Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عورت کی حقیقی آزادی    تحریر: تماضر خنساء

    عورت کی حقیقی آزادی تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کے نام پہ عورت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے اصل میں عورت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے عورت کو اسکے سارے حقوق عطاکیے ہیں کہ اگر وہ ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت ہے اگر وہ بیٹی ہے تو اسکی بہترین پرورش جنت کی کنجی ہے اگر وہ بیوی ہے تو اس سے حسن سلوک جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے _____
    اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی، عورت کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کی، عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا ۔۔۔۔ان سب حقوق کے بعد بھی آخر یہ لبرل طبقہ عورت کو کونسی آزادی دینا چاہتا ہے؟
    اسلام تو دین کامل ہے
    :قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔
    ایک کامل و اکمل دین نے عورت کو کیا اسکے سارے حقوق نہیں دیئے؟ جو اب بھی دین منصف کے بعد بھی عورت کو آزادی چاہیے؟
    آج کے مشرقی معاشرے میں بھی عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے، جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔۔۔۔۔ہم مانیں یا نہ مانیں مگر آج کا مشرقی معاشرہ بھی اب قدیم روایات والا معاشرہ نہیں رہا ۔۔۔۔یہاں نا جانے کتنی خواتین آج مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔۔۔۔
    تو پھر کونسی آزادی ہے جو لبرل طبقہ ان عورتوں کو دینا چاہتا ہے؟
    دراصل یہ لبرل طبقہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں ۔۔۔انکے نزدیک میاں بیوی کا مقدس رشتہ عورت کے پاؤں کی بیڑی ہے۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں آزادی کے نام پر عورت کو اس قدر بے مول دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئ بھی ان تک پہنچ سکے۔۔۔۔یہ دین بیزار لوگوں کیلیے وہ سیڑھی ہیں جن کے ذریعے ہر ایک عورت تک پہنچ رکھ سکے _______ہر کچھ عرصے بعد ایک اسلامی ملک میں ایسی سلوگنز کا پرچار ” اپنا کھانا خود گرم کرو ،میرا جسم میری مرضی آخر کیا مقصد رکھتا ہے؟
    اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام بلاشبہ مکمل ہے جہاں ایک عورت کو گھر کی ملکہ سمجھا جاتا ہے اور مرد کماتا ہے.گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، ۔۔۔۔
    اللہ کے نبی کی زندگی میں ایسے بے شمار نمونے ہیں جو ایک کامیاب زندگی جینے کا طریقہ ہمیں دیتے ہیں۔۔۔
    اللہ کے نبی تو اپنی بیویوں کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے،
    ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھاکہ رسول اللہ ص گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟
    انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کے کام بھی کیا کرتے تھے مثلا بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا (زاد المعاد)
    اپنی ازواج کے ساتھ محبت والا رویہ رکھا۔۔انکے شوق پورے کیے،
    حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ انے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ۔۔۔آپ ص چاہتے تو منع فرمادیتے مگر آپ نے عائشہ رض کو انکا شوق پورا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔
    عرب میں روایت ہوا کرتی تھی کہ حبشی لوگ خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے کرتب دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ کھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)
    حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ خیبر سے واپسی پر ہم مدینہ کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، آپؐ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت صفیہؓ ان کے گھٹنوں پر پیر رکھ کر اونٹ پر سوار ہورہی ہیں۔(بخاری)
    ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ انے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو (بخاری۔کتاب الادب)
    اس طرح ناجانے اور کتنے واقعات ہیں جو اللہ کے رسول ص کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں جو ہمارے لیے نمونہ ہیں۔۔۔۔جو کچھ اللہ کے نبی نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا حکم ہمیں بھی دیا ۔۔۔۔اتنے عزت و اکرام کے بعد بھی کیا عورت کو کسی آزادی کی ضرورت ہے؟
    مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ بنادیا پھر کیوں عورت تحفظ کی دیوار کو پھاند کر باہر آنا چاہتی ہے؟
    یہ آزادی کے نعرے صرف عورت کو اپنی دسترس میں کرنے کے حیلے ہیں کیونکہ اصل آزادی تو آج سے صدیوں پہلے محمد مصطفی ص عطا کر گئے۔۔۔ ہر لحاظ سے عورت کو معتبر کردیا ۔۔ اب جو مزید آزادی چاہتے ہیں تو ان کا مقصد صرف عورت کی بربادی ہے اور کچھ نہیں! اور ایک مسلمہ عورت کبھی ایسی آزادی کی چاہ نہیں کرتی جو اسکے لیے بربادی کا باعث بنے جو اسلام کے مخالف ہو ۔۔۔۔یہ آزادی کے نام پر شور مچانے والا خاص طبقہ صرف اور صرف اپنے گروہ کا نمائندہ ہے عورتوں کا نہیں کیونکہ کوئ عورت نہیں چاہتی کہ اسے بے مول کیا جائے
    عورت کی حقیقی آزادی تو دین اسلام میں ہے جسکو ہم
    مکمل اپنالیں تو ہماری زندگیاں سنور جائیں

