Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟  تحریر  :  ملک علی رضا

    نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟ تحریر : ملک علی رضا

    پاکستان اور افغانستان سیمت موجودہ خطے کے حالات کس طرف جا رہے ہیں یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے سابق تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور پاکستان کی عدالتوں سے مفرور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک بڑی جماعت کے تا حیات نا اہل سربراہ میاں نواز شرف جو اس وقت لندن میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں انہوں نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر حمد اللہ محب اور وزیر برائے امن و امان سید سعادت منصور نادر نے وفد کے ہمراہ لندن میں ملاقات کی ،یہاں یہ بات یاد رہے کہ افغانستان کے سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب جو کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے جب سے پاکستان نے امریکہ کو آنکھیں دیکھانا شروع کیں کہ ہم کسی قسم کی سرزمین نہیں دیں گے کو دوسرے ممالک کیخلاف استعمال ہو، تب سے اس شخص نے پاکستان نے گالیاں اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہاہے ۔ کابل انتظامیہ بھی اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے وہ بھِی بار بار پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اورالزام تراشیاں کر ر رہے ہیں۔
    حمد اللہ محب نے پاکستان کو "چکلا” جیسے القابات سے بھی مخاطب کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تمام فورمز پر افغانستان کے مشیر قومی سلامتی سے ہر قسم کی تعلق کو ختم کر دیا اور افغانستا میں موجود اپنے عملے کو بھی احکامات جار کر دیے تھے کہ اس شخص سے کسی قسم کی ملاقات نہ کی جائے اور نہ ہی اس سے کوئی بات شئیر کی جائے، پھرحمد اللہ محب نے بیرون ممالک میں پاکستان کیخلاف احتجاجی مظاہرے بھی کروائے جن میں پاکستان مخالف نعرے درج تھے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔جب یہ ملاقات ہو رہی تھی تو دوسری جانب لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی باہر سینکڑوں کی تعداد میں افغانی پاکستان مخالف احتجاجی مظاہر ہ بھیِ کر رہے تھےوہاں پر موجود عملے ہو حراساں کیا ، پاکستانی شہریوں پر تشدد کیا، مظاہرے میں پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے اور نجانے کیا کچھ نہیں کہا گیا۔
    یہ بات جو سب سے اہم ہے یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کروا کون رہا ہے تو جان لیجے حمد اللہ محب امریکہ کا پالتو ہے اور بھارتی نواز ایجنڈے پر مکمل عمل پیرا ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔اور اس وقت وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہاں تک کہ افغان حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ سب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی باہمی رضا مندی سے کر رہی ہے جو آرڈر ان کو دیا جاتا ہے یہ اس پر من وعن عمل کرتے ہیں۔
    باتیں بہت سی ہیں مگر فلحال آپ لوگوں کو بتانا یہ ہے کہ یہ ملاقات کیوں ہوئی ہے اور کس لیے کروائی گئی ہے ۔۔۔؟؟؟
    اس وقت پاکستان کے اندر بھارت کے تمام منصوبے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نےبُرے طرح ناکام بنا دیے ہیں ، جنکے ثبوت پوری دنیا سے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔بھارتی وفد کی افغانی وفد سے اہم ملاقات ایک تیسرے ملک میں ہوئی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے سب سے اہم شخصیت کا استعمال کیا جائے کیونکہ وہ شخصیت اس وقت پاکستان کی حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کیخلاف برسر پیکار ہے۔اور وہ شخصیت ہے لند ن میں بیٹھے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ، اس کام کے لیے مکمل ایجنڈا دے کر حمد اللہ محب کو بھیجا گیا ۔افغان عملے نے وہاں پہنچے سے پہلے لندن میں نواز شریف سےرابطہ کیا کہ ہمیں ملاقات کا شرف بخشا جائے تو نواز شریف انکے سامنے لیٹ گئے اور کہا حضور جب آپکا دل چاہے آپ آیں ہم ملاقات کے لیے حاضر ہیں۔
    یہاں کچھ سوالات ہیں جن کا جواب یا تو ن لیگ دے سکتی ہے یا پھر نواز شریف، سوال یہ ہے کہ
    پاکستان کو گالیاں دینے والے سے نواز شریف نے ملاقات کیوں کی ؟
    نواز شریف پاکستان کی عدالتوں میں مفرور ہیں پھر ان سے ملنے کا مقصد ؟
    نواز شریف نے اس ملاقات سے پہلے ن لیگ یا حکومت کو اعتماد میں لیا ؟
    نجانے اور کتنے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا نواز شریف کا کام بنتا ہے مگر وہ جواب کیا دیتے جب انکی بیٹی نے اس ملاقات کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا کہ جواب مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بہرحال یہ سوالات ہر پاکستانی کے دماغ میں ضرور ہیں۔
    اس ملاقات کی اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کو اب آنے والے دنو ں میں کچھ ایسے بیانات دلوانے جا سکتے ہیں جو کہ پاکستان کے وقار کو مجروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں نواز شریف کو بھاری پیشکش بھی کی گئی ہوگی کہ اگر وہ مکمل طور پر انکے ایجنڈے پر من و عن عمل کریں گے تو امریکہ انکو ریلیف دلوانے کے اقدامات کر سکتا ہےجس سے وہ بچ سکتے ہیں۔اب ان میں سرکاری راز بھی شئیر کیے جا سکتے ہیں جو کہ پہلے بھی نواز شریف اور مریم نواز دھمکا چکے ہیں کہ اگر یہ ہوا تو ہم وہ کردیں گے اور وہ کریںگے یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بدنام کرنے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈہ کیا جائے گا جس سے پاکستان ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ سے نکلنے میں مزید دشواریاں ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اب خیر منا لو آپکا تین بار کا وزیر اعظم رہنے والا نواز شریف اب ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جو چاہیں گے اس سے کروایں گے اور اس میں کوئی دوسری آپشن نہیں کہ نواز شریف ایسا نہ کریں ۔
    پاکستان کے اہم راز وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں اس لیے جو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کو سپورٹ کر رہا ہے اس الزام کو سچ بنانے کے لیے نواز شریف سے بیانات دلوائے جاسکتے ہیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن و امان کے لیے اپنی مصالحانہ کوشش کو سپورٹ کیا مگر کابل انتظامیہ کو ڈر یہ ہے کہ اگر کابل پر بھی افغان طالبان قبضہ کر لینگے تو انکی حکومت ختم ہوجائے گی اور اس طرح بھار کی اربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ ڈوب جائے گیاور جو کچھ وہ کرتے ہیں پاکستان کیخلاف افغانستان کے ذریعے وہ سب عیاں ہوجائے گا اس لیے بھارت ہر وہ کوشش کرے گا جس سے پاکستان پر دباو پڑے اور لوگوں کا دھیان افغانستا ن سے ہٹے اور پاکستان کی جان ہوجائے۔
    نواز شریف کی اس ملاقات کیوجہ سے مسلم لیگ ن شدید تنقید کا سامنہ کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے نواز شریف کو ملک دشمن قرار دےدیا ۔

