جب سے کرونا وائرس آیا ہے دنیا بھر کے کاروبار اس سے متاثر ہوئے ہیں اور بہت زیادہ ملکوں نے فری لانسنگ کی طرف رجحان کیا اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے آج بھی بہت سے لوگوں کو فری لانسنگ کے بارے میں علم نہیں ہے اور وہ کسی ویب سائٹ پر پہلے پیسے دے کر ڈیٹا انٹری کے کام کو فری لانسنگ سمجھتے ہیں جو کہ بالکل فراڈ ہوتا ہے پاکستان میں فری لانسنگ اب سرکاری سطح پر سکھا ئی جا رہی ہے فری لانسنگ وہ واحد کام ہے جس میں آپ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں فری لانسنگ میں آپ مندرجہ ذیل سکلز میں کام کر سکتے ہیں
گرافک ڈیزائن
اینڈرائڈ ڈویلپمنٹ
ویب ڈویلپمنٹ
سوشل میڈیا مارکیٹنگ
کاپی رائٹنگ
ویڈیو ایڈیٹنگ
کونٹینٹ مارکیٹنگ
سوشل میڈیا مینیجر
اور ایسے بہت سے کام ہیں جن میں آپ مہارت حاصل کرکے فری لانسنگ کر سکتے ہیں، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے کسی ایک چیز میں مہارت حاصل کر لی اس کے بعد ہم فری لانسنگ کیسے کریں اور کس ویب سائیٹ پر کریں، فری لانسنگ میں آپ اپوورک اور فائور پر کام کر سکتے ہیں، اگر آپ اپوورک سے کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو کنیکٹ خریدنے پڑھیں گے جس سے آپ پروجیکٹس پر اپنی درخواست بھیج سکیں گے اور کام کو حاصل کر سکیں گے اور اگر آپ فائور سے شروع کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی پیسے لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو صرف اپنا اکاؤنٹ بنانا ہے اور اپنی گگس بنانی ہے، جس سے لوگ آ کر آپ کی خدمات حاصل کریں گے اور آپ کو اس کے پیسے دیں گے، اب سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فائور اتنا ہی آسان ہے تو لوگ اپوورک کی طرف کیوں جاتے ہیں وہاں پیسے کیوں خرچ کرتے ہیں؟
لوگ اپوورک پر اس لیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں بڑے اور زیادہ دیر تک چلنے والے کلائنٹ اور پروجیکٹ ملتے ہیں اپوورک پر آپ مہینے کا جتنا چاہے کما سکتے ہیں لیکن فائور پر آپ کو چھوٹے کلنٹ ملیں گے جو آپ کو اجرت بھی ویسے ہی دیں گے جیسے ان کا کام ہوگا اس لیے زیادہ تر لوگ اپوورک کو پسند کیا جاتا ہے تاکہ اچھے کام کی اجرت بھی اچھی مل سکے۔ فری لانسنگ پاکستان میں رات کے وقت کی جاتی ہے رات کے وقت اس لئے کی جاتی ہے کیونکہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اس وقت صبح ہوتی ہے کیونکہ ہمارے کلائنٹ امریکہ اور دیگر ممالک سے ہوتے ہیں اس لیے پاکستانی فری لانسر رات کو جاگ کر اپنا کام بھی کرتا ہے اور کام کو مکمل کرکے اپنے کلائنٹ کو بھی بھیجتا ہے اس طرح سے دونوں طرف ترازو برابر رہتا ہے، آج کے دور میں پاکستان میں سب سے زیادہ طالب علم فری لانسرز ہیں کیونکہ وہ پڑھائی بھی کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کوئی کام بھی کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ اپنا اور گھر کا نظام چلا سکیں اس لیے ان کے لیے سب سے بہتر فری لانسنگ ہے، لیکن میں سب کو مشورہ دوں گا کہ سب سے پہلے کسی ایک سکلل میں مہارت حاصل کریں تو پھر فری لانسنگ مارکیٹ پلیس پرائی تاکہ جب وہ اپنی سروس بیچیں تو اپنی فیلڈ میں ایک بہترین فری لانسر ہو، اور کوشش کریں پہلے ایک دو فری کام کریں اپنے ملک کے لوگوں کے لئے تاکہ آپ کے پاس آنے والے کلائنٹ کو دکھانے کے لئے آپ کا پچھلا کام ہو جس سے وہ آپ کو بلا جھجک اپنا کام سونپ سکے، فری لانسنگ ایک غلطی بہت سے لوگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ فری لانسنگ میں کامیاب نہیں ہو پاتے اپنا کام وقت پر اپنے کلائنٹ کو دیں تاکہ وہ اگلی بار بھی آپ سے کام کروائے اور اپنے دوست و احباب کو بھی آپ کے بارے میں بتائیں تاکہ آپ کاروبار وسیع ہو اور فری لانسنگ سے آپ کو فائدہ یہ ہوگا کیا آپ گھر بیٹھے کاروبار چلا سکیں گے جب چاہیں جہاں چاہیں اپنی مرضی سے جا سکیں گے
