Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ملالہ یوسف زئی ایک مثبت یا منفی کردار   تحریر : دانش اقبال

    ملالہ یوسف زئی ایک مثبت یا منفی کردار تحریر : دانش اقبال

    سوات کی وادیوں میں پلنے والی ملالہ جب اپنے اردگرد ہر روز لڑکیوں کے سکول اڑنےکی خبر یں سنتی تو اور تو کچھ نہ کر پائی اس نے گل مکئی نام کے کالم لکھنا شروع کر دیے جن میں وہ اپنے علاقے کی بچیوں کے مسائل اجاگر کرتی جس کی پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی
    مگر یہ وہ دور تھا جب وادی سوات انڈین دخل اندازی کی وجہ سے آج کی طرح امن کا گہوارہ نہیں تھی امن کے دشمنوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور ملالہ پر حملہ کردیا گیا
    سر پر ماری جانے والی گولی سے بچنا نا ممکن تھا مگر ملالہ کو اللہ کی رضا سے بچالیا گیا اور علاج کےلئے برطانیہ بھجوا دیا گیا یہاں سے ایک نئی کہانی کا آغاز ہوا ملالہ کی جان تو بچ گئی مگر اس کی گرومنگ اس طریقے سے شروع ہوئی جس کا ہماری اقدار اور روایات سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے ملالہ کو ایک ہیرو کے طور پر پیش تو کیا جا رہا ہے مگر کیا وہ واقعی ایک ہیرو ہے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ سے جب ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ مستقبل میں ان کا کہاں رہنے کا ارادہ ہے تو ملالہ نے جواب دیا شاید برطانیہ میں یا پاکستان میں یا پھر کسی تیسرے ملک میں , کیا یہ تیسرا ملک انڈیا تو نہیں جس کے کیلاش ستیارتھی کو ملالہ کے ساتھ نوبل پرائز دیا گیا وہی انڈیا جہاں ‘ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ’ مہم میں دیواروں پر ملالہ کی تصاویر پینٹ کی گئیں۔

    ایک اور انٹرویو میں جب ملالہ سے ازدواجی تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے برملا کہہ دیا کہ نکاح ایک کاغذی رشتہ ہے ہمیں کسی سے تعلقات رکھنے کے لۓ سائن کرنا کیوں ضروری ہے۔ملالہ کے اس بیان نے ہمارے معاشرے کی بنیادیں ہی ہلا دیں اور ملالہ کو لے کر ایک نئ بحث شروع ہو گئ۔نکاح ایک ایسا بندھن جس پہ ہمارے معاشرے کی بنیاد ہے اسی پہ آپ کے نظریات متنازع ہیں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے وطن سے دور ہو کر آپ اپنی بنیادوں سے ہی دور ہو گئ ہیں اس کے نظریات مغربی تعلیم نے آلودہ کر دیے ہیں اگر یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ملالہ کو ماڈرن اسلام کا سبق سکھا کر پاکستان کی سیاست میں لانچ کیا جا ۓ تو یہ ان کی بھول ہے۔

    پاکستان میں بے شک لبرلز کی ایک اچھی تعداد موجود ہے جبکہ مغربی خیالات کے حامیوں کی بھی کمی نہیں لیکن اسلام کے نام پر بنے اس ملک کی بنیادیں ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں جہاں کوٸی بھی غیر اسلامی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو عوام کی اکثریت اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اس فتنے کو کچل دیا جاتا ہے

    یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ ملالہ کو نوبل پراٸز کسی فلاحی کام یا کسی نوبل اچیومنٹ پر نہیں دیا گیا اس نوبل پراٸز کی بنیاد ملالہ کی داڑھی والوں سے نفرت اور پاکستان کو ایک قدامت پرست ملک قرار دینا ہے
    ملالہ کا یہ کہنا کہ پاکستان عورتوں کے لۓ ایک جہنم ہے اور داڑھی والوں سے اسے نفرت ہے ظاہر کرتا ہے کہ اس کا پاکستان کی روایات اور اسلامی اقدار سے کوٸی لینا دینا نہیں اور اب وہ مغرب کی زبان اور ماحول میں رنگی جا چکی ہے جنہوں نے اسے سلیبریٹی بنایا

    یہ سب میرے زاتی خیالات ہیں جو ملالہ کے متنازع بیانات کی روشنی میں تحریر کۓ ہیں- اختلاف راۓ کا سب کو حق ہے اور مثبت تنقید کو ہمیشہ مثبت لیتا ہوں

