Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی کے تین بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں،
    ١_اللہ سبحان وتعالی کی رضا
    ٢_سنت ابراہیمی کے مقدس فریضے کی ادائیگی
    ٣_غریب و نادار طبقہ کو تین دن مسلسل گوشت کی فراہمی شامل ہے
    اس عظیم خوشی کے موقع پر سیکولر طبقہ مختلف رائے رکھتا ہے ، اِن کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانی کرنے کے بجائے انہی پیسوں کو کسی اور فلاحی کام میں لگایا جائے ، اس سے لاکھوں جانوروں کی زندگیاں بچ جائیں گی اور فلاحی کام بھی ہوسکیں گی،
    معزز قارئین! انہی لبرل و سیکولر طبقے کو کیا واقعی جانوروں سے ہمدردی ہے ، یا نشانہ دراصل اسلامی ضابطہ حیات ہے؟
    اس سوال کا مختصراً جواب یہ ہے کہ، انہی لبرل و سیکولر مافیاز کو "سپین؛ میں جانوروں کے حقوق پر کبھی بولتے نہیں پایا گیا ، جہاں ہر سال چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیلوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ، بے زبان جانوروں کو اذیت ناک موت دے کر کہتے ہیں یہ تو بس ایک کھیل ہے.
    انہی لبرل مافیاز کے زبانوں پر اسوقت تو آبلے پڑ جاتے ہیں جب نیپال میں ہر پانچ سال بعد ہندؤں! کی جانب سے لاکھوں جانوروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، وجہ اپنے دیوی ماتا کو راضی کرنے کے لئے.
    معزز قارئین! جب ڈنمارک میں ہر سال سینکڑوں افراد ہزاروں ڈولفنز کو قتل کر دیتے، حتیٰ کہ سمندر کا رنگ سرخ پڑ جاتا ہے لیکن نہیں یہ بھی ایک کھیل ہی ہے اور ایک تہوار ہے ، لبرل مافیاز کا اس پر خاموشی کوئی اچنبھے کی بات نہیں.
    جب یہودیوں! کی جانب سے ہرسال ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پر مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے تو وہاں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، ہاں کسی کو اعتراض ہے بھی سہی تو اسلامی اقداروں پر ہے .
    معزز قارئین! اگر اب بھی کسی کو جانوروں کی قربانی پر اعتراض ہے تو اسے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

    @AbdullahMazari12

  • اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    *ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے*
    *نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر*

    امت مسلمہ میں اتحاد دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔
    ہمیں قومیت و فرقہ ورانہ کشیدگی سے بالاتر ہو کر ملت اسلامیہ کے لیے سوچنا چاہیے، ہمیں امت میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ظلم و بربریت کے خاتمے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ مظلوم و مجبور کی حمایت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو کونے کونے میں پھیلانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

    *یہ اختلافات*
    بھی کوئی اختلافات ہیں، ان سب کو بالائے طاق رکھیں اور اللہ کا برکت والا نام لے کر اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے وقار کو بلند کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر قیمت پہ متحد ہونا چاہیے، اگر اس راہ حق پہ جان بھی قربان کرنی پڑے تو رائیگاں نہیں۔

    *اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*

    *”اللہ کی رسی (دین اسلام) کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقوں میں مت بٹو”* (العمران 103)

    کیا ہم فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں؟
    کیا ہم نے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑا؟
    کیا ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں؟

    *دین اسلام*
    اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اور کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی امانت ہے اللہ تعالیٰ اور حبیب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔۔۔۔
    اور ہم سب اس کے امین ہیں۔
    اس دین کی وجہ سے ہم ایک قوم ہیں اور فرد واحد کی طرح ہیں۔

    *حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *تم مومنوں کو آپس میں رحم کرنے، محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسا کہ بدن۔ جب بدن کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعضاء اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں اور بیماری اور بخار میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔* (بخاری مسلم عن نعمان بن بشیر (رض))

    دین اسلام کی وجہ سے اخوت کا رشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا ہے۔ اس رشتے کے مقابلے میں باپ بیٹے اور بہن بھائی جیسے سب رشتے کچے دھاگے کی مانند ہیں۔
    دو ارب مسلمان اور رشتہ اخوت۔ یہ ہے ملت اسلامیہ۔۔ حق و انصاف کی علمبردار۔۔۔۔
    مگر افسوس!!!!
    یہ مرکز دور کیوں؟
    یہ انتشار کیسا؟
    یہ جدائیاں کیوں؟
    یہ خرابیاں کیسی؟
    یہ سب ایک کیوں نہیں؟
    یہ مصنوعی دیواریں کیسی؟

    ملت کا ہر فرد اور اسلام کا ہر فرزند اس کا جواب دے ان کو کون منہدم کرے گا؟
    ان مصنوعی فاصلوں کو کون ختم کرے گا؟

