Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


     

    https://login.baaghitv.com/mujsa-habib-darkhty-lagye-pakistan-bachao/

  • عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان   تحریر : فجر علی

    عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان تحریر : فجر علی

    کہتے ہیں ہر عروج کو زوال ہے ۔پر میرے خیال سے نہیں جنہیں اللہ چن لیتا ہے انہیں صرف عروج ہی عروج حاصل ہے ۔ان کی زندگی میں زوال کا ز تک نہیں آتا ۔وہ اس لئے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔حاکمیت،محبت،دانشمندی،صادقت نرم دل شجاعت حوصلہ ثابت قدم، نڈر،دلیر ایمان کی طاقت خود پر یقین انا پرست مددگار خدمت خلق ۔حسن اخلاق خوبصورتی شہرت تعلیم محبت کرنے والے چاہنے والے لوگ یہ سب خصوصیات کا حامل ایک شخص کیسے ہو سکتا ہے؟
    بیٹا تھا تو ماں سے محبت کی انتہا کردی۔۔
    طالب علم تھا تو اپنے استاد کا پیارا قابل لائق جب اپنی تخلیقی قابلیت پر یقین ہوا تو ملک کا نام روشن کیا کہ اس کے بعد ایسی ہمت کوئی نہ کرسکا ۔اللہ کسی ایک ہی انسان کو اتنی خوبیاں کیسے نواز سکتا ہے
    ۔وہ اپنے حسن سے بہت سے لوگوں کو گرویدہ کرچکا ہے ۔اس کے حسن سے جوان کیا بوڑھی کیا ہر عمر کی خاتون متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔
    حسن یوسف سنا تھا لیکن اللہ نے حسن یوسف کی ایک تجلی ہمیں عمران خان کے روپ میں عطا کی ۔
    یہ شخص ایک جادو گر ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو انسان سنتے سنتے تھکتا نہیں ۔اس کا بات کرتے شرمانا نظریں جھکا کر بات سننا ۔کیا اتنے اخلاق والا انسان کوئی ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ۔
    وہ اس قدر ہمددر انسان پایا ہے کہ اپنی ماں کو کینسر جیسے مہلک مرض میں کھونے کے بعد اس نے اپنی ماں کے نام کا ہسپتال بنا دیا ۔محبت کی ایسی مثال آج تک انگریزوں میں یا مغل بادشاہ کی دیکھی ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر تاج محل بنوایا ۔لیکن یہاں محبت کی ایک لازوال داستان رقم کی تو ایک ایسے نواجون نے جس کی ساری زندگی بے مروت عیاش پسند لوگوں میں گزری جس نے دنیا کی سب رنگینیاں دیکھیں ۔جس نے اپنے حسن اور سحر سے لوگوں کو دیوانہ بنایا ۔

    ماں کی محبت اس کے دل سے کبھی ختم نہ ہوئی اسی لیے اس نے اپنے ملک پاکستان میں کینسر ہسپتال بنائے اور اپنی تمام تو جمع پونجی اس کی تعمیر و ترقی پر لگا دی ۔تاکہ دوسرے بچوں کی ماوں کی زندگی بچ سکے ۔اتنا ہمدرد انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔

    وہ شوہر بنا تو اپنی بیوی کا محبوب ۔
    اللہ کو شاید اس سے مزیدکوئی کام لینا تھا اسی لیے اس کی شادی ایک غیر مسلمان خاتون سے ہوئی جس نے اسکی خاطر خود کو بدلا اپنا مذہب بدلا لیکن معاشرے کے ایسے لوگ جو دوسروں کو کافر اور مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ تھماتے تھے وہ ان کی جدائی اور پاکستان سے نکلنے کا باعث بنا یوں ایک خوبصورت محبت کرنے والے میاں بیوی الگ ہوگئے ۔یہ وقت اس کڑیل جوان کے لیے شاید بہت سخت امتحان والا تھا جہاں اپنی محبوب بیوی سے ہمیشہ کہ واسطے علیحدگی اختیار کرنا پڑی ۔۔