    @ch_danishh

  • ادھوری محبت  تحریر:   ڈاکٹر نجیب اللہ

    ادھوری محبت تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    یہ اس وقت کی بات ہے جب ھم کالج میں پڑھتے تھے سردیوں کی رات تھی اور دوستوں کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھ کر غمگیں ٹپے سن رہے تھے جبکہ باہر ہر طرف زمین نے سفید چادر اوڑھ لی تھی اور روئی جیسے نرم برف باری ابھی جاری تھی دل کرتا کہ باہر نکل کر خوب کھیلوں لیکن اس وقت ٹیمپریچر مائنس 10 کے قریب تھا تو صحت اور پردیس کا سوچ کر غمگیں میوزک سے محظوظ ہورہے تھے
    اتنے میں موبائل پر کال کی آواز سنی ڈاکٹر شان کی کال تھی ، عموماً میں رات کے وقت کال کا جواب نہیں دیتا لیکن پتہ نہیں اس دن جواب دیا ، ھیلو کے ساتھ ہی جناب چیختے چلاتے ہوئے رو پڑے جیسے برف کی وجہ سے اس کی دنیا ڈوب چکی ہوں، معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن معاملہ کچھ آسان نہیں تھا ، جو کال پر سمجھ آتی ، اتنے میں ھم باہر نکل پڑے اور اس کی طرف جانے لگے تھے یہ رات کے 3 بج رہے تھے چاروں طرف برف اور سردی کی راتوں کا خاموش سناٹا ، لیکن اس وقت بھی ایک انسان ہاسٹل کے سامنے والے بینچ پر بیٹھ کر وائلن بجانے کی کوشش کر رہا ہے، وہ چائنیز زبان کا ایک مشہور گانا بجا رہا ہے جو ھمیں توڑی بہت سمجھ آرہی ہے ، ھم اپنے دوست کو لینے کے بجاۓ وہی بیٹھ گئے، اپنے دوست کی کہانی تو معلوم نہیں کر سکے لیکن وہاں تاریک رات میں وائلن بجانے والے کی کہانی ادھوری محبت کی داستان سنے میں دلچسپی لی ، سرکار کو محبوبہ نے آزمانے کی نیت سے یہ ٹاسک دیا تھا کہ روز رات کو ہاسٹل کے سامنے وائلن بجانا ہے اور یہ بچارہ اتنی سردی میں محبت کو حاصل کرنے کیلئے روز وائلن بجانے پہنچ جاتے تھے لیکن ظالمہ محبوبہ کو زرا بھر ترس نہیں آیا ، خیر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے اتنے میں اپنے ناکام عاشق دوست کی بھی یاد آگئی کہ اتنی رات کو رونا دھونا اور پھر اچانک خاموش ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ سرکار کو پھر سے کوئی دھوکا دے گیا ہے
    کسی نے کیا خوب لکھا ہے
    اسے میں نے ہی لکھا تھا
    کہ لہجے برف ہو جائیں
    تو پھر پگھلا نہیں کرتے
    پرندے ڈر کے اڑ جائیں
    تو پھر لوٹا نہیں کرتے
    اسے میں نے ہی لکھا تھا
    کے شیشہ ٹوٹ جاۓ تو
    کھبی پھر جڑ نہیں پاتا
    جو رستے سے بھٹک جائے
    وہ واپس مڑ نہیں پاتا
    اسے کہنا وہ بے معنی ادھورہ خط
    اسے میں نے ہی لکھا تھا
    اسے کہنا کہ دیوانے
    مکمل خط نہیں لکھتے

    @DrNajeeb133

  • نماز کی عظمت . تحریر : توقیرناصربلوچ

    نماز کی عظمت . تحریر : توقیرناصربلوچ

    خداے وحدہ لاشریک اور اس کے حبیب علیہ الصلوۃوالتسلیم پر ایمان لانے اور اس کے بعد انسان کے لئے سب سے عظیم اور مہتم بالشان چیز نماز ہے نماز دین کا ستون اورایمان کی پہچان ہے ہے حضور اورسرکارکائناتﷺ ارشاد فرماتے ہیں.
    نمازدین کا ستون ہے جس نے نماز کو قائم رکھا، اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے نماز چھوڑ دی اس نے دین کو ڈھا دیا.
    ایک دوسری حدیث پاک کے الفاظ اس طرح منقول ہیں.
    ہرچیز کی ایک پہچان ہوتی ہے ایمان کی پہچان نماز ہے.

    حضرت محمدﷺ نے فرمایا :
    نماز جنت کی کنجی ہے.
    نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ
    حضرت موسی کلیم اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کو جب سب سے پہلے وحی ہوئی وہ بھی نماز ہی سے متعلق تھی_ چناںچہ قرآن پاک میں ان کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: میں نے تجھے پسند کیا’ آپ کام لگا کر سن جو تجھے وہی ہوتی ہے بے شک میں ہی ہوں اللہ_ کہ میرے سوا کوٸ معبود نہیں، تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ_(کنزالایمان)

    حضرت عیسی روح اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے نے اپنی ماں کی آغوش میں زبان کھولی تو اعمال میں سب سے پہلے نماز کی تاکید کا ہی ذکر فرمایا، جسے قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا گیاہے: بچہ(حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام) نے فرمایا: میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبر بتانے والا (نبی) کیا اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز زکوۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں_(کنزالایمان)

    * حضرت لقمان علیہ الصلوتہ والسلام میں نے اپنے بیٹے کو جو نصیب فرمائی اس میں سب سے پہلے نماز قائم رکھنے کا ذکر کیا_ قرآن پاک میں وہ نصیحت اس طرح محفوظ ہے: اے میرے بیٹے! نمازبرپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر کر اور جوافتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بے شک یہ ہمت کے کام ہیں(کنزالایمان)

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے نے خداے تعالی کی بارگاہ میں اپنے اور اپنی مومن اولاد کے لیے جو دعا فرمائی وہ نماز ہی سے متعلق تھی _ چناں چہ قرآن پاک میں اس کا تذکرہ اس طرح ہے اے میرے رب! مجھے نماز کا قاٸم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو_ اے ہمارے رب اور میری دعا سن لے( کنزالایمان)

