Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی عظیم قربانیاں۔ تحریر: بسمہ سجاد

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی عظیم قربانیاں۔ تحریر: بسمہ سجاد

    ایک وقت تھا جب دہشتگردی کے باعث سوات کے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی تھی مگر پاک فوج کے ساتھ سوات پولیس نے انتہائی جانفشانی سے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے اور آج سوات دوبارہ امن کی وادی بن چکی ہے۔ سوات میں قیام امن کے لئے پولیس کے 132 اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں اور آج ہزاروں کی تعداد میں سیاح ایک پرامن سوات میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
    خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کی فہرست خاصی طویل ہے، چارسدہ میں 75، نوشہرہ میں 36، مردان میں 110، کوہاٹ میں 81، صوابی میں 48، کرک میں 18، ایبٹ آباد میں 13، ہری پور میں 10، مانسہرہ میں 35، بٹگرام میں 8، کوہستان میں 4، تورغر میں 5، بنوں میں 158، لکی مروت میں 44، ٹانک میں 31، شانگلہ میں 27، بونیر میں 27، لوئر دیر میں ایس پی خورشید خان سمیت 43، اپر دیر 32 اور چترال میں 11 اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    ایک وقت تھا جب دہشتگردی کے باعث سوات کے لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی تھی مگر پاک فوج کے ساتھ سوات پولیس نے انتہائی جانفشانی سے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے اور آج سوات دوبارہ امن کی وادی بن چکی ہے۔ سوات میں قیام امن کے لئے پولیس کے 132 اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں اور آج ہزاروں کی تعداد میں سیاح ایک پرامن سوات میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
    خیبر پختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کی فہرست خاصی طویل ہے، چارسدہ میں 75، نوشہرہ میں 36، مردان میں 110، کوہاٹ میں 81، صوابی میں 48، کرک میں 18، ایبٹ آباد میں 13، ہری پور میں 10، مانسہرہ میں 35، بٹگرام میں 8، کوہستان میں 4، تورغر میں 5، بنوں میں 158، لکی مروت میں 44، ٹانک میں 31، شانگلہ میں 27، بونیر میں 27، لوئر دیر میں ایس پی خورشید خان سمیت 43، اپر دیر 32 اور چترال میں 11 اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ کا کٹھن مرحلہ خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ عام شہریوں کے لئے بھی کبھی آسان نہ تھا، خیبر پختونخوا کے ہزاروں شہری بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور دہشتگردی کی دوسری وارداتوں کا نشانہ بنے تاہم خیبر پختونخوا پولیس اور عام شہریوں نے ملکر ہمیشہ دہشتگردوں کو شکست دی اور آج خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں امن بحال ہو چکا ہے، ایک طرف جہاں سوات اور قبائلی اضلاع میں بچیوں کی تعلیمی سرگرمیاں زور وشور سے جاری ہیں تو وہیں چترال سے لیکر وزیرستان تک روایتی اور ثقافتی تہواروں میں بھی لوگ بھرپور انداز میں شریک ہورہے ہیں۔ خوشی اور امن کی یہ نوید ان ہزاروں شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور فرض کی ادائیگی کو ہمیشہ مقدم جانا۔ اب موقع ہے کہ ہم سب اپنے اپنے طور پر پاکستان کی خوشحالی اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال کر شہداء کی قربانیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کریں۔
    پاکستان
    @Bisma4PK

  • سوشل میڈیا اور تباہی  تحریر: رانا عزیر

    سوشل میڈیا اور تباہی تحریر: رانا عزیر

    اگر آج کے حالات و واقعات پر ہم لوگ نظر دوڑائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اس معاشرے کو تہذیب یافتہ کا نام دے رہے ہیں۔
    قصہ کرنل کی بیوی ہو یا ٹی وی پر بیٹھے سیاستدان ایک دوسرے کی عزت چوکوں پر لٹکا رہے ہوں یا کوئی بھی صحافی، ان حالات میں سوشل میڈیا نے ہمیشہ آگ بھڑکائی اور ایندھن کا کردار ادا کیا

    ہم کسی کی بھی نجی وڈیو اور بلیک میل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں چاہے وہ عثمان مرزا واقعہ ہو جس میں سوشل میڈیا پر لڑکی کی تصویر کو سنسر کیے بغیر چلایا گیا اور لڑکی کی عزت کو پامال کیا گیا اس تمام صورتحال کو عکس بند بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا صارفین انجوائے بھی کرتے رہے۔
    سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی حرکات و سکنات ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پرتلے ہوئے ہیں
    جب معاشرے میں بڑے, پڑھے لکھے سکالر اور ایلیٹ لوگ اس طرح کے حوصلہ شکن واقعات میں ملوث ہون گے تو نئ نسل کیا سیکھے گی، رہی سہی کسر آج کے ٹک ٹاکرز نے نکال دی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے اور لبرل ازم کے نام پر بے حیائ پھیلائی جارہی ہے اور ہر طبقہ اب انکی تقلید کرنا شروع ہوگیا ہے لیکن نفس پر کنٹرول بھی انسانی صفت ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس سوشل میڈیا کی جنگ کو کسیے لڑتے ہیں یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہے

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • ہم اور سماجی رویے  تحریر : اقراء ناز دھرابی

    ہم اور سماجی رویے تحریر : اقراء ناز دھرابی

    اُٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
    رویے کس کے لئے کس کس کا ماتم کیجئیے