    اپنے خوبصورت معصوم بچوں کی جدائی برداشت کرنا کسی کے لیے آسان کام نہیں ۔۔اس نے اپنی زندگی میں جس چیز کا ارادہ کیا اسے اللہ کی مدد اور اس کے حکم سے حاصل کرلیا ۔۔ میں نے اسےاپنے ارادوں میں مربوت پایا ۔۔پاکستان کے لیے ورلڈ کپ حاصل کیا پھر کینسر ہسپتال بنایا اور یہاں غربا کا مفت علاج کا ذمہ اٹھایا ۔
    اس ہسپتال کا عملا انتہائی حسن اخلاق والا وہ نہیں دیکھتے کہ یہ مریض پیسے والا ہے تو اس سے ادب سے پیش آنا ہے یا یہ غریب ہے تو اس کے ساتھ سخت رویہ رکھنا ہے ۔ایسے اصول وضوابط لاگو کئے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے ۔۔
    اس مرد مجاہد نے نہ صرف اپنے غریب لوگوں کی صحت کا خیال کیا بلکہ اپنے ملک کے بچوں کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی بنائی جو دنیا کی یونیورسٹیز میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔اس شخص سے نفرت کرنا بھی چاہیں تو نہیں ہوتی ۔۔کیونکہ میرے سامنے اس کی زندگی کے تمام واقعات موجود ہیں ۔
    میرا بچپن اس بےباک نڈر سپاہی کو دیکھتے گزرا ۔لوگوں کی زبانوں سے اس کے لیے محبت و عزت کے الفاظ سنے اخبارات اور میگزین اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے تھے ۔اور آج بھی یہ شخص ہر اخبار اور میگزین کی ہر خبر میں موجود ہے ۔۔
    اس کا ماضی اور حال ایک سا ہے ۔وہ اپنے ملک پاکستان کی خستہ حالت پر رنجیدہ رہتا اور اپنے ملک کی بگڑی صورت کو ٹھیک کرنے کا جب اس نے ارداہ کیا تو اللہ کی مرضی سے اس کے انتخاب کرنے پر وہ اس اسلامی دولت پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ۔۔اس کی زندگی کے تمام ادوار میں مجھے اس سے نفرت نہیں ہوسکی ۔دل چاہے بھی تو اسے برا کہنے کو دل نہیں مانتا ۔دل اس کی بات پر یقین کئے چلے جاتا ہے ۔۔
    کیونکہ یہ وہ شخص ہے جسے میرے اللہ نے تحفہ کے طور پر ہم نازل کیا ۔اس کی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ وہ تمام تر دشمنوں خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر تن تنہا لڑ رہا اور تھکتا نہیں ساتھ ہمیں بھی تلقین کرتا کہ ہارنہیں ماننا مشکل سے مشکل وقت میں اسکا ڈٹ کے مقابلہ کرنا ۔جھکنا نہیں کسی کے سامنے ۔
    اور اللہ اس مہربان عمران احمد خان نیازی میرے کپتان کو ہمشیہ سرسبز شاداب و وادیوں کی طرح سلامت رکھے ۔آمین