    @timazer_K

  • کامیابی اور ناکامی

    کامیابی اور ناکامی

    کبھی کبھی زندگی رولاتی ہے، تڑپاتی ہے۔صدمے پہ صدمہ تکلیف پر تکلیف ، پریشانی کے بعد بڑی پریشانی، ناکامی کے بعد زیادہ ناکامی، اور ذلت پے ذلت ، اور دکھ پے دکھ۔ جبکہ کبھی کبھی یہ بہت ہنساتی ہے۔ راحت پے راحت دیتی ہے۔ خوشی پر خوشی ، کامیابی کے بعد بہت بڑی کامرانی اور عزت اور شہرت کے بلندیاں دکھاتی ہے ، کبھی کبھی ڈھیر سارا پیار اور پیار والا محبوب دیتی ہے اور کبھی کبھی ہر طرف سے نفرت اور محبت کرنے والے محبوب کو ہارا دیتی ہے۔ کوئی بہت کم محنت سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور کوئی ہر روز تھکا دینے والی زندگی جیتا ہے۔ کبھی کسی کا ایک پرڈاکٹ کسی کا ایک ایپلیکشن وائرل ہو کے اسے بل گیٹس بنا دیتا ہے ۔ اور کبھی کبھی صدام حسین اور سقراط کی طرح عیش وعشرت کی زندگی سے قیدی بنا دیتی ہے۔
    کبھی یہ میٹرک پاس کو پائلٹ بناتی ہے اور کبھی انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر ڈگری ہولڈر کو چوکیدار اور کبھی کبھی دیہاڑی دار مزدور بنا دیتی ہے۔ زندگی چلتی رہتی ہے ۔ اگر انسان کامیاب ہو ۔ مالدار ہو مشہور ہو راحت اور خوشی میں ہو تو بھی یہ وقت اور زندگی نہیں رکتی اور اگر کانٹوں کے اوپر زخموں میں چور اور تکالیف ہی تکالیف میں بھی یہ کبھی نہیں رکی۔
    لیکن زندگی میں کامیابی اور ناکامی انسان کے ہاتھ اور طاقت میں نہیں۔ کوئی بھی انسان اپنے ذہانت اپنی خوبصورتی اور اپنی قابلیت سے اللہ کے مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ چاہے وہ مشہور پاپ سٹار مایکل جیکسن ہی کیوں نہ ہو ۔ جو اپنی زندگی پچاس سال تک جینے کا منصوبہ بناتا ہے ۔ ڈاکٹروں کا ٹیم اکسٹرا باڈی پارٹس بھی اس کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔
    اللہ ہم کو سمجھانے کے لیے رنگ برنگ معجزے ہر وقت اور ہر زمانے میں دکھاتا ہے۔ لیکن ہماری آنکھوں پر غرور کا پردہ ہے، ہماری آنکھوں پر کامیابی کا پردہ ہے ۔ جو ہمیں یہ سب دیکھنے اور سمجھنے سے دور کرتی ہیں ۔ بقول جناب واصف علی واصف صاحب وہ آنکھیں کبھی بھی معجزات اور کرامات نہیں دیکھ سکتی جس پہ حرام کا پردہ ہو۔

    ہمارا کام تو آجکل تصوف اور تزکیہ نفس سے ہٹ کے بہت ماڈرن ہو چکا ہے ۔ ہم تو بڑے عقل مند اور ہوشیار ہو گئے ہیں۔ دنیا میں پہلے ایک افلاطون تھا اور آجکل لاکھوں نہیں کروڑوں افلاطون ہیں ۔ خود کو دنیاوی کاموں میں بڑا اور استاد سمجھنا اور خود کو انسانوں میں سب سے یا کسی ایک سے بھی افضل سمجھنا ذھنی بیماری اور ذھنی کمزوری ہے۔ آج کوئی مصیبت میں، کمزور، غریب اور ناکام ہے تو وہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوگا۔ کل اگر اللہ چاہے تو اسےکامیاب مالدار اور عزت والا بنا دے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے آج آپ کا نوکر کل آپ کا لیڈر بن جائے۔ اللہ جسے عزت دے دے۔
    دوستوں زندگی میں دکھ درد ، غم خوشی ہم کو سکھانے کے لیے آتی ہے۔ کبھی بھی کسی کو کم اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر اور صبر کرنا چاہیے ۔ غریب کی مدد اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔
    @The_Pindiwal

  • ناقابل شکست پاکستان تحریک انصاف . تحریر : سید ماجد حسین شاہ

    پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد 1996 میں ایک مشہورکرکٹر (وزیراعظم) عمران خان نے رکھی جس کا مقصد پاکستان کو فلاحی اور انصاف پر مبنی حکومت بنانا تھا۔ عمران خان کی مقبولیت کےباوجود پارٹی کو ابتدائی ادوارمیں بہت محدود کامیابیاں ملیں۔ 1997 کے انتخابات میں تحریک انصاف ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی لیکن عمران خان نے اس ہار کو بھی ایک چیلنج سمجھ کر ہمت نہ ہاری
    سن 2002 کے الیکشن میں صرف عمران خان ہی پارٹی کے لئے ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی جدوجہد کو اور تیز کیا اور دن رات سخت محنت کی بعدازاں 2008 کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا.

    لیکن 2012 میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد پی پی پی کی مقبولیت میں کمی آنا شروع ہوگئی ، پاکستان تحریک انصاف نے عوامی مسائل کو سامنے رکھتے ہوے خصوصا پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں عوام سے رابطہ مہم تیز کردی اور حکمرانوں کی نا انصافیوں سے ستائی عوام نے دھڑا دھڑ تحریک انصاف میں شامل ہونا شروع کردیا.

    آخرکار2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی 7.5 ملین سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ ایک بڑی جماعت بن کر ابھری ، اس الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف ووٹوں کی تعداد میں دوسرے نمبر پر اور جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد میں تیسرے نمبر پر آئی ۔ صوبائی سطح پر پاکستان تحریک انصاف کو کے پی کے میں اقتدار میں آنےکا ووٹ ملا۔حزب اختلاف میں اپنے وقت کے دوران پی ٹی آئی نےتبدیلی کا نعرہ لگایا تبدیلی آرہی ہے جیسے نعروں کی مدد سےلوگوں کو مختلف عوامی مسائل پر ریلیوں اور جلسے میں متحرک کیا،
    جن میں سے سب سے قابل ذکر 2014 کا آزدی مارچ ہے۔ 2018 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو ایک کروڑ انہتر لاکھ ووٹ ملےجو پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اب تک کا سب سے بڑا ووٹ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلی بار پانچ دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکےحکومت بنائی،2021 تک پارٹی قومی سطح پر حکومت میں ہے اور خیبر پختونخوا اور پنجاب کے صوبوں پر حکومت کررہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان میں مخلوط حکومت کا بھی حصہ ہے اور یہ سندھ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے کام کر رہی ہے.

