Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    قدرت نے انسان کو زندہ رہنے اور بستیاں بسانے کے لئے مختلف نشانیاں بھیجیں ہیں۔ دو جاندار خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ایک شہد کی مکھیاں اور دوسرا دیمک۔ دیکھنے کو دیمک ایک بے ضررسا کیڑا ہے لیکن اندرہی اندر جتنا نقصان یہ پہنچاتا ہے انسانوں کے پہنچائے ہوئے نقصان سے پھر بھی کم ہے۔ بیمار لوگوں کے بارے میں عوام الناس کہتی ہے کہ ان کو بیماری دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے۔۔ کچھ ایسی ہی مماثلت ہماری عوام اور دیمک میں ہے۔ جب قانون بے اثرہوجائے۔ جب معاشرے کو تعلیم دینے والے بھاگ جائیں۔ جب معاشرےکی راہنمائی کرنے والے لٹیروں کا روپ دھارلیں، جب قانون امیراورغریب میں فرق کرنے لگے، جب دولت ہی سب کچھ ہو، جب اقرباء پروری کا راج ہو، تو پھرمعاشرے شترِبے مہار( ایسا اونٹ جو جنگل میں آوارہ پھرتا ہو) کی طرح جس طرح چاہے منہ اٹھا کے چل پڑتے ہیں۔

    میں جب بھی بڑے بڑے شہروں کے محلوں کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتا ہوں تو مجھے دیمک کے گھروندے یاد آتے ہیں،۔ بچپن میں جب پاؤں کی ٹھوکر سے دیمک کے گھروندے کو توڑتے تھے تو مٹی کے گھرندوں کے نیچے سے ایک کالونی نظرآتی تھی۔ جس میں بے ترتیب گلیاں مکانات اور چلتے پھرتے دیمک کے کیڑے نظر آتے تھے۔ کچے گھروندے ٹوٹ جانے سے دیمک کے کیڑوں میں افراتفری مچ جاتی تھی، کوئی اناج اٹھائے بھاگ رہا ہوتا تھا، کوئی جان بچانے کے لئے، کوئی اپنے بچوں کو لئے، ہرکوئی جس سمت جس کا منہ لگتا تھا بھاگتا دکھائی دیتا تھا۔

    دیمک، شہد کی مکھیاں اور ہم ، سب ایک ہی طرح کی کالونیوں میں رہتے ہیں۔ ہماری کالونی میں ملکہ بادشاہ سپاہی اور مزدور ہوتے ہیں. ہمارے ہاں بچوں کی پیدائش و پرورش ہوتی ہے. جیسے شہد کی مکھیاں اوردیمک اپنا بادشاہ اورملکہ چنتے ہیں ایسے ہی ہم بھی چنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بادشاہ اور ملکہ نہیں بلکہ ایم این اے اور ایم پی اے چنے جاتے ہیں۔دیمک کی ملکہ اوربادشاہ کی طرح جب ہماری ملکہ اور بادشاہ کے پر نکل آتے ہیں تو یہ آڑ کر دوسری جگہ اپنی کالونی بنا لیتے ہیں. جیسے ہمارے ہاں ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہونے کے بعد یورپ امریکہ اور کینیڈا میں گھر بنا لیتے ہیں، اگر ایک ہی جگہ دو بادشاہ یا ملکہ ہوں تو شہد کی مکھیوں اور دیمک کی طرح یہ نیا قبیلہ آباد کرلیتے ہیں اور اپنی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں۔

    جیسے ہمارے ہاں ایک ملک کے دو بادشاہ بن جائیں تو پھر آدھا تمھارا آدھا ہمارا کا نعرہ لگا کر تقسیم کرلیتےہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں ہماری کالونیوں کی طرح مزدور اور سپاہی چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں. انکی زندگی اسی کام میں گزرتی ہے.عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کا کام اندھیرے کا ہے. دیمک کے سپاہی اور مزدور پیدائش کے بعد سے ہی اندھے ہو جاتے ہیں. اندھیری سرنگوں میں ان کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اس لئے آنکھیں ہوتے ہوۓ بھی یہ اندھے ہی ہوتے ہیں۔ ہماری کالونیوں میں مزدور اور سپاہی نوکری حاصل کرنے کے بعد اندھے ہوجاتے ہیں ہمارے سپاہیوں اور مزدورکو بھی آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ غلام معاشروں میں اندھے مزدور بہتر کام کرتے ہیں۔ جو دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے پر نکل آتے ہیں پھر وہ مزدور نہیں رہتے بلکہ حاکم بن کے اڑ جاتے ہیں اور کہیں اور مزدوروں سے الک تھلگ کالونیاں بنا کے رہتے ہیں۔

    دیمک کے کیڑے ہم انسانوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں لالچ اور الگ کرکے جمع کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔ وہ اجتماعی زندگی گزارتے ہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ دو گھروں میں لڑائی ہو اور بندوقیں نکل آئیں دو چار قتل ہوں دس پندرہ زخمی ہوں۔۔ نہ ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان پہ سیل لگی ہو اور مادہ دیمک چھوٹے سے دروازے سے سینکڑوں کی تعداد میں دکان میں گھسنے کی کوشش کریں۔ بھگدڑ مچے اور کئی زخمی ہوجائیں۔ نہ کسی کے بچے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیمک کی کالونیوں میں قتل بھی نہیں ہوتے۔

