Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • خدمت خلق اور ہم!   تحریر: ناصرہ فیصل

    خدمت خلق اور ہم! تحریر: ناصرہ فیصل

    "ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے”

    خدمت خلق ، جہاں اس دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک احسن اور مہذب طریقہ ہے ، وہاں یہ ہم مسلمانوں کے لیے ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔۔اللہ تعالٰی نےقرآن مجید فرقان حمید میں مخلوق کی خدمت کو بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ اسلام میں انسانوں کی بھلائی کے کام بہت اہمیت کے حامل ہیں۔۔ جگہ جگہ اللہ تعالیٰ قرآن میں لوگوں کو ایک دوسرے سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔
    قرآن کریم میں خدمت خلق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
    "لیس البر ان تولو وجوه‍كم قبل الشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملئكة والكتاب والنبيین وآتي المال على حبه ذوي القربي واليتمي والمسكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب الخ۔ (البقرہ۔ ١٧٧)”
    (ترجمہ)”سارا کمال اسی میں نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق کی جانب کرو یا مغرب کی جانب لیکن اصلی کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب سماویہ پر اور پیغمبروں پر اور وہ شخص مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں کو اور نادار یتیموں کو اور دوسرے غریب محتاجوں کو بھی اور بے خرچ مسافروں کو اور لاچاری میں سوال کرنے والوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں بھی مال خرچ کرتا ہو”

    پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی خدمت خلق کا نمونہ تھی آپ بے سہاروں کا سہارا ، یتیموں کے والی اور کمزوروں کی طاقت تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صحابہ نے آپ کی پیروی کرتےہوئے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔۔ اپنے کردار سے سماجی فلاح و بہبود اور خدمت خلق کا بہترین نمونہ پیش کیا جو کے ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کو بھی انہی اصولوں پر استوار کریں جسکا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ فرمایا ہے۔۔ جسکی تعلیم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناصرف قرآن مجید کے ذریعے کی بلکہ اپنی پوری زندگی ہی ایک مشعل راہ بنا دی، آنے والی تمام اُمتوں کے لیے۔۔
    آپ نے فرمایا:
    "بہترین انسان وہ ہے جودوسرے انسانوں کے لئے منافع بخش ہو”

    زندگی وہی خوبصورت ہے جو دوسروں کے کام آنے میں گزر جائے۔۔ اپنے لیے جینا بھی کوئی جینا ہوتا ہے۔۔ صرف اپنے لیے تو حیوان بھی جیتے ہیں۔۔ پھر اُن میں اور ہم میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ ہمیں خود کو اُس درجے تک پہنچانے والی چیزوں میں سب سے اہم انسانیت کی خدمت ہے ۔

    نماز ، روزہ ،حج اور زکوٰۃ بہت ضروری ہیں ہم پر مسلمان ہونے کے ناطے سے ۔۔ لیکن اللہ کو ان سب سے بھی زیادہ عزیز و لوگ ہیں جو ان سب کے ساتھ اپنے گھر والوں کا ، اپنے آس پاس کے لوگوں کا، اپنے عزیز رشتہِ داروں کا خیال رکھتا ہے ۔
    علامہ اقبال نے ایک شعر میں بہت خوبصورتی سے اسکا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔۔

    "دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کم نا تھے کرو بیاں”

    یعنی اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے اللہ کے پاس فرشتوں کی کوئی کمی نہیں تھی ، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے لیے پیار محبت اور خلوص نیت سے مدد کرنے کے لئے پیدا کیا۔۔۔ ہم دنیا میں آنے کے اصل مقصد کو بھول کر خود کو ایک پیسہ بنانے والی مشین بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔۔ ہمارے پاس وقت ہی نہیں کے ہم کسی اور کے دکھ درد کو محسوس کر سکیں، مدد کرنا توبہت دور کی بات ہے۔۔آئے ہم خود کو بدلیں، اپنے اندر کے خوبصورت انسان کو باہر انے کا موقع دیجئے ۔۔ خود بھی خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اوروں کو بھی اسکی ترغیب دیں۔ اور ایک خوبصورت معاشرہ بنائیں۔۔
    ” تمنا درد دل کی ہے تو کر خدمت فقیروں کی
    نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں”