    پارٹی کا اصل مقصد پاکستان میں ایک فلاحی ریاست تشکیل دینا ہےاور پاکستان میں مذہبی امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ پارٹی خود کو ایک اسلامی جمہوریت کی حمایت کرنے والی ایک جمہوری تحریک کی حیثیت سے تعبیر کرتی ہے۔ یہ مرکزی دھارے میں شامل پاکستانی سیاست کی واحد متحرک جماعت ہے۔ حال ہی میں ، پارٹی کو سیاسی مخالفین اور مخالف تجزیہ کاروں نے مختلف معاشی اور سیاسی امور اور کمزور معیشت کا بہانہ بنا کر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بے جا تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔ پی ٹی آئی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے ، اور 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لحاظ سے سب سے بڑی جماعت ہے۔ پاکستان اور بیرون ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ ممبران کے ساتھ وہ بنیادی رکنیت کے ذریعہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے اور دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے.

    سب پڑھے لکھے نوجوان عمران خان کی قیادت پر فخر کرتے ہیں اور عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اللہ تعالٰی سے دعا ہے عمران خان کے ہاتھوں اس ملک اور قوم کی قسمت سنور جائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ترقیوں کی راہ پر گامزن ہو آمین کیونکہ جب ہم ایک ترانہ سنتے تھے( جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان) بہت ہی دعائیں کرتے تھے تبدیلی کے لئے آمین.

    @SHAHKK14

  • نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    پرانے وقتوں میں یا آج سے 20 سال قبل ایک رواج تھا کے جب بھی کوئی شخص تھوڑا بہت پڑھ لیتا تھا تو اس کی نظر سرکاری نوکری پر ہوتی تھی چونکہ ان دنوں تعلیم کم ہوتی تھی وسائل کم ہوتے تھے تو لوگوں کو پڑھ کر نوکری مل جاتی تھی یا جو لوگ سرکاری نوکری حاصل نہیں کر پاتے تھے وہ فوج میں تو چلے ہی جاتے تھے۔

    دورگزرتا گیا تعلیم عام ہونے کے ساتھ کمرشل ہوگئی اور پاکستان نے گریجویٹس کے ڈھیر لگا دئیے نوکریاں کم ہونے لگیں اور بیروزگاری بڑھنے لگی لوگ پی ایچ ڈی کر کے بھی معمولی تنخواہ پر کام کرنے پرمجبور ہوگئے، پھر ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا لیکن ہماری نوجوان نسل نے اس کو سمجھنے میں دیرکی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلتا گیا اور لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے گئے اس میں ایسے کئی ہنر شامل ہوگئے جو نوجوان سیکھ کر گھر بیٹھے نوکری حاصل کرنے لگے.

    نئی سکلز جو نوجوان سیکھ سکتے ہیں ان میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ یہ بذات خود ایک وسیع فیلڈ ہے اس میں کسی بھی چیز میں مہارت حاصل کر لیں، وڈیو ایڈیٹنگ سیکھ لیں، کانٹینٹ رائٹنگ سیکھ لیں، ویب سائٹ بنانا، موبائل ایپ بنانا، آرٹیفشل انٹیلیجنس، ایکسل مینیجمنٹ، کاپی رائٹنگ، بلاگنگ، یوٹیوب چینل شروع کرسکتے ہیں ایسی کوئی 25 سے زیادہ سکلز ہیں جو آپ سیکھ کر آن لائن لاکھوں کما سکتے ہیں اور سیکھنے کے لئے کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو آپ کو مفت سکھا دیتی ہیں یوٹیوب سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے آپ اس سے سیکھ سکتے ہیں غرض کے اتنے ہنرایسے ہیں کے جن میں بس آپ کو سیکھنے کے بعد چند گھنٹے کام کرنے کے لاکھوں ملتے ہیں بات ساری آپ کی محنت اورمخلص پن کی ہے آپ جیسے جیسے محنت کرتے جائیں گے ترقی کرتے جائیں ان میں آپ کو کسی کی منت نہیں کرنی کوئی سفارش نہیں کروانی کوئی رشوت نہیں دینی،آپ خود اپنے بزنس کے مالک ہونگے اپنی مرضی کے گھنٹوں میں کام کرسکتے ہیں، اب نوکری صرف اس شخص کے لئے نہیں ہے جو کام کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو پوری دنیا مین کام موجود ہے بس آپ کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہے آپ کو اپنی سوچ سرکاری نوکری سے نکال کر محنت کی طرف لے کر آنی ہے جب آپ یہ کر لیں گے تو نوکریاں آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔

    آن لائن کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کے آپ کو وسائل کی ضرورت نہیں ہے آپ کے پاس ایک اچھا لیپ ٹاپ ہونا چاہیے اور انٹرنیٹ تو آجکل ہرکسی کے پاس ہے بس اس سے فائدہ اٹھائیں اورکام شروع کریں حکومتوں سے گلا کرنا چھوڑ دیں اپنی سی وی لے کر مقامی نمائندوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑدیں، سرکاری اداروں میں ایک نوکری پر ہزاروں درخواستیں دے کر اپنے ذہن کو ایک عجیب کیفیت میں مبتلہ کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا اللہ تعالی اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو قوم اپنے حالات خود نہ بدلنا چاہے۔

    پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے جو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے صرف آئی ٹی کی صنعت اورنوجوانوں کو ہنر مند بنانے سے ہم اربوں ڈالر کما سکتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے نوجوانوں کے لئے مفت ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے لاکھوں نوجوان فائدہ حاصل کرچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے ملکی سطح پرایک ایسا فورم بنایا جائے جہاں نوجوان اپنے آئیڈیاز لے کر آئیں اور سرمایہ کار ان پر میں سے بہترین آئیڈیازکو سپانسر کریں ایسے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا۔