    رویے کی تعریف کی جائے تو اس سے مُراد ایک فرد کا دوسرے فرد کے ساتھ طرز عمل اسی طرح سماجی رویے سے مُراد معاشرے کے افراد کا آپس کا رویہ اور طرز عمل. انسان ایک سماجی حیوان ہے اسکا اپنی تمام ضرورتوں کے لئیے دوسرے پر انحصار رکھنا ایک عام بات ہے یہاں ہم سب ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ہر طرح کے معاملے میں کوئی بھی فرد اپنی تمام ضروریات کو خود پورا نہیں کر سکتا نہ ہی اپنے تمام مسائل کا خود تدارک کر سکتا ہے اس لئے وہ معاشرے کے دوسرے افراد پر انحصار کرتا ہے اور یہ انحصار ایک فطری بات ہے اور اس سے بڑھ کے ضرورت بھی. مگر مسئلہ انسان کی سماجی ضرورت کا نہیں رویے کا ہے ہم سب کا طرز عمل ایک دوسرے کی جانب نامعلوم کس حد تک ناقابل برداشت ہے.
    جس نفسا نفسی کا ذکر قیامت کے روز سے جُڑا ہے وہ ہمیں آج بھی دیکھنے کو ملتی ہے ہم انسان ایک دوسرے کے بہترین دوست اور بدترین دشمن ہیں ہماری دوستی بھی مشروط دوستی ہے جو کہ دشمنی کے زمرے میں ہی آتی ہے
    رویے دو طرح کے ہوتے ہیں مثبت یا منفی. مثبت روئیے دوستی، رشتہ داری، خلوص، محبت، عاجزی و انکساری، ایثار، رحم دلی، انصاف پسندی، اتفاق اور ملنساری سے مربوط ہیں اور دوسری طرف منفی رویہ جو کہ نفرت، حقارت، بدتمیزی، شر انگریزی، تنقید برائے تنقید، حق تلفی اور نا انصافی جیسے عناصر پر مشتمل ہے اور اگر ہم اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لیں تو منفی رویوں کی زیادتی نظر آتی ہے محرک کوئی بھی ہو آج ہم سب ایک دوسرے کے لیے ناقابل برداشت ہیں دنیا کا وہ انسان جسے دنیا میں امن و سکون قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا آج اس دنیا کو منفی رویوں کے تِھرل سے ہلا کے رکھتا ہے.
    وہ دنیا جس کو رشتوں سے، محبت سے آراستہ کر کے انسان کو دیا گیا تاکہ اسکو جینے کی وجہ ملے اُسے ایک سماج دیا گیا تا کہ وہ اس سماج میں لوگوں سے میل ملاقات کرے اپنی ضرورت پوری کرے اور نا صرف اپنی بلکہ خود سے منسلک لوگوں کی اور باقی سماج کی مگر یہ کیا وہ انسان جس کو احسن تقویم انداز سے پیدا کر کے زمین پہ اُتارا گیا اُس نے تو وہ کیا جو فرشتوں نے کہا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے کا اور خون خرابا کرے گا. آج نے انسان نے اس بات کو سچ کر دیا اور نہ اپنے سگے کو بخشا نہ پرائے کو. زمین، زر، زن کے پیچھے اپنے سگے بھائی کا گلہ کاٹ ڈالا. دولت کی تمنا میں اتنا اندھا ہوا کہ جائز اور ناجائز کا فرق بھول گیا اور اُس غریب کا لہو بھی چوس کر پی گیا کہ جس کہ پاس شاید اولاد کو دینے کو وہی خون کےچند قطرے تھے جن کی گرمائش سے وہ زندہ تھا اور پھٹے ہاتھوں سے کما کر اولاد کے منہ میں چند لقمے ڈال رہا تھا. یہ انسان ہوس پرستی کا اتنا مائل ہوا کہ اسے اپنی جائی بیٹی نہ نظر آئی کجا کہ معصوم کسی اور کی بیٹی تو دُور. منافقت نے ایسا اسے گھن چکر بنایا کہ دو مُنہ، دوہرا معیار، دوہری پالیسی بنانا جیسے اسکی خُدادا صلاحیت ہو. ناانصافی اور حق تلفی میں تو اس نے گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کروایا. اقتدار کے لالچ میں فرعون بن بیٹھا اور ذرا جہاں اسے اقتدار ملا اس نے وہاں اپنی فرعونیت ثابت کی بھلے وہ ایک دروازے پہ بیٹھنے والے چوکیدار کی کرسی ہی کیوں نہ ہو اس نے خُوب استعمال کیا.
    زمین کا ایک ٹُکڑا جو اس نے ملک کے نام پہ حاصل کیا اسکا بس نہ چلا کہ اُسکو تو بیچ کر کھا جائے، کسی یتیم کا مال ہڑپ کرنے کا موقع ملا تو اُس میں بھی خوب کاریگری دکھائی. تنقید برائے تنقید کے نام پر اگلے کی دھجیاں اُڑا دیں اور ایسی اُڑائی کہ اُسکی عزت تک کا خیال نہ کیا. شر انگیزی کی ایسی وبائیں پھیلائیں کی ان کے اثر سے کوئی محفوظ نہ رہ سکا. نفرت اور حقارت میں تو اس نے جھنڈے گاڑے اپنے من کی تمام کی تمام کالک دوسرے کے مُنہ پہ مل دی اور اتنی سیاہ کالک کہ اگلا ساری زندگی اُسکو سو لیموں کی طاقت والے لیمن میکس بار سے بھی دھوئے تو اُترنے کا نام نہ لے.