    @FA_aLLi_

  • اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے  تحریر : آصف شاہ خان

    اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے تحریر : آصف شاہ خان

    *اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے ؟*

    یہ کالم میری زاتی رائے اور بحثیت شریعہ کے طالب علم زاتی تجربے پر مبنی ہے۔ آپ کا متفق ہونا یا اس سے اختلاف رکھنا دونوں میرے لیے قابل قدر ہیں۔ آپ کا متفق ہونے سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ کا اختلاف رکھنا میرے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم آخری امت کی ہدایت کے لیے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتخاب کرکے بھیجا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو تبلیغ دینا شروع کی تو پہلے کم لوگ تھے جو ان کے قریب تھے ایمان لائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ لوگ بھی شامل ایمان ہونے لگے جو دور دراز علاقوں سے تھے۔ ان ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رحمت العالمین تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میری امت کو اللہ کے احکام کرنے میں آسانی ہو تو اس غرض سے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے احکام کو عملی شکل میں لایا گیا۔ وہ اصحابہ اجمعین جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر ہوتے تھے وہ بہت کم تھے اور اس کے بجائے وہ اصحابہ اجمعین زیادہ تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ان اصحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک حکم کے مختلف طریقوں سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتدریج نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اصحابہ، اصحابہ اجمعین سے تابعین، تابعین سے تب تابعین اور پھر اس طرح ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ہمیں وہی اسلام پہنچ گیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کسی صحابی نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا ہوگا۔ اور اس صحابی رسول سے ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اور اس طرح میری قریب رہنے والی فیملی کو شاید کسی اور صحابی سے بتدریج پہنچ گیا ہو ۔ اب اگر ہم دونوں کے پاس دلائل موجود ہو تو پھر ہم لڑ کیوں رہے ہیں؟ کیوں ہم امت مسلمہ کو توڑنے کا سبب بن رہے ہیں؟ کیوں ہم آندھی تقلید میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے خون کے پیاسے بن رہے ہیں؟ میرا قاری سوچ رہا ہوگا کہ پھر تو سارے فرقے ٹھیک ہیں، اس کے لیے میں یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاں سب ٹھیک ہے اس حد تک جب تک ان کے پاس قرآن اور حدیث سے دلیل ہو۔ کیوں کہ دین اسلام کے کوئی بھی فعل کے تولنے کے لیے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔ اگر کوئی فعل اس ترازو پر تولے ٹھیک ہو تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں ہو جو دوسرے گروہ کا ہو آپ بیشک اس سے اختلاف رکھے لیکن خدارا اپنے ان لوگوں کے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ان کے آندھی تقلید میں اس وطن عزیز کا اور دین اسلام کا امن خراب نہ کریں۔ ہمارا اصل مسلہ علم کی کمی ہے اور ان لوگوں کی آندھی تقلید ہے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ میں شریعہ کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ ایک زمانہ تھا میں نے فقہ وغیرہ نہیں پڑھا تھا، میں سوچتا کہ میرا عقیدہ ٹھیک ہے باقی سب غلط راستے پر ہیں۔ لیکن جب تھوڑا بہت پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ سارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔ ان سب کے پاس ہر حکم کیلئے دلیل ہوتی ہے۔ بغیر دلیل کے حکم لاگو نہیں کرتے ہیں۔ ہاں بعض جگہ انسان غلطی کرسکتی ہے لیکن زیادہ اختلاف کے مسائل میں سب کے پاس دلیل موجود ہے۔ میں جو دوسروں کو کافر سمجھتا تھا یہ دراصل میرا جہالت تھا۔
    اس اختلاف امت کے مسلے سے جو مسائل جنم لیتے ہیں ان کے لیے جلد از جلد حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ان مسائل سے آے روز کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے کچھ اندھے مقلدین اس حد تک جاتے ہیں کہ دوسرے کی زندگی تک لے لیتے ہیں۔ اس سے دشمنیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ملک و دین دونوں کا پر امن ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
    اس کے حل کیلئے میری زاتی رائے یا یوں سمجھئے کہ تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت ان علماء کو اکٹھا کرکے جن کے پاس علم ہو اور معتدل ہو اور وہ مختلف پلیٹ فارم سے عوام کو سمجھائے کہ ہم جو طریقہ اپنا رہے ہیں کسی خاص حکم میں بحثیت فلاں مکتبہ فکر تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے لیکن یہ دوسرا مکتبہ فکر جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کے پاس یہ دلیل ہے لہذا آپ لوگ وہی کرلے جس کی دلیل آپ لوگوں کو اچھی لگے۔ لیکن آپس میں جھگڑے کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ اس دین کی تعلیمات ہیں جس کے لیے تم آپس میں لڑ رہے ہو کہ آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑیں۔ اور علماء بھی کوشش کرے کہ سارے دلائل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارے لئے دین کے مسائل کیلئے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔
    اللّٰہ ہمیں ان اختلافی مسائل سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے نجات دلادے اور اللّٰہ پاکستان کو دین اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
    (آمین)
    _________________________
    twitter.com/@IbnePakistan1

  • کشمیر کا سلطان عمران خان  تحریر فرزانہ شریف

    کشمیر کا سلطان عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے تحریک انصاف آزاد کشمیرکا الیکشن جیت چکی ہے سب محب وطن کو مبارکباد دیتی ہوں ۔۔ تمام حلقوں کے مکمل نتائج آچکے ہیں جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 26 نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی ہے ،انتخابات کے اب تک کے تمام حلقوں کے نتائج آچکے ہیں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آٸی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم کانفرنس بھی ایک سیٹ جیت چکی ہے یوں پی ٹی آئی کی اب تک 27 سیٹیں ہوچکی ہیں آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے اور11 حلقوں سے انتخاب جیت چکی ہے جبکہ ن لیگ جو کہ آزادکشمیرکی سب سے بڑی جماعت کے طورپرجانی جاتی تھی اور جس طرح مریم صاحبہ نے صرف عمران عمران کا رٹا لگایا ہوا تھا اپنی تقریروں میں تو کشمیر نےبھی پھر خوب کھچڑی کھلائی ہے 🤣 اب آزاد کشمیر کی تیسرے درجے کی جماعت کے طور سامنے آئی ہے۔ ن لیگ نے 6 نشستیں جیتی ہیں۔مسلم کانفرنس ویسے بھی پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہےان کی ایک سیٹ ملا کرپی ٹی آئی ایوان میں 27 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور اگر جے کےیو ایم کی ایک نشست وہ بھی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو یوں پی ٹی آئی کی 28 سیٹیں ہوجائیں گی۔
    پی پی کے پاس اس وقت چوہدری یٰسین کی جیتی ہوئی دو نشستیں ہیں ، ان میں سے ایک چھوڑنی پڑے گی اس پر ضمنی الیکشن ہوگا
    یہ بھی ہوسکتا ہے اس ضمنی الیکشن میں ایک مزید سیٹ پی ٹی آئی کو مل جائے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی اپنی 26 اوردواتحادیوں‌کی ملا کر28 سیٹیں لے کراسمبلی میں سب سے طاقتورپارٹی کے طورپرحکومت کرے گی مظفرآباد میں حکومت سازی کے لیے ابھی سے مشاورت شروع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں کا انتخاب نتائج آنے کے بعد کیا جائے گا ان 8مخصوص نشت میں سے بھی پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کو ملا کر5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مزید جوڑ توڑ سے پی ٹی آئی کو6 نشستیں بھی حاصل ہوجائیں، یوں کشمیرکی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اب کشمیر پر راج ہوگا کپتان کا اور ترقی کے کام تیزی سے شروع ہوجائیں گے چور لٹیرے کشمیر پر بوجھ گندے سیاستدانوں سے آج کشمیر آزاد ہوگیا ہےشکرآ یااللہ الرحمٰن

