Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟  تحریر:  محمد معوّذ

    کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟ تحریر: محمد معوّذ

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ ہو یا کوئی مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں ہو تو مشرق سے مغرب شمال سے جنوب تک کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجائے گا۔
    آج صرف ایک مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ نہیں صرف ایک مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں نہیں بلکہ ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں ان کی حراست میں ہیں۔ ہزاروں باحیا باپردہ عورتوں کی عزت لوٹی گئی شیر خوار بچوں کو ماؤں کی گود میں شہید کردیا گیا نوجوانوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا انہیں انٹروڈکشن سینٹروں کے اندر ٹارچر کیا گھروں کو مسمار کر دیا گیا مساجد شہید کر دی گئیں ہزاروں بہنوں کو بے ردا کیا گیا اسلام کی باحیاء اور باپردہ بیٹیوں کو سرعام چوکوں اور چوراہوں پر بےعزت و بے آبرو کیا گیا اور بندوق کینال پر رکھ کر سر عام بازاروں میں نچایا گیا اور اس کے علاوہ بچوں کو یتیم کیا گیا عورتوں کو بیوہ کیا گیا فصلیں اور باغات اجاڑ دیے گئے کتاب حق قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی۔
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کفار نے اپنے ہر دور میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں اور تاریخ اس بات کا بھی شاہد ہے کہ کفار نے جب مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی تو اسلام کے ہر جیالے نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان و صحراوں جنگلوں اور پہاڑوں میں اور دنیا کے کونے کونے میں نکل گئے اور یہ ثابت کرکے دکھایا کہ جب اسلام پر کفار نے چڑھائی کا فیصلہ کیا تو دین حق کے جیالوں نے کفار کے خلاف جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنے دین کی اور اس کے ہر جزو کی حفاظت کی ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کیا۔ محمد بن قاسم نے ایک بہن کی پکار پر ہندوستان کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اسپین فرانس اور بہت سے علاقوں کو کفار کے پنجے سے چھڑایا سید سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاد کو فرض عین سمجھ قبلہ اول اور پورے فلسطین کو آزاد کرایا ہر دور کے مسلم حکمرانوں نے ظلم کے خلاف جہاد کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق فرض عین سمجھا۔
    اللّٰہ تعالی آج کے مسلمان حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ جہاد کو فرض عین سمجھ اس فریضہ کو سرانجام دیں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو جہاد تم پر فرض کر دیا گیا ہے خواہ تم ناگوار گزرے۔
    اس وقت قرآن و حدیث کی روشنی سے جہاد مسلمانوں پر فرض عین ہوچکا ہے اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس فرض کو فرضِ عین سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

    @muhammadmoawaz_

  • تعلیم کا فقدان  عدنان علی

    تعلیم کا فقدان عدنان علی

    ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسے باور کروائیں کہ علم سے ہی ہماری زندگی روشن ہوگی۔۔۔
    کچھ عرصے تک میں یہی سوچ رکھتا تھا کہ علم حاصل کرنا کوئی کامیابی کی کنجی نہیں ہے لیکن پھر احساس ہوا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کالج یونیورسٹیاں کیوں بھری ہوئی ہیں؟؟
    ہر ماں باپ چاہتاہے کہ ہمارے بچے تعلیم سے آراستہ ہوں۔۔۔
    ہمارے بچوں کی سوچ ہے کہ اگر ہم کالج یا یونیورسٹی نہ جائیں گے تو ہمارے گھر والے ہمیں کہی مزدوری پر ڈال دیں گے اس لیے وہ چلے تو جاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی جوانی کو انجواے کرنے کی سوچ میں رہتے ہیں
    اور تعلیم سے دوری کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نسل سمجھتی ہے کہ خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ہم کوئی نہ کوئی سفارش کروا لیں گے ۔ سفارش سے کسی نہ کسی جگہ سیٹ ہو جائیں گے
    تعلیم کا مقصد ہے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا، ذہن و شعور میں ایک مثبت تبدیلی لانا، قومی کردار کی روح پھونکنا، انسانی اقدار کے دریچے کھولنا، تعصب اور تنگ نظری کو ختم کر کے اخلاقی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو تہذیب و تمدن کے بلند و بالا مقام تک پہنچانا ہے۔