    یہ سب کر کے بھی یہ انسان کہتا ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملا اور انسان کون ہم، آپ اور میں. میں اس معاشرے سے الگ  نہیں اور نہ ہی کوئی دوسری دنیا کی باسی مجھے پروان بھی اسی معاشرے نہ چڑھایا ہے میرے اندر بھی یہی خصلتیں ڈالی ہیں مگر مجھے اتنا معلوم ہے کہ ان خصلتوں کو دبانا کیسے ہے اور اس معاشرے کو سدھارنے کا عزم کرنا ہے. ہماری ان خصلتوں میں ہمارے آنے والی نسلیں مزید اضافہ کرتی آ رہی ہیں اور اس بات کا ثبوت دے رہی ہیں کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم یہ سیمنٹ سے بھگو بھگو کہ قدم رکھے ہیں کہ کہیں یہ قدم دھندلا نہ جائیں ہمارے منفی رویوں کی کشش ہماری نئی نسل کو ایسے کھینچ کے لائی جیسے بین کے پیچھے ناگ.
    منفی رویوں کی اس فہرست میں ایسا کوئی رویہ نہیں جس کو اپنانے میں ہم نے بازی نہ لی ہو بلکہ جناب ہم نے تو مقابلے بازی کی ہے کہ کہیں کوئی دوسرا ہم سے آگے نہ نکل جائے اور جہنم اور ناکامی کا جو ایوارڈ ہم نے لینا تھا کوئی اور نہ لے اُڑے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں. مثبت رویوں کو تو ہم نے مکھن لگانے اور چُونا لگانے کو رکھا تا کہ بروقت ضرورت انکا استعمال ہمیں فائدہ پہنچا سکے بھئی اب ہم سارے کام تو منفی رویوں سے نہیں نا کر سکتے ہو سکتا ہے کسی کو زہر نہ دینا پڑے اور وہ شہد یا گُڑ سے ہی مرتا ہو تو کیا اُسکو زہر سے مارنا. مثبت رویے ہمارے لیے نہیں ہیں یہ دوسروں کے لیے ہیں تا کہ وہ ہم سے مثبت انداز میں پیش آئیں وگرنہ ناانصافی ہو جائے گی ہمارے ساتھ. اور یہ کہاں کا اصول ہے جو دو وہی لو. اگر ہم اسکے ساتھ منفی انداز سے پیش آ رہے ہیں تو اسکو چاہیے کہ کچھ نیا کرے کچھ یونیق ایک جیسا ردعمل نہ دے وہ کچھ تو مثبت کرے ہمارے ساتھ.
    رویوں کا مطلب صرف عمل تک رہنا نہیں ہے ہماری انٹینشنز، ہماری دوسرے کے مطلق سوچیں، خیال یہ سب بھی رویے کا حصہ ہے کیوں کہ جو ہم خیال کرتے ہیں وہی ہم سوچتے ہیں اور جو سوچتے ہیں ویسا ہی عمل کرتے ہیں تو یہ تین کونے والا ماڈل رویہ اور رویے کے اجزاء ہیں جن میں سے ہمیں تو صرف ہمارا ردعمل سمجھ میں آتا ہے باقی کونسا ہم نے کسی کو دکھانا ہے یا کسی کو کونسا پتہ چلنا کہ ہم کیا سوچتے ہیں دوسرے کے بارے. جب وقت آئے گا عمل کا تو تب دیکھیں گے کہ مکھن یا چونا لگانا ہے یا کالک لگانی ہے.
    ہم سب بھول گئے کہ ہمارے یہ روئے کسی کے لیے کتنے تکلیف دہ ہیں کبھی سوچیے گا اُس انسان نے بارے جس کا آپ نے حق کھایا وہ حق صرف پیسوں کا نہیں ہوتا کسی لائن میں کھڑے شخص کو اُسکے نمبر پہ باری نہ دینا بھی حق مارنا ہے اپنے تعلق کی بنیاد پہ کام نکلوا لینا بھی حق مارنا ہے اور اس کی کئی اور صورتیں بھی ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتی کیونکہ ہم موٹی عقل رکھتے ہیں. کبھی سوچیے گا اُس انسان کے بارے جس کا دل آپ نے باتوں سے چھلنی کیا تنقید سے چھلنی کیا ہو. اور سوچیے گا اس عورت کے بارے جو آپکی نام نہاد مردانگی اور اُٹھی گہری غلیظ نظر کی وجہ سے زمین میں گَڑ گئی ہو. کبھی سوچیے گا اُس باپ کے بارے جس کی حیثیت کوڑی کہ کہ تھی مگر اپنی بیٹی کو جہیز سے تول کے آپکے گھر بھیجا اور آپ نے اُسکی کردار کشی کر کے اُس پہ طلاق کا دھبہ لگایا. کبھی سوچیے گا اس انسان کے بارے جسکو آپکی ضرورت تھی اور حیثیت رکھتے ہوئے اپ نے مدد نہ کی اور وہ ہار گیا. کبھی سوچیے گا اُس کے بارے جس کا جینا آپ نے اتنا مُحال کیا کہ اس نے جینے سے مر جانے کو ترجیح دی اور کچھ ایسے بھی ملیں گے جو اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہوں گے. کبھی سوچیے گا اس کے بارے جسے صرف آپکے ایک ہاتھ یا ایک تھپکی کی ضرورت تھی اور آپ بے خبر رہے اور آپکی بے خبری نے اُسکی جان لے لی.
    خُدارا سمجھیں اپنے رویوں کو دوسروں کے رویوں کو ضروری نہیں کہ ہر کوئی آپکو آ کر بتائے مجھے یہ مسئلہ ہے آپ سے آپکے اس رویے نے میرا دل دُکھایا خود اپنے رویوں کو مشاہدہ کرو اور بے لوث ہو جاؤ مت دیکھو کسی کے لیے کتنا کر سکتے ہو جتنا کر سکتے ہو اُتنا تو کرو اور کچھ نہ کر سکے تو ایک تھپکی، ایک مسکراہٹ، ایک امید دے دینا یہ بھی بڑا کام آئے گی
    تحریر کا مقصد دل آزاری نہیں بلکہ معاشرے کی سیاہ تاریک صورت کو سامنے لانا تھا باقی اچھائی آج بھی موجود ہے اور بلاشبہ موجود ہے مگر اِس بُرائی کو بھی تو سویرے میں بدلنا ہے میں نے اور آپ نے نہیں بلکہ ہم نے.

    ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

    گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

    )
    برائے تنقید واصلاح Armaganzahra55@gmail.com ہے تو پھر جنگ ہی سہی

    تحریر : اقراء ناز (دھرابی)

  • فتنوں کا دور    تحریر : رمیصہ عروج

    فتنوں کا دور تحریر : رمیصہ عروج

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”نیک اعمال کر لو اس سے پہلے کہ فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے. اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا .وہ شخص تھوڑے سے فائدے کے لئے اپنے دین کو بیچ دے گا۔”(صحیح مسلم) اللہ کے نبی نے فرمایا کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے گا۔رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جانے سے مراد ہے کہ حق واضح نہ ہو گا۔رات کے آندھیرے میں راستے گم ہو جاتے ہیں،دکھتے نہیں۔سا
    منے آنا والا راہ گزر بھی نہیں دکھتا،صحیح اور غلط کی پہچان نہیں ہوتی۔رات کی تاریکی میں چھپ کر گناہ کیے جاتے ہیں کیونکہ انسان کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ لوگوں میں سے کوئ مجھے دیکھ رہا ہے۔وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عرش عظیم کا رب اسے دیکھ رہا ہے،فرشتے اس کا عمل تو کیا ہر لمحہ قلم بند کر رہے ہیں۔رات کے اندھیرے سے مراد ہے کہ حق کو پہچاننا مشکل ہو جاۓگا،حق پر ثابت قدم رہنا مشکل ہو جاۓ گا ۔انسان کا ایمان اور خیالات بہت ڈگمگائیں گے۔انسان کی شہوات اور خواہشات تو روزازل سے ہیں ہی،شبہات میں اضافہ ہو جاۓگا۔اگر غور کیا جاۓ تو آج فتنہ ہمارے ہاتھ میں ہے،فون کی ایک کلک پر یو ٹیوب پہ سب کھل کر انسان کے سامنے آجاتا ہے،انسان نہیں جانتا کہ اب نظروں کے سامنے سچ ہے یا جھوٹ۔فیس بک پر اسلام یا مسلمانوں کے خلاف مواد مل سکتا ہے۔عیسائیوں نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے بہت سی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ تبلیغ مذہب عیسائیت کی ہورہی ہے۔چشم زدن میں بہت سا ایسا مواد انسان کی نظر سے وقتاً فوقتاً گزر جاتا ہے جو اسے حق کی پہچان میں شبہات کا شکار کر جاتا ہے۔اسی طرح ا نسان اگر صبح کو مومن ہے تو رات تک اس کی نظروں سے ایسا مواد گزرگیا جس نے نور ایمان کم کر دیا اور شبہات اس حد تک بڑھا دیے کہ انسان شام تک کافر ہو گیا۔اعاذن اللہ منھم۔اب سوال یہ کے کہ حق کی پہچان کیسے کی جاۓ؟یا صحیح علم کیسے حاصل کیا جاۓ؟ سب سے پہلے تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ "اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرمائیے۔”اور پھر ایسے ہی صحیح علم کی پہچان کریں گے جیسے ہم بہت سے ڈاکٹرز میں سے صحیح ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں۔ہم خود تو ڈاکٹر نہیں ہیں مگر صحیح ڈاکٹر کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔اسی طرح ہم خود تو عالم نہیں مگر ہم تحقیق سے صحیح علم کی تفتیش کر سکتے ہیں۔اللہ نے ہمیں اتنا شعور دیا ہے کہ ہم جدوجہد کر کے صحیح اور غلط کی شناخت کر سکیں۔ہمیں بس کوشش کر کے تحقیق کرنی ہے اور جب ہم کوشش کریں گے تو اللہ ضرور ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرما دیں گے۔اللہ نے فرمایا تم میری طرف ایک قدم آؤ ،میں تمہاری طرف دس قدم آؤں گا۔اللہ نے پہلا قدم انسان کو دے کر اسے اختیار دے دیا کیونکہ ہر انسان اللہ کی طرف قدم بڑھانے کے قابل نہیں ہوتا ،وہ کو ئ کوئ ہی ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں قدم بڑھائے اور پھر ثابت قدم رہے۔اللہ کا راستہ ایسا ہے جیسے ڈھلوان ہو اور انسان اونچائی کی طرف چڑھ رہا ہو،ہر قدم سوچ سمجھ کر ،جما کر رکھنا ہے۔ایک کمزور قدم انسان کو تین چار قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں انسان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔
    حدیث کا اگلا حصہ ہے کہ انسان تھوڑے سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دے گا۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کی بھاگ دوڑ میں،اچھے نمبروں کے پیچھے ،اچھے عہدوں کے پیچھے ہماری نمازیں رہ جاتی ہیں۔جب انسان کی نماز ہی رہ گئ تو کیا فائدہ کہ اس نے جتنی بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔یہ ہے دنیا کے حقیر سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دینا،گھاٹے کا سودا کرنا۔دنیا کی زندگی تو انسان کے تصور سے بھی زیادہ چھوٹی ہے۔اگر ہم تھوڑے سے فائدے کے لیے دین کو بیچ رہے ہیں تو پھر شکایتیں کیسی کہ ہم مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔بہت سی مشکلات انسان پر صرف اور صرف مکافات عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ہمیں خود کا جائزہ لینا ہے کہ کہیں ہم ایسے نہ ہو جائیں کہ دنیا کے حقیر اور معمولی سے فائدے کے لیے آخرت کو پس پشت ڈال دیں۔اس لیے حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں۔بے مقصد چیزوں میں وقت ضائع نہ کریں ،انھیں اپنی زندگی سے نکال دیں۔ان چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیں جو آپ میں دنیا کا حرص و لالچ پیدا کر رہی ہیں۔دنیا کی حرص تو وہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہونے والی،اس لیے اپنی زندگی سے اس کو نکال دیں۔ اس دور میں ہر قدم ہمیں پھونک پھونک کر رکھنا ہے اگر ہم اللہ کے بننا چاہتے ہیں تو،اگر ہم جنت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو۔جنت اتنی ارزاں نہیں ہے ،بہت قیمتی ہے اور قیمتی چیزیں آسانی سے نہیں ملا کرتیں،ان کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

  • عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    وہ اپنی ہر تقریر سے پہلے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورہ،
    سوره فاتحہ کی اس آیات کی تلاوت کرتا ہے،
    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5)
    جس کا ترجمہ ہے,!
    ” تیری (اللّٰہ)عبادت کرتے ہیں اور تم سے ہی مدد مانگتے ”