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم
    سوشل میڈیا کے استعمال کے لی چند اخلاقی ضوابط جن کا خیال رکھ کر ہم خود کو اور دوسروں کو ذہنی کوفت سے بچا سکتے ہیں.
    *بہترین اور تعمیری مواد آپ لوڈ کریں
    *کاپی پیسٹ کی بجائے قوٹ یا ری ٹویٹ کریں
    *کسی کی تحریر کے ساتھ منقول ضرور لکھیں
    *شاعری لکھتے وقت شاعر کا نام ضرور لکھیں
    *آیت کا حوالہ آیت نمبر اور پارہ نمبر درج کریں
    *حدیث کا حوالہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ درج کریں
    *گالی سے پرہیز کریں
    *اور جہاں دلیل دینا لازم ہو ادب و احترام کے ساتھ دلیل دیں
    *اول تو خبر کی تصدیق ہو جانے تک خبر نہ دیں
    *اور اگر تصدیق کے بغیر خبر دیں تو ساتھ غیر مصدقہ ضرور لکھیں
    *سوشل میڈیا پہ آپکی ٹائم لائن آپ کا آئینہ ہے جیسی ٹائم لائن ویسی آپکی شخصیت ہے تو سوچ سمجھ کر شئیرنگ کریں
    *اگر آپکی دی گئی خبر یا تبصرہ سچ ثابت نہیں ہوتا تو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کریں یا متعلقہ مواد حذف( ڈیلیٹ) کر دیں
    *اپنے اصل نام اور تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ بنائیں
    *فیک اکاؤنٹ یا فرضی نام سے آپکی شخصیت چھپ جاتی ہے
    *بلا ضرورت اور بلا اجازت ان باکس میں میسج نہ بھیجیں
    *اپنی بائیو میں اپنی دلچسپی اور وابستگی کا اظہار لازم کریں تاکہ فالو کرنے والے کو معلوم ہو کہ آپکی وابستگی کا مرکز کیا ہے
    *سیاسی اور مذہبی اختلافات کا اظہار دلائل اور ثبوت کے ساتھ کریں نا کہ تلخ کلامی اور بدزبانی سے
    *ایسی موضوعات سے اجتناب کریں جن سے شر پھیلنے کا خدشہ ہو
    *اپنے عقائد کی ترویج ضرور کریں دوسروں کے عقائد کی نفی اور توہین کے بغیر
    *ہنسی مزاح کے موضوعات میں لغو زبانی اور فحش گوئی شامل کر کے اپنی شخصیت متاثر نہ کریں
    *تنقید برائےتنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کریں
    *تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر شخص کی ذاتی پسند نا پسند ہے اور رائے کا اظہار کرنا اسکا حق ہے
    *اپنے قومی اور ملکی معاملات پہ دفاعی غرض تحریر پاجائیں
    جہاں اپنی قوم کی اصلاح ممکن ہو اردو زبان میں تحریر کریں
    *سچ کا ساتھ دیں چاہے وہ آپ کے عقیدے آپکی سیاسی وابستگی کے مخالف شخص ہی کیوں نہ ہو.

    *جب بحث طول پکڑے اور فضول ہونے لگے تو وسلام کہہ کر گفتگو سمیٹ دیں
    *ممکن ہو تو گالی کے جواب میں گالی کی بجائے بلاک کا بٹن استعمال کریں.
    یہ نکات سوشل میڈیا پہ آپ کی ویلیڈٹی تو بڑھائیں گے ہی ساتھ آپکو بہترین وقت صرف کرنے کا موقع ملے گا.

    @hsbuddy18

  • کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    منٹو اس معاشرے کے حساس اور نامور لکھاری کہیں نا کہیں اپنی ہی بہتر نصف کے معاشی تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے

    صفیہ نے کیا نہیں کیا تھا منٹو کیلئے جب منٹو سے ان کی شادی ہوئی تو منٹو کے پاس سوائے "منٹو”نام کے کچھ نہیں تھا زبردستی حاصل کئے گئے کہانی کے معاوضے جو کہ قریباً پانچ سو روپے تھا صفیہ نے انکے ساتھ زندگی کی شروعات کی. وہ حسین دور کہ جب ایک لڑکی اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجاتی ہے صفیہ کو منٹو نے سوائے ادھار کی روٹی کے کیا دیا