    تعلیم کے لئے خود سے جنگ کرنی پڑے گی اپنے مستقبل کو سنوارنے کے شوق پیدا کرنا پڑے گا ۔
    ہمارے استاد ہوا کرتے تھے بہت ہی پیارے جو ہمیں کہا کرتے تھے کہ زندگی میں انجواے بھی کرو لیکن اپنے مقصد کو اگنور نہ کرو اگر آپ آج کچھ نہیں کریں گے تو کل کو آپکے سامنے آئے گا اور آج اکثر ان کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ سنجیدہ تھے کہ ہمیں اپنے علم کی روشنی سے روشن کر دینے کو لیکن ہم تب نادان تھے جو جوانی کو زندگی کے خوبصورت ترین دن سمجھ کر ضائع کرتے رہے
    تعلیم کو پوری دنیا میں وہ واحد ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر مہذب معاشرے کو مہذب معاشرے میں بدل سکتا ہے

    لہذا خود بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ باور ضرور کروائیں کہ تعلیم کا
    ہماری زندگی میں کیا کردار ہے
    ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔
    @_Ryder007

  • علم دین سے دوری کا نتیجہ    تحریر: فیصل اسلم

    علم دین سے دوری کا نتیجہ تحریر: فیصل اسلم

    حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کے
    ،علم حاصل کرنا ہر مسلمان و عورت پر فرض ہے ،
    لیکن افسوس آج ہم دنیاوی علم کو حاصل کرنے میں مصروف ہیں علم دین سے دور ہو رہے ہیں
    اس علم دین سے دوری کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے بیٹا بیٹی اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتے کیوں کے انکو معلوم ہی نہیں ہوتا کے ماں باپ کی کیا اہمیت ہے بدقسمتی سے والدین ہی اپنے بچوں کو علم دین سے دور رکھ کر دنیاوی تعلیم دینے کو ترجیح دیتے ہیں وہ شاید اسلئے کے بچے اچھی دنیاوی تعلیم حاصل کر کے اچھا پیسہ کما سکیں لیکن پھر بڑے ہو کر وہ بچے اپنے ماں باپ کو بوجھ سمجھتے ہیں ماں باپ کا ادب و عزت کا بہترین حل یہی ہے کے علم دین حاصل کریں
    علم دین میں ہر پریشانی و مصیبت کا حل موجود ہے علم دین میں مسلمان اپنی اہمیت کو پہچانتا ہے علم دین حاصل کر کے ہی ایک مسلمان اپنے اطراف میں پھیلے فتنوں سے بچ سکتا ہے
    اور آج کل کے پرفتن دور میں علم دین حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کیوں کے جس طرح کے لبرل لوگ ہم مسلمانوں کے رسومات کو داغ دار بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اس سے ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو اسلام کے خلاف بھٹکایا جاسکتا ہے آج ہم یہود و نصاریٰ کے ہاتوں کا کھلونا بن چکے ہیں اسکی یہی وجہ ہے کے ہم علم دین سے دور ہو رہے ہیں
    ایک نام نہاد مسلمان ہمارے اسلامی تہواروں تہواروں پر الٹی باتیں کر رہے ہیں اور کو اسکی کوئی پرواہ بھی نہیں کیوں کے ہم صرف اپنی دنیاوی تعلیم میں مصروف ہیں
    ایسے بہت سے لوگ جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں وہ ہی لوگ آے دن ہم مسلمانوں کے مقدس ہستیوں کی گستاخیاں کرنے میں مصروف عمل ہیں ہمیں جاگنا ہوگا علم دین کی روشنی کو اپنے دل و دماغ پر لانا ہوگا تا کے ہم ہر اس فتنوں کا مقابلہ کرسکیں جو ہمارے اسلام کے خلاف اٹھ رہے ہیں
    ہم مسلمان پیچھے اسلئے ہی ہیں کے اپنے فلسفے کو چھوڑ کر دوسروں کے فلسفوں کو اپنے اوپر حاوی کرلیا ہے ہماری نسلیں اسلامی کتابیں چھوڑ کر اسلامی پروگرامز چھوڑ کر میڈیا پر بیہودہ اور ناچ گانے دیکھ دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کے یہی ہمارا کلچر ہے کیوں کے انکو بچپن سے ہی گھر کا ماحول اسلامی نہیں ملا اور نہ ہی علم دین حاصل کروایا
    علم۔ دین حاصل کریں تا کے ہم اللّه کی واحدنیت اور اللّه کی ربوبیت کو اچھی طرح پہچان سکیں
    کچھ دن پہلے میں نے ٹویٹر پر ایک بہن کا ٹویٹ دیکھا اس میں اس بہن نے اللّه کو آسمان پر رہنے والا لکھا ہوا تھا جب کے ہمارا رب اللّه کی ذات کسی جگہ کی محتاج نہیں
    یہ سب فلم و ڈراموں میں بولے جانے والے ڈائلوگ کا نتیجہ ہے ور علم دین کی دوری کا نتیجہ ہے
    علم دین کی دوری کے سبب ایک مسلمان اپنے کچھ لفظوں کی وجہ سے اسلام سے خارج بھی ہوسکتا ہے ہم اور ہماری نسلیں فلموں ڈراموں کو دیکھ کر دین اسلام کی نزاکت کو کھو رہی ہیں ہم اتنا بے حس ہو چکے کے ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا ہے کے ہماری نماز قضا ہو یا نہیں ہم علم دین سے دور رہ کر اپنا ایمان اور آخرت دونوں تباہ کر رہے ہیں
    خدارا اس وقت کو سمجھیں ان فتنوں سے لڑنے کا جذبہ اپنے اندر بیدار کریں اور یہ جب ہی ممکن ہے کے ہم خود بھی علم دین حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی علم دین حاصل کرنے کی تلقین کریں نہیں تو ہم اپنی آخرت برباد کر لینگے نہ رہینگے دنیا کے نہ رہینگے دین کے
    تو خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی علم دین لازمی دلوایں