    پاکستان نے سال 2020-2021 میں تقریبا 2 ارب ڈالر تک اس صنعت سے کمائے ہیں اگر حکومتی وسائل اور نوجوان اس میں دلچسپی لینا شروع کردیں تو یہ صنعت اگلے 5 سال میں آسانی سے 10 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا حکومت نے ایک اور بہترین کام کیا ہے کہ آئی ٹی پر کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا اس سے اس میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان حکومت ایمازون کو پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے اب اگلی باری پے پال جیسی سروس کی ہے اگر حکومت اسی طرح نوجوانوں کی مدد کرتی رہے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ صنعت پاکستان کے قرضے اتارنے میں مدد کرے گی۔
    آخر میں نوجوان نسل کو پیغام ہے ہمت کریں میدان میں آئیں اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔
    اللہ ہم سب کا حامہ و ناصر ہو : آمین

    @nomysahir

  • ٹریفک کی روانی دل کے مریضوں کی موت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے   تحریر: عقیل احمد راجپوت

    ٹریفک کی روانی دل کے مریضوں کی موت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے پہلے تو کوئی سرکاری ایمبولینس سروس نہیں ہے کیا کمال کی بات ہے پورے پاکستان کو اورنج لائن میٹرو ٹرین میٹرو بس سروس کے لئے 68پرسنٹ ریونیو اکھٹا کرکے دینے والے کراچی شہر میں ایمبولینس سروس بھی خیراتی اداروں کے مرحون منت ہے میرا آج کا موضوع یہ نہیں وہ بیمار ہے جو کراچی میں گندے پانی اور گندگی کی وجہ سے آئے روز بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں مگر ان کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے کوئی ایمرجنسی ٹریک ہی دستیاب نہیں پورے کراچی سے کسی اسپتال کی جانب جانے کے لئے جن سڑکوں کا انتخاب آپ کو کرنا ہوگا اس میں ٹریفک جام گھنٹوں کی بات ہے اب آپ کے مریضوں کی قسمت اچھی رہی تو وہ ٹریٹمنٹ ملنے تک اسپتال منتقل ہوجائے گا اور صحت مند زندگی کی جانب لوٹ آئے گا آپ بیتی بتا رہا ہوں مجھے دل کا دورا پڑا ایمرجنسی کی صورت میں مجھے گھر والوں نے رکشہ میں ڈال کر کارڈیو اسپتال واٹر پمپ لیجانے کی کوشش کی ابھی فور کے چورنگی پر ہی گھر والوں کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے کیونکہ وہاں سے گاڑی کو نکالنے کے لئے کم سے کم آدھا گھنٹہ درکار ہوتا ہے اللہ کا کرنا اور میرے زندگی کے دن ابھی باقی تھے سامنے چھیپا کے بوتھ سے ایک ایمبولینس میں ڈال کر گھر والوں نے آگے کا سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا بھلا ہو چھیپا ویلفیئر کے ڈرائیور کا جس نے منی کارڈیو پہنچایا مگر برائی سامنے سے دستک دے رہی تھی ڈاکٹر نے کہا فورا بڑے کارڈیو یعنی این آئی سی وی ڈی لیجائے یہاں انتظام نہیں ہے الٹے پاؤں واپس گھر والوں نے بڑے کارڈیو پہچانے کی ٹھانی اور پھر ایمبولینس سروس کے ذریعے مجھے کارڈیو پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کے بعد اینجیو گرافی اور اگر ضرورت ہوئی تو انجیو پلاسٹی کی تجویز دی اور آپریشن تھیٹر میں میری انجیو پلاسٹی کردی گئی اسنٹ دل کے اندر پیوست ہو گیا لیکن سب پریشانیوں اور گھٹن کے جو لمحے میں نے گزارے ہیں وہ روڈ پر ٹریفک میں پہنس کر اپنی زندگی کے لئے لڑنا ہے حکومت مریضوں کے لئے فاسٹ ٹریک ایمرجنسی روڈ کا پلان ترتیب دے جس سے بہت سی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے

  • نفس، شیطان اور حضرتِ انسان   تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    نفس، شیطان اور حضرتِ انسان تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    اللّٰه نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا جب کہ انسان نے خود کو ظالم بنا کر ظلم کی انتہا کر دی
    آج کے دور میں ایک انسان دوسرے انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس دشمنی میں دوسرے کا نقصان کرنا اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اکلوتی وجہ انسان کا نفس ہے

    انسان بھول چکا ہے سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے اور نفس کی کہے پر لبیک کر کے انسان ہر حد سے گِر رہا ہے

    آج کا انسان کہتا ہے کہ انسان جانور سے بدتر ہے لیکن خود کو راہِ راست پر کوئی نہیں لاتا۔ دوسرے کے عیب گننے
    میں سب ماہر ہیں لیکن خود کے عیب بھول جاتے ہیں

    نفس کی غلامی اور نفرت کے اندھیرے سے نکل کر اجالے
    میں قدم رکھیں
    کیونکہ
    ’’غلامی میں جسم تو رہتا ہے مگر اس سے روح خالی ہو جاتی ہے اور جس جسمِ میں روح نہ ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (نفس کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ اسی طرح ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جدید یا نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘

    غور کریں کہ تاجر اپنے کاروبار پر بیٹھا تسبیح کیے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ناقص مال کی فروخت بھی جاری ہے۔ یہی حال ہمارے علمائے کرام کا بھی ہے کہ علماء لوگوں کو تو واعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اور اپنے باطن کو نصیحت نہ کر سکے۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جو کسی بھی کاروبارِ زندگی سے وابستہ ہے وہ ایسی ہی مثال پیش کر رہا ہے۔ ہم ان رذائل سے کیونکر چھٹکارا نہ پا سکے؟ اس لیے کہ ذکر و تسبیح جس نے کرنی ہے (یعنی قلب) اس تک بات نہیں پہنچی تو اصلاح کیسے نصیب ہو گی

    انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اللّٰه کا نام سکھا دیا جاتا ہے۔ اللّٰه کے نام کو سن سن کر انسان جان تو جاتا ہے کہ اللّٰه مالک ہے رازق ہے وغیرہ لیکن اس کی پہچان نہیں آتی۔ پہچان تب ہی آتی ہے جب اس قلب میں اللّٰه کےذکر کا نور کسی کامل و مکمل شیخ و رہبر کے قلب کے وسیلے سے داخل ہوتا ہے۔ یہی نور اس کو اپنے مالک کی اصل پہچان نصیب کرتی ہے اور اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بناتی ہے۔ اسی نور سے "تصدیق بالقلب” میسر آتی ہے اور حقیقتِ ایمان اسی کا دوسرا نام ہے

    جب تک یہ ذکر کا نور قلب کو میسر نہیں آتا اس وقت تک صورتِ ایمان ہے۔ نماز تو پڑھ لیتا ہے لیکن وہ محض صورتِ نماز ہی ہوتی ہے یہی ذکر کا نور میسر نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں محض بھوک پیاس کاٹتا ہے اور اعمالِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ جس کسی کو یہ ذکر کا نور میسر آتا ہے تو وہ حقیقت میں حاصلِ رمضان و ایمان یعنی "لعلکم تتقون” کا نمونہ بنتا ہے

    آپ کے وجود نے ایک دن دنیا سے ختم ہو جانا ہے باقی رہے گا تو صرف ذکر. اب اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نیک ذکر یا برے ذکر میں یاد ہونا ہے ہر بات کا انحصار ہمارے خود کے اوپر ہے
    اس لیے اپنے ضمیر کو جگائیں اور خود کو بدلیں دنیا آپ کو دیکھ کر بھی بدل سکتی ہے

    "نفس کی غلامی سے موت اچھی”

    @H___Malik

  • یہ بندے مٹی کے بندے تحریر: سحر عارف

    یہ بندے مٹی کے بندے تحریر: سحر عارف

    _سو جاؤ عزیز کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت_
    _ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں_

    اپنے ملک کی خاطر خود کو قربان کر دینے، پھر اپنا گھر چھوڑ کر سرحدوں پہ ملک کے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انھیں منہ توڑ جواب دینے والے کوئی عام انسان نہیں بلکہ ہماری فوج کے جوان اس ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ جو ہر گھڑی پاکستان کے دفاع اور اس کی حفاظت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ جن کی زندگی کا مقصد ہی اپنے ملک کی آبرو بچانا اور اسے دشمن کے ناپاک ارادوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ وہ نا دن کی پرواہ کرتے ہیں نا رات کی بس اپنی عوام کی خوشیوں اور حفاظت کے لیے باڈر پہ کھڑے رہ کر ہر پل اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ نا سخت سردی انھیں روک سکتی ہے نا سخت گرمی دراصل ملک اور قوم کی محبت انھیں اتنی طاقت اور حوصلہ دیتی ہے کہ وہ نا کبھی تھکتے ہیں نا ہارتے ہیں۔ ہماری فوج پوری دنیا میں ہر لحاظ سے اپنا ایک الگ مقام و مرتبہ رکھتی ہے۔

    جس نے دنیا میں ایسے ایسے عظیم کارنامے سر انجام دیے ہیں کہ بیان کرنے لگیں تو صدیاں بیت جائیں۔ بہت سے لوگ جو اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر دنیاوی ہوکر رہ جاتے ہیں ان کی زندگی کا دائرہ صرف ان کی اپنی اور خاندان کی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ پر اس کے برعکس ہمارے یہ فوجی جوان ہیں جو اپنے ملک کی محبت میں دن رات اپنی جان خطرے میں ڈالے رکھتے ہیں وہ یہ سب جانتے ہوئے کہ کسی بھی وقت دشمن ان کا شکار کر لے گا وہ اپنے خاندان کی پرواہ کیے بغیر اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور پوری بہادی اور جرات سے پاکستان کے دشمنوں کو نیست و نابود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

    ہر سال ہزاروں کی تعداد میں جوان اپنے ملک کی خاطر دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوتے ہیں۔ خوش قسمت تو وہ مائیں ہیں جو ایسے بہادر اور نڈر بیٹے اس ملک کے لیے پیدا کرتی ہیں پھر انھیں خود سے الگ کر کے سرحدوں پر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے لڑوانے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتی ہیں۔ بے شک یہ ملک یہ قوم اپنی ان خوش قسمت اور بہادر ماؤں کی مقروض ہے۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا تب سے لے کر آج تک سینکڑوں جوان ملک کی خاطر خود کو قربان کرگئے پر پھر بھی ان ماؤں کا جذبہ کبھی کم نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ مزید بلند ہوا ہے۔

    جہاں پاکستای قوم اپنے ان جوانوں کی شکر گزار ہے اور ان سے محبت کرتی ہے وہیں کچھ لوگ جوکہ اپنے ہی ملک کے دشمن ثابت ہورہے ہیں پاک فوج کے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ کسی طرح ان کو کمزور کیا جاسکے پر شاید وہ بےوقوف یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ پاکستان کی فوج ہے کوئی چھوٹی موٹی فوج نہیں جس کو ڈرا دھمکا کر اسے کمزور کردیں گے۔ ہماری فوج بہت بہادر ہے۔ وہ اتنی دلیر ہے کہ باہر کے دشمنوں سے ساتھ ساتھ ملک میں موجود دشمنوں کا بھی مقابلہ کرکے انھیں شکست فاش کرسکتی ہے۔ بے شک ہماری فوج اور ہمارے جوان ہمارا فخر اور حقیقی سرمایہ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    قدرت نے انسان کو زندہ رہنے اور بستیاں بسانے کے لئے مختلف نشانیاں بھیجیں ہیں۔ دو جاندار خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ایک شہد کی مکھیاں اور دوسرا دیمک۔ دیکھنے کو دیمک ایک بے ضررسا کیڑا ہے لیکن اندرہی اندر جتنا نقصان یہ پہنچاتا ہے انسانوں کے پہنچائے ہوئے نقصان سے پھر بھی کم ہے۔ بیمار لوگوں کے بارے میں عوام الناس کہتی ہے کہ ان کو بیماری دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے۔۔ کچھ ایسی ہی مماثلت ہماری عوام اور دیمک میں ہے۔ جب قانون بے اثرہوجائے۔ جب معاشرے کو تعلیم دینے والے بھاگ جائیں۔ جب معاشرےکی راہنمائی کرنے والے لٹیروں کا روپ دھارلیں، جب قانون امیراورغریب میں فرق کرنے لگے، جب دولت ہی سب کچھ ہو، جب اقرباء پروری کا راج ہو، تو پھرمعاشرے شترِبے مہار( ایسا اونٹ جو جنگل میں آوارہ پھرتا ہو) کی طرح جس طرح چاہے منہ اٹھا کے چل پڑتے ہیں۔