    سعادت حسین منٹو کہتے ہیں
    "مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نا ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا کیا صابر عورت تھی کہان طعنوں اور نشے سے چورپچیس روپے کا ایک کہانی فروش کہاں صفیہ یہ دس روپے آپ کی بوتل کے پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس اس میں گھر کا خرچا چل جائے گا آپ بلکل پریشان نا ہوں میں ہوں نا……. ”
    آہ منٹو آہ وہ لکھاری جو عورت کے مدوجزر سے لے کر اسکی خواہشات تک پر لکھ لیتا تھا اپنی عورت کا درد اسکی تمنائیں نا سمجھ پایا منٹو کیلئے بوتل عزیز تھی صفیہ نہیں جب معلوم تھا مشکل ہے تو کیا منٹو کا حق بنتا تھا کہ جو پچیس روپے کماتے اس میں سے دس روپے اپنی شراب نوشی پر خرچ کرتے. کیا شراب انکے لئے اپنی تین ننھی پریوں سے زیادہ افضل تھی کیا منٹو کو صفیہ کا ساتھ ایسے نہیں دینا چاہیے تھا جیسے صفیہ نے دیا.
    صفیہ نے کیا نہیں کیا انکو شراب نوشی سے بچانے کیلئے شوہر کو سمجھایا انکی منت ترلے کیلئے گھنٹوں پہرا دیتی کہ شراب نا پئیں حتیٰ کہ مینٹل ہسپتال میں علاج کے غرض سے داخل بھی کروادیا ادبی محفلوں میں انکے ساتھ جاتیں کہ رستہ نا بھٹک جائے مگر منٹو نا بدلے یہاں تک کے صفیہ کے گھر میں غربت اور اداسی نے ڈیرے ڈال دئیے.
    محبت کی معراج تو صفیہ نے پائی منٹو جو اس معاشرے کے ناسور سماج کو دکھاتے اپنی زوجہ کے روح پر لگے زخم نا دیکھ سکے نگہت نصرت اور نزہت کی آنکھوں کی ویرانی نا دیکھ سکے
    منٹو سے مایوس ہوکر ایک ماں نے اپنے بچوں کی تربیت میں پناہ ڈھونڈی صفیہ بہت ہمت اور جرات والی تھی کہ جس نے اپنے مزاج خدا کی نظر اندازی کو اپنی طاقت بنایا اپنی بچیوں کی پرورش کی انکی شادیاں کی اس تمام عرصے میں نا "منٹو” کا نام نا اسکے نام سے ملنے والی رائلٹی اس کے کوئی کام آئی صفیہ منٹو کی محبت نا تھی بس
    آج منٹو کا نام ہر جگہ گونجتا ہے مگر صفیہ کہیں نہیں ہے مگر یہ بات درست ہے کہ اگر صفیہ نا ہوتی تو منٹو نا ہوتا.

    @Chiishmish

  • پیسے کو سلام  تحریر:  محمد احسن گوندل

    پیسے کو سلام تحریر: محمد احسن گوندل

    شام ہوتے ہی شیخ صاحب کی بیٹھک میں گاؤں کے تقریباً تمام بڑے بڑے چوہدری بیٹھے ہوتے تھے۔کسی نے کوئی بھی کام شروع کرنا ہوتا نیا گھر بنانے سے لیکر بچوں کی شادی تک سب شیخ صاحب کے مشورے سے ہوتا۔ ان کو ایک بار اطلاع کرنی ہوتی یہ سب سامان ان کے گھر پہنچا دیتے چاہے کسی کے بچے کی شادی ہو یا کسی کا کوئی فوت ہوا ہو۔ یہ ایک قسم کے ان کے فنانس منسٹر لگتے تھے۔
    گاوں میں کسی خوشی یا غمی پر یہ خود لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتے اور ہر طرح کی ضروریات پوری کرتے۔
    کسی بھی محفل میں شیخ صاحب کے آنے پر ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا آؤ بگھت کی جاتی۔
    ان کے گھر اکثر ان کے رشتہ دار بچوں سمیت مہینوں رہتے تھے۔
    یہ پیشے کے لحاظ سے ایک بیوپاری تھے اپنے اور آس پاس والے گاؤں سے گندم اور مونجی (دھان) خریدتے تھے اور آگے منڈی میں بیچ دیتے ساتھ میں ایک بہت بڑی کریانے کی دوکان بھی تھی۔ پورے گاؤں کے لوگ اپنی خوشی غمی میں ان کی دوکان سے کھانے پینے کا تمام سامان لے جاتے اور پھر سال سال بعد انکو رقم لوٹاتے۔
    یہ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اور بچے بھی ابھی چھوٹے تھے ان کا کاروبار اتنا بڑھ چکا تھا کہ انکے لیے اکیلے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ دو تین بڑے چوہدری جو ان کے زیادہ قریب تھے وہ ان کے کاروبار میں صلاح مشورے دینے لگے اور ہر اسی کام کا مشورہ دیتے جو ان کے اپنے مفاد میں ہوتا۔ کم پڑھے لکھے ہونے کیوجہ سے یہ احساب کتاب میں مار کھا گئے اور آستہ آہستہ یہ گھاٹے میں جانے لگے اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ بہت بڑی رقم کے قرض دار ہوگئے۔
    یہ بات بہت جلد پورے گاؤں میں پھیل گئی اور سب سے پہلے جو ان کے زیادہ قریبی تھے جن پر شیخ صاحب کے بہت سے احسانات تھے انہی لوگوں نے اپنی فصلیں انکو بیچنے سے انکار کر دیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی بھی ان کو اپنی فصل بیچنے کو تیار نہ ہوا۔یوں انکا پورا کاروبار بیٹھ گیا۔
    ان سب نے ایک دم سے ایسے آنکھیں پھیری کہ جیسے شیخ صاحب کو جانتے ہی نہ ہوں ۔انہی چوہدریوں نے انکوں اتنا تنگ کیا کہ اپنے بچے چھوڑ کر گاؤں سے جانا پڑا۔
    وہ جنکے بچوں کی فیسیں بھرتے تھے پھر انکی شادیوں کا خرچہ اٹھاتے تھے انہوں نے ان کے بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا اور شیخ صاحب کے بچوں کو گھیسٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال کر قبضہ کر لیا۔ ان کے بچے اب اسی اپنے گھر کے سامنے گودام میں رہتے ہیں۔
    اب دور کے رشتے دار تو الگ بات ان کے سگے بھی ان کے گھر کی طرف منہ نہی کرتے۔ میری ان سے ایک بار بس میں ملاقات ہوئی میں نے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کیا تو کہنے لگے بس پیسے کو ہی سلام ہے پیسا تھا تو رشتے دار بھی بہت تھے اور صلاح گیر بھی اب در بدر دکھے کھا رہا ہوں کوئی پوچھتا تک نہیں۔
    یہی حقیقت ہے اس دنیا کی لوگ آج کل کسی کو اہمیت اسکی مالی حثیت دیکھ کر دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ سب اسی کے ہیں۔
    میری دعا ہے اللہ شیخ صاحب پر اپنا خصوصی کرم فرمائے اور انکی مشکلیں آسان فرمائے۔
    آمین ثم آمین