    اللّه پاک ہمیں علم دین کی روشنی سے ملا مال کر دے امین

    @F23552

  • خدمت خلق اور ہم!   تحریر: ناصرہ فیصل

    خدمت خلق اور ہم! تحریر: ناصرہ فیصل

    "ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے”

    خدمت خلق ، جہاں اس دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک احسن اور مہذب طریقہ ہے ، وہاں یہ ہم مسلمانوں کے لیے ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔۔اللہ تعالٰی نےقرآن مجید فرقان حمید میں مخلوق کی خدمت کو بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ اسلام میں انسانوں کی بھلائی کے کام بہت اہمیت کے حامل ہیں۔۔ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ قرآن میں لوگوں کو ایک دوسرے سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔
    قرآن کریم میں خدمت خلق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
    "لیس البر ان تولو وجوه‍كم قبل الشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملئكة والكتاب والنبيین وآتي المال على حبه ذوي القربي واليتمي والمسكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب الخ۔ (البقرہ۔ ١٧٧)”
    (ترجمہ)”سارا کمال اسی میں نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق کی جانب کرو یا مغرب کی جانب لیکن اصلی کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب سماویہ پر اور پیغمبروں پر اور وہ شخص مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں کو اور نادار یتیموں کو اور دوسرے غریب محتاجوں کو بھی اور بے خرچ مسافروں کو اور لاچاری میں سوال کرنے والوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں بھی مال خرچ کرتا ہو”

    پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی خدمت خلق کا نمونہ تھی آپ بے سہاروں کا سہارا ، یتیموں کے والی اور کمزوروں کی طاقت تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صحابہ نے آپ کی پیروی کرتےہوئے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔۔ اپنے کردار سے سماجی فلاح و بہبود اور خدمت خلق کا بہترین نمونہ پیش کیا جو کے ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کو بھی انہی اصولوں پر استوار کریں جسکا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ فرمایا ہے۔۔ جسکی تعلیم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناصرف قرآن مجید کے ذریعے کی بلکہ اپنی پوری زندگی ہی ایک مشعل راہ بنا دی، آنے والی تمام اُمتوں کے لیے۔۔
    آپ نے فرمایا:
    "بہترین انسان وہ ہے جودوسرے انسانوں کے لئے منافع بخش ہو”