    *ہے کوئی جمال الدین افغانی؟*
    *ہے کوئی صلاح الدین ایوبی؟*
    *ہے کوئی محمد بن قاسم؟*
    *ہے کوئی طارق بن زیاد؟*
    *ہے کوئی محمود غزنوی؟*
    *ہے کوئی شہاب الدین غوری؟*

    سامنے آؤ!!!!
    ملت تمہیں پکار رہی ہے۔۔

    *اے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں!!!*

    ہمارا مرکز استنبول، قاہرہ، دمشق، ڈنمارک، واشنگٹن، شنگھائی، لندن،پیرس، جکارتہ، راولپنڈی، کابل یا دہلی نہیں۔۔۔۔۔
    مکہ معظمہ کو مرکز مانو!!
    کعبہ کو مرکز تسلیم کرو۔۔
    جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکز بنایا ہے۔

    اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ
    تعمیرِ خلافت پیدا کر

    کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے
    اب ایک جماعت پیدا کر

    کر تو بھی ترقی دنیا میں
    اسبابِ تجارت پیدا کر

    قارون کی دولت ٹھکرا دے
    عثمان کی دولت پیدا کر

    اسلام کا دم بھرتا ہے
    کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے

    یا تو اسلام کا نام نہ لے
    یا شوقِ شہادت پیدا کر

    *آؤ*
    عالم اسلام کو ایک کرو۔ اسلام کی شمع کو روشن کرو۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرو۔ انسانوں کے لئے ایسا معاشرہ قائم کرو جو ظلم و زیادتی سے پاک ہو، جہاں انصاف کا بول بالا ہو!!!۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کا پیغام گونجے۔۔
    جہاں وہ نظام رائج ہو جو اسلام کا بنیادی نظام ہے۔۔

    *اے مسلمان!!!!!!*
    اے قیصر و کسریٰ کی بلندوں بالا سلطنتوں کو روندنے والے! تو نے مغرب کی وادیوں میں اذانیں دیں۔۔۔ روم کی جاہ و حشمت کو پارہ پارہ کیا۔۔۔ چین و فرانس کی سرحدوں کو چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے ہی قسطنطنیہ کا آہنی حصار توڑا۔۔۔۔۔۔
    ہسپانیہ میں اسلامی دبدبے کا سکہ تو نے ہی بٹھایا۔۔۔۔۔۔

    آج تو بے بس ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟
    آج کفر غالب ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟

    کفر تو مغلوب ہوتا ہے۔۔۔

    *اے سوئے ہوئے مسلمان!!!*
    بیت المقدس پہ یہودی قابض ہیں۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔۔۔۔
    ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔۔۔۔
    کشمیر و فلسطین جل رہا ہے۔۔۔۔
    افغانستان اور فلسطین کے مہاجرین دھکے کھا رہے ہیں۔۔۔۔
    عالم اسلام جل رہا ہے۔۔۔۔۔
    اور تو خاموش ہے۔۔۔۔۔

    *مگر*
    تو اب بھی پہلے پاکستانی ہے۔۔۔۔۔ افغانی یا بنگالی ہے۔۔۔۔
    عربی یا عجمی ہے۔۔۔۔۔
    اور بعد میں مسلمان!!!!!
    ایک صدیوں سے سویا ہوا مسلمان!!!!

    کیا تو اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ، کھوئی ہوئی عظمت، کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    *تو آ* !!!
    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو،
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پھر سے زندہ کر۔۔۔۔۔۔
    پہلے مسلمان بن۔۔۔۔
    پھر افغانی، پاکستانی، عربی، عجمی، بنگالی بن۔۔۔۔۔۔

    سب اختلافات کو ختم کر کے ایک مرکز پر متحد ہوجاؤ، یہ کفار آپ کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔۔۔
    آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کے لیے متحد ہوجاؤ اور پوری دنیا پہ چھا جاؤ۔۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔

    *اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر*
    *خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی*
    *ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار*
    *قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری*
    @ibn_e_Adam424

  • پاکستان کی جیو گرافیائی اہمیت  تحریر: محمد جاوید

    پاکستان کی جیو گرافیائی اہمیت تحریر: محمد جاوید

    پاکستان جغرافیائی طور پر بہت اہم جگہ پر واقع ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہ کہہ سکتے کہ پاکستان کی لوکشن کے حوالے سے قدرت بڑی مہربان ہوئی ہے تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا۔ آج کے کالم میں اس اہمیت پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا یقین ہے آپکو پسند آئے گا۔
    اگرہم ماضی اور حال کے حالات واقعات اور تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہ ہمیشہ سے سیاسی ، معاشی اور اسٹریٹجک لوکشن کی وجہ دنیا کے لئے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پاکستان جیس خطے میں موجود ہے وہ گذشتہ 20 سالوں سے بڑی طاقتوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اس میں تین بڑی طاقتیں برطانیہ، سویت یونین اور امریکہ کی مداخلت دیکھنے میں آئی۔ اور جب بھی کسی بيرونی طاقت نے اس خطے پہ قدم رکھا پاکستان کا کردار نمایا رہا اس کے پیچھے وجہ پاکستان کی جیوگرافیکل لوکیشن رہی ہے ۔
    سرد جنگ کے دوران اس کی اہمیت مزيد بڑھ گئی تھی اور جب سویت یونین نے افغانستان پہ قابض ہونے کی کوشش کی تب پاکستان امریکہ کا حلیف بن گیا اور پھر سرد جنگ کے بعد اس کی اہمیت خاص طور پر نائن الیون کے واقعات کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔
    پاکستان کی جیو پولیٹیکل امپورٹنس کو سمجھنے کے لے ان باتوں کا جایزہ لینا بہت ضروری ہے