    حضور تاجدارِ مدینہﷺ کہ کسی صحابی سے ایک گناہ سرزد ہو گیا اور وہ اس کی تلافی کے لیے بارگاہ رسولﷺ میں حاضر ہوئے تو نماز پنج گانہ کی محافظت کا حکم دیا گیا کیا اور اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: اور نماز قائم رکھو دن کے دنوں کنارے اور کچھ رات کے حصوں جو میں، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں_ یہ نصیحت ہے نصیب ماننےوالوں کو(کنزالایمان)

    اس سے معلوم ہوا کہ نمازاپنی بے پناہ عظمتوں اور تمام تر خوبیوں کے ساتھ ساتھ گناہوں کے دھونے کا بہترین ذریعہ بھی ہے.
    عاقل و بالغ مسلمان پر( چاہے وہ مرد ہو یا عورت) روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے ہے جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور جو شخص جان بوجھ کر چھوڑے اگرچا ایک ہی بات کی، وہ فاسق ہے_ اور جو نماز نہ پڑھتا ہو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے اتنا مارا جائے کہ خون بہنے لگے اور قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے (عامہ کتب)

    میرے پیارے اسلامی بہنوں بھائیو! ان آیات واحادیث کو بیان کر دینے کے بعد میں آپ سے یہ کہنے کی کی ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ آپ نماز پڑھیںں اور اپنی حیات مستعار کے کہ مسرت انگیز لمحات میں یاد الہی سے غافل نہ رہیں.

    اے مالک موت و حیات! مصطفی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں مجھ گناہ گار میرے والدین کریمین مشفق و مہربان اساتزہ کرام اور تمام مسلمانوں کو ہمیشہ نماز پنج گانہ جماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ایسے اعمال وافعال سے بچا لے جو بروز قیامت ندامت وپشیمانی کا باعث ہوں.

    tuqeerna

  • عورت کی حقیقی آزادی    تحریر: تماضر خنساء

    عورت کی حقیقی آزادی تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کے نام پہ عورت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے اصل میں عورت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے عورت کو اسکے سارے حقوق عطاکیے ہیں کہ اگر وہ ماں ہے تو اسکے قدموں تلے جنت ہے اگر وہ بیٹی ہے تو اسکی بہترین پرورش جنت کی کنجی ہے اگر وہ بیوی ہے تو اس سے حسن سلوک جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے _____
    اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی، عورت کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین کی، عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا ۔۔۔۔ان سب حقوق کے بعد بھی آخر یہ لبرل طبقہ عورت کو کونسی آزادی دینا چاہتا ہے؟
    اسلام تو دین کامل ہے
    :قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔
    ایک کامل و اکمل دین نے عورت کو کیا اسکے سارے حقوق نہیں دیئے؟ جو اب بھی دین منصف کے بعد بھی عورت کو آزادی چاہیے؟
    آج کے مشرقی معاشرے میں بھی عورت کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے، جاب کرسکتی ہے، جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔۔۔۔۔ہم مانیں یا نہ مانیں مگر آج کا مشرقی معاشرہ بھی اب قدیم روایات والا معاشرہ نہیں رہا ۔۔۔۔یہاں نا جانے کتنی خواتین آج مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ۔۔۔۔
    تو پھر کونسی آزادی ہے جو لبرل طبقہ ان عورتوں کو دینا چاہتا ہے؟
    دراصل یہ لبرل طبقہ وہی لوگ ہیں جو اسلام سے باغی ہیں ۔۔۔انکے نزدیک میاں بیوی کا مقدس رشتہ عورت کے پاؤں کی بیڑی ہے۔۔۔یہ وہی لوگ ہیں آزادی کے نام پر عورت کو اس قدر بے مول دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئ بھی ان تک پہنچ سکے۔۔۔۔یہ دین بیزار لوگوں کیلیے وہ سیڑھی ہیں جن کے ذریعے ہر ایک عورت تک پہنچ رکھ سکے _______ہر کچھ عرصے بعد ایک اسلامی ملک میں ایسی سلوگنز کا پرچار ” اپنا کھانا خود گرم کرو ،میرا جسم میری مرضی آخر کیا مقصد رکھتا ہے؟
    اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام بلاشبہ مکمل ہے جہاں ایک عورت کو گھر کی ملکہ سمجھا جاتا ہے اور مرد کماتا ہے.گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، ۔۔۔۔
    اللہ کے نبی کی زندگی میں ایسے بے شمار نمونے ہیں جو ایک کامیاب زندگی جینے کا طریقہ ہمیں دیتے ہیں۔۔۔
    اللہ کے نبی تو اپنی بیویوں کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے،
    ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھاکہ رسول اللہ ص گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟
    انہوں نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کے کام بھی کیا کرتے تھے مثلا بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا (زاد المعاد)
    اپنی ازواج کے ساتھ محبت والا رویہ رکھا۔۔انکے شوق پورے کیے،
    حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ انے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ۔۔۔آپ ص چاہتے تو منع فرمادیتے مگر آپ نے عائشہ رض کو انکا شوق پورا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔
    عرب میں روایت ہوا کرتی تھی کہ حبشی لوگ خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے کرتب دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ کھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔(مسلم ، حدیث نمبر : ۸۹۲)
    حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ خیبر سے واپسی پر ہم مدینہ کے لیے نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، آپؐ نے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت صفیہؓ ان کے گھٹنوں پر پیر رکھ کر اونٹ پر سوار ہورہی ہیں۔(بخاری)
    ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ انے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو (بخاری۔کتاب الادب)
    اس طرح ناجانے اور کتنے واقعات ہیں جو اللہ کے رسول ص کی زندگی سے ہمیں ملتے ہیں جو ہمارے لیے نمونہ ہیں۔۔۔۔جو کچھ اللہ کے نبی نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا حکم ہمیں بھی دیا ۔۔۔۔اتنے عزت و اکرام کے بعد بھی کیا عورت کو کسی آزادی کی ضرورت ہے؟
    مرد کو اللہ نے عورت کا محافظ بنادیا پھر کیوں عورت تحفظ کی دیوار کو پھاند کر باہر آنا چاہتی ہے؟
    یہ آزادی کے نعرے صرف عورت کو اپنی دسترس میں کرنے کے حیلے ہیں کیونکہ اصل آزادی تو آج سے صدیوں پہلے محمد مصطفی ص عطا کر گئے۔۔۔ ہر لحاظ سے عورت کو معتبر کردیا ۔۔ اب جو مزید آزادی چاہتے ہیں تو ان کا مقصد صرف عورت کی بربادی ہے اور کچھ نہیں! اور ایک مسلمہ عورت کبھی ایسی آزادی کی چاہ نہیں کرتی جو اسکے لیے بربادی کا باعث بنے جو اسلام کے مخالف ہو ۔۔۔۔یہ آزادی کے نام پر شور مچانے والا خاص طبقہ صرف اور صرف اپنے گروہ کا نمائندہ ہے عورتوں کا نہیں کیونکہ کوئ عورت نہیں چاہتی کہ اسے بے مول کیا جائے
    عورت کی حقیقی آزادی تو دین اسلام میں ہے جسکو ہم
    مکمل اپنالیں تو ہماری زندگیاں سنور جائیں