Author: Baaghi TV
-

موجودہ وقت میں فری لانسنگ کی اہمیت اور فوائد۔ تحریر : اسامہ خان
-

فلسفۂ خداوندی تحریر: محمدعادل حسین
اللہ رب العزت نے تخلیق کائنات کانظام مرتب کیا زمین ، آسمان ، حجر ، شجر ، چرند ، پرند ،الغرض بہت مخلوقات پیدا کی ان میں ایک مخلوق انسان بھی پیدا کی جس کی ابتداء آدم علیہ اسلام سے کی اس مخلوق تمام مخلوقوں سے افضل کہا اور ساری چیزیں اس کے تابع کردیں اس کی ضرویات کو پورا کرنے کی خاطر زمین سے فصل آسمان سے بارش جانوروں سے گوشت یا سواری کاکام البتہ ہر کوئی چیز کسی نا کسی لحاظ سے اس کی ضرورت کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔
پھر انسانوں میں بعض اقتدار بعض کورعایا بنایا کچھ کو امیر کچھ کوغریب پیدا کیا لیکن سب کا آپس میں ایک ربط بھی قائم کیا۔
اگر سب حکمران صاحب اقتدار ہی ہوتے
یا سب عام انسان رعایا ہی ہوتی تو نظام کاچلنا مشکل تھا۔ان میں کچھ کو سمجھ بوجھ اور علم عطاء کیا تاکہ وہ انسانوں کو ایک منظم طریقے سے زندگی بسر کرنے کاشعور دیں سکیں۔
اسی سلسلہ کی ایک کڑی انبیاء علیہ السلام ہیں اللہ رب العزت نے ان کو وحی کے ذریعے علم دیا اور انسانیت کی رہمنائی کیلۓ ان کی زندگی کامقصد سمجھانے یہ سلسلہ جاری کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو انسانوں اور جانوروں میں تمیز کرنا مشکل تھا ۔
ان میں فرق اور امتیاز قائم کرنے کی برادری اور قبیلوں کا نظام بنایا اگرچہ سب انسان آدمؑ کی اولاد ہی مگر پھر بھی ایک پہچان کیلۓ اس کی تشکیل کی۔
اب جوامیر اور غریب ہیں یہ بھی دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ہر سب غریب ہی ہوتے یاسب امیر ہی ہوتے تو نظام کا چلنا مشکل تھا۔
امیر کو اپنی طاقت دولت پہ ناز ہوتا اور کبھی کسی دوسرے کاکام نہ کرتا مثلا زندگی گزارنے گھرکھانے پینے کی ضروریات ہیں اور جو نظام کھتی باڑی کا وہ بھی نہ کرتا یہی کہتا میرے پاس پیسا ہے دولت ہے میں یہ سب کیوں کروں۔
اب غریب کوغریب اس لیۓ رکھا تاکہ وہ دوسروں کی اور اپنی ضروریات پوری کرنے کا کام کر سکے جب وہ کام کرتا ہے تو امیر سے معاوضہ لیتا ہے اور امیرپر جوذمہ داریاں ہیں وہ انہیں ادا کرتا ہے ناتو ہر انسان ہمیشہ امیر رہتا اور نی ہی ہر انسان ہمیشہ غریب رہتا ہے
اللہ رب العزت دن پھیرتے رہتے ہیں اور سب کو ہردور میں غربت اور امیری میں گزاز کر یہ بتلاتے کہ سب ایک دوسرے کی مدد کیلۓ ہیں دونوں ہی ایک دوسرے کے محتاج ہیں آج وسائل ہے تو کل ہو نہ ہو ایک دوسرے کادست بازو بن کے تعاون کامعاملہ اپنایا کریں ۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر مرحلے کو رب کی رضاء سمجھ شکر ادا کریں کسی غریب حقیر نہ جانے کیا پتا کل یم اس کی جگہ پہ ہوم اور وہ ہماری جگہ پر ۔
اب قربانی کا موقع ہی دیکھ لیں اس موقع پہ غریبوں سے تعاون چارہ کی مد میں جانوروں کی دیکھ بال کء مد میں اور اسی طرح ذبح کرنے والے بھی اکثر ان میں ہوتے ہیں ۔
کتنے جانور ذبح کرتے کیا سب اس گوشت سٹور کرتے شاید کئ لوگوں کا سٹور کرنا نامکن ہو سب ہی غرباء میں تقسیم کرتے ہیں کوئی تھوڑا کوئی زیادہ ۔اپنی خوشیوں میں غریبوں کا شامل کرنے کی کوشش کریں اپنے اردگر نظر دھرائیں رشتہ دار ہمساۓ یا ایسے دوست جو جن مالی حالت کمزور ہے عید پہ جہاں گوشت ان کے ہاں بھیجتے وہاں ان کے بچوں کی ضروریات پہ بھی توجہ دیں۔