    @ahsangondalsa

  • منارۂ نور بن جائیں۔ تحریر: نصرت پروین

    منارۂ نور بن جائیں۔ تحریر: نصرت پروین

    تاریخ گواہ ہے کہ فلاح و کامرانی اور نفع مندی کے تمام اعمال انبیا کا شیوہ رہے اور انہی اعمال کا بدلہ جنت ہے۔ انبیا ہمیشہ لوگوں کے لئے منارۂ نور (روشنی کا مینار) بنے۔ انبیا نے دنیا کے تمام معزز اور عظیم کام سر انجام دئیے۔ انبیا نے انسانوں کو جنت کا راستہ دکھایا انہیں رب کی طرف بلایا اور معصیت میں پڑنے سے ڈرایا اور آج یہ ہی امت مسلمہ کا مقصد حیات ہے۔
    الله رب العزت کا فرمان ہے:
    کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ ﴿۱۱۰﴾
    تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو،اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو۔
    (سورہ آل عمران:110)
    آپ غور کریں کہ رب العزت کی ساری مخلوقات کتنے کام سر انجام دے رہی ہیں۔ فرشتے الله کے حکم سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح سورج، چاند، ستارے سب الله کے حکم سے کائنات میں روشنی پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ساری روشنیاں انسان کی مادی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور جیسے اقبال نے کہا:
    "ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
    اپنے افکار کی دنیا کا سفر کر نہ سکا-
    وہ جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
    زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا-”
    یعنی آج کا انسان ستاروں کے راستے تلاش کرتا ہے سورج کی شعاؤں پر کام کر رہا ہے یقیناً یہ نفع مندی کے کام ہیں لیکن اس سے بھی نفع مند اور عظیم کام لوگوں کو رب کی معرفت کرانا، انہیں رب کی طرف بلانا اور جنت کے راستے پہ چلانا ہے اور یہ ہی زندگی کی شبِ تاریک کو سحر کرنے کا کام ہے جو آج نہیں ہو پا رہا۔ آج ہم بے چینی اور انتشار کا شکار ہیں۔ آج ہم دن رات مادی ضروریات کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور اس مادی جدوجہد میں جنت کا راستہ ہم سے کہیں کھو گیا ہے۔ آج ہمیں ہماری ذات کا پتہ نہیں چلتا ہمیں اپنے رب کا کھوج نہیں ملتا جس نے ہمیں پیدا کیا، آج ہم نے جنت کے راستے کو چھوڑ دیا ہے:
    "آئے تھے کیا کرنے اور کیا کر چلے؟”
    انسان ہمیشہ یہ ہی سوچتا ہے کہ اپنی ذات اور روزی کے حصول کے لئے جو کام کئے جائیں وہ ہی اصل کام ہیں۔ اسطرح اسکے مادی وجود کے لئے روزی کا اہتمام ہوجاتا ہے۔ زندگی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اسے جینے کے لئے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے پھر اسے سمجھ نہیں آتی کہ اب تمام قوتیں مل گئیں جینے کے لئے سب کچھ حاصل ہو گیا اب کیا کروں؟
    اب ذہنی دباؤ کیوں؟
    کیونکہ وہ سب سے افضل کام نہیں کرتا وہ سب سے عظیم کام جو حقیقی نفع مندی کا راستہ ہے وہ کام "دعوت الی الله” ہے۔ داعی الی الله (الله کی طرف بلانے والا) کائنات کا خوش نصیب ترین انسان ہے کیونکہ وہ منارۂ نور (روشنی کا مینار) ہوتاہے وہ خود روشن ہوتا ہے اور اسکی روشنی دوسروں تک پہنچتی ہے۔ وہ لوگوں کو رب سے جوڑتا ہے انہیں جنت کے راستے کیطرف بلاتا ہے۔ داعی الی الله جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اسکے توسط سے ایمان کی روشنی ارد گرد پھیلتی ہے۔
    اگر آج دیکھیں تو ہر طرف دشمنان اسلام غالب ہیں۔ مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ اسکی ایک اہم وجہ مسلمانوں کا دعوت الی الله کا کام نہ کرنا ہے۔
    تو اپنا مقصدِ حیات پہچانئیے اور منارۂ نور بن جائیے لوگوں کو رب سے جوڑ دیں دعوت الی الله ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔دعوت شہد ہے یہ پہلے داعی کے اندر تیار ہوتا ہے۔ پھر لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جب داعی دعوت دیتا ہے تب اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ یہ بشیر و نذیر کا کردار ہے دوسروں پر واضح کرنا کہ الله تعالیٰ نیکیوں پر کیا اجر دینے والا ہے اور گناہوں پر کیسی پکڑ کرنے والا ہے۔
    الله سے دعا ہے کہ ہمیں بہترین منارۂ نور بنائیں اور ہم یہ نورپھیلانے کا کام تاحیات جاری رکھ سکیں۔ آمین
    @Nusrat_186