    1. پاکستان سینٹرل اشیا اور جنوبی اشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے
    ایشیا اور جنوبی مغربی ایشیاء۔ ایران اور افغانستان توانائی کے وافر مقدار موجود ہیں جبکہ دوسری طرف ہندوستان، چین اور مشرقی اشیا کے ممالک میں توانائی کی بہت کمی ہے۔ اسلے ان تمام ممالک کو پاکستان راستہ فراہم کر سکتا ہے تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضرورت کو پوری کر سکے ۔
    چین نے قراقرم کے راستے بحر ہند اور بحیرہ عرب کا راستہ تلاش کیا۔
    چین کے جنوبی صوبے سے اس کی اپنی بندرگاہ سنکیانگ سے 4500 کلومیٹر دور ہے لیکن گوادر 2500 کلومیٹر دور ہے۔
    گوادر دنیا کا سب سے گہرا بندرگاه ہے گہرا ہونے سے یہ فایدہ ہے کہ بڑی جہاز آسانی سے بندر گاہ اسكتی ہے

    2۔ ایران مشرق میں اپنی گیس اور تیل برآمد کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے
    قطر پاکستان اور ترکمنستان پائپ لائن منصوبوں نے اس پوزیشن کو اجاگر کیا۔ اگر IPI کو کامیابی ملی تو پاکستان کو سالانہ 400 ملین ڈالر ملیں گے۔
    3. پاکستان عظیم طاقتوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کے پڑوسی ممالک میں ایک عالمی طاقت روس اور دوسری طرف ابھرتی ہوئی طاقت چین موجود ہے۔ پاکستان کا کسی بھی عالمی طاقتوں سے کوئی بھی اتحاد اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔
    4. سیکورٹی اور ٹریڈ خطے میں امریکہ کے دو اہم مفادات ہیں جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کر چکا ہے
    5. وسطی ایشیا نیو گریٹ گیم کا مرکز بن چکا ہے ۔وسطی ایشیا میں وسائل کے لئے مغربی جدوجہد۔ تیل اور توانائی کے لئے ہمیشہ رہی ہے ۔
    یو ایس ایس آر کے زوال کے بعد ، نئی جدوجہد شروع ہوئی جو تیل کی سیاست سے ہی ظاہر ہوتی ہے۔
    پاکستان تیل سے مالا مال مشرق وسطی کے ممالک کے بہت قریب واقع ہے۔ یہ پٹی
    ایران سے شروع ہوتے ہوۓ سعودی عرب تک اور پھر اس سے آگےتیل والے ممالک تک رسائی ممکن بنا دیتی ہے
    6. اگر ہم مسلم ممالک کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ، پاکستان اسلامی ممالک کے درمیان میں موجود ہے۔ مغرب کی طرف ایران اور سے آگے تمام مسلم ممالک جاکرافریقہ تک پھیلے ہوے ہیں ۔
    اور مشرق کی طرف بنگلادیش اور ساؤتھ ایسٹ اشیا کے تمام مسلم ممالک موجود ہے۔
    پاکستان جنوبی ایشیاء ، مغربی ایشیاء اور وسطی ایشیا کا سنگم ہے۔ پس پاکستان توانائی کے لامحدود وسائل والے ممالک اور توانائی کے محدود وسائل والے ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
    اس وقت دنیا کو 2 بڑی مسائل کا سامنا ہے ایک توانائی کا بہران اور دوسرا دہشت گردی تو ان دونوں مسائل کو حل کرنے میں پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے۔
    پاکستان کی جیوگرافیائی اہمیت نہ صرف پاکستان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے بلکہ پوری دنیا کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہے اور دنیا کی ضرورت بھی ہے۔
    اب اس وجہ سے پاکستان کے سامنے ہمیشہ چلنجز کا سامنا رہا ہے اور آگے بھی چیلنجز آتے رہینگے آپ یہ پاکستان کی لیڈرشپ پہ منحصر ہے کہ کیسے اس سے فائیدہ اٹھاتی ہیں۔