کسی چہرے پہ مسکراہٹ لانے اس کے دل سے جو دعائیں نکلیں ان دعاؤں کے حقدار بنے۔
یقینااس سے مال میں کمی نہیں بلکہ ان کی دعاؤں اللہ کی خوشنودی اور برکت حاصل ہو گی ۔امیر ہونا کامیابی نہیں کسی مسکراہٹ کاذریعہ بننا اصل کامیابی ہے۔
-

خود ترسی تحریر:حُسنِ قدرت
خود ترسی ایک نفسیاتی بیماری ہے اس میں مبتلا انسان ہر وقت چاہتا ہے کہ وہ اپنے دکھڑے دوسروں کو سناتا رہے اور دوسرے لوگ اسے دلاسے دیتے رہیں
اب میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں گی کہ
*کس طرح کے لوگ اس طرح کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟*
1_کمزور ذہنیت والے لوگ: کمزور ذہنیت والے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذہن پہ سوار کر لیتے ہیں اور جب کوئی بڑی پریشان آتی ہے تو وہ انہیں لگتا ہے کہ دکھ کا پہاڑ ہے وہ چاہتے ہیں کوئی ہو جو مسلسل انکا دل بہلائے تاکہ انہیں ذہنی سکون ملے
2_کمزور شخصیت والے لوگ: کمزور شخصیت والے لوگ اپنی ویلیو کو دیکھتے ہوئے ٹوٹ جاتے ہیں انہیں شدید ترین بے قدری کا احساس ہوتا ہے اور وہ خود ترسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک کو درد و غم سنائیں اور آنے والا ہر بندہ انہیں دلاسہ دے
3_ایسے لوگ جو کئی سالوں سے دکھ برداشت کر کر کے تھک گئے ہوں: جو لوگ کئی سالوں سے دکھ برداشت کر رہے ہوتے ہیں وہ انکے بوجھ سے تھک کر ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو انکی اذیت سہنے کی صلاحیت کی داد دے
*کون لوگ خود ترسی کا شکار نہیں ہوتے؟*
•-ایک مضبوط ذہنیت کا انسان جب پریشانی یا مشکل حالات سے گزرتا ہے تو وہ اپنی دل لگی کا کوئی اور سامان یعنی مصروفیت تلاش کرتا ہے جس سے وہ اپنی پریشانی سے کچھ دیر کے لیے پیچھا چھڑا سکتا ہے جیسا کہ کتاب پڑھنا یا کوئی کھیل وغیرہ
•- مضبوط شخصیت کا انسان اپنی ویلیو دیکھتا ہے اور اسکے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کچھ بھی ہو جائے وہ پریشانی کو اتنا بڑا نہیں ہونے دے گا کہ وہ اسکے سر چڑھ کر بولے اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی اچھا مشغلہ اختیار کرتا ہے جیسا کہ باغبانی ،پرسنیلٹی ڈیویلپمنٹ کے نئے آئیڈیاز اور کتابیں وغیرہ پڑھنا
•-اگر مضبوط ذہنیت و شخصیت کا انسان دکھ سہہ سہہ کے تھک بھی جاتا ہے تو وہ اس پریشانی یا تکلیف سے سمجھوتا کر لیتا ہے اور اسے بھی دوست سمجھ کے ساتھ رکھتا ہے اور اس سے تقویت حاصل کرتا ہے کہ میں اس سے زیادہ مضبوط ہوں اور میں نے آگے لازمی بڑھنا ہےTwitter:@HusnHere
-

عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی
آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے -

یہ تصویر کسی افریکا کے ملک کی نہیں ہے ۔ تحریر : عثمان لاشاری
یہ تصویر کسی افریکا کے ملک کی نہیں۔ یہ ہے سندھ کا امیر ترین ضلع بدین۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے کے باوجود ایک بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں زرعی پانی کی قلت کے خلاف بدین میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
بدین پاکستان کا وہ بدقسمت علإقہ جہان پانی نہروں سے نہیں، لوگوں کی آنکھوں سے بہتا ہے۔۔۔۔
” جو ایک زرداری سب پر بهاری اور جیئے بھٹو کے نعرے لگاتے نہیں تهکتے“
وہاں کوئی یہ ضرور لکھے گا لاکھوں خاندان فاقاکشی کی وجہ سے اپنے اضلاع چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن بدین اضلاع کے رکن اسیمبلیز میں اس لیئے خاموش تھے کہ جمہوریت کو خطرہ تھا۔۔۔۔۔اگر وہ گڈو اور سکھر بیراجز کے آبی دہشتگردون کے خلاف اسیمبلیز میں کوئی آواز اٹھاتے تو ١٨ وین ترمیم پر وار ہوتا اور سندھ حکومت کا خاتما ہوجاتا، اس لیئے انہوں نے لاکھوں ہستے بستے مکان تو اجاڑ دیئے لیکن جمہوریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔۔۔۔۔۔