    @Farzana99587398

  • ‏کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد  تحریر: ذوہا علی

    ‏کج فکر و کج نگاہ و کج اخلاق و کج نہاد پھیلا رہا ہے عالم اخلاق میں فساد تحریر: ذوہا علی

    ‏دین اخلاقی قدروں کی سر بلندی کا نام ہے اور مادی ترقی اور مادی عروج بالکل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر جو کتابیں نازل کیں ان آسمانی کتب میں بھی خیر کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور شَر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ نبیوں اور مصلحین امت ہمیں بتایاہے کہ اچھی قوموں میں اخلاقی قدروں کی پزیرائی کی جاتی ہے اور بُرے اخلاق پر مذمت ہوتی ہے۔
    لیکن اگر یہ سب کچھ نہ بھی ہو تو اللّٰہ تعالٰی نے انسانی فطرت کے اندر یہ چیز رکھی ہے کہ خَیر کیا ہے اور شَر کیا ہے۔ یہ بات انسان کو خود بھی پتہ ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے۔ اگر ہم کسی انسان کو اذّیت پہنچائیں، کسی کمزور کا حق غضب کریں، کسی کے حقوق پامال کریں تو ہمارا دل و دماغ ہمیں خود بتاتا ہے کہ یہ کام غلط ہے۔ ہمارا ضمیر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے۔
    حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری بُرائی تمہیں پریشان کر دے تو جان لو کہ تم مومن ہو ”
    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضمیر مردہ ہو جاتا ہے۔ پھر انسان گناہ کرنے کے باوجود بھی کچھ محسوس نہیں کرتا۔ اسے پتا نہیں چلتا کہ وہ اچھائی کے راستے پر ہے یا بُرائی کے۔ وہ کمزور لوگوں سے فریب کرنے کے باوجود اپنے ساتھیوں سے داد وصول کر رہا ہوتا ہے اور یوں وہ انسان اپنے مکر و فریب کو اپنی فنکاری تصوّر کرتا ہے اور یہ اس انسان کی بدترین کیفیت ہوتی ہے۔
    ایک انسان کا انسانِ کامل بننا اور انسانیت کے مرتبۂ کمال تک پہنچنا آ سان نہیں ہے اور شاید منٹ بھی نہیں ہے۔ لیکن انسانیت اور اخلاقیات کے معیار پر پورا اترنا بھی اوّلین شرط ہے۔ جیسے کسی پھول میں خوشبو نہ ہو تو اس پھول اور داغ میں کوئی فرق باقی نہیں بالکل اسی طرح جس مسلمان میں انسانیت اور حُسن اخلاق نہ ہو تو اسے مسلمان تو کیا انسان کہنا بھی جائز نہیں ہے۔
    انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کو اچھائی کی طرف راغب کرے۔ اگر سب افرادِ خانہ بیٹھ کر لوگوں کی برائیوں کا ذکر کریں گے تو دِلوں میں نفرتوں کے بیج لگ جائیں گے جو کبھی تن آور درخت بن کر زندگی کی رونقوں کو چھین لیں گے۔ اسی لیے انسان کو اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لےکر اپنے اچھے اخلاق و کردار کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اس سے ایک اچھا خاندان اور اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا۔ کیونکہ فرد سے خاندان بنتا ہے، خاندان سے معاشرہ بنتا ہے اور اچھے معاشرے اپنے دین اور اپنے ملک کی سربلندی کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دے سکتے ہیں۔
    دورِ حاضر میں انسان اپنے عزیز و اقارب سے غلط رویّے اور تلخ جملے استعمال کرتا ہے۔ ہمارا دین اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمارا دین تو کیا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم حُسنِ اخلاق اور حُسنِ کردار کو اپنا شعارِ زندگی بنائیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو عدم برداشت کرنے کی بجائے معاف کر دیں اور ایک خوبصورت ماحول پیدا کریں تا کہ ہمارے قول و فعل سے ہم اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خوبصورت احکامات کی تعمیل کر کے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو یہ بات ثابت کر دیں کہ ہمارا دینِ اسلام واقعی ایک مکمل دین ہے جس میں زندگی گزارنے کے تمام تر طریقے موجود ہیں۔
    انسان مجبورِ محض ہے۔ اللّٰہ کی طاقت اور توفیق کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ اللّٰہ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے تا کہ اسکی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ اگر کوئی انسان اپنے نفس کا قیدی ہے ، اپنی آنا میں مگن ہے اور پھر بھی خود کو مسلمان تصوّر کرتا ہے تو ایسا انسان خود پر زیادتی کر رھا ہے۔ ایک مسلمان کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار سے غیر مسلموں کو متاثر کر کے دین کی طرف راغب کرے لیکن اگر یہی مسلمان اس کے برعکس کام کر رہا ہے اور اپنے نفس کی پیروی کر رہا ہے تو یہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ بیشک تمام مخلوق اللّٰہ تعالٰی کا کنبہ ہے اور وہی شخص اللّٰہ کا دوست ہو سکتا ہے جو اسکی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
    Name : Zoha Ali
    Twitter handle : @ZoHaAli_15

