Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • فیمینسٹ   تحریر انعم نوید

    فیمینسٹ تحریر انعم نوید

    میں بھی فیمینسٹ ہوں. مگر میرا تعلق میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو اور میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی جیسے نعروں کی علمبردار خواتین سے نہیں ہے. میرا جسم میرے خالق کی مرضی. جو میرے اللَّه نے مجھے حکم دیا ہے میں اِس جسم کو ویسا ہی رکھوں گی کیونکہ یہ جسم میرے پاس امانت ہے.

    گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک انٹرویو میں دیے بیان پر بہت واویلا مچا. آزادی پسندوں نے اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا اور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا. سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وزیراعظم کے بیان میں ایسا کیا تھا کہ اتنا واویلا مچا.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ، "اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اِس کا اثر مرد پر ہو گا اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں.” پھر اُنہوں نے مغربی اور مشرقی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ، "مغرب میں ڈسکو اور نائٹ کلبز ہوتے ہیں جو کہ ایک بالکل مختلف رہن سہن اور معاشرہ ہے. مشرقی معاشرے میں یہ سب نہیں ہوتا. اِس وجہ سے یہاں اگر مرد کی شہوت کو اُبھارا جائے گا تو وہ اُس کی تسکین کے لیے اِسی معاشرے میں راہ ڈھونڈے گا. اور اِس کا اثر معاشرے پر پڑے گا.”

    سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ بیان کس حد تک درست ہے. تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہماری معاشرتی اقدار کے حوالے سے یہ بیان بالکل درست ہے.

    اِس بات کے حق بجانب ہونے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کا عورت کے لباس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. ایک عورت اپنی ذاتی زندگی میں مرضی کی مالک ہے اگر وہ اللَّه کا حکم نہیں ماننا چاہتی. مگر عورت مرضی کا لباس پہن کے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی مستحق نہیں.

    مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ کپڑوں کا تعلق بالواسطہ مردوں کی نفسیات سے جڑتا ہے. جب ایک ایسا مرد، جس کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوئی، اپنے اردگرد چھوٹے یا کم لباس والی خواتین کو دیکھے گا تو یقیناً اُس کی ہوس کو ہوا ملے گی. اُس سے دماغ میں ہیجان کی کیفیت طاری ہو گی. اور ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں نہ ڈسکو ہیں نہ نائٹ کلبز، وی اپنی ہوس پوری نہیں کر سکے گا. تو اِس کا نتیجہ بہت ہولناک نکلے گا. کیونکہ پھر اُس درندہ صفت مرد کے لیے رنگ، نسل، عمر اور صنف کا فرق ختم ہو جائے گا. وہ کسی بھی کمزور انسان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا.

    یہاں پر علمِ نفسیات کا ایک مضمون سایئکلاجیکل ڈسپلیسمنٹ اِس کی مزید وضاحت کرتا ہے.

    کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے اِس معاملے کا اسلامی پہلو دیکھا جائے تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣١ کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    "مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. اور اپنی زینت کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے. اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال دیں.”

    قرآن کریم کا یہ حکم مومن خواتین کے لیے ہے. لیکن اِس آیت سے ایک آیت پہلے یعنی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣٠ کا حکم کچھ یوں ہے:
    "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی اِن کے لیے پاکیزگی ہے. لوگ جو کچھ کریں اللَّه تعالیٰ اُن سے خبردار ہے.”

    یہ دو آیات اِس پورے معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے.سب سے پہلے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے.

    یعنی اصل مسئلہ ہی اِن نگاہوں کا ہے. دیکھنے سے اگر ہیجان برپا نہ ہوتا تو فحش ویب سائٹس کا تو کام ہی تمام ہو جاتا اور بھوکے کو کھانا دیکھ کر کبھی منہ میں رال نہ آتی.

    یا اِس کو ایسا کہہ لیں کہ ملبوسات کی دکانوں میں سب سے دلکش جوڑے دکان کے داخلی حصے پر نمائش کے لیے آویزاں نہ کیے جاتے. یہ نمائش ہی انسان میں خریداری کی خواہش پیدا کرتی ہے.

    دوسرے نمبر پر اللَّه تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے. کیونکہ اگر نگاہوں کی حفاظت کے باوجود نگاہ پڑ بھی جائے تو خود کو پاکیزہ رکھنے کے لیے حفاظت اور احتیاط ضروری ہے.

    پھر تیسرے نمبر پر ایک حکم عورتوں کو زائد دیا گیا ہے. اور وہ یہ ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور اوڑھنیاں گریبانوں پر ڈال لیں.
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ حکم مردوں کو کیوں نہیں ملا؟ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ زینت یا سجاوٹ ہے ہی عورت کے پاس اور اسی کو چھُپانے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ معاشرہ شر اور ہیجان سے پاک رہے.

    اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق حکم سے پہلے اللَّه تعالیٰ نے مردوں کو حکم دیا ہے کہ نگاہیں نیچی رکھو. کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر معاشرے میں صرف مسلمان عورتیں ہی بستی ہوں جو کہ پردہ بھی کرتی ہوں. یہ حکم اِس لیے ہے کہ کسی بھی عقیدہ، قومیت یا مذہب کی عورت شر سے محفوظ رہ سکے. کیونکہ مردوں سے سوال آخرت میں اُن کی نگاہوں بارے ہونا ہے.

    فیمینزم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہے. قطع نظر مذہب ہر معاشرے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں ہوتی ہیں. مادر پدر آزادی کا کوئی بھی معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا.

    فیمینزم کا تعلق عورت کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے. جِسے مادر پدر آزادی کے علمبرداروں نے ہائی جیک کر لیا ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتے ہیں. جبکہ مسئلہ برابری سے بڑھ کر توازن کا ہے.

    قرآن کریم میں جِس وجہ سے مرد کو افضل قرار دیا ہے وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بےدریغ قربانیاں ہیں. جبکہ ایک عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے اور ایک انسان کو پیدا کرتی ہے. اِس لیے اُس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے.

    یہ فضیلت تنقید کرنے والوں کو نظر نہیں آتی. پھر عورت نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے. مرد جس نسل کو پالنے کی وجہ سے افضل ہے, اُس نسل کو پیدا کرنے اور تربیت کی ذمہ دار عورت افضل کیوں نہیں ہے. حقیقتاً سب کا اپنا مقام اور ذمہ داری ہے جس کا اُسی سے سوال ہونا ہے. جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر ٣٢ میں کہا گیا ہے:

    "اور اِس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللَّه تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. مردوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو اُنہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اُن میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا. اور اللَّه تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگو. یقیناً اللَّه ہر چیز کو جاننے والا ہے.
    میں پھر سے یہاں اِس بات کو واضح کر دوں کہ بلاتفریق رنگ، نسل، قومیت، حُلیہ اور مذہب کوئی عورت جنسی زیادتی اور ہراسگی کی مستحق نہیں. لیکن معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے. جنسی زیادتی اور ہراسگی جیسے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرے. خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کیجئے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں.

    @NaimatRehmn

  • پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر:   محمد کامران

    پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر: محمد کامران

    ،معدنیات ، بجلی ، پانی اور جنگلات جیسے وسائل کا کسی ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی پر بہت اثر ہوتا ہے ۔ کسی بھی ملک میں قدرتی وسائل ہونا ضروری ہے لیکن یہ معاشی اور معاشرتی ترقی کی ضمانت نہیں۔ کوئی ملک وسائل سے مالا مال ہو اور ان وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو معاشی اور معاشرتی ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے ماہرین، قدرتی وسائل اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے در میان اہم تعلقات قرار دیتے ہیں۔

     

    پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کان کنی کی صنعت کی ترقی کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ قیمتی پتھروں کے لیے کارپوریشن آف پاکستان لمیٹڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا

    یہ کارپوریشن پتھر کی کان کنی اور پالش کرنے میں اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو بطور سرکاری ادارہ دیکھتی ہے۔ معدنی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہے۔ جب کہ حال ہی میں سندھ کے تھر میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ جواہرات کے لحاظ سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے زیادہ تر معدنی جواہرات یہاں پائے جاتے ہیں ۔
    جوہری توانائی کے مقاصد میں استعمال ہونے والے تیل ، گیس اور باقی معدنیات کے لیے یہ صوبہ اہم ہے ۔ملک کے باقی صوبوں میں بھی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں

     چند ایک اہم معدنیات اور انکے وسائل درجہ زیل ہیں

    1. کوئلہ:
    کوئلہ جس کو بلیک گولڈ کا نام بھی دیا جاتا ہے ،

    تھر ، چمانگ ، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھاری مقدار میں پائی جاتا ہے۔
    تھر میں اسکے ذخائر کا تخمینہ 850 ٹریلین مکعب فٹ لگایا گیا یے ۔ جسے اگلے 100 سال تک بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یعنی دوسرے ہائیڈرو / تیل وسائل پر انحصار کیے بغیر صرف کوٰئلے سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔
    ۔ پاکستان نے حال ہی میں پنجاب میں ایک کم درجے کا چار درمیانے درجے کے کوئلے کے کوئلے کے سیل تلاش کیے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان اور اس کے قریب اسلام آباد میں سلفر کوئلے کے پائے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پاکستان میں بٹومینس، سب بٹومینس اور لگنائٹ کوئلہ پایا گیا ہے۔ کوئلے کا تقریب 80٪ حکومت اور 20٪ نجی شعبے کے ذریعہ نکالا جاتا ہے ۔ اسکی صنعت قدیم صنعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ لوہے، اسٹیل اور اینٹوں کی صنعتیں ہیں۔ کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اس کی قیمت تقریباً618 بلین بیرل خام تیل کے برابر ہوگی۔ جب تیل کے ذخائر کے مقابلے میں یہ بڑے چار ممالک کی مقدار سے دوگنا ہے۔
    2.قدرتی گیس:

    قدرتی گیس پاکستان کا اہم قدرتی وسائل ہے جس کا زیادہ تر حصہ سوئی کے مقام سے نکالا جاتا ہے

    اسکے تخمینہ شدہ ذخائر 885.3 بلین مکعب میٹر ہیں۔ جن کے مزید 20 سال تک رہنے کی توقع ہے۔ گیس کے اعتبار سے سوئی گیس فیلڈ سب سے بڑا ہے ، جو پاکستان کی گیس کی 26 فیصد پیداوار کرتا ہے۔سوئی گیس کے ذخائر 1953 میں دریافت ہوئے۔ وہاں روزانہ کی پیداوار 19 ملین مکعب میٹر ہے۔ بلوچستان کے بنجر پہاڑوں اور سندھ کے ریتوں کے نیچے تیل اور گیس کے اچھے ذخائر موجود ہیں۔ قدرتی گیس کے زیادہ تر صارفین کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں۔

     3. خام تیل:

    پاکستان کا پہلا تیل کا کنواں 1952 کے آخر میں ایک بڑا سوئی گیس فیلڈ کے قریب بلوچستان می لگایا گیا ۔
    ٹوٹل ائل ریفائنری 122.67 مربع کیلومیٹر (47.36 مربع میل) پر محیط ہے۔
    پاکستان پیٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز نے 1961 میں سوویت یونین کی مدد سے زخائر کی کھوج کی اور اس کی کھدائی شروع کی اور عملی کا 1964 کے دوران توت میں شروع کیا گیا
    ۔ پاکستان میں 326 ملین بیرل سے زیادہ موجود ہے

     

     

    4. یورینیم کی پیداوار:

    پاکستان کی مغرب میں اسکی وافر مقدر موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب میں تمن لغاری کان ، ضلع میانوالی میں بگالچور کان ، ڈیرہ غازی خان مائن اور عیسیٰ خیل کی کانیں مشہور ہیں
    پاکستان نے حال ہی میں اپنے جوہری طاقت اور ہتھیاروں کے پروگراموں میں یورینیم کا کچھ استعمال کیا ہے۔ 2006 میں پاکستان نے تقریبا 45 45 ٹن یورینیم کو تیار کیا تھا

     5. معدنی نمک:

    خطے میں 320 قبل مسیح سے نمک کی کھدائی کی جا رہی ہے ۔ کھیوڑا نمک کی کان کانوں میں دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی نمک کی کان ہے ۔ تقریبا 110 مربع کلومیٹر کے زیرزمین علاقے میں 320 قبل مسیح سے کھیوڑا میں نمک کی پہلی بار کھدائی کی گئی ۔کھیوڑا نمک کی کان کے بارے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اس میں 220 ملین ٹن راک نمک کے ذخائر ہیں۔ مائن سے موجودہ پیداوار 325،000 ٹن سالانہ ہے۔

     6. کاپر اور سونا:

    ریکو دیق بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اینٹوفاگستا کمپنی،جو ریکو ڈیک فیلڈ کے ساتھ کام کر رہی تھی ، ایک سال میں 170،000 میٹرک ٹن تانبے اور 300،000 اونس سونے کی ابتدائی پیداوار کو ہدف کے ساتھ کام کر رہی تھی۔اس منصوبے سے ایک سال میں 350،000 ٹن سے زیادہ تانبے اور 900،000 اونس سونا پیدا ہوسکتا تھا ۔
    چاغی ضلع میں واقع دشت کوہن ، نوک کنڈی میں بھی تانبے کے ذخائر موجود ہیں

    7. آئرن اور :آئرن اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے جن میں نوکندی ، چنوٹ اور کالاباغ (42 فیصد سے کم معیار) ، ہری پور اور دیگر شمالی علاقوں بھی شامل ہیں۔

     8. جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر:

    پاکستان میں مقامی اور برآمدی مقاصد کے لئے متعدد قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پالش کی جاتی ہے۔ اسکا مرکزی مقام خیبر پختونخوا ہے۔