    @timazer_K

  • کامیابی اور ناکامی

    کامیابی اور ناکامی

    کبھی کبھی زندگی رولاتی ہے، تڑپاتی ہے۔صدمے پہ صدمہ تکلیف پر تکلیف ، پریشانی کے بعد بڑی پریشانی، ناکامی کے بعد زیادہ ناکامی، اور ذلت پے ذلت ، اور دکھ پے دکھ۔ جبکہ کبھی کبھی یہ بہت ہنساتی ہے۔ راحت پے راحت دیتی ہے۔ خوشی پر خوشی ، کامیابی کے بعد بہت بڑی کامرانی اور عزت اور شہرت کے بلندیاں دکھاتی ہے ، کبھی کبھی ڈھیر سارا پیار اور پیار والا محبوب دیتی ہے اور کبھی کبھی ہر طرف سے نفرت اور محبت کرنے والے محبوب کو ہارا دیتی ہے۔ کوئی بہت کم محنت سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور کوئی ہر روز تھکا دینے والی زندگی جیتا ہے۔ کبھی کسی کا ایک پرڈاکٹ کسی کا ایک ایپلیکشن وائرل ہو کے اسے بل گیٹس بنا دیتا ہے ۔ اور کبھی کبھی صدام حسین اور سقراط کی طرح عیش وعشرت کی زندگی سے قیدی بنا دیتی ہے۔
    کبھی یہ میٹرک پاس کو پائلٹ بناتی ہے اور کبھی انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر ڈگری ہولڈر کو چوکیدار اور کبھی کبھی دیہاڑی دار مزدور بنا دیتی ہے۔ زندگی چلتی رہتی ہے ۔ اگر انسان کامیاب ہو ۔ مالدار ہو مشہور ہو راحت اور خوشی میں ہو تو بھی یہ وقت اور زندگی نہیں رکتی اور اگر کانٹوں کے اوپر زخموں میں چور اور تکالیف ہی تکالیف میں بھی یہ کبھی نہیں رکی۔
    لیکن زندگی میں کامیابی اور ناکامی انسان کے ہاتھ اور طاقت میں نہیں۔ کوئی بھی انسان اپنے ذہانت اپنی خوبصورتی اور اپنی قابلیت سے اللہ کے مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ چاہے وہ مشہور پاپ سٹار مایکل جیکسن ہی کیوں نہ ہو ۔ جو اپنی زندگی پچاس سال تک جینے کا منصوبہ بناتا ہے ۔ ڈاکٹروں کا ٹیم اکسٹرا باڈی پارٹس بھی اس کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔
    اللہ ہم کو سمجھانے کے لیے رنگ برنگ معجزے ہر وقت اور ہر زمانے میں دکھاتا ہے۔ لیکن ہماری آنکھوں پر غرور کا پردہ ہے، ہماری آنکھوں پر کامیابی کا پردہ ہے ۔ جو ہمیں یہ سب دیکھنے اور سمجھنے سے دور کرتی ہیں ۔ بقول جناب واصف علی واصف صاحب وہ آنکھیں کبھی بھی معجزات اور کرامات نہیں دیکھ سکتی جس پہ حرام کا پردہ ہو۔