  • سندھ کا تعلیمی معیار   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سندھ کا تعلیمی معیار تحریر: ایمن زاھد حسین

    پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اور یہاں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو میں سمجھتاہوں تعلیم کو طبقاطی نظام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ امیر حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ھین اور جو غریب حکمران ہیں انکے بچے پرائوٹ ہائے فائے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رھے ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں تعلیمی نصاب الگ الگ ہیں اور ہر ایک صوبے میں ایک نظام تعلیم کا ہننا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے ہر لحاظ سے تباہ کیا جارہا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں اور یہاں اسکول انتظامیہ سے لیکر والدین تک اپنے بچوں کو نہ مادری زبان پر عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی قومی زبان پر پڑھنے بولنے لکھنے میں عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار 1999 سے پہلے بہترین تھا۔ جہاں بچہ یا طالب علم کی تربیت اپنے والدین،خاندان،معاشرے سے لیکر اسکول استاد تک کے سامنے ہوتی تھی اور داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد پرائوٹ اسکولوں کا آغاز ھوگیا۔ انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 2011 کے بعد سندھ میں میرٹ سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے تعلیم 15% بہتر ہوئی 2014 -2015 میں میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتے ہوئے جس سے سندھ میں تعلیم انقلاب پرباہ ہوا ۔پر افسوس کی بات یہ کہ سندھ حکومت کی طرف سے طرح طرح کے قوانین بننا پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ میں مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔پہلے تو اسکولوں کی خستہ حالت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بیجتے ۔دوسرا یہ کہ اسکولوں میں بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ جہاں بچے کم ہیں وہاں اساتذہ میسر نہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ۔ بہت سے ایسے گاؤں ہیں جو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ اس لیے میری سندھ حکومت سے عاجزانہ گذارش ہے کہ محکمہ تعلیم کا نظام بہتر بنانے کیلئے اوپر دیے گئے مسائل کو فوری حل کرکہ جئے بھٹو کی جگہ ” ہر گھر میں بچہ حاصل کریگا تعلیم کا نعرہ لگائیں کیونکہ تعلیم ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں،صرف نعرے سے کچھ نہیں ہوگا۔

