Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

  • مانسہرہ کی تاریخ     تحریر:یاسرشہزادتنولی

    مانسہرہ کی تاریخ تحریر:یاسرشہزادتنولی

    پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر مانسہرہ ہے.

    مانسہرہ شہر خیبر پختونخواہ کے صوبے میں واقع ہے. یہ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے. یہ ایبٹ آباد شہر کے قریب ہے. یہ کارکرم ہائی وے پر سیاحوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے جس میں چین کی طرف جاتا ہے. یہ شمالی علاقوں اور مقامات جیسے کاغان وادی، ناران، شوگراں، جھیل سیف الملوک اور بابوسر اوپر کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ نقطہ بھی ہے. اس شہر میں سب سے بڑی تعداد میں تاریخی مقامات موجود ہیں. سرن اور دریاۓ کہنار ضلع کے معروف دریا ہیں. سرن پنجول کے اور پکھلی کے مغربی کنارے کے ذریعے بہتی ہے. دو نہریں سرن دریا، شریریاری میں داراللہ اور کم سرن واال میں سرانڈر کے اوپر سے اوپر لے جایا گیا ہے.

    مانسہرہ ضلع میں تین خوبصورت جھیل ہیں. یہ کاغان وادی میں پہاڑی کی حد کے برف پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھیرۓ ہوۓ ہیں. ان جھیلوں کے نام لولیسر، آنسوجھیل اور جھیل سیف الملوک ہیں. بابرس کی چوٹی کے قریب سابق دو جھوٹے ہیں جبکہ ناران کے قریب ایک مؤرخ ایک بہت اچھا ہے، جب اس کا پورا چاند ہے اور آپ ضلع کے سب سے شاندار علاقے میں ہیں. مانسہرہ، شوگراں-ناران اور ناران میں جب آپ جھیل سیف الاسلام پر واقع ہوں گے. یہ ایک شاندار منظر ہے، چاند کی روشنی جھیل پر گر جاتی ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر خوبصورت کرن کی عکاسی کرتا ہے۔
    مانسہرہ میں سب سے بڑی تاریخ ہے.
    اس کے جغرافیائی حدود گزشتہ مہینے میں مختلف راجس، مہاراجہ اور کنگز کے دور میں مسلسل تبدیل ہوگئے ہیں. شمالی فتح حاصل کرنے کے بعد الیگزینڈر نے عظیم. انڈیا اس کے بڑے حصے پر اپنا حکمران قائم کیا.
    مختلف مورخین کا خیال ہے کہ سال 327 بی سی میں الیگزینڈر نے اس علاقے کو ابسراس کو پونچ ریاست کے راجا کے حوالے کردیا. موری خاندان کے دوران مینہرا ٹیکسیلا کا حصہ رہے. دوسری صدی میں ایک صوفیانہ ہندو بادشاہ راجہ رسوالو، سیالکوٹ کے راجا سالبھن کے بیٹے، اس علاقے کو اپنے راستے میں لے آئے مقامی لوگ اس کے ہیرو اور آج بھی والدین کے طور پر غور کرتے ہیں، اپنے بچے کو موسم سرما کی راتوں میں راجہ رسوالو اور ان کی بیوی رانی کونکلان کی کہانیاں بیان کرتے ہیں. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندسی شاہی خاندانوں نے ایک بار پھر پاکھلی پر حکمرانی کی.
    ایک بار پھر 11 ویں صدی میں ہندو شاہی خاندان کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر کلشن (1063 سے 1089 ع) کی قیادت میں قبضہ کر لیا. 12 ویں صدی کے آخری سہ ماہی میں اسسٹنٹ خان، محمد غوری کا ایک جنرل، اس علاقے پر قبضہ کر لیا لیکن جلد ہی محمد غوری کی موت کے بعد کشمیر ایک بار پھر اسے قبضہ کر لیا. 1472 ء میں ڈاکٹر شہزادہ شاہد الدین کابل سے آئے اور یہاں اس کا اقتدار قائم کیا. انہوں نے ریاستی طور پر پاکی سارکر کی بنیاد رکھی اور گاؤں گلبغ کو اپنی دارالحکومت کا انتخاب کیا. 18 ویں صدی کے پہلے سہ ماہی میں، ترکوں کے لئے بدقسمتی ہوئی کیونکہ ان کی حکمرانی ان کی وحدت کے قیام اور پختونوں اور ان کے اتحادی قوتوں کی بڑھتی جارہی ہے. سب سے زیادہ اہم حملہ 1703 ء میں سید جلال بابا کے حکم میں سوات کا تھا، انہوں نے ترکوں کو نکال دیا اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا. 1849 میں. ڈی. اس علاقے میں برتانیہ کے براہ راست کنٹرول کے تحت آیا. 1901 ء میں جب NWFP صوبے قائم کیا گیا تو، ہزارہ پنجاب سے الگ ہوگئے اور سرحد سرحد کا حصہ بنا.
    مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کھوہ چپلی کباب اور پکوان مشہور ہیں۔
    آج مانسہرہ خوبصورت خوبصورتی کی ایک جگہ ہے. موسم سرما میں زیادہ موسم سرما میں سرد ہے اور موسم گرما میں خوشی سے گرم ہے. کاغان وادی جیسے شمالی حصے موسم گرما میں سرد ہے اور موسم سرما میں انتہائی سردی ہے اور اس کی بھاری برف گرنے کا امکان ہے. ضلع دو مختلف موسم ہے؛ موسم گرما کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے اور موسم سرما کا موسم ہے جو اکتوبر سے مارچ تک ہے. جون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت کا اندازہ تقریبا 35 ° C اور 21 ° C ہے.
    آگ لگادو آگ۔۔۔۔
    تحریر:(یاسرشہزادتنولی)