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • یہ دنیا آزمائش ہے  تحریر : ایم ابراہیم

    یہ دنیا آزمائش ہے تحریر : ایم ابراہیم

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے.
    ترجمہ: "اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کسی قدر ڈر اور بھوک سے مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے سے اور بشارت دیجئے صبر کرنے والوں کو” (القرآن 2:155)
    یعنی اللہ تعالی انسان کو بیماری بھی دے سکتا ہے اور اولاد کی پریشانی بھی اور دنیاوی مال کے نقصان سے بھی آزما سکتا ہے. اس دنیا میں اللہ تعالی انسان کو ان چیزوں کےنقصان سے آزما سکتا ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے. اور آگے فرمایا گیا ہے جس نے صبر کیا ان کو بشارت دے دیجیے یعنی وہ کامیاب ہو گیا. اور ہوا بھی ایسا ہے حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں. ان مصیبتوں اور نقصان کے آنے پر انسان کو صبر کرنا چاہیے جیسے مذکورہ ہستیوں نے مصیبتوں کے پہاڑ آنے پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا. حضرت ایوب علیہ السلام کے دس بیٹے چلے گئے اپنی جوانی، بادشاہت چلی گئی، تمام مال چلا گیا لیکن حضرت ایوب نے ان تمام مصیبتوں کا صبر سے مقابلہ کیا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہے. اسی طرح حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی اپنا وطن بلکہ اپنے پیارے نانا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مدینہ جسے لوگ ‘مدینۃُالمُحمد’ کہا کرتے تھے چھوڑ کر کربلا جیسی سنگلاخ زمین پر اپنا اور اپنے اقربا و صحابہ کی جان کا نذرانہ دے دیا اور کربلا جیسے سنگلاخ زمین کو کربلائے معلیٰ بنا دیا. آپ نے اس طرح صبر کیا اور امتحان میں کامیاب ہوئے کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی اور نہ ملے گی.

    اسی طرح آج کے انسان کو بھی آنے والی مصیبتوں اور الائم کا ایسی ہستیوں کے نقش قدم پر چل کر صبر کرنا چاہیے جب وہ ایسا کرے گا تو اس کا اجر اگلی دنیا میں ملے گا. اس دنیا میں آزمائش سے اگلی دنیا میں عیش حاصل کی جا سکتی ہے یہ دنیا امتحان ہے.
    اس دنیا میں مال و دولت یا آرائش کی چیزوں کا زیادہ ہونا بھی آزمائش ہے جیسا کا قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے
    ترجمہ : "اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں” (20:131)
    اور غربت، بھوک اور تنگدستی بھی امتحان ہے کہ ایسے حالات میں انسان کیا کرتا ہے. یقیناً ایسے حالات میں اللہ پہ قوی یقین اور صبر ہی کام آتا ہے.

    لیکن موجودہ دور کے انسان نے الٹ کر رکھا ہے اس آزمائش کی دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے تو اگلی دنیا میں مشکل ہوگی یہ تو اگلے جہان تک جانے کا راستہ ہے اور اس راستہ میں رکاوٹیں بھی آئیں گی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا. جو ان رکاوٹوں کو پار کر گیا اس نے اگلی دنیا میں کامیابی حاصل کر لی. اللہ ہمیں ان ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور اللہ ہم سب کو اگلی دنیا میں کامیابی عطا فرمائے. آمین

    ٹوئٹر: ibrahimianPAK@

  • فیمینسٹ   تحریر انعم نوید

    فیمینسٹ تحریر انعم نوید

    میں بھی فیمینسٹ ہوں. مگر میرا تعلق میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو اور میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی جیسے نعروں کی علمبردار خواتین سے نہیں ہے. میرا جسم میرے خالق کی مرضی. جو میرے اللَّه نے مجھے حکم دیا ہے میں اِس جسم کو ویسا ہی رکھوں گی کیونکہ یہ جسم میرے پاس امانت ہے.

    گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک انٹرویو میں دیے بیان پر بہت واویلا مچا. آزادی پسندوں نے اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا اور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا. سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وزیراعظم کے بیان میں ایسا کیا تھا کہ اتنا واویلا مچا.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ، "اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اِس کا اثر مرد پر ہو گا اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں.” پھر اُنہوں نے مغربی اور مشرقی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ، "مغرب میں ڈسکو اور نائٹ کلبز ہوتے ہیں جو کہ ایک بالکل مختلف رہن سہن اور معاشرہ ہے. مشرقی معاشرے میں یہ سب نہیں ہوتا. اِس وجہ سے یہاں اگر مرد کی شہوت کو اُبھارا جائے گا تو وہ اُس کی تسکین کے لیے اِسی معاشرے میں راہ ڈھونڈے گا. اور اِس کا اثر معاشرے پر پڑے گا.”

    سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ بیان کس حد تک درست ہے. تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہماری معاشرتی اقدار کے حوالے سے یہ بیان بالکل درست ہے.

    اِس بات کے حق بجانب ہونے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کا عورت کے لباس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. ایک عورت اپنی ذاتی زندگی میں مرضی کی مالک ہے اگر وہ اللَّه کا حکم نہیں ماننا چاہتی. مگر عورت مرضی کا لباس پہن کے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی مستحق نہیں.

    مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ کپڑوں کا تعلق بالواسطہ مردوں کی نفسیات سے جڑتا ہے. جب ایک ایسا مرد، جس کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوئی، اپنے اردگرد چھوٹے یا کم لباس والی خواتین کو دیکھے گا تو یقیناً اُس کی ہوس کو ہوا ملے گی. اُس سے دماغ میں ہیجان کی کیفیت طاری ہو گی. اور ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں نہ ڈسکو ہیں نہ نائٹ کلبز، وی اپنی ہوس پوری نہیں کر سکے گا. تو اِس کا نتیجہ بہت ہولناک نکلے گا. کیونکہ پھر اُس درندہ صفت مرد کے لیے رنگ، نسل، عمر اور صنف کا فرق ختم ہو جائے گا. وہ کسی بھی کمزور انسان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا.

    یہاں پر علمِ نفسیات کا ایک مضمون سایئکلاجیکل ڈسپلیسمنٹ اِس کی مزید وضاحت کرتا ہے.

    کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے اِس معاملے کا اسلامی پہلو دیکھا جائے تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣١ کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    "مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. اور اپنی زینت کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے. اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال دیں.”

    قرآن کریم کا یہ حکم مومن خواتین کے لیے ہے. لیکن اِس آیت سے ایک آیت پہلے یعنی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣٠ کا حکم کچھ یوں ہے:
    "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی اِن کے لیے پاکیزگی ہے. لوگ جو کچھ کریں اللَّه تعالیٰ اُن سے خبردار ہے.”

    یہ دو آیات اِس پورے معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے.سب سے پہلے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے.

    یعنی اصل مسئلہ ہی اِن نگاہوں کا ہے. دیکھنے سے اگر ہیجان برپا نہ ہوتا تو فحش ویب سائٹس کا تو کام ہی تمام ہو جاتا اور بھوکے کو کھانا دیکھ کر کبھی منہ میں رال نہ آتی.

    یا اِس کو ایسا کہہ لیں کہ ملبوسات کی دکانوں میں سب سے دلکش جوڑے دکان کے داخلی حصے پر نمائش کے لیے آویزاں نہ کیے جاتے. یہ نمائش ہی انسان میں خریداری کی خواہش پیدا کرتی ہے.

    دوسرے نمبر پر اللَّه تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے. کیونکہ اگر نگاہوں کی حفاظت کے باوجود نگاہ پڑ بھی جائے تو خود کو پاکیزہ رکھنے کے لیے حفاظت اور احتیاط ضروری ہے.

    پھر تیسرے نمبر پر ایک حکم عورتوں کو زائد دیا گیا ہے. اور وہ یہ ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور اوڑھنیاں گریبانوں پر ڈال لیں.
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ حکم مردوں کو کیوں نہیں ملا؟ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ زینت یا سجاوٹ ہے ہی عورت کے پاس اور اسی کو چھُپانے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ معاشرہ شر اور ہیجان سے پاک رہے.

    اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق حکم سے پہلے اللَّه تعالیٰ نے مردوں کو حکم دیا ہے کہ نگاہیں نیچی رکھو. کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر معاشرے میں صرف مسلمان عورتیں ہی بستی ہوں جو کہ پردہ بھی کرتی ہوں. یہ حکم اِس لیے ہے کہ کسی بھی عقیدہ، قومیت یا مذہب کی عورت شر سے محفوظ رہ سکے. کیونکہ مردوں سے سوال آخرت میں اُن کی نگاہوں بارے ہونا ہے.

    فیمینزم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہے. قطع نظر مذہب ہر معاشرے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں ہوتی ہیں. مادر پدر آزادی کا کوئی بھی معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا.

    فیمینزم کا تعلق عورت کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے. جِسے مادر پدر آزادی کے علمبرداروں نے ہائی جیک کر لیا ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتے ہیں. جبکہ مسئلہ برابری سے بڑھ کر توازن کا ہے.

    قرآن کریم میں جِس وجہ سے مرد کو افضل قرار دیا ہے وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بےدریغ قربانیاں ہیں. جبکہ ایک عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے اور ایک انسان کو پیدا کرتی ہے. اِس لیے اُس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے.

    یہ فضیلت تنقید کرنے والوں کو نظر نہیں آتی. پھر عورت نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے. مرد جس نسل کو پالنے کی وجہ سے افضل ہے, اُس نسل کو پیدا کرنے اور تربیت کی ذمہ دار عورت افضل کیوں نہیں ہے. حقیقتاً سب کا اپنا مقام اور ذمہ داری ہے جس کا اُسی سے سوال ہونا ہے. جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر ٣٢ میں کہا گیا ہے:

    "اور اِس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللَّه تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. مردوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو اُنہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اُن میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا. اور اللَّه تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگو. یقیناً اللَّه ہر چیز کو جاننے والا ہے.
    میں پھر سے یہاں اِس بات کو واضح کر دوں کہ بلاتفریق رنگ، نسل، قومیت، حُلیہ اور مذہب کوئی عورت جنسی زیادتی اور ہراسگی کی مستحق نہیں. لیکن معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے. جنسی زیادتی اور ہراسگی جیسے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرے. خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کیجئے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں.

