Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • امثال بے مثال تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    امثال بے مثال تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    قرآنی تمثیلات پر اپنے انداز میں ایک عالمانہ تبصرہ ہے جو تفہیمی افادیت کا حامل ہے آج کی تحریر کا انتساب بڑا اچھوتا اور ایمان افروز ہے درحقیقت یہ تحریر اُن لوگوں کے نام ہے جو حق و صداقت کا ادراک کرکے اسے منافقت اور مصلحت کے پردے میں نہیں چھپاتے بلکہ بلا خوف و خطر اعلان کرکے اصحاب عزیمت کی قیادت کرتے ہیں

    بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
    عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

    اب میں اپنے دعوے پر قرآن کی ایک تمثیل بیان کر کے موضوع کو واضح کرتا ہوں

    وَکُنْتُمْ اَزْوَاجاً ثَلثَۃً
    اور تم ہوجاؤ تین گروہ

    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ستائیسویں پارے کے سورہ واقعہ کی آیت نمبر 7 سے لیکر آیت نمبر 46 تک قیامت کے دن نوعِ انسانی کے تین گروہوں میں تقسیم کرنے کا ذکر فرمایا اور
    ان تینوں گروہوں کو انکے اعمال کی نسبت سے تقسیم کیا گیا ہے
    اور اس تقسیم کی نسبت سے انکے ساتھ جزاء و سزا کا معاملہ طے ہونا بتلایا گیا ہے

    اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے
    نوعِ انسانی قیامت کے دن تین گروہوں میں بٹ جائے گی ایک دائیں بازو والے ۔ دوسرے بائیں بازو والے ۔ اور تیسرے سب سے آگے آگے

    سبقت لے جانے والا گروہ……….

    اور یہی تیسرا گروہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء صدیقین شہداء صالحین اور مقرّبین کا ہوگا
    جن کو انعام کے طور پر نعمت کے باغ عطا ہوں گے ۔ یہ سونے سے بنے پلنگوں پر گاؤ تکیے لگائے ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے
    انکے ارد گرد ستھری شراب کے آب خورے اور جام لئے ہوئے خوبصورت لڑکے پھر رہے ہوں گے ۔ یہ شراب ایسی ہوگی جس سے نہ طبیعت میں گرانی ہوگی اور نہ نشہ ۔ اُن کیلئے پھل ہوں گے جو وہ منتخب کریں گے ۔
    اور اُڑتے پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے اور بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزائیں ہوں گی جو لڑی میں پروئے ہوئے موتی کی طرح ہوں گی ۔ ایسے ماحول میں وہاں گفتگو جھوٹ سے پاک اور سلامتی والی ہوگی اور یہ سب بدلہ ہوگا اُن کے اعمال کا .
    دائیں بازو والا گروہ…………

    یہ وہ گروہ ہے جو بیری کے کانٹوں سے پاک درختوں میں رہتے ہوں گے ۔ اُن کے لئے کیلے تہہ در تہہ ہوں گے ۔ گھنی چھاؤں ہوگی ۔ بہتا ہوا پانی پینے کو ہوگا ۔ اور میوے کثرت سے ہوں گے ۔ جو نہ گھٹیں گے اور نہ ہی اُن کے میووں کے کھانے میں کوئی رکاوٹ ہوگی اور اونچی باعزت بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی ۔ بچھونے لگے ہوں گے ۔ دوشیزائیں جن کو جسمانی اور روحانی لحاظ سے ایک خاص معیار پر بنایا گیا ہے اور وہ دوشیزائیں ایسی کہ جو دل کو لبھاتی ہیں ایک ہی عمر کی اور کنواریاں ہوں گی اور یہ سب انعام دائیں بازو والوں کیلئے ہے نیز اس گروہ میں اگلوں اور پچھلوں سے بھی لوگ کثرت سے شامل ہوں گے .
    بائیں بازو والا گروہ……….