    @NiniYmz

  • اللہ کی آواز تحریر:  محمد احمد

    اللہ کی آواز تحریر: محمد احمد

    ایک فرانسیسی ڈاکٹر سمندری جہاز میں سفر کررہا تھا۔۔۔اچانک مصر کے قریب وہ اپنا سفر ختم کرکے ایک عالم محمود مصری کے پاس پہنچا اور مسلمان ہوگیا۔۔ محمود مصری نے کچھ عرصہ بعد ان سے سن کے مکان پر جاکر اسلام قبول کرنے کی وجہ دریافت کی۔۔؟؟
    قرآن کی ایک آیت۔” ڈاکٹر نے جواب دیا
    محمود مصری نے ان فرانسیسی ڈاکٹر سے پوچھا کیا آپ نے کبھی کسی مسلمان یا عالم سے قرآن پڑھا ہے؟
    جس پر فرانسیسی ڈاکٹر نے کہا نہیں ابھی تک میری کسی مسلمان یا عالم سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
    پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔۔ محمود مصری کے استفسار پر فرانسیسی ڈاکٹر نے جواب دیا:
    "مجھے اکثر سمندری سفروں میں رہنے کا اتفاق ہوا میری زندگی کا آدھا حصہ پانی اور آسمان کے درمیان بسر ہوا اسی طرح کے ایک سفر میں ایک بار میں قرآن کا فرانسیسی ترجمہ لے کر نکلا جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو سورۃ نور کی ایک آیت میرے سامنے سے گزری جس میں ایک سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی جسکا ترجمہ ہے
    "جیسے اندھیرا ہو گہرے سمندر میں، اسکو ڈھانپ لیا ہو موج نے،لہر کے اوپر لہر،اسکے اوپر بادل،اندھیرے پر اندھیرا،اس حالت میں ایک شخص اپنا ہاتھ نکالے تو توقع نہیں کہ وہ اسکو دیکھ سکے اور جسکو خدا نور نہ دے اسکے لیئے کوئی روشنی نہیں”
    (سورۃ النور،آہت نمبر 40)
    میں نے اس آیت کو کافی دلچسپی سے پڑھا اس میں سمندری نظارے کی کیفیت بیان کی گئی تھی جب میں نے یہ آیت پڑھی تو میرا دل انداز بیان کی عمدگی اور واقفیت سے بیحد متاثر ہوا تب میں نے خیال کیا کہ مسلمانوں کے رسول اللہﷺ ایسی شخصیت ہوںگے جنکے رات دن میری طرح سمندری سفروں میں گزرے ہوںگے۔۔۔ پھر بھی مجھے حیرت تھی کہ انہوں نے سمندر کی گہرائیوں کو کیسے مختصر الفاظ میں بیان کیا ہے گویا کہ خود رات کی سیاہی بادلوں کی تاریکی اور موجوں کے طوفان میں ایک جہاز پر کھڑے ہیںاور ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی بدحواسی دیکھ رہے ہیں۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ سمندری خطرات کا کوئی بڑا سا بڑا ماہر اتنے کم الفاظ میں اتنے کامیاب طور پر اسکی تصویر کشی نہیں کرسکتا۔۔
    لیکن اسکے تھوڑے ہی عرصے بعد مجھے معلوم ہوا کہ محمد عربی ﷺ نے زندگی بھر کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور نہ ہی انہوں نے زندگی بھر کبھی سمندر کا سفر کیا تھا۔۔یہ بات ظاہر ہونے کے بعد میرا دل روشن ہوگیا تب میں نے جانا کہ یہ محمدﷺ کی آواز نہیں بلکہ اس خدا کی آواز ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہے اسکے بعد میرے لیئے کوئی چارہ نہیں تھا سوائے اسکے کہ میں مسلمان ہو جاؤں”
    @MohhammadAhmad

  • عنوان: کسی درد مند کے کام آ تحریر: فرقان اسلم

    السلام و علیکم۔۔۔!!
    "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا”
    ہم اکثر یہ محاورہ سنتے ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ محاورہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو وہ اسی بِنا پر بنایا کہ انسان دوسروں کا احساس کرے ان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔ ان کی مدد کرے ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ اگر ہم اس کے باوجود دوسروں کی مدد نہیں کرتے تو یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ہمارا دین اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے پر ہمارے دین میں بڑی فضیلت حاصل ہے۔ عیدِ قرباں پر ہم جو قربانی کرتے ہیں وہ بھی احساس اور ایثار کا عملی ثبوت ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں احساس کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اگر ہم مالی امداد کرسکتے ہوں تو وہ کرنی چاہیئے کسی کو اچھی بات بتانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کسی بوڑھے کو سڑک پار کروا دیں۔ کسی پیاسے کو پانی پلا دیں۔ کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتادیں۔ غرض یہ کہ ہمیں ہر لحاظ سے مستحق اور دردمندوں کی مدد کرنی چاہیئے کیونکہ اسی میں روحانی سکون اور خوش پوشیدہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر ہم نے کسی ضرورت مند کو دیکھا تو اس کی مدد نہ کی حالانکہ اس کی مدد کرنے پر ہم قادر بھی ہوں تو خدا کی قسم ہم مفتی ہو سکتے ہیں نمازی ہو سکتے ہیں متقی ہو سکتے ہیں مگر ہم نیک انسان نہیں ہو سکتے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے تو الفاظ یہ ہیں کہ "تم میں سے اللّٰہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔”
    حقیقی فاتح وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنا جانتا ہے اور لوگوں کے دل وہی انسان جیت سکتا ہے جس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص دکھی انسانیت کا مسیحا ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے سامنے عبدالستار ایدھی صاحب کی مثال موجود ہے جنہوں نے ہزاروں انسانوں کی بے لوث مدد اور خدمت کی اور آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
    ایک جگہ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ” خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چنا”۔
    اللّٰہ پاک ہم سب کو دوسروں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
    @Rumi_PK

  • دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    لفظ دوستی ایک ایسی مشعل ہے جو اجنبی ، انجان ، نا آشنا لوگوں کے دلوں میں بھی جلنے لگتی ہے اور یہ مشعل دوستی جیسے اعلی رشتے کو باہم روشن کرتی ہے۔جانتے ہیں اس مشعل کو جلانے کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ؟ اعتماد ، جی ہاں اعتماد ہی وہ ہوتا ہے جو اس مشعل کو جلائے رکھتا ہے۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو عرصہ دراز کی دوستی لڑ کھڑا جاتی ہے اور دم توڑنے لگتی ہے۔ اگر اعتماد بحال نا ہو تو یہ عظیم رشتہ دم توڑ جاتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے یہاں ایک اور بات غور طلب بات یہ ہے کہ دوبارہ اعتماد بحال کیونکر ہو؟ فرض کریں اعتماد بحال ہو بھی جائے تو کیا یہ پہلے جیسا مظبوط اعتماد ہو گا؟ کیا یہ ایسا اعتماد ہو گا جو دوستوں کی آپس کی ناچاکیاں اپنے اندر سمیٹ لے۔ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ایسا کیوں جناب!
    ۔
    ایسا اس لیے کہ اعتماد ایک نازک آئنیہ کی طرح ہوتا ہے جب تک آئینہ ٹوٹے نہ یہ مکمل اور پورا شفاف عکس دکھاتا ہے لیکن جب ٹوٹ جاتا ہے تو جڑنے کے بعد بھی یہ مکمل اور پورا عکس نہیں دکھاتا بلکہ دو عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دوستی میں بھی ہوتا۔ دوستی میں جب تک باہمی اعتماد برقرار رہتا ہے تب تک دوستوں کا عکسواضح اور ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جب باہمی اعتماد ٹوٹ جائے اور کم و بیش بحال بھی ہو جائے تو عکس دو ہی دکھائی دیتے پھر۔ دوستوں کی آرا میں یکجیہتی ختم ہو جاتی۔ ایسی دوستیاں پھر دیر پا نہیں چلتی بلکہ غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
    برائے کرم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو در گزر کریں تاکہ اعتماد کا آئینہ ٹوٹنے نا پائے۔