    عمران خان نے لگ بھگ کوئی 1966ء میں اپنی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور اس جماعت کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا اور وہ اس کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے آج بھی وہ اس کے چیئرمین ہیں،
    انسانیت خودداری اور انصاف اس جماعت کا نعرہ ہے، 1996 سے 2018 تک یعنی 22 سالہ طویل جدوجہد کے بعد اس جماعت کو عوام نے منتخب کیا اور یہ جماعت آج پاکستان کی حکمران جماعت ہے،
    2021 چل رہا ہے اور اس 25 جولائی کو اس جماعت نے اپنی حکومت کے تین سال پورے کر لیے،
    عمران خان اپنی قوم اپنے ملک کے وقار کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے عمران خان بلا شبہ ایک عظیم رہنما ہے لیکن سیاست تو پھر سیاست ہے بہت سے سیاسی حریف بھی ہیں جو ہر وقت اس کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں،
    لیکن عمران خان بھی ان پر تنقید کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے عمران خان ایک پڑھا لکھا اور باشعور اور منصوبہ ساز ہے،
    پاکستان اور اپنی قوم کو اوپر اٹھانے کے لئے اس کے کئی منصوبے ہیں،
    عمران خان اپنے تمام منصوبوں پر کام کر رہا ہے اس کی سیاست پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اور اپنی قوم کا وقار ہے،
    اس کی خاص توجہ پاکستان کے نوجوان طبقے پر ہے وہ انہیں ہنر مند دیکھنا چاہتا ہے وہ انہیں دوسری اقوام کے مقابلے میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے پاکستان کو ایک عظیم ریاست بنانا چاہتا ہے،
    اور وہ بار بار اپنی قوم سے اس کا ذکر بھی کرتا ہے کہ وہ کرپشن نانصافی بدعنوانی چوری اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے سخت خلاف ہے،
    عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ جب ملک کا سربراہ کرپشن کرتا ہے تو اس کے نیچے جتنے بھی ادارے ہیں وہ بھی یہ کام کرتے ہیں اس طرح ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اور ملک نہیں چل سکتا،
    وہ تھانے کچہریوں کے انتظامات کو بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے،
    عمران خان دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے،
    اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایمانداری اور دیانتداری کو پسند وہی کرتا ہے جو خود دیانت دار ہو،
    وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے اور وہ اپنے ہر دورے میں دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کےاچھے تعلقات قائم کرنے ترقی اور خوشحالی و تجارت کے ساتھ امن کی تجویز پیش کرتے ہیں،
    وہ تمام ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں وہ اپنے ملک کے وقار کو اپنی قوم کو کسی کا غلام نہیں دیکھنا چاہتے،
    اس نے غریبوں مسکینوں اور بےگھر افراد کے لیے قیام گاہیں قائم کروائیں اور ان میں انہیں تین وقت کا کھانا بھی میسر ہوگا اس بات کو یقینی بنایا،
    عمران خان کی والدہ ماجدہ کی وفات کینسر مرض سے ہوئی ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں تھا جہاں ان کی والدہ کا علاج ہوسکتا۔
    والدہ کی وفات کے بعد انہوں نے یہ جانا کہ ان کی والدہ تو اس مرض سے چل بسی لیکن میرے ملک کی کوئی اور ماں بہن بیٹی یا بھائی اس مرض سے یوں نکھوں کے سامنے دنیا سے چلا ،،
    انہوں نے لاہور میں اپنی والدہ کے نام پر ایک کینسر اسپتال بنانے کے لیے جدوجہد کی سو اپنی اس جدوجہد میں کامیاب ہوئے لاہور شوکت خانم میموریل ہسپتال عمران خان کا پاکستانی قوم کو دیا ایک انمول تحفہ ہے، گویا انسانیت کی خدمت اور احساس اس شخص کے اندر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے،
    عمران خان نے ملک میں صحت انصاف کارڈ متعارف کروائے اس کے ذریعے مستحق افراد کا علاج فری ہوتا ہے، اور اس کے علاوہ احساس پروگرام متعارف کروایا جس کے ذریعے بیوہ خواتین اور مستحق لوگوں کا ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ تمام مستحق افراد تک ہی پہنچے گا،
    عمران خان کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ملکی وقار ہے،
    اس زمرے میں حال ہی میں عمران خان نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی امریکہ کو اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے جس طرح وہ ماضی میں ہمارے ملک میں ڈرون اٹیک کرتا رہا اور ہماری سرزمین افغانستان کے خلاف بھی استعمال کرتا رہا،
    اور انہوں نے انگلش کے یہ دو الفاظ کہے absolutely not جو بہت زیادہ مقبول ہوئے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان الفاظ کے ٹرینڈ بھی چلے،
    عوام نے عمران خان کو غیر ملکی صحافی کو ایسا جواب دینے پر خوشی کا اظہار کیا اور دل کھول کر عمران خان کو داد دی اور ان کی تعریف کی،
    اس کے بعد انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا وہ کسی بھی صورت ملک کے وقار کا سودا نہیں کر سکتے،
    ہم خود مختار ہیں اور خودمختار رہیں گے،
    وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح بالکل نہیں ہیں وہ اس بات کی کبھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،
    کہ کوئی ہماری سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرے اور ہمارے لوگوں پر ڈرون اٹیک کرے،
    الغرض عمران خان ملک کی ترقی اور خوشحالی انصاف رواداری نظام کو بہتر کرنے کے لیے حکومت میں آیا اور وہ اپنے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں،
    سوشل میڈیا اور اس کے علاوہ ملک کی بہت بڑی تعداد عمران خان کی فین فارورز ہے،
    یہ وہی لوگ ہیں جو ملک کو خوشحال وہ ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں،
    وہ اپنے وعدے اور دعوے سے پیچھے نہیں ہٹے گا سیاست میں آنے سے پہلے وہ کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی رہ چکا ہے،
    سن 1992 کا ورلڈ کپ کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ عمران خان اور اسکی ٹیم کامیاب ہوگی اور یہ ورلڈ کپ پاکستان جیت سکتا ہے،
    لیکن پھر عمران خان کا جذبے اور ہمت نے تمام کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے اور پاکستان 1992 کا ورلڈ کپ جیت گیا،
    دعا ہے کہ عمران خان کی سیاسی ٹیم بھی اپنے حوصلوں کی پختگی کے ساتھ اس کا ساتھ دے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرے،
    پاکستان زندہ باد

    @zsh_ali

  • لڑکی اور لڑکے کی دوستی تحریر : محمد شہباز سرکانی

    یورپ میں لڑکی اور لڑکے کے درمیان دوستی عام سی بات ہے اور اس کے بارے کسی قسم کے شک کی بات نہیں اور نہ ہی یہ عیب ہے کیونکہ وہاں ماحول ہی ایسا ہے لیکن وہاں بھی مسلمان جو کہ اسلام کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں وہ اس بات کو عیب سمجھتے ہیں لیکن عام طور پر وہاں اس بات کو عیب نہیں سمجھا جاتا ۔ لیکن ہم بات کریں اپنے ملک پاکستان کی تو یہاں اس بات کو یہاں بھی آج کل عیب نہیں سمجھا جارہا حالنکہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اس بات کا واضع ثبوت یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور پردہ بھی ہمارے مزہب میں لازمی ہے ۔ عورت کےلیے پردہ اور مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا کہا گیا ہے
    آج کل سوشل میڈیا اور بہت سے فورم پہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان فوٹو سیشن عام سی بات ہے اور اس بارے ان کے والدین بھی خاموش ہیں حالانکہ ان کو اس بات کو پتہ بھی ہے کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں لیکن وہ پھر بھی خاموش ہوتے ہیں ۔ اس طرح بہت سے واقعات رونما ہورہے ہوتے ہیں جس سے طلاق کی شرح پڑھے لکھے نوجوانوں میں زیادہ ہے ۔
    اس بات کو اگر اہم نہیں لیں گے تو بہت سے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ دوستی کو جب رشتہ داری میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو عام طور پر وہ رشتہ صرف ایک سال بھی مشکل سے چلتا ہے اور بہت سے مساٸل جنم لیتے ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آذادی سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے والدین اس بات کو اہمیت نہیں دیتے کہ ان کے بچے کہاں جارہے ہیں اتنی رات گۓ وہ کس کے ساتھ تھے اور کیا کررہے تھے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی بدنامی کا باعث ہی ان کے بچے ہیں
    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے عورت کے پردے کے بارے ایک بیان دیا اور بہت سے حلقوں نے ان پر حملے شروع کردیٸے حالانکہ ان کی بات بھی بالکل ٹھیک تھی کہ عورت اپنے آپ کو پردے میں رکھے جس سے مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ تاکہ معاشرے سے بے حیاٸی کا خاتمہ ہو
    ہمارے دیہاتوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن شہروں میں تو نہ ہونے کے برابر رات گۓ ہوٹلوں میں پارٹیاں ہورہی ہوتی ہیں اور وہاں پر حیاٸی عروج پہ ہوتی ہے اور ان کو کوٸی روکنے والا نہیں ہوتا
    اگر بات کریں قانون کی تو وہ بھی ہمارے ملک میں کتنا نافذ ہے سب کو پتہ ہے لیکن اس بات پر زور دیں کہ ہمارے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اتنی آذادی نہ دیں جس سے ان کے بچے ان کی عزت پر حرف آنے کا باعث بنتے ہوں
    ہر حلقے کی جانب سے مختلف راۓ آۓ گی لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اللہ پاک نے عورت کو پردے کے بارے واضع طور پر حکم دیا اور کیوں کہ عورت کےلیے پردہ ہی اہم چیز ہے اس لیے اسلام میں عورت کو ایک مقام دیا گیا ہے تاکہ عورت کی زندگی پرسکون گزرے اور وہ لوگوں کی بری نگاہوں سے محفوظ رہے
    ۔ https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • کشمیر,کپتان اور پاکستان   تحریر:    فرح خان