    دیمکوں کی ملکہ انڈے دیتی ہے جس سے بچے نکلتے ہیں اور ان بچوں کی حفاظت پولیس اور مزدور کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزدور بچے پیدا کرکے پالتے ہیں جبکہ ملکہ اور بادشاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ مزدور دیمک اور ہمارے مزدوروں میں فرق یہ بھی ہے کہ دیمک کے مزدور بلا تفریق سب کو ایک جیسی غذا مہیا کرتے ہیں جبکہ ہمارے مزدور دوسروں کو ملاوٹ شدہ غذا فراہم کرتے ہیں۔ مزدور دیمک باہر سے غذا لا کر بغیر ملاوٹ کے تمام کارکنان میں برابر تقسیم کرتی جاتی ہے۔

    دیمک کے سپاہیوں کے سر بڑے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے سپاہیوں کے پیٹ بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں بادشاہ کے غلام ہی رہتے ہیں۔دیمک کے سپاہی اپنی کالونیوں میں دوسرے کیڑوں کو نہیں گھسنے دیتے ایسے ہی جیسے ہمارے سپاہی سرکاری دفاتر میں عام سائل کو گھسنے نہیں دیتے۔۔۔ دونوں سپاہیوں میں ایک مہان فرق یہ ہے کہ دیمک کے سپاہی کالونی میں گھسنے والے کیڑے کو مار ڈالتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سپاہی رشوت لے کر دفتر میں جانے دیتے ہیں۔ ایک چیز جو دونوں کالونیوں میں مماثلت رکھتی ہے وہ یہ کہ جب کوئی حملہ کرتا ہے تو دونوں کالونیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لیکن دیمک کی کالونی کو تباہ کرنے والے ہم انسان بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہماری کالونیوں کو تباہ کرنے والے بھی ہم انسان ہی ہوتے ہیں۔

    پھر ہم اشرف المخلوقات کیسے ہوئے؟
    اگر ہماری کالونیاں دیمک کی کالونیوں جیسی ہی ہونی ہیں یا ان سے بھی بدتر ہونی ہیں تو پھر انسانیت ہم میں نہیں دیمک میں ہوسکتی ہے۔
    کیوں نہ ہم بھی اپنی دیمک زدہ بستی کو انسانوں کی بستی کی طرح بنالیں.