    @Imtiazahmad_pti

  • ناقص منصوبہ بندی فنڈس کا ضیاع تحریر: عبدالرحمن آفریدی

    ناقص منصوبہ بندی فنڈس کا ضیاع تحریر: عبدالرحمن آفریدی

    یو ایس ایڈ کی امداد سے جیکب آباد میں فراہمی آب کا منصوبہ سات سال سے مکمل نہ ہوا

    جیکب آباد میں یو ایس ایڈ کی امداد سے فراہمی آب کے منصوبے کا افتتاح 2014میں کیا گیا جو 2ارب خرچ ہونے کے باوجود مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا یو ایس ایڈ کی امداد کو سونے کی چڑیا سمجھ لیا گیا ہے فراہمی آب کا منصوبہ جب اسکا افتتاح کیا گیا تو بتایا گیا دو سال میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا لیکن عملے کو بھاری بھرکم تنخواہیں جاری رکھوانے کے لئے کام کو طول دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہیں منصوبے پر کام انتہائی سست رفتاری سے کیا جا رہا ہے کام کے غیر معیاری اور ناقص ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کھیرتھر پر 30کروڑ کی لاگت سے جو پانی ذخیرہ کرنے کے لئے تالاب (لیگون) بنایا گیا ہے اس میں تکنیکی نقص اور کام کے ناقص ہونے پر واٹر کمیشن کے سربراہ امیر مسلم ہانی نے معائنے کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری مقرر کی تھی جو مبینہ رشوت کے عیوض دبا دی گئی ہے ظلم تو یہ ہے کہ پانی کا منصوبہ اس وقت بھی ادھورا ہے مکمل نہیں ہوا اوریو ایس ایڈ کے تعاون سے جیکب آباد میں دوسرا سیوریج کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے یہ ہے ہمارے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کی منصوبہ بندی ایک کا م مکمل نہیں کیا دوسرا شروع تاکہ فنڈنگ یعنی امداد کا میٹر چلتا رہے بند نہ ہواور عوام کا کیا ہے اتنے سال صبر کیا ہے کچھ سال اور صبر کر لیں گے کون پوچھنے والا ہے اس امداد کا کون حساب لے گاذمہ دارا ن نے اپنی کوتاہیوں،خامیوں کو چھپانے کے لئے پانی منصوبے کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ایک این جی او کو کروڑوں روپے کا پروجیکٹ گفٹ کیا ہے پر افسوس وہ بھی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں کہ کب آپکو پانی ملے گا منصوبہ بہترین ہے یو ایس ایڈ حکام متعدد بار جیکب آباد کا دورہ کرکے فراہمی آب کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہیں لیکن ہر بار انہیں منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ دے دی جاتی ہے منصوبے کی ڈزائن میں غفلت کا یہ حال ہے کہ شہر کے جعفر آباد محلے میں پانی کی لائین نہیں ڈالی گئی جس کے لئے الگ سے ٹینڈر کیا گیا ہے یو ایس ایڈ کی جانب سے شہر کی صفائی ستھرائی اور کچرہ ٹھکانے لگانے کے لئے بلدیہ جیکب آباد کو 188.617کی مالیت کی گاڑیاں اور دیگر سامان دیا گیا جو بلدیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے زبوں حال ہونے لگا شہر میں کچرہ اٹھانے کے لئے اور تنگ گلیوں میں جانے والے 20رکشہ, 50منی ڈمپر جو کہ استعما ل نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہو نے لگے،یہاں تک کے یو ایس ایڈ کی دی گئی گاڑیوں سے بیٹری اور دیگرسامان تک چوری کر لیا گیا بعد میں بلدیہ ملازمین سے واپس کروائی گئیں،بعد میں محکمہ بلدیات نے یو ایس ایڈ کی جانب سے جیکب آباد کے لئے دی گئی صفائی کی گاڑیاں دیگر اضلاع میں بھیجی گئیں جس پر شہریوں نے افسوس کا اظہا ربھی کیا جیکب آباد میں یو ایس ایڈ کی فنڈنگ سے اعلی معیار کا جمس ہسپتال تعمیر کیا گیا تاکہ نہ صر ف جیکب آبادبلکہ قریب و جوار اور بلوچستان کے باسی استفادہ حاصل کرسکیں لیکن افسوس چار سال گذرنے کے باوجود یہ ہسپتال مکمل فعال نہیں ہو سکا ہے ایمرجنسی کا شعبہ بند ہے فراہمی آ ب کا منصوبہ بد انتظامی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے جبکہ سیوریج منصوبے کے بھی ناقص کام کی شکایات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ایم ایس ڈی پی اور آر سی سی حکام عوامی شکایات کے ازالے میں سنجیدہ نہیں شہریوں کا پرزور مطالبا ہے کہ امریکی عوام کی اس امداد ی فنڈ میں غفلت اور لاپرواہی کا نوٹیس لیکر جڈیشل تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے اور پانی منصوبہ چلانے کے لئے شہری کے مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشمل واٹر بورڈ تشکیل دیا جائے بلدیہ نے ایف ڈبلیو او کے تیار کئے گئے بہترین فراہمی آب منصوبے کو تباہ کردیا تھا بلدیہ یو ایس ایڈ کے اس منصوبے کا بھی حلیہ بگاڑ دے گا