    بجلی کے بلوں کو آگ لگادو جلدی جلدی میں بھی آگ لگارہا ہوں یہ دیکھو۔کوئی ٹیکس نہ دے بلکل نہ دے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔آج سے 2 سال پہلے ایک شخص کی طرف سے عوام سے محبت کااظہار کچھ اسطرح سے کیا گیا تھا کہ بجلی اگر سستی نہ ہوئی تو پاکستانی قوم اپنے بل نہیں بھرے گی، اور نہ ہی ٹیکس ادا کرےگی۔ لوگ حق حلال کا پیسہ کمارہے ہیں۔کیوں یہ سب برداشت کریں؟ بل جلوادیے گئے اور آج وہی لوگ عواپ کو تلقین کررہے ہیں کہ اگر آپ لوگ ٹیکس ادا کرینگے تو اپنے ملک کےلیے، اور فائدہ سوچیں تو اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ تب ملک کی ترقی کہاں تھی جب صرف ایک دشمنی اور بغض کی وجہ سے اس عظیم ملک کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جارہی تھیں جس وطن کو اتنی تکلیفوں اتنی مصیبتوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیااور جہاں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، افواج پاکستان کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نعرہ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔اگر وہ نعرہ مثبت ہو تو ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نعرہ منفی ہو تو تنزلی اور پستی مقدر بنتی ہے۔ اگر عوام میں شعور بیدار ہوگا تو انقلاب آئے گا اور اس دور میں یہ انقلاب آنا بہت ضروری ہے۔ قوم کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور باشعور قوم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ مگر اس ملک میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے اتنا دبا دیا ہے کہ وہ گیس ، بجلی اور پانی کے بلوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی اور یہ فرسودہ زنگ لگا ہوا نظام نہیں بدلےگا تب تک کچھ صحیح نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ یوـ ٹرن لینے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں نہ کہ انکے لئے مزید پریشانی کا سبب بنیں۔
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • ‏سڑک کے حادثات  تحریر: تصوّر جٹ

    ‏سڑک کے حادثات تحریر: تصوّر جٹ

    پاکستان میں بڑھتے ہوئے حادثات پر قابو نہ پایا جا سکا۔ روزآنہ کوئی نہ کوئی حادثہ سننے کو ملتا ہے کبھی کسی ڈمپر والے نے کار کو ٹکر مار دی تو کبھی کار والے نے موٹر سائیکل والے کو اُرا دیا۔
    سرگودھا میں اج پھر ایک ڈمپر نے 21 سالہ نوجوان کو کچل ڈالا۔
    پولیس مکمل طور پر ناکام ہے ۔

    حادثات کی سب سے بڑی وجہ ہماری خود کی لاپرواہی ہے۔

    1: موبائل فون کا استعمال
    آج کل کی ایک بڑی پریشانی ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال ہے۔ فون پر بات کرنے سے دماغ کے بڑے حصے پر قبضہ ہوتا ہے اور چھوٹا حصہ ڈرائیونگ کی مہارت کو سنبھالتا ہے۔ دماغ کی یہ تقسیم رد عمل کے وقت اور فیصلے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
    حالانکہ طریقہ کار یہ ہے
    کہ دورانِ ڈرائیونگ جب بھی آپ نے موبائل فون کا استعمال کرنا ہو تو گاڑی، موٹر سائیکل کو ایک سائیڈ پر کھڑا کر کے تسلی سے اپنے موبائل کا استعمال کرے۔
    اس طریقہ کو اپناتے ہوئے آپ خود اور دوسرے کو حادثات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    2 : تیز رفتار
    دوسری بڑی وجہ ہماری اوور سپیڈ ہے
    ہم اتنے جلدی میں ہوتے ہیں کہ ہم آگے پیچھے نہیں دیکھتے کہ کس کا نقصان ہو رہا یا کون ہم سے بچ رہا ہے ۔
    زیادہ تر مہلک حادثات تیز رفتار کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ یہ انسانوں کی قدرتی نفسی ہے۔ اگر موقع دیا جائے تو آدمی یقینی طور پر رفتار میں لامحدودیت کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جب ہم سڑک کو دوسرے صارفین کے ساتھ بانٹ رہے ہیں تو ہم ہمیشہ کسی نہ کسی گاڑی کے پیچھے ہی رہیں گے۔

    3: زیادہ روشنی/ تیز لائٹ
    اکثر رات کو دیکھا جاتا ہے کہ بڑی گاڑیوں والوں نے اپنی لائٹ کو ہائی رکھا ہوتا ہے جو کہ مخالف آنے والے کی آنکھوں میں پڑ رہی ہوتی ہے اور اسکی آنکھیں دندھلا جاتی ہے اور وہ حادثہ کا سبب بن جاتا ہے۔
    حالانکہ ہمیں چائیے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ڈرائیونگ کرے تا کہ خود اور دوسروں کو محفوظ رکھ سکے۔