    زندگی وہی خوبصورت ہے جو دوسروں کے کام آنے میں گزر جائے۔۔ اپنے لیے جینا بھی کوئی جینا ہوتا ہے۔۔ صرف اپنے لیے تو حیوان بھی جیتے ہیں۔۔ پھر اُن میں اور ہم میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہمیں خود کو اُس درجے تک پہنچانے والی چیزوں میں سب سے اہم انسانیت کی خدمت ہے ۔

    نماز ، روزہ ،حج اور زکوٰۃ بہت ضروری ہیں ہم پر مسلمان ہونے کے ناطے سے ۔۔ لیکن اللہ کو ان سب سے بھی زیادہ عزیز و لوگ ہیں جو ان سب کے ساتھ اپنے گھر والوں کا ، اپنے آس پاس کے لوگوں کا، اپنے عزیز رشتہِ داروں کا خیال رکھتا ہے ۔
    علامہ اقبال نے ایک شعر میں بہت خوبصورتی سے اسکا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔۔

    "دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کم نا تھے کرو بیاں”

    یعنی اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے اللہ کے پاس فرشتوں کی کوئی کمی نہیں تھی ، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے لیے پیار محبت اور خلوص نیت سے مدد کرنے کے لئے پیدا کیا۔۔۔ ہم دنیا میں آنے کے اصل مقصد کو بھول کر خود کو ایک پیسہ بنانے والی مشین بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔۔ ہمارے پاس وقت ہی نہیں کے ہم کسی اور کے دکھ درد کو محسوس کر سکیں، مدد کرنا توبہت دور کی بات ہے۔۔آئے ہم خود کو بدلیں، اپنے اندر کے خوبصورت انسان کو باہر انے کا موقع دیجئے ۔۔ خود بھی خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اوروں کو بھی اسکی ترغیب دیں۔ اور ایک خوبصورت معاشرہ بنائیں۔۔
    ” تمنا درد دل کی ہے تو کر خدمت فقیروں کی
    نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں”

    @NiniYmz

  • اللہ کی آواز تحریر:  محمد احمد

    اللہ کی آواز تحریر: محمد احمد

    ایک فرانسیسی ڈاکٹر سمندری جہاز میں سفر کررہا تھا۔۔۔اچانک مصر کے قریب وہ اپنا سفر ختم کرکے ایک عالم محمود مصری کے پاس پہنچا اور مسلمان ہوگیا۔۔ محمود مصری نے کچھ عرصہ بعد ان سے سن کے مکان پر جاکر اسلام قبول کرنے کی وجہ دریافت کی۔۔؟؟
    قرآن کی ایک آیت۔” ڈاکٹر نے جواب دیا
    محمود مصری نے ان فرانسیسی ڈاکٹر سے پوچھا کیا آپ نے کبھی کسی مسلمان یا عالم سے قرآن پڑھا ہے؟
    جس پر فرانسیسی ڈاکٹر نے کہا نہیں ابھی تک میری کسی مسلمان یا عالم سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
    پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔۔ محمود مصری کے استفسار پر فرانسیسی ڈاکٹر نے جواب دیا:
    "مجھے اکثر سمندری سفروں میں رہنے کا اتفاق ہوا میری زندگی کا آدھا حصہ پانی اور آسمان کے درمیان بسر ہوا اسی طرح کے ایک سفر میں ایک بار میں قرآن کا فرانسیسی ترجمہ لے کر نکلا جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو سورۃ نور کی ایک آیت میرے سامنے سے گزری جس میں ایک سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی جسکا ترجمہ ہے
    "جیسے اندھیرا ہو گہرے سمندر میں، اسکو ڈھانپ لیا ہو موج نے،لہر کے اوپر لہر،اسکے اوپر بادل،اندھیرے پر اندھیرا،اس حالت میں ایک شخص اپنا ہاتھ نکالے تو توقع نہیں کہ وہ اسکو دیکھ سکے اور جسکو خدا نور نہ دے اسکے لیئے کوئی روشنی نہیں”
    (سورۃ النور،آہت نمبر 40)
    میں نے اس آیت کو کافی دلچسپی سے پڑھا اس میں سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی تھی جب میں نے یہ آیت پڑھی تو میرا دل انداز بیان کی عمدگی اور واقفیت سے بیحد متاثر ہوا تب میں نے خیال کیا کہ مسلمانوں کے رسول اللہﷺ ایسی شخصیت ہوںگے جنکے رات دن میری طرح سمندری سفروں میں گزرے ہوںگے۔۔۔ پھر بھی مجھے حیرت تھی کہ انہوں نے سمندر کی گہرائیوں کو کیسے مختصر الفاظ میں بیان کیا ہے گویا کہ خود رات کی سیاہی بادلوں کی تاریکی اور موجوں کے طوفان میں ایک جہاز پر کھڑے ہیںاور ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی بدحواسی دیکھ رہے ہیں۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ سمندری خطرات کا کوئی بڑا سا بڑا ماہر اتنے کم الفاظ میں اتنے کامیاب طور پر اسکی تصویر کشی نہیں کرسکتا۔۔
    لیکن اسکے تھوڑے ہی عرصے بعد مجھے معلوم ہوا کہ محمد عربی ﷺ نے زندگی بھر کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور نہ ہی انہوں نے زندگی بھر کبھی سمندر کا سفر کیا تھا۔۔یہ بات ظاہر ہونے کے بعد میرا دل روشن ہوگیا تب میں نے جانا کہ یہ محمدﷺ کی آواز نہیں بلکہ اس خدا کی آواز ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہے اسکے بعد میرے لیئے کوئی چارہ نہیں تھا سوائے اسکے کہ میں مسلمان ہو جاؤں”
    @MohhammadAhmad