    @I_G68

  • زندگی اور ہم لوگ  تحریر:   شمسہ بتول

    زندگی اور ہم لوگ تحریر: شمسہ بتول

    زندگی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے مگر ہم نے کبھی اس نعمت کی قدر ہی نہیں کیا بلاوجہ دوسروں سے اسکا موازنہ کر کر کہ اسے حد درجہ مشکل بنا دیا۔ زندگی نہ پھولوں کی سیج ہے اور نہ ہی کانٹوں کی یہ تو اتار چڑھاؤ کا نام ہے لیکن ہم اس اتار چڑھاؤ کو سر پہ سوار کر کے اپنا سکون برباد کر لیتے ہم اعتدال کا د|من چھوڑ دیتے ہیں۔ زندگی کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے کڑوی یادوں کو اور تلخ باتوں کو بھلا کر اور آگے بڑھ کر ۔
    زندگی ہر روز آپکی دہلیز پر دستک دیتی ہے ۔ہر روز ایک نٸی امید کی کرن لے کر آتی ۔ آپکو ہر روز ایک موقع دیتی ہے ۔آپ زندہ ہیں اس لیے جدوجہد کر رہے ہیں کبھی جاب کے لیے کبھی گھر بناے کے لیے کبھی کسی اور مقصد کے لیے بھلا مرے ہوے لوگ بھی جدوجہد کرتے وہ تو منوں مٹی تلے سو رہے ہوتے اس لیے شکر ادا کریں کہ آپ زندہ ہیں اسلیے آپ اپنے مقاصد کے لیے محنت کر رہے ہیں ہاں آپکو تھوڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ایک دن آپ کو آپکی محنت کا اجر ضرور ملے گا اور آپ اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے بس آپکو صبر سے استقامت سے حالات کا سامنا کرنا ہوتا نہ کہ حالات سے تنگ آکر زندگی کا ساتھ چھوڑ دیا جاۓ یہ سراسر غلط ہے اور ہمارا مزہب بھی اسکی اجازت نہیں دیتا ۔ توکل کا دامن کبھی ہاتھ سے مت چھوڑیں بس محنت اور کوشش کرتے رہیں
    مایوس نہ ہو ایک نہ ایک دن آپکو آپکی محنت کا اجر ضرور ملے گا مگر آپ زندہ ہوں گے تو ملے گا اگر حالات سے تنگ آکر زندگی کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو کیا حاصل ہو گا کچھ بھی نہیں ۔ جس طرح heart line کا اوپر نیچے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ زندہ ہیں بلکل اسی طرح زندگی ہے جب تک یہ ہے تب تک خوشیاں بھی ہونگی غم بھی ہونگے حالات اچھے بھی ہونگے برے بھی ہونگے وقت ہمیشہ ایک سا تو نہیں رہتا
    اگر زندگی بلکل ایک تسلسل سے چلتی رہے تو انسان بھی آوازار ہو جاۓ ۔ یہ اتار چڑھاؤ تو ہمیں مضبوط بناتے ہمیں معملات کو کنٹرول کرنا سکھاتے ۔
    جاب گھر گاڑی سب کچھ ایک نہ ایک دن مل جاۓ گا مگر اس کے لیے آپکا زندہ رہنا ضروری ہوتا نہ کہ چند مشکلات سے گھبرا کر زندگی کا ساتھ چھوڑ دینا۔
    آپکے پاس جو ہے اس کے ساتھ خوش رہنا سیکھیں اگر ہمیشہ خود کا دوسروں سے موازنہ کریں گے تو کبھی خوش نہیں رہ پاٸیں گے ہو سکتا ہے جو آپکے پاس ہے وہ دوسروں کے پاس نہ ہو اور اگر موازنہ کرنا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کریں جو آپ سے زیادہ پستی کی زندگی گزار رے۔ جن کے پاس چھت نہیں مشکل سے مزدوری کر کے گزارا کرتے لیکن اس تکلیف دہ زندگی میں بھی وہ جینے کے اسباب ڈھونڈ لیتے ۔
    خودکشی کی وجوہات بتانے کی بجائے زندگی جینے کہ اسباب ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو آپکو اندازہ ہو گا کہ آپکی زندگی بہت سے لوگوں کی نسبت آسان اور خوبصورت ہے ۔ موت کی تلاش نہ کریں کیوں ایک نہ ایک دن ہم سب نے مر جانا ہے البتہ زندگی کی تلاش ضرور کریں کیونکہ یہ بہت قیمتی اور انمول ہے بس ایک بار ملی ہے آپکو سو اسکو جینا سیکھیں خوش رہنا سیکھیں مثبت سوچیں
    خوش قسمتی یہ نہیں ہیں کہ آپکا بینک بیلینس کتنا ہے آپ کے کتنے بنگلے ہیں کتنا بڑا کاروبا ہے بلکہ خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ اپنی قسمت سے خوش ہو ۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ صحتمند ہو آپ کے اعضاء سلامت ہیں آپکے پاس رشتے ہیں آپکے پاس اچھے دوست ہیں ۔
    انسان بعض دفعہ حالات سے بہت گھبرا جاتا اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا کہ وہ کیا کرے اس کا دماغ ماٶف ہو جاتا مگر اس کا حل خود کشی نہیں ہے ۔ خود کو خود سمجھانا سیکھیں کیوں کہ آپ سے بہتر کوٸی اور نہی سمجھ سکتا آپ کو ۔ اللہ کی طرف رجوع کریں اس سے مدد طلب کرے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بلکہ یہ یقین رکھیں کہ وقت بد سے بد تر بھی ہو تو گزر جاۓ گا کبھی رکے گا نہیں ۔ اگر آپ کے پاس جینے کی کوٸی وجہ نہیں تو کم ازکم دوسروں کے لیے جینا سیکھیں۔ اگر آپکو اپنی زندگی سے شکایات ہیں تو ان اپنوں کے بارے میں سوچے جنہیں آپکی زندگی بہت عزیز ہے۔ ہماری زندگی صرف ہماری نہیں ہوتی یہ تو اللہ کی امنت ہوتی اور ہمارے اپنے جنہیں ہم بہت عزیز ہوتے ان کے لیے بھی بہت قیمتی ہوتی صرف مشکلات کو دیکھ کر خودکشی کا فیصلہ کرنے کی بجاۓ اپنوں کے بارے میں ضرور سوچے کیونکہ وقت نے تو گزر جانا بس آپ اپنا نقصان کر بیٹھیں گے۔ پریشانیاں حقیقت میں نہیں بلکہ ہمارے دماغ میں ہوتیں ہم جتنا زیادہ ان کے بارے میں سوچیں گے یہ اتنی ہی بڑھ جاٸیں گی اس لیے پرسکون رہ کر مساٸل کا حل تلاش کریں کیونکہ اس دنیا میں ایسا کوٸی مسٸلہ نہیں ہے جسکا حل موجود نہ ہو۔ حل کے بارے میں سوچیں گے تو حل نظر آۓ گا مشکلات کے بارے میں سوچیں گے تو مشکلات ہی نظر آٸیں گی۔ زندگی سے محبت کرنا سیکھیں یہ اتنی فالتو نہیں کہ آپ اسے لمحوں میں ضاٸع کر دیں
    ”قہقے درد کی شدت میں لگا دیتے ہیں۔۔اے زندگی ہم تیری توقیر بڑھا دیتے ہیں“ خود کو سمجھاۓ کہ آپ بہت انمول ہیں اتنے فالتو نہیں کہ چند برے حالات کی وجہ سے خود کو ضاٸع کر دیں۔ اور اگر پھر بھی جینے کی وجہ نہ ملے تو فقط اتنا سوچیے گا کہ آپ آخر اب تک کیوں زندہ ہیں?

    @b786_s

  • انصاف (عدالت) اور معاشرہ  . تحریر : ذیشان علی

    انصاف (عدالت) اور معاشرہ . تحریر : ذیشان علی

    کوئی بھی معاشرہ اصول قوانین اور ضابطہ اخلاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کسی بھی معاشرے اور ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کو انصاف دیا جائے، بحیثیت مسلمان ہمیں ظلم اور بے انصافی زیب نہیں دیتی ہمارے لیے حکم ہے کہ انصاف کے ساتھ پورا تولو اور حد سے تجاوزنہ کرو صلہ رحمی کرو بےشک اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.

    اللہ تعالی قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے،
    "یقیناً اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرو یقین رکھو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے، بےشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ” سورہ نساء 58.

    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے جب لوگوں کے درمیان کسی مقدمے کا فیصلہ کرو تو ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو یا دوست ہو یا دشمن فیصلہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ تمام تعلقات سے الگ ہو کر سچائی کے ساتھ اور انصاف پر مبنی فیصلہ کریں،
    جو فیصلہ اپنے پرائے کے تعلقات پر مبنی ہو جو فیصلہ حقائق کو چھپا کر اور جو فیصلے تعلقات پر مبنی پیسہ وجائیداد کے عوض کیے جائیں وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آتے.

    انصاف پر قائم رہنا کسی حکومت اور عدالت کا ہی کام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے، یعنی دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دے، عام فہم الفاظ میں کہ انصاف کو خریدنے اور بیچنے سے بچا جائے، جو ریاست اپنی رعایا کو انصاف دیتی ہے انصاف وہ جو صاف شفاف ہو جو امیر غریب گورے کالے میں بغیر کسی فرق رکھے کیا جائے اور نہ کسی کا عہدہ یا پیسہ و جائیداد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہو.