    4: سگنل توڑنا
    ہماری قوم کی حادثات کی بڑی وجہ جلدی بھی ہے ہر بندہ افرا تفری کے عالم میں ہے
    ہم نے کبھی سگنل اور ٹریفک قوانین کا احترام نہیں کیا۔ ہم اکثر سگنل توڑ جاتے ہیں جب کہ ہم اس غلط کام میں دوسروں ترغیب دے رھے ہوتے ہیں۔

    5: والدین کی لاپروائی

    والدین کو 18 سال سے زائد عمر کے بچے کو گاڑی دینی چاہیئے اور گاڑی دینے سے پہلے ممکل طور پر یقین دہانی کر لینی چاہیے کہ اُنکا بچہ تربیت یافتہ ہو گیا ہے اور کیا وہ ٹریفک قوانین کو فالو کرے گا۔
    کیوں کہ آجکل کے والدین 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو گاڑی اور موٹر سائکل دے دیتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو ڈرائیونگ سیکھا کر ٹریفک قوانین سے آگاہ کرتے ہیں۔

    والدین اور حکومتِ وقت کو خصوصی تربیت کرنی چائیے۔
    حکومت وقت کو ایک ایسا ادارہ بنانا چائیے جو ہفتہ وار گاڑیوں اور ڈرائیورز کو چیک کرے۔

    آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ خدارہ ٹریفک قوانین کو سمجھے اُنکا احترام کرے۔
    احتیاط سے ڈرائیونگ کرے خود کا بھی خیال کرے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھے۔
    جزاک اللہ۔

    ‎@T_Jutt17

  • پاکستان کے مسائل کے حل میں کراچی کا کردار   تحریر: سید عمیر شیرازی

    پاکستان کے مسائل کے حل میں کراچی کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتے جا رہا ہے کیسے وقت گزر رہا ہے اندازہ لگانا بھی مشکل ہے سال مہنیوں اور مہینے ہفتے اور ہفتے گھنٹوں کی رفتار سے گزر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ مسائل بھی اسی تیزی سے بڑھ رہے ہیں،
    قیام پاکستان کے بعد سے اگر حالات و واقعات کو دیکھا جائے تو تیزی سے بڑھتی آبادی اور مشکلات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی جسے منی پاکستان کا خطاب حاصل ہے اسکی آبادی گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے ابھی تک کہ سروے کے مطابق اس وقت کراچی کی آبادی تقریبا 33 ملین کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے اور یہی کراچی پورے ملک کو %90 فیصد ریونیو بھی دے رہا ہے
    اگر چاروں صوبوں کو برابری کے حقوق اور فنڈز فراہم کیے جائیں تو ملک میں پیش نظر مسائل کا %80 فیصد حل ہونا کوئی مشکل کام نہیں۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس ملک کو سب سے پہلے اپنا گھر سمجھیں جب ہم ملک کو اپنا گھر سمجھ لیں گے تو احساس کا مادہ ہمارے اندر خود بخود پیدا ہوگا ایک تو پہلے سے بے روزگاری اور غربت ہے اوپر سے بڑھتی آبادی نے مشکلات پیدا کی ہوئی ہے۔۔
    پاکستان کی آبادی کا زیادہ تر حصہ کراچی میں مقیم ہے اور کراچی اس وقت لاوارث حالت میں ہے پہلے کراچی کو اسکی اصل حالت میں لانا ضروری ہے تبھی جا کر ملک بھی درپیش مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے کراچی میں نظام درہم برہم ہوا پڑا ہے کہی سیوریج کا پانی جمع ہے تو کہی کچرے کا ڈھیر اور موجودہ حالات میں سب سے بڑا مسئلہ پینے کا صاف پانی ہے جو کراچی کی عوام کو میسر نہیں،
    کراچی میں پانی کا بہت بڑا منصوبہ جو (کے فور) کے نام سے جانا جاتا تھا اس منصوبے کو 2005 میں جب سابقہ میئر سید مصطفیٰ کمال 28 ویں میئر کراچی منتخب ہوئے اس پروجیکٹ کو شروع کیا جو کہ اس پروجیکٹ کی تکمیل 2022 تک مکمل ہونی تھی بدقسمتی سے آج اٹھارہ سال گزر چکے ہیں لیکن کے فور پروجیکٹ مکمل نا ہو سکا۔
    اس وقت کراچی جن مسائل سے گزر رہا ہے اگر ان مسائل کے روک تھام کے لیے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی تو بہت تباہی مچ سکتی ہے موجودہ وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہی پانی ہے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ہم سب کو میدان عمل میں آنا ہوگا کیوں کہ کوئی باہر سے آکے اس شہر کے مسائل حل نہیں کرے گا نا ہی کر سکتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب کراچی پیرس کا منظر پیش کرتا تھا دنیا کے بہترین شہروں میں کراچی کا نام ہوتا تھا اب بدقسمتی دیکھیں کراچی شہر جو روشنیوں کا شہر اور ستاروں کا شہر ہوا کرتا تھا اب کچرا کنڈی اور گٹر بھرے گندے نالوں سے مشہور ہو گیا ہے
    اللہ پاک سے دعا ہے اس ملک پاکستان اور بالخصوص کراچی کو دوبارہ روشنیوں والا شہر بنا دے۔
    آمین