    @NaimatRehmn

  • پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر:   محمد کامران

    پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر: محمد کامران

    ،معدنیات ، بجلی ، پانی اور جنگلات جیسے وسائل کا کسی ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی پر بہت اثر ہوتا ہے ۔ کسی بھی ملک میں قدرتی وسائل ہونا ضروری ہے لیکن یہ معاشی اور معاشرتی ترقی کی ضمانت نہیں۔ کوئی ملک وسائل سے مالا مال ہو اور ان وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو معاشی اور معاشرتی ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے ماہرین، قدرتی وسائل اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے در میان اہم تعلقات قرار دیتے ہیں۔

     

    پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کان کنی کی صنعت کی ترقی کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ قیمتی پتھروں کے لیے کارپوریشن آف پاکستان لمیٹڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا

    یہ کارپوریشن پتھر کی کان کنی اور پالش کرنے میں اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو بطور سرکاری ادارہ دیکھتی ہے۔ معدنی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہے۔ جب کہ حال ہی میں سندھ کے تھر میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ جواہرات کے لحاظ سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے زیادہ تر معدنی جواہرات یہاں پائے جاتے ہیں ۔
    جوہری توانائی کے مقاصد میں استعمال ہونے والے تیل ، گیس اور باقی معدنیات کے لیے یہ صوبہ اہم ہے ۔ملک کے باقی صوبوں میں بھی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں

     چند ایک اہم معدنیات اور انکے وسائل درجہ زیل ہیں

    1. کوئلہ:
    کوئلہ جس کو بلیک گولڈ کا نام بھی دیا جاتا ہے ،

    تھر ، چمانگ ، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھاری مقدار میں پائی جاتا ہے۔
    تھر میں اسکے ذخائر کا تخمینہ 850 ٹریلین مکعب فٹ لگایا گیا یے ۔ جسے اگلے 100 سال تک بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یعنی دوسرے ہائیڈرو / تیل وسائل پر انحصار کیے بغیر صرف کوٰئلے سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔
    ۔ پاکستان نے حال ہی میں پنجاب میں ایک کم درجے کا چار درمیانے درجے کے کوئلے کے کوئلے کے سیل تلاش کیے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان اور اس کے قریب اسلام آباد میں سلفر کوئلے کے پائے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پاکستان میں بٹومینس، سب بٹومینس اور لگنائٹ کوئلہ پایا گیا ہے۔ کوئلے کا تقریب 80٪ حکومت اور 20٪ نجی شعبے کے ذریعہ نکالا جاتا ہے ۔ اسکی صنعت قدیم صنعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ لوہے، اسٹیل اور اینٹوں کی صنعتیں ہیں۔ کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اس کی قیمت تقریباً618 بلین بیرل خام تیل کے برابر ہوگی۔ جب تیل کے ذخائر کے مقابلے میں یہ بڑے چار ممالک کی مقدار سے دوگنا ہے۔
    2.قدرتی گیس:

    قدرتی گیس پاکستان کا اہم قدرتی وسائل ہے جس کا زیادہ تر حصہ سوئی کے مقام سے نکالا جاتا ہے

    اسکے تخمینہ شدہ ذخائر 885.3 بلین مکعب میٹر ہیں۔ جن کے مزید 20 سال تک رہنے کی توقع ہے۔ گیس کے اعتبار سے سوئی گیس فیلڈ سب سے بڑا ہے ، جو پاکستان کی گیس کی 26 فیصد پیداوار کرتا ہے۔سوئی گیس کے ذخائر 1953 میں دریافت ہوئے۔ وہاں روزانہ کی پیداوار 19 ملین مکعب میٹر ہے۔ بلوچستان کے بنجر پہاڑوں اور سندھ کے ریتوں کے نیچے تیل اور گیس کے اچھے ذخائر موجود ہیں۔ قدرتی گیس کے زیادہ تر صارفین کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں۔

     3. خام تیل:

    پاکستان کا پہلا تیل کا کنواں 1952 کے آخر میں ایک بڑا سوئی گیس فیلڈ کے قریب بلوچستان می لگایا گیا ۔
    ٹوٹل ائل ریفائنری 122.67 مربع کیلومیٹر (47.36 مربع میل) پر محیط ہے۔
    پاکستان پیٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز نے 1961 میں سوویت یونین کی مدد سے زخائر کی کھوج کی اور اس کی کھدائی شروع کی اور عملی کا 1964 کے دوران توت میں شروع کیا گیا
    ۔ پاکستان میں 326 ملین بیرل سے زیادہ موجود ہے

     

     

    4. یورینیم کی پیداوار:

    پاکستان کی مغرب میں اسکی وافر مقدر موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب میں تمن لغاری کان ، ضلع میانوالی میں بگالچور کان ، ڈیرہ غازی خان مائن اور عیسیٰ خیل کی کانیں مشہور ہیں
    پاکستان نے حال ہی میں اپنے جوہری طاقت اور ہتھیاروں کے پروگراموں میں یورینیم کا کچھ استعمال کیا ہے۔ 2006 میں پاکستان نے تقریبا 45 45 ٹن یورینیم کو تیار کیا تھا

     5. معدنی نمک:

    خطے میں 320 قبل مسیح سے نمک کی کھدائی کی جا رہی ہے ۔ کھیوڑا نمک کی کان کانوں میں دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی نمک کی کان ہے ۔ تقریبا 110 مربع کلومیٹر کے زیرزمین علاقے میں 320 قبل مسیح سے کھیوڑا میں نمک کی پہلی بار کھدائی کی گئی ۔کھیوڑا نمک کی کان کے بارے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اس میں 220 ملین ٹن راک نمک کے ذخائر ہیں۔ مائن سے موجودہ پیداوار 325،000 ٹن سالانہ ہے۔

     6. کاپر اور سونا:

    ریکو دیق بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اینٹوفاگستا کمپنی،جو ریکو ڈیک فیلڈ کے ساتھ کام کر رہی تھی ، ایک سال میں 170،000 میٹرک ٹن تانبے اور 300،000 اونس سونے کی ابتدائی پیداوار کو ہدف کے ساتھ کام کر رہی تھی۔اس منصوبے سے ایک سال میں 350،000 ٹن سے زیادہ تانبے اور 900،000 اونس سونا پیدا ہوسکتا تھا ۔
    چاغی ضلع میں واقع دشت کوہن ، نوک کنڈی میں بھی تانبے کے ذخائر موجود ہیں