    جو معاشرے جو ریاستیں انصاف قائم نہیں کرسکتے پھر ان ریاستوں میں اور معاشروں میں ظلم بڑھتا ہے اور ظلم کے ساتھ فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے کوئی بھی ریاست اور معاشرہ ظلم اور فتنوں کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا یعنی انصاف کا قتل معاشروں اور ریاستوں کے لئے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.

    چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے،
    "ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے احکام دے کر بھیجا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) انصاف کرنے کے احکام کو نازل فرمایا،
    تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں” سورہ الحدید 25.

    ریاست اسلامی ہو یا غیر اسلامی معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل کو قائم رکھنے ہی میں سب کی بھلائی ہے،
    اللہ تعالی کی کلام مسلم اورغیرمسلم تمام کے لیے ہے، اس میں کائنات کی وسعتوں کی تمام نشانیاں ہیں اس میں زندگی گزارنے کے طور طریقے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم کیا گیا اس کتاب کی تلاوت کرنا اور اسے سمجھنا اور اس پرعمل کرنا.
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو اور ہماری عدالتوں کو انصاف پر قائم رکھے، ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند ہو انصاف پسند افراد خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں خوبصورت معاشرہ خوبصورت قوم اور خوبصورت ریاست میں بدل جاتا ہے، خوبصورت معاشرے خوبصورت ریاستیں ظلم و زیادتی سے نہیں عدل و انصاف سے ہی قائم ہو سکتی ہیں،

    @zsh_ali

  • نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟  تحریر  :  ملک علی رضا

    نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟ تحریر : ملک علی رضا

    پاکستان اور افغانستان سیمت موجودہ خطے کے حالات کس طرف جا رہے ہیں یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے سابق تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور پاکستان کی عدالتوں سے مفرور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک بڑی جماعت کے تا حیات نا اہل سربراہ میاں نواز شرف جو اس وقت لندن میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں انہوں نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر حمد اللہ محب اور وزیر برائے امن و امان سید سعادت منصور نادر نے وفد کے ہمراہ لندن میں ملاقات کی ،یہاں یہ بات یاد رہے کہ افغانستان کے سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب جو کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے جب سے پاکستان نے امریکہ کو آنکھیں دیکھانا شروع کیں کہ ہم کسی قسم کی سرزمین نہیں دیں گے کو دوسرے ممالک کیخلاف استعمال ہو، تب سے اس شخص نے پاکستان نے گالیاں اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہاہے ۔ کابل انتظامیہ بھی اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے وہ بھِی بار بار پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اورالزام تراشیاں کر ر رہے ہیں۔
    حمد اللہ محب نے پاکستان کو "چکلا” جیسے القابات سے بھی مخاطب کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تمام فورمز پر افغانستان کے مشیر قومی سلامتی سے ہر قسم کی تعلق کو ختم کر دیا اور افغانستا میں موجود اپنے عملے کو بھی احکامات جار کر دیے تھے کہ اس شخص سے کسی قسم کی ملاقات نہ کی جائے اور نہ ہی اس سے کوئی بات شئیر کی جائے، پھرحمد اللہ محب نے بیرون ممالک میں پاکستان کیخلاف احتجاجی مظاہرے بھی کروائے جن میں پاکستان مخالف نعرے درج تھے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔جب یہ ملاقات ہو رہی تھی تو دوسری جانب لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی باہر سینکڑوں کی تعداد میں افغانی پاکستان مخالف احتجاجی مظاہر ہ بھیِ کر رہے تھےوہاں پر موجود عملے ہو حراساں کیا ، پاکستانی شہریوں پر تشدد کیا، مظاہرے میں پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے اور نجانے کیا کچھ نہیں کہا گیا۔
    یہ بات جو سب سے اہم ہے یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کروا کون رہا ہے تو جان لیجے حمد اللہ محب امریکہ کا پالتو ہے اور بھارتی نواز ایجنڈے پر مکمل عمل پیرا ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔اور اس وقت وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہاں تک کہ افغان حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ سب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی باہمی رضا مندی سے کر رہی ہے جو آرڈر ان کو دیا جاتا ہے یہ اس پر من وعن عمل کرتے ہیں۔
    باتیں بہت سی ہیں مگر فلحال آپ لوگوں کو بتانا یہ ہے کہ یہ ملاقات کیوں ہوئی ہے اور کس لیے کروائی گئی ہے ۔۔۔؟؟؟
    اس وقت پاکستان کے اندر بھارت کے تمام منصوبے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نےبُرے طرح ناکام بنا دیے ہیں ، جنکے ثبوت پوری دنیا سے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔بھارتی وفد کی افغانی وفد سے اہم ملاقات ایک تیسرے ملک میں ہوئی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے سب سے اہم شخصیت کا استعمال کیا جائے کیونکہ وہ شخصیت اس وقت پاکستان کی حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کیخلاف برسر پیکار ہے۔اور وہ شخصیت ہے لند ن میں بیٹھے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ، اس کام کے لیے مکمل ایجنڈا دے کر حمد اللہ محب کو بھیجا گیا ۔افغان عملے نے وہاں پہنچے سے پہلے لندن میں نواز شریف سےرابطہ کیا کہ ہمیں ملاقات کا شرف بخشا جائے تو نواز شریف انکے سامنے لیٹ گئے اور کہا حضور جب آپکا دل چاہے آپ آیں ہم ملاقات کے لیے حاضر ہیں۔
    یہاں کچھ سوالات ہیں جن کا جواب یا تو ن لیگ دے سکتی ہے یا پھر نواز شریف، سوال یہ ہے کہ
    پاکستان کو گالیاں دینے والے سے نواز شریف نے ملاقات کیوں کی ؟
    نواز شریف پاکستان کی عدالتوں میں مفرور ہیں پھر ان سے ملنے کا مقصد ؟
    نواز شریف نے اس ملاقات سے پہلے ن لیگ یا حکومت کو اعتماد میں لیا ؟
    نجانے اور کتنے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا نواز شریف کا کام بنتا ہے مگر وہ جواب کیا دیتے جب انکی بیٹی نے اس ملاقات کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا کہ جواب مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بہرحال یہ سوالات ہر پاکستانی کے دماغ میں ضرور ہیں۔
    اس ملاقات کی اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کو اب آنے والے دنو ں میں کچھ ایسے بیانات دلوانے جا سکتے ہیں جو کہ پاکستان کے وقار کو مجروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں نواز شریف کو بھاری پیشکش بھی کی گئی ہوگی کہ اگر وہ مکمل طور پر انکے ایجنڈے پر من و عن عمل کریں گے تو امریکہ انکو ریلیف دلوانے کے اقدامات کر سکتا ہےجس سے وہ بچ سکتے ہیں۔اب ان میں سرکاری راز بھی شئیر کیے جا سکتے ہیں جو کہ پہلے بھی نواز شریف اور مریم نواز دھمکا چکے ہیں کہ اگر یہ ہوا تو ہم وہ کردیں گے اور وہ کریںگے یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بدنام کرنے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈہ کیا جائے گا جس سے پاکستان ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ سے نکلنے میں مزید دشواریاں ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اب خیر منا لو آپکا تین بار کا وزیر اعظم رہنے والا نواز شریف اب ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جو چاہیں گے اس سے کروایں گے اور اس میں کوئی دوسری آپشن نہیں کہ نواز شریف ایسا نہ کریں ۔
    پاکستان کے اہم راز وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں اس لیے جو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کو سپورٹ کر رہا ہے اس الزام کو سچ بنانے کے لیے نواز شریف سے بیانات دلوائے جاسکتے ہیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن و امان کے لیے اپنی مصالحانہ کوشش کو سپورٹ کیا مگر کابل انتظامیہ کو ڈر یہ ہے کہ اگر کابل پر بھی افغان طالبان قبضہ کر لینگے تو انکی حکومت ختم ہوجائے گی اور اس طرح بھار کی اربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ ڈوب جائے گیاور جو کچھ وہ کرتے ہیں پاکستان کیخلاف افغانستان کے ذریعے وہ سب عیاں ہوجائے گا اس لیے بھارت ہر وہ کوشش کرے گا جس سے پاکستان پر دباو پڑے اور لوگوں کا دھیان افغانستا ن سے ہٹے اور پاکستان کی جان ہوجائے۔
    نواز شریف کی اس ملاقات کیوجہ سے مسلم لیگ ن شدید تنقید کا سامنہ کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے نواز شریف کو ملک دشمن قرار دےدیا ۔

