آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے
Author: Baaghi TV
-

عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی
-

یہ تصویر کسی افریکا کے ملک کی نہیں ہے ۔ تحریر : عثمان لاشاری
یہ تصویر کسی افریکا کے ملک کی نہیں۔ یہ ہے سندھ کا امیر ترین ضلع بدین۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے کے باوجود ایک بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں زرعی پانی کی قلت کے خلاف بدین میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
بدین پاکستان کا وہ بدقسمت علإقہ جہان پانی نہروں سے نہیں، لوگوں کی آنکھوں سے بہتا ہے۔۔۔۔
” جو ایک زرداری سب پر بهاری اور جیئے بھٹو کے نعرے لگاتے نہیں تهکتے“
وہاں کوئی یہ ضرور لکھے گا لاکھوں خاندان فاقاکشی کی وجہ سے اپنے اضلاع چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن بدین اضلاع کے رکن اسیمبلیز میں اس لیئے خاموش تھے کہ جمہوریت کو خطرہ تھا۔۔۔۔۔اگر وہ گڈو اور سکھر بیراجز کے آبی دہشتگردون کے خلاف اسیمبلیز میں کوئی آواز اٹھاتے تو ١٨ وین ترمیم پر وار ہوتا اور سندھ حکومت کا خاتما ہوجاتا، اس لیئے انہوں نے لاکھوں ہستے بستے مکان تو اجاڑ دیئے لیکن جمہوریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔۔۔۔۔۔
آج احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا
ہم کسی ایک تحصیل کے لئے نہیں بلکہ پورے
ضلع کے لئے پانی کا مطالبہ کرتے ہیں پورا ضلع اس وقت خشک سالی کا شکار ہے۔بدین کے پانی کا مسئلہ خالص انسانی بقا کا مسئلہ ہے۔ سندھ سرکار بدین کو کربلا نہ بنائے۔
نا پینے کا پانی نا ہی کهیت کهلیانوں کے لیئے پانی مسکین مزدور کسان جائے تو جائے کدهر۔
پانی نہ ہونے کی صورت میں۔یہاں کے کسان مزدور لوگ بوکھ اور پانی کے پیاس سے تڑپ رہے ہیں ۔۔۔ جہاں پہ بچے تھرپارکر کی طرح (malnutrition) کا شکار ہو رہے ہیں۔۔۔
اور اُن بچوں کے صداٸن کہتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔
پرندے خشک جهيلوں سے،يہی اب کھ گٸے آخر۔۔ مجھے مجبور ھجرت پہ۔۔۔۔ میرے حالات کرتے ہیں ۔۔
Twitter @_UsmanLashari_
-

آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا تحریر ۔ مدثر محمود
میری نظر میں آزاد کشمیر کا الیکشن اور پھر بھرپور کشمیری بھائیوں کی شرکت کرنا پوری دُنیا کے لیے پیغام ہے کہ ہم پاکستان کی ریاست سے خوش ہے اور اسکے ساتھ چلنے کا عزم رکھتے ہیں اور یہ ہی پاکستان کی جہت ہے ۔
جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جو انڈیا نے دھونس طاقت سے قبضہ میں کیا ہوا ہے وہاں کی سیاسی جماعتیں ہر الیکشن بائیکاٹ کردیتی ہے اسکی وجہ کہ وہاں آزادی سے الیکشن نہیں ہوتا وہاں بھارت اپنی کٹپتلی حکومت نامزد کردیتا ہے تاکہ وہ قبضہ جاری رکھ سکے۔
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون الیکشن جیتے گا آزاد کشمیر سے مجھے مریم نوازشریف ، بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کے منعقد جلسوں سے غرض تھی کہ کشمیری عوام گھروں سے باہر نکل کر سنتی ہے تقریر یا پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح نریندر مودی کا جس طرح وہ بائیکاٹ کرتے یہ تو نہیں کرتے لیکن پوری دُنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر کی عوام نے پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کو ویلکم کیا بلکہ جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہو تو نتائج آنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو دیکھتے ہوئے خوش ہوا کہ ووٹ بھی دیے۔
اب میرا تمام عالمی دُنیا سے مطالبہ ہے کہ کب تک آنکھیں بند کرکے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہوتا دیکھتے رہینگے آگے بڑھے اور جموں کشمیر میں عوام سے استصواب رائے عامہ لیکر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ایشیا میں سکون ہوسکے ہم جنگی اشیاء کو اکٹھا کرنا چھوڑ غربت کو ختم کرنے کے بارے سوچیں۔
@Mudsr_Ch
-

تنقید سے ڈرنا کیا تحریر :صالح ساحل