    میں جب بھی بڑے بڑے شہروں کے محلوں کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتا ہوں تو مجھے دیمک کے گھروندے یاد آتے ہیں،۔ بچپن میں جب پاؤں کی ٹھوکر سے دیمک کے گھروندے کو توڑتے تھے تو مٹی کے گھرندوں کے نیچے سے ایک کالونی نظرآتی تھی۔ جس میں بے ترتیب گلیاں مکانات اور چلتے پھرتے دیمک کے کیڑے نظر آتے تھے۔ کچے گھروندے ٹوٹ جانے سے دیمک کے کیڑوں میں افراتفری مچ جاتی تھی، کوئی اناج اٹھائے بھاگ رہا ہوتا تھا، کوئی جان بچانے کے لئے، کوئی اپنے بچوں کو لئے، ہرکوئی جس سمت جس کا منہ لگتا تھا بھاگتا دکھائی دیتا تھا۔

    دیمک، شہد کی مکھیاں اور ہم ، سب ایک ہی طرح کی کالونیوں میں رہتے ہیں۔ ہماری کالونی میں ملکہ بادشاہ سپاہی اور مزدور ہوتے ہیں. ہمارے ہاں بچوں کی پیدائش و پرورش ہوتی ہے. جیسے شہد کی مکھیاں اوردیمک اپنا بادشاہ اورملکہ چنتے ہیں ایسے ہی ہم بھی چنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بادشاہ اور ملکہ نہیں بلکہ ایم این اے اور ایم پی اے چنے جاتے ہیں۔دیمک کی ملکہ اوربادشاہ کی طرح جب ہماری ملکہ اور بادشاہ کے پر نکل آتے ہیں تو یہ آڑ کر دوسری جگہ اپنی کالونی بنا لیتے ہیں. جیسے ہمارے ہاں ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہونے کے بعد یورپ امریکہ اور کینیڈا میں گھر بنا لیتے ہیں، اگر ایک ہی جگہ دو بادشاہ یا ملکہ ہوں تو شہد کی مکھیوں اور دیمک کی طرح یہ نیا قبیلہ آباد کرلیتے ہیں اور اپنی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں۔

    جیسے ہمارے ہاں ایک ملک کے دو بادشاہ بن جائیں تو پھر آدھا تمھارا آدھا ہمارا کا نعرہ لگا کر تقسیم کرلیتےہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں ہماری کالونیوں کی طرح مزدور اور سپاہی چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں. انکی زندگی اسی کام میں گزرتی ہے.عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کا کام اندھیرے کا ہے. دیمک کے سپاہی اور مزدور پیدائش کے بعد سے ہی اندھے ہو جاتے ہیں. اندھیری سرنگوں میں ان کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اس لئے آنکھیں ہوتے ہوۓ بھی یہ اندھے ہی ہوتے ہیں۔ ہماری کالونیوں میں مزدور اور سپاہی نوکری حاصل کرنے کے بعد اندھے ہوجاتے ہیں ہمارے سپاہیوں اور مزدورکو بھی آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ غلام معاشروں میں اندھے مزدور بہتر کام کرتے ہیں۔ جو دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے پر نکل آتے ہیں پھر وہ مزدور نہیں رہتے بلکہ حاکم بن کے اڑ جاتے ہیں اور کہیں اور مزدوروں سے الک تھلگ کالونیاں بنا کے رہتے ہیں۔

    دیمک کے کیڑے ہم انسانوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں لالچ اور الگ کرکے جمع کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔ وہ اجتماعی زندگی گزارتے ہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ دو گھروں میں لڑائی ہو اور بندوقیں نکل آئیں دو چار قتل ہوں دس پندرہ زخمی ہوں۔۔ نہ ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان پہ سیل لگی ہو اور مادہ دیمک چھوٹے سے دروازے سے سینکڑوں کی تعداد میں دکان میں گھسنے کی کوشش کریں۔ بھگدڑ مچے اور کئی زخمی ہوجائیں۔ نہ کسی کے بچے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیمک کی کالونیوں میں قتل بھی نہیں ہوتے۔

    دیمکوں کی ملکہ انڈے دیتی ہے جس سے بچے نکلتے ہیں اور ان بچوں کی حفاظت پولیس اور مزدور کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزدور بچے پیدا کرکے پالتے ہیں جبکہ ملکہ اور بادشاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ مزدور دیمک اور ہمارے مزدوروں میں فرق یہ بھی ہے کہ دیمک کے مزدور بلا تفریق سب کو ایک جیسی غذا مہیا کرتے ہیں جبکہ ہمارے مزدور دوسروں کو ملاوٹ شدہ غذا فراہم کرتے ہیں۔ مزدور دیمک باہر سے غذا لا کر بغیر ملاوٹ کے تمام کارکنان میں برابر تقسیم کرتی جاتی ہے۔