    ان پٹھروں میں ایکٹینولائٹ ، ، آڈروکسی ، روٹائل ، ایکوامارین روبی ، ایمیزونائٹ ، کنزائٹ ، سرپینٹائن ، ایجورائٹ ، کیانیائٹ ، اسپیسارٹائن (گارینایٹ) ، بیرل ، ، اسپنیل ، زمرد شامل ہیں
    ان جوہروں سے برآمد 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

    TWITTER ID @KamranRMKS

  • اور جل پری مر گئی تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    اور جل پری مر گئی تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    جل پری بنیادی طور پر ایک افسانوی کردار ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا اوپر کا دھڑ انسانی اور نچلی دھڑ مچھلی کی طرح ہوتا ہے
    ہم بھی ایک جل پری کا زکر کرتے ہیں وہ اپنے والدین کی اکلوتی تھی۔ بچپن میں اس کی ہر خواہش کا احترام کیا جاتا اس کی خوشی کے لیے والدین اپنی جان نچھاور کرتے اس کےلباس ، خوراک الغرض اس کی ہر خواہش کو ترجیح دی جاتی اس کے کھلونے جو اس کی خوابوں کی دنیا تھی جب وہ پورا دن ان کے ساتھ کھیلنے کے بعد تھک ہار کر اپنی ماں سے لپٹ کر سو جاتی تو ماں چپکے سے اٹھ کر انھیں ترتیب سے سنبھالتی۔
    صبح اٹھنے کے بعد وہ اپنے بابا سے لپٹ کر اپنی ننھی منی خواہشات کا اظہار کرتی تو بابا دھیرے سے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیتے تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ ہوتا اور شام ڈھلے وہ دروازے کی طرف نگاہیں جماۓ منتظر ہوتی۔ جب بابا کے پاؤں کی آہٹ پاتی تو لپک کر دروازہ کھول کر اپنے بابا کے ہاتھوں کو بے چینی سے دیکھتی۔ اور اپنی فرمائش کو پا کر خوشی سے نہال ہو جاتی۔
    اسی طرح شب و روز گزر رہے تھے کہ ایک دن گھر میں کچھ اجنبی لوگ آۓ جن میں زیادہ خواتین تھیں۔
    وہ خواتین اسے کن اکھیوں سے دیکھ رہی تھیں اسے بڑا عجیب لگ رہا تھا۔ لیکن کچھ نہ سمجھتے ہوۓ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    مہمانوں کی روانگی کے بعد جب وہ باہر صحن میں گئی تو اپنی ماں کو اس کی طرف دیکھنا عجیب سا لگا آج سے پہلے ماں نے اس طرح نہیں دیکھا تھا۔وہ ماں سے لپٹ گئی اور ماں سے پوچھا کہ آج آپ اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں ماں نے گلے سے لگا کر پیار کرتے ہوئے کہا کہ تم جلد ہی اپنے گھر کی ہونے والی ہو۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا اس کی دانست میں تو وہ اپنے گھر میں ہی بیٹھی تھی پھر ماں ایسے کیوں کہہ رہی ہے اس نے ماں کی طرف کچھ نہ سمجھتے ہوۓ غور سے دیکھا اور سوچا کہ شاید ماں تھک گئی ہیں اور اسی لیے ایسی عجیب بات کہہ دی۔ شام کو بابا کے گھر آنے پر اس کی ماں نے اپنے شوہر سے سرگوشیوں میں گفتگو شروع کر دی۔ والدین کے اس رویئے کو دیکھ کر اسے حیرت تو ضرور ہوئی لیکن اپنے تجسس کو دباتے ہوئے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔
    پھر کچھ ہی شب و روز گزرے کہ ماں نے اسے بتایا کہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔
    اور پھر اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے اسے والدین نے نم آنکھوں کے ساتھ ایک اجنبی شخص کے ساتھ وداع کر دیا
    ایک اجنبی شخص اور نئے اجنبی گھر میں اجنبی لوگوں کے درمیان یہ سب کچھ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن وہ اجنبی شخص اس سے بے پناہ پیار کرتا اس کا ہر طرح کا خیال رکھتا لیکن گھر کی خواتین کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ایک دن اس نے ایک سرگوشی سنی کہ اس نے شوہر پر جادو کر دیا ہے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی لیکن گھر میں کھنچاؤ کا سا ماحول پیدا ہو گیا۔
    شروع میں تو گھر میں اس سے چھپ کر اس کے شوہر اور نندوں و ساس میں تلخ گفتگو ہوتی لیکن پھر سب کچھ عیاں ہونے لگا۔ ہر بار اس کا شوہر گھر کے افراد کو سمجھانے کی کوشش کرتا کبھی کبھار یہ سمجھانا انتہائی تلخ جملوں پر مبنی ہوتا
    لیکن ایک دن جب وہ کچن میں دوپہر کا کھانا بنانے گئی۔ دیا سلائی کے جلاتے ہی پورے کچن میں آگ بھڑک اٹھی اس آگ میں اس کی چیخیں دب کر رہ گئیں
    اور جل پری اس آگ میں جل کر خاکستر ہو گئی۔