آج احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا
ہم کسی ایک تحصیل کے لئے نہیں بلکہ پورے
ضلع کے لئے پانی کا مطالبہ کرتے ہیں پورا ضلع اس وقت خشک سالی کا شکار ہے۔بدین کے پانی کا مسئلہ خالص انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔ سندھ سرکار بدین کو کربلا نہ بنائے۔
نا پینے کا پانی نا ہی کهیت کهلیانوں کے لیئے پانی مسکین مزدور کسان جائے تو جائے کدهر۔
پانی نہ ہونے کی صورت میں۔یہاں کے کسان مزدور لوگ بوکھ اور پانی کے پیاس سے تڑپ رہے ہیں ۔۔۔ جہاں پہ بچے تھرپارکر کی طرح (malnutrition) کا شکار ہو رہے ہیں۔۔۔
اور اُن بچوں کے صداٸن کہتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔
پرندے خشک جهيلوں سے،يہی اب کھ گٸے آخر۔۔ مجھے مجبور ھجرت پہ۔۔۔۔ میرے حالات کرتے ہیں ۔۔
Twitter @_UsmanLashari_
-

آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا تحریر ۔ مدثر محمود
میری نظر میں آزاد کشمیر کا الیکشن اور پھر بھرپور کشمیری بھائیوں کی شرکت کرنا پوری دُنیا کے لیے پیغام ہے کہ ہم پاکستان کی ریاست سے خوش ہے اور اسکے ساتھ چلنے کا عزم رکھتے ہیں اور یہ ہی پاکستان کی جہت ہے ۔
جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جو انڈیا نے دھونس طاقت سے قبضہ میں کیا ہوا ہے وہاں کی سیاسی جماعتیں ہر الیکشن بائیکاٹ کردیتی ہے اسکی وجہ کہ وہاں آزادی سے الیکشن نہیں ہوتا وہاں بھارت اپنی کٹپتلی حکومت نامزد کردیتا ہے تاکہ وہ قبضہ جاری رکھ سکے۔
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون الیکشن جیتے گا آزاد کشمیر سے مجھے مریم نوازشریف ، بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کے منعقد جلسوں سے غرض تھی کہ کشمیری عوام گھروں سے باہر نکل کر سنتی ہے تقریر یا پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح نریندر مودی کا جس طرح وہ بائیکاٹ کرتے یہ تو نہیں کرتے لیکن پوری دُنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر کی عوام نے پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کو ویلکم کیا بلکہ جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہو تو نتائج آنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو دیکھتے ہوئے خوش ہوا کہ ووٹ بھی دیے۔
اب میرا تمام عالمی دُنیا سے مطالبہ ہے کہ کب تک آنکھیں بند کرکے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہوتا دیکھتے رہینگے آگے بڑھے اور جموں کشمیر میں عوام سے استصواب رائے عامہ لیکر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ایشیا میں سکون ہوسکے ہم جنگی اشیاء کو اکٹھا کرنا چھوڑ غربت کو ختم کرنے کے بارے سوچیں۔
@Mudsr_Ch
-

تنقید سے ڈرنا کیا تحریر :صالح ساحل
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے خیالات، نظریات اور افکار کو زمانے کی تنقید کی وجہ سے دفن کر دیتے ہیں اور ایک فضول سی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کیوں کے جن کے پاس نظریہ نہ ہو ان کی زندگی بھی کوئ زندگی ہے یقیناَ یہ لوگ خدا کے ناشکرے ہوتے ہیں ان کو خدا نے سوچنے سمجھنے کے لیے دماغ دیا ہوتا ہے نئے نظریات کو جنم دینے کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے ڈر سے اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضائع کرنا بھی تو ایک جرم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کی