    اس گروہ کا حال یہ ہے کہ وہ آنچ کی بھاپ اور جلتے پانی میں ہوں گے ۔ اور ان کے سروں پر دھوئیں کی چھاؤں ہوگی جو نہ ٹھنڈی ہو گی اور نہ ہی عزت کی ہوگی .
    ہاں البتہ اس مقام سے پہلے وہ بڑے آسودہ حال لوگ تھے اور گناہوں کی لذت میں ڈوبے ہوئے تھے اور گناہوں پر ضد کے مصر رہے
    اس گروہ کی بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی آسودہ حالی کو حصولِ رحمتِ خداوندی کیلئے استعمال نہیں کیا ۔ یہ بائیں بازو والے اپنے نظریات ایمانیات اور اعمال کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کا شکر ہوئے ۔ اپنی انانیت تکبر و غرور میں بھرے خود کی موت سے انجان اور دوسروں کی زندگی میں تاک جھانک اپنا کام سمجھنے والے
    زندگی کے اصل مقصد کو بھلا کر رب تعالیٰ کو راضی کرنے کے بجائے اپنے خالقِ حقیقی کی نافرمانیوں میں اپنے رات دن بسر کرنے والے یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بائیں بازو والے نام سے مخاطب فرمایا ہے جبکہ اپنے پاک کلام میں اللہ عزوجل نے حیاتِ دنیاوی کو کھیل کود تماشہ اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنے کا محض سامان قرار دیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ دنیاوی ساز و سامان کے چکر میں اپنا ایمان اخلاقیات کردار گفتار اور رشتے تک پسِ پشت ڈال دیتے ہیں

    خلاصہ سبق…………
    ایک انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت بھرپور یہ کوشش کرتا رہے کہ وہ اپنے امورِ خانہ دار کے ساتھ ساتھ اپنے مہربان رب العالمین کو جانی مالی بدنی عبادات کرنے سے راضی کرتا رہے اور حتَّی المقدور حقوق العباد کے معاملے میں بھی محتاط زندگی گزارے

    بارگاہِ ایزدی میں التجاء

    اللہ جل شانہ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں دعا گو ہوں کہ وہ اس تحریر کو ہم سب کیلئے ذریعہ نجات بنائے آمین ثم آمین

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : سید معین الدین بخاری

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : سید معین الدین بخاری

    یوں تو آپ نے والدین کا بچوں سے پیار بہت سنا اور دیکھا ہوگا کہ چھوٹے سے معصوم بچے کی پیدائش کے بعد اسکے والدین کس قدر پیار اور محبت سے اسکی پرورش کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں والدین طرح طرح کی پریشانیاں ایک پل کیلئے بھی محسوس نہیں کرتے اور اپنے بچوں پر ہر طرح سے جان نچھاور کرتے ہیں۔ والدین کا یہ جذبہ اور محبت پیدائش کے شروع 2،3 سال بھی نہیں رہتا بلکہ ساری زندگی والدین اپنے بچوں سے بے پناہ اور بغیر کسی غرض کے محبت کرتے ہیں۔
    پھر ایک وقت آتا ہے جب والدین بوڑھے ہونے لگتے ہیں اور انکی جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے اور ادھر بچے جوان ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر والدین اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں۔ لیکن آپ اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لیں کہ جب آپ جوان اور والدین بوڑھے ہو جائیں یا جب آپ اچھے برے کی تمیز کرنے لگتے ہیں تو والدین کو بھی آپ سے اچھے کی توقعات ہوتی ہیں۔والدین کا یہ ارمان ہوتا ہے کہ ہماری اولاد ہمارے بڑھاپے میں سہارا بنے اس عمر میں جا کر والدین کے دل زیادہ نرم و نازک اور حساس ہو جاتے ہیں۔اولاد کی ذرا سی بے رخی انکے دل پر قیامت کی طرح گزرتی ہے لیکن وہ پھر بھی صبر کرتے ہیں۔
    بطور مسلمان ہمیں ہمیشہ اپنے والدین کا خیال رکھنا چاہیے لیکن انکے بڑھاپے میں تو بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے،
    "وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-”
    اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
    جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندے کو اپنے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے وہاں دوسرا حکم اپنے والدین سے احسان یعنی حسن سلوک کا فرمایا ہے۔ اس طرح والدین سے حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ ہم لگا سکتے ہیں۔
    اس کے علاوہ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ،
    "اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)”
    "اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے جب بات کرنا تو تعظیم کی بات کہنا۔”
    محترم قارئین اس طرح والدین سے حسن سلوک ہمارے اوپر فرض قرار دے دیا گیا ہے اور احتیاط اتنی ہے ٹیڑھے منہ سے بات تک نہیں کر سکتے۔ لیکن جب آج کے معاشرے میں والدین سے اولاد کا رویہ دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بد تمیزی، فحش گوئی اور تشدد، ایسے کونسے مظالم ہیں جن کا نشانہ والدین نہیں بن رہے؟
    یوں تو ہم باپ کو جنت کا دروازہ اور ماں کے قدموں میں جنت کو مانتے ہیں لیکن جب بات عزت و تکریم کی آتی ہے تو ہمارے مظالم سے والدین محفوظ نہیں رہتے۔ یاد رہے اس طرح کے عمل سے ہم اپنی ہی آخرت خراب کر رہے ہیں اور کچھ نہیں۔
    والدین سے حسن سلوک کا تقاضا ہے کہ انکو کوئی تکلیف نہ پہنچے، انکی ضرورت کہنے سے پہلے پوری کر دی جائے اور جب بھی انہیں مخاطب کریں تو ایسے الفاظ استعمال کریں جو انکے لئے راحت قلب کا سامان ہو جائیں جس سے والدین کے دل سے بھی آپ کے لیے دعا نکلے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین سے حسن سلوک کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔

    ٹویٹر 👈 @BukhariM9

  • دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا اور آخرت مشرق اور مغرب کی مانند ہیں اور ہم سب یہاں کچھ پل کے چلنے والے مسافر ہیں یہاں اگر ایک انسان جتنا کسی کے نزدیک ہوگا اتنا ہی دوسرے سے دور ہوگا ۔
    دنیا راہ گزر ہے دنیا کی خوشی غم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے.
    ہزاروں خواہشات انسان پر غالب آجائیں تو یہ کہنا برا نا ہوگا کہ انسان سیدھے راستوں سے بھٹک جاتا ہے. غلط راستوں پر چلنے والوں کو فقط رسوائی ہی ملتی ہے..
    ہر انسان کے اپنے پوشیدہ یعنی چھُپے ہوئے نا بتانے والے دکھ ہوتے ہیں جو دنیا نہیں جانتی
    اور اکثر اوقات ہم کسی انسان کو بے حس کہتے ہیں مگر وہ صرف غمگین رنجیدہ ہوتا ہے
    کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں
    کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں ہے جو تم وہ صرف تم خود ہی ہو بس تم خود پر توجہ دو…
    لوگوں کے بارے میں زیادہ سوچنا خود کو اپنی ذات سے دور کرنا ہے.
    غمگین نا ہوں اگر آپ کسی کو اچھے نہیں لگتے
    تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بس یہ سوچ لیں کہ ہرانسان کی پسند اچھی نہیں ہوتی.
    خاموش ہو جاؤلیکن گلے شکوے چھوڑ دو مت اپنا معیار گراو کسی کو کچھ بھی کہہ کر اور اس کو جواب دے کر اپنے عزت اور اپنے وقار کی خود حفاظت کرو.جہاں عزت نا ملے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لو عزت اور وقت بھیک میں نہیں ملتا اس لیے مانگنا چھوڑ دو. بےشک کسی بھی رشتے کا وجود اس کے بغیر باقی نا رہےعزت وہ نہیں جو باتوں سےسنائی جاتی ہےعزت وہ ہے جوعمل سےدکھائی دیتی ہے
    شکریہ

  • پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ تحریر: ماہ رخ اعظم

    پاکستان کو گذشتہ ستر برسوں سے اپنی معاشرتی معاشی صورتحال میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، تمام مسائل پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔ آج کے پاکستانی کے اہم مسائل میں ایک مسلہ پانی کی قلت ہے

    ملک کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ، پاکستان دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے، جو آبی بحران سے دوچار ہیں۔ پانی کے اس بحران سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
    جب سے 1960 کی دہائی میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بنائے گئے تھے تب سے پاکستان نے آبی ذخیرے کا کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا ہے۔ضروری ہے کہ کالا باغ اور دیامر باشا ڈیموں پر کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، ڈیموں کی کمی کی وجہ سے 40 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی سمندر میں بہہ رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم میں 6.4 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ، دیامر-باشا ڈیم 5.8 ایم اے ایف ذخیرہ کرسکتے ہیں ، اور داسو ڈیم 6 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اگر یہ تینوں ڈیم مکمل ہوجاتے ہیں تو بہت سارے پانی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے جو پانی کی قلت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں

    اگر یہ ڈیم تعمیر نہیں ہوئے تو پاکستان کو پینے کے پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا زراعت کا شعبہ تباہ ہوجائے گا۔ پاکستان میں ، ٹیکسٹائل اور کیڑے مار دواؤں کی صنعتوں جیسی دیگر صنعتوں کے ساتھ زراعت کا گہرا تعلق ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔

    پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔ زرعی شعبہ پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ حکومت کی نظرانداز دونوں سے بھی متاثر ہے: جیسے کھادوں اور بیجوں پر معاون قیمتوں یا سبسڈی فراہم نہ کرنا۔

    ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی کو پانی کی قلت سے بچانے کےلیے اس مسئلے کا باقاعدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور قومی تناظر میں واٹر مینجمنٹ اور پالیسی کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں ایک مثال قاٸم کرنیا چاہئے جو مطالبہ پر مبنی اقدامات پر مرکوز ہے۔جو آبی وسائل کے تحفظ ، آبپاشی کے نظام کی تعمیر ، جھیلوں ، پن بجلی منصوبے کو فروغ دے گا اورساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جاٸیں تاکہ پاکستان کو پانی قلت سے بچایا جاسکے!

     >

  • ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے  تحریر:   جہانتاب احمد صدیقی

    ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    محنت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے ۔ سست انسان کبھی بھی کچھ حاصل نہیں کرسکتا ۔ جو شخص محنت کرتا ہے وہ زندگی میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ بغیر کسی محنت کے زندگی میں کامیاب ہونا ناممکن سی بات ہے ۔محنت کرنے والا شخص زندگی میں کبھی ہار نہیں مانتا ہے وہ اپنا ہر کام احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے جبکہ ایک سست شخص عیش و آرام کو ترجيح دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی متحمل نہیں ہو سکتا ہے

    ایک محنتی انسان زیادہ سے زیادہ محنت کرکے خود کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے ،جبکہ ایک سست انسان خود کو پستی میں دھکیل دیتا ہے ۔محنت سے کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔ محنت کرنا مشکل ہے لیکن اپنی زندگی کو ہموار بنانا ضروری ہے۔ ایک محنتی شخص زندگی میں ہمیشہ خوش رہتا ہے۔. کامیابی محنت کا نتیجہ ہے۔. جو شخص سخت محنت کرتا ہے وہ زندگی میں بہت سی چیزوں کو حاصل کرتا ہے۔. لوگ ہمیشہ اس سے محبت کرتے ہیں۔. وہ ہمیشہ ہر ایک کا احترام کرتا ہے۔

    ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں اہداف ہیں۔. اہداف کی تکمیل کے لئے ہمیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔. بیکار بیٹھنا کسی کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد نہیں کرتا ہے۔. ہم سب کو زندگی میں ملنے والے موقع کا احترام کرنا چاہئے۔. موقع کا احترام کرنے کا مطلب دل لگا کر محنت کرنا ہے۔.

    ہمیں ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔. ناکامی ہماری زندگی کے لئے فطری ہے۔. جب ہم ناکام ہوجاتے ہیں تو ہمیں دل لگا کر محنت کرنا نہیں چھوڑنا چاہئے۔. ہم سب کو اپنے آپ پر یقین کرنا چاہئے اور جب تک ہم اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرتے ہیں کوشش کرتے رہنا چاہیے

    اگر ہم زندگی میں عزم اور توجہ مرکوز کریں تو ہم دل لگا کر محنت کر سکتے ہیں۔. کام میں ارتکاز بہت ضروری ہے۔. اگر کوئی کام کرتے وقت پوری طرح توجہ دیتا ہے تو ، کام کامیابی کے ساتھ اور بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔. ہمیں اپنی حراستی کی سطح کو بڑھانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔. ہماری حراستی طاقت کو فروغ دینے کے لئے دل لگا کر محنت بہت ضروری ہے۔.

    بچوں میں محنت کے احساس کو فروغ دینے کےلیے ، والدین یا اساتذہ انہیں کسی ملک کے کامیاب افراد کی کہانیاں سنائیں۔. بچوں کو اپنی زندگی کے لئے ایک رول ماڈل کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ اپنی زندگی پر توجہ مرکوز کریں۔. اس سے انہیں دلچسپی کے ساتھ
    محنت کرنے میں مدد ملے گی۔

    انسان کو کامیاب ہونے کے لیے محنت کرنی چاہیے کیونکہ محنت کرنے والوں کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ اور محنت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔ اللہﷻ کا دوست ناکام کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ محنتی شخص فقط کامیابی سے ہی ہمکنار ہوتا ہے

    مکرمی!! آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ محنت اور کوشش کرنا مت چھوڑیں، ناکامی زندگی کاحصہ ہے اگر آپ ایک بار ناکام ہوگٸے تو گھبرانا نہیں کیونکہ ہر کیسی کو پہلی باری سب کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے محنت کرتے رہے جب تک آپ کامیاب نہ ہوجاٸیں۔