    @I_MJawed

  • Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


     

    https://login.baaghitv.com/mujsa-habib-darkhty-lagye-pakistan-bachao/

  • عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان   تحریر : فجر علی

    عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان تحریر : فجر علی

    کہتے ہیں ہر عروج کو زوال ہے ۔پر میرے خیال سے نہیں جنہیں اللہ چن لیتا ہے انہیں صرف عروج ہی عروج حاصل ہے ۔ان کی زندگی میں زوال کا ز تک نہیں آتا ۔وہ اس لئے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔حاکمیت،محبت،دانشمندی،صادقت نرم دل شجاعت حوصلہ ثابت قدم، نڈر،دلیر ایمان کی طاقت خود پر یقین انا پرست مددگار خدمت خلق ۔حسن اخلاق خوبصورتی شہرت تعلیم محبت کرنے والے چاہنے والے لوگ یہ سب خصوصیات کا حامل ایک شخص کیسے ہو سکتا ہے؟
    بیٹا تھا تو ماں سے محبت کی انتہا کردی۔۔
    طالب علم تھا تو اپنے استاد کا پیارا قابل لائق جب اپنی تخلیقی قابلیت پر یقین ہوا تو ملک کا نام روشن کیا کہ اس کے بعد ایسی ہمت کوئی نہ کرسکا ۔اللہ کسی ایک ہی انسان کو اتنی خوبیاں کیسے نواز سکتا ہے
    ۔وہ اپنے حسن سے بہت سے لوگوں کو گرویدہ کرچکا ہے ۔اس کے حسن سے جوان کیا بوڑھی کیا ہر عمر کی خاتون متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔
    حسن یوسف سنا تھا لیکن اللہ نے حسن یوسف کی ایک تجلی ہمیں عمران خان کے روپ میں عطا کی ۔
    یہ شخص ایک جادو گر ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو انسان سنتے سنتے تھکتا نہیں ۔اس کا بات کرتے شرمانا نظریں جھکا کر بات سننا ۔کیا اتنے اخلاق والا انسان کوئی ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ۔
    وہ اس قدر ہمددر انسان پایا ہے کہ اپنی ماں کو کینسر جیسے مہلک مرض میں کھونے کے بعد اس نے اپنی ماں کے نام کا ہسپتال بنا دیا ۔محبت کی ایسی مثال آج تک انگریزوں میں یا مغل بادشاہ کی دیکھی ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر تاج محل بنوایا ۔لیکن یہاں محبت کی ایک لازوال داستان رقم کی تو ایک ایسے نواجون نے جس کی ساری زندگی بے مروت عیاش پسند لوگوں میں گزری جس نے دنیا کی سب رنگینیاں دیکھیں ۔جس نے اپنے حسن اور سحر سے لوگوں کو دیوانہ بنایا ۔

    ماں کی محبت اس کے دل سے کبھی ختم نہ ہوئی اسی لیے اس نے اپنے ملک پاکستان میں کینسر ہسپتال بنائے اور اپنی تمام تو جمع پونجی اس کی تعمیر و ترقی پر لگا دی ۔تاکہ دوسرے بچوں کی ماوں کی زندگی بچ سکے ۔اتنا ہمدرد انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔

    وہ شوہر بنا تو اپنی بیوی کا محبوب ۔
    اللہ کو شاید اس سے مزیدکوئی کام لینا تھا اسی لیے اس کی شادی ایک غیر مسلمان خاتون سے ہوئی جس نے اسکی خاطر خود کو بدلا اپنا مذہب بدلا لیکن معاشرے کے ایسے لوگ جو دوسروں کو کافر اور مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ تھماتے تھے وہ ان کی جدائی اور پاکستان سے نکلنے کا باعث بنا یوں ایک خوبصورت محبت کرنے والے میاں بیوی الگ ہوگئے ۔یہ وقت اس کڑیل جوان کے لیے شاید بہت سخت امتحان والا تھا جہاں اپنی محبوب بیوی سے ہمیشہ کہ واسطے علیحدگی اختیار کرنا پڑی ۔۔