تعداد تو کم ہوتی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یہ اپنے افکار نظریات اور خیالات کو زمانے کی فرسودہ روایات اور خوف کے نظر نہیں کرتے ان پر تنقید ہوتی ہے مگر یہ میدان سے نہیں بھاگتے یہ اس تنقید کو بھی صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں اس تنقید کے نتیجے میں بعض اوقات یہ اپنے راستے بدل لیتے ہیں مگر اپنے مقصد پر کمپرومائز نہیں کرتے یہ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں ان کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے کئ بار تنقید ان کے کلیجہ چیر دیتی ہے مگر یہی لوگ اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں اور اگر منزل نصیب نا بھی ہو تو پر سکون مرتے ہیں ان کا نام ان کی موت کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے
———–
اس لیے آپ اپنی زندگی میں اس بات کا خوف نا رکھیں کے آپ پر تنقید ہو رہی بلکہ کے اپنے مقصد میں لگے رہے لوگ آپ کا ساتھ نہ بھی دیں یاد رکھیں دنیا میں حق کے چاہنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ چند لوگ تھے حضرت لوط کے ساتھ صرف دو بیٹیاں تھیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ گیارہ لوگ تھے امام حسین کے ساتھ 72 لوگ تھے لوگوں کی تعداد کا ہونا میعار حق نہیں خدا نے آپ کو ذہن دیا ہے آپ سوچیں نئے انداز سے دنیا کو دیکھیں اپنے نظریات کو عوجے سوریا پر لے جائیں اور اپنے ذہنوں سے ڈر نکال دیں سقراط کے خیالات کو چند لوگوں نے قبول کیا اور ایتھنز کے حامی ہزاروں تھے اس لیے اپنے مقصد پر توجہ کریں
________اس سارے سفر میں آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں کے کہیں آپ کے نظریات کی جگہ ضد نے تو نہیں لے لی ضد اگر غالب آگی تو آپ ہار جائیں گے کیوں کے اس سارے سفر میں ضد اور انا آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گی خدا سے تعلق کو جوڑے رکھیں اور بڑھتے جائیں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی اور زندگی سے گلے کم ہوں گے اور ہاں آخر میں یہ جملہ کہوں گا تنقید سے ڈرنا کیا یہ تو سوچنے کی ہمت دیتی ہے
@painandsmile334
-

باپ کی شان تحریر: محمداحمد
ہمارے معاشرے میں باپ کی شان کے بارے میں بہت کم لکھا اور سُنا جاتا ہے لیکن باپ اُس درخت کی جڑ ہوتا ہے جس درخت کی جڑ کاٹنے سے کبھی درخت ہَرا بَرا نہیں رہتا اسی طرح ہم جانتے ہیں قرآن کریم کی تعلیم سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے لیکن باپ جنت کا دروازہ ہے
آج کل لوگ والدین کے حقوق بھول گے ہیں اُن کے لئے ان کی اپنی اولاد بہت عزیز ہوتی ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے وہ بھی کسی کی اولاد ہیں اپنی اولاد کا دُکھ نا دیکھنے والے کس حق سے اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم اور دُکھوں کی گھڑی میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
ماں باپ اللہ تعالیٰ کی وہ رحمت ہیں جن کو پیار سے دیکھنے سے مقبول حج کا ثواب ملتا ہے ماں باپ ہمیشہ اپنی اولاد کی خوشی کیلئے ہر ضرورت پوری کرتے ہیں اُن کی اچھی تربیت کرتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی یے اپنا کمانے لگ جاتی ہے اُس وقت جب باپ کی آنکھیں دُھندلی ہو جاتی ہیں تو انہیں قطرہ بھر روشنی دینے سے کیوں کَتراتے ہیں کیا والدین اولاد اِس دن کےلئے مانگتا ہے لیکن اولاد بھول جاتی ہے کہ وہ والدین جو ایک بچہ نا بول سکتا ہے نہ سُن سکتا ہے اُس کو انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا سکتے ہیں وہ والدین اپنا آپ بھی سنبھال سکتے ہیں جس خالقِ کائنات نے پیدا کیا ہے وہی سب کو پالتا ہے لیکن والدین کی آہ یا بد دعا عرش ہلا دیتی ہے