    @journalistjcd

  • کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات    تحریر: زاہد کبدانی

    کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات تحریر: زاہد کبدانی

    کورونا وائرس نے پاکستان کا نظام تعلیم اور امتحانات کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام 20،2020 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے ، کیونکہ کسی ملک کے نظام کی وجہ سے ، اس ملک سے سائنس دان ، ڈاکٹر اور انجینئر جتنے زیادہ آتے ہیں۔ COVID-19 کے وسیع پیمانے پر ، اور افراد کو گھر سے خود کو الگ تھلگ کرنے کی تاکید کی گئی۔ لاک ڈاؤن کا معیشت پر منفی اثر پڑا ، لیکن اس نے تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کردیں ، جس سے پوری دنیا میں طلباء کی تعلیم اورعلم میں ایک بہت بڑا فرق پڑ گیا۔ کسی بھی ملک کی ترقی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اس کا انحصار اس کے نظام تعلیم پر ہے۔ کورونا وائرس کی بہتر تعلیم جس طلباء نے جس نے سارا سال محنت کی اور وہ طالب علم جنہوں نے اپنا وقت ضائع کیا اور اپنے والدین کا پیسہ ضائع کیا۔ دونوں قسم کے طلبہ کو فروغ دیا۔ اس مقداری مطالعے کا مقصد پاکستان میں اعلی سطح کے طلبا کی تعلیم پر COVID-19 کے اثر و رسوخ کا تعین کرنا تھا۔ انٹرمیڈیٹ ، انڈرگریجویٹ ، گریجویٹ ، اور پوسٹ گریجویٹ لیول میں داخلہ لینے والے لرن کو پانچ نکاتی لیکرٹ اسکیل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سروے میں کل 74 افراد نے جواب دیا۔ ایس پی ایس ایس
    ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے 23 استعمال کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار نے اشارہ کیا کہ طلبا کو آن لائن کلاسوں کے دوران کلیدی موضوعات کو سمجھنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاگردوں کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن کی کمی تھی اور ان کو آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی پیشگی ہدایت نہیں تھی۔ جب ایک ہی وقت میں آن لائن تعلیم کی بات آتی ہے تو اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی پتہ چلا کہ اساتذہ کے باوجود طلبہ کو مطلوبہ اوزار اور آراء دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے پہلے سمارٹ نصاب دیا اور پھر بعد میں اعلان کیا کہ صرف تین مضامین کے کاغذات ہوں گے لازمی مضامین نہیں لئے گئے ، حالانکہ پاکستان اور اسلام کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں باقی سب کچھ چل رہا تھا لیکن صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے گئے؟ اب اساتذہ اور طلبہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور پچھلی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا مقابلہ کریں۔

    @Z_Kubdani

  • اندھیروں کا سفر  تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    اندھیروں کا سفر تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    قبل از اسلام اخلاقی اقدار کے انحطاط کا یہ عالم تھا کہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں زنا کا اقرار بھی کیا کرتے تھے اور زنا عربی معاشرے میں بڑے پیمانے پر عام تھا بلکہ بہت سے لوگ عورت کو زنا پر مجبور بھی کیا کرتے تھے۔ مگر
    اسلام نے اسکی ممانعت کر دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا
    اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں
    سورۃ النور آیت 33 ترجمہ تقی عثمانی صاحب
    اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا
    زمانہ جاہلیت میں مردوں نے نکاح کو بھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈال رکھا تھا ، اس زمانے میں زواج البعولتہ،
    زواج البدل ، نکاح متعین ،نکاح الخذان، نکاح شغار، نکاح الاستبضاع ، نکاح البغایا کا رواج عام تھا
    پھر عرب میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا ، اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں تاریخ ساز تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسلام نے دنیا کے مذہبی و سیاسی، علمی و فکری اور اخلاقی و معاشرتی حلقوں میں نہایت پاکیزہ اور دور رس انقلاب کی قیادت کی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں تک آفتابِ اسلامی کی کرنیں نہ پہنچی ہوں
    ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بنے والا ملک اسلام جمہوریہ پاکستان 27 رمضان 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، اور تب سے لے کر آج تک یہاں اسلامی قانون نافذ العمل نہیں ہوا لیکن تاریخی اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں روز اول سے لبرلزم کے نام پر عرب طرزِ زندگی گزانے پر زور دیتے ہیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، زمانہ جاہلیت میں عرب نے زنا کی کیلئے نکاح کے مختلف اقسام بنائیں تھے لیکن آج کل پاکستان میں لبرلزم اور آزادی کے نام فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں، 2020-21 میں ھم دیکھے تو بچیوں سے ذیادتی کی واقعات ہو یا عثمان مرزا، ضمیر جعفری جیسے کہانیاں اور واقعات ، ایک سروی کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور 8 بچوں کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
    خدارا اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پڑھائیں اور ان کو زمانہ جاہلیت کے رسومات سے دور رکھے ، کہی ایسا نہ ہو کہ ھم ترقی اور آزاد خیالی کی طرف بڑھتے بڑھتے زمانہ جہالت کے اندھیروں کی طرف نکل جائیں، اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہوں اور ھم سب کو نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
    اسلام ذندہ باد