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم
    سوشل میڈیا کے استعمال کے لی چند اخلاقی ضوابط جن کا خیال رکھ کر ہم خود کو اور دوسروں کو ذہنی کوفت سے بچا سکتے ہیں.
    *بہترین اور تعمیری مواد آپ لوڈ کریں
    *کاپی پیسٹ کی بجائے قوٹ یا ری ٹویٹ کریں
    *کسی کی تحریر کے ساتھ منقول ضرور لکھیں
    *شاعری لکھتے وقت شاعر کا نام ضرور لکھیں
    *آیت کا حوالہ آیت نمبر اور پارہ نمبر درج کریں
    *حدیث کا حوالہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ درج کریں
    *گالی سے پرہیز کریں
    *اور جہاں دلیل دینا لازم ہو ادب و احترام کے ساتھ دلیل دیں
    *اول تو خبر کی تصدیق ہو جانے تک خبر نہ دیں
    *اور اگر تصدیق کے بغیر خبر دیں تو ساتھ غیر مصدقہ ضرور لکھیں
    *سوشل میڈیا پہ آپکی ٹائم لائن آپ کا آئینہ ہے جیسی ٹائم لائن ویسی آپکی شخصیت ہے تو سوچ سمجھ کر شئیرنگ کریں
    *اگر آپکی دی گئی خبر یا تبصرہ سچ ثابت نہیں ہوتا تو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کریں یا متعلقہ مواد حذف( ڈیلیٹ) کر دیں
    *اپنے اصل نام اور تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ بنائیں
    *فیک اکاؤنٹ یا فرضی نام سے آپکی شخصیت چھپ جاتی ہے
    *بلا ضرورت اور بلا اجازت ان باکس میں میسج نہ بھیجیں
    *اپنی بائیو میں اپنی دلچسپی اور وابستگی کا اظہار لازم کریں تاکہ فالو کرنے والے کو معلوم ہو کہ آپکی وابستگی کا مرکز کیا ہے
    *سیاسی اور مذہبی اختلافات کا اظہار دلائل اور ثبوت کے ساتھ کریں نا کہ تلخ کلامی اور بدزبانی سے
    *ایسی موضوعات سے اجتناب کریں جن سے شر پھیلنے کا خدشہ ہو
    *اپنے عقائد کی ترویج ضرور کریں دوسروں کے عقائد کی نفی اور توہین کے بغیر
    *ہنسی مزاح کے موضوعات میں لغو زبانی اور فحش گوئی شامل کر کے اپنی شخصیت متاثر نہ کریں
    *تنقید برائےتنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کریں
    *تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر شخص کی ذاتی پسند نا پسند ہے اور رائے کا اظہار کرنا اسکا حق ہے
    *اپنے قومی اور ملکی معاملات پہ دفاعی غرض تحریر پاجائیں
    جہاں اپنی قوم کی اصلاح ممکن ہو اردو زبان میں تحریر کریں
    *سچ کا ساتھ دیں چاہے وہ آپ کے عقیدے آپکی سیاسی وابستگی کے مخالف شخص ہی کیوں نہ ہو.