    اپنے خوبصورت معصوم بچوں کی جدائی برداشت کرنا کسی کے لیے آسان کام نہیں ۔۔اس نے اپنی زندگی میں جس چیز کا ارادہ کیا اسے اللہ کی مدد اور اس کے حکم سے حاصل کرلیا ۔۔ میں نے اسےاپنے ارادوں میں مربوت پایا ۔۔پاکستان کے لیے ورلڈ کپ حاصل کیا پھر کینسر ہسپتال بنایا اور یہاں غربا کا مفت علاج کا ذمہ اٹھایا ۔
    اس ہسپتال کا عملا انتہائی حسن اخلاق والا وہ نہیں دیکھتے کہ یہ مریض پیسے والا ہے تو اس سے ادب سے پیش آنا ہے یا یہ غریب ہے تو اس کے ساتھ سخت رویہ رکھنا ہے ۔ایسے اصول وضوابط لاگو کئے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے ۔۔
    اس مرد مجاہد نے نہ صرف اپنے غریب لوگوں کی صحت کا خیال کیا بلکہ اپنے ملک کے بچوں کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی بنائی جو دنیا کی یونیورسٹیز میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔اس شخص سے نفرت کرنا بھی چاہیں تو نہیں ہوتی ۔۔کیونکہ میرے سامنے اس کی زندگی کے تمام واقعات موجود ہیں ۔
    میرا بچپن اس بےباک نڈر سپاہی کو دیکھتے گزرا ۔لوگوں کی زبانوں سے اس کے لیے محبت و عزت کے الفاظ سنے اخبارات اور میگزین اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے تھے ۔اور آج بھی یہ شخص ہر اخبار اور میگزین کی ہر خبر میں موجود ہے ۔۔
    اس کا ماضی اور حال ایک سا ہے ۔وہ اپنے ملک پاکستان کی خستہ حالت پر رنجیدہ رہتا اور اپنے ملک کی بگڑی صورت کو ٹھیک کرنے کا جب اس نے ارداہ کیا تو اللہ کی مرضی سے اس کے انتخاب کرنے پر وہ اس اسلامی دولت پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ۔۔اس کی زندگی کے تمام ادوار میں مجھے اس سے نفرت نہیں ہوسکی ۔دل چاہے بھی تو اسے برا کہنے کو دل نہیں مانتا ۔دل اس کی بات پر یقین کئے چلے جاتا ہے ۔۔
    کیونکہ یہ وہ شخص ہے جسے میرے اللہ نے تحفہ کے طور پر ہم نازل کیا ۔اس کی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ وہ تمام تر دشمنوں خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر تن تنہا لڑ رہا اور تھکتا نہیں ساتھ ہمیں بھی تلقین کرتا کہ ہارنہیں ماننا مشکل سے مشکل وقت میں اسکا ڈٹ کے مقابلہ کرنا ۔جھکنا نہیں کسی کے سامنے ۔
    اور اللہ اس مہربان عمران احمد خان نیازی میرے کپتان کو ہمشیہ سرسبز شاداب و وادیوں کی طرح سلامت رکھے ۔آمین

    @FA_aLLi_

  • اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے  تحریر : آصف شاہ خان

    اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے تحریر : آصف شاہ خان

    *اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے ؟*

    یہ کالم میری زاتی رائے اور بحثیت شریعہ کے طالب علم زاتی تجربے پر مبنی ہے۔ آپ کا متفق ہونا یا اس سے اختلاف رکھنا دونوں میرے لیے قابل قدر ہیں۔ آپ کا متفق ہونے سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ کا اختلاف رکھنا میرے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم آخری امت کی ہدایت کے لیے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتخاب کرکے بھیجا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو تبلیغ دینا شروع کی تو پہلے کم لوگ تھے جو ان کے قریب تھے ایمان لائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ لوگ بھی شامل ایمان ہونے لگے جو دور دراز علاقوں سے تھے۔ ان ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رحمت العالمین تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میری امت کو اللہ کے احکام کرنے میں آسانی ہو تو اس غرض سے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے احکام کو عملی شکل میں لایا گیا۔ وہ اصحابہ اجمعین جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر ہوتے تھے وہ بہت کم تھے اور اس کے بجائے وہ اصحابہ اجمعین زیادہ تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ان اصحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک حکم کے مختلف طریقوں سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتدریج نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اصحابہ، اصحابہ اجمعین سے تابعین، تابعین سے تب تابعین اور پھر اس طرح ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ہمیں وہی اسلام پہنچ گیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کسی صحابی نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا ہوگا۔ اور اس صحابی رسول سے ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اور اس طرح میری قریب رہنے والی فیملی کو شاید کسی اور صحابی سے بتدریج پہنچ گیا ہو ۔ اب اگر ہم دونوں کے پاس دلائل موجود ہو تو پھر ہم لڑ کیوں رہے ہیں؟ کیوں ہم امت مسلمہ کو توڑنے کا سبب بن رہے ہیں؟ کیوں ہم آندھی تقلید میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے خون کے پیاسے بن رہے ہیں؟ میرا قاری سوچ رہا ہوگا کہ پھر تو سارے فرقے ٹھیک ہیں، اس کے لیے میں یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاں سب ٹھیک ہے اس حد تک جب تک ان کے پاس قرآن اور حدیث سے دلیل ہو۔ کیوں کہ دین اسلام کے کوئی بھی فعل کے تولنے کے لیے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔ اگر کوئی فعل اس ترازو پر تولے ٹھیک ہو تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں ہو جو دوسرے گروہ کا ہو آپ بیشک اس سے اختلاف رکھے لیکن خدارا اپنے ان لوگوں کے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ان کے آندھی تقلید میں اس وطن عزیز کا اور دین اسلام کا امن خراب نہ کریں۔ ہمارا اصل مسلہ علم کی کمی ہے اور ان لوگوں کی آندھی تقلید ہے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ میں شریعہ کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ ایک زمانہ تھا میں نے فقہ وغیرہ نہیں پڑھا تھا، میں سوچتا کہ میرا عقیدہ ٹھیک ہے باقی سب غلط راستے پر ہیں۔ لیکن جب تھوڑا بہت پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ سارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔ ان سب کے پاس ہر حکم کیلئے دلیل ہوتی ہے۔ بغیر دلیل کے حکم لاگو نہیں کرتے ہیں۔ ہاں بعض جگہ انسان غلطی کرسکتی ہے لیکن زیادہ اختلاف کے مسائل میں سب کے پاس دلیل موجود ہے۔ میں جو دوسروں کو کافر سمجھتا تھا یہ دراصل میرا جہالت تھا۔
    اس اختلاف امت کے مسلے سے جو مسائل جنم لیتے ہیں ان کے لیے جلد از جلد حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ان مسائل سے آے روز کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے کچھ اندھے مقلدین اس حد تک جاتے ہیں کہ دوسرے کی زندگی تک لے لیتے ہیں۔ اس سے دشمنیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ملک و دین دونوں کا پر امن ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
    اس کے حل کیلئے میری زاتی رائے یا یوں سمجھئے کہ تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت ان علماء کو اکٹھا کرکے جن کے پاس علم ہو اور معتدل ہو اور وہ مختلف پلیٹ فارم سے عوام کو سمجھائے کہ ہم جو طریقہ اپنا رہے ہیں کسی خاص حکم میں بحثیت فلاں مکتبہ فکر تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے لیکن یہ دوسرا مکتبہ فکر جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کے پاس یہ دلیل ہے لہذا آپ لوگ وہی کرلے جس کی دلیل آپ لوگوں کو اچھی لگے۔ لیکن آپس میں جھگڑے کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ اس دین کی تعلیمات ہیں جس کے لیے تم آپس میں لڑ رہے ہو کہ آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑیں۔ اور علماء بھی کوشش کرے کہ سارے دلائل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارے لئے دین کے مسائل کیلئے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔
    اللّٰہ ہمیں ان اختلافی مسائل سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے نجات دلادے اور اللّٰہ پاکستان کو دین اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
    (آمین)
    _________________________
    twitter.com/@IbnePakistan1