  • عنوان: کسی درد مند کے کام آ تحریر: فرقان اسلم

    السلام و علیکم۔۔۔!!
    "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا”
    ہم اکثر یہ محاورہ سنتے ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ محاورہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو وہ اسی بِنا پر بنایا کہ انسان دوسروں کا احساس کرے ان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔ ان کی مدد کرے ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ اگر ہم اس کے باوجود دوسروں کی مدد نہیں کرتے تو یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ہمارا دین اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے پر ہمارے دین میں بڑی فضیلت حاصل ہے۔ عیدِ قرباں پر ہم جو قربانی کرتے ہیں وہ بھی احساس اور ایثار کا عملی ثبوت ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں احساس کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اگر ہم مالی امداد کرسکتے ہوں تو وہ کرنی چاہیئے کسی کو اچھی بات بتانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کسی بوڑھے کو سڑک پار کروا دیں۔ کسی پیاسے کو پانی پلا دیں۔ کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتادیں۔ غرض یہ کہ ہمیں ہر لحاظ سے مستحق اور دردمندوں کی مدد کرنی چاہیئے کیونکہ اسی میں روحانی سکون اور خوش پوشیدہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر ہم نے کسی ضرورت مند کو دیکھا تو اس کی مدد نہ کی حالانکہ اس کی مدد کرنے پر ہم قادر بھی ہوں تو خدا کی قسم ہم مفتی ہو سکتے ہیں نمازی ہو سکتے ہیں متقی ہو سکتے ہیں مگر ہم نیک انسان نہیں ہو سکتے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے تو الفاظ یہ ہیں کہ "تم میں سے اللّٰہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔”
    حقیقی فاتح وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنا جانتا ہے اور لوگوں کے دل وہی انسان جیت سکتا ہے جس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص دکھی انسانیت کا مسیحا ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے سامنے عبدالستار ایدھی صاحب کی مثال موجود ہے جنہوں نے ہزاروں انسانوں کی بے لوث مدد اور خدمت کی اور آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
    ایک جگہ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ” خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چنا”۔
    اللّٰہ پاک ہم سب کو دوسروں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
    @Rumi_PK

  • دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    لفظ دوستی ایک ایسی مشعل ہے جو اجنبی ، انجان ، نا آشنا لوگوں کے دلوں میں بھی جلنے لگتی ہے اور یہ مشعل دوستی جیسے اعلی رشتے کو باہم روشن کرتی ہے۔جانتے ہیں اس مشعل کو جلانے کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ؟ اعتماد ، جی ہاں اعتماد ہی وہ ہوتا ہے جو اس مشعل کو جلائے رکھتا ہے۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو عرصہ دراز کی دوستی لڑ کھڑا جاتی ہے اور دم توڑنے لگتی ہے۔ اگر اعتماد بحال نا ہو تو یہ عظیم رشتہ دم توڑ جاتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے یہاں ایک اور بات غور طلب بات یہ ہے کہ دوبارہ اعتماد بحال کیونکر ہو؟ فرض کریں اعتماد بحال ہو بھی جائے تو کیا یہ پہلے جیسا مظبوط اعتماد ہو گا؟ کیا یہ ایسا اعتماد ہو گا جو دوستوں کی آپس کی ناچاکیاں اپنے اندر سمیٹ لے۔ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ایسا کیوں جناب!
    ۔
    ایسا اس لیے کہ اعتماد ایک نازک آئنیہ کی طرح ہوتا ہے جب تک آئینہ ٹوٹے نہ یہ مکمل اور پورا شفاف عکس دکھاتا ہے لیکن جب ٹوٹ جاتا ہے تو جڑنے کے بعد بھی یہ مکمل اور پورا عکس نہیں دکھاتا بلکہ دو عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دوستی میں بھی ہوتا۔ دوستی میں جب تک باہمی اعتماد برقرار رہتا ہے تب تک دوستوں کا عکسواضح اور ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جب باہمی اعتماد ٹوٹ جائے اور کم و بیش بحال بھی ہو جائے تو عکس دو ہی دکھائی دیتے پھر۔ دوستوں کی آرا میں یکجیہتی ختم ہو جاتی۔ ایسی دوستیاں پھر دیر پا نہیں چلتی بلکہ غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
    برائے کرم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو در گزر کریں تاکہ اعتماد کا آئینہ ٹوٹنے نا پائے۔