    ہمارا کام تو آجکل تصوف اور تزکیہ نفس سے ہٹ کے بہت ماڈرن ہو چکا ہے ۔ ہم تو بڑے عقل مند اور ہوشیار ہو گئے ہیں۔ دنیا میں پہلے ایک افلاطون تھا اور آجکل لاکھوں نہیں کروڑوں افلاطون ہیں ۔ خود کو دنیاوی کاموں میں بڑا اور استاد سمجھنا اور خود کو انسانوں میں سب سے یا کسی ایک سے بھی افضل سمجھنا ذھنی بیماری اور ذھنی کمزوری ہے۔ آج کوئی مصیبت میں، کمزور، غریب اور ناکام ہے تو وہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوگا۔ کل اگر اللہ چاہے تو اسےکامیاب مالدار اور عزت والا بنا دے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے آج آپ کا نوکر کل آپ کا لیڈر بن جائے۔ اللہ جسے عزت دے دے۔
    دوستوں زندگی میں دکھ درد ، غم خوشی ہم کو سکھانے کے لیے آتی ہے۔ کبھی بھی کسی کو کم اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر اور صبر کرنا چاہیے ۔ غریب کی مدد اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔
    @The_Pindiwal

  • ناقابل شکست پاکستان تحریک انصاف . تحریر : سید ماجد حسین شاہ

    پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد 1996 میں ایک مشہورکرکٹر (وزیراعظم) عمران خان نے رکھی جس کا مقصد پاکستان کو فلاحی اور انصاف پر مبنی حکومت بنانا تھا۔ عمران خان کی مقبولیت کےباوجود پارٹی کو ابتدائی ادوارمیں بہت محدود کامیابیاں ملیں۔ 1997 کے انتخابات میں تحریک انصاف ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی لیکن عمران خان نے اس ہار کو بھی ایک چیلنج سمجھ کر ہمت نہ ہاری
    سن 2002 کے الیکشن میں صرف عمران خان ہی پارٹی کے لئے ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی جدوجہد کو اور تیز کیا اور دن رات سخت محنت کی بعدازاں 2008 کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا.

    لیکن 2012 میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد پی پی پی کی مقبولیت میں کمی آنا شروع ہوگئی ، پاکستان تحریک انصاف نے عوامی مسائل کو سامنے رکھتے ہوے خصوصا پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں عوام سے رابطہ مہم تیز کردی اور حکمرانوں کی نا انصافیوں سے ستائی عوام نے دھڑا دھڑ تحریک انصاف میں شامل ہونا شروع کردیا.

    آخرکار2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی 7.5 ملین سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ ایک بڑی جماعت بن کر ابھری ، اس الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف ووٹوں کی تعداد میں دوسرے نمبر پر اور جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد میں تیسرے نمبر پر آئی ۔ صوبائی سطح پر پاکستان تحریک انصاف کو کے پی کے میں اقتدار میں آنےکا ووٹ ملا۔حزب اختلاف میں اپنے وقت کے دوران پی ٹی آئی نےتبدیلی کا نعرہ لگایا تبدیلی آرہی ہے جیسے نعروں کی مدد سےلوگوں کو مختلف عوامی مسائل پر ریلیوں اور جلسے میں متحرک کیا،
    جن میں سے سب سے قابل ذکر 2014 کا آزدی مارچ ہے۔ 2018 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو ایک کروڑ انہتر لاکھ ووٹ ملےجو پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اب تک کا سب سے بڑا ووٹ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلی بار پانچ دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکےحکومت بنائی،2021 تک پارٹی قومی سطح پر حکومت میں ہے اور خیبر پختونخوا اور پنجاب کے صوبوں پر حکومت کررہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان میں مخلوط حکومت کا بھی حصہ ہے اور یہ سندھ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے کام کر رہی ہے.

    پارٹی کا اصل مقصد پاکستان میں ایک فلاحی ریاست تشکیل دینا ہےاور پاکستان میں مذہبی امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ پارٹی خود کو ایک اسلامی جمہوریت کی حمایت کرنے والی ایک جمہوری تحریک کی حیثیت سے تعبیر کرتی ہے۔ یہ مرکزی دھارے میں شامل پاکستانی سیاست کی واحد متحرک جماعت ہے۔ حال ہی میں ، پارٹی کو سیاسی مخالفین اور مخالف تجزیہ کاروں نے مختلف معاشی اور سیاسی امور اور کمزور معیشت کا بہانہ بنا کر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بے جا تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔ پی ٹی آئی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے ، اور 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لحاظ سے سب سے بڑی جماعت ہے۔ پاکستان اور بیرون ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ ممبران کے ساتھ وہ بنیادی رکنیت کے ذریعہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے اور دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے.

    سب پڑھے لکھے نوجوان عمران خان کی قیادت پر فخر کرتے ہیں اور عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اللہ تعالٰی سے دعا ہے عمران خان کے ہاتھوں اس ملک اور قوم کی قسمت سنور جائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ترقیوں کی راہ پر گامزن ہو آمین کیونکہ جب ہم ایک ترانہ سنتے تھے( جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان) بہت ہی دعائیں کرتے تھے تبدیلی کے لئے آمین.