  • کشمیر کا سلطان عمران خان  تحریر فرزانہ شریف

    کشمیر کا سلطان عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے تحریک انصاف آزاد کشمیرکا الیکشن جیت چکی ہے سب محب وطن کو مبارکباد دیتی ہوں ۔۔ تمام حلقوں کے مکمل نتائج آچکے ہیں جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 26 نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی ہے ،انتخابات کے اب تک کے تمام حلقوں کے نتائج آچکے ہیں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آٸی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم کانفرنس بھی ایک سیٹ جیت چکی ہے یوں پی ٹی آئی کی اب تک 27 سیٹیں ہوچکی ہیں آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے اور11 حلقوں سے انتخاب جیت چکی ہے جبکہ ن لیگ جو کہ آزادکشمیرکی سب سے بڑی جماعت کے طورپرجانی جاتی تھی اور جس طرح مریم صاحبہ نے صرف عمران عمران کا رٹا لگایا ہوا تھا اپنی تقریروں میں تو کشمیر نےبھی پھر خوب کھچڑی کھلائی ہے 🤣 اب آزاد کشمیر کی تیسرے درجے کی جماعت کے طور سامنے آئی ہے۔ ن لیگ نے 6 نشستیں جیتی ہیں۔مسلم کانفرنس ویسے بھی پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہےان کی ایک سیٹ ملا کرپی ٹی آئی ایوان میں 27 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور اگر جے کےیو ایم کی ایک نشست وہ بھی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو یوں پی ٹی آئی کی 28 سیٹیں ہوجائیں گی۔
    پی پی کے پاس اس وقت چوہدری یٰسین کی جیتی ہوئی دو نشستیں ہیں ، ان میں سے ایک چھوڑنی پڑے گی اس پر ضمنی الیکشن ہوگا
    یہ بھی ہوسکتا ہے اس ضمنی الیکشن میں ایک مزید سیٹ پی ٹی آئی کو مل جائے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی اپنی 26 اوردواتحادیوں‌کی ملا کر28 سیٹیں لے کراسمبلی میں سب سے طاقتورپارٹی کے طورپرحکومت کرے گی مظفرآباد میں حکومت سازی کے لیے ابھی سے مشاورت شروع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں کا انتخاب نتائج آنے کے بعد کیا جائے گا ان 8مخصوص نشت میں سے بھی پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کو ملا کر5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مزید جوڑ توڑ سے پی ٹی آئی کو6 نشستیں بھی حاصل ہوجائیں، یوں کشمیرکی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اب کشمیر پر راج ہوگا کپتان کا اور ترقی کے کام تیزی سے شروع ہوجائیں گے چور لٹیرے کشمیر پر بوجھ گندے سیاستدانوں سے آج کشمیر آزاد ہوگیا ہےشکرآ یااللہ الرحمٰن