    دیمک کے سپاہیوں کے سر بڑے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے سپاہیوں کے پیٹ بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں بادشاہ کے غلام ہی رہتے ہیں۔دیمک کے سپاہی اپنی کالونیوں میں دوسرے کیڑوں کو نہیں گھسنے دیتے ایسے ہی جیسے ہمارے سپاہی سرکاری دفاتر میں عام سائل کو گھسنے نہیں دیتے۔۔۔ دونوں سپاہیوں میں ایک مہان فرق یہ ہے کہ دیمک کے سپاہی کالونی میں گھسنے والے کیڑے کو مار ڈالتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سپاہی رشوت لے کر دفتر میں جانے دیتے ہیں۔ ایک چیز جو دونوں کالونیوں میں مماثلت رکھتی ہے وہ یہ کہ جب کوئی حملہ کرتا ہے تو دونوں کالونیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لیکن دیمک کی کالونی کو تباہ کرنے والے ہم انسان بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہماری کالونیوں کو تباہ کرنے والے بھی ہم انسان ہی ہوتے ہیں۔

    پھر ہم اشرف المخلوقات کیسے ہوئے؟
    اگر ہماری کالونیاں دیمک کی کالونیوں جیسی ہی ہونی ہیں یا ان سے بھی بدتر ہونی ہیں تو پھر انسانیت ہم میں نہیں دیمک میں ہوسکتی ہے۔
    کیوں نہ ہم بھی اپنی دیمک زدہ بستی کو انسانوں کی بستی کی طرح بنالیں.

    @I_G68

  • زندگی اور ہم لوگ  تحریر:   شمسہ بتول

    زندگی اور ہم لوگ تحریر: شمسہ بتول

    زندگی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے مگر ہم نے کبھی اس نعمت کی قدر ہی نہیں کیا بلاوجہ دوسروں سے اسکا موازنہ کر کر کہ اسے حد درجہ مشکل بنا دیا۔ زندگی نہ پھولوں کی سیج ہے اور نہ ہی کانٹوں کی یہ تو اتار چڑھاؤ کا نام ہے لیکن ہم اس اتار چڑھاؤ کو سر پہ سوار کر کے اپنا سکون برباد کر لیتے ہم اعتدال کا د|من چھوڑ دیتے ہیں۔ زندگی کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے کڑوی یادوں کو اور تلخ باتوں کو بھلا کر اور آگے بڑھ کر ۔
    زندگی ہر روز آپکی دہلیز پر دستک دیتی ہے ۔ہر روز ایک نٸی امید کی کرن لے کر آتی ۔ آپکو ہر روز ایک موقع دیتی ہے ۔آپ زندہ ہیں اس لیے جدوجہد کر رہے ہیں کبھی جاب کے لیے کبھی گھر بناے کے لیے کبھی کسی اور مقصد کے لیے بھلا مرے ہوے لوگ بھی جدوجہد کرتے وہ تو منوں مٹی تلے سو رہے ہوتے اس لیے شکر ادا کریں کہ آپ زندہ ہیں اسلیے آپ اپنے مقاصد کے لیے محنت کر رہے ہیں ہاں آپکو تھوڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ایک دن آپ کو آپکی محنت کا اجر ضرور ملے گا اور آپ اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے بس آپکو صبر سے استقامت سے حالات کا سامنا کرنا ہوتا نہ کہ حالات سے تنگ آکر زندگی کا ساتھ چھوڑ دیا جاۓ یہ سراسر غلط ہے اور ہمارا مزہب بھی اسکی اجازت نہیں دیتا ۔ توکل کا دامن کبھی ہاتھ سے مت چھوڑیں بس محنت اور کوشش کرتے رہیں
    مایوس نہ ہو ایک نہ ایک دن آپکو آپکی محنت کا اجر ضرور ملے گا مگر آپ زندہ ہوں گے تو ملے گا اگر حالات سے تنگ آکر زندگی کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو کیا حاصل ہو گا کچھ بھی نہیں ۔ جس طرح heart line کا اوپر نیچے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ زندہ ہیں بلکل اسی طرح زندگی ہے جب تک یہ ہے تب تک خوشیاں بھی ہونگی غم بھی ہونگے حالات اچھے بھی ہونگے برے بھی ہونگے وقت ہمیشہ ایک سا تو نہیں رہتا
    اگر زندگی بلکل ایک تسلسل سے چلتی رہے تو انسان بھی آوازار ہو جاۓ ۔ یہ اتار چڑھاؤ تو ہمیں مضبوط بناتے ہمیں معملات کو کنٹرول کرنا سکھاتے ۔
    جاب گھر گاڑی سب کچھ ایک نہ ایک دن مل جاۓ گا مگر اس کے لیے آپکا زندہ رہنا ضروری ہوتا نہ کہ چند مشکلات سے گھبرا کر زندگی کا ساتھ چھوڑ دینا۔
    آپکے پاس جو ہے اس کے ساتھ خوش رہنا سیکھیں اگر ہمیشہ خود کا دوسروں سے موازنہ کریں گے تو کبھی خوش نہیں رہ پاٸیں گے ہو سکتا ہے جو آپکے پاس ہے وہ دوسروں کے پاس نہ ہو اور اگر موازنہ کرنا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کریں جو آپ سے زیادہ پستی کی زندگی گزار رے۔ جن کے پاس چھت نہیں مشکل سے مزدوری کر کے گزارا کرتے لیکن اس تکلیف دہ زندگی میں بھی وہ جینے کے اسباب ڈھونڈ لیتے ۔
    خودکشی کی وجوہات بتانے کی بجائے زندگی جینے کہ اسباب ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو آپکو اندازہ ہو گا کہ آپکی زندگی بہت سے لوگوں کی نسبت آسان اور خوبصورت ہے ۔ موت کی تلاش نہ کریں کیوں ایک نہ ایک دن ہم سب نے مر جانا ہے البتہ زندگی کی تلاش ضرور کریں کیونکہ یہ بہت قیمتی اور انمول ہے بس ایک بار ملی ہے آپکو سو اسکو جینا سیکھیں خوش رہنا سیکھیں مثبت سوچیں
    خوش قسمتی یہ نہیں ہیں کہ آپکا بینک بیلینس کتنا ہے آپ کے کتنے بنگلے ہیں کتنا بڑا کاروبا ہے بلکہ خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ اپنی قسمت سے خوش ہو ۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ صحتمند ہو آپ کے اعضاء سلامت ہیں آپکے پاس رشتے ہیں آپکے پاس اچھے دوست ہیں ۔
    انسان بعض دفعہ حالات سے بہت گھبرا جاتا اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا کہ وہ کیا کرے اس کا دماغ ماٶف ہو جاتا مگر اس کا حل خود کشی نہیں ہے ۔ خود کو خود سمجھانا سیکھیں کیوں کہ آپ سے بہتر کوٸی اور نہی سمجھ سکتا آپ کو ۔ اللہ کی طرف رجوع کریں اس سے مدد طلب کرے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بلکہ یہ یقین رکھیں کہ وقت بد سے بد تر بھی ہو تو گزر جاۓ گا کبھی رکے گا نہیں ۔ اگر آپ کے پاس جینے کی کوٸی وجہ نہیں تو کم ازکم دوسروں کے لیے جینا سیکھیں۔ اگر آپکو اپنی زندگی سے شکایات ہیں تو ان اپنوں کے بارے میں سوچے جنہیں آپکی زندگی بہت عزیز ہے۔ ہماری زندگی صرف ہماری نہیں ہوتی یہ تو اللہ کی امنت ہوتی اور ہمارے اپنے جنہیں ہم بہت عزیز ہوتے ان کے لیے بھی بہت قیمتی ہوتی صرف مشکلات کو دیکھ کر خودکشی کا فیصلہ کرنے کی بجاۓ اپنوں کے بارے میں ضرور سوچے کیونکہ وقت نے تو گزر جانا بس آپ اپنا نقصان کر بیٹھیں گے۔ پریشانیاں حقیقت میں نہیں بلکہ ہمارے دماغ میں ہوتیں ہم جتنا زیادہ ان کے بارے میں سوچیں گے یہ اتنی ہی بڑھ جاٸیں گی اس لیے پرسکون رہ کر مساٸل کا حل تلاش کریں کیونکہ اس دنیا میں ایسا کوٸی مسٸلہ نہیں ہے جسکا حل موجود نہ ہو۔ حل کے بارے میں سوچیں گے تو حل نظر آۓ گا مشکلات کے بارے میں سوچیں گے تو مشکلات ہی نظر آٸیں گی۔ زندگی سے محبت کرنا سیکھیں یہ اتنی فالتو نہیں کہ آپ اسے لمحوں میں ضاٸع کر دیں
    ”قہقے درد کی شدت میں لگا دیتے ہیں۔۔اے زندگی ہم تیری توقیر بڑھا دیتے ہیں“ خود کو سمجھاۓ کہ آپ بہت انمول ہیں اتنے فالتو نہیں کہ چند برے حالات کی وجہ سے خود کو ضاٸع کر دیں۔ اور اگر پھر بھی جینے کی وجہ نہ ملے تو فقط اتنا سوچیے گا کہ آپ آخر اب تک کیوں زندہ ہیں?