    @SHAHKK14

  • نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    پرانے وقتوں میں یا آج سے 20 سال قبل ایک رواج تھا کے جب بھی کوئی شخص تھوڑا بہت پڑھ لیتا تھا تو اس کی نظر سرکاری نوکری پر ہوتی تھی چونکہ ان دنوں تعلیم کم ہوتی تھی وسائل کم ہوتے تھے تو لوگوں کو پڑھ کر نوکری مل جاتی تھی یا جو لوگ سرکاری نوکری حاصل نہیں کر پاتے تھے وہ فوج میں تو چلے ہی جاتے تھے۔

    دورگزرتا گیا تعلیم عام ہونے کے ساتھ کمرشل ہوگئی اور پاکستان نے گریجویٹس کے ڈھیر لگا دئیے نوکریاں کم ہونے لگیں اور بیروزگاری بڑھنے لگی لوگ پی ایچ ڈی کر کے بھی معمولی تنخواہ پر کام کرنے پرمجبور ہوگئے، پھر ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا لیکن ہماری نوجوان نسل نے اس کو سمجھنے میں دیرکی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلتا گیا اور لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے گئے اس میں ایسے کئی ہنر شامل ہوگئے جو نوجوان سیکھ کر گھر بیٹھے نوکری حاصل کرنے لگے.

    نئی سکلز جو نوجوان سیکھ سکتے ہیں ان میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ یہ بذات خود ایک وسیع فیلڈ ہے اس میں کسی بھی چیز میں مہارت حاصل کر لیں، وڈیو ایڈیٹنگ سیکھ لیں، کانٹینٹ رائٹنگ سیکھ لیں، ویب سائٹ بنانا، موبائل ایپ بنانا، آرٹیفشل انٹیلیجنس، ایکسل مینیجمنٹ، کاپی رائٹنگ، بلاگنگ، یوٹیوب چینل شروع کرسکتے ہیں ایسی کوئی 25 سے زیادہ سکلز ہیں جو آپ سیکھ کر آن لائن لاکھوں کما سکتے ہیں اور سیکھنے کے لئے کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو آپ کو مفت سکھا دیتی ہیں یوٹیوب سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے آپ اس سے سیکھ سکتے ہیں غرض کے اتنے ہنرایسے ہیں کے جن میں بس آپ کو سیکھنے کے بعد چند گھنٹے کام کرنے کے لاکھوں ملتے ہیں بات ساری آپ کی محنت اورمخلص پن کی ہے آپ جیسے جیسے محنت کرتے جائیں گے ترقی کرتے جائیں ان میں آپ کو کسی کی منت نہیں کرنی کوئی سفارش نہیں کروانی کوئی رشوت نہیں دینی،آپ خود اپنے بزنس کے مالک ہونگے اپنی مرضی کے گھنٹوں میں کام کرسکتے ہیں، اب نوکری صرف اس شخص کے لئے نہیں ہے جو کام کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو پوری دنیا مین کام موجود ہے بس آپ کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہے آپ کو اپنی سوچ سرکاری نوکری سے نکال کر محنت کی طرف لے کر آنی ہے جب آپ یہ کر لیں گے تو نوکریاں آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔

    آن لائن کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کے آپ کو وسائل کی ضرورت نہیں ہے آپ کے پاس ایک اچھا لیپ ٹاپ ہونا چاہیے اور انٹرنیٹ تو آجکل ہرکسی کے پاس ہے بس اس سے فائدہ اٹھائیں اورکام شروع کریں حکومتوں سے گلا کرنا چھوڑ دیں اپنی سی وی لے کر مقامی نمائندوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑدیں، سرکاری اداروں میں ایک نوکری پر ہزاروں درخواستیں دے کر اپنے ذہن کو ایک عجیب کیفیت میں مبتلہ کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا اللہ تعالی اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو قوم اپنے حالات خود نہ بدلنا چاہے۔

    پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے جو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے صرف آئی ٹی کی صنعت اورنوجوانوں کو ہنر مند بنانے سے ہم اربوں ڈالر کما سکتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے نوجوانوں کے لئے مفت ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے لاکھوں نوجوان فائدہ حاصل کرچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے ملکی سطح پرایک ایسا فورم بنایا جائے جہاں نوجوان اپنے آئیڈیاز لے کر آئیں اور سرمایہ کار ان پر میں سے بہترین آئیڈیازکو سپانسر کریں ایسے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا۔

    پاکستان نے سال 2020-2021 میں تقریبا 2 ارب ڈالر تک اس صنعت سے کمائے ہیں اگر حکومتی وسائل اور نوجوان اس میں دلچسپی لینا شروع کردیں تو یہ صنعت اگلے 5 سال میں آسانی سے 10 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا حکومت نے ایک اور بہترین کام کیا ہے کہ آئی ٹی پر کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا اس سے اس میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان حکومت ایمازون کو پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے اب اگلی باری پے پال جیسی سروس کی ہے اگر حکومت اسی طرح نوجوانوں کی مدد کرتی رہے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ صنعت پاکستان کے قرضے اتارنے میں مدد کرے گی۔
    آخر میں نوجوان نسل کو پیغام ہے ہمت کریں میدان میں آئیں اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔
    اللہ ہم سب کا حامہ و ناصر ہو : آمین

    @nomysahir

  • ٹریفک کی روانی دل کے مریضوں کی موت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے   تحریر: عقیل احمد راجپوت