    @SyedUmair95

  • جذبہ ایمانِ کی طاقت   تحریر: محمد بلال

    جذبہ ایمانِ کی طاقت تحریر: محمد بلال

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

    اے ایمان والو ! اگر تم ﷲ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا

    جب مسلمانوں کا قبلہ مغرب کے بجاۓ کعبہ ہو
    نظریں دنیاوی سپر پاور کے بجاۓ گنبد خضریٰ پر ہوں اور بھروسہ صرف اللّه پر ہو تو 1965 اور 27 فروری جیسی فتح مسلمانوں کے قدم چومتی ہیں

    اسلامی جمہوریہ پاکستان
    اللّه کے رازوں میں سے ایک راز اسلام کا قلعہ
    واحد ملک جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھی گئی
    اپنے قیام سے لے کر آج تک اسلام دشمنوں کی نگاہوں میں کانٹے کی مانند کھٹک رہا ہے 

    اور دشمن مسلمانوں کے قلعہ کو فاتح کرنے کے خواب پچھلے 73 سالوں سے دیکھتا ہوا آرہا ہے
    پوری دنیا کے یہود و نصاریٰ اور ہندو پاکستان کو ختم کرنے کے لیے ہر وقت
    کوئی نا کوئی سازشیں کرتے رہتے ہیں

    کبھی کلبھوشن جادھو جیسے جاسوسوں کے زریعے کالعدم تحریکوں
    (تحریک طالبان پاکستان،بی ایل اے) کو فنڈنگ کرکے پاکستان میں دہشت گردی و بدامنی پھیلاتے ہیں

    تو کبھی فیک نیوز ویب سائٹس سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں

    لیکن اللّه کے شیر ان سب فتنوں اور سازشوں کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں

    اللّه کے یہ شیر بری فوج کے روپ میں سرحدوں کی نگرانی
    ایئر فورس کے روپ میں فضاوں اور
    پاک بحریہ کے صورت میں سمندری حدود کی ہر وقت حفاظت کر رہے ہوتے ہیں

    جس کی سب سے بڑی مثال 26 فروری کی رات ہے جب انڈیا کا اسرائیل کے ساتھ ملکر امریکہ کی آشیر باد سے رات کی تاریکی میں حملہ کرنا تھا

    لیکن اللّه کے سپاہی مملکت خداداد کی حفاظت کے لیے ہر وقت جاگ رہے ہوتے ہیں

    رات کی تاریکی میں اس مشترکہ حملہ کو نا صرف ناکام بنایا بلکہ دوسرے دن اللّه کے شیروں نے اپنی سر زمین پر رہتے ہوۓ دنیا کی تمام شیطانی قوتوں کو پیغام دیا کے ہم خاتم النبین کے امتی ہیں
    ہم حضرت علی شیر خدا رضی اللّه تعالی عنہ کے غلام ہیں
    جس طرح
    حضرت علی رضی اللّه تعالی عنہ نے خیبر کا قلعہ فتح کیا تھا اسی طرح ان کے غلام اسلام کے قلعہ پاکستان کی نا صرف حفاظت کریں گے بلکہ اس کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑ دیں گے.

    اس سب کے علاوہ دوسری جانب یہ ہم سب کی بطورمسلمان مجموعی ذمہ داری ہے کہ عالمِ اسلام کی ترقی اور حفاظت کیلیے لایعنی قسم کے اختلافات بھلا کر اتحاد و یگانگت کی ایسی مثال قائم کریں کہ دشمنانِ پاکستان اور اسلام ہمارے خلاف سازشوں کا سوچ بھی نہ سکیں۔ اِسلام کی اِن تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جو موجودہ مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ ہمیں چاہۓ کہ کسی بھی معاملے پراشتعال کی کے بجائے اس پر مناسب قانونی چارہ جوئی کی راہ تلاش کریں۔

    قرآنِ کریم میں حقِ باری تعالی کا ارشاد ہے،
    وَ  لَا  تَهِنُوْا  وَ  لَا  تَحْزَنُوْا  وَ  اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹)

    ترجمہ
    اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے ۔
    سورہ آل عمران 139

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • خطے میں حالت بدلنے لگے  تحریر :  عزیز الرحمن

    خطے میں حالت بدلنے لگے تحریر : عزیز الرحمن

    چائنہ نے کیوں کام روک لیا تھا اور ابھی شاہ محمود قریشی صاحب نے چائنہ کا دورہ کیا اور سارے معاملات حال کر کے آئے ہے اور آب چائنہ نے اعلان کر دیا کہ پاکستان اور چائنہ مل خطے جوائنٹ آپریشن کرگئے اب امریکہ اور انڈیا کی بڑی دن خراب ہوگئے ۔
    تاکہ افغانستان میں تمام کے تمام جتنے بھی بڑے بڑے گروپ ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اب چائنہ اور پاکستان نے مل کر یہ فیصلہ کر لیا کہ آب امریکہ کو انٹرنیشنل سطے پہ بےنقاب کرنا ہے، کس طرح امریکہ افغانستان میں حملہ کروتا ہے اور خطے کے حالت خراب کرتا ہے ۔ دیکھیں یہ ہوگا کیسے یہ بات ذرا غور سے سمجھنے کی ہے چائنہ اور پاکستان مل کر ایک ہی فورس ہوگئ اور افغان طبان سے مل کر اس پہ بات جیت ہوگئ خاص طور پر ان کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔

    آپ چائنہ بڑے بڑے فیصلہ کرنا جارہا اور اس میں پاکستان حاص طور پر ساتھ کھڑا ہے، اور اب اس کے ساتھ اور کنٹری بھئ شامل ہوگئے روس، ایران، ترکی ، اس طرح اور بھی شامل ہوگی آہستہ مزہ کی بات یہ ہے کہ ایک وقت تھا امریکہ پاکستان کو ڈو مور ڈو مور کہتا تھا اللہ پاک کا شکر ھے اپ امریکہ خود افغانستان سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈے نکالا آب پاکستان کو کہتا ہے کہ ہمیں نکال لو کسی بھی طریقہ سے پاکستان اب مل کر چائنہ کے ساتھ امریکہ کو انٹرنیشنل سطے پہ بےنقاب کر دے گئے ۔

    اب شاہ محمود قریشی پورے دنیا کو ایک پیغام واضح کرے گئے کہ دیکھیں امریکہ نے یہاں افغانستان میں کیا کیا اور اس نے کس طرح خطے میں حالت خراب کیے اور اب وہ بار بار پاکستان سے مدد کی اپیل کر رہا ہے کہ ہمیں نکال لو ہم ناکام ہوگئے یہاں پہ اس میں اب پاکستان کا ایک اہم رول ہوگا افغانستان میں صرف اور صرف امن و امان کی صورتحال جو پاکستان کافی وقت سے اس کوشش کہ افغانستان میں امن ہوگا تو خطے میں حالت بدلنے لگے ہے ۔ اب پاکستان خطے میں بہت بڑا رول ادا کر رہا ہے آواز ان شاء اللہ آنے والے دن پاکستان کے بہترین ماحول بنے جارہا ہے ۔

    کیوں اب پاکستان نے سارے فصیلہ خود مختاری پہ کرنے ہے اور آنے والے دن پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے جس اندز سے شاہ محمود قریشی نے مختلف کنٹری کے دورہ کیے جس میں روس، ترکی، ایران ، ازبکستان، اور چائنہ تو اس سے صاف واضح ہوگیا کہ پاکستان خطے میں حالت بدلنے لگے اور ہر کسی سے دو طرف تعلقات چاہتے ہے ۔

    اب پاکستان پورے خطے میں حالت بدلنے کی کوشیش میں ہے کہ بات ہوگئ تو امن و امان کی اور ہم اب کسی کے جنگ کا حصہ نہیں بنے گئے ایک ہی بات امن و امان کی اور اس میں موجودہ حکومت کی بہت اہم رول ہے کیوں میں نے اپنے زندگی میں پہلی مرتبہ ایسی حکمومت دیکھی کہ ایک ہی بات کرتے ہے کہ امن و امان کی صورتحال اب پاکستان بہت زیادہ بہتر ہوگا اور ان شاء اللہ اس طرح اور بھی حالت بہتر ہوجائے گا میرا ایک ہی پیغام ہے اس حکومت کو سپورٹ کرو جو آپ کے آنے والے نسلوں کے لئے سوچتا ہے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