    @DrNajeeb133

  • قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی کے تین بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں،
    ١_اللہ سبحان وتعالی کی رضا
    ٢_سنت ابراہیمی کے مقدس فریضے کی ادائیگی
    ٣_غریب و نادار طبقہ کو تین دن مسلسل گوشت کی فراہمی شامل ہے
    اس عظیم خوشی کے موقع پر سیکولر طبقہ مختلف رائے رکھتا ہے ، اِن کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانی کرنے کے بجائے انہی پیسوں کو کسی اور فلاحی کام میں لگایا جائے ، اس سے لاکھوں جانوروں کی زندگیاں بچ جائیں گی اور فلاحی کام بھی ہوسکیں گی،
    معزز قارئین! انہی لبرل و سیکولر طبقے کو کیا واقعی جانوروں سے ہمدردی ہے ، یا نشانہ دراصل اسلامی ضابطہ حیات ہے؟
    اس سوال کا مختصراً جواب یہ ہے کہ، انہی لبرل و سیکولر مافیاز کو "سپین؛ میں جانوروں کے حقوق پر کبھی بولتے نہیں پایا گیا ، جہاں ہر سال چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیلوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ، بے زبان جانوروں کو اذیت ناک موت دے کر کہتے ہیں یہ تو بس ایک کھیل ہے.
    انہی لبرل مافیاز کے زبانوں پر اسوقت تو آبلے پڑ جاتے ہیں جب نیپال میں ہر پانچ سال بعد ہندؤں! کی جانب سے لاکھوں جانوروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، وجہ اپنے دیوی ماتا کو راضی کرنے کے لئے.
    معزز قارئین! جب ڈنمارک میں ہر سال سینکڑوں افراد ہزاروں ڈولفنز کو قتل کر دیتے، حتیٰ کہ سمندر کا رنگ سرخ پڑ جاتا ہے لیکن نہیں یہ بھی ایک کھیل ہی ہے اور ایک تہوار ہے ، لبرل مافیاز کا اس پر خاموشی کوئی اچنبھے کی بات نہیں.
    جب یہودیوں! کی جانب سے ہرسال ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پر مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے تو وہاں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، ہاں کسی کو اعتراض ہے بھی سہی تو اسلامی اقداروں پر ہے .
    معزز قارئین! اگر اب بھی کسی کو جانوروں کی قربانی پر اعتراض ہے تو اسے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

    @AbdullahMazari12

  • اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    *ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے*
    *نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر*

    امت مسلمہ میں اتحاد دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔
    ہمیں قومیت و فرقہ ورانہ کشیدگی سے بالاتر ہو کر ملت اسلامیہ کے لیے سوچنا چاہیے، ہمیں امت میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ظلم و بربریت کے خاتمے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ مظلوم و مجبور کی حمایت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو کونے کونے میں پھیلانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

    *یہ اختلافات*
    بھی کوئی اختلافات ہیں، ان سب کو بالائے طاق رکھیں اور اللہ کا برکت والا نام لے کر اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے وقار کو بلند کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر قیمت پہ متحد ہونا چاہیے، اگر اس راہ حق پہ جان بھی قربان کرنی پڑے تو رائیگاں نہیں۔

    *اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*

    *”اللہ کی رسی (دین اسلام) کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقوں میں مت بٹو”* (العمران 103)

    کیا ہم فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں؟
    کیا ہم نے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑا؟
    کیا ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں؟

    *دین اسلام*
    اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اور کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی امانت ہے اللہ تعالیٰ اور حبیب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔۔۔۔
    اور ہم سب اس کے امین ہیں۔
    اس دین کی وجہ سے ہم ایک قوم ہیں اور فرد واحد کی طرح ہیں۔

    *حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *تم مومنوں کو آپس میں رحم کرنے، محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسا کہ بدن۔ جب بدن کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعضاء اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں اور بیماری اور بخار میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔* (بخاری مسلم عن نعمان بن بشیر (رض))

    دین اسلام کی وجہ سے اخوت کا رشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا ہے۔ اس رشتے کے مقابلے میں باپ بیٹے اور بہن بھائی جیسے سب رشتے کچے دھاگے کی مانند ہیں۔
    دو ارب مسلمان اور رشتہ اخوت۔ یہ ہے ملت اسلامیہ۔۔ حق و انصاف کی علمبردار۔۔۔۔
    مگر افسوس!!!!
    یہ مرکز دور کیوں؟
    یہ انتشار کیسا؟
    یہ جدائیاں کیوں؟
    یہ خرابیاں کیسی؟
    یہ سب ایک کیوں نہیں؟
    یہ مصنوعی دیواریں کیسی؟

    ملت کا ہر فرد اور اسلام کا ہر فرزند اس کا جواب دے ان کو کون منہدم کرے گا؟
    ان مصنوعی فاصلوں کو کون ختم کرے گا؟

    *ہے کوئی جمال الدین افغانی؟*
    *ہے کوئی صلاح الدین ایوبی؟*
    *ہے کوئی محمد بن قاسم؟*
    *ہے کوئی طارق بن زیاد؟*
    *ہے کوئی محمود غزنوی؟*
    *ہے کوئی شہاب الدین غوری؟*