    @Imtiazahmad_pti

  • ناقص منصوبہ بندی فنڈس کا ضیاع تحریر: عبدالرحمن آفریدی

    ناقص منصوبہ بندی فنڈس کا ضیاع تحریر: عبدالرحمن آفریدی

    یو ایس ایڈ کی امداد سے جیکب آباد میں فراہمی آب کا منصوبہ سات سال سے مکمل نہ ہوا

    جیکب آباد میں یو ایس ایڈ کی امداد سے فراہمی آب کے منصوبے کا افتتاح 2014میں کیا گیا جو 2ارب خرچ ہونے کے باوجود مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا یو ایس ایڈ کی امداد کو سونے کی چڑیا سمجھ لیا گیا ہے فراہمی آب کا منصوبہ جب اسکا افتتاح کیا گیا تو بتایا گیا دو سال میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا لیکن عملے کو بھاری بھرکم تنخواہیں جاری رکھوانے کے لئے کام کو طول دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہیں منصوبے پر کام انتہائی سست رفتاری سے کیا جا رہا ہے کام کے غیر معیاری اور ناقص ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کھیرتھر پر 30کروڑ کی لاگت سے جو پانی ذخیرہ کرنے کے لئے تالاب (لیگون) بنایا گیا ہے اس میں تکنیکی نقص اور کام کے ناقص ہونے پر واٹر کمیشن کے سربراہ امیر مسلم ہانی نے معائنے کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری مقرر کی تھی جو مبینہ رشوت کے عیوض دبا دی گئی ہے ظلم تو یہ ہے کہ پانی کا منصوبہ اس وقت بھی ادھورا ہے مکمل نہیں ہوا اوریو ایس ایڈ کے تعاون سے جیکب آباد میں دوسرا سیوریج کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے یہ ہے ہمارے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کی منصوبہ بندی ایک کا م مکمل نہیں کیا دوسرا شروع تاکہ فنڈنگ یعنی امداد کا میٹر چلتا رہے بند نہ ہواور عوام کا کیا ہے اتنے سال صبر کیا ہے کچھ سال اور صبر کر لیں گے کون پوچھنے والا ہے اس امداد کا کون حساب لے گاذمہ دارا ن نے اپنی کوتاہیوں،خامیوں کو چھپانے کے لئے پانی منصوبے کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ایک این جی او کو کروڑوں روپے کا پروجیکٹ گفٹ کیا ہے پر افسوس وہ بھی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں کہ کب آپکو پانی ملے گا منصوبہ بہترین ہے یو ایس ایڈ حکام متعدد بار جیکب آباد کا دورہ کرکے فراہمی آب کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہیں لیکن ہر بار انہیں منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ دے دی جاتی ہے منصوبے کی ڈزائن میں غفلت کا یہ حال ہے کہ شہر کے جعفر آباد محلے میں پانی کی لائین نہیں ڈالی گئی جس کے لئے الگ سے ٹینڈر کیا گیا ہے یو ایس ایڈ کی جانب سے شہر کی صفائی ستھرائی اور کچرہ ٹھکانے لگانے کے لئے بلدیہ جیکب آباد کو 188.617کی مالیت کی گاڑیاں اور دیگر سامان دیا گیا جو بلدیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے زبوں حال ہونے لگا شہر میں کچرہ اٹھانے کے لئے اور تنگ گلیوں میں جانے والے 20رکشہ, 50منی ڈمپر جو کہ استعما ل نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہو نے لگے،یہاں تک کے یو ایس ایڈ کی دی گئی گاڑیوں سے بیٹری اور دیگرسامان تک چوری کر لیا گیا بعد میں بلدیہ ملازمین سے واپس کروائی گئیں،بعد میں محکمہ بلدیات نے یو ایس ایڈ کی جانب سے جیکب آباد کے لئے دی گئی صفائی کی گاڑیاں دیگر اضلاع میں بھیجی گئیں جس پر شہریوں نے افسوس کا اظہا ربھی کیا جیکب آباد میں یو ایس ایڈ کی فنڈنگ سے اعلی معیار کا جمس ہسپتال تعمیر کیا گیا تاکہ نہ صر ف جیکب آبادبلکہ قریب و جوار اور بلوچستان کے باسی استفادہ حاصل کرسکیں لیکن افسوس چار سال گذرنے کے باوجود یہ ہسپتال مکمل فعال نہیں ہو سکا ہے ایمرجنسی کا شعبہ بند ہے فراہمی آ ب کا منصوبہ بد انتظامی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے جبکہ سیوریج منصوبے کے بھی ناقص کام کی شکایات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ایم ایس ڈی پی اور آر سی سی حکام عوامی شکایات کے ازالے میں سنجیدہ نہیں شہریوں کا پرزور مطالبا ہے کہ امریکی عوام کی اس امداد ی فنڈ میں غفلت اور لاپرواہی کا نوٹیس لیکر جڈیشل تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے اور پانی منصوبہ چلانے کے لئے شہری کے مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشمل واٹر بورڈ تشکیل دیا جائے بلدیہ نے ایف ڈبلیو او کے تیار کئے گئے بہترین فراہمی آب منصوبے کو تباہ کردیا تھا بلدیہ یو ایس ایڈ کے اس منصوبے کا بھی حلیہ بگاڑ دے گا