    @Farzana99587398

  • ‏کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد  تحریر: ذوہا علی

    ‏کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد تحریر: ذوہا علی

    ‏دین اخلاقی قدروں کی سر بلندی کا نام ہے اور مادی ترقی اور مادی عروج بالکل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر جو کتابیں نازل کیں ان آسمانی کتب میں بھی خیر کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور شَر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ نبیوں اور مصلحین امت ہمیں بتایاہے کہ اچھی قوموں میں اخلاقی قدروں کی پزیرائی کی جاتی ہے اور بُرے اخلاق پر مذمت ہوتی ہے۔
    لیکن اگر یہ سب کچھ نہ بھی ہو تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانی فطرت کے اندر یہ چیز رکھی ہے کہ خَیر کیا ہے اور شَر کیا ہے۔ یہ بات انسان کو خود بھی پتہ ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے۔ اگر ہم کسی انسان کو اذّیت پہنچائیں، کسی کمزور کا حق غضب کریں، کسی کے حقوق پامال کریں تو ہمارا دل و دماغ ہمیں خود بتاتا ہے کہ یہ کام غلط ہے۔ ہمارا ضمیر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے۔
    حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری بُرائی تمہیں پریشان کر دے تو جان لو کہ تم مومن ہو ”
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضمیر مردہ ہو جاتا ہے۔ پھر انسان گناہ کرنے کے باوجود بھی کچھ محسوس نہیں کرتا۔ اسے پتا نہیں چلتا کہ وہ اچھائی کے راستے پر ہے یا بُرائی کے۔ وہ کمزور لوگوں سے فریب کرنے کے باوجود اپنے ساتھیوں سے داد وصول کر رہا ہوتا ہے اور یوں وہ انسان اپنے مکر و فریب کو اپنی فنکاری تصوّر کرتا ہے اور یہ اس انسان کی بدترین کیفیت ہوتی ہے۔
    ایک انسان کا انسانِ کامل بننا اور انسانیت کے مرتبۂ کمال تک پہنچنا آ سان نہیں ہے اور شاید منٹ بھی نہیں ہے۔ لیکن انسانیت اور اخلاقیات کے معیار پر پورا اترنا بھی اوّلین شرط ہے۔ جیسے کسی پھول میں خوشبو نہ ہو تو اس پھول اور داغ میں کوئی فرق باقی نہیں بالکل اسی طرح جس مسلمان میں انسانیت اور حُسن اخلاق نہ ہو تو اسے مسلمان تو کیا انسان کہنا بھی جائز نہیں ہے۔
    انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کو اچھائی کی طرف راغب کرے۔ اگر سب افرادِ خانہ بیٹھ کر لوگوں کی برائیوں کا ذکر کریں گے تو دِلوں میں نفرتوں کے بیج لگ جائیں گے جو کبھی تن آور درخت بن کر زندگی کی رونقوں کو چھین لیں گے۔ اسی لیے انسان کو اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لےکر اپنے اچھے اخلاق و کردار کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اس سے ایک اچھا خاندان اور اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا۔ کیونکہ فرد سے خاندان بنتا ہے، خاندان سے معاشرہ بنتا ہے اور اچھے معاشرے اپنے دین اور اپنے ملک کی سربلندی کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتے ہیں۔
    دورِ حاضر میں انسان اپنے عزیز و اقارب سے غلط رویّے اور تلخ جملے استعمال کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمارا دین تو کیا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم حُسنِ اخلاق اور حُسنِ کردار کو اپنا شعارِ زندگی بنائیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو عدم برداشت کرنے کی بجائے معاف کر دیں اور ایک خوبصورت ماحول پیدا کریں تا کہ ہمارے قول و فعل سے ہم اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خوبصورت احکامات کی تعمیل کر کے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو یہ بات ثابت کر دیں کہ ہمارا دینِ اسلام واقعی ایک مکمل دین ہے جس میں زندگی گزارنے کے تمام تر طریقے موجود ہیں۔
    انسان مجبورِ محض ہے۔ اللّٰہ کی طاقت اور توفیق کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ اللّٰہ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے تا کہ اسکی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ اگر کوئی انسان اپنے نفس کا قیدی ہے ، اپنی آنا میں مگن ہے اور پھر بھی خود کو مسلمان تصوّر کرتا ہے تو ایسا انسان خود پر زیادتی کر رھا ہے۔ ایک مسلمان کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار سے غیر مسلموں کو متاثر کر کے دین کی طرف راغب کرے لیکن اگر یہی مسلمان اس کے برعکس کام کر رہا ہے اور اپنے نفس کی پیروی کر رہا ہے تو یہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ بیشک تمام مخلوق اللّٰہ تعالٰی کا کنبہ ہے اور وہی شخص اللّٰہ کا دوست ہو سکتا ہے جو اسکی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
    Name : Zoha Ali
    Twitter handle : @ZoHaAli_15

  • سندھ کا تعلیمی معیار   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سندھ کا تعلیمی معیار تحریر: ایمن زاھد حسین

    پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اور یہاں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو میں سمجھتاہوں تعلیم کو طبقاطی نظام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ امیر حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ھین اور جو غریب حکمران ہیں انکے بچے پرائوٹ ہائے فائے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رھے ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں تعلیمی نصاب الگ الگ ہیں اور ہر ایک صوبے میں ایک نظام تعلیم کا ہننا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے ہر لحاظ سے تباہ کیا جارہا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں اور یہاں اسکول انتظامیہ سے لیکر والدین تک اپنے بچوں کو نہ مادری زبان پر عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی قومی زبان پر پڑھنے بولنے لکھنے میں عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار 1999 سے پہلے بہترین تھا۔ جہاں بچہ یا طالب علم کی تربیت اپنے والدین،خاندان،معاشرے سے لیکر اسکول استاد تک کے سامنے ہوتی تھی اور داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد پرائوٹ اسکولوں کا آغاز ھوگیا۔ انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 2011 کے بعد سندھ میں میرٹ سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے تعلیم 15% بہتر ہوئی 2014 -2015 میں میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتے ہوئے جس سے سندھ میں تعلیم انقلاب پرباہ ہوا ۔پر افسوس کی بات یہ کہ سندھ حکومت کی طرف سے طرح طرح کے قوانین بننا پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ میں مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔پہلے تو اسکولوں کی خستہ حالت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بیجتے ۔دوسرا یہ کہ اسکولوں میں بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ جہاں بچے کم ہیں وہاں اساتذہ میسر نہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ۔ بہت سے ایسے گاؤں ہیں جو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ اس لیے میری سندھ حکومت سے عاجزانہ گذارش ہے کہ محکمہ تعلیم کا نظام بہتر بنانے کیلئے اوپر دیے گئے مسائل کو فوری حل کرکہ جئے بھٹو کی جگہ ” ہر گھر میں بچہ حاصل کریگا تعلیم کا نعرہ لگائیں کیونکہ تعلیم ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں،صرف نعرے سے کچھ نہیں ہوگا۔

    @ummeAeman

  • سیاسی بحث اور عمران خان  تحریر: محمد وقاص شریف

    سیاسی بحث اور عمران خان تحریر: محمد وقاص شریف

    جب سے عمران احمد خان نیازی کی حکومت آئی ہے اس وقت سے مسلسل لوگوں کے درمیان سیاسی بحث اور معیشت کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں
    آج کل آپ کسی گلی محلے یہ کسی بازار میں یا پھر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم حتی کہ کسی واٹس ایپ کے گروپ میں چلیں جائیں
    وہاں آپکو زیادہ تر لوگوں سیاسی بحث کرنے میں مصروف نظر آئیں گے
    ہر بندے کے منہ میں یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا
    حالانکہ غربت اور بے روزگاری گزشتہ ہر حکومت میں دیکھی گی ہے
    دوسری جانب عمران خان کی بات کی جائے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلے پاور فل وزیراعظم ثابت ہوا ہے جو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے
    اور سچ تو ہے کہ عمران خان کی اس حکومت میں پاکستان عالمی سطح بہت تیزی سے مضبوط ہورہا ہے
    اس دورے حکومت میں سیاسی بحث غلیظ گفتگو اور معیشت تباہ کی باتوں کے ساتھ وہی پھدک رہے ہیں جن کا اس دورے حکومت میں پھدو نہیں لگ رہا
    دس روپے والی چیز میں کوشش کرتا ہے پندرہ روپے منافع مل جائے
    ایک موچی سے لے کر فیکٹریوں تک ایمانداری کا نام نظر نہیں آرہا
    چھوٹے سے چھوٹا دوکان کسٹمر کو کوشش کرتا ہے دونو ہاتھوں سے لوٹ لوں
    سبزی والا صبح سویرے کوشش کرتا ہے کمزور سبزی پہلے بیچ لوں کوئی مرتا ہے تو مر جائے میری بکنی چاہیے
    کریانہ والا اول کے پیسے لے کر دوم چیز بیچھتا ہے
    اگر اسی بات پر انتظامیہ ایکشن لے اور کریانہ والے کو جرمانہ کردے تودوکاندار کی جانب سے انتظامیہ کو گلیاں دی جاتی ہیں ہر چھوٹا بڑا کاروباری دوکاندار چاہے وہ لوہے کا کاروبار کرتا ہے یا مٹھائی والا سبز ی والا کپڑے والا جوتی والا کریانہ والا فروٹ والا منیاری والا اور دیگر تمام میں سے جس کا جتنا پھدو لگتا ہے وہ عوام کو لگا دیتا ہے اور کہتا ہے حکومت کرپٹ ہے
    اور باتیں سب معیشت تباہ ہوگئی کہتے ہیں
    عمران خان یا موجودہ حکومت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور چھانک لیں
    کیا آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں
    عمران خان کی قیادت میں دن رات پاکستان ترقی کر رہا ہے ، عمران خان ایک ایماندار لیڈر ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے @joinwsharif