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے خیالات، نظریات اور افکار کو زمانے کی تنقید کی وجہ سے دفن کر دیتے ہیں اور ایک فضول سی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کیوں کے جن کے پاس نظریہ نہ ہو ان کی زندگی بھی کوئ زندگی ہے یقیناَ یہ لوگ خدا کے ناشکرے ہوتے ہیں ان کو خدا نے سوچنے سمجھنے کے لیے دماغ دیا ہوتا ہے نئے نظریات کو جنم دینے کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے ڈر سے اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضائع کرنا بھی تو ایک جرم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کی تعداد تو کم ہوتی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یہ اپنے افکار نظریات اور خیالات کو زمانے کی فرسودہ روایات اور خوف کے نظر نہیں کرتے ان پر تنقید ہوتی ہے مگر یہ میدان سے نہیں بھاگتے یہ اس تنقید کو بھی صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں اس تنقید کے نتیجے میں بعض اوقات یہ اپنے راستے بدل لیتے ہیں مگر اپنے مقصد پر کمپرومائز نہیں کرتے یہ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں ان کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے کئ بار تنقید ان کے کلیجہ چیر دیتی ہے مگر یہی لوگ اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں اور اگر منزل نصیب نا بھی ہو تو پر سکون مرتے ہیں ان کا نام ان کی موت کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے
———–
اس لیے آپ اپنی زندگی میں اس بات کا خوف نا رکھیں کے آپ پر تنقید ہو رہی بلکہ کے اپنے مقصد میں لگے رہے لوگ آپ کا ساتھ نہ بھی دیں یاد رکھیں دنیا میں حق کے چاہنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ چند لوگ تھے حضرت لوط کے ساتھ صرف دو بیٹیاں تھیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ گیارہ لوگ تھے امام حسین کے ساتھ 72 لوگ تھے لوگوں کی تعداد کا ہونا میعار حق نہیں خدا نے آپ کو ذہن دیا ہے آپ سوچیں نئے انداز سے دنیا کو دیکھیں اپنے نظریات کو عوجے سوریا پر لے جائیں اور اپنے ذہنوں سے ڈر نکال دیں سقراط کے خیالات کو چند لوگوں نے قبول کیا اور ایتھنز کے حامی ہزاروں تھے اس لیے اپنے مقصد پر توجہ کریں
________اس سارے سفر میں آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں کے کہیں آپ کے نظریات کی جگہ ضد نے تو نہیں لے لی ضد اگر غالب آگی تو آپ ہار جائیں گے کیوں کے اس سارے سفر میں ضد اور انا آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گی خدا سے تعلق کو جوڑے رکھیں اور بڑھتے جائیں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی اور زندگی سے گلے کم ہوں گے اور ہاں آخر میں یہ جملہ کہوں گا تنقید سے ڈرنا کیا یہ تو سوچنے کی ہمت دیتی ہے
@painandsmile334
-

باپ کی شان تحریر: محمداحمد
ہمارے معاشرے میں باپ کی شان کے بارے میں بہت کم لکھا اور سُنا جاتا ہے لیکن باپ اُس درخت کی جڑ ہوتا ہے جس درخت کی جڑ کاٹنے سے کبھی درخت ہَرا بَرا نہیں رہتا اسی طرح ہم جانتے ہیں قرآن کریم کی تعلیم سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے لیکن باپ جنت کا دروازہ ہے
آج کل لوگ والدین کے حقوق بھول گے ہیں اُن کے لئے ان کی اپنی اولاد بہت عزیز ہوتی ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے وہ بھی کسی کی اولاد ہیں اپنی اولاد کا دُکھ نا دیکھنے والے کس حق سے اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم اور دُکھوں کی گھڑی میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
ماں باپ اللہ تعالیٰ کی وہ رحمت ہیں جن کو پیار سے دیکھنے سے مقبول حج کا ثواب ملتا ہے ماں باپ ہمیشہ اپنی اولاد کی خوشی کیلئے ہر ضرورت پوری کرتے ہیں اُن کی اچھی تربیت کرتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی یے اپنا کمانے لگ جاتی ہے اُس وقت جب باپ کی آنکھیں دُھندلی ہو جاتی ہیں تو انہیں قطرہ بھر روشنی دینے سے کیوں کَتراتے ہیں کیا والدین اولاد اِس دن کےلئے مانگتا ہے لیکن اولاد بھول جاتی ہے کہ وہ والدین جو ایک بچہ نا بول سکتا ہے نہ سُن سکتا ہے اُس کو انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا سکتے ہیں وہ والدین اپنا آپ بھی سنبھال سکتے ہیں جس خالقِ کائنات نے پیدا کیا ہے وہی سب کو پالتا ہے لیکن والدین کی آہ یا بد دعا عرش ہلا دیتی ہے