    افسوس ہمارا معاشرتی ترقی یافتہ تو ہو گیا لیکن بہو کو بیٹی تسلیم نہ کر سکا

    #حبیب_خان

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • امثال بے مثال تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    امثال بے مثال تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    قرآنی تمثیلات پر اپنے انداز میں ایک عالمانہ تبصرہ ہے جو تفہیمی افادیت کا حامل ہے آج کی تحریر کا انتساب بڑا اچھوتا اور ایمان افروز ہے درحقیقت یہ تحریر اُن لوگوں کے نام ہے جو حق و صداقت کا ادراک کرکے اسے منافقت اور مصلحت کے پردے میں نہیں چھپاتے بلکہ بلا خوف و خطر اعلان کرکے اصحاب عزیمت کی قیادت کرتے ہیں

    بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
    عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

    اب میں اپنے دعوے پر قرآن کی ایک تمثیل بیان کر کے موضوع کو واضح کرتا ہوں

    وَکُنْتُمْ اَزْوَاجاً ثَلثَۃً
    اور تم ہوجاؤ تین گروہ

    اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے ستائیسویں پارے کے سورہ واقعہ کی آیت نمبر 7 سے لیکر آیت نمبر 46 تک قیامت کے دن نوعِ انسانی کے تین گروہوں میں تقسیم کرنے کا ذکر فرمایا اور
    ان تینوں گروہوں کو انکے اعمال کی نسبت سے تقسیم کیا گیا ہے
    اور اس تقسیم کی نسبت سے انکے ساتھ جزاء و سزا کا معاملہ طے ہونا بتلایا گیا ہے

    اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے
    نوعِ انسانی قیامت کے دن تین گروہوں میں بٹ جائے گی ایک دائیں بازو والے ۔ دوسرے بائیں بازو والے ۔ اور تیسرے سب سے آگے آگے

    سبقت لے جانے والا گروہ……….

    اور یہی تیسرا گروہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء صدیقین شہداء صالحین اور مقرّبین کا ہوگا
    جن کو انعام کے طور پر نعمت کے باغ عطا ہوں گے ۔ یہ سونے سے بنے پلنگوں پر گاؤ تکیے لگائے ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے
    انکے ارد گرد ستھری شراب کے آب خورے اور جام لئے ہوئے خوبصورت لڑکے پھر رہے ہوں گے ۔ یہ شراب ایسی ہوگی جس سے نہ طبیعت میں گرانی ہوگی اور نہ نشہ ۔ اُن کیلئے پھل ہوں گے جو وہ منتخب کریں گے ۔
    اور اُڑتے پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے اور بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزائیں ہوں گی جو لڑی میں پروئے ہوئے موتی کی طرح ہوں گی ۔ ایسے ماحول میں وہاں گفتگو جھوٹ سے پاک اور سلامتی والی ہوگی اور یہ سب بدلہ ہوگا اُن کے اعمال کا .
    دائیں بازو والا گروہ…………

    یہ وہ گروہ ہے جو بیری کے کانٹوں سے پاک درختوں میں رہتے ہوں گے ۔ اُن کے لئے کیلے تہہ در تہہ ہوں گے ۔ گھنی چھاؤں ہوگی ۔ بہتا ہوا پانی پینے کو ہوگا ۔ اور میوے کثرت سے ہوں گے ۔ جو نہ گھٹیں گے اور نہ ہی اُن کے میووں کے کھانے میں کوئی رکاوٹ ہوگی اور اونچی باعزت بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی ۔ بچھونے لگے ہوں گے ۔ دوشیزائیں جن کو جسمانی اور روحانی لحاظ سے ایک خاص معیار پر بنایا گیا ہے اور وہ دوشیزائیں ایسی کہ جو دل کو لبھاتی ہیں ایک ہی عمر کی اور کنواریاں ہوں گی اور یہ سب انعام دائیں بازو والوں کیلئے ہے نیز اس گروہ میں اگلوں اور پچھلوں سے بھی لوگ کثرت سے شامل ہوں گے .
    بائیں بازو والا گروہ……….