    @Aziz_khattak1

  • ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل  تحریر :- مدثر حسین

    ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل تحریر :- مدثر حسین

    اکیسویں صدی میں نئی نئی ایجادات نے اس دنیا کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے.ایک طرف جہاں انسانی رابطوں کے الات ڈیجیٹل ہیں، دوسری طرف سوشل میڈیا ہماری ضرورت بن چکا ہے
    ایک عام انسان ان آلات کو استعمال تو کر سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے ناواقف ہے. بہت ساری ویب سائٹس اپنے یوزر (صارفین) کا بائیو ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھتی ہیں تا کہ پاسورڑ بھول جانے کی صورت میں اس بائیو ڈیٹا کی مدد سے اصلی صارف کی شناخت ممکن ہو سکے، ورنہ کوئی بھی کسی کے اکاؤنٹ کا پاسورڑ تبدیل کر لے گا.
    یہ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بہت بڑا رسک بھی ہے. ہیکرز کسی کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے لئے اسکی ڈیوایس (انٹرنیٹ استعمال کرنے والا آلات)، اس کا فون نمبر ان دو چیزوں کا clone (جعلی معلومات) بنا کر ان چیزوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جس کے لئے ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم kali linux کو استعمال کیا جاتا یے، کچھ لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس پہ two factor authentication آن کر رکھا ہوتا ہے یعنی لاگ کرنے پہ وہ ویب سائٹ اس شخص کے موبائل نمبر پہ ایک کوڈ بھیجتی ہے جو گنتی کے چار سے چھ ہندسوں پہ مشتمل ہوتا ہے، اس کو جب تک اپ لاگ ان پیج پہ لکھیں گے نہین تب تک اپ اپنا اکاؤنٹ استعمال نہیں کر پاییں گے. ہیکرز اس مرحلے کو بھی عبور کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ ایسی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جس پہ عارضی طور پہ اپ کوئی بھی فون نمبر لکھ کر اس پہ انے والا مطلوبہ میسج /پیغام اپنی سکرین پہ دیکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اپ کو پیغام بھیجنے والے کا فون نمبر بھی معلوم ہو. ان ویب سائٹس کی مدد سے ہیکرز وہ میسج کوڈ سمیت وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. سیکیورٹی کے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس اب صارف کو اسکا مکمل فون نمبر ظاہر نہیں کرتیں 0123*******+تا کہ صارف آخری ہندسوں سے اپنے نمبر کی تصدیق بھی کر لے اور اس کے زیر استعمال فون نمبر پہ کوڈ بھیجتے وقت فون نمبر کسی بھی جگہ ظاہر نہ ہو سکے.
    تاہم کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے بہت ساری ویب سائٹس اور applications کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور ان اپلیکیشنز کو استعمال کرنے کے لئے ان پہ اپنا اکاؤنٹ بنانا ضروری ہوتا ہے، اکثر ایسی ویب سائٹس کی سیکورٹی کے غیر محفوظ ہوتی ہے، عین ممکن ہے کہ ہیکرز ان ویب سائٹس کے دیٹا تک رسائی حاصل کر کے اپکا فون نمبر نکال لیں اور جہان جہاں اپکا اکاؤنٹ ہے وہ اس ویب سائٹ / سوشل میدیا ویب سائٹس پہ جا کے اپکا پاسورد مندجہ بالا طریقے سے باآسانی تبدیل کر لین. سیکورٹی کے اس مسئلے سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنے اکاؤنٹس میں اپنا فون نمبر درج ہی نہیں کرتے وہ صرف ای میل کا استعمال کرتے ہیں.
    ای میل باقاعدہ سرور پہ محفوظ ہوتی ہین جن تک ہیکرز کی رسائی انتہائی مشکل امر ہے، تو ہیکرز ایسی صورت میں ایک خاص طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جس کے تحت وہ مطلوبہ شخص کا پاسورڈ تبدیل کرنے کے لیے forgot password والے صفحے پہ ایک خود ساختہ میل درج کرتے ہیں، جس سے وہ ویب سائٹ ایک error کا پیغام دیتی ہے، اور پھر تصدیق کے چند مراحل پیش کرتی ہے جس میں مطلوبہ شخص کی ای میل کے hints وہ آپ سے طلب کرتی ہے، ایسی صورت میں اگر ہیکرز کے پاس اپکا مکمل نام، پتہ، والدین اور دوست احباب کا علم ہو تو وہ ان hints کی مدد سے اپ کی ای میل پہ کوڈ بھیجنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تا ہم ویب سائٹس ای میل کو فون نمبر کی طرح ظاہر نہیں کرتیں اور کچھ اس طرح سے آپکو ای میل کی نشاندہی کرتی ہین s16@gmail.com***********
    اور پھر صارف کو اس بھیجی گئی ای میل کے زریعے علم ہو جاتا ہے کہ اسکا پاسپورڈ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی یے اور وہ احتیاطی طور پہ اپنا پاسورڑ تبدیل کر لیتا ہے، پاسورد تبدیل کرتے وقت cookies کا آپشن اگر آن ہو تو اس صفحے کا ریکارڈ کچھ دیر کے لئے browser پہ محفوظ ہو جاتا ہے، جس کی مدد سے ہیکر اس صفحے کو دوبارہ refresh کر کے پاسورڈ تبدیل کرنے والا صفحہ اپنی سکرین پہ باآسانی دیکھ سکتا ہے اور اس طرح بغیر ای میل معلوم کئے وہ نیا پاسورڑ درج کر کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے.

    کسی وائی فائی کا پاسورڈ ہیکرز کیسے ہیک کرتے ہیں اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ یہ سب اگلے آرٹیکل میں ان شاء اللہ…