    @journalistjcd

  • کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات    تحریر: زاہد کبدانی

    کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات تحریر: زاہد کبدانی

    کورونا وائرس نے پاکستان کا نظام تعلیم اور امتحانات کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام 20،2020 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے ، کیونکہ کسی ملک کے نظام کی وجہ سے ، اس ملک سے سائنس دان ، ڈاکٹر اور انجینئر جتنے زیادہ آتے ہیں۔ COVID-19 کے وسیع پیمانے پر ، اور افراد کو گھر سے خود کو الگ تھلگ کرنے کی تاکید کی گئی۔ لاک ڈاؤن کا معیشت پر منفی اثر پڑا ، لیکن اس نے تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کردیں ، جس سے پوری دنیا میں طلباء کی تعلیم اورعلم میں ایک بہت بڑا فرق پڑ گیا۔ کسی بھی ملک کی ترقی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اس کا انحصار اس کے نظام تعلیم پر ہے۔ کورونا وائرس کی بہتر تعلیم جس طلباء نے جس نے سارا سال محنت کی اور وہ طالب علم جنہوں نے اپنا وقت ضائع کیا اور اپنے والدین کا پیسہ ضائع کیا۔ دونوں قسم کے طلبہ کو فروغ دیا۔ اس مقداری مطالعے کا مقصد پاکستان میں اعلی سطح کے طلبا کی تعلیم پر COVID-19 کے اثر و رسوخ کا تعین کرنا تھا۔ انٹرمیڈیٹ ، انڈرگریجویٹ ، گریجویٹ ، اور پوسٹ گریجویٹ لیول میں داخلہ لینے والے لرن کو پانچ نکاتی لیکرٹ اسکیل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سروے میں کل 74 افراد نے جواب دیا۔ ایس پی ایس ایس
    ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے 23 استعمال کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار نے اشارہ کیا کہ طلبا کو آن لائن کلاسوں کے دوران کلیدی موضوعات کو سمجھنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاگردوں کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن کی کمی تھی اور ان کو آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی پیشگی ہدایت نہیں تھی۔ جب ایک ہی وقت میں آن لائن تعلیم کی بات آتی ہے تو اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی پتہ چلا کہ اساتذہ کے باوجود طلبہ کو مطلوبہ اوزار اور آراء دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے پہلے سمارٹ نصاب دیا اور پھر بعد میں اعلان کیا کہ صرف تین مضامین کے کاغذات ہوں گے لازمی مضامین نہیں لئے گئے ، حالانکہ پاکستان اور اسلام کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں باقی سب کچھ چل رہا تھا لیکن صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے گئے؟ اب اساتذہ اور طلبہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور پچھلی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا مقابلہ کریں۔

    @Z_Kubdani

  • اندھیروں کا سفر  تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    اندھیروں کا سفر تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    قبل از اسلام اخلاقی اقدار کے انحطاط کا یہ عالم تھا کہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں زنا کا اقرار بھی کیا کرتے تھے اور زنا عربی معاشرے میں بڑے پیمانے پر عام تھا بلکہ بہت سے لوگ عورت کو زنا پر مجبور بھی کیا کرتے تھے۔ مگر
    اسلام نے اسکی ممانعت کر دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا
    اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں
    سورۃ النور آیت 33 ترجمہ تقی عثمانی صاحب
    اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا
    زمانہ جاہلیت میں مردوں نے نکاح کو بھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈال رکھا تھا ، اس زمانے میں زواج البعولتہ،
    زواج البدل ، نکاح متعین ،نکاح الخذان، نکاح شغار، نکاح الاستبضاع ، نکاح البغایا کا رواج عام تھا
    پھر عرب میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا ، اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں تاریخ ساز تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسلام نے دنیا کے مذہبی و سیاسی، علمی و فکری اور اخلاقی و معاشرتی حلقوں میں نہایت پاکیزہ اور دور رس انقلاب کی قیادت کی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں تک آفتابِ اسلامی کی کرنیں نہ پہنچی ہوں
    ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بنے والا ملک اسلام جمہوریہ پاکستان 27 رمضان 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، اور تب سے لے کر آج تک یہاں اسلامی قانون نافذ العمل نہیں ہوا لیکن تاریخی اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں روز اول سے لبرلزم کے نام پر عرب طرزِ زندگی گزانے پر زور دیتے ہیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، زمانہ جاہلیت میں عرب نے زنا کی کیلئے نکاح کے مختلف اقسام بنائیں تھے لیکن آج کل پاکستان میں لبرلزم اور آزادی کے نام فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں، 2020-21 میں ھم دیکھے تو بچیوں سے ذیادتی کی واقعات ہو یا عثمان مرزا، ضمیر جعفری جیسے کہانیاں اور واقعات ، ایک سروی کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور 8 بچوں کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
    خدارا اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پڑھائیں اور ان کو زمانہ جاہلیت کے رسومات سے دور رکھے ، کہی ایسا نہ ہو کہ ھم ترقی اور آزاد خیالی کی طرف بڑھتے بڑھتے زمانہ جہالت کے اندھیروں کی طرف نکل جائیں، اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہوں اور ھم سب کو نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
    اسلام ذندہ باد

    @DrNajeeb133