    7. آئرن اور :آئرن اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے جن میں نوکندی ، چنوٹ اور کالاباغ (42 فیصد سے کم معیار) ، ہری پور اور دیگر شمالی علاقوں بھی شامل ہیں۔

     8. جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر:

    پاکستان میں مقامی اور برآمدی مقاصد کے لئے متعدد قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پالش کی جاتی ہے۔ اسکا مرکزی مقام خیبر پختونخوا ہے۔

    ان پٹھروں میں ایکٹینولائٹ ، ، آڈروکسی ، روٹائل ، ایکوامارین روبی ، ایمیزونائٹ ، کنزائٹ ، سرپینٹائن ، ایجورائٹ ، کیانیائٹ ، اسپیسارٹائن (گارینایٹ) ، بیرل ، ، اسپنیل ، زمرد شامل ہیں
    ان جوہروں سے برآمد 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

    TWITTER ID @KamranRMKS

  • اور جل پری مر گئی تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    اور جل پری مر گئی تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    جل پری بنیادی طور پر ایک افسانوی کردار ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا اوپر کا دھڑ انسانی اور نچلی دھڑ مچھلی کی طرح ہوتا ہے
    ہم بھی ایک جل پری کا زکر کرتے ہیں وہ اپنے والدین کی اکلوتی تھی۔ بچپن میں اس کی ہر خواہش کا احترام کیا جاتا اس کی خوشی کے لیے والدین اپنی جان نچھاور کرتے اس کےلباس ، خوراک الغرض اس کی ہر خواہش کو ترجیح دی جاتی اس کے کھلونے جو اس کی خوابوں کی دنیا تھی جب وہ پورا دن ان کے ساتھ کھیلنے کے بعد تھک ہار کر اپنی ماں سے لپٹ کر سو جاتی تو ماں چپکے سے اٹھ کر انھیں ترتیب سے سنبھالتی۔
    صبح اٹھنے کے بعد وہ اپنے بابا سے لپٹ کر اپنی ننھی منی خواہشات کا اظہار کرتی تو بابا دھیرے سے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیتے تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ ہوتا اور شام ڈھلے وہ دروازے کی طرف نگاہیں جماۓ منتظر ہوتی۔ جب بابا کے پاؤں کی آہٹ پاتی تو لپک کر دروازہ کھول کر اپنے بابا کے ہاتھوں کو بے چینی سے دیکھتی۔ اور اپنی فرمائش کو پا کر خوشی سے نہال ہو جاتی۔
    اسی طرح شب و روز گزر رہے تھے کہ ایک دن گھر میں کچھ اجنبی لوگ آۓ جن میں زیادہ خواتین تھیں۔
    وہ خواتین اسے کن اکھیوں سے دیکھ رہی تھیں اسے بڑا عجیب لگ رہا تھا۔ لیکن کچھ نہ سمجھتے ہوۓ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    مہمانوں کی روانگی کے بعد جب وہ باہر صحن میں گئی تو اپنی ماں کو اس کی طرف دیکھنا عجیب سا لگا آج سے پہلے ماں نے اس طرح نہیں دیکھا تھا۔وہ ماں سے لپٹ گئی اور ماں سے پوچھا کہ آج آپ اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں ماں نے گلے سے لگا کر پیار کرتے ہوئے کہا کہ تم جلد ہی اپنے گھر کی ہونے والی ہو۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا اس کی دانست میں تو وہ اپنے گھر میں ہی بیٹھی تھی پھر ماں ایسے کیوں کہہ رہی ہے اس نے ماں کی طرف کچھ نہ سمجھتے ہوۓ غور سے دیکھا اور سوچا کہ شاید ماں تھک گئی ہیں اور اسی لیے ایسی عجیب بات کہہ دی۔ شام کو بابا کے گھر آنے پر اس کی ماں نے اپنے شوہر سے سرگوشیوں میں گفتگو شروع کر دی۔ والدین کے اس رویئے کو دیکھ کر اسے حیرت تو ضرور ہوئی لیکن اپنے تجسس کو دباتے ہوئے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔
    پھر کچھ ہی شب و روز گزرے کہ ماں نے اسے بتایا کہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔
    اور پھر اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے اسے والدین نے نم آنکھوں کے ساتھ ایک اجنبی شخص کے ساتھ وداع کر دیا
    ایک اجنبی شخص اور نئے اجنبی گھر میں اجنبی لوگوں کے درمیان یہ سب کچھ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن وہ اجنبی شخص اس سے بے پناہ پیار کرتا اس کا ہر طرح کا خیال رکھتا لیکن گھر کی خواتین کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ایک دن اس نے ایک سرگوشی سنی کہ اس نے شوہر پر جادو کر دیا ہے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی لیکن گھر میں کھنچاؤ کا سا ماحول پیدا ہو گیا۔
    شروع میں تو گھر میں اس سے چھپ کر اس کے شوہر اور نندوں و ساس میں تلخ گفتگو ہوتی لیکن پھر سب کچھ عیاں ہونے لگا۔ ہر بار اس کا شوہر گھر کے افراد کو سمجھانے کی کوشش کرتا کبھی کبھار یہ سمجھانا انتہائی تلخ جملوں پر مبنی ہوتا
    لیکن ایک دن جب وہ کچن میں دوپہر کا کھانا بنانے گئی۔ دیا سلائی کے جلاتے ہی پورے کچن میں آگ بھڑک اٹھی اس آگ میں اس کی چیخیں دب کر رہ گئیں
    اور جل پری اس آگ میں جل کر خاکستر ہو گئی۔

    افسوس ہمارا معاشرتی ترقی یافتہ تو ہو گیا لیکن بہو کو بیٹی تسلیم نہ کر سکا

    #حبیب_خان