    *جب بحث طول پکڑے اور فضول ہونے لگے تو وسلام کہہ کر گفتگو سمیٹ دیں
    *ممکن ہو تو گالی کے جواب میں گالی کی بجائے بلاک کا بٹن استعمال کریں.
    یہ نکات سوشل میڈیا پہ آپ کی ویلیڈٹی تو بڑھائیں گے ہی ساتھ آپکو بہترین وقت صرف کرنے کا موقع ملے گا.

    @hsbuddy18

  • کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    منٹو اس معاشرے کے حساس اور نامور لکھاری کہیں نا کہیں اپنی ہی بہتر نصف کے معاشی تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے

    صفیہ نے کیا نہیں کیا تھا منٹو کیلئے جب منٹو سے ان کی شادی ہوئی تو منٹو کے پاس سوائے "منٹو”نام کے کچھ نہیں تھا زبردستی حاصل کئے گئے کہانی کے معاوضے جو کہ قریباً پانچ سو روپے تھا صفیہ نے انکے ساتھ زندگی کی شروعات کی. وہ حسین دور کہ جب ایک لڑکی اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجاتی ہے صفیہ کو منٹو نے سوائے ادھار کی روٹی کے کیا دیا

    سعادت حسین منٹو کہتے ہیں
    "مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نا ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا کیا صابر عورت تھی کہان طعنوں اور نشے سے چورپچیس روپے کا ایک کہانی فروش کہاں صفیہ یہ دس روپے آپ کی بوتل کے پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس اس میں گھر کا خرچا چل جائے گا آپ بلکل پریشان نا ہوں میں ہوں نا……. ”
    آہ منٹو آہ وہ لکھاری جو عورت کے مدوجزر سے لے کر اسکی خواہشات تک پر لکھ لیتا تھا اپنی عورت کا درد اسکی تمنائیں نا سمجھ پایا منٹو کیلئے بوتل عزیز تھی صفیہ نہیں جب معلوم تھا مشکل ہے تو کیا منٹو کا حق بنتا تھا کہ جو پچیس روپے کماتے اس میں سے دس روپے اپنی شراب نوشی پر خرچ کرتے. کیا شراب انکے لئے اپنی تین ننھی پریوں سے زیادہ افضل تھی کیا منٹو کو صفیہ کا ساتھ ایسے نہیں دینا چاہیے تھا جیسے صفیہ نے دیا.
    صفیہ نے کیا نہیں کیا انکو شراب نوشی سے بچانے کیلئے شوہر کو سمجھایا انکی منت ترلے کیلئے گھنٹوں پہرا دیتی کہ شراب نا پئیں حتیٰ کہ مینٹل ہسپتال میں علاج کے غرض سے داخل بھی کروادیا ادبی محفلوں میں انکے ساتھ جاتیں کہ رستہ نا بھٹک جائے مگر منٹو نا بدلے یہاں تک کے صفیہ کے گھر میں غربت اور اداسی نے ڈیرے ڈال دئیے.
    محبت کی معراج تو صفیہ نے پائی منٹو جو اس معاشرے کے ناسور سماج کو دکھاتے اپنی زوجہ کے روح پر لگے زخم نا دیکھ سکے نگہت نصرت اور نزہت کی آنکھوں کی ویرانی نا دیکھ سکے
    منٹو سے مایوس ہوکر ایک ماں نے اپنے بچوں کی تربیت میں پناہ ڈھونڈی صفیہ بہت ہمت اور جرات والی تھی کہ جس نے اپنے مزاج خدا کی نظر اندازی کو اپنی طاقت بنایا اپنی بچیوں کی پرورش کی انکی شادیاں کی اس تمام عرصے میں نا "منٹو” کا نام نا اسکے نام سے ملنے والی رائلٹی اس کے کوئی کام آئی صفیہ منٹو کی محبت نا تھی بس
    آج منٹو کا نام ہر جگہ گونجتا ہے مگر صفیہ کہیں نہیں ہے مگر یہ بات درست ہے کہ اگر صفیہ نا ہوتی تو منٹو نا ہوتا.