    اللہ پاک ﷻ ہمیں اپنے محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی عظیم قربانیاں۔ تحریر: بسمہ سجاد

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی عظیم قربانیاں۔ تحریر: بسمہ سجاد

    ایک وقت تھا جب دہشتگردی کے باعث سوات کے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی تھی مگر پاک فوج کے ساتھ سوات پولیس نے انتہائی جانفشانی سے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے اور آج سوات دوبارہ امن کی وادی بن چکی ہے۔ سوات میں قیام امن کے لئے پولیس کے 132 اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں اور آج ہزاروں کی تعداد میں سیاح ایک پرامن سوات میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
    خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کی فہرست خاصی طویل ہے، چارسدہ میں 75، نوشہرہ میں 36، مردان میں 110، کوہاٹ میں 81، صوابی میں 48، کرک میں 18، ایبٹ آباد میں 13، ہری پور میں 10، مانسہرہ میں 35، بٹگرام میں 8، کوہستان میں 4، تورغر میں 5، بنوں میں 158، لکی مروت میں 44، ٹانک میں 31، شانگلہ میں 27، بونیر میں 27، لوئر دیر میں ایس پی خورشید خان سمیت 43، اپر دیر 32 اور چترال میں 11 اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    ایک وقت تھا جب دہشتگردی کے باعث سوات کے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی تھی مگر پاک فوج کے ساتھ سوات پولیس نے انتہائی جانفشانی سے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے اور آج سوات دوبارہ امن کی وادی بن چکی ہے۔ سوات میں قیام امن کے لئے پولیس کے 132 اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں اور آج ہزاروں کی تعداد میں سیاح ایک پرامن سوات میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
    خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کی فہرست خاصی طویل ہے، چارسدہ میں 75، نوشہرہ میں 36، مردان میں 110، کوہاٹ میں 81، صوابی میں 48، کرک میں 18، ایبٹ آباد میں 13، ہری پور میں 10، مانسہرہ میں 35، بٹگرام میں 8، کوہستان میں 4، تورغر میں 5، بنوں میں 158، لکی مروت میں 44، ٹانک میں 31، شانگلہ میں 27، بونیر میں 27، لوئر دیر میں ایس پی خورشید خان سمیت 43، اپر دیر 32 اور چترال میں 11 اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ کا کٹھن مرحلہ خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ عام شہریوں کے لئے بھی کبھی آسان نہ تھا، خیبر پختونخوا کے ہزاروں شہری بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشتگردی کی دوسری وارداتوں کا نشانہ بنے تاہم خیبر پختونخوا پولیس اور عام شہریوں نے ملکر ہمیشہ دہشتگردوں کو شکست دی اور آج خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں امن بحال ہو چکا ہے، ایک طرف جہاں سوات اور قبائلی اضلاع میں بچیوں کی تعلیمی سرگرمیاں زور وشور سے جاری ہیں تو وہیں چترال سے لیکر وزیرستان تک روایتی اور ثقافتی تہواروں میں بھی لوگ بھرپور انداز میں شریک ہورہے ہیں۔ خوشی اور امن کی یہ نوید ان ہزاروں شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور فرض کی ادائیگی کو ہمیشہ مقدم جانا۔ اب موقع ہے کہ ہم سب اپنے اپنے طور پر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال کر شہداء کی قربانیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کریں۔
    پاکستان
    @Bisma4PK

  • سوشل میڈیا اور تباہی  تحریر: رانا عزیر

    سوشل میڈیا اور تباہی تحریر: رانا عزیر

    اگر آج کے حالات و واقعات پر ہم لوگ نظر دوڑائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اس معاشرے کو تہذیب یافتہ کا نام دے رہے ہیں۔
    قصہ کرنل کی بیوی ہو یا ٹی وی پر بیٹھے سیاستدان ایک دوسرے کی عزت چوکوں پر لٹکا رہے ہوں یا کوئی بھی صحافی، ان حالات میں سوشل میڈیا نے ہمیشہ آگ بھڑکائی اور ایندھن کا کردار ادا کیا