    @ummeAeman

  • سیاسی بحث اور عمران خان  تحریر: محمد وقاص شریف

    سیاسی بحث اور عمران خان تحریر: محمد وقاص شریف

    جب سے عمران احمد خان نیازی کی حکومت آئی ہے اس وقت سے مسلسل لوگوں کے درمیان سیاسی بحث اور معیشت کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں
    آج کل آپ کسی گلی محلے یہ کسی بازار میں یا پھر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم حتی کہ کسی واٹس ایپ کے گروپ میں چلیں جائیں
    وہاں آپکو زیادہ تر لوگوں سیاسی بحث کرنے میں مصروف نظر آئیں گے
    ہر بندے کے منہ میں یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا
    حالانکہ غربت اور بے روزگاری گزشتہ ہر حکومت میں دیکھی گی ہے
    دوسری جانب عمران خان کی بات کی جائے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلے پاور فل وزیراعظم ثابت ہوا ہے جو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے
    اور سچ تو ہے کہ عمران خان کی اس حکومت میں پاکستان عالمی سطح بہت تیزی سے مضبوط ہورہا ہے
    اس دورے حکومت میں سیاسی بحث غلیظ گفتگو اور معیشت تباہ کی باتوں کے ساتھ وہی پھدک رہے ہیں جن کا اس دورے حکومت میں پھدو نہیں لگ رہا
    دس روپے والی چیز میں کوشش کرتا ہے پندرہ روپے منافع مل جائے
    ایک موچی سے لے کر فیکٹریوں تک ایمانداری کا نام نظر نہیں آرہا
    چھوٹے سے چھوٹا دوکان کسٹمر کو کوشش کرتا ہے دونو ہاتھوں سے لوٹ لوں
    سبزی والا صبح سویرے کوشش کرتا ہے کمزور سبزی پہلے بیچ لوں کوئی مرتا ہے تو مر جائے میری بکنی چاہیے
    کریانہ والا اول کے پیسے لے کر دوم چیز بیچھتا ہے
    اگر اسی بات پر انتظامیہ ایکشن لے اور کریانہ والے کو جرمانہ کردے تودوکاندار کی جانب سے انتظامیہ کو گلیاں دی جاتی ہیں ہر چھوٹا بڑا کاروباری دوکاندار چاہے وہ لوہے کا کاروبار کرتا ہے یا مٹھائی والا سبز ی والا کپڑے والا جوتی والا کریانہ والا فروٹ والا منیاری والا اور دیگر تمام میں سے جس کا جتنا پھدو لگتا ہے وہ عوام کو لگا دیتا ہے اور کہتا ہے حکومت کرپٹ ہے
    اور باتیں سب معیشت تباہ ہوگئی کہتے ہیں
    عمران خان یا موجودہ حکومت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور چھانک لیں
    کیا آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں
    عمران خان کی قیادت میں دن رات پاکستان ترقی کر رہا ہے ، عمران خان ایک ایماندار لیڈر ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے @joinwsharif

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

  • مانسہرہ کی تاریخ     تحریر:یاسرشہزادتنولی

    مانسہرہ کی تاریخ تحریر:یاسرشہزادتنولی

    پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر مانسہرہ ہے.

    مانسہرہ شہر خیبر پختونخواہ کے صوبے میں واقع ہے. یہ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے. یہ ایبٹ آباد شہر کے قریب ہے. یہ کارکرم ہائی وے پر سیاحوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے جس میں چین کی طرف جاتا ہے. یہ شمالی علاقوں اور مقامات جیسے کاغان وادی، ناران، شوگراں، جھیل سیف الملوک اور بابوسر اوپر کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ نقطہ بھی ہے. اس شہر میں سب سے بڑی تعداد میں تاریخی مقامات موجود ہیں. سرن اور دریاۓ کہنار ضلع کے معروف دریا ہیں. سرن پنجول کے اور پکھلی کے مغربی کنارے کے ذریعے بہتی ہے. دو نہریں سرن دریا، شریریاری میں داراللہ اور کم سرن واال میں سرانڈر کے اوپر سے اوپر لے جایا گیا ہے.