    ٹریفک کی روانی دل کے مریضوں کی موت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے پہلے تو کوئی سرکاری ایمبولینس سروس نہیں ہے کیا کمال کی بات ہے پورے پاکستان کو اورنج لائن میٹرو ٹرین میٹرو بس سروس کے لئے 68پرسنٹ ریونیو اکھٹا کرکے دینے والے کراچی شہر میں ایمبولینس سروس بھی خیراتی اداروں کے مرحون منت ہے میرا آج کا موضوع یہ نہیں وہ بیمار ہے جو کراچی میں گندے پانی اور گندگی کی وجہ سے آئے روز بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں مگر ان کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے کوئی ایمرجنسی ٹریک ہی دستیاب نہیں پورے کراچی سے کسی اسپتال کی جانب جانے کے لئے جن سڑکوں کا انتخاب آپ کو کرنا ہوگا اس میں ٹریفک جام گھنٹوں کی بات ہے اب آپ کے مریضوں کی قسمت اچھی رہی تو وہ ٹریٹمنٹ ملنے تک اسپتال منتقل ہوجائے گا اور صحت مند زندگی کی جانب لوٹ آئے گا آپ بیتی بتا رہا ہوں مجھے دل کا دورا پڑا ایمرجنسی کی صورت میں مجھے گھر والوں نے رکشہ میں ڈال کر کارڈیو اسپتال واٹر پمپ لیجانے کی کوشش کی ابھی فور کے چورنگی پر ہی گھر والوں کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے کیونکہ وہاں سے گاڑی کو نکالنے کے لئے کم سے کم آدھا گھنٹہ درکار ہوتا ہے اللہ کا کرنا اور میرے زندگی کے دن ابھی باقی تھے سامنے چھیپا کے بوتھ سے ایک ایمبولینس میں ڈال کر گھر والوں نے آگے کا سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا بھلا ہو چھیپا ویلفیئر کے ڈرائیور کا جس نے منی کارڈیو پہنچایا مگر برائی سامنے سے دستک دے رہی تھی ڈاکٹر نے کہا فورا بڑے کارڈیو یعنی این آئی سی وی ڈی لیجائے یہاں انتظام نہیں ہے الٹے پاؤں واپس گھر والوں نے بڑے کارڈیو پہچانے کی ٹھانی اور پھر ایمبولینس سروس کے ذریعے مجھے کارڈیو پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کے بعد اینجیو گرافی اور اگر ضرورت ہوئی تو انجیو پلاسٹی کی تجویز دی اور آپریشن تھیٹر میں میری انجیو پلاسٹی کردی گئی اسنٹ دل کے اندر پیوست ہو گیا لیکن سب پریشانیوں اور گھٹن کے جو لمحے میں نے گزارے ہیں وہ روڈ پر ٹریفک میں پہنس کر اپنی زندگی کے لئے لڑنا ہے حکومت مریضوں کے لئے فاسٹ ٹریک ایمرجنسی روڈ کا پلان ترتیب دے جس سے بہت سی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے

  • نفس، شیطان اور حضرتِ انسان   تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    نفس، شیطان اور حضرتِ انسان تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    اللّٰه نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا جب کہ انسان نے خود کو ظالم بنا کر ظلم کی انتہا کر دی
    آج کے دور میں ایک انسان دوسرے انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس دشمنی میں دوسرے کا نقصان کرنا اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اکلوتی وجہ انسان کا نفس ہے

    انسان بھول چکا ہے سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے اور نفس کی کہے پر لبیک کر کے انسان ہر حد سے گِر رہا ہے

    آج کا انسان کہتا ہے کہ انسان جانور سے بدتر ہے لیکن خود کو راہِ راست پر کوئی نہیں لاتا۔ دوسرے کے عیب گننے
    میں سب ماہر ہیں لیکن خود کے عیب بھول جاتے ہیں

    نفس کی غلامی اور نفرت کے اندھیرے سے نکل کر اجالے
    میں قدم رکھیں
    کیونکہ
    ’’غلامی میں جسم تو رہتا ہے مگر اس سے روح خالی ہو جاتی ہے اور جس جسمِ میں روح نہ ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (نفس کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ اسی طرح ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جدید یا نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘

    غور کریں کہ تاجر اپنے کاروبار پر بیٹھا تسبیح کیے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ناقص مال کی فروخت بھی جاری ہے۔ یہی حال ہمارے علمائے کرام کا بھی ہے کہ علماء لوگوں کو تو واعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اور اپنے باطن کو نصیحت نہ کر سکے۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جو کسی بھی کاروبارِ زندگی سے وابستہ ہے وہ ایسی ہی مثال پیش کر رہا ہے۔ ہم ان رذائل سے کیونکر چھٹکارا نہ پا سکے؟ اس لیے کہ ذکر و تسبیح جس نے کرنی ہے (یعنی قلب) اس تک بات نہیں پہنچی تو اصلاح کیسے نصیب ہو گی

    انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اللّٰه کا نام سکھا دیا جاتا ہے۔ اللّٰه کے نام کو سن سن کر انسان جان تو جاتا ہے کہ اللّٰه مالک ہے رازق ہے وغیرہ لیکن اس کی پہچان نہیں آتی۔ پہچان تب ہی آتی ہے جب اس قلب میں اللّٰه کےذکر کا نور کسی کامل و مکمل شیخ و رہبر کے قلب کے وسیلے سے داخل ہوتا ہے۔ یہی نور اس کو اپنے مالک کی اصل پہچان نصیب کرتی ہے اور اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بناتی ہے۔ اسی نور سے "تصدیق بالقلب” میسر آتی ہے اور حقیقتِ ایمان اسی کا دوسرا نام ہے