    ہم کسی کی بھی نجی وڈیو اور بلیک میل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں چاہے وہ عثمان مرزا واقعہ ہو جس میں سوشل میڈیا پر لڑکی کی تصویر کو سنسر کیے بغیر چلایا گیا اور لڑکی کی عزت کو پامال کیا گیا اس تمام صورتحال کو عکس بند بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا صارفین انجوائے بھی کرتے رہے۔
    سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی حرکات و سکنات ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پرتلے ہوئے ہیں
    جب معاشرے میں بڑے, پڑھے لکھے سکالر اور ایلیٹ لوگ اس طرح کے حوصلہ شکن واقعات میں ملوث ہون گے تو نئ نسل کیا سیکھے گی، رہی سہی کسر آج کے ٹک ٹاکرز نے نکال دی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے اور لبرل ازم کے نام پر بے حیائ پھیلائی جارہی ہے اور ہر طبقہ اب انکی تقلید کرنا شروع ہوگیا ہے لیکن نفس پر کنٹرول بھی انسانی صفت ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس سوشل میڈیا کی جنگ کو کسیے لڑتے ہیں یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہے

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • ہم اور سماجی رویے  تحریر : اقراء ناز دھرابی

    ہم اور سماجی رویے تحریر : اقراء ناز دھرابی

    اُٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
    رویے کس کے لئے کس کس کا ماتم کیجئیے