    سامنے آؤ!!!!
    ملت تمہیں پکار رہی ہے۔۔

    *اے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں!!!*

    ہمارا مرکز استنبول، قاہرہ، دمشق، ڈنمارک، واشنگٹن، شنگھائی، لندن،پیرس، جکارتہ، راولپنڈی، کابل یا دہلی نہیں۔۔۔۔۔
    مکہ معظمہ کو مرکز مانو!!
    کعبہ کو مرکز تسلیم کرو۔۔
    جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکز بنایا ہے۔

    اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ
    تعمیرِ خلافت پیدا کر

    کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے
    اب ایک جماعت پیدا کر

    کر تو بھی ترقی دنیا میں
    اسبابِ تجارت پیدا کر

    قارون کی دولت ٹھکرا دے
    عثمان کی دولت پیدا کر

    اسلام کا دم بھرتا ہے
    کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے

    یا تو اسلام کا نام نہ لے
    یا شوقِ شہادت پیدا کر

    *آؤ*
    عالم اسلام کو ایک کرو۔ اسلام کی شمع کو روشن کرو۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرو۔ انسانوں کے لئے ایسا معاشرہ قائم کرو جو ظلم و زیادتی سے پاک ہو، جہاں انصاف کا بول بالا ہو!!!۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کا پیغام گونجے۔۔
    جہاں وہ نظام رائج ہو جو اسلام کا بنیادی نظام ہے۔۔

    *اے مسلمان!!!!!!*
    اے قیصر و کسریٰ کی بلندوں بالا سلطنتوں کو روندنے والے! تو نے مغرب کی وادیوں میں اذانیں دیں۔۔۔ روم کی جاہ و حشمت کو پارہ پارہ کیا۔۔۔ چین و فرانس کی سرحدوں کو چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے ہی قسطنطنیہ کا آہنی حصار توڑا۔۔۔۔۔۔
    ہسپانیہ میں اسلامی دبدبے کا سکہ تو نے ہی بٹھایا۔۔۔۔۔۔

    آج تو بے بس ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟
    آج کفر غالب ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟

    کفر تو مغلوب ہوتا ہے۔۔۔

    *اے سوئے ہوئے مسلمان!!!*
    بیت المقدس پہ یہودی قابض ہیں۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔۔۔۔
    ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔۔۔۔
    کشمیر و فلسطین جل رہا ہے۔۔۔۔
    افغانستان اور فلسطین کے مہاجرین دھکے کھا رہے ہیں۔۔۔۔
    عالم اسلام جل رہا ہے۔۔۔۔۔
    اور تو خاموش ہے۔۔۔۔۔

    *مگر*
    تو اب بھی پہلے پاکستانی ہے۔۔۔۔۔ افغانی یا بنگالی ہے۔۔۔۔
    عربی یا عجمی ہے۔۔۔۔۔
    اور بعد میں مسلمان!!!!!
    ایک صدیوں سے سویا ہوا مسلمان!!!!

    کیا تو اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ، کھوئی ہوئی عظمت، کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    *تو آ* !!!
    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو،
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پھر سے زندہ کر۔۔۔۔۔۔
    پہلے مسلمان بن۔۔۔۔
    پھر افغانی، پاکستانی، عربی، عجمی، بنگالی بن۔۔۔۔۔۔

    سب اختلافات کو ختم کر کے ایک مرکز پر متحد ہوجاؤ، یہ کفار آپ کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔۔۔
    آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کے لیے متحد ہوجاؤ اور پوری دنیا پہ چھا جاؤ۔۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔

    *اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر*
    *خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی*
    *ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار*
    *قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری*
    @ibn_e_Adam424

  • پاکستان کی جیو گرافیائی اہمیت  تحریر: محمد جاوید

    پاکستان کی جیو گرافیائی اہمیت تحریر: محمد جاوید

    پاکستان جغرافیائی طور پر بہت اہم جگہ پر واقع ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہ کہہ سکتے کہ پاکستان کی لوکشن کے حوالے سے قدرت بڑی مہربان ہوئی ہے تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا۔ آج کے کالم میں اس اہمیت پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا یقین ہے آپکو پسند آئے گا۔
    اگرہم ماضی اور حال کے حالات واقعات اور تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہ ہمیشہ سے سیاسی ، معاشی اور اسٹریٹجک لوکشن کی وجہ دنیا کے لئے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پاکستان جیس خطے میں موجود ہے وہ گذشتہ 20 سالوں سے بڑی طاقتوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اس میں تین بڑی طاقتیں برطانیہ، سویت یونین اور امریکہ کی مداخلت دیکھنے میں آئی۔ اور جب بھی کسی بيرونی طاقت نے اس خطے پہ قدم رکھا پاکستان کا کردار نمایا رہا اس کے پیچھے وجہ پاکستان کی جیوگرافیکل لوکیشن رہی ہے ۔
    سرد جنگ کے دوران اس کی اہمیت مزيد بڑھ گئی تھی اور جب سویت یونین نے افغانستان پہ قابض ہونے کی کوشش کی تب پاکستان امریکہ کا حلیف بن گیا اور پھر سرد جنگ کے بعد اس کی اہمیت خاص طور پر نائن الیون کے واقعات کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔
    پاکستان کی جیو پولیٹیکل امپورٹنس کو سمجھنے کے لے ان باتوں کا جایزہ لینا بہت ضروری ہے