    @Chiishmish

  • پیسے کو سلام  تحریر:  محمد احسن گوندل

    پیسے کو سلام تحریر: محمد احسن گوندل

    شام ہوتے ہی شیخ صاحب کی بیٹھک میں گاؤں کے تقریباً تمام بڑے بڑے چوہدری بیٹھے ہوتے تھے۔کسی نے کوئی بھی کام شروع کرنا ہوتا نیا گھر بنانے سے لیکر بچوں کی شادی تک سب شیخ صاحب کے مشورے سے ہوتا۔ ان کو ایک بار اطلاع کرنی ہوتی یہ سب سامان ان کے گھر پہنچا دیتے چاہے کسی کے بچے کی شادی ہو یا کسی کا کوئی فوت ہوا ہو۔ یہ ایک قسم کے ان کے فنانس منسٹر لگتے تھے۔
    گاوں میں کسی خوشی یا غمی پر یہ خود لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتے اور ہر طرح کی ضروریات پوری کرتے۔
    کسی بھی محفل میں شیخ صاحب کے آنے پر ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا آؤ بگھت کی جاتی۔
    ان کے گھر اکثر ان کے رشتہ دار بچوں سمیت مہینوں رہتے تھے۔
    یہ پیشے کے لحاظ سے ایک بیوپاری تھے اپنے اور آس پاس والے گاؤں سے گندم اور مونجی (دھان) خریدتے تھے اور آگے منڈی میں بیچ دیتے ساتھ میں ایک بہت بڑی کریانے کی دوکان بھی تھی۔ پورے گاؤں کے لوگ اپنی خوشی غمی میں ان کی دوکان سے کھانے پینے کا تمام سامان لے جاتے اور پھر سال سال بعد انکو رقم لوٹاتے۔
    یہ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اور بچے بھی ابھی چھوٹے تھے ان کا کاروبار اتنا بڑھ چکا تھا کہ انکے لیے اکیلے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ دو تین بڑے چوہدری جو ان کے زیادہ قریب تھے وہ ان کے کاروبار میں صلاح مشورے دینے لگے اور ہر اسی کام کا مشورہ دیتے جو ان کے اپنے مفاد میں ہوتا۔ کم پڑھے لکھے ہونے کیوجہ سے یہ احساب کتاب میں مار کھا گئے اور آستہ آہستہ یہ گھاٹے میں جانے لگے اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ بہت بڑی رقم کے قرض دار ہوگئے۔
    یہ بات بہت جلد پورے گاؤں میں پھیل گئی اور سب سے پہلے جو ان کے زیادہ قریبی تھے جن پر شیخ صاحب کے بہت سے احسانات تھے انہی لوگوں نے اپنی فصلیں انکو بیچنے سے انکار کر دیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی بھی ان کو اپنی فصل بیچنے کو تیار نہ ہوا۔یوں انکا پورا کاروبار بیٹھ گیا۔
    ان سب نے ایک دم سے ایسے آنکھیں پھیری کہ جیسے شیخ صاحب کو جانتے ہی نہ ہوں ۔انہی چوہدریوں نے انکوں اتنا تنگ کیا کہ اپنے بچے چھوڑ کر گاؤں سے جانا پڑا۔
    وہ جنکے بچوں کی فیسیں بھرتے تھے پھر انکی شادیوں کا خرچہ اٹھاتے تھے انہوں نے ان کے بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا اور شیخ صاحب کے بچوں کو گھیسٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال کر قبضہ کر لیا۔ ان کے بچے اب اسی اپنے گھر کے سامنے گودام میں رہتے ہیں۔
    اب دور کے رشتے دار تو الگ بات ان کے سگے بھی ان کے گھر کی طرف منہ نہی کرتے۔ میری ان سے ایک بار بس میں ملاقات ہوئی میں نے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کیا تو کہنے لگے بس پیسے کو ہی سلام ہے پیسا تھا تو رشتے دار بھی بہت تھے اور صلاح گیر بھی اب در بدر دکھے کھا رہا ہوں کوئی پوچھتا تک نہیں۔
    یہی حقیقت ہے اس دنیا کی لوگ آج کل کسی کو اہمیت اسکی مالی حثیت دیکھ کر دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ سب اسی کے ہیں۔
    میری دعا ہے اللہ شیخ صاحب پر اپنا خصوصی کرم فرمائے اور انکی مشکلیں آسان فرمائے۔
    آمین ثم آمین

    @ahsangondalsa

  • منارۂ نور بن جائیں۔ تحریر: نصرت پروین

    منارۂ نور بن جائیں۔ تحریر: نصرت پروین

    تاریخ گواہ ہے کہ فلاح و کامرانی اور نفع مندی کے تمام اعمال انبیا کا شیوہ رہے اور انہی اعمال کا بدلہ جنت ہے۔ انبیا ہمیشہ لوگوں کے لئے منارۂ نور (روشنی کا مینار) بنے۔ انبیا نے دنیا کے تمام معزز اور عظیم کام سر انجام دئیے۔ انبیا نے انسانوں کو جنت کا راستہ دکھایا انہیں رب کی طرف بلایا اور معصیت میں پڑنے سے ڈرایا اور آج یہ ہی امت مسلمہ کا مقصد حیات ہے۔
    الله رب العزت کا فرمان ہے:
    کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ ﴿۱۱۰﴾
    تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو،اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو۔
    (سورہ آل عمران:110)
    آپ غور کریں کہ رب العزت کی ساری مخلوقات کتنے کام سر انجام دے رہی ہیں۔ فرشتے الله کے حکم سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح سورج، چاند، ستارے سب الله کے حکم سے کائنات میں روشنی پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ساری روشنیاں انسان کی مادی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور جیسے اقبال نے کہا:
    "ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
    اپنے افکار کی دنیا کا سفر کر نہ سکا-
    وہ جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
    زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا-”
    یعنی آج کا انسان ستاروں کے راستے تلاش کرتا ہے سورج کی شعاؤں پر کام کر رہا ہے یقیناً یہ نفع مندی کے کام ہیں لیکن اس سے بھی نفع مند اور عظیم کام لوگوں کو رب کی معرفت کرانا، انہیں رب کی طرف بلانا اور جنت کے راستے پہ چلانا ہے اور یہ ہی زندگی کی شبِ تاریک کو سحر کرنے کا کام ہے جو آج نہیں ہو پا رہا۔ آج ہم بے چینی اور انتشار کا شکار ہیں۔ آج ہم دن رات مادی ضروریات کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور اس مادی جدوجہد میں جنت کا راستہ ہم سے کہیں کھو گیا ہے۔ آج ہمیں ہماری ذات کا پتہ نہیں چلتا ہمیں اپنے رب کا کھوج نہیں ملتا جس نے ہمیں پیدا کیا، آج ہم نے جنت کے راستے کو چھوڑ دیا ہے:
    "آئے تھے کیا کرنے اور کیا کر چلے؟”
    انسان ہمیشہ یہ ہی سوچتا ہے کہ اپنی ذات اور روزی کے حصول کے لئے جو کام کئے جائیں وہ ہی اصل کام ہیں۔ اسطرح اسکے مادی وجود کے لئے روزی کا اہتمام ہوجاتا ہے۔ زندگی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اسے جینے کے لئے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے پھر اسے سمجھ نہیں آتی کہ اب تمام قوتیں مل گئیں جینے کے لئے سب کچھ حاصل ہو گیا اب کیا کروں؟
    اب ذہنی دباؤ کیوں؟
    کیونکہ وہ سب سے افضل کام نہیں کرتا وہ سب سے عظیم کام جو حقیقی نفع مندی کا راستہ ہے وہ کام "دعوت الی الله” ہے۔ داعی الی الله (الله کی طرف بلانے والا) کائنات کا خوش نصیب ترین انسان ہے کیونکہ وہ منارۂ نور (روشنی کا مینار) ہوتاہے وہ خود روشن ہوتا ہے اور اسکی روشنی دوسروں تک پہنچتی ہے۔ وہ لوگوں کو رب سے جوڑتا ہے انہیں جنت کے راستے کیطرف بلاتا ہے۔ داعی الی الله جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اسکے توسط سے ایمان کی روشنی ارد گرد پھیلتی ہے۔
    اگر آج دیکھیں تو ہر طرف دشمنان اسلام غالب ہیں۔ مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اسکی ایک اہم وجہ مسلمانوں کا دعوت الی الله کا کام نہ کرنا ہے۔
    تو اپنا مقصدِ حیات پہچانئیے اور منارۂ نور بن جائیے لوگوں کو رب سے جوڑ دیں دعوت الی الله ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔دعوت شہد ہے یہ پہلے داعی کے اندر تیار ہوتا ہے۔ پھر لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جب داعی دعوت دیتا ہے تب اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ یہ بشیر و نذیر کا کردار ہے دوسروں پر واضح کرنا کہ الله تعالیٰ نیکیوں پر کیا اجر دینے والا ہے اور گناہوں پر کیسی پکڑ کرنے والا ہے۔
    الله سے دعا ہے کہ ہمیں بہترین منارۂ نور بنائیں اور ہم یہ نورپھیلانے کا کام تاحیات جاری رکھ سکیں۔ آمین
    @Nusrat_186