    رویے کی تعریف کی جائے تو اس سے مُراد ایک فرد کا دوسرے فرد کے ساتھ طرز عمل اسی طرح سماجی رویے سے مُراد معاشرے کے افراد کا آپس کا رویہ اور طرز عمل. انسان ایک سماجی حیوان ہے اسکا اپنی تمام ضرورتوں کے لئیے دوسرے پر انحصار رکھنا ایک عام بات ہے یہاں ہم سب ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ہر طرح کے معاملے میں کوئی بھی فرد اپنی تمام ضروریات کو خود پورا نہیں کر سکتا نہ ہی اپنے تمام مسائل کا خود تدارک کر سکتا ہے اس لئے وہ معاشرے کے دوسرے افراد پر انحصار کرتا ہے اور یہ انحصار ایک فطری بات ہے اور اس سے بڑھ کے ضرورت بھی. مگر مسئلہ انسان کی سماجی ضرورت کا نہیں رویے کا ہے ہم سب کا طرز عمل ایک دوسرے کی جانب نامعلوم کس حد تک ناقابل برداشت ہے.
    جس نفسا نفسی کا ذکر قیامت کے روز سے جُڑا ہے وہ ہمیں آج بھی دیکھنے کو ملتی ہے ہم انسان ایک دوسرے کے بہترین دوست اور بدترین دشمن ہیں ہماری دوستی بھی مشروط دوستی ہے جو کہ دشمنی کے زمرے میں ہی آتی ہے
    رویے دو طرح کے ہوتے ہیں مثبت یا منفی. مثبت روئیے دوستی، رشتہ داری، خلوص، محبت، عاجزی و انکساری، ایثار، رحم دلی، انصاف پسندی، اتفاق اور ملنساری سے مربوط ہیں اور دوسری طرف منفی رویہ جو کہ نفرت، حقارت، بدتمیزی، شر انگریزی، تنقید برائے تنقید، حق تلفی اور نا انصافی جیسے عناصر پر مشتمل ہے اور اگر ہم اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لیں تو منفی رویوں کی زیادتی نظر آتی ہے محرک کوئی بھی ہو آج ہم سب ایک دوسرے کے لیے ناقابل برداشت ہیں دنیا کا وہ انسان جسے دنیا میں امن و سکون قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا آج اس دنیا کو منفی رویوں کے تِھرل سے ہلا کے رکھتا ہے.
    وہ دنیا جس کو رشتوں سے، محبت سے آراستہ کر کے انسان کو دیا گیا تاکہ اسکو جینے کی وجہ ملے اُسے ایک سماج دیا گیا تا کہ وہ اس سماج میں لوگوں سے میل ملاقات کرے اپنی ضرورت پوری کرے اور نا صرف اپنی بلکہ خود سے منسلک لوگوں کی اور باقی سماج کی مگر یہ کیا وہ انسان جس کو احسن تقویم انداز سے پیدا کر کے زمین پہ اُتارا گیا اُس نے تو وہ کیا جو فرشتوں نے کہا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے کا اور خون خرابا کرے گا. آج نے انسان نے اس بات کو سچ کر دیا اور نہ اپنے سگے کو بخشا نہ پرائے کو. زمین، زر، زن کے پیچھے اپنے سگے بھائی کا گلہ کاٹ ڈالا. دولت کی تمنا میں اتنا اندھا ہوا کہ جائز اور ناجائز کا فرق بھول گیا اور اُس غریب کا لہو بھی چوس کر پی گیا کہ جس کہ پاس شاید اولاد کو دینے کو وہی خون کےچند قطرے تھے جن کی گرمائش سے وہ زندہ تھا اور پھٹے ہاتھوں سے کما کر اولاد کے منہ میں چند لقمے ڈال رہا تھا. یہ انسان ہوس پرستی کا اتنا مائل ہوا کہ اسے اپنی جائی بیٹی نہ نظر آئی کجا کہ معصوم کسی اور کی بیٹی تو دُور. منافقت نے ایسا اسے گھن چکر بنایا کہ دو مُنہ، دوہرا معیار، دوہری پالیسی بنانا جیسے اسکی خُدادا صلاحیت ہو. ناانصافی اور حق تلفی میں تو اس نے گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کروایا. اقتدار کے لالچ میں فرعون بن بیٹھا اور ذرا جہاں اسے اقتدار ملا اس نے وہاں اپنی فرعونیت ثابت کی بھلے وہ ایک دروازے پہ بیٹھنے والے چوکیدار کی کرسی ہی کیوں نہ ہو اس نے خُوب استعمال کیا.
    زمین کا ایک ٹُکڑا جو اس نے ملک کے نام پہ حاصل کیا اسکا بس نہ چلا کہ اُسکو تو بیچ کر کھا جائے، کسی یتیم کا مال ہڑپ کرنے کا موقع ملا تو اُس میں بھی خوب کاریگری دکھائی. تنقید برائے تنقید کے نام پر اگلے کی دھجیاں اُڑا دیں اور ایسی اُڑائی کہ اُسکی عزت تک کا خیال نہ کیا. شر انگیزی کی ایسی وبائیں پھیلائیں کی ان کے اثر سے کوئی محفوظ نہ رہ سکا. نفرت اور حقارت میں تو اس نے جھنڈے گاڑے اپنے من کی تمام کی تمام کالک دوسرے کے مُنہ پہ مل دی اور اتنی سیاہ کالک کہ اگلا ساری زندگی اُسکو سو لیموں کی طاقت والے لیمن میکس بار سے بھی دھوئے تو اُترنے کا نام نہ لے.