    جب تک یہ ذکر کا نور قلب کو میسر نہیں آتا اس وقت تک صورتِ ایمان ہے۔ نماز تو پڑھ لیتا ہے لیکن وہ محض صورتِ نماز ہی ہوتی ہے یہی ذکر کا نور میسر نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں محض بھوک پیاس کاٹتا ہے اور اعمالِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ جس کسی کو یہ ذکر کا نور میسر آتا ہے تو وہ حقیقت میں حاصلِ رمضان و ایمان یعنی "لعلکم تتقون” کا نمونہ بنتا ہے

    آپ کے وجود نے ایک دن دنیا سے ختم ہو جانا ہے باقی رہے گا تو صرف ذکر. اب اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نیک ذکر یا برے ذکر میں یاد ہونا ہے ہر بات کا انحصار ہمارے خود کے اوپر ہے
    اس لیے اپنے ضمیر کو جگائیں اور خود کو بدلیں دنیا آپ کو دیکھ کر بھی بدل سکتی ہے

    "نفس کی غلامی سے موت اچھی”

    @H___Malik

  • یہ بندے مٹی کے بندے تحریر: سحر عارف

    یہ بندے مٹی کے بندے تحریر: سحر عارف

    _سو جاؤ عزیز کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت_
    _ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں_

    اپنے ملک کی خاطر خود کو قربان کر دینے، پھر اپنا گھر چھوڑ کر سرحدوں پہ ملک کے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انھیں منہ توڑ جواب دینے والے کوئی عام انسان نہیں بلکہ ہماری فوج کے جوان اس ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ جو ہر گھڑی پاکستان کے دفاع اور اس کی حفاظت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ جن کی زندگی کا مقصد ہی اپنے ملک کی آبرو بچانا اور اسے دشمن کے ناپاک ارادوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ وہ نا دن کی پرواہ کرتے ہیں نا رات کی بس اپنی عوام کی خوشیوں اور حفاظت کے لیے باڈر پہ کھڑے رہ کر ہر پل اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ نا سخت سردی انھیں روک سکتی ہے نا سخت گرمی دراصل ملک اور قوم کی محبت انھیں اتنی طاقت اور حوصلہ دیتی ہے کہ وہ نا کبھی تھکتے ہیں نا ہارتے ہیں۔ ہماری فوج پوری دنیا میں ہر لحاظ سے اپنا ایک الگ مقام و مرتبہ رکھتی ہے۔

    جس نے دنیا میں ایسے ایسے عظیم کارنامے سر انجام دیے ہیں کہ بیان کرنے لگیں تو صدیاں بیت جائیں۔ بہت سے لوگ جو اس دنیا میں آتے ہیں اور پھر دنیاوی ہوکر رہ جاتے ہیں ان کی زندگی کا دائرہ صرف ان کی اپنی اور خاندان کی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ پر اس کے برعکس ہمارے یہ فوجی جوان ہیں جو اپنے ملک کی محبت میں دن رات اپنی جان خطرے میں ڈالے رکھتے ہیں وہ یہ سب جانتے ہوئے کہ کسی بھی وقت دشمن ان کا شکار کر لے گا وہ اپنے خاندان کی پرواہ کیے بغیر اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور پوری بہادی اور جرات سے پاکستان کے دشمنوں کو نیست و نابود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

    ہر سال ہزاروں کی تعداد میں جوان اپنے ملک کی خاطر دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوتے ہیں۔ خوش قسمت تو وہ مائیں ہیں جو ایسے بہادر اور نڈر بیٹے اس ملک کے لیے پیدا کرتی ہیں پھر انھیں خود سے الگ کر کے سرحدوں پر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے لڑوانے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتی ہیں۔ بے شک یہ ملک یہ قوم اپنی ان خوش قسمت اور بہادر ماؤں کی مقروض ہے۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا تب سے لے کر آج تک سینکڑوں جوان ملک کی خاطر خود کو قربان کرگئے پر پھر بھی ان ماؤں کا جذبہ کبھی کم نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ مزید بلند ہوا ہے۔

    جہاں پاکستای قوم اپنے ان جوانوں کی شکر گزار ہے اور ان سے محبت کرتی ہے وہیں کچھ لوگ جوکہ اپنے ہی ملک کے دشمن ثابت ہورہے ہیں پاک فوج کے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ کسی طرح ان کو کمزور کیا جاسکے پر شاید وہ بےوقوف یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ پاکستان کی فوج ہے کوئی چھوٹی موٹی فوج نہیں جس کو ڈرا دھمکا کر اسے کمزور کردیں گے۔ ہماری فوج بہت بہادر ہے۔ وہ اتنی دلیر ہے کہ باہر کے دشمنوں سے ساتھ ساتھ ملک میں موجود دشمنوں کا بھی مقابلہ کرکے انھیں شکست فاش کرسکتی ہے۔ بے شک ہماری فوج اور ہمارے جوان ہمارا فخر اور حقیقی سرمایہ ہیں۔

    @SeharSulehri