ماں باپ کی ایک عادت اللہ تعالیٰ سے ملتی ہے دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں دنیا کی ساری خوشبو مل کر بھی والدین سے آنے والی خوشبو نہیں بن سکتی ۔ خدارا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور ہمیشہ یاد رکھیں آپ بھی کسی کی اولاد ہیں جیسے آپ کی اولاد عزیز ہے ویسے آپ بھی عزیز ہیں سب سے دلی
گزارش ہے اپنے والد کی قدر کیا کریں جو اپنی ضرورتیں اور آپ سب کی خواہشات پوری کرنے کیلئے دن رات ایک کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو والدین کو صحت تندرستی عطا فرمائے اور جن کے وفات پا گے ہیں ان کے والدین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
@JingoAlpha -
دم توڑتی سچائی تحریر: افشین
سچائی "حقیقت” ہے اور حقیقت اپنا آپ منواتی ہے چھپتی نہیں
سچائ اس روشنی کی مانند ہے جو چاروں اطراف منور ہوتی ہے تو ہر طرف اجالا ہوجاتا ہے سچائ حقیقت ہے اور حقیقت سے کبھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا ہے اگرچہ سچائ کا راستہ دشوار ہے مگر کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے
سچائ وقتی دبائ جاسکتی ہے مگر اسکا سورج کی طرح طلوع ہونا لازم ہے انسان جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جاتا ہے مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہےہمیں سچائ کا ساتھ دینا چائیے اور چاہے اس کے لیے لڑتے اپنی جان بھی چلی جائے پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہیےسچ بولنے والے سے رب بھی خوش ہوتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہےہمارے پیارے نبی پاک نے بھی سچائ کا درس دیا سچائ صداقت و ایمانت داری سے بھری ہوئ ہوتی ہےسچائ آدب ولحاظ اور دلی سکون سے منسلک ہےسچائ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا سد باب ہےآجکل ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے ہر پیشہ میں جھوٹ بولنا سر فہرست ہے جھوٹ کے بغیر جیسے کوئ کام چلنا ہی نہیں جھوٹ کے بغیر جیسے اپنا بچاو ہی نہیں جیسے جھوٹ کو لازم قرار دیا گیا ہوجھوٹ بولنے والا منافق شخص ہوتا ہے وہ اپنی باتوں سے جلد سب کو قائل کر لیتا ہے اور سچائ کو دبانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر جھوٹ ہمیشہ قائم نہیں رہتا سچائ کھول کے سامنے آجاتی ہے دیر صحیح مگر درست صحیح ۔سچائ کا ساتھ دینے والے اس دنیا میں خوار بہت ہوتے ہیں مشکلات بہت سہتے ہیں پر آخروی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہےجو انسان سچا ہو اس کو کم لوگ سنتے ہیں کم لوگ اسکا ساتھ دیتے ہیں اور اکثر سچائ کے کیے لڑتے لڑتے کہیں لوگ دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جھوٹ سرعام بھکتا ہے اور انصاف کے قوانین برائے نام رہ گئے ہیں
اس میں ہمارا قصور ہے ؟ یا اس معاشرے کا جس میں ہم رہ رہے ہے آخر کیوں سچائ کو ایڑیا رگڑنی پڑتی ہیں آخر سچائ کا دم توڑنے میں ہر کوئ کیوں سر فہرست ہےجھوٹ بولنے والا انسان نا صرف خود کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے بلکہ خود سے جورے ہر انسان کو مشکل میں دھکیل رہا ہوتا ہےجھوٹے انسان کا لہجا مٹھاس اور فریب سے بھرا ہوا ہوتا ہےاپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتا ہے پیشہ و تجارت ہو یا گھریلو معاملات سب میں سچائ ایک اہم جزو ہے گھر میں مسلے جھوٹ سے بنتے ہیں ادھر کی آدھر کی جھوٹ ملاوٹ کیا اور فساد برپاہ ہوگیا ایسے ہی تجارت و پیشہ میں بھی جھوٹ ملاوٹ کرنے سے سب تباہ ہوجاتا ہے اگر عدلیہ میں انصاف مہیا نہیں تو سارا نظام درہم برہم ہوجانا ہے لہذا سچائ ہر لحاظ سے اہم ہےہمیشہ سچ بولے اور سچ کا ساتھ دیں تاکہ دنیا وآخروی کامیابی پاسکے@Hu__rt7