    یہ سب کر کے بھی یہ انسان کہتا ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملا اور انسان کون ہم، آپ اور میں. میں اس معاشرے سے الگ  نہیں اور نہ ہی کوئی دوسری دنیا کی باسی مجھے پروان بھی اسی معاشرے نہ چڑھایا ہے میرے اندر بھی یہی خصلتیں ڈالی ہیں مگر مجھے اتنا معلوم ہے کہ ان خصلتوں کو دبانا کیسے ہے اور اس معاشرے کو سدھارنے کا عزم کرنا ہے. ہماری ان خصلتوں میں ہمارے آنے والی نسلیں مزید اضافہ کرتی آ رہی ہیں اور اس بات کا ثبوت دے رہی ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم یہ سیمنٹ سے بھگو بھگو کہ قدم رکھے ہیں کہ کہیں یہ قدم دھندلا نہ جائیں ہمارے منفی رویوں کی کشش ہماری نئی نسل کو ایسے کھینچ کے لائی جیسے بین کے پیچھے ناگ.
    منفی رویوں کی اس فہرست میں ایسا کوئی رویہ نہیں جس کو اپنانے میں ہم نے بازی نہ لی ہو بلکہ جناب ہم نے تو مقابلے بازی کی ہے کہ کہیں کوئی دوسرا ہم سے آگے نہ نکل جائے اور جہنم اور ناکامی کا جو ایوارڈ ہم نے لینا تھا کوئی اور نہ لے اُڑے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں. مثبت رویوں کو تو ہم نے مکھن لگانے اور چُونا لگانے کو رکھا تا کہ بروقت ضرورت انکا استعمال ہمیں فائدہ پہنچا سکے بھئی اب ہم سارے کام تو منفی رویوں سے نہیں نا کر سکتے ہو سکتا ہے کسی کو زہر نہ دینا پڑے اور وہ شہد یا گُڑ سے ہی مرتا ہو تو کیا اُسکو زہر سے مارنا. مثبت رویے ہمارے لیے نہیں ہیں یہ دوسروں کے لیے ہیں تا کہ وہ ہم سے مثبت انداز میں پیش آئیں وگرنہ ناانصافی ہو جائے گی ہمارے ساتھ. اور یہ کہاں کا اصول ہے جو دو وہی لو. اگر ہم اسکے ساتھ منفی انداز سے پیش آ رہے ہیں تو اسکو چاہیے کہ کچھ نیا کرے کچھ یونیق ایک جیسا ردعمل نہ دے وہ کچھ تو مثبت کرے ہمارے ساتھ.
    رویوں کا مطلب صرف عمل تک رہنا نہیں ہے ہماری انٹینشنز، ہماری دوسرے کے مطلق سوچیں، خیال یہ سب بھی رویے کا حصہ ہے کیوں کہ جو ہم خیال کرتے ہیں وہی ہم سوچتے ہیں اور جو سوچتے ہیں ویسا ہی عمل کرتے ہیں تو یہ تین کونے والا ماڈل رویہ اور رویے کے اجزاء ہیں جن میں سے ہمیں تو صرف ہمارا ردعمل سمجھ میں آتا ہے باقی کونسا ہم نے کسی کو دکھانا ہے یا کسی کو کونسا پتہ چلنا کہ ہم کیا سوچتے ہیں دوسرے کے بارے. جب وقت آئے گا عمل کا تو تب دیکھیں گے کہ مکھن یا چونا لگانا ہے یا کالک لگانی ہے.
    ہم سب بھول گئے کہ ہمارے یہ روئے کسی کے لیے کتنے تکلیف دہ ہیں کبھی سوچیے گا اُس انسان نے بارے جس کا آپ نے حق کھایا وہ حق صرف پیسوں کا نہیں ہوتا کسی لائن میں کھڑے شخص کو اُسکے نمبر پہ باری نہ دینا بھی حق مارنا ہے اپنے تعلق کی بنیاد پہ کام نکلوا لینا بھی حق مارنا ہے اور اس کی کئی اور صورتیں بھی ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتی کیونکہ ہم موٹی عقل رکھتے ہیں. کبھی سوچیے گا اُس انسان کے بارے جس کا دل آپ نے باتوں سے چھلنی کیا تنقید سے چھلنی کیا ہو. اور سوچیے گا اس عورت کے بارے جو آپکی نام نہاد مردانگی اور اُٹھی گہری غلیظ نظر کی وجہ سے زمین میں گَڑ گئی ہو. کبھی سوچیے گا اُس باپ کے بارے جس کی حیثیت کوڑی کہ کہ تھی مگر اپنی بیٹی کو جہیز سے تول کے آپکے گھر بھیجا اور آپ نے اُسکی کردار کشی کر کے اُس پہ طلاق کا دھبہ لگایا. کبھی سوچیے گا اس انسان کے بارے جسکو آپکی ضرورت تھی اور حیثیت رکھتے ہوئے اپ نے مدد نہ کی اور وہ ہار گیا. کبھی سوچیے گا اُس کے بارے جس کا جینا آپ نے اتنا مُحال کیا کہ اس نے جینے سے مر جانے کو ترجیح دی اور کچھ ایسے بھی ملیں گے جو اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہوں گے. کبھی سوچیے گا اس کے بارے جسے صرف آپکے ایک ہاتھ یا ایک تھپکی کی ضرورت تھی اور آپ بے خبر رہے اور آپکی بے خبری نے اُسکی جان لے لی.
    خُدارا سمجھیں اپنے رویوں کو دوسروں کے رویوں کو ضروری نہیں کہ ہر کوئی آپکو آ کر بتائے مجھے یہ مسئلہ ہے آپ سے آپکے اس رویے نے میرا دل دُکھایا خود اپنے رویوں کو مشاہدہ کرو اور بے لوث ہو جاؤ مت دیکھو کسی کے لیے کتنا کر سکتے ہو جتنا کر سکتے ہو اُتنا تو کرو اور کچھ نہ کر سکے تو ایک تھپکی، ایک مسکراہٹ، ایک امید دے دینا یہ بھی بڑا کام آئے گی
    تحریر کا مقصد دل آزاری نہیں بلکہ معاشرے کی سیاہ تاریک صورت کو سامنے لانا تھا باقی اچھائی آج بھی موجود ہے اور بلاشبہ موجود ہے مگر اِس بُرائی کو بھی تو سویرے میں بدلنا ہے میں نے اور آپ نے نہیں بلکہ ہم نے.

    ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

    گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

    )
    برائے تنقید واصلاح Armaganzahra55@gmail.com ہے تو پھر جنگ ہی سہی

    تحریر : اقراء ناز (دھرابی)