    کشمیر,کپتان اور پاکستان تحریر: فرح خان

    "ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو
    اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو”

    کشمیری سالوں سے ناانصافی اور ظلم کے طوفانوں کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ان کو حق اور بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا۔ان کی آزادی کی جدوجہد کو زور،زبردستی،دہشتگردی،قتل عام کرکے روکنے کی کوششیں کی گئی پر باہمت،حوصلہ مند بہادروں نے کبھی ظالم کے آگے سر نہیں جھکایا۔

    آزاد جموں کشمیر کا قیام اتفاق نہیں،اس کے پیچھے کشمیری مسلمانوں کی تحریک ہے ان کے جذبہ اور جانوں کی قربانیاں ہیں جس کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔

    جب کشمیری ریاست نے سرینگر میں 19 جولائی 1947 کو مسلمانوں کی اکثریت کے بناء پر قرارداد پاکستان منظور کرکے پاکستان کا حصہ بننا چاہا تو تقسیم برصغیر کے اصول کو جھٹلاتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو سازش کا نشانہ بنایا گیا جس پر ڈوگرہ راج کے خلاف 15 ماہ کا اعلان جہاد کا آغاز ہوا جو بالآخر ایک بڑے حصہ کو ڈوگرہ راج اور بھارت سے الگ کروا کر آزاد جموں و کشمیر کی صورت میں نمایاں ہوا۔

    اب ایک طرف مسلسل لائن آف کنٹرول کی وجہ سے ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ آج تک جاری ہے،اور ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھری جارہی ہیں،ظلم اور بربریت کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں۔

    25 جولائی 2021 کو آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں نے اپنا اعتماد کا ووٹ کسی اور کو نہیں بلکہ تحریک انصاف کو دیا،اپنے” سفیر” کو پہچانتے ہوئے "”وزیراعظم عمران خان "” کو ووٹ دیا ان کو عمران خان صاحب کی سیاسی، اخلاقی ،سفارتی اور بین الاقوامی حمایت کے لیے کاوشوں پہ پورا بھروسہ ہے۔

    پچھلی پارٹیوں کی حکومت میں مکر و فریب چلتا رہا،آزاد جموں کشمیر کو سہولیات سے محروم رکھا گیا،تعلیم، روڈ، سیاحتی مقام کو نظرانداز کیا گیا تاکہ یہ دلدل میں دہسہ رہیں اور اپنی پریشانیوں میں اتنے مگن رہیں کہ نا مودی کے ناپاک ارادوں پہ آواز اٹھا سکیں نا مقبوضہ کشمیر کا مضبوط سہارا بن سکیں ،
    پر "حبیب جالب” نے کیا خوب کہا ہے ،

    "دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
    چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
    وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
    ایسے دستور کو صبح بے نور کو
    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
    میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
    میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
    کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
    ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
    میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا”

    جہاں آزاد جموں کشمیر کے لوگ جدوجہد کو اپنے لہو کے نذرانے پیش کرچکے ہیں ان کو مسلسل لاپروائی اور خستہ حالی میں رہنا منظور نہیں تھا۔وزیر اعظم "”عمران خان "”کی سچائی، مخلصی اور دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے،دشمن کو للکارنے والے اس فائٹر پہ پورا اعتماد ہے جس کا ثبوت 25 جولائی 2021 کے کشمیر الیکشن میں تحریک انصاف کی فتح ہے۔

    عمران خان صاحب نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے نقشہ قدم پہ چلتے ہوئے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کردیا ہے، الحمدللہ پاکستان کی معیشت میں بہتری،خوشحال پاکستان، "”احساس پروگرام”” کے تحت مختلف شعبوں میں سماجی اور معاشی اعتماد کی بحالی اور ترقی ممکن ہوئی،بنجر زمین کو پھر سے زرخیز بنانے کا پروگرام بلین ٹری سونامی اور دیگر کئی ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ چوری،کرپشن، ناانصافی کے خاتمے کے لیے "خان” نے ڈیپارٹمنٹس کو سخت احکام جاری کیے ہوئے ہیں۔

    عمران خان صاحب پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے ایک چمکتا ستارہ ہیں جن کا دل انسانیت کے جذبہ سے سیراب ہے۔
    ان شاء اللہ 2023 کے جنرل الیکشن میں بھی ♡♡تحریک انصاف ہمارے” خان ” کی جیت ہوگی،پاکستان کی جیت ہوگی♡♡۔

    اپنے رب سے دعا ہے اللہ عمران خان کو سلامت رکھے ،ہمارے پیارے وطن پاکستان میں اللہ اور اس کے رسولﷺ⁩ کا قانون نافذ فرما کر ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا مطلب بلند فرما دے، پاکستان کو ترقی یافتہ اور کامیاب ملک بنا دے، امن کا گہوارہ بنا دے۔آمین ثم آمین