    اس گروہ کا حال یہ ہے کہ وہ آنچ کی بھاپ اور جلتے پانی میں ہوں گے ۔ اور ان کے سروں پر دھوئیں کی چھاؤں ہوگی جو نہ ٹھنڈی ہو گی اور نہ ہی عزت کی ہوگی .
    ہاں البتہ اس مقام سے پہلے وہ بڑے آسودہ حال لوگ تھے اور گناہوں کی لذت میں ڈوبے ہوئے تھے اور گناہوں پر ضد کے مصر رہے
    اس گروہ کی بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی آسودہ حالی کو حصولِ رحمتِ خداوندی کیلئے استعمال نہیں کیا ۔ یہ بائیں بازو والے اپنے نظریات ایمانیات اور اعمال کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب کا شکر ہوئے ۔ اپنی انانیت تکبر و غرور میں بھرے خود کی موت سے انجان اور دوسروں کی زندگی میں تاک جھانک اپنا کام سمجھنے والے
    زندگی کے اصل مقصد کو بھلا کر رب تعالیٰ کو راضی کرنے کے بجائے اپنے خالقِ حقیقی کی نافرمانیوں میں اپنے رات دن بسر کرنے والے یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بائیں بازو والے نام سے مخاطب فرمایا ہے جبکہ اپنے پاک کلام میں اللہ عزوجل نے حیاتِ دنیاوی کو کھیل کود تماشہ اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنے کا محض سامان قرار دیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ دنیاوی ساز و سامان کے چکر میں اپنا ایمان اخلاقیات کردار گفتار اور رشتے تک پسِ پشت ڈال دیتے ہیں

    خلاصہ سبق…………
    ایک انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت بھرپور یہ کوشش کرتا رہے کہ وہ اپنے امورِ خانہ دار کے ساتھ ساتھ اپنے مہربان رب العالمین کو جانی مالی بدنی عبادات کرنے سے راضی کرتا رہے اور حتَّی المقدور حقوق العباد کے معاملے میں بھی محتاط زندگی گزارے

    بارگاہِ ایزدی میں التجاء

    اللہ جل شانہ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں دعا گو ہوں کہ وہ اس تحریر کو ہم سب کیلئے ذریعہ نجات بنائے آمین ثم آمین

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : سید معین الدین بخاری

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : سید معین الدین بخاری

    یوں تو آپ نے والدین کا بچوں سے پیار بہت سنا اور دیکھا ہوگا کہ چھوٹے سے معصوم بچے کی پیدائش کے بعد اسکے والدین کس قدر پیار اور محبت سے اسکی پرورش کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں والدین طرح طرح کی پریشانیاں ایک پل کیلئے بھی محسوس نہیں کرتے اور اپنے بچوں پر ہر طرح سے جان نچھاور کرتے ہیں۔ والدین کا یہ جذبہ اور محبت پیدائش کے شروع 2،3 سال بھی نہیں رہتا بلکہ ساری زندگی والدین اپنے بچوں سے بے پناہ اور بغیر کسی غرض کے محبت کرتے ہیں۔
    پھر ایک وقت آتا ہے جب والدین بوڑھے ہونے لگتے ہیں اور انکی جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے اور ادھر بچے جوان ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر والدین اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں۔ لیکن آپ اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لیں کہ جب آپ جوان اور والدین بوڑھے ہو جائیں یا جب آپ اچھے برے کی تمیز کرنے لگتے ہیں تو والدین کو بھی آپ سے اچھے کی توقعات ہوتی ہیں۔والدین کا یہ ارمان ہوتا ہے کہ ہماری اولاد ہمارے بڑھاپے میں سہارا بنے اس عمر میں جا کر والدین کے دل زیادہ نرم و نازک اور حساس ہو جاتے ہیں۔اولاد کی ذرا سی بے رخی انکے دل پر قیامت کی طرح گزرتی ہے لیکن وہ پھر بھی صبر کرتے ہیں۔
    بطور مسلمان ہمیں ہمیشہ اپنے والدین کا خیال رکھنا چاہیے لیکن انکے بڑھاپے میں تو بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے،
    "وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-”
    اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
    جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندے کو اپنے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے وہاں دوسرا حکم اپنے والدین سے احسان یعنی حسن سلوک کا فرمایا ہے۔ اس طرح والدین سے حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ ہم لگا سکتے ہیں۔
    اس کے علاوہ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ،
    "اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)”
    "اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے جب بات کرنا تو تعظیم کی بات کہنا۔”
    محترم قارئین اس طرح والدین سے حسن سلوک ہمارے اوپر فرض قرار دے دیا گیا ہے اور احتیاط اتنی ہے ٹیڑھے منہ سے بات تک نہیں کر سکتے۔ لیکن جب آج کے معاشرے میں والدین سے اولاد کا رویہ دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بد تمیزی، فحش گوئی اور تشدد، ایسے کونسے مظالم ہیں جن کا نشانہ والدین نہیں بن رہے؟
    یوں تو ہم باپ کو جنت کا دروازہ اور ماں کے قدموں میں جنت کو مانتے ہیں لیکن جب بات عزت و تکریم کی آتی ہے تو ہمارے مظالم سے والدین محفوظ نہیں رہتے۔ یاد رہے اس طرح کے عمل سے ہم اپنی ہی آخرت خراب کر رہے ہیں اور کچھ نہیں۔
    والدین سے حسن سلوک کا تقاضا ہے کہ انکو کوئی تکلیف نہ پہنچے، انکی ضرورت کہنے سے پہلے پوری کر دی جائے اور جب بھی انہیں مخاطب کریں تو ایسے الفاظ استعمال کریں جو انکے لئے راحت قلب کا سامان ہو جائیں جس سے والدین کے دل سے بھی آپ کے لیے دعا نکلے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین سے حسن سلوک کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔

    ٹویٹر 👈 @BukhariM9

  • دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا اور آخرت مشرق اور مغرب کی مانند ہیں اور ہم سب یہاں کچھ پل کے چلنے والے مسافر ہیں یہاں اگر ایک انسان جتنا کسی کے نزدیک ہوگا اتنا ہی دوسرے سے دور ہوگا ۔
    دنیا راہ گزر ہے دنیا کی خوشی غم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے.
    ہزاروں خواہشات انسان پر غالب آجائیں تو یہ کہنا برا نا ہوگا کہ انسان سیدھے راستوں سے بھٹک جاتا ہے. غلط راستوں پر چلنے والوں کو فقط رسوائی ہی ملتی ہے..
    ہر انسان کے اپنے پوشیدہ یعنی چھُپے ہوئے نا بتانے والے دکھ ہوتے ہیں جو دنیا نہیں جانتی
    اور اکثر اوقات ہم کسی انسان کو بے حس کہتے ہیں مگر وہ صرف غمگین رنجیدہ ہوتا ہے
    کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں
    کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں ہے جو تم وہ صرف تم خود ہی ہو بس تم خود پر توجہ دو…
    لوگوں کے بارے میں زیادہ سوچنا خود کو اپنی ذات سے دور کرنا ہے.
    غمگین نا ہوں اگر آپ کسی کو اچھے نہیں لگتے
    تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بس یہ سوچ لیں کہ ہرانسان کی پسند اچھی نہیں ہوتی.
    خاموش ہو جاؤلیکن گلے شکوے چھوڑ دو مت اپنا معیار گراو کسی کو کچھ بھی کہہ کر اور اس کو جواب دے کر اپنے عزت اور اپنے وقار کی خود حفاظت کرو.جہاں عزت نا ملے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لو عزت اور وقت بھیک میں نہیں ملتا اس لیے مانگنا چھوڑ دو. بےشک کسی بھی رشتے کا وجود اس کے بغیر باقی نا رہےعزت وہ نہیں جو باتوں سےسنائی جاتی ہےعزت وہ ہے جوعمل سےدکھائی دیتی ہے
    شکریہ

  • پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ  تحریر:  ماہ رخ اعظم

    پانی کی قلت، کالا باغ ڈیم بناٶ تحریر: ماہ رخ اعظم

    پاکستان کو گذشتہ ستر برسوں سے اپنی معاشرتی معاشی صورتحال میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، تمام مسائل پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔ آج کے پاکستانی کے اہم مسائل میں ایک مسلہ پانی کی قلت ہے

    ملک کا ایک سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ، پاکستان دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے، جو آبی بحران سے دوچار ہیں۔ پانی کے اس بحران سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
    جب سے 1960 کی دہائی میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بنائے گئے تھے تب سے پاکستان نے آبی ذخیرے کا کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا ہے۔ضروری ہے کہ کالا باغ اور دیامر باشا ڈیموں پر کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، ڈیموں کی کمی کی وجہ سے 40 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی سمندر میں بہہ رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم میں 6.4 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے ، دیامر-باشا ڈیم 5.8 ایم اے ایف ذخیرہ کرسکتے ہیں ، اور داسو ڈیم 6 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اگر یہ تینوں ڈیم مکمل ہوجاتے ہیں تو بہت سارے پانی ضائع ہونے سے بچ جائیں گے جو پانی کی قلت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں

    اگر یہ ڈیم تعمیر نہیں ہوئے تو پاکستان کو پینے کے پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا زراعت کا شعبہ تباہ ہوجائے گا۔ پاکستان میں ، ٹیکسٹائل اور کیڑے مار دواؤں کی صنعتوں جیسی دیگر صنعتوں کے ساتھ زراعت کا گہرا تعلق ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔

    پانی کی کمی کی وجہ سے ، زراعت اور زراعت سے متعلقہ دونوں صنعتیں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں۔ زرعی شعبہ پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ حکومت کی نظرانداز دونوں سے بھی متاثر ہے: جیسے کھادوں اور بیجوں پر معاون قیمتوں یا سبسڈی فراہم نہ کرنا۔

    ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستانی کو پانی کی قلت سے بچانے کےلیے اس مسئلے کا باقاعدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور قومی تناظر میں واٹر مینجمنٹ اور پالیسی کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں ایک مثال قاٸم کرنیا چاہئے جو مطالبہ پر مبنی اقدامات پر مرکوز ہے۔جو آبی وسائل کے تحفظ ، آبپاشی کے نظام کی تعمیر ، جھیلوں ، پن بجلی منصوبے کو فروغ دے گا اورساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کو تعمیر کیا جاٸیں تاکہ پاکستان کو پانی قلت سے بچایا جاسکے!

     >

  • ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے  تحریر:   جہانتاب احمد صدیقی

    ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    محنت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے ۔ سست انسان کبھی بھی کچھ حاصل نہیں کرسکتا ۔ جو شخص محنت کرتا ہے وہ زندگی میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ بغیر کسی محنت کے زندگی میں کامیاب ہونا ناممکن سی بات ہے ۔محنت کرنے والا شخص زندگی میں کبھی ہار نہیں مانتا ہے وہ اپنا ہر کام احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے جبکہ ایک سست شخص عیش و آرام کو ترجيح دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی متحمل نہیں ہو سکتا ہے

    ایک محنتی انسان زیادہ سے زیادہ محنت کرکے خود کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے ،جبکہ ایک سست انسان خود کو پستی میں دھکیل دیتا ہے ۔محنت سے کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔ محنت کرنا مشکل ہے لیکن اپنی زندگی کو ہموار بنانا ضروری ہے۔ ایک محنتی شخص زندگی میں ہمیشہ خوش رہتا ہے۔. کامیابی محنت کا نتیجہ ہے۔. جو شخص سخت محنت کرتا ہے وہ زندگی میں بہت سی چیزوں کو حاصل کرتا ہے۔. لوگ ہمیشہ اس سے محبت کرتے ہیں۔. وہ ہمیشہ ہر ایک کا احترام کرتا ہے۔

    ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں اہداف ہیں۔. اہداف کی تکمیل کے لئے ہمیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔. بیکار بیٹھنا کسی کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد نہیں کرتا ہے۔. ہم سب کو زندگی میں ملنے والے موقع کا احترام کرنا چاہئے۔. موقع کا احترام کرنے کا مطلب دل لگا کر محنت کرنا ہے۔.

    ہمیں ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔. ناکامی ہماری زندگی کے لئے فطری ہے۔. جب ہم ناکام ہوجاتے ہیں تو ہمیں دل لگا کر محنت کرنا نہیں چھوڑنا چاہئے۔. ہم سب کو اپنے آپ پر یقین کرنا چاہئے اور جب تک ہم اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرتے ہیں کوشش کرتے رہنا چاہیے

    اگر ہم زندگی میں عزم اور توجہ مرکوز کریں تو ہم دل لگا کر محنت کر سکتے ہیں۔. کام میں ارتکاز بہت ضروری ہے۔. اگر کوئی کام کرتے وقت پوری طرح توجہ دیتا ہے تو ، کام کامیابی کے ساتھ اور بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔. ہمیں اپنی حراستی کی سطح کو بڑھانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔. ہماری حراستی طاقت کو فروغ دینے کے لئے دل لگا کر محنت بہت ضروری ہے۔.

    بچوں میں محنت کے احساس کو فروغ دینے کےلیے ، والدین یا اساتذہ انہیں کسی ملک کے کامیاب افراد کی کہانیاں سنائیں۔. بچوں کو اپنی زندگی کے لئے ایک رول ماڈل کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ اپنی زندگی پر توجہ مرکوز کریں۔. اس سے انہیں دلچسپی کے ساتھ
    محنت کرنے میں مدد ملے گی۔

    انسان کو کامیاب ہونے کے لیے محنت کرنی چاہیے کیونکہ محنت کرنے والوں کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ اور محنت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔ اللہﷻ کا دوست ناکام کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ محنتی شخص فقط کامیابی سے ہی ہمکنار ہوتا ہے

    مکرمی!! آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ محنت اور کوشش کرنا مت چھوڑیں، ناکامی زندگی کاحصہ ہے اگر آپ ایک بار ناکام ہوگٸے تو گھبرانا نہیں کیونکہ ہر کیسی کو پہلی باری سب کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے محنت کرتے رہے جب تک آپ کامیاب نہ ہوجاٸیں۔

    اللہ پاک ﷻ ہمیں اپنے محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!