    ‎@MudassirAdlaka
    ‎#mudassiradlaka

  • جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب  تحریر: بشارت حسین

    جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب تحریر: بشارت حسین

    معاشرے میں جنسی زیادتی کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا۔ دور حاضر میں جنسی زیادتی کا شکار نہ صرف خواتین ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ہونے لگیں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ اب تو جانور بھی اس سے محفوظ نہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔
    جنسی زیادتی کہ شرح میں خطرناک حد تک کا اضافہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کا سبب بن چکا ہے۔
    والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گا اللہ خیر کرے۔
    لیکن ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور درندے کھلے عام پھرتے ہیں اپنا شکار تلاش کرتے ہیں اگر پکڑے بھی جائیں تو اکثر والدین بدنامی کے ڈر سے تھانوں کچہریوں میں جاتے ہیں نہی اگر چلے بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد وہ درندے پھر سے جیلوں سے بری ہو کر آ جاتے ہیں۔
    یوں یہ رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
    اسباب
    معاشرے میں اس بیماری اور ناسور کے پھیلنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
    جن میں سب سے پہلا انٹرنیٹ کا کردار ہے۔
    انٹرنیٹ جہاں بہت حد تک زندگی میں اسائیش لایا وہیں پورن ویب سائٹ نے ہمارے معاشرے کے خوبصورت ماحول کو تہس نہس کر دیا۔
    ایسی ویب سائیٹ پہ صرف زنا اور ہر طرح کے گندے کام دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے بچے وقت سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور ان میں یہ جنسی خواہشات کا رحجان بڑھ جاتا ہے اس طرح تقریبا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک اس خطرناک مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے نمبر پہ شادی کے مسائل
    ہمارے معاشرے میں شادی کو عموما اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اب نکاح مہنگا اور سنا سستا ہو گیا ہے۔
    جوان بچوں کی شادیوں میں اتنی دیر کر دی جاتی ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غلط رستوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    دین سے دوری
    اکثر ہمارے بچے اور بچیوں کو دیں سے شناسائی ہی نہیں ہوتی انکی نظر میں یہ کام کوئی زیادہ غلط نہیں ہوتا اس کو وہ تنگ نظری کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    سدباب
    معاشرے میں اس ناسور کو روکنے کیلئے سخت قوانین کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ والدین کی چند اہم ذمہ داریاں بہت نمایاں ہیں۔
    چھوٹے بچوں کو والدین ہر وقت اپنی نظر میں رکھیں انکے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھیں۔
    بچے کے ساتھ ملنے والے ہر شخص کے کردار کو دیکھیں اور اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دور رکھیں۔
    بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور بند کمروں میں انٹرنیٹ سے بچائیں۔
    بچے کو کسی کے ساتھ زبردستی کہیں بھی نہ بھیجیں اور نہ بچہ کوئی بات کر رہا ہو اور اس کو روکیں ہو سکتا ہے وہ اپنی پریشانی بتا رہا ہو اور آپ اس کو نظر انداز کریں اور وہی اس کیلئے خطرناک ہو۔
    بچوں کو اکیلا دکان وغیرہ پہ مت بھیجیں بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن اس پہ نظر رکھیں یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
    میاں بیوی بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کریں۔
    بچوں اور بچیوں کو الگ الگ سلائیں۔
    کزن وغیرہ پہ بھی اعتماد نہ کریں بچوں کے معاملے میں کسی پہ کوئی اعتماد نہ کریں۔
    بچے جوان ہوں تو کسی نیک گھرانے میں بغیر لالچ کے شادی کریں۔
    بچوں کی عمر ضائع نہ کریں اور نہ ایسا موقع دیں کہ وہ آپکی رسوائی کا سبب بنیں۔
    مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں اور برے کاموں پہ اللہ کی پکڑ کے بارے میں بتائیں۔
    معاشرے کا پر شخص ایسے لوگوں پہ نظر رکھے اور انکو پولیس کے حوالہ کرے۔
    اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کی غلط حرکات سے انکے والدین کو آگاہ کریں۔
    ہم سب ایک ہوں گے تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو گا ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو کسی کو ہمارے ماحول کو معاشرے کو گندہ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    آج کل ہر بچے بچے کے پاس موبائل نظر آتا ہے صرف یہی نہیں تین اور چار سال کے بچے بھی اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ان سے وعدہ کیا جائے کہ بھائی آپکو موبائل دینگے ۔۔۔۔۔
    یوں کہنا ٹھیک رہے گا کہ کرونا سے بڑا وائرس یہ موبائل ہے !!! یہ موبائل صرف انسان کو نہیں ختم کر رہا باقی سب کچھ ختم کرتا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔
    یوں تو اسکے جہاں نقصان ہیں وہاں فائدے بھی بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں یہاں 24 میں سے 14 گھنٹے آرام سے موبائل کو دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔بلکے یوں کہنا درست رہے گا کہ موبائل آج کے نوجوان کو دس گھنٹے دوسری مصروفیات کیلئے دے دیتا ہے ۔۔۔۔ جس میں ہمارے نوجوان سونا کھانا پینا اور اگر خرافات میں پڑ جانے کی وجہ سے انسے توفیق عبادات سلب نہیں ہوئی ہیں تو وہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔
    لوگوں کی مختلف اقسام ہیں کچھ اس موبائل کو اپنے فائدے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں یہ فائدے دنیوی بھی ہیں اور دینوی بھی ۔۔۔۔ کچھ لوگ اسکے ذریعے سے حلال رزق حاصل کر رہیں ہیں تو کچھ اپنے نامہ اعمال کو بھاری کر رہے ہیں۔ اب قارئین سوچ رہے ہونگے کہ ان دو باتوں کو ساتھ ذکر کرنے سے میرا مقصد کیا ہے؟؟ تو مختصر یہ کہ مختلف ایسی ایپلیکیشنز متعارف ہوئی ہیں جنکے ذریعے سے لوگ پیسہ بنا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور بس یہی نہیں بلکہ اس میں اب ایک پڑھا لکھا طبقہ ملوث ہوگیا ہے ۔۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے ایک ایپلیکیشن ہے آپ اسے انسٹال کرتے ہیں اور پھر اس پر اچھی ویڈیوز بناتے ہیں یا جیسی بھی بناتے ہیں یہ آپ پر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اپ
    اپنے ہر عمل کے زمہ دار خود ہیں مگر کیا ہم اتنے باعمل ہیں کہ دوسروں کی بداعمالیوں کا بوجھ بھی اٹھا سکیں؟ ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو آپ نے شیئر کیں اور آپکے اکاؤنٹ میں پیسے آئے اور یوں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ انوائیٹ کر کے آپ زیادہ سے زیادہ کمائینگے ۔۔۔۔۔ اور یاد رہے کہ آپ اس دنیا میں کمانے اور کھانے نہیں آئے تھے بلکہ بندگی کیلئے ہم بھیجے گئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (الملک:٢)
    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔

    یعنی جینے کیلئے پیسے کی ضرورت ہے ہم پیسے کہ نہیں پیسہ ہمارا غلام ہے ہم نے اب جتنے لوگوں کو اس پر انوائیٹ کیا اگر وہ نیکی کرتے ہیں اسکے ذریعے تو ظاہر ہے ہمارے اس اکاؤنٹ میں بھی اضافہ ہوگا جو ہمیں روز آخرت ملے گا۔۔۔۔۔ اور جہاں کوئی برائی کرے گا تو اس کی برائی کا بوجھ بھی ہم اٹھا لیں کیا ایسا ممکن ہے؟؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
    لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَھُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَھُمْ بِغَیْرِ علم ۔اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ (النحل:٢۵)
    "روز قیامت یہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ پوری طرح اپنے دوش پر اٹھائیں گے اور ایک حصہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی کہ جنہیں جہالت کی وجہ سے انہوں نے گمراہ کیا ہے
    جان لو کہ وہ بد ترین بوجھ اور ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے ہوں گے ”
    یوں بھی آج ہم سب فرائض بمشکل انجام دیتے ہیں گناہوں سے دل سیاہ ہے اور یوں شیئرنگ کر کے گناہوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں ۔۔۔
    پھر صرف یہ ویڈیو کی ایپلیکیشنز ہی نہیں اور بھی سوشل میڈیا کی بڑی ایپلیکیشنز جو کے نوجوان نسل اپنی بربادی کیلئے استعمال کرتی ہے ۔۔۔۔ صرف اخروی ہی نہیں دنیوی بربادی کا سبب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    میٹرک اور انٹر کے سنہرے وقت کو جس میں انکی زندگی بنتی ہے سوشل میڈیا پر محبتوں میں برباد کردیے ہیں جب انھیں یونیورسٹی کے لئے تعین کرنا ہوتا ہے تب والدین انکے لئے سائیکالوجسٹ کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ دماغی صحت یہاں کہاں سے آگئی تو جناب کہا جاتا ہے کہ نسل نو کا اسمارٹ فونز اور کھانے پینے کی طرف رجحان اتنا ہے کہ وہ اپنی صحت کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتے اور انکی جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل گرتی جارہی ۔۔۔۔ پھر سوشل میڈیا پر مختلف باتوں پر ری ایکشن بھی ضروری سمجھا جاتا ہے جس سے عدم برداشت کے تناسب میں بھی اضافہ کوریا ہے ۔۔۔۔۔۔۔خاندان جو کبھی ساتھ ملکر بیٹھا کرتے تھے اب وہ وقت بھی موبائل کھا جاتا ہے اس وجہ سے اپنے معاملات بڑوں سے ڈسکس کرنا بھی اس نسل نے نہیں سیکھا۔۔۔۔۔ ایک ہی چیز ایک ہی معاملے کو سوچ سوچ کر مکمل ڈیپریسڈ نسل ہے یہ اور میں اگر اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کروں تو اکثر وہ لوگ جو بس ضرورت کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں انکی شرح ڈیپریسڈ ہونے کی ان نوجوانوں سے کم ہے جو سوشل میڈیا میں ڈوبے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔ اچھا ہے کہ ہم اس نعمت کو نعمت ہی کی طرح استعمال کریں اسے زحمت نہ بنائیں ۔۔۔۔

    @timazer_K

  • جیت کا جشن  تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    جیت کا جشن تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    آج کا انسان بہت بھلکڑ اور مطلبی ہے جب چلنا سیکھتا ہے تو ڈر کے مارے دوسرے کی انگلی پکڑے رکھتا ہے ، لکھنا پڑھنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو استاد سے سوال در سوال کر کے سیکھتا چلا جاتا ہے ، جاب میں آتا ہے تو اپنے سینئرز سے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ سیکھ کر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا جاتا ہے
    اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ کامیاب انسان بن جاتا ہے تب وہ اپنے ماضی کو بھول کر اپنی کامیابی کے جشن میں مصروف ہو جاتا ہے جیسے وہ اسی کامیابی کیلئے ہی پیدا کیا گیا ہو
    وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کے پیچھے اللہ کے بعد کس کس کا ہاتھ ہے
    کس کس سے اس نے سیکھایا کہاں سے رہنمائی لی لیکن کامیابی کا نشہ اسے سب بھلا دیتا ہے بعض دفعہ انسان اپنی کامیابی میں کسی کو حصہ دار نہیں بنانا چاہتا اور وہ اپنے محسنوں کا ظاہری طور پر ذکر نہیں کرنا چاہتا
    حالانکہ میں نے مشاہدہ کیا ہے جو لوگ اپنے محسنوں کا نام سر عام لیتے ہیں وہ صاحب نظر لوگوں کے دل میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور جو لوگ اپنی کامیابی کو ’’میں‘‘ سے جوڑ لیتے ہیں ان کی کامیابی کو ’’میں‘‘ ہی کھا جاتی ہے
    اس لیے اپنے محسنوں کو نہ تو نظر انداز کروں اور نہ ہی اپنے آپ کو ’’میں‘‘ میں مبتلا کرو

    اپنے رب تعالیٰ کا کا شکر ادا کریں اور اپنے والدین ، استاذہ اکرام ، صلاح کار ، قابل احترام سینئرز اور مخلص دوستوں کو اپنی کامیابیوں کی اصل وجہ سمجھیں اور ہو سکے تو کھلے عام اظہار بھی کریں یقین مانیں آپ کا رتبہ ان کی نظر میں اور اللہ کی نظر میں بلند ہوگا

    Twitter handle @AHK_313