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • یہ دنیا آزمائش ہے  تحریر : ایم ابراہیم

    یہ دنیا آزمائش ہے تحریر : ایم ابراہیم

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے.
    ترجمہ: "اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کسی قدر ڈر اور بھوک سے مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے سے اور بشارت دیجئے صبر کرنے والوں کو” (القرآن 2:155)
    یعنی اللہ تعالی انسان کو بیماری بھی دے سکتا ہے اور اولاد کی پریشانی بھی اور دنیاوی مال کے نقصان سے بھی آزما سکتا ہے. اس دنیا میں اللہ تعالی انسان کو ان چیزوں کےنقصان سے آزما سکتا ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے. اور آگے فرمایا گیا ہے جس نے صبر کیا ان کو بشارت دے دیجیے یعنی وہ کامیاب ہو گیا. اور ہوا بھی ایسا ہے حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں. ان مصیبتوں اور نقصان کے آنے پر انسان کو صبر کرنا چاہیے جیسے مذکورہ ہستیوں نے مصیبتوں کے پہاڑ آنے پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا. حضرت ایوب علیہ السلام کے دس بیٹے چلے گئے اپنی جوانی، بادشاہت چلی گئی، تمام مال چلا گیا لیکن حضرت ایوب نے ان تمام مصیبتوں کا صبر سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہے. اسی طرح حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی اپنا وطن بلکہ اپنے پیارے نانا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مدینہ جسے لوگ ‘مدینۃُالمُحمد’ کہا کرتے تھے چھوڑ کر کربلا جیسی سنگلاخ زمین پر اپنا اور اپنے اقربا و صحابہ کی جان کا نذرانہ دے دیا اور کربلا جیسے سنگلاخ زمین کو کربلائے معلیٰ بنا دیا. آپ نے اس طرح صبر کیا اور امتحان میں کامیاب ہوئے کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی اور نہ ملے گی.

    اسی طرح آج کے انسان کو بھی آنے والی مصیبتوں اور الائم کا ایسی ہستیوں کے نقش قدم پر چل کر صبر کرنا چاہیے جب وہ ایسا کرے گا تو اس کا اجر اگلی دنیا میں ملے گا. اس دنیا میں آزمائش سے اگلی دنیا میں عیش حاصل کی جا سکتی ہے یہ دنیا امتحان ہے.
    اس دنیا میں مال و دولت یا آرائش کی چیزوں کا زیادہ ہونا بھی آزمائش ہے جیسا کا قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے
    ترجمہ : "اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں” (20:131)
    اور غربت، بھوک اور تنگدستی بھی امتحان ہے کہ ایسے حالات میں انسان کیا کرتا ہے. یقیناً ایسے حالات میں اللہ پہ قوی یقین اور صبر ہی کام آتا ہے.

    لیکن موجودہ دور کے انسان نے الٹ کر رکھا ہے اس آزمائش کی دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے تو اگلی دنیا میں مشکل ہوگی یہ تو اگلے جہان تک جانے کا راستہ ہے اور اس راستہ میں رکاوٹیں بھی آئیں گی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا. جو ان رکاوٹوں کو پار کر گیا اس نے اگلی دنیا میں کامیابی حاصل کر لی. اللہ ہمیں ان ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور اللہ ہم سب کو اگلی دنیا میں کامیابی عطا فرمائے. آمین

    ٹوئٹر: ibrahimianPAK@