-

معاشرے میں تشدد کا عنصر تحریر:سید لعل بُخاری
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر آدمی عدم برداشت کا شکار نظر آتاہے۔دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی گالی گلوچ کی بھرمار ہو چکی۔
یہ سب کچھ بہت افسوسناک ہے۔کیا ہم جنگل کی زندگی کی طرف واپس جا رہے ہیں؟
ہم ایک مہذب معاشرہ بننے کے بجاۓ پُر تشدد معاشرہ بننے کی طرف کیوں گامزن ہیں؟
ہم چند روپوں کی خاطر ایک دوسرے کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیمات ہیں؟
بلکل نہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جو ہمیں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں تو جانوروں حتی کہ درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
اس مذہب عظیم میں ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
اگر مذہب یہ کہتا ہے تو ہمیں اسکی تعلیمات کو اختیار کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟
ہمارے مذہب کو لوگ اچھا مذہب اُسی وقت تسلیم کریں گے،جب ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان بن کے اسکا عملی نمونہ پیش کریں گے۔
ان پر تشدد رویوں کی جو وجہ مجھے نظر آتی ہے،وہ معاشرے میں عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔
عام آدمی کو جب ایک بااثر آدمی کے مقابلے میں انصاف نہیں ملتا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
اسی طرح عام آدمی حقوق کی جگہ جگہ پامالی بھی اسی معاشرتی تفرقے اور بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ایک عام آدمی کو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لائن میں لگنا پڑتا ہے،جبکہ با رسوخ افراد یہی کام گھر بیٹھے ایک فون کال پر کروا لیتے ہیں۔
ان تباہ کُن رویوں میں اضافے کا باعث ہمارے سیاستدان بھی ہیں،جنہیں آپ روزانہ دست و گریبان ہوتےاور گالم گلوچ کرتےدیکھ سکتے ہیں۔
ان لوگوں کے اس وطیرے کا نوٹس لینے کی بجاۓ پارٹی قیادت شاباشی دیتی ہے۔
لوگ اپنے ان نام نہاد راہنماوں کی پیروی میں وہی نا مناسب رویہ عام زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں۔
ہمارے آپس کے لڑائ جھگڑوں کی ایک وجہ دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ہم بس اپنی سُنانا چاہتے ہیں،کسی کی سننا نہیں چاہتے۔ضروری نہیں کہ ہر دفعہ ہم ہی درست ہوں یا حق پر ہوں۔
بعض دفعہ دوسرا بھی سچائ پر ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی بات کہتے ہیں،تو دوسرے کی سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
انصاف کی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی لوگوں کو زہنی مریض بنا رہی ہے،امیر ،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔غریب ،غریب ترین۔
یہ تفاوت اسی وقت دور ہو سکتی ہے،جب معاشرے سے کرپشن ختم ہو جاۓ۔ہر ایک کا بے رحم احتساب کیا جاۓ۔اسکا آغاز کھرب پتی افراد سے کرنا چاہیے نا کہ ایک سائیکل اور چھابڑی والے سے۔
ہر شہری کو مواقع ،برابری کی بنیاد پر ملنے چاہییں،چاہے وہ تعلیمی یا طبی سہولیات ہوں یا کاروبار کے مواقع۔
پرچی مافیا کا خاتمہ ہو۔
ہر ایک کا کڑا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو یہی عدم برداشت کی لہر ایک طوفان کی شکل اختیار کر جاۓ گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے،
خدانخواستہ#@lalbukhari