    1. پاکستان سینٹرل اشیا اور جنوبی اشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے
    ایشیا اور جنوبی مغربی ایشیاء۔ ایران اور افغانستان توانائی کے وافر مقدار موجود ہیں جبکہ دوسری طرف ہندوستان، چین اور مشرقی اشیا کے ممالک میں توانائی کی بہت کمی ہے۔ اسلے ان تمام ممالک کو پاکستان راستہ فراہم کر سکتا ہے تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضرورت کو پوری کر سکے ۔
    چین نے قراقرم کے راستے بحر ہند اور بحیرہ عرب کا راستہ تلاش کیا۔
    چین کے جنوبی صوبے سے اس کی اپنی بندرگاہ سنکیانگ سے 4500 کلومیٹر دور ہے لیکن گوادر 2500 کلومیٹر دور ہے۔
    گوادر دنیا کا سب سے گہرا بندرگاه ہے گہرا ہونے سے یہ فایدہ ہے کہ بڑی جہاز آسانی سے بندر گاہ اسكتی ہے

    2۔ ایران مشرق میں اپنی گیس اور تیل برآمد کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے
    قطر پاکستان اور ترکمنستان پائپ لائن منصوبوں نے اس پوزیشن کو اجاگر کیا۔ اگر IPI کو کامیابی ملی تو پاکستان کو سالانہ 400 ملین ڈالر ملیں گے۔
    3. پاکستان عظیم طاقتوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کے پڑوسی ممالک میں ایک عالمی طاقت روس اور دوسری طرف ابھرتی ہوئی طاقت چین موجود ہے۔ پاکستان کا کسی بھی عالمی طاقتوں سے کوئی بھی اتحاد اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔
    4. سیکورٹی اور ٹریڈ خطے میں امریکہ کے دو اہم مفادات ہیں جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کر چکا ہے
    5. وسطی ایشیا نیو گریٹ گیم کا مرکز بن چکا ہے ۔وسطی ایشیا میں وسائل کے لئے مغربی جدوجہد۔ تیل اور توانائی کے لئے ہمیشہ رہی ہے ۔
    یو ایس ایس آر کے زوال کے بعد ، نئی جدوجہد شروع ہوئی جو تیل کی سیاست سے ہی ظاہر ہوتی ہے۔
    پاکستان تیل سے مالا مال مشرق وسطی کے ممالک کے بہت قریب واقع ہے۔ یہ پٹی
    ایران سے شروع ہوتے ہوۓ سعودی عرب تک اور پھر اس سے آگےتیل والے ممالک تک رسائی ممکن بنا دیتی ہے
    6. اگر ہم مسلم ممالک کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ، پاکستان اسلامی ممالک کے درمیان میں موجود ہے۔ مغرب کی طرف ایران اور سے آگے تمام مسلم ممالک جاکرافریقہ تک پھیلے ہوے ہیں ۔
    اور مشرق کی طرف بنگلادیش اور ساؤتھ ایسٹ اشیا کے تمام مسلم ممالک موجود ہے۔
    پاکستان جنوبی ایشیاء ، مغربی ایشیاء اور وسطی ایشیا کا سنگم ہے۔ پس پاکستان توانائی کے لامحدود وسائل والے ممالک اور توانائی کے محدود وسائل والے ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
    اس وقت دنیا کو 2 بڑی مسائل کا سامنا ہے ایک توانائی کا بہران اور دوسرا دہشت گردی تو ان دونوں مسائل کو حل کرنے میں پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے۔
    پاکستان کی جیوگرافیائی اہمیت نہ صرف پاکستان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے بلکہ پوری دنیا کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہے اور دنیا کی ضرورت بھی ہے۔
    اب اس وجہ سے پاکستان کے سامنے ہمیشہ چلنجز کا سامنا رہا ہے اور آگے بھی چیلنجز آتے رہینگے آپ یہ پاکستان کی لیڈرشپ پہ منحصر ہے کہ کیسے اس سے فائیدہ اٹھاتی ہیں۔

    @I_MJawed