    مانسہرہ ضلع میں تین خوبصورت جھیل ہیں. یہ کاغان وادی میں پہاڑی کی حد کے برف پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھیرۓ ہوۓ ہیں. ان جھیلوں کے نام لولیسر، آنسوجھیل اور جھیل سیف الملوک ہیں. بابرس کی چوٹی کے قریب سابق دو جھوٹے ہیں جبکہ ناران کے قریب ایک مؤرخ ایک بہت اچھا ہے، جب اس کا پورا چاند ہے اور آپ ضلع کے سب سے شاندار علاقے میں ہیں. مانسہرہ، شوگراں-ناران اور ناران میں جب آپ جھیل سیف الاسلام پر واقع ہوں گے. یہ ایک شاندار منظر ہے، چاند کی روشنی جھیل پر گر جاتی ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر خوبصورت کرن کی عکاسی کرتا ہے۔
    مانسہرہ میں سب سے بڑی تاریخ ہے.
    اس کے جغرافیائی حدود گزشتہ مہینے میں مختلف راجس، مہاراجہ اور کنگز کے دور میں مسلسل تبدیل ہوگئے ہیں. شمالی فتح حاصل کرنے کے بعد الیگزینڈر نے عظیم. انڈیا اس کے بڑے حصے پر اپنا حکمران قائم کیا.
    مختلف مورخین کا خیال ہے کہ سال 327 بی سی میں الیگزینڈر نے اس علاقے کو ابسراس کو پونچ ریاست کے راجا کے حوالے کردیا. موری خاندان کے دوران مینہرا ٹیکسیلا کا حصہ رہے. دوسری صدی میں ایک صوفیانہ ہندو بادشاہ راجہ رسوالو، سیالکوٹ کے راجا سالبھن کے بیٹے، اس علاقے کو اپنے راستے میں لے آئے مقامی لوگ اس کے ہیرو اور آج بھی والدین کے طور پر غور کرتے ہیں، اپنے بچے کو موسم سرما کی راتوں میں راجہ رسوالو اور ان کی بیوی رانی کونکلان کی کہانیاں بیان کرتے ہیں. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندسی شاہی خاندانوں نے ایک بار پھر پاکھلی پر حکمرانی کی.
    ایک بار پھر 11 ویں صدی میں ہندو شاہی خاندان کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر کلشن (1063 سے 1089 ع) کی قیادت میں قبضہ کر لیا. 12 ویں صدی کے آخری سہ ماہی میں اسسٹنٹ خان، محمد غوری کا ایک جنرل، اس علاقے پر قبضہ کر لیا لیکن جلد ہی محمد غوری کی موت کے بعد کشمیر ایک بار پھر اسے قبضہ کر لیا. 1472 ء میں ڈاکٹر شہزادہ شاہد الدین کابل سے آئے اور یہاں اس کا اقتدار قائم کیا. انہوں نے ریاستی طور پر پاکی سارکر کی بنیاد رکھی اور گاؤں گلبغ کو اپنی دارالحکومت کا انتخاب کیا. 18 ویں صدی کے پہلے سہ ماہی میں، ترکوں کے لئے بدقسمتی ہوئی کیونکہ ان کی حکمرانی ان کی وحدت کے قیام اور پختونوں اور ان کے اتحادی قوتوں کی بڑھتی جارہی ہے. سب سے زیادہ اہم حملہ 1703 ء میں سید جلال بابا کے حکم میں سوات کا تھا، انہوں نے ترکوں کو نکال دیا اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا. 1849 میں. ڈی. اس علاقے میں برتانیہ کے براہ راست کنٹرول کے تحت آیا. 1901 ء میں جب NWFP صوبے قائم کیا گیا تو، ہزارہ پنجاب سے الگ ہوگئے اور سرحد سرحد کا حصہ بنا.
    مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کھوہ چپلی کباب اور پکوان مشہور ہیں۔
    آج مانسہرہ خوبصورت خوبصورتی کی ایک جگہ ہے. موسم سرما میں زیادہ موسم سرما میں سرد ہے اور موسم گرما میں خوشی سے گرم ہے. کاغان وادی جیسے شمالی حصے موسم گرما میں سرد ہے اور موسم سرما میں انتہائی سردی ہے اور اس کی بھاری برف گرنے کا امکان ہے. ضلع دو مختلف موسم ہے؛ موسم گرما کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے اور موسم سرما کا موسم ہے جو اکتوبر سے مارچ تک ہے. جون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت کا اندازہ تقریبا 35 ° C اور 21 ° C ہے.
    آگ لگادو آگ۔۔۔۔
    تحریر:(یاسرشہزادتنولی)

    بجلی کے بلوں کو آگ لگادو جلدی جلدی میں بھی آگ لگارہا ہوں یہ دیکھو۔کوئی ٹیکس نہ دے بلکل نہ دے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔آج سے 2 سال پہلے ایک شخص کی طرف سے عوام سے محبت کااظہار کچھ اسطرح سے کیا گیا تھا کہ بجلی اگر سستی نہ ہوئی تو پاکستانی قوم اپنے بل نہیں بھرے گی، اور نہ ہی ٹیکس ادا کرےگی۔ لوگ حق حلال کا پیسہ کمارہے ہیں۔کیوں یہ سب برداشت کریں؟ بل جلوادیے گئے اور آج وہی لوگ عواپ کو تلقین کررہے ہیں کہ اگر آپ لوگ ٹیکس ادا کرینگے تو اپنے ملک کےلیے، اور فائدہ سوچیں تو اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ تب ملک کی ترقی کہاں تھی جب صرف ایک دشمنی اور بغض کی وجہ سے اس عظیم ملک کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جارہی تھیں جس وطن کو اتنی تکلیفوں اتنی مصیبتوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیااور جہاں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، افواج پاکستان کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نعرہ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔اگر وہ نعرہ مثبت ہو تو ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نعرہ منفی ہو تو تنزلی اور پستی مقدر بنتی ہے۔ اگر عوام میں شعور بیدار ہوگا تو انقلاب آئے گا اور اس دور میں یہ انقلاب آنا بہت ضروری ہے۔ قوم کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور باشعور قوم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ مگر اس ملک میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے اتنا دبا دیا ہے کہ وہ گیس ، بجلی اور پانی کے بلوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی اور یہ فرسودہ زنگ لگا ہوا نظام نہیں بدلےگا تب تک کچھ صحیح نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ یوـ ٹرن لینے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں نہ کہ انکے لئے مزید پریشانی کا سبب بنیں۔
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • ‏سڑک کے حادثات  تحریر: تصوّر جٹ