    ’’خدا کرے کے میری ارض پاک پہ اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو‘‘

    @MastaniFarah

  • عالمی تجارت اور افغان طالبان  تحریر: ملک منیب محمود

    عالمی تجارت اور افغان طالبان تحریر: ملک منیب محمود


    افغانستان میں امریکی فوج جب آئی تھی تو دنیا کو لگا تھا کہ بڑے بڑے پگڑ والے لوگ اور پتھر کے زمانے کی باتیں کرنے والے لوگ دنیا کی سپر پاور کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے. مگر اس وقت طالبان کمانڈر ملا عمر نے بڑے تاریخی الفاظ کہے تھے کہ سپر پاور صرف ﷲ ہے تمھارا فیصلہ ہے کہ تم جیتو گے ﷲ کا فیصلہ ہے ہم جیتیں گے.
    آج دو صدیاں گزر جانے کے بعد وہی سپر پاور انہی کہساروں اور سنگلاخ پہاڑوں کے باسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے. ایک وقت تھاطجب امریکی صدر جارج بش نے افغانیوں کو دھتکارا تھا اور آج شکست کا یہ عالم ہے کہ افغان جنگ کا سب سے بڑا مرکز بگرام ائیر بیس رات کی تاریکی میں خالی کر کے بھاگ گئے ہیں. بے شک ﷲ ہی سپر پاور ہے وہی بہترین حکمت عملی کرنیوالا ہے.
    امریکی انخلا کے بعد خطے کی صورتحال تھوڑی بگڑ جائے گی کیونکہ جس طرح طالبان علاقوں پر قبضہ کررہے ہیں یہ بات واضح ہے کہ افغان حکومت چند دن کی مہمان ہے. انکے اتحادی اور کنٹریکٹرز پتلی گلی بھاگ گئے ہیں. اس سے افغانستان میں ایک خلا پیدا ہوجائے گا کیونکہ طالبان کے پاس تو اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہر علاقے میں سہولیات فراہم کریں. اس خلا کا فائدہ بیرونی طاقتیں بھرپور اٹھائیں گی. اب بات یہ ہے کہ افغان امن عمل پاکستان کے لیے سازگار کیوں ہے؟ کیونکہ پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی ہوئی ہے اس کے لیے افغانستان کی زمین استعمال ہوئی ہے. پاکستان نے مزید ایسی کسی دراندازی سے بچنے کے لیے 532 بلین ڈالر کی باڑ لگائی ہے تاکہ ملک میں امن کو مزید مضبوط کیا جائے.
    البتہ طالبان کمانڈر نے اس بات کی گارنٹی بھی دے ہے کہ اب افغانستان کی زمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، جوکہ ایک خوش آئند بات ہے.
    دوسری طرف چائنہ خطے سے امریکہ کو مکمل طور پر نکالنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی تجارت اور پراجیکٹس کو محفوظ بنا سکے. چونکہ پاکستان بھی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اس سارے خطے میں استحکام بہت ضروری ہے. چائنہ ایشیا سے لے کر یورپ اور مڈل ایسٹ تک اپنی تجارت پھیلا چکا ہے اب افغانستان کا امن پاکستان کے لیے بہت ضروری بن گیا ہے کیونکہ وسطی ایشیائی ممالک سے تجارتی تعلقات بنانے کا راستہ افغانستان کی سرزمین سے ہو کر گزرتا ہے.
    یوں سمجھ لیجیے دنیا کی سپر پاور بڑے بڑے پگڑوں اور پہاڑوں میں رہنے والے لوگوں سے اپنی تجارت کے راستے مانگ رہی ہیں اس سب صورتحال میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کررہا ہے کیونکہ یہ اونچی شلواروں والے درویش صفت لوگ صرف ایک ملک کی بات سنتے اور مانتے ہیں اور وہ ہے "پاکستان”
    MMuneebPTI@
    Twitter Account Handle

  • حاسد، حسد اور شر      تحریر: احسان الحق

    حاسد، حسد اور شر تحریر: احسان الحق

    حسد تقدیر اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے منافی سوچ ہے. حسد کے دو معنی ہیں. کسی انسان کی خوبصورتی، شکل و عقل، رزق وغیرہ جیسی نعمتوں اور کامیابیوں پر کڑھنا، جلنا اور غصہ کرنا. دوسرا معنی ہے کہ کسی انسان کی کامیابیوں اور نعمتوں کے زوال اور چھن جانے یا زائل ہونے کی خواہش کرنا. حسد دل کی بیماری ہے. حسد دل کے عوارض کا سبب بنتا ہے اور جب کسی کا دل تعصب، کینہ اور حسد کا شکار ہو جائے تو پھر دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتے ہیں.
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں جن شرور سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے ان میں حاسد کے حسد کا ذکر بھی ہے. اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں بڑے اور خطرناک شرور کا ذکر کیا ہے. اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوق کے شر سے جو کسی شر یا نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، اندھیرے کے شر سے، جادو کے شر سے اور حاسد کے حسد یا حسد کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے. یقیناً حاسد کا حسد یا حسد کا شر بہت مہلک بیماری ہے.

    حسد کا مطلب نعمتوں پر اعتراض اور اختلاف کرنا ہے. حاسد کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اعتراض یا اختلاف نہیں کر رہا ہوتا دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور عطاء پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ نے تقسیم کے فیصلے زمین و آسمان کی پیدائش سے 50 ہزار سال پہلے کئے. ایک مومن بندہ دنیا اور آخرت کی بہتری کے لئے رشک کر سکتا ہے. حسد اور رشک میں فرق ہے. حسد کا مطلب کہ فلاں کے پاس فلاں چیز کیوں ہے یا نہ ہو. رشک کا مطلب کہ اس کے پاس جو چیز ہے وہ میرے پاس بھی ہو. ایک مسلمان دوسرے انسان کی نعمتوں، کامیابیوں اور رزق کی فراوانی دیکھ کر رشک کر سکتا ہے، رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دینوی اور اخروی معاملات میں رشک کرنا بھی چاہئے.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہترین کلیہ بتایا ہے کہ شرعی معاملات میں اپنے اوپر والے بندے کو دیکھو جو آپ سے علم، عمل اور تقوے میں بہتر ہو تاکہ تمہارے اندر عمل اور پرہیزگاری کا پہلے سے زیادہ شوق پیدا ہو. دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے اور زیادہ غریب آدمی کو دیکھو تاکہ تمہارے اندر مال اور دنیا کی حرص پیدا نہ ہو اور نہ ہی تم احساس کمتری کا شکار ہو. جب انسان دنیا داری میں اپنے سے نیچے والے بندے کو دیکھے گا تو حسد پیدا نہیں ہوگا اور جب عبادت اور عمل میں اپنے سے اوپر والے بندے کو دیکھے گا تو اس میں عمل اور نیکی کا حرص پیدا ہوگا.

    امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے ملنے کے لئے ایک ساتھی صحابی کے ساتھ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے. آپ امیرالمؤمنین کسی سرکاری کام میں مصروف تھے اور دربان کو کہا کہ وہ میرا انتظار کریں. اسی اثناء میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آئے. امیرالمؤمنین کو پتہ چلا تو آپ کام چھوڑ کر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ کو ملنے چلے آئے. بعد میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے اپنے ساتھی صحابی سے گلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرالمؤمنین نے عدل نہیں کیا، ہمیں انتظار کروایا اور بلال کو اسی وقت ملنے چلے آئے. ساتھی صحابی رسولۖ نے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا کہ حسد مت کرو، ہم نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور بلال نے جس وقت اسلام قبول کیا اس وقت اسلام قبول کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا اور بلال نے بہت صعوبتیں برداشت کیں. اللہ تعالیٰ نے بلال کو دنیا اور آخرت میں ہم سے بہتر مقام عطا کیا ہے لہذا جلنا اور حسد کرنا درست نہیں. جب آخرت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو بڑی عزت و تکریم سے نوازیں گے تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور نوازش پر اعتراض کرے گا؟

    اس دنیا میں رونما ہونے والے پہلے فتنے کی بنیاد بھی حسد اور غرور پر ہے. ابلیس کا خیال تھا کہ روئے زمین پر ایسی کوئی جگہ خالی نہیں جہاں میں نے سجدہ نہ کیا ہو، اب مجھے حکم دیا جا رہا ہے کہ مٹی کی پیداوار کو سجدہ کروں جو مجھ سے کمتر ہے. ابلیس مقام آدم کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر گیا اور قیامت تک ملعون قرار پایا. شیطان نے اسی حسد کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے بھی نکلوایا.
    اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ تعلیم دی ہے کہ حاسد کے شر سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرو. آخرت کے دن وہی لوگ جنت میں داخل ہونگے جو قلب سلیم لے کر آئیں گے. جن کے دل عوارض سے پاک ہوں گے مطلب ان کے دل کسی قسم کے حسد، تعصب اور بغض کی خباثت سے پاک ہوں گے.

    @mian_ihsaan

  • "صحافت اور پاکستانیت   تحریر:ملک شوکت محمود

    "صحافت اور پاکستانیت تحریر:ملک شوکت محمود

    آج کے دور میں صحافت کی اہمیت وضرورت نے ہمارے انداز فکراور جذباتی ردعمل کو بےحد متاثر کیا ہے۔کیونکہ دور حاضر کی صحافت ایک ایسا تعمیری اور تخریبی ہتھیار ہے جس سے دونوں کام بآسانی کئیے جاسکتے ہیں،گویا یہ دو دھاری تلوار ہے اسلئیے اسے بڑے احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے،ذرا سی لاپرواہی اور بے احتیاطی سے عوام الناس پربہت مضر اثرات اور خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے صحافت کی بڑی نازک اور اہم ذمہ داریاں ہیں۔
    اسکے اچھے برے اثرات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر آج کے برق رفتار وسائل اور ذرائع مواصلات وابلاغ عامہ کی وجہ سے چند لمحات میں یہ اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پوری عالمی برادری اور ساری عالمی سیاست اس سے متأثر ہو سکتی ہے،اسلئیے ایک صحافی اور کالم نگار،اداریہ نگار اصلاح احوال اور تعمیر و ترقی کے علاوہ امن قائم کرنے کا کردار ادا کرے تو یہ اخبارات، میڈیا ہاؤسز اپنی سوسائٹی اور ملک و قوم کی بے مثال خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔
    صحافت معاشرے کے ناسوروں کا آپریشن کر کے اصلاح و ترقی فلاح وبہبود کا کام کافی مؤثر طریقے سے کر سکتی ہے،علمی ادبی اور تاریخی ،معاشرتی،معاشی اور سائنسی معلومات بہم پہنچا کر لوگوں کو ذہنی طور پر باخبر اور با اخلاق بنا سکتی ہے۔عوام الناس کو با شعور اور تعلیم دینے کا یہ بھی ایک منفرد اور مؤثر انداز ہے۔
    صحافت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اسکے اثر و نفوذ کی تیزی کی وجہ سے پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ملک کی فلاح و بہبود اور ملت کی عزت و آبرو کے تحفظ کیلئیے ہی اس دو دھاری تلوار کو استعمال کرنا چاہئیے۔صحافت عریانی،فحاشی اور بلیک میلنگ سے پاک و صاف ہونی چاہئیے۔جیسے تحریک پاکستان میں مسلم صحافت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور تحریک پاکستان کی وکالت کرنے میں بڑی مدد دی ہے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صحافت میں آج بھی حق گوئی اور بے باکی اور کلمہ حق کو ادا کرنے کا اثر و نفوذ موجود ہے،تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس ذمہ دارانہ اور ایک قومی تعمیر خدمت کو بدنام کرنے میں ایک گھناؤنا کردار ادا کر کے صحافت جیسے پیشے کو پیسے کی خاطر رسوا کر رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے اغراض و مقاصد اور ادنی ادنی سے ذاتی مفادات کیلئیے اس پیشے کے چہرہ پر بدنما داغ ہیں۔
    صحافت کا کردار کیمرے کا نہیں ہے کہ جو کچھ دیکھا من و عن بیان کردیا،صحافت تو قیادت کی شریک ہے،اس نے قوم کی رہنمائی کرنی ہے نہ کہ بھیڑ چال کے پیچھے لگنا ہے۔
    صحافی کو حالات و واقعات کا تجزیہ کر کےاظہار خیال کرنا چاہئیے،بے بنیاد اور بے سروپا اور من گھڑت خبریں گھڑ کر عوام الناس کو گمراہ کرکے خوف وہراس نہیں پھیلانا چاہئیے،محض اپنی اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئیے سنسنی خیزی پھیلانا یہ صحافت کا کام نہیں۔
    @OPF_99