    @b786_s

  • انصاف (عدالت) اور معاشرہ  . تحریر : ذیشان علی

    انصاف (عدالت) اور معاشرہ . تحریر : ذیشان علی

    کوئی بھی معاشرہ اصول قوانین اور ضابطہ اخلاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کسی بھی معاشرے اور ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کو انصاف دیا جائے، بحیثیت مسلمان ہمیں ظلم اور بے انصافی زیب نہیں دیتی ہمارے لیے حکم ہے کہ انصاف کے ساتھ پورا تولو اور حد سے تجاوزنہ کرو صلہ رحمی کرو بےشک اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.

    اللہ تعالی قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے،
    "یقیناً اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرو یقین رکھو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے، بےشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ” سورہ نساء 58.

    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے جب لوگوں کے درمیان کسی مقدمے کا فیصلہ کرو تو ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو یا دوست ہو یا دشمن فیصلہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ تمام تعلقات سے الگ ہو کر سچائی کے ساتھ اور انصاف پر مبنی فیصلہ کریں،
    جو فیصلہ اپنے پرائے کے تعلقات پر مبنی ہو جو فیصلہ حقائق کو چھپا کر اور جو فیصلے تعلقات پر مبنی پیسہ وجائیداد کے عوض کیے جائیں وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آتے.

    انصاف پر قائم رہنا کسی حکومت اور عدالت کا ہی کام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے، یعنی دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دے، عام فہم الفاظ میں کہ انصاف کو خریدنے اور بیچنے سے بچا جائے، جو ریاست اپنی رعایا کو انصاف دیتی ہے انصاف وہ جو صاف شفاف ہو جو امیر غریب گورے کالے میں بغیر کسی فرق رکھے کیا جائے اور نہ کسی کا عہدہ یا پیسہ و جائیداد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہو.

    جو معاشرے جو ریاستیں انصاف قائم نہیں کرسکتے پھر ان ریاستوں میں اور معاشروں میں ظلم بڑھتا ہے اور ظلم کے ساتھ فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے کوئی بھی ریاست اور معاشرہ ظلم اور فتنوں کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا یعنی انصاف کا قتل معاشروں اور ریاستوں کے لئے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.

    چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے،
    "ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے احکام دے کر بھیجا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) انصاف کرنے کے احکام کو نازل فرمایا،
    تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں” سورہ الحدید 25.

    ریاست اسلامی ہو یا غیر اسلامی معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل کو قائم رکھنے ہی میں سب کی بھلائی ہے،
    اللہ تعالی کی کلام مسلم اورغیرمسلم تمام کے لیے ہے، اس میں کائنات کی وسعتوں کی تمام نشانیاں ہیں اس میں زندگی گزارنے کے طور طریقے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم کیا گیا اس کتاب کی تلاوت کرنا اور اسے سمجھنا اور اس پرعمل کرنا.
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو اور ہماری عدالتوں کو انصاف پر قائم رکھے، ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند ہو انصاف پسند افراد خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں خوبصورت معاشرہ خوبصورت قوم اور خوبصورت ریاست میں بدل جاتا ہے، خوبصورت معاشرے خوبصورت ریاستیں ظلم و زیادتی سے نہیں عدل و انصاف سے ہی قائم ہو سکتی ہیں،

    @zsh_ali