ماں باپ کی ایک عادت اللہ تعالیٰ سے ملتی ہے دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں دنیا کی ساری خوشبو مل کر بھی والدین سے آنے والی خوشبو نہیں بن سکتی ۔ خدارا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور ہمیشہ یاد رکھیں آپ بھی کسی کی اولاد ہیں جیسے آپ کی اولاد عزیز ہے ویسے آپ بھی عزیز ہیں سب سے دلی
گزارش ہے اپنے والد کی قدر کیا کریں جو اپنی ضرورتیں اور آپ سب کی خواہشات پوری کرنے کیلئے دن رات ایک کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو والدین کو صحت تندرستی عطا فرمائے اور جن کے وفات پا گے ہیں ان کے والدین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
@JingoAlpha -
دم توڑتی سچائی تحریر: افشین
سچائی "حقیقت” ہے اور حقیقت اپنا آپ منواتی ہے چھپتی نہیں
سچائ اس روشنی کی مانند ہے جو چاروں اطراف منور ہوتی ہے تو ہر طرف اجالا ہوجاتا ہے سچائ حقیقت ہے اور حقیقت سے کبھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا ہے اگرچہ سچائ کا راستہ دشوار ہے مگر کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے
سچائ وقتی دبائ جاسکتی ہے مگر اسکا سورج کی طرح طلوع ہونا لازم ہے انسان جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جاتا ہے مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہےہمیں سچائ کا ساتھ دینا چائیے اور چاہے اس کے لیے لڑتے اپنی جان بھی چلی جائے پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہیےسچ بولنے والے سے رب بھی خوش ہوتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہےہمارے پیارے نبی پاک نے بھی سچائ کا درس دیا سچائ صداقت و ایمانت داری سے بھری ہوئ ہوتی ہےسچائ آدب ولحاظ اور دلی سکون سے منسلک ہےسچائ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا سد باب ہےآجکل ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے ہر پیشہ میں جھوٹ بولنا سر فہرست ہے جھوٹ کے بغیر جیسے کوئ کام چلنا ہی نہیں جھوٹ کے بغیر جیسے اپنا بچاو ہی نہیں جیسے جھوٹ کو لازم قرار دیا گیا ہوجھوٹ بولنے والا منافق شخص ہوتا ہے وہ اپنی باتوں سے جلد سب کو قائل کر لیتا ہے اور سچائ کو دبانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر جھوٹ ہمیشہ قائم نہیں رہتا سچائ کھول کے سامنے آجاتی ہے دیر صحیح مگر درست صحیح ۔سچائ کا ساتھ دینے والے اس دنیا میں خوار بہت ہوتے ہیں مشکلات بہت سہتے ہیں پر آخروی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہےجو انسان سچا ہو اس کو کم لوگ سنتے ہیں کم لوگ اسکا ساتھ دیتے ہیں اور اکثر سچائ کے کیے لڑتے لڑتے کہیں لوگ دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جھوٹ سرعام بھکتا ہے اور انصاف کے قوانین برائے نام رہ گئے ہیں
اس میں ہمارا قصور ہے ؟ یا اس معاشرے کا جس میں ہم رہ رہے ہے آخر کیوں سچائ کو ایڑیا رگڑنی پڑتی ہیں آخر سچائ کا دم توڑنے میں ہر کوئ کیوں سر فہرست ہےجھوٹ بولنے والا انسان نا صرف خود کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے بلکہ خود سے جورے ہر انسان کو مشکل میں دھکیل رہا ہوتا ہےجھوٹے انسان کا لہجا مٹھاس اور فریب سے بھرا ہوا ہوتا ہےاپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتا ہے پیشہ و تجارت ہو یا گھریلو معاملات سب میں سچائ ایک اہم جزو ہے گھر میں مسلے جھوٹ سے بنتے ہیں ادھر کی آدھر کی جھوٹ ملاوٹ کیا اور فساد برپاہ ہوگیا ایسے ہی تجارت و پیشہ میں بھی جھوٹ ملاوٹ کرنے سے سب تباہ ہوجاتا ہے اگر عدلیہ میں انصاف مہیا نہیں تو سارا نظام درہم برہم ہوجانا ہے لہذا سچائ ہر لحاظ سے اہم ہےہمیشہ سچ بولے اور سچ کا ساتھ دیں تاکہ دنیا وآخروی کامیابی پاسکے@Hu__rt7
-

معاشرے میں تشدد کا عنصر تحریر:سید لعل بُخاری
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر آدمی عدم برداشت کا شکار نظر آتاہے۔دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی گالی گلوچ کی بھرمار ہو چکی۔
یہ سب کچھ بہت افسوسناک ہے۔کیا ہم جنگل کی زندگی کی طرف واپس جا رہے ہیں؟
ہم ایک مہذب معاشرہ بننے کے بجاۓ پُر تشدد معاشرہ بننے کی طرف کیوں گامزن ہیں؟
ہم چند روپوں کی خاطر ایک دوسرے کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیمات ہیں؟
بلکل نہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جو ہمیں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں تو جانوروں حتی کہ درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
اس مذہب عظیم میں ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
اگر مذہب یہ کہتا ہے تو ہمیں اسکی تعلیمات کو اختیار کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟
ہمارے مذہب کو لوگ اچھا مذہب اُسی وقت تسلیم کریں گے،جب ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان بن کے اسکا عملی نمونہ پیش کریں گے۔
ان پر تشدد رویوں کی جو وجہ مجھے نظر آتی ہے،وہ معاشرے میں عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔
عام آدمی کو جب ایک بااثر آدمی کے مقابلے میں انصاف نہیں ملتا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
اسی طرح عام آدمی حقوق کی جگہ جگہ پامالی بھی اسی معاشرتی تفرقے اور بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ایک عام آدمی کو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لائن میں لگنا پڑتا ہے،جبکہ با رسوخ افراد یہی کام گھر بیٹھے ایک فون کال پر کروا لیتے ہیں۔
ان تباہ کُن رویوں میں اضافے کا باعث ہمارے سیاستدان بھی ہیں،جنہیں آپ روزانہ دست و گریبان ہوتےاور گالم گلوچ کرتےدیکھ سکتے ہیں۔
ان لوگوں کے اس وطیرے کا نوٹس لینے کی بجاۓ پارٹی قیادت شاباشی دیتی ہے۔
لوگ اپنے ان نام نہاد راہنماوں کی پیروی میں وہی نا مناسب رویہ عام زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں۔
ہمارے آپس کے لڑائ جھگڑوں کی ایک وجہ دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ہم بس اپنی سُنانا چاہتے ہیں،کسی کی سننا نہیں چاہتے۔ضروری نہیں کہ ہر دفعہ ہم ہی درست ہوں یا حق پر ہوں۔
بعض دفعہ دوسرا بھی سچائ پر ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی بات کہتے ہیں،تو دوسرے کی سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
انصاف کی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی لوگوں کو زہنی مریض بنا رہی ہے،امیر ،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔غریب ،غریب ترین۔
یہ تفاوت اسی وقت دور ہو سکتی ہے،جب معاشرے سے کرپشن ختم ہو جاۓ۔ہر ایک کا بے رحم احتساب کیا جاۓ۔اسکا آغاز کھرب پتی افراد سے کرنا چاہیے نا کہ ایک سائیکل اور چھابڑی والے سے۔
ہر شہری کو مواقع ،برابری کی بنیاد پر ملنے چاہییں،چاہے وہ تعلیمی یا طبی سہولیات ہوں یا کاروبار کے مواقع۔
پرچی مافیا کا خاتمہ ہو۔
ہر ایک کا کڑا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو یہی عدم برداشت کی لہر ایک طوفان کی شکل اختیار کر جاۓ گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے،
خدانخواستہ#@lalbukhari
-

عقیدہ ختم نبوتﷺ تحریر: ارم سنبل
عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے عقیدہ ختم نبوت دین متین دین اسلام دین حق کا بنیادی عقیدہ ہےاسلام کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر کھڑی ہے۔
اس عقیدہ پر ذرا برابر شک مسلمان کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے
قرآن پاک میں ہے کہمَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)
ترجمہ:
محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔
حضور ﷺ نے خود اپنے آخری نبی ہونے کی گواہی دی
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
وإنہ لا نبي بعدي
اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۴۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۴۲، دارالسلام: ۴۷۷۳)
عقیدہ ختم نبوت پر دور رسالت ﷺ سے ہی حملےہونا شروع ہو گئے تھے۔
حدیث مبارکہ ہے کہ
’’میری امت میں تیس (30) جھوٹے کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب دعوه کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219.
حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے لہو سے ختم نبوت پر پہرا دیا۔
سن گیارہ ہجری میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نامی لعنتی نے نبوت کا دعوہ کردیا۔اس فتنہ کو کچلنے کیلئے اپ رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ فرمایا جو اس فتنہ کو کچلنے میں کامیاب ہوا۔
اس جنگ میں صحابہ نے 36 ہزار منکرین ختم نبوت کو واصل جہنم کیا اور حضور ﷺ کی ختم نبوت پر پہرا دیتے ہوئے 600 سے زائد صحابہ نے جام شہادت نوش کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن حضور ﷺ کی ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ پر سمجھوتہ نہی کر سکتا.
کیونکہ
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا، ایماں ہو نہیں سکتا۔۔!!
@Chem_786
-

بچوں کی صلاحیت پہچانیں تحریر: نزاکت شاہ
ہر بچہ مختلف عادات واطوار کا مالک ہوتا ہے ،ہر بچے کے شوق مختلف ہوتے ہیں، کوئی کھیل کا رسیا ہوتا ہے ،کوئی مطالعے کا ، کوئی ٹیکنیکل ذہن کا مالک ہوتا ہے اور کوئی مائنڈ گیمز کا ماسٹر،کسی کی آواز اچھی ہوتی ہے ، کسی کے بولنے کا انداز اچھا ہوتا ہے ۔لیکن یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ کسی بچے میں کوئی خوبی یا شوق نہ ہو ۔
خرابی کب پیدا ہوتی ہے ؟؟؟
جب والدین بچے پر اس چیز کو سیکھنے زور ڈالتے ہیں جس کی صلاحیت اس کے اندر موجود ہی نہیں ہوتی۔اور بچہ اس حد تک نتائج نہیں دے سکتا جو قدرتی صلاحیت والا بچہ دے سکتا تھا ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچ باغی ہونے کے ساتھ ساتھ اعتماد کھونا شروع کر دیتا ہے ۔
غیر ضروری دباؤ اس کی شخصیت کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے ۔اس کے اندر والدین کا خوف پیدا کرتا ہے ۔اس کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے ۔بچے میں جو صلاحیت موجود نہیں ،اسے وہ سکھانے پر زور نہ دیں اور نا ہی اسے طعنہ دیں کہ وہ باقی بچوں جیسا کیوں نہیں ؟؟
اس کی صلاحیت پہچانیں ،پھر اسے مواقع فراہم کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔کچھ عرصے میں ہی حوصلہ افزا نتائج اپکے سامنے ہوں گے ۔
معاشرے کو ایک صحت مند سوچ کی حامل نسل دیں ۔ایسی نسل جو ذہنی طور پر مضبوط اور منفرد ہو۔جس کی سوچ کا رخ مثبت ہو ۔جس میں احساس کمتری نہ ہو ۔یہ صدقہ جاریہ ہے جو اپ کیلئے ہمیشہ کام ائے گا ،
تجربہ شرط ہے@NZ760
-

پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید
پاکستان کی کسی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے
پاکستان کا آج تک ایک جمہوری ملک نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ پالستان کی سیاسی جماعیتں ہیں، ہر جماعت یا تو کسی خاندان کی جماعت ہے یا ایک شخص کی جماعت ہے ۔
پی پی پی آج تک بھٹو خاندان کی غلامی میں مبتلا ہے ، کبھی بھٹو پھر اُسکی بیٹی پھر اسکا شوہر زرداری اور اب زرداری کے بچے بھٹو بن کر اب پی پی پی کے غلاموں کے سردار ہیں، پی پی پی کی لیڈرشپ اور نہ کسی کارکن نے کبھی پارٹی میں جمہوریت کی بات کی اور اس پارٹی میں تو دیکھا ہے کہ پڑھے لکھے بڑے قد کاٹھ والے لوگ ایک نابالغ لڑکے کو لیڈر اور سر کہ کر پکارتے رہے۔
مُسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے شریف خاندان کے علاوہ کوئی اس جماعت میں سربراہ نہیں بن سکتا اور باقی لوگوں کو نوکر اور غلام اور قصیدہ پڑھنے والے بننے کی اجازت ہے ، اگر کبھی کوئی اس پارٹی میں جمہوریت کی بات کر دے اس کا سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے ، شریف خاندان نے سندھ کے بھٹو خاندان کے مقابلہ میں پنجاب کا سلطانی خاندان بن گیا اور پنجابی کارڈ کھیل کر اپنے لیے اسٹلیشمنٹ کی مدد بھی حاصل کی ۔اس جماعت میں سربراہی صرف یا نواز شریف یا شہباز شریف کی یامریم یا حمزہ کی پاس ہو گی باقی جو ان کی چاپلوسی اور خوشامد کرے گا وہ قریب اور عہدے کا حقدار بنے گا
ن لیگ میں جمہوریت کا نام و نشان بھی نہیں لیکن سب سے زیادہ آج کل جمہوریت کا نعرہ یہ جماعت لگاتی ہے بے شرمی اور منافقت سے بھرپور سیاست رہی ہے اس پارٹی کی ۔
پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت تھی جس سے ایک اُمید لگی تھی کہ وہ ایک جمہوری جماعت میں بنے گی اور اس جماعت نے ایک کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے بعد نہ کوشش کی نہ کوئی اس جماعت کا کوئی ارادہ ہے اب اس طرح تحریک انصاف بس ایک فرد واحد کی جماعت بن کر رہ گئی
پاکستان کی باقی چھوٹی پارٹیوں کا بھی یہی معاملہ ہے ۔
جب یہ جماعتیں اپنی جماعت میں جمہوریت نہیں لا سکتے نہ بات کر سکتے ہیں لیکن بے شرمی اور ڈھٹائی سے پاکستان میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں کوئی ووٹ کو عزت کی بات کرتا ہے کوئی پارلیمان کی عزت اور سپرمیسی کی بات کرتا ہے
لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کا نام لینا ممنوع ہے ۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آگے بڑھنے کا طریقہ صرف ایک ہی ہے” شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار” ہماری سیاسی جماعیتں ایسے وفاداروں سے بھری پڑی ہیں جو خوشامد اور چاپلوسی اور غلامی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرتے ہیں۔ ابن الوقت مطلبی، مصنوعی اور ضمیر فروش سیاستدان اس معاملہ میں سب سے آگے نظر آئیں گے۔ پارٹی لیڈر کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے ہر ادارے پر تنقید اور کہیں خوشامد کرنی ہو تو اپنی اس وفاداری کے بھرم میں وہ وہ چیزیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی، سیاستدان ہی کیا اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو بہت سارے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اچھلتے کودتے شور مچاتے اور اپنے بے سرے راگ الاپتے دکھائی دیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ لگاتے ہیں کون زیادہ اپنے لیڈر کو خوش کرنے کے لیے دوسری پارٹی کے لیڈر کے گالیاں اور بُرا بھلا کہتا ہے کیونکہ یہی ایک معیار ہے ان کو اوپر اور عہدہ ملنے کا۔
جتنا جو زیادہ زبان دراز ہو گا اتنا ہی اسکو پارٹی کے اندر پارٹی لیڈر سراہے گا اور وفادار کا خطاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد سب بڑی خصوصیت کا ذکر کرتے ہیں وہ ہے بلا جھجھک جھوٹ بولنا اور اس بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا کہ سچ بھی شرما جائے ۔
مقولہ ہی “ اتنی سچائی سے جھوٹ بولو کہ جھوٹ بھی سچ لگنے لگے”
یہ جمہوریت،جمہوری نظام، ایوان کا تقدس اور ووٹ کی عزت کے نعرے صرف اپنی چودھراہٹ کو واپس لانے کے لیے ہے اور عوام کو بار بار بیوقوف بنانے کے لیے ۔
@saqibnaveed21