    ‏سڑک کے حادثات تحریر: تصوّر جٹ

    پاکستان میں بڑھتے ہوئے حادثات پر قابو نہ پایا جا سکا۔ روزآنہ کوئی نہ کوئی حادثہ سننے کو ملتا ہے کبھی کسی ڈمپر والے نے کار کو ٹکر مار دی تو کبھی کار والے نے موٹر سائیکل والے کو اُرا دیا۔
    سرگودھا میں اج پھر ایک ڈمپر نے 21 سالہ نوجوان کو کچل ڈالا۔
    پولیس مکمل طور پر ناکام ہے ۔

    حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہماری خود کی لاپرواہی ہے۔

    1: موبائل فون کا استعمال
    آج کل کی ایک بڑی پریشانی ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال ہے۔ فون پر بات کرنے سے دماغ کے بڑے حصے پر قبضہ ہوتا ہے اور چھوٹا حصہ ڈرائیونگ کی مہارت کو سنبھالتا ہے۔ دماغ کی یہ تقسیم رد عمل کے وقت اور فیصلے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
    حالانکہ طریقہ کار یہ ہے
    کہ دورانِ ڈرائیونگ جب بھی آپ نے موبائل فون کا استعمال کرنا ہو تو گاڑی، موٹر سائیکل کو ایک سائیڈ پر کھڑا کر کے تسلی سے اپنے موبائل کا استعمال کرے۔
    اس طریقہ کو اپناتے ہوئے آپ خود اور دوسرے کو حادثات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    2 : تیز رفتار
    دوسری بڑی وجہ ہماری اوور سپیڈ ہے
    ہم اتنے جلدی میں ہوتے ہیں کہ ہم آگے پیچھے نہیں دیکھتے کہ کس کا نقصان ہو رہا یا کون ہم سے بچ رہا ہے ۔
    زیادہ تر مہلک حادثات تیز رفتار کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ یہ انسانوں کی قدرتی نفسی ہے۔ اگر موقع دیا جائے تو آدمی یقینی طور پر رفتار میں لامحدودیت کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جب ہم سڑک کو دوسرے صارفین کے ساتھ بانٹ رہے ہیں تو ہم ہمیشہ کسی نہ کسی گاڑی کے پیچھے ہی رہیں گے۔

    3: زیادہ روشنی/ تیز لائٹ
    اکثر رات کو دیکھا جاتا ہے کہ بڑی گاڑیوں والوں نے اپنی لائٹ کو ہائی رکھا ہوتا ہے جو کہ مخالف آنے والے کی آنکھوں میں پڑ رہی ہوتی ہے اور اسکی آنکھیں دندھلا جاتی ہے اور وہ حادثہ کا سبب بن جاتا ہے۔
    حالانکہ ہمیں چائیے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ڈرائیونگ کرے تا کہ خود اور دوسروں کو محفوظ رکھ سکے۔

    4: سگنل توڑنا
    ہماری قوم کی حادثات کی بڑی وجہ جلدی بھی ہے ہر بندہ افرا تفری کے عالم میں ہے
    ہم نے کبھی سگنل اور ٹریفک قوانین کا احترام نہیں کیا۔ ہم اکثر سگنل توڑ جاتے ہیں جب کہ ہم اس غلط کام میں دوسروں ترغیب دے رھے ہوتے ہیں۔

    5: والدین کی لاپروائی

    والدین کو 18 سال سے زائد عمر کے بچے کو گاڑی دینی چاہیئے اور گاڑی دینے سے پہلے ممکل طور پر یقین دہانی کر لینی چاہیے کہ اُنکا بچہ تربیت یافتہ ہو گیا ہے اور کیا وہ ٹریفک قوانین کو فالو کرے گا۔
    کیوں کہ آجکل کے والدین 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو گاڑی اور موٹر سائکل دے دیتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو ڈرائیونگ سیکھا کر ٹریفک قوانین سے آگاہ کرتے ہیں۔

    والدین اور حکومتِ وقت کو خصوصی تربیت کرنی چائیے۔
    حکومت وقت کو ایک ایسا ادارہ بنانا چائیے جو ہفتہ وار گاڑیوں اور ڈرائیورز کو چیک کرے۔

    آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ خدارہ ٹریفک قوانین کو سمجھے اُنکا احترام کرے۔
    احتیاط سے ڈرائیونگ کرے خود کا بھی خیال کرے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھے۔
    جزاک اللہ۔

    ‎@T_Jutt17