں سامان اور خدمات کا مطالبہ پورا روزگار نہیں دے سکتا ہے۔ یہ سست معاشی نشوونما یا زوال کے اوقات کے دوران ہوتا ہے۔ اعلی بے روزگاری سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے ، معاشی نمو کو نقصان ہوتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق جون 2005 میں، تمام بے روزگار افراد میں سے 33.5 فیصد چوبیس سال سے کم عمر کے افراد تھے، ان میں سے کچھ ان کے اہل خانہ کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھے۔ بیروزگاری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو بھی روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہر آٹھ سیکنڈز کے بعد ایک نئے فرد کا اضافہ ہوتا ہے جو آبادی میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ترقی کی سمت دیکھتے ہوئے آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی موجودہ رفتار اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع اس ملک کو ایک سنگین سماجی مشکل سے دوچار کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
    امن و امان تب ہی ہو سکتا ہے اگرمعاشرے کا ہرفرد اپنا اپنا کردار ادا کرے ۔

    بیروزگاری کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے ۔ جب آپ کی معیشت میں استحکام ہوگا ۔ معیشت مضبوط ہوگی ۔ انڈیسٹریز لگیں گی ۔ سرمایہ داری ہوگی ۔ اور یہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیئے معاشرے کے ہر طبقے ، سرمایہ دار سے لیکر ایک عام فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں حکومت کو عوام کے سامنے نئی ترجیحات کیساتھ نئی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنی پڑیں گی ۔ اور ان تمام چیزوں میں پہلے سب سے اہم امن کا خریدنا ہے ۔ امن ہوگا تو یہ مراحل طے ہونگیں ۔ بصورتِ دیگر بنجر زمین میں آبیاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کام میں لانے کے لئے معاشرے کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
    کیوں کہ ایک ملک بے روزگاری اور معاشی حیثیت کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی طرح بے روزگاری ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے ۔

    @_aqsasiddique

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم)  تحریر:  رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم) تحریر: رانا بشارت محمود

    جیساکہ آپ نے اِس سلسلے کی پہلی قسط جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری آج کی سوسائٹی اور زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں تھی، ضرور پڑھی ہوگی۔ تو چونکہ یہ اُسی سلسلے کی دوسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ہماری خط و کتابت اور علمی و ادبی کتابوں کو پڑھنے والے ورثے کا ناپید ہو جانا۔

    اِس سلسلے کی پہلی قسط میں آج کے دور کے اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آنے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن برے اثرات کا ذکر کیا گیا تھا اُن کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی برا ہوا کہ جو ہمارا انتہائی قیمتی خط و کتابت کا ورثہ تھا جس کے زریعے ہم اپنے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں اور وہ لوگ جنہیں کوئی پیغام یا خبر بھیجنا مقصود ہوتا، تو خط لکھا جاتا تھا جسے کبھی تار کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

    اور پھرعیدین کے موقع پہ تو بازاروں میں تو طرح طرح کے ڈیزائنوں والے عید کارڈز بھی ملا کرتے تھے جنہیں پھر ہم مختلف اشعار لکھ کر یا پھر چھوٹی سی تحریر لکھ کر مبارکبادوں کے ساتھ اسے ڈاک کے ذریعے بھیجنے کے لئے اپنے گلی، محلوں یا پھر کسی قریبی گاوں میں موجود لیٹر بکس میں ڈال کے آیا کرتے تھے۔

    پھر اِس سارے خوشگوار اور شاندار عمل سے گزرنے کے بعد اُس بندے کا کام شروع ہوتا تھا، جس کا نام اور کام دونوں کو ہی ہم آج کے دور میں ناپید ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں اور اُس کا نام ڈاکیا تھا۔ جو اُن خطوط یا تاروں، شادی کارڈوں اور عید کارڈوں کو لیٹر بکسوں سے وصول کرنے کے بعد اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے مطلوبہ پتوں پہ اُن کے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں تک پہنچاتا تھا (البتہ! دیہاتوں اور قصبوں میں زیادہ تر منگنیوں اور شادیوں وغیرہ کے موقع پہ شادی کارڈز دے کر اپنے خاندانی طور پہ رکھے ہوئے نائی/ حجام جسے مقامی اور پنجابی زبان میں سیپی بھی کہا جاتا ہے، اُسے بھی بھیج دیا جاتا ہے/تھا)۔

    اور اب نہ تو وہ خطوط اورعید کارڈ ہی رہے ہیں اور نہ ہی وہ اُس سہانے دور میں سائیکلوں پہ گھومنے والے ڈاکیے، وہ سب کچھ تو جیسے دفن ہی ہو کے رہ گیا ہو۔ کیونکہ اب اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہر طرف عام ہو جانے کے بعد عیدین اور تہواروں پہ بس اِنہی موبائلوں کے زریعے صرف یا تو ایک میسج بھیج دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ کہ فون کال کر کے دو چار منٹ کے لیے پیغام دینے کی غرض سے تھوڑی بہت بات کر لی جاتی ہے۔

    اب تھوڑا آگے چلیے تو آپ کو بتلاوں کہ کبھی جو ہمارا کتابیں پڑھنے کا دور ہوا کرتا تھا۔ (جس کا ہم میں سے کچھ تو ہو سکتا ہے اب بھی شوق رکھتے ہوں مگر زیادہ تر تو بُھلا ہی چکے ہیں) اور جس میں بہت سارے اچھے اچھے مصنفوں کی علمی، ادبی، اسلامی، تاریخی، ہنسی و مزاح اور کئی دوسرے موضوعات پہ مبنی لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھنے کا ایک بڑا ہی اچھا زمانہ ہوا کرتا تھا۔

    کہ جب وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریوں یا پھر بازاروں میں موجود کتابوں کی دوکانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کے کتابوں کو گھر لے کے آنا اور پھر کئی کئی دن تک اُن کو پڑھنے میں ہی گزار دیے جاتے تھے۔ اور پھر کتابوں کو پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو علم و حکمت کی باتیں کتابوں کو پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں، ایک تو وہ دل و دماغ پہ نقش ہو جاتی ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ باتیں حِفظ کی طرح اپنے قاری کے دماغ میں گھر کر لیتی ہیں اور اُن کا بھولنا پھر تقریباً ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

    اور پھر اِن کتابوں کو پڑھنے کے بعد اپنے کتابوں کا شوق رکھنے والے دوستوں سے بھی کئی موضوعات پہ انتہائی اچھی علمی، ادبی اسلامی اور تاریخی گفتگو بھی اپنے آپ میں ایک شاندار قسم کی بیٹھک بن جایا کرتی تھی۔ اور یہی علمی و ادبی بیٹھک اُن سب کے علم میں مزید اضافہ کا باعث بھی بنتی تھی۔ الغرض یہ سارے کا سارا عمل ایک انتہائی خوشگوار تجربہ ہوا کرتا تھا۔

    مگر! مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آ جانے کے بعد اب نہ تو وہ گفتگو ہی رہی ہے، نہ ہی ویسی بیٹھکیں رہیں ہیں اور نہ ویسے شوق ہی باقی رہے ہیں۔ اب تو ہر کوئی اپنے اِن موبائل فونز میں ہی گم ہو کے رہ گیا ہے اور نہ کسی کے پاس وقت ہی رہا ہے اِن کتابوں کو پڑھنے کا۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو بلا شبہ جدید ٹیکنالوجی کے اس آج کے دور میں چاہے ہم کتنے ہی آگے کیوں نہ نکل جائیں مگر ہمیں یہ بھی کرنا چاہیے کہ اپنے قیمتی وِرثوں کو کسی نہ کسی صورت میں ہم زندہ بھی رکھیں اور اچھی اور علمی کتابوں کو بھی پڑھنے کے لیے تھوڑا وقت بھی ضرور نکالا کریں کہ کہیں ہم اِن کتابوں سے مکمل طور پہ ناواقف ہی نہ ہو جائیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • غلامی کی سوچ . تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی سوچ . تحریر: محمد ابراہیم

    ڈیرہ غازی خان اور اس کے نواح میں دور جدید میں بھی ایک شکست خوردہ سوچ ابھی بھی زندہ ہے، ایسی سوچ جس کے ذرہ ذرہ میں غلامی پیوستہ ہے، ایسی ذہنیت جن کا یہ ماننا ہے کہ کسی بڑے آدمی/بڑی شخصیت/ سیاستدان یا ایم این اے ایم پی اے سے عام بندہ کم پڑھا لکھا آدمی یا مزدور طبقہ کسی سیاسی منتخب نمائندے سے اپنے حلقے کے بارے میں سوال نہیں کرسکتا؟

    ایسی سوچ کو واش کرنے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو بڑا کرنے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو وسیع ہونے کی ضرورت ہے، ایسی سوچ کو آزاد ہونے کا راستہ چاہیے کیونکہ ایسی سوچ جب تک زندہ رہے گی تب تک مسکن میں خرابی رہے گی، ایسی غلامانہ ذہنیت جب تک زندہ رہے گی تب تک معاشرہ غلام ہی رہے گا، ایسی سوچ رکھنے والے افراد کو ایک مشورہ ہے کہ جب آپ کسی ایم۔این اے یا ایم پی اے کی الیکشن کمپین کرنے کےلئے جاتے ہو تب کسی عام بندے کے پاس اپنی ارضی نہ لے کے جایا کر، جب اپنے ایم این اے یا ایم پی اے کو منتخب کرنے کا سوچ رہے ہوتے ہو تب کسی مڈل پاس کے پاس نہ جایا کرو، جب کسی پسندیدہ امیدوار کو قومی/صوبائی اسمبلی میں بھیجنے کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہو تب کسی مزدور طبقہ کے پاس اپنے خواب کی تعبیر کےلئے مت جایا کرو، ہمارے معاشرے میں ابھی تک ایسی سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ کسی سردار سے اپنے حلقے کے بارے میں اسکا ووٹر سوال نہیں کرسکتا پھر ایسی سوچ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے سردار کے ساتھ دوران الیکشن کمپین اس عام آدمی کے پاس جانے سے گریز کیا کریں جن کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سوال کرنے کا اہل نہیں، ابھی جب یہ سوچ ختم ہوگی.

    اب جب یہ سوچ دم توڑے گی وہاں انشاللہ لوگ اپنے نمائندے کو منتخب کرنے کے بعد اس سے سوال کریں گے کہ ہم نے آپ کو ووٹ دیا تھا ہمارے مسائل کو حل کرنے کےلئے ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے؟. جب اس طرح کے سوال کی بوچھاڑ کی جائے گی تب آپ کے ہمارے نمائندے کچھ کرنے لائق ہونگے، اج تک ہوا کیا ہے؟ سائیں سردار کا نعرہ لگا دیا گیا اور الیکشن میں منتخب کرنے کے بعد اپنے نمائندے کو اگلے پانچ سال کےلئے اسلام آباد یا لاہور کے پر آسائش زندگی کے مزے لوٹنے کےلئے بھیج دینے والے ان کا نعرہ باآواز بلند لگاتے رہتے تھے حلقے/یونین کے کام جائیں بھاڑ میں والی صورت حال سے نکلنے کےلئے اب اس سوچ کو مرنا ہوگا، اب اپنے نمائندے کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے سوال پوچھنا ہوگا ان کو جواب دہ بنانا ہوگا تب جا کر ہمارا سسٹم بھی ٹھیک ہو گا ہمارا ملک بھی بحران سے نکلے گا، سسٹم کا بگاڑ جہاں متعلقہ ادارے ہیں اس سے زیادہ ہم عوام جو غلامانہ سوچ رکھنے والے ہیں کیونکہ جب ہم اپنے نمائندوں سے سوال نہیں کرسکتے،تب ہم کسی سسٹم کو برا بھلا نہیں کہے سکتے ہم نے ووٹ اپنے ایم پی اے/ایم این اے کو دیا ہوتا ہے جب ہم اپنے نمائندے سے سوال کریں گے تب ہمارے نمائندے میں جذبہ ہوگا وہ آگے اپنے لیڈر سے سوال کرے گا تب لیڈر اپنے وزیروں سے پوچھے گا پھر وزیر مشیر جب لیڈر کو جوابدہ ہونگے تب سسٹم میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔جب ہم اچھا ہے اپنے نمائندے کو سوال کئے بغیر اس سے حلقے کا حساب لئے بغیر اچھا ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تب وہ اپنے لیڈر کو اچھا ہے کی رپورٹ پیش کرے گا پھر وہاں سے سسٹم لیک ہونا شروع ہوتا ہے، اس سسٹم کا بگاڑ یہی سوچ ہے جو یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ کسی مڈل یا پرائمری پاس کو اپنے حلقے کے نمائندوں سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت ہے ہمیں ایسی سوچ کو آزاد کرنےکی اور یہ سوچ آزاد ہوگی( ان شاللہ).
    پاکستان زندہ باد

    @IbrahimDgk1

  • اُمتِ مُسلمہ کا حقیقی رہنما/لیڈر کون  تحریر: صائمہ ستار

    اُمتِ مُسلمہ کا حقیقی رہنما/لیڈر کون تحریر: صائمہ ستار

    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضرو موجود سے بیزار کرے

    موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو درپیش دوسرے مسائل کے ساتھ ایک اہم مسلئہ مخلص اور اچھی لیڈرشپ کا فقدان ہے.قران وسنت کے رہنمائ میں اچھے رہنما میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے موجودہ مسلم حکمران ان سے بے نیاز ہیں.شاعرِ مشرق نے اسلامی قیادت کے لازمی اوصاف کو اپنی شاعری میں سمویا ہے جن سے موجودہ نوجوان نسل کا آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے.اگر موجودہ مسلم حکمران ان اوصاف کو اپنائیں تو عجب نہیں کہ امتِ مسلمہ ایک بار پھر عروج حاصل کرے. قوم کا امامِ برحق یعنی سچا راہنما/لیڈر وہی ہے جو حاضرو موجود یعنی موجودہ زمانے اور نظام میں پائ جانے والی غیر اسلامی اقدار سے بیزار کرے.اور دنیا کے عارضی ہونےکا احساس دل میں پختہ کر کے اس دنیا کی جھوٹی شان وشوکت اور عیش وآرام سےبیزارکر کےحقیقی منزل یعنی اللہ کی طرف رہنمائ کرے.(بیزاری کا مطلب یہ ہے دنیا کو مستقل منزل نہ سجھے.اس دنیا سے تعلق بس اتنا ہو جتنا مسافر کا سفر میں رستوں سے ہوتا ہے. )
    رخِ دوست(مراد اللہ/سیدنامحمد‏‎ﷺ)
    اور جب کبھی دین سے وفا کا وقت آئے جب برما,کشمیر, شام, فلسطین, عراق,افغانستان, میں تمہاری بہنوں کی عزتیں لٹ رہی ہوں معصوم بچوں اور نوجوانوں کا قتلِ عام ہو تو سچا قائد/رہنما قوم کو بزدلی اور مصلحت کے سبق نہ پڑھائے.پھر وہ بتائے کہ جب مسلمان اسطرح کٹ رہے ہوں اسلام امن کا نہیں جہاد اور غیرت کا اور اپنے مسلم بہن/بھائ کا درد محسوس کرنے کا درس دیتا ہے.یعنی کہ موت(شہادت)کی صورت میں محبوبِ حقیقی (اللہ / سیدنامحمد‏‎ﷺ) سے ملنے کی شدید تڑپ اسطرح دل میں پیدا کرے کہ موت تمہیں زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اپنی حققیقی منزل محسوس ہو.
    وَاِنَّ اِلٰی رَبِّکـــَ الْمُنْتَھیٰ(القران)
    اور تمہاری آخری منزل اللہ ہے.
    جب زندگی کا اختتام موت ہی ہے تو دین سے وفا کرتے ہوئے شہادت اسکا بہترین انتخاب ہے.
    وہ احساسِ زیاں یعنی مغرب کی غلامی اور دین کے اصل راستے کو چھوڑ نےسےہونے والے دنیاوی و اخروی نقصان کے احساس
    سےتیرےخون کو گرما دے.  اورفقر یعنی تمام عالم سے منہ موڑ کر  دنیا کی تمام جھوٹی طاقتوں کا ڈر قوم کے دل سے نکال کر دنیاوی طاقتوں سے بے نیاز کر کے صرف اور صرف نکتہِ توحید پر یقین پختہ کر کے کہ اللہ کے سوا کوئ معبود, کوئ مددگار نہیں جومسلمان ہونےکا پہلا تقاضا ہے تمہیں ایسی تلوار بنادے جو باطل /دین دشمنوں کو کاٹ کر رکھ دے. ایسا رہنما جو قوم کو حقیقی سلطانِ واحد یعنی اللہ تعالی کے در سے گمراہ کر کے دنیا کے جھوٹے/وقتی بادشاہوں(یورپی یونینIMF, FATF.اقومِ متحدہ, مغربی نظام) , کا ڈر دل میں بٹھائے اور انکا پرستار,انکے نظام کاپیروکار بنائے تو ایسے شخص کی امامت/لیڈر شپ قوم کے حق میں ایک خوبصورت/چمکدار فتنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے.
    نوجوان قوم کا مستقبل ہیں. اگر وہ شاعرِ مشرق کے بیان کیے گئے درج ذیل اوصاف کو اپنائیں اور آنے والی اسلامی قیادت اپنے قومی و نظریاتی تشخص کو پہچان کر میدانِ عمل میں آئے تو امید ہے کہ مسلمانوں کا دوبارہ سے دنیا میں بول بالا ہو.اور اپنی کھوئ ہوئ شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کریں.

    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • اُردو زبان کی اہمیت . تحریر: محمد اشرف

    زبان معاشرتی عمل اور انسانی خیالات و جذبات کے اظہار کا موثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے سے انسان اپنا ماضی الضمیر واضع کرتا ہےاور یہ انسان کو حیوان سے الگ کرتے ہے۔زندگی کی دل کشی اور رنگینی زُبان کی بدولت ہے،چناچہ ہر خطہ کا انسان اپنے زُبان سے جذبات لگاؤ رکھتا ہے۔ وہ اس کی بقا کیلئے مر مٹنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات زُبان کے اختلافات مُستقبل کی جُداگانہ راہیں متعین کر دیتے ہیں۔

    پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ اس کا قانون، ثقافت اور زبان اپنی ہو ۔ یہ چیزیں کسی قوم کی شناخت کا سبب بنتی ہیں اور اُسے دوسری قوموں میں ممتاز کرتی ہیں۔
    کسی قوم کی ترقی میں سب سے اہم چیز اُسکی زُبان ہوتی ہے۔وہ زُبان جسے قوم کے جملہ افراد بولتے اور سمجھتے ہوں،قومی زبان کہلاتی ہے۔ قومی زبان مختلف نسلوں ،قبیلوں اور علاقوں کے رہنے والے افراد کو ایک ڈوری میں پروتی ہے ۔ قومی زبان متعلقہ ملک کی عزت و توقیر کا ذریعہ ہوتی ہے ۔ پاکستان کی قومی زبان ‘ اُردو’ ہے۔
    یہ زبان پاکستان کی عظمت کی علامت اور قوم کی شناخت ہے۔ اردو کی ترقی ملک کی ترقی اور اردو کی پس ماندگی ملک کی پس ماندگی ہو گی ۔
    ” زندہ وطن میں رُوح ثقافت اِسی سے ہے
    آزادی وطن کی علامت اِسی سے ہے ”

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں بہت سی مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں جن کی حیثیت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم پوری قوم اور پورے ملک کی زبان اردو ہے اوراُردو ہی واحد زبان کے طور پر پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ جب کسی ملک میں ایک سے زیادہ زبانیں بولی جائیں تو اُن میں سے وہی زبان قومی زبان قرار پاتی ہے جس کو ملک کے جملہ باشندے بول اور سمجھ سکتے ہوں ۔ پاکستان میں اردو کی یہی حیثیت ہے۔

    اس زبان کی وسعت اور بین الاقوامی حیثیت ک اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں اسے بولا اور سمجھا جا رہا ہے ۔ یورپ، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک کی یونیورسٹیوں میں باقاعدہ اسے پڑھایا جا رہا ہے ۔ عالمی سطع پر اردو چوتھے نمبر پر بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے ۔اس زبان کی اہمیت کے پیش نظر ہی قیام پاکستان کے وقت قائداعظم نے کہا تھا کہ’ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اردو ہی ہوگی.

    مزید یہ کہ اُنہوں نے 21۔مارچ1948ءکو ڈھاکہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’ایک مشترکہ سرکاری زُبان کے بغیر قوم متحد نہیں ہوسکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے،وہ اُردو ہوگی.
    قائد اعظم کے مندرجہ بالا ارِشادات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جس نے پاکستان کے تمام علاقوں کے باشندوں کو ایک دھاگے میں پرویا ہوا ہے۔

    درجہ بالا بیانات کی روشنی میں یہ دعویٰ کرنا بے جا نہیں کہ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور اس میں ترقی کرنے اور وسعت پانے کا فطری جوہر موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے ۔اور یہ بھی کہ اردو زبان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے تو یہ دنیا کی ترقی یا فتہ زبانوں میں ایک خاص مقام حاصل کر جائے گی ۔

    @M_Ashraf26

  • سیاحت یا عذاب جان تحریر : ولید عاشق

    سیاحت یا عذاب جان تحریر : ولید عاشق

    کبھی بھول کر بھی عید کے دنوں میں اور سیزن میں چھٹیوں کے ایام میں سیاحت کا پلان مت کریں۔۔۔ خاص کر فیملی کے ساتھ تو بھول کر بھی جانے سے گریز کریں۔
    ہر بندہ عید پر ہی سیاحت کا پلان کرتا ہے جب ہر بندہ انہی ایام میں سیاحت کے لئے جائے گا تو رش بننا لازم ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاحت کی باقاعدہ پلاننگ نہیں کی جاتی، حالات اور مقام کے بارے میں مکمل معلومات نہیں لی جاتی، موسم کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں کی جاتی بس سیاحت کا پلان بنا مشہور جگہ سلیکٹ کی اور نکل پڑے۔۔۔ ایسے حالات میں عموماً کیا ہوتا ہے کہ یہی سیاحت وبال جان بن جاتی ہے۔۔۔ حد سے زیادہ مہنگائی کی وجہ سے بجٹ اؤر ہوجاتا ہے ہفتہ دس دن کا پلان کر کے نکلنے والے دو دن میں جیب خالی کر کے بجائے خوشی کے منہ لٹکا کر واپسی کی راہ ناپتے ہیں۔۔۔
    سیاحتی مقامات پر چونکہ ہوٹل اور ریوزورٹ ٹھیکے پر لئے ہوتے ہیں پورے سال کی کسر سیزن میں نکالی جاتی ہے۔۔۔ یہاں ایک مضبوط مافیا ہے جن کی باقاعدہ یونین ہوتی ہے اور سب کی متفقہ رائے سے پلاننگ کی جاتی ہے۔۔۔ سیزن میں ہوٹلوں کے کرایہ پانچ چھ گنا زیادہ، کھانا انتہائی غیر معیاری اور 10 فیصد ٹیکس لگا کر سیاحوں کو لوٹنے کے عمل میں صحیح چھری پھیرتے ہیں۔۔۔
    مزید یہ کہ اگر موسم خراب ہوجائے، لینڈسلائیڈنگ سے روڈ بند ہوجائیں یا کوئی اور وجہ ہوجائے تو ان ہوٹل مالکان کی چاندی ہوجاتی ہے، لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے وہی روم جو عام حالات میں ہزار دو ہزار کا ہوتا ہے وہی روم بیس تیس ہزار میں بھی بمشکل ملتے ہیں۔۔۔
    اگر فیملی ساتھ ہوتو انسان کے لئے انتہائی پریشان کن صورت حال بن جاتی ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن اور ایسے لوگوں کی مجبوری سے خوب فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔۔۔
    ان سارے حالات میں سارا قصور سیاحت کے لئے آنے والوں کا ہوتا ہے کہ سیاحت کا پلان کرنے سے قبل مطلوبہ مقام کے بارے میں معلومات نہیں لیتے۔۔۔ موسم، حالات اور موقع کو نہیں دیکھا جاتا کہ اس وقت میں یہاں جانا بہتر بھی ہے یا نہیں۔ گھر سے نکلتے ہیں انجوائے منٹ کے لئے مگر حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ سیاحتی مقامات پر جانے کا فیصلہ بہت سنگین اور غلط ثابت ہوتا ہے۔

    سیاحت ذہنی سکون اور انجوامنٹ کے لئے کی جاتی ہے۔۔۔ اپنے آپ کو قدرتی اور فطرتی ماحول میں رنگ کر اللہ کے بنائے نظام سے لطف اندوز ہونے کا نام سیاحت ہے۔۔۔ گھر سے نکلا جاتا ہے قدرتی ماحول کو اپنے اندر جذب کرنے کے لئے مگر نامساعد حالات کی وجہ سے سارا مزا کراکر ہوکر رہ جاتا ہے۔۔۔

    اس لئے گزارش کی جاتی ہے کہ جب کبھی سیاحت کا پلان بنائیں تو پہلے تسلی سے اس پر مکمل ورک کریں۔۔۔ موسم، حالات اور علاقہ کی موجودہ صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیں۔۔۔ جانے سے قبل تسلی کے ساتھ سوچ و بچار کریں کہ ان ایام میں مطلوبہ مقام پر جانا بہتر ہوگا یا نہیں۔۔۔ مطلوبہ سیاحتی مقام پر جانے سے قبل اس جگہ کی مکمل معلومات، روٹس، موسم اور حالات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے بعد ہی جانے کا فیصلہ کریں۔۔۔ یہ سیاحتی مقامات کہیں بھاگے تو نہیں جارہے اور نہ ہی سیاحت ختم ہونے والی ہے آج نہ گئے تو پھر کبھی پلان بنا لیں مگر گھر سے نکلتے وقت درپیش حالات کو سوچ کر ہی فیصلہ کریں۔۔۔ یہ نہ ہو کہ بجائے انجوائیمنٹ کے یہ سیاحت عذابِ جان بن جائے۔۔۔
    اچانک اور جلد بازی میں کئے جانے والے فیصلے اکثر پشیمانی اور اذیت کا سبب بنتے ہیں اس لئے خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔۔
    کوشش کریں سیزن میں عید کے دنوں میں اور چھٹیوں کے ایام میں سیاحتی مقامات پر کبھی بھی جانے کا فیصلہ مت کریں۔۔۔ خصوصاً عید کے فوراً بعد جانے کے بجائے ایک یا دو ہفتے رک کر جائیں۔

    <

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • یوم شہادت خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان ؓ  . تحریر : محمد خواص خان

    یوم شہادت خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان ؓ . تحریر : محمد خواص خان

    سیدنا عثمانؓ بن عفان السابقین الاولین میں سے ہیں آپ مردوں میں چوتھے نمبر اسلام قبول کیا ۔ سیدنا عثمانؓ ذوالعجرتین ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے بعد مع اپنے اہلبیت ہجرت کرنے والے پہلی شخصیت ہیں ۔ آپ حیا کے پیکر تھے۔سیدنا زیدؓ بن ثابت کا قول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ عثمانؓ میرے پاس سے گذرے تو مجھ سے ایک فرشتے نے کہا کہ مجھے ان سے شرم آتی ہے کیوں کہ ایک قوم ان کو قتل کر دے گی رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح عثمانؓ اللہ ﷻ اور اس کے رسول ﷺسے حیا کرتے ہیں فرشتے ان سے حیا کرتے ہیں سیدنا امام حسنؓ سے سیدنا عثمانؓ غنی کی حیا کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کبھی سیدنا عثمانؓ نہانا چاہتے تو دروازہ کو بند کر کے کپڑے اتارنے میں اس قدر شرماتے کہ پشت سیدھی نہ کرسکتے تھے۔

    رسول اللہﷺ نے قبل از ہجرت اپنی بیٹی رقیہؓ کی شادی سیدنا عثمانؓ غنی سے کردی تھی جب جنگ بدر کے روز وہ فوت ہو گئیں تو رسول اللہ نے اپنی دوسری بیٹی سیدنا ام کلثوؓم کی شادی آپ سے کر دیاسی لیے آپ ذی النورین کے خطاب سے مشہور ہیں۔ سوائے سیدنا عثمان غنی ؓ کے اور کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں گذرا جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں رہی ہوں۔
    مناسک حج سب سے بہترسیدنا عثماؓن جانتے تھےآپ کے بعد سیدنا عبداللہؓ بن عمر جانتے تھے ۔ جماعت رسولﷺ میں آپ انتہائی مالدار اور سب سے زیادہ سخی تھے اسی لیے آپ غنی لقب سے مشہورہوئے ۔ آپ کثرت عبادات میں خاصی شہرت رکھتے تھے راتوں کو کھڑے ہوکر نماز پڑھتے متواتر روزے رکھتے تھے ۔

    آپ مسلمانوں کے خلیفہ ثالث ہیں آپ کا دورعدل و انصاف کا دورتھا خلافت کو وسعت ملی ۔ آپ کے دور میں اسکندریہ، آرمینیا، افریقہ، قبرص وروڈس، طبرستان اور کئی علاقے اسلامی خلافت کا حصے بنے ۔
    آپ نے بئر رومہ کا کنواں خرید کر اہل اسلام کے حوالے کیا آپ کو نبی اکرمﷺ نے صلح حدیبیہ میں اپنا سفیر بنا کر بھیجا غزوہ تبوک میں بے حد فیاضی سے اپنا مال دیا ۔
    اہل قریش آپ کو انتہائی عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھتے تھے عرب کی عورتیں اپنے بچوں کو نچاتیں اور یہ کہتی تھیں۔

    أحبك والرحمن حبَّ قريش لعثمان
    میں تجھ سے اور رحمان سے محبت کرتی ہوں ایسے ہی جیسے قریش کی محبت عثمانؓ سے

    الٰلھم انی قدرضیت عن عثمان فارض عنہ الٰلھم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنہ
    اے اللہ میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا‘ اے اللہ میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔
    سیدنا عثمان کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو قرآن مجید کی ایک قرآت پر جمع کرنا ہے اور ساتھ ہی عہدِ صدیقی اور فاروقی کے قرآنی نسخوں کو جمع کرکے ایک کتابی شکل میں دینا ۔

    سیدنا عثمانؓ بن عفان ایک عظیم المرتبت شخصیت تھے بے مثال خوبیوں سے مالا مال تھے آپ باغ نبویﷺ کے ایک حسین پھول تھے ۔ آپ عشرہ مبشرہ سے ہیں آپؓ پر اعتراض کرنے والے دل کی بیماری اور عقل کے اندھے ہیں آپ نفوس قدسیہ کا ایک ستارہ ہیں آپؓ اس امت کے محسن خلیفہ ثالث، ذوالنورین، ذوالعجرتین، پیکر حیا ہم زلف علیؓ سفیرِ رسولﷺ اور مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہیں ۔آپؓ کے بغیر جماعت صحابہ کرامؓ نامکمل ہے ۔اللہ ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین.

    @iamkhawaskhan

  • ٹریفک اور ہمارا معاشرہ تحریر: عائشہ عنایت رحمان

    ٹریفک اور ہمارا معاشرہ تحریر: عائشہ عنایت رحمان

    بے حسی جو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ یہاں ہر کوئی اپنے مفاد کے لئے ایسے بھاگتا ہے کہ اپنے چھوٹے سے فایدے کیلیے باقی لوگوں بہت سے مشکلات میں ڈال رہا ہے ۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے میں ہسپتال جا رہی تھی ہمارے ایک بزرگ کی تیمارداری کے لئے ، روڈ پر تقریبا آدھے گھنٹے تک ٹریفک رہی آخر کار لوگ تنگ آ کر سواریوں سے اترنے لگے میں بھی اتر گئی اور پیدل چلنے پر مجبور ہوگئی لیکن پیدل چلنے میں بھی وہی دشواریاں ۔ کیونکہ فٹ فاٹ جو کہ پیدل چلنے والوں کے لیے ایک محفوظ راستہ ہے اس پر بھی ان بے حس لوگوں نے ریڑھیاں سجا رکھی تھی تو کسی نے چادر بچھا کر اپنی چیزوں کی نمائش لگا رکھی تھی خیر میں فٹ فاٹ سے اتر گئیں اور روڈ کے ایک سائیڈ پر چلنے لگی وہی رش تھا پیدل بھی لوگ بہت زیادہ تھے گا گاڑیاں بھی بہت زیادہ تھیں ۔تو جب آگے بڑھنے لگیں تو کیا دیکھتی ہو کہ ایک بڑے سے دکان کے باہر بالکل روڈ کے اوپر دکاندار نے ایک تخت سبزیوں کی سجا رکھی ہے اور دکان سارا خالی ہے اور یوں پیدل چلنے والے اس تخت سے ٹکرا رہے ہیں کیونکہ رش بہت زیادہ ہیں اور تخت نے تقریبا روڈ کا ایک تہائی جگہ گھیر رکھی ہے جو بالکل پیدل چلنے والوں کا حق ہے جو ان بے دکان داروں نے ناحق گھیر رکھا ہے۔
    میں نے جلدی پہنچنے کی لالچ میں ایک اندرونی بازار کا راستہ اپنایا جس سے تنگ بازار کہتا ہے جہاں صرف پیدل لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے جیسے ہی میں انٹر ہوگی کیا دیکھتی ہوں کہ تین موٹر سائیکل پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے ہیں ایک موٹر سائیکل ،جسپر تین سواریاں تھیں بالکل قریب میرے اوپر سے گزرے میں نے خود کو سمیٹ لیا۔ مجھے دل ہی دل میں بہت افسوس ہوا لیکن کچھ نہیں کہا۔دو قدم آگے چل پڑی تو کیا دیکھتی ہوں کہ لوگوں کا ایک جم گھٹا ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے ایکسیڈنٹ ہوا ہو لیکن جیسے ہی قریب آئی کیا دیکھتی ہوں کہ گدھا گاڑی بازار کے بیچوں بیچ پھنسی ہوئی ہے اور چاروں طرف سے لوگ دیکھے لگا رہے ہیں۔
    یہ ہماری بے حسی اور خود غرضی کا عالم ہے کہ ہم کس طرح اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہے ۔ارے میرے بھائیو ہمیں تو اس بارے میں قرآن و حدیث میں واضح آگاہی دی گئی ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے ہم کیوں نہیں سمجھتے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے ان قرآن و حدیث سے ۔ وہ ایک کہانی یاد آ گئی کہ ایک بندے نے راستے میں اگھا دیا کہ یہ ایک سایہ دار درخت بن جائے اور راہ چلتے مسافر ان کی چھاؤں میں آرام کریں وہی درخت دوسرے بندے نے اس نیت سے اکھاڑ دی کہ ایسا نہ ہو کے یہ مسافروں کے لئے تکلیف کا باعث بنے تو اللہ تعالی نے ان دونوں بندوں کو برابر کا ثواب بخشا ۔
    اس میں ہمارے لئے اک سبق ہے۔ ہمیں بھی ان کی طرح بننا چاہیں تبھی تو ایک خوشحال معاشرہ بنے گا ان سارے مسائل سے پاک ۔
    اس معاشرے کے فرد کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھےنہ کہ اپنی ذاتی مفاد کی خاطر دوسروں کو یوں اذیت میں ڈالے تو یہ انسانیت کے خلاف ہے۔
    جب تک ہم میں اور آپ میں احساس ذمہ داری پیدا نہیں ہوتی تب تک یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے کیونکہ ان مسائل نے ہم سے ہی جنم لیا ہے اور ہم ہی نے ان کو حل کرنا ہے یہ مسئلہ نہ پولیس حل کر سکتی ہے نہ فوج اور نہ وزیراعظم۔ جب بھی ٹریفک یا کوئی اس طرح کا مسئلہ پیدا ہو تو یہ لوگ نعرے لگاتی پھرتی ہے کہ بلا لو پھر وزیر اعظم صاحب کو یہ جہالت اور بے حسی کی انتہا ہے کہ یہ مسئلہ خود پیدا کرتے اور پھر سارا الزام وزیراعظم پر ڈال دیتے ہیں۔
    ہمیں چاہئے کہ ہم ایک بہترین شہری کے طور پر اس معاشرے میں اپنا کردار نبھائے اور ذاتی طور پر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں تبھی تو ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں آنے جانے والوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو ۔

    @koi_hmmsa_nhe

  • آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ     تحریر سید لعل بُخاری

    آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ تحریر سید لعل بُخاری

    آزاد کشمیر میں شکست فاش کے بعد ن لیگ ایک بار پھردھاندلی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ یہ تو مقابلہ ہی یک طرفہ تھا۔باغی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں 45میں سے 26نشستیں حاصل کر کے دو تہائ اکثریت حاصل کر لی ہے۔جبکہ پی ٹی آئ کی اتحادی مسلم کانفرنس کی ایک سیٹ ملا کر اس کے پاس کُل 27سیٹیں ہو جاتی ہیں۔
    ان انتخابات میں پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ نواز لیگ جو آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جاتی تھی،وہ تیسرے درجے کی پارٹی بن کے رہ گئی۔
    ن لیگ کی طرف سے یہاں انتخابی مہم مریم صفدر کی نگرانی میں چلائ گئی،جو مخالفین پر زاتی حملوں اور کیچڑ اُچھالے جانے کی وجہ سے مکمل طور پر بیک فائر کر گئی۔خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ اور اسکے بچوں کو یہودی کے نواسے کہنے والی بات کو اکثر لوگوں نے پسند نہیں کیا۔مریم کی بدتمیزیوں کا جواب بھی اسی طرح آیا۔پی ٹی آئ کے علی امین گنڈا پور کی زبان بھی قدرے سخت تھی مگر اُس نے جو کچھ کہا وہ مفہوم کے لحاظ سے قطعا” غلط نہ تھا۔
    مریم صفدر جسے کراوڈ پُلر کہا جا رہا تھا،اُس کے اکا دُکا جلسوں میں لوگ شائد تماشہ دیکھنے تو آۓ مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا۔
    دوسری طرف عمران خان کے چند جلسوں نے ہی بازی پلٹ دی۔
    آزاد کشمیر میں کئے جانے والوں سرویز میں یہ بات پہلے ہی دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی کہ تحریک انصاف کشمیر کا میدان مارنے جا رہی ہے۔
    عمران خان اس وقت نہ صرف بلا شرکت غیرے آزاد کشمیر کا مقبول ترین لیڈر ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی لوگ اسے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں،نہتے مظلوم کشمیریوں کی تمام تر اُمیدیں اب عمران خان سے بندھی ہیں۔اب عمران خان اور اُس کی حکومت کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھارت کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد سے آزاد کروانے کے لئے کوئ دقیقہ فرگزاشت نہ کرے۔
    گلگت بلتستان میں عبرت ناک شکست کے بعد آزاد کشمیر میں بھی شرمناک شکست ملنے کے بعد نواز لیگ کے پاس دھاندلی کے شور شرابے کے پیچھے چھپنے کے سوا کوئ دوسرا راستہ نہیں۔
    اس انتخاب میں نواز لیگ کوجہاں مریم کی سطحی قسم کی تقریروں نے نقصان پہچایا،وہیں نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب سے پاکستان دشمن شخص سے ملاقات ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئ جبکہ آزاد کشمیر میں فاروق حیدر کی کارکردگی بھی صفر تھی۔
    اسکے باوجود نواز لیگ کا دھاندلی کا راگ جاری ہے،مگر دھاندلی کا یہ چورن بکنے والا نہیں ہے۔پڑھے لکھے کشمیریوں نے اپنے مسقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کے کیا ہے۔
    روایتی طور پر بھی آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان میں برسر اقتدار جماعت ہی جیتتی ہے،جیسا کہ ماضی میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جیتتی رہی ہیں تو اس بار پاکستان تحریک انصاف کا جیتنا کیوں اچنبھے کی بات ہے؟
    کیوں مریم صفدر کہہ رہی ہے کہ میں ان انتخابات کے نتائج بلکل ایسے ہی تسلیم نہیں کرتی جیسا کہ 2018کے عام انتخابات کو نہیں کیا تھا؟
    کیوں مریم اورنگ زیب آزاد کشمیر کے انتخابات کو 2018کے انتخابات کا ری پلے کہہ رہی ہے؟
    یہ صرف شرمندگی چھپانے کی کوشش ہے۔
    اگر شکست تسلیم کر لی جاتی تو شائد ان کی کچھ عزت رہ جاتی۔لوگ اب جان چکے ہیں کہ نواز لیگ صرف ان انتخابات کو شفاف تسلیم کرتی ہے،جن میں اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جماعتیں ہر انتخاب کے بعد دھاندلی دھاندلی کا واویلہ تو کرتی ہیں مگر حکومت اور عمران خان کی بارہا کی جانے والی درخواست پر الیکشن اصلاحات کے لئے راضی نہیں ہوتیں،
    جو واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ جماعتیں کسی ایجنڈے پر چل رہی ہیں۔
    اس ایجنڈے کے زریعے تمام منفی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں،جو ملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان کے حامل ہیں۔
    اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ارض پاک کو ہر قسم کے فتنوں اور
    شر انگیزیوں سے محفوظ رکھے